Translater

23 مارچ 2013

ستاروں سے سلاخوں تک سنجے دت کی تکلیف دہ کہانی

سپریم کورٹ نے جمعرات کو 1993 کے ممبئی دھماکہ کیس پر اپنا فیصلہ سنایا۔ سبھی کی دلچسپی فلم اسٹار سنجے دت میں تھی۔ عدالت نے سنجے دت کو ہتھیار ایکٹ کا قصوروار مانا ہے۔ ٹاڈا کورٹ نے انہیں 9 ایم ایم پستول اور اے کے۔56 رائفل رکھنے کا قصوروار مانتے ہوئے 6 سال کی سزا سنائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے اسے گھٹا کر5 سال کردیا اور سنجے دت کو چار ہفتے میں سرنڈر کرنے کو کہا گیا ہے۔ سنجے دت ایک مضبوط شخصیت ہیں اور انہوں نے سپریم کورٹ کے ذریعے دی گئی سزا کو جس کے تس قبول کرلیا ہے۔ سنجے کے وکیل ستیش مانے سندھے نے کہا کہ ہم انہیں سزا کے لئے ذہنی طور پر تیار کرچکے ہیں۔ خود سنجے دت کا رد عمل تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے میں جذباتی طور پر تناؤ میں ہوں۔ پچھلے20 برس تک میں نے اسے سہا ہے۔18 مہینے جیل میں بھی رہ چکا ہوں ۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ میں اور درد جھیلوں تو اس کے لئے مجھے مضبوط ہونا پڑے گا۔ آج میرا دل ٹوٹ گیا ہے کیونکہ میرے ساتھ تین بچے اور بیوی اور میرا خاندان سزا بھگتے گا۔ ویسے سنجے دت کے چاہنے والوں کو امید کی ایک کرن دکھائی دے رہی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے منا بھائی کو ساڑھے تین سال جیل میں نہیں رہنا پڑے اگر جیل میں برتاؤ اچھا رہا تو وہ ڈھائی سال میں بھی باہر آسکتے ہیں۔ انڈین پریس کونسل کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ماکنڈے کاٹجو نے مہاراشٹر کے گورنر کے شنکر نارائن سے سنجے دت کو معافی دینے کی اپیل بھی کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سنجے دت کو صرف بغیر اجازت کے ایک نوٹیفائی ایریا میں ہتھیار رکھنے کا قصوروار پایا گیا ہے1993ء بلاسٹ میں شامل ہونے کا نہیں۔لہٰذا آئین کی دفعہ161 کے تحت گورنر کو کم از کم سزا معاف کرنے کا اختیار ہے۔ جسٹس کاٹجو نے قتل کے قصوروار ٹھہرائے گئے کمانڈر ناناوتی کی مثال بھی دی ہے جس میں گورنر نے معافی دے دی تھی۔ انہوں نے کہا سنجے دت کا جرم قتل سے کم سنگین ہے۔ ویسے پچھلے کچھ وقت سے آتنک وادی واقعات کے معاملے میں سپریم کورٹ نے سخت فیصلے کرکے عدلیہ کی طرف سے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اسے سنجیدگی سے لے اور ایسے تمام قدم اٹھائے کے مستقبل میں دہشت گردی نہ پھیلے۔ ہم 1993ء ممبئی دھماکے کے فیصلے کو بھی اس کڑی میں رکھ سکتے ہیں۔ حالانکہ اس کیس کو اپنے انجام پر پہنچنے میں دو دہائی کا وقفہ لگ گیا ہے۔1993ء میں ممبئی میں ایک ساتھ قریب ایک درجن ٹھکانوں پر کئے گئے بم دھماکوں میں نہ صرف 257 لوگوں کی موت ہوئی تھی بلکہ 713 لوگ زخمی بھی ہوئے۔ دھماکہ نے نہ صرف اس شہر اور دیش کو ہلا دیا تھا بلکہ دنیا کو بھی دہلادیا تھا۔ ایسے حملے کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا اور کم سے کم بھارت میں تو بالکل نہیں۔ خود سپریم کورٹ نے اسے دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا خطرناک آتنک وادی حملہ قراردیا تھا۔ جہاں تک ممبئی حملے کے دیگر قصورواروں کو سنائی گئی سزا کی بات ہے تو اس پر کوئی بڑی تشفی نہیں ظاہر کی جاسکتی کیونکہ جنہوں نے سازش رچی وہ سب کے سب نہ صرف بچے ہوئے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ابھی بھارت کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ ان 20 سالوں میں ممبئی پولیس کیا مافیہ عناصر سے نجات پاسکی ہے؟ یہ سوال اس لئے کیونکہ آج بھی مانا جاتا ہے ممبئی حملے کی سازش رچنے والا داؤد ابراہیم ممبئی میں اپنے گرگوں کے ذریعے آج بھی جرائم کی دنیا کا باس بنا ہوا ہے۔ سینئر وکیل ماجد میمن کا کہنا ہے کہ اب سنجے دت کے پاس جیل جانے سے بچنے کیلئے بہت کم متبادل بچے ہیں۔ انہیں سزا کاٹنی ہی ہوگی۔ سنجے دت نظرثانی پٹیشن دائر کرسکتے ہیں لیکن انہیں ضمانت ملنی بہت مشکل ہے۔ مجھے نہیں لگتا کے اس فیصلے کے خلاف بڑی بینچ غورکرے۔ وہیں اسپیشل سرکاری وکیل اجول نکم کا کہنا ہے مجھے بہت خوشی ہے کہ بگھوڑے ملزم ٹائیگر میمن کے بھائی یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا سپریم کورٹ نے برقرار رکھی ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے لئے اب ٹائیگر میمن اور داؤد ابراہیم کو پناہ دینا مشکل ہوگا اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں بیٹھے ہندوستان مخالف عناصر اپنی سازشوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔ دوسری طرف ایسی سازشوں سے بچنے کے لئے ہر سطح پر جیسے بھی قدم اٹھائے جانے چاہئیں وہ ابھی تک نہیں کئے جاسکے۔
(انل نریندر)

سی بی آئی یا کانگریس بیورو آف انویسٹی گیشن

یوپی اے سرکار سے حمایت واپسی کے36 گھنٹوں کے اندر ہی ڈی ایم کے کے قائمقام صدر ایم کے اسٹالن کے چنئی میں واقع گھر پر چھاپہ مارکر س بی آئی نے پہلے سے ہی گرمائی سیاست میں اور گرمی لادی ہے۔ مرکزی حکومت کی رقابتی سیاست کا سندیش جانے سے پریشانی میں پڑے وزیر اعظم منموہن سنگھ وزیر خزانہ پی چدمبرم سے لیکر پورا سرکاری عملہ صفائی دیتا نظر آیا۔ پی ایم نے جہاں اس چھاپے کے وقت کو افسوسناک قراردیا وہیں چدمبرم نے ساری مریادائیں توڑتے ہوئے چھاپوں کی مذمت کردی۔ اتنا ہی نہیں سرکار کی طرف سے سی بی آئی کے چھاپوں کے پیچھے سازش کاا ندیشہ جتایا جارہا ہے۔ اس پورے ڈرامے کے دو اہم کردار ہیں کانگریس پارٹی اور سی بی آئی۔ پہلے تو ہم سی بی آئی سے پوچھنا چاہیں گے کے وہ ان گاڑیوں کی ٹیکس چوری معاملے میں ملوث کیوں ہوئی؟ کیا سی بی آئی کے پاس اور کوئی کام نہیں بچا کے اب وہ گاڑیوں کی برآمد میں ٹیکس چوری کے معاملے میں بھی چھاپے مارنے لگی ہے؟ ویسے بھی سی بی آئی کی کارگزاری تسلی بخش نہیں۔ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی راجا بھیا معاملے میں سی بی آئی ابھی تک کچھ نہیں کرسکی۔ دراصل سی بی آئی کا ہوا دکھا کر حکمراں پارٹی اپنے سیاسی مفاد کی تکمیل کرتی ہے۔ رہا سوال کانگریس کا تو اپنی طرف سے اس نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلا نشانہ ڈی ایم کے ہے دیکھو ہم سے حمایت واپس لینے کی سزا کے لئے تیار رہو۔ دوسری ان باقی اتحادی پارٹیوں بسپا، سپا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر تم نے الگ ہونے کی جرأت کی تو نتیجہ بھگتنے کے لئے تیار رہنا۔ میری رائے میں کانگریس حکمت عملی سازوں کی عقل خراب ہوچکی ہے۔ کانگریس’’ وناش کالے وپرت بدھی‘‘ کہاوت چل رہی ہے۔ اس سال 9ریاستوں میں چناؤ ہونا ہے جن میں یہ ہونے ہیں ان میں تاملناڈو، آندھرا پردیش شامل ہیں۔ کانگریس اب تک ڈی ایم کے ، ٹی آر سی اور ترنمول کانگریس سے مل کر چناؤ لڑتی رہی ہے۔ آج کانگریس سے یہ تینوں نہ صرف ناراض ہیں بلکہ وہ اب کانگریس سے گٹھ جوڑ کر چناؤ بھی نہیں لڑیں گی۔نتیجہ یہ ہوگا کہ ان ریاستوں میں کانگریس کو اکیلا لڑنا پڑے گا۔ دراصل کانگریس کی یہ ریپوٹیشن بنتی جارہی ہے کہ ضرورت پڑنے پر باپ بنا لیتی ہے اور کام نکلنے پر اسے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر پھینک دیتی ہے۔ ایسا برتاؤ کرتی ہے ۔ آج لالو پرساد یادو جیسے سب سے بھروسے مند اتحادی کا کیا حال ہے؟ چار ممبران کے باوجود آر جے ڈی کا ایک بھی وزیر مرکزی کیبنٹ میں شامل نہیں ہے۔ آندھرا میں جگن ریڈی ایک مضبوط ستون تھے لیکن اسے سی بی آئی نے کیسوں میں پھنسا کر ایسا دشمن بنا لیا ہے کہ اس نے بھی قسم کھا لی ہے کہ آندھرا میں کانگریس کا صفایا کرکے ہی دم لیں گے۔ کبھی جنوبی ہندوستان کانگریس کا مضبوط گڑھ مانا جاتا تھا آج کانگریس کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔ رہی سہی تصویر اسمبلی چناؤ میں نظر آجائے گی۔ ٹی آر ایس کو تحریری طور پر دے کر اسمبلی چناؤ میں تو ان کا پورا فائدہ اٹھا لیا لیکن کام ہوتے ہی لات مار کر باہر کردیا۔ آج کانگریس پر کسی بھی اتحادی کو بھروسہ نہیں رہا۔ شرد پوار اپنا الگ کھیل کھیل رہے ہیں۔ کانگریس اتحاد دھرم کو نبھانے میں بری طرح فیل ہوگئی ہے۔ تبھی تو رام گوپال یادو نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی اتحادی حکومت نے گٹھ بندھن دھرم بہتر طریقے سے نبھایا تھا۔ این ڈی اے اتحاد اور یوپی اے اتحاد سے کہیں بہتر تھا۔ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس جاری ہے اور کئی اہم بل پاس کرانے ہوں گے ان حالات میں منموہن سنگھ سرکار انہیں کیسے پاس کرائے گی یہ الگ مسئلہ ہے۔ اسٹالن پر سی بی آئی کا چھاپہ کہیں یوپی اے سرکار کے تابوت میں آخری کیل کا کام نہ کردے؟ اگر آج سی بی آئی کو کانگریس بیورو آف انویسٹی گیشن یا کانگریس بچاؤ انسٹیٹیوٹ کہہ کر مخاطب کیا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
(انل نریندر)

22 مارچ 2013

جو بادل گرجتے ہیں برستے نہیں دھمکی کم بھپکی زیادہ

یہ تو ہونا ہی تھا ۔ تاملناڈو میں جس طرح کی سیاست جاری تھی اس کے بعد ڈی ایم کے کا مرکزکی یوپی اے حکومت سے حمایت واپس لینا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہ پہلی بار نہیں جب ڈی ایم کے نے یوپی اے سرکار کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہو۔ پچھلی بار قریب آدھا درجن حمایت واپسی کی دھمکیوں کی طرح اس بار بھی حکومت کے سنکٹ موچکوں کو لگتا ہے کہ آخر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا ۔ ویسے بھی سپا بسپا اکثر اس حکومت کی بے ساکھی بننے کے لئے آگے رہتی ہیں۔ اس لئے اسے دھمکی کم بھپکی زیادہ مانا جانا چاہئے۔ سماجوادی پارٹی کے رام گوپال یادو کا صاف کہنا ہے کہ ڈی ایم کے ناٹک کررہی ہے۔ہاں اتنا ضرورہے کہ اتحاد پر چلنے والی منموہن سنگھ کی یہ یوپی اے سرکارتھوڑے دباؤ میں ضرور آگئی ہے۔ اس کی اہم اتحادی جماعت ڈی ایم کے نے سری لنکا میں تملوں پر ہونے والے مظالم کے اشو پر سرکار کے ٹال مٹول رویئے کے خلاف اس سے ناطہ توڑ لیا ہے۔ دراصل سری لنکا میں تملوں کی بدحالی کا مدعا تاملناڈو میں اکثریتی تملوں سے سیدھے جذباتی طور سے جڑا ہے۔ پچھلے سال خوردہ سیکٹرمیں ایف ڈی آئی کو منظوری دینے کے مسئلے پر سرکار نے ناطہ توڑ لینے والی ترنمول کے بعد یہ دوسرا موقعہ ہے جب یوپی اے سرکار کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ نمبروں کی طاقت کے نقطہ نظر سے کانگریس بیشک جوڑ توڑ کر فوری طور پر عائد خطرے کو ٹال دے لیکن اقتصادی اصلاحات سے متعلق اس کے فیصلوں اور کچھ انتہائی اہمیت کے حامل قانون پاس کروانے میں بڑا فرق پڑنا طے ہے۔ لوک سبھا میں ڈی ایم کے کے 18 ممبر ہیں۔ سپا۔ بسپا کی وجہ سے یہ سرکار بچ جائے گی۔ دراصل پچھلے کچھ عرصے سے تملناڈو میں جس طرح کی سیاست چل رہی تھی اس سے دیش کی خارجہ پالیسی پر ایک غلط قسم کا دباؤ بن رہا تھا۔ تملناڈو میں سرکار بناتے ہی ڈی ایم کے نیتا جے للتا نے اسمبلی میں پرستاؤ پاس کرواکر مرکزی سرکار سے اپیل کی کے سری لنکا پر اقتصادی پابندی لگائی جائے اور اس کے بعد انہوں نے سری لنکا کے کھلاڑیوں کو مقابلے میں حصہ لینے کے لئے تملناڈو بھی نہیں آنے دیا۔ ابھی تک تملناڈو کی کئی چھوٹی پارٹیاں جذبات کو بھڑکانے کے لئے جو مطالبات اٹھاتی رہی ہیں انہیں جے للتا سرکار نے پورا کرنا شروع کردیا ہے۔ ایسے میں ڈی ایم کے کی بھی یہ مجبوری ہوگئی ہے وہ کوئی ایسا بڑا قدم اٹھائیں جسے تمل مفادات کے لئے دی گئی قربانی کی طرح جنتا کے سامنے پیش کیا جاسکے اور یہ موقعہ اسے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل میں سری لنکا کے خلاف آئے امریکی پرستاؤ نے اسے دے دیا۔ ڈی ایم کے چیف کروناندھی جو شاطر سیاستداں مانے جاتے ہیں ایسے بلیک میلنگ کے موقعے تلاشتے رہتے ہیں۔ ایک طرف تو مرکزی سرکار کو بلیک میل کر کچھ اقتصادی و دیگر قدم اٹھائیں دوسری طرف کانگریس کو یہ بھی اشارے دے رہے ہیں کہ تملناڈو اسمبلی چناؤ اس بار وہ اکیلے لڑنے کے موڈ میں ہیں۔ کانگریس سے کوئی اتحاد نہیں کریں گے۔ بسپا اور سپا تو سودے بازی کے لئے مشہور ہے۔ انہیں اس سرکار کی دکھتی رگ ہاتھ آنی چاہئے، بس پھر کیا؟ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ڈی ایم کے کے یوپی اے سرکار سے ہٹتے ہی کانگریس کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ حمایت واپسی کے بعد پہلے ہی دن کانگریس صدر سونیا گاندھی کو سپا چیف ملائم سنگھ یادو کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ ملائم سنگھ کو کوسنے والے بینی پرساد ورما کو شارے عام معافی مانگنی پڑی۔ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کو الگ راگ الاپنے والی اتحادی پارٹی این سی پی چیف شرد پوار کی منت کرنی پڑی اور تمل مسئلے پر آل پارٹی بلانے پر مجبور ہونا پڑا۔ پہلے ہی دن اتنی ذلت جھیلنے کے بعدبھی کانگریس نہیں جانتی کہ وینٹی لیٹر پر آچکی منموہن سنگھ سرکار اب کتنے دن اور چلے گی۔ اب مرکز کی کانگریس سرکار پوری طرح سے باہری حمایتیوں پر منحصر ہے ، خاص طور پر سپا کی مہربانی پر ہی اسکا وجود ٹکا ہے اور کسی کو یہ پتہ نہیں کے ملائم یا مایاوتی کب بیساکھی کھینچ لیتے ہیں۔
(انل نریندر)

پاک پرستاؤ، شرارت کی انتہاہوگئی

آتنک واد کو لیکر ٹال مٹول والا رویہ اختیارکرنے کے الزام پاکستان پر لگتے رہے ہیں۔ جب بھی دہشت گرد جماعتوں کو پاکستان سرکار و فوج سے مدد ملنے کی بات کہی گئی ہمیشہ پاکستان کی جانب سے یہ ہی دلیل پیش کی جاتی ہے کہ ان جہادی گروپوں کا سرکاری سسٹم سے کوئی لینا دینا نہیں اور جو بھی آتنک ہو رہا ہے وہ نان اسٹریٹ ایکٹر کررہے ہیں۔ لیکن اب تو پاکستان کی پارلیمنٹ خودایک دہشت گرد کی حماییت کررہی ہے۔ گذشتہ ہفتے پاکستان نیشنل اسمبلی نے ایک ریزولیوشن پاس کر افضل گورو کو پھانسی دئے جانے کی مذمت کی ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان کی کئی تنظیمیں افضل گورو کو پھانسی دینے پر ناراضگی جتا چکی تھیں۔ یہ ہی نہیں اسمبلی نے یہ بھی مطالبہ کرڈالا کے اس کی لاش کو اس کے گھروالوں کو سونپا جائے۔ افضل گورو ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کا گنہگار تھا۔ سالوں جیل میں بند رہا اور آخر میں کہیں سے معافی نہ مل پانے کے سبب اسے پھانسی دی گئی۔ وہ بھارت کا شہری تھا۔ بھارت میں جتنے بھی دہشت گرد حملے ہوئے اس کے تار پاکستان سے سیدھے جڑتے تھے لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس سے انکار کیا۔ اب جب پارلیمنٹ جیسی دیش کی آئینی سرداری کی علامت پر حملے کے ایک گنہگار کو باقاعدہ برسوں مقدمے کے بعد سزا سنائی گئی تو پاکستان کو اعتراض کیوں؟ بدقسمتی کا پہلو یہ بھی ہے کہ افضل گورو کی پھانسی کی مذمت کا ریزولیوشن پاکستان کی پارلیمنٹ میں پاس ہوا، جو وہاں کے پورے عوام کی نمائندگی کرنے والا آئینی ادارہ ہے۔ کیا اس کا مطلب ہم یہ نکالیں کے پاکستان کی پوری عوام کی نمائندگی کرنے والا یہ ادارہ اسلامی دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے؟یقینی طور سے یہ بھارت کی اندرونی و خود مختاری کے معاملوں میں صریحاً مداخلت ہے۔پاکستان آخر ایک ہندوستانی شہری اور سپریم ادارے عدلیہ کے فیصلے کی مذمت کے لئے اپنی پارلیمنٹ میں ریزولیوشن کیسے پاس کرسکتا ہے؟ پاکستان نیشنل اسمبلی میں پاس ریزولیوشن جمعیت علمائے اسلام کے چیف مولانا فضل الرحمان نے پیش کیا تھا، جو کشمیر پر وہاں کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ اس ریزولیوشن میں افضل کی پھانسی کی مذمت کرنے کے ساتھ ہی اس پھانسی کے چلتے کشمیر میں پیدا ہوئی حالت پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس پر بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اسمبلی میں یہ پرستاؤ سرینگر کے باہری علاقے میں ہوئے سی آر پی ایف کیمپ پر فدائی حملے کے ایک روز بعد پاس ہوا۔ دونوں واقعات میں کوئی رشتہ ہو یا نہ ہو لیکن صاف ہے کہ پاکستان پارلیمنٹ کی دلچسپی کشمیر مسئلے کو اچھالے رکھنے میں ہے اور اس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جانے میں کوتاہی نہیں کرے گی۔ ہندوستانی پارلیمنٹ نے جمعہ کو اتفاق رائے سے ایک پرستاؤ پاس کر پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ پالریمنٹ مانتی ہے یہ ریزولیوشن بھارت کے اندرونی معاملوں میں پاکستان کے ذریعے سیدھی مداخلت ہے جس کو قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر اور پاک مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ حصہ بتایا۔ہندوستانی پارلیمنٹ کے ذریعے اٹھایا گیا یہ قدم اپنے دیش کی سرداری کو بچائے رکھنے کی صرف ایک’’زبانی‘‘ کوشش ہے۔ مگر پاکستان نے جو کیا وہ بھارت کی سرداری پر سیدھا حملہ ہے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اس لئے ضروری ہے کہ بھارت اب پاکستان کے خلاف کچھ سخت قدم اٹھائے۔ بھارت کو پاکستان سے ہر طرح سے رشتوں پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ یہاں تک کہ پاکستان سے تجارتی تعلق بھی ختم کرنے پر سوچا جائے۔ کھیل مقابلے ، پاکستانی گلوکاروں پر بھی پابندی فوراً لگنی چاہئے۔ پاکستان کو ایک بار سمجھانا ضروری ہے کہ وہ بھی اپنے نظریئے پر غور کرے۔ بھارت پاک باہمی رشتے تبھی لائن پر آسکتے ہیں جب پاکستان بھارت کے خلاف زہر اگلنے بند کرے۔ ورنہ لچیلہ پن نہ صرف ہماری سکیورٹی فورسز کا حوصلہ گرائے گا بلکہ دہشت گردوں کا حوصلہ بھی بڑھائے گا۔ یہ دیش کی سلامتی کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔
(انل نریندر)

21 مارچ 2013

تمل مسئلے پر بری پھنسی یوپی اے سرکار ادھر کنواں تو ادھر کھائی

تملناڈو کی سیاسی پارٹیوں کی سیاسی فائدہ اٹھانے کی دوڑ نے سری لنکائی تملوں کے مسئلے پر ریاست میں جذباتی ماحول بنا دیا ہے۔ خود کوتملوں کا ہتیشی ظاہرکرنے کے جتن میں ڈی ایم کے نے مرکزی سرکارسے حمایت واپس لے کر یوپی اے ۔II کو زبردست بحران میں ڈال دیا ہے۔ دراصل اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل میں سری لنکا کے خلاف امریکی ریزولیوشن پچھلے سال کی بہ نسبت مشکل ہوسکتا ہے جس میں سری لنکا میں خانہ جنگی کی جانچ کی مانگ بین الاقوامی کمیشن میں ہوسکتی ہے۔ پچھلے برس کے ریزولیوشن میں 26 سال سے چلی آرہی سری لنکائی تملوں کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد سری لنکا میں اس کے نفع نقصان کیلئے جوابدہ بنانے پر زور دیا گیا تھا جس کے حق میں بھارت کو ووٹ ڈالنے میں کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی لیکن ابھی یوپی اے کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے اور تملناڈو میں حکمراں انا ڈی ایم کے جس طرح سے سرکار پر دباؤ بنا رہی ہیں اس سے اس کی مشکلوں کو سمجھا جاسکتا ہے۔ کروناندھی چاہتے ہیں کہ بھارت ترمیمی ریزولیوشن لائے اور اس میں تملوں کے قتل عام کے لئے سری لنکائی فوج اور انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ چار برس پہلے راج پکش کی حکومت میں لبریشن ٹائیگرز کے خلاف جارحانہ مہم چلائی تھی جس میں ہزاروں بے قصور تمل مارے گئے تھے۔ اس مہم میں جنگ کی منظوری کے تقاضوں کو بھی لانگ دیا گیا تھا۔ اس کا ایک ثبوت حال ہی میں چینل 4 کے ذریعے جاری ان تصویروں میں نظر آیا جس میں دکھایا گیا تھا کے پربھاکرن کے 12 سال کے بیٹے کو کس طرح سے قریب سے گولی مار دی گئی تھی۔ سری لنکا میں تملوں کی حالت پورے دیش میں تشویش کا باعث ہے۔ بہتر ہوتا کے تملناڈو کی ساری سیاسی پارٹیاں مرکز کے ساتھ بیٹھ کر دیش کا ایک یکساں موقف اپناتیں لیکن یہاں تو تمل ہتیشی بننے کی دوڑ لگی ہوئی ٹھیک ہے کہ ہندوستانیوں کے مفاد کی پرواہ بھارت سرکار کو کرنی چاہئے اور ان کے حق میں آواز اٹھانی چاہئے لیکن دوسرے دیش کے معاملے میں کافی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوتا ہے۔ صاف ہے کہ منموہن سنگھ سرکار کے سامنے سخت پریشانی ہے لیکن کوئی ذمہ دار حکومت بھیڑ کی ذہنیت کی رو میں نہیں بہہ سکتی جسے بھڑکانے کی کوشش میں تملناڈو کی پارٹیاں شامل دکھائی پڑتی ہیں۔ خارجہ پالیسی سے متعلق قدم میں کئی داؤ پیچ ہوتے ہیں جن پر دور رس نقطہ نظر اور قومی نفع نقصان کی دور رس پالیسی اپنانی پڑتی ہے۔ کسی مختار دیش کے اندر بین الاقوامی مداخلت کی کس حد تک گنجائش ہو یہ پیچیدہ سوال ہے۔ انسانی حقوق بنام قومی سرداری ایسا اشو ہے جس میں قلیل نقطہ نظر اور دوررس مفاد کی بنیاد پر رخ طے کرنے میں طویل وقت بھارت کو بھاری پڑسکتا ہے۔اس سلسلے میں یہ حقیقت بھی کم اہم نہیں کے چین ، روس، پاکستان ، ایران جیسے ملکوں نے سری لنکا کی حمایت لی ہے پھر بھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ باہمی رشتوں میں فیصلے صرف سیاسی مفادات کو ذہن میں رکھ کر نہیں لئے جاتے۔ویسے بھی ماضی میں لبریشن ٹائیگرز کو لیکر غلطیاں کم نہیں ہوئیں جس کا خمیازہ ہمیں راجیو گاندھی کے بے رحمانہ قتل کی شکل میں بھگتنا پڑا تھا۔ پھر بھی بھارت کو دھیان رکھنا چاہئے کہ ہند برصغیر میں چین کی بڑھتی دلچسپی اور سری لنکا کے ساتھ اس کی قربت ہمارے دوررس مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پھر ہم پرانے دشمن پاکستان کو کیوں بھولتے ہیں جو سری لنکا کو برابر اکسارہا ہے اگر بھارت نے امریکی ریزولیوشن کی حمایت کی تو وہ سری لنکا اقوام متحدہ میں اور دیگر بین الاقوامی اسٹیج پر کشمیر کا اشو اٹھا دے۔ ایسی ایک بانگی ہم مالدیپ میں دیکھ رہے ہیں۔ آج حالت یہ ہے کہ بھارت غلط اور ٹال مٹول والی خارجہ پالیسی کے سبب تمام پڑوسی ملک نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا ، پاکستان ہم سے ناخوش چل رہے ہیں۔ یقینی طور سے خارجہ پالیسی سے متعلق کچھ مسئلے ایسے ہوتے ہیں جن پر علاقائی پارٹیوں کو بھروسے میں لینا ضروری ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے دباؤ کے آگے جھک جائیں۔ ڈی ایم کے کا دباؤ تو ایک طرح سے بلیک میلنگ ہے اور اس کا مقابلہ کیا جانا چاہئے لیکن یوپی اے ۔II کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ دباؤ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ اس بار بھی حالت انتہائی تشویشناک ہے سرکار کے لئے ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔
(انل نریندر)

بینی پرساد بنام ملائم سنگھ یادو نشانے پر اقلیتی ووٹ

مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما جیسے دوست ہوں تو کانگریس کو دشمنوں کی کیا ضرورت۔ ایک طرف تو کانگریس کے نوجوان نائب صدر راہل گاندھی بے قصور مسلمان لڑکوں کو دہشت گردی میں زبردستی پھنسانے کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں وہیں بینی پرساد سماج وادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو کو آتنک وادیوں کا حمایتی بتا رہے ہیں۔ بینی پرساد میں گونڈہ میں ایک ریلی میں کہا کہ ملائم سنگھ مبینہ غنڈے ہیں اور آتنک وادیوں کے حمایتی ہیں۔ میں ملائم سنگھ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ کمیشن کھاؤ پریوار کو کھلاؤ لیکن بینی پرساد ایسا نہیں چلے گا۔ یہ پہلی بار نہیں جب بینی بابو کے بیان سے کانگریس کو نقصان پہنچا ہو۔ پچھلے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں بھی ان کے متنازعہ بیانات سے پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا۔ رہی ان کی یوپی میں حیثیت کی ، وہ تو اسمبلی چناؤ میں اپنے بیٹے کی ضمانت تک نہیں بچا سکے۔ بینی پرساد نے ملائم کے خلاف ایسا بیان آخر کیوں دیا؟ ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ بینی بابو گونڈہ سے چناؤ لڑتے ہیں یہاں مسلم سیاست زوروں پر چلتی ہے۔ گونڈہ میں بریلوی فرقے کا دبدبہ ہے۔ بریلوی مسلمان اور مسلمانوں میں شیعہ گروپ ،دیوبندیوں کو پسند نہیں کرتے۔ جہاں بینی بابو کا متنازعہ بیان ہے وہیں ملائم سنگھ سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ اور آپ کی حکومت ان مبینہ بے قصور مسلم لڑکوں کو جیل سے چھڑانے کی مہم کیوں چلا رہے ہیں؟ آپ قانونی عمل میں کیوں دخل اندازی کررہے ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے صاف کہا ہے ملزم بے قصور ہے اس کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے ملائم یا یوپی سرکار کو نہیں۔ ان حالات میں اگر ملائم سنگھ کو آتنک وادیوں کا حمایتی بتایا جائے تو اس پر اتنی ہائے توبہ کیوں؟ وزیر پارلیمانی امور کملناتھ اور کانگریس ترجمان راشد علوی کے افسوس جتانے کے بعدبھی ملائم سنگھ یادو ناراض ہیں۔ اس بار وہ ہتھیار ڈالنے کے موڈ میں دکھائی نہیں پڑتے۔ انہوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی تک اپنی شکایت پہنچا دی ہے جواب کا انتظار ہورہا ہے۔ سماجوادی پارٹی اس بار آر پار کی لڑائی کے موڈ میں لگتی ہے۔ دراصل کچھ کانگریسیوں کا خیال ہے کہ بینی نے ترپ کا پتتا چل کر ملائم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اترپردیش میں بابری مسجد گرائے جانے کے ملزمان میں سے ایک سابق وزیراعلی کلیان سنگھ کو سماجوادی پارٹی میں شامل کرنے کو بنیاد بنیا ہے۔ اسے کریدنے پر یوپی کا مسلمان بھی چڑھ جاتا ہے۔ کانگریسیوں کا خیال ہے کہ اس سے مسلمان ملائم سے دور ہوسکتے ہیں۔ سارا کھیل ہی اقلیتی ووٹوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ اس سیاسی لڑائی میں مسلمان استعمال ہورہا ہے۔ بھارت کے سپریم آئینی ادارے لوک سبھا کو گھسیٹا جارہا ہے۔ دیش کی اقتدار اعلی اور سرداری کی علامت پارلیمنٹ کو تماشہ گھر بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

20 مارچ 2013

مودی سرکار کی اچھی انتظامیہ کے جواب میں نتیش کا ہندوستانی ماڈل

دہلی کی سڑکیں ایتوار کی صبح ایسے ہی بہاریوں سے لبا لب تھیں۔ جنتا دل (یو) کے جھنڈے تلے اور نتیش ۔ شرد کے کٹ آؤٹ کے ساتھ بسوں سمیت تمام گاڑیوں پر لدے اور پیدل مارچ کرتے بہار کے لوگوں کا ایک ہی نعرہ تھا’’ہمیں بھیک نہیں ادھیکار چاہئے، خصوصی ریاست کا درجہ چاہئے‘‘ سبھی لوگوں کے قدم رام لیلا میدان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ قریب ساڑھے بارہ بجے نتیش کمار رام لیلا میدان میں اسٹیج پر پہنچے۔ کچھ دیر بعد جنتا دل (یو ) کے قومی صدر شرد یادو آگئے۔ رام لیلا میدان میں جنتا دل(یو) کی ادھیکار ریلی دراصل پہچان و خواہشات اور سودے بازی کی ریلی رہی۔ یہ سب ہوا بہار کو آگے بڑھانے کا حق دلانے کی خاطر۔ حالانکہ اس میں نتیش کمار کا نجی ایجنڈابھی شامل تھا۔این ڈی اے کے مرکز پر کھڑے دو وزیر اعلی نے ترقی کے اپنے اپنے ایجنڈے پیش کر 2014ء میں لیڈر شپ کے لئے اپنی اپنی بے اعلان دعویداری پیش کردی ہے۔ نریندر مودی نے اپنے گجرات کے کم سرکار کے زیادہ بہتر انتظامیہ کے وکاس ماڈل کو دیش کے لئے سب سے اچھا ماڈل قراردیا ہے۔24 گھنٹے کے اندر ہی نتیش کمار نے پچھڑی ریاستوں کو وکاس کی قومی دھارا میں لانے والے کثیر ڈولپمنٹ ماڈل کو اصلی ہندوستانی ماڈل بتاکر مودی سے بری لکیر کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ سیاسی داؤ پیچوں میں مودی ماڈل کو این ڈی اے سے باہر تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ ہوسکتی ہے لیکن نتیش نے زیادہ تر ریاستوں کی دکھتی رگ کو چھوکر این ڈی اے کے باہر اپنی پہنچ بنانے کی کوشش کی ہے۔ دہلی کے اپنے پہلے بڑے سیاسی شو میں نتیش کمار نے کھلے متبادل کے ساتھ مستقبل کی سیاست کے تجزیئے بھی رکھ دئے۔ انہوں نے کانگریس کے خلاف تو کچھ نہیں بولا لیکن پچھڑی ریاستوں کی وکالت کر اپنے لئے نئے دوست ضرور تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پٹنہ کے گاندھی میدان میں خاص ریاست پر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے بعد دیش و مرکز کو دلیل اور طاقت کا احساس کرانا تھا۔اس کے لئے فطری طور پر کوچ دہلی ہی ہونا تھا۔ اپنے صوبے کے لئے خصوصی ریاست کا درجہ مانگنے کی آڑ میں درپردہ طور سے وہ دہلی میں مرکز کی سرکار کو چنوتی دے گئے۔ نتیش نے کہا اگر دہلی میں بسے پسماندہ علاقوں کے تمام لوگ متحدہ ہوجائیں تو دہلی انہیں پسماندہ لوگوں کی ہوگی۔ دہلی میں بہار اور پوروانچل واسیوں کی بھاری تعداد کے بوتے جنتا دل(یو) نے دہلی اسمبلی چناؤ میں بھی اپنی مضبوط دعویدار پیش کردی ہے۔ نتیش نے کہا دہلی میں رہ رہے بہار کے40 لاکھ ووٹر دہلی کے اقتدار میں اہم کردار نبھانے کے حقدار ہیں اس کے بوتے پر انہوں نے اس سال کے آخر میں ہونے والے دہلی اسمبلی چناؤ میں جنتادل (یو) کے امیدواروں کو بھی اتارنے کا اعلان کردیا۔ نریندر مودی کو لیکر نتیش کمار کی اپنی نا اتفاقی رہی ہے جس کے سبب کئی بار جنتادل(یو) اور بھاجپا کے رشتے ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچ گئے لیکن دونوں نے ہی ہوشیاری سے دوستی کو برقرار رکھا۔ ایتوار کی ریلی میں نتیش نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا جس سے لگے کہ وہ این ڈی اے سے الگ ہونے کا ارادہ بنا رہے ہیں۔ ادھیکار ریلی کے بعد دیش کی سیاست میں نئے تجزیوں کا آغاز ہوگیا ہے یعنی جنتادل(یو) پر کانگریس ڈورے ڈال سکتی ہے لیکن کانگریسی لیڈروں نے نتیش کو خصوصی ریاست کے اشو پر سیاست نہ کرنے کی جس انداز میں نصیحت دی اس سے انہیں سیاسی پس منظر بدلنے کی قیاس آرائیاں شروع ہوجائیں گی۔ ساتھ چھوڑتے ساتھیوں سے پریشان یوپی اے بھی درجہ ملنے پر دوست بنانے کو تیار ہے۔نتیش کا ساتھ پانے کیلئے مرکز جھکنے کی بے وقوفی کیوں کرے گا جو نریندر مودی کی بڑھتی مقبولیت کے چلتے بھاجپا سے پیچھا چھڑانے کے صحیح موقعہ کی تلاش میں ہے تو ان دونوں موقعوں کا میل بھی ہوسکتا ہے۔ ریلی میں نتیش کی منشا پر بھی کچھ سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ 
کیا بہار کے وقار اور ڈولپمنٹ کا ٹھیکا اکیلے ایک ہی حکمراں پارٹی کا ہے؟ جنوب مغربی ریاستوں سے سبق لیتے ہوئے سبھی پارٹیوں کو اسٹیج پر لاکر اچھی باتیں اور بھی زور دار طریقے سے کہی جاسکتی تھیں۔ یہ مشکل بھی ہے تو اس اتحادی بھاجپا کی نمائندگی کیوں نہیں کروائی گئی جس کے ساتھ نتیش 7 سال سے حکومت چلا رہے ہیں؟ ریاست کی ساکھ اور ترقی اور پہچان بنانے کا اس کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کے بغیر نتیش کی کوشش اپنے ہی گھیرے میں قومی سطح پر مودی کا متبادل ہونے کی نجی خواہشات زیادہ لگتی ہے۔
(انل نریندر)

جھکی حکومت!رضامندی سے سیکس کی عمر 18 سال ہی رہے گی

مختلف سیاسی پارٹیوں، کانگریس کے اندر اور سماجی تنظیموں کی سخت مخالفت کو دیکھتے ہوئے حکومت رضامندی سے جنسی تعلقات بنانے کی عمر18 سال برقرار رکھنے پر راضی ہوگئی ہے۔ آل پارٹی میٹنگ کے بعد مرکزی کیبنٹ نے رضامندی سے جنسی رشتوں کی عمر 16سال کے بجائے18 سال ہی کرنے کا فیصلہ برقرار رکھنے کے لئے منظوری دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بل میں گھورنا، عورتوں کا پیچھا کرنا اور فحاشی اشارے کرنے کے ملزمان کو اب آسانی سے ضمانت مل جائے گی۔ ان تبدیلیوں کے ساتھ حکومت نے منگل کے روز مہلا سرکشا قانون ترمیم بل لوک سبھا میں پیش کردیا ہے۔عورتوں کے ساتھ بدفعلی کے معاملے میں سخت سزا والے آرڈیننس کی دفعات کو جاری رکھنے کے لئے اس بل پر اسی ہفتے پارلیمنٹ کی مہر لگنا ضروری ہے۔ امید ہے اس کو پاس کردیا جائے گا۔ آل پارٹی میٹنگ میں بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا سمیت سرکار کی کئی اتحادی پارٹیوں نے شادی کی عمر کے مقابلے رضامندی سے جنسی رشتوں کی عمر کم کئے جانے پر اعتراض جتایا تھا۔ یہ ہی نہیں پارٹیوں کو پریشانی تھی کہ چناوی برس میں اس بل کی سخت دفعات کا جم کر بیجا استعمال ہوسکتا ہے۔ خاص کر پیچھا کرنے، فحاشی حرکتیں کرنے جیسے الزامات میں پانچ سال کی سزا اور ضمانت نہ ہونے جیسی شقوں کا مس یوز ہونے کا اندیشہ تھا۔ مختلف پارٹیوں کے اعتراض کو دیکھتے ہوئے ان دفعات کے ساتھ بل کو پاس کرانا آسان نہیں تھا اسی وجہ سے حکومت نے بل میں ضروری ترمیمات کردیں۔ 
دراصل متعلقہ بل کو اسی ہفتے میں پارلیمنٹ میں پاس کرانا ضروری تھا کیونکہ فروری میں جاری کردہ آرڈیننس کی میعاد 4 اپریل کو ختم ہورہی ہے۔ پارلیمنٹ کا موجودہ اجلاس 22 مارچ کے بعد ایک مہینے کی چھٹی ہوجائے گی اس لئے اسی ہفتے اس بل کا پاس ہونا ضروری ہے۔صدر پرنب مکھرجی کے ذریعے 3 فروری کو جاری مجرمانہ قانون (ترمیم ) آرڈیننس میں ملزم پر خود کو بے قصور ثابت کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی۔ نئے بل میں یہ کسی خاتون کو پبلک مقام پر برہنہ کرنے سے متعلق دفعات میں ترمیم کر اب پبلک مقام لفظ ہٹا دیاگیا ہے اور اس کی جگہ کسی جگہ لکھ دیا گیا ہے۔ اسی طرح آبروریزی کے معاملوں میں متاثرہ کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہ کرنے والے پولیس افسر کو جیل کی سزا کی شق شامل ہے۔ اس سے پہلے آئی پی سی کے تحت رضامندی سے سیکس کی عمر18 سال تھی جس کو گھٹا کر16 سال کرنے کی تجویز تھی۔ آل پارٹی میٹنگ میں دلیل آئی کہ شادی کی عمر کیونکہ 18 سال ہے اس لئے رضامندی سے سیکس کی عمر بھی یہ ہی ہونی چاہئے۔ ایک دلیل یہ بھی تھی کہ ایڈلٹ فلم دیکھنے کے لئے عمر اگر18 سال ہے تو سیکس کے لئے عمر اس سے کم کیسے رکھی جاسکتی ہے۔اسی قضیئے پر آل پارٹی میٹنگ میں اتفاق رائے نہ ہوپانے پر سرکار کو پہلے سے طے عمر18 سال ہی برقرار رکھنا پڑا ہے۔
(انل نریندر)

19 مارچ 2013

کیا ایک برس میں اکھلیش یادو عوام کی امیدوں پر کھرا اترے ہیں؟

اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹی نے ریاست میں اپنی سرکار کا ایک سال پورا کرلیا ہے۔ 15 مارچ کو سپا سرکار نے اپنے اقتدار کا ایک سال تو پورا کرلیا ہے لیکن کسی بھی سرکار کی کارگذاری کا جائزہ لینا کافی نہیں ہوتا لیکن اتنا ضرور پتہ چل جاتا ہے کہ حکومت کس سمت پر چل رہی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک برس میں اکھلیش یادو کی حکومت کی نہ تو کارگذاری تسلی بخش ہے اور نہ ہی ان کی سرکار کی ساکھ۔ والد ملائم سنگھ جتنی سخت محنت سے اترپردیش میں سپا کو اقتدار میں لائے اور لڑکے اکھلیش اتنی تیزی سے ہی عوام میں غیر مقبول ہورہے ہیں۔ وہ اب تک ایک نااہل لیڈرثابت ہوئے ہیں۔ سپا میں داغدار چہروں اور ورکروں کی لمبی فہرست ہے جس سے وہ پیچھا نہیں چھڑا پارہے ہیں۔ بطور اپوزیشن پارٹی بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر سوامی پرساد موریہ کے مطابق اکھلیش یادو کی حکومت کا ایک سال مایوس کن رہا۔ الزام لگایا کہ بدامنی کے گھوڑے پر سوار یہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہورہی ہے۔ خاص طور پر ریاست میں قانون و انتظام کے حالات مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ ایک سال میں سرکار سے لوگوں کی جو توقعات تھیں ان پر سرکار کھری نہیں اتری۔ ابھی بھی لوگوں کو اکھلیش یادو سے امیدیں ہیں۔ یہ اس سرکار کی طاقت بھی ہیں اور اس کے پہلے سال میں کچھ مورچوں پر ناکام رہی تو چناؤ میں کئے گئے وعدوں میں زیادہ تر عمل کرنے کی پہل اس سرکار کا کارنامہ بھی ہے۔ قانونی و انتظام کے مورچے پر بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ ریاست میں بدامنی کا دور کم نہیں ہوا ہے۔چھوٹے موٹے واقعات تو مایاوتی کے راج میں بھی ہوا کرتے تھے وہ ابھی بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ پچھلے تین سال میں بڑھے جرائم کے گراف کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ جنتا میں اکھلیش یادو نے جو امیدیں جگائی تھیں وہ اب تک پوری نہیں ہوسکیں۔ مثال کے طور پر جو کرپشن مایاوتی کے دور میں تھا اس میں اضافہ ہی ہواہے جو کھدان افسران مایاوتی کے راج میں 50 گاڑی ریت پتھر نکلوانے کے لئے ایک لاکھ دس ہزار روپے لیتے تھے اس کا اب ریٹ اکھلیش یادو کی سرکار میں ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہوگیا ہے۔ پونٹی چڈھا خاندان کو جو دبدبہ مایاوتی کے دور میں تھا وہ اکھلیش سرکار میں بڑھا ہی ہے۔ ریاست میں دنگے فساد روکنے میں سرکار ناکام رہی ہے۔پولیس کا کردار مشتبہ رہا ہے۔ قانون و انتظام و فساد اترپردیش کی عوام کے لئے زیادہ تشویش کا باعث ہے بہ نسبت لیپ ٹاپ اور بے روزگاری بھتے سے۔ ویسے بھی لیپ ٹاپ جو لکھنؤ میں بانٹے گئے تھے وہ اب مارکیٹ میں بکنے آگئے ہیں۔ منگلوار کو وزیر اعلی اکھلیش یادو نے 12 ویں پاس طلبا و طالبات کو اپنے ہاتھوں سے لیپ ٹاپ مفت تقسیم کئے تھے اس طرح اب تک9995 لیپ ٹاپ بانٹے جاچکے ہیں۔ لیپ ٹاپ پانے والے کچھ طلبا و طالبات نے مارکیٹ میں جاکر بیچنے کی کوشش کرکے وزیراعلی کی اسکیم کو ہی پلیتا لگادیا۔ اکھلیش یادو کی سب سے بڑی پریشانی اس کے چاچا تاؤ ہیں۔ دو دن پہلے اترپردیش سرکار کا ایک اشتہار کچھ چنندہ اخباروں میں شائع ہوا تھا اس میں پانچ تصویریں گی تھیں سبھی ایک سائز کی تھیں۔ اکھلیش یا ملائم سنگھ کی تصویر پہلے نمبر پر بھی نہیں تھی اور نہ ہی باقی چہروں سے بڑی تھی۔ صاف ہے اترپردیش میں اقتدار کے کئی مرکز ہونے کی وجہ سے سرکار کے کام کاج میں فرق پڑ رہا ہے۔ اس کا سارا خمیازہ اکھلیش یادو بھگت رہے ہیں۔ لوگوں کو اکھلیش سے بہت امیدیں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اکھلیش اس سے باہر نکلیں۔ اعدادوشمار کے نقطہ نظر سے پچھلا ایک سال کئی مورچوں پر خراب رہا ہے۔ فرقہ وارانہ تناؤں اور فسادات کے 27 واقعات ہوئے ۔متھرا، بریلی، لکھنؤ اور فیزآباد کے فسادات نے سرکار کے ماتھے پر داغ لگادیا۔ کنڈا کانڈ نے سرکار کے قانون و انتظام ٹھیک ہونے کے دعوے پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا۔ بجلی بحران سے نجات پانے کے لئے شام ہی میں مال بند کرنے اور اس کے بعد ممبران اسمبلی فنڈ سے ممبران کو گاڑی خریدنے کی اجازت دینے کا فیصلہ جگ ہنسائی کا سبب بنا۔ جس کی واپسی سے اکھلیش لوگوں کی نظروں میں کمزور وزیر اعلی بنے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر سرکار کے کام کاج میں بار بار انگلی اٹھا رہے ہیں۔ پارٹی کے کچھ بڑے لیڈروں کا یکساں سرکار چلانا جنتا کو بھی راس نہیں آرہا ہے۔ دہلی کی جامعہ مسجد کے شاہی امام مولانا بخاری کی دھمکی کے بعد کبھی ان کے داماد کو ایم ایل سی بنانا اور ان کے کئی اور چہیتوں کو لال بتی دینے سے یہ تصور سامنے آیا کہ سرکار دباؤ میں جھک جاتی ہے۔ کمبھ حادثے کے لئے تکنیکی طور سے مرکزی حکومت ذمہ دار ہو لیکن عام لوگوں کے درمیان اس سرکار کے انتظامات پر بھی سوالیہ نشان لگا ہے۔ 15 مارچ 2012ء کو جب اکھلیش یادونے دیش کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے کم عمر کے وزیر اعلی کی حیثیت سے حلف لیاتھا اس وقت ان کے سامنے یوپی کو بدلنے کی چنوتی تھی ۔ اس وقت ان کے ساتھ عوام کا جوش نئی امیدیں تھیں لیکن ٹھیک ایک سال بعد ان کی سرکار کے کام کاج عوام کی کسوٹی پر ہیں۔ آخر ایک برس کا وقت خاصا معنی رکھتا ہے اب لوگ سرکار کی کارکردگی سے نا خوش ہیں اور ان کی ناراضگی کا دور شروع ہوچکا ہے۔
(انل نریندر)

سیبی بنام سہارا لڑائی میں خطرناک موڑ

یہ افسوس کی بات ہے کہ سہارا گروپ اور سیبی کے درمیان تلخی بڑھتی جارہی ہے۔ اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے پر گرفتاری کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔سرمایہ کاروں کے 24 ہزار کروڑ روپے نہ لوٹانے کے معاملے میں سیبی نے سپریم کورٹ میں ان کی گرفتاری کے لئے عرضی دی ہے ساتھ ہی ان کے دیش سے باہر جانے پر بھی روک لگانے کی اپیل کی گئی ہے۔ سیبی نے یہ اپیل گروپ کی جانب سے عدالت کے اس حکم کی تعمیل نہ کرنے میں ناکام رہنے پر دائر کی ہے جس میں سہارا گروپ کی دو کمپنیوں کی طرف سے سرمایہ کاروں کو پیسہ لوٹانے کو کہا گیا تھا۔ جسٹس ایس ۔رادھا کرشن کی سربراہی والی بنچ کے سامنے بازار اتھارٹی نے اس اپیل پر سماعت کرنے کی اجازت دینے کی مانگ کی جس پر بنچ نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے اپریل کے پہلے ہفتے میں اپنی منظوری فراہم کردی ہے۔ سیبی نے بنچ کے سامنے دلیل دی تھی کہ سبرت رائے کو گرفتار کرنے اور سول حراست میں رکھنے کا قدم اٹھانے کی منظوری دی جائے۔ اس کے علاوہ دونوں کمپنیوں کے ڈائریکٹروں اشوک رائے چودھری، روی شنکر دوبے کی دلیل رکھنے کے لئے مجموعی موقعہ دیکر ان کے خلاف بھی کارروائی کی اجازت دی جائے۔ پچھلے کئی دنوں سے سہارا گروپ اور سیبی کے درمیان سرمایہ کاروں کا پیسہ لوٹانے سے متعلق قانونی لڑائی جاری ہے۔ دراصل یہ لڑائی 2008ء میں سہارا انڈیا ریل اسٹیٹ کارپوریشن اور سہارا ہاؤسنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن کمپنی بنی تھی اس میں قریب2.20 کروڑ چھوٹے سرمایہ کاروں سے پیسہ اکٹھا کیا گیا لیکن الزام یہ ہے کہ وعدے کے مطابق انہیں پیسہ نہیں دیا گیا۔ جون2011ء میں سیبی نے دونوں کمپنیوں کو پیسہ لوٹانے کو کہا۔ سہارا نے حکم نہیں مانا۔ سیبی سپریم کورٹ میں جائے گا اور کورٹ میں اگست2012ء میں دونوں کمپنیوں کو 90دن میں سرمایہ کاروں کا پیسہ لوٹانے کو کہا تھا۔سہارا نے مہلت مانگی۔دسمبر2012 ء میں عدالت نے دونوں کمپنیوں کو تین قسطوں میں پیسہ دینے کو کہا اس میں سے 5120 کروڑ روپے کی پہلی قسط فوراً ادا کرنے کو کہا۔10 ہزار کروڑ روپے کی دوسری قسط جنوری2013ء کے پہلے ہفتے میں اور آخری قسط فروری کے پہلے ہفتے میں لوٹانی تھی۔ پچھلی 6 فروری کو سپریم کورٹ نے پیسہ لوٹانے سے متعلق مقررہ میعاد گزر جانے کے بعد سیبی کو سہارا کی دونوں کمپنیوں کے کھاتوں پر روک لگانے اور ان کی املاک کو ضبط کرنے کا حکم دینا پڑا تھا۔ دوسری طرف سہارا نے دعوی کیا ہے کہ اس نے سیبی کو اب تک5120 کروڑ روپے ادا کئے ہیں اور اس کا یہ بھی دعوی ہے یہ رقم دونوں کمپنیوں کے بانڈ ہولڈروں کی کل بقایا دین داری سے زیادہ ہے۔ سیبی کے ذریعے سہارا گروپ کے پرموٹر سبرت رائے کی گرفتاری کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل کئے جانے کے بعد سہارا گروپ نے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا اس کا ساراکاروبار قانونی ڈھنگ سے چلایا جارہا ہے۔ سرمایہ کاروں کے ساتھ کسی طرح کی دھوکہ دھڑی نہیں کی گئی ہے۔ نہ ہی ان کا کوئی ایسا ارادہ ہے۔ کمپنی ایڈوانس ٹیکس کی شکل میں 700 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم انکم ٹیکس میں جمع کراچکی ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لئے زیادہ رائے زنی نہیں ہوسکتی لیکن ہمیں لگتا ہے مسئلے کی جڑ سہارا کی دیندداری ہے۔ سیبی کا کہنا ہے سہارا کی ان دونوں کمپنیوں کو24029 کروڑ سرمایہ کاروں کو لوٹانا ہے جبکہ سہارا کا کہنا ہے کہ ہم نے اس میں5120 کروڑ روپے لوٹا دئے ہیں اور یہ رقم دینداری کو کور کرتی ہے۔ سہارا نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے سیبی سے بار بار وقت دینے کے لئے اپیل کی ہے لیکن سیبی نے نہ تو وقت دیا ہے اور نہ ہی صفائی پیش کرنے کا موقعہ۔ گرفتاری اور کھاتے سیل کرنے سے سبرت رائے کا پاسپورٹ ضبط کرنے سے مسئلے کا حل شاید نہ نکل سکے۔ پیسوں کا معاملہ پیسوں سے ہی نپٹایا جائے اور کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے سے پہلے یہ طے کیا جائے کہ ادا کردہ رقم دینے کے بعد سہارا کمپنیوں کی کتنی دینداری بچی ہے یا نہیں۔بچی ہے تو اس کی ادائیگی رضامندی سے کی جائے۔ جس طرح سے سیبی کارروائی کررہی ہے اس سے انتقام کی بو آتی ہے۔
(انل نریندر)

17 مارچ 2013

سونیا نے وہ کر دکھایا جو نہرو، اندرا ور راجیو نہ کرسکے

محترمہ سونیا گاندھی آج صرف کانگریس پارٹی کے مرکزی کردار میں ہیں نہیں ہیں بلکہ دیش کی سیاست میں سب سے زیادہ دخل رکھتی ہیں۔ آج سے15 سال پہلے جب14 مارچ 1988ء کو سیاست میں اتری تھیں تو شایدکسی نے سوچا نہ ہوگا کہ ان کا سفر اتنا لمبا ہوگا۔ آج وہ کانگریس پارٹی کی تاریخ میں سب سے زیادہ وقت تک پارٹی صدر کے عہدے پر فائض رہنے والی شخصیت بن چکی ہیں۔ وہ چار مرتبہ سب کی رضامندی سے اس عہدے پر چنی گئیں جو کام پنڈت جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نہیں کرسکے وہ ان کی بہو سونیا گاندھی نے کر دکھایا۔ ڈیڑھ دہائی تک کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالنے والی پہلے خاتون بن گئیں ہیں۔ آپ اٹلی میں پیدا ہوئیں اور اندرا گاندھی کی بہو بنیں اور مسلسل زوال کی طرف جا رہی کانگریس کو سونیا نے نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے دکھایا بلکہ اب ان کی قیادت میں مرکز میں پارٹی مسلسل 9 برس سے یوپی اے کی سرکار چلا رہی ہے۔ ان 15 سالوں میں کانگریس کا پورا اقتدار اپنے ارد گرد مرکوز رکھے رہی ہیں۔ سونیا نے اب آہستہ آہستہ اپنی ذمہ داری راہل گاندھی کو سونپنا شروع کردی ہے تو تنظیم کے اندر اور باہر سب کی نظریں پھر کانگریس پر لگی ہوئی ہیں۔ 16 ویں سال میں داخل ہوتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنا ان کے لئے آسان کام نہیں تھا اور انہوں نے پارٹی ورکروں کو بھی اس بات کا سہرہ دیا ہے کہ ان کی مدد سے ہی وہ اپنی ذمہ داری ٹھیک طرح سے نبھا پائیں۔ سونیا کے سیاسی کیریئر میں مئی 2004ء میں اس وقت اہم موڑ آیا جب انہوں نے اتحاد کے راستے کانگریس کومرکز میں کامیابی کے ساتھ اقتدار تک پہنچایا۔ موجودہ عہد کے لئے 2010ء میں وہ بلا اتفاق چنی گئی تھیں۔ اب ان کی میعاد 2015ء میں ختم ہوگی۔ دراصل پارٹی آئین میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق اب تین سال کے بجائے پانچ سال میں تنظیمی چناؤ کرانے کی روایت قائم ہوگئی ہے۔ 1998ء میں سونیا گاندھی نے سیتا رام کیسری سے ذمہ داری چھین کر پارٹی کی کمان سنبھالی تھی تب 127 سال پرانی یہ پارٹی اپنے سب سے بحران کے دور سے گزر رہی تھی۔ ہر چناؤ میں پارٹی ہار رہی تھی۔ ان کا غیر ملکی نژاد اشو چھایا رہا۔ شرد پوار نے اسی اشو پر الگ پارٹی بنا لی تھی۔ 1998-99 میں لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کی رہنمائی میں ہاری تھی۔ اس کے بعد انہوں نے پارٹی میں بڑی ردوبدل کی اور 2004ء میں کانگریس کی رہنمائی والی یوپی اے حکومت بنی اور سونیا گاندھی اس اتحاد کی چیئرپرسن بنیں۔ 2004ء میں اقتدار ملنے کے بعد ڈرامائی حالات میں انہوں نے وزیراعظم کا عہدہ بھی قبول کرنے سے انکا کردیا اور ماہر اقتصادیات سے لیڈر بنے منموہن سنگھ کا نام دیش کے اس اہم ترین عہدے کے لئے آگے بڑھا دیا۔ وہ وزیراعظم تو نہیں بنیں لیکن قومی مشاورتی کونسل (این اے سی) کی چیئرمین بن کر حکومت اور تنظیم کی کمان پوری طرح سے خود سنبھالی ہوئی ہے۔ آج سونیا گاندھی دنیا کی سب سے طاقتور سیاسی شخصیتوں میں شمار ہوتی ہیں۔ سیاسی طور سے طاقتور ہونے کے باوجود گذشتہ دو تین سال میں سونیا گاندھی کا اقبال دیش اور دنیا میں کمزورہوا ہے۔ صحت کے اسباب کی وجہ سے سرگرمی بھی کم ہوئی ہے ۔ کانگریس کی ساکھ کو بھی ہر سیکٹر میں دھکا لگا ہے۔ آج کل سیاسی تنازعہ بھی ان کے مائیکے کے ملک اٹلی سے چل رہا ہے۔ چاہے وہ ہیلی کاپٹر معاملہ ہو چاہے وہ اطالوی مرین کا ہو۔ اپوزیشن انہیں اس لئے بھی زیادہ اچھال رہی ہے کیونکہ یہ سونیا گاندھی کے پیدائشی ملک سے وابستہ ہے۔ سونیا گاندھی کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج 2014ء میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی و اتحاد کو دوبارہ سے اقتدار میں لانا ہے۔ منفی حالات میں یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ لیکن اب راہل بھی پوری طرح میدان میں اتر گئے ہیں اور ماں بیٹا مل کر اس مقصد کو پورا کرنے میں لگے ہیں۔ سونیا کی ایک بات خاص ہے وہ بیشک 15 برسوں سے کانگریس کی صدر محترمہ ہیں لیکن ایسے کانگریسی انگلیوں میں گنائے جاسکتے ہیں جو اصل سونیا گاندھی کو جانتے ہیں۔ وہ سنتی زیادہ ہیں بولتی بہت کم ہیں شاید یہ ہی ان کی کامیابی کا راز ہو۔
(انل نریندر)

3 پرائیویٹ بینکوں کے منی لانڈرنگ کے گورکھ دھندے کا پردہ فاش

بھارت نے مضبوط منی لانڈرنگ قانون تو بنا لئے لیکن بینکوں نے اس میں بھی تمام راستے نکال لئے ہیں۔ مشکل ہمارے دیش کی یہ ہے کہ قانون بعد میں بنتا ہے اس میں پنکچر پہلے ہوجاتا ہے۔نجی بینکوں کی منی لانڈرنگ سے وابستہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں دیش کا ریکارڈبیحد خراب ہے۔ پچھلے برس بھارت نے برطانیہ کے بینک ایچ ایس بی سی کے خلاف اسی طرح کے ایک معاملے کی جانچ کی تھی لیکن آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوسکی بلکہ الٹے امریکہ نے ایسے ہی معاملے میں ایس ایچ بی سی پر تقریباًدو لاکھ ارب ڈالرکا جرمانہ ٹھونک دیا تھا۔ اب پھر آئی سی آئی سی آئی بینک، ایچ ڈی ایف سی اور ایکسس بینک پر منی لانڈرنگ یعنی کالی کمائی کو سفید کرنے کے سنگین الزامات لگے ہیں۔ یہ الزام ایک میگزین کوبرا پوسٹ نے اسٹنگ آپریشن ’ریڈ اسپائڈر‘ کے ذریعے لگایا ہے۔ کوبرا پوسٹ نے پرائیویٹ سیکٹر کے تین بڑے بینکوں میں ہو رہی اس کالا بازاری کو اجاگر کیا ہے۔ اسٹنگ آپریشن کے ذریعے کچھ گھروں کی ریکارڈنگ کے فٹیج اور کچھ حصے جاری کئے گئے۔ کوبرا پوسٹ کے مالک انروپ بہل نے بتایا کہ ان بینکوں کی دیش بھر کی درجنوں برانچوں میں کھلے عام کالی کمائی کو سفید کرنے کا کام جاری ہے۔ بینک یہ سروس اپنے گراہکوں کو بھی دے رہے ہیں۔ یہ دیش کے منی لانڈرنگ قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ پورا لین دین اس طرح سے کیا جاتا ہے کہ گراہکوں کو کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑے۔ اس سے سرکار کو کروڑوں روپے کے ٹیکس کا نقصان بھی ہورہا ہے۔ کوبرا پوسٹ کے مطابق بینک ایسے کرتے ہیں کالی کمائی کوسفید۔ گراہک کے گھر جاکر مشین سے گن کر نقدی لے جانا اور پھر رائلٹی گولڈ سمیت مختلف مالیاتی پروڈکٹس میں بغیر پین کارڈ کے اور کے وائی سی کے رقم کی سرمایہ کاری کرنا۔ رقم کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ کر بینامی کھاتوں کے ذریعے بیک چینل میں ڈالنا۔ رقم سفید ہونے کے بعد کھاتے میں بندکرنا۔ دوسروں کے کھاتے میں رقم ڈال کر اسے سفید کرنا اور بدلے میں دوسرے کھاتے داروں سے فیس لینا۔ گراہٹ کے کھاتے کو دکھائے بغیر رقم سے اپنے یا بینک کی دوسری برانچ سے ڈرافٹ بنوا کر گراہک کے نام سرمایہ کاری دکھانا۔ کروڑوں روپے نقد رکھنے کے لئے گراہکوں کو لاکر کی خصوصی سروس فراہم کرنا۔ این آر آئی اور اس کے کھاتے کے ذریعے رقم بیرونی ممالک میں بھی بھیجنے کی سہولت دی جارہی ہے۔ ان سیواؤں کو دیش بھر میں ایک ’اسٹینڈرڈ پوڈکٹ‘ کی شکل میں دستیاب کرایا جاتا ہے۔ کوبرا پوسٹ نے منی لانڈرنگ کے اس دھندے میں ان بینکوں کے بڑے افسران کے شامل ہونے کا بھی الزام لگایا ہے ۔ ان بینکوں اور ان کے مینجمنٹ نے منظم طریقے سے ریزرو بینک کی گائڈ لائنس، انکم ٹیکس قانون ، فیما، کے وائی سی کامرس، بینکنگ قانون اور منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے دفعات کی خلاف ورزی کی ہے۔ دیکھیں سرکار و دیش کے مالی ادارے ان ملزم بینکوں کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...