Translater

28 اکتوبر 2011

سرو شکشا ابھیان کی حقیقت




Published On 28th October 2011
انل نریندر
میرا بھارت مہان! ساری دنیا میں اس وقت بھارت کا ڈنکا بج رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کی اقتصادی حالت موجودہ وقت میں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی اقتصادی حالت ہے لیکن زمینی حقیقت جب ہم دیکھتے ہیں تو تھوڑی حیرانی ضرور ہوتی ہے کہ آج بھی ایجوکیشن جیسا اہم حلقہ اتنا پچھڑا ہے؟ تعلیم کا حق قانون اور سرو شکشا ابھیان کے باوجود پچھلے سال قریب 82 لاکھ بچوں کا اسکول میں داخلہ نہیں ہوپایا ہے۔ اتنا ہی نہیں اسکولوں کی بدانتظامی کا عالم یہ ہے کہ لڑکیوں کے 41 فیصدی اسکولوں میں ٹوائلٹ تک نہیں ہیں۔ راجیوں میں پرائمری شکشا پر تبصرہ کرنے کے لئے انسانی بہبود برائے ترقی وزیر شری کپل سبل کی صدارت میں راجیوں کے تعلیمی وزیروں کی ایک میٹنگ میں بچوں کے اسکولوں پر سنجیدگی سے تبصرہ ہوا۔ 6 سے14 سال تک کے بچوں کو ضروری طور پر سکولوں میں بھیجنے کے لئے تعلیم کا حق قانون نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے نافذ ہونے کے ایک سال سے زیادہ کا وقت گذر جانے کے باوجود پرائمری شکشا کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔ سکولوں اور ٹیچروں کی کمی تو الگ موضوع ہے حالات یہ ہے کہ سروشکشا ابھیان کی بھی ہوا نکل گئی ہے اور مرکزی سرکار کو اسی سے ملتا جلتا نیا ابھیان چلانے کا فیصلہ لینا پڑا۔ مگر اس میں فرق یہ ہوگا کہ اسے غیر سرکاری مشینری سے ملایا جائے گا۔ اب پرائمری سکولوں میں اس مشینری کا سیدھا دخل رہے گا۔ اس مشینری کے ورکروں کا کام ہوگا کہ وہ سکول اور سماج کے درمیان پل کا کام کریں گے۔ اگر کسی گاؤں میں کوئی بچہ سکول نہیں جارہا ہے تو اس کی جانکاری علاقے کے سکول کو دینی ہوگی اور بچے کے گھر والوں کو بیدار کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بچے کو سکول بھیجیں۔ سبل نے بتایا کہ اس ابھیان کا نام ''تعلیم کا حق'' رکھا گیا ہے۔ جس کی شروعات پردھان منتری 11 نومبر کو کریں گے۔ اس ابھیان کے تحت13 لاکھ سکولوں کو شامل کیا جائے گا جن کے پرنسپلوں کو پردھان منتری کی اپیل جاری کی جائے گی جس کا پیغام ہوگا کہ وہ کسی بھی بچے کو سکول جانے سے محروم نہ ہونے دیں۔
کپل سبل نے راجیوں کے تعلیمی وزیروں سے کہا ہے کہ وہ پرائمری سکولوں کی حالت ٹھیک کریں۔ انہوں نے کئی راجیوں میں اب بھی تعلیم کا ادھیکار قانون نافذ نہ کرنے پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں کئی بار راجیوں سے اپیل کی جاچکی ہے مگر صرف18 راجیوں نے ہی اس قانون کو نافذ کیا ہے۔ مہاراشٹر، پشچم بنگال، گجرات اور تاملناڈو جیسے کئی بڑے راجیہ ایسے ہیں جنہوں نے اس قانون کو اب تک نافذ نہیں کیا ہے۔ اس کے چلتے لاکھوں بچے سکول نہیں جارہے ہیں۔سکولوں کی بلڈنگوں کی بدحالی اور ٹیچروں کی کمی پر بھی دھیان دینا بہت ضروری ہے۔ اس وقت قریب 44 لاکھ ٹیچر پورے دیش میں کام کررہے ہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ شری کپل سبل نے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی ہمت دکھائی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ دن پورے دیش میں جلد آئے گا جب ہر گاؤں میں کوئی بچہ سکول جانے سے محروم نہیں ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Education, India, Kapil Sibal, Prime Minister, Vir Arjun

ہندوستانی فوج کے چیتا ہیلی کاپٹر لوٹانے کی اصل کہانی




Published On 28th October 2011
انل نریندر
خراب موسم کی وجہ سے ہندوستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ایتوار کو پاکستان کے قبضے والے کشمیر (پی او کے) میں غلطی سے پہنچ گیا۔ ہندوستانی فضائی سینا کا چیتا ہیلی کاپٹر دوپہر قریب ایک بجے راستہ بھٹک کر کنٹرول لائن کے دوسری طرف پہنچ گیا۔ پاکستانی سینا نے اپنے دو لڑاکو جہازوں کو اڑا کر ہیلی کاپٹر کو اسکائی علاقے میں اترنے پر مجبور کردیا۔ ہیلی کاپٹر میں سوار چاروں ہندوستانیوں سے قریب چار گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی اور انہیں چھوڑدیا گیا۔ شام قریب 6 بجے دومیجر (پائلٹ اور اسسٹنٹ پائلٹ) ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک جونیئرافسر واپس کارگل پہنچے۔ حادثے کی جانکاری ملتے ہی بھارت کے فوجی سرگرمیوں کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ایم او) سرگرم ہوگئے اور معاملے کو سلجھانے کے لئے ہاٹ لائن پر اپنے پاکستانی افسروں سے بات کی۔پاکستان نے بھارت کا چیتا ہیلی کاپٹر واپس کرکے ساری دنیا میں اپنی نیک نیتی کا پیغام دینے کی کوشش کی۔اس نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اتنے تناؤ کے بعد بھی وہ انسانیت کا تقاضہ نہیں بھولا ہے اور بھارت کو اس کے اس قدم کی تعریف کرنی چاہئے۔ ہم پاکستان کا اس بات کے لئے تو شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ اس نے ہماری غلطی کو سمجھا اور ہمارے فوجی اور ہیلی کاپٹر کو صحیح سلامت چھوڑدیا لیکن پاکستان کے ذریعے ہندوستانی ہیلی کاپٹر کو چھوڑنے کے پیچھے اصل کہانی اور ہے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمارا ہیلی کاپٹر دو وجوہات سے واپس کیا ہے۔ پہلا کہ ہیلی کاپٹر میں کل چار سواریاں تھیں اور اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ کوئی پانچواں آدمی ہیلی کاپٹر میں رہا ہو جو جاسوسی کرنے کے لئے بیچ میں کہیں اترا ہو اور دوسری بات یہ کہ چیتا ہیلی کاپٹر میں جاسوسی کرنے کے لئے کوئی آلات نہیں تھے۔ ہیلی کاپٹر کوئی جاسوسی مشن پر نہیں تھا۔ دراصل ہیلی کاپٹر لیہہ سے بمبار (دراس سیکٹر) میں ایک مینٹیننس مشن پر تھا۔خراب موسم کی وجہ سے وہ راستہ بھٹک گیا تھا۔ کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کو پاکستان نے نیک نیتی کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کے دخل کے بعد چھوڑا تھا۔ ایک نیوز چینل کے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج کے سینئر افسروں نے امریکہ سے جڑے معاملے میں دخل دینے کو کہا تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بنایا اور آخر میں بھارت اور پاکستان کے سینئر فوجی افسروں نے آپس میں بات چیت کی۔ جس کے بعد سنکٹ کا حل نکلا اور چیتا ہیلی کاپٹر بھارت واپس آیا۔ دلچسپ اور چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ جس پاکستان آرٹیلٹی ہیلی پیڈ (نمبر90) پر جو ایل او سی کے بالکل قریب بنایا گیا ہے ، کے بارے میں ہندوستانی فوج کو کوئی معلومات ہی نہیں تھی۔ ہمیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ایل او سی کے اتنے قریب پاکستانی فوج نے کب یہ ہیلی پیڈ بنایا۔ خیر! خبریہ ہے کہ پاکستان نے اس چیتا ہیلی کاپٹر کا جی پی ایس ڈاٹا چورا لیا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس ڈاٹا میں بہت اہم جانکاریاں تھیں۔ یہ ہندوستانی حفاظت نظریئے سے بہت اہم تھیں۔ ڈاٹا میں ہیلی کاپٹر سے بھارت کے تمام ہیلی پیڈ کے رابطے کا بیورہ تھا۔ ڈاٹا میں بھودوے کوٹ کے حلقے میں آنے والے فوج کے سبھی ہیلی پیڈ کا کوڈ نیم بھی درج تھا۔ ہندوستانی فوج کے سینئر افسر چیتا ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ہیلی کاپٹر میں جی پی ایس لگا ہوا تھا تو وہ کیسے راستے سے بھٹک گیا؟ شرمناک تو یہ ہے کہ چیتا ہیلی کاپٹر ایل او سی کے پار بھیرول سیکٹر کے جس ہیلی پیڈ پر اترا (پاکستانی آرٹیلٹی نمبر90)، وہ کارگل سیکٹر سے لگا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستانی فوج کو اس کی جانکاری نہیں تھی۔ شروعاتی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا ہیلی کاپٹر کو جبراً اتارنے کے لئے مجبور کرنے کا دعوی بھی غلط ہے۔ نہ تو ہندوستانی پائلٹ کو پتہ تھا کہ انہوں نے ہیلی کاپٹر کہاں اتارا ہے اور نہ ہی پاکستان کو اس کی بھنک لگی تھی۔ ذرائع کے مطابق بھودوے کوٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل روی دستانے ایتوار کی صبح کارگل کے پاس دورے پر جانے کے لئے نکلے تھے۔ان کے ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر (اے ایل ایچ) میں کوئی تکنیکی خرابی آگئی اور اسے اترنا پڑا۔ دستانے کو دوسرے ہیلی کاپٹر سے سرینگر لے جایا گیا۔ اے ایل ایچ کو ٹھیک کرنے کے لئے مینٹی ننس انجینئر کو لیکر چیتا نے اڑان بھری۔ باقی کی کہانی تو آپ کو پتہ ہی نہیں ۔ اصل میں کیا ہوا اس کا شاید ہی صحیح پتہ چلے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Education, India, Kapil Sibal, Prime Minister, Vir Arjun

26 اکتوبر 2011

پیڈ نیوز پر چناؤ کمیشن کی تاریخی پہل




Published On 26th October 2011
انل نریندر
پیڈ نیوز کے معاملے میں چناؤکمیشن کی پہل کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔ چناؤ کمیشن نے اترپردیش کے وسولی اسمبلی حلقے کی ممبر اسمبلی ارملیش یادو پر تین سال تک کے لئے چناؤ لڑنے پر پابندی لگادی ہے۔ کمیشن نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ پیڈ نیوز معاملے پر الزام ثابت ہونے کے چلتے یادو پر20 اکتوبر2011 سے19 اکتوبر2014 تک چناؤ لڑنے پر پابندی لگادی ہے۔ ایسی صورت میں ارملیش یادو2012 میں ہونے والے اسمبلی چناؤ میں حصہ نہ لے سکیں گی۔ ارملیش یادو2007 کے اسمبلی چناؤ میں قومی پریورتن دل کی جانب سے وسولی اسمبلی حلقے سے امیدوار تھیں۔ اسی سیٹ سے یوگیندر کمار بھی ان کے خلاف چناؤ لڑ رہے تھے۔ انہوں نے یکم جولائی2010 کو چناؤ کمیشن کے اپنی شکایت میں کہا کہ چناؤ سے ٹھیک پہلے 17 اپریل2007 کو ارملیش یادو نے اترپردیش کے دو بڑے ہندی روزناموں میں اپنے حق میں خبریں شائع کرائی تھیں۔ یوگیندر کمار نے یہ ہی شکایت بھارتیہ پریس پریشد میں بھی کی تھی۔ذرائع کے مطابق چناؤ کمیشن نے اس معاملے کی جانچ کی اور دونوں فریقین کی دلیلیں سنیں اور تفتیش کے بعد کمیشن نے پایا کہ ارملیش یادو نے چناؤ سے ٹھیک پہلے اپنے حق میں خبر شائع کروانے کے لئے 21250 روپے خرچ کئے لیکن اس خرچ کو چناوی خرچ میں نہیں دکھایا گیا تھا۔ پیڈ نیوز اور چناؤ خرچ کو ٹھیک سے نہیں دکھانے کے چلتے چناؤ کمیشن نے اترپردیش اسمبلی چناؤ کی منتخبہ ممبر ارملیش یادو کو تین سال کے لئے چناؤ لڑنے کے لئے نا اہل قراردے دیا ہے۔
چناؤ کمیشن کی اس کارروائی کے دوررس نتائج ہوں گے۔ مستقبل میں دونوں سیاستداں اور اخبار چوکس رہیں گے۔ امیدوار کو اپنا پرچار کرنے کا پورا حق ہے لیکن اسے خرچ دکھانا پڑے گا۔ ایسی خبریں شائع کرنے والے اخباروں اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی ایسی خبروں کے آخر میں یہ لکھنا اور دکھانا ہوگا کہ یہ ایک اشتہار ہے وہ بھی پیڈ اشتہار۔ ابھی اور بھی کئی سیاستداں اس معاملے میں پھنس سکتے ہیں۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی اشوک چوہان ، جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی مدھو کوڑا پر بھی پیڈ نیوز کے الزامات ہیں۔ کمیشن سے اشارے مل رہے ہیں کہ ارملیش یادو کے معاملے میں لئے گئے اس سخت فیصلے کے بعد اشوک چوہان اور مدھو کوڑا کا بھی سیاسی کیریئر خطرے میں ہے۔ ان دونوں لیڈروں کو بھی کمیشن کی جانب سے نوٹس دیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے ان امیدواروں کے چناوی حساب کتاب کو کھنگالنے میں جٹ گیا ہے جنہوں نے اپنے چناوی خرچ کا صحیح حساب کتاب نہیں رکھا۔ غور طلب ہے ارملیش یادو نتیش کٹارا کانڈ میں قصوروار وکاس یادو کی ماں ہیں اور ڈی پی یادو کی اہلیہ ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, Paid News, State Elections, Vir Arjun

مہنگائی اور ملاوٹ نے دیوالی کا مزہ کرکرا کردیا




Published On 26th October 2011
انل نریندر
اس سال کی دیوالی آج تک کی سب سے مہنگی دیوالی ہوگی۔ یہ لگاتار تیسرا سال ہے جب کھانے پینے کے سامان کی آسمان چھوتی قیمتوں کے بیچ عام لوگ یہ تہوار منانے کو مجبور ہیں۔ سبزیوں اور دوسری روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزوں کے داموں میں تیزی نے اس بار کی دیوالی کو پھینکا کردیا ہے۔ اس سال کے شروع سے ہی مہنگائی کا جو دور شروع ہوا وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، رہی سہی کثر ملاوٹ کی سرخیوں نے پوری کردی ہے۔آئے دن پکڑے جانے والی ملاوٹی مٹھائی سے لوگ اس طرح سے خوفزدہ ہیں کہ لوگ مٹھائیوں کی خریداری سے زیادہ ڈرائی فروٹ اور چاکلیٹ اور ریڈیمیڈ گفٹ پیک خریدنے پر پیسے خرچ کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ ڈرائی فروٹ دوکانداروں کی مانیں تو پچھلے دوسالوں سے اس کاروبار میں زیادہ اضافہ ہوا ہے وہیں خوردنی ماہرین کی مانی جائے تو ان میں ملاوٹ کے آثار بہت کم رہتے ہیں جس سے صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔ غور طلب ہے کہ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی جانچ ایجنسیوں کی مدد سے چھاپے ماری کے دوران نقلی ماوا ،مٹھائیاں پکڑی گئیں۔ اس بار مٹھائی کی بڑی دکانیں خالی پڑی ہیں۔ کئی مالک تو ایک ہی دیوالی میں کہاں تو کوٹھیاں کھڑی کرلیتے تھے اور کہاں اکا دکا ہی گراہک آرہے ہیں۔ حکومت اور محکمہ صحت کو ایک قانون بنانا چاہئے کہ ہر حلوائی کو ڈبے پر یہ لکھنا چاہئے کہ وہ مٹھائی کو بنانے میں کن کن چیزوں کا استعمال کررہا ہے اور اس سامان کی انہیں گارنٹی دینی ہوگی۔ بیرونی ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے گراہک کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کھا رہا ہے۔ اس میں جو چیزیں پڑی ہوئی ہیں وہ صحت کے حساب سے نقصاندہ تو نہیں ہیں، اس سے بکری بھی بڑھے گی۔ چراغوں کے اس تہوار میں دیپوں کا رواج کم ہورہا ہے اور بجلی کی روشنی زیادہ لوگ اپنے گھروں میں کرتے ہیں۔ اس کے لئے چھوٹی چھوٹی بلبوں کی لڑیاں لگانا پسند کرتے ہیں اور اس سیکٹر میں بھی چین نے اپنا مال اتاردیا ہے۔ بجلی کی لڑیوں سے لیکر پٹاخوں یہاں تک کہ بھگوانوں کی مورتیاں بھی چین سے آرہی ہیں۔
اس دیوالی میں یہ سوال کھڑا ہوگا کہ کیا پٹاخے چلائے جائیں یا ماحولیات کا خیال رکھتے ہوئے صرف دیئے جلا کر دیوالی منائیں۔ پچھلے کئی برسوں سے ایک تحریک شروع ہوگئی ہے کہ پٹاخوں سے توبہ کی جائے اور ہوا کو آلودہ ہونے سے بچایا جائے۔ کئی لوگوں نے اس مہم کے اثر سے پٹاخے چلانا کم کردیا ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو 10 ہزار یا اس سے زیادہ کی ایک لڑی پھونک دیتے ہیں۔ سائنسدانوں کی مانیں تو دیوالی جیسے تہوار گلوبل وارمنگ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پٹاخے جلانے سے اگر گلوبل وارمنگ نہ بھی ہوتی ہو تو ہمارے آس پاس جو سانس یا قلب امراض کے مریض ہوتے ہیں انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ بیمار اور بوڑھے لوگوں کو ضرور دقت ہوتی ہے۔ جانور یا چرند پرند اس سے تکلیف پاتے ہیں۔پہلے پٹاخے کم چلتے تھے لیکن اس کا مقصد خوشی منانا تھا۔ اب پیسے کا مظاہرہ زیادہ ہوگیا ہے۔ ہم سب کو دیپوں کے اس تہوار پر اپنی مبارکباد دیتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ آپ کی دیوالی شبھ اور محفوظ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Deewali, Inflation, Price Rise, Vir Arjun 

25 اکتوبر 2011

ہندوستانیوں میں بڑھتی سونے کی کشش




Published On 25th October 2011
انل نریندر
ہندوستانیوں میں ہمیشہ سے سونے کی سب سے زیادہ کشش رہی ہے۔ دنیا میں سونے کی کل کھپت میں 20 فیصدی تو ہندوستان میں ہی ہوتی ہے۔2011ء میں ورلڈ گولڈ کونسل کی جانب سے ان اعدادو شمار سے ظاہر ہے کہ بھارت میں سونے کی کھپت پچھلے سال کے مقابلے66 فیصدی بڑھتی ہے جبکہ اس دوران سونے کے دام میں30فیصدی زیادہ اچھال آیا ہے۔ مرکزی حکومت کا اس سال تہوار کے موسم میں 700 پوسٹ آفس کے ذریعے ایک ٹن سونے کے بسکٹ بیچنے کا نشانہ ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کے بڑے بینکوں میں سے ایف ایم ڈی ایف سی کا ٹارگیٹ تقریباً اتنا ہی ہے۔کونسل کی رپورٹ کے مطابق 2010 کے بھارت میں سونے کا 963 ٹن برآمد کیا تھا۔جبکہ2009 میں 578.5 ٹن ۔ اس رپورٹ میں دنیا کے 25 ایسے دیشوں کا جائزہ ہے جہاں سونے کی کھپت زیادہ ہے۔دنیا میں چین سونے کا سب سے زیادہ کھپت والا دیش ہے۔وہاں بھی بطور سرمائے کے اسے سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ لیکن پچھلے سال یہاں سونے کی کھپت 580 ٹن تھی یعنی بھارت کی کل کھپت60 فیصدی ہے۔ ماہرین اقتصادیات اس کی بڑی وجہ دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھ رہی ان دو معیشتوں میں درمیانے طبقے کی بڑی آمدنی بتا رہے ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کی رپورٹ میں بھارت کو سونے کا سب سے بڑا گراہک بتایا گیا ہے جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں سونے کی جتنی مانگ ہے اس کی پیداوار آدھی فیصدی بھی نہیں ہے۔ بھارت میں سونے کے زیورات کا کاروبار بھی پچھلے سالوں میں25فیصدی بڑھا ہے اور یہ 36 سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ بھارت میں سونے کی سرمایہ کاری کا رجحان اسی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ 2010ء میں 217 ٹن سونے کے سکے اوربسکٹ خریدے گئے جو 2009ء کے مقابلے میں60 فیصدی زیادہ تھے۔ سکوں اور بسکٹ کی اتنی کھپت کے قریب صرف چین اور جرمنی تھے جہاں 2010ء میں 180 ٹن اور 128 ٹن سونے کے سکے اور بسکٹ خریدے گئے۔
دہلی میں دیوالی پر سونے کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ سونا 90 روپے چڑھ کر 27030 روپے فی دس گرام ہوگیا ہے۔چاندی کی قیمت 52600 روپے سے 600 روپے چڑھ گئی ہے یعنی53200 روپے کلو۔ اس کے علاوہ چاندی سکہ لیوالی و بکوالی 3000 روپے اچھل کر 62000 سے 63000 فی سینکڑا درج کیا گیا ہے۔
سونا خریدنے والوں کے لئے خوشخبری اب اے ٹی ایم مشینوں بھی میں صرف روپے ہی نہیں بلکہ سونے چاندی کے زیورات اور سکے بھی ملیں گے۔دنیا میں اپنی قسم کی یہ پہلی مشین زیورات کا کاروبار کرنے والی کمپنی گیتانجلی گروپ نے لگائی ہے۔ کمپنی نے تہواری سیزن کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے گراہکوں کی سہولت کے لئے یہ انتظام کیا ہے۔ کمپنی کا دعوی ہے کہ اس معجزاتی قدم سے قیمتی دھاتوؤں اور زیورات کی خریداری کرنے کے طریقوں میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ ویسے بھارت میں کتنا سونا ہے اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔ ہر گھر میں سونا ہے۔ مندروں میں کتنا بے شمار سونا ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ ہزاروں برسوں سے بھارت میں سونے کے تئیں لوگوں کی کشش میں روزبروز اضافہ ہوا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Deepawali, Gold Ornaments, Silver, Vir Arjun

کشمیر میں مسلح فورس اسپیشل سیکورٹی ایکٹ ہٹانے کی مانگ



Published On 25th October 2011
انل نریندر
جموں و کشمیر سے مسلح فورس مخصوص اختیارات ایکٹ ہٹانے کو لگتا ہے کہ ایک بار پھر اعلی سطح پر بحث اور اسے ہٹانے کی غلطی کرنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔کشمیر پالیسی ہمیشہ سے اس حکومت کی گول مول رہی ہے۔کشمیر کے مسئلے پر مقرر تین مذاکرات کاروں کی سفارشوں کو بنیاد بنا کر مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کافی حد تک یہ داؤ کھیلنے کا من بنا چکے ہیں۔ پچھلے سال ریاست کے کچھ حصوں سے فوجیوں کو ہٹانے اور اسکے بعد سے ریاست میں حالات معمول پر رہنے کا تجربہ کامیاب مانا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ ان کے والد و مرکزی وزیر فاروق عبداللہ اور علیحدگی پسندلیڈراس مسئلے پر ایک ہیں۔ یہ سبھی چاہتے ہیں کہ ریاست سے مسلح فورس و مخصوص اختیارات ایکٹ ہٹایا جائے جبکہ فوج کی رائے اس کے برعکس ہے۔ ایک طرح سے اس مسئلے پر جموں وکشمیر حکومت اور وزارت داخلہ ایک ہیں۔ڈیفنس وزارت اور فوج اس کے برعکس ہے۔
کیا کوئی سکیورٹی ملازم دونوں ہاتھوں کو پیٹھ کے پیچھے رکھ کر خونخوار بندوقی آتنک وادیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ اور اگر اس کے ہاتھوں میں بندوق دے کر اسے سامنے سے فائر کرنے والے پر گولی نہ چلانے کا حکم دیا جائے تو وہ کیا لڑائی کرے گا۔ کچھ ایسی ہی حالت عمر عبداللہ اپنے راجیہ میں چاہتے ہیں اور چدمبرم ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان اختیارات کے بغیر کشمیر میں دہشت گردی کا مقابلہ مشکل ہے۔ ایک سینئر فوجی افسر نے کہا کہ آپ خود سوچیں جن آتنک وادیوں کے مقابلے میں آپ کو خود واویلے میں پڑنے کا خطرہ ہو تو آس پاس سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ کیا آپ جس آتنکی کا مقابلہ کرنے جارہے ہیں کیا وہ آپ پر پھول برسائے گا؟ فوجی ہیڈ کوارٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار ابھی بھی 50 سے زائد آتنکی کیمپ چل رہے ہیں۔
اتنا ہی نہیں سرحد پار قریب100 سے زیادہ آتنکی دراندازی کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ دراندازی سے لیکر آتنکی حملوں کا بھی خطرہ بنا ہوا ہے۔ پھر آتنکی پہلے کی بہ نسبت ہر سال ہائی ٹیک ہوتے جارہے ہیں۔ آتنکیوں کے پاس نہ صرف جدید ترین ہتھیار ہیں بلکہ الیکٹرانک سازو سامان بھی ہیں بلکہ دیگر تکنیکی تیار کردہ دھماکوں سازو سامان بنانے میں بھی ماہر ہورہے ہیں۔ آتنکیوں کی ٹریننگ بھی کمانڈو سطح پر ہورہی ہے اور وہ ہندوستانی زبانوں کو سیکھ کر آتے ہیں۔ایک نیا فیکٹر جس کا ہمیں خیال رکھناہوگا وہ یہ ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بہت سے چینی فوجی موجود ہیں جو ان آتنک وادیوں کو ہرممکن مدد دے رہے ہیں۔ ایسے میں جموں و کشمیر کی اس سرحدی ریاست میں فوج کے سامنے مسلسل چنوتیاں بڑھ رہی ہیں۔ آج اگر جموں و کشمیر میں تھوڑی سی شانتی ہے تو وہ فوج کی موثر حکمت عملی کی وجہ ہے۔ فوج کے افسروں میں کٹوتی کی مانگ کرنے والوں کے سامنے ملک کی سلامتی سے زیادہ اپنے ووٹ بینک کی پالیسی زیادہ حاوی لگ رہی ہے۔
اگر عمر عبداللہ اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہیں تو مرکزی حکومت کو ان کی ہر مانگ پر ہاں نہیں ہونی چاہئے۔ وزارت داخلہ کو ڈیفنس وزارت سے سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کرنا چاہئے اور جو بھی فیصلہ لینا ہے وہ ملک کے مفاد میں ہونا چاہئے۔ محض کسی سیاسی پارٹی کے ووٹ بینک کی حکمت عملی کو بڑھانے کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ دیش کی سلامتی بالاتر ہے۔
AFSPA, Anil Narendra, Daily Pratap, Indian Army, Jammu Kashmir, Terrorist, Umar Abdullah, Vir Arjun

23 اکتوبر 2011

ہیرو سے ولن تک کاقذافی کا طویل سفر




Published On 23rd October 2011
انل نریندر
لیبیا میں 22 سال تک حکومت کرنے والا 69 سالہ ڈکٹیٹر معمر قذافی آخر کار جمعرات کو مارا ہی گیا۔ اس کی موت اس کے آبائی شہر مسراتا میں سر اور پیر میں گولیاں لگنے سے ہوئی۔ حملے میں اس کے بیٹے متصم اور فوج کے سربراہ ابوبکر یوسف زبر تک سمیت کئی ساتھی بھی مارے گئے۔ قذافی کے گڑھ پر باغی فوجیوں نے قبضہ کرلیا تھا اور اس پر ناٹو حملے بھی ہورہے تھے۔ قدافی ہوائی حملے میں پہلے ہی بری طرح زخمی ہو چکا تھا۔ باقی فوجیوں کے مطابق وہ ایک پائپ لائن میں چھپ کر بیٹھا تھا۔ فوجیوں کو بڑھتے دیکھ کر وہ گڑ گڑانے لگا' مجھے مت مارو ،مجھے مت مارو۔۔۔'' لیکن فوجیوں نے ایک نہ سنی اور اس کے سر اور دونوں پیروں میں گولی ماردی جس سے اس کی موت ہوگئی۔ باغیوں کے مطابق اس کے پاس سے ایک سونے پستول ملی۔ وہ فوجی وردی میں تھا۔ قذافی ہمیشہ سے ہی متنازعہ شخصیت رہے۔ کچھ لوگوں کی نظروں میں جب42 سال قبل انہوں نے شاہ ادریس کا تختہ پلٹا اور اقتدار حاصل کیا تو ابتدائی برسوں میں انہوں نے کئی اچھے کام کئے۔ انہوں نے اپنا ایک سیاسی نظریہ قائم کیا جس پر انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی جو ان کی نظر میں اس خطے میں پلیٹولاک اور مارکس کی طرز فکر سے بھی کہیں آگے تھی۔ کئی عرب اور عالمی میٹنگوں میں وہ نہ صرف اپنے الگ قسم کے لباس کی وجہ سے بلکہ دھنواں دھار تقاریر اور اپنے وراثتی رنگ ڈھنگ سے بھی الگ نظر آئے۔ سال1969 میں جب انہوں نے فوجی تختہ پلٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا تو معمر قذافی ایک خوبصورت اور کرشمائی نوجوان فوجی افسر تھے۔خود کو مصر کے جمال عبدالناصر کا شاگرد بتانے والے قذافی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد خود کو کرنل کے خطاب سے نوازا اور دیش کی اقتصادی اصلاحات کی طرف توجہ دی، جو برسوں کی غیر ملکی وابستگی کے چلتے خستہ حالت میں تھی۔ اگر ناصر نے سوئز نہر کو مصر کی بہتری کا راستہ بنایا تھا تو کرنل قذافی نے تیل کے ذخائر کو اس کے لئے چنا۔ لیبیا میں 1950 کی دہائی میں تیل کے بڑے ذخیروں کو پتہ چلا تھا لیکن اس کی تلاش کا کام پوری طرح سے غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا جو اس کی ایسی قیمت طے کرتے تھے جو لیبیا کیلئے نہیں بلکہ خریداروں کو فائدہ پہنچاتی تھی۔ قذافی نے تیل کمپنیوں سے کہا کہ یا تو وہ پرانے معاہدے پر نظرثانی کرتے یا ان کے ہاتھ سے کھوج کا کام واپس لے لیا جائے گا۔
لیبیا وہ پہلا ترقی پذیر ملک تھا جس نے تیل کی کھدائی سے ملنے والی آمدنی میں بڑا حصہ حاصل کیا۔ دوسرے عرب ممالک نے بھی اس پر عمل کیا ۔ عرب دیشوں میں 1970ء کی دہائی میں پیٹروبوم یعنی تیل کی بہتر قیمتوں سے شروع ہوا خوشحالی کا دور۔ قذافی نے اپنے ابتدائی دور میں لیبیائی شہریوں کے لئے کئی اسکیمیں شروع کیں کہ وہ ہیرو بن گئے۔ لیکن پھر انہوں نے دہشت گرد عناصر کی حمایت کرنا شروع کردی اور آہستہ آہستہ وہ ایک ڈکٹیٹر بن گئے جو اپنے کسی بھی مخالف کو برداشت کرنے کو تیار نہیں تھا۔ جو بھی اس کے خلاف آواز اٹھاتا اسے گولی ماردی جاتی۔ برلنگ میں ایک نائٹ کلب پر سال1986 میں ہوا حملہ قذافی کی مدد سے کٹر پنتھیوں نے کیا تھا۔ اس کلب میں اکثر امریکی فوجی آیا کرتے تھے۔ واقعی سے ناراض امریکی صدر رونالڈ ریگن نے ترپولی اور بین غازی پر ہوائی حملے کئے۔
دوسری واردات جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہ تھا لاکربی شہر کے پاس امریکی ایئر لائنس جہاز میں بم دھماکہ جس میں270 لوگ مارے گئے تھے۔ کرنل قذافی نے حملے کے مشتبہ کو اسکاٹ لینڈ کے حوالے کرنے سے منع کردیا۔ اس کے بعد لیبیا کے خلاف اقوام متحدہ نے اقتصادی پابندی لگادی جو دونوں لوگوں کو سرنڈر کرنے کے بعد 1999ء میں ہٹا دی گئی۔ 2010 ء میں تیونس میں عرب دنیا میں تبدیلی کا انقلاب شروع ہوا تو اس سلسلے میں جن ملکوں کا نام لیا گیا اس میں لیبیا پہلی فہرست میں نہیں تھا۔ کیونکہ قذافی مغربی دیشوں کا پٹھوں نہیں سمجھا جاتا تھا جو علاقے میں جنتا کی ناراضگی کا سب سے بڑا سبب مانا جاتا تھا۔ انہوں نے تیل سے ملنے والی دولت کو بھی دل کھول کر بانٹا۔ یہ بات الگ ہے کہ آخری کچھ برسوں میں اس کی توجہ اپنے اور اپنے خاندان کو امیر بنانے میں مرکوزہوگئی۔ ایک اندازے کے مطابق قذافی کے پاس 7 بلین ڈالر (یعنی 3.5 کھرب روپے) کی مالیت کا سونا تھا۔ کینیڈا میں 2.4 بلین ڈالر یعنی1.19 کھرب روپے، آسٹریلیا میں1.7 بلین ڈالر یعنی 84 ارب روپے، برطانیہ میں 1 بلین ڈالر یعنی 49 ارب روپے جو لیبیا انقلاب شروع ہونے کے بعد ضبط کئے گئے ہیں۔دنیا بھر کے بینکوں میں لیبیا کی168 ارب ڈالر جمع ہیں۔ چھ ماہ چلی بغاوت میں لیبیا کو 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
معمر قذافی اپنی طرز زندگی جینے کے طور طریقوں اور خاص طور پر امریکہ کے ساتھ رشتوں کو لیکر ہمیشہ سرخیوں میں رہے۔ اکثر خبریں آتی تھیں کہ ان کی سکیورٹی گارڈ خواتین تھیں۔ ایک بار جب وہ امریکہ گئے تو کسی عمارت میں نہ ٹھہر کر اپنا کیمپ الگ لگا کر رہتے تھے۔ 1942ء میں قذافی کی پیدائش ایک خانہ بدوش خاندان میں ہوئی تھی۔ 1961ء میں لیبیا کی یونیورسٹی میں تاریخ کی طالب حاصل کرنے گئے تھے اس کے بعد وہ بین غازی فوجی اکیڈمی میں شامل ہوگئے۔1965 گریجویٹ ہونے کے بعد قذافی لیبیا فوج میں سروس کرنے لگے۔ انہیں 1966 میں ٹریننگ دینے کے لئے برٹین کی رائل فوجی اکیڈمی سنفورت بھیجا گیا۔ یکم اگست1969 ء کو قذافی کی لیڈر شپ میں فوجی افسران کے ایک دستے نے فری آفیسر مومنٹ نے خونی انقلاب کے ذریعے اس وقت کے حکمراں شاہ ادریس کو مار گرایا اور لیبیا میں عرب جمہوریت قائم کی۔ قذافی کبھی بھی بھارت کا دوست نہیں رہا۔
1971 کی جنگ کے بعد وہ کھلے طور سے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ماتم میں شامل ہوا تھا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے مسلم ممالک سے اسلامی بینک اور اسلامی بن بنانے کی اپیل کی تھی تو ڈکٹیٹر قذافی نے جنگوں کو سب سے زیادہ فروغ دیا تھا۔ بھٹو بھی قذافی سے اتنے متاثر تھے کہ ان کے نام پر اپنے دیش میں ایک اچھا اسٹیڈیم بھی لاہور میں بنا دیا۔ قذافی نے ایک بار بھارت کو اس وقت بھی سفارتی الجھن میں ڈال دیا تھا جب انہوں نے کشمیر کو ایک آزاد ملک بنانے کی حمایت کی تھی اور کہا کہ یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک پل ہونا چاہئے۔ سال2009ء میں اقوام متحدہ میں اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ بھارت ان دیشوں میں شامل ہے جو سکیورٹی کونسل میں مستقل سیٹ کے لئے کوشش میں لگا ہوا ہے۔ کشمیر آزاد دیش ہونا چاہئے نہ ہندوستانی نہ پاکستانی۔ ہمیں اس لڑائی کو ختم کرنا چاہئے۔ یہ پہلی بار تھا جب ہندوستانی برصغیر سے باہر کسی اسلامی لیڈر نے بھارت اور پاکستان سے کشمیر کی آزادی کی وکالت کی تھی۔
معمرقذافی نے صدام حسین کے شکنجے میں پھنسنے کے بعد مغربی ممالک کے سامنے ہتھیار ڈالے اور امریکہ کا وست بن گیا لیکن جب عرب انقلاب شروع ہوتے ہی ان کے اندر کی تاناشاہی جاگ گئی۔ اس دوران جمہوریت تحریک کو دبانے کے لئے انہوں نے اجتماعی آبروریزی جیسے جدید ہتھیار کو اپنانے سے پرہیز نہیں کیا۔ کرنل قذافی کی اس حرکت سے نہ صرف مغرب کی دوہری پالیسی کی ہی ایک مثال ہے یوروپ۔ امریکہ نے عرب ممالک کو زیادہ سے زیادہ لوٹا کھسوٹا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑدیا۔
ظاہر ہے مغرب کی حمایت کے بغیر قذافی چار دہائی تک اپنا نکمی حکومت نہیں چلا سکتا تھا اور اب ان کی موت کے بعد لیبیا کو جمہوریت کے راستے پر لے جانے کا راستہ نہ تو قومی انترم کونسل کے پاس ہے اور نہ ہی ان کے آقا یوروپ امریکہ کے پاس ہے۔ جب افغانستان اور عراق میں امن اور استحکام کا مقصد پورا نہیں ہو پایا تو لیبیا کے حالات تو جرمنی سے بھی پیچیدہ ہیں۔ آخری لمحوں تک قذافی نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ غیر ملکی فوج نئی سرکار کے لڑاکو کے خلاف گھنٹوں مورچہ سنبھالے رکھا۔ فوج نے جس بربریت سے لاتوں اور گھونسوں سے پٹائی کی اور پیر اور پیٹھ میں گولی مارہے یہ ایک طرح سے انسانیت کے خلاف ہے۔
A K Antony, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Gaddafi, Libya, USA, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...