Translater

03 فروری 2024

پی ایف آئی کے 15 ورکروں کو سزائے موت!

کیرل کی عدالت نے دسمبر 2021 میں الفجا میں بی جے پی کے او بی سی مورچہ کے نیتا رنجیت سرینیواسن کے قتل کے معاملے میں ممنوع تنظیم پی ایف آئی سے جڑے 15 لوگوں کو منگلوار کو موت کی سزا سنائی گئی ۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ جج بھاو¿ لبکارا بی جی شری دیوی نے قصورواروں کو موت کی سزا سنائی گئی ۔مارے گئے سری نیواسن کے خاندان اور بی جے پی نے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ۔پارٹی نے سری نیواسن کو عظیم شہید قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آج انصاف مل گیا ۔بی جے پی کے او بی سی مورچہ کے پردیش سیکریٹری سری نیواسن پر 19 دسمبر 2021 کو ان کے خاندان کے سامنے پی ایف آئی اور شوشل ڈیموکریٹو پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی ) سے جڑے ورکروں نے ان کے گھر پر بے رحمی سے حملہ کر قتل کر دیا تھا ۔وکیل کے مطابق عدالت نے پایا کہ 15 میں سے 8 ملزم سیدھے سیدھے معاملے میں شامل تھے ۔عدالت نے چار لوگوں کو بھی قتل کا قصوروار پایا چونکہ وہ جرم میں برائے راست شامل ہوں گے کے ساتھ خطرناک ہتھیاروں سے مسلح ہو کر واردات پر پہونچے تھے جس کا مقصدسری نیواسن کو بھاگنے سے روکنا اور اس کی چیخیں سن کر گھر میں داخل ہونے والے کسی بھی شخص کو روکنا تھا ۔عدالت نے اس جرم کی سازش رچنے والے تین لوگوں کو قتل کا قصوروار پایا ۔نتیجتاً معاملے کے سبھی 15 ملزمان کو سزائے موت سنائی ۔رنجیت سری نیواسن کے قتل میں قصورواروں کو سزا سناتے وقت کورٹ نے اہم ریمارکس دئیے ۔عدالت کا کہنا تھایہ ایک منظم قتل تھا اور اس کی تیاری مہینوں پہلے شروع ہو گئی ہوگی ۔ہماری رائے ہے کہ ایک لاچار متاثرہ نے کبھی بھی ملزم کو اکسایا نہیں تھا اور جرم کا انجام پہلے سے طے تھا ۔عدالت نے ریاستی سرکار کی رپورٹ پر بھی غور کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ قصوروار شخص کٹر جرائم پیشہ ہے اور اس میں سدھار کا کوئی امکان نہیں ہے اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ملزمان کو سدھارا جا سکے اور ان کو بسایا جاسکے ۔انہوں نے اپنے جرم کیلئے کوئی بھی افسوس بھی نہیں دکھایا اس لئے اس سے سدھار اور بعد ابدکاری کو امکان کرنے والی حالات نہیں مانا جا سکتا ۔کورٹ نے 282 صفحات کے حکم میں کہا کہ یہ سچ ہے کہ یہ دکھانے کیلئے کوئی ریکارڈ نہیں ہے ملزم کو پہلے قصوروار ٹھہرایا گیا تھا ۔سب سے اہم پہلو یہ بھی ہے کہ گھناو¿نے جرم کے سبب محفوظ جگہ یعنی متاثرہ کے گھر میں اس کی ماں ،بیوی اور نابالغ بچوں کی موجودگی میں یہ واردات کی گئی تھی ۔یہ سب جرم کی بے رحمی ظاہر کرتی ہے ۔معاملے میں قصوروار قرار دئیے گئے لوگوں میں نعیم ،اجمل،انوپ ،محمد اسلم ، ابو الکلام ،شرف الدین ،منشاد ،نواز ،نصیر وغیرہ شامل ہیں ۔یہ سبھی پی ایف آئی اور شوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ۔ایس ڈی پی آئی سے جڑے ہوئے تھے ۔سری نیواسن کی بیوی نے کہ ہم واردات کی ایمانداری سے جانچ کرانے کیلئے مقدمہ اور جانچ حکام کے تئیں شکریہ ادا کرتے ہیں جس کے چلتے قصورواروں کو زیادہ سزا ہوئی ہے ۔آخر کار سچائی کی جیت ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

چنڈی گڑھ میئر کا چناو:8ووٹ کا کھیلا!

بی جے پی نے منگل کو چنڈی گڑھ میئر چناو¿ میں جیت حاصل کر لی ہے ۔ساتھ مل کر چناو¿ میں اتری عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے اس پر سوال اٹھائے ۔بی جے پی امیدوار منوج سونکر نے کانگریس حمایتی عآپ پارتی کے کلدیپ کمار کو ہرایا۔سونکر کو 16 ووٹ ملے جبکہ کلدیپ کے حق میں 12 ووٹ آئے ۔8 ووٹوں کو غیر اائینی قرار دے دیا گیا ۔عآپ نے پنجاب ،ہریانہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر دی گئی ہے جس میں مانگ کی گئی ہے کہ میئر چناو¿ منسوخ ہواور یٹائر جج کی نگرانی میں دوبارہ چناو¿ ہوں ۔دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے منگلوار کو کہا کہ چنڈی گڑھ میئر چناو¿ میں دن دہاڑے جس طرح سے بے ایمانی کی گئی وہ بے حد تشویشناک بات ہے ۔اگر ایک میئر کے چناو¿ میں یہ لوگ اتنا گر سکتے ہیں تو دیش کے چناو¿ میں یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا بے ایمانی کر کے بی جے پی کو جتا دیاگیا ۔دیش کی جمہوریت کیلئے یہ غنڈہ گردی بے حد خطرناک ہے ۔آج کا دن جمہوریت کیلئے کالا دن ہے ۔چنڈی گڑھ میئر چناو¿ میں میئر سمیت سبھی تین عہدوں پر بی جے پی امیدوار کی جیت اور کانگریس آپ اتحاد کے امیدواروں کی ہار کے بعد کیجریوال کا یہ رد عمل سامنے آیا ہے ۔ادھر بی جے پی صدر جے پی نڈا نے چنڈی گڑھ میئر چناو¿میں انڈیا کی ہار پر طنز کیا اور کہا کہ ان کے امیدوار کی ہار سے پتہ چلتا ہے کہ نا تو ان کا کوئی حساب کتاب کام کررہا ہے اور نا ہی ان کی کیمسٹری ۔اروند کیجریوال نے کہا کہ پورے دیش نے دیکھا کہ چنڈی گڑھ میئر چناو¿ میں کیا ہوا سبھی نے دیکھا انہوں نے کس طرح ووٹ چرائے اور اپنے امیدوار کو طاقت کے زور پر جتایا ۔مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میئر کون بنتا ہے ،لیکن دیش نہیں ہارنا چاہیے ۔اور جمہوریت نہیں ہارنی چاہیے ۔کیجریوال نے کہا کانگریس عآپ اتحاد کے پاس واضح اکثریت تھی اور یہ سیدھا چناو¿ ۔8 ووٹ یا کل ووٹوں کا 25 فیصد غیر آئینی ڈکلیئر کر دیا گیا ۔یہ کس طرح کا چناو¿ تھا۔پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے چناو¿ میں دھوکہ دھڑی کا الزام لگایا اور کہا کہ اس دن کا ہماری دیش کی تاریخ میں کالے دن کے طور پر یاد کیا جائے گا ۔میئر عہدے کیلئے نتیجہ اعلان ہوتے ہی اپوزیشن اتحاد انڈیا کے دونوں کونسلروں نے ہنگامہ کر دیا ۔پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے الیکٹرول افسر انل مسیح پر کاو¿نٹنگ کے دوران ووٹوں پر کچھ نشان بنا کر انہیں غیر آئینی قرار دینے کا الزام لگایا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انل مسیح بی جے پی کے اقلیتی سیل کے عہدیدار ہیں جنہیں الیکٹرول افسر بنایاگیا ۔مان نے کہا کہ میری مانگ ہے کہ الیکٹرول افسر کے خلاف ملک بغاوت کا معاملہ درج ہونا چاہیے ۔انہوں نے جمہوریت کا قتل کیا ہے ۔کانگریس کے تنظیمی جنرل سیکریٹیری کے سی وینو گوپال نے کہا کہ جمہوری نظام پر بے رحمی کی طرح قبضہ کیا گیا ۔میئر چناو¿ جیتنے کیلئے اپوزیشن ووٹوں کو غیر آئینی قرار دینا ظاہر کرتا ہے کہ جمہوری مینڈیٹ کو ختم کرنا بی جے پی کا دوسرا ٹرینڈ ہے ۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری پون کھیڑا نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی برسی پر بی جے پی کی حرکت پر کوئی تعجب نہیں ہے ۔بی جے پی نے چنڈی گڑھ میں جمہوریت کے قتل کیلئے 30 جنوری کا دن چنا ۔معاملہ ہائی کورٹ میں ہے دیکھیں کورٹ کیا کاروائی کرتی ہے ۔ (انل نریندر)

01 فروری 2024

اپنے بوتے پر اکثریت نہیں پھر بھی وزیراعلیٰ !

بہار میں سیاسی پالا بدل کر وزیراعلیٰ نتیش کمار اب پھر سے این ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں ۔جتنی بار نتیش کمار نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کیا ساتھ چھوڑا اور پھر سے اتحاد کیا اس کے لئے ان کا نام گنیز بک آف ریکارڈ میں درج ہونے لائق ہے ۔سب سے مزیدار بات یہ ہے کہ جنتا دل (یونیفائیڈ) کے صدر نتیش کمار خود کو ایک ایسے لیڈر کی شکل میں قائم کیا ہے جنہوں نے سب سے لمبے وقت تک بہار مین حکومت کی جبکہ ان کی پارٹی کبھی بھی اپنے دم پر اکثریت حاصل نہیں کر پائی ۔اپنے ساتھیوں کے ساتھ نتیش کمار 72 سال کی جلد ہی کٹھ پٹھ شروع ہو جاتی ہے یہ ان کا سیاسی ٹیلنٹ ہے ۔وہ ساجھیدار بدل لیتے ہیں اور وزیراعلیٰ کی کرسی پر بنے رہتے ہیں ان کے چار دہائیوں کے سیاسی صفر میں بے بھروسی کا الزام اور پلٹو رام جیسے ناموں کے ساتھ نتیش کمار پر طنز کسا جاتا رہا ہے ۔حالانکہ ان کے ایسے منتظمین کی کمی نہیں ہے جو انہیں کرپٹ اور بھائی بھتیجہ واد سے دور رکھنے اور دھارمک اکثریت واد کے آگے کبھی نہ جھکنے والے نیتا قرار دیتے ہیں ۔ماہرین کا خیال ہے کہ نتیش کمار کو اس بار زیادہ جارحانہ بھاجپا کا سامنا کرنا ہوگا ۔کیوں کہ پی ایم مودی اور امت شاہ بہار جیتنا چاہتے ہیں ۔بی جے پی نتیش کمار کے ساتھ ساجھیداری کیلئے شاید اس لئے تیار ہوئی کیوں کہ دو اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد انڈیا کو نقصان پہونچانا چاہتی ہوگی ۔پارٹی سے جڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ بہار میں بی جے پی پورا کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے ۔ایک بی جے پی کے نیتا کا کہنا ہے کہ بہار بی جے پی کے اعتراضات کے باوجود سینئر لیڈر شپ نتیش کمار کے ساتھ گئی یہ جیتنے کیلئے جھکنے والی حکمت عملی ہے ۔اس بار بہار نتیش کمار نہیں ب ی جے پی چلائے گی ۔حالانکہ مودی اور شاہ لوک سبھا چناو¿ تک نتیش کمار کے معاملے میں دخل نہیں دیں گے تاکہ چناو¿ میں بہار زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کی جا سکیں ۔اس بار لگتا ہے کہ بی جے پی جے ڈی یو سے زیادہ سیٹوں پر لڑے گی ۔2019 کے چناو¿ میں بی جے پی اور جے ڈی یو 17-17 سیٹوں پر چناو¿ لڑی تھی ۔باقی چھ سیٹوں پر ایل جے پی نے چناو¿ لڑا تھا اس بار لگتا ہے بی جے پی 20 سے زیادہ سیٹوں پر خود لڑے گی ۔پارٹی کی حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ لوک سبھا چناو¿ کے بعد بہار میں بی جے پی اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی شروعات کر ے گی۔ تاکہ نتیش کمار کو کنارے کیا جا سکے ۔72 سالہ نتیش کمار سیاسی کرینئر میں کافی خوش ہیں اور بغیر کسی مضبوط جانشین کے ہیں ۔بی جے پی کا خیال ہے کہ ان وجوہات سے نتیش کو کنارے کرنا آسان ہوگا ۔اس وقت بھی بہار میں جے ڈی یو کی حالت بہت اچھی نہیں ہے ۔243 سیٹوں والے بہار میں جے ڈی یو کے پاس 44 ممبر اسمبلی ہیں ۔وہییں بی جے پی 78 ممبر اسمبلی ہیں ۔اگلے سال ہونے والے بہار اسمبلی چناو¿ میں اگر بی جے پی نے جے ڈی یو سے زیادہ سیٹیں جیتی تو وہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر اپنا دعویٰ کرے گی ۔بی جے پی کے ایک نیتا کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو باعزت ودائی دی جائے گی اور 2025 میں انہیں مرکز میں جگہ دی جا سکتی ہے ۔لگتا ہے کہ نتیش نے بھی بڑا جوا کھیلا ہے ۔ (انل نریندر)

گیانواپی میں مسجد سے پہلے مندر تھا!

گیانواپی صحن کی ہندوستانی آثار قدیمہ کی سروے رپورٹ کے مطابق گیانواپی بڑا ہندو مندر تھا سروے کے دوران 32 جگہ مندر سے متعلق ثبوت ملے ہیں ۔فریقین کو جو سروے رپورٹ دی گئی ہے وہ 839 صفحہ کی ہے ۔مغربی دیوار ہندو مندرکا حصہ ہے اسے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے ۔جو ستون ملے ہیں وہ بھی مندر کے ہیں ان کو دوبارہ سے استعمال کیا گیا ہے ۔مقدمہ میں فریقین نے سروے رپورٹ جمعرات کو پبلک کر دی اس کے مطابق دیونا گری ،گرنتھ تیلگو اور کنڑھ زبان میں نقاشی بھی ملی ہے ۔جناردن رودر تھمب وشیشور کی فنکاری بھی ہے ۔ایک جگہ ماں مکتی منڈپ لکھا ہوا ہے جسے اہم ثبوت مانا گیا ہے ۔ہندو فریق کے وکیل ای ویشنو شنکر جین نے بتایا کہ اے ایس آئی نے مانا ہے کہ مندر سترہویں صدی میں توڑا گیا تھا اور اس کی پوزیشن دوستمبر 1669 کی ہو سکتی ہے ۔ہندو فریق کے وکیل کے مطابق وشنو شنکر جین کے مطابق اے ایس آئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 13 ہویں صدی میں اورنگ زیب نے وشوناتھ مندر کے ڈھانچہ کو تباہ کر مسجد بنوائی تھی ۔اس کے کچھ حصہ میں تبدیلی کر پھر استعمال کیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق ثمیر البغیری میں تذکرہ ہے کہ دو ستمبر 1669 کو سمراٹ کے حکم پر اورنگ زیب کے حکام نے وشوناتھ مندر کو ڈھا دیا تھا ۔گیانواپی مسجد میں تعمیر اورنگ زیب کے عہد کے 20 ویں برس یعنی 1676-77 میں کرائی گئی ۔برآمدہ و دیگر حصہ کی اہم تعمیر 1792-93 میں کی گئی ۔گیانواپی میں تہہ خانہ بناتے وقت مندر کے ستون کا ہی استعمال کیا گیا تھا ۔دیوی دیوتاو¿ں کی مورتیوں و نقاشی ،فنکاری ،گیانواپی کے ایس 2- تہہ خانے میں پھینکی گئی ۔مٹی کے اندر دبے پائے گئے ۔گیانواپی میں 34 نقاشیاں ملی ہیں جو پہلے موجود ہندو مندر کے پتھر کی ہیں ۔اندر کی طرف پرندوں ۔چرندوں کی نقاشی والا چھوٹا داخلہ دروازہ ہے ۔باہر کی طرف سجاوٹ کیلئے نقاشی کئے گئے جانوروں سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی دیوار ہندو مندر کا باقی حصہ ہے ۔آرٹ اور نقاشی کی بنیاد پر اس سابقہ اسٹرکچر کو ہندو مندر کی شکل میں پہچانا جا سکتا ہے ۔ہندو مہیلا و کیل نے کہا کہ ہندو فریق کا دعویٰ سچ ثابت ہوا ہے ۔وویشور مندر توڑ کر اسے مسجد کی شکل دی گئی ۔وکیل جین کا دعویٰ ہے کہ موجودہ نقاشی کے باقیات دیواروں پر سجائے گئے سانچہ مرکزی حال میں کرن رتھ و پرتی رتھ ملے ہیں ۔مغربی زون کی مشرقی دیوار پر بڑا سجایا داخلہ دروازہ ہے ۔گیانواپی صحن کی دیواروں اور باقیات پر ہندو دھرم سے جڑے کئی لفظ اور کئی جملے کھدے ہوئے ہیں ۔ماضی میں یہاں مندر ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ماربل و بلوا پتھر کے کئی شبلنگ اور ندی اشارہ دے رہے ہیں کہ یہاں ماضی میں ودھی ودھان سے پوجا پاٹھ ہوتا رہا ہوگا ۔اس میں ایک ماربل کا ٹکڑا 2.5 سینٹی میٹر کا تھا جو شبلنگ کی صحیح پوزیشن میں ملا ہے ۔اسی طرح 2.5 سینٹی میٹر لمبے ، 5.5 سینٹی میٹر اونچے و 4 سینٹی میٹر چوڑا نندی بھی ٹھیک حالت میں ہے ۔اے ایس آئی نے سروے رپورٹ میں باقاعدہ اس کا تذکرہ کیا ہے ۔اے ایس آئی کی رپورٹ میں صاف کیا گیا ہے کہ پلر اور ستون پر کھدی نقاشی (ہندو قدیم دور) کی کئی فنکاریوں کو نہ صرف کاٹا گیا بلکہ اس میں پھول ،پتیوں کی سیویج بنا کر اسے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔رپورٹ میں سواستک کو لیکر بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا کے سب سے قدیم علامتوں میں سے ایک ماناجاتا ہے ۔یہاں سے ایک پرتیک کو ہندو متر تھروتھ مانتے ہیں ۔ثبوت ہی بھگوان شیو کا ترشول ہے ۔یہ دیویہ کا علامت کا استعمال ہندوو¿ں کی طرف سے کیا جاتا ہے ۔ (انل نریندر)

30 جنوری 2024

بہار میں منڈل بھاری یا کمنڈل ؟

بہار میں ایودھیا کا اثر رہے گا یا پھر منڈل بھاری پڑے گا ؟ 1990 کی دہائی میں جب ایودھیا میںرام مندر بنانے کو لیکر تحریک شروع ہوئی تھی اس وقت بہار میں منڈل کی سیاست چل رہی تھی ۔رام مندر تحریک میں بھاجپا کے سب سے بڑے لیڈر لال کرشن اڈوانی کو 1990 کو گرفتار کیا گیا تھا ۔تب بہار کے وزیراعلیٰ لالو پرساد یادو تھے ۔لالو پرساد یادو اب بھی اڈوانی کی گرفتاری کا کریڈٹ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے بہار کو فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچا لیا تھا ۔اتوار کو ایودھیا میں جب رام مندر کی پران پرتیشٹھا ہو رہی تھی تب بہار کی سڑکوں پر بھی اس کا اثر نظر آرہا تھا ۔حالانکہ بہار ان ریاستوں میں شامل رہا جس نے ایودھیا میں رام للا کی پران پرتیشٹھا پر کسی طرح کی چٹھی کا اعلان نہیں کیا تھا ۔ادھر پورا بہار ایودھیا میں 500 برس رام للا کے لوٹنے کی خوشی منا رہا تھا ۔ادھر بہار کو ڈبل خوشی کا موقع ملا گیا ۔بہار کے بڑے نیتا کرپوری ٹھاکر کی جینتی کے 100 سال پورے ہونے کے ٹھیک ایک دن پہلے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے بعد از مرگ بھارت رتن دے کر چونکا دیا ۔اس ایک فیصلے سے عام چناو¿ سے پہلے دہلی سے لیکر پٹنہ تک سیاسی ماحول گرم ہو گیا ۔بھارت رتن کے اعلان کے بعد وزیراعظم نریندرمودی نے x پر کہا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہو رہی ہے کہ بھارت سرکار نے سماجی انصاف کے حمایتی مہان جن نائک کرپوری ٹھاکر جی کو بھارت رتن سے اعزاز کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔دراصل پچھلے کچھ دنوں سے بہار میں پچھڑے کی سیاست زوروں پر ہے ۔بی جے پی کے ہندوتو اور رام مندر فیکٹر سے مقابلہ کرنے کیلئے نتیش کمار نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کا کارڈ کھیلا ۔مہا گٹھبندھن سرکار نے نہ صرف ذات پات پر مبنی مردم شماری کے اعداد وشمار جاری کئے بلکہ اس کے بعد پسماندہ طبقات کیلئے ریزرویشن کی حد بڑھا دی ۔وہیں بھدوار کو جے ڈی یو کی ریلی میں کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن دئیے جانے کی مانگ بھی ایجنڈے میں تھی۔بھاجپا کو پتہ تھا کہ آر جے ڈی کے مسلم اور یادو ووٹ تجزیہ اور ساتھ میں نتیش کمار کے پچھڑے ووٹ کے حساب کتاب سے نمٹنا اتنا آسان نہیں ہے ایسے میں کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن دینے کے بی جے پی نے پچھڑوں کی سیاست اور نتیش کے ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کی کوشش کی ہے ۔کرپوری ٹھاکر کوبھارت رتن دے کر سماجی انصاف کو بڑی منظوری دی ہے ۔کرپوری ٹھاکر کے بہانے بہار کے علاوہ اتر پردیش اور اس سے لگی ریاستوں میں بڑی کمپین شروع کر سکتی ہے ۔پہلے بھی نریندرمودی کی قیادت میں بھاجپا نے اپوزیشن کے نشانوں کو اپنے پالے میں کرنے کی کامیاب سیاست کی ہے ۔ایسے میں بی جے پی نے ایک فیصلہ سے دو شکار کئے ہیں اور منڈل کمنڈل دونوں کارڈ کو اپنے پالے میں کرنے کی کوشش کی ہے ۔2024 کا لوک سبھا چناو¿ قریب ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی کی یہ چال دونوں منڈل اور کمنڈل ساتھ لینے کی حکمت عملی کتنی کامیاب رہتی ہے ۔ (انل نریندر)

لکڑی وکپڑے سے تیار ہوا مندر کا شکھر!

رام للا کی پران پرتیشٹھا سے پہلے شری رام مندر کا شیکھر بھی تیار کر لیا گیا تھا۔اسے لکڑی،کپڑے اور پھول کی مدد سے بنایا گیا ہے ۔پران پرتیشٹھا کے بعد اسے ہٹا کر باقاعدہ شیکھر بنایا جائیگا۔بغیر شیکھر کا نرمان ہوئے پران پرتیشٹھا پر سوال اٹھائے جا رہے تھے وجہ ، مندر کے بیسمنٹ کا کام ہی پورا ہو سکا ہے ۔شیکھر اور دوسرے تلے کا کام پورے ہونے کے بعد ہی لگنا ہے ۔دوسری طرف ، مندر کی ایمیج بھی بنا شیکھر ادھوری لگ رہی تھی ۔اس کیلئے بیچ کا راستہ نکالا گیا ۔مندر نرمان سے جڑے آرٹسٹ نے بتایا کہ لوگوں کو مندر کے مکمل شکل کے درشن کیلئے فی الحال لکڑی،کپڑے اور پھول کی مدد سے شیکھر بھی تیار کرادیا گیاہے ۔اسے مکمل مندر کا نمونہ سسٹم منظر سامنے آرہا ہے ۔حالانکہ اصل اونچائی اس سے کہی زیادہ ہوگی ۔تقریب کے بعد طے اسکیم کے مطابق چھت کی تعمیر کرائی جائے گی ۔رام للا کے ساتھ ہی جنم بھومی مندر کے شیکھر اور کلش کے درشن پاکر نہال ہو رہے ہیں ۔پران پرتیشٹھا سے پہلے ایک ہفتہ کی شخت مشقت کے بعد کولکاتہ و جھارکھنڈ کے 60 سے زیادہ فنکاروں نے یہ شیکھر تیار کیا تھا ۔اسے پھولوں سے سجایا گیا ۔دراصل رام مندر کے شیکھر کی تعمیر دوسرے مرحلے میں ہونی ہے ۔پہلے مرحلے میں زمین ، پہلی منزل، و سندھ دوار کا نرمان کیا گیا ہے ۔اس کے لئے شری رام جنم بھومی تیرتھ زون نے 31 دسمبر 2023 کی تاریخ طے کی تھی ۔حالانکہ اس کے بعد بھی تعمیراتی ایجنسی کو دو ہفتے کا وقت اور لگ گیا اور 15 جنوری کو پران پرتیشٹھا سماروہ کیلئے صاف صفائی شروع ہونے پر کام دیا گیا ۔اب جلد ہی دوسرے مرحلے کا کام شروع ہوگا جسے اس سال دسمبر تک پورا کیا جائیگا ۔پران پرتیشٹھا سماروہ سے ٹھیک پہلے مندر کی سجا دھجا پر غور وخوض کے درمیان پایا گیا کہ شیکھر کے بنا مندر ادھورا لگ رہا ہے ۔پھولوں و رنگ برنگی روشنی کے باوجود ویسا منظر نہیں بن رہا تھا جو حال ہی میں ہے ۔اس لئے کولکاتہ و جھارکھنڈ کے درگا پوجا کے پنڈال کے ماہر فنکاروں کو بلایا گیا ۔مندر کمپلیکس میں ہی 60 کاریگروں نے شیکھر بنانے کا کام شروع کیا ۔ایک ہفتہ کے اندر بانس ، و کپڑے سے شیکھر بنایا گیا اور گرو گرہ کے اوپر خوبصورت شیکھر بنا دی گئی ۔یہ شیکھر لوگوں کی کشش کا مرکز بنا ہوا ہے ۔رام مندر کے اندر بھگوان رام سے جڑے 7 کراداروں کو بھی جگہ دیا جانا ہے ۔لیکن ابھی تک وہ تیار نہیں ہو سکے ہیں ۔ایسے میں مندر کے پاس طے جگہ پر والمیکی ورشٹھ وشوا متر ، تلسی داس ، اہلیہ اور نشاد راج و شابری کی شکل کو کپڑے و لکڑی سے بنایا ہے ۔رام للا کا درشن کرنے کیلئے پورے دیش سے رام بھگت بڑی تعداد میں ایودھیا جا رہے ہیں ۔شروعاتی دودنوں میں ہی قریب 8 لاکھ رام بھگت اپنے ارادھیہ کے درشن کر چکے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے ۔بھگتوں کا انتظام کرنے میں انتظامیہ کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔، ٹیمپوں وٹیکسی و ای بسوں کا چلانا رام نگری کی سرحد تک ہونے کی وجہ سے شردھالوو¿ں کو واپسی میں پریشانی ہو رہی ہے ۔ٹیمپوں ،ٹیکسی جعلپا چوراہے تک ہی جا رہی ہیں ۔یہاں سے رام مندر قریب تین کلو میٹر دور ہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...