31 دسمبر 2016

نوٹ بندی کے 50 دن:کیا کھویا کیا پایا۔۔۔2

15.4 لاکھ کروڑ روپئے مالیت کے 500-1000 کے پرانے نوٹوں میں قریب14 لاکھ روپئے واپس بینکوں میں جمع کرائے جاچکے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر کو 500-1000 کے نوٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا تب حکومت کو امید تھی کہ نوٹ بندی کے اس فیصلے سے اسے کئی محاذ پر فائدہ ہوگا۔ امید یہ تھی کہ کالی کمائی کی شکل میں رکھے گئے کم سے کم 3 لاکھ کروڑ روپئے مالیت کے پرانے نوٹ واپس نہیں ہوں گے۔ ایسا ہونے پر ریزرو بینک آف انڈیا حکومت کو اچھا خاصہ فائدہ دیتی لیکن یہ امید پوری ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ بینکوں میں جمع نوٹ کی مقدار سے ایسا لگتا ہے کہ لوگوں نے کالے دھن کو سفید کرنے کا راستہ نکالنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اب سرکار اس بات پر خوش ہوسکتی ہے کہ اسے2.5 لاکھ روپئے کی حد سے اوپر جمع ہوئے روپیوں پر بھاری بھرکم ٹیکس ملے گا۔ حکومت کو ایک اور فائدہ اس لحاظ سے بھی نظر آرہا ہے کہ گھروں میں رکھی گئی چھوٹی موٹی بچت کی رقم بینکوں میں آجانے سے معیشت کو مضبوطی ملے گی۔ نوٹ بندی کے اعلان کو بدھ کے روز 50 دن ہوگئے ہیں۔ ان 50 دنوں میں 14 لاکھ کروڑ سے زائد نوٹ بینکوں میں واپس آچکے ہیں یعنی 91 فیصد سے زیادہ جبکہ اس دوران صرف 6 لاکھ کروڑ روپئے کے پرانے نوٹ سسٹم میں موجودہ ہونے کا دعوی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دیش قطاروں میں کھڑا ہوا ہے۔ میڈیا میں ایک سروے شائع ہوا ہے اس میں 1300 سے زیادہ دیہات میں زیادہ تر لوگ فیصلے کی حمایت میں دکھائی دئے لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ 50 دن بعد بھی ان کی مشکلیں جوں کی توں ہیں۔ کیش لیس اکنامی کی طرف بڑھنے کے سرکاری دعوے بھی کمزور نکلے۔ ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے ایم پی سی آئی کے اعدادو شمار کی مانیں تو نومبر میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشن 15 فیصد گھٹا ہے۔ حالانکہ اے ٹی ایم جیسی کمپنیاں300 فیصد اضافے کی بات کررہی ہیں۔ بات کالے دھن کی کریں تو اس دوران محکمہ انکم ٹیکس نے 678 چھاپے مارے ۔ اس میں 3600 کروڑ روپے کا ہی کالا دھن پکڑا۔ نوٹ بندی کی سب سے زیادہ متاثر ہماری دیہاتی سرزمین ہے۔ پانچ ریاستوں کے 1310 گاؤں میں سروے سے پتہ چلا ہے 61 فیصد دیہات میں اے ٹی ایم نہیں ہے۔ 86 فیصد گاؤں میں سوائپ مشین نہیں ہے۔ کیش لیس ٹرانزیکشن انٹر نیٹ سہولت پر منحصر ہے۔ بھارت میں کل 26 فیصد علاقے میں انٹرنیٹ سہولت ہے۔ دہلی میں انٹرنیٹ کا تجربہ ہے کہ یہ کتنا چلتا ہے ،کس اسپیڈ پر چلتا ہے، یہ سب کو پتہ ہے۔ اس لئے جب شہروں میں یہ سہولت ٹھیک نہیں ہے تو دیہات میں کتنی کارگر ہوگی آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی۔ غیر ملکی چھوٹے سرمایہ کاروں کی،8 نومبر کے بعدسے اکویٹی مارکیٹ میں تقریباً 10 ارب ڈالر یعنی 68 ہزار کروڑ روپئے کی فروختگی کرچکے ہیں۔ یہ 2013ء کے بعد دو مہینے کی میعاد میں ان کی طرف سے ہوئی سب سے بڑی فروختگی میں ایک ہے۔ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد بینکنگ سسٹم میں نئے نوٹ آتے رہنے کے باوجود اے ٹی ایم کے باہر لوگوں کی لائن چھوٹی نہیں ہوپارہی ہے کیونکہ کچھ کرپٹ بینک منیجر اور افسر کالی کمائی کو سفیدکرنے میں لگے ہیں۔ ان بینکروں نے بلیک منی والوں کا ساتھ دینے کے لئے کئی طرح کے ہتھکنڈے اپنائے۔ صحیح کسٹمر کی پہچان چرانا، کئی گراہکوں کی طرف سے جمع کرائے گئے پین کارڈ اور شناختی کارڈ جیسے دستاویزوں کا استعمال چوری چھپے لین دین میں کیا گیا۔ اے ٹی ایم کے پیسے کی ہیرا پھری، بینک حکام نے اے ٹی ایم سروسز ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اے ٹی ایم کے لئے بھیجے گئے نوٹوں (نئے)کے ذریعے کالے دھن کو سفید کیا ہے۔ جن دھن کھاتوں کا غلط استعمال،ہر بینک میں 10سے15فیصدی جن دھن کھاتوں کا استعمال کالے دھن کو سفید کرنے میں ہوا۔ ایسا کرنے والے بینکر اب سی بی آئی کے نشانے پر ہیں۔ ڈیمانڈ ڈرافٹ کی جعلسازی، بینک افسران نے کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے جن طریقوں کا سب سے زیادہ استعمال کیا ان میں ایک یہ بھی ہے ۔ کمیشن خور کیشئروں نے کمیشن لے کر پرانے نوٹوں کو نئے نوٹوں میں بدل دیا۔ زیادہ تر دیہی علاقوں میں بینک گئے غریب اور ناخواندہ لوگوں کو ٹھگا گیا۔ فرضی کھاتے کھولے گئے۔ کچھ معاملوں میں جن ایماندار اکاؤنٹ ہولڈروں کی آئی ڈی پروف بینکروں کے ہاتھ لگے، ان کے نام پر کھاتے کھول کر اس کے ذریعے پیسے میں ہیرا پھیری کی۔ نوٹ بندی کے بعد بینکوں نے کالادھن کے بدلے نئے نوٹ بدلنے میں شادی کے ہتھیار تک کا استعمال کیا۔ شادی کا کارڈ ڈالتے ہی 2.50 لاکھ روپئے بدل گئے۔ اس کے لئے الگ الگ آئی ڈی کا استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ قرضہ کے لئے جمع فارم میں لگائے گئے آئی ڈی کابیجا استعمال کیا گیا۔ کچھ بینک افسر۔ ملازمین نے 25سے30 فیصد کمیشن کے لالچ میں گھر تک نئے نوٹ پہنچانے کا استعمال کیا تھا۔ سب سے زیادہ دھاندلی ایکسیس بینک کی 10 برانچوں میں کی گئی۔ اس دوران کئی تنازعہ کھڑے ہوگئے۔ نوٹ بندی پر وزیر اعظم سے وضاحت کی مانگ پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو نہیں چلنے دیا اور دیش کو کروڑوں روپئے کا نقصان ہوا۔ ادھوری تیاریوں کے الزامات کے ساتھ ریزرو بینک کے بار بار نئے حکم جاری کرنے سے بینک کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ۔ انٹر نیشنل کریڈٹ ایجنسیوں نے ہندوستان کی ترقی شرح گرنے کی بات کہی۔ بھاجپا ممبر اسمبلی ایک ویڈیو میں کہتے ہوئے دکھائی دئے کہ مرکزی سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے کے بارے میں دو بڑے صنعت کاروں کو پہلے سے معلومات تھی۔ حالانکہ بعد میں وہ اس بیان سے مکر گئے۔ ہمارے خاندان میں دادا جی سے لیکر مجھ تک یہی روایت رہی کہ ہمیشہ جنتا کے مفادات میں آواز اٹھاؤ، وہ بھی بغیر کسی لاگ لپیٹ کے۔ میں نے ایسا ہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ میں نے پہلے دن سے جن مقاصد کو لیکر نوٹ بندی کی گئی تھی ان پر اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ دیش میں بلیک منی بند ہو، کالے دھندے بند ہوں، کرپشن ختم ہو لیکن ان طریقوں سے شاید ہی کامیابی ملے؟ اگر ہمیں ان مقاصد کو پانا ہے تو کئی قدم اٹھانے ہوں گے اور سرکار کے سامنے کئی چیلنج ہیں۔ ان میں 95 کروڑ ہندوستانیوں کے پاس اب بھی انٹرنیٹ نہیں پہنچ سکا، انٹر نیٹ رفتار کے معاملے میں بھی بھارت 3.5 ایم وی پی ایس کے ساتھ عالمی رینکنگ میں 113 ویں مقام پر ہے۔ نئے نوٹوں کی چھپائی کے باوجود درکار تعداد میں نقدی عام لوگوں تک نہیں پہنچ پارہی ہے۔ آر بی آئی کے تخمینہ اقتصادی ترقی کی شرح 7.6 سے 7.1 پر آچکی ہے۔ ایشیائی ڈیولپمنٹ بینک نے بھی ترقی شرح میں کمی بتائی تھی۔ ایسوچیم2017ء تک موبائل جعلسازی میں 65 فیصدی بڑھنے کا اندیشہ جتایا ہے۔ سرکار کے سامنے دھوکہ دھڑی کو روکنا بڑی چنوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مارچ 2016ء تک دیش میں صرف 53 فیصدی لوگوں کے ہی بینک کھاتے تھے۔ پورے دیش کو بینک سے جوڑنا ہوگا۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ نوٹ بندی کے 50 دن میں دیش نے کیا کھویا پایا۔(ختم)
(انل نریندر)

30 دسمبر 2016

نوٹ بندی کے 50 دن: کیا کھویا کیا پایا۔۔۔1

زیادہ ترا شوز پر ہم نے حکومت کا تب ساتھ دیا ہے جب ہمیں لگا کہ اس سے دیش کو فائدہ ہوگا اور جنتا کے مفاد میں ہے۔ جب ہمیں لگا کہ اس اشو سے دیش کی عوام کو نقصان ہوگا تو ہم نے سرکار کی مخالفت کی ہے۔ ہم عوام کو جوابدہ ہیں نہ کہ کسی سیاسی پارٹی یا اس کی سرکار کو۔ ایک صحافی کا پہلا فرض ہے کہ وہ عوام کی آواز اٹھائے اس لئے ہم نے اس کالم کا نام رکھا ہے ’’آج کی آواز‘‘ 8 نومبر کو جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈیمونیٹائزیشن یعنی ’نوٹ بندی‘ کا اعلان کیا تھا تبھی سے مجھے لگا کہ یہ جن مقاصد کے لئے اٹھایا گیا ہے وہ شاید ہی اس قدم سے پورے ہوں۔ وزیراعظم نے8 نومبر کو کہا تھا کہ جنتا مجھے 50 دن دیں اس کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا۔ نوٹ بندی کے 50 دن آج پورے ہوگئے ہیں۔ ان 50 دنوں کا لیکھا جوکھا دیکھنا ضروری ہے۔ پہلے ان 50 دنوں کی کامیابیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہزاروں کروڑ روپئے کی غیر اعلانیہ آمدنی کا پتہ اب دیش کو لگ چکا ہے۔ حوالہ کاروباریوں اور ٹیکس چوروں کے لئے مشکلیں زیادہ بڑھی ہیں۔ پرانے نوٹوں کے ردی ہونے اور دہشت گردوں و نکسلیوں کی فنڈنگ پر لگام لگی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد اکیلے چھتیس گڑھ سے نکسلیوں کے 7 ہزار کروڑ روپئے کا پتہ چلا ہے۔ مرکزی سرکار کے مطابق نوٹ بندی کے بعد سے 400 کروڑ روپے کے نقلی نوٹوں کا کاروبار بند ہوا ہے۔ دیش کیش لیس معیشت کی جانب بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ دوکانوں میں پی آئی او ایس مشینوں کی مانگ بڑھی ہے۔ 300فیصد نقدی بینکوں میں بڑھی ہے، بینکوں کے پاس 2.5 لاکھ کروڑ کا جمع پیسہ جو اب 7 لاکھ کروڑ سے زیادہ ہوگیا ہے، کالا دھن ،دہشت گردی اور کرپشن وہ تین نقطہ تھے جن پر 8 نومبر کی رات 8 بجے اپنی تقریر کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کالی کمائی پر بڑا حملہ کرے گی۔ 50 دن کے بعد بھی جنتا کو بینکوں اور اے ٹی ایم سے نقدی نہیں مل پا رہی ہے۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے کہا کہ نوٹ بندی سے نہ کالا دھن ختم ہوا ہے اور نہ ہی کرپشن۔ پی ایم نے کہا تھا کہ 30 دسمبر تک سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن 50 دن گزرنے کے بعد بھی حالات ٹھیک نہیں ہوئے۔ ترنمول کانگریس کی ممتا بینرجی نے کہا کہ پی ایم نے50 دن مانگے تھے کیا اب وہ استعفیٰ دیں گے؟ ان 50 دنوں میں دیش 20 سال پیچھے چلا گیا ہے۔ نوٹ بندی کے کئی سائیڈایفیکٹ ہوئے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادونے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ایک کر نوٹ بندی کے 16 سائڈ ایفیکٹ گناتے ہوئے لکھا نوٹ بندی سے جہاں22 کروڑ لوگوں کی نوکری چھن گئی ہے وہیں دیش میں سینکڑوں اموات ہوئی ہیں۔ وہیں دیش کی معیشت چوپٹ ہوگئی ہے۔ کاروبار ختم ہے۔ کاروباری پریشان ہیں اور کسان مزدور و غریب پریشانی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا دیش میں غیر منظم سیکٹر میں کام بند ہونے سے لاکھوں لوگوں کا روزگار خطرے میں ہے اور پیداوار ، کھپت اور سرمایہ کاری میں بھی بھاری کمی آئی ہے۔ معیشت ٹھپ ہے اور خوردہ کاروباری مرنے کے دہانے پر ہیں۔ آر جے ڈی چیف نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ نقدی کی شکل میں استعمال ہونے والا ہر نوٹ کالا دھن نہیں ہوتا۔ زیادہ تر وہ پیسہ ہے جس پر ٹیکس دیا جا چکا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا نوٹ کا رنگ بدلنے اور سائز بدلنے سے نہ تو کالا دھن ختم ہوگا اور نہ ہی کرپشن۔ موجودہ سرکار نے 3 کروڑ روپے کے جعلی نوٹ ختم کرنے کے لئے42 ہزار کروڑ کے نئے نوٹ چھاپ کر دیش پر خرچ لاد دیا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت میں صرف 4 فیصدی کالا دھن نقدی میں ہے بلکہ 96 فیصدی کالے دھن کو چھپانے کے لئے نوٹ بندی کا ناٹک کیا گیا۔ جس دن سے دیش میں نوٹ بندی ہوئی ہے اسی دن سے دیش کا ہر طبقہ کسی نہ کسی طرح سے متاثر ہوا ہے۔ کسانوں کی حالت بہت باعث تشویش ہے۔ کسانوں کے آلو1 روپیہ، ٹماٹر 2 روپیہ، آنولہ 3 روپیہ فی کلو کے بھاؤ سے منڈیوں میں بیچنے کو کسان مجبور ہیں۔ اس کے چلتے کسان اپنے آلو ، پیاز کو روڈ پر پھینک رہے ہیں کیونکہ اس کی لاگت ان کون ہیں مل پا رہی ہے۔ بھارت کی معیشت 30فیصد دھیمی ہوگئی ہے۔ کاروباری طبقہ خالی پڑا ہوا ہے۔ کسان و مزدور کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پورے دیش میں بے روزگاری بڑھی ہے۔ خاندان کے ساتھ راجگیری کرنے آئے بہار کے محمد نعیم کی نوٹ بندی کے بعد دہاڑی عادی رہ گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوٹ بندی کے بعد حالت یہ ہوگئی ہے کہ لیٹر دودھ کی جگہ آدھا لیٹر دودھ ہی لے رہا ہوں ۔ کھلے پیسے بہت کم بچتے ہیں۔ پہلے مہینے میں 25 دن کام ملتا تھا جو اب10 دن تک محدود ہوگیا ہے وہ بھی لوگ ادھار پر کام کرا رہے ہیں۔ سبھی یہ کہہ کر دہاڑی روک لیتے ہیں کہ پیسہ نہیں نکل پارہا ہے ، کل لینا۔ نئی دہلی علاقہ میں ایک دہاڑی کا کام کرنے والے دوسرے شخص اروند نوٹ بندی کا ذکر آتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمارا تو اس نوٹ بندی نے سب کچھ لوٹ لیا ہے۔ یہ سمجھئے کہ بھوکے مرنے کی نوبت آگئی ہے۔ ہر دن800-1000 روپے کماتا تھا۔ مزدوری سے بیٹی کی شادی کی، بیٹا انجینئرنگ کررہا ہے ایک بیٹی بی۔ ایڈ کررہی ہے اب حالت یہ ہے بیٹی کی 10 ہزار فیس اور مکان کا 4 ہزار روپئے کرایہ دینا بھی مشکل ہے۔ پورے دن میں 200 کا بھی کام نہیں ملتا۔ شکر پور کے باشندے منک جو چائے بیچتے ہیں ،بتاتے ہیں نوٹ بندی نے ابتدائی دور میں میرا دھندہ بہت متاثر کردیا تھا حالات ابھی بھی ایسے ہی ہیں ۔ کام گھٹ کر400 روپئے یومیہ سے 150 پر آگیا ہے۔ مکان کا کرایہ دینا بھی بھاری پڑ گیا ہے۔ مشن کنج کے پاس خوانچہ لگانے والے رام پرساد پٹیل کہتے ہیں کہ نوٹ بندی کے بعد نقدی نکالنے اور کھلے پیسوں کے لئے بہت پریشان ہوں۔ نقدی نکالنے کے لئے صبح چار بجے سے قطار میں لگیں گے تو دوپہر بعد نمبر آتا ہے۔ کسی طرح ادھار لیکر یا بچوں کی گلک سے پیسے نکال کر گھر کا کام چلا رہا ہوں۔(جاری)
(انل نریندر)

29 دسمبر 2016

نوٹ بندی کے بعدبسپا کے کھاتے میں کروڑ روپئے کا مسئلہ

انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے نوٹ بندی کے بعد بہوجن سماج پارٹی کے کھاتے میں 104 کروڑ روپئے اور پارٹی چیف مایاوتی کے بھائی آنند کمار کے کھاتے میں 1.43 کروڑ روپے جمع ہونے کے خلاصہ سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچنا فطری ہی تھا۔ یہ رقم یونائیٹڈ بینک آف انڈیا کے کھاتوں میں جمع کرائی گئی۔ قرولباغ میں واقع بینک برانچ کے سروے کے دوران ای ڈی کو اس بات کی جانکاری ملی۔ ای ڈی کے مطابق نوٹ بندی کے بعد ان دونوں ہی کھاتوں میں کثیر تعداد میں پرانے نوٹ جمع کرائے گئے۔ جمع رقم میں 102 کرور روپئے 1000 کے وٹ اور باقی 500 روپئے کے پرانے نوٹ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں اور ہر دن 15 سے17 کروڑ روپئے اس کھاتے میں جمع کرائے جاتے رہے۔ ہر دوسرے دن رقم جمع ہونے سے افسر بھی حیران ہیں۔ جانچ ایجنسی نے بسپا چیف مایاوتی کے بھائی آنند کمار کے اسی برانچ میں ایک اور کھاتے کا پتہ چلا ہے۔ اس میں 1.43 کروڑ روپئے جمع ہیں۔ اس میں 18.98 لاکھ روپئے نوٹ بندی کے بعد پرانے نوٹوں کی شکل میں جمع کرائے گئے۔ پورے معاملے پر مایاوتی نے کہا یہ ساری رقم ورکروں سے ملے چندے کی تھی۔ اسے پارٹی نے انکم ٹیکس محکمہ اور ٹیکس قواعد کے تحت عام کارروائی کو پوری کرتے ہوئے جمع کرایا تھا۔ اس پیسے کو گھوٹالہ کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔ نوٹ بندی کی مخالفت کرنے کے سبب ہی یہ سازش رچی جارہی ہے۔ 
یہ بی جے پی کی دلت مخالف ذہنیت ہے۔ مایاوتی نے منگل کو لکھنؤ میں کہا کہ چناوی وعدہ خلافی اور نوٹ بندی کے سبب ہورہی ہار سے دکھی مرکزی سرکار کے لوگ انتظامی مشینری کا بیجا استعمال کر بسپا اور اس کی لیڈر شپ کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ چینلوں، اخبارات کے ذریعے بسپا کے ذریعے بینک میں جمع کرائی گئی رقم کے بارے میں جو خبر آئی ہے وہ بسپا نے اپنے قاعدوں کے مطابق ہی اکٹھا کی۔ ممبر شپ فیس کو ایک باقاعدہ کارروائی کے تحت ہمیشہ کی طرح بینک میں جمع کرایا ہے۔ سابق وزیر اعلی نے بھاجپا پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس میعاد میں بسپا اور آنند کمار کے کھاتوں میں پیسہ جمع ہونے کی بات کہی جارہی ہے اسی دوران بھاجپا سمیت دیگر پارٹیوں نے بھی اپنی رقم بینکوں میں جمع کرائی ہے لیکن ان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی میڈیا میں خبر آتی ہے۔ مایاوتی کی طرف سے صفائی پر مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے کہا کہ دلت نیتا ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے کرپشن کا اختیار مل گیا ہو۔ وہیں بھاجپا نیتا اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مایاوتی نوٹ بندی کی مخالفت کیوں کررہی ہیں اس کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے۔
(انل نریندر)

غیر ملکی اکنامک ریٹنگ ایجنسی کی نظر میں نوٹ بندی

ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی خود اعتمادی سے لبا لب ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ یہ گلاس جو آدھا خالی ہے اس خالی حصے کی ہوا کو بھی بھارت کی بھولی جنتا کو بیچ سکتے ہیں۔ پانی کو بیچ دیں گے اور ہوا کو بھی۔ نوٹ بندی سے کالا دھن تو ختم ہونے سے رہا لیکن مودی جی نوٹ بندی کو جنتا میں کامیاب کر کے دکھانے کی کوشش ضرور کررہے ہیں۔یہی ان کیا سیاسی فن ہے۔ کالا دھن ختم نہیں ہوگا لیکن وہ اسے ختم ہوتا دکھا رہے ہیں۔ لوگوں کو راغب کرنے کی ان کا مارکٹنگ فن اندرا گاندھی، نہرو سے بھی کئی معنوں میں لاجواب ہے۔ کیونکہ 56 انچ کی چھاتی کے راشٹرواد سے وہ سنگھ پریوار کے تام جھام، ماں کی ممتا، تیا گ کا پرچار اور سوشل میڈیا کے ایسے فائدے ہیں جو کسی سابقہ وزیر اعظم کو نہیں حاصل تھے۔ پورے معاملے کاجادو منتر یہ ہے کہ اگر مارکٹنگ ٹھیک ہے تو سونا ، کوئلہ بنا دیں گے او کوئلہ سونا ۔ غریب کی سفید نقدی کالی ہوگئی ہے اور امیر کے کالے نوٹ سفید ہوں گے۔ تب بھی مودی مودی کے نعرے ان کی ریلیوں میں لگیں گے۔ بھارت کی عوام کی جیب خالی کردی لیکن مودی جی کی تقریر فن اور لاجواب ہمت کا غیر ملکی فائننشیل سروسز پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ہندوستان کی اقتصادی حیثیت کو بڑھانے کو تیار نہیں ہے۔ یعنی کالے دھن کے خلاف ان کے ذریعے اٹھائے گئے نوٹ بندی اور دوسرے اقدامات پر ابھی دنیا کے نامور اقتصادی ادارے کوئی فیصلہ نہیں دیناچاہتے بلکہ انہیں اس کے اثرات کا انتظار ہے۔اس کے برعکس سرکار بے چین ہے۔ اس کی عالمی اقتصادی پوزیشن کی مانیتابڑھے اور سرمایہ کاری آئے۔ موڈیز نے 16 نومبر کو لکھے اپنے خط میں صاف کہا ہے کہ حکومت ہند کی کوششوں سے ابھی وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا جس کی بنیاد پر ریٹنگ بہتر بنائی جاسکے۔ موڈیز دیش پر لمبے قرض اور بینکوں کی بری مالی حالت کو کمزور ریٹنگ کی وجہ مانتی ہے۔ اس نے جائزہ پیش کیا ہے کہ بینکوں کے 136 ارب ڈالر ڈوب رہے ہیں اور سرکار کا قرض بھلے ہی گھٹا ہو لیکن اس کا سود کافی بڑھ گیا ہے۔ فائننشیل سروسز دینے والی گلوبل فرم مارگن اسٹین لی کا ماننا ہے کہ نوٹ بندی سے انڈین اکنامی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ اگر سرکار کرپشن کو روکنا چاہتی ہے تو اس کے لئے نوٹ بندی ناکافی ہے۔ کرپشن کو روکنے کے لئے سرکار کو دوسرے قدم اٹھانے ہوں گے۔ مارگن اسٹین لی کے مطابق بحران کے وقت میں ہی نوٹ بندی کا استعمال ہوتا ہے اور اس میں دو رائے نہیں ہے کہ نوٹ بندی کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2016

اٹل جی کی شخصیت عہدے سے ہمیشہ بالاتر رہی ہے

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی دیش کی سیاست کے نایاب لوگوں میں سے ہیں جن کی شخصیت کا قد ان کے عہدے سے ہمیشہ اونچا رہا ہے۔ اٹل جی کثیر خوبیوں کے مالک شخصیت کے دھنی ہیں۔ ایک منجھے ہوئے سیاستداں ،مثالی منتظم اور ادیب ، کوی ،پختہ نظریات کے عوام کے ہیرو ہیں۔ جن کے لئے آج بھی لوگوں میں عزت اور محبت ہے۔ اٹل جی کو بچپن سے ہی ادیب اور صحافی بننے کی تمنا تھی۔ پڑھائی پوری کرنے کے بعد اٹل بہاری واجپئی نے صحافت میں اپنا کیریئر شروع کیا۔ انہوں نے راشٹر دھرم، پانجنہ اور ویر ارجن اخبارات کو ایڈٹ کیا۔ اپنی باصلاحیت طریقہ کار سے سیاست کے ابتدائی دنوں میں ہی انہوں نے اپنا رنگ جمانا شروع کردیا تھا۔ اٹل جی سے میرے اچھے رشتے اور روابط رہے ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ اقوام متحدہ (امریکہ) انڈونیشیا جانے کا فخرحاصل ہوا۔ اکثر میں ان سے ملتارہتا تھا۔ اگر انہیں میرا کوئی اداریہ پسند نہیں آتا تو وہ فون کرکے اپنی نا اتفاقی کا اظہار کر دیتے۔ عوام اور ان کے پریمی ان کی طبیعت اور موجودہ حالات کے بارے میں اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں۔ 25 دسمبر کوان کی 92 سالگرہ پر کافی گہما گہمی رہی۔ صبح صبح وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا صدر امت شاہ سمیت پارٹی کے کئی بڑے نیتا انہیں مبارکباد دینے پہنچے۔ وی وی آئی پی آمدورفت کے سبب پورا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل تھا لیکن وہیں اسے دیکھ کر اٹل جی ہر آنے جانے والے کو نظریں ٹکا کر دیکھتے رہے لیکن چاہ کربھی کچھ نہیں کہہ پا رہے تھے۔ افسوس جس شخصیت کی آواز کی ساری دنیا قائل تھی اس آواز نے ہی ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اٹل جی کئی سال سے علیل ہیں اور بستر پر ہیں ۔ صرف اشاروں میں بات کرتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے ضرور جانناچاہتے ہیں کہ وہ کیسے دکھائی دیتے ہیں، کیا کھاتے ہیں ، کیا پہنتے ہیں، چل پھر پاتے ہیں یا نہیں، پہچان پاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 2004 ء لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کی ہار کے کچھ مہینے بعد ہی سے اٹل بہاری واجپئی سیاسی پس منظر سے تقریباً غائب ہوگئے ہیں۔ بڑھاپا اور بیماری کے چلتے وہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں اپنے گھر پر ہی رہنے کو مجبور ہیں۔ اٹل جی کے ساتھ سائے کی طرح رہنے والے شیوکماران کی دیکھ بھال میں لگے ہیں۔ صبح اٹھ کر اٹل جی ہر روز کسرت کرتے ہیں۔ انہیں چار ڈاکٹروں کی ٹیم صبح ایکسرسائز کرواتی ہے ۔ اس کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں ناشتہ میں دلیہ، دودھ ، بریڈ اور جوس دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ وہ خود سے نہیں چل پاتے انہیں اٹھانے بٹھانے کے لئے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہیں گھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے وہیل چیئر کی مدد لی جاتی ہے۔ شیو کمار کے مطابق اٹل جی اب بہت کم بولتے ہیں لیکن ان کا انداز آج بھی وہی ہے۔ وہ اب بھی ٹھہراؤ کیساتھ کوئی بات کہتے ہیں۔ زبان لڑکھڑاتی ہے اس لئے زیادہ اپنی باتیں اشاروں میں کرتے ہیں۔ پوری زندگی سیاست میں کھپا دینے والے اٹل بہاری واجپئی عمر کے اس پڑاؤ میں بھی دیش ۔ دنیا کے حالات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ شیو کمارنے بتایا کہ پچھلے سال تک وہ اخبارات پڑھ لیا کرتے تھے لیکن اب کمر اور نظر دونوں ہی انہیں یہ عادت چھوڑنے پر مجبور کر چکی ہے۔ ناگزیں سیاست زندگی میں ہمیشہ مشکل اور آسان راستہ ڈھونڈنے والے اٹل جی نے دیش دنیا کے حالات سے واقف رہنے کا راستہ بھی نکال لیا ہے۔ وہ اب ٹی وی اسکرین پر کوئی اچھی خبر دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے پر ایک سادگی بھری مسکان دکھائی پڑتی ہے۔ اٹل جی کا حال چال پوچھنے والوں میں لال کرشن اڈوانی، راجناتھ سنگھ شامل ہیں۔ اکثر وہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ اڈوانی جی ان کے پاس آکر گھنٹوں بیٹھتے ہیں۔ اٹل جی کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کئی بار تو وہ اٹل جی کی نگرانی والے ڈاکٹروں سے بھی بات کرتے ہیں یہ ہے اٹل جی کے دن کی شروعات ۔ اٹل جی کی صحت کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

جاتے جاتے اوبامہ نے اسرائیل کو دیا جھٹکا

امریکہ کے نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل حمایتی لابی کے زبردست دباؤ کے باوجود اوبامہ انتظامیہ نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اس ریزولوشن کو منظور ہونے دیا جس میں اسرائیل کے ذریعے متنازعہ علاقے میں بستیوں کی تعمیر کرنے کی مذمت کی گئی تھی۔ امریکہ پر اس مذمتی ریزولوشن کو ویٹو کے ذریعے روکنے کا دباؤ تھا۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مانگ کی ہے کہ وہ فلسطینی علاقے سے ناجائز طور پر بنی یہودی بستیوں کو ہٹائے۔بھاری دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے امریکہ نے اسرائیل سے فلسطینی علاقے سے ناجائز بستیاں تعمیرکرنے سے روکنے کی مانگ کرنے والے ریزولوشن پر اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل میں اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرنے سے بچتے ہوئے اسے پاس کرنے کی کونسل کو منظوری دے دی۔یہ اہم ترین لمحہ ہے جب امریکہ نے اپنے ویٹو پاور کا استعمال نہیں کیا اور نہ ہی ووٹنگ میں حصہ لیا۔ سکیورٹی کونسل کے اس ریزولوشن کی مخالفت اسرائیل کے علاوہ امریکہ کے نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کررہے تھے۔ ٹرمپ نے اس ریزولوشن پر رد عمل ظاہرکرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا : اقوام متحدہ کے لئے 20 جنوری کے بعد حالات بدل جائیں گے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سامنتھا پارکر کا کہنا ہے کہ ناجائز یہودی بستیاں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ملکوں میں مسئلے کے حل میں روڑا بنی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان ناجائز یہودی بستیوں کو ناجائز قرار دیا ہے اور یہاں ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر بڑھی ہے۔مغربی کنارے کی ناجائز یہودی بستیوں میں ابھی 430000 سابقہ یروشلم میں 2 لاکھ یہودی رہ رہے ہیں اور فلسطین مشرقی یروشلم کو مستقبل کی راجدھانی کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ اس درمیان اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل اقوام متحدہ میں اسرائیل مخالف اس شرمناک ریزولوشن کو مسترد کرتا ہے اور اس پر تعمیل نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوبامہ انتظامیہ اقوا م متحدہ میں اس جماوڑے سے اسرائیل کی حفاظت کرنے میں نہ صرف ناکام رہا بلکہ اس نے پردے کے پیچھے سانٹھ گانٹھ کی ہے۔ دفتر نے کہا کہ اسرائیل (امریکہ) کے نئے منتخب ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی میں ہمارے سبھی دوستوں کے ساتھ کام کرکے اس بے تکے ریزولوشن کے نقصاندہ اثرات کو ختم کرنا چاہے گا۔ ووٹنگ سے دو دن پہلے ہی ایک اسرائیل افسر نے امریکہ پر اسرائیل کو منجھدار میں چھوڑنے کا الزام لگایا تھا۔ دراصل امریکہ اگر ویٹو اختیار کا استعمال کرتا تو ریزولوشن مسترد ہوجاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امریکہ کا یہ قدم اس کے قریب ترین ساتھی اسرائیل کو ڈپلومیٹک پھٹکار والا قدم مانا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2016

کیا نجیب جنگ کے ہٹنے سے دہلی کی جنگ ختم ہوگئی

ایک نیک نیت اچھے انسان نجیب جنگ نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے سہ استعفیٰ دے کر سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ نجیب جنگ نے اپنے استعفے کے لئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے ۔ وہ وزیر اعظم سے ملے بھی لیکن لگتا ہے ان کا عہدہ چھوڑنے کا پکا ارادہ ہے۔ مودی سرکار نے ڈھائی سال کے عہد میں یوپی اے سرکار کے ذریعے مقرر زیادہ تر گورنروں کو بدل دیا لیکن دہلی میں نجیب جنگ برقرار رہے اور دہلی حکومت سے ان کی جنگ بھی جاری رہی۔ ایل جی آفس سے جاری بیان کے مطابق جنگ واپس اپنے تعلیمی میدان میں لوٹ جائیں گے۔ انتہائی قریب ترین ذرائع کے مطابق تذکرہ ہے کہ مرکز میں اعلی لیول سے ہٹنے کیلئے کہاگیاتھا۔ کئی بار آپ سرکار کے خلاف زیادہ ہی سرگرمی بھاجپا اور مرکز کے مسئلے ان کے لئے مصیبت بن گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے نجیب کے بی جے پی اور آر ایس ایس میں رشتے نہ کے برابر تھے۔ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی بھی ان پر کانگریس کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔ اگلے برس دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ ہونے ہیں۔پچھلا اسمبلی چناؤ بری طرح ہار چکی بھاجپا کے کئی لیڈر کافی وقت سے نجیب جنگ کو ہٹوانا چاہتے تھے۔ وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجیب جنگ کا اچانک یوں استعفیٰ دینا کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔ بنیادی سوال ہے دہلی حکومت اور مرکز کے اختیارات کا۔ مسٹر کیجریوال کے بہت سے فیصلے اس لئے جنگ صاحب نے روکے کیونکہ آئین جس طرح سے یہ فیصلے لیا گیا اس کی اجازت نہیں دیتا۔ دہلی انتظامیہ کی کمان کو لیکر کیجریوال کے ساتھ چلے شہ مات کے کھیل میں تب بڑی کامیابی ملی تھی جب دہلی ہائی کورٹ نے صاف کیا تھا کہ دہلی مکمل ریاست نہیں ہے اور لیفٹیننٹ گورنر ہی انتظامی چیف ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنی پچھلی سماعت میں یہ کہا ہے کہ دہلی سرکار کے پاس کچھ اختیار تو ہونے ہی چاہئیں جس سے وہ کام کرسکے، اس معاملے پر اگلی سماعت جنوری میں ہونی ہے۔ امید ہے کہ تب تک دہلی کو نیا لیفٹیننٹ گورنر مل جائے گا۔ ابھی کم از کم مزدوری اضافہ سلم پالیسی ، بس لین میں جرمانہ، محلہ کلینک اور ترقیاتی کام سمیت کئی فائلوں پر سفارش کے بعد اصلاح کرکے منظوری کے لئے بھیجنا تھا۔ اب ان اسکیموں میں دیری اور بڑے گی۔ جنگ نے تنازعوں کے درمیان ایک بار پھر پریس ریلیز جاری کرکے کہا تھا کہ وی کے شنگلو کی رہنمائی والی کمیٹی نے جو فائلیں پرکھی ہیں اس میں کئی طرح کی بے قاعدگیاں اور قاعدے قوانین کی خلاف ورزی ملی ہے۔ کچھ معاملوں کو سی بی آئی کو بھیجے جانے کے پروسس میں ہے۔ ایسے میں شنگلو کمیٹی نے 27 نومبر کو اپنی رپورٹ ایل جی کوسونپ دی۔ نئے لیفٹیننٹ گورنر کو اس کا فیصلہ کرنا ہوگا ساتھ ہی جو قریب 200 فائلیں راج نواس میں پڑی ہیں ان کا کیا ہوگا؟ ظاہر ہے دہلی ابھی آئینی عمل کی پوزیشن میں ہے۔ نئے لیفٹیننٹ گورنر کا کام کرنا ایک بڑی چنوتی ثابت ہوگی۔ 
(انل نریندر)

فی الحال نوٹ بندی کا نقصان۔ فائدہ کس کو

اگر ہم یہ کہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کرکے نہ صرف اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگادیا ہے بلکہ اپنی پارٹی کا بھی مستقبل کافی حد تک نوٹ بندی کی کامیابی پر ٹک گیا ہے۔گزشتہ دنوں میری ایک سینئر بھاجپا لیڈر سے بات ہورہی تھی پہلے تو وہ مودی جی کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے پھر مان گئے کہ بات اتنی آسان نہیں ہے، جتنی بتائی جارہی ہے۔ لمبی بحث کرتے ہوئے انہوں نے کچھ لمبی سانس لی ،بولے کہ ایسا ہے یہ سمجھ لو کہ مودی جی نے خود کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ساتھ ہی فی الحال پارٹی بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔آخر کار کہنے لگے کہ اچھا خاصہ معاملہ جما ہواتھا پی او کے میں سرجیکل اسٹرائک کا اثر سال بھر تک نہیں ختم ہونا تھا، اس کا فائدہ پارٹی کو ملتا۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ تو نمٹ جانے دیتے؟ اب اپنی امیج اور پارٹی دونوں کے لئے سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ دیش کے اندر جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں لیکن اب تو بیرونی ممالک میں بھی نوٹ بندی پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔ نوٹ بندی کا ونر فی الحال کون ہے؟ وہ جمع خور جنہوں نے اپنے جمع کئے ہوئے ہر نوٹ کو سفید کرلیا، کالے دھن کو سفید کرنے والے دلال، کرپٹ بینک ملازمین کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔ وہ بینک افسر جنہوں نے پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹوں کے بنڈل ٹیکس چوروں و کرپٹ افسروں کو دئے۔ یہ سارے عناصر خیالی طور سے کامیاب ہوئے اور انہوں نے عام طور پر یہ پکا کردیا کہ15,44000 کروڑ روپے کے رقم کا ہر ایک روپیہ بینکنگ سسٹم میں لوٹ جائے گا۔ ہارا کون؟ اوسطاً آدمی جسے اپنے ہی کھاتے کا پیسہ نکالنے کے لئے بار بار بینک جانے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔ وہ شخص جس کے پاس کچھ پرانے نوٹ تھے اور کسی بینک شاخ تک نہیں پہنچے تھے(دوری کے سبب) اور جسے کم قیمت پر اپنے نوٹ بدلنے پڑے۔ وہ گرہستن جسے تھوڑے پیسوں کے لئے ہاتھ پھیلانے پڑ گئے تاکہ وہ دن میں کم سے کم ایک بار خاندان کے کھانے کا انتظام کرسکے۔ وہ مریض جو پاس میں پیسہ نہ ہونے سے اپنا علاج نہیں کرا سکا۔ وہ طالبعلم جس کے پاس کھانے کے لئے قریب کے گرودوارے کے لنگر کا سہارا لینے کے سوائے کوئی سہارا نہ تھا، وہ کسان، جس کے پاس بیج یا کھاد خریدنے یا مزدور کو مزدوری دینے کے لئے پیسہ نہیں تھا اور اس طرح جس کی پیدوار ماری گئی۔ کالے دھن پر لگام کسنے کیلئے لئے گئے نوٹ بندی کے فیصلے پر دوسرے ممالک میں بھی بحث چھڑی ہوئی ہے۔کئی ممالک کے بڑے اخبارات نے اس پر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے بھارت میں غلط پالیسیوں سے بنتا کالادھن ، ظاہر طور پر بھارت میں ڈیمونیٹائزیشن ، کرپشن، دہشت گردی کی مالی مدد اور مہنگائی کو قابو کرنے کیلئے لاگو کی گئی تھی لیکن یہ بازار کے خراب حالات کی ادائیگی اور کم وقت کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی پالیسی ہے۔ اس کے ناکام ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کا اثر درمیانہ اور مختلف درمیانے طبقات کے ساتھ غربا کے لئے بھی درد بھرا ہے۔امریکہ کے سابق وزیر مالیات لارینس ایچ سمرس نے بھی اس فیصلے پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ قدم کرپشن روکنے میں بھی پوری طرح اہل نہیں ہے۔ دوسرے اخبار ’دی گارجین‘ نے لکھا ہے کہ بھارت میں لائن لگاکر پیمنٹ کے اس جگاڑ کا خیر مقدم کیا جارہا ہے یہ حیرت انگیز ہے ۔ ایک دوسرے اخبار ’فری ملیشیا‘ کے مطابق بھارت آنے والے سیاحوں کو بھی مودی سرکار کے اس قدم سے کافی پریشانی ہورہی ہے کیونکہ منی چینجرس نے نوٹ بندلنا بند کردیا ہے۔ سنگا پور کے مقامی اخبار ’دی اسٹیٹس ٹائم‘ کے مطابق وہاں پر کافی لوگ پرانے ہندوستانی نوٹوں کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن نہ تو بینک اور نہ ہی پیسہ بدلنے والے پرانی ہندوستانی کرنسی کو قبول کررہے ہیں۔ اخبار کے مطابق حکومت ہند کے اس قدم کا اثر صرف بھارت میں ہیں نہیں دیگر ممالک پر بھی پڑے گا۔ آخر میں نیپال کے اخبار ’کاٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق سینٹرل بینک، دی نیپال نیشنل بینک نے بھی بھارت میں بند ہوئے نوٹوں پر نیپال میں پابندی لگا دی ہے۔ اس کا اثر نیپال میں کاروبار میں بڑے پیمانے پر پڑ رہا ہے، کیونکہ وہاں ہندوستانی کرنسی بہت زیادہ چلن میں ہے۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2016

آخر کیوں ہے’’ تیمور‘‘ نام رکھنے پر اتنا وبال

سوشل میڈیا پر سیف علی خان اور کرینہ کپور کے بیٹے کے نام پر ہنگامہ ہورہا ہے۔ ویسے اپنے بچے کا نام کیا رکھنا ہے یہ تو ماں ۔ باپ و خاندان والوں کا حق ہے لیکن بچے کا نام عام طور پر ایسے آدمی کے نام پر نہیں رکھا جاتا جو کہ صرف اپنے ظلم کے لئے بدنام ہو۔ نام اور بھی رکھے جاسکتے ہیں مثال کے طورپر سکندر، علی، سلطان وغیرہ لیکن تیمور نام اپنی سمجھ میں تو نہیں آیا۔ کیونکہ فلمی ستاروں کی ہر چیز پبلک ہوتی ہے اس لئے سوشل میڈیا پر اس کی جم کر تنقید ہورہی ہے۔
تیمور لنگ آخر کون تھا؟ کیا اسکا نام کوئی اپنے بچے کا نہیں رکھتا جیسے کوئی راون، وبھیشن نہیں رکھتا؟سیف علی خاں اور کرینہ کپور نے اپنے بیٹے کا نام تیمور رکھا تو سوشل میڈیا پر یہ بڑی بحث کا موضوع یوں ہی نہیں بنا۔کئی لوگوں نے بیشک اسے دونوں کا شخصی معاملہ کہاتو کئی لوگوں نے اس بات پر اعتراض جتایا اور کہا کہ ایک ظالم حملہ آور کے نام پر بیٹے کا نام رکھنا غلط ہے۔ آخر تیمور نے بھارت میں ایسا کیا کیا تھا؟ تاریخ داں مانتے ہیں کہ چغتائی منگولوں کے خان تیمور لنگ کا ایک ہی سپنا تھا وہ یہ کہ اپنے آباؤ اجدادچنگیز خاں کی طرح ہی وہ پورے یوروپ اور ایشیا کو اپنے قبضے میں کرلے لیکن چنگیز خاں جہاں پوری دنیا کو ایک ہی سلطنت میں باندھنا چاہتا تھا تیمور کاارادہ صرف لوگوں پر دھونس جمانا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے فوجیوں کواگر لوٹ کا کچھ مال مل جائے تو اور بھی اچھا۔ چنگیزاور تیمور میں ایک بڑا فرق تھا۔ چنگیز کے قانون میں سپاہیوں کو کھلی لوٹ پاٹ کی مناہی تھی لیکن تیمور کے لئے لوٹ اور قتل عام معمولی باتیں تھیں۔ ساتھ ہی تیمور ہمارے لئے ایک بایوگرافی چھوڑگیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ان تین مہینوں میں کیا ہوا جب تیمور بھارت میں تھا۔ عالمی جیت کے چکر میں تیمور 1398 عیسوی میں اپنی گھوڑ سوار فوج کے ساتھ افغانستان پہنچا۔ جب واپس جانے کا وقت آیا تو اس نے اپنے سپہ سالاروں سے مشورہ کیا۔ ہندوستان ان دنوں کافی امیر مانا جاتا تھا۔ 
ہندوستان کی راجدھانی دہلی کے بارے میں تیمور نے کافی کچھ سنا تھا۔ اگر دہلی پر ایک کامیاب حملہ ہو تو لوٹ میں بہت مال ملنے کی امید تھی۔ تب دہلی کے شاہ نصیر الدین محمود تغلق کے پاس ہاتھیوں کی ایک بڑی فوج تھی۔کہا جاتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی ٹک نہیں پاتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ دہلی کی فوج بھی کافی بڑی تھی۔ تیمور نے کہا کہ بس تھوڑے ہی دنوں کی بات ہے اگر مشکل پڑی تو واپس آجائیں گے۔ منگولوں کی فوج سندھ ندی پار کرکے ہندوستان میں گھس آئی۔ راستے میں انہوں نے اسپندی نام کے گاؤں کے پاس پڑاؤ ڈالا۔ یہاں تیمور نے لوگوں پر دہشت پھیلانے کے لئے سبھی کو لوٹ لیا اور سارے ہندوؤں کو قتل کروا دیا۔ پاس ہی تغلق پور میں آگ کی پوجا کرنے والے ایزدیوں کی آبادی تھی آج کل ہم انہیں پارسی کہتے ہیں۔تیمور کہتا تھا کہ یہ لوگ ایک دھرم کو مانتے ہیں اس لئے ان کے سارے گھر جلا ڈالے گئے اور جو بھی پکڑ میں آیا اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پھر فوجیں پانی پت کی طرف نکل پڑیں۔ پنجاب کے سمانہ قصبہ اسپندی گاؤں اور ہریانہ کے کیتھل میں ہوئے خون خرابے کی خبر سن پانی پت کے لوگ شہر چھوڑ دہلی کی طرف بھاگے اور پانی پت پہنچ کر تیمور نے شہر کو تہس نہس کرنے کا حکم دے دیا۔یہاں بھاری تعداد میں اناج ملا جسے وہ اپنے ساتھ دہلی کی طرف لے گیا۔ راستے میں لونی کے قلعہ میں راجپوتوں نے تیمور کو روکنے کی کوشش کی۔ اب تک تیمور کے پاس کوئی ایک لاکھ ہندو بندھی تھے۔ 
دہلی پر چڑھائی کرنے سے پہلے تیمور نے ان سبھی کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ یہ بھی حکم ہوا کہ اگر کوئی سپاہی بے قصوروں کو قتل کرنے سے ہچکچائے تو اسے بھی موت کے گھاٹ اتا دیا جائے۔ اگلے دن دہلی پر حملہ کر نصیر الدین محمود کو آسانی سے ہرا دیاگیا۔محمود ڈرکر دہلی چھوڑ جنگلوں میں چلا گیا اور وہاں جا چھپا۔ دہلی میں جشن مناتے ہوئے منگولوں نے کچھ عورتوں کو چھیڑا تو لوگوں نے اس کی مخالفت کی ۔ اس پر تیمور نے دہلی کے سبھی ہندوؤں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر وا دیا۔ چار دن تک دہلی شہر خون سے رنگا گیا۔ اب تیمور دہلی چھوڑ کر ازبکستان کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں میرٹھ کے قلعہ دار الیاس کو ہرا کر تیمور نے میرٹھ میں بھی تقریباً 300 ہزار ہندوؤں کا قتل کروایا۔ یہ سب کرنے میں اسے محض 3 مہینے لگے اور ان تین مہینوں میں اس نے ہزاروں ہندوؤں ، مسلمانوں و پارسیوں کا قتل کروادیا۔ دہلی میں وہ 15 دن ہی رہا پر ان 15 دنوں میں اس نے دہلی کو اجاڑدیا۔ سینکڑوں عورتوں کا بلاتکار کرایا۔ اب آپ بتائیں کہ کوئی بھی سمجھدار شخص’’ تیمور‘‘ کے نام پر اپنے بچے کا نام رکھ سکتا ہے؟
(انل نریندر)