01 نومبر 2014

معاملہ کالے دھن کا:اب دارومدار ایس آئی ٹی پر!

کالی کمائی کے معاملے میں یہ اہم پیش رفت کہی جائے گی کہ پھٹکار کھانے کے بعد مودی سرکار نے سپریم کورٹ کو 627 سوئس کھاتے داروں کے نام پیش کردئے ہیں۔تمام لیکن ویکن کے درمیان آخر کار سرکار کو یہ فہرست سونپی پڑی۔ عدالت کے آدیش سے سرکار کی راہ آسان ہوگئی ہے۔ جن بین الاقوامی معاہدوں کے جواز کو نظر انداز کر سرکار کے نام کا خلاصہ کرنے کی قوت ارادی پر سوال اٹھائے جارہے تھے وہ اڑچن عدالتی حکم کے ساتھ ختم ہوگئی۔ حالانکہ ان میں کون اور کن سیکٹروں سے جڑے لوگ شامل ہیں اس کا خلاصہ عدالت نے نہیں کیا ہے لیکن جس طرح ان ناموں کو ایس آئی ٹی کوسونپتے ہوئے سپریم کورٹ نے طے میعاد میں جانچ کے احکامات دئے ہیں اس سے اتنی تو امید جاگی ہے کہ کالی کمائی کی حقیقت جلد ہی دیش کے سامنے آجائے گی۔ سپریم کورٹ نے بھی فہرست اپنے ماتحت کام کررہی ایس آئی ٹی کو سونپتے ہوئے اس کو راز میں رکھنے کا بھروسہ حکومت کو دیا ہے۔ ہدایت دی گئی ہے کہ فہرست کو جانچ ٹیم کے چیئرمین اور وائس چیئرمین ہی کھول سکیں گے۔ ایک اصل بات یہ جوڑ دی گئی ہے کہ ایس آئی ٹی کی خاصیت اور وسائل کے لحاظ سے تفتیش میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سینٹرل انویسٹی گیشن بیورو کی بھی مدد لی جا سکتی ہے تاکہ جانچ ٹھیک ٹھاک پوری ہوسکے۔ اگر چہ ناموں کی فہرست نئی نہیں ہے اسے2011ء میں ہی فرانس نے بھارت سرکار کو دستیاب کرا دیا تھا۔ یوپی اے سرکار اسے تین سال تک دبائے رہی۔ این ڈی اے کے اقتدار میں آتے ہی نہ صرف ایس آئی ٹی بنائی گئی بلکہ گذشتہ جولائی میں وہ فہرست بھی دستیاب کرا دی گئی۔ معاہدے کی پیچیدگیوں کے چلتے اسے شارے عام تب تک نہیں کیا گیا اور نہ اب۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جن ملکوں میں کالی کمائی رکھنے کی سہولت ہے ان پر پچھلے دنوں یہ دباؤ بڑھا کے وہ اپنے کام کاج کو شفاف بائیں۔ بین الاقوامی برادری نے یہ محسوس کیا کہ خفیہ کھاتوں کا استعمال دہشت گردی اور نشے کی اسمگلنگ جیسے بین الاقوامی جرائم میں ہوتا ہے اور کالی کمائی کا بڑا کردار 2009ء میں اقتصادی مندی میں بھی تھا۔ اس دباؤ کا نتیجہ سامنے آرہا ہے اور کئی بینک اپنا کام کاج ٹھیک ٹھاک کرنے میں لگے ہیں۔ سب سے زیادہ فرق امریکی دباؤکا پڑا ہے۔ کیونکہ ایک تو امریکہ بڑی طاقت ہے اسے اگر کسی بینک میں ذرا بھی گڑ بڑی ملتی ہے تو امریکہ میں اس بینک کی برانچوں میں شامل کی جاتی ہے جبکہ بھارت کے کئی ملکوں سے ایسے معاہدے ہیں جن سے ان ملکوں میں کھاتہ داروں پر کارروائی مشکل ہے۔ اب جو فہرست سپریم کورٹ نے این آئی ٹی کو دی ہے وہ پچھلے چار ماہ سے مرکزی سرکار کے پاس ہے۔ تکلیف دہ یہ رہا ہے کہ سرکار کے چہرے تو بدل گئے ہیں لیکن کالی کمائی کے معاملے پر سرکاری رویہ پرانی سرکاروں کی طرح ہی رہا۔ گڑ بڑ گھوٹالہ یہ بھی ہے کہ کالی کمائی کو صرف ٹیکس چوری کا معاملہ بتانے کی کوشش ہورہی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے ایک سینئر عہدے دار کابیان ہے کہ بھارت سرکار سے اب تک صرف ٹیکس چوری پر بات ہوئی ہے جبکہ یہ صرف ٹیکس چوری کا پیسہ نہیں کرپٹ منی کا معاملہ ہے۔ بہرحال اب گیند سیاسی میدان سے نکل کر ایس آئی ٹی کے پالے میں ہے۔ دیکھنا ہے کہ جس کالے دھن کا ذکر سن سن کر کان پک چکے ہیں وہ کس حد تک پکڑ میں آتا ہے؟
(انل نریندر)

دہلی میں اقلیتی حکومت کا راستہ صاف ہوا!

پچھلے پانچ مہینے سے صدر راج کے ماتحت غیر یقینی ماحول سے دوچار دہلی کی سیاست فیصلہ کن موڑ پر پہنچی دکھائی دے رہی ہے۔ مایوس دہلی کے شہریوں کے لئے سپریم کورٹ کے تازہ ریمارکس سے سرکار بننے کے علاوہ نئے سرے سے چناؤ ہونے کی امید جاگی ہے۔ ظاہر ہے دہلی میں جاری تعطل کا خمیازہ تو دہلی کے باشندے ہی بھگت رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر جلد سے جلد دہلی کی سبھی اہم پارٹیوں سے بات کر سرکار بنانے کے امکان پر آخری رائے لینے والے ہیں۔ ویسے سب سے بڑی پارٹی بھاجپا کو سرکار بنانے کے لئے مدعو کرنے کے ان کی تجویز کو دونوں صدر جمہوریہ اور سپریم کورٹ سے ہری جھنڈی مل چکی ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے سرکار کی تشکیل کے امکانات تلاشنے کے لئے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے قدموں پر نہ صرف تسلی جتائی ہے بلکہ انہیں کچھ اور وقت دینے کیونکہ باہر سے حمایت میں اقلیتی سرکار بن سکتی ہے۔ اس معاملے کی سماعت11 نومبر کو ہونی ہے۔ اس طرح لیفٹیننٹ گورنر کے پاس معاملے کو ہر حال میں نپٹانے کے لئے 12 دن کا وقت ہے۔ دہلی کی موجودہ صورتحال کے لئے حالانکہ تینوں سیاسی پارٹیاں کم و بیش ذمہ دار ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے دہلی کے اقتدار کو سنبھال کر جو لوگوں میں امید پیدا کی تھی وہ جن لوکپال کے اشو پر 49 دنوں میں ہی اقتدار چھوڑ کر دہلی کی جنتا کو مایوسی کے عالم میں چھوڑ گئی۔ بعد میں بیشک کیجریوال نے اس بات کو تسلیم کیا کہ استعفیٰ دینا غلطی تھی۔ دہلی کے سبھی ممبران اسمبلی چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں، نئے چناؤ سے کترا رہے ہیں۔ پردیش کانگریس کمیٹی نے حالانکہ بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسمبلی چناؤ سے ڈر کر بھاگ رہی ہے۔ بی جے پی کے نیتاؤں کو دہلی کی پوری آئینی صورتحال کے بارے میں واقفیت کے باوجود اس کے دہلی میں ضمنی چناؤ کا اعلان ہوا۔ پردیش کانگریس کے چیف ترجمان مکیش شرما نے کہا جب دہلی میں کسی بھی پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے تو پھر دہلی میں ضمنی چناؤ کرانے کا کوئی مطلب نہیں نکلتا۔ جہاں تک دہلی کی تین سیٹوں پر ضمنی چناؤ کا سوال ہے چناؤ کمیشن نے یہ صاف کردیا ہے کہ اگر دہلی اسمبلی بھنگ کی جاتی ہے تو ضمنی چناؤ نہیں کرایا جائے گا۔ یہ صحیح ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی دہلی میں سرکار بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے پھر چناؤ کرانا کیونکہ ایک خرچیلا عمل ہے ایسے میں لیفٹیننٹ گورنر کا نئی سرکار کے لئے سیاسی پارٹیوں سے مل کر امکانات تلاشنا بھی غلط نہیں ہے لیکن اس معاملے میں بھاجپا کا موقف شروع سے ہی متضاد ہے۔اس نے پہلے کہا کہ خریدوفروخت کے ذریعے اقلیتی سرکار نہیں بنائے گی لیکن اپوزیشن ممبران کو توڑنے کی کوشش کے الزام بھی اس پر لگے۔ ابھی اس نے عدالت کو بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر اسے سرکار کی تشکیل کے لئے بلانے والے ہیں۔ جمہوریت میں محض جوڑ توڑ کر سرکار بنانا اور پھر نمبر نہ پورا ہونے پر بھاگ جانا نہیں ہے۔ آخر بار بار چناؤ میں پیسہ جنتا کا ہی خرچ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر موجودہ اسمبلی میں ہی کسی سرکار کا امکان بن سکتا ہے تو اسے آگے بڑھنا مناسب ہوگا کیونکہ ملک کے ماحول کو دیکھتے ہوئے عدل بدل والے چناؤ نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تو پھر نا حق وقت میں پیسے کی بربادی سے کیا فائدہ ہوگا؟ پھر اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ دوبارہ چناؤ ہوئے تھے کسی بھی پارٹی کو اکثریت ہی مل جائے۔
(انل نریندر)

31 اکتوبر 2014

دیویندر پھڑنویس:27 میں میئر اور44 سال میں وزیر اعلی بنے!

مہاراشٹر میں پہلی بار اپنے دم پر حکومت بنانے جارہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ نے پارٹی کے نوجوان پردیش صدر دیویندر پھڑنویس پر اعتماد جتایا ہے۔ ہریانہ میں موہن لال کھٹر کی شکل میں غیر جاٹ وزیر اعلی دینے کے بعد بھاجپا نے اس نوجوان وزیر اعلی پر اپنا داؤں کھیلا ہے۔ دیویندر پھڑنویس پارٹی کا ابھرتا چہرہ ہیں اور مرکزی لیڈر شپ خاص کر وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کی پسند ہیں۔ انہیں وزیر اعلی نامزد کرکے پارٹی نے جہاں پردیش میں سیاسی پاری کھیلنے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے وہیں چناؤ کے پہلے تک بھاجپا 25 سال سے اتحادی جماعت رہی شیو سینا کیلئے بھی سخت پیغام دیا ہے۔ یوں تو 1995 سے 1999ء کے دوران بھاجپا نے شیو سینا کے ساتھ اتحاد اور سرکار میں اس کا کردار چھوٹے بھائی جیسا رہا ہے۔ نریندر مودی کی رہنمائی میں مرکز میں سرکار بنانے کے بعد سے بھاجپا کی نظر جن ریاستوں میں تھی اس میں مہاراشٹر بھی شامل تھا۔ شیو سینا کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی نے چناؤ میں اکیلے جانے کا فیصلہ کیا اور اس کا یہ داؤ صحیح ثابت ہوا۔ بیشک بھاجپا کو مودی کی مقبولیت اور پارٹی صدر امت شاہ کی حکمت عملیوں کا فائدہ ملا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ پردیش بھاجپا پردھان رہے پھڑنویس نے پارٹی کو مضبوط کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی۔ یہ ہی نہیں اسمبلی میں بھی آدرش گھوٹالے اور سینچائی گھوٹالے کے اشو پر انہوں نے مسلسل کانگریس ایس سی پی سرکار پر تلخ حملے بھی کئے یہی وجہ تھی کہ این سی پی کے چیف شرد پوار اینڈ کمپنی یہ نہیں چاہتی تھی کہ صاف اور ایماندار ساکھ والے پھڑنویس کو وزیر اعلی بنایا جائے۔ وہ چاہتے تھے کہ نتن گڈکری کو بھاجپا وزیر اعلی اعلان کرے تاکہ ان سے وہ اپنا تال میل بٹھا سکیں۔ نئے وزیر اعلی بھی ودربھ سے ہی تعلق رکھتے ہیں لیکن بھاجپا کے سرکردہ اور مرکزی وزیر گڈکری کی زبردست پکڑ ہے لیکن گڈکری بھی اس نوجوان لیڈر کو اڑان بھرنے سے نہیں روک پائے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں دیویندر پھڑنویس ایک باصلاحیت اور زندہ دل نوجوان لیڈر کی شکل میں ابھرے ہیں۔ باوجود اس کے یہ بھی سچائی ہے کہ ان کے پاس انتظامی کاموں کاتجربہ کام ہے اور ان کی سیاست بھی کم و بیش ودربھ کے ارد گرد سمٹی رہی۔ سب سے کم عمر میں ناگپور کے میئر بننے کا کارنامہ بیشک ان کے پاس ہے اور چناؤ میں سرگرم رہنے کی وہ مسلسل مثال پیش کرتے رہے لیکن مہاراشٹر جیسی ریاست کی سب سے طاقتور کرسی کیلئے جیسے زبردست مضبوط دعویداروں کی فوج سامنے کھڑی تھی انہیں پچھاڑنا بھی کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ وزیر اعلی کے عہدے کی دوڑ میں نتن گڈکری جیسے سرکردہ لیڈر کو پیچھے چھوڑدینے والے پھڑنویس کو مودی اور شاہ کے ساتھ آر ایس ایس کی بھی حمایت حاصل ہے اور وہ اس ودربھ سے آتے ہیں جس میں بھاجپا کو علاقے کی 62 میں سے44 سیٹیں دی ہیں۔ ظاہر ہے ان کے وزیر اعلی بننے سے بھلے ہی الگ ودربھ ریاست کی مانگ کو تھوڑا بریک مل جائے مگر اس حلقے کے لوگوں کی ان سے توقعات کافی ہوں گی۔ خاص طور سے اس لئے بھی کیونکہ پچھلے کچھ برسوں سے یہ علاقہ کسانوں کی خودکشی کے سبب سرخیوں میں چھایا رہا ہے۔ ہریانہ میں منوہر لال کھٹ کی شکل میں غیر جاٹ لیڈر وزیر اعلی دینے کے بعد بھاجپا پھڑنویس کی شکل میں مہاراشٹر میں غیر مراٹھا وزیر اعلی دے رہی ہے۔ یہ پردیش کی سیاست میں ایک طرح سے مراٹھا دبدبے کو چنوتی ہے۔ سب سے دلچسپ صورتحال شیو سینا کی ہوگئی ہے جسے ایک طرح سے تھوک کر چاٹنا پڑا ہے۔ مودی اور شاہ اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ادھو ٹھاکرے اور دیگر شیو سینا لیڈر پہلے معافی مانگیں پھر آگے بات ہوگی۔ سابق وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان تو منموہن سنگھ کی طرح اتحاد کی سیاسی مجبوریوں کا حوالہ دیکر نکل گئے لیکن پھڑنویس ایسا نہیں کرپائیں گے۔ اس بار مہاراشٹر اسمبلی میں پہنچنے والوں میں داغیوں کی تعداد کافی بڑھی ہے جس میں بھاجپا بھی کم نہیں ہے۔ انہیں کیسے لگام میں رکھیں گے نئے وزیر اعلی؟ پھر اپنی پارٹی کے اہم لیڈروں سے نمٹنا سابقہ سرکار کے گھوٹالوں سے نمٹنا ہوگا جو اب بڑی ریس میں منہ کی کھانے کے بعد چوٹ پہنچانے کے نئے راستے کی تلاش میں لگ جائیں گے۔ شری دیویندر پھڑنویس 27 سال میں میئر بنے اور 44 ویں سال میں وزیر اعلی۔ انہیں مکھیہ منتری بننے پر مبارکباد۔
(انل نریندر)

یہاں آبروریزی سے اپنی حفاظت کرنے پر پھانسی دی جاتی ہے!

بین الاقوامی سطح پر تمام کوششوں کے باوجود 26 سالہ ایرانی خاتون ریحانہ جباری کو نہیں بچایا جاسکا۔ اپنے ساتھ آبروریزی کی کوشش کرنے والے شخص کو جان سے ماردینے کے الزام میں قریب7 سال سے جیل کی سزا کاٹ رہی ریحانہ کو25 اکتوبر کو پھانسی دے دی گئی۔ ریحانہ نے پھانسی سے پہلے اپنی ماں کو خط لکھ کر اپنی موت کے بعد اپنے اعضاء عطیہ میں دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ دل دہلانے والا یہ خط اپریل میں لکھا گیا تھا لیکن اسے ایران کے امن کے داعیوں نے ریحانہ کو پھانسی دئے جانے کے ایک دن بعد یعنی26 اکتوبر کو منظر عام کیا۔ریحانہ کی ماں نے جج کے سامنے سابق خفیہ ایجنٹ مرتضیٰ ابدالی سربندی کے قتل کے الزام میں اپنی بیٹی ریحانہ کی جگہ خود کو پھانسی دئے جانے کی اپیل کی تھی۔ ریحانہ نے 2007 میں اپنی رسوئی کے ساتھ لگے کمرے سے چاقو کی نوک پر آبروریزی کرنے کی کوشش کرنے والے خفیہ ایجنٹ پر حملہ کیا تھا۔ جس سے اس کی موت ہوگئی تھی۔ ورکروں نے کہا کہ ریحانہ کی ماں کو اپنی بیٹی سے آخری بار ایک گھنٹے کے لئے ملنے دیا گیا تھا۔ تب انہیں بتایا گیا تھا کہ کچھ گھنٹوں پہلے انہیں اس بارے میں مطلع کردیاجائے گا ۔ کورٹ کے حکم کے مطابق سال 2007 ء میں جباری نے سربندی پر جس چاقو سے حملہ کیا تھا وہ دو دن پہلے ہی خریدہ گیا تھا۔ جباری کو 2009ء میں سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کا قصوروار پایا گیا تھا لیکن معاملے میں سزا ایران کی سپریم کورٹ کے ذریعے اس فیصلے پر مہر لگائے جانے کے بعد سزا سنائی گئی تھی۔ وزیر قانون مصطفی محمودی نے اکتوبر میں اشارہ کیا تھا کہ اس معاملے کا خوش آئین خاتمہ ہوسکتا تھا لیکن سربندی کے رشتے داروں نے جباری کی جان بچانے کے لئے پیسہ لینے کی تجویز ٹھکرا دی تھی۔ انسانی حقوق تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اس حکم کو بالکل غلط ٹھہرایا۔ اس کا کہنا ہے کہ حالانکہ جباری نے سربندی کو ریپ کرتے وقت چاقو مارے جانے کی بات تسلیم کی تھی لیکن اس (سربندی) قتل وہاں موجودہ ایک دوسرے شخص نے کیا تھا۔ ہم ایران کے قانونی نظام پر کوئی رائے زنی نہیں کرنا چاہتے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ اپنی حفاظت کیلئے اپنے ضمیر کے لئے اگر کوئی خاتون اپنا بچاؤ کرتی ہے تو اسے پھانسی نہیں دی جانی چاہئے۔ اس نے کوئی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت حملہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کو اس سے کوئی فائدہ ہونے والا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اپنے بچاؤ میں اس بدقسمت خاتون نے جو حملہ کیا اس میں اس کی موت ہوگئی لیکن اس نے ارادتاً کوئی قتل نہیں کیا ۔اس نے اپنے بچاؤ کے لئے یہ قدم اٹھایا تھا۔ اس سزا کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ عورت اپنی عزت اور اپنی حفاظت میں کوئی قدم نہ اٹھائے اور آبروریز کو اس کا کام پورا کرنے دے؟ بہت تکلیف دہ قصہ ہے۔
(انل نریندر)

30 اکتوبر 2014

کیا جھارکھنڈ۔ جموں وکشمیر میں بھی مودی کا جادو چلے گا؟

مہاراشٹر ۔ہریانہ کے بعد اب جھارکھنڈ اور جموں وکشمیرکے اسمبلی چناؤ کیلئے بگل بج چکا ہے۔ ایک بار پھر ان دونوں ریاستوں میں چناوی شطرنج کی بساط بچھ گئی ہے۔ سیاسی مہرے اس دوران اپنی چالیں چلیں گے۔ اس سیاسی شے مات میں کس کی جیت ہوتی ہے وہ تو23 دسمبر کو ہی پتہ چلے گا لیکن ان دونوں ریاستوں پر عام لوگوں کی نظررہے گی۔ مہاراشٹر اور ہریانہ میں صرف ایک ہی دور میں پولنگ نمٹا دی گئی تھی۔ اس لئے جھارکھنڈ اور جموں وکشمیر میں لمبے چناوی پروگرام پر لوگ سوال ضرور کررہے ہیں لیکن ان دونوں ریاستوں میں دہشت گردوں نکسلیوں کے علاوہ پاکستانی دراندازوں کے خطرے کودیکھتے ہوئے چناؤ کمیشن کی چوکسی سمجھ میں آتی ہے جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات میں رخنہ ڈالنے کے لئے جہاں علیحدگی پسند عناصر سرگرم ہو گئے ہیں وہیں پڑوسی پاکستان بھی ان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ اگر جموں و کشمیر میں چناؤ اچھے ڈھنگ سے نمٹ جاتے ہیں تو یہ پاکستان اور علیحدگی پسندوں کے لئے زبردست جھٹکا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ مہاراشٹر اور ہریانہ کی طرز پر ان دونوں ریاستوں کا چناؤ بھی نریندر مودی بنام باقی پارٹیاں ہوگا۔کیا ان دونوں ریاستوں میں وزیر اعظم نریندر مودی بھاجپا کے اسٹار کمپینر ہوں گے۔ پارٹی نے ان کی چمک کے سہارے ہی دونوں ریاستوں میں چناؤ میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں پر بھاجپا نے ایک بار پھر سے مہاراشٹر اور ہریانہ کی طرح کسی کو بھی وزیر اعلی کے عہدے کیلئے اعلان کئے بنا ہی مودی کے نام پر چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔بھاجپا کا خیال ہے کہ پہلے100 دن میں جس طرح سے پروگرام اور پالیسی کے محاذ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی لیڈر شپ میں کام ہوا ہے ، اس سے دیش میں ابھی بھی مودی لہر برقرار ہے۔ ایسے میں ان دونوں چناؤ میں بھی اسے کامیابی حاصل ہوگی۔ بھاجپا جموں وکشمیر میں لگتا ہے کہ کسی بھی چناؤ سے پہلے اتحاد نہیں کرے گی اور اپنے بل پر سبھی 87 اسمبلی سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ امت شاہ اب جموں و کشمیر کے مشن 44 پر داؤ لگائے ہوئے ہیں۔ جموں اور لداخ میں تو بھاجپا مضبوط ہے اصل امتحان تو کشمیر وادی میں ہوگا۔ جموں وکشمیر میں بھاجپا کی بہترین کارکردگی 2008 اسمبلی چناؤ میں دکھائی دی تھی جب پارٹی نے 11 سیٹیں جیتی تھیں۔ اس بار لوک سبھا چناؤ کے بعد حالات سے پارٹی کو امید دکھائی دی لیکن راستہ مشکل ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں جموں اور لداخ خطے کی 41 سیٹوں میں سے27 سیٹوں پر بڑھت حاصل کی تھی لیکن وادی کی باقی46 سیٹوں میں اس کو زیادہ کامیابی نہیں ملی تھی لیکن اس بار نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور کانگریس میں بٹنے کا فائدہ ملنے کی امید ہے۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس الگ الگ چناؤ لڑ رہی ہیں۔ ایسے میں بھاجپا سب سے بڑی پارٹی بن کر متبادل بننے کی کوشش کرے گی۔ 2000ء میں بہار سے الگ ہونے کے بعد جھارکھنڈ نے سیاسی سطح پر بیحد عدم استحکام کا دور دکھائی دیا۔ ساتھ ہی اس دوران ایسے واقعات ہوئے جس نے پورے دیش کو شرمسار کیا۔ یہ اکیلی ایسی ریاست ہے جہاں مدھو کوڑا کی لیڈر شپ میں پانچ آزاد ممبران اسمبلی کی مدد سے سرکار بنی تھی۔ بعد میں وزیر اعلی سمیت ساری کیبنٹ کرپشن کے کیس میں جیل گئی۔ راجیہ سبھا سیٹ بکنے تک کے معاملے آئے اور14 سال میں12 بار نئی سرکار بنی اور گری۔ ہر بڑی پارٹی نے اقتدار پایا۔ ایسے میں کیا چناؤ کے بعد ریاست میں پانچ سالوں کیلئے مضبوط سرکار بنے گی یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا لیکن نریندر مودی کو روکنے کیلئے جھارکھنڈ میں بہار کے طرز پر مہا گٹھ بندھن بنانے کی تیاری چل رہی ہے جس میں آر جے ڈی ، کانگریس اور جے ایم ایم ایک ساتھ ہوں گے۔ اس لئے یہ چناؤ ایسے محاذ کا مستقبل طے کرے گا۔دراصل بہار میں مہا گٹھ بندھن کے استعمال کو کامیابی ملی تھی جب10 سیٹوں کے ضمنی چناؤ میں اسے6 سیٹیں ملی تھیں لیکن پہلی بار پورے ریاستی چناؤ میں اس کا استعمال ناکام رہا۔ اگر یہ محاذ کامیاب ہوگیا تو پھر بہار اور دوسری ریاستوں میں جارحانہ طریقے سے اپوزیشن متحد ہوسکتی ہے اور اگر مودی کا جادو اس پر بھاری پڑا تو پھر اپوزیشن کے مایوسی ہاتھ لگے گی۔ کانگریس کی ساکھ ایک بار پھر داؤ ں پر ہوگی۔ جارکھنڈ میں کانگریس کی مدد سے سرکار چل رہی ہے تو جموں و کشمیر میں چند مہینے تک نیشنل کانفرنس کے ساتھ سرکار میں تھی لیکن پہلے لوک سبھا اور حال ہی میں دو ریاستوں میں پارٹی کی جس طرح سے شرمناک ہار ہوئی اس سے کانگریس اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ اگر ان دونوں ریاستوں میں پارٹی نے اپنی سیاسی ساکھ نہیں بچائی تو راہل گاندھی پر سنگین سوال کھڑے ہوجائیں گے۔ جس کے اشارے ابھی سے خود پارٹی لیڈر دینے لگے ہیں۔
(انل نریندر)

مغربی بنگال بنا آتنکیوں کا نیا اڈہ!

بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ مغربی بنگال لگتا ہے اب آتنک وادیوں کا گڑھ بن گیا ہے۔ پچھلے دنوں 2 اکتوبر کو ریاست کے بردوان شہر کے کھاگڑاگڑھ میں ایک زبردست دھماکہ ہوا تھا۔ اس بم دھماکے میں جماعت المجاہدین ریکٹ بنگلہ دیش کے دو مشتبہ آتنک وادیوں کی موت ہوگئی تھی۔ دو عورتوں سمیت تین لوگوں سے این آئی اے نے پوچھ تاچھ کی تھی۔ان عورتوں میں ایک عورت دھماکے میں ماری گئی تھی۔ مشتبہ آتنکی کی بیوی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر دھماکے کی جانچ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے این آئی اے نے 13 اکتوبر کو ہاشش ملا عرف بدر عالم مولا، رضیہ بی بی اور علیما بی بی کو حراست میں لے لیا تھا۔ دھماکے کی جگہ پر حکمراں ترنمول کانگریس کا دفتر ہونے کے الزامات کی جانچ کیلئے این آئی اے کی ایک تین نفری ٹیم دھماکہ کی جگہ کا معائنہ کرنے پہنچی۔ اس مکان کا معائنہ کیا گیا جس میں دھماکہ ہوا تھا۔ کمروں کی جانچ کی اور عمارت کی چھت پر گئے۔ یہاں سے وہ ماتپاڑہ کے ایک مکان میں گئے جہاں سے 40 دستی گولی برآمد کئے گئے۔ این آئی اے کے تفتیش رسانوں کو ریاض الکریم کے اس مکان میں آئی ای ڈی برآمد ہوا۔ بردوان ضلع میں ہوئے دھماکے کی جانچ کے دوران خفیہ محکموں کو پتہ چلا ہے کہ مغربی بنگال میں ایک دو نہیں بلکہ 58 آتنکی ٹریننگ کیمپ اور آئی ای ڈی مرکز ہوسکتے ہیں۔ خفیہ جانچ چونکانے والی اطلاع کے مطابق بنگلہ دیش کی آتنکی تنظیم جماعت المجاہدین بنگال میں ایسے مرکز قائم کرچکی ہے جہاں آئی ای ڈی تیارکرنے سے لیکر آتنک وادیوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ صرف مرشد آباد میں ایسے43 مرکز ہونے کی جانکاری ملی ہے۔ جانچ میں یہ سراغ بھی لگا ہے کہ آتنکی ٹریننگ سینٹر میں کئی مقامات پر مدرسوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے مدرسوں کی ایک چین نے نہ صرف بنگلہ دیش آتنکی تنظیم کو بھارت میں داخل ہونے میں مدد کی بلکہ کچھ عورتوں کو فدائین حملہ آور کے طور پر تقرری کے لئے بھی تیار کیا۔ یہ وہی مدرسہ ہے جس کا تعلق سیدھے طور پر تاملناڈوکی تنظیم العماء سے ہونے کی بات سامنے آرہی ہے۔ جانچ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ بنگلہ دیش کے کئی حصوں میں آتنکی تنظیم کی شاخیں برسوں سے موجود ہیں۔ ان شاخوں کا علاقائی اور زونل ہیڈ کوارٹر مرشد آباد میں ہونے کے بھی اشارے ہیں۔ مدرسے کی طرف سے ملی مدد کی وجہ سے آتنکی تنظیم نے بنگلہ دیش میں اپنی جڑیں جما لی ہیں۔ این آئی اے کے ذرائع کی مانیں تو اب تک قریب180 بنگلہ دیشی شہری اس تنظیم کی توسیع کا حصہ بن چکے ہیں اور اس کے چلانے میں جو شخص سب سے آگے ہے اس کا نام انیس بتایاجاتا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے ریاست میں جہاد کے لئے مقرر کئے گئے لڑکوں و لڑکیوں کے رہنے کا انتظام کرتا تھا۔ این آئی اے نے وزارت داخلہ کو جو رپورٹ بھیجی ہے اس میں کچھ مقامی لیڈروں کے اس دہشت گرد تنظیم سے جڑے ہونے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مغربی بنگال آتنک وادیوں کا اڈہ بنتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

29 اکتوبر 2014

ہریانہ میں نظام بدلتے ہی رابرٹ واڈرا پر سختی کے اشارے!

ہریانہ میں بھاجپا سرکار کے کیبنٹ وزیر کا حلف لینے کے بعد انل وج اور کیپٹن ابھیمنیو نے کہا کہ بھاجپا سرکار پچھلی کانگریس سرکار کے دوران ہوئے مبینہ زمین گھوٹالوں کی جانچ کے احکامات دے گی۔ پانچ بار ممبر اسمبلی رہ چکے کیبنٹ وزیر انل وج نے کانگریس عہد کے دوران سبھی گھوٹالوں و کرپشن کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کی تقریباً70ہمار ایکڑ زمین ایکوائر کرکے اسے بھاری منافع میں بیچ دیا گیا۔ ہم اس کی جانچ کرائیں گے چاہے اس میں کوئی افسر رابرٹ واڈرا، بھوپندر سنگھ ہڈا ہی کیوں نہ شامل ہوں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ تقریباً یہی بات دوسرے وزیر ابھیمنیو نے دوہرائی۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ سرکار پچھلے 10 برسوں میں ہوئے ریاست میں سبھی زمین گھوٹالوں کی گہرائی سے جانچ کرائے گی۔ اگر ایک انچ زمین کے بارے میں قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو گھوٹالے بازوں کو اس طرح سے سزا دی جائے گی کہ وہ مستقبل میں ہریانہ میں پھر سے گھوٹالہ نہ کرپائیں۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر رام ولاس شرما نے بھی زمین گھوٹالوں کی جانچ کرانے کی بات کہی۔ ہریانہ کے بھاجپا کیلئے چناؤ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی زمین گھوٹالے کو اشو بنایا تھا۔ بہرحال وج نے نئی سرکار کی ترجیحات میں قانون و انتظام میں بہتری لانا بھی دوہرایا ہے جو پچھلی سرکار (کانگریس) حکومت کے دوران مبینہ طور سے خراب ہوگئی تھی اور ریاست میں چوطرفہ ترقی کو یقینی کرنا ہے۔ ہریانہ میں مبینہ زمین گھوٹالوں کے بارے میں ریاست کے نئے منتخب وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے کہاکہ ان کی سرکار بدلے کے جزبے سے کام نہیں کرے گی۔ قانون اپنا کام کرے گا۔ سابقہ سرکار کی طرف سے اعلانات کا بھی تجزیہ ہوگا لیکن صاف کردیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ سبھی اسکیمیں نامنظور کردی جائیں گی۔ پہلی کیبنٹ کی صدارت کرنے کے بعد کھٹر اخباری نمائندوں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی گھوٹالے سے متعلق شکایتیں ہوں گی ان پر قانون اپنا کام کرے گا۔ یہ پوچھ جانے پر کیا رابرٹ وارڈا معاملے میں ان کی سرکار کی ترجیح فہرست میں شامل ہے کھٹر نے کہا کہ ہماری ترجیح اپنا ایجنڈا نافذ کرنا ہے۔ کھٹر نے کہا کہ جہاں بھی بے ضابطگی پائی جائے گی وہاں قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔ ہریانہ اسمبلی چناؤ سے پہلے بھاجپا نے زمین گھوٹالوں کا اشو زور شور سے اٹھایا تھا اور کارروائی کی بات کہی تھی۔ کھٹر کا کہنا تھا کہ ہماری زمان نہیں بدلی ہے۔ اس سے لگتا ہے ہریانہ کی نئی بھاجپا سرکار کانگریس صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا سے جڑے زمین سودوں کی جانچ کرائے گی اور جعلسازی ثابت ہونے پر واڈرا کی نہ صرف جائیداد ضبط ہوگی بلکہ زمین سودے بھی دیگر کمپنیوں پر کارروائی ہوگی اور سودے کو غلط طریقے سے منظوری دینے والے افسران پر بھی ایکشن لیا جائے گا۔ ایسے میں واڈرا کے ساتھ ساتھ ریئل اسٹیٹ کمپنی ڈی ایل ایف پر بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ بھاجپا کے اعلی ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلی نظر میں کئی سودوں میں بے ضابطگی کی جانچ سے صاف طور پر دکھائی دیتا ہے ۔ خاص طور پر واڈرا کو فائدہ پہنچانے کیلئے ذرعی زمین کو بیچے جانے کے بعد اس زمین کو لینڈ یوز میں بدلنا اور چناؤ ضابطہ لاگو ہونے سے پہلے واڈرا ڈی ایل ایف زمین سودے کو آناً فاناً میں منظوری دینا، ایسے معاملے ہیں جن کی جانچ ہوگی ۔اور ذمہ دار کمپنیوں کی سودے سے جڑی املاک کو ضبط کیا جائے گا۔ اگر مجرمانہ جانچ کے سلسلے میں ضروری ہوا تو نئی سرکار ان سودوں کی جانچ سی بی آئی سے کرانے سے بھی نہیں کترائے گی۔ محض لینڈ یوز بدلے جانے کے سبب ان سودوں سے ہریانہ سرکار کو3.9 لاکھ کروڑ روپے کا خسارہ ہونے کا اندازہ ہے۔ اس معاملے میں کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے کہا یہ بیان سرکار کے غرور کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی بھی سرکار کو بدلے کے جذبے سے فیصلہ نہیں لینا چاہئے۔ علوی ایک نیوز چینل پر بات کررہے تھے اور کہنا تھا کہ بھاجپا کو یاد رکھنا چاہئے جمہوری نظام میں کوئی بھی سرکار مستقل نہیں ہوتی۔ کبھی وہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو کبھی اپوزیشن میں۔ انہیں ہمارے دیش کو پاکستان کی طرح نہیں بنانا چاہئے۔ پاکستان سے یہ روایت مت سیکھئے کہ جو اقتدار میں آتا ہے وہ پچھلی سرکار پر کارروائی کرتا ہے۔
(انل نریندر)

13 سال سے لڑ رہے امریکی برطانیہ۔افغانستان سے بھاگے!

افغانستان میں 13 سال چل رہی برطانیہ کی دہشت گردی کے خلافجنگ آخر کار ایتوار کو ختم ہو گئی۔ اس لڑائی میں اربوں روپے اور سینکڑوں انسانوں کی جانوں کو نقصان پہنچا۔ افغانستان کا ریگستان اس تاریخی جنگ کا گواہ بنا۔ جب برطانیہ نے اس ملٹری آپریشن کو ختم کرنے کیلئے کیمپ بیمن میں اپنا جھنڈا یونین جیک اتار لیا۔ اس کے علاوہ اس کیمپ سے لگے ہوئے امریکی کیمپ لیت رینیک کا کنٹرول بھی افغانستان کو سونپ دیا گیا۔ برطانیہ کو اس 13 سالہ جنگ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ آخر کار وہاں سے اس کو بھاگنے پر مجبور ہونا ہی پڑا۔ اس طرح 13 سال سے اس دیش میں چلی آرہی فوجی کارروائی باقاعدہ طور پر ختم ہوگئی ۔ اس آپریشن میں شورش افغانستان میں 450 سے زیادہ برطانوی فوجیوں اور عورتوں کی جان گئی۔ ایک خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق افغانستان میں آخری امریکی بحری یونیٹ نے بھی سرکاری طور سے اپنی کارروائی کو بند کردیا۔ بحری جوانوں نے دیش چھوڑنے کیلئے سازو سامان سمیٹ لیا اور ایک وسیع فوجی اڈے کو افغان فوج کے حوالے کردیا۔ طالبان کے کٹر پسند اسلامی عہد کو ختم کرنے کے 13 سال بعد بین الاقوامی فوج کے علاقائی ہیڈ کوارٹر میں امریکی جھنڈے کو اتارا گیا۔ اس دوران امریکہ نے2345 ملازمین کو کھو دیا۔ فوجی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہیلمند صوبے میں واقع فوجی اڈے سے فوجیوں کی واپسی کے بارے میں سلامتی اسباب سے جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ امریکہ کے اس سب سے بڑے فوجی بیس کیمپ کو افغانستان کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔ اس سال کے آخر تک افغانستان میں اتحادی فوج کا آپریشن ختم ہوجائے گا۔ امریکی مرین کیپٹن ریان اسٹیم برگ نے کہا کہ یہ اب خالی ہوگیا ہے۔ افسرا ن نے بتایا کہ بیس میں اب ساڑھے چار ہزار کے آس پاس بین الاقوامی فوج کے جوان بچے ہوئے ہیں اور سینئر افسر پہلے چلے جائیں گے۔ ادھر برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فیلن نے بتایا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ ہیلمند صوبے میں برطانوی فوجی کارروائی ختم ہوگئی ہے جس سے افغانستان کو ایک پائیدار مستقبل کیلئے اچھا موقعہ ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے ہم سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں لیکن2001ء میں افغانستان آنے کے بعد سے انگلینڈ کی فوج نے اپنے زیادہ تر مقصد ہو حاصل کرلیا ہے۔ ’بڑے بے آبرو ہوکے تیرے کوچے سے ہم نکلے ‘یہ کہاوت امریکہ اور برطانیہ پر کھری اترتی ہے۔ انہیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ جس مقصد سے وہ افغانستان آئے تھے کیا وہ پورا ہوگیا ہے؟ گئے تو یہ اس لئے تھے کہ طالبان کو ختم کردیں گے۔ آج طالبان پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگیا ہے۔13 برسوں سے طالبان امریکی اتحادی فوجیوں سے لوہا لیتا رہا ہے اور آج یہ نوبت آگئی ہے کہ انہیں وہاں سے بھاگنا پڑا۔ بھلے ہی یہ کہیں کہ ہمارے مقصد پورے ہوگئے لیکن سچائی سب کے سامنے ہے۔
(انل نریندر)

28 اکتوبر 2014

غیرکانگریس خاندان کا ہوسکتا ہے اگلا کانگریس پردھان!

پہلے لوک سبھا اور اب دو ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ملی زبردست ہار کے بعد کانگریس کے اندر سے تبدیلی کی آواز اٹھنا فطری ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس شرمناک ہار کے لئے کانگریس لیڈر شپ ذمہ داری نہیں لے رہی ہے۔ نہ راہل گاندھی ذمہ داری لے رہے ہیں نہ سونیا گاندھی۔ پارٹی کے اندر ہی اندر بغاوت کی چنگاری سلگ رہی ہے۔ کسی کی ہمت نہیں پڑ رہی ہے کہ وہ راہل کی لیڈر شپ پر سوال کرے۔ کیونکہ راہل کی نگرانی اور قیادت میں چناؤ لڑے گئے تھے۔ آخر کار سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کانگریس کا اگلا پردھان گاندھی خاندان سے باہر کا ہونے کا امکان جتاکر سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں آیا جب پرینکا گاندھی کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی کمان سونپنے کی مانگ زور شور سے اٹھ رہی تھی۔ سابق وزیر خزانہ اور گاندھی خاندان کے خاص مانے جانے والے چدمبرم نے تسلیم کیا کہ لیڈر شپ سطح پر تبدیلی بہت ہی ضروری ہے اور اس کیلئے لیڈر شپ بدلنا ہوگی۔ کانگریس پارٹی کا حوصلہ گرا ہوا ہے۔ مستقبل میں کانگریس کا پردھان کوئی غیر کانگریسی بھی ہو ۔چدمبرم سے شاید ہی کسی کو امید رہی ہوگی کہ وہ گاندھی کے نام سے آگے سوچ نہ رکھنے والی کانگریس میں اتنی صاف گوئی سے اپنی بات کہیں گے۔ ایک ٹی وی نیوز چینل سے بات چیت میں چدمبرم نے کہا کانگریس کا حوصلہ گرا ہوا ہے اور تنظیم میں تبدیلی کیلئے پارٹی لیڈر شپ کو جلد قدم اٹھانا پڑے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کیا مستقبل میں گاندھی پریوار کے علاوہ باہر کا کوئی شخص پارٹی کا صدر بن سکتا ہے؟ جواب میں چدمبرم نے کہا میں کہہ سکتا ہوں کانگریس میں اگلے سال صدر کا چناؤ ہونا ہے پارٹی میں اس طرح کا تذکرہ ہے کہ پارٹی صدر سونیا گاندھی اپنے بیٹے راہل گاندھی کو ذمہ داری سونپ سکتی ہیں۔ حالانکہ سیاسی واقف کار یہ مانتے ہیں گاندھی خاندان کے اشارے پر بھی چدمبرم یہ بیان دے سکتے ہیں۔ چدمبرم کانگریس اور خاص طور سے 10 جن پتھ کے سب سے وفادار سپاہیوں میں مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے پوری سیاست کانگریس کے بجائے گاندھی نام کی چھتر چھایا کے نیچے کی ہے۔ اس سے پہلے بھی لیڈر شپ پر سوال اٹھتے رہے ہیں لیکن اس طرح کھری کھوٹی کہنے کی ہمت شاید ہی کوئی کانگریس کر پایا ہو۔ لوک سبھا چناؤ کے بعد عام کانگریسیوں کو یہ بات ٹھیس پہنچانے والی ہے کہ سوا سو سال پرانی پارٹی ہونے کا دم بھرنے والی کانگریس بڑی اپوزیشن پارٹی کی حیثیت نہیں پا سکی۔ ہار کے اسباب کا جائزہ کیلئے اے ۔ کے انٹونی کمیٹی نے بھی ایمانداری سے تجزیہ کرنا تو دور رہا محض لیپا پوتی کی۔ بھاری ہار کیلئے راہل گاندھی کو سیدھے ذمہ دار بتانے کے بجائے گول مول انداز میں رائے زنی کی گئی ہے۔ کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی کی لیڈرشپ کے طریقہ کار پر مسلسل اٹھتے سوالوں کے بیچ سابق وزیر خزانہ کے اس بیان سے صاف اشارہ ہے کہ پرینکا اگر کانگریس کو موجودہ بحران سے نکالنے کیلئے میدان میں نہیں اترتیں تو سونیا گاندھی کے بعد اگلا صدر غیر گاندھی کنبے سے ہوسکتا ہے۔ پرینکا کو لانے کیلئے کانگریس میں زور شور سے اٹھ رہی مانگ کے درمیان چدمبرم نے صاف کہا کیا ہوگا ابھی وہ نہیں کہہ سکتے لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ اب گاندھی پریوار کے علاوہ باہر کا کوئی کانگریسی لیڈر پارٹی کا صدر بن سکتا ہے۔ چدمبرم نے یہ بھی مانا کہ لوک سبھا چناؤ کے بعد سے کانگریس میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہار کے فوراً بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں سب کی رائے تھی کہ ان کے مطابق پارٹی کو مودی سرکار کے مقابلے کے لئے ایک مضبوط اپوزیشن بنانے کیلئے فوری تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ چدمبرم کا یہ بھی خیال ہے کہ بہتر اپوزیشن کا رول نبھانے کیلئے سونیا ۔ راہل کو زیادہ سے زیادہ بیان دینے چاہئیں۔ میری کانگریس پردھان اور اپ پردھان سے درخواست ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ریلیاں کریں اور میڈیا سے بات کریں ۔ میں مانتا ہوں کہ پارٹی ورکروں کا حوصلہ کافی گرا ہوا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ اسے پھر سے بحال نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ پارٹی لیڈر شپ کے پاس ابھی پورا ٹائم ٹیبل ہوگا۔
(انل نریندر)

بابا رام دیو اور کانگریس کی بڑھتی نزدیکیاں!

یوگ گورو بابا رام دیو نے سیاسی کڑونٹ بدلتے ہوئے ایک دم اترا کھنڈ کے وزیر اعلی ہریش راوت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا ہریش راوت کے اندر کانگریس کے دیگر لیڈروں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی خوبیاں ہیں۔ ہوا یہ کہ بدھوار کو کانگریس کے سرکردہ لیڈر اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلی ہریش راوت کے بلانے پر ریاستی حکومت کے ذریعے بھیجے گئے دو ہیلی کاپٹروں میں سوار ہوکر بابا رام دیو اور ان کے ساتھی آچاریہ بال کرشن ٹیم اور طاقت کے ساتھ بابا کیدار ناتھ کے درشن کرنے گئے۔ راوت نے اپنے نمائندے رنجیت سنگھ راوت کو بابا رام دیو کو لینے کے لئے بھیجا تھا اور وہ بابا رام دیو کے ہری دوار میں واقع پتنجلی یوگ پیٹ میں آئے اور رام دیو کو واپس چھوڑنے بھی گئے۔ جہاں بابا رام دیو نے ریاستی سرکار کے ذریعے کیدارناتھ میں کرائے گئے کاموں کی جم کر تعریف کی۔ بھلے ہی کانگریس کی برائی کی ہو لیکن انہوں نے کبھی بھی اتراکھنڈ سرکار کی برائی نہیں کی۔ سرکاری ہیلی کاپٹر سے کیدارناتھ یاترا کے بعد ہری دوار لوٹنے پر بابا نے نہ صرف ہریش راوت سرکار کو سرٹیفکیٹ دے دیا بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ہریش راوت جیسی پہل کرنے پر مستقبل میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کو معاف کرنے کی بات کہہ ڈالی۔ بابا رام دیو کے اچانک بدلے اس نظریہ سے سیاسی گلیاروں میں کئی مطلب نکالے جارہے ہیں۔ سرکار نے بابا کے علاوہ ہری دوار کے چار اور بڑے سنتوں مہا منڈلیشور، کیلاش نند بھرمچاری، ستیہ پال بھرمچاری، سوامی موہن داس اور سوامی شیوانند بھارتی کو بھی کیدار بابا کے درشن کروائے۔ وزیر اعلی ہریش راوت اور بابا رام دیو کا ایک دوسرے کے قریب آنا اتراکھنڈ بھاجپا کے لئے سیاسی جھٹکے سے کم نہیں ہے۔ بھاجپا بابا رام دیو کو ایک اپنا مفادی ساتھی مان کر چلتی رہی ہے اورکانگریس کو بابا کا سیاسی دشمن۔ تازہ واقعہ کے بعد ریاستی سرکار کے بعد بابا کی سیاسی دشمنی فی الحال ختم ہوگئی لگتی ہے۔ بھلے ہی بابا کانگریس کی حمایت نہ کریں لیکن وزیر اعلی کے ساتھ ان کی اچھی قربت سیاسی حوصلے میں بدل جائے گی۔ بابا رام دیو نے کہا نریندر مودی بھاجپا کے ہی پردھان منتری نہیں بلکہ وہ سوا سو کروڑ ہندوستانیوں کے وزیر اعظم ہیں۔ ہریش راوت بھی کانگریس کے وزیر اعلی ہی نہیں بلکہ پورے اتراکھنڈ کے وزیر اعلی ہیں اور یہی جذبہ اس دیش کو آگے لے جائے گا۔ انہوں نے کانگریس حکمراں ریاستوں سے اپیل کرنے کو کہا اگر وہ متعلقہ ریاستوں کی سرکاریں یوگ پیٹھ میں کسی طرح کی مدد مانگیں گی تو وہ دینے کو تیار ہیں۔ حالانکہ کانگریس صدرسونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو لیکر ان کی ابھی رائے نہیں بدلی ہے۔ سونیا۔ راہل کو لیکر رائے سے متعلق انہوں نے کہا میرا سوال یہ نہیں ہے ۔ وہیں بابا رام دیو نے پردھان منتری نریندر مودی کو ہمالیہ کا سب سے بڑا پرستار بتایا۔
(انل نریندر)

26 اکتوبر 2014

دیوالی کے دن کشمیر یاترا مودی کا ماسٹر اسٹروک!

پردھان منتری نریندر مودی کی شخصیت اور وچار دھارا کو لیکر کتنے بھی اختلافات ہوں سچ یا جھوٹ خیالات دیش اور دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں کہ کسی صحیح نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے۔ لیکن یہ تو ماننا ہی ہوگا کہ ان کی شخصیت اور کام کرنے کا طریقہ عوام کو اپنا مرید بنا لیتا ہے اور یہی ان کی سوچ ہے اور اسی سوچ کی ایک مثال ہمیں دیوالی کے دن جب سارا دیش اپنے اپنے گھروں کو سجانے میں اور دیپ جلا کر اجالاکررہا تھا نریندر مودی کشمیر کے باڑھ اور تباہی سے متاثرین کے ساتھ کچھ وقت بتاکر ان کی زخموں پر مرہم لگا رہے تھے۔جہلم میں آئی باڑھ کے بعد یہ دوسرا موقعہ ہے جب پردھان منتری خود ریاست میں موجود تھے اور سماج کے مختلف طبقوں سے مل کر ان کی ضرورتوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ باڑھ کے وقت وہاں لوگوں کے بیچ ریاستی سرکار کی موجودگی ہی قریب دو ہفتوں کے لئے جس طرح غائب ہوگئی تھی اس میں اگر مرکزی سرکار اور فوج عین وقت پر مدد میں نہیں کودتی تو پتہ نہیں کیا ہوجاتا۔ مودی نے دیوالی کا دن شاید اسی لئے چنا ہوگا کہ تباہی کے اندھیروں میں ڈوبے دلوں میں امید کا دیپ جلایا جائے۔ 11 سال پہلے بھی انہوں نے یہی کیا تھا بس جگہ اور حادثے میں فرق تھا۔ زلزلے کے قہر سے تباہ گجرات میں ان دنوں مودی وزیر اعلی تھے اور حادثے کے سال آئی دیوالی انہوں نے پوری طرح تباہ ہوچکے بھج کے متاثرین کے ساتھ منائی تھی۔دیوالی پر کشمیر کے باڑھ اورتباہی کے متاثرین کے درمیان رہنے سے پردھان منتری نے ایک تیر سے کئی نشانے سادھ لئے ہیں۔ ان کے اس ماسٹر اسکوپ سے مخالف دل بھی حیران ہیں۔وہ مخالفت کیلئے بھی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں تلاش کرپا رہے۔کشمیر کی دونوں بڑی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے مودی کے قدم کا خیر مقدم کیا ہے۔ حریت نے مخالفت کرتے ہوئے عام ہڑتال کے اعلان پرانجانے میں مودی کے مشن کشمیر کو ہی مضبوط کیا ہے۔ ادھر مودی کے آنے کا اعلان ہوتے ہی پاکستان نے سیز فائر کی خلاف ورزی کر کشمیر مدعے کو بین الاقوامی منچ پر لے جانے کی پھر کوشش کی ہے۔ مودی کا یہ اعلان اچانک سامنے ضرور آیا لیکن یہ بھاجپا کے مشن ۔44 کے تحت اپنائی گئی سوچ سمجھی حکمت عملی ہے۔مہاراشٹر اور ہریانہ میں جیت کے بعد اب بھاجپا کے ایجنڈے میں جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر سب سے اوپر ہیں۔ جہاں دسمبر۔ جنوری میں چناؤ ہونے والے ہیں۔باڑھ متاثرین کے درد کو اپنا مانتے ہوئے مودی نے اس بار اپنا جنم دن بھی نہیں منایا۔ اس سے پہلے باڑھ کے آتے ہی وہ فوراً کشمیر آئے اور 1 ہزار کروڑ کی مدد کی۔پہلی قسط کا اعلان بھی کر آئے۔ مودی کے ذریعے یہ صاف کرنا کہ متاثرین کے نقصان کا اندازہ کرکے جو معاوضہ یا مالی امداد ہوگی وہ سیدھے متاثرین کے بینک کھاتوں میں جائے گی، بھی ایک نیا اور قابل ستائش قدم ہے۔بہتر ہے کہ تقریروں میں کشمیر کی ایکتا کی گرج لگانے کی بجائے اسے کرنی سے قائم کیا جائے اور مودی بیشک ویسا ہی کررہے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ مودی کو کشمیر گھاٹی میں صرف تباہی کی چنوتیوں سے ہی نہیں جھوجھنا ہے بلکہ نفرت اور کالے منصوبوں میں ڈوبی اس سوچ سے بھی دوچار ہونا ہے جس نے زمین کی جنت کہے جانے والی کشمیر گھاٹی کو تباہ کررکھا ہے۔مودی کے آنے کے ردعمل میں وزیر اعلی عمر عبداللہ یاد دلانا نہیں بھولتے کہ وہ خود عید منانے والے مسلمان ہیں جبکہ مودی ایسے ہندو ہیں جو اپنی دیوالی چھوڑ کر یہاں آرہے ہیں۔ کیا یہ عجیب نہیں کہ مودی کے باڑھ متاثرین کے درمیان جانے کی خوشگوار پہل میں کانگریس کو مین میخ نکالنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا یہ محض آلوچنا کیلئے آلوچناکی ایک اور مثال نہیں ہے؟ کشمیرمیں الگاؤ وادیوں نے تو یہ کہہ کر اپنی تعصب نظری اور چھوٹی سوچ کا ہی مظاہرہ کیا کہ پردھان منتری اپنی سنسکرتی ہم پر لادھنے آرہے ہیں۔راستے سے بھٹکے الگاؤوادیوں کے ایسے تنگ نظریئے پر حیرت نہیں لیکن یہ سوال تو اٹھے گا ہی کہ ان کی ہمت توڑنے کیلئے صرف وزیر اعلی عمر عبداللہ ہی کیوں آگے آئیں؟ کیا یہ اچھا نہیں ہوتا کہ سبھی سیاسی دل کشمیر کے الگاؤ وادیوں کی ایک آواز میں نندا کرتے ۔ دیوالی کے دن باڑھ متاثرین کے درمیان رہ کر پردھان منتری کی پہل کل ملاکر دکھی لوگوں کے درمیان امیدوں کا دیپ جلانے اور پورے دیش کو ایک مثبت پیغام دینے والا ہے۔ آخر دیوالی یہی تو پیغام دیتی ہے کہ چاروں طرف خوشحالی کا سنچار ہو اور جن جن کے درمیان سکھ شانتی بھائی چارے کا پرسار ہو۔
(انل نریندر)

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ و کھلاڑیوں کا شرمناک رویہ!

ویسٹ انڈیز ٹیم کے پچھلے دنوں بھارتیہ دورے کو درمیان میں چھوڑ کر جانے سے بھارتیہ کرکٹ بورڈ ہی نہیں بلکہ پورا کرکٹ جگت حیران ہے۔یہ کرکٹ کی لمبی تاریخ میں پہلی بار ہے جب کسی ٹیم نے تنخواہ کے مسئلے کی وجہ سے دورہ بیچ میں ہیں چھوڑا ہے۔ اس واقعہ سے بھارتیہ کرکٹ بورڈ کو تو بھاری نقصان ہوا ہی ہے بلکہ بھارتیہ کرکٹ پریمیوں کو بھاری نا امیدی ہوئی ہے۔ بھارت اور ویسٹ انڈیزون ڈے میں بہت رومانچ آرہا تھا۔ایک میچ تو موسم کی وجہ سے رد ہوگیا اور آخری میچ تنخواہ کی بلی چڑھ گیا۔ بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ نے منگلوار کو ویسٹ انڈیز کے ساتھ سبھی دو رخی کرکٹ دورے ملتوی کردئے اور بھارت دورہ بیچ میں رد کرنے کیلئے اس کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کو 8 اکتوبر سے19 نومبر کے درمیان بھارت میں پانچ ون ڈے ، ایک ٹی ٹوئنٹی اور تین ٹیسٹ کھیلنے تھے لیکن اپنے اندرونی ادائیگی تنازعے کی وجہ سے ٹیم چار ون ڈے کے بعد دورہ رد کرکے چلی گئی۔ بورڈ نے حالانکہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیو ں کو اگلے سال9 اپریل سے شروع ہونے والے آئی پی ایل میں کھیلنے کی اجازت دے کر ان کے تئیں نرم رویہ اپنایا۔ آئی پی ایل چیئرمین سنجیو بسوال نے سنچالن پریشد کی بیٹھک کے بعد کہا کہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی آئی پی ایل میں کھیلیں گے۔ اس کے ساتھ پیسے کے بول بالے والی آئی پی ایل لیگ میں کیربییائی کھلاڑیوں کی بھاگیداری کو لیکر لگائی جارہی اٹکلوں پر بھی روک لگ گئی ہے۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے بھی اپنے مسائل ہیں وہ گھاٹے پر گھاٹے سہہ رہی ہے۔ 10 لاکھ ڈالر کی کمی آئی ہے۔ ویسٹ انڈیز بورڈ کی کمائی نے 2012 سے2013 کے درمیان ایک سال چھوڑ کر 2013 میں بورڈ کو 58 لاکھ ڈالر کا کل گھاٹا اٹھانا پڑا تھا۔35 ہزار ڈالر روزانہ ٹیم کو ادا کرنے کا بورڈ کے ساتھ کانٹریکٹ ہے۔چھ ممبری دیش ہیں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ میں۔ باربے ڈوز، جمائیکا، گویانا، ون ورلڈ آئی لینڈ اور ٹرینی داد ٹوبیکو۔ فی الحال تو ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اگلے سال کے شروع میں آسٹریلیا۔ نیوزی لینڈ میں مشترکہ طور سے ہونے والے کرکٹ عالمی کپ کے لئے ٹیم کو تیار کرنا ہوگا۔ یہ کہا جارہا ہے کہ کھلاڑیوں کی تنخواہ میں اس سے75 فیصد کی کٹوتی کی جائے گی۔ اب حالت یہ ہے کہ کھلاڑی اس قرار کے رہتے عالمی کپ میں ناجانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ ویسٹ انڈیز بورڈ نے اپنے اس اندرونی مسئلے کو سلجھائے بغیر ٹیم کو بھارتیہ دورے پر بھیجا ہی کیوں؟ دوسرے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی پورٹیسٹ کرتے ہوئے بھی تو دورہ جاری رکھ سکتے تھے ،بیچ دورے سے ہٹنے کے واقعے کو ویسٹ انڈیز کرکٹ میں چل رہی آپسی تنا تنی کا نتیجہ مانا جارہاہے۔ اصل میں وہاں کی کرکٹ ٹرینی داد ٹوبیکو اور جمائیکا کے دھڑوں میں بٹی ہے۔ اس وقت بورڈ پر جمائیکا کا قبضہ ہے اس لئے انہیں نیچا دکھانے کے لئے ٹرینی داد کی کرکٹ ایسوسی ایشن کے ایک سابق چیف کے ذریعے ٹیم کو دورسے ہٹنے کیلئے کہے جانے کی بات کی جارہی ہے۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو پر ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے ذریعے دورے کو بیچ میں چھوڑنا بہت ہی غلط ہے اور اسے انجام دینے والوں کو سبق سکھانا چاہئے۔
(انل نریندر)