Translater
15 فروری 2025
دہلی چناو اور بہار کی سیاست !
دہلی اسمبلی چناو¿ میں بی جے پی کی جیت کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کانگریس کو پرجیوی پارٹی کہا ہے انہوں نے کہا بہار میں کانگریس ذات پات کا زہر پھیلا کر اپنی ساتھی آر جے ڈی کی پیٹرن زمین کو کھانے میں لگی ہے ۔کیوں کہ اس سال کے آخر میں بہار اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں ۔اس لئے پی ایم مودی کی تقریر کا یہ جزءسرخیوں میں ہے ۔تجزیہ نگاروں کے مطابق دہلی اسمبلی چناو¿ کے نتیجوں کو بہار میں ہونے والے چناو¿ پر بھی اثر پڑے گا ان کا خیال ہے کہ دہلی کی طرح بہار میں بھی کانگریس اپنی کھوئی ہوئی زمین حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے اس لئے وہ بہار چناو¿ میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اترے گی ۔اگر ایسا کرتی ہے تو یہ ممکن ہے کہ وہ بہار میں اپنی موجودگی بڑھا سکے ۔ویسے بھی بہار میں ورکرو ں کی پرانی مانگ ہے کہ پارٹی اکیلے چناو¿ لڑے تو پاڑٹی کو دور رس سیاست میں فائدہ ہو ۔دہلی چناو¿ کے نتیجوں نے آنے والے بہار اسمبلی چناو¿ میں پارٹیوں کی پوزیشن کو لیکر قیاس آرائیاں شرو ع کر دی ہیں۔واقف کاروں کی مانیں تو دونوں ہی اتحاد این ڈی اے اور انڈیا اتحاد کی پارٹیوں میں شیٹ شیئرنگ کو لے کر نئے تجزیہ بنیں گے ۔بی جے پی کے ترجمان است ناتھ تیواری کہتے ہیں کہ این ڈی اے نے 225 سیٹیں جیتنے کا نشانہ طے کیا ہے اور ہم لوگ اپنی جیت یقینی کرنے کے لئے چٹانی اتحاد کے ساتھ چناو¿ لڑیں گے وہیں جے ڈی یو کے ترجمان انجم آراءبھی کہتی ہیں کہ جس فیصلے سے این ڈی اے کے حق میں فیصلے آئیں گے وہی فیصلہ دیا جائے گا ۔حالانکہ ذرائع کی مانیں تو جے ڈی یو 100 بی جے پی 100 اور آر جے ڈی 150 تو کانگریس 70 سیٹ پر چناو¿ لڑنے کی تیار ی میں ہے ۔مرکزی وزیر جتن رام مانجھی اپنی پارٹی ہم کے لئے 20 سیٹوں کی ڈیمانڈ کر چکے ہیں وہیں مکیش ساہنی کی وی آئی پی پارٹی چالیس سیٹوں پر دعویداری کر رہی ہے۔جن سوراج نے سبھی 243سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے کی بات کہی ہے ۔دہلی نتائج کے بعد سب سے زیادہ پینچ کانگریس کو ملنے والی سیٹ پر پھنس سکتا ہے ۔پچھلے گزرے اسمبلی چناو¿ میں کانگریس 70 سیٹ میں سے صرف 19 جیت پائی تھی حالانکہ لوک سبھا میں پارٹی نے اپنی پرفارمنس سدھارتے ہوئے 9 میں سے 3سیٹیں جیتی تھیں ۔سینئر تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کانگریس بہار میں بارگننگ پوزیشن میں نہیں ہے ۔نا تو اس کے پاس امیدوار ہیں اور نا ہی تنظیم۔راہل گاندھی اس سا ل دو بار پٹنہ آچکے ہیں بہار میں اپوزیشن کے لیڈر تیجسوی یادو ذات پات پر سروے پر بول رہے ہیں ۔یہاں یہ دلچسپ ہے کہ دونوں ہی پروگرام کانگریس کے نہیں تھے ۔ایک سماجی ورکر کا کہنا ہے کہ ان پروگراموں میں شامل ہو کر وہ پچھڑے انتہائی پسماندہ اور دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ طے کرکے اپنا مینڈیٹ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔اگر آپ دیکھیے تو موٹے طور پر بہار میں آر جے ڈی کا کور ووٹ ہے ۔وہیں آر جے ڈی کے ترجمان چترنجن گگن کہتے ہیں کہ دہلی بہار میں بہت فرق ہے ۔کیجریوال اور کانگریس میں تلخ رشتے ہیں لیکن بہار میں آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ ایسا نہیں ہے ۔بہار میں پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج کا موازنہ عام آدمی پاڑٹی سے کیا جاتا ہے وجہ یہ ہے کہ دونوں ہی متبادل اور صاف ستھری سیاست کی بات کرتے ہیں وہیں ایک سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں پی کے کیجریوال ہی ثابت ہوں گے ۔یہ دونوں ہی نئی سیاست کی بات کرتے ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں ۔وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ابھی تک اپنے پتے نہیں کھولے وہ کس طرف جائیں گے اس پر ابھی سوال کھڑے ہیں ۔دوسری طرف بی جے پی اپنی پوری طاقت سے بہار چناو¿ لڑے گی اور چاہے گی کہ اس بار بہار کا مکھیہ منتری بی جے پی سے ہی ہو ۔ابھی وقت ہے ۔بہار اسمبلی چناو¿ سال کے آخر میں ہونا ہے تب تک کئی تجزیہ بدلیں گے اور حالات بدلیں گے ۔
(انل نریندر)
ٹرمپ کے چھ فیصلوں پر لگی روک!
20جنوری 2024 کو جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں واپسی کی ہے انہوں نے اپنے تبدیلی والے ایجنڈے کو طوفانی رفتار سے آگے بڑھایا ہے ۔امریکی سرکارکے سربراہ کے طور پر انہوں نے پہلے ہی دن جوبائیڈن کے بنائے قواعد کو 78 فرمانی احکامات کے ذریعے ختم کر دیا تب سے انہوں نے اپنے ایجنڈے کو لاگو کرنے کے لئے جن درجنوں احکامات کو جاری کیا ہے اگر وہ لاگو ہوتے ہیں تو امریکہ میں ایگزیکٹو کے کام کے طریقہ اور شکل کو نہیں بدلیں گے ۔بلکہ سرکارکے دیگر محکموں کے اختیارات پر بھی اثر پڑے گا ۔ان کے کچھ اقدام کا اثر کچھ آئینی حقوق پر بھی پڑے گا حالانکہ فی الحال ان کے احکامات کو ان کے حامی بڑے جوش سے لے رہے ہیں ۔ٹرمپ کے ان قدموں سے امریکہ میں لاکھوں سرکاری ملازم فکر مند ہیں جنہیں اپنی نوکری جانے کا ڈر ستا رہا ہے ۔اس کے علاوہ ہزاروں کمپنیاں ،غیر رضاکار تنظیمیں کافی الجھن میں ہیں ۔جو فنڈ یا ٹھیکے یا امداد مل رہی تھی وہ جاری رہے گی یا نہیں ؟ ٹرمپ کے ان احکامات میں سے کئی کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے ۔کچھ احکامات کو دیش کے الگ الگ حصوں میں عدالتوں نے معطل کر دیا ہے جس میں ٹرمپ انتظامیہ میں مایوسی پیدا کر دی ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی بینس نے اپنے غصہ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اپنے فیصلوں سے حد پارکررہی ہے ۔ججوں کو ایگزیکٹو کے اختیارات کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔منگلوار کو ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایسوسی ایشن کے چیف اور ارب پتی ایلون مسک بھی ایک فیصلے کے لئے اس ریزلٹ کو نشانہ پر لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک جج کی پوری زندگی جج بنے رہنے دینے کا نظریہ بھلے ہی فیصلے کتنے برے برے ہوں یہ بہت بکواس بات ہے۔ہوسکتا ہے کہ ان ججوں کی جانچ کرنے کی ضرورت ہو ۔ایسے چھ معاملے ہیں جن میں امریکی عدلیہ نظام نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں پر روک لگا دی ہے ۔تارکین کے بچوں کی شہریت کے حکم پر کئی ریاستی عدالتوں کے فیصلے آئے ۔غیر ملکیوں کے ہونے والے بچوں کے جنم دن یعنی پیدائشی شہریت کی بنیاد کو ختم کرنے کا ٹرمپ کے فیصلے کو سب سے پہلے سی ایٹ ایل کے کچھ فیڈرل جج نے 23جنوری کو دیا جس میں اس حکم پر عارضی طور پر روک لگا دی۔میریلینڈ کے ایک جج نے پورے دیش میں ٹرمپ کے اس حکم پر روک لگا دی ۔جبکہ 10 جنوری کو ایک تیسرے جج نے ایک ایسا ہی فیصلہ سنا دیا۔جنوری کے آخر میں ٹرمپ انتظامیہ نے 20 لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کو ایک نوٹس دیا جس میں معاوضہ کے طور پر 8 ماہ کی تنخواہ کے بدلے لیں انہیں مرضی سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی گئی ۔چھ فروری کو ایک وفاقی جج نے اسے لاگو ہونے پر روک لگا دی۔اور پیشکش قبول کرنے کی طے میعاد بھی بڑھا دی ۔نئے انتظامیہ نے یو ایس اےڈ کے سبھی طرح کے بین الاقوامی امدادی پروگراموں پر بھی روک لگا دی اور امریکہ سے باہر کام کرنے والے سبھی ملازمین کو واپس آنے کا حکم دیتے ہوئے ہزاروں ملازمین کو نوکری سے معطل کر دیا ہے ۔7فروری کو ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پلاننگ پر فور ی روک لگا دی ۔اس کے علاوہ ایلن مسک کے ڈپارٹمنٹ اور یو ایس ایڈ کے 2200ملازمین کو معطل کئے جانے پر روک لگا دی تھی ۔اسی طرح کئی تغلقی فرمان پر بھی وہاں کی عدالتوں نے روک لگا دی اور بھی کئی فیصلون پرروک لگائی گئی ہے ۔31 جنوری کے حکم نے ٹرمپ انتظامیہ نے کہا سرکاری طور سے صرف دو جنڈر کو منظوری دی جائے گی اس میں ٹرانس جنڈر لوگوں کی زندگی میں بھاری عمل دخل تھم گیا ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں میں امریکہ میں جم کر مخالفت ہورہی ہے۔کہا جارہا ہے کہ امریکہ کی ساری ریاستوں میں لوگ سڑکوں پر اتر اائے ہیں اور بھارتی اتھل پتھل مچی ہوئی ہے ۔
(انل نریندر)
13 فروری 2025
کانگریس نے ہار کر بھی حساب چکتا کر لیا!
دہلی اسمبلی چناﺅ میں کانگریس ہار کر بھی جیت گئی ۔ان چناﺅ میں بھلے ہی کانگریس پارٹی کو ایک سیٹ نہ ملی ہو لیکن اس نے عام آدمی پارٹی کی ہار کو یقینی بنانے میں بڑا قردار نبھایا بھلے ہی کانگریس پارٹی کو ہار کا سامنا کرنا پڑ اہے۔لیکن قومی سیاست میں وہ اپنی راہ کے بڑے کانٹے نکالنے میں کامیاب رہی ہے ۔یہ وجہ ہے کے عام آدمی پارٹی کا جنم کانگریس کی مخالفت کے ساتھ شروع ہوا اور آہستہ آہستہ اس نے دیش کے کئی حصوں میں کانگریس کے مینڈیٹ میں پکڑ بنانے کا کام کیا جہاں پہلے اس نے دہلی کے اقتدار سے کانگریس کو بے دخل کیا اور اس کے بعد کانگریس کے دوسرے گڑھ مانے جانے والی ریاست پنجاب میں بھی اسے حاشیہ پر کھڑا کر دیا ۔دونوں ریاستوں میں کانگریس کو بے دخل کرنے کے علاوہ عام آدمی پارٹی نے گجرات،اترانچل،گوا،ہریانہ،راجستھان اور مدھیہ پردیش کے چناﺅ میں بھی کانگریس کو بڑی چوٹ دی ۔دہلی اسمبلی چناﺅ کے نتائج صاف دکھاتے ہیں کے کانگریس نے جو ووٹ لئے اسی وجہ سے عآپ پارٹی کم سے کم 15-17 سیٹوں پر ہار گئی ۔ہار جیت میں ووٹوں کا فرق ہے ۔اس سے زیادہ ووٹ کانگریس امیدواروں کو ملے۔آج اگر کیجریوال اقتدار سے باہر ہیں تو اس کے پیچھے ان کا گرور بڑی وجہ ہے ۔کانگریس تو ہریانہ میں بھی اتحاد کرنا چاہتی تھی لیکن کیجریوال نے نہ صرف منا کر دیا بلکہ سبھی 70 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر دئے ان میں سے زیادہ تر کی ضمانت ضبط ہو گئی لیکن یہ کانگریس کو بھی اقتدار سے جیتی بازی ہروا گئے اس لئے کچھ تجزیہ نگار انہیں بی جے پی آر ایس ایس کی بی ٹیم کہتے ہیں ۔دہلی اسمبلی چناﺅ میں کانگریس کے اکےلے اترنے کے پچھے بھی بڑی وجہ چناﺅ جیتنا نہیں بلکہ کیجریوال کے بڑھتے قدموں کو روکنا تھا ۔کیجریوال کی راہ آسان نہیں ہے یہ تجزیہ نگار مناتے ہیں عآپ تو گئی لیکن آنے والے دنوں میں نہ صرف کئی ریاستوں میں وہ کانگریس کے لئے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں ۔بلکہ قومی سیاست میں بھی راہل گاندھی کے لئے بڑی چنوتی پیش کر سکتے ہیں ۔ایسے میں کانگریس کا چناﺅ بڑے موقع کی شکل میں سامنے آیا ہے پارٹی نے اپنی حکمت عملی انجام تک پہنچانے کے لئے پوری طاقت لگا دی۔قابل ذکر ہے کیجریوال کی سیاسی خواہشات دہلی سے آگے بڑھ کر دیگر ریاستوں میں بھی سب سے زیادہ نقصان کانگریس کو پہنچانا رہا ۔پچھلے کچھ دنوں سے تو کیجریوال راہل گاندھی کے خلاف کھل کر الزام لگانے لگے تھے تاکہ کانگریس کو نقصان پہنچے ۔اور وہ خود اپوزیشن کی سیاست میں بھی راہل کے سامنے کھڑے ہو سکے۔کیجریوال ممتا انڈیا بلاک میں تو کانگریس اپوزیشن اتحاد سے باہر کرانے کی کوشش کی تھی ۔کانگریس کو لگنے لگا کے اگر اسے سیاست میں زندہ رہنا ہے تو اکےلے اپنے دم لڑنا پڑے گا اس سیاست میں سب سے پہلا قدم تھا کے دہلی میں عام آدمی پارٹی کو سیاسی مات دلانے میں مدد کرنا۔کانگریس جانتی تھی کے وہ دہلی نہیں جیت دکتی تھی لیکن اس کا مقصد عام آدمی پارٹی کے اقتدار سے بے دخل کرنا تھا جس میں وہ کامیاب ہو گئی۔
(انل نریندر)
ملکی پور میں بی جے پی کی جیت!
اترپردیش ضمنی چناﺅ میں بی جے پی کو ملی جیت کے کئی بیغام ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کے یہاں پسماندہ برادریوں کے زیادہ تر ووٹروں نے بی جے پی کو ووٹ دیا ۔اس سیٹ پر بی جے پی کے چندر بھان پاسوان نے 61710 ووٹ کے فرق سے اپنے قریبی حریف سپا کے اجیت پرساد کو ہرایا ۔چندر بھان کو 146397 ووٹ ملے جبکہ سپا کے امیدوار کو 84000 سے زیادہ ووٹ ملے۔روایتی طور پر ایسا مانا جاتا ہے کے مسلم ووٹروں کا جھکاﺅ سپا کی طرف رہتا ہے لیکن اس ضمنی چناﺅ میں سپا کو لوک سبھا چناﺅ کی طرح مسلم ووٹروں کا ساتھ نہیں ملا ۔سپا کے لئے کیمپین کرنے والے ایودھیا کے سابق ممبر اسمبلی پون پانڈے بھی پارٹی کے لئے زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئے مانا جاتا ہے پانڈے کا براہمن برادری میں اچھی پکڑ ہے ۔2024 کے لوک سبھا چناﺅ میں سپا کے پی ڈی اے کا فیض آباد لوک سبھا کا حلقہ میں جو جادو چلا تھا وہ ملکی پور ضمنی چناﺅ میں نہیں چل سکا۔اگر برادری کے اعداد شمار کی بات کریں تو ملکی پور اسمبلی حلقہ میں کل ووٹروں میں سے 30 فیصد دلت فرقہ کے لوگ ہیں ۔وہیں یادو مسلم برادری کے لوگ تریباً برابر ہیں ۔اس کے علاوہ براہم ٹھاکر بسیا سمیت اوچی برادری کے لوگوں کی تعداد اچھی خاصی ہے ۔باقی ووٹروں میں دھوبی ،لوہار سمیت دیگر اتہائی پسماندہ طبقہ سے آتے ہیں ۔بی جے پی کے لئے سب سے بڑی چنوتی یادوﺅ کو اپنی طرف موڑنا تھا ۔بی جے پی نے چب چاپ اس مشن پر کام کیا ۔پارٹی کے ورکروں نے فرقہ کے پردھان اور سابق پردھانوں سے رابطہ کیا اور ان لوگوں سے رابطہ قائم کیا جنہوںنے چھوٹے چھوٹے چناﺅ لڑے تھے لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔یادوﺅ کو متحد کرنے میں آر ایس ایس ذمہ داروں نے اہم کردار نبھایا اور وہ ریاست کے لئے پچھلے 6 مہینے سے کام کر رہے تھے ۔ادھر ایک مقامی نیتا کا کہنا تھا کے سپا نے براہمنوں کے درمیان کوئی ٹھوس کام نہیں کیا ۔ملکی پور میں دلت ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ان میں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی پہلی پسند بی جے پی رہی ۔ اس انتخابی حلقہ میں 2 اہم دلت فرقہ ہیں ،پارنی اور کوٹی بی جے پی نے ان دونوں اہم گروپوں کے درمیان پارٹی کی پہنچ بنانے میں اہم رول نبھایا ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کے روایتی طور پر سپا کو مسلم ووٹ ملتا ہے لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا اور ان کا ووٹ کم پڑا ۔اس کا یہ بھی کہنا ہے کے ضمنی چناﺅ میں حکمراءپارٹی کو ہٹانا آسان نہیں ہوتا کیوں کہ سرکاری ساری مشینری انکے ساتھ ہوتی ہے۔وہیں صحافی یہ بھی مانتے ہیں کے ملکی پور میں ملا مینڈیٹ بی جے پی کو ہی ملا ہے ۔جن آدیش کا مقابلہ ایودھیا میں بی جے پی کی ہار سے پختہ نہیں ہوتا ۔دہلی اسمبلی چناﺅ اور ملکی پور ضمنی چناﺅ کے نتیجوں پر سپا چیف اکھلیش یادو نے بی جے پی پر اناﺅ میں ایمانداری نہ دکھانے کا الزام لگایا کہا کے بی ڈی اتے کی بھرتی طاقت کا سامنا بھاجپا ووٹ کے بل پر نہیں کر سکتی۔اس لئے وہ چناﺅی مشینری کا بیجا استعمال کرکے جیتنے کی کوشش کرتی ہے۔ایسی چناﺅ دھاندلی کرنے کے لئے جس ستح پر حکام کو جاعل سازی کرنی ہوتی ہے وہ ایک اسمبلی حلقہ میں بھلے ہی کرے مگر یہ کسی طرح ممکن نہیں ۔لیکن 403 اسمبلی حلقوں میں چارسوبسی نہیں چلے گی۔انہوںنے آگے کہا جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں ملکی پور جیت کر ایودھیا کا بدلہ لے لیا ۔لیکن ایودھیا کا بدلہ کوئی نہیں ہو سکتا ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کے اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ملکی پور سیٹ کو اپنی ساکھ کا اشو بنا لیا تھا ۔
(انل نریندر)
11 فروری 2025
ڈنکی روٹ کے ٹریول ایجنٹوں پر کارروائی !
یہ اچھی خبر ہے کے غیر مجاز طریقہ سے امریکہ جانے والے ہندوستانیوں کی جلاوطنی کے بعد اس کے لئے قصور وار مانے جا رہے ٹریول اجنٹوں پر کارروائی شروع ہو گئی ہے ۔ڈی جی پی پنجاب گورو یادوسے دیگر سینئر افسروں کی چاررکنی کمیٹی بنائی ہے جو غیر مجاز رہائشی یا اسمگلنگ سے جڑے مختلف مسلوں کی جانچ کریں گی ۔امرت سر پولس نے اس معاملے میں پہلا کیس ٹرلول ایجنٹ سرنام سنگھ پر کیس درج کیا ہے وہیں کرنال میں بھی امریکہ سے جلاوطن کئے گئے متاثرین نے ایجنٹوں کے خلاف پولس میں کیس درج کرائے ہیں جعلسازی کے معاملے میں 7 سال کی قید ہے اور 10 سے 20 لاکھ روپے اور زمین و دفتر سیل کیا جا سکتا ہے ۔اس درمیان ای ڈی نے انکشاف کیا ہے کے پچھلے تین برسوں میں تقریباً4200 ہندوستانیوں کے غیر مجاز طریقہ سے امریکہ پہنچنے کی جانچ چل رہی ہے ای ڈی نے پنجاب اور گجرات میں سرگرم ایجنٹوں کے نیٹورل کو بے نقاب کر دیا ہے جو غیر قانونی طریقوں سے ہندوستانیوں کو مختلف راستوں سے امریکہ بھیجنے کا کام کر رہے تھے ۔ان ایجنٹوں نے ناجائز طارقین وطن کے لئے تعلیم کے نام پر ایک بڑا جال بجھایا ہوا ہے اس کے تحت امریکہ جانے کے خواہش مند ہندوستانی شہرویوں کو پہلے کناڈا کے کالجوں میں داخلہ دلایا جاتا ہے اس کی بنیاد پر کناڈا کا ویزا حاصل کرتے ہی وہاں پہنچنے کے بعد کالجوں کی تعلیم چھوڑ کر امریکہ کی سرحد میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ای ڈی کی رپورٹ کے مطابق کالجوں کی فیس پیمنٹ کے لئے ایبکس کیش نام کا ایک مالیاتی سروس کمپنی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔جانچ میں پایا گیا ہے کے 7 ستمبر 2021 سے 9 اگست 2024 کے درمیان گجرات سے کناڈا میں قائم کالجوں میں 8500 ٹرانسزیکشن کئے گئے ان میں سے 4300 دوہرائے گئے جن سے یہ عشارہ ملتا ہے کے انکا غیر قانونی طور سے امریکہ جانے کے لئے استعمال کیا گیا ۔ناجائز طور سے ایجنٹوں کو ہر ایک شخص کو امریکہ بھیجنے کے لئے 40-50 لاکھ روپے کی رقم ملتی تھی ۔اس کے بعد طلبہ کے نام سے کناڈا کے کالجوں میں داخلہ دلواتے تھے،اور فیس بھرتے تھے۔جب کوئی شخص کناڈا پہنچ جائے گا تو کسی نہ کسی بہانے داخلہ منسوخ کر دیا جاتا ہے سرکار نے لوک سبھا میں بتایا ابھی بھی غیر ملکی جیلوں میں بند ہندوستانی قیدیوں کی تعداد 10152 ہے ۔وزیرمملکت خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے لوک سبھا میں تحریری جواب میں یہ ڈاٹا پیش کیا اس کے مطابق سعودی عرب ، قویت امارات ،قطر ،نیپال، پاکستان ،امریکہ ،سری لنکا ،اسپین،چین اسرائیل،روس،بنگلہ دیش اور ارجن ٹائن سمیت 86 ملکوں کی جیلوں میں ہندوستانی قیدی بند ہیں امید کی جاتی ہے ناجائز طریقہ سے ہندوتانیوں کو ودیش بھیجنے والے ان ٹریول ایجنٹوں پر سخت کارروائی ہوگی ۔محض لیپا پوتی نہیں ۔اس کی وجہ سے آج بھارت پوری دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔ساری دنیا میں دیکھا کے کس طرح بیڈیوں میں جکڑے ناجائز طارکین وطن ہندوستانی امرت سر ہوائی اڈے پر اترے بھارت سرکار نے ٹرمپ انتظامیہ سے اس کی مخالفت کی ہے اور ان سے غیر انصانی برتاﺅ نہ کیا جائے۔
(انل نریندر)
کیجریوال کودہلی والوں نے دل سے کیوں نکالا؟
دہلی اسمبلی چناﺅ 2025 میں نہ صرف عام آدمی پارٹی کو شرمناک ہار ملی بلکہ خود اروندکیجریوال بھی نئی دہلی سیٹ نہیں بچا پائے۔سابق نئے وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی جنگپورہ سے ہار گئے ۔کیجریوال نے پچھلے سال ستمبر میں دہلی کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا شائد انہوںنے یہ بھی نہیں سوچا ہوگا کے یہ استعفیٰ کتنا مہنگا پڑے گا ۔جب کیجریوال پچھلے سال 21 مارچ کو جیل گئے تھے تبھی اپوزیشن پارٹیاں ان کے استعفیٰ کی مانگ کر رہی تھی اور طنز کس رہی تھیں کے دہلی سرکار تہاڑ جیل سے چل رہی ہے ۔دہلی شراب پالیسی (جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا تھا)میں مبینہ بے ظابطگی معاملے میں 6 مہینے جیل میں رہے تھے ۔انہوںنے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کے میں نے جنتا کی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔جنتا ہی بتائے گی کے میں ایماندار ہوں یا نہیں اب دہلی کی جنتا نے فیصلہ سنا دیا ہے۔یہ فیصلہ کسی کے بے ایمان اور ایماندار ہونے سے زیادہ یہ ہے کے دہلی کے اگلے وزیراعلیٰ نہیں بلکہ بی جے پی سے کوئی ہوگا۔کیجریوال کی سیاست میں دستک کرپشن مخالف آندولن کے ذریعہ ہوئی تھی وہ اپنی پارٹی اور خود کے کٹر ایماندار ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں ایسے میں جب کرپشن کے معاملے میں وہ جیل گئے تو یہ ان کی ساکھ کے بلکل برعکس تھا ۔سیاست میں جس ایمیج کے ساتھ کیجریوال 12 سال پہلے آئے تھے وہ کمزور پڑ گی بی جے پی نے ان کی کرپشن مخالف ساکھ کو حکمت عملی کے تحت کمزور کر دیا ۔عاپ کے اقتدار میں آنے سے پہلے کیجریوال دعویٰ کرتے تھے کے وہ کوئی سرکار مراعات نہیں لیں گے۔انہوںنے اس کی برعکس کیا گھر بنایا تو شیش محل بنا دیا ۔اور کاروںکا لمبا قافلہ ان کے ساتھ چلتا تھا ۔ان کا گرور آسمان چھونے لگا انہوںنے پارٹی کے بانیوں سمیت سبھی سرکردہ لیڈروں کو باہر نکال دیا ۔ان کے نہ تو کسی دوسرے نیتا کی بات وہ سنتے تھے اور نہ ہی ایماندار افسروں کی ۔کیجریوال کی ہار کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کے دہلی کے لوگوں کے من میں خدشہ بیٹھ گیا تھا کے عام آدمی پارٹی نے جو وعدیٰ کیا ہے اس کو پورا کرنا مشکل ہے۔کیجریوال اکثر یہ دعویٰ کرتے تھے کے ایل جی ہمیں کام نہیں کرنے دیتے ۔تو جنتا نے فیصلہ کیا کیوں نہ بی جے پی کو واپس لایا جائے تاکہ سرکار اور ایل جی میں بہتر تال میل ہو دہلی کی ترقی ہو۔کیجریوال کی ہار کی ایک بڑی وجہ کانگریس سے اتحاد توڑنا ۔شیلا دکشت کے لڑکے سندیپ دکشت نے کیجریول کو جتنا بے ناقاب کیا نقصان پہنچایا اتنا شائد سواتی مالیوال،کمار وشواس نے بھی نہیں کیاکیجریوال کو اتنا گرور ہو گیا تھا کے انہوںنے کانگریس سے اتحاد توڑ کر سوچا کے میں اکےلے ہی مودی کا مقابلہ کروں گا۔ان کی ضمانت کی شرتوں میں ایک یہ شرط بھی تھی کے وہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کا م نہیں کر سکتے اس سے بھی جنتا میں اثر پڑا اگر انہیں چن بھی لیا گیا تو وہ وزیراعلیٰ کا فرائض تو نہیں نبھا سکتے کیجریوال کا کہنا تھا کے وہ عام آدمی ہے اور وزیراعلیٰ بننے کے بعد بھی عام آدمی کی طرح رہیں گے ۔لیکن یہ چھوٹھ ثابت ہوا ان کی پارٹی میں کوئی جمہوریت نہیں ہے ۔وہ ہٹلری انداز میں کام کرتے ہیں اب جب وہ ہار گئے ہیں تو ساری باتیں سامنے آنے لگیں ان کی ہار کا تجزیہ ہوگا موٹے طور پر اب انہیں سوچنے سمجھنے اور اپنے میں سدھار کرنے کا موقع دہلی والوں نے دے دیا ہے۔وقت کے ساتھ سیاست میں کوئی ختم نہیں ہوتا ۔کیجریوال کو بھی ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...