Translater

24 دسمبر 2011

اور اب مسلم ریزرویشن کاپتاّ


Published On 24th December 2011
انل نریندر
مرکزی کیبنٹ نے جمعرات کو اقلیتوں کے لئے ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دیکر مسلمانوں میں کارڈ کھیل دیا ہے۔ اب پسماندہ طبقوں کے لئے مقرر 27 فیصدی ریزرویشن میں سے یہ ساڑھے چار فیصدی حصہ اقلیتوں کے لئے ہوگا۔ اسے آنے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کا مینڈیٹ بڑھنے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔بدعنوانی، لوکپال ، بلیک منی جیسے برننگ اشوز سے گھری یوپی اے حکومت نے اپوزیشن میں تقسیم اور دیش کی توجہ پیچیدہ مسائل سے ہٹانے کیلئے یہ قدم اٹھایالگتا ہے۔ جمعرات کو غذا کا حق دینے والے بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے والی منموہن سنگھ حکومت نے شام کو ہی تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کو ریزرویشن کاتحفہ دے کر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ کچھ برس پہلے رنگناتھ مشر کمیشن نے مسلمانوں کی حالت کو بہتر کرنے کیلئے ریزرویشن کی سفارش کی تھی لیکن آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لئے پسماندہ طبقوں کی فہرست میں اقلیتوں کو ریزرویشن دے کر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کتنی کارگر ہوگی یہ تو مستقبل ہی بتائے گا۔ سیاسی مجبوریوں کے چلتے حکومت نے مسلم ریزرویشن بیشک کردیا ہے یا کرنے کی نیت صاف کردی ہے لیکن سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ٹھہرپاتا ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ دس سال پہلے اترپردیش کی اس وقت کی بھاجپا سرکار کی ایسی پہل پر روک لگا چکی ہے۔
اترپردیش کے وزیر اعلی رہنے کے دوران راجناتھ سنگھ نے پچھڑے طبقوں کو27 فیصدی کوٹے سے ہی انتہائی پسماندہ طبقوں کو الگ سے ریزرویشن کے لئے سماجی انصاف کمیٹی بنائی تھی۔ کمیٹی کی ہی سفارش پر اترپردیش حکومت نے اسمبلی سے پاس یوپی لوک سیوا (درجہ فہرست ذاتوں و شیڈول قبائل ریزرویشن) ترمیم ایکٹ 2001 ء لاگو تو کردیا لیکن اسی حکومت کے وزیر سیاحت رہے اشوک یادو نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جبکہ کچھ دیگر تنظیمیں بھی سرکار کے خلاف سپریم کورٹ گئی تھیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے راجناتھ سنگھ سرکار کے اس فیصلے پر روک لگا دی تھی۔ اس درمیان پسماندہ طبقوں کے ہی کوٹے سے مسلمانوں کو ریزرویشن کی پہل پر یادو نے کہا کیونکہ کوٹے کے اندر ایک اور کوٹے پر سپریم کورٹ 10 سال پہلے روک لگا چکا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت مسلم ریزرویشن کو لیکر اگر واقعی سنجیدہ ہے تو آئین میں ترمیم لائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ الگ الگ پارٹیوں کی رہنمائی کرنے والے پسماندہ طبقوں کے کئی نیتا جن میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ پسماندہ طبقے کے کوٹے سے مسلم ریزرویشن کے خلاف ہیں۔ لیکن مسلم کوٹے کے چلتے وہ کھل کر اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔ سیاسی پارٹیاں صرف ایسا اس لئے کررہی ہیں کیونکہ وہ آنے والے چناؤ میں مسلم فرقے کے تھوک میں ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ مسلم ریزرویشن کی وکالت کرنے والی پارٹیوں کے پاس اس سوال کا شاید ہی کوئی جواب ہو کے انہیں ابھی تک اس فرقے کی پسماندگی کیوں نہیں نظر آئی؟ کیا ریزرویشن سے مسلم فرقے کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟ ہمارے مسلمان بھائیوں کی ایک بڑی پریشانی یہ ہے کہ اتنے برسوں بعد بھی انہیں صحیح لیڈر شپ نہیں مل سکی۔ جو نیتا خود کو ان کا ہتیشی بتاتے ہیں ان کی دلچسپی صرف ان کے ووٹ لینے میں ہے یہ ایک سچائی ہے۔ مسلم فرقہ پسماندگی سے دوچار ہے لیکن اس بنیاد پراسے قومی دھارا سے باہر قراردینا اور اسے جان بوجھ کر ایک دائرے میں محدود کرنا ہے۔
تعلیم کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پچھلے دنوں ایک کانفرنس ہوئی تھی اس میں بتایا گیا کہ دہلی کے اسکولوں میں سینکڑوں ٹیچروں کی اسامیاں خالی ہیں۔ انہیں بھرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ سچر کمیٹی کی سفارشیں بھی مسلم فرقے کا معیار بڑھا سکتی ہیں۔ لیکن افسوس سے کہا جائے گا کہ اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ جب تک مسلم سماج میں تعلیم نہیں بڑھائی جاتی تو اس کی فلاح مشکل ہوتی لگ رہی ہے۔ ضرورت تو آج اس کی ہے کہ ایسا کوئی سسٹم بنائیں جس میں ہندوستانی سماج کے جو محروم غریب ہیں ان سبھی کی بھلائی ہو۔کسی بھی ذات یا فرقے یا سیکٹر یا کسی بھی مذہب کے ہوں؟
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Minority, Muslim Reservation, Rangnath Misra, Uttar Pradesh, Vir Arjun

جج انکل! جنک فوڈ کو پلیز بین کرو


Published On 24th December 2011
انل نریندر
بدھوار کو دہلی ہائیکورٹ میں ایک عجیب و غریب نظارہ دیکھنے کو ملا۔ معاملہ تھا دہلی کے اسکولوں اور کالجوں میں جنک فوڈ پر پابندی لگانے کا۔ عام طور پر ہائیکورٹ میں بچاؤ اور مخالف وکلاء اپنی اپنی دلیلیں پیش کرتے نظرآتے ہیں لیکن بدھ کو کچھ اسکولی بچے خود عدالت میں پیش ہوئے اور جنک فوڈ کو بین کرنے کے لئے عدالت سے درخواست کی۔ قائم مقام چیف جسٹس اے کے سیکری کی رہنمائی والی ڈویژن بنچ نے بچوں کی دلیلوں کو کافی سنجیدگی سے لیا اور دوسرے فریقین سے جواب داخل کرنے کو کہا۔
بچوں نے جج انکل سے کہا جنک فوڈ کو بین کرو پلیز۔ بچوں نے درخواست کی جنک فوڈ پر اسکولوں کی کینٹین اور اس کے آس پاس بکری پر بھی پابندی لگائی جانی چاہئے۔ عدالت کے سامنے گوتم نگر کے فادر ایگنل اسکول کے کچھ بچے دہلی ہائی کورٹ میں آئے۔ ان کی عمر قریب12 سے16 سال ہوگی۔ ان اسکولی بچوں کے ساتھ ان کی ٹیچر بھی تھیں۔ اسکولی بچوں کے وکیل نے عزت مآب جج صاحبان سے کہا کہ ان بچوں نے جنک فوڈ کے خلاف ایک مہم چلائی ہے اور عدالت سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ پھر ہائیکورٹ کی ڈبل بینچ ان سے مخاطب ہوئی۔ بچوں کے گروپ سے ایک لڑکی آگے بڑھی اور کہا کہ ہم سب فادر ایگنل اسکول سے ہیں اور ہم جنک فوڈ پر پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے جج صاحبان کی طرف اپنی نمائندگی اور پوسٹ کارڈ بڑھایا۔ قریب15 سال کی اس لڑکی نے ہائیکورٹ کے ججوں سے کہا کہ وہ تمام طلبا کی طرف سے اپیل کررہی ہے جس پر غور کیا جانا چاہئے۔
بچوں کی اس نمائندگی میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جنک فوڈ کھانے سے بچے کاہل ہورہے ہیں اور مستقبل کے لئے یہ جنک فوڈ خطرناک ہے۔تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جنک فوڈ سے بچوں کی ذہانت کمزور ہوتی ہے اور ان کی صلاحیت بھی کمزور ہورہی ہے۔ جنک فوڈ ایک لت کی طرح ہوتے ہیں جو سلو موت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اپنی نمائندگی میں بچوں نے کہا کہ سرکار کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ بچوں کو تو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کے لئے کیا اچھا ہے کیا برا؟ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کہی گئی ہے۔
اگر بچوں کی صحت خراب ہوگی تو دیش کا مستقبل متاثر ہوگا اور دیش کو دور رس نقصان ہوگا۔ عزت مآب جج صاحبان نے کہا بچوں کے ذریعے اٹھائے گئے سوال کافی اہم ہیں۔ انہوں نے فوڈ پروسننگ و تقسیم کار کمپنیوں کی ایسوسی ایشن و مرکزی حکومت سے اس معاملے پر ایک ہفتے میں جواب مانگا ہے۔ اتنا ہی نہیں ڈویژن بنچ نے ان کمپنیوں کی ایسوسی ایشن سے ذائقہ دار غذاکا متبادل بھی تیار کرنے کو کہا ۔ وہیں مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر یعنی سرکاری وکیل ایس مدھوک نے کہا کہ تعلیمی اداروں و اس کے آس پاس جنک فوڈ کی بکری پر پابندی لگانے کے لئے سبھی ریاستی سرکاروں اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کو ہدایات جاری کی گئی تھیں جس کا جواب آنے لگا ہے۔ انہوں نے کہا اگلی سماعت11 جنوری کو ہے اسی دن یہ سب حقائق پیش کردئے جائیں گے۔ جنک فوڈ سے نہ صرف موٹاپا بڑھتا ہے بلکہ شگر جیسی سنگین بیماریاں بھی ہورہی ہیں۔ حال ہی میں ایک سروے میں یہ ثابت ہوا ہے بچوں نے اب خود ہی اس کا بیڑا اٹھایاہے دیکھیں ان کی یہ مہم کیا رنگ لاتی ہے۔ ساری دنیا میں اب اس جنک فوڈ کی مخالفت ہورہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi High Court, Junk Food, Vir Arjun

23 دسمبر 2011

لوکپال بل پر ٹکراؤ کا پورا امکان ہے


Published On 23rd December 2011
انل نریندر
حکومت اور انا ہزارے کا ٹکراؤ اب ہونا یقینی ہے۔ کیونکہ حکومت نے واضح کردیا ہے کہ نہ تو اسے ٹیم انا سے کوئی ڈر ہے اور نہ ہی اب وہ اس کے سامنے جھکنے کو تیار ہے۔ وہ ٹیم انا سے لمبی لڑائی لڑنے کو بھی تیار ہے۔ یہ وارننگ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی دے کر میدان میں آگئی ہیں۔ انہوں نے معاملے میں پوری کمان سنبھال لی ہے۔ سونیا گاندھی نے لوکپال کو بنیاد بناتے ہوئے انا ہزارے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو سیدھا چیلنج کردیا ہے کہ سرکاری لوکپال بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب انا اور اپوزیشن کو مان لینا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کانگریس پانچ ریاستوں کے آنے والے چناؤ میں ان دونوں کی چنوتیوں سے نمٹنے اور لمبی لڑائی کے لئے تیار ہے۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں جارحانہ تیور دکھاتے ہوئے سونیا گاندھی نے پہلی بار لوکپال پر اپنے نظریات رکھے۔ حکومت اور تنظیم کے درمیان کسی بھی اختلافات کو درکنار کرتے ہوئے صاف کہا یہ بل بہت اچھا بنا ہے اور اسے پاس کرانے میں اپوزیشن کو اڑچن نہیں پیدا کرنی چاہئے اور انا ہزارے کو بھی قبول کرلینا چاہئے۔ لیکن انا ہزارے کو موجودہ شکل میں لوکپال بل منظور نہیں ہے۔ سب سے بڑا اختلاف سی بی آئی اور گروپ سی کے افسر شاہوں کو لوکپال کے دائرے سے باہر رکھنے کو لیکر ہے۔ انا نے اپنی مہم تیز کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کو لوکپال کے دائرے سے باہررکھنے کیلئے سرکار کی منشانیتاؤں کو بچانے کی ہے۔ اگر سی بی آئی لوکپال سے باہر رہے گی تو لوکپال کیسے مضبوط ہوگا؟اگر سی بی آئی لوکپال کے ماتحت آجاتی ہے تو وزیرداخلہ پی چدمبرم جیل کے اندر ہوں گے۔ آپ کرپٹ نیتاؤں کو بچا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ مضبوط لوکپال ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ سرکار لوگوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ جنتا اسے سبق سکھا دے گی۔ انا کا کہنا ہے اگلے سال اترپردیش اور دیگر چارریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے جارہے ہیں وہاں یوپی اے سرکار کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔ بل کو مسترد کرتے ہوئے انا نے کہا الگ سے سٹیزن چارٹر بل لانے کے لئے بھی سرکار نے جنتا کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔
عام آدمی کو اپنی شکایت کے ازالے کے لئے مجوزہ مشینری کے تحت بے مطلب یہاں وہاں دوڑنا پڑے گا، یہ لوگوں سے دھوکہ ہے۔ ادھر سرکار نے منگلوار کو کرپشن پر روک لگانے کے لئے اپنی حکمت عملی کے تحت لوک سبھا میں سٹیزن چارٹر بل پیش کردیا۔ بل میں ہر شہری کو طے میعاد طریقے سے یکساں خدمات دستیاب تھیں ساتھ ساتھ شکایتوں کے ازالے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ یعنی سرکاری محکموں میں کونسے کام کتنے دنوں میں ہوں گے ، اس کے لئے کون ذمہ دار ہے یہ پہلے سے بتانا ہوگا۔ ایسا نہ ہونے پرمتعلقہ افسر کے خلاف شکایت کی جاسکے گی۔ ہمیں نہیں لگتا لوک سبھا میں اسی اجلاس میں یہ بل پاس ہوسکے گا؟ کرسمس کی چھٹی کے بعد ایوان کی کارروائی 27،28 اور29 دسمبر تک بڑھانے کو لیکر ممبران میں بھاری اختلاف پایا جاتا ہے۔ کرسمس کے بعد ایوان چلنے کو لیکر خاص طور سے کیرل، اروناچل پردیش کے ممبران کا احتجاج اس لئے ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سے سال کے آخر میں گھروالوں کے ساتھ چھٹی منانے اور دیگر پروگرام بنا رکھے ہیں۔ ان میں بیرونی ملک کے دورے بھی شامل ہیں۔
ادھر بھاجپا سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا بھی لوکپال بل پر موقف واضح نہیں ہے۔لوکپال کی کئی شقوں پر اب بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔سرکاری ترجمان کہہ رہے ہیں کہ صرف دو دن میں ہی لوکپال پاس ہوسکتا ہے بشرطیکہ اپوزیشن ساتھ دے اور پاس کرانے میں تعاون دے۔ لیکن سرکاری مسودے کو دیکھنے سے پہلے اپوزیشن خاص طور سے بھاجپا کوئی بھی یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں تھی۔ دوسری اپوزیشن پارٹیاں بھی اپنے سخت تیور بنائے ہوئے ہیں ایسے میں23 دسمبر تک مفصل بحث کے بعد لوکپال بل پاس کرانا ممکن نہیں لگتا۔ اگر پارلیمنٹ میں بل کو لیکر اتفاق رائے نہیں بنا تو آگے کیا ہوگا؟ ممکن ہے کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کو سونپ دیا جائے۔ اس سے سبھی فریقین کا موقف درکار رہے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Vir Arjun

ایک کمیونسٹ تاناشاہ کی موت


Published On 23rd December 2011
انل نریندر
دنیا میں ایک اور تاناشاہ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ نارتھ کوریا کے 69 سالہ سپریم لیڈر اور ورکرس پارٹی آف کوریا کے چیف کم جونگ ال کا انتقال ہوگیا۔ کم جونگ ال کا انتقال تو13 دسمبر کوہوا تھا لیکن سرکاری طور پر اعلان دو دن بعد ہوا۔ کسی دیش کا نیتا جب دنیا کو الوداع کہتا ہے تو اکثر غم کا ماحول بن جاتا ہے لیکن تاناشاہوں کے معاملوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ ان کے جانے سے دنیا راحت کی سانس لیتی ہے۔ کم جونگ کے بارے میں بھی ایسا ہی خیال پایا جاتا ہے۔ جاپان نے تو اس کے انتقال کی خبر سننے کے بعد باقاعدہ سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ بلائی اور پورے دیش سے کسی بھی حالات سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کو کہا گیا۔ امریکہ اور مغربی ممالک نے راحت کی سانس لی۔ نارتھ کوریا کا ایک واحد دوست چین بھی فکرمند ہے چونکہ پیوگ ینگ کے اقتدار میں کوئی تبدیلی اس کے ان تجزیوں کو بگاڑ سکتی ہے جس کے بھروسے چین نے جاپان، ویتنام جیسے پڑوسیوں کے خلاف مورچہ کھولا ہواہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کم جونگ ال کے عہد میں نارتھ کوریا ایک نیوکلیائی طاقت کی شکل میں ابھرا ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سچائی ہے کہ انہیں کے عہد میں نارتھ کوریا نے تاریخ کی سب سے بڑی ٹریجڈی کو بھی جھیلا جس میں لاکھوں لوگ بھوک سے بے موت مارے گئے تھے۔ نارتھ کوریا ویسے تو ایک سماجوادی ملک مانا جاتا تھا لیکن اگر غور سے دیکھیں تو وہ کسی دھارمک کلچر جیسا لگتا ہے جہاں ایک شخص اور اس کا خاندان دیش کی علامت بن جاتا ہے۔ 1994ء میں والد کی موت کے بعد وہ آسانی سے اپنے دیش کے سپریم لیڈر بن گئے۔ تب لگتا تھا کہ وہ زیادہ دن حکومت نہیں چلا پائیں گے۔ مغربی سیاسی ماہرین دراصل موجودہ حکمراں کم یونگ کی ناتجربہ کاری اور خاندان کے دوسرے ممبران سے انہیں ملنے والی چنوتیوں کے اندیشات کے سبب ان نتیجوں پر پہنچے تھے لیکن تب سے ان کا ایک واحد عہد نارتھ کوریا میں چل رہا ہے۔ والد نے دیش کو جس لوہے کی دیوار میں قید کردیا تھا بیٹے نے اسے اور مضبوط بنایا۔ کم جونگ ال رنگین مزاج کے تاناشاہ تھے۔ جونگ نے دو ہزار لڑکیوں کی بھرتی کی تھی۔ انہیں پلیجر گروپوں میں رکھا گیا تھا۔ ایک سے ایک سیکسول سروسوں کے لئے دوسرا مساج اور تیسری ڈانسنگ اور پھر سنگنگ کے لئے ۔جونگ سے ملنے آنے والوں کی تواضع کیا کرتی تھیں۔ جونگ سنیما کے بھی جنونی تھے۔1978 ء میں انہوں نے جنوبی کوریا ئی مقبول فلم ڈائریکٹر شم سانگ آ کے اور اس کی ایکٹریس کو اغوا کروایا۔ دونوں کو پیونگ یانگ لایا گیا جہاں انہیں پانچ سال تک قید رکھا گیا۔ دونوں کو اس شرط پر چھوڑا گیا کہ وہ نارتھ کوریائی فلم صنعت کے فروغ کے لئے مدد کریں گے۔
نیوکلیائی ہتھیار اکٹھا کرنے کی کوشش میں بین الاقوامی برادری سے الگ تھلگ پڑے کم جونگ نے اپنی حرکتوں سے مغربی ملکوں کی ناک میں دم کررکھا تھا۔ سرد جنگ کے بعد اپنا وجود بنائے رکھنے والا نارتھ کوریا اکیلا پرانے ڈھنگ کا کمیونسٹ ملک ہے۔ وہاں کے سیاسی ڈھانچے نے بھی ابھی نیا چولا نہیں پہنا ہے۔ کام کا ج کا خفیہ طریقہ بھی پرانے دور کا ہے۔ حالانکہ کم جونگ کے جانشین 28 سالہ کم جونگ وون کو چنوتی دینے کی کوئی خبر نہیں ہے لیکن نارتھ کوریا میں کسی بھی طرح کی ہلچل چین، جنوبی کوریا، جاپان، امریکہ اور بھارت کے لئے اہم ہوگی۔ نئے حکمراں کی نیوکلیائی پالیسی جنوبی کوریا جاپان ، امریکہ کے لئے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ بھارت کی چنتا کوریا کی پاکستان کے ساتھ نیوکلیائی میزائل رشتے کو لیکر ہوگی۔ بینظیر بھٹو کے دوسرے عہد میں یہ رشتہ پروان چڑھا تھا۔ تب سے جاری ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر میزائلیں نارتھ کوریائی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کم جونگ وون اس رشتے کو آگے قائم رکھتے ہیں یا اس سے آگے کوئی رشتہ بنائیں گے۔ امکان ہے کہ اگر کم جونگ وون نئے حکمراں کی شکل میں محفوظ محسوس کرتے ہیں تو کیا وہ اپنے والد کی ہی پالیسیوں کے مطابق چین سے قریبی رشتے رکھیں گے اور نیوکلیائی مسئلے پر فوج اور پاکستان کی امیدوں کے مطابق کام کریں گے لیکن یہ سب کچھ منحصرکرتا ہے نارتھ کوریا کے اقتدار میں ان کی پکڑ کتنی مضبوط ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, kim jong il, Pakistan, South Korea, Vir Arjun

22 دسمبر 2011

روس میں کیوں ہورہی ہے بھاگوت گیتا کی مخالفت؟



Published On 22nd December 2011
انل نریندر
یہ انتہائی دکھ کی بات ہے روس میں بھاگوت گیتا جیسے مہان دھارمک گرنتھ کو کچھ لوگ ایک انتہا پسند گرنتھ بتا کر اس پر پابندی لگوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ روس کے سائبریا کے تومس کی عدالت میں اسکان کے بانی اے سی بھگت ویدانت سوامی پربھو پات کی لکھی کتاب بھاگوت گیتا یتھا رتھ کے روسی ایڈیشن پر پابندی لگانے کے لئے جون سے ہی معاملہ چل رہا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے پیر کو فیصلہ دینا تھا لیکن اب یہ 28 دسمبر تک ٹال دیا گیا ہے۔ عدالت میں یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ اس کا مواد سماج میں بے چینی پھیلانے والا ہے۔ روس کے لوک پال امبو سیمن ولادیمیر لکن نے اپنا بیان جاری کرکے اعلان کیا تھا کہ اسکان کے بانی اے سی بھگت ویدانت سوامی پربھو پات کی لکھی کتاب 'بھاگوت گیتا از اٹ از'دنیا بھر میں ممنوع کتاب ہے۔ اس پر پابندی لگانے کی مانگ ناقابل قبول ہے۔ ادھر روس میں رہ رہے بھارت ، بنگلہ دیش، ماریشس، نیپال وغیرہ ملکوں کے ہندوؤں نے ایمرجنسی میٹنگ میں اپنے مذہبی حقوق کی حفاظت کے لئے ''ہندو کونسل آف روس'' بنائی ہے۔ ادھر بھارت میں سڑک سے لیکر پارلیمنٹ میں یہ اشو گرمایا ہوا ہے۔ لوک سبھا میں جب اس مسئلے پر بحث چل رہی تھی تو پابندی کے خلاف ایسے نیتا کھڑے ہوئے جن سے کبھی بھی یہ امید نہیں تھی کہ وہ اس پر احتجاج کریں گے۔ میں راشٹریہ جنتا دل کے پردھان لالو پرساد یادو کی بات کررہا ہوں۔ لوک سبھا میں گیتا اور گنگا پر چل رہی بحث کے دوران لالو سرکار پر بپھر پڑے۔ ادھر سماج وادی لالو پر اچانک دھرم کا رنگ چڑھ جانے سے ان کے مخالفین بھی دنگ رہ گئے اور کچھ نے تو چٹکی بھی لی ۔ بھاجپا نے کہا جنتا نے انہیں ریٹائرڈ کردیا ہے اس لئے اب ان پر روحانی رنگ چڑھ گیا ہے۔ حالانکہ کافی ممبران نے روس میں بھاگوت گیتا پر مجوزہ پابندی کے خلاف احتجاج کیا لیکن لالو جی کا انداز سب سے جدا رہا۔ انہوں نے گیتا کے خلاف احتجاج روس میں چلائی جارہی مہم کو ایک گہری سازش قراردیا۔
ممبران کی جانب سے اس بارے میں ناراضگی ظاہر کئے جانے کے دوران لالو بیچ بیچ میں کرشن بھگوان کی جے کرتے رہے۔ اس مسئلے کو لالو کے ساتھ ہی ملائم سنگھ اور بھاجپا کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے بیحد سنگین مانتے ہوئے وزیر اعظم سے معاملے میں مداخلت کرنے کی مانگ کی۔ ہنگامے کے دوران لوک سبھا دو گھنٹے تک ملتوی رہی لیکن لالو اس مسئلے کو ایوان کے باہر سرکار پر دباؤ بنانے کے لئے اپنے مخالفین کو سمجھاتے نظر آئے، میڈیا سے بھی انہوں نے مدد مانگی۔ جب ان سے پوچھا گیا لالو جی آپ تو سماج وادی نیتا ہیں ، گیتا پر آپ اس قدر کیوں مہربان ہیں؟ پھر کیا تھا لالو بھاجپا پر بھی بگڑ گئے اور کہا بھگوان کرشن رام اور گیتا ، رامائن، بھاجپا کا ٹریڈ مارک ہیں کیا؟ انہوں نے کہا کرشن اور گیتا تو یدوواریوں سے جڑی ہیں۔ ہمارے ارادھیہ ہیں۔ بھاجپا والے رام اورکرشن کو بھول چکے ہیں۔ بھگوان رام، گیتا ،رامائن ہزاروں برسوں سے ہندوستانی تہذیب کا حصہ رہے ہیں۔ ان پر حملہ بھارت کی تہذیب اور بھارت کے لوگوں کے مذہبی حقوق پر حملہ ہے لیکن یہاں ایک بات جو مجھے لگتی ہے کہ روس میں جو مخالفت ہورہی ہے وہ سوامی پربھوپت کی مترجم بھاگوت گیتا پر ہورہی ہے۔ ہوسکتا ہے روس میں ایک طبقہ گیتا کے اس ترجمے سے متفق نہ ہو۔ انہوں نے سنسکرت اور ہندی میں گیتا کی مخالفت نہیں کی۔مجھے یقین ہے جو گرنتھ صدیوں سے انسان کا مارگ درشک رہے ہیں ان پر نامناسب واویلا جلدختم ہوجائے گا۔ روسی سرکار اس احتجاج کو ناجائز مان رہی ہے اور یقینی طور سے روسی عدالت بھی اس احتجاج کو مسترد کردے گی۔ جے کرشن۔ پھر مجھے بھروسہ ہی نہیں یقین ہے کہ ہمارے روسی بھائی اس کٹر پسند کی طرف دیش کو پھر سے نہیں لے جانا چاہیں گے جسے انہوں نے اتنی محنت اور مشقت سے باہر نکالا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Geeta, Russia, Vir Arjun

سونیا گاندھی کا ڈریم پروجیکٹ غذائی سکیورٹی بل



Published On 22nd December 2011
انل نریندر
کانگریس صدر سونیا گاندھی کا ایک ڈریم پروجیکٹ حقیقت بننے جارہا ہے۔ سونیا گاندھی کے ویٹو سے غذائی سکیورٹی بل کو مرکزی کیبنٹ نے منظور کرلیا ہے۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں اس بل پر زیادہ بحث نہیں ہوئی۔ اس بل کو لیکر پوری حکومت پر اتنا زیادہ دباؤ تھا کہ میٹنگ میں اس پر آناً فاناً میں مہر لگ گئی۔ وزیر خوراک شرد پوار اور دوسری ساتھی پارٹیوں کی تشویشات کو بھی یوپی اے صدر کا ''ڈریم'' بتاتے ہوئے اسے اب نہ روکنے کے لئے منموہن سنگھ نے سبھی ساتھیوں کو منالیا۔ ہم سونیا جی کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔دیش میں تقریباً47 فیصدی بچے بھکمری کا شکار ہیں اور ہر سال ہزاروں لوگوں کی بھکمری اور غذا کی قلت کی وجہ سے موت ہوجاتی ہے۔ پچھلے دنوں آئی اقوام متحدہ کی انسانی فروغ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں فی شخص آمدنی تو بڑھی ہے مگر اسی کے ساتھ بھوکے لوگوں کی بھی تعداد بڑھی ہے۔ اس سنگین مسئلے کے پیش نظر اگر حکومت نے دیش کے تقریباً 63.5فیصدی آبادی یعنی گاؤں اور شہر کے تقریباً80 کروڑ غریب لوگوں کو کھانے کا بنیادی حق دلانے والا قانون بنانے کی سمت میں پہل کرتے ہوئے اس غذائی سکیورٹی بل کو منظوری دی ہے تو اس کو ایک فلاحی قدم کے طور پر مانا جائے گا۔ اس کا اس حد تک خیر مقدم کیا جانا چاہئے لیکن نیک ارادے رکھنا اور انہیں حقیقت میں بدلنا آسان نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اتنا روپیہ آئے گا کہاں سے؟ اس قانون کے نافذ کرنے میں سرکار پر پہلے سال میں 95 ہزار کروڑ روپے کی سبسڈی کا بوجھ آئے گااور یہ تیسرے سال تک ڈیڑھ لاکھ کروڑ ہوجائے گا۔حال میں سرکار31 ہزار کروڑ روپے غذائی سبسڈی پر خرچ کررہی ہے۔ اس کے علاوہ تیسرے سال میں دیش کی زرعی پیداوار کے ذخیروں کے لئے گودام بنانے کیلئے 50 ہزار کروڑ روپے کی مزید رقم کی ضرورت ہوگی۔ ہمارے موجودہ سسٹم میں ہمارے پاس اتنے گودام نہیں کہ گیہوں اور سبزی کے ذخیروں کو محفوظ رکھا جائے۔ کسان اپنی فصل ضائع کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ ویسے بھی دیہات میں ہر شخص کو دو وقت کی روٹی روزی مل ہی جاتی ہے۔ ایک حقیقت ہمارے دیش کی یہ بھی ہے کہ سرکار کے ذریعے چلائی جارہی کسی بھی اسکیم فائدہ اس صارفین تک نہیں پہنچتا جس کے لئے یہ لاگو کی گئی ہیں۔ تباہ کن راشن سسٹم پر غذائی سکیورٹی بل کا بوجھ ڈالنے کا کہیں یہ مطلب نہ نکلے کہ غذائی سبسڈی میں لوٹ مار دوگنی ہوجائے؟ سرکار اسی بیمار راشننگ سسٹم کے بھروسے دیش کی تین چوتھائی عوام کو کفایتی دام پر اناج باٹنے کی اسکیم اتنی آسان نہیں ہوگی کہ اناج کی یہ لوٹ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گوداموں سے لیکر راشن کی دوکانوں تک ہوتی ہے۔
راشن سسٹم میں فی الحال 35 کروڑ لوگوں کو سستا اناج چاول تقسیم کیا جاتا ہے؟ مجوزہ بل میں اب 80 کروڑ لوگوں کو راشن دینے کی سہولت رکھی گئی ہے ظاہر ہے کہ موجودہ راشن سسٹم کیلئے یہ بڑا بوجھ ہوگا۔ اس کے باوجود سرکار نے راشن سسٹم میں قابل غور اصلاحات کرنے پر زور نہیں دیا۔ جب تک پبلک سسٹم کو چست درست نہیں کیا جاتا ہمیں نہیں لگتا سونیا جی اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں گی۔ یہ کم تعجب کی بات نہیں کہ جب سرکار اور اپوزیشن ٹیم انا کے درمیان لوک پال بل کو لیکر ہونے والی کھینچ تان کے شورو غل میں دیش ڈوبا تھا تب کانگریس صدر سونیا گاندھی اپنے غذائی سکیورٹی بل کو لیکر سب سے زیادہ سنجیدہ تھیں۔ کیا یہ اس لئے لایا گیا ہے کہ لوکپال سے بڑی لکیر کھینچی جاسکے یا پھر اس لئے لایا گیا ہے کہ اترپردیش کے سیاسی دنگل میں راہل کو غذائی سکیورٹی بل کا ہتھیار مہیا کرایا جائے ۔تاکہ آنے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس پارٹی کو اس کا سیاسی فائدہ مل سکے؟
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Food Security Bill, Manmohan Singh, Sonia Gandhi, Vir Arjun

21 دسمبر 2011

اجیت سنگھ یوپی میں کانگریس کی طاقت بڑھائیں گے


Published On 21th December 2011
انل نریندر
راشٹریہ لوک دل کے صدر اجیت سنگھ نے اس بار بھی ایتوار کو ہی مرکزی وزیر کی شکل میں عہدہ سنبھالا ہے۔ یہ اتفاق ہے وہ چوتھی بار مرکز میں وزیر بنے ہیں اور ہر بار ان کی حلف برداری ایتوار کو ہی ہوئی ہے۔ راشٹرپتی بھون میں ایک مختصر اور سادہ تقریب میں صدر محترمہ پرتیبھا پاٹل صاحبہ نے انہیں عہدۂ راز داری کا حلف دلایا۔ اجیت سنگھ کے لوک سبھا میں پانچ ممبر ہیں۔ منموہن سنگھ سرکار کی یہ تیسری کیبنٹ ردو بدل تھی۔ 73 سالہ اجیت سنگھ مرکزی کیبنٹ میں 33 ویں وزیر بنے ہیں۔ اس موقع پر کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کی موجودگی اہم تھی کیونکہ ان کی پہل پر ہی راشٹریہ لوکدل اور کانگریس کے درمیان اگلے سال ہونے والے اترپردیش اسمبلی چناؤ کو مل کر لڑنے کا معاہدہ پروان چڑھا ہے۔ اجیت سنگھ کے یوپی اے میں آنے سے لوک سبھا میں272 سے بڑھ کر277 ہوگئی ہیں۔اجیت سنگھ کو یوپی اے میں شامل کرکے راہل گاندھی نے اپنی خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیبنٹ کی اس مختصر توسیع کے بعد کانگریس اترپردیش کے مغربی اضلاع کی تقریباً140 اسمبلی سیٹوں پر خود مضبوط مان رہی ہے۔حال ہی میں یوپی کے اپنے رابطہ مہم کے بعد لوٹے راہل گاندھی نے تقریب میں اجیت کے بیٹے جیانت سے بھی کافی دیر تک بات چیت کی۔ راہل اور جیانت ایک ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ بعد میں چائے پانی کے بعد بھی راہل نے اجیت سنگھ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں مبارکباد دی۔ اخبار نویسوں کی جانب سے راہل سے اترپردیش کے دورہ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ میرا دورہ کامیاب رہا۔ خاص کر کانپور کی ان کی ریلی میں سب سے زیادہ بھیڑ آئی جہاں مایاوتی کا ووٹ بینک انتہائی پسماندہ طبقے کے لوگ بھاری تعداد میں آئے۔ لیکن جب راہل کی فروخ آبادکی ریلی میں خوردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کے ان کے اعلان کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے چلے گئے ابھی اس مسئلے پر زیادہ بات نہیں کریں گے۔ اجیت سنگھ بھی مانتے ہیں کہ راشٹریہ لوکدل کانگریس اتحاد سے اترپردیش اسمبلی چناؤ کی تصویر بدل جائے گی۔کانگریس یوپی چناؤ کو لیکر کافی حوصلہ افزا ہے اس کی ایک وجہ اور بھی ہے۔ اسٹار نیوز اور اے سی نیلسن نے حال ہی میں ایک چناؤ سروے کیا ہے جس میں اترپردیش کے لوگوں کی رائے جاننے کیلئے نومبر۔ دسمبر کے مہینے میں یہ سروے کیا تھا۔ اس کے مطابق بسپا کی حالت پتلی ہے۔ انہیں120 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ جبکہ پچھلی بار بسپا کو206 سیٹیں ملی تھیں۔ سب سے زیادہ فائدہ سماجوادی پارٹی کو ہوتا نظر آرہا ہے۔ سپا کی سیٹیں 97 سے بڑھ کر135 تک پہنچ سکتی ہیں۔ چناؤ میں سب سے زیادہ ووٹ فیصد کانگریس کا بڑھنے کا اندازہ ہے۔ کانگریس کو 17 فیصدی ووٹ اور 68 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ سال2007 ء میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو8.6 فیصد ووٹ ملے تھے اور سیٹیں 22 ملی تھیں۔ کانگریس راشٹریہ لوکدل اتحاد کے بعد یہ تعداد (کانگریس70، آر ایل ڈی15) سیٹیں تک پہنچ سکتی ہے۔ بھاجپا کی سیٹ اور ووٹ فیصد بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ بھاجپا کو پانچ فیصد ووٹ زیادہ ملے گا اس کے ساتھ 65سیٹیں اس کو مل سکتی ہیں۔ ابھی چناؤ میں وقت ہے یوپی کی سیاست شباب پر ہے دعوے سے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ چناؤ آتے آتے تصویر بدل سکتی ہے لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ راہل گاندھی کی کڑی محنت سے کانگریس کو ریاست میں ضرور فائدہ ہونے جارہا ہے۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, RLD, Uttar Pradesh, Vir Arjun

سیاسی بھونچال کے درمیان زرداری کا لوٹنا آگ میں گھی کا کام کرے گا


Published On 21th December 2011
انل نریندر
پاکستان میں یہ افواہ غش کررہی تھی کہ صدر آصف علی زرداری ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئی ہے۔ کہا تو یہ جارہا تھا کہ فوج کے دباؤ میں زرداری دوبئی بھاگ گئے ہیں اور وہاں سے لندن جائیں گے، انہیں کوئی بیماری نہیں۔ لیکن زرداری نے وطن لوٹ کر سب قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔ وہ پیر کے روز دوبئی سے پاکستان لوٹ آئے ہیں۔ زرداری تقریباً15 دن دوبئی میں رہے۔ صدارتی محل کے ترجمان اعجاز درانی نے ایک بیان میں کہا زرداری صاحب پوری طرح صحت یاب ہوچکے ہیں اور اب وہ تندرست ہیں۔ اسلام آباد جانے سے پہلے وہ کراچی میں ہیں رہیں گے اور جلد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ حالانکہ جنوری میں واپسی سے ان کے تختہ پلٹ کی قیاس آرائیاں تھم گئی ہیں۔ لیکن پاکستان کے زیادہ تر لیڈر ایک بار جب ملک سے باہر جاتے ہیں تو دوبارہ خالی ہاتھ ہی لوٹتے ہیں۔ ہمارے سامنے دو مثالیں ہیں پہلی بینظیر بھٹو کی ہے جو کرپشن کے الزام لگنے کے بعد جب صدر نے بے نظیر کی حکومت کو برخاست کیا تھا اور 1997ء کے انتخابات میں بھٹو کو ہار ملی تو وہ خود جلاوطن کی زندگی بسر کرنے کے لئے دوبئی چلی گئی تھیں۔ کسی طرح2001 سے2008 تک صدر رہے جنرل پرویز مشرف کے خلاف جب تحریک ملامت کی تجویز لائی جانی تھی تو وہ 18 اگست2008ء کو استعفیٰ دے کر لندن چلے گئے اور تب سے وہی مقیم ہیں۔ حالانکہ وہ اب کہہ رہے ہیں کہ جنوری2012ء میں وہ وطن لوٹ رہے ہیں۔ زرداری کی واپسی سے پاکستان کی سیاست میں آیا طوفان شاید ہی رک پائے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ میموگیٹ کے بعد پاکستانی فوج زرداری اور ان کی حکومت کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی ہے۔ القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا خفیہ طور پر خلیجی ممالک کے دورے پر گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے صدر زرداری کو معزول کرنے کی پوری اسکیم بنا لی تھی۔ اس کے لئے انہوں نے عرب ممالک کے لیڈروں سے اجازت بھی لے لی تھی۔ پاکستانی نژاد امریکی کاروباری منصور اعجاز نے گذشتہ مئی میں اپنے بلاگ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ 2 مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ کے مارے جانے کے بعد جب اچانک شجاع پاشا غائب ہوئے تھے تب وہ عرب ممالک کے دورے پر تھے۔ اعجاز نے ہی تختہ پلٹ کے اندیشے کے چلتے زرداری کے ذریعے امریکہ سے مدد کے لئے لکھے گئے خفیہ خط کو اجاگر کیا تھا۔ برطانوی اخبار 'دی انڈیپینڈنٹ ' کے صحافی عمر ورائچ کے حوالے سے ٹی وی چینل جی او نیوز نے یہ خبر دی ہے۔ ادھر پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق کیانی نے پہلی بار خفیہ میمورنڈم کے وجود کو مانتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوج اور قومی سلامتی کے خلاف سازش تھی اور اس کی گہری جانچ ہونی چاہئے۔ کیانی نے یہ بات اس معاملے کو لیکر پاکستانی سپریم کورٹ میں دائر اپنے حلف نامے میں کہی ہے۔ عدالت ہذا میں اس معاملے کی جانچ کرانے سے متعلق 9 عرضیاں دائر ہوئی ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں صدر آصف علی زرداری سمیت 10 فریقین کو15 دسمبر تک اپنے جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈو کے ذریعے اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد فوجی تختہ پلٹ کے اندیشے کے چلتے زرداری نے مدد کے لئے اسامہ انتظامیہ کو ایک خفیہ خط لکھا تھا جس کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی سیاست میں بھونچال آگیا تھا۔ اس معاملے میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ خفیہ میمورنڈم کے بارے میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری منصور اعجاز کی جانب سے دئے گئے ثبوتوں سے مطمئن ہے جبکہ کیانی کا مطالبہ ہے کہ امریکی فوج کو بھیجے گئے خفیہ میمو سے وابستہ ساری سچائی سامنے لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے اس معاملے سے ان کے فوجیوں کا حوصلہ پست ہوا ہے۔ حالانکہ زرداری کی جانب سے عدالت میں کوئی جواب نہیں پیش کیا گیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے معاملے کی جانچ کرنے والی اپیلیں خارج کردی جائیں کیونکہ جانچ سے پہلے ہی ایک پارلیمانی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ میموگیٹ کو لیکر پاکستان میں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اگلے سال ہونے والے سینٹ چناؤ کے ٹال مٹول کے لئے ان کی حکومت کے خلاف سازشیں رچی جارہی ہیں۔ لاہور میں ایک پرائیویٹ پروگرام میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں گیلانی نے کہا سبھی سازشیں چناؤ کو روکنے کے لئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے پاکستان میں مارشل لاء کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ گیلانی نے کہا سازشوں کے پیچھے کون ہے۔ لیکنان کے بیان سے صاف ہے ان کا اشارہ فوج کی طرف ہے۔ پاکستان کی سیاست میں بھونچال رکنے والا نہیں۔یہ لڑائی فوج بنام منتخب جمہوری زرداری حکومت کے درمیان ہے۔ فوج کی خفیہ حمایتی دوسری سیاستی پارٹیاں ہیں۔ نواز شریف اور عمران خاں اپنی اپنی روٹیاں سینکنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی فوج ہر حالت میں زرداری اینڈ کمپنی کی چھٹی کرنی چاہتی ہے۔ اس لئے کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟ ایک بار پھر پاکستان سیاسی چوراہے پر کھڑا ہوا ہے۔
Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

20 دسمبر 2011

کسان اپنی فصل خود ضائع کریں یہ ہے میرا بھارت مہان


Published On 20th December 2011
انل نریندر
ہندوستان ایک زرعی کفیل ملک ہے اور ملک کی قریب70 فیصد عوام کھیتی پر منحصر ہے۔ اس نکتہ نظر سے زراعت اور کسان دیش کے لئے سب سے اہم ہونے چاہئیں۔ ہماری سبھی سیاسی پارٹیاں کسانوں کے لئے آنسو بہانے میں کبھی پیچھے نہیں رہیں۔ ان کو حقیقت میں کسانوں سے کتنی دلچسپی ہے اس کا نمونہ ہمیں پارلیمنٹ سے ملتا ہے۔ جمعرات کو راجیہ سبھا میں کسانوں کے بحران پر بحث ہورہی تھی۔ قارئین کو یہ جان کر تعجب و دکھ بھی ہوگا کہ بحث کے دوران راجیہ سبھا کے245 ممبران میں سے صرف قریب50 ممبران ہی موجودتھے۔ یہ ہی نہیں کئی ممبر اپنی بات کہنے کے بعد ایوان چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب عوامی اہمیت کے کسی مسئلے پر بحث میں اتنے کم ممبران ایوان میں موجود رہیں۔ جب اتنی معمولی موجودگی ہو تو بحث کا معیار کیا ہوگا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چونکانے والے حقائق یہ ہیں کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 1994 سے2010 تک یعنی 16 برسوں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں خودکشی کا یہ سلسلہ تیزی سے بڑھا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسانوں کی حالت گذشتہ برسوں میں زیادہ خراب ہوئی ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ مرکزی وزیر زراعت شرد پوار کی آبائی ریاست مہاراشٹر اس معاملے میں سب سے اول ہے۔ آج زراعت کی یہ حالت ہے کہ کسان اپنی فصلیں خود ضائع کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ آلو کی پیداوار کرنے والے کسانوں نے جمعرات کو پنجاب کے کئی شہروں میں اپنی آلو کی فصل کو سڑک پر بکھیر دیا۔ حالانکہ پولیس و انتظامیہ نے 200 ٹرالی الٹنے سے روک لیا۔ پھر بھی ناراض آلو کسانوں نے 45 ٹرالی سڑکوں پر الٹ دیں۔ اس وقت ہریانہ، پنجاب میں آلو کی اتنی درگتی ہورہی ہے کہ کسان انہیں مفت میں دے رہے ہیں۔ 50 کلو کی ایک بوری کی قیمت محض30 سے40 روپے رہ گئی ہے۔ کسان بیج کے لئے کولڈ اسٹوریج میں رکھے آلو تک نہیں اٹھا رہے ہیں۔ کسانوں کے ذریعے آلو کی فصل کو سڑکوں پر پھینکنے جانے کے سبب امرتسر میں قریب دو گھنٹے تک ٹریفک جام رہا۔ جالندھر آلو پروڈیکٹ ایسوسی ایشن و آل کسان یونین نے دو دن پہلے حکومت کو اس معاملے میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی بات نہیں سنی گئی تو وہ آلو کی فصل کو سڑکوں پر بکھیر دیں گے اور اپنی ناراضگی ظاہر کریں گے۔ ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ اس وقت قریب 20 لاکھ کوئنٹل آلو کولڈ اسٹوریج میں پڑا ہوا ہے۔ جالندھر کے علاوہ راجستھان، چنڈی گڑھ سے ملحق پنجاب کے موہالی میں بھی کسانوں نے آلو کو سڑکوں پر ڈال کر سرکار کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ بدقسمتی دیکھئے جمعرات کو جس آلو کی تھوک قیمت80 پیسے کلو رہی ،کیرل کی منڈی میں وہی آلو18 روپے کے بھاؤ پر بکا، راجدھانی دہلی میں یہ 10-12 روپے کلو بک رہا ہے۔ یہ بازار کی اور ہمارے سرکاری سسٹم کی پول کھولنے کی اس سے بہتر مثال نہیں ہوسکتی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری ساری کوشش کے باوجود، ہماری ساری اسکیموں کے باوجود کسان کو اس کی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل پاتی۔ کسان خودکشی کرنے پر اور اپنی فصل کو ضائع کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اور صارفین بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ کسانوں کی خودکشی کے اعدادو شمار چونکانے والے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری زراعت گہرے بحرانی دور سے گذر رہی ہے۔ جب کسی وجہ سے فصل چوپٹ ہوتی ہے تب تو کسان مصیبت میں ہوتا ہی ہے جب پیدوار اچھی ہوتی ہے تب بھی پیداوار کے واجب دام نہ مل پانے کے سبب پریشانی کھڑی ہوجاتی ہے اور وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ کسانوں کی پریشانی کے پیش نظر سوامی ناتھن کمیشن نے کئی اہم سفارشیں کی تھیں لیکن انہیں آج تک نافذ نہیں کیا گیا۔ اس مسئلے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے اور سبھی پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ وہپ جاری کریں تاکہ بحث کے دوران سارے ایم پی موجود ہوں۔ یاد رہے دیش کی اصلی ترقی تبھی ہوگی جب ہمارے کسانوں کی ترقی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Farmers Agitation, Farmers Suicide, Vir Arjun

18 دسمبر 2011

یوپی میں راہل گاندھی نے چلا اپنا مسلم کارڈ



Published On 18th December 2011
انل نریندر
کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی آج کل اترپردیش کے دورے پر ہیں۔ جیسا کہ میں نے اسی کالم میں کچھ دن پہلے لکھا تھا۔ جیسے جیسے اترپردیش اسمبلی چناؤ قریب آئیں گے۔ سیاسی پارٹیاں اپنے ترکش سے سبھی جمع تیر چلائیں گی۔ ان میں مسلم کارڈ بھی شامل ہیں۔ راہل گاندھی نے مسلم کارڈ چل دیا ہے۔ بدایوں میں ایک ریلی میں راہل نے یہ کارڈ چلا۔راہل گاندھی نے اترپردیش کی مایاوتی سرکار پر سچر کمیٹی کی سفارشوں پر جان بوجھ کر عمل نہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کیا آپ کو سچر کمیٹی کی رپورٹ کا فائدہ ملا؟ ہریانہ، دہلی اور مہاراشٹر جائیے وہاں اس رپورٹ پر عمل ہورہا ہے۔ راہل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پردیش کے تین لاکھ بنکروں کے 50 ہزار روپے تک کے قرضے معاف کئے تھے۔ اسمبلی چناؤ سے پہلے پسماندہ کے کوٹے میں مسلمانوں کو الگ ریزرویشن دینے کا اعلان۔ راہل گاندھی کے لکھنؤ دورہ کے دوران دگوجے سنگھ کا پبلک اسٹیج سے ریزرویشن میں مذہبی بنیاد پر امتیاز ختم کرنے کی پیروی کرنے کا وعدہ کرنا اور ایک دن بعد دہلی کے مدرسوں کے ٹیچروں کے مطالبات کو لیکر ان کی قیادت میں کانگریسیوں کی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات۔ کانگریس پارٹی کے ذریعے پچھلے دنوں اٹھائے گئے کچھ ایسے قدم ہیں جن سے اشارے مل رہے ہیں کانگریس اپنے اور مسلمانوں کے بیچ رشتوں کی برف کو پگھلانا چاہتی ہے۔فطری طور سے اس پہل کا زیادہ سہرہ راہل گاندھی کے سر جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ راہل گاندھی نے دونوں ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی کے گڑھ میں بھی حملہ بول دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے گڑھ بدایوں ضلع میں مسلمانوں سے کہا کہ ملائم سنگھ یادو انگریزی اور کمپیوٹر کی پڑھائی کو غیر ضروری بتاتے ہیں جبکہ ان کے اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو ان دونوں ہی چیزوں کی تعلیم ملی ہوئی ہے۔اس مسلم اکثریتی علاقے کے ووٹروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سچر کمیٹی کی سفارشوں کو لاگو کردیا ہے؟ کیا آپ کو اس کا فائدہ ملا؟اترپردیش کی سرکار ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ یہاں 20 سال کے دوران دور اندیشی نہیں دکھائی۔ اس کا نقصان یوپی کی جنتا کو ہی ہوا ہے۔ اترپردیش سرکار پر مرکز کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لئے بھیجے گئے پیسے کا بیجا استعمال کا الزام لگاتے ہوئے یوپی سرکار کے بارے میں کہا کہ راجیو گاندھی کہا کرتے تھے کہ سرکار کے بھیجے گئے ایک روپے میں سے صرف15 پیسے ہی جنتا تک پہنچتے ہیں۔ لیکن اترپردیش میں تو ایک بھی پیسہ جنتا تک نہیں پہنتا۔ راہل نے کہا لکھنؤ میں بیٹھا ہاتھی پیسہ کھاتا ہے۔ یہ دھن نہ تو اترپردیش سرکار کا ہے اور نہ ہی مرکز کا یہ پیسہ ریاست کی ترقی میں آپ کے تعاون سے آیا ہے۔
ہم وہ پیسہ ریاست کی جنتا کے لئے بھیجتے ہیں لیکن اسے ہاتھی کھا جاتا ہے۔ راہل اپنی طرف سے ہر مسلم پہلو کو دیکھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے ادارے ندوۃ العلماء کے صدرمولانا رابع حسنی ندوی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد مولانا نے کہا اچھا لگتا ہے جب ملک کے لیڈر اپنی عوام کے لئے فکر مند نظر آتے ہیں۔ غریبوں کے لئے جذبہ ہونا چاہئے۔ راہل کے لئے یہ موقعہ اچھا تھا اپنے کو مولانا کے سامنے پیش کرنے کا۔راہل نے کہا کہ میں غریب امیر میں فرق نہیں سمجھتا میرے لئے سب انسان ہیں۔ میری کوشش ہے کہ میں ہندوستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مل سکوں۔ سچر کمیٹی سے لیکر مسلم ریزرویشن تک کے اشو پر مولانا سے بات ہوئی۔ انہوں نے اپنے بیباک انداز میں کہا کہ شاہجاں پور میں مایاوتی سرکار پر حملہ بولا اور کہا کہ مایاوتی کا ہاتھی چارا نہیں عام جنتا کا پیسہ کھا رہا ہے۔ یہ سب آپ کا ہی پیسہ ہے جو بسپا سرکار کے وزیروں کی تجوریوں میں جمع ہورہا ہے۔ انہوں نے بسپا کو سب سے بدعنوان بتاتے ہوئے کہا یہاں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ مرکز سے یوپی کے لئے کوئی بھی اسکیم آتی ہے تو اس کا فائدہ لینے والوں کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ اندرا آواس یوجنا کا فائدہ حاصل کرنے والے غریبوں سے افسر 10-10 ہزار روپے وصولتے ہیں۔ منریگا کا حال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔
راہل نے عام جنتا سے اپیل کی کے اس بار پانچ سال کے لئے کانگریس کو موقعہ دیجئے کیونکہ جہاں اس کی سرکار چلتی ہے وہاں ترقی ہوتی ہے۔ پہلے آپ نے سپا کو چنا کچھ نہیں ملا، بسپا پر بھروسہ کیا بدعنوانی گھوٹالے ملے، ذات پات کے جال میں پھنس کر22 سالوں میں یوپی لٹ گئی۔ جیسا میں نے کہا راہل گاندھی سبھی پتے چل رہے ہیں۔ ان کا خاص نشانہ اب مسلم ووٹروں کو راغب کرنا ہے اور انہیں پٹانے کے لئے وہ سب کچھ کررہے ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Muslim, Muslim Reservation, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

میرے بھارت مہان کی ایک تصویر یہ بھی ہے



Published On 18th December 2011
انل نریندر
جمعرات کو اس موسم کا دہلی میں سب سے سرد دن رہا۔ کم از کم درجہ حرارت3 ڈگری سے کم 5.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے تین چار دن تک درجہ حرارت5 سے6 ڈگری سیلسیس کے آس پاس بنا رہے گالیکن اگلے ہفتے سے اس میں اور گراوٹ آئے گی اور ٹھنڈ پڑے گی۔22 دسمبر تک راجدھانی میں بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس کڑاکے کی سردی میں میں جب سوچتا ہوں کہ ہزاروں لوگ آج بھی فٹ پاتھ ، سڑکوں پر سونے کے لئے مجبور ہیں تو میرا دل یہ پوچھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کس بات کے لئے ہم یہ کہتے نہیں تھکتے میرا بھارت مہان ہے؟ ایک طرف تو کہا جاتا ہے ہندوستان دنیا کی گنی چنی بڑھتی معیشت کی علامت ہے اور دوسری جانب آج تک ہم غریب، بے سہارا آدمیوں کے لئے ٹھیک ڈھنگ سے رین بسیرے تک نہیں بنا سکے؟ یہ تسلی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کو ان غریبوں کی فکر ضرور ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے بعد دہلی ہائیکورٹ نے کہا کہ کڑاکے کی اس ٹھنڈ میں ہزاروں بے سہارا لوگوں سڑکوں پر راتیں گذارنے کو مجبور ہے لیکن سرکار اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اسے باعث تشویش قرار دیتے ہوئے عدالت نے ان 84 عارضی نائٹ شیلٹروں کو دوبارہ سے قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے9 اگست کے حکم کو درکنار کر انہیں بند کردیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہائیکورٹ نے ماسٹر پلان2021ء کے حساب سے مستقبل کی ضرورتوں کو دیکھنے کیلئے 184 پختہ رین بسیرے بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے پیر کو اس سے وابستہ معاملوں میں سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو بھی سبھی شہروں میں رین بسیروں کے مناسب انتظام کرنے کو کہا تھا۔
دہلی ہائیکورٹ کی پھٹکار کھانے کے بعد دہلی سرکار کو رین بسیروں کا خیال آیا ہے۔ سرکار کے ملازمین جمعرات کی دیر شام تک عارضی رین بسیرے بنانے اور ان کی تعداد 30 تک پہنچانے میں لگ گئے ۔ پانچ اور رین بسیرے اگلے تین دنوں میں بنائے جائیں گے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق میرے بھارت مہان کی راجدھانی دہلی میں پونے دو لاکھ لوگ آج بھی بے گھر ہیں۔ ان کے لئے بڑی تعداد میں تین بسیروں کی ضرورت ہے لیکن دہلی سرکار کے پاس محض64 رین بسیرے ہیں۔ اگر ہم یومیہ رین بسیرے کا حساب لگائیں تو ان میں 27035 لوگ روزانہ رہ سکتے ہیں لیکن اتنی تعداد نہ ہونے کے باوجود سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان64 رین بسیروں میں زیادہ تر بند پڑے ہیں۔ پچھلے سال84 عارضی رین بسیرے بسائے گئے تھے جن میں17 جل گئے۔52 عارضی رین بسیروں کو یہ دلیل دے کر بند کردیا گیا کے بے گھر لوگ اس میں رہنے کے لئے نہیں آرہے ہیں اور15 رین بسیرے اب بھی چالوہیں۔
یہ دکھ کی بات ہے دہلی سرکار ان بے سہارا لوگوں کے تئیں اتنی لاپرواہ ہے۔ آخر انہیں بھی کڑاکے کی ٹھنڈ میں اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا حق ہے۔ یہ سرکار کا کام ہے انہیں کم سے کم کھلے آسمان میں راتیں گذارنے سے بچائے اور مناسب انتظام کرے۔ سرکار کو خود بھی سوچنا چاہئے اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ ہی پھٹکار لگائے تب جاکر وہ کام کرے۔ میرے بھارت مہان کا ایک اصلی چہرہ یہ بھی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Government, Delhi High Court, India, MCD, Night Shelters, Poor, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...