Translater

09 اگست 2025

بہار ووٹر لسٹ پر ٹکراو!

بہار ووٹر لسٹ جانچ یعنی ایس آئی آر کا معاملہ پارلیمنٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک فطری طور پر گرمایاہوا ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں نے بہار میں جاری ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کو لے کر پارلیمنٹ میں اسے ووٹوں کی چوری قرار دیا ہے ۔اور کہا کہ اس موضوع پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کرانا ملک کے مفاد کے لئے ہے۔اور اگر سرکار ایس آئی آر پر بحث کرانے کے لئے تیارنہیں ہوتی تو سمجھا جائے گا کہ وہ جمہوریت اور آئین میں یقین نہیں رکھتی ۔وہیں وزیرپارلیمانی امور کرن رجیجو نے کہا کہ بہار میں ووٹرلسٹوں کے خاص طریقہ پر جانچ (ایس آئی آر) کا اشو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور لوک سبھا کے کام چلانے اور کاروائیوں کے قواعد و اس کی حکمت عملی کے تحت اس مسئلے پر بحث نہیں ہوسکتی ۔ادھر سپریم کورٹ نے خود ووٹر لسٹ کی جانچ کے اشارے دیے ہیں ۔بہار میں نئی ووٹر لسٹ میں قریب 65 لاکھ لوگوں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں اور سپریم کورٹ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں کے نام صحیح ڈھنگ سے کٹے ہیں یا نہیں ؟ بتادیں کہ اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی جانب سے دائر عرضی میں ووٹر نظر ثانی کو چیلنج کیا گیا تھا ۔اسی عرضی کے تحت سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھوار کو چناو¿ کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ تین دن کے اندر چناو¿ کمیشن کو ہٹائے گئے ناموں کی تفصیل پیش کرنی ہے ۔اس کے لئے 9 اگست تاریخ طے کی گئی ہے ۔جسٹس سوریہ کانت ،جسٹس اجول بھوئیاں اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ ووٹر لسٹ میں ہٹائے گئے ووٹروں کی تفصیل دیں ۔ایک این جی او کو بھی دیں ۔بہار میں گہری جانچ پڑتال کے احکامات کو چنوتی دینے والی این جی او اے ڈی آر نے ایک نئی درخواست دائر کی ہے اس میں چناو¿ کمیشن کو ہٹائے گئے 65 لاکھ ووٹروں کے نام شائع کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے ۔اے ڈی آر کا کہنا ہے کہ تفصیل میں یہ بھی ذکر ہو کہ ہٹائے گئے ووٹر مرچکے ہیں یا مستقل طور پر کہیں اور چلے گئے یا کسی دیگر وجہ سے ان کے نام پر غور نہیں کیا گیا ہے ۔بنچ نے این جی او کی جانب سے پیش وکیل پرشانت بھوشن سے کہا نام ہٹانے کی وجہ بعدمیں پتہ چلے کیوں کہ یہ ابھی مسودہ لسٹ ہے ۔اس پر وکیل بھوشن نے دلیل دی کچھ پارٹیوں کو ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست دی گئی ہے لیکن یہ صاف نہیں ہے کہ ووٹر کی موت ہو گئی یا وہ کہیں اور چلے گئے ہیں ۔چناو¿ کمیشن کے وکیل نے کہا یہ ریکارڈ پر لائیں گے ۔یہ جانکاری سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ شیئر کی ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا بی ایل او نے جن کے نام ہٹانے یا نہ ہٹانے کی سفارش کی ان کی فہرست صرف دو چناو¿ حلقوں میں ہی جاری ہوئی ہے ۔ہم اس میں شفافیت چاہتے ہیں اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ کمیشن کے قواعد کے مطابق ہر سیاسی پارٹی کو یہ جانکاری دی جاتی ہے کہ کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کی فہرست مانگی ۔جنہیں لسٹ دی گئی ہے بھوشن نے کہا جن لوگوں کے فارم ملے اس میں زیادہ تر نے فارم ہی نہیں بھرے ہیں اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم یہ یقینی کریں گے کہ جن ووٹروں پر اثر پڑ سکتا ہے انہیں ضروری جانکاری دی جائے ۔اس کے بعد کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اس بارے میں سنیچر تک جواب دینے کی ہدایت دی ۔ساتھ ہی کہا کہ وکیل بھوشن (اے ڈی آر)اسے دیکھیں اور پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا خلاصہ کیا گیا ہے اور کیا نہیں کیا گیا ۔کورٹ نے کہا کہ اے ڈی آر 12 اگست کو ہونے والی سماعت میں دلیلیں دے سکتا ہے بتادیں کہ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر وسیع پیمانہ پر نام ہٹائے گئے تو وہ مداخلت کرے گی ۔سیاسی پارٹیوں کی تشویش جائز ہے لیکن یہ تشویش ہر پارٹی کو ہونی چاہیے ،صرف اپوزیشن پارٹیوں کو ہی نہیں اس میں کوئی دورائے نہیں کہ چناو¿ کمیشن کی جلد بازی کی وجہ سے تنازعہ کھڑا ہو گیا اگر درکار وقت لے کر نظر ثانی کا کام کیا جاتا تو ممکن ہے تنازعہ کی گنجائش نہ ہوتی ۔بہرحال جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ چناو¿ کمیشن سب سچ سامنے رکھے اور ووٹ کا حق ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا ۔اسی حق پر جمہوریت ٹکی ہوئی ہے ۔اگر کوئی سیاسی پارٹی کسی بھی طرح سے بے ایمانی کرکے چناو¿ نتیجہ کو اپنے حق میں کراتی ہے تو دیش کی جمہوریت کی جڑیں کھود رہی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ عزت مآب سپریم کورٹ جو بھارت کے آئین کی سب سے بڑی سرپرست ہے وہ انصاف کرے گی اور غیر جانبدار ہو کر دلائل کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرے گی ۔ (انل نریندر)

07 اگست 2025

بچھنے لگی سیاسی بساط!

نائب صدر جمہوریہ کے چناو¿ کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔پارلیمنٹ کے حالانکہ دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے پارٹی وائز تجزیہ میں حکمراں این ڈی اے کے پاس اپنے امیدوار کو جتانے کے لئے درکار نمبر تو ہے لیکن پھر بھی لگتا ہے اس بار یہ چناو¿ آسان نہیں ہوگا ۔اپوزیشن چیلنج دینے کی تیار میں لگی ہوئی ہے ۔بیشک اپوزیشن چیلنج تو دے سکتی ہے لیکن بغیر بڑی سیندھ کے الٹ پھیر کرنے کی پوزیشن میں نہیں لگتی لیکن سیاسی بے یقینیوں کا کھیل ہے ۔کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نائب صدر کے چناو¿ میں پارٹی لائن پر کوئی وہپ جاری نہیں ہوگا۔ممبران پارلیمنٹ کو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کا حق ہوتا ہے اس لئے ایسے چناو¿ میں کراس ووٹنگ کا بڑا خطرہ بنا رہتا ہے ۔پہلے بات کرتے ہیں حکمراں فریق کی ۔بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں کی بھاجپا چاہے گی کہ نائب صدر کے عہدے کے لئے ایسا امیدوار چنا جائے جو ان کا حمایتی ہو ۔اور سرکار کی لائن پر چلے۔یہ کام جگدیپ دھنکھڑ نے شروع شروع میں بخوبی میں کیا تھا۔یہ بات اور ہے ان کا عہد کا خاتمہ اچھا نہیں ہوا ۔ادھر آر ایس ایس چاہتی ہے جو بھی امیدوار ہو وہ اس کی پسند اور حمایتی ہو وہ سرکار کی لائن پرچلنے والا نہیں ہو ۔ایک نیتا نے کہا کہ پچھلی بار جب دھنکھڑ کو نائب صدر بنایا گیا تھا اس وقت بھی سنگھ پریوا میں اسے لے کر بحث چھڑی ہوئی تھی ۔اس بار تقریباً سبھی مان رہے ہیں کہ آر ایس ایس اپنی آئیڈیا لوجی کو سمجھنے والا امیدوار چاہتا ہے ۔ساو¿تھ انڈیا کی سیاسی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ جب صدر نارتھ انڈیا سے ہے تو کم سے کم نائب صدر بھی ساو¿تھ انڈیا کا ہو ۔اس سے دیش میں اتحاد پیدا ہوگا۔ وہیں یہ جانتے ہوئے کہ بھاجپا کا پلڑا بھاری ہے پھر بھی کانگریس انڈیا اتحاد ایک مشترکہ امیدوار اتارنے کی حکمت عملی پر کام کررہا ہے ۔کانگریس نیتا راہل گاندھی 7 اگست کو ڈنر پر اپوزیشن اتحاد انڈیا اتحاد بلاک کے لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے ۔ذائع کا کہنا ہے پلان بہار یا آندھرا پردیش کے کسی نیتا کو امیدوار بنانے کا ہے جس میں بھاجپا کے دو سب سے بڑے اتحادیوں کی پی ڈی پی اور جے ڈی یو کو الجھن میں ڈالا جاسکے ۔اس چناو¿ کے بہانے کانگریس کی نظر اپوزیشن اتحاد پر قائم کر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اور این ڈی اے کو الجھن میں ڈالنے پر ہے ۔دراصل بھاجپا اپنے دم پر چناو¿ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اسے ہر حال میں اپنے دونوں سب سے بڑے اتحادیوں جے ڈی یو ،پی ڈی پی کی حمایت چاہیے ۔کانگریس کے حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ اگر اپوزیشن کا امیدوار آندھرا پردیش یا بہار سے ہوا تو علاقائی توقعات کے ساتھ توازن بٹھانے کے لئے نتیش کمار یا چندر بابو نائیڈو الجھن میں پڑ جائیں گے ۔آندھرا پردیش کے ہی وائی ایس آر سی پی جن کے راجیہ سبھا میں سات ممبر ہیں اپوزیشن کے ساتھ آسکتے ہیں ۔اگر اس چناو¿ میں ایک بھی اتحادی پارٹی ٹوٹتی ہے تو این ڈی اے میں پھوٹ کا سندیش جائے گا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ بھاجپا میں بھی اس مسئلے پر ایک رائے نہیں ہے ۔آر ایس ایس سے جڑی آئیڈیا لوجی والے بھاجپا ایم پی سنگھ کے کہنے پر اگر امیدوار ان پر بھاجپا ہائی کمان کے ذریعے تھوپا گیا تو وہ کراس ووٹنگ بھی کر سکتے ہیں ۔حالانکہ میری رائے میں یہ مشکل ہوگا ۔لیکن سیاست میں کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا یہ کسی سے چھپا نہیں کہ بھاجپا کے اندر ایک گروپ ایسا بھی ہے جو جس طرح سے جگدیپ دھنکھڑ کو بے عزت کرکے ہٹایاگیا اس سے وہ خوش نہیں ہے ۔سرکار میں اس وقت کانگریس کے جس طرح سے رشتے ہیں اسے دیکھ کر نہیں لگتا اپوزیشن سرکار کے امیدوار کو حمایت کرے گی ۔کانگریس کے ساتھ سرکار کے سینئر وزراءکے رشتے بہت بگڑے ہوئے ہیں ۔سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ سے کانگریس کی مبینہ قربتوں کو لے کر جس طرح سے کہانیاں بنائی گئیں اس سے بھی بھاجپا خوش نہیں ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے اپوزیشن انڈیا اتحاد نائب صدر کے لئے کسی او بی سی یا مسلم نام پر غور کررہا ہے ۔انڈیا اتحاد کے کچھ نیتاو¿ں کی تجویز ہے کہ اپوزیشن کو نائب صدر کاچناو¿ جمہوریت بچانے کی لڑائی کی شکل میں لڑنا چاہیے۔ (انل نریندر)

05 اگست 2025

ایک اور فرنٹ کھلتا نظر آرہا ہے!

امریکہ اور روس کے درمیان ٹکراو¿ بڑھتا جارہا ہے ۔لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب روس کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کی ٹھان لی ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف ٹرمپ زہر اگل رہے ہیں اور یوکرین کے ساتھ جنگ کو ختم کرنے کیلئے دباو¿ ڈال رہے ہیں ۔لیکن پوتن ان کی ایک نہیں سن رہے ہیں ۔ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر سابق روسی صدر میداف پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پوتن اور روس کو دھمکایا ہے ۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سابق روسی صدر دمیتری میداف کی جانب سے بے حد اکسانے والے تبصرون کے بعد وہ نیوکلیائی آبدوزوں کو صحیح جگہ پر تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔بتادیں کہ میداف نے حال ہی میں امریکہ کے خلاف رائے زنی کی تھی یہ ٹرمپ کے اس الٹی میٹم کا جواب تھا جس میں انہوں نے روس سے یوکرین میں جنگ بندی کی مانگ کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس نے ایسا نہیں کیا تو اسے اور سخت پابندیاں جھیلنی ہوں گی۔ٹرمپ نے کہا میں نے یہ قدم اس لئے اٹھایا ہے کیوں کہ ہوسکتا ہے میداف کے تبصرے بیوقوفی بھرے اور بھڑکاو¿ بیان صرف باتیں بھر نہ ہوں الفاظ کی اہمیت ہوتی ہے ۔اور کئی مرتبہ ان کے انجام ان چاہے ہوسکتے ہیں ۔میں امید کرتا ہوں کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا ۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ امریکی بحریہ کی یہ آبدوز کہاں بھیجی گئی ہیں ۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاملہ ان حالات میں شامل نہیں ہوگا یہ فائنل الٹی میٹم ہے۔ روس اور امریکہ دنیا کے دو سب سے بڑے نیوکلیائی ہتھیار کفیل ملک ہیں۔اور دونوں کے پاس نیوکلیائی آبدوزوں کا وسیع بیڑا ہے ۔بتادیں کہ 29 جولائی کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر روس 10-12 دنوں میں یوکرین جنگ ختم نہیں کرتا تو اس پر سنگین اقتصادی پابندیاں اور ٹیرف لگائے جائیں گے ۔امریکہ امن چاہتا ہے لیکن وہ کمزور نہیں ہے ۔اس پر 29 جولائی کو روس کے سابق صدر میداف نے لکھا : نئی ڈیڈ لائن ایک دھمکی ہے اور جنگ کی طرف ایک قدم ہے ۔امریکہ کو انجام بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہیے اگر وہ روس کو اس طرح دھمکاتا رہا ۔ 30 جولائی کو ٹرمپ نے میداف کو ناکام سابق صدر کہتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے الفاظ پر توجہ دینی چاہیے اب بہت خطرناک زون میںداخل ہو رہے ہیں ۔اگلے دن ہی انہوں نے پھر دھمکی دی کہا کہ سویئت دور کا ڈیڈ ہینڈ سسٹم آج بھی سرگرم ہے ۔اگر امریکہ سوچتا ہے کہ وہ ایک طرفہ حکم دے سکتا ہے تو وہ غلط فہمی ہے اس کے بعد ہی جمعہ کو ٹرمپ نے ایٹمی آبدوزوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا ۔پچھلے کچھ دنوں سے جیسے میں نے بتایا ٹرمپ اور میداف سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف شخصی حملے کررہے ہیں ۔یہ سب تب ہورہا ہے جب ٹرمپ نے پوتن کو جنگ ختم کرنے کے لئے 9 اگست کی نئی میعاد حد طے کرکے دے دی ہے لیکن پوتن نے اس کا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ ایسے کرنے والے ہیں ۔بتادیں کہ میداف 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے زبردست حمایتی رہے ہیں ۔وہ مغربی ممالک کے سخت تنقید نگار بھی ہیں صرف چھ دیشوں کے پاس ہی نیوکلیائی طاقت سے لیس آبدوز ہیں یہ دیش ہیں چین ،بھارت ،روس ،برطانیہ ،امریکہ ہیں ۔امید کرتے ہیں کہ امریکہ روس میں بڑھتے ٹکراو¿ رک جائے گا اور کوئی سمجھوتہ ہو جائے گا ۔روس بھی بہت طاقتور دیش ہے وہ آسانی سے جھکنے والا نہیں ہے ۔روس یوکرین سے سمجھوتہ تو کرسکتا ہے لیکن یہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس کی شرطیں یوکرین مانے جو بہت مشکل لگتا ہے ۔امریکہ کا یہاں دہرا کردار نظر آتا ہے ایک طرف تو ٹرمپ یوکرین کو ہتھیار اورپیسہ دے رہے ہیں ۔یوروپ کے دیشوں سے یوکرین کی مددکروا رہے ہیں ۔دوسر ی طرف جنگ بندی کی بات کرتے ہیں اگر دنیا میں کوئی آدمی بے نقاب ہوا ہے تو وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں پھر نوبل ایوارڈ لینے کی اتنی جلدی ہے کہ الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں ۔دھمکیوں پر اتر آئے ہیں لیکن اب دنیا انہیں سمجھ چکی ہے وہ جانتی ہے کہ اندر سے یہ کتنے کھوکھلے ہیں اور شاید ہی اب انہیں کوئی سنجیدگی سے لیتا ہو لیکن روس یوکرین کی جنگ رکنا چاہیے ۔دونوں پوتن اور زیلنسکی کو سنجیدگی سے بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا چاہیے ۔ہزاروں جانیں ضائع ہو رہی ہیں ، روس یوکرین جنگ رکنی چاہیے اگر ٹرمپ رکوا سکتے ہیں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...