Translater

13 جون 2020

کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی روکنے کےلئے

آرٹیکل 370ہٹنے کے بعد کشمیر میں دہشت گردوں نے اقلیتی کشمیری پنڈتوں کا ایک بار پھر نشانہ بنانے کی سازش رچی ہے۔ ساو¿تھ کشمیر کے اننت ناگ میں دہشت گردوں نے ایک پنڈت سرپنچ اجے پنڈت کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔ اس واردات کو دہشت کی نئی علامت بنی جہادی تنظیم ریسسٹنس فرنٹ ٹی آر ایف نے انجام دیا ہے۔ پچھلے 17برسوں میں وادی کشمیر میں کشمیری پنڈت کی دہشت گردوں کے ذریعہ کی گئی ہلاکت یہ پہلی واردات ہے۔ سرپنچ کانگریس سے وابستہ تھا۔ پولیس ملزمان کی سرگرمی سے تلاش کررہی ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور ان کی بساسط روکنے کے لئے آتنکی تنظیموں نے یہ سازش رچی ہے اور ساتھ ہی انتظامیہ کی کوشش کو جھٹکا دینے اور لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی خاطر سرپنچ کو قتل کیاگیا۔ پلگام کے ناڑی مرگ میں2003کے قتل کے بعد وادی میں کسی پنڈٹ کا قتل ہوا ہے۔ فوج کی طرف سے زمین خریدنے کی پیش کش سے بھلائے یہ دہشت گردی تنظیموں نے یہ قتل کروایا۔ آر ایس ایس حمایتی عام شہروں کی آڑ میں جہاں بسنے کی کوشش کررہی ہے ایسے میں کسی بھی ہندوستانی کو جو کشمیر میں بسنے آئے گا وہ آر ایس ایس کا ایجنٹ سمجھا جائے گا۔ لوگوں کو زمین، دشمن اور اس کے ایجنڈے کے ہاتھ میں بیچنے کے لئے خبردار کیاجارہاہے۔ اس کے علاوہ پچھلے 15دنوں میں فوج اور پولیس نے مل کر درجنوں دہشت گردوں کو مار گرایا ہے۔ ان میں کئی کمانڈر آتنکی بھی شامل ہیں۔ اس لئے بوکھلائے ہوئے آئی ایس آئی اور اس کے گرکوں نے یہ قتل کرکے اپنی موجود گی درج کرادی ہے۔ 
(انل نریندر)

اتراکھنڈ میں ہوئی ریورس ہجرت!

لاک ڈاو¿ن کے دوران دوسرے ملکوں سے بڑی تعداد میں یوپی لوٹے پرواسیوں کے لئے جس طرح وہاں کی سرکار مستقبل کے پلان پر کام کررہی ہے کچھ اسی طرح کی تیاری کا انتظار اتراکھنڈ میں موجود پرواسی مزدور بھی کررہے ہیں۔ جانکاری بتاتی ہے کہ لوٹنے والے لوگوں کی تعداد بہت بڑی ہے اور ایسے میں کورونا کے سبب ہوئی ریورس ہجرت کو سرکار کو بڑے موقع کی شکل میں دیکھنا چاہئے۔ انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایتی راج سے وابستہ ڈاکٹر راجندرپرساد ممگئی کا کہنا ہے کہ میں نے اپریل کے وسط میں گاو¿ں لوٹے 165 ہندوستانی پرواسیوں پر ٹیلی فون پر سروے کیا ہے اور پایا کہ سب سے پہلے ان لوگوں کی واپسی ہوئی جو ہوٹل وریسٹورنٹ اور انڈسٹری سے جڑی تھے، زیادہ تر 19سے 29سال کے عمر کے ہیں جو کچھ برسوں میں ان سیکٹروں میں روزگار کے لئے گئے۔ میں بھی خود پروفیشنل ہوں اور میں نے پایا کہ سات گاو¿ں 165لوگ باہرسے آئے ہیں۔ 10میں سے 8ایسے ہیں جو غازی آباد، میرٹھ سے پیدل چل کر گاو¿ں پہنچے تھے۔ پورے اتراکھنڈ کی بات کریں تو ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے گاو¿ں سے اس بار لوٹنے کا اندازہ ہے۔ اگر سرکار انہیں یہیں روکنا چاہتی ہے تو انہیں 5ماہ تک ڈھائی ہزار روپے تک مالی مدد دینی ہوگی۔ پرواسیوں کے لئے مستقبل کے پلان پر وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ منریگا میں مزدوری تو نہیں کریں گے لیکن وہ اس پروگرام میں اپنی اہلیت کے مطابق کام لے سکتے ہیں۔ یا ٹریننگ دلاسکتے ہیں۔ اب ہل کی جگہ چھوٹی مشین آچکی ہے، جس سے بنجر ہوچکی کھیتی میں جتائی کروائی جاسکتی ہے۔ اتراکھنڈ کا پہاڑی علاقہ پھولوں اور پھلوں کے لئے اچھا ہے۔ اس لئے ماڈل کھیتی کا انتخاب کیاجاسکتا ہے۔
 (انل نریندر)

کیا بغیر اثرات والے انفیکشن پھیلاسکتے ہیں؟

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے سائنس دانوں نے صاف کیا ہے کہ بغیر کورونا اثرات والے کورونا وائرس انفیکٹڈ لوگوں سے جتنا انفیکشن پھیلتا ہے یہ ابھی صاف نہیں ہے۔ ڈاکٹر ماریہ وین کیرخوف نے پیر کوکہاکہ یہ بے حد کم ہے کہ ایسمٹومیٹک لوگ بیماری کو پھیلائے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا یہ بیان چھوٹے کیسز میں کی گئی ریسرچ پر مبنی ہے۔ ابھی تک ملے ثبوت یہ اشارہ کرتے ہیں کہ کورونا انفیکشن اثرات والے لوگ زیادہ ہی انفیکشن پھیلاتے ہیں لیکن یہ بیماری جسم میں پیدا ہونے سے پہلے ہی آگے پھیلائی جاسکتی ہے۔ حالانکہ لوگوں کے ایک ایسے طبقے کا پتہ چلا ہے جو بنا اثرات کے بھی کورونا ٹیسٹ میں پوزیٹیو پائے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے کتنے لوگوں میں پھیلایا اس کا بھی پتہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر وین کیرخوف نے بتایا کہ جن ثبوتوں کا وہ ذکر کررہی ہیں وہ ان ملکوں سے آئے ہیں جہاں پر تفصیل سے کورونا ٹریسنگ کی گئی۔ مختلف دیشوں کے انفیکشن کے کلسٹر کو آگے دیکھاجائے تو ایسمٹومیٹک معاملے میں اس سے ہوئے دوسرے انفیکشن کے معاملے بے حد کم تھے۔ لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن میں وبائی ماہر پروفیسر لیام ایمک کہتے ہیں کہ لاک ڈاو¿ن نافذ کرنے پر انفیکٹڈ لوگوں کی تعداد تیزی سے گھٹے گی۔ اس میں بے یقینی کا زور رہتا ہے۔ WHOکے بیان سے وہ حیرت میں ہیں، کیونکہ انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ WHOکا بیان کن حقائق پر مبنی ہے۔ WHO کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل ریان کہتے ہیں کہ وہ پوری طرح سے باخبر ہیں کہ بغیر لکشن والے لوگ انفیکشن پھیلاتے ہیں۔ لیکن سوال ہے کہ کتنا؟ WHO کے ایمرجنگ ڈیزیز(بیماری) کے چیف وین کیرخوف تین کیٹیگری بنائیں ہیں کہ وہ لوگ جن میں اثرات نہیں آتے جنہیں کوئی انفیکشن نہیں تھا لیکن ٹیسٹ میں پوزیٹیو پائے گئے اور دوسرے ان میں کورونا کے اثرات ابھرے جن میں بے حد کم اثرات تھے اور انہیں احساس نہیں ہوا کہ ان کو کورونا وائرس ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ ایسمٹومیٹک معاملے تلاش نے کے لئے ٹیسٹ کئے گئے تو ان میں ان لوگوں سے انفیکشن بہت کم پھیلا تھا جو کورونا وائرس ٹیسٹ میں پائے گئے اور ان میں اثرات نہیں تھے اس کی وجہ سے WHO کو ماسک پہننے پر نئی گائیڈ لائنز جاری کرنی پڑی اور ساتھ ہی کہنا پڑا کہ ممبر ملکوں میں کانٹریکٹ ٹریسنگ کے ثبوت بتاتے ہیںکہ ایسمٹومیٹک لوگ اثرات والے لوگوں کے مقابلے بے حد کم انفیکشن پھیلاتے ہیں۔ ڈاکٹر وین نے اس بات پر زور دیا کہ کورونا خاص طورپر انفیکشن سے پھیلتا ہے اور یہ کسی کے کھانسنے یا تھوکنے سے زیادہ یہ بیماری پھیلتی ہے۔ 
(انل نریندر)

12 جون 2020

مریض بڑھے تو کیاہوگا؟:دلّی سرکار بنام لیفٹیننٹ گورنر

راجدھانی دہلی میں کوروناکے بڑھتے مریضوں سے پہلے ہی ہانپ رہی دہلی کے نظام کی پول کھلتی جارہی ہے۔ اپنی جواب دہی سے بچنے کے لئے دہلی کے وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ عجیب وغریب بیان دے رہے ہیں۔ پہلے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کا بیان آیا کہ اب دہلی میں صرف دہلی کے باشندوں کا ہی علاج ہوگا اور دیگر ریاستوں سے آنے والے کا نہیں۔ کجریوال کے اس بیان پر ہنگامہ کھڑا ہونا لازمی تھا۔ اس پر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے کجریوال سرکار کا فیصلہ منسوخ کردیا۔ یہ یقینی تھا ایل جی آفس کی جانب سے منگل کے روز کہاگیا کہ دہلی سرکار کا فیصلہ یکساں حقوق، زندگی کا حق اور صحت کا حق جیسے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس لئے اسے منسوخ کیاجاتا ہے۔ اس پر منگل کو دہلی قدرتی آفت منیجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کی میٹنگ میں شرکت کے بعد دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے یہ بیان دے کر دہلی میں دہشت پھیلادی کہ جس تیزی سے کورونا کے مریض بڑھ رہے ہیں اس سے اندازہ ہے کہ اگلے ماہ 31جولائی تک 5.5لاکھ ہوجائیں گے اور 31جولائی تک دہلی میں مریضوں کے علاج کے لئے 80ہزار بیڈ کی ضرورت ہوگی۔ دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کو ذمہ دار مانتے ہوئے ساری ذمہ داری ان پر تھوپنے کی کوشش کی۔ یعنی دہلی میں اگر کورونا کے مریض بڑھتے ہیں تو اس کی وجہ کے لئے لیفٹننٹ گورنر ہوں گے۔ چونکہ ہمارے پاس اتنی تعداد میں مریضوں کے لئے نہ تو کوئی انتظام ہے اور نہ ہی بیڈ ہیں۔ دراصل معاملہ حق کا نہیں ہے مشکل کے دور میں کسی مریض کا علاج اس لئے منع کردینا کہ وہ دہلی کا مقامی باشندہ نہیں ہے یا کچھ توہین آمیز غیر انسانی لگتا ہے یہ ویسے ہی واقعات سے الگ ہیں۔ جس میں مہنگا پرائیویٹ ہسپتال کا خرچ نہ اٹھاپانے کی وجہ سے کسی مریض کا علاج کرنے سے منع کردینا انسانی نکتہ نظر سے کسی بیمار شخص کی مدد یا مریض کا علاج کا حق دونوں لحاظ سے مناسب نہیں تھا۔ علاقائی بنیاد کسی کو علاج سے محروم رکھاجائے۔ دیش کی راجدھانی ہونے ناطے یہ دہلی کے لئے بےشک تکلیف دہ حالت تھی۔ دہلی کے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل نے کجریوال سرکار فیصلہ پلٹ دیا اور کہاکہ دہلی صرف کچھ لوگوں کی نہیں بلکہ سب کی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے صاف طورپر کہا ہے کہ سبھی جینے کا حق ہے اس لئے کوئی بھی ہسپتال یا نرسنگ ہوم کسی مریض سے امتیاز نہیں برتے گا۔ دیش کے ہر شہری کا دہلی پر حق ہے۔ راجدھانی میں عالمی وبا کورونا جیسی قدرتی بیماری کا علاج سے محروم کیسے کیاجاسکتا ہے۔ منیش سسودیا نے اندیشہ ظاہر کیاہے کہ جولائی تک 5.5لاکھ مریض ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ اندیشہ صحیح ہوتا ہے تو دہلی سرکار نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے۔ دہلی سرکار نے 2015 میں اقتدار میں آنے کے بعد ہیلتھ سروسز ہو یا ہسپتالوں کی تعداد ہو ان میں دستیاب بیڈ کی تعداد کتنی بڑھائی ہے۔ اب جب حالات بے قابو ہورہے ہیں تو کجریوال ہاتھ کھڑے کررہے ہیں۔ 
(انل نریندر)

کیا چینی دراندازی کا سچ دبایا جارہا ہے؟

لداخ میں کنٹرول لائن پر چینی فوجیوں کے قبضے کو لے کر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور وزیردفاع راجناتھ سنگھ کے درمیان پیر کو کورونا کو لے کر ایک دوسرے کے درمیان الزامات کے تیز چلے۔ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے سرحد کی حفاظت پر دیئے گئے بیان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ٹوئیٹ کیا کہ سب کو معلوم ہے سرحد کی حقیقت۔ لیکن دل کو خوش رکھنے کے لئے شاہ کا یہ خیال اچھا ہے۔ راہل کے ٹوئیٹ کا جواب دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے جوابی ٹوئیٹ کر کہاکہ مرزا غالب کا ہی شعر تھوڑا الگ انداز میں ہے۔ ہاتھ میں درد ہوتو دوا کیجئے،جب درد ہوتو کیا کیجئے۔ اس سے پہلے راہل نے ایک ڈیفنس کے ایکسپٹ کے ٹوئیٹ پر کہاکہ وہ جانتے ہیں کہ لداخ میں کیا ہورہا ہے۔ چینی قبضے کی سچائی سب کو معلوم ہے۔ اگر میڈیا کو ڈرایا اور دبایا جارہا ہے اور اس وجہ سے خبروں کو کنارے کیاجارہا ہے۔ لداخ میں ایل سی اے پارکر ہندوستانی علاقے میں چینی فوجیوں کی گھسنے کی صحیح تصویر بتانے کی پچھلے دوہفتے سے مانگ کررہے راہل گاندھی کے سوالوں کا سرکار اب تک جواب نہیں دے پائی، اس لئے بھارت چین کے بڑے کمانڈر سطح پر ہوئے اجلاس میں تعطل پر بات چیت کے بارے میں راہل نے ایک بار پھر ٹوئیٹ کے ذریعہ حکومت کی خاموشی پر نکتہ چینی کی۔ سابق کانگریس صدر نے امت شاہ کے بیان کی بھارت کی ڈیفنس پالیسی کو عالمی منظوری حاصل ہے اور پوری دنیا مانتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے بعد کوئی تیسرا دیش جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کرسکتا ہے وہ بھارت ہے۔ راہل گاندھی چینی فوجی قبضوں کے بارے میں حقیقت چھپانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے اس ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ہندوستانی میڈیا خوفزدہ ہے اور اس کی آواز بند کردی گئی ہے اور سچائی پیروں تلے دبادیاگیا ہے۔ لیکن ہندوستانی فوج کے ہر افسر فوجیوں کی رگوں میں دیش بھکتی کا خون دوڑ رہا ہے، وہ جانتے ہیں حقیقت میں لداخ میں کیاہورہا ہے وہیں کانگریس ترجمان ابھیشیک منوسنگھوی نے راہل کے سوالوں کو جائز مانتے ہوئے کہاکہ قومی سلامتی کے سوال پر کانگریس میل کے آخری پتھر تک سرکار کے ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ وہ اس کے ساتھ اس سے آگے کھڑی رہے گی۔ قومی سلامتی اور دیش کی سالمیت کسی پارٹی کا معاملہ نہیں یہ قومی مفاد کا مسئلہ ہے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا میں اس بارے میں پارلیمنٹ میں تفصیل سے جواب دوں گا۔ ہم کسی بھی دیش کی عزت ووقارواعتماد کو چوٹ نہیں پہنچاتے اور نہ ہی ہم چوٹ برداشت کریں گے۔ میں دیش کو گمراہ نہیں کروں گا۔ میڈیا میں آزادانہ ذرائع کے مطابق چینی فوج آہستہ آہستہ بھارت کی سرزمین پر قبضہ کرتی جارہی ہے اور سرکار پر الزام لگ رہا ہے کہ وہ حقیقت چھپارہی ہے۔ سچ کیا ہے اس کی جانکاری دیش کو ملنی چاہئے۔ 
(انل نریندر) 

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...