Translater

11 اگست 2012

وسکاسن گولی کانڈ: ستونت سنگھ کالیکا کی قربانی ہمیشہ یاد رہے گی


امریکہ کے صوبے وسکاسن کے گوردوارے میں فائرنگ میں مارے گئے بے قصور افراد کو خراج عقیدت کے طور پر صدر براک اوبامہ نے دیش کی سرکاری عمارتوں اور بیرونی ممالک میں امریکی مشنوں کی عمارتوں پر لگے امریکی پرچموں کو آدھا سرنگوں کرنے کا حکم دیا۔ یہ پرچم 10 اگست تک جھکے رہے۔ اوبامہ کی جانب سے جاری فرمان میں کہا گیا تھا کہ وسکاسن گوردوارے میں تشدد کا شکار لوگوں کے تئیں احترام ظاہر کرنے اور 65 سالہ کالیکا نے ہیرو کی طرح بچائی جانیں واقعی اس کے لئے میں وائٹ ہاؤس اور سبھی سرکاری عمارتوں اور فوجی چوکیوں، بحری اڈوں اور سبھی امریکی دائرہ اختیار علاقوں و کولمبیا اسٹریٹ کی فیڈرل سرکار کے بحری بیڑوں سمیت پورے امریکہ میں امریکی پرچم کو جمعہ سے روزانہ آدھا جھکائے رکھنے کا حکم دیتا ہوں۔ امریکی صدر کے اس قدم کا وہاں مقیم سکھ فرقے کے لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ گوردوارے کی اس فائرنگ کی تفصیلات اب آہستہ آہستہ سامنے آتی جارہیں ہیں۔ اس میں اور زیادہ تباہی کا پتہ لگ سکتا ہے کیونکہ گورودوارہ فائرنگ میں 6 لوگوں نے اپنی جان گنوائی لیکن ان متوفی لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جس نے اپنی جان دیکر درجنوں لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا ۔ یہ تھے وسکاسن گورودوارے کے گرنتھی 65 سالہ ستونت سنگھ کالیکا۔ جس وقت 40 سالہ گورا نوجوان بے گناہوں پر گولیاں برسا رہا تھا اس وقت کالیکا اپنی کرپان لیکر اکیلے ہی اس پر ٹوٹ پڑے۔ حالانکہ اس واقعہ میں ان کی جان چلی گئی لیکن اب جبکہ سب کچھ شانت ہوچکا ہے تب پورا امریکہ انہیں ہیرو کی شکل میں یاد کررہا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کالیکا اس حملہ آور مائیکل پیز کا مقابلہ کررہے تھے اس وقت بہت سی خواتین اور بچے موقعہ واردات سے بھاگنے میں کامیاب رہے لیکن کئی لوگوں کو بچانے والا یہ بزرگ خود نہیں بچ پایا اور اس بے مقابلہ لڑائی میں وہ حملہ آور کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔ لوگوں نے بتایا گورودوارے میں جمع بہت سی عورتیں بچے تھے اور وہ حملہ آور کی گولیوں کی زد میں تھے لیکن کالیکا نے بڑی بہادری سے ایک حد تک حملہ آور کی فائرنگ کی رفتار کو دھیما کرنے کی کوشش کی۔ اس واقعہ پر ان کے بیٹے امر دیپ کالیکا نے بتایا کہ جتنے وقت تک وہ حملہ آور سے لڑتے رہے تب تک وہاں موجود عورتوں کو حفاظت ملتی رہی۔ گورودوارے پر حملہ کرنے والے حملہ آور مائیکل پیز کے جسم پر ٹیٹو بنے ہوئے تھے جن میں 9/11 واقعہ کی علامتیں دکھائی گئی تھیں اس کی گردن کے ٹیٹو پر نسل پرستی کے تئیں نفرت آمیز خیالات درج تھے جس میں 838 لکھا ہوا تھا۔ یہ نمبر اس بات کا اشارہ ہے کہ کوئی بھی شخص ایک نسلی مخالفت کی مہم کا حصہ ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے مائیکل پیز امریکی فوج میں کام کرنے کے دوران اپنے ساتھی ملازمین کو گورے کی نسل پرستی کی وفاداری کا پاٹھ پڑھایا کرتا تھا۔ ادھر ایک اور نیا انکشاف میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی گولی لگنے کے بعد مائیکل نے خود ہی اپنے سر میں گولی مار لی اور اس سے اس کی موت ہوگئی۔ امریکہ میں صدارتی عہدے کے ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی نے گہرا افسوس ظاہر کیا ہے۔وہ اپنی چناؤ مہم کے لئے چندہ اکھٹا کرنے کے لئے منعقدہ ریلی میں تقریر کررہے تھے۔ اپنی تقریر میں گورودوارے پر ہوئے حملے کا بھی ذکر کیا لیکن وہ اکثر عرب لوگوں کے لئے استعمال ہونے والے احترام کی علامت لفظ شیخ کا استعمال کیا۔ حالانکہ اس سے پہلے الینائس میں منعقدہ ایک پروگرام میں رومنی نے گوردوارے میں مارے گئے لوگوں کے لئے خاموشی اختیار کی تو انہوں نے سکھ لفظ کا استعمال کیا تھا لیکن آرچوبہ میں ان کی زبان پھسل گئی اور انہوں نے کہا ہم نے ان لوگوں کے احترام میں ایک پل کی خاموشی اختیار کی جنہوں نے شیخ مندر پر ہوئے حملے میں جان گنوائی ہے۔ یہ بہت ساری وجوہات سے یہ ٹریجڈی ہے۔ آگے انہوں نے کہا ان اسباب میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ شیخ (لوگ) سب سے زیادہ امن پسند اور پیارے لوگ ہیں ایسا ہی ان کا مذہب بھی ہے۔
(انل نریندر)

کیا سونیا طے حکمت عملی کے تحت اڈوانی پر بھڑکیں؟


پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ہنگامے سے شروع ہوا۔ 4 سال پہلے یوپی اےI- سرکار کے عدم اعتماد کے ووٹ کے دوران ممبران کی خریدو فروخت کے الزامات کا بھوت بدھوار کو پھر زندہ ہوا تو لوک سبھا میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ آسام میں مرکزی سرکار کی ناکامی کا ذکر کرتے کرتے بھاجپا لیڈر لال کرشن اڈوانی نے ممبران کی خریدو فروخت کا حوالہ دیا اور کہا یوپی اے II- سرکار ناجائز ہے۔ ان کا اتنا کہنا تھا کہ کانگری صدر سونیا گاندھی غصے میں بھڑک گئیں اور انہوں نے اڈوانی کو اپنا بیان واپس لینے کے لئے کہا۔ اس کے بعد اڈوانی نے اپنے الفاظ واپس لینے کا اعلان کیا۔ حالانکہ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے صفائی بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا تبصرہ یوپی اے II- سرکار کے بارے میں نہیں بلکہ یوپی اےI- سرکار کے وقت میں اعتماد کا ووٹ کی تحریک کے دوران ہوئے واقعہ کے سلسلہ میں تھا۔ کل تک اپوزیشن مان کر چل رہی تھی کہ پرنب مکھرجی کے صدر بننے کے بعد حکمراں فریق میں کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جو سرکار کا بچاؤ کرسکے لیکن بدھوار کو سونیا گاندھی کے مشتعل تیور دیکھنے کے بعد ان کی امیدوں کو ضرور جھٹکا لگا ہوگا۔ جس طرح سونیا گاندھی گرجیں اس سے تو اپوزیشن تو کیا حکمراں پارٹی کے ممبران بھی حیران رہ گئے۔ حکمراں فریق کا حیرت میں پڑنا فطری ہی تھا کیونکہ یوپی اے کے 2004 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے8 سال کی میعاد میں سونیا گاندھی کو اتنا جارحانہ انداز میں کبھی پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔ اب تک ایسے بحران کا سامنا یا سرکار کا بچاؤ پرنب دا کیا کرتے تھے اس لئے انہیں یوپی اے کا سنکٹ موچک مانا جاتا تھا۔لگتا ہے کہ سونیا کے بھڑکنے کے پیچھے سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ سونیا نے اپوزیشن کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سرکار کو کمزور نہ سمجھا جائے یا یہ نہ مانا جائے کہ اپوزیشن منمانے طریقے سے سرکار پر دباؤ بنا سکتا ہے۔ سونیا کے تیور کو دیکھ کر حکمراں فریق میں جوش آگیا ہے اور حکمت عملی یہ بنی ہے کہ بڑی تعداد میں پارلیمنٹ میں موجود رہ کر حکمراں فریق کے اس تیور کو بنائے رکھیں گے اور اپوزیشن کے الزامات کا جواب دینے کے لئے وزیر سے لیکر پارلیمنٹ تک ایک پوری تیاری کے ساتھ ایوان میں آئیں گے۔ ویسے اسے ایک اور اشارہ بھی مانا جاسکتا ہے کہ سونیا کے تیوروں کو بھاجپا پارلیمنٹ میں سدبھاونا ختم کرنے والے قدم کے طور پردیکھ رہی ہے۔ سونیا کے غصے بھرے تیوروں سے بھاجپا کے نیتا بھی حیران ہیں اور بھاجپا نیتاؤں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ سونیا گاندھی کوبھاجپا نیتا لال کرشن اڈوانی کے تبصرے پر اتنا غصہ کیوں آیا؟ بھاجپا نیتا مان رہے ہیں کہ اڈوانی نے کوئی ایسا غیر پارلیمانی لفظ نہیں کہا تھا جس کے چلتے سونیا گاندھی اتنی بھڑک اٹھیں۔ اس واقعے کا بھاجپا میں اچھا اثر نہیں ہوا اور اس کا اثر اقتدار کے آنے والے دنوں میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ نئے وزیر داخلہ سشیل کمارشندے حال ہی میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر سشما سوراج سے ملنے گئے تھے اور ان سے تعاون کی بات کہی تھی لیکن بدھوار کو سونیا کے تیوروں نے سشیل کمار شندے کے مشن تعاون پر پانی پھیر دیا ہے۔
(انل نریندر)

10 اگست 2012

کیا کہنا چاہتے ہیں اڈوانی جی؟


بھاجپا کے سینئرلیڈر شری لال کرشن اڈوانی ایک بہت سلجھے ہوئے تجربہ کار سیاستداں ہیں جو ہر بات نپی تلی کرتے ہیں۔ عام طور پر وہ کوئی بھی بیان بغیر سوچے سمجھے بغیر کسی پختہ ثبوت کے مقصد سے نہیں دیتے۔ لیکن حال ہی میں انہوں نے اپنے بلاگ پر ایسی بات لکھی ہے جس سے نہ صرف کانگریس ۔ بھاجپا میں ہلچل مچ گئی ہے بلکہ سیاسی پارٹیوں میں بھی اس پر رد عمل سامنے آیا ہے۔ شری اڈوانی نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ اگلے عام چناؤ کے بعد دیش میں سرکار بھلے ہی کسی بھی اتحاد کی بنے لیکن وزیر اعظم کانگریس یا بھاجپا سے بننے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے اگلے عام چناؤ میں کانگریس کی سیٹیں 100 سے کم بھی رہ جانے کے امکان کو ظاہر کیا ہے۔ اپنے بلاگ میں اڈوانی جی نے لکھا ہے کہ کانگریس یا بھاجپا کی حمایت والی سرکار کی قیادت کسی غیر کانگریسی یا غیر بھاجپائی وزیر اعظم کے ذریعے کی جانے کا امکان ہے۔ا یسا ماضی گذشتہ میں بھی ہوا ہے۔ اڈوانی جی کے ان نظریات سے واویلا کھڑا ہونا فطری ہی ہے اس پر حیرت نہیں بھاجپا اور اتحادی پارٹیوں کے بہت سے لیڈر اڈوانی کی رائے زنی سے متفق نظر نہیں آرہے ہیں۔ دراصل انہیں لگتا ہے کہ اڈوانی کے نظریات پارٹی کو کمزور پوزیشن میں ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس کا سیاسی مطلب یہ بھی نکالا جارہا ہے کہ اڈوانی چاہتے ہیں کہ اگلے چناؤ کے بعد این ڈی اے کی سرکار بننے کی صورت میں وہ بھاجپا کے علاوہ کسی پارٹی کے نیتا کو پردھان منتری بننا پسندکریں گے۔ اڈوانی جی کوبھاجپا میں کافی حمایت حاصل ہے اور ہوسکتا ہے بھاجپا کے کچھ نیتا ان کے ساتھ آ جائیں۔ دراصل بھاجپا کی بنیادی پریشانی یہ ہے کہ گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی نے بیحد جارحانہ طریقے سے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ پارٹی لیڈر شپ بھی نہ چاہ کر مودی کے دباؤ میں آگئی ہے۔ آر ایس ایس بھی مودی کو آگے بڑھا رہا ہے۔ناپسند کرتے ہوئے بھی سنگھ کو یہ لگ رہا ہے کہ وزیراعظم کے عہدے کے مضبوط دعویدار نریندر مودی ہی ہوسکتے ہیں اس لئے سنگھ حمایتی صدر نتن گڈکری بھی نریندر مودی کے آگے جھک گئے ہیں۔ پارٹی کے کئی لیڈر مودی کے خلاف ہیں۔ کئی وزیر اعلی بھی مودی کی بالادستی کو پسند نہیں کرتے کیونکہ انہیں یہ لگتا ہے کہ بطور منتظم اور لیڈر ان کے کارنامے بھی نریندرمودی سے کم نہیں ہیں۔ دوسری جانب بہت سے بھاجپا لیڈر اڈوانی کے دعوے سے پریشان سے نظر آرہے ہیں۔ کچھ نے تو ان کے نظریات پر ناراضگی تک ظاہر کرڈالی ہے۔ دراصل انہیں لگتا ہے اڈوانی کے نظریات پارٹی کو کمزور ہونے کی طرف اشارہ کرنے والے ہیں۔ بلا شبہ ایک حد تک ایسا بھی ہے ان کے نظریات سے یہ صاف ہے کہ بھاجپا اتنی اہل نہیں کے وہ اپنی لیڈر شپ میں مرکزی اقتدار تک پہنچ سکے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اڈوانی جی اس نتیجے پر کیسے پہنچے کیونکہ ان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کانگریس کا تیز سے ہوتا زوال بھاجپا کو فائدہ پہنچائے گا۔ جس نے کرناٹک کو چھوڑ کر باقی ریاستوں میں اچھی حکومت چلائی ہے۔ اس تجزیئے میں ایک تضاد بھی نظر آتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کانگریس کا زوال بھاجپا کو فائدہ پہنچائے گا تو پھر وہ اپنی لیڈر شپ میں سرکار کیوں نہیں بنا سکے گی؟ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کانگریس کے زوال سے بھاجپا کو معمولی فائدہ ہوگا؟ ان سوال کا جواب جو بھی ہو اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک تو بھاجپا متحد نظر نہیں آتی دوسری اس کے پاس ایسی اتحادی پارٹیوں کی کمی ہے جو اسے مرکزی اقتدار تک پہنچا سکے۔ این ڈی اے کی سرکار کو اقتدار سے بے دخل ہوئے اور اٹل بہاری واجپئی کو سرگرم سیاست سے ہٹے ہوئے تقریباً 8 سال ہوگئے ہیں لیکن بھاجپا میں طاقت کا توازن قائم نہیں ہوپایا۔ واجپئی کے بعد لال کرشن اڈوانی اتفاق رائے سے واحد لیڈر ہوسکتے تھے لیکن سیاست کے تحت انہیں کمزور کردیا گیا۔ اسی درمیان اب پارٹی کے دوسری لائن کے لیڈر کہتے ہیں جو چوٹی پہنچنا چاہتے ہیں اسی درمیان سنگھ نے اپنا دبدبہ بنائے رکھنے کے لئے کچھ اور لیڈروں کو زیادہ اہمیت دی ہے اور اس سے لیڈر شپ کی دوڑ کہیں زیادہ تیز ہوگئی ہے۔ ایسی عمل میں پارٹی بھی اپنی سمت طے نہیں کر پارہی ہے۔ بھاجپا کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اتنا اچھا ماحول ہونے کے باوجود وہ حالات کا فائدہ نہیں اٹھا پارہی ہے اور اندرونی رسہ کشی سے اپنا سارا وقت ضائع کررہی ہے۔
(انل نریندر)

پاک فوج وآئی ایس آئی نے سرحد پر بنائی 400 میٹر لمبی سرنگ

پاکستان جان بوجھ کر جموں و کشمیر میں گھس پیٹھ کرانے کے نئے نئے طریقے ڈھونڈھتا رہتا ہے۔ موصولہ خبروں کے مطابق اب پاکستان نے سانبا سیکٹر میں پاکستان کی جانب سے ایک400 میٹر لمبی سرنگ بنائی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سرنگ دراندازی اور سمگلنگ کے لئے بنائی گئی تھی۔ یہ سرنگ قومی شرم کے علاوہ ایک مضحکہ خیز موضوع بھی ہے۔ پاکستانی جنرل اور آئی ایس آئی بھارت پر ہنسیں گے۔ دیکھو ہم نے ان کی ناک کے نیچے ایک سرنگ بھی بنا لی اور انہیں پتہ بھی نہیں چلا۔ فلم ’شعلے ‘ کا وہ سین مجھے یاد آتا ہے جب اسرانی اپنے مشہور ڈائیلاگ کہتا ہے ’کہ ہم انگریز کے زمانے کے جیلر ہیں(ہنسیں لگتا ہے) جیل میں سرنگ ہے کوئی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا لیکن سرحد کے اس پار اس طرح کی حرکت ہوگی اس سے یہ بھی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی سکیورٹی فورسز کے جوان کیا سو رہے تھے؟ دشمن ان کی آنکھوں کے سامنے ہمارے خطے میں یہ سرنگ بنا لیتا ہے لیکن ہمیں اس کی کانوں کان بھنک بھی نہیں لگ پاتی؟ ہمیں انگریزوں کے زمانے کے ان جنرلوں پر اور کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ یہ پہلی بار نہیں جب پاکستان نے ہمیں اندھیرے میں رکھا ہے۔ 1965ء میں کیا ہوتا ؟ اگر ایک مقامی گوجر لڑکا دین محمد نے ہندوستانی فوج کو دراندازوں کی خبر نہ دی ہوتی تو ہم کبھی بھی یہ نہ سمجھ پاتے کہ پاکستان نے اپنا آپریشن ’زبرالٹر‘ شروع کردیا ہے۔اس آپریشن کے تحت پاکستانی فوجی شلوار قمیص پہنے مبینہ طور پر آزاد کشمیر کے جہادیوں سے مل کر اونچی پہاڑیوں پر جانور چرانے کے بہانے بھارت پر حملہ کرنے والے ہیں۔ ہمیں تب بھی پتہ نہیں چلا جب جنرل ضیاء الحق نے آپریشن ’ٹوپیک‘ کے تحت مجاہدین کو1988 ء میں بڑے پیمانے پر گھسنے اور تباہی مچانے کی اسکیم بنائی تھی۔ پھر کارگل تو ہمیں اب بھی یاد ہے جو ہمارے سراغ رسانوں کی بڑی ناکامی تھی۔ کارگل کی اونچی پہاڑیوں کو آزاد کرانے کیلئے ہمیں کتنی بڑی قیمت چکانی پڑی تھی کوئی بھولا نہیں ہوگا۔ سانبا کے اس سرنگ کے معاملے کو ایک بار پھر سکیورٹی فورسز نے دبانے کی کوشش کی ہے جیسے اب تک وہ ہر معاملے میں کرتے آئے ہیں۔ 
بھلا ہو اس کسان سکھ دیو کا جسے اپنی دھان کے کھیت میں کئی جگہ زمین دھنسی ملی اور اس نے جانچ پڑتال شروع کی جب اسے موقعہ پر بیٹری اور کچھ تار ملے جب جاکر اس نے سکیورٹی فورسز کی چوکی پر رپورٹ کی۔ سانبا ضلع کے چٹوال میں پاک رینجروں کی مدد سے کھودی گئی سرنگ کے انکشاف اور پھر مرکزی وزیر دفاع اے کے انٹونی کے ذریعے گہرائی سے جانچ کرنے کی ہدایت دئے جانے کے بعد پاکستانی فوجیوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو پیر کو دوپہر ہندوستانی سرحدی چوکی کھوڑا دھاربڑ کے ٹھیک سامنے پاکستانی چوکی تغلق پور میں پاکستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر اترا جو قریب پونے گھنٹے تک وہاں رہا۔ ہیلی کاپٹر میں پاک فوج یا آئی ایس آئی کے افسروں کے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ بھارت کو سرحد پر ہمیشہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی اپنی حرکتوں سے باز آنے والی نہیں ہے۔
(انل نریندر)

09 اگست 2012

مریخ پر کیوریوسٹی کا کامیاب اترنا ایک تاریخی لمحہ ہے


کیا ہم نے کبھی یہ تصور کیا تھا کہ ہماری زندگی میں وہ دن آئے گا جب ہماری زمین سے 57 کروڑکلو میٹر دورمریخ پر انسان قدم رکھے گا؟ انسان نے پاؤں تو خیر ابھی نہیں رکھا لیکن ایک خلائی ہائی ٹیک گاڑی جس کا نام ہے مارس روور کیوریوسٹی اس کو مریخ پر اتارا گیا۔ یہ دعوی امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے پیر کو کیا ہے۔ امریکی اس خلائی گاڑی مریخ کے گیل گریٹر میں 4.8 کلو میٹر اونچے اور 154 کلی چوڑائی کے ٹیلے پر پروگرام کے مطابق اترا۔روور پتا لگائے گا کہ کیا کبھی مریخ پر زندگی بسانے کیلئے حالات تھے اور کیا کبھی لال سیارہ رہنے لائق ہو سکے گا۔کیوریوسٹی آپریشن کنٹرول کررہی ناسا کے نیٹ لیب جی پی ایل کے سائنسداں مریخ پر روور کے اترتے ہی خوشی میں جھوم اٹھے یہ پوری دنیا کیلئے ایک تاریخی اور فخر کا لمحہ ہے کیونکہ 57 کروڑ کلو میٹر کے سفر کے بعد مریخ سیارے پر انسان کے سب سے برے تجربے کاپہلا مرحلہ کامیاب ہوا ہے۔اب کیوریوسٹی سے منگل کے بارے میں پختہ معلومات مل سکے گی۔ سائنسدانوں نے 9 سال کی سخت محنت مشقت کے بعد اس خلائی گاڑی کو مریخ پر بھیجنے کے لئے تیار کیا تھا۔ اس آپریشن پر قریب2.5 ارب ڈالر خرچ آیا ہے اور خلا میں بھیجی گئی اب تک کی سب سے بڑی جدید لیباریٹری میں قسمت کا فیصلہ صرف 7 منٹ کے اندر ہوا۔انجینئروں اور سائندانوں کے لئے یہ 7 منٹ بہت اہمیت کے حامل رہے۔7 منٹوں کے دوران مریخ سیارے کی سطح پر روور گاڑی کو اتارنا کیوریوسٹی کی لینڈنگ حیرت انگیز طریقے سے ہوئی۔ مریخ کی سطح سے 25 فٹ اوپر ایک گاڑی رکی۔ ایک کوچ کھلا اور پھر چین کے سارے ایک چھوٹی کار جتنا بڑا روور کیوریوسٹی آہستہ آہستہ ہوا میں جھولتا نیچے اترنے لگا۔ ایک ٹن بھاری اس کیوریوسٹی گاڑی سے تین کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سہولت کے ساتھ نیچے اتارا گیا۔ مریخ کی آب و ہوا میں داخل ہوتے وقت گاڑی کی رفتار 21240 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔ لال سیارہ یعنی مریخ پر زندگی کے امکانات کو لیکر سائنسداں ہی نہیں عام آدمی کو بھی بے چینی سے طویل عرصے سے انتظار رہا ہے۔
کیوریوسٹی گاڑی مریخ سیارہ کی مٹی کے نمونے کو اکٹھا کرکر یہ پتا لگائے گی کہ وہاں حیاتیات کی زندگی کے لئے حالات معقول ہیں یانہیں اور ماضی میں کیا کبھی یہاں زندگی رہی ہے۔ کیوریوسٹی روور کی اس کامیاب سے دنیا کو بہت امیدیں ہیں جس کے ذریعے سیارے کی چٹانوں اور مٹی اور ہوائی زون کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ جس سے دنیا کو مریخ کے ماضی گذشتہ کے بارے میں اہم جانکاری مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ پتہ چل سکتا ہے کہ ماضی گذشتہ میں مریخ پر کتنا پانی تھا، کیا وہاں زندگی کے آثار موجود تھے اور ایسے میں کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے یہ سیارہ آج ایک بنجر لال ریگستان میں تبدیل ہوگیا۔ بلا شبہ ناسا کا یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور اس دور کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
(انل نریندر)

انا نے ٹیم توڑ دی لیکن اب آگے کیا؟


پیر کے روز انا ہزارے نے اپنی ٹیم کو توڑنے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے جن لوک پال کے کام کے لئے ٹیم انا بنائے گئی تھی اور اب کیونکہ سرکار سے اس موضوع پر کوئی بات چیت نہیں ہونی ہے اس لئے ٹیم انا کے نام سے شروع ہوا یہ کام ختم ہوتا ہے اور کمیٹی بھی ختم کی جاتی ہے۔ اب چناوی تیاری شروع ہوگی۔ ٹیم انا کے توڑنے کے فیصلے سے خود انا کے کئی ساتھی ناخوش ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ انا ٹیم توڑنے کا یوں فیصلہ کریں لیکن انا کئی معاملوں سے مایوس تھے اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ سرکار کے سخت رویہ کے چلتے ٹیم انا بے اثر ہوگئی تھی۔ ان کے کرپشن مہم پر مرکزی سرکا ر اور تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں کا رویہ منفی رہا ہے۔ سرکار کا ایک بھی نمائندہ انشن کی جگہ پر ان سے بات کرنے نہیں آیا۔ حال ہی میں لمبی بیماری سے اٹھے انا کی صحت بھی ٹھیک نہیں چل رہی ہے اور اب وہ تحریک چلانے کی حالت میں نہیں لگتے۔ جنتا کا رشتہ اور رد عمل بھی ان کے لئے حوصلہ افزا نہیں رہا۔ انا نے دکھی دل سے کہا مجھے بھی اب یہ سمجھ میں آگیا ہے کہ یہ سرکار کرپشن کے خلاف قانون نہیں بنائے گی۔ کسانوں ،مزدوروں اور رائٹ ٹو ریجیکٹ قانون نہیں جائے گی۔ میرا کہنا ہے کہ ہمارے دیش کی پارلیمنٹ دو باتوں پر متحد ضرور ہے ساری سیاسی پارٹیوں کے لوگ اس معاملے پر ساتھ ہیں پہلا یہ کرپشن کے خلاف سخت قانون بنانے سے ہر پارٹی ڈرتی ہے اس لئے سب مخالفت کررہے ہیں لوک پال بل نہ پاس ہو سارے ایم پی اپنی تنخواہ بڑھانے کیلئے ایک ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔ اب جنتا کے سامنے سیاسی متبادل رکھنا ہوگا۔ اب جب انا نے اپنا انشن ختم کردیا ہے اور اپنی ٹیم بھی توڑ دی ہے تو پوری طرح سے ٹھنڈے دماغ سے پورے واقعات کا پوسٹ مارٹم کرسکتے ہیں۔ انہیں وہ اسباب تلاش کرنے ہوں گے جن کے چلتے ان کے تئیں جنتا کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ انہیں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر بھی غور کرنا ہوگا جہاں تک سیاسی متبادل پیش کرنے کا سوال ہے انا کا آگے کا راستہ بھی آسان نہیں ہے۔ انا کو کئی چیلنجوں کا سامنا کرنے پڑ سکتا ہے۔ دیش میں کبھی بھی ایک اشو پر چناؤ نہیں لڑا جاتا۔ 
ٹیم انا کچھ اشوز کو لیکر چل رہی تھی ایسے میں ذات ، پات سے کیسے نمٹے گی؟ انا خود کہہ چکے ہیں وہ تو بلدیاتی چناؤ بھی نہیں جیت سکتے ایسے میں لوک سبھا کی کتنی سیٹ جتا پائیں گے۔ اگر دو چار جیت بھی لیں تو اس سے کیا تبدیلی آسکے گی؟ چناؤ لڑنے کے لائق امیدوار چاہئیں امیدواروں کا انتخاب بھی بڑا کام ہوتا ہے۔ سیاسی تنظیم بنانے یا چناؤ لڑنے کے لئے پیسہ ذرائع چاہئیں ،یہ کہاں سے آئیں گے؟ سیاست میں کامیابی کے لئے مضبوط تنظیم اور کامریڈ ورکروں کی فوج کھڑی کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ایسے میں کئی لوگ ٹیم انا کی سیاسی مہم سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھ سکتے ہیں۔ لوک سبھا امیدوار جیسے تجربے جے پرکاش تحریک کے دنوں میں بھی ہوئے تھے لیکن وہ بہت کارگر ثابت نہیں ہوئے۔ اس لئے کرپشن کے خلاف تحریک تو سیاسی متبادل کی شکل میں آگے بڑھانا آسان نہیں ہوگا۔ ویسے یہ چنوتی اکیلی اس تحریک کی نہیں بلکہ دیش کے جمہوری مستقبل کی بھی ہے۔
(انل نریندر)

08 اگست 2012

وکسن گورودوارے میں نسلی گولہ باری


امریکہ کے وکسن صوبے میں ایتوار کو ایک امریکی کے ذریعے گوردوارے کے اندر گھس کر فائرنگ کرنے کے واقعے نے دنیا کے مہذب سماج کو چونکا دیا ہے۔مقامی وقت کے مطابق صبح پونے گیارہ بجے ایک گورا نوجوان جس نے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی، اس کے ہاتھ میں 9/11 کا ٹیٹو بنا ہوا تھا۔ گوردوارے کے اندر گھسا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ 7 سکھ بھکتوں کی موقعے پر موت ہوگئی اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ایتوار کو کیونکہ چھٹی کا دن تھا اس لئے گوردوارے میں زیادہ شردھالواکٹھے تھے۔ وکسن کے علاقے اوککرک واویل ایوینیو میں واقع گورودوارہ 1980ء میں بنایا گیا تھا اب اس گورودوارے میں خاص کر چھٹیوں کے دن 100 سے زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس میں بچے بھی شامل ہوتے ہیں جو گورودوارے میں منعقدہ پنجابی و ہندی میں تعلیم لیتے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں جب امریکہ میں سکھوں کے خلاف تشدد کی واردات ہوئی۔ امریکہ 9/11 کے حملے کے بعد یہ پہلا واقعہ ہوا ہے۔ایک دہائی سے سکھوں کے ساتھ بدسلوکی کی وارداتوں کے ساتھ خطرناک حملے کے کئی واقعات بھی ہوچکے ہیں لیکن گورودوارے کو کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا یہ پہلا معاملہ ہے۔ پہلے فروری2012 میں ایک گورودوارے میں توڑ پھوڑ کر اس کی دیوار پر نسلی نعرے لکھنے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ دراصل نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر11 ستمبر 2001ء کو ہوئے حملے کے ردعمل میں ہوئے تشدد کا پہلا شکار سکھوں کو بنایا گیا تھا۔ ایریزونہ صوبے میں گیس اسٹیشن چلانے والے دلبیر سنگھ سوڑی کو 15 ستمبر2011 میں گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ اسی سال18 نومبر کو نیویارک اسٹیٹ کے فلیریو میں سکھ پوجا گھر گھووند سدن کو جلا دیاگیاتھا۔امریکہ میں سکھوں کے لئے کام کرنے والی انجمن سکھ کولیشن کا کہنا ہے کہ 9/11 کے بعد سکھوں کے ساتھ امتیاز برتنے کے 700 واقعات ہوچکے ہیں۔ امریکہ میں قریب 7 لاکھ سکھ خاندان رہتے ہیں لیکن داڑھی اور پگڑی کے سبب انہیں بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر چہ فائرنگ کی حقیقت کا آخری خلاصہ ہونا باقی ہے لیکن پہلی نظر میں ایتوار کا یہ واقعہ نسلی نفرت کا نتیجہ لگتا ہے۔ نسلی کٹرپسندی اور نفرت اس کے دو پہلو ہیں۔ گورودوارے کی پارکنگ کے اندر بے قصور شردھالوؤں پر گولیاں چلانے والا 40 سالہ گورا بھی اسی نسلی نفرت سے بھرا ہوا تھا۔ حالانکہ اسکی پہچان جانچ ایجنسیوں نے خفیہ رکھی ہوئی لیکن کہا گیا ہے اس کے بازو پر 9/11 کا ٹیٹو تھا اسے ماننے میں کوئی پریشانی نہیں ہے کہ 9/11 کے واقعے سے امریکی سماج میں یہ واقعہ تکلیف دہ علامت بن گیا ہے اس لئے اسکی افسوسناک یادگار کو بسائے رکھنے والوں کے تئیں وسیع امریکی سماج کی ہمدردی فطری طور پر حاصل ہوجاتی ہے۔ اسے قومی یادگار مان لیاگیا ہے لیکن یہ نسلی دشمنی ، سنک کی شکل لینے لگی ہے۔ امریکہ میں کچھ لوگوں کے دماغ میں بیٹھ گیا ہے کہ سکھ شکل صورت اور خاص کر پگڑی سے مسلمان جیسے لگتے ہیں جنہوں نے 9/11 کو انجام دیا تھا اس لئے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ا ن کی اصلی شناخت کے بغیر انہیں بھون دینے کے جواز پر امریکی سرکار کو ہی نہیں پورے امریکی سماج کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی حکومت اور سماج 9/11 کے بعد ایک خاص فرقے کے خلاف ضرورت سے زیادہ مشتبہ اور نفرت کی حد تک زہر آلود ہوگیا تھا۔ بیشک اس میں کچھ کمی آئی ہے لیکن جب تک یہ نفرت کا ماحول ختم نہیں ہوتا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس نفرت کا شکار بے قصور ہندوستانی سکھ یا کوئی بھی فرقہ کب تک جھیلتا رہے گا؟ بھارت کو سختی سے احتجاج درج کرانا چاہئے اور اوبامہ انتظامیہ سے سکھوں کی سلامتی کے پختہ انتظامات کی یقین دہانی لینا چاہئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اوبامہ سرکار اس تکلیف دہ واقعے پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔ ہم متاثرہ خاندان سے جہاں ان کا دکھ بانٹنا چاہتے ہیں وہیں یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اس غیر انسانی و انتہائی دکھ کی گھڑی میں اکیلے نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

بہار میں بابی، مدھیہ پردیش میں شہلا اور گیتکا اور اب فضا


ابھی دیش سابق ایئر ہوسٹس گتیکا شرما کی دردناک موت کی کہانی جو اس کی خودکشی کے ساتھ ختم ہوگئی، سے پوری طرح سنبھل نہیں پایا تھا یا یہ کہیں کہ ایک اور تکلیف دہ واقعہ سامنے آگیا ہے۔ انورادھا بالی عرف فضا کو چندی گڑھ میں واقع اس کے گھر میں مردہ پایا گیا۔انورادھا بالی 2008 کے آخر میں اس وقت اچانک سرخیوں میں آئی تھی جب اس نے ہریانہ کے اسوقت کے نائب وزیر اعلی چندر موہن سے اسلام مذہب اپنا کر شادی رچا لی تھی۔ فضا اور چاند کا نکاح میرٹھ کے ایک مولوی نے نومبر 2008 میں کروایا تھا۔ چاند محمد نے مہر کے طور پر فضا کو پانچ لاکھ روپے دئے تھے۔ نکاح کے بعد چاند محمد کو ہریانہ کے نائب وزیراعلی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ دونوں کی شادی محض40 دن ہی ٹک پائی اور اس کے بعد چندر موہن فضا کا مکان چھوڑ کر چلا گیا۔ فضا نے اس وقت الزام لگایا تھا کہ چاند محمد کے والد نے چاند محمد کو موہالی میں واقع ان کے گھر سے اغوا کرا لیا تھا۔ اس کے لئے اپنے شوہر کے بھائی کلدیپ بشنوئی کی طرف اشارہ کیا تھا۔اس نے بتایا تھا کہ 14 مارچ 2009 میں چندر موہن نے لندن سے اسے فون کرکے تین بار طلاق کہا۔ اور اسے اس پیغام کے ساتھ ایک ایس ایم ایس بھی بھیجا تھا۔اس واقعے کے بعد فضا کشیدگی کے دور سے گزر رہی تھی اور اس نے اپنی زندگی ختم کرنے کے فیصلے کے طور پر نیند کی گولیاں کھا کر مبینہ طور پر خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ چندر موہن اس کے ساتھ دو مہینے تک رکا تھا۔ فضا کی لاش اب جس حالت میں اس کے گھر میں ملی ہے اس سے اس کی موت کو لیکر کئی طرح کے خدشات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں تک ابھی واضح نہیں ہو پارہا ہے کہ یہ قتل کا معاملہ ہے یا خودکشی؟ اس سے 24 گھنٹے پہلے آئی سابق ایئر ہوسٹس گتیکا کی موت کی خبر۔ خبر کے بعد اس معاملے میں ایک کے بعد ایک پرت کھلتی جارہی ہے۔ سچائی یہ بھی ظاہرکرتی ہے کہ سیاست کی دھوپ چھاؤں میںآکر جنم لینے والے رشتوں کا اصلی سچ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ یہ عجیب و غریب اتفاق ہے گتیکا اور چاند دونوں ہی معاملے ہریانہ سے جڑے ہیں۔ گتیکا نے اپنے خودکشی نامے میں جن دو لوگوں کے نام لئے ہیں ان میں سے ایک ہیں گوپال کانڈا ۔ وہ بھوپیندر سنگھ ہڈا کی سرکار میں وزیر مملکت داخلہ تھے جنہیں اب عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ہے۔ قتل کے دونوں معاملے نہ صرف بڑے ہیں بلکہ سیدھے ہریانہ کی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ دونوں ہی عورتوں کو اس بات کی قیمت چکانی پڑی کہ انہوں نے ایسے لوگوں سے تعلقات بنائے جن کا سیاسی رسوخ کافی اونچا تھا۔چندر موہن سے جب فضا الگ ہوئی تھی تو انہوں نے یہ بات کئی بات کہی کہ چاند نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور اس کی قربت کے نفع نقصان کو نظر انداز کرکے ہی شادی رچائی تھی۔ فضا نے خودکشی کرلی ہے یا قتل کیا گیا، اس کی پولیس جانچ کررہی ہے اورا بھی کچھ کہنا جلد بازی ہوگی۔ بہار کے بابی ہتیار کانڈ ،مدھیہ پردیش کے شہلا مسعود ،راجستھان میں بھنوری قتل کانڈ اور گتیکا شرما اور اب فضا کا قتل ہمارے دیش میں عورتوں کی حالت کے ساتھ سیاسی برادری کی اخلاقیت پر بھی ایک تلخ تبصرہ ہے۔ ان کانڈ کی اصل کہانی کبھی سامنے آئے گی یا اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے سبب قصوروار معاملوں کو دبادیتے ہیں؟
(انل نریندر)

07 اگست 2012

زرداری سرکار سے اوپر آئی ایس آئی


پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کتنی طاقتور ہے یہ تو سبھی جانتے ہیں۔ یہ ایک جمہوری سرکا پر بھی حاوی ہے۔ اس کی وقتاً فوقتاً مثال ملتی رہتی ہے۔زرداری سرکار نے آئی ایس آئی کو جوابدہ بنانے کے لئے باقاعدہ ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہا لیکن اس کوشش میں سرکار کو تب جھٹکا لگا جب اسے پارلیمنٹ میں پیش بل کو واپس لینا پڑا۔تاریخ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان میں کوئی بھی حکمراں رہا ہو فوج اور خفیہ آئی ایس آئی پر حاوی نہیں ہوسکی۔ آئی ایس آئی زرداری سرکار پر پوری طرح حاوی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ ان کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایوان میں پیش ایک بل کو واپس لے لیا گیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس بل کو صدر کے دفتر کی حمایت حاصل تھی۔ کہا جارہا ہے کہ حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کی مخصوص کمیٹی کی منظوری نہ مل پانے کے سبب اس بل کو واپس لینا پڑا۔ سبھی پرائیویٹ بلوں کو منظوری دینے والی اس کمیٹی کے چیف وزیر قانون فاروق ایم نائک ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسیوں کے دباؤ میں ہی بابر نے اس بل کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ حالانکہ پاکستانی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بل کو آگے پھر پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ بل اگر پیش ہوتا ہے اور پارلیمنٹ میں پاس ہوتا ہے تو طاقتور آئی ایس آئی پارلیمنٹ اور وزیراعظم کو جوابدہ ہوجائے گی۔ یہ پہلی بار نہیں جب زرداری سرکار نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے کنٹرول میں لانے کی کوشش کی ہے۔ 2008 ء میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ایسی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ آئی ایس آئی کتنی طاقتور ہے اس کی ایک اور مثال ہمیں آئی ایس آئی کے سابق چیف اسد درانی نے حال ہی میں دی۔ درانی نے تسلیم کیا کہ انہوں نے اور فوج کے خفیہ حکام نے سال 1990 ء کے چناؤ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے نیتاؤں میں 14 کروڑ روپے بانٹے تھے۔ اس وقت بینظیر بھٹو پارٹی کی لیڈر تھیں۔ چیف جسٹس (سپریم کورٹ) افتخار محمد چودھری کی سربراہی والی تین ججوں کی بنچ نے 1996ء میں سابق ایئر فورس چیف اصغر خان کی ایک عرضی پر سماعت کررہی ہے۔ خاں نے الزام لگایا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں نے سال1990ء میں چناؤ سے پہلے ہی پی پی کے خلاف مرچہ بنانے کے لئے لیڈروں کو کروڑوں روپے مہیا کرا کر سیاسی عمل کو متاثر کیا تھا۔ عدالت نے 16 جولائی کو درانی کو حکم دیا تھا کہ وہ پیسہ تقسیم کئے جانے پر مفصل اور ٹھوس ثبوت اور حلف نامہ داخل کریں۔ سپریم کورٹ کے سامنے داخل بیان میں درانی نے کہا ان کے ذریعے تقسیم کی گئی رقم قریب7 کروڑ روپے تھی باقی رقم آئی ایس آئی کے ایک مخصوص فنڈ میں جمع کرائی گئی تھی اور بعد میں فوج کے خفیہ افسران نے اسے بانٹا تھا۔ درانی نے کہا انہیں اس وقت فوج کے چیف ریٹائرڈ جنرل مرزا اسلم بیگ سے پیسہ ملا تھا۔ انہوں نے کہا اس وقت صدر غلام اسحق خان چناوی پارٹی کے ممبر اجلال حیدر زیدی کے نام پر دئے تھے جنہیں پیسہ چاہئے تھا۔ درانی نے کہا یہ پیسہ بیگ کی ہدایت پر تقسیم کیا گیا۔ آئی ایس آئی کے سابق چیف نے کہا کہ وہ ایک سیل بند لفافے میں ان حکام کے ناموں کا خلاصہ کریں گے جنہوں نے 1990 میں چناؤ کو متاثر کرنے کیلئے پیسہ بانٹنے میں مدد کی۔ عدالت میں دئے گئے بیان میں درانی نے درخواست کی کہ ان کی جانب سے دئے گئے کسی بھی سیل بند دستاویز کو خفیہ مانا جائے۔ مقدمہ ابھی چل رہا ہے دیکھیں اور کتنی خفیہ باتیں سامنے آتی ہیں۔ آئی ایس آئی اپنے آپ میں پاکستان سرکار ہے جو زرداری سرکار پر پوری طرح حاوی ہے۔
(انل نریندر)

مانسون اجلاس میں منموہن سرکار کی ہوگی اگنی پریکشا


پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس8 اگست سے شروع ہونے جارہا ہے۔ یہ اجلاس منموہن سنگھ کی یوپی اے ۔II سرکار کے لئے زبردست چنوتی لے کر آرہا ہے۔ یہ اجلاس کئی محاذ پر پہلے سے ہی گھری سرکار کے لئے ایک موقعہ دینے یا بریک اجلاس ہوسکتا ہے۔ سرکار کو نہ صرف رکے ہوئے فیصلے لینے کے لئے پہل کرنی ہوگی بلکہ یوپی اے کی ساتھی پارٹیوں کو سمیت کر اپوزیشن کے سخت تیور بھی جھیلنے ہوں گے۔ دیش میں اس وقت کئی ریاستوں میں سوکھا پڑ رہا ہے۔ پہلی چنوتی تو خشک سالی سے نمٹنے کی ہوگی۔ خشک سالی کے سبب مہنگائی اور بڑھے گی۔ اس سے لوگوں میں ہائے توبہ مچے گی۔ پہلے تو پرنب دا تھے جو سنکٹ موچک کا کردار نبھاتے تھے اور کسی بھی سیاسی بحران سے نمٹنے میں وہ پوری طرح اہل تھے لیکن اب ان کی کمی یہ سرکار کسے پوری کرے گی؟ پرنب دا سرکار کے بہتر حکمت عملی ساز اور سنکٹ موچک اور با صلاحیت منیجر تھے جن کی کانگریس اور یوپی اے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں سے بھی اچھی پٹتی تھی۔ غورطلب ہے کہ اس اجلاس میں جہاں ایف ڈی آئی، پنشن،بیمہ بل، مہنگائی، تلنگانہ اشو، بلیک منی، اقتصادی ترقی جیسے اشوز سرکار کے لئے بڑی چنوتی بنیں گے۔ وہیں کانگریس کے ایک دقت ہاؤس میں ان سارے اشوز پر ان کا موقف رکھنے کے لئے اور بچاؤ کرنے کے لئے پرنب دا مکھرجی جیسا سینئر لیڈراور ہاؤس کالیڈر بھی نہیں ہوگا۔ پی چدمبرم کو نیا وزیر خزانہ بنا دیا گیا ہے۔ بھاجپا سمیت کامریڈوں کی چدمبرم سے ویسے ہی تلخی بنی رہتی ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ چدمبرم پر اپوزیشن اب کیا موقف اختیارکرتی ہے۔ کیا ان کا بائیکاٹ اب بھی جاری رہے گا؟ اگر اب بھی جاری رہتا ہے تو پارلیمنٹ شاید ہی ٹھیک ٹھاک چل سکے۔ ملائم سنگھ یادو وسط مدتی چناؤ کی بات کئی بار کہہ چکے ہیں۔ سرکار کے مستقبل کو لیکر بے یقینی کی حالت پائی جاتی ہے اس لئے بھی اپوزیشن اور زیادہ حاوی رہے گی۔ کانگریس کے لئے ایک بڑی چنوتی اپنے اتحادی پارٹیوں کی طرف سے بھی دکھائی دے رہی ہے۔ پچھلے اجلاس تک اتحادی پارٹیوں میں صرف ٹی ایم سی سرکار مخالف لہجہ اپنائے ہوئے تھی اس بار این سی پی،ترنمول اور ڈی ایم کے کے بھی تیور بدلے ہوئے ہیں۔ ان پارٹیوں کی طرف سے سرکار میں اپنی موجودگی کی تصویر کو لیکر بھی کانگریس پر دباؤ بنا رہے گا۔ ایف ڈی آئی ، اقتصادی اصلاحات سے وابستہ بلوں پر جس طرح سے ٹی ایم سی ، لیفٹ اور این سی پی جیسی پارٹیوں کا موقف سامنے آیا ہے اسے دیکھتے ہوئے سرکار کی راہ آسان نہیں لگتی۔ تنظیمی سطح پر بھی کانگریس کے سامنے کئی چنوتیاں کھڑی ہیں۔ اس کا اثر پارلیمنٹ میں بھی دکھائی پڑ سکتا ہے۔ سال کے آخر میں گجرات اور ہماچل پردیش سمیت کئی ریاستوں میں چناؤ ہونے ہیں۔ اس درمیان کئی ریاستوں میں پردیش کانگریس میں بھی کھینچ تان جاری ہے۔ ان میں ہماچل پردیش، آندھرا پردیش، مہاراشٹر جیسی ریاستیں شامل ہیں۔ کرپشن کا اشو سرکار کا پیچھا مانسون اجلاس میں بھی نہیں چھوڑے گا۔ ٹیم انا سیاسی میدان میں کود چکی ہے اور رام دیو بھی پارلیمنٹ سیشن شروع ہونے کے ٹھیک ایک دن بعد انشن تحریک میں اتریں گے۔ اپوزیشن بھی اپنے تیور میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ سرکار اس مقام پرپہنچ چکی ہے اب وہ جھٹکے نہیں جھیل سکتی اور چھوٹی غلطی بھی سرکار کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ اگست میں کئی اہم اشوز پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنا ہے۔ کل ملا کر ہماری رائے میں اس منموہن سنگھ سرکار کی اس مانسون اجلاس میں اگنی پریکشا ہوگی دیکھیں کیسے یہ اس پریکشا میں کھری اترتی ہے۔
(انل نریندر)

05 اگست 2012

اولمپک کا مزہ لینا ہے تو کھیل کودیکھو کھلاڑی کو نہیں


اس میں کوئی شبہ نہیں ایک ہندوستانی ہونے کے ناطے اگر کوئی ہندوستانی کھلاڑی اولمپک میں کوئی میڈل جیتے تو ہمارا سر فخر سے اٹھ جاتا ہے اور ہماری خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا۔ دوسری طرف جب نامی گرامی کھلاڑی مقابلے سے باہر ہوجاتے ہیں تو ہمارے اندر مایوسی پیدا ہوجاتی ہے۔ جیتنا اچھا لگتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ہر کھلاڑی جیت نہیں سکتا۔ اولمپک میں فائنل میں پہنچنا یا آخر 16 میں پہنچنا بھی بہت بڑی بات ہے۔ اولمپک میں مقابلہ اتنا تگڑا ہوتا ہے کہ ایک ایک پوائنٹ پر ہار جیت ہوتی ہے۔ راؤنڈ درراؤنڈ میڈل کی پوزیشن بدلتی رہتی ہے۔ ہمیں ابھینیو بندرا سے بہت امید تھی اور وجے کمار کا اس اولمپک سے پہلے کبھی نام تک نہیں سنا تھا لیکن ہوا کیا؟ ابھینیو فائنل راؤنڈ تک نہیں پہنچ سکے اور وجے کمار دنیا کے نمبردو شوٹر بن کر چاندی کا میڈل لینے میں کامیاب رہے۔ ابھینیو بندرا کے حق میں یہ بات فٹ بیٹھتی ہے کے وہ ہمیشہ لو پروفائل رہے ہیں۔ وہ کبھی بھی ٹی وی پر زیادہ نظر نہیں آتے ،انہوں نے کوئی زیادہ اشتہار نہیں کئے۔ اولمپک سے باہر ہوچکے بندرا اس ناکامی سے مایوس نہیں اور اب وہ آگے اور زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں۔ 10 میٹر ایئر رائفل شوٹنگ میں مقابلہ اتنا سخت تھا کہ ابھینیو 600 پوائنٹ میں سے594 پوائنٹ لے کر بھی 16 مقام پررہے۔ ایک راؤنڈ ہار جیت کا سبب بن سکتا ہے۔ گگن نارنگ نے اسی مقابلے میں فائنل میں 103.1 پوائنٹ بنائے اور وہ تیسرے مقام پر رہے۔ نارنگ کی اچھی شروعات تھی اور پہلے شارٹ میں 10.7 پوائنٹ بنائے لیکن اگلے شارٹ میں وہ 9.7 پوائنٹ ہی بنا پائے۔ اس کے بعد نارنگ اگلے چار شارٹ میں10.4,10.7,10.4 اور 10.6پوائنٹ بناتے ہوئے سلور میڈل کی دوڑ میں شامل ہوگئے لیکن اس کے بعد وہ تھوڑا پیچھے کھسک گئے اور اب ان کا مقابلہ کانسے کے میڈل کے لئے چین کے وانگ تاؤتے کے ساتھ ہوا جو آخر کار 700.4 کے ساتھ چوتھے مقام پر رہے۔ شوٹنگ میں کبھی کبھی کھلاڑی تھوڑا خراب شارٹ مار دیتا ہے تو آپ کو فائدہ مل جاتا ہے۔ یہ فائدہ اس کی خراب کارکردگی سے ملتا ہے۔ اس اولمپک میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ خراب ریفرنگ کی وجہ سے بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ بھارتیہ مکے باز سمت سانگ وان خراب امپائرنگ کی وجہ سے ہار گئے۔ میں نے ان کی فائٹ دیکھی تھی مردوں کے لائٹ ہیوی ویٹ زمرے میں برازیل کے مکے باز کلوٹین ٹینو کے خلاف فائٹ میں ججوں کا اسکورنگ کا طریقہ صاف طور پر سانگ وان کے حق میں نہیں رہاکیونکہ دوسرے اور تیسرے راؤنڈ میں دبدبہ بنائے رکھنے کے باوجود انہیں ٹھیک نمبر نہیں دئے گئے اور جیتتی ہوئی لڑائی کوہار میں بدل دیا گیا۔ باکسنگ میں ججوں کی اسکورنگ پر بھاری تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ اکیلے سانگ وان ہی نہیں جن سے نا انصافی ہوئی۔ ایران کے ہیوی ویٹ باکسر علی مظاہری نے بھی شکایت درج کرائی۔ بدھوار کو دوسرے دور میں کیوبا کے گومیز کے خلاف ہارنے کے بعد ججوں پر یہ الزام لگایا گیا کہ جان بوجھ کر انہیں ہرایا گیا۔ ایرانی مکے باز کو گومیز کو پکڑ کر کھڑا رہنے کے سبب تین وارننگ کے بعد ڈس کوالیفائی کردیا گیا۔ مظاہری کا الزام ہے کہ یہ میچ فکس تھا۔ مظاہری نے سرکاری طور پر فیصلہ سنائے جانے سے پہلے ہیئررنگ چھوڑ دی تھی۔ کھیل ہو اور فکسنگ کاالزام نہ لگے بہت مشکل ہے۔ لندن 2012 اولمپک بھی فکسنگ کے سائے میں آگیا ہے۔ اولمپک کے بیٹ منٹن میچ میں فکسنگ کے ملزم8 کھلاڑیوں کو کھیلوں سے باہر کردیا گیا ۔ ان میں سے 4 ساؤتھ کوریا سے ہیں جبکہ 2 انڈونیشیا اور 2 چین سے ہیں۔ ان کھلاڑیوں پر اگلے راؤنڈ میں ممکنہ ڈرا حاصل کرنے کے لئے جان بوجھ کر ہارنے اور صلاحیت کے مطابق کھیل نہ دکھانے کا الزام ہے۔ فٹبال میں اسپین نہ صرف ورلڈ چمپئن ہے بلکہ حال ہی میں ہوئی وومن چمپئن شپ میں بھی اس نے خطاب جیتا۔ یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ اسپین جو اولپک گولڈ کا مضبوط دعویدار مانا جارہا تھا اور جس کا نام کبھی فٹبال میں اتنا سنا نہیں گیا ہو، سے ایک گول سے ہار کر اولمپک کھیلوں کی مرد فٹبال مقابلے سے باہر ہوگئی۔ ورلڈ کپ2010ء اور یو رو چمپئن شپ2012ء ونر اسپین ایک ہی وقت میں تین بڑے خطاب جیتنے کا خواب دیکھ کر میدان میں اتراتھا۔ میری سمجھ میں سائینا نہوال نے کمال کردیا ہے۔ بیشک وہ سیمی فائنل میں چین کی کھلاڑی چیانگ بانگ سے ہار گئی لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہے کہ ساری دنیا میں اس وقت مہلا بیٹ منٹن میں بھی چین کا دبدبہ ہے۔ 
سیمی فائنل میں چینی کھلاڑی ہیں اور اکیلی بھارت کی سائینا ہے یعنی ساری دنیا میں چین کا اگر کوئی مقابلہ کرہی ہے تو وہ سائینا ہے وہ ہاری بھی تو ورلڈ نمبر ون سے۔ اب دیکھیں کے وہ کانسے کا میڈل جیت پاتی ہے یا نہیں لیکن میری رائے میں تو وہ ایک طرح سے جیت ہی چکی ہے۔ اسی طرح ٹاپ سیٹ ملیشیا کے کیلی یونگ وئی کے خلاف کواٹر فائنل میچ میں پی کشپ میچ ہار کر بھی لوگوں کا دل جیت گئے۔ وجیندر سنگھ سے دیش کو بہت امیدیں ہیں ۔اولمپک میں کبھی کبھی ایسے بھی کھلاڑی آتے ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں ایسا ہی ایک نام ہے امریکی تیراک مائیکل فریڈ فیلپس ۔ اس بڑی تیراک شخصیت نے ایک الگ ہی تاریخ بنائی ہے ۔27 سال کے اس امریکی تیراک اولمپک کھیلوں میں 19 میڈل جیتنے والا دنیا کا اکیلا شخص بن گیا ہے۔2004ء میں ایتھنس میں اس نے 6گولڈ، 2 کانسے جیتے تھے۔ اس کی باہں اس کی لمبائی سے بھی زیادہ 6'7'' ہے۔ میں شخصی طور سے ہندوستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی سے زیادہ مایوس نہیں۔ اس کی دو وجہ ہیں پہلی کے ہم ان سے ضرورت سے زیادہ امیدیں لگائے ہوئے تھے اور دوسری مقابلہ بہت زیادہ سخت ہے۔ ہمیں دل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے اور بہتر تیاری کرنی چاہئے۔ کچھ دیش ہم سے بھی گئے گزرے ہیں۔ مثال کے طور پر اولمپک تاریخ میں وینزویلا نے 44 برس بعد گولڈ میڈل جیتا ہے۔ اس کے مرد تلوار باز روبین گاسکون نے دیش کو یہ کامیابی دلائی۔ اب میں جب اولمپک دیکھتا ہوں تو میں بھول جاتا ہوں کہ میں ایک ہندوستانی ہوں ۔ میں صرف کھیل کو دیکھتا ہوں کونسے دیش کا کھلاڑی ہے یہ نہیں دیکھتا۔ ہمیں اپنے آپ کو دیش سے اوپر ہوکر اولمپک کا مزہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ کیا ہم بیجنگ سے آگے بڑھ سکیں گے؟ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...