Translater

15 فروری 2020

بھارت میں 26سال میں ٹڈیوں کو سب سے بڑا حملہ

بھارت کی تاریخ میں اس وقت زبردست ٹڈی حملے کی آفت آئی ہوئی ہے اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے مغربی ایشیائی ریگستان سے نکلیں ان آسمانی در انداز پرندوں نے گجرات ،راجستھان اور پنجاب میں پھیلے 1.68لاکھ اکیڑ سے زائد کھیتوں کی فصل برباد کر دی ہے ۔یہ بھارت میں 26سال میں سب سے بڑا حملہ ہے اس سے پہلے 1978,1993اور 1962میں یہ حملے دیکھے گئے تھے تب سردیوں کی وجہ سے یہ ختم ہو گئے تھے ۔راجستھان میں 169821گجرات میں 18737ایکڑ کھیتوں کو نقصان پہنچایا پنجاب میں نقصان کا اندازہ نہیں لگ سکا لیکن ایک اندازے کے مطابق سو کروڑ روپئے کا نقصان ہو گیا ہے اور قریب 1.5لاکھ کسان ان ٹڈیوں کی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں ۔پاکستان اور شومالیہ نے ٹڈی دل حملوں کے بعد قومی ایمرجنسی لگا دی ہے ۔ان حملوںنے ٹماٹر،گیہوں اور کپاس کی 40فیصد کھیتی کو نقصان ہوا ہے ۔ٹڈیوں کو ختم کرنے کے لئے راجستھان اور گجرات سرکاروں نے غیر منظم گروپ کے کیمکل کا استعمال کیا ۔اسے ہٹلر نے دوسری جنگ عظیم کے وقت کیمیائی ہتھیار کے طور پر تیار کروایا تھا ۔اس زہریلی دوا کور اجستھان اور گجرات میں ہزاروں ایکڑ زمین پر چھڑکا گیا ۔یہ کیمکل اب پانی میں گھل کر اسے زہریلا بنائے گا انڈین آلودہ موسمیات سائنس انسٹی ٹیوٹ پونے کے سائنسداں راکسی میتھیو کول کے مطابق مئی و اکتوبر2018میں بحر ہند میں اسے لبان جیسے آفتوں کی وجہ سے یمن ،یو اے ای اور عمان ،سعودی عرب اور دیگر ریگستانوں میں اچھی بارش ہوئی جہاں یہ ٹڈیاں پلی بڑھیں اس سے ناگزیں حالات بننے کی شروعات ہوئی 90دن زندہ رہنے والی ان ٹڈیوں کا بھارت پہنچنے تک خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا لیکن مانسونی مہینوں اور پھر نومبر میں تھار ریگستان اور مغربی راجستھان میں اچھی بارش ہوئی اس کی وجہ سے جو ٹڈی جھنڈ یہاں پہنچے انہوںنے اگلی پیڑھی کو تیار کرنے کے لئے یہاں کم گرمی گھاس اور ہوا جیسے خوشگوار حالات پائے دو گرام کا یہ پرندہ ایک دن میں اپنے وزن کے برابر خوراک کھا جاتا ہے ۔یہ سفر بہت چھوٹا لگتا ہے تو لاکھوں کی تعداد میں آنے والے ان کے کسی جھنڈ کے بارے میں سوچ کر اندازہ لگائیں بھارت اس وقت ان ٹڈیوں کے جھنڈ کے سب سے خطرناک حملے سے گزر رہا ہے ۔عموماََ گرمی میں آنے والے ٹڈیوں کے جھنڈ کے و موسمی حملے نے زراعت اور ماحولیاتی سائنسدانوں کے کان کھڑے کر دئے ہیں ان کی آباد عام طور سے 20ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے اور سردیاں ختم ہونے کے بعد ان کی نئی پیڑھی تیار ہو سکتی ہے ۔تقریبا 40لاکھ ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ایک بار میں دس ہاتھی یا 25اونٹ کے ذریعہ کئے گئے نقصان کے برابر کھیتی کو برباد کر رہے ہیں ۔موٹے طور پر یہ نقصان 25ہزار لوگوں کی غذا کو برباد کرنے کے برابر ہے ۔ٹڈیوں کو ہوا میں مارنے کے لئے ضروری پلین و ڈرون تو مانگے ہی نہیں گئے ۔

(انل نریندر)

سی اے اے و این آر سی و شاہین باغ نے مسلمانوں کو متحد کیا

وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے و کام کر دکھایا جو دھائیوں میں انتخابات میں نہیں ہو سکا تھا شہریت قانون کے سہارے بے شک بھاجپا نے ہندو ووٹروں کو اپنی طرف کھینچا لیکن ساتھ ساتھ مسلم ووٹروں کو بھی آپس میں متحد ہونے کا موقع دے دیا منقسم مسلمانوں نے اس مرتبہ دہلی اسمبلی چناﺅ میں آپسی اختلافات بھلا کر بی جے پی کے خلاف متحد ہو کر ووٹ کیا اور یہ سارا ووٹ عام آدمی پارٹی کو چلا گیا سی اے اے ،این آر سی و شاہین باغ معاملے کا اثر ووٹروں پر بھلے نہیں رہا ہو لیکن مسلم اکثریتی علاقوں میں زبردست پولرائزیشن ہوا شہریت قانون کے خلاف احتجاج کی حمایت کرنے والی عآپ پارٹی کو راجدھانی کے پانچوں مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں میں جیت حاصل ہوئی ہے اور کانگریس کے سرکردہ مسلم چہروں کو مسترد کر دیا ۔جبکہ کانگریس نے بھی مسلم امیدواروں کو ہی ٹکٹ دیا تھا ۔لیکن کانگریس کا ایک بھی امیدوار ان چناﺅ میں اپنی ضمانت تک نہیں بچا پایا مسلم اکثریتی علاقے کانگریس کے گڑھ مانے جاتے رہے ہیں بھاجپا نے ان سبھی جگہوں پر غیر مسلم امیدوار اتارے تھے اس کے امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ۔شہریت قانون و این آر سی کو لے کر شروع ہوئی تحریک سے متحد مسلم ووٹروںنے نہ صرف دہلی میں بھاجپا کو کامیابی سے دور رکھا بلکہ قریبی مقابلے والی سیٹ پر ہار کی سب سے وجہ بنی یہ علاقے ہیں جمنا پار کے مصطفی آباد ،شاہدرہ ،کرشنا نگر،اور پڈپڑ گنج میں آگے چل رہے بھاجپا امیدواروں کو مسلم اکثرتی پولنگ بوتھوں نے ہرا دیا ۔مصطفی آباد کے بھاجپا امیدوار جگدیش پردھان اور سنجے گوئل اور انل گوئل نے اعتراف کیا کہ ہماری وکاس کی جیت شاہین باغ اور مسلم ووٹروں نے روکی ہے ۔ووٹوں کی گنتی میں ان ساتوں سیٹوں پر کانٹے کا مقابلہ رہا کانگریس کھاتہ نہیں کھول پانے کو لے کر چاہے جتنی دلیلیں پیش کرئے لیکن قومی سطح پر پارٹی کی حکمت عملی بھاجپا کو اقتدار سے دور رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ پی چدمبرم ،دگ وجے سنگھ،ادھیر رنجن چودھری،جیسے بڑبولے نیتاﺅں نے دہلی میں کانگریس کی ہار پر تشویش جتانے کے بجائے عام آدمی پارٹی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ۔جبکہ کانگریس ورکروں کو لگا کہ ہم جیت کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انہوںنے اپنا ووٹ ضائع نہ کر کے عام آدمی پارٹی کو منتقل کر دیا ۔اس چناﺅ کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ رہا کہ مسلمانوں کا متحد ہونا اور بھاجپا کو ہر حال میں ہرانا رہا ۔

(انل نریندر)

14 فروری 2020

گارگی کالج میں چھیڑ چھاڑ کا شرمناک واقعہ!

دہلی یونیورسٹی کے لڑکیوں کے گارگی کالج میں 6فروری کی شام طالبات سے جس طرح سے بد تمیزی چھیڑ خانی اور مار پیٹ کی گئی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہلی میں خواتین کتنی محفوظ ہیں؟بتا دیں کہ یہ واقعہ چھ فروری کو ایک فیسٹ فنکشن کے دن ہوا جس میں دس ہزار طالبات کی بھیڑ تھی اور اس تعداد کے مطابق وہاں حفاظت کے انتظام نہیں تھے ۔زوبن نوٹیال کے پروگرام کی وجہ سے شور شرابہ اتنا تھا کہ متاثرہ طالبات کی آواز کوئی سن نہیں پایا ۔سبھی کو انٹری کے لئے پاس جاری کیا گیا تھا ۔ایسے میں کیمپس میں بھاری بھیڑ اکھٹی ہو گئی جس میں باہری لڑکے بھی آگئے اور وہ طالبات سے قابل اعتراض حرکتیں کرتے رہے لڑکیاں چلائیں احتجاج کیا لیکن شور میں ان کی آواز کسی نے نہیں سنی جو سب سے آگے بیٹھے تھے انہیں تو پتہ بھی نہیں تھا کہ کالج کے اندر ایسا کچھ ہو گیا ہے ۔طالبات نے اس دن کی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سالانہ فنکشن کے دوران کالج کے کمپس میں داخل لوگ تیس سا ل کی عمر کے آس پاس کے تھے اور نشے میں تھے او رطالبات کو زبردستی ان کے جسم کو چھوا اور گھسٹا یہ حرکتیں ایسی تھی جب پولیس اور سیکورٹی ملازم تماشہ دیکھتے رہے اور وہ حرکت میں نہیں آئے ۔ان سے چھیڑ خانی سے صاف ہو گیا ہے کہ ان کی سیکورٹی پوری طرح سے پھیل ہو گئی ہے ۔ایک طالبہ نے بتایا کہ کالج انتظامیہ نے سیکورٹی انتظامات کا دعوی کیا تھا لیکن بھیڑ کا فائد ہ اُٹھا کر کچھ غنڈے گھس گئے دیش کے کسی بھی کالج میں اس طرح کا واقعہ نہیں ہو ا ہوگا اگر طالبات نے اس واقعہ کو اتوار کے روز ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر شیئر نہ کیا ہوتا تو اس کی خبر تک نہیں آپاتی ۔اور نہ ہی معاملہ لوک سبھا میں اُٹھتا ۔اب دہلی مہیلا کمیشن بھی حرکت میں آگیا ہے ۔اس نے بھی بر وقت کارروائی نہ کرنے کے لے پولیس کو نوٹس بھیج دیا ہے دہلی کے کالجوں میں حالانکہ سالانہ فنکشن کے دوران کچھ واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ۔اور ان سے بھی سبق لینا ضروری نہیں سمجھا گیا ۔اس واقعے نے دہلی میں قانون و نظام پر سوالیہ نشان اس لئے بھی لگا دیا ہے کہ دہلی میں کئی حکومتیں موجو د ہیں جس میں مرکزی حکومت دہلی حکومت وغیرہ شامل ہیں ۔چپے چپے پر پولیس کے نگرانی کیمرے لگے ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے اس کے باوجود بھی جرائم پیشہ اگر بے خوف رہتے ہیں تو یہ سوال اُٹھنا فطری ہے کہ انہیں کہاں سے سرپرستی اور شہ مل رہی ہے ؟جرائم پیشہ عناصر جے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے اور سی اے اے کی حمایت میں اس وقت ریلی بھی نکل رہی تھی شاید فنکشن کی آواز سن کر اس میں سے کچھ لوگ کالج میں گھس آئے ہوں بہر حال اس واقعہ پر پورے سماج کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ گارگی کالج میں لڑکیوں پر حملہ کرنے والے کون تھے او رکون انہیں سر پرستی دے رہا ہے؟

(انل نریندر)

کجریوال کی تاریخی جیت ہے تو بھاجپا کی ہار اس سے بھی تاریخی

دیش کی راجدھانی دہلی میں 1998سے مسلسل اقتدار سے باہر بھاجپا کو ایک بار پھر اسمبلی چناﺅ میں ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔نئی حکمت عملی اہم قومی اشو اور پوری طاقت جھونکنے کے باوجود بھاجپا کے حصے میں 70میں سے محض 8ہی سیٹیں ملیں ہیں ۔یعنی پچھلی بار محض پانچ زیادہ حالانکہ اس کا ووٹ شیئر 6فیصدی سے زیادہ بڑھا ہے ۔مگر حکمراں عام آدمی پارٹی کے مفت بجلی ،پانی ،عورتوں کو ڈی ٹی سی میں فری سفر محلہ کلینک ،جیسے اشو کا بھاجپا کوئی توڑ نہیں نکال سکی ۔بھاجپا کی قیادت والی این ڈی اے پچھلے دو برسوں میں 7ریاستوں میں اپنا اقتدار گنوا چکی ہے ۔پچھلی مرتبہ اسمبلی چناﺅ میں تین سیٹیں جیتنے والی بھاجپا کو اس مرتبہ اچھی کامیابی کی امید تھی مگر اس کے اندازے غلط ثابت ہوئے ۔اسی کے ساتھ بھاجپا کے لئے دیش کا سیاسی نقشہ بھی نہیں بدلا ۔دہلی سمیت بارہ ریاستوں میں اب بھی بھاجپا مخالف حکومتیں ہیں ۔این ڈی اے کے پاس 16ریاستوں میں سرکاریں ہیں دہلی میں کجریوال کی جیت تاریخی رہی لیکن بھاجپا کی ہار بھی اس سے زیادہ تاریخی ہے ۔دیش کی تاریخ میں بھاجپا پہلی بار اتنی بری طرح ہاری ہے ۔ہو سکتا ہے کہ نمبر اس کی حمایت نہ کرتے ہوں لوگ کہیں کہ بھاجپا 1983میں صرف دو سیٹیں لائی تھی اب ان چناﺅ میں پارٹی کی ایک بار پھر سے سب سے بڑی ہار مانی جا سکتی ہے ۔اور یہ کوئی عام شکست نہیں ہے جو بی جے پی کو 1984میں ہاری وہ مرکز میں اس وقت سرکار بھی نہیں تھی اس کے پاس کافی وسائل تھے دہلی چناﺅ میں پچھلی بار بی جے پی ہاری تو اس نے اتنی بڑی بازی نہیں کھیلی تھی اس بار کا چناﺅ خاص تھا تھوڑا بہت نہیں 350سیٹیں لوک سبھا میں جیتنے کے ماہر ایم پی اس بار دہلی سڑکوں پر انچ بائی انچ سڑکوں پر گھومتے رہے جو کبھی ایسا تاریخ میں دیکھنے کو نہیں ملا بھاجپا کے چانکہ مانے جانے والے ۔امت شاہ اس طرح بڑی محنت اور لگن سے چناﺅ میں کبھی نہیں اترے تھے اور خود انہوںنے گلی گلی گھوم کر ووٹ مانگے تھے اور اپنے ہاتھ سے پرچے تک بانٹے تھے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے زوردار تقریروں سے عام آدمی پارٹی اور کانگریس پر جم کر حملہ بولا تھا ۔امت شاہ نے اپنے انداز میں ہر طرح سے انتظامیہ کو داﺅں پر لگا دیا تھا شاہین باغ میں فائرنگ معاملے میں کپل گوجر نامی لڑکا پکڑا گیا تو کھل کر دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی کا نام تک لے لیا بی جے پی کے سارے وزیر اعلیٰ دہلی میں لوگوں کو رجھانے میں لگے تھے کچھ مذہب کے نام پر ووٹ مانگ رہے تھے تو کچھ لوگوں کو قسمیں کھلا رہے تھے ۔یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ریلیاں جان بوجھ کر ایسے علاقے میں رکھی گئیں جہاں مسلم آبادی بہت تھی اور جس وجہ سے کشیدگی کا پورا امکان تھا اور انہوںنے وہاں اشتعال انگیزی پر مبنی تقریریں کیں لیکن پھر بھی بھاجپا ہار گئی ۔اس سے بڑی ہار کیا ہو سکتی تھی ۔اس لئے بھی سب سے بڑی ہار ہے پارٹی نے اپنا ترپ کا پتہ بے کا رپھینکا دھرم کے نام پر ووٹ کمانے کے لے پارٹی کے ایم پی پرویش ورما نے یہاں تک کہہ دیا کہ مسلمان دھرنے سے اُٹھ کر ہندوﺅں کے گھروں میں گھس جائیں گے اس بیان کے لئے چناﺅ کمیشن نے ان پر پابندی لگا دی اور وزیر مملکت خزانہ انوراگ ٹھاکر کے گولی مارو والے بیان کے لے ان پر ایف آئی آر درج ہوئی اور پابندی بھی لگی ۔بی جے پی نے اپنے سب سے خاص مہروں کو بھی داﺅں پر لگا دیا ۔شاہین باغ کو لے کر پارٹی کے ترجمان سنبت پاترا نے فرضی ویڈیو سوشل میڈا پر ڈالے دہلی میں خود وزیر اعظم مودی نے لوگوں سے سیدھے سیدھے ووٹ مانگے اور پارلیمنٹ میں صدر کے ایڈرس پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران وزیر اعظم نے وہی تقریر کی جو ان کی دہلی میں چناﺅ ی تقریر تھی اس مرتبہ بھاجپا نے دہلی کے ستر اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی کمپین کے لے 350سے زیادہ نیتاﺅں کی فوج اتار دی بھاجپا حکمراں ریاستوں کے زیادہ تر وزیر اعلیٰ اور این ڈی اے کے ممبران نے بھاجپا کی چناﺅ مہم کے لئے ہاتھ ملایا لیکن پارٹی پھر بھی ہار گئی اور یہ بی جے پی کی سب سے بڑی ہار مانی جا سکتی ہے ۔

(انل نریندر)

12 فروری 2020

یہ تو گرنا ہی تھا !

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف پارلیمنٹ میں جو مقدمہ چلانے کی کاروائی چل رہی تھی اس کا نتیجہ کسی کو بھی حیرت میں ڈالنے والا نہیں ہے ٹرمپ کے خلاف سینٹ میں مقدمہ چلانے کے الزامات سے بری کر دیا ہے اپوزیشن ڈیموکریٹو پارٹی کے ممبران کی طرف سے لگائے گئے اقتدار کے بے جا استعمال اور مقدمہ چلانے کی کاروائی میں روڑے اٹکانے کے الزامات سے متعلق دونوں پرستاو ¿ گرگئے ہیں۔کرٹ رومنی کو چھوڑ کر حکمراں رپبلکن پارٹی کے سبھی ممبران پارلیمنٹ نے ٹرمپ پر لگائے گئے الزامات کے خلاف ووٹ ڈالا ۔بدھوارکو جب سبھی رپبلکن سینیٹر نے اقتدار کے بے جا استعمال کے الزام سے ٹرمپ کو بری کرنے کا فیصلہ لیا تب سینٹر رومنی نے بہت ہمت کاثبوت دیا ۔دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ صدر کے حق میں ووٹ کریں گی ۔ان کی سیدھی دلیل تھی کہ صدر فطری طور پر قصوروار ہیں اس میں کوئی سوال نہیں کہ صدر نے ایک غیرملکی طاقت سے اپنے سیاسی حریف کی جانچ کے لئے کہا میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اپنے ہاتھوں میں اقتدار رکھنے کے لئے کوئی کسی چناو ¿ کو اس طرح سے کرپٹ بنا کر آئین پر ایسا غرور پر مبنی حملہ کر سکتے ہیں ؟صدر نے یہی کیا اپنے ساتھیوں سے الگ رومنی میں سچائی کو نظر انداز کرنے سے انکار کر دیا میں یہ دیکھ رہا تھا کہ اس نتیجہ پر کیسے پہونچتا ہوں اور ان باتوں کو سچی نامانوں جنہیں میرے دل اور دماغ میں پل رہی ہیں ۔امریکی میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اس الزام کو صحیح بھی مانتا رہا یہ بات مقدمہ کے پرستاو ¿ گرنے کے بعد امریکہ نے جاری رد عمل سے صاف ہے ۔حالانکہ یہ معاملہ صرف مقدمہ چلانے کا نہیں ہے اس سے بھی ایک سیاسی سیاست جڑ ی ہوئی ہے ۔امریکی صدر کا چناو ¿ اب بہت دور نہیں ہے ۔اپوزیشن ڈیموکریٹو پارٹی اس مقدمہ کے بہانے اقتدار میں واپسی کا راستہ تیار کرنا چاہتی ہے شروع سے ہی وہ یہ مان کر چل رہی تھی کہ اس پوری کاروائی سے اسے ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف ماحول بنانے میں مدد ملے گی ۔مانا جاتا ہے اس کام میں کچھ حدتک کامیابی بھی ملی ہے حالانکہ ابھی یہ کہہ پانا مشکل ہے کہ آئندہ صدارتی چناو ¿ پر اس معاملہ کا اثرہوگا یا نہیں وہ بھی تب جب جیت کا سہرہ ڈونالڈ ٹرمپ کے سر پر بندھا ہے ۔ظاہر ہے مقدمہ پرستاو ¿ گرنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی رپبلکن پارٹی اب زبردست جوش سے اپنی چناو ¿ مہم میں اترے گی ۔

(انل نریندر)

عمر عبداللہ اور محبوبہ پر پی ایس اے لگانے کا سوال!

کانگریس نے 6ماہ سے حراست میں چل ہرے جموں کشیمر کے دو سابق وزیر اعلیٰ پر اب پبلک سیفٹی قانون (پی ایس اے )لگانے پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کی مانگ کی ہے ۔جموں کشمیر انتظامیہ نے گزشتہ دنوں عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس اے لگادیاتھا دونوں نیتا پچھلے 5اگست سے نظر بند ہیں اب دو دیگر نیتاو ¿ں پر بھی پی ایس اے لگایا گیا عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پہلے سے ہی اس قانون کے تحت بند ہیں ۔محبوبہ مفتی اور عمر کی حراست میعاد جمعرات کو ختم ہو رہی تھی ۔جمعرات کو مجسٹریٹ دونوں نیتاو ¿ں کے بنگلہ پر پہونچے اور انہیں حکم کی جانکاری دی کہ انہیں سلامتی اورامن کے لئے خطرہ مانتے ہوئے پھر پی ایس اے برقرار رکھا جاتا ہے 1978میں شیخ عبداللہ نے اس قانون کو نافذ کیا تھا ۔2010میں اس میں ترمیم کی گئی جس کے تحت بغیرمقدمہ کے کم سے کم 6مہینے تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے ۔سرکار چاہے تواسے دو سال تک بڑھا سکتی ہے ۔کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا واڈرا نے عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس اے لگانے کے سرکار کے قدم پر سوال کھڑا کیا ہے ۔سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے مرکز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بغیر الزام کسی کو حراست میں رکھنا نچلی سطح کا کام ہے ۔مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی نے بھی کہا سرکار کے اس قدم سے صاف ہے کہ جموں کشمیر میں حالات بہتر ہونے کا سرکار کا دعویٰ غلط ہے ۔پرینکا واڈرا نے ٹوئیٹ کیا ہے جس کس بنیا دپر عمر عبداللہ محبوبہ پر پی ایس اے لگایا گیا ہے ؟انہوں نے ہندوستانی آئین کی تعمیر کی ہے ۔اور جمہوری عمل کے تئیں وفادار رہے ،علیحدگی پسندوںکے خلاف کھڑے ہوئے کبھی تشدد اور تباہ کن پالیسیوں کی حمایت نہیں کی اس لئے بغیر کسی الزام کے قیدمیں رکھنے کی جگہ ان دونوں کو فوری رہائی کے حقدار ہیں ۔چدمبرم کا کہنا تھا جب ناانصافی پر مبنی قانون کا سرکار استعمال کرے گی تو پر امن احتجاج و مظاہروں کے علاوہ اور کیا راستہ ہے ؟پارلیمنٹ میں پاس قانون کی تعمیل کرنے کے وزیر اعظم کے بیان پر تلخ حملہ کرتے ہوئے چدمبرم نے کہا وزیر اعظم تاریخ کی مثال بھول گئے ہیں ۔مہاتما گاندھی ،مارٹل لوتھر کنگ اور نیلسنگ منڈیلا کی مثال دیتے ہوئے کانگریس نیتا نے کہا کہ غیر انصافی قانونوں کے خلاف تحریک عدم احتماط اور ستہ گرہ کے ذریعہ پر امن احتجاج تو ہوگا لوک سبھا میں کانگریسی پارلیمانی کے نیتا ادھی رنجن چودھری نے کہا اس طرح کشمیر پر حکومت نہیں کر سکتے جغرافیائی طور سے کشمیر ہمارے ساتھ ہے لیکن جذباتی طور سے ہمارے ساتھ نہیں ہے ۔مرکزی سرکار لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔

(انل نریندر)

11 فروری 2020

جج کی بیو ی ،بیٹے کے قاتل بندوقچی کو پھانسی کی سزا

جج کی بیوی اور بیٹے کے قتل میں قصوروار بندوقچی کو آخر کار پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے یہ سزا سناتے ہوئے جج موصوف نے کہا کہ یہ واردات قصدا اردی کے دائرے میں آتی ہے ۔کیونکہ جس بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا تھا اس کے چلتے گنر کو سزائے موت دی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ ثبوت چھپانے کے لئے پانچ سال اصلحہ ایکٹ کے تحت تین سال اور پندرہ ہزار کو جرمانہ بھی لگایا گیا ہے ۔کورٹ کے مطابق بندوقچی کے وکیل پی ایس شرما نے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جانے کی بات کہی ہے ۔دہرے قتل کی یہ واردات 13اکتوبر 2018کو سیکٹر 48گرو گرام کے آر کےڈیا مارکیٹ کے باہر ہوئی ۔اس وقت گروگرام میں بطور ایڈیشن سیشن جج رہے کرشن کانت شرما کی بیوی اور بیٹا دھرو مارکیٹ میں اپنے محافظ بندوقچی کے ساتھ گئے تھے وہاں وہ تصویر پر فریم بنوا کر باہر آئے تو ہنڈا سٹی کار کے پاس جج کا بندوقچی مہپال کھڑا تھا ۔دھر و سے پینٹگ لے کر گنر نے کار میں جیسے ہی رکھی پینٹنگ کے فریم میں چٹخنے سے اسکریچ پڑ گئے اور اس بات کو لے کر دونوں میں بحث مباحثہ اور ہاتھا پائی ہو گئی غصے میں گنر نے ماں بیٹے پر گولی چلا دی عورت کی اسی دن موت ہوگئی جبکہ 23اکتوبر کو دھرو بھی ہاسپیٹل میں چل بسا تھا ۔جمعرات کو گرو گرام کے ضلع میٹرو پولٹن سیشن جج سدھیر پرمار کی عدالت میں سماعت ہوئی دونوں فریقین کے درمیان بحث کے بعد ملزم بندوقچی مہیپال کو قصوروار قرار دیا گیا اور اس پورے معاملے کو تین ججوں نے سنا اور اس کیس میں نو جنوری 2019ملزم پولیس کانسٹبل مہیپال پر اس وقت کے سیشن جج آر کے سوندھی کی عدالت میں پیش کی اس معاملے میں پولیس کی طرف سے آٹھ گواہ بنائے گئے اور پورے معاملے میں چوسنٹھ گواہیاں ہوئیں ۔ان گواہوں میں سے دو چشم دید کے علاوہ تین ججوں نے بھی گواہی دی معاملے کی سماعت پھرتی سے کی گئی اس کے بعد یہ معاملہ ایڈیشنل سیشن جج سدھیر پرمار کی عدالت میں ٹرانفسر کر دیا گیا عدالت نے کہا کہ قصوروار ایک ڈسی پلین پولیس فورس کا ممبر ہے اور بغیر وجہ ایک جوڈیشل افسر کی بیوی اور معصوم بیٹے کا قتل کر دیا اور اس نے پبلک کا بھروسہ توڑا ہے عدالت نے کہا قصوروار نے دن دہاڑے بازار میں اس واردات کو انجام دیا اس سے صاف ہے کہ اسے اپنی اچھی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔اور اس نے اس قتل کانڈ کو ایک سازش کی طرح انجام دیا اور اس نے لڑکے کو گولی مارنے کے بعد اس کے جسم کو گھسیٹا ہی نہیں بلکہ اس کے سر پر لات بھی ماری اس کے اس برتاﺅ سے سبھی حیرت زدہ رہ گئے تھے ۔

(انل نریندر)

رام مندر کی تعمیر اپریل میں شروع ہوگی:نیاسی

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ کے قیام کے ساتھ ہی ایک بڑی خانہ پوری ہو گئی ہے پی ایم مودی نے اس ٹرسٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے تنازعہ سے آزاد کیا زمین کے ساتھ ہی مرکزی سرکار کے ذریعہ 1993میں اکوائر شدہ 67.7ایکڑ زمین بھی سونپنے کا اعلان کر دیا تھا ۔مرکزی کیبنٹ نے بدھ کے روز رام مندر ٹرسٹ بنانے کی منظوری دی جس کا اعلان لوک سبھا کے ایوان میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرسٹ بنانے سے متعلق جانکاری دی ٹرسٹ کا نام شری رام جنم بھومی تیرتھ استھل رکھا گیا ہے ۔ایودھیا میں شری رام مندر تعمیر کے لئے ٹرسٹ کے قیام کے ساتھ ہی سب کی توجہ اس بات کی طرف چلی گئی کہ رام مندر کی تعمیر کب شروع ہوگی ۔15نفری ٹرسٹ کے 9ممبران کے ناموں کا اعلان اور اس میں دلت کی شکل میں شیلا نیاس میں بنیاد کی اینٹ رکھنے والے دلت کامیشور چوپال کو شامل کرنے کا مطلب ہے کہ ناموں پر کافی وقت سے غور چل رہا تھا۔سپریم کورٹ میں شری رام جنم بھومی کے وکیل رہے پارا سن کی رضامندی سے پہلے لی گئی تھی ۔ٹرسٹ کا پتہ و ان کا مکان نہیں ہوتا یوں اس ٹرسٹ میں کچھ 15ممبر ہوں گے جن میں سے چھ کو نامزد کیا جائے گا لہذا کسی خاتون کو شامل کئے جانے کا راستہ نہیں کھل پایا سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی پانچ ججوں کی بنچ نے پچھلے سال 9نومبر کو دھائیوں پرانے رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کا نمٹارا کرتے ہوئے تاریخی فیصلے میں متنازعہ جگہ ہندو فریقین کو دینے اور مسلمانوں کو ایودھیا میں پانچ ایکٹر زمین دینے کے احکامات دئے تھے کئی دہائیوں تک اس مسئلے نے دیش کی سیاست اور سماجی ڈھانچے اور بھائی چارے کو متاثر کیا ۔اور اس کا آغاز چھ دسمبر 1992کے واقعہ کی شکل میں دیکھنے کو ملا جب ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچے بابری مسجد کو ڈھا دیا گیا تھا ۔دراصل یہ تنازعہ مالکانہ حق تک محدود نہیں تھا اس میں آستھا بھی جڑی رہی سپریم کورٹ نے جب انا فیصلہ سنایا تب کہا تھا کہ اسے کسی کی ہار یا جیت کی شکل میں نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔اور واقعی اس بات کی تعریف ہونی چاہیے کہ اس فیصلے کے بعد سبھی فریقین اور فرقوں نے صبر وتحمل کا ثبوت دیا۔شری رام جنم تیرتھ استھل ٹرسٹ کے نیاسی سوامی گوند دیو گری مہاراج نے جمعرات کو کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اپریل میں یا تو رام نومی یا اکشے ترتیا کو شروع ہوگی سوامی جی نے کہا کہ حالانکہ صحیح تاریخ ٹرسٹ کی پہلی میٹنگ میں مقرر ہوگی میں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لے ایک ٹرسٹ بنانے کے لئے مودی سرکار کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں کروڑوں لوگوں گی خواہش تھی کہ ایودھیا میں ایک رام مندر تعمیر کیا جائے یہ بھگوان رام کو سمرپت صرف ایک ڈھانچہ نہیں ہوگا بلکہ دیش کا ایک علامت بھی ہوگا ۔جے شری رام

(انل نریندر)

09 فروری 2020

اب پھر لندن میں آتنکی حملہ

ایک بار پھر برطانیہ کی راجدھانی لندن میں ایک آتنکی حملہ ہوا ہے یہ حملہ اسٹریپین علاقے میں ایک بیگ میں بم لئے ایک حملہ آور نے تین لوگوں کو چاقو مار کر زخمی کر دیا اس سے پہلے کہ وہ اور نقصان پہنچاتا اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پولیس کے افسران نے مڈبھیڑ میں اسے مار گرایا لندن پولیس نے اسے دہشتگردی کے حملے سے تعبیر کیا ہے ۔ویسٹن سیکورٹی ذائع نے اسے اسلامک دہشتگردی سے جڑی واردات بتایا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملہ آور ایک دکان میں گھسا اور لوگوں پر چاقو سے حملے کرنے لگا اور ایک خاتون پر بھی حملہ کیا شاید وہ سائکل سے آرہی تھی مڈبھیڑ کی جگہ کام کر رہے ایک طاہر نامی شخص نے اسکائی نیوز چینل کو بتایا کہ حملہ آور کو تین گولیاں ماری گئیں وارادت کی سنسنی کو دیکھتے ہوئے علاقے کو خالی کروا دیا گیا تھا ۔کیونکہ پولیس کا دعوی تھا کہ حملہ آور کی بیگ میں بم رکھا گیا تھا ۔سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی تصویروں میں مصلحہ پولیس کی ٹکڑیاں ایک شخص کا پیچھا کرتی دکھائی دے رہی تھیں اس کے بعد پولیس نے سڑک کو بند کر کے لوگوں سے چوکس رہنے کی صلاح دی تھی کچھ لوگوں نے بتایا کہ وارادت پر ہیلی کاپٹر سے جانچ پڑتال کی جا رہی تھی ۔واردات کے بعد پولیس نے علاقے میں چوکسی بڑھا دی 29نومبر کو بھی لندن میں آتنکی حملہ ہوا تھا اس وقت پاکستانی نژاد شخص 28سالہ عثمان خان نامی سزا یافتہ دہشتگرد نے لندن برج پر دو لوگوں کو مار ڈالا تھا ۔اور بھیڑ میں خود کو بم نے اڑانے کی دھمکی دی تھی اس کے بعد پولیس نے اسے گولی مار دی تھی ۔تفتیش میں پایا گیا کہ ہلاکی آتنکی 2012میں بم دھماکے کی سازش رچنے کا قصور پایا گیا تھا ۔دسمبر 2018میں اسے ضمانت پر چھوڑا گیا تھا برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جونسن نے اس واردات پر ٹوئٹ کیا ہے کہ مقامی پولیس نے فوری کارروائی کر کے بڑی واردات سے بچا لیا اس کے لئے وہ شکر گزا ہیں ۔سبھی زخمیوں کے لئے میری ہمدردی ہے ۔لندن کے مئیر صادق خان نے بیان میں کہا کہ آتنکی ہمیں بانٹنا اور ہمارے تحریک کار زندگی کو ختم کرنا چاہتے ہیں لندن میں ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے لندن سمیت کئی یورپی دیش ان آتنکیوں کے نشانے پر ہیں ۔لندن جیسی وارداتیں یورپ کے کئی شہروں میں ہو چکی ہیں ۔پورے یورپ کو اب چوکس ہونا پڑے گا اور اپنی نگرانی سسٹم کو مزید چست کرنا ہوگا۔

(انل نریندر)

چھ کروڑ لوگوں کی جان خطرے میں

میوزیشن چارو کی دادی نے دم توڑ دیا وہ کئی دن سے کومہ کی حالت میں تھیں ،اسپتال نے ان کا علاج کرنے سے منع کر دیا تھا ۔جون چین کالج سے کریجویٹ ہیں ان کی والدہ کرونہ وائرس سے متاثرتھیں وہ اتنی کمزور ہو گئیں کہ اسپتال میں علاج کی لائن میں نہیں کھڑی ہو سکتی 30سال کا ایک ڈاکٹر سانسیں گن رہا ہے یہ دہلا دینے والا منظر ہبئی کا ہے ۔چین جس کا ایک صوبہ اس کی آبادی چھ کروڑ ہے چین کی سرکار نے اب اس کی قسمت پر چھوڑ دیا ہے کرونا وائرس سے مرنے والے 97فیصد لوگ اسی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں ۔میڈیا میں وہان کا ہی چرچا ہے دراصل ہبئی کی راجدھانی وہان ہے پورے دن میں اس متاثر کتنے لوگ ہیں ان کا 67فیصدی ہبئی ہے ۔مرنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے ۔مقامی ہیلتھ سسٹم کی حالت خراب ہو چکی ہے ۔مریض اتنے ہیں کہ اسپتالوں میں پاﺅں رکھنے تک کی جگہ نہیں ہے ۔کرونا وائرس کے پر اثرار مرض نے سب سے پہلے اسی صوبے میں دستک دی 23جنوری کو چین کی حکومت نے پورے ہبئی صوبے کو اتنا الگ تھلگ کر دیا چین کے صدر شی جنگ فنگ نے سخت ہدایات جاری کی ہے ۔اس کے مطابق ہبئی صوبے سے کوئی باہر نہیں جا سکتا ۔اس ہدایت کا مقصد ہے وائرس کو پھیلنے سے روکنا تاکہ پوری دنیا کو بچایا جا سکے وہان کے سابق ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل یوم گانگ ہوئین کہتے ہیں کہ اگر پورے ریاست کی گھیرا بندی نہیں کی گئی ہوتی تو بیمار لوگ علاج کے چکر میں کہیں بھی جا سکتے تھے اس سے پورا چین جان لیوا وائرس کی زد میں آجاتا اس سے لوگوں کا جینا دشوار ہو گیا ہے ۔لیکن یہ ضرور ی تھا سمجھئے یہ سب ایک جنگ لڑنے جیسا ہے ۔وہان میں 6 کروڑ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں ۔اسے دوسرے درجے کا شہر مانا جاتا ہے ۔ڈیولپمنٹ کے معاملے میں شنگھائی ،پیچگ،گوانگ جھاﺅ سے پسماندہ ہے ۔جب وائرس پھیلنا شروع ہو ا تو کچھ دنوں تک کسی کو اس کا اندازہ نہیں ہو پایا اور اس کا علاج نہیں کرا سکے اسی وجہ سے یہ وائرس پھیلتا چلا گیا سرکاری طور پر چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 711تک پہنچ چکی ہے اور 25ہزار سے زیادہ لوگوں میں اس وائرس کا انفیکشن ملا ہے ۔صرف کچھ دنوں کے اندر وائرس کے مریضوں کی تعداد 35فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے ۔لیکن چین کے ٹینسٹ ٹیکنولوجی کمپنی کے افشاں ہوئے ڈاٹا کو صحیح مانا جائے تو اس وائرس کی وجہ سے 25ہزار لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔جب چین میں کرونا وائرس کو لے کر غلط خبر پھیلانے پر موت کی سزا کا اعلان چین کی سرکار کی طرف سے کر دیا گیا ہے ۔کمپنی کے مطابق دیش میں 1لاکھ54ہزار 023لوگوں میں وائرس انفیکشن پایا گیا ۔جو سرکاری ڈیٹا کے مقابلے 80گنا زیادہ ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکار کی سختی کے بعد کمپنی کے ویب پیج پر یہ رپورٹ اپڈیٹ کر دی گئی ہے ۔چین کی یہ دوسری سب سے بڑی کمپنی ہے ۔اس لئے اس کی رپورٹ سب سے زیادہ اہم مانی 
جا رہی ہے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...