Translater

07 جون 2014

لوک سبھا میں صاف نظر آئی اقتدار تبدیلی کی جھلک!

16 ویں لوک سبھا کے پہلے اجلاس کی شروعات تعزیتی قرارداد پاس ہونے سے ہوئی کیونکہ ایوان نے سورگیہ گوپی ناتھ منڈے کو شردھانجلی دے کر کارروائی ملتوی کردی۔ لیکن ایوان کے اندر کا نظارہ پچھلے سیشن سے بالکل الگ دکھائی دیا۔ایوان میں اقتدار تبدیلی کی جھلک صاف طور پر محسوس کی گئی۔ حکمراں فریق میں خاص کر بھاجپا ممبران پارلیمنٹ پورے جوش و خروش میں تھے وہیں اپوزیشن خاص کر کانگریس خیمے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔بطور پی ایم منموہن سنگھ جہاں بیٹھا کرتے تھے وہ جگہ اب نئے پی ایم نریندر مودی نے لے لی جبکہ 15 ویں لوک سبھا کے دوران موجودہ وزیر خارجہ سشما سوراج کی سیٹ پر نئی لوک سبھا میں سونیا گاندھی بیٹھیں۔ ملائم سنگھ ضرور اپنی پرانی سیٹ پر برقرار تھے۔اسپیکر کی نشست کے داہنی طرف پہلی لائن میں جہاں نریندر مودی، لال کرشن اڈوانی، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، سشما سوراج، وینکیانائیڈو اور رام ولاس پاسوان بیٹھے تھے توچیئر کے بائیں طرف پہلی لائن میں سونیا گاندھی، ملکا ارجن کھڑگے، ویرپا موئلی بیٹھے دکھائی دئے۔ پہلی لائن میں جہاں جنتادل (یو) ، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر بیٹھا کرتے تھے وہاں انا ڈی ایم کے کی ایم پی تھمبی دورئی، ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے بیٹھے دکھائی دئے۔پہلے اجلاس کی خاص بات یہ رہی کہ مودی کا ایوان میں آتے ہی چھا جانا تھا۔ ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سب کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ مگر کارروائی شروع ہونے سے چند منٹ پہلے مودی جیسے ہی ایوان میں آئے تو حکمراں فریق کے ممبران نے میزیں تھپتھپائیں۔ ایم پی ان کے پاؤں چھوتے آگے پیچھے دکھائی دئے جبکہ مودی آتے ہی اپوزیشن کی بینچ کی طرف بڑھ گئے۔ مودی کو اپنی طرف آتا دیکھ ملائم سنگھ نے کھڑے ہوکر ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اتنے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ایوان میں اینٹری کی مودی کو سامنے دیکھ کر وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھیں ، دونوں لیڈروں نے ہاتھ جوڑ کر گرمجوشی سے ایک دوسرے کا خیر مقدم کیا اور ان میں گفتگو بھی ہوئی۔ دونوں لیڈروں کی یہ پہلی بات چیت تھی۔ لال کرشن اڈوانی نے مودی کو ایوان میں آنے پر کھڑے ہوکر احترام پیش کیا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ سے ملنے کے بعد جب مودی واپس اپنی سیٹ پر بیٹھے تو اڈوانی انہیں ایوان میں لگی تصویروں اورووٹنگ اسکرین اور پینٹنگ کی جانکاری دیتے دکھائی دئے۔ 10 سال حکمراں فریق کی آخری بینچ پر بیٹھنے والے راہل گاندھی نے اس بار سب سے پچھلی بینچ کو ترجیح دی۔ حالانکہ اس بار راہل گاندھی اپوزیشن والی جگہ کی آخری کارنر پر بیٹھے تھے انہوں نے کسی سے بات نہیں کی۔16 ویں لوک سبھا ویسے تو کئی معنوں میں تاریخی ہوگی لیکن اس کا پہلا دن بھی ایک ایسی تاریخ بن گیا کہ کوئی بھی ایم پی ایسی شروعات نہیں چاہے گا۔ نریندر مودی کی رہنمائی میں پہلی بار اکیلے دم پر اکثریت لے کر آئی بھاجپا اپنے بڑے نیتا گوپی ناتھ منڈے کے دیہانت کے سبب متوقع طور پر جوش اور خوشی ایک ساتھ نہیں ظاہر کرسکی۔ بدھوار کو بطور پروٹین اسپیکر کملناتھ ہی ایوان میں ایک واحد ممبر تھے جنہیں صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے اپنی رہائش گاہ پر حلف دلایا تھا۔ بطور لوک سبھا اسپیکٹر کملناتھ نے ایک لائن میں تعزیتی ریزولیشن پڑھا اور نئے منتخبہ ممبران نے 2 منٹ کی خاموشی اختیار کر منڈے کو شردھانجلی پیش کی۔ جمعہ کو نئے لوک سبھا اسپیکرکا چناؤ ہوگیا ہے اور سمترا مہاجن نئی اسپیکر بن گئی ہیں۔
(انل نریندر)

اربوں کا مالک سبرت رائے 45 ڈگری گرمی میں تہاڑ جیل میں!

4 مارچ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں بند سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے کو بدھوار کو اس وقت جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے انہیں گھر میں ہی نظربند کرنے کی عرضی کو خارج کردیا لیکن ان کی رہائی کے لئے پانچ ہزار کروڑ روپے نقد اور اتنی ہی رقم کی بینک گارنٹی کا انتظام کرنے کیلئے گروپ کو پراپرٹی بیچنے کی اجازت دے دی ہے۔جسٹس پی۔ایس ٹھاکر اور جسٹس اے۔ کے سیکری کی ڈویژن بنچ نے عدالت کے پہلے حکم میں اصلاح سے متعلق حکم کے بنیادی حصے کو سناتے ہوئے کہا کہ عرضی گذار کو جیل سے باہر منتقل کرنے کی درخواست خارج کی جاتی ہے۔ سبرت رائے کی رہائی کے لئے بڑی عدالت نے پہلے پانچ ہزار کروڑ روپے نقد اور اتنی ہی رقم کی بینک گارنٹی دینے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سہارا گروپ کو 9 شہروں میں اپنی پختہ جائیداد بیچنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے صاف کیا کہ اسے سرکل ریٹ سے کم کر نہیں بیچا جائے اور اس کا خریدار سہارا گروپ سے وابستہ نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت کا کہنا ہے اس بکری سے ملنے والی رقم بازار یعنی سیبی کے ذریعے کھولے گئے ایک الگ کھاتے میں جمع ہوگی اور اس کے عوض میں وہ خریدار کو پروپرٹیوں کے مالکان حق کے دستاویزات جاری کرے گی۔ بنچ نے کہا بینک کھاتوں کا لین دین کرنے پر لگی روک ہٹانے سے بھی عدالت کے احکامات کی تعمیل ہوسکتی ہے اس لئے سہارا کو اپنی ایف ڈی بانڈ اور سکیورٹی کیش کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس سے موصولہ رقم سیبی کے بینک کھاتے میں ٹرانسفر کی جائے گی۔ سہارا کے وکیل کیشو موہن نے سپریم کورٹ کی جانب سے بینک کھاتوں اور پراپرٹی سے پابندی ہٹانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نومبر2013ء سے بینک کھاتوں پر لین دین کرنے پر لگی روک کے سبب عدالت کے احکامات کی تعمیل نہیں ہوپارہی تھی۔ بینک کھاتوں پر روک کے چلتے10 ہزار کروڑ روپے کی رقم کا انتظام کرنا ممکن نہیں تھا اس لئے بڑی عدالت نے ادائیگی کے بارے میں سہارا گروپ کی نئی تجویز نامنظور کردی۔ سہارا گروپ نے اس میں کہا تھا کہ وہ پانچ دن کے اندر تین ہزار کروڑ روپے جمع کردے گا اور اس کے 30 دن کے لئے دو ہزار کروڑ روپے نقد جمع کرائے گا۔ گروپ کا کہنا تھا باقی پانچ ہزار کروڑ روپے کی بینک گارنٹی وہ لندن میں اپنے ایک ہوٹل اور نیویارک میں دو ہوٹلوں کی ساجھیداری بیچنے کے بعد 60 دن کے اندر دے دے گا۔ عدالت نے سارے معاملے کو تین نفری ڈویژن بنچ کے پاس بھیج دیا ہے جس کی تشکیل چیف جسٹس آر ایس لودھا کریں گے۔ سہارا بنام سیبی تنازعے کی سماعت72 ویں بنچ کو سونپ دی گئی ہے۔بنچ نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت پہلے بھی تین نفری بنچ کرچکی ہے اس لئے یہ مناسب ہوگا کہ تین نفری بنچ اس اہم معاملے کی سماعت کرے۔ شری سبرت رائے نے کبھی بھی یہ تصور نہیں کیا ہوگا کہ وہ دہلی میں پڑ رہی45 ڈگری درجہ حرارت والی گرمی میں انہیں تہاڑ جیل میں گزارنے ہوں گے۔ اربوں کا مالک گرہ کے چکر میں ایسا پھنسا کہ تہاڑ سے نکلنے کی نوبت نہیں آپارہی ہے۔
(انل نریندر)

06 جون 2014

نریندر مودی نے اپنی حکومت کی ترجیحات طے کیں!

وزیر اعظم نریندر مودی نے جن اشوز پر چناؤ لڑا ہے ان میں سے جو اشو مودی لہر کے لئے سب سے زیادہ موثر ثابت ہوا وہ تھا بدانتظامیہ کا اشو۔ چناؤ کمپین کے دوران مودی کا گجرات ماڈل بحث اور تنازعوں کا مرکز بنا رہا۔تمام تنازعات کے باوجود ہندوستانی رائے دہندگان نے اس بات کو تسلیم کیا اور مودی کو مکمل اکثریت دے دی۔ ظاہر سی بات ہے کہ ووٹروں کی امید اب یہ ہے کہ مودی کے دیش کی قیادت سنبھالنے سے دیش کا انتظامیہ بہتر ہوگا۔ یہ طے ہی تھا کہ نئی سرکار پرانی حکومت کے طورطریقوں سے کام نہیں کرے گی۔ وزیر اعظم نے اپنی کیبنٹ کی دوسری میٹنگ لی اور اس کے ساتھ ہی کام کاج کو رفتار دینی شروع کردی ہے۔ انہوں نے جمعرات کو کابینہ کی میٹنگ میں اپنے ساتھیوں کو 100 دن کا ایجنڈا بنانے کے احکامات دئے ہیں ساتھ ہی حکومت کے بہتر کام کاج کے لئے ایک 10 نکاتی پروگرام بھی طے کردیا ہے۔ مودی کی یہ 10 ترجیحات خاص کر انتظامی ڈھانچے اور اس کی کارکردگی سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ ترجیحات شو کرتی ہیں کہ سرکاری مشینری کو بہتر کام کرکے دکھانا ہوگا۔ حکام کو زیادہ کام کرنے کی آزادی ہوگی اور ان میں فیصلے لینے اور انہیں نافذ کرنے کی بھی آزادی ہوگی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار اب سال کے365 دن اور 24 گھنٹے کام کرے گی۔ اس کے لئے وزیر بھلے ہی اپنے دفتروں میں نہ جائیں مگر آن لائن اور سوشل میڈیا پر عوام سے سیدھے رابطے میں رہیں گے۔ اس کے علاوہ ایک اور پہل کرتے ہوئے مودی حکومت نے یوپی اے کے عہد کے دوران سبھی بنائے گئے وزارتی گروپ ختم کردئے ہیں اور یہ سسٹم پوری طرح سے ختم کردیا ہے۔ دیش کی عوام سے 60 مہینے مانگنے والے مودی اب اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں پوری طرح لگ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہر وزارت میں کوئی نہ کوئی افسر بھی وزیر کے ساتھ یکسوئی طور سے رابطے میں رہے گا۔ نریندر مودی عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کی جی جان سے کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی اچھا انتظامیہ دینے کے لئے قدم اٹھانے بھی شروع کردئے ہیں۔ پانچ دنوں میں پانچ قدم اچھے انتظامیہ کا 10 نکاتی ایجنڈا،100 دن کی اسکیم بنائیں وزیر، پرائیویٹ اسٹاف میں اپنے رشتے دار نہ رکھیں، کیبنٹ کا سائز گھٹا کر خرچہ بھی بچایا اور وزیر بھی۔ سوشل سائٹ پر سرگرم رہ کر عوام سے رابطے میں رہیں، وزیر اعظم نریندر مودی کے تین بنیادی منتر ہیں اچھا انتظامیہ اور عمل و نتیجہ۔ مودی ایک اچھے منتظم ہیں یہ سبھی جانتے ہیں پچھلے جمعہ کو جب پی ایم ہاؤس میں تقریباً تین گھنٹے چلی ان کی کیبنٹ میٹنگ ہوئی اس میں وزیر اعظم نے ہر وزیر کی ترجیحات طے کیں اور جنتا کی امیدوں پر کھرا اترنے کوکہا۔ اچھاانتظامیہ اور ترقی کے ایجنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کی ٹیم کو ساتھ میں جوڑیں اور اپنے آس پاس بھی ایسے لوگوں کو رکھیں جو کام جانتے ہوں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اپنے اہم وزراء کو ان کی ترجیحات بھی گنا دیں۔ وزیر مالیات ارون جیٹلی سے کہا گیا ہے کہ ان کی ترجیحات یہ ہیں مہنگائی پر لگام لگانا۔دوسرے کالی کمائی کو واپس لانا، تیسرے کرپشن پر روک لگانا۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی ترجیحات اندرونی سلامتی کو مضبوطی، نکسلواد پر کنٹرول پانا، دہشت گردی کی روک تھام۔ وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن جے نرک دوائیں مفت میں دینا، ہر ریاست میں ایک ایمس بنوانا، تمباکو ۔شراب پر بیداری۔ وزیر آبی وسائل اوما بھارتی گنگا کی صفائی کروانا، ندیوں کو جوڑنا، سچائی پروجیکٹ میں تیزی۔ ٹرانسپورٹ منتری گڈکری کی ترجیحات ،روزانہ سڑک تعمیر کا نشانہ،آبی وسائل بڑھانا،ٹول ٹیکس وغیرہ کا جائزہ لینا۔ وزیر ریل سدانند گوڑا بلٹ ٹرین کی شروعات، سکیورٹی اورحفاظت پر خاص توجہ دینا،ضروری چیزوں کا ٹرانسپورٹ۔بجلی کے سیکٹر میں، بجلی کی پیداوار بڑھانا ، ماحولیات سے منظوری میں تیزی اور اسکیموں میں تیزی لائیں۔ شہری ترقی، 100 شہروں کا بسانا، سستی مکانوں کی تعمیر اور صفا صفائی کی سہولیات بڑھانا۔ وزیر اعظم نے ابتدا تو اچھی کی ہے ان کی سرکار کی ترجیحات بھی اچھی ہیں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ ان پر عمل کس حد تک ہو پاتا ہے۔ ایک سیکٹر پر جہاں ہم چاہتے ہیں سرکار فیصلہ کرے وہ ہے سال میں بڑھتی سرکاری چھوٹیوں پر لگام اور ان میں کمی ہونی چاہئے۔ ایک غریب ترقی پذیر ملک اتنی چھٹیاں نہیں کرسکتا۔
(انل نریندر)

دہلی کے ٹریفک قواعد پر پھر چھڑی بحث!

مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے کی سڑک حادثے میں موت نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلا دیا ہے کہ دہلی کی سڑکیں اور ٹریفک سسٹم کتنا خراب ہوگیا ہے۔راجدھانی کی سڑکوں پر روزانہ یومیہ پانچ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ دہلی میں اس سال جنوری سے 15 مئی تک581 لوگوں کی موتیں ہوئی ہیں۔پچھلے سال سڑک حادثوں میں کل1725 لوگوں کی جان گئی تھی۔ ان حادثوں کی وجہ سے رفتار، نشہ اور ٹریفک سگنل کو نظر انداز کرنا ہے۔ دہلی ٹریفک پولیس کے حکام کہتے ہیں کہ بڑے سگنل کو چھوڑ کر راجدھانی میں سگنل رات11 بجے کے بعد جلنے بجھنے شروع ہوجاتے ہیں۔رات میں اور صبح سویرے پولیس بھی سڑکوں پر برائے نام رہتی ہے ایسے میں لوگ بے فکر ہوکر ٹریفک سگنل قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق اس سال15 مئی تک رات12 بجے سے صبح8 بجے کے درمیان 147 لوگوں کی جان گئی جبکہ پچھلے پورے سال کی یہ گنتی182 تھی۔ دہلی ٹریفک پولیس کی سختی کے بعد بھی راجدھانی کے باشندے ٹریفک قوانین کو توڑنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سال در سال دہلی میں ٹریفک پولیس کے ذریعے کئے گئے چالانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ دہلی ٹریفک پولیس کے اعدادوشماکے مطابق اوسطاً12 ہزار لوگوں کا روزانہ چالان کٹتا ہے۔ سال2012ء میں تقریباً 35.58 لاکھ گاڑیاں اور ڈرائیوروں کا چالان کیا گیا وہیں 2013ء میں یہ بڑھ کر 40.05 لاکھ ہوگیا۔ واقف کاروں کی مانیں تو ٹریفک قوانین تورنے والوں کی تعداد اعدادو شمار سے 10 گنا ہے لیکن 10 فیصدی لوگوں کے خلاف ہی پولیس چالان کر پاتی ہے۔ ٹریفک پولیس کی کوشش سے ٹریفک قواعد توڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں پر کافی حد تک لگام لگائی جاسکتی ہے۔ ٹریفک پولیس خود گاڑی ڈرائیوروں کے قواعد توڑنے کا چھپ کر انتظار کرتی ہے۔ جیسے ہی کوئی لال بتی کراس کرتا ہے اس کو پیچھا کرکے پکڑ لیا جاتا ہے۔ یہ صاف ہے کہ ٹریفک پولیس کا ریڈ لائٹ جم کرنے سے روکنے کے بجائے چالان کرنے پر زیادہ فوکس رہتاہے۔ کئی بار تو لوگ اسی سے حادثے کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن کا کہنا ہے اگرسورگیہ شری گوپی ناتھ منڈے کار کے اندر سیٹ بیلٹ لگائے ہوتے تو شاید ان کی جان بچ جاتی۔ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم میں شامل ڈاکٹر سبود گپتا کا کہنا ہے کار کی رفتار کافی دھیمی تھی ایسے میں اگر اچانک بریک لگائی جائے تب بھی اسی طرح کا حادثہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ مغربی ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے والے لوگوں کے لئے سیٹ بیلٹ ضروری کر دینی چاہئے۔انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے قومی نائب صدر ڈاکٹر کے کے اگروال کا کہنا تھا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں موت کے معاملے میں آٹھویں سب سے بڑی وجہ سڑک حادثہ ہے۔ اگر بروقت حفاظت کے قدم نہیں اٹھائے گئے تو2030ء تک دنیا بھر میں ہونے والی اموات کا پانچویں سب سے بڑی وجہ سڑک حادثہ بن سکتی ہے۔ دہلی کا خطرناک ڈیتھ پوائنٹ میں سیلم پور ٹی پوائنڈ، برطانیہ چوک، شاستری پارک،نگم بودھ گھاٹ، شکر پور چنگی، گوکل پوری چوک، آشرم چوک، آنند بہار ٹی پوائنٹ، اکشردھام نیشنل ہائی وے 24 وغیرہ شامل ہیں۔
(انل نریندر)

05 جون 2014

بھاجپا کا او بی سی چہرہ تھے گوپی ناتھ منڈے!

منگلوار کو ایک افسوسناک سڑک حادثے میں مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی گوپی ناتھ منڈے کا انتقال ہوگیا۔ منڈے ایئر پورٹ جارہے تھے۔ انہیں ممبئی کی فلائٹ پکڑنی تھی۔ قریب6.20 بجے ان کی کار میں انڈیکا گاڑی نے زور دار ٹکر مار دی۔ یہ ٹکر ٹھیک وہاں لگی جہاں پر منڈے رہتے تھے۔ حادثے کے بعد انہیں بیہوشی کی حالت میں ایمس لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کا ہارٹ فیل ہوگیا تھا۔ گوپی ناتھ منڈے بیڑ ضلع کے پرلی گاؤں میں ایک عام خاندان میں 12 جون1949 ء کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ پچھڑے طبقے کے تھے۔ مہاراشٹر میں بھاجپا کا او بی سی چہرہ اور نائب وزیر اعلی گوپی ناتھ منڈے ریاست کے آئندہ اسمبلی چناؤ میں کانگریس۔ راشٹریہ کانگریس پارٹی سے اقتدار چھیننے کے لئے پارٹی کی مہم کی رہنمائی کرنے کی تیاری کررہے تھے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پانچ بار ممبر اسمبلی رہے گوپی ناتھ منڈے ہفتے بھر پہلے ہی مرکزی وزارت میں پہلی بار شامل ہوئے تھے۔ وہ 64 سال کے تھے۔لوک سبھا چناؤ میں شیو سینا ۔ بھاجپا گٹھ بندھن کی زبردست جیت سے جوش سے بھرے مہاراشٹر کے سابق نائب وزیر اعلی منڈے کے نام کی چرچا بطور وزیر اعلی کے طور پر ہونی شروع ہوگئی تھی۔راشٹریہ کانگریس پارٹی چیف شرد پوار کے زبردست ناقد منڈے کو اس بات کا کریڈٹ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس مراٹھا سیاست کے اثر کو اس حد تک بے اثر کردیا کہ شیو سینا ۔ بھاجپا گٹھ بندھن 1995 میں اقتدار میں آسکا اور وہ نائب وزیر اعلی بنے۔سورگیہ بھاجپا نیتا پرمود مہاجن کے گوپی ناتھ منڈے بہنوئی تھے۔ اسے اتفاق کہیں یا کچھ اور لیکن منڈے مہاجن پریوار کے لئے مہینے کا تیسرا دن اشبھ لگتا ہے۔منگلوار یعنی3 جون کو حادثے میں ہلاک ہونے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پریوار کے تین ممبر اور دونوں بھاجپا نیتاؤں کے ایک قریبی مہینے کے تیسرے دن ہی کال کے گال میں سما گئے۔یہ افسوسناک سلسلہ منڈے کے سالے پرمود مہاجن کے انتقال کے ساتھ شروع ہوا تھا۔سال2006ء میں 3 مئی کو ہی ممبئی کی ایک ہسپتال میں پرمود مہاجن نے دم توڑا تھا۔ پرمود مہاجن کو ان کے بھائی پروین مہاجن نے ہی کسی جھگڑے کی وجہ سے 22 اپریل 2006 کو گولی ماری تھی۔ وہ 13 دنوں تک زندگی اور موت کے درمیان جھولتے رہے اور3 مئی کو ان کی روح ان کا ساتھ چھوڑ گئی۔ اس واقعہ کے ایک مہینے بعد3 جون 2006 ء کو ایک پارٹی کے بعد پرمود مہاجن کے اسسٹنٹ وویک مہیترا دہلی میں اپنے سرکاری بنگلے میں مرے ہوئے پائے گئے اور مہاجن کے بیٹے راہل مہاجن بے ہوش پائے گئے۔اس پارٹی میں مبینہ طور پر شراب اور نشیلی اشیاء کا استعمال کیا گیا تھا۔گوپی ناتھ منڈے کی موت کے پیچھے کوئی سازش ہے یا پھر محض ایک سڑک حادثہ؟واقعہ کی جانکاری ملتے ہی خفیہ بیورو کے سینئر افسران نے منگلوار صبح جائے وقوع کا دورہ کیا اور تغلق روڈ تھانے پہنچ گئے ملزم ڈرائیور گروندر سنگھ سے مفصل پوچھ تاچھ کی تھی۔ دہلی پولیس نے ابھی تک پوچھ تاچھ کی بنیاد پر دعوی کیا کہ جانچ میںیہ واقعہ صرف ایک حادثہ ہی لگتا ہے۔ دہلی پولیس کو فورینسک رپورٹ کا انتظار ہے۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ رپورٹ ملنے کے بعد ہی واقعہ کی صحیح تصویر سامنے آ پائے گی ۔ ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلے گا کہ آخر کار کس کار مالک کی غلطی سے یہ حادثہ ہوا۔ گوہی ناتھ منڈے کا یوں جانا بھاجپا کے لئے بہت ہی افسوسناک خبر ہے۔ منڈے مہاراشٹر میں بھاجپا کا چہرہ تھے۔ منڈے نے خود کو ایک بڑے او بی سی نیتا کے طور پر قائم کیا اور مراٹھا واڑ کی راجنیتی ان کے آگے پیچھے چلتی تھی۔1980ء میں جب وہ پہلی بار ایم ایل اے بنے اور پانچ بار ممبر پارلیمنٹ بنے،1990ء میں وہ پہلی بار تب سرخیوں میں آئے جب انہوں نے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کا مدعا اٹھا کر اسے چنوتی دی۔1995ء میں جب ریاست میں شیو سینا۔ بی جے پی کی سرکار بنی تو انہیں نائب وزیر اعلی بنایا گیا۔ اسی دوران ممبئی میں کئی انڈرورلڈ ڈان کے انکاؤنٹر ہوئے۔ منڈے ہی اس وقت ریاست میں پارٹی کے سب سے سینئراور عوامی بنیاد والے نیتا مانے جاتے تھے۔بی جے پی کو لگ رہا تھا کہ آنے والے اسمبلی چناؤ وہ منڈے کی رہنمائی میں ہی لڑیں گے۔ اب بی جے پی کو ان کے متبادل پر وچار کرنا ہوگا۔مہاراشٹر میں دوسرے بڑے نیتا نتن گڈکری کو اب مہاراشٹر کی کمان سنبھالنی پڑ سکتی ہے۔ ہم شری گوپی ناتھ منڈے کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں اور ان کے پریوار سے کہنا چاہیں گے کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں اکیلے نہیں۔ گوپی ناتھ منڈے کے جانے سے دیشنے ایک محنتی، جنتا سے جڑے نیتا کو کھو دیا ہے جس کی کمی شاید ہی کبھی پوری ہو۔
(انل نریندر)

سچ دکھانے کی بھاری قیمت چکانی پڑی لوک سبھا ٹی وی کے سی ای او کو!

عا م طور پر جب نظام بدلتا ہے یعنی نئی سرکار بنتی ہے تو یہ تو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ تمام اہم جگہوں پر اپنے بھروسے کے افسران کو بٹھاتے ہیں پر یہ کم دیکھا ہے جب کوئی نیتا جاتے جاتے ایک اہم سرکاری محکمے کے سب سے سینئر افسر کو باہر کا راستہ دکھائے۔سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے کچھ ایسا ہی کیا ہے۔ جاتے جاتے انہوں نے لوک سبھا ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راجیو مشرا کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔ راجیو مشرا کی خدمات گذشتہ شکراور کی رات ایک نوٹی فکیشن جاری کر اچانک ختم کر دی گئی۔ لوک سبھا سکریٹری30 مئی2014ء کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر نے لوک سبھا ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو راجیو مشرا کی سروس 31 مئی2014ء تک محدود کردی ہے۔اس سے پہلے لوک سبھا سکریٹریٹ کی 17 دسمبر2013 ء کے نوٹیفکیشن میں مشرا کا ایگریمنٹ 15 دسمبر کی دوپہر سے اگلے حکم تک بڑھا دیا گیا تھا۔اس طرح تقریباً ساڑھے پانچ مہینے میں ان کی خدمات کو 31 مئی تک محدود کرتے ہوئے 1 جون سے ختم کردیا گیا۔ میرا کمار نے جاتے جاتے شکروار کی رات جس طرح راجیو مشرا کا ایگریمنٹ ختم کیا اس سے خود مشرا بھی حیران ہیں۔مشرا نے کہا کہ انہیں اس کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ اطلاع تک بھی نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ چینل اچھا چل رہا ہے پھر کیا وجہ رہی؟ انہوں نے کہا کہ حال میں ہوئے لوک سبھا چناؤ میں ساسا رام سے میرا کمار کی ہا ر کی اطلاع لوک سبھا ٹی وی پر تبھی چلائی گئی جب چناؤ کمیشن نے اس کا اعلان کردیا۔ پارلیمنٹ کے مرکزی روم میں نریندر مودی کے بھاجپا ممبران پارلیمنٹ کے لیڈر چنے جانے کی کوریج ہم نے کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شاید ان باتوں سے انہیں ناراضگی ہو؟ انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ یہ سب نئی لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے سے عین پہلے کیا گیا۔مشرا نے کہا کہ ایک صحافی کے طور پر میرا کام وہی دکھانا ہے جو سچ ہے یا جو خبر ہے۔چناوی نتائج کی جو خبریں دی جارہی تھیں ان میں پوری ٹیم کام کررہی تھی۔ میں یہی دیکھ سکتا ہوں کہ کچھ غلط نہ جائے۔ہم پیشہ ور طریقے سے کام کریں گے تو سینٹرل ہال میں نریندر مودی کے ہونے کا منظر دکھائیں گے۔ معلوم ہو کہ لوک سبھا ٹی وی نے بھاجپا سنسدیہ دل کی بیٹھک کا سیدھا پرسارن دکھایا تھا۔ اس کے علاوہ چناؤ کی کوریج بھی کی ساتھ ہی جیتے ہوئے نیتاؤں کا انٹرویو کیا جس میں زیادہ تر بھاجپا کے تھے۔ کیونکہ زیادہ تعداد میں وہ ہی جیتے تھے۔ لوک سبھا ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی سروس شرائط کے مطابق عام طور پر کسی کو ہٹائے جانے کے لئے ایک مہینے کا نوٹس دیا جاتا ہے اور اسی طرح کوئی قرار کی نوکری چھوڑ کر جانا چاہے تو اس کے لئے بھی ایک مہینے کا نوٹس ضروری ہے لیکن راجیو مشرا کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔ انہیں کوئی اطلاع تک نہیں دی گئی۔ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ایک کامیاب اسپیکر کی ذمہ داری نبھانے والی میرا کمار نے ہار کے بعد اس طرح سے ایک سینئر افسر پر اپنا غصہ نکالا۔اس طرح کے رویئے کی ہم کبھی بھی میرا کمار جیسی پڑھی لکھی مدھر بھاشی نیتا سے امید نہیں کرسکتے تھے پر انہوں نے یہ کانڈ کرکے دکھا دیا۔
(انل نریندر)

04 جون 2014

بھارت کا29واں راجیہ بنا تلنگانہ!

دہائیوں کے سنگھرش کے بعد تلنگانہ نے دیش کے29 ویں راجیہ کے طور پر آخر کار شکل لے ہی لی ہے اور چند دنوں بعدمنقسم آندھرا پردیش کے دوسری ٹکڑے سیماندھرا کو بھی30 ویں راجیہ کا درجہ مل جائے گا۔تلنگانہ راشٹریہ سمیتی(ٹی آر ایس) چیف کے چندر شیکھر راؤ آندھرا پردیش سے الگ ہوکر وجود میں آئے اس نئے راجیہ کے پہلے وزیر اعلی بنے ہیں۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے راؤ کے علاوہ ان کے بیٹے کے ۔ ٹی راما راؤ اور بھتیجے ٹی ۔ہریش سمیت11 دیگر کو بھی بطور وزیر حلف دلایا۔اس میں سابق آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کلیان جوتی سین گپتا نے نرسمہن کو صوبے کے پہلے گورنر کے طور پر حلف دلایا۔ قابل ذکر ہے کہ کے۔ چندر شیکھر راؤ کی رہنمائی میں ان کی پارٹی ٹی۔آر۔ ایس تلنگانہ کے لئے طویل جدوجہد کرتی آئی ہے۔ جدوجہد کے دوران ان کے کئی حامیوں کو اپنی جان کی بازی بھی لگانی پڑی تھی۔سمرتھکوں کی اس قربانی کو یاد کرکے سوموار کو پہلے مکھیہ منتری کے طور پر حلف لیتے وقت چندر شیکھر راؤ جذباتی ہوگئے تھے۔ گذشتہ دنوں ودھان سبھا چناؤ میں یہاں119 سیٹوں میں سے67 سیٹیں ٹی آر ایس نے جیتی تھیں۔ اس نئے راجیہ میں 10 ضلع ہیں ان میں حیدر آباد کو چھوڑ کر سبھی9 ضلع پچھڑے ہیں۔ ان کے وکاس کے لئے نئی سرکار کے سامنے بڑی چنوتیاں ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے نئے وزیر اعلی کو بدھائی دی ہے۔ بدھائی پیغام میں انہوں نے تلنگانہ کے وزیر اعلی کو یقین دلایا ہے کہ مرکزی سرکار نئے راجیہ کو ہر ممکن مدد کرے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی چندر شیکھر راؤ کوبدھائی دی ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ تقسیم کا عمل جس کٹوتا اورآپسی شک کے ماحول میں مکمل ہوا ہے اس میں ان دونوں نئے بنے راجیوں کے لئے مستقبل کا راستہ تشویش بھرا دکھ رہا ہے۔چندر شیکھر راؤ کے حلف لینے کی تقریب میں سیماندھرا کے متوقعہ وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو کی غیر موجودگی دونوں راجیوں کے درمیان تنا تنی کے راستے کھول رہی ہے۔تلنگانہ کے سامنے ایک نیامسئلہ بقیہ راجیہ یعنی سیماندھرا پردیش کے ساتھ بہتر تال میل بیٹھانے کا ہے۔ یہ تال میل اس لئے بہت ضروری ہے کیونکہ حیدر آباد کو10 سال تک دونوں راجیوں کی مشترکہ راجدھانی رہنا ہے۔یہ ٹھیک نہیں کہ ملازمین جائیداد،آبی ذرائع وغیرہ کے بٹوارے کو لیکر چندر شیکھر راؤ کی جانب سے غیر رواداری کے رویئے کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔یہ وقت سمجھداری سے کام کرنے کا ہے تاکہ دونوں ہی راجیوں کے مفاد کا تحفظ ہوسکے اور دونوں ہی راجیوں کے لوگوں کی امیدیں پوری ہوسکیں۔اس کیلئے شانتی ،استقلال کے ساتھ ساتھ اچھے انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ میں برسر اقتدارآئی ٹی آر ایس کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت کو آندولن کری رویئے کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا۔ ہمارے سامنے عام آدمی پارٹی کی 49 دنوں کی دہلی سرکار کی مثال ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پہلے کی منموہن سنگھ سرکار بھی دونوں حصوں میں آئی تلخی کے لئے خاصی ذمہ دار ہے اور اس کا بھرپور خمیازہ اس نے گذشتہ عام چناؤ میں چکایا بھی ہے۔راجیہ کی گدی بھی اس چناؤ میں کانگریس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ تلنگانہ راجیہ کے مسئلے پر کانگریس نے جو وویک ہین راجنیتی کا کھیل کھیلا اس نے اس کے پاؤں یکدم ہی اس راجیہ سے اکھڑ گئے ہیں۔ آندھرا کے آدھی صدی سے وجود میں جس پارٹی نے چار دہوں تک حکومت چلائی ہے اس نے اس بار اس کی حالت سچ مچ ہی قابل رحم ہے۔ کون نہیں جانتا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے تلنگانہ کو الگ راجیہ بنانے میں اپنے وقار تک کو داؤ پر لگادیا تھا۔ سونیا گاندھی کی وجہ سے ہی آزادی سے ہی چل رہی الگ تلنگانہ کی مانگ پوری ہوپائی اور نئی ریاست میں کانگریس کو اس عام چناؤ میں کل دو پارلیمانی سیٹیں ہی مل سکیں۔ سیماندھرا میں تو کانگریس کا نام لیوا تک ہی نہیں بچا ہے۔ تلنگانہ قیام کے بعد کانگریس میں اپنی پارٹی کوشامل کرنے کا وعدہ کرنے والے چندر شیکھر راؤ تک پلٹی مار گئے ہیں۔ حیرت نہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ بھی کیندر کی مودی سرکار کے چکر کاٹتے دکھیں۔ یہ امید کی جانی چاہئے کہ چندر شیکھر راؤ کی سرکار عوام کی امیدوں پر پورا اترے گی اور کسی بھی طبقے کی جانب سے گری ہوئی سیاسی مفاد کو اہمیت نہیں دے گی۔ ہم چندر شیکھر راؤ اورا ن کی پارٹی ٹی آر ایس کو بدھائی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

رسی جل گئی پر بل نہیں گیا!

بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں تاریخی ہار کے بعد بھی کانگریس پارٹی کے ہائی کمان کا نہ تو اہنکار ختم ہوا ہے اور نہ ہی صحیح طرح سے آتم چنتن ہی ہوا ہے۔ جہاں پارٹی کارکن کانگریس کی زبردست ہار کے بعد بلک رہے ہیں وہیں کانگریس صدر سونیا گاندھی بیٹے کی محبت کی وجہ سے پارٹی میں کوئی بدلاؤ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔جن گھسے پٹے چہروں کو لوک سبھا چناؤ میں جنتا نے ٹھینگا دکھا دیا انہیں فلاپ پیادوں کے سہارے سونیا پارٹی کو پھر سے کھڑا کرنے کی امید پالے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ لوک سبھا چناؤ نتائج کے بعد کانگریس نائب صدر راہل گاندھی پر حملے تیز ہورہے ہیں۔ اب راجستھان کے ایک کانگریس ممبر اسمبلی بھنور لال نے راہل گاندھی پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ وہ جوکروں کی ٹیم کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں ان کے پاس نہ تو دشا ہے اور نہ ہی کوئی نیتی۔ اس سے پہلے راہل کو جوکر کہنے والے کیرل کے سابق وزیر ٹی ایم مصطفی کو کانگریس سے معطل کیا جاچکا ہے۔ بھنور لال شرما نے کہا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو بیٹے کی محبت چھوڑ کر پارٹی کو لوک تانترک طریقے سے مضبوط کرنا چاہئے۔ شرما نے کہا کہ راہل اور ان کے صلاحکار پارٹی کی شرمندگی اور چناؤ ہار کے لئے سیدھے ذمہ دار ہیں کیونکہ ان کا نہ کوئی جن آدھار ہے اور نہ ہی ان میں راجنیتک سمجھ ہے۔ راہل ان جوکروں کی ٹیم کے ایم ڈی ہیں لیکن پارٹی کسی کی بھی نجی جائیداد نہیں ہے۔ وہ تین لوگ راہل کو صلاح دیتے ہیں جو زمینی حقیقت نہیں جانتے۔ نام پوچھنے پر شرما نے کہا کہ کون جوکر نہیں ہے؟ دگوجے سنگھ اور سی پی جوشی نے کافی صحیح بیان دئے ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چناوی ہار کے بعد منتھن کا کیا فائدہ؟ منتھن تو ٹکٹ تقسیم سے پہلے ہونا چاہئے تھا لیکن ٹکٹ بٹوارے کا اہم کام ایسے عوامی زمین نہ رکھنے والے نیتاؤں کو ہی سونپ دیا گیا ۔کانگریس سے نکالے جانے کی تشویش کو خارج کرتے ہوئے ڈاکٹر شرما نے کہا کہ سچائی بتانا ضروری تھی اور پارٹی کی کارروائی سے کوئی فرق ان پر نہیں پڑتا۔’’ہر ہاتھ شکتی ۔ ہر ہاتھ ترقی ‘‘ والے پارٹی کے نعرے کی کھلی اڑاتے ہوئے کہا جارہا ہے ’’کہ ایک ہاتھ شکتی اور ہائی کمان کی ترقی‘ ‘۔ اسے ہی کہتے ہیں رسی جل گئی پر بل نہیں گیا۔ پارٹی کارکنان کا کہنا ہے کہ اب بھی ہائی کمان کو عقل نہیں آئی تو کانگریس کو پھر سے کھڑا کرنے میں کڑی مشقت کرنی پڑے گی۔ کانگریس سے موصول خبروں سے لگتا ہے کہ نائب صدر پر ہورہے حملوں کو پارٹی توجہ دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ وہ یہ کوئی گمبھیر مدعا نہیں ہے۔ریاستی اکائیاں اس سے نپٹ لیں گی۔ وہیں تاملناڈو میں کانگریس میں مچے اندرونی گھماسان کو شانت کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔29 مئی کو سابق وزیر خزانہ کے بیٹے کیرتی چدمبرم، سابق ممبر پارلیمنٹ کے۔ایس الاگیری اور پی چدمبرم کے کئی دیگر حمایوں نے الزام لگایا کہ تاملناڈو میں پارٹی کی جو ہار ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ نیترتو ٹھیک سے کام نہیں کررہا تھا۔ انہوں نے پی چدمبرم پر سیدھا الزام لگایا کہ کانگریس کی ہار کی ایک بڑی وجہ چدمبرم ہیں جو مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ چناؤ میں کراری ہار کی وجہ سے کانگریس میں راہل گاندھی کو نشانے پر لئے جانے کے بعد اب پارٹی صدر سونیا گاندھی پر بھی حملہ ہوا ہے۔بہار میں کشن گنج سے ممبر پارلیمنٹ اسرارالحق نے نیترتو کے کام کاج کے طریقوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی صدر سونیا گاندھی کو جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری سے ملاقات نہیں کرنی چاہئے تھی۔اس ملاقات کا صحیح پیغام نہیں گیا، ہر طرف غلط پیغام گیا اور اس کی وجہ سے مسلم ووٹ الٹے بنٹ گئے۔ہمیں شک ہے کہ پارٹی لیڈر شپ ان تنقیدوں کو سنجیدگی سے لے گی اور لیپا پوتی کرکے سبھی تنقیدوں کو دبادیا جائے گا۔ جیسے میں نے کہا رسی جل گئی پر بل نہیں گیا۔
(انل نریندر)

03 جون 2014

اترپردیش میں اکھلیش سرکار ہے یا جنگل راج؟

بہوجن سماج پارٹی سپریمو مایاوتی نے صحیح ہی کہا ہے کہ پورے اترپردیش میں جب سے سماجوادی پارٹی کی سرکار آئی ہے تب سے اغوا، چوری اور قتل و بلاتکار کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ایس پی کے مافیا کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ یوپی میں راشٹرپتی ساشن لگایا جانا چاہئے۔ اترپردیش میں جنگل راج چل رہا ہے جہاں نہ تو کوئی قانون و انتظام نام کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی کوئی سرکشا ہے۔ آئے دن بلاتکار، ڈکیتی، قتل ہوتے رہتے ہیں۔ پردیش میں آئے دن ہورہے بلاتکار کے واقعات پر اکھلیش سرکار نے ایک بے تکا بیان دیا ہے۔امور داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ پردیش میں روزانہ 10 بلاتکار کا اوسط ہے اس لئے بلاتکارکی روزانہ ہورہی گھٹنائیں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ محکمہ داخلہ کی پریس کانفرنس میں شکروار شام آئی جی ایس ٹی ایف آشیش کمار گپتااخباری نمائندوں کو مخاطب کررہے تھے۔ ان سے بدایوں ضلع کے اسیہٹ تھانہ علاقے میں بدھوار کو پیر پر پھانسی سے لٹکی پائی گئی دو دلت کشوریوں سے بلاتکار کے بعدقتل پر سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ جواب دیا۔ غور طلب ہے کہ اسیہٹ تھانہ علاقے میں کٹرہ گاؤں میں دلت ذات کی 14 اور15 سال کی لڑکیاں رفع حاجت کے لئے گاؤں سے باہر گئی تھیں۔ دونوں چچیرے بہنوں کے گھر نہ لوٹنے پر گھروالوں نے رات بھر ان کی تلاش کی لیکن بدھوار صبح ایک باغ میں آم کے پیڑ کی ایک ڈالی پر پھانسی سے لٹکی دونوں لڑکیوں کی لاشیں ملیں۔جب مکھیہ منتری اکھیلیش یادو سے کانپور میں ایک خاتون صحافیہ نے ان سے سوال کیا کہ یوپی میں خواتین محفوظ کیوں نہیں ہیں؟تو جانتے ہیں اکھلیش نے کیا جواب دیا؟ وہ بولے: آپ کو تو کوئی خطرہ نہیںیہاں پر؟صحافیہ نے جواب نہ میں دیا تواکھیلیش پھر بولے دھنیہ واد اب آپ یہ بات سب کو بتائیے۔اعظم گڑھ میں بھی ایک دلت نابالغ لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ سرائے میر علاقے میں جمعرات کی رات چار لوگوں نے17 سال کی لڑکی کو اغوا کر اس سے گینگ ریپ کیا۔عام چناؤ میں کراری شکست کے بعد بھی اکھلیش سرکار ہوشیارنہیں ہے۔ ملائم جتنی سرکار کے اقبال کی پیروکاری کرتے ہیں ریاست اتنا ہی جنگل راج کی طرف بڑھ رہی ہے۔بدایوں ضلع میں دو دلت بیٹیوں کے ساتھ بلاتکار کے بعد دل دہلا دینے والے قتل اور پیڑ سے لٹکا دینے کی واردات کے بعد پردیش کے قانون و انتظام کی بابت بات کرنے کو شاید ہی کچھ بچا ہو۔دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا یہ واقعہ راجیہ کے ماتھے پر ایسا کلنک کا ٹیکا چھوڑ گیا ہے جس کی کالک شاید ہی مٹے۔خاص کر تب جب ہمیشہ یادو نامی ملزموں کو سپاہی پکڑ کر بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ روہیل کھنڈ سماجی سطح پر ہی بہت سمویدن شیل مانا جاتا ہے۔یہ گھٹنا وہاں کی سماجک برابری کو کیسے توڑ مروڑ سکتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔پورے دیش میں خواتین کی حفاظت اور وقار پر چھڑی بحث کے درمیان اترپردیش کو اتم بنانے کا دعوی کررہے اکھیلیش یادو کی سرکار کس منہ سے کہہ سکتی ہے کہ مودی سرکار سے ہماری سرکار بہتر رہنے کی امید ہے؟ چناؤ میں ووٹ کو اگر کھو چکی جنتا اس جنگل راج کے خلاف قانون اگر اپنے ہاتھ میں لینے لگی تو سرکار کاایک دن بھی ٹک پانا مشکل ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

دفعہ370 :نیتاؤں کے نہیں عوام کے فائدوں پر بحث ہو!

چناؤ پرچار کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ دفعہ370 کا جواز اور جموں وکشمیر پر پڑ رہے اس کے برے اثر پر بڑے پیمانے پر بحث ہونی چاہئے۔ اب سرکاربنانے کے فوراً بعد وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت اور کشمیر کے اودھم پور سے ممبر پارلیمنٹ جتیندر سنگھ کے ایک بیان نے دفعہ 370 کے وجود اور جواز پر بڑی بحث کا آغاز کردیا ہے۔ ان کے بیان کے فوراً بعداس دفعہ کی حمایت اور مخالفت میں تمام ردعمل آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں عمر عبداللہ یہ کہہ کر اپنی حدیں پار کرتے دکھے ہیں کہ 370 کے ہٹنے کے بعد کشمیر بھارت کا حصہ نہیں رہے گا۔ عمر عبداللہ کے اس تبصرے پرسنگھ کے پروکتا رام مادھو نے صاف کردیا کہ دفعہ370 کے ہٹنے یا نہ ہٹنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ جموں و کشمیر ہمیشہ سے بھارت کا حصہ رہا ہے اور آگے بھی رہے گا۔ کیا عمر اسے (جموں و کشمیر) کو اپنی خاندانی جائیداد سمجھتے ہیں؟ بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نریندر مودی سرکار بنتے ہی اس متنازعہ مدعے کو اٹھانا ٹھیک نہیں ہے۔ بیکار تنازعات میں پھنسنے کا کوئی مطلب نہیں ہے لیکن دوسری جانب سینئر کانگریسی نیتا اور راجیہ سبھا سانسد و جموں وکشمیر کے مہاراجہ ڈاکٹر کرن سنگھ بھی دفعہ370 کے مکمل تجزیئے کے حمایتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کافی وقت گزر چکا ہے اور اب اس دفعہ کا تجزیہ ضروری ہے۔ یہ سبھی طبقوں،فریقین اورسیاسی پارٹیوں کے درمیان احتیاط اور تعاون سے ہونا چاہئے۔جہاں تک دفعہ370 کا سوال ہے جو طاقتیں اس دفعہ کو ہٹانا چاہتی ہیں ان کا نظریہ ہے کہ اس کے ہٹتے ہی جموں و کشمیر کے الگ قانون اورجھنڈے کاوجود ختم ہوجائے گا اور کشمیر دیش کی دیگر ریاستوں کی طرح بھارت کی ایک ریاست بن جائے گا جس سے وہاں وکاس اور ترقی کے نئے دروازے کھل جائیں گے۔ حالانکہ دیش میں ایک بڑے طبقے کا ماننا ہے کہ اس دفعہ کی افادیت غیر افادیت پر بحث ہونی چاہئے۔ اگر غیر جانبدارانہ طور پر بھی دیکھا جائے تو کسی تنازعے میں کسی قابل قبول نتیجے پر پہنچنے کا راستہ بات چیت اورچرچہ ہی ہوسکتا ہے۔اگر ہم اس پر چرچا ہی نہیں کریں گے تو جموں و کشمیر میں اس دفعہ کے فائدے اور نقصان کا اندازہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ جہاں تک 370 کی قانونی حیثیت کا سوال ہے مخالف اور حامی بالکل متضاد ترک دیتے ہیں۔ اسے ہٹانے کے حمایتیوں کا ترک رہتا ہے کہ خود جواہر لال نہرو نے اسے غیر مستقل انتظام بتایا تھا جبکہ عمر اور محبوبہ جیسے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دفعہ بھارت کو جموں و کشمیر سے جوڑنے کا ایک ذریعہ ہے۔بہرحال سیاسی نفع نقصان سے الگ اٹھ کر زمینی حالات یہ ہی بتاتے ہیں کہ اس دفعہ کی وجہ سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو فائدہ کم نقصان زیادہ ہوا ہے۔ میں تاریخ میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ اس میں دونوں دھڑوں کے اپنے اپنے ترک ہیں۔ آج کے حالات میں میری رائے میں یہ ضروری ہے کہ پرانے سوالوں سے باہر نکل کر جموں وکشمیر کی جنتا کو اس دفعہ کے فائدے اور نقصان سے متعارف کرایا جائے۔ ایسا تبھی ہوگا جب اس کی افادیت پر گمبھیر بحث ہوگی۔ یہ بات سمجھ سے پرے ہے کہ دفعہ370 ہٹانے کی مانگ فرقہ وارانہ کیسے ہے؟ یہ ہندو مسلمان کا نہیں بلکہ بھارت اور جموں وکشمیر کے بیچ کا معاملہ ہے۔ امید ہے کہ اس بحث کو آگے بڑھایا جائے اور جموں و کشمیر کے عوام کا دھیان رکھا جائے نیتاؤں کا نہیں۔
(انل نریندر)

01 جون 2014

گنگا کو نرمل بنانے کے فیصلے کا سواگت ہے!

ہمیں اس بات کی بیحد خوشی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے چناؤ پرچار میں جو وعدہ کیا تھا کہ ہم گنگا کی صفائی کریں گے اس سمت میں عہدہ سنبھالتے ہیں کام شروع کردیا ہے۔ مرکزی فروغ پانی، ندی، وکاس اور گنگا سدھار منتری اوما بھارتی نے کہا ہے کہ وہ گنگا کی بنا روک نرمل اورصاف شفاف دھارا کو لیکر پرعہد ہیں۔عہدہ سنبھالنے کے بعد بدھوار کو اوما بھارتی نے کہا کہ وہ گنگا کو صاف بنانے کی ذمہ داری ملنے کو اپنی زندگی کا سب سے اہم دن مانتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجہ بھاگیرتھ کے بعد نریند مودی اب گنگا کے ادارک کی بھومیکا نبھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلے 15 دنوں کے اندر اس بات کا پتہ لگائیں گی کہ گنگا ۔ جمنا سمیت سبھی ندیوں کو پردھوشن سے پاک بنانے کے نام پر اب تک کتنا پیسہ خرچ کیا گیا ہے۔ وارانسی سے لوک سبھا چناؤ جیتنے والے مودی نے 2019ء گنگا کی صفائی مشن کو پورا کرنے کے لئے گنگاکی بحالی وزارت خصوصی طور سے بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ندیوں کا دیش ہے۔ آبی وسائل وزیر مملکت گنگوار نے بھی کہا ہے کہ گنگا ندی ان کی دلچسپی کا موضوع ہے اور وہ اس کے لئے 19-19 گھنٹے کام کرکے ایک مفصل پروجیکٹ تیار کریں گے جس کا خلاصہ 15 دن کے اندر کردیا جائے گا۔ جہاں ہم شری مودی اور ان کے وزیروں کے بیانوں کی سراہنا کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ آبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کام بہت مشکل ہے۔ گنگا کو نرمل بنانے کے لئے جمنا سمیت اس کی سبھی معاون ندیوں کو بھی نرمل بنانا ہوگا۔ اعدادو شمار گواہی دیتے ہیں کہ پچھلے دو دہوں کے دوران گنگا اور جمنا کو آلودگیسے پاک بنانے کے نام پر اب تک ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن اتراکھنڈ کے بعد ان دونوں ندیوں کا پانی بناصاف کئے پینے کے قابل بھی نہیں بچا ہے۔گنگا کوآلودگی سے پاک بنانے کے نام پر اب تک12 ہزار کروڑ راور جمنا کے نام پر بھی21 سال میں4 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ قومی دریا تحفظ اسکیم کے تحت 20 ریاستوں کے 166 شہروں سے گزرنے والی 37 اہم ندیوں کوآلودگی سے پاک بنانے کے نام پر بھی 4392 کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔گنگوار نے بتایا کہ گنگا کے بارے میں بڑے پیمانے پراسکیمیں بنانی ہوں گی۔ جس میں ماہرین کی ٹیم کو بھی لگایا جائے گا کیونکہ ابھی تک کہ کام کاج سے یہ اندازہ بھی لگایا جاتا ہے کہ گنگا پر سبھی سرکاروں نے کام تو کیا لیکن اس کے حقیقی نتیجے سامنے نہیں آئے اس لئے اس بار صحیح ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گنگا پر کیا کام ہوا ہے اس کا اندازہ اسی سے لگالینا چاہئے کہ 100 سالوں کے انترال میں کوئی بھی سیٹلائٹ سروے نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے ہری دوار میں رام رحیم نامی سنستھا کے ذریعے گنگا پر کام کرنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر نشانے کے تئیں سچی لگن ہو تو کوئی بھی ناممکن کام پورا ہونے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ گنگا پر پرانے وقت میں نہ صرف زندگی منحصر رہتی تھی بلکہ یہ ندی باربرداری کا ذریعہ بھی تھی۔لیکن ہماری فوقیت پہلے نرمل دھارا کی ہے بعد میں دوسرے کام ہوں گے۔ ساتویں بار بریلی پارلیمانی علاقے سے چنے جانے والے گنگوار نے کہا کہ یہ ہمارے دیش کا دربھاگیہ ہے کہ گنگا پر جو کام ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ندیوں نے اپنی دھارائیں بدل لیں۔ڈرینج نہیں ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اٹل جی کی ندی جوڑو اسکیم ڈریم پروجیکٹ رہی ہے۔ عدالت روک لگنے سے پورا نہیں ہو پایالیکن اب وہ رکاوٹیں بھی دور ہوگئی ہیں اور وزیر اعظم سے مشورے کے بعد اس اسکیم پر جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ مودی نے سابرمتی کا بھی کایا کلپ کیا ہے اور گجرات کے ان کے تجربے کو دیکھتے ہوئے یقین ہے کہ گنگا سمیت دیش کی دوسری ندیوں کو بھی سواریں گے۔
(انل نریندر)

اسمرتی ایرانی بی ۔اے یا بی کام:حلف نامے سے اٹھے کئی سوال

وزیر انسانی فروغ اسمرتی ایرانی کی تعلیمی لیاقت کو لیکرشروع ہوئی بحث نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ اسمرتی ایرانی کو لیکر جو تنازعہ کھڑا ہوا ہے وہ دو نقطوں پر ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیافروغ انسانی وسائل جیسی اہم وزارت کے لئے اسمرتی ایرانی سب سے اہل چناؤ ہیں؟دوسرا سوال ان کے ذریعے حلف نامے میں الگ الگ جانکاریوں کا ہے۔ جس منترالیہ کو کبھی مولانا ابوالکلام آزاد، ہمایوں کبیر، ڈاکٹر ترگن سین، پروفیسر نور الحسن و ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی جیسے اہل عالموں نے سنبھالا نریندر مودی نے یہ محکمہ ایسی نیتا کے حوالے کیا ہے جو بہت ہی ہلکے پھلکے ٹی وی سیریلوں میں اداکاری کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔سمجھنا مشکل ہے کہ ایک اداکارا کو تعلیم کا یہ محکمہ کیوں ؟ وہ بھی کیبنٹ کے درجے کے ساتھ؟تعلیم کے میدان میں ان کا سیدھا کوئی یوگدان نہیں ہے۔وہ خود بھی بہت تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔سرکاری طور پرتعلیم کی کوئی بندش ہمارے ممبران پارلیمنٹ یا وزیروں پر تو لاگو بھی نہیں ہوتی۔ وہ دیش کے اتنے بڑے سماج کے سیدھے سمپرک میں رہتے ہیں۔ ان کے مسائل کو سمجھنے اور سلجھانے میں ان کا کردار بغیر روایتی تعلیم کے بھی اہم ہوجاتا ہے لیکن دیش کا وزیر تعلیم دیش کو تعلیم کی نیتی اور مختلف پروجیکٹ کے نرمان اور ان کو چلانے میں سیدھا تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے یہ وزارت ایسے شخص کو ہی دی جائے جو گریجویٹ بھی نہ ہو، صحیح فیصلہ نہیں مانا جاسکتا۔ بہتر ہوتا کہ اسمرتی ایرانی کو چائلڈ ویلفیئر یا خواتین سے متعلق وزارت دے دی جاتی۔ دوسرا تنازعہ زیادہ گمبھیر ہے۔سال2004 اور2014 کے لوک سبھا چناؤ میں اسمرتی کے ذریعے دئے گئے حلف نامے میں سے پہلے میں انہوں نے خود کو بی۔ اے بتایا جبکہ دوسرے میں انہوں نے خود کو بی کام فرسٹ بتایا ہے۔ سال2004ء کے لوک سبھا چناؤ میں اسمرتی نے چاندنی چوک سے کپل سبل کے خلاف چناؤ لڑا تھا۔انہوں نے نومینیشن پیپر میں اپنی تعلیم بی ۔اے تک بتائی تھی ، جو1996 میں پوری ہوئی جبکہ حالیہ چناؤ میں امیٹھی سے راہل گاندھی کے خلاف چناؤ لڑنے کے دوران داخل حلف نامے میں انہوں نے اپنی تعلیمی لیاقت بی۔کام فرسٹ ایئر بتائی جو سال1994ء میں کارسپونڈینس کورس سے کررہی تھیں۔اس سے صاف ہوتا ہے کہ اسمرتی کے دونوں حلف نامے صحیح نہیں ہوسکتے۔ کانگریس پارٹی ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے2012ء میں ایک فیصلے میں کہا تھا کہ حلف نامے میں غلط جانکاری پر نامزدگی رد ہوسکتی ہے۔ کانگریس اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔سیاسی حملے کے علاوہ اندرونی طور پر تیاری یہ بھی ہورہی ہے کہ معاملے کو کورٹ میں لے جایا جائے۔کون اور کب کورٹ میں لے کر جائے اس پر کئی جگہ چرچائیں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اسمرتی ایرانی نے 2004ء کے چناؤ میں خود کو گریجویٹ بتانے کا 2014ء کے چناؤ میں گریجویشن فرسٹ ایئر بتانے کا ایفی ڈیوڈ دیکر دیش کو گمراہ دیا ہے ، دھوکہ دھڑی کی ہے۔ یہ جرم ہے؟ اسی اینگل کو لیکر کورٹ میں جانے پر کچھ لوگ وچار کررہے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی نیتاؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی بھی یہ سب سونگھنے کی کوشش میں ہے۔آخر راہل گاندھی کے خلاف لڑنے اور برابری کی ٹکر دے کر پوری کانگریس کی نیند حرام کرنے والی نیتا کے خلاف کچھ نہ کچھ تو ہوگا ہی؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...