Translater

25 نومبر 2017

ہنومان مورتی کو ایئر لفٹ کرنا ہندودھرم میں مانیہ نہیں

دہلی کے قرولباغ میں واقع 180 فٹ لمبی ہنومان مورتی کو ہائی کورٹ نے رج روڈ پر قبضہ ہٹانے کیلئے اسے ایئر لفٹ کرنے پر غور کرنے کیلئے ہدایت سرکاری ایجنسیوں کو دی ہے۔ کورٹ نے اس معاملہ میں اگلی سماعت کے لئے 24 نومبر تاریخ کی تھی۔جھنڈے والان میں واقعہ 108 فٹ اونچی ہنومان کی مورتی معمولی نہیں ہے۔ مندر مینجمنٹ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس مورتی کا وزن 600 ٹن سے زائد ہے اسے ایئر لفٹ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مورتی کو توڑا جائے گا؟ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی کسی بھی حالت میں مورتی کو ہاتھ نہیں لگانے دیں گے۔ دوسری طرف ہنومان کی یہ مورتی ہائی ٹیک ہے۔ اس طرح کی مورتیاں شاید ہی دیش میں ہوں۔ مورتی کے ہاتھ آٹومیٹک ہیں دونوں مٹھی مشینوں کے ذریعے سے بند ہوتی ہیں اور کھلتی ہیں۔ مورتی کے سینے میں بھگوان رام و سیتا کی سونے کی مورتی قائم ہے۔ ان کے درشن ہنومان کی مورتی کے ہاتھوں کی مٹھی بند ہونے کے بعد ہوتے ہیں اور مٹھی کھولنے پر دونوں مورتیاں چھپ جاتی ہیں۔ مندر کے پجاری گنش دت پانڈے کا کہنا ہے کہ قریب 17 سال میں بن کر تیار ہوئی ہنومان کی اس 108 فٹ اونچی مورتی کو ایئر لفٹ ہونے سے بچانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑیں گے۔ اس مورتی کو ایئر لفٹ کر دوسری جگہ قائم کرنے کی تجویز پر سادھو سنتوں نے بھی سخت اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں لیکن اس طرح ہندوؤں کے ہر معاملہ میں مداخلت کرنا قطعی مناسب نہیں ہے اور وہ اسے منظور نہیں کرتے۔ قدیم سدھی پیٹھ شری کالکاجی مندر میں واقع مہنت نواس کمپلیکس میں منگل کے روز شری رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے مسئلہ پر اخبار نویسوں سے نروانی اکھاڑے کے مہنت دھرمداس مہاراج، اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کے پردھان مہنت نریندر گری مہاراج کالکا جی پیٹھا دھیشور مہنت سریندر ناتھ اودھوت نے اس مسئلہ پر پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آخر ہندوؤں کے دھارمک استھل پر ہی سبھی کو اعتراض کیوں ہوتا ہے جبکہ ہندوؤں کے دھارمک استھان راستوں میں نہیں بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہندو دھرم میں مورتی کو دوسری جگہ شفٹ کرنے کی مانیتا نہیں ہے اس وجہ سے کوئی بھی لگی مورتی دوسری جگہ شفٹ نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ جھنڈے والان میں بنی ہنومان مورتی کی اپنی تاریخ و مانیتا ہے ایسے میں اسے وہاں سے ہٹانا دھارمک معاملوں میں مداخلت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ راجدھانی میں کئی سڑکوں پر دیگر مذاہبوں کے دھرم استھان بنے ہوئے ہیں۔ کئی تو سڑک کے بیچ بنے ہوئے ہیں کیا وہ قبضہ نہیں ہے؟ عدالت کو کیوں ہمیشہ ہندوؤں کے ہی مذہبی مقامات پر قبضہ نظر آتا ہے؟ ہمارا کہنا ہے کہ اگر ہٹانا ہی ہے تو سبھی کو ہٹایا جائے جھنڈے والان میں قائم ہنومان مورتی والے مندر میں کٹرہ میں واقع ویشنو ماتا کی گپھا میں ویشنو ماتا ،کالی ماتا اور سرسوتی ماتا کی پنڈی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عزت مآب ہائی کورٹ اس پوتر دھارمک استھل سے کوئی چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں دے گا اور مورتی کو ہٹانے سے بچے گا۔
(انل نریندر)

برہموس میزائل کے سامنے کہاں ہے چین اور پاکستان

بھارت نے بدھ کے روز جنگی جہاز سے برہموس میزائل کا کامیاب تجربہ کرکے تاریخ رقم کردی ہے۔ اب تک کوئی بھی دیش سپر سونک کروز میزائل کو کسی جنگی جہاز سے لانچ نہیں کرپایا ہے۔ سخوئی۔30 ایم کے آئی سے داغا گیا نشانہ بالکل صحیح رہا۔ میزائل نے اپنے ٹارگیٹ کو اڑادیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور ریکارڈ بنا۔ بھارت ایسا پہلا دیش بن گیا ہے جس کے پاس زمین ،سمندر اور ہواسے مارکرنے والی سپر سونک کروز میزائل ہیں جو ہوا سے زمین پر مارکرنے والی برہموس میزائل آوازکی رفتار سے بھی قریب تین گنا زیادہ تیز اڑتی ہے۔ اس کے لینڈ اور وارشپ ورجن کو افواج میں پہلے ہی شامل کیا جاچکا ہے۔ بھارت اور روس کے مشترکہ انٹرپرائز سے تیار ہوئی اس میزائل کا بحری اور بری سے پہلے ہی کامیاب تجربہ کیا جاچکا تھا۔ اب اس کا ہوا میں بھی کامیابی کے ساتھ تجربہ کرلیا گیا ہے اس طرح یہ طے ہوگیا ہے کہ برہموس بحری،بری اور ہوا سے چھڑی جا سکنے والی میزائل بن گئی ہے۔ اس صلاحیت کو ٹویارڈ کہا جاتا ہے۔دوہری بھروسہ مند صلاحیت والے میزائل اس سے پہلے صرف امریکہ، روس اور خاص طور سے فرانس کے پاس موجود ہیں۔ برہموس کو دنیا کی سب سے تیز سپر سونک میزائل مانا جارہا ہے اس کی رفتار 2.8 میکروائبریشن کی رفتار کے برابر ہے۔ اس میزائل کی رینج 290 کلو میٹر ہے اور یہ 300 کلو گرام بھاری جنگی سامان لے جاسکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس تجربہ کے بعد پاکستان اور چین غش کھا رہے ہوں گے۔ اس کامیاب تجربے سے انڈین ایئرفورس کی مارصلاحیت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور زمین اور سمندر سے اس کے کامیاب تجربے کے بعد بھارت نے ہوا سے بھی اس کے کامیاب تجربے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ اس میزائل کا وزن 3 ہزار کلو ہے ، لمبائی 8 میٹر ہے ،چوڑائی 0.6 میٹر ہے۔ نشانہ پختہ ہے اس لئے کہتے ہیں داغو اور بھول جاؤ۔ برہموس نیوکلیئر وار ہیڈ تکنیک سے آراستہ ہے۔ دنیا کی کوئی بھی میزائل تیز رفتار سے حملہ کے معاملے میں اس کی برابری نہیں کرسکتی۔ امریکہ کی ٹام ہاگ میزائل بھی اس کے آگے کمتر ہے۔ بھارت نے برہموس میزائل کواروناچل پردیش میں چین سے لگی سرحد پر تعینات کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے ٹیسٹ کی سیریز کامیاب ہونے کے بعد 42 سخوئی جہازوں کو برہموس میزائل سے مسلح کیا جائے گا۔ ان دونوں کے کمبنیشن کو انتہائی مارک مانا جارہا ہے۔ دشمن کے علاقہ میںآتنک وادیوں کے کیمپوں ،ایٹمی بنکروں، کمان سیٹروں کو بالکل ٹھیک طریقے سے اڑایا جاسکے گا۔ دیش کے ماہرین پر ہمیں ناز ہے۔ برہموس میزائل کی کامیابی کا پورے دیش کو فخر ہے اور ہمارے پڑوسیوں کے لئے دہشت بھی ہے۔
(انل نریندر)

24 نومبر 2017

آدھار معلومات کا افشاں ہونا

یقینی طور سے اگر یہ معلومات صحیح ہیں کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی 210 ویب سائٹس نے لوگوں کی آدھار سے وابستہ معلومات کو عام کردیا ہے تو یہ باعث تشویش ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے بھروسے کو توڑنا ہے۔ ابھی تک سرکار کی جانب سے یہ بار بار یقینی دہانی کرائی جاتی رہی ہے کہ آدھار سے جڑی معلومات ایک دم سے محفوظ ہیں اور ان کے افشاں ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آدھار کارڈ جاری کرنے والی کمپنی ہندوستانی مخصوص پہچان اتھارٹی یعنی یو آئی ڈی اے آئی بھی یہی دعوی کرتی ہے لیکن اب اسی ادارہ نے اطلاعات حق قانون کے تحت مانگی گئی معلومات میں یہ بنیادی طور پر تسلیم کیا ہے۔ یو آئی ڈی اے آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس نے اس خلاف ورزی کا نوٹس لیا ہے اور ان ویب سائٹوں سے معلومات ہٹوادی ہیں۔ ادارہ نے ڈاٹا لیک ہونے کے سلسلے میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ثبوتوں کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ آدھار ڈاٹا پوری طرح سے محفوظ ہے اور یو آئی ڈی اے آئی میں ڈاٹا نہ چوری ہوا ہے اور نہ ہی افشاں ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ ان ویب سائٹوں پر جو ڈاٹا عام ہوئے ہیں وہ اطلاعات حق قانون کے تحت دئے گئے ہیں اور اداروں کی ویب سائٹ پر فائدہ یافتگان کے نام، پتہ، بینک کھاتہ اور آدھار سمیت دوسری جانکاریاں جاری کی گئی ہیں۔ یہ اعدادو شمار تیسرے فریق یا استعمال کنندگان کے ذریعے مختلف بہبودی اسکیموں کے لئے اکٹھا ڈاٹا ہے جو اطلاعات حق قانون کے تحت پبلک کئے گئے ہیں۔ اس نے پھرسے اس بات پر زور دیا ہے کہ یو آئی ڈی اے آئی کی جانب سے آدھار کی تفصیل کو کبھی لیک نہیں کیا گیا ہے۔ ہم اس کے دعوے کو بھی تسلیم کرلیتے ہیں کہ یہ ایک منظم مشینری ہے اور مستقبل میں جانکاریاں لیک نہ ہوں اس کے پختہ قدم اس نے کئے ہیں لیکن جن فائدہ یافتگان نام ،پتہ سمیت دیگر معلومات پبلک ہوئی ہیں ان کا کیا؟ اگر کسی نے اس کا بیجا استعمال کر ایسے لوگوں کے نام پر کچھ گورکھ دھندہ کرلیا ہو تو اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟ اس لئے یو آئی ڈی اے آئی کا اتنا کہنا کافی نہیں ہوسکتا کہ اس نے جانکاریاں ہٹوادی ہیں اور مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔ مرکزی سرکار مختلف سماجی منصوبوں کا فائدہ اٹھانے کے آدھار کو ضروری کرنے کی کارروائی میں ہے۔ سپریم کورٹ میں آدھار کو ضروری کرنے پرسماعت چل رہی ہے۔ عدالت نے ذاتی معلومات کو بنیادی حق مانا ہے اس فیصلہ کی بنیاد پر پبلک کی گئی اطلاعات سے متعلق افراد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آجائے گی۔ آدھار جانکاریوں کا لنک ہونا بہت بڑی غلطی ہے اور اس کے لئے سرکار کو اور سخت قاعدے بنانے ہوں گے تاکہ یہ لیک نہ ہوں۔
(انل نریندر)

پہلے کفن کا بل دو پھر ملے گی لاش

پرائیویٹ اسپتالوں کی دھاندلے بازی کی مثال پہلے بھی کئی بار سننے میں آچکی ہے یہ کس طرح سے مریض کو لوٹتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال فورٹیز اسپتال کی ہے۔ دوارکا میں مقیم شخص جینت نے اپنی 7 سالہ بچی کو فورٹیز اسپتال گوڑگاؤں برانچ میں داخل کروایا۔ بچی کو ڈینگو ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بچی جو بات کرتے ہوئے اسپتال میں داخل ہوئی تھی قریب 15 دن بعد اس کا برین 70 سے80فیصد ڈیڈ ہوچکا تھا۔ دو دن بعد اسپتال میں ہی اسے کسی ایسے اسپتال لے جانے کو کہا جہاں پیڈریاٹک آئی سی یو کا انتظام ہو۔ اس کے بعد وہ 31 اگست کی شام اپنی 7 سالہ بیٹی آدھا کو لیکر گوڑ گاؤں کے فورٹیز اسپتال پہنچے۔ ماں دپتی سنگھ نے بتایا کہ ہم جب اسپتال جا رہے تھے تو ہماری بچی ٹھیک تھی اور جسمانی طور پر وہ تندرست لگ رہی تھی۔ اسے بخار تھا۔ حالانکہ راک لینڈ اسپتال میں ہمیں رپورٹ میں بتادیا گیا تھا کہ اسے ڈینگو ٹائپ4 ہے۔ جینت نے بتایا کہ ہمیں پہلے تو سمجھ میں نہیں آیا بعد میں بل دیکھنے کے بعد پتا چلا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ 15 دن بعد ہمارا کل بل 1579322 روپے بنا۔ یہی نہیں بچی نے جو آخری ڈریس پہنی تھی اس کا بھی 900 روپے کا بل تھمادیاگیا۔ ڈینگو کا شکار ہوئی بچی کی موت کے بعد اس کے خاندان کو 16 لاکھ روپے کا بل دینا پڑا جو آج کل ان پرائیویٹ اسپتالوں کی لوٹ کی ایک مثال ہے۔ اسپتال اب ایک بزنس بن گئے ہیں۔ کولڈ ڈرنکس بنانے والی کمپنیوں کو شیئر کیپٹل ہے تو اسپتالوں کے بھی ہیں۔ یعنی اسپتال میں انویسٹر نے پیسہ لگادیا ہے اور منافع کے لئے وہ اپنے پروڈکٹ کی مارکٹنگ بھی کرتے ہیں۔ نقصان ہونے کی صورت میں اوور بلنگ سے بھی نہیں چوکتے۔ اسے ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ سی ای اوکی گائڈ لائنس سے چلایا جاتا ہے۔ یہاں صرف اسپتال کا منافع معنی رکھتا ہے۔ ایک اسپتال کے مارکٹنگ ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے نے بتایا کہ علاج ، جانچ ، ڈاکٹروں کی فیس سب سی ای او طے کرتے ہیں ، اس لئے اسپتال اپنی مرضی سے بل بناتے ہیں اور ایک حکمت عملی کے تحت ہر مہینے اسپتال کی کمائی کا نشانہ فکسڈ کیا جاتا ہے اور ٹارگیٹ پورا ہو یا نہیں اس کے لئے ہر مہینے 20 تاریخ کو جائزہ لیا جاتا ہے۔ ٹارگیٹ پورا نہ ہونے پر اوور بلنگ کا فرمان بھی جاری کردیا جاتا ہے۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے منگلوار کو اس معاملہ میں مفصل رپورٹ مانگی اور کہا سرکار اس رپورٹ کی بنیاد پرکارروائی کرے گی۔ نڈا نے واقعہ کو بہت افسوسناک بتایا اور کہا کہ انہوں نے ہیلتھ سکریٹری سے بھی معاملہ کو دیکھنے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے اسپتال کے حکام سے پوچھ تاچھ کی ہے اور ان سے ہیلتھ منترالیہ کو مفصل رپورٹ دینے کو کہا ہے۔ ڈینگو کے علاج کے لئے 16 لاکھ روپے کا بل جس میں 2700 روپے دستانوں کے بھی جوڑے گئے ہیں دینے والے گوروگرام فورٹیز اسپتال پر ہر طرف سے انگلی اٹھ رہی ہے۔قانونی واقف کاروں کا کہنا ہے متاثرہ پریوار کا دعوی اگر صحیح ہے تو وہ بڑے بل کے خلاف کنزیومر کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ ایڈوکیٹ ادتیہ پرولیا نے بتایا کہ اگر کسی اسپتال کی طرف سے علاج کا بل بڑھا چڑھا کر لیا گیا ہے تو یہ نامناسب کاروباری پریکٹ میں آجائے گا۔ اسپتال کی جانب سے دی گئی سروس میں کوئی خامی ہے تو یہ سیدھے سیدھے ڈیفکٹیو سروسز کا معاملہ ہے۔ ان دونوں ہی الزامات کے تحت متاثرہ خاندان کورٹ جاسکتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد ایک بار پھر یہ بحث کا موضوع بن گیا ہے کہ کیا پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں سے زیادہ پیسہ لیا جاتا ہے؟ کئی پرائیویٹ اسپتالوں کو زمین رعایتی شرحوں پر دی گئی ہے اور اس کے ساتھ شرطیں بھی عائد کی گئی ہیں؟ کیا سرکار ایسے لٹیرے اسپتالوں پر کوئی لگام نہیں لگا سکتی؟ پرائیویٹ اسپتالوں کے روم ، آئی سی یو، وینٹی لیٹر، لیب و جانچ کے چارج سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ سرکار کو اس پر کنٹرول کرنا چاہئے۔ کرناٹک سرکار نے پرائیویٹ اسپتالوں کو ریٹ کی فہرست دی تھی کہ کتنا چارج لینا ہے۔ ایسے ہی ہریانہ سمیت دیگر ریاستوں کو بھی کرنا چاہئے۔ اس حساب سے نہ تو کوئی درمیانہ یا غریب ان اسپتالوں میں علاج بھی نہیں کراسکتے۔
(انل نریندر)

23 نومبر 2017

دہشت گردوں اور نکسلیوں پر بھاری پڑتی سیکورٹی فورسز

دہشت گردی بھارت کیلئے ایک بڑی چنوتی ہے چاہے وہ کشمیر میں جہادیوں کی ہو یا نکسلی تشدد کی ہو اس پر قابو پانا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے لیکن 2017 کا سال ہماری سیکورٹی فورسز کے لئے اچھا رہا ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی۔کشمیر میں فوج اور سیکورٹی فورسز کی جارحانہ حکمت عملی کے سبب وسیع پیمانے پر دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ اس سال ریکارڈ توڑ آتنکی مارے گئے ہیں۔ کشمیر میں 15 ویں کورپ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل جے ایس سندھو نے اس سال 19 نومبر تک 2390 دہشت گردوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ عام طور پر باقی برسوں میں یہ تعداد 100 سے نیچے رہتی تھی لیکن اس سال یہ 200 سے بھی اوپر چلی جائے گی۔ فوج کا کہنا ہے وادی میں پاک حمایتی آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کی اعلی لیڈرشپ کا صفایا ہوگیا ہے۔ اس سال جن 190 دہشت گردوں کو مار گرایا گیا ہے ان میں 80 مقامی تھے اور 110 غیر ملکی دہشت گرد تھے۔ سیکورٹی فورس کے چوطرفہ دباؤ کے سبب کشمیر وادی میں پتھر بازی کے واقعات میں بھی 90 فیصد کمی آئی ہے۔ پچھلے برس کے مقابلہ میں یہ بڑی کامیابی ہے۔ اس سال مارنے جانے والے دہشت گردوں میں سے 5-6 ٹاپ کمانڈر بھی تھے جنہیں فوج اور سیکورٹی فورسز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ دوسری طرف سیکورٹی فورسز کے کستے شکنجہ سے نکسلی کمزور پڑتے جارہے ہیں۔ 10 ریاستوں کے 106 اضلاع میں سرگرم نکسلیوں نے خود مانا ہے کہ 2017 کے 10 مہینوں میں انہیں زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اس دوران ان کے جن 140 ساتھیوں کو سیکورٹی فورسز نے مار گرایا ہے ان میں 30 عورتیں بھی تھیں۔ یہ جانکاری پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی) کے یوم تاسیس سے پہلے نکسلیوں کے سینٹرل فوجی کمیشن کی طرف سے جاری بیان میں دی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انہیں سب سے زیادہ نقصان ڈنڈکارنم (چھتیس گڑھ) میں اٹھانا پڑا ہے۔ وہاں 98 نکسلی مارے جاچکے ہیں۔ حالانکہ 2017 میں نکسلیوں سے لوہا لیتے ہوئے سیکورٹی فورسزلے 71 جوان بھی شہید ہوگئے۔ مارے جانے والے نکسلیوں میں ان کے ڈویژن اور زونل سطح کے سرغنہ بھی شامل ہیں۔ نکسلیوں کی سرگرمیوں سے متاثر علاقوں میں چلائے جارہے ابھیان :سمادھان (2017-2022) کا خاص طور سے ذکر ہے ساتھ ہی 2014 سے لگاتار سیکورٹی فورسز کے حملوں کی بات بھی مانی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2016 کے مقابلہ میں اس سال گذشتہ 10 مہینوں میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے حملہ تیز ہوئے ہیں اس سے بہت نقصان ہوا ہے، خاص کر سیکورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں ہتھیار اور کارتوس بھی ضبط کرلئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کو بدھائی۔
(انل نریندر)

ایران اور سعودی عرب میں36 کا آنکڑا

ایران اور سعودی عرب کے درمیان 36 کا آنکڑا ہے۔ ایران اور سعودی عرب لمبے وقت سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں لیکن حال ہی میں ان دونوں دیشوں کے بیچ ٹکراؤ زیادہ بڑھنے لگا ہے۔ سنی اکثریت والا ملک سعودی عرب اسلام کا مقام پیدائش ہے۔ اسلامی دنیا کی سب سے اہم ترین جگہوں میں شامل ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے تیل ایکسپوٹروں اور امیر ملکوں میں سے ایک ہے۔ سعودی عرب کو ڈر ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ پر حاوی ہونا چاہتا ہے اور اس لئے وہ شیعہ لیڈر شپ میں بڑھتی سانجھیداری اور اثرات والے علاقہ کی طاقت کی مخالفت کرتا ہے۔ نوجوان اور طاقتور شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان پڑوسی ملک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک لمبی لڑائی لڑرہے ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے باغیوں کو ایران سے حمایت مل رہی ہے لیکن ایران نے اس دعوی کو مسترد کیا ہے۔ سعودی عرب بھی اس کے جواب میں بغاوت کرتا ہے اور شام کے صدر بشرالاسد کو ہٹانا چاہتا ہے جو ایران کا اہم شیعہ ساتھی ہے۔ سعودی عرب کے پاس سب سے اچھے ہتھیار سے مسلح فوج ہے جو دنیا کے سب سے بڑے ہتھیار درآمد کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ ان کے پاس دو لاکھ سے زیادہ فوجی ہیں۔ ایران 1979 میں ایک اسلامی جمہوریہ بنا۔ اس وقت وہاں راج شاہی کو ہٹا کر آیت اللہ خمینی کی قیادت میں سیاسی طاقت نے اپنی پکڑ مضبوط کی تھی۔ ایران کی 8 کروڑ کی آبادی میں شیعہ مسلمان اکثریت میں ہیں۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں عراق میں صدام حسین کا دور گزرجانے کے بعد مشرق وسطیٰ علاقہ میں ایران نے اپنا دبدبہ تیز کردیا ہے۔ ایران نے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) سے لڑنے میں شام اور عراق میں سنی جہادیوں کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ایران کا یہ بھی ماننا ہے کہ سعودی عرب لبنان کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہاں ایران ایک شیعہ ابھیان حزب اللہ کی حمایت کررہا ہے۔ ایران امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن مانتا ہے۔ ایران میں فوج اور آئی آر جی سی کے جوانوں کو ملا کر کل 5 لاکھ34 ہزار جوان موجود ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ گہرے رشتے رہے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران مخالف رویئے کے بعد یہ رشتے اور بہتر ہوئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کبھی بھی سعودی عرب میں کٹر پنتھی اسلام کی ویسے تنقید نہیں کی ہے جیسے کہ وہ ایران کی کرتے ہیں۔ روس کے رشتے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ ہیں۔ اس کے دونوں ہی دیشوں کے ساتھ اقتصادی تال میل بھی ہے وہ ان دونوں دیشوں کو جدید ہتھیاربیچتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بالادستی کی اس لڑائی میں جیت کس کی ہوگی؟
(انل نریندر)

22 نومبر 2017

17 سال بعد بھارت کی مانوشی نے جیتا مس ورلڈ کا تاج

چین کے سانیہ شہر میں سنیچر کو 67 ویں مس ورلڈ ونر کے آخری مرحلہ میں پوچھے گئے مانوشی چھلر نے جو جواب دیا اسسے وہ مقابلہ جیت گئی۔ جیوری کے فائنل راؤنڈ میں مانوشی سے پوچھا گیا کہ کس پروفیشن میں سب سے زیادہ تنخواہ ملنی چاہئے اور کیوں؟ جواب میں انہوں نے کہا ماں کو سب سے زیادہ سنمان ملنا چاہئے، انہیں کیش میں تنخواہ نہیں بلکہ عزت اور پیار ملنا چاہئے ۔ اور اس جواب سے ہی انہیں مس ورلڈ کا ٹائٹل مل گیا۔ اس مقابلہ میں تین کسوٹیاں تھیں بیوٹی، گلیمر اور ذہانت۔ 21 سالہ میڈیکل اسٹوڈینٹ نے دنیا کے 108 ملکوں کی حسیناؤں کو پچھاڑکر یہ خطاب جیتا۔ خود اعتمادی اور ہمت کے ذریعے مانوشی ٹاپ 40 سے سیدھے ٹاپ15 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ اس کے بعد ٹاپ10 اور ٹاپ5 میں ان کی جگہ پکی رہی۔ آخری 5 میں انگلینڈ، فرانس، کینیا اور میکسیکو کی امیدوار تھیں۔ آخری تین کے انتخاب کے بعد ان کا مس ورلڈ بننا قریب قریب طے ہوگیاتھا۔وہاں انڈیا انڈیا کا شور ہونے لگا۔ خطاب جیتنے کا اعلان ہوتے ہیں مانوشی اپنے آنسو روک نہیں پائیں۔ خود اعتمادی سے بھرپور ہریانہ کے جھجھر ضلع کی باشندہ مانوشی نے فائنل سے ٹھیک پہلے کہا تھا : ویسے تو میں میڈیکل اسٹوڈینٹ ہوں لیکن میرا کوئی پلان بی نہیں ہے۔ میں اپنی زندگی میں کسی بات کا پچھتاوا نہیں کرنا چاہتی لہٰذا یہ خطاب جیتنا میرے لئے بیحداہم ہے۔ میرا ہمیشہ سے ہی مس ورلڈ خطاب جیتنا مقصد رہا ہے۔ یہ میرے خاندان اور میرے دوستوں کا بھی خواب رہا ہے۔ مس ورلڈ کا خطاب جیتنے والی مانوشی سے پہلے پرینکا چوپڑہ، مکتا مکھی، ڈائنا ہیڈن، ایشوریہ رائے بچن اور ریتا فاریہ نے یہ خطاب جیتا تھا۔ اس جیت کے ساتھ ہی بھارت نے مس ورلڈ کا تاج حاصل کرنے کے معاملہ میں وینوزویلا (چھٹا مس ورلڈ) کی برابری کر لی ہے۔ مس ہریانہ رہ چکی مانوشی نے اسی سال جون میں مس انڈیا اور مس فوٹوجنک کا ایوارڈ بھی جیتا ہے۔ مس ورلڈ میں جانے سے پہلے وہ سماج سے جڑی رہی ہیں۔ انہوں نے ماہواری کے دوران ہائیجین سے متعلق ایک کمپین میں قریب پانچ ہزار خواتین کو بیدار کیا۔ مس ورلڈ کی ویب سائٹ پر مانوشی کے پروفائل میں لکھا ہے مس مانوشی چھلر قلب کی سرجن بننا چاہتی ہیں اور ان کا ارادہ دیہی علاقوں میں غیر فائدہ والے اسپتال کھولنے کا ہے تاکہ غریبوں کو بھی بہتر علاج کی سہولت مہیا ہوسکے۔ جیت کے بعد مانوشی نے ٹوئٹ کرکے کہا: مسلسل پیار اور مدد اور پرارتھناؤں کے لئے آپ سبھی کا شکریہ۔ یہ خطاب بھارت کے لئے ہے۔ بدھائی مانوشی۔
(انل نریندر)

نہ کاروبار سدھارا اور نہ ہی کرپشن ختم ہوا

بیشک امریکہ کی عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے 13 سال میں پہلی بار بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ کو ایک پائیدان بہتر کیا ہو لیکن کیا حقیقتاً زمینی صورتحال سدھری ہے؟ ایسوچیم کے نئے منتخب چیئرمین انل کھیتان کا تو کچھ اور ہی کہنا ہے۔ بھارت میں کاروبار بڑھنے کے سیکٹر میں حالات نہیں سدھرے ہیں۔ نچلی سطح پر ابھی بھی بڑے پیمانے پر کرپشن پھیلا ہوا ہے۔ کھیتان نے کہا صرف باتیں ہی ہورہی ہیں اور کوئی کام نہیں ہورہا۔ جب تک سرکار جو کہتی ہے اس پر چلتی نہیں ہے یہ ایک بڑی ناکامی ہوگی۔ پالیسیوں کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن پالیسیوں کے اعلان کرنے کے بعد ان پر عمل کرنا ایک طرح سے ان کا بیکار ہونا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا نوٹ بندی کے منفی اثرات سے نکلنے میں کاروبار کو ابھی کم سے کم 14 مہینے لگیں گے۔ ایک انٹرویو میں کھیتان نے کہا کہ سرکار کی اعلی قیادت میں اب کرپشن نہیں بچا ہے لیکن سرکاری مشینری کے سب سے نچلی سطح پر یہ وسیع طور پر پھیلا ہوا ہے اس سے دیش کا کاروبار چلن کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ کھیتان سے پوچھا گیا تھا کہ ورلڈ بینک کی کاروبار انڈیکس رپورٹ میں بھارت کی رینکنگ 30 ویں مقام سے سدھر کر 100 ویں مقام پر آنے کا کیا حقیقت میں بھارت کا کاروبار انڈیکس ماحول بہتر ہوا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا نہیں مجھے ایسا نہیں لگتا۔ آپ کسی بلڈر سے بات کیجئے، حالات ویسے ہی ہیں۔ کرپشن اب دوگنا ہوگیا ہے کیونکہ اب سرکار میں اعلی سطح پر کرپشن نہیں ہے ایسے میں اگر آپ کرپٹ نہیں ہونے کے اپنے عزم پر جارحانہ بنے رہتے ہیں تو نچلی سطح کے افسر بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ تم پردھان منتری کے پاس جاکر ہی اپنا کام کیوں نہیں کرا لیتے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جی ڈی پی میں اضافہ شرح جولائی ۔ستمبر کی سہ ماہی میں 5.7 سے بڑھ کر 5.9 فیصد قرض کے درمیان بنی رہے گی اور پورے مالی سال میں یہ 6.65 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے پر کھیتان نے کہا میرے نظریئے میں یہ ایک اچھا قدم ہوگا اگر سرکار پرانے 500 اور 1000 کے نوٹ کو 31 مارچ تک چلنے دیتی اور 1 اپریل 2017ء کے بعد اس کے قانونی جواز کو ختم کردیتی۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو اعلان کرنا چاہئے تھا کہ ہم 500-1000 کے نوٹوں کی چھپائی بند کررہے ہیں ، جو شخص 500-1000 کے نوٹ کا اعلان کرتے ان سے یکمشت معاوضہ 25 فیصد کی شرح پر کر لیا جاتا۔ اس طرح یقینی طور پر کالا دھن بھی واپس آجاتا۔ 
(انل نریندر)

21 نومبر 2017

’’پدماوتی ‘‘ کی ریلیز پر سنکٹ کے بادل

بالی ووڈ پروڈیوسر ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی کی 180 کروڑ روپے کی لاگت سے بنی اہم ترین اور سرخیوں میں آئی فلم ’’پدماوتی‘‘ کو لیکر ابھرا تنازع جس طرح سے چل رہا ہے اس کے چلتے فلم کا ریلیز ہونا مشکل لگ رہا ہے۔ فلم ریلیز ہونے سے پہلے ہی تنازعوں میں گھر گئی ہے۔ فلم کو 1 دسمبر کو ریلیز کرنے کا پلان تھا لیکن ابھی تک سینسر بورڈ کے پاس نہیں بھیجاگیا ہے۔ یہ فلم تنازع میں اس وقت آگئی تھی جب راجستھان میں اس کی شوٹنگ کے وقت سیٹ پر کرنی سینا نے توڑ پھوڑ کرکے اپنی منشا ظاہر کردی تھی۔ کرنی سینا اور اکھل بھارتیہ چھتریہ یووا مہا سبھا کو اعتراض اس بات پر ہے کہ بھنسالی نے پدماوتی کے کردار کوتوڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ شوٹنگ کے ٹائم جب توڑ پھوڑ ہوئی تو سنجے لیلا بھنسالی نے ناراض لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ فلم میں کچھ بھی رائج مانیتاؤں کے برعکس نہیں ہوگا لیکن جب فلم ’’پدماوتی‘‘ کا ٹیلر آیا تو لوگوں کو یہی لگا کہ انہی دی گئی یقین دہانی کو پورا نہیں کیا گیا۔اس طرح یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ’پدماوتی‘ کے عزت و وقار کو لیکر فکرمند لوگ فلم کے عنوان آنے اور اسے دیکھے بنا اس نتیجے پر کیسے پہنچ گئے کہ ان کیعکاسی صحیح طرح سے نہیں کی گئی ہے۔ اسی طرح یہ فلم ساز و کی طرف سے اس خیالی اندیشے کو دور کرنے میں جلد بازی کا ثبوت کیوں دیا ہے؟ ایسا بھی لگتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو دلچسپی اس تنازع کو طول دینے میں ہے۔ کیا اس لئے ہنگامہ ہوتا رہے اور مفت میں پبلسٹی ملتی رہے؟ ایسے سوال اس لئے بھی ابھرے ہیں کیونکہ فلم پروڈیوسر سینسر بورڈ کی ہاں یا نہ کا انتظار کئے بغیر اور یہاں تک کہ اسے صحیح طرح سے فلم کی کاپی سونپے بغیر کچھ چنندہ لوگوں کو فلم دکھانا پسند کرتے ہیں لیکن اس میں وہ لوگ شامل نہیں ہوتے جو زیادہ اعتراض ظاہر کررہے ہوتے ہیں؟ آخر سینسر بورڈ سے پہلے فلم کو میڈیا کے چنندہ لوگوں کو دکھانا اور ان کے ذریعے جنتا کو پیغام دینے کا کیا مطلب نکالا جائے؟ فلم پروڈیوسر کے رویئے پر سینسر بورڈ کا اعتراض حق بجانب ہے۔ راجستھان اور دیش کے دیگر حصوں میں آج پدماوتی کی مخالفت ہورہی ہے۔بیشک اظہار رائے کی آزادی کا احترام ہونا چاہئے لیکن اسی کے ساتھ کسی کو فن اور روشن خیالی کے نام پر دھارمک کلچر کی روایتوں و تقاضوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کچھ لوگ پورے تنازع کو اس میں الجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ تاریخ میں پدماوتی کا کردار ملتا ہی نہیں۔ اہم یہ نہیں ہے کہ پدماوتی تھی یا نہیں، اہم یہ ہے کہ فلم میں کیا آپ نے پدماوتی کا کریکٹر ویسا ہی دکھایا ہے جیسی مانیتا ہے؟ بلا شبہ رائج دقیانوسیت کو توڑنے کا کام کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا کرتے وقت لوگوں کو جان بوجھ کر اکسانا اور بھڑکانے کا کوئی مطلب نہیں۔ عام طور پر تاریخی فلمیں ہوبہو حقائق پر مبنی نہیں ہوتیں ، فلم کو تفریح آمیز بنانے کے لئے پروڈیوسر ڈائریکٹر مسالے کا تڑکا لگا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تاریخ کو ایسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے کہ کسی فرقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ بھارت جیسے مہذب اور ذات پات پر گمان کرنے والے سماج میں فلم پروڈیوسروں کو خاص طور پر احتیاط برتنے کی سمجھ ہونی چاہئے لیکن سنجے لیلا بھنسالی اور اداکارہ دیپکا پاڈکون کے خلاف جس طرح کا فرمان جاری کیا گیا ہے اس کی مذمت ہونی چاہئے۔ کسی بھی وقت اور جدید سماج میں احتجاج کا یہ طریقہ ناقابل قبول ہے۔ جو لوگ بھی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ منمانی کررہے ہیں وہ نہ تو اپنا بھلا کررہے ہیں اور نہ سماج کا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کوئی فلم مظاہرہ کے لائق ہے یا نہیں اسے طے کرنے کا اختیار سینسر بورڈ کا ہے اور یہ کام اسے ہی کرنے دیا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

چین میں بڑھتا کرپشن

کون کہتا ہے کہ چین میں کرپشن نہیں ہے؟ پچھلے کچھ دنوں سے چین میں کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس مہم سے وابستہ حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو کے ممبر یانگ شیاؤڈو کا کہناہے کہ اگر اس پر لگام نہیں لگائی گئی تو چین کا انجام بھی سوویت یونین جیسا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف مہم میں ناکامی ملتی ہے تو یہ دیش کے لئے خطرناک ہوگا۔ چین کے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی میں لکھے اداریہ میں انہوں نے یہ بات کہی ہے۔ بڑی طاقت مانا جانے والا سوویت یونین 1991 ء میں 15 ملکوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ شیاؤڈو کو سینٹر کمیشن فار ڈسپلن ایکشن کے ڈپٹی سکریٹری سے ترقی دے کر کے پولٹ بیورو کا ممبر بنایا گیا ہے۔ ان کو کرپشن کے خلاف مہم میں شامل دیش کا دوسرے نمبر کا سینئر افسر مانا جاتا ہے۔ پولٹ بیورو کے ممبروں کا دیش کے اقتدار پر پورا کنٹرول ہوتا ہے۔ شیاؤڈو نے اپنے اداریہ میں پچھلی سرکار کی سخت نکتہ چینی بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے پچھلے عہد میں کرپشن اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ پارٹی لیڈر شپ کمزور پڑ گئی۔ سرکار نے کرپشن کو بڑھنے دیا اور کارروائی کرنے میں کسی نے دلچسپی نہیں دکھائی۔ شیاؤڈو سے پہلے اینٹی کرپشن چیف ماؤ لیجی نے بھی چینی اخبار پیپلز ڈیلی کے اداریہ میں کرپشن کو لیکر بھی اسی طرح کا آرٹیکل لکھا تھا۔ لیجی کو وانگ کنگان کی جگہ اینٹی کرپشن کا نیا چیف بنایاگیا ہے۔ آرٹیکل میں شیاؤڈو نے کہا کہ اگر چین میں کرپشن کا خاتمہ نہیں کیا گیا تو دیش کا وجود ہی بدل جائے گا اور یہ برباد ہوجائے گا۔ اگر وقت رہتے اس پر لگام نہیں لگائی گئی تو مستقبل میں دیش کے لوگوں کا سوویت یونین کی طرح حشر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ بھی اپنے سابقہ جانشینوں کی طرح سے مانتے ہیں کہ اگر اقتدار پر پکڑ ڈھیلی ہوئی تودیش میں اتھل پتھل مچ سکتی ہے۔ اس سے دیش بکھر بھی سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکمراں کمیونسٹ پارٹی ہمیشہ اپنے کیڈر سے سوویت یونین کی تقسیم کی اسٹڈی کرنے کو کہتی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ شی جن پنگ کے داہنے ہاتھ مانے جانے والے وانگ کشان کے جانے کے بعد کرپشن کے خلاف لڑائی کمزور نہیں ہوگی۔ پچھلے مہینے پارٹی میں ہوئی تبدیلی سے پہلے وانگ کو چین کا دوسرا سب سے طاقتور لیڈر مانا جاتا تھا۔ ان کو پچھلے مہینے اینٹی کرپشن چیف کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ شیاؤڈو نے کہا کہ صدر شی نے کرپشن کے خلاف اپنی لڑائی میں کافی کامیابی پائی ہے۔
(انل نریندر)

19 نومبر 2017

ڈیجیٹل کے بجائے پرنٹ میڈیا پر زیادہ بھروسہ

نیٹ ور ک میں بندھی دنیا میں سب سے اہم کرنسی ہے بھروسہ۔ مین اسٹریم میڈیا یعنی اخبارات پر آج بھی یہ بات کھری اترتی ہے۔ڈاٹا ریسرچ کرنے والے ادارے کینٹر کی ایرر ان نیوز موضوع پر ہوئی نئی گلوبل ریسرچ کا کہنا ہے کہ امریکہ ، اسکاٹ لینڈ، فرانس اور برازیل جہاں پرنٹ کے بجائے لوگ ڈیجیٹل میڈیا کا رخ کررہے ہیں وہاں بھی زیادہ بھروسہ اخباروں پر ہی کیا جارہا ہے۔ یہ اسٹڈی ان چار ملکوں کے 8 ہزار قارئین سے بات کرکے تیار کی گئی ہے۔ اسٹڈی کے اہم پوائنٹ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ خبروں کو لیکر اپنا اوپینین دیتے ہیں۔ دوستوں کو کمینٹس کرتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر خبروں کا کنکشن کیسا بھی ہو فیک نیوز کا مدعا آتے ہیں وہ لوگوں کا بھروسہ توڑ دیتا ہے۔ سروے میں 58 فیصدلوگوں نے کہا کہ فیک نیوز کے معاملہ میں سوشل میڈیا پرآنے والی سیاسی و چناوی خبروں پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتے۔ ریسرچ کہتی ہے کہ برٹن میں جو بالغ یہ کہتے ہیں کہ وہ ویب سائٹ پر آنے والے اشتہارات پر غور کرتے ہیں ان کے مقابلے 65 فیصد زیادہ لوگ اخباروں میں آنے والے اشتہارات پر توجہ دیتے ہیں۔ آن لائن میڈیا کے مقابلے اخباروں میں اپنی جانب توجہ مبذول کرنے کا ایک ہی ذریعہ رہ گیا ہے اور وہ ہے بھروسہ۔ اسٹڈی کہتی ہے کہ قلیل المیعاد فائدے اور آپسی بھروسے کے درمیان ایک لکیرکھینچنے کیلئے اخبار کی خبروں کا بھروسہ زیادہ اہم ہوگیا ہے۔اسے آپ اس طرح سمجھئے کہ 29 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہوں نے پچھلے سال آن لائن خبر پڑھنے کے لئے پیسہ دیا لیکن جب بات بھروسے مند نیوز پیپر برانڈ کی آئی تو یہ اعداد بڑھ کر 42 فیصد ہوگیا۔ اسی طرح 40 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہوں نے پہلی بار کوئی اخبار خریدہ ہے لیکن جب بھروسے مند نیوز پیپر برانڈ کے بارے میں پوچھا گیا تو56 فیصد لوگوں نے کہا کہ ہاں انہوں نے وہ اخبار خریدہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہی بات پر غور کیا جاتا ہے کہ میڈیا کے ساتھ جتنا ٹائم اسپینڈ ہوگا اسے اشتہار بھی اتنے ہی ملیں گے لیکن جو میڈیا خود کو بھروسے مند میڈیا کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے اسے بھروسے پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ آج کے دور میں ٹریڈیشنل نیوز برانڈ اس بات کو لیکر فکر مند ہیں کہ ریڈر کے لئے ان کا انحصارسوشل میڈیا پر بڑھتا جارہا ہے لیکن سوشل میڈیا پر خبریں پڑھنے والے قریب دوتہائی لوگ کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر بھی غور کرتے ہیں کہ وہ جو کنٹینٹ پڑھنا چاہتے ہیں وہ انہیں کس نیوز آرگنائزیشن سے مل رہا ہے۔ آج بھی لوگوں کا پرینٹ میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا کے مقابلہ زیادہ بھروسہ ہے۔
(انل نریندر)

مجھے بھگوان ہی اقتدا رسے ہٹا سکتے ہیں

2008 کے چناؤ کے وقت زمبابوے کے راشٹرپتی رابرٹ مگابے نے کہا تھا کہ انہیں بھگوان ہی اقتدار سے ہٹا سکتا ہے۔ انہی مگابے کو منگلوار دیر رات فوج نے تختہ پلٹ کرکے بے دخل کردیا۔ وہ اب گھر میں نظر بند ہیں۔ شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ دنیا کے سب سے عمردراز حکمراں مگابے کا یہ حشر ہوگا۔ جس ملک پر وہ 37 سالوں سے اکیلے راج کرتے آرہے تھے وہاں کی فوج نے انہیں نظر بند کردیا۔ زمبابوے پر اب وہاں کی فوج کا راج ہے اور راجدھانی حرارے کی سڑکوں پر فوج کے ٹینک تعینات ہیں۔ افریقی دیش زمبابوے کی آزادی میں بڑا کردار نبھانے والے رابرٹ مگابے آج اگر اپنے ہی محل میں نظر بند ہیں تو اس کے لئے کافی حد تک وہ خود ذمہ وار تو ہے ہیں ان کا یہ حشر نائک سے کھلنائک بنے دنیا کی کئی ایسی ہی دوسری شخصیات کی یاد دلاتا ہے۔ 
صورتحال یہ ہے کہ آج زمبابوے کے زیادہ تر لوگ مگابے کو ان کے تاناشاہی طور طریقوں کے لئے ہی جانتے ہیں۔ مگابے اور زمبابوے کے اس سیاسی سنکٹ کے لئے مگابے کی بیوی گریسی کو بھی ذمہ دار بتایا جارہا ہے۔ اس کی شروعات ایک ہفتے پہلے ہی ہوگئی تھی جب رابرٹ مگابے نے اپنی پارٹی زانو پی ایف کے دوسرے بڑے لیڈر نائب صدر ایمرسن مننگاگواکو برخاست کردیا تھا۔ دراصل دسمبر میں زانو پی ایف کی سالانہ کانگریس ہونے والی تھی۔اس میں مگابے اپنی پتنی گریسی کو نائب صدر بنانے کا فیصلہ کرنے والے تھے جسے لیکر ایمرسن اور پارٹی نیتا تیار نہیں تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مگابے کے 37 سال سے چلے آرہے اقتدار کے خاتمے کی کہانی خود گریسی مگابے نے تیار کی۔ جولائی 2018 میں زمبابوے میں راشٹرپتی چناؤہونے والے ہیں ،اسے لیکر گذشتہ کچھ وقت سے ملک میں چرچا شروع ہوگئی تھی کہ 93 سال کے رابرٹ مگابے کا اگلا جانشین کون ہوگا؟ مگابے کے اہم حریف تھے نائب صدر ایمرسن مننگاگوا ۔ لیکن مگابے اپنی بیوی گریسی کو کمان سونپنا چاہتے تھے یہ ایمرسن کو کیسے راس آسکتا تھا؟ اس ناراضگی اور فوج کے ذریعے تختہ پلٹ کے بیچ کیا رشتہ ہے اور کیسے یہ سمی کرن بنا اس کی کہانی کچھ دنوں میں سامنے آجائے گی۔ یہ بھی صحیح لگتا ہے کہ مگابے لمبے وقت تک پشچمی ملکوں کی نگاہ میں کھٹکتے رہے ہیں۔ پشچمی ملک انہیں ایک بے رحم حکمراں کے طور سے دیکھتے آئے ہیں۔ جس نے معاشیات کو بربادی کی راہ پر دھکیلا اور اقتدار میں بنے رہنے کے لئے بے ہچک تشدد کا سہارا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی تختہ پلٹ جیسے واقعات پر سخت ردعمل دینے والا پشچمی ممالک فی الحال خاموش ہیں۔ کیا راشٹرپتی عہدے کا اگلا چناؤ جو کہ اگلے سال ہونا ہے اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق ہوگا، کہا نہیں جاسکتا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...