Translater

09 دسمبر 2017

مودی عہد میں راہل کی چنوتیاں

47 سالہ راہل گاندھی کی کانگریس میں تاجپوشی طے ہوگئی ہے۔ وہ پارٹی کے اگلے صدر ہوں گے۔ یہ عہدہ سنبھالنے والے نہرو گاندھی خاندان کے چھٹے اور کانگریس میں وہ اپنی ماں سونیا گاندھی کی جگہ لیں گے۔ 132 سال پرانی پارٹی کانگریس میں سونیا سب سے زیادہ19 سال تک پارٹی کی صدر رہی ہیں۔ راہل گاندھی 13 سال تک ایم پی رہتے ہوئے صدر بننے جارہے ہیں۔ ویسے تو کانگریس پارٹی میں راہل گاندھی نائب صدر رہتے ہوئے اس وقت وہی رول نبھا رہے ہیں جو پارٹی صدر کو نبھانا چاہئے۔19 سال پہلے10 اپریل 1998 میں جب سونیا گاندھی نے کانگریس کی کمان سنبھالی تھی تب بھی پارٹی کی سیاسی حالت کمزور تھی۔ مئی 1991ء میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سینئر لیڈروں نے سونیا سے پوچھے بغیر انہیں کانگریس کا صدر بنائے جانے کا اعلان کردیا لیکن سونیا نے اس کو منظور نہیں کیا۔ کانگریس کی حالت دن بدن بری ہوتی دیکھ سونیا گاندھی 1998 ء میں کانگریس کی صدر بنیں۔ ان کے عہد میں 2004ء ،2009ء میں کانگریس کی حکومت بنی۔ پارٹی نے 26 صوبوں میں سرکار بنائی۔ حالانکہ 2014 میں کانگریس نے پچھلے70 برس میں سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کانگریس کا 7 ریاستوں میں کھاتہ تک ہیں کھل سکا۔ لوک سبھا میں صرف 44 سیٹیں ملیں۔ کانگریس کا صدر بننے جارہے راہل گاندھی کے سامنے سب سے بڑی چنوتی پارٹی میں نئی جان ڈالنا اور اس کی تشکیل نو کرنا ہے، لیکن ایسا کرتے وقت انہیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ نئی پیڑھی اور پرانی پیڑھی کے کئی نیتاؤں کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ راہل کو پارٹی کے ورکروں اور نیتاؤں کا حوصلہ بڑھانے پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ ایک کے بعد ایک چناوی ہار کے سبب ان کے اندر مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ ہماچل پردیش اور گجرات چناؤ میں اگر کانگریس ہار جاتی ہے تو اس کا پارٹی کے حوصلہ پر برا اثر پڑے گا۔ ہاں اگر کانگریس گجرات میں اپنی سیٹیں بڑھانے میں کامیاب رہتی ہے تو اسے راہل کی جیت مانا جائے گا۔ اگلے سال یعنی2018ء میں راہل کے سامنے کرناٹک میں اپنی سرکار بچائے رکھنے کی چنوتی بھی ہوگی۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان میں اقتدار پر قابض بھاجپا کو اکھاڑ پھینکنے کا بھی ٹارگیٹ ہوگا۔ اس کے بعد 2019ء کے عام چناؤ میں ان 16 مہینوں میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے ساتھ ہی راہل گاندھی کو اتحادی ساتھیوں کی بھی تلاش پوری کرنی ہے۔ صاف ہے کہ کانگریس اکیلے اپنے دم پر بھاجپا کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس لئے اتحاد کرنا اس کی مجبوری ہوگی۔ اس معاملہ میں انہیں اپنی ماں سونیا گاندھی سے رائے لینی ہوگی جو 10 سال تک یوپی اے اتحاد رکھنے میں کامیاب رہیں تھیں۔ اب پارٹی کے صدر کے طور پر انہیں اپنا قد اتنا بڑھاناہوگا کہ کچھ علاقوں میں ان کا حوصلہ بڑھانے والے بونے نہ پڑ جائیں۔ اگلے یا اس سے اگلے عام چناؤ میں کانگریس اقتدار میں آتی ہے یا نہیں اتنا اہم نہیں ہے بھلے ہی کانگریس اپوزیشن میں رہے لیکن آل انڈیا پارٹی کی شکل میں اگر وہ ایک مضبوط پارٹی ہوکر ابھرتی ہے تو یہ ہماری جمہوریت کے لئے ایک اچھا اشارہ ہوگا۔ جمہوریت تبھی مضبوط مانی جاتی ہے جب حکمراں اور اپوزیشن دونوں ہی مضبوط ہوں۔ گجرات میں اونٹ چاہے جس کرونٹ بیٹھے، راہل گاندھی نے لوگوں کے درمیان اپنی پکڑ بنانے کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔ دیش کو کانگریس پارٹی سے بہت امید ہے ، کیا راہل گاندھی پارٹی کے سامنے چنوتیوں کو قبول کرنے میں اہل ہوں گے؟ سوال کا جواب جلد مل جائے گا۔
(انل نریندر)

آپ کا پوشیدہ ڈاٹا بینک میں کتنا محفوظ ہے

جس پوشیدہ ڈاٹا کو آپ بینک میں محفوظ مان رہے ہیں وہ بینک حکام کی لاپروائی سے پبلک ہورہا ہے۔ اس معاملہ میں نوئیڈا کے باشندہ ہندوستانی بحریہ سے ریٹائرڈ کماڈور لوکیش بترہ نے 28 نومبر کو آر بی آئی کے گورنر ارجیت پٹیل کو خط لکھ کر نوئیڈا کے حیدر آباد اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی لاپروائی کی شکایت کی ہے۔ لوکیش بترہ نے ای میل کے ذریعے گورنر ارجیت پٹیل کو ثبوت بھی بھیجے ہیں۔ ایس بی آئی کی نوئیڈا سیکٹر۔52 برانچ نے بینک کھاتہ کو آدھار سے لنک کرنے کے لئے جو خط بھیجا ہے اس میں ٹرانسپیرینٹ ونڈو پر کھاتہ ہولڈر کا نام، پتہ، موبائل نمبر تو لکھا ہی ہے ساتھ ہی اکاؤنٹ نمبر کا بھی تذکرہ ہے۔ یہ ہی نہیں خط کے اندر خود سے تصدیق کاغذوں کو ای ۔ میل پر اٹیچ کرکے بھیجنے کی تجویز گراہکوں کوبھیجی گئی ہے۔ جبکہ یہ جانکاری ای ۔ میل پر بھی پاس ورڈ پروڈکشن فائل کے ذریعے مان لی جانی چاہئے تھی۔ حیدر آباد ایس بی آئی کے کیش مینجمنٹ پروڈکٹ سیٹر نے جو انکم ٹیکس رفنڈ کا خط بھیجا ہے اس کے لفافہ کی شفافی ونڈو میں صارفین کا پین نمبر درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے معاملہ کولیکر آر بی آئی کے گورنر سے درخواست کی ہے کہ وہ بینکوں کو انکم ٹیکس کی طرح پاس ورڈ پروٹیکٹیو فائل بھیجنے کا حکم جاری کریں۔ 
دیش کی تمام ایجنسیاں ڈاٹا کی خرید و فروخت کرتی ہیں اس سے کریڈٹ کارڈ، بیمہ کمپنیوں اور مارکٹنگ کمپنیوں سمیت دیگر کے پاس آسانی سے ڈاٹا پہنچ جاتا ہے۔ عام طور پر ان کا استعمال میسج بھیجنے، رابطہ قائم کرنے اور خط بھیجنے میں کیا جاتا ہے۔ نجی کمپنیاں لوگوں کے ڈاٹا بیچ کر کاربار کررہی ہیں اس کے ذریعے بیرون ملک سے آنے والی کمپنیاں اپنی حکمت عملی تیار کرتی ہیں اور رابطہ قائم کے ذریعے تعلق بناتی ہیں۔ تکنیک کے بڑھتے استعمال سے ذاتی معلومات محفوظ نہیں رہ گئی ہیں۔ سخت قانون کی کمی میں کمپنی میں ڈاٹا چوری کو کاروبار تک بنا لیا ہے۔ ڈاٹا محفوظ رکھنے کے لئے اس گورکھ دھندے پر نکیل کسی جانی انتہائی ضروری ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ ہمارے دیش میں سائبر کرائم کو روکنے کے لئے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے نہ کوئی ٹھوس مینجمنٹ۔
(انل نریندر)

08 دسمبر 2017

سی پی ای سی کے خلاف پاکستان میں ناراضگی

چین۔ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پی ای سی) کے تحت پاکستان کی گوادر بندگاہ پر چین نے ترقیاتی کام شروع کئے تھے۔ بتادیں کہ قریب 60 ارب ڈالر کی تخمینہ لاگت والا یہ اقتصادی گلیارہ چین کے لئے ایک اہم ترین ون بیلٹ ، ون روڈ پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے یہ پروجیکٹ پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) کے ایک حصہ سے بھی گزرے گا۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے چین کا شنگ زیانگ علاقہ پاکستان کے بلوچستان صوبہ سے جڑ جائے گا۔ حکومت پاکستان نے چین کے ساتھ ہوئے اس معاہدہ کو بڑے زور شور سے پاکستان کی معیشت کے لئے فائدہ مند بتایا اور پبلسٹی کی لیکن حقیقت اس کے ٹھیک برعکس ہے۔ پاکستان کے پوٹ اور شپنگ وزیر میر حاصل وجوزو نے پارلیمنٹ کے سامنے جو تصویر پیش کی ہے اس نے چین پاکستان کے درمیان معاہدہ کی پول کھول دی۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ اگلے 40 سال تک گوادر بندرگاہ سے کمائی کا 91 فیصد حصہ چین کے حصہ میں جائے گا اور باقی9 فیصد پاکستان کے حصہ میں آئے گا۔ سمجھوتہ اگلے 40 برسوں کے لئے بلٹ ۔آپریٹ اور ٹرانسفر (بی او ٹی) ماڈل پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب ہے پوٹ کے کارگو کی صلاحیت بڑھانے کیلئے اس پورے وقفے تک یہاں کا کام کاج اور بنیادی ڈھانچہ سہولیات پاکستان کے ذمہ ہوں گی۔پاکستان کی پارلیمنٹ نے سی پی ای سی معاہدہ پر پاکستان حکومت کے ذریعے خاموشی اختیار کرنے پر سوالیہ نشان کھڑا کیا تھا اور سمجھوتے کا فائدہ چین کوہونے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز پارٹی کی ایم پی کلثوم پروین نے کہا تھا سی پی ای سی معاہدہ برابری کی بنیاد پر نہیں ہوا ہے۔ جب پورے پاکستان میں اس سمجھوتے کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے ایسے میں اس سمجھوتے کے حق میں بولتے ہوئے پی ایم ایل این کے ایم پی جاوید عباسی نے کہا سی پی ای سی کے تحت آنے والے پاور پروجیکٹ پاکستان کے بجلی بحران کو کم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر بجلی پروجیکٹ بلوچستان اور سندھ صوبے میں قائم ہوں گے جس سے پاکستا میں 56 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی۔ سی پی ای سی کے تحت بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹ اور کئی انڈسٹریل زون بھی آئیں گے جس سے دیش میں روزگار بڑھے گا لیکن حقیقت میں پاکستان میں کل غیرملکی سرمائے کا 60 فیصد ہی چین سے آرہا ہے۔ اس کا اثر یہ ہورہا ہے پاکستان کی ساری کاروباری پالیسی چین کو ذہن میں رکھ کر بنائی جارہی ہے۔ جس سی پی ای سی کو پاکستان کے فائدے میں بتایا جارہا تھا اب اس کی اصلی تصویر سامنے آرہی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق اس سمجھوتہ کے تحت بن رہے کم سے کم تین بڑے پروجیکٹوں میں کرپشن کی خبریں سامنے آنے کے بعد چین نے ان منصوبوں کے لئے فنڈنگ روکنے کا فیصلہ لیا ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نے شائع اپنی رپورٹ میں اس کا خلاصہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین حکومت کے اس فیصلہ کے سبب پاکستان نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی ایک لاکھ کروڑ ڈالر کے سڑک پروجیکٹ کو جھٹکا لگے گا۔ یہی نہیں اس فیصلہ کی وجہ سے کم سے کم تین پروجیکٹ میں تاخیرکا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ چین کے اس قدم سے پاک حکام حیران ہیں۔ ایک سینئر افسر نے بتایا بیجنگ کے ذریعے نئی گائڈ لائنس جاری ہونے کے بعد اب پروجیکٹوں سے متعلق فنڈ جاری کیا جائے گا۔ پاکستان میں اس بات کو لیکر ناراضگی ہے کہ جو سمجھوتہ کیا گیا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں دکھائی پڑتا۔
(انل نریندر)

مغربی اترپردیش میں جرائم اور دہشت کا سایا

لدھیانہ میں17 اکتوبر کو آر ایس ایس کے لیڈر روندر گوسائیں کے قتل کے معاملہ میں ایتوار کی صبح مودی نگر علاقہ کے نہالی گاؤں سے پستول سپلائر ملوک کو گرفتار کرکے لوٹ رہی این آئی اے و پولیس کی ٹیم پر دیہاتیوں نے حملہ بول کر ملزم کو چھڑا لیا۔ پولیس نے اسے دوبارہ پکڑنے کی کوشش کی تو بھیڑ نے پتھراؤ بھی کیا اور گولیاں بھی چلائیں۔ اس سے کرائم برانچ کے سپاہی تہذیب خان زخمی ہوگئے۔ جیسے ہی پولیس اور ٹیم کے جوانوں نے ملوک کو گاڑی میں بٹھایا دیہاتیوں نے ٹیم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان کے راستے میں بگی کھڑی کردی۔ دیہاتیوں نے پولیس سے پوچھا کہ وہ ملوک کو کیوں لے جارہے ہیں۔ اس درمیان عورتوں نے پولیس ٹیم پر پتھراؤ شروع کردیا۔ پولیس نے جب اس کی مزاحمت کی تو کچھ لڑکوں نے فائرنگ کردی۔ چاروں طرف سے گھرا دیکھ ٹیم جان بچا کر گاؤں سے بھاگ نکلی۔دوڑتے پولیس ملازم پر بھی عورتوں نے پتھر برسائے۔ قریب 10 منٹ تک پتھراؤ اور فائرنگ ہوئی۔ پولیس ٹیم پر اس حملہ سے پتہ چلتا ہے علاقہ میں کتنا ہتھیار وغیرہ جمع ہے۔ دراصل مغربی یوپی ہتھیار، اسمگلنگ، آتنکی کرپشن اور فرقہ وارانہ ہلچل کو لیکر خفیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کے لگاتار راڈار پر ہے۔دہلی کے قریب ہونے اور دیش کی ریاست کو بڑا موڑ دینے والا مغربی یوپی کتنا خطرناک ہوگیا ہے اس واردات سے پتہ چلتا ہے۔ کئی بڑی واردات میں مغربی یوپی کے کچھ گروہ یا یہاں پناہ لینے والے آتنکیوں کے رول کے بارے میں اطلاعات ملتی رہی ہیں۔ اب آر ایس ایس لیڈر کے قتل کے پیچھے بھی مغربی یوپی کا کنکشن سامنے آنے کے بعد دوبارہ الرٹ کردیا گیا ہے۔ مغربی یوپی سے وابستہ کئی جرائم پیشہ گروہ پیسہ لیکر فرقہ وارانہ اور ذات پات تشدد کی وارداتیں کرچکے ہیں۔ مظفر نگر دنگوں کے بعد یہاں آتنکی تنظیموں نے پیر جما لئے تھے۔ مقامی لڑکوں کو آتنکی تنظیم سے جوڑنے اور بڑی وارداتوں کو پلان کرنے کی سازش کی جارہی تھی۔ ایسے میں سیکورٹی ایجنسیوں کو ملی اطلاع کے بعد کام بھی شروع کیا گیا۔ تین سال قبل اس بات کا انکشاف ہوا کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے خود بھی کہا تھا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کا اہم فوکس میرٹھ، غازی آباد، بلند شہر، سہارنپور ، مظفر نگر، بجنور، مرادآباد ،رام پور وغیرہ پر رہا ہے۔مقامی سطح پر ان تنظیموں کو مدد دینے والے لوگوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ ملوک کو پکڑنے والی این آئی اے، اے ٹی ایس اور مقامی پولیس کی ٹیم کو اس لئے بھاگنا پڑا کہ ان کے ساتھ درکار فورس نہیں تھی۔فورس کم ہونے کی وجہ سے سیکورٹی ایجنسیاں دیہاتیوں کے سامنے زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکیں اور پوری فورس کو الٹے پاؤں لوٹنا پڑا۔ این آئی اے کے ترجمان کے مطابق آر ایس ایس نیتا کے قتل کی جانچ کے دوران کچھ مشتبہ اسمگلروں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
(انل نریندر)

07 دسمبر 2017

مودی سے زیادہ بھیڑ ہاردک پٹیل کی ریلیوں میں

گجرات میں 9 دسمبر کو اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلہ میں ووٹ پڑنے والے ہیں۔ چناؤ کمپین اپنے شباب پر پہنچ چکی ہے۔ ریلیوں پر ریلیاں ہورہی ہیں لیکن ایک طرف بی جے پی کے اسٹار کمپینر وزیراعظم نریندر مودی کی ریلیاں ہورہی ہیں وہیں ہاردک پٹیل کو سننے کے لئے کافی بھیڑ امڑ رہی ہے۔ 3 دسمبر کو وزیر اعظم مودی کی راجکوٹ میں ریلی ہوئی تھی، وزیراعلی وجے روپانی کا یہ آبائی ضلع ہے، لیکن ریلی میں اتنے لوگ نہیں آئے جتنے پچھلے ہفتے ہاردک پٹیل کی ریلی میں پہنچے تھے۔ سورت کے بڑودرہ میں ہوئی وزیر اعلی کی ریلی میں خالی کرسیاں تھیں۔ ہاردک کی ریلی میں آنے والے اپنا پیسہ خرچ کرکے انہیں سننے آرہے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو لوگوں کو آنے جانے کی سہولت دینی پڑ رہی ہے تاکہ لوگ وزیراعظم کی ریلی میں آسانی سے آسکیں۔ واقف کار بتاتے ہیں کہ ایسا اس لئے ہورہا ہے کیونکہ ہاردک ان اشو پر بات کرتے ہیں جن سے لوگوں کا سیدھا تعلق ہے۔ سورت میں ہاردک کا روڈ شو 25 کلو میٹر لمبا تھا۔
ہاردک اور وزیر اعظم کی ریلی میں موجود ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ ہاردک کسانوں کی پریشانیاں اور بے روزگاری جیسے اشو پر بات کررہے ہیں جس سے گاؤں کے لڑکوں کی سیدھی وابستگی ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کھیتی میں زیادہ منافع نہیں ہے اور نوکریاں دستیاب نہیں ہیں اس لئے یہ لوگ ہاردک پٹیل کی حمایت کررہے ہیں۔ وہیں وزیر اعظم میں لوگوں کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔ ایک موقعہ پر تو وزیر اعظم کو ساؤتھ گجرات میں اپنی ریلی کی جگہ بھی بدلنی پڑی۔ ایتوار کو ہاردک پٹیل نے سورت میں ایک بڑا روڈ شو کیا جس میں چھ اسمبلی چناؤ حلقوں کا دورہ کیا اور اس کے بعد سورت کے کرن چوک میں ایک ریلی کی چشم دید گواہوں نے بتایا کہ ہاردک کا یہ روڈ شو 25 کلو میٹر لمبا تھا۔ اتنا بڑا روڈ شو پہلے کسی نے بھی نہیں کیا تھا ، سڑک پر کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ اسی دن یعنی ایتوار کو وزیر اعظم نے بھی بھڑوچ میں ایک ریلی کی جس میں کرسیاں خالی پڑی تھیں۔ ہاردک کی ریلیوں میں امڑرہی بھیڑ سے پتہ چلتا ہے کہ پارٹیدار بھاجپا سے کتنے ناراض ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایسا ہیں لگتا کہ ان کی ریلیوں میں کم لوگ پہنچ رہے ہیں۔ پارٹی کے ترجمان چمل ویاس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور ہاردک پٹیل کے درمیان مقابلہ نہیں ہے۔ نریندر مودی اس دیش کے سب سے بڑے لیڈ ر ہیں اور ہم ان کی ریلی میں پہنچ رہے لوگوں کی تعداد سے مطمئن ہیں۔ اس سے پارٹی کا ماحول بھی کافی اچھا ہوا ہے۔ منگلوار کو خراب موسم کے چلتے کئی ریلیاں منسوخ ہوئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کیا یہ بھیڑ ووٹوں میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

یہ جان لیوا اسپتال

پانچ ستارہ اسپتالوں کی لاپرواہی کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ شارلیمار باغ میں واقع میکس اسپتال نے ایک زندہ نوزائیدہ بچے کو مردہ قراردے دیا اور اسے پیکٹ میں بند کر اس کے گھر والوں کو تھمادیا۔ گھر والے جب بچے کو انتم سنسکار کے لئے لے جانے لگے تو پیکٹ میں اچانک ہلچل محسوس ہوئی۔ انہوں نے جب پیکٹ کھول کر دیکھا تو بچہ زندہ تھا، سانس لے رہا تھا ۔ بچے کو پیتم پورہ میں واقع نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا اس دوران بچے کے نانا پروین نے بتایا کہ 28 نومبر کو انہوں نے بچے کی ماں کو میکس اسپتال میں بھرتی کروایا تھا۔ اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ انہیں مہنگے انجکشن لگیں گے۔ ایک انجکشن کی قیمت 35 ہزار روپے ہے۔ رشتے داروں نے انجکشن خرید کر دیا۔ نانا پروین کے مطابق 30 نومبر صبح ساڑھے سات بجے پہلے لڑکا پیدا ہوا اور پھر صبح 7.42 پر بچی پیدا ہوئی۔ ڈاکٹروں نے صبح 8 بجے کنبے والوں کو بتایا کہ لڑکی کی موت ہوچکی ہے، لڑکا زندہ ہے اسے وینٹی لیٹر پر رکھنا ہوگا۔ ساتھ ہی ڈاکٹروں ے بتایا اس کارروائی میں 3-4 دن تک یومیہ 1 لاکھ روپے کے قریب خرچ آئے گا۔اس کے بعد 12 ہفتے تک یومیہ 50 ہزار روپے کا خرچ آئے گا۔ اس پر رشتے داروں نے کہا کہ وہ اتنا مہنگا علاج نہیں کراسکتے آپ ہمیں لڑکی کی لاش دے دیں اور زندہ بچے کا علاج ہم کسی اور اسپتال میں کرا لیں گے۔ اس کے قریب دو گھنٹے تک اسپتال انتظامیہ نے رابطہ قائم ہیں کیا۔ اس کے بعد فون پر رشتے داروں کو بلایا۔ نانا پروین ڈاکٹروں سے ملنے گئے تو بتایا گیا کہ دوسرا بچہ بھی مر گیا اس کے بعد دونوں بچوں کو ایک پولیتھین کے پارسل میں پیک کردیا۔ جب ہم جا رہے تھے تو بچے کے جسم سے حرکت محسوس ہوئی۔ ہم نے گاڑی روک کر بچے کو پارسل سے نکالا، ہم چونک گئے ، ہمارا بچہ سانس لے رہا تھا۔ 12 دن وینٹی لیٹر پر رکھنے کا بل48 لاکھ روپے بنا دیا۔ پچھلے مہینے ہی گوروگرام کے فورٹیس اسپتال میں تقریباً 16 لاکھ روپے کا ایک بل وصولنے کے باوجود 7 سال بچی کی ڈینگو سے موت ہوگئی تھی۔ ان اسپتالوں کی لوٹ کھسوٹ کی باریکی سے جانچ ہونی چاہئے۔
قصوروار لوگوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ علاج میں لاپرواہی مریض کے شدید بیمار ہونے کا ڈر دکھا کر بھرتی کرنا بھاری بھرکم بل بنانے اور اس طرح کی دیگر شکایتیں دہلی ۔ این سی آر میں عام ہوگئی ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ پرائیویٹ اسپتالوں کی کھلی لوٹ اور مجرمانہ لاپرواہی کو چیک کرنے کے لئے لیگل فریم ورک کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے دہلی سرکار پرائیویٹ اسپتالوں میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی لیکن جو اسپتال لوٹ مچا رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)

06 دسمبر 2017

کیا کانگریس 9 فیصد کا فرق پورا کر سکے گی

اترپردیش کے بلدیاتی چناؤ میں بھلے ہی بی جے پی کا ڈنکا بج رہا ہو لیکن چھ مہینے پہلے ہوئے اسمبلی چناؤ کے مقابلہ ووٹ 9 فیصدی گرا ہے وہیں بسپا کے ووٹ فیصد میں 4 فیصدی کی کمی آئی ہے۔ سب سے کم 1.4 فیصد کی گراوٹ سپا کے خیمے میں آئی ہے۔ وہ بی جے پی کے بعد دوسرے نمبر کی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ کانگریس بھلے ہی زیادہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب نہیں رہی لیکن اکیلے چناؤ لڑنے سے اس کا ووٹ فیصد بڑھا ہے۔ تینوں پارٹیوں کے ووٹ فیصد میں بڑی سیند آزاد نے لگائی ہے۔ اگر ہم بات کریں ووٹ فیصد کی تو کانگریس پارٹی گجرات چناؤ میں ذات پات لیڈروں کے سہارے ان 9فیصد ووٹوں کے فرق کو بھرنے کی کوشش میں لگی ہے جن سے بھاجپا پچھلے چناؤ میں کامیاب رہی تھی۔ کانگریس کو امید ہے کہ راہل گاندھی کی ریلیوں میں آنے والی بھیڑ ان کے حق میں ووٹ کرے گی ساتھ ہی نئے مقامی ساتھیوں سے پارٹی کو مزید مدد ملے گی۔ اتحادی ہیں۔۔ پارٹیدار آندولن کے نیتا ہاردک پٹیل، اوبی سی نیتا الپیش ٹھاکر اور دلت ورکر جگنیش میوانی، ٹھاکر کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں وہیں پٹیل نے بڑی اپوزیشن پارٹی کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ چناؤ کمیشن کے 2012ء کے گجرات چناؤ کے اعدادو شمار کے مطابق اس وقت بھاجپا کو 47.85 فیصد ووٹ ملے تھے وہیں کانگریس کو 38.93 فیصد ووٹ ملے تھے۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان 8.92 فیصد ووٹوں کا فرق تھا۔
حالیہ ووٹر لسٹ کے مطابق گجرات میں 4.25 کروڑ ووٹر ہیں۔ گجرات کانگریس پردیش کمیٹی کے نگراں صدر کنور جی بھائی بوالیا کے مطابق اس بار پارٹی بھاجپا کو کانٹے کی ٹکر دے رہی ہے۔ انہوں نے بات چیت میں کہا ہماری اپنی کمپین ہاردک پٹیل کی پارٹیدار فرقہ میں مقبولیت اور اوبی سی و دلتوں میں الپیش اور جگنیش کا اثر یہ سب بڑی چنوتی پیش کریں گے لیکن بھاجپا۔ کانگریس کے دعوے کو ماننے کے لئے راضی نہیں ہے۔ گجرات بھاجپا کے ترجمان ہرشد پٹیل نے کہا کہ 2012ء کے چناؤ کے بعد 2014 میں عام چناؤ ہوئے جس میں کئی اسمبلیوں میں بھاجپا کو بڑی جیت ملی تھی کانگریس کے کرارے حملوں اور حریفوں کی لہر کی قیاس آرائیوں کے چلتے کچھ بچاؤ کی شکل میں دکھائی دے رہی ہے۔ بھاجپا جی ڈی پی کی ترقی شرح کے حوصلہ افزا اعدادو شمار کے بعد سے ہی جوش میں آگئی تھی اور اترپردیش چناؤ کے نتائج نے جیسے اس کے لئے سونے پر سہاگا کا کام کردیا۔ کل ملا کر گجرات چناؤمیں بھاجپا کو سخت ٹکر دے رہی ہے کانگریس اور اس کے اتحادی۔ اگر یہ محاذ 8.92 فیصد کا فرق پورا کرلے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

سبزیوں کے مسلسل بڑھتے دام

سردی کے موسم میں کم ہونے کے بجائے سبزیوں کے دام مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اس موسم میں سبزیوں میں زبردست گرماہٹ آگئی ہے۔ عام طور پر سبزیوں کے دام سردی میں گھٹتے ہیں لیکن اس سال کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ تھوک بھاؤ میں تو بھاؤ بڑھے ہی ہیں خوردہ سبزی فروشوں نے بھی بھاؤ دوگنا کردئے ہیں۔سبزیوں کے بھاؤ اس قدر اچھال لے رہے ہیں کہ گرہستنوں کا تو مہینے کا بجٹ ہی بگڑ گیا ہے۔ آلو، پیاز، ٹماٹر جو روز مرہ کی سبزیاں ہیں اس میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔ آلو جو تھوک بازار میں 2-13 روپے بک رہا ہے وہ ہی آلو دہلی کے الگ الگ علاقوں میں الگ الگ بھاؤ سے فروخت ہورہا ہے۔ نئی فصل والا آلو بھی دہلی کے کئی علاقوں میں 20سے30 روپے فی کلو بک رہا ہے۔ اسی طرح پیاز کی قیمت منڈیوں میں 12سے40 روپے فی کلو ہے لیکن یہاں پیاز عام مارکیٹ میں 60سے80روپے فی کلو بک رہی ہے تو نارتھ دہلی میں 50 سے70 روپے فی کلو۔ بیگن 25 سے30 روپے کلو اور دیگر سبزیاں 40 سے50 روپے کے درمیان بک رہی ہیں۔ پھول گوبھی40سے60 روپے اور مٹر 100 روپے فی کلو اور لوکی 30سے35 روپے فی کلو بک رہا ہے۔ میتھی25 روپے کلو، پالک ،سرسوں 30 روپے کلو بک رہا ہے۔ منڈی کے تاجروں کی مانیں تو پچھلے سال کے مقابلہ میں سبزیوں کے بھاؤ بڑھے ہیں۔ کیونکہ ساؤتھ انڈیا میں بارش کے سبب سبزیاں کم آرہی ہیں حالانکہ خوردہ تاجروںیہ بہانہ بنا کر بڑھے ہوئے داموں میں سبزیاں بیچ رہے ہیں کہ ان کی آمد کم ہے جبکہ مانگ کے مطابق سبزیاں دہلی کی منڈیوں میں پہنچ رہی ہیں۔ خوردہ تاجر لوکل بازار کی سبزیوں کو بھی مہنگی قیمت پر بیچ رہے ہیں۔
دیش بھر میں پیاز کی قیمت نیچے لانے کیلئے سرکار 2 ہزار ٹن پیاز منگائے گی حالانکہ جتنی پیاز سرکار درآمد کرے گی اتنی اکیلے دہلی میں ایک دن کی کھپت ہے۔ یہ اعدادو شمار ایگریکلچر پروڈیوس مارکٹنگ کمیٹی کے ہیں۔ 28 نومبر کو آزاد پور منڈی میں 1197 ٹن پیاز کی آمد ہوئی تھی۔ بھارت کے سامنے پیاز کی درآمد کے لئے محدود متبادل ہیں۔ پیاز کی درآمد پاکستان، افغانستان ،مصرو چین جیسے ملکوں سے کی جاسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت پاکستان سے درآمد نہیں کرے گا۔ افغانستان و چین سے پیاز کی درآمد کرنے پر آرڈر فائل کرنے کے بعد کم سے کم 7 دن لگیں گے۔ مصر سے درآمد کرنے پر تو مہینہ بھی لگ جائے گا۔ بتایا جارہا ہے پیاز کی نئی فصل کی آمد شروع ہوگئی ہے اور 15 دسمبر تک پیاز کے دام کم ہوجائیں گے۔
(انل نریندر)

05 دسمبر 2017

بہوجن سماج پارٹی کی چھوٹی سی جیت کے بڑے سیاسی اشارے

2012 و2017 کے اسمبلی چناؤ اور2014 کے لوک سبھا چناؤ میں بہوجن سماج پارٹی کا اترپردیش میں صفایا ہوگیا تھا۔ بسپا نے اسے منظم سازش قرار دیا تھا۔ای وی ایم میں دھاندلی کا الزام بھی لگایا تھا۔ ای وی ایم کے خلاف پردیش میں احتجاجی دوس تک منایاگیا۔ حالیہ اترپردیش کے بلدیاتی چناؤ میں بھی ای وی ایم سے ووٹنگ کی مخالفت کی لیکن جس ای وی ایم پر بسپا نے سوال اٹھایا تھا جمعہ کو اسی ای وی ایم کے ذریعے علیگڑھ اور میرٹھ میونسپل کارپوریشن کی اسے سیٹ ملی۔ ای وی ایم کے فیصلے سے ہی میرٹھ میں بسپا امیدوار سنیتا ورما میئر بنیں اسی طرح علیگڑھ میونسپل کارپوریشن کی سیٹ پربسپا کے محمد فرقان کو جیت حاصل ہوئی۔ بسپا کی اس چھوٹی سی جیت کے بڑے سیاسی اشارہ ہیں۔ شہروں میں ملی کامیابی بسپا میں روح پھونکنے والی ہے۔ بلدیاتی چناؤ کا نتیجہ بسپا کے لئے اچھے دن کا احساس کرانے والا ثابت ہوا۔ برسوں بعد چناؤ نشان پربلدیاتی چناؤ لڑی بسپا کو بھلے ہی بڑی کامیابی نہ ملی ہو لیکن اس کے لئے یہ فائدہ مند ضرور رہا۔ مشرقی یوپی سے مغربی یوپی سے اسے فائدہ ملا۔ صحیح معنوں میں اس کے لئے یہ جیت سنجیونی کا کام کرے گی۔ بسپا نے اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں مسلسل مایوس کن کارکردگی کے بعد زور دار واپسی کی ہے۔ پارٹی نے علیگڑھ کیساتھ میرٹھ کے میئر کی کرسی پر قبضہ کرنے کے ساتھ کونسلروں کی 147 سیٹوں پر قبضہ جمایا ہے اس سے صاف ہوگیا ہے کیڈر ابھی بھی بہن جی کے ساتھ ہے۔ سپا کی پروان چڑھتی امیدوں کو ان نتیجوں نے جھٹکا دیا ہے۔ پارٹی کا نوجوانوں میں اپنی مقبولیت کا بھروسہ تھا تو مسلمانوں کی ڈور بھی خود سے بندھی ہونے کی وجہ سے بھرپور اعتماد تھا۔ سلاٹر ہاؤس ، لو جہاد، تاج محل، اینٹی رومیو اسکوائڈ جیسے اشوز سے ہوئے ووٹوں کے پولارائزیشن کا فائدہ بھاجپا کو ہوا ہے۔ اس کے برعکس فائدہ سپا کے بجائے بسپا کو زیادہ ہوا۔ لگتا ہے کہ دونوں ہی ووٹ بینک سپا کے بجائے بھاجپا، بسپا و دیگر پارٹیوں کی طرف کھسک گئے۔ شہری علاقہ کے لئے ان چناؤ میں نئے ذات پاتی تجزیئے کے بھی اشارہ ملے ہیں۔ لوک سبھا سے لیکر اسمبلی چناؤ میں رہنے والا ذات پات کا تجزیہ بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس چناؤ میں ملی کامیابی سے خوش بہوجن سماج وادی پارٹی چیف مایاوتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگروہ جمہوریت میں یقین رکھتی ہے تو 2019 کے عام چناؤ ای وی ایم کے بدلے بیلٹ پیپر سے کروائے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا لوک سبھا چناؤ 2019ء میں ہے اور اگر بھاجپا کہتی ہے کہ ان کے ساتھ عوام ہے اور پورے دیش کی جنتا اس کے ساتھ ہے تو وہ بیلٹ پیپر سے چناؤ کروا کر دکھائے۔ میں یقین کے ساتھ کہتی ہوں بھاجپا کبھی نہیں جیت پائے گی۔
(انل نریندر)

خاتون جج کو اغوا کرنے کی کوشش

راجدھانی میں جرائم پیشہ کے حوصلہ بڑھتے جارہے ہیں۔ نہ انہیں قانون کا ڈر ہے اور نہ ہی سماج کا۔ حد تو تب ہوگئی جب ایک کیب ڈرائیور نے ایک خاتون جج کو اغوا کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کڑکڑ ڈومہ کورٹ میں سول جج ہے۔ وہ خاندان کے ساتھ نیو راجندر نگر میں رہتی ہیں۔ کورٹ میں زیادہ تر جج حکومت کے ذریعے ملی نجی کار پول کا استعمال کرتے ہیں۔ پہلے کیب متاثرہ جج کو نیوراجندر نگر سے لیتی ہے اس کے بعد میور وہار سے دوسری خاتون جج کو لیکر کورٹ پہنچتی ہے۔ صبح 8:50 بجے متاثرہ سوئفٹ ڈزائرکیب میں ڈرائیور کے ساتھ کڑکڑ ڈوما کورٹ جانے کے لئے نکلیں۔ ڈرائیور کو میور وہار سے دوسری جج کو بھی کار میں بٹھانا تھا لیکن میور وہار جانے کے بجائے ملزم نے اکشردھام مندر کے نیچے سے غازی آباد کی طرف کیب لے لی۔ متاثرہ نے اس کی مخالفت کی تو ملزم دوسرے راستے سے جانے کی بات کرنے لگا۔ اس بیچ راستے میں ملزم بیحد خطرناک طریقے سے کار چلا رہا تھا۔ متاثرہ نے اسے ٹھیک سے کار چلانے کے لئے ٹوکا بھی، لیکن لگاتار وہ ایسے ہی کار چلاتا رہا۔ بارڈر پر پہنچنے پر جب متاثرہ نے نوئیڈا۔63 کا بورڈ دیکھا تو اسے معاملہ گڑبڑ لگا۔ اس نے چلا کر ڈرائیور کو کار واپس موڑنے کے لئے کہا۔ غازی پور بارڈر سے ڈرائیور نے کار واپس بھی موڑ لی۔ متاثرہ نے معاملہ کی اطلاع ساتھی جج ، و پرائیویٹ کیب کمپنی جس کی وہ کار چلاتا ہے اسے و پولیس کو دے دی۔ اس کے بعد پیچھا کر پولیس نے کار کو غازی پور ٹول پر روک کر ڈرائیور کو گرفتارکرلیا۔ پولیس نے شاہدرہ کے باشندے کیب ڈرائیور راجیور کو پیر کی رات ہی جمنا پار کے غازی پور علاقہ میں گرفتار کرلیا۔ کار بھی ضبط کرلی گئی۔ خاتون جج کو اغوا کرنے کے اس معاملہ پر ہائی کورٹ نے تشویش جتائی ہے ہائی کورٹ رجسٹرار جنرل دنیش کمار شرما نے بتایا کہ واردات کی جانکاری پر نگراں چیف جسٹس گیتا متل نے دہلی سرکار کے نمائندہ سے بات کی اور خاتون جج کے لئے بلا تاخیر الگ گاڑیوں کا انتظام کرنے کے احکامات دئے ہیں۔
انہوں نے کہا سرکار اس مسئلہ پر سنجیدہ ہو اور وہ خاتون ججوں کے علاوہ مہلا سرکشا کے اشو پر بھی ٹھوس قدم اٹھائے۔ ویسے سبھی کیب سروس فراہم کرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جس بھی ڈرائیور کو اپنی کیب سرویلینس کا حصہ بنائیں ان کے بیک گراؤنڈ کی ضرور جانچ کروائیں اور اس کے ذریعے جمع کئے گئے دستاویزات کی بھی جانچ کراوئی جائے۔
(انل نریندر)

03 دسمبر 2017

یوپی بلدیاتی چناؤ میں بھاجپا کی آندھی

اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی حکومت اپنے پہلے امتحان میں فرسٹ کلاس سے پاس ہوگئی ہے۔ پچھلی 19 مارچ کو وزیر اعلی کی کرسی سنبھالنے کے بعد کے عہد کا یہ پہلا چناؤتھا اور اس چناؤ میں بی جے پی کی بڑی جیت ہوئی ہے۔ نگر نگموں کے لئے پولنگ ای وی ایم سے ہوئی اور نگرپالیکاؤں کے لئے روایتی بیلٹ کا استعمال کیا گیا۔ جی ایس ٹی ، نوٹ بندی اور مہنگائی کے شور کے درمیان ناراض بتائے جارہے اترپردیش کے شہری ووٹروں نے بی جے پی کو دونوں ہاتھوں میں جیت کا لڈو تھمادیا۔ لوک سبھا ، اسمبلی چناؤ کے بعد شہری بلدیاتی چناؤ میں بھاجپا نے شاندار مظاہرہ کرکے جیت کی ہیٹ ٹرک لگائی ہے۔ پارٹی نے 16 میں سے14 میونسپل کارپوریشنوں میں قبضہ جمایا ہے جبکہ دو میونسپل کارپوریشنیں بسپا کے کھاتے میں گئی ہیں۔پہلی بار بنی میونسپل کارپوریشن ایودھیا، متھرا، سہارنپور، فیروز آباد میں بھی کمل کھلا ہے۔ حکمراں بی جے پی نگرپالیکاؤں اور نگر پنچایتوں میں بھی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ چناؤ کے دوران جہاں بی جے پی نے پوری ریاست میں پرچم لہرایا وہیں سرکردہ ہستیوں کے گڑھ میں ہی پارٹی کو شرمناک ہار بھی دیکھنی پڑی ہے۔ یہاں تک کہ وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ بھی اپنے وارڈ میں پارٹی کو جیت دلانے میں ناکام رہے۔ گورکھپور میں سی ایم یوگی کے وارڈ پرانا گورکھپور میں بی جے پی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے یہاں ایک آزادامیدوارشمیم نے جیت درج کی ہے۔ یوگی نے بھی یہاں ووٹ ڈالا تھا۔ اس کے علاوہ گورکھناتھ مندر کے آس پاس کے چار وارڈ کا چناؤ بھی بی جے پی جیت نہیں سکی۔ بلدیاتی چناؤ میں سب سے شرمناک ہار کانگریس پارٹی کو جھیلنی پڑی ہے وہ بھی اپنے گڑھ میں۔ کانگریس نے امیٹھی اور مسافر خانہ نگر پنچایت سے اپنا امیدوار نہیں اتارا تھا۔ پہلی بار نگر پالیکا پریشد بنی گوری گنج میں گیتا سروج اس کی امیدوار تھیں۔گیتا سروج چوتھے نمبر پر پہنچ گئی۔ لوک سبھا، ودھان سبھا میں بہتر کارکردگی دکھانے والی بی ایس پی کے لئے یہ چناؤ ایک آکسیجن کی طرح ہے۔ اسمبلی چناؤ میں پھیل رہا دلت ۔مسلم تجزیہ یہاں کامیاب رہا۔اچھے نتیجہ 2019 کے عام چناؤ سے پہلے پارٹی کو طاقت دیں گے۔ مسلم اکثریتی سیٹوں پر بی ایس پی کی بڑھت سے سماجوادی پارٹی کے روایتی ووٹ کھسکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شیو پال حمایتی کچھ امیدوار جیسے بھاری پڑے اس سے اکھلیش کی چنوتی بڑھ گئی ہے۔ نگر پالیکاؤں میں دوسری بڑی پارٹی بتا کر وہ پیٹھ تھپتھپا سکتی ہے۔ بی جے پی اس کو گجرات چناؤں میں بھنانے کی کوشش کرے گی۔ کانگریس بیک فٹ پر ہوگی کیونکہ وہ اپنا گڑھ بھی نہیں بچا سکی۔
(انل نریندر)

دھرنا مظاہرے میں نقصان کا ذمہ دار کون ، کس کی ذمہ داری

دھرنے مظاہرے کے دوران جان مچال کے نقصان کو لیکر سپریم کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے سبھی ریاستوں اور مرکزی حکمراں ریاستو ں کی عدالتوں کی تشکیل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دھرنا مظاہرے کے دوران پراپرٹی کو نقصان پہنچانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سرکار کو اس کی ذمہ داری طے کرنے اور معاوضہ دئے جانے کی مکینزم تیارکرنے کی بھی صلاح دی ہے۔ عدالت ہذا نے کہا کہ ہر ریاست اور مرکزی حکمراں ریاست میں ٹریبونل یا عدالت ہونی چاہئے تاکہ متاثرین کو معاوضہ مل سکے۔ یہ سجھاؤ منگلوار کو جسٹس آدرش کمار گوئل و جسٹس بیو للت کی بنچ نے کیرل کے ایک شخص کی عرضی کا نپٹارہ کرتے ہوئے دئے ہیں۔
بنچ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 2009 میں دھرنے اور مظاہروں کے بارے میں گائڈ لائنس طے کی تھی جس میں اس کی ویڈیو گرافی وغیرہ کی بھی بات کہی گئی تھی ۔ اس میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی بات تھی۔ بنچ نے کہا لیکن ابھی ایسی کوئی مکنیزم نہیں ہے جو ذمہ داری طے کرے اور متاثرہ کو معاوضہ ملے۔ ہائی کورٹ سے مشورہ کرکے ایک یا دو ضلع ججوں کو اس کی فاضل ذمہ داری بھی دی جاسکتی ہے اور عدالت نقصان کرنے والے پر سیول ذمہ داری طے کر معاوضہ دے۔ مظاہرے کے دوران توڑ پھوڑ کرنے والوں پر فوجداری کے تحت کارروائی ہونی چاہئے جو انجم یا نتظیم اس کاانعقاد کرتی ہے اس کے نیتاؤں اور ممبروں پر توڑ پھوڑ پر کارروائی ہونی چاہئے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ بھلے ہی آئین میں پرامن مظاہرے کا حق دیاگیا ہے لیکن املاک کو نقصان پہنچانے یا مشتعل مظاہرے کرنے کا حق نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ امن قائم رکھنے میں ناکام رہنے والوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور متاثرین کو معاوضہ ملنا چاہئے۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے بنچ کو بتایا کہ سرکاری پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے خلاف ایکٹ میں ترمیم لا رہی ہے۔ اس کا ڈرافٹ تیار ہوگیا ہے۔ لوگوں سے بھی تجاویز منگوائی گئی ہیں۔ وزارت داخلہ کو کافی تجاویز بھی ملی ہیں۔ اس پر بنچ نے کہا کہ وہ امیدکرتی ہے سرکار قانون میں ترمیم کرتے وقت عدالت کی تجاویز کو بھی شامل کرے گی۔ وینو گوپال نے اس پر اتفاق جتایااور اس کے ساتھ ہی کورٹ نے کیرل کے وکیل کوشی جیکب کی عرضی کا نپٹارہ کردیا۔ جیکب نے دھرنا مظاہرہ کے سبب آنکھ کے آپریشن کے بعد کئی گھنٹے تک اسپتال سے گھر نہ پہنچ پانے کے عوض میں معاوضہ مانگا تھا۔ پرتشدد مظاہروں میں سرکاری املاک کو بھاری نقصان پہنچایا جاتا ہے اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ ان مظاہروں سے کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...