Translater
26 اپریل 2025
پہلگام میں حملہ : سوال تو پوچھے جائیں گے!
بے سرن ہی کیوں نشانہ بنا؟ دہشت گردوں کا پنا ہ کار کون ہے ؟ ایسے سوال آج پورا دیش پوچھ رہا ہے ۔یہ کوئی چھوٹا موٹا حملہ نہیں تھا جموں وکشمیر میں 2019 میں پلوامہ میں ہوئے حملے کے بعد منگلوار کو پہلگام میں سیاحوں پر ہوا حملہ سب سے بڑا آتنکی حملہ ہے۔پلوامہ میں 14 فروری 2019 کو جیش محمد کے ایک فدائی حملہ آور نے سی آر پی ایف کے قافلے پر دھماکوں سامان سے بھری گاڑی پر حملہ کیا تھا ۔اس حملے میں 40 جوان شہید ہو گئے تھے ۔آج تک اس بات کا تسلی بخش جواب نہیں ملا کہ دھماکو شہ سے بھری آتنکی اپنی گاڑی سی آر پی ایف کے قافلے میں لیکر کیسے گھسا ۔خیر آج بات کرتے ہیں بیسرن کے آتنکی حملے کی اس نے ہر ہندوستانی کا کلیجہ چیر کر رکھ دیا ہے۔ کسی کا سہاگ اجڑا تو کسی کی گود،کسی کے کمانے والے نے دم توڑا تو کسی کا بھائی اب کبھی بھی لوٹ کر گھر نہیں آئے گا ۔دہشت گردی نے ایک بار پھر سے زمین کی جنت پر خون کی ہولی کھیلی ہے جس نے نہ صرف انسانیت کو شرمسارکیا بلکہ کشمیریوں کی کمر بھی توڑ کر رکھ دی ہے ۔اس بار نہ تو دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے کا انتظار کیا اور نا ہی کسی سنسان جگہ کو نشانہ بنایا۔ اس بار انہوں نے بھری دوپہر میں پہلگام کے بیسرن کے مونا جسے منی سوئزر لینڈ کہا جاتا ہے ۔آتنکی حملے نے کئی سوال کھڑے کئے ہیں ۔اب تک جو بیسرن پیار ،محبت کے لئے جاناجاتا تھا و ہ اب ڈر وخوف ،موت ودہشت کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔پہلا سوال بیسرن وادی کو دہشت گردوں نے نشانہ کیوں بنایا ؟ سیاحوں کے لئے یہ وادی کافی محفوظ مانی جاتی رہی ہے اس لئے پہلگام کے مقابلے میں چند سینا اور پولیس کی تعیناتی نہیں ہوتی کیا اس کا فائدہ دہشت گردوں نے اٹھایا ؟ کیا یہ آتنکی بیسرن ویلی میں کافی دن سے رکے ہوئے تھے ؟ جس طرح سے دہشت گردوں نے اس واردات کو انجام دیا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سب کچھ پلان کے تحت کیا گیا ہے ۔اس کا مطلب تو وہ کافی وقت سے پہلگام یا بیسرن کے آس پاس چھپے رہے ہوں گے ؟ کیا مقامی لوگ بھی اس حملے میں شامل ہیں ؟ کیا مقامی لوگوںنے انہیں پناہ دی ہے ؟ آتنکی ایک دن میں ہی بیسرن کیسے پہنچ گئے ۔امرناتھ یاترا سے پہلے کیوں ایسا ماحول بنایا ۔پہلگام میں سیاحوں کو نشانہ بنایا؟ آتنکیوں کے پاس اتنے جدید ہتھیار کہاںسے آئے ۔یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب وزیراعظم سعودی عرب میں تھے اور امریکہ کے نائب صدر وینس دہلی میں تو کیا سندیش دینا چاہتے تھے یہ دہشت گرد اور ان کے آقا۔ فوج کے ذمہ داروں نے فوجی ناکامی اور سیکورٹی خامیوں کو اجاگر کیا ہے ۔جیسے جیسے دیش اس خوفناک ٹریجڈی سے نکل رہا ہے ویسے ویسے بھارت کی سیکوڑٹی اور کمزوریوں پر کئی سوال اٹھ رہے ہیں ۔کرنل آسو توش کالے جنہو ں نے کشمیر میں لمبے عرصہ تک علیحدگی پسندی سے لڑتے ہوئے اور دہشت گردی مخالف کاروائی چلانے اور کئی خامیاں گنائیں ۔پلان بناتے وقت کئی پہلوو¿ں پر غور کیا گیا ۔اس میں مقامی گائیڈ کا استعمال ،حملے کی جگہ کے قریب بیس بنانااور واردات کی جگہ پر بھیڑ جمع ہونے کے موقع کی بنیاد پر حملے کا تجزیہ کرنا شامل ہوسکتا ہے ۔دہشت گردوں کی گھس پیٹھ کے راستوں کے ساتھ ایک باہر نکلنے کے راستے کا بھی پتہ لگایا ہوگا ۔جس کی بنیاد پر بنا پکڑے جانے کا خفیہ راستہ ملتا اور حملے کے بعد وہ جلد ہی سے بھاگ نکلے ۔ایک دیگر افسر نے بتایا کہ یہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی ہے ۔حملے کے وقت دو ہزار سے زیادہ پارک میں سیاہ موجود تھے اور ایک بھی سیکورٹی ملازم وہاں موجود نہیں تھا نا آرمی نہ پولیس ۔ایسا کبھی ہوا ؟ کیا ہمارے خفیہ محکمہ کو اس مجوزہ حملے کی کوئی معلومات ملی تھی یا نہیں ؟ اگر نہیں تھی تو یہ بہت بڑی خفیہ ناکامی ہے اور اگر تھی تو بروقت قدم کیوں نہیں اٹھائے گئے ؟ مقامی جگہ کو دیکھتے ہوئے ایک ایسا خطہ جہاں سیاہ اکثر آتے ہیں ۔دہشت گردوں نے جانچ کی ہوگی ۔یہاں صرف پیدل یا گھوڑے سے آیا جاتا ہے ۔سیکورٹی روٹیشن بریک کی پہچان کی ہوگی اور کم چوکسی والے وقت کا فائدہ اٹھایا ۔کیا پاک فوج کے چیف جنرل منیر کی تقریر ایک وارننگ تھی جب انہوں نے بڑی مری میٹنگ میں کہا کہ کشمیر میں ہمارا ہاتھ ہے ۔سرکار کا رخ بالکل صاف ہے کیا یہ ایک وارننگ تھی ؟ پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ بیسرن کوئی سرھدی علاقہ نہیں ہے ۔یہ کم سے کم کشمیر کے بارڈر سے 150 کلو میٹر اندر ہے ۔آتنکی اتنا اندر کیسے محفوظ طریقہ سے گھس آئے ۔یہ واردات سیکورٹی پروٹوکال میں وسیع خامی کو ظاہر کرتی ہے ۔ممکنہ خامیوں میں باقاعدہ نگرانی کی کمی شامل ہے ۔خاص طور سے ذرائع اور کم گشت والے راستوں پر ۔ایک محفوظ ترین خطہ مانا جانے والے علاقہ میں ہتھیاروں سے گھس پیٹھ نہ صرف درپردہ سیکورٹی میں خامیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ خطرے کے تجزیہ میں لاپرواہی کو بھی دکھاتا ہے۔اور پوری طرح امن بحال ہونا سمجھ لینا بھی بڑی بھول ظاہر کرتا ہے ۔اس طرح کا آپریشن پیشہ آور مدد کے بنا نہیں کیا جاسکتا ۔پاک فوج اور آئی ایس آئی کو اس میں شامل کیا جانا چاہیے ۔آخر میں ہم ان شہیدوں کے پریواروں کے تئیں ہمدردی ظاہر کرتے ہیں اور متوفین کو شردھانجلی دیتے ہیں جنہوں نے اپنوں کو کھویاہے ۔اوپر والا انہیں صبر دے اور اس مشکل گھڑی میں اس سے نکلنے میں مدد کرے ۔
(انل نریندر)
24 اپریل 2025
تین مہینے میں ہی ٹرمپ نے تارے دکھا دئے!
امریکہ میں جب سے ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے ۔اور ان کا ہر قدم تنازعوں سے گھرا ہے ۔ابھی ہاورڈ یونیورسٹی کی گرانڈ رکنے پر تنازعہ رکا بھی نہیں تھا کے مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ایک ہزار سے زیادہ دنیا کے طلبا کا ویزا منسوخ کئے جانے کو لیکر نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔سنیچر کو ڈونالڈ ٹرمپ کے پالیسیو کے خلاف لاکھوں مظاہرین ایک بار پھر سے سڑکوں پر اتر آئے ان مظاہروں کو ہینڈس آف نیم دیا گیا ہے ۔50 ریاستوں کے ہزاروں طلبا نے اس مظاہرے میں حصہ لیا یہ مظاہرہ شہریوں کے اختیارات اور زندگی گزربسر اور امریکہ جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ مانے جانے والے مثائل کو لیکر ہو رہا ہے ۔اس دوران مظاہرین نے صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاﺅس کا بھی گھیراﺅ کیا ۔50 ریاستوں میں ہوئے مظاہرین نے ٹرمپ پر شہری اور قانونی کی حکمرانی کو کچلنے کا الزام لگایا ۔اس تحریک کو 50501 نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے 50 مظاہرہ ،50 ریاستیں اور آندولن ہے ۔مظاہرے کے دوران طلبا نے وائٹ ہاﺅس کے علاوہ ٹیسلا کے شوروم کا بھی گھیراﺅ کیا ۔مظاہرے کے دوران پوسٹر پر لکھا تھا ،ٹرمپ کو السلوا ڈور جیل میں ڈال دیا جائے ۔ساتھ ہی ٹرمپ کے خلاف شرم کرو جیسے نارے بھی لگائے گئے مظاہرین نے صدر پر سیول آزادی اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کے الزام لگائے ہیں ۔مظاہرہ کر رہے لوگوں کا کہنا تھا ہمارا مقصد ٹرمپ انظامیہ کے تحت بڑھتے اقتدار وادی رویہ سے جمہوریت کو بچانا ہے ۔اسے عدم تشدد کی تحریک بتایا ہے۔اس احتجاجی مظاہرہ میں سیاسی پارٹیوں کے شمولیت کے بارت میں بھی بتایا گیا ہے۔اتنا ہی نہیں مظاہرین نے السلوا دور سے جلع وطن ہونے والے کیلیئر ارتھ گو اور گارسیا کی آزادی کی مانگ کی ہے۔امریکہ کے لوگ ٹرمپ کے پالیسیوں کے خلاف کئی وجوہات سے مظاہرہ کر رہے ہیں۔اس میں ٹیرف وار اور سرکاری نوکری سمیت کئی اشو شامل ہیں ۔یہ احتجاجی مظاہرے کا دوسرا مرحلہ ہے جب امریکہ عوام پھر سے سڑکوں پر اتر آئی ہے اس سے پہلے 5 اپریل کو ٹرمپ کے خلاف پورے دیش میں مظاہرے ہوئے تھے ان کے پیچھے کون ہے کے جواب میں بتایا جا سکتا ہے کے اس میں لیبر فیڈریشن ،جمہوریت ہامی گروپ ہیں ۔سیول حقوق رضا کاروں اور خواتین حقوق جیسی150 تنظیموں کے ذریعہ یہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔بڑا مظاہرہ جیسے موآن ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے خلاف سرم گرم ہیں۔فنڈنگ معاملہ میں کہا جا رہا ہے کے کرائٹ فنڈنگ ڈونیشن اور بڑے گروپ اپنے اداروں سے مظاہروں کو لا رہے ہیں ۔سین فرانسسکو میں سینکڑوں لوگوںنے بحرولکاہل سمندر کی کنارے سمندری ریت پر مقدمہ چلاﺅ اور ٹرمپ کو ہٹاﺅ نارہ لکھا تھا ۔کوئی راجہ نہیں ہے اس کے ساتھ ایک مظاہری ہاتھ میں لیکر کارڈ چل رہا تھا جس پر لکھا تھا سامراجواد ختم ہو چکا ہے ۔مظاہرے کا انعقاد کرنے والوں کا کہنا ہے کے وہ سیول اور آئینی حقوق کے خلاف ورزیوں کی مخالفت کرتے ہیں ۔صدر نے تاریکین وطن کو جلع وطن کرکے اور ہزاروں سرکاری ملازمین کو نوکری سے نکال کر فیڈرل حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب سے آئے ہیں انہوںنے ساری دنیا میں اپنی پالیسیوں سے ہلچل مچا دی ہے ۔جس طرح سے انہیں امریکی جنتا نے چتایا تھا امید کی جاتی تھی کے یہ امریکی مفادات اور تجارت کو نئی روح دیں گے انہوںنے نا تو ایسے قدم اٹھائے ہیں جس سے نہ صرف دنیا پریشان ہے بلکہ خود امریکی عوام کو بھی سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ابھی تو انہیں ذمہ داری سنبھالے 3 مہینے ہوئے ہیں اور یہ ہال ہے ۔انہیں اگلے 4 سال برداشت کرنا بہت ہی مشکل ہونے والا ہے ۔اگر یہ تب تک صدر رہے تو ؟(انل نریندر)
22 اپریل 2025
دھنکڑ کے بیان پر چھڑا گھمسان!
صدر اور گورنر کے ذریعہ بلوں کو منظوری دینے میں 3 مہینے کی وقت میعاد طے کرنے کے معاملے میں نئاب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑ کے ذریعہ سپریم کورٹ کی نکتہ چینی کئے جانے کے بعد سیاسی اور قانونی ماہرین کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے انہوںنے بڑی عدالت پر حملہ آور ہوتے ہوئے کہا کے وہ سپر سنسد نہیں بن سکتی ۔اور بھارت کے صدر جمہوریہ کو ہدایت دینا شروع نہیں کر سکتا ۔نائب صدر نے آئین کے آرٹیکل 142 کو جمہوری طاقتوں کے خلاف نیوکلئر میزائل تک بتا ڈالا ۔یہ آرٹکل سپریم کورٹ کو خاص اختیار دیتا ہے۔جب مکمل انصاف کے لئے کوئی اور راستہ نہیں بچتا تب سپریم کورٹ اس آرٹکل سے مکمل اختیارات کا استعمال کرتا ہے۔یہ کسی آئینی ادارہ کے خلاف ہتھیار نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ ایک امید کا دروازہ ہے ۔راجیہ سبھا ایم پی کپل سنبل نے نائب صدر جمہوریہ دھنکڑ کے ذریعہ دئے گئے بیان پر کہا کے یہ نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ نامناسب ہے آج تک کسی چیرمین نے ایسی سیاسی رائے زنی نہیں کی ۔لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیرمین کسی پارٹی کا ترجمان نہیں ہو سکتے ۔اگر ایسا ظاہر ہوتا ہے تو یہ عہدے کے وقار کے خلاف ہے اور عہدے کی ساخ کو ٹھیس پہنچاتا ہے ۔کپل سنبل نے کہا عدلیہ اپنی بات نہیں کہہ سکتی اس لئے جب اگزیکیوٹیو حملہ کرے تو بچاﺅ کرنا چاہئے۔سابق وزیر قانون کپل سبل نے کہا صدر اور گورنر کبینیٹ کے صلاح پر کام کرتے ہیں ۔بل لٹکانہ آئینی اختیار نہیں ہے ۔اگر پارلیمنٹ سے پاس بل راجپتی لٹکاکر بیٹھ جائے تو کیا ہوگا؟کپل سبل نے 24 جون 1975 کا ذکر کرتے ہوئے کہا اندرا گاندھی کا چناﺅ منسوخ کرنے کا فیصلہ ایک جج ،جسٹس کرشنا ائر نے سنایا تھا جس میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا چناﺅ ناجائز قرار دیا گیا تھا انہوںنے کہا کے اندرا گاندھی کے چناﺅ کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا تب صرف ایک جج کرنشا ائر نے فیصلہ سنایا تھا ۔دھنکڑ جی کو یہ منظور تھا لیکن اب دو ججوں کی بنچ کا فیصلہ صحیح نہیں ہے کیوں کے یہ سرکار کے حق میں نہیں ہے ۔ادھر مہیش جیٹھ ملانی نے دھنکڑ کے اس دمدار قدم کی تعریف کرنے کے ساتھ اس کی قانونی تشریح کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ،جہاں کچھ لوگ سرکار کے دو حصوں اگزیکٹیو ،آئین سازیہ کے درمیان رسہ کشی کے بیچ دیش کے دوسرے چیف نائب صدر کے آنے کے جواز پر بھی سوال اٹھا سکتے ہیں لیکن بلکل واضح آئینی قصور اور اشارہ کرنا (نائب صدر ایک قانونی ماہر بھی ہیں)کے آئین کے آرٹکل 145 (3 )کے مطابق آئینی تقاضہ کی تشریح سے متعلق سوال پر 5 ججوں کی بنچ کے ذریعہ غور کیا جانا چاہئے اور دو جج صاحبان کی بنچ کا فیصلہ غیر تسلیم تھا یہ یقینی طور سے آئین کی حد بنائے رکھنے کےلئے نائب صدر کے حلف برداری کی ذمہ داری کی تعمیل ہوگی ۔بے شک اپنے دیش میں کئی ایسے بڑے وکیل ہیں جنہیں لگتا ہے کے وہ عدلیہ کو متاثر کر سکتے ہیں ۔عزت معاب جج صاحبان کو زبردست طریقوں سے ٹرول کرکے متاثر کرسکتے ہیں ۔لیکن انہیں سمجھنا چاہئے کے آج کی تاریخ میں اگر جنتا کو انصاف کی کوئی امید بچی ہے تو وہ صرف عدالتوں سے سیاسی سربراہ کیوں کے ایسے وکیلوں کو کوئی زیادہ مضبوتی دینے میں کوشش لگتی ہے اور انصاف کی کوشش اور سیاست کے درمیان دوریاں مٹنے لگتی ہیں ۔صحیح انصاف کے لئے سیاست کو دور رکھان ہوتا ہے ۔تمل ناڈو کے گورنر کا معاملہ ہو یا وقف بورڈ کا دونوں ہی محاظ پر عدالت پر سب کی نگاہیں ٹکی ہیں ۔سیاست کے متاثر ہو بغیر ،ٹرول ،آرمی اور نیتاﺅ کے بیانوں سے متاثر ہو بغیر آئینی کے پس منظر میں ہوا فیصلہ ہی ایسے تنازعوں کا نپٹارا کر سکے گا ۔دیش کے عام شہریوں کے لئے سیاست سے زیادہ انصاف ضروری ہے۔(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...