Translater

05 جنوری 2013

میں جنتر منترپر ڈٹے لوگوں کے جذبے کو سلام کرتا ہوں!

میں ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو16 دسمبر کی آبروریزی کی واردات کے بعدسے دامنی ،انامیکا کو انصاف دلانے کے لئے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ آپ کو پہلی کامیابی مل گئی ہے۔ دہلی پولیس نے واردات کے 18 دن بعد پہلی چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ یہ آپ کادباؤ ہی ہے، جذبہ ہی ہے جس نے اس گونگی ،بہری اور لاچار سرکار و انتظامیہ کو ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ چارج شیٹ داخل کرنے میں ہی مہینوں لگ جاتے تھے۔ یہ بھی قابل تسلی ہے کہ دہلی پولیس نے اس معاملے میں گرفتار پانچوں ملزمان کے خلاف قتل، آبروریزی، اغوا اور دیگر جرائم کے الزام لگائے ہیں۔ چارج شیٹ میں اس معاملے کے ملزم رام سنگھ، اس کا بھائی مکیش ساتھی پون گپتا، ونے شرما، اکشے ٹھاکرکے خلاف آئی پی ایس کی دفعہ کے تحت مندرجہ بالا دفعات کے تحت الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس معاملے میں چھٹا ملزم نابالغ ہے۔ اس کے خلاف جونیل انصاف بورڈ کے ذریعے ہی کارروائی کو انجام دیا جائے۔حالانکہ پولیس اسے پورے واقعے کی کڑی مانتی ہے۔ اپنی چارج شیٹ میں اس نابالغ ملزم کا کردار خاص طور سے بیان کیاگیا ہے۔ میں ان لوگوں کے جذبے کو سلام کرتا ہوں جو اس کڑاکے کی سردی میں دامنی، انامیکا کو انصاف دلانے کے لئے کھلے آسمان کے نیچے دن رات دہلی کے جنترمنتر پر مسلسل مظاہرہ و دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ اس واردات نے ذات، مذہب ہی نہیں ریاستوں کی دیواریں بھی توڑ دی ہیں اور نہ کوئی اونچا ہے نہ کوئی پسماندہ، نہ کوئی ہندو ہے ،نہ سکھ نہ عیسائی۔نہ کوئی لال جھنڈا ، نہ بھگوا اور نہ ہی کوئی اور رنگ کا جھنڈا۔ سبھی کی ایک ہی مانگ ہے کے عورتوں کی سلامتی کے لئے سخت قانون بنے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ عورتوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے عورتوں سے زیادہ مرد جدوجہد کرتے نظر آرہے ہیں۔ آبروریزی کے خلاف گذرے کئی دنوں سے جنترمنتر پربھوک ہڑتال پر بیٹھے ایک شخص کی حالت بگڑ گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے اسے آر ایم ایل ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔کینڈل مارچ کے علاوہ بدھوار کو کئی لوگوں نے امن مارچ ، شانتی یگیہ کا بھی انعقاد کیا۔ سخت سردی سے سینکڑوں لوگو ں نے صبح پرارتھنا کی، دوپہر کو نکڑ سبھائیں منعقد کیں جبکہ شام کو کینڈل مارچ ہوا۔ ادھر ٹیم کیجریوال کی جانب سے منٹو برج کے پاس طالبعلم پارلیمنٹ لگائی گئی۔جنتر منتر مظاہرین کا سنگھرش چوک بن گیا ہے۔ اتنی سردی میں بھی لوگ انشن پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس امید میں کے اگلی صبح عورتوں کی حفاظت کے لئے کوئی ٹھوس قانون بنے۔ عورتوں کے مفادات کے لئے ہورہے اس سنگھرش میں کوئی راجستھان سے آکر انصاف کا نعرہ بلند کررہا ہے تو کوئی ہریانہ ،پنجاب سے آکر بیٹیوں کی حفاظت کی اپیل کررہا ہے۔ یہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں، انہی کی جدوجہد رنگ لانے لگی ہے۔ ریکارڈ ٹائم میں چارج شیٹ اس لمبی لڑائی کی پہلی جیت ہے۔ یہ پریشر تب تک بنا رہنا چاہئے جب تک دیش میں عورتوں کی مکمل حفاظت کے لئے موثر قدم نہیں اٹھائے جاتے اور آبروریزوں کو سخت سے سخت سزا نہیں ملتی۔
(انل نریندر)

ٹھنڈر سے ٹھٹھرتے غریب و بے سہارا لوگ!

این سی آرسمیت پورے نارتھ بھارت میں لوگ سردی کے ستم کے شکار ہیں۔ راجدھانی دہلی میں 43 سال کا سردی کا ریکارڈ توڑتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 11 ڈگری سے کم اور 9 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ وہیں کم از کم سردی کا درجہ حرارت4.8 ڈگری تک درج کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 1970ء کے بعد دہلی میں اتنی ٹھنڈ کبھی نہیں پڑی۔ 2011ء میں جنوری میں یہ11 ڈگری تھا۔ پاکستان اور افغانستان کی طرف سے آنے والی سرد ہوائیں پہاڑی علاقوں میں برفباری، گھنے کہرے میں ڈوبتی سورج کی کرنوں کے سبب درجہ حرارت میں کمی درج کی گئی۔ اگلے کچھ دنوں میں سردی بڑھنے کا آثار ہیں۔ اب تک سردی سے100 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ زیادہ تر اموات اترپردیش میں ہوئی ہیں۔ پنجاب و ہریانہ کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 2 ڈگری سے کم درج کیا گیا۔ موسم کے ماہرین کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں دہلی سمیت شمالی ہندوستان میں کڑاکے کی سردی پڑے گی۔ ظاہر ہے ایسے میں عام آدمی کا ٹھٹھرنا اور بڑھ جائے گا اور ان لوگوں کی تعداد بھی بڑھے گی جو غریبی کے چلتے ٹھنڈ سے لڑتے ہوئے ہار جائیں گے۔ 
موسم کا یہ مزاج مستقبل میں بھی یوں ہی رہے گا یعنی ٹھنڈ ایسے ہی پڑتی رہے گی۔ یہ تو تقریباً طے ہے لیکن زبردست سردی کے سبب لوگوں کی جان جاتی رہے ان کی مجبوری تو ظاہر کرتی ہے اور سسٹم پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان لگتا ہے جو خطرناک سردی کی لہر کے ساتھ ایک بار پھر سرکار اور انتظامیہ کی بے رخی اور بدانتظامی اجاگر کرتی ہے۔ پچھلے برس ایسے ہی موسم میں سپریم کورٹ نے دہلی میں واقعے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اینڈ سائنس کے برآمدے کے باہر ٹھٹھرے لوگوں کی تصویریں دیکھ کر دہلی سمیت تمام ریاستی سرکاروں کو یہ یقینی کرنے کے لئے ہدایت دی تھی کہ کسی بھی شخص کی موت ٹھنڈ سے نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن لگتا ہے ان کی اس ہدایت کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ اکیلے ناردن انڈیا میں سرد لہر کے سبب 100 سے زائد لوگ جان گنوا چکے ہیں اور لاکھوں لوگ یا تو تنگ جھونپڑیوں میں یا کسی آڑ کے سہارے ٹھٹھرتے ہوئے راتیں گذارنے پر مجبور ہیں۔ پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے یہ لوگ اکثر ترقیاتی اسکیموں کے فائدے میں پیچھے چھوٹ جاتے ہیں، ان کے لئے کوئی ماسٹر پلان نہیں بنتا نتیجتاً انہیں موسم کی مار جھیلنا پڑتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں اس سے اتنی آمدنی نہیں ہوتی اس لئے ایک صحیح چھت کا انتظام کریں۔ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ انہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنا بھی مشکل ہورہا ہے۔ مگر ایسا سال درسال ہوتا ہے ۔ یہ غریب جو جیسے تیسے پیٹ بھرنے کے لئے دن بھر کی سخت محنت کے بعد سڑک کے کنارے فٹ پاتھ ، ٹوٹی پھوٹی جھگیوں، کھلے میدانوں یا کھیتوں میں رات گذارنے کے لئے مجبور ہیں۔ یہ غریب ہیں لہٰذا نہ تو ان کی کوئی آوا ز سنتا ہے۔ ایسے غریب لوگوں کے لئے کیا دہلی اور کیا یوپی ۔ یہ گمنام لوگ ہیں اور گمنامی کے اندھیرے میں ہی دم توڑدیتے ہیں۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کیا ان لوگوں کو موت سے بچایا نہیں جاسکتا؟ لیکن سرکار نہ تو انتظامیہ کو ان گمنام لوگوں کی فکر ہے اور نہ چنتا۔
(انل نریندر)

04 جنوری 2013

متاثرہ کا نام ظاہر ہوناچاہئے تھرور کی رائے صحیح!

اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔ مسٹر ششی تھرور مرکزی وزیر مملکت انسانی وسائل ترقی نے تجویز رکھی ہے کہ آبروریزی کی شکار لڑکی کی موت کے بعد اس کا نام ظاہرہونا چاہئے اور ساتھ ہی اس کو سنمانت بھی کرنا چاہئے۔ تھرور نے اپنے ٹوئٹ میں حیرانی ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لڑکی کا نام چھپائے رکھنے کا آخر کیا مقصد ہے۔ اگر لڑکی کے والدین کو اعتراض نہ ہو تو اس کا نام اور شناخت ظاہر کی جانی چاہئے تاکہ اسے سنمان دیا جاسکے۔ ترمیم کئے جارہے بدفعلی سے متعلق قانون کا نام بھی اس کے نام پر رکھا جانا چاہئے۔ وہ ایک انسان تھی جس کا نام تھا نہ صرف ایک سنبل۔ اس تبصرے پر بھاجپا نے نپا تلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وہیں کانگریس بچاؤ کی شکل میں دکھائی پڑتی ہے جبکہ انا ہزارے سے جڑی سماجی ورکر کرن بیدی نے ششی تھرور کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا ہے کہ میں انسداد بدفعلی کے نئے قانون کا نام اس لڑکی کے نام پر رکھنے کے لئے ششی تھرور کی تجویز کی حمایت کرتی ہوں۔ امریکہ میں بریڈی، میگن ، کارلی یا جیسیکا قانون جیسی کئی مثالیں ہیں۔ بھاجپا کے ترجمان شاہنواز حسین نے کہا کہ یہ وقت سخت قانون بنانے کا ہے نہ صرف متاثرہ کی شناخت کو چھپائے رکھنے یا سامنے لانے پر بحث کا۔آئی پی ایس کی دفعہ228A کے تحت متاثر کا نام شائع یا نشر کرنا جرم ہے۔ متاثرہ کی پہچان شائع کرنے کو لیکر دو انگریزی اخباروں کے خلاف پولیس نے کیس درج کیا ہے۔ بدھ کو جب متاثرہ کے بھائی اور والد سے یہ بات بلیا میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں پوچھی گئی تو دونوں باپ بیٹے نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اور انہوں نے آبروریزی کے خلاف دیش میں جو سخت قانون بنانے کی بات جاری ہے اس کا نام ان کی بیٹی کے نام پر رکھا جاتا ہے تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اس کے تئیں سنمان ہوگا۔ سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس اور ہدایت کے مطابق آبروریزی کی شکار عورت کا نام سامنے نہیں لایا جاسکتا۔ اسی درمیان مرکزی وزیر داخلہ نے صاف کردیا ہے کہ مجوزہ قانون کو کسی شخص خاص کا نام دینے کی کوئی روایت نہیں ہے۔ آئی پی ایس کی دفعہ میں کسی شخص کا نام شامل کرنے کی سہولت نہیں ہے۔ اس لئے سرکار یہ سلسلہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ جیساکہ میں نے کہا اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔ ہماری رائے میں تو اس کا نام اب سامنے لانا چاہئے۔ اس کی قربانی کو یادگار بنانے کے لئے یہ ضروری ہے۔ قانون میں متاثرہ کا نام اس لئے بچا کر رکھا گیا ہے تاکہ اس کا جینا مشکل نہ ہوجائے اور سماج میں اس کی اور بے عزتی نہ ہو، یہ ٹھیک بھی ہے۔ لیکن اس کیس میں یا ایسے ہی معاملوں میں جب متاثرہ اپنی جان گنوا چکی ہے تو اس کیس میں فرق ہوجاتا ہے۔ آج اس متاثرہ کے نا م پر اسکول، ہسپتال ،فلائی اوور وغیرہ وغیرہ بنانے کی تجویزیں آرہی ہیں۔ اگر نام ہی نہیں ہوگا تو کس کے نام پر یہ سب سمرپت ہوگا؟کیا قانون اس کے نام پر بنانا ہے یہ ہی فیصلہ سرکار کو کرنا ہے لیکن اس بدقسمت کا نام اس کو یاد کرنے کے لئے ضروری ہے۔
(انل نریندر)

کھاپ پنچایتوں کا نیافرمان:آبروریزوں کو نہ ہو پھانسی

عورتوں کے خلاف جنسی جرائم کے معاملے سے نمٹنے کے لئے بدھوار کو نئی دہلی میں ایک فاسٹ ٹریک عدالت کا افتتاح کرنے کے بعد ہندوستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس التمش کبیر نے کہا دہلی میں23 سالہ طالبہ کے ساتھ16 دسمبر کو جو اجتماعی آبروریزی ،قتل کے معاملے کے واقعہ کے معاملے میں تیزی سے مقدمہ نمٹانے کی وکالت کی۔ عوام کی ناراضگی کو جائز مانتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اگر گاڑیوں کے شیشوں سے کالی فلم ہٹانے کو لیر سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس کی تعمیل کی گئی ہوتی تو اس واردات سے بچا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھا لگا کہ اس گھناؤنے واردات کے بعد لوگوں نے عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر آواز اٹھانی شروع کردی ہے۔ انہوں نے یہاں ساکیت ضلع عدالت میں فاسٹ ٹریک عدالت کا افتتاح کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ہمیں الزام تراشیوں سے بچنا چاہئے۔ جسٹس کبیر نے کہا کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں مسئلے کی جڑ میں جانا ہے۔ یہ معاملہ جنتا کی نظروں میں ہے اور اس معاملے میں جلدی سے جلدی مسئلہ نمٹانا چاہئے۔ انہوں نے لوگوں کے اس رد عمل کو بھی خطرناک قراردیا کے ملزموں کو لوگوں کے حوالے کردیا جائے اور ان پر مقدمہ نہ چلائیں ، انہیں ہمیں سونپ دیں تو ہم ان سے نمٹ لیں گے، انہیں پھانسی پر لٹکادو۔ پھانسی کی بات آئی ہے تو ہم قارئین کو یہ بھی بتائیں گے کہ پھانسی دینے یا نہ دینے پر ہرجگہ کچھ لوگ بحث چھیڑے ہوئے ہیں۔ ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں نے ایک نیا فرمان جاری کیا ہے کہ سرکار اس جرائم کی سزا پھانسی نہ طے کرے کیونکہ جلد بازی میں ایسا کوئی فیصلہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ پچھلے دو تین دنوں سے ہریانہ کے کئی ضلعوں میں کھاپ پنچایتوں کی میٹنگ چلتی رہی۔ پنچایتوں نے فیصلہ کیا ہے اگر سرکار آبروریزوں کو پھانسی کی سزا کا قانون بناتی ہے تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔ کھاپ پنچایت کے ایک بڑے نیتا نے کہا کہ ایسے معاملوں میں پھانسی کی سزا یا قانونی شق شامل کر لی گئی تو اس کا بیجا استعمال ہوجائے گا۔ جیسے کے جہیز و پسماندہ ذاتوں سے وابستہ معاملوں میں ہورہا ہے۔ اگر اتنی سخت سزا دی جانے لگی تو تمام لوگ رنجش میں ایک دوسرے پر آبروریزی کا الزام لگانے لگیں گے۔ ویسے بھی ان کے مطابق خطرناک جرائم پیشہ کو سماج میں سدھرنے کا موقعہ ملنا چاہئے۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل انڈیا ڈیموکریٹک وومن ایسوسی ایشن کی جنرل سکریٹری جگمتی سانگوان نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پورے دیش میں آبروریزوں کو پھانسی کی سزا کی مانگ اٹھ رہی ہے تو یہ کھاپ پنچایتیں آبروریزوں کو سخت سزا سے بچانے کے لئے اس طرح کی باتیں کررہی ہیں۔ پہلے بھی یہ پنچایتیں تمام طالبانی فیصلے لیتی رہی ہیں۔ اس کے پیچھے خاص وجہ یہی ہے کھاپوں کے تمام چودھری ہریانہ کے آبروریزی کے ملزمان کو بچانا چاہتے ہیں۔ قابل ذکر ہے پچھلے مہینے میں اس پردیش میں آبروریزی کے 20 معاملے سامنے آئے ہیں۔ یہاں پر دلت لڑکیوں کو زیادہ شکار بنایا جارہا ہے۔ ایک معاملے میں تو پچھلے دنوں کانگریس چیف سونیا گاندھی بھی افسوس جتانے گئی تھیں اور ان کے جانے کے بعد ہی پولیس نے سخت کارروائی کی تھی۔
(انل نریندر)


03 جنوری 2013

سیدھی رشوت کا نیا نام ’ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر‘ یعنی ڈی بی ٹی

مرکزی سرکار کی گیم چینجر اسکیم کیش سبسڈی پہلے ہی قدم پر کریش ہوگئی۔ سرکار آدھی ادھوری تیاری کے باوجود اس اسکیم کو 1 جنوری2013ء سے لاگو کرنے والی تھی۔طے تو یہ کیا گیا تھا کہ 51 اضلاع میں یہ یکم جنوری سے لاگو ہوگی لیکن پہلے مرحلے میں اسکیم کے لڑکھڑاتے قدم صرف20 اضلاع میں ہی پڑ سکے۔اس پر بھی عالم یہ ہے کہ یہ اسکیم صرف طلبہ وظیفہ تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ فی الحال اسکیم میں صرف7 اسکیموں کو شامل کیا جاسکا ہے۔ ڈیزل، کھاد، غذا اور مٹی کے تیل پر فی الحال کیش سبسڈی نہیں ملے گی۔ سبسڈی کی رقم سیدھے فائدہ حاصل کرنے والے کے کھاتے میں پہنچانے کی سرکار کی تیاری بھی ابھی پوری نہیں ہوسکی ہے۔ بہرحال کیش سبسڈی اسکیم پہلی جنوری سے جن اضلاع میں لاگو ہورہی ہے ان میں اترپردیش، اتراکھنڈ کا ایک بھی ضلع شامل نہیں ہے۔ 20 ضلعوں میں تقریباً دو لاکھ لوگوں کے بینک کھاتوں میں 7 اسکیموں کا پیسہ ٹرانسفر کیا جائے گا۔ فروری۔ مارچ سے ضلعوں کی تعداد بڑھائی جائے گی جبکہ سال کے آخر تک اسے پورے دیش میں لاگو کرنے کی تجویز ہے۔ سیاسی فائدے کے الزامات کے بعد سرکار نے اس اسکیم کے نام میں نقدی لفظ ہٹا کر ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر ڈی بی ٹی کا نام دیا ہے۔ جن اسکیموں پر کیش سبسڈی ملے گی وہ ہیں درجہ فہرست ذاتوں کے طلبا کو، میٹرک سے پہلے ملنے والے وظیفے اور شیڈول قبائل اور او بی سی ذاتوں کے طلبا کے کو ملنے والے وظیفے ،اندرا گاندھی امدادی اسکیم اور دھن لچھمی اسکیم وغیرہ شامل ہیں۔ کرپشن میں بری طرح ڈوبی ہوئی یہ یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی نے اب سیدھے عوام کو رشوت دینے کی اسکیم بنائی ہے۔طریقہ جو بھی اپنایا گیا ہے وہ بھی کرپشن کا ہی ہے۔ کانگریس کو2014ء لوک سبھا چناؤ کی فکر کھائے جارہی ہے۔ ماحول اتنا خراب ہوگیا ہے کہ پارٹی لیڈر شپ کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیسے ماحول کو اپنے حق میں بنائیں۔ ظاہر سی بات ہے کیونکہ معاملہ سیدھا سیاسی ہے اس لئے بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا اس کی مخالفت کرے گی اور اس کی خامیوں کو گنائے گی۔ بھاجپا ترجمان شاہنواز حسین نے کہا جن لوگوں کو اس کا فائدہ ملنا ہے ان سبھی کے بینک کھاتے ابھی تک نہیں کھل پائے اور آدھار نمبر بھی نہیں مل پایا۔ مرکزی سرکار پر برستے ہوئے بھاجپا نے کہا کہ اس فیصلے سے غریبوں کا کوئی بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ سرکار نے بغیر تیاری کے ہی اسکیم کا اعلان کردیا ہے۔ شاہنواز نے الزام لگایا کہ فیصلہ لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے کیونکہ سرکار کے لئے بی پی ایل خاندانوں کی صحیح تعداد پتہ نہیں ہے۔ ایک طرف مسلسل بڑھتی مہنگائی اور دوسری طرف ترقی شرح گھٹ رہی ہے تو سرکار اس اہم مسئلے سے جنتا کی توجہ بانٹنے کے لئے اس طرح کی اسکیم اعلان کررہی ہے۔ ایسے میں ہر سال 9 کروڑ سے زیادہ کنبوں کو قریب30 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کرنا بہت بڑی چنوتی ہوگی۔ تمام سرکاری قواعد کے باوجود ابھی بینکوں کی پہنچ صرف 35 فیصدی لوگوں تک ہے اور اقتصادی و کمزور طبقہ تو اور بھی دب گیا ہے۔
(انل نریندر)

ایک چنگاری بھی تختہ پلٹ کیلئے کافی ہوتی ہے

17 دسمبر2010ء سے پہلے تک پوری دنیا میں کوئی بھی آدمی طارق الطیب محمد بجو جی جانتا نہیں تھا۔ بجو جی تیونس کے شہر سدی باؤجد میں پھل بیچتا تھا۔ پولیس کی ذیادتی اور کرپشن سے پریشان ہوکر اس نے آگ لگا لی تھی۔یا یوں کہیں کہ تیونس میں انقلاب کی آگ لگا دی تھی۔ بجو جی 4 جنوری 2011ء کو یہ دنیا چھوڑ گیا تھا لیکن اس کے بعد تیونس کے صدر زین العابدین بن علی 10 دن بھی اقتدار میں نہ رہ پائے۔ ان کے 23 سال کے عہد کا خاتمہ 14 جنوری 2011ء کو ہوگیا۔ صدر بن علی ہی نہیں بجوجی کی موت نے مصر ،بحرین، لیبیا، یمن، الجزائر سمیت پورے عرب خطے میں ناراضگی کی لہر پیدا کردی۔ ہندوستان میں ایک دریامنے طبقے کی بٹیا کی موت نے بھی شاید ایسی ہی چنگاری لگادی کہ حکمرانوں کو دیش کی عوام کی آواز کے سامنے جھکنا پڑا۔ انامیکا، دامنی یا جو کچھ اس بدقسمت کا نام رہا ہو، نے بھارت کو تو ہلا ہی دیا ہے ساتھ ساتھ مہذب دنیا کو بھی توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اقوام متحدہ سے لیکر تمام غیر ملکی میڈیا میں یہ معاملہ چھایا رہا۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمشنر نوی پلے نے دہلی اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ کی موت پر دکھ ظاہر کرتے ہوئے حکومت ہند سے اپیل کی کے ایسے واقعات کو روکنے کے لئے دیش کے قانون و انتظام کو مضبوط بنایا جائے۔ برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے انامیکا کی لاش کو اسٹریچر پر لے جاتے ہسپتال ملازمین کی فوٹو لگائی ہے ساتھ میں ایک بینر والی فوٹو بھی شائع کی ہے جس میں سونیا ،منموہن اور شیلا دیکشت سے استعفیٰ دینے کو کہا گیا ہے۔ ’نیویارک ٹائمس‘ نے عنوان دیا ہے ’وکٹم آف گینگ ریپ اِن انڈیا ڈائز ویٹ گیلون نائزڈ انڈیا‘ یعنی بھارت میںآبروریزی کی متاثرہ کی موت جس نے بھارت کو ہلا دیا۔ اخبار نے لکھا کے متاثرہ نے خاموشی سے آخری سانس لی۔ اس کی موت ان خطروں کے تئیں وارننگ ہے جس کا سامنا بھارت میں عورتیں کررہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس واردات سے عام طور پر سنجیدہ ہندوستانیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس واردات کے تئیں غصہ بدلتی طرز زندگی، سوشل میڈیا کے استعمال اور بڑبولے سماج کے سبب بھی بڑھا ہے۔ انہی اسباب کے چلتے پچھلے سال کرپشن کے خلاف تحریک کو کامیابی ملی تھی۔ دہلی میں23 سالہ انامیکا کے واقعے نے عام ہندوستانیوں کا ہی نہیں بلکہ پورے دیش کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ پڑوسی چین کے میڈیا می بھی بھارت کے سماج اور سسٹم پر طنز کیا ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ہندوستانی جمہوری نظام اور قوم کی لاچاری کو ظاہر کرتے ہے۔ رپورٹ میں چینی مبصر کے حوالے سے لکھا گیا ہے بھارت اقتصادی ترقی میں چین سے قریب ایک دہائی پیچھے ہے اور سماجی سیکٹراور ترقی میں تین دہائی پیچھے چل رہا ہے۔ چین کے اخبار ’گلوبل ٹائمس‘ نے لکھا ہے بھارت میں عورتوں پر ذیادتیاں چونکانے والی ہیں۔ نئی دہلی میں2011ء میں آبروریزی کے 572 معاملے ہوئے اور پچھلے40 سالوں میں ان کی تعداد میں سات گنا اضافہ ہوا ہے۔ کبھی کبھی حکمراں طبقہ عوام کے درمیان بھڑک رہی جوالہ کو پہچاننے میں بھول کر جاتا ہے ایک چھوٹی سی چنگاری ایسی آگ بھڑکا سکتی ہے جس کے بہت دوررس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ 
(انل نریندر)

02 جنوری 2013

یہ سرکار جھکتی ہے بس جھکانے والا چاہئے!

دامنی کی قربانی آہستہ آہستہ رنگ لانے لگی ہے۔ ماحول بدلنے لگا ہے۔ سماج میں پولیس انتظامیہ میں تھوڑی تبدیلی آنی شروع ہوگئی ہے۔ اس بدلے ماحول کو دہشت کہیں یا ہوا کا رخ؟ وسنت وہار گینگ ریپ کی سنسنی خیز واردات کے بعد مہرولی تھانے میں دو طالبہ تین لڑکوں کے خلاف چھیڑ چھاڑ اور جان سے مارنے کی دھمکی کا الزام لگاتے ہوئے کیس درج کرایا۔ آبروریزی کے واقعے سے تنازعوں میں گھری دہلی پولیس نے فوراً چھیڑ خانی کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی دھڑ پکڑ کے لئے چھاپہ ماری کی۔ نتیجہ یہ ہوا تینوں ملزمان میں سے ایک نے پھانسی لگا کر جان دے دی اور دوسرے نے ڈر کے مارے زہر کھالیا۔ جان دینے والے نے خودکشی نامے میں لکھا ہے کہ اب میری وجہ سے کسی کو کوئی بھی دقت نہیں ہوگی، میں موت کو گلے لگا رہا ہوں۔ زہرکھانے والے ملزم کو نازک حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جہاں اس کی حالت بقدر بہتر بتائی جاتی ہے۔ حالانکہ اتنی گھناؤنی واردات ہوئی ہے اور سارے دیش میں ناراضگی ہے لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ سماج میں ماحول نہیں بدلا۔ پچھلے آٹھ گھنٹوں میں کہیں اسکول وین میں بچی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی وادات ہوئی تو شراب کے نشے میں آبروریزی کی کوشش بھی کی گئی۔ مزاحمت کرنے پر ملزمان کے ذریعے عورتوں اور بچوں کو مارا پیٹا بھی گیا۔ کل 9 تھانوں میں ہوئی واردات میں پولیس نے 14 لوگوں کو پکڑا ہے۔ ان مجموعوں میں ایک انجینئرنگ کی طالبعلم بھی شامل ہے۔ اگر یہ حکومت ،پولیس ،انتظامیہ اور سماج یہ سمجھتا ہے کہ عوامی ناراضگی دو چار دن کا موسم ہے وہ بھی ٹھنڈ کی طرح ٹھنڈا ہوجائے گا تو وہ سب غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ 20 سال پہلے بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا جب رنگا بلا نام کے دو قصورواروں نے ایک فوجی افسر کے بچوں کا اغوا کر بدفعلی کے بعد مار ڈالا تھا۔ اس وقت رنگا بلا کی پھانسی کی سزا پر روک کی مخالفت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اسکولی بچوں کی 30 ہزار چٹھیاں ملی تھیں۔ عدالت نے عوام کے جذبات کا احترام کر پھانسی پر روک ہٹائی تھی۔
تاریخ نے خود کو دوہرایا ہے لیکن سرکار بھول گئی ہے کہ وہ عوامی ناراضگی کو لاٹھی چار، آنسو گیس،پانی کی بوچھاروں یا بیریکیٹ لگا کر روک رہی ہے۔ کمیشن اور کمیٹیاں بنا کر خاموش کرنے کی کوشش کررہی ہے اگر یہ ہی کوشش جنتا کو خاص کر عورتوں کو سرکشا دینے کے لئے کی گئی ہوتی تو شاید یہ گھناؤنی واردات رک سکتی تھی۔ ہر یومیہ جمہوریہ پر صدر صاحب بہادر بچوں کو سنجے چوپڑا اور گیتا چوپڑا ایوارڈ سے نوازتے ہیں یہ ہی وہ دو بہادر بچے ہیں جنہوں نے ملزمان سے لڑتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی تھی۔ کیا صرف جس طرح ان کی بہادری صرف ایک احترام یا اعزاز یا اقتصادی مدد تک سمٹ گئی ہے ویسے ہی اس گمنام بہادر لڑکی کی قربانی بھی بیکار چلی جائے گی۔ دیش کی خواتین اور بچوں پر عدم سلامتی کی تلوار بدستور لٹکی رہے گی۔ اگر 20 سال پہلے 30 ہزار اسکولی بچوں نے سپریم کورٹ پر اتنا دباؤ نہ ڈالا ہوتا تو آج تو لاکھوں کی تعداد میں پبلک اس بڑھتی درندگی کے خلاف آواز بلند کررہی ہے۔ انامیکا کی قربانی بیکار نہیں جائے گی۔ ہم سب مل کر ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
(انل نریندر)

پرموشن میں ریزرویشن بل پر اب بھاجپا کہاں کھڑی ہے؟

پرموشن میں ریزرویشن بل کو لیکر بھاجپا میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ گورکھپور کے ایم پی یوگی ادتیہ ناتھ نے پارٹی لائن کے خلاف بگل بجا دیا ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے کہا کہ وہ اس بل کو کسی صورت میں حمایت نہیں دیں گے اور بھاجپا کو بھی ان کی لائن پر چلنا ہوگا۔ یوگی کا کہنا ہے یہ بل غیر آئینی اور سماج کو بانٹنے والا ہے۔اس کی حمایت نہیں کرسکتے اسے سپریم کورٹ کے پاس رائے کے لئے بھیجا جانا چاہئے۔ یوگی نے کہا کہ راجیہ سبھا میں بھلے ہی اس کی حمایت بھاجپا نے کردی ہو لیکن بھاجپا کو اب لوک سبھا میں ان کی لائن پر چلنا پڑے گا۔ یوگی نے یہ بات اس وقت کہی جب لوک سبھا میں بل کو سپا ممبران نے پھاڑدیا تھا۔ آناً فاناً میں راجیہ میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے حمایت میں لمبا چوڑا بھاشن تو دے دیا لیکن اس موقف پر کتنی سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے تھا وہ کہنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ اب پارٹی بری طرح سے پھنس گئی ہے۔ بھاجپا میں یوگی اکیلے ایم پی نہیں ہیں جو اس بل کی مخالفت کررہے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ باقی ممبران دبی زبان میں اس پر اعتراض ظاہر کررہے ہیں جبکہ یوگی کھل کر اس کی مخالفت میں آگئے ہیں۔ بل پر مرکزی لیڈر شپ کے موقف سے ناراض پارٹی کی یوپی یونٹ بھی اب کھل کر مخالفت میں آگئی ہے۔ بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان سے بھی اختلافات کی آواز سنائی دینے لگی ہے۔ پچھلی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں سخت ناراضگی جتانے کے بعد بھاجپا نیتا ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی و راجناتھ سنگھ سمیت کئی ممبر پارلیمنٹ بھی پارلیمنٹ کمپلیکس میں اس بل کی مخالفت کرتے دیکھے گئے۔ بھاجپا ایم پی ورون گاندھی نے بھی پرموشن میں ریزرویشن بل کی مخالفت کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی اور یوگی ادتیہ ناتھ کی نتن گڈکری کے ساتھ ہوئی ملاقات جس میں ان دونوں نے بل کو حمایت دینے کے فیصلے پر اپنی سخت ناراضگی ظاہر کردی تھی۔
ورون نے یہ بھی صاف کیا کہ لوک سبھا میں وہ دونوں بل کے خلاف ووٹ دیں گے اور یہ پہلے اس لئے بتا رہے ہیں تاکہ پارٹی لیڈر شپ ڈسپلن توڑنے کا ان پر الزام نہ لگا سکے۔ اس درمیان نفع نقصان کا تجزیہ کر پارٹی کے یوپی پردیش پردھان لکشمی کانت واجپائی بھی مخالفت میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ ورون کا کہنا ہے نتن گڈکری نے لوک سبھا میں بل کو پاس نہ ہونے دینے کا یقین دلایا ہے۔ ورون کا کہنا ہے کہ اس بل کو حمایت دینے کا فیصلہ کرنا عقل خراب ہونے کی علامت مانا جائے گا۔ یہ پیر میں کلہاڑی مارنا نہیں بلکہ سر پر کلہاڑی مارنے جیسا ہے۔ ورون نے کہا کہ وہ اپنے مینڈیٹ کے بل پر جیتے ہیں۔ بھاجپا کے ووٹ بینک کی بنیاد پر نہیں۔ چلتی مخالفت کے سبب پارٹی نے اپنے سرمائی اجلاس کے آخری دن اپنے موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے آئینی ترمیمی بل پر سپریم کورٹ سے قانونی رائے لینے کی مانگ کرنے لگی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں کی مانیں تو پارٹی کے ریزرویشن بل پر بھی جلد بازی کرنے کا ہی نتیجہ اب سامنے آرہا ہے۔ 
(انل نریندر)


01 جنوری 2013

چلئے مل کر سنکلپ لیں کہ دامنی کی قربانی ضائع نہیں جائے گی

آج جب آپ یہ پڑھ رہے ہوں گے تو نیا سال شروع ہوچکا ہوگا۔ اس نئے سال2013ء کی شروعات پر ہم سب مل کر ایک عہد کریں۔ دہلی آبروریزی کی وہ بدقسمت23 سالہ طالبہ نام اس کا چاہے ہم دامنی لیں، نربھایا لیں یا انامکا کہیں، اس کا بے رحمانہ قتل ضائع نہیں جائے گا اور اس کی قربانی سے ہم سب مل کر سماج کی ذہنیت اور سرکار، انتظامیہ، عدلیہ سبھی میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے تاکہ ایسی گھناؤنی حرکت کوئی درندہ پھر سے کرنے کی ہمت نہ کرے۔ چلئے میرے ساتھ سبھی یہ عہد کریں آج پورا دیش غمزدہ ہے۔ انڈیا گیٹ سے لیکر گیٹ وے آف انڈیا کے نامعلوم بہادروں نے اربن انڈیا پارٹی کا نظریہ ہی بدل دیا ہے۔ سبھی میں نئے سال کو لیکر اب تک کوئی خوشی ہے اور نہ کوئی جزبہ۔ دہلی میں جہاں پارٹی والوں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے وہیں ممبئی کے تین بڑے پانچ ستارہ ہوٹلوں نے اپنے نئے سال کی پارٹی منسوخ کردی ہے۔ سارے دیش میں ایک طرف غم کی لہر تو دوسری طرف ناراضگی اور درد ہے۔ سوشل سائٹوں سے لیکر گلی گلی اور محلہ درمحلہ شردھانجلی دی جارہی ہے لیکن کیا اس شردھانجلی سے سماج جاگے گا اور آگے ایسے واقعات رکیں گے؟ کیا آنسوؤں کے اس سیلاب سے سماج اس طرح کے درندوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا قدم اٹھائے گا۔ کم سے کم ماضی کے تجربوں سے تو اس پر یقین کرنا آسان نہیں ہے۔ سرکار یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ عوام کا غصہ اور واردات اور مظاہرے دوچار دن کا غصہ ہیں اور پھر حالات ویسے ہی ہوجائیں گے۔ یہ ہی ہمیں نہیں ہونے دینا ہے۔ بدفعلی کی شکار لڑکی کے جسم میں ایسے زخم تھے اس سے کہیں زیادہ گہرے زخم ہمارے سماجی اور قانونی نظام پر چھوڑ گئی ہے۔ جنہیں بھرنے میں پتا نہیں کتنا وقت لگے گا۔ دیش کی بٹیا نے تو دم توڑدیا لیکن دمدار قانون بنانے کے لئے وہ سب کو جگا گئی۔ تحریکوں کو تاریخ میں دیش میں یہ پہلا موقعہ تھا جب بغیر کسی لیڈر شپ یا گروپ یا اپیل کے لوگ سڑکوں پر اترا کرتے تھے۔ 17 دسمبر تھے ایک انجان لڑکی کے لئے شروع ہوئی تحریک کو انجام تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ 10دنوں تک دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں گم سم پڑی رہی لڑکی کو انصاف دلانے کے لئے لوگ پولیس کی لاٹھیاں، آنسو گیس کے گولے اور ٹھنڈمیں پانی کی بوچھاروں کے آگے بھی نہیں جھکتے دکھائی دئے۔ پہلی بار مظاہرین بغیر کسی جھجک کے راشٹرپتی کا دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی نہیں ہچکچائے۔ دیش کی فوجی طاقت کی جھانکی دکھانے والے انڈیا گیٹ پر شاید پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں لڑکوں نے اپنی طاقت دکھائی۔ اس طرح جب کسی لڑکی کی موت ہوتی ہے تو صرف لڑکی نہیں مرتی۔ ہمارے آپ کے گھروں میں رہنے والی ہر لڑکی کے اندر کا ایک حصہ مرتا ہے کیونکہ کوئی بھی لڑکی یا عورت صرف ایک جسم نہیں ہوتا۔ وہ ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور ایک شہری بھی ہوتی ہے۔ اس طرح اب کوئی آبروریزی ہوتی ہے تو وہ صرف ایک شخص کی گھناؤنی حرکت نہیں ہوتی ہم سب مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ رشوت خور پولیس کانسٹیبل جو یہ نہیں جاننا چاہتا کہ کوئی بس کالے شیشے لگاکر غلط روٹ پر کیوں چل رہی ہے یا غلط جگہ پر کیوں کھڑی ہے۔ ایک بے ایمانی افسر جو اس بات کی جانچ نہیں کرتا کہ کوئی عدالت سے ضمانت لے کر نکلے جرائم پیشہ افراد بس اسٹاف کی شکل میں کیسے رکھے گئے ہیں۔ ایک لچر قانونی سسٹم جو دیکھنا ضروری نہیں سمجھتا کہ بغیر سرکاری ایجنسیوں کو مطلع کئے ،بغیر منظوری لئے کوئی ٹرانسپورٹر اپنا آفس کیسے بدل سکتا ہے۔ ایک سرکاری محکمے کی لیپا پوتی، ایک لیڈر کا بیان اور ایک دقیانوسی نظریئے والا مرد کا دماغ، ایک صدر جو پانچ جانوروں کو پھانسی کی سزا کم کردیتا ہے، یہ سب مل کر آبروریزی کے لئے زمین تیار کرتے ہیں کیونکہ عورتوں کے ساتھ ایسا صرف دہلی میں نہیں دیش کے کونے کونے میں ہورہا ہے۔ عوام کا غصہ جائز ہے اس کانڈ سے پیدا ناراضگی کی بنیادی آواز یہ ہی ہے کہ ہمیں محفوظ زندگی جینے کا حق ملے۔ ایسے کرپٹ سسٹم کو بدلا جائے جو جرائم کے لئے نرسری کا کام کررہا ہے۔ احتجاجی مظاہروں سے سرکار پر دباؤ بنایا جاسکتا ہے لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ ذمہ داری سماج کی ہے۔ سماج کو جگانے کا وقت آگیا ہے۔ خاموشی توڑنے کا وقت آگیا ہے۔ دیش غصے میں ہے لیکن ان کے ضمیر کو غصے سے خاموشی نہیں ملنے والی ہے۔ اسے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیش کا نوجوان عہد کرے کے ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔ 16 دسمبر کی رات کو ہوئے اس حادثے کے بعد بھی آبروریزی اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات رکے نہیں ہیں۔ اس حادثے کے بعد سے پچھلے16 دنوں میں آبروریزی کے تقریباً دو درجن سے زیادہ واقعات دیش کے مختلف حصوں میں ہوئے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ حکمراں طبقہ ہی نہیں سماج بھی ابھی تک جاگا نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ سکتے میں آنے والی حقیقت یہ ہے کہ دیش کی راجدھانی میں جب مسلسل غصے میں لوگ ہیں وہیں وحشی درندے این سی آر میں مسلسل اس طرح کی حیوانی حرکتوں کو تابڑ توڑ طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ اب نیند سے جاگنے کا وقت آگیا ہے۔ اپنے فرض کو لیکر کنبے تک ہر سطح پر شروعات میں ہی ان واقعات کی مخالفت سے ہی یہ سلسلہ رک سکے گا۔ دیش کا جو جذبہ پچھلے14 دنوں میں دکھائی پڑا اسے جگائے رکھنا ہی اس لڑکی کو سچی شردھانجلی ہوگی۔ وہیں دیش کی دیگر بہو بیٹیوں کی سلامتی کی گارنٹی۔ دامنی ایک بہادر لڑکی تھی جس کا جذبہ دیکھ صفدرجنگ ہسپتال کے ڈاکٹر تک حیران تھے۔ وہ جینا چاہتی تھی، وہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں ، ماں باپ کا اکیلا سہارا تھی۔ اترپردیش کے بلیا کے اس کے آبائی گاؤں میڑوڑا کلا میں ماتم چھایا ہوا ہے۔ لوگوں کے گھروں میں چولہے نہیں جلے۔ اترپردیش ۔بہار کی سرحد سے لگے گاؤں میں آبروریزی کی متاثرہ لڑکی کے ایک رشتے دار نے بتایا متاثرہ دور کی زندگی گزار رہے اپنے خاندان کے لئے ایک امید کی کرن تھی۔ بیحد غریب خاندان میں پیدا ان کی بھتیجے بہت ذہین اور جدوجہد والی تھی۔ اس کی اہلیت اور لگن کو دیکھتے ہوئے اس کے والد نے اسے اعلی تعلیم دلانے کے لئے اپنا پشتینی کھیت بیچ دیا تھا۔ اس کے باپ کو یقین تھا ایک دن ان کی بیٹی خاندان کو نہ صرف غریبی سے نجات دلائے گی بلکہ اسے ترقی کی راہ پر بھی لے جائے گی۔ لیکن وقت کے ظالم ہاتھوں نے سبھی امیدوں کو چکنا چور کردیا ہے۔ میری پوتی بیحد بہادر تھی اور اس نے آخرتک ہار نہیں مانیں۔ بٹیا کی پڑھائی پوری ہوگئی تھی اور اسے 35 ہزار روپے تنخواہ بھی ملنے لگی تھی لیکن بٹیا ہم سے دور جاچکی ہے۔ بس ہم یہ ہی چاہتے ہیں کہ سرکار کچھ ایساکرے کے ہماری پوتی جیسا واقعہ کسی اور لڑکی کے ساتھ نہ ہو یہ کہنا ہے لڑکی کے دادا کا۔ چلئے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم دامنی کانڈ کو اس بات تب تک لوگوں کو بھولنے نہیں دیں گے جب تک حکومت ، سماج ایسے کانڈدوبارہ روکنے کے لئے ٹھوس قدم نہیں اٹھاتا۔ سب کو جگا کر خود سو گئی بٹیا۔ سبھی پاٹھکوں کو نئے سال کی شبھ کامنائیں۔
(انل نریندر)


30 دسمبر 2012

13 دن۔رات جدوجہد کے بعد بدقسمت طالبہ نے دم توڑا

دہلی گینگ ریپ کی بدقسمت طالبہ نے 13 دن کی زندگی اور موت کی لڑائی لڑنے کے بعد سنیچر کی صبح آخر کار اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ سنگاپور کے مشہور ایلزبتھ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی تمام کوششوں کے باوجود اس بیچاری کو بچایا نہیں جاسکا۔ جمعہ سے ہی اس کی طبیعت بگڑنا شروع ہوگئی تھی۔ سنیچر کی رات کو اس کے ضروری اعضاء فیل ہونے کے اشارے ملنے لگے تھے۔ ماؤنٹ ایلزبتھ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو چیئرمین کیلوین لوہ نے ایک بیان میں کہا کہ رات کو 9 بجے ،ہندوستانی وقت کے مطابق شام6.30 بجے مریضہ کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور اس کے اہم ترین اعضا معمول کے مطابق نازک دور میں تھے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس بیچاری کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ تکنیکی نقطہ نظر سے تو اس بیچاری کی موت تو صفدرجنگ ہسپتال میں ہی ہوگئی تھی۔ یہ سارا ڈرامہ تو حکومت نے غصے کو کنٹرول کرنے کی غرض سے رچا تھا۔ اب جب اس طالبہ کی موت ہوگئی ہے تویکا یک سنگاپور بھیجنے کے سرکار کے فیصلے پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ خود ڈاکٹروں نے سرکار کے اس فیصلے پر انگلی اٹھانی شروع کردی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق صفدرجنگ ہسپتال میں بھرتی23 سالہ متاثرہ لڑکی کو علاج کے لئے سنگاپور بھیجنے کے پیچھے طبی وجوہات کم سیاسی وجوہات زیادہ نظر آرہی تھیں۔ اخبار کے مطابق جب اجتماعی آبروریزی کی شکار متاثرہ کو سنگاپور منتقل کرنے کا فیصلہ لیا تو علاج کررہے ڈاکٹروں سے بس اتنا پوچھا گیا کیا متاثرہ لڑکی سنگاپور لے جانے کی حالت میں ہے؟ حکومت نے علاج کررہے ڈاکٹروں کی اسپیشل ٹیم سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ سنگاپور شفٹ کیا جائے یا نہیں؟ یا پھر سنگاپور میں علاج ہوگا جو بھارت میں نہیں ہوسکتا۔ ڈاکٹروں کی ماہرین کی ٹیم میں ایمس ، جی بی پنت ہاسپٹل اور صفدرجنگ ہسپتال کے ڈاکٹر شامل تھے۔ڈاکٹروں نے الزام لگایا کہ سرکار فیصلہ لے چکی تھی۔ متاثرہ کو سنگاپور بھیجا جائے؟ ڈاکٹروں کا دعوی ہے کہ ہم پچھلے 11 دنوں سے مریض کو بہتر طبی مدد دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ کو سنگاپور بھیجنے کا فیصلہ ڈاکٹروں کا نہیں تھا بلکہ سرکار کی طرف سے لیا گیا فیصلہ تھا۔ دہلی کے سرگنگارام ہسپتال نے تو آنت کے ٹرانسپلانٹ کی بھی پیشکش کی تھی۔
بھارت کے ڈاکٹردنیا بھر میں مشہور ہیں اور ہزاروں غیر ملکی بھارت آکر اپنا علاج کراتے ہیں۔ سنگاپور منتقل کرنے کا فیصلہ سیاسی تھا۔ سرکار احتجاجوں سے بری طرح ڈر گئی تھی۔ اگر متاثرہ نے صفدر جنگ ہسپتال میں دم توڑا تو جنتا کے غصے کو قابو کرنا مشکل ہوجائے گا اور اس کا ردعمل اب بھی ہوگا۔ ہاں ایک فرق ضرور آگیا ہے کہ اب جب طالبہ کی موت ہوچکی ہے اس نکمی اور غیر ذمہ دار حکومت کو ملزمان کو پھانسی پر نہ لٹکانے کا کوئی بہانہ نہیں بچا۔ ہم متاثرہ لڑکی کے کنبے کو بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ آج آپ کے دکھ میں سارا دیش شریک ہے اور ہم بھی پرارتھنا کرتے ہیں کہ متاثرہ لڑکی کی آتما کو شانتی ملے۔
(انل نریندر)

خواتین کے تئیں غیر سنجیدہ ہوتا سیاسی طبقہ

خواتین کے خلاف بھدے تبصرے کرنا سیاستدانوں کی عادت بن گئی ہے۔ آئے دن یہ نیتا کچھ نہ کچھ بکواس کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس طویل سیریز میں تازہ نام صدر پرنب مکھرجی کے بیٹے و کانگریس ایم پی ابھیجیت مکھرجی کا جڑ گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھدا تبصرہ ایسے وقت کیا جب پورا دیش دہلی میں ایک متاثرہ لڑکی کے واقعے کے خلاف ناراضگی سے بھرا ہوا ہے۔ سنئے ابھیجیت صاحب کیا فرماتے ہیں ’’دہلی میں گینگ ریپ کے خلاف مظاہرہ کررہیں عورتیں میک اپ سے رنگی پتی ہوتی ہیں، وہ پہلے کینڈل مارچ نکالتی ہیں اور رات میں ڈسکو میں پہنچ جاتی ہیں، وہ کہیں سے بھی لڑکیاں نظر نہیں آتیں۔‘‘ حالانکہ ابھیجیت کی بہن شرمشٹھا نے ان کے بیان کے لئے معافی مانگ لی ہے اور خود ابھیجیت نے بھی اپنی رائے زنی پر افسوس ظاہر کیا۔ لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور پورے دیش میں اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ خواتین کی انجمنوں نے ان کے اس تبصرے پر سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ابھیجیت نے ایک ٹی وی چینل پر کہا تھا کہ دہلی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مصر یا دوسری جگہوں پر ہوئے واقعات کی طرح ہے جسے ارب بسنت کہا گیا ہے لیکن بھارت کے بنیادی حالات کچھ اور ہیں ۔ کینڈل مارچ اور ڈسکو میں جانا ایک ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ہم نے بھی طالبعلمی کی زندگی میں ایسا کیا ہے۔ لیکن فی الحال تو ڈینٹڈ پینٹڈ عورتیں ٹی وی انٹرویو دیتی ہیں اور اپنے بچوں کو بھی دکھانے کے لئے ساتھ لاتی ہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ یہ طالبہ ہوں گی کیونکہ اس عمر کی عورتیں سڑکوں پر نہیں آتیں۔ اس پر مارکسوادی لیڈر برندا کرات نے فوراً کہا کہ ایسے بیان دینے والے ممبران اور ممبر اسمبلی کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اس سے ان کے دماغ اور گندی ذہنیت کا پتا چلتا ہے۔ بھاجپا کے شاہنواز حسین اور اسمرتی ایرانی نے کہا کہ بیان دینے سے پہلے کیوں نہیں سوچا سمجھا جاتا؟ اس طرح کے بیان دینے کی کوئی ہمت کیسے کرسکتا ہے۔ صدر کی بیٹی ابھیجیت کی بہن شرمشٹھامکھر جی نے کہا کہ میں بہت حیران ہوں کہ ایک بہن ہونے کے ناطے ساری عورتوں سے شرمندہ محسوس کررہی ہوگی اتنا طے ہے کہ وہ اس سے قطعی متفق نہیں ہوسکتے۔ ہمارا خاندان ایسا نہیں ہے۔ وہ سیاسی طبقے میں عورتوں کے تئیں غیر سنجیدہ بیانوں کاسلسلہ بھی نیا نہیں ہے۔ 
نریندر مودی ، سری پرکاش جیسوال، سنجے نروپم، ملائم سنگھ یادو وغیرہ جیسے لوگوں کی ایسے بیان دینے والوں کی فہرست لمبی ہے۔ مودی نے تو انسانی وسائل وزیر مملکت ششی تھرور کی بیوی سنندہ کو50 کروڑ روپے کی گرل فرینڈ کہہ ڈالا تھا۔ حال ہی میں کانگریس ایم پی سنجے نروپم نے ایک ٹی وی مباحثے میں بھاجپا نیتا اسمرتی ایرانی کو کہہ دیا تھا کل تک ٹی وی پر ٹھمکے لگا تھی تھی آج چناؤ مبصر بن گئی ہے۔ مہلا ریزرویشن بل کی مخالفت کرتے ہوئے ملائم سنگھ یادو نے ایک ریلی میں کہہ ڈالا تھا کہ بڑے بڑے گھروں کی لڑکیاں اور عورتیں صرف اوپر جاسکتی ہیں۔ یاد رکھنا آپ کو موقعہ نہیں ملے گا۔ ہمارے گاؤں کی عورتوں کی کشش اتنی نہیں ہے۔ کوئلہ وزیر سری پرکاش جیسوال نے کانپور کی ایک ریلی میں کہا تھا پرانی جیت پرانی بیوی کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کشش کھو بیٹھتی ہے۔ تو کیا سیاسی طبقہ عورتوں کے تئیں مسلسل غیر سنجیدہ ہوتا جارہا ہے یا پھر وہ اپنا اصلی رنگ دکھا رہا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...