Translater

21 جنوری 2012

گجرات ہائی کورٹ نے لوک آیکت معاملے میں دیا مودی کو جھٹکا



Published On 21th January 2012
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو لوک آیکت معاملے میں یقینی طور سے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے سے جھٹکا لگا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے گورنر کی جانب سے لوک آیکت مقرر کرنے کو پوری طرح سے آئینی اور قانونی طور پر جائز ٹھہرایا ہے۔ لوک آیکت کی تقرری کو لیکر مودی حکومت کے ٹال مٹول کے بعد گورنر محترمہ کملا بینی وال نے پچھلے سال25 اگست کو ریٹائرڈ آر اے مہتہ کو ریاست کا لوک آیکت مقرر کیا تھا۔ گجرات میں نومبر 2003ء سے لوک آیکت کا عہدہ خالی پڑا تھا۔گورنر نے جسٹس مہتہ تو لوک آیکت قانون 1986 کی ضمنی دفعہ3 کے مخصوص اختیارات کا استعمال کرکے مقرر کیا تھا۔ 26 اگست کو گجرات حکومت نے ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ تین مہینے پہلے ہائی کورٹ نے منقسم فیصلہ دیا تھا۔ بدھوار کو تیسرے جج وی ایم سہائے کی عدالت نے اختلافی نقطوں پر سماعت کے بعد گورنر کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا تھا۔ دونوں فریقین کے وکیلوں کی رائے اپنے حساب سے رکھی گئی تھی۔ عقیل قریشی کا کہنا تھا کہ لوک آیکت کی تقرری صحیح اور آئین کے تحت ہے جبکہ سونیا بین گونکنی کا کہنا تھا کہ مہتہ کو لوک آیکت مقرر کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ اب معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ گجرات حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں پہنچ گیا۔ پچھلے سال پورے وقت دیش میں کرپشن پر روک لگانے کیلئے لوکپال قانون کی مانگ گونجتی رہی۔ اس شور و غل کے درمیان لوگوں کو یاد نہیں رہا کہ کئی ریاستوں میں کرپشن پر نظررکھنے کے لئے لوک آیکت نامی ایک ادارہ پہلے سے ہی قائم ہے۔ ہم نے گذشتہ دنوں بھی یہ دیکھا کہ لوک آیکت کیا کیا کرسکتے ہیں۔ اترپردیش میں لوک آیکت نے مایاوتی سرکار کا ناک میں دم کررکھا ہے اور نتیجے کے طور پر کئی وزرا ء کو باہرکا راستہ دکھانے پر مایاوتی مجبور ہوئیں یہ بات اور ہے کہ ریاستوں میں لوک آیکتوں کے وجود اور ان کے اختیارات وہاں کی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔کئی ریاستوں نے تو اتنے ہنگامے کے باوجود لوک آیکتوں کو اب تک ضروری نہیں سمجھا اور کچھ ریاستوں نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس عہدے کو بنایا تو لیکن اپنے حساب سے کاٹ چھانٹ کرتے ہوئے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے لوک آیکت کے معاملے میں پورے دیش میں ایک رائے سامنے آئے گی اور پارٹیوں کو مرکز بنام ریاست کی آڑ میں سیاست کرنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ گجرات کا نمونہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ گجرات بیشک اپنے صنعت اور کاروبار کے لئے سب سے معقول ریاست ہونے کا پروپگنڈہ کرتا رہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست پچھلے 8 برسوں سے لوک آیکت کے بغیر چل رہی تھی۔ وہاں کے گورنر اور وزیر اعلی کی چخ چخ کے بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ویسے بھی پچھلے کچھ عرصے سے لگتا ہے کہ نریندر مودی میں تھوڑا غرور آگیا ہے۔ یہ جھٹکا ان کیلئے بھی اچھا ہے۔ اب وہ تھوڑا زمین پراتریں گے۔ مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ گورنر نے ریاستی کیبنٹ کی توثیق کے بغیر لوک آیکت بنا کر ریاست کے اختیارات میں مداخلت کی ہے جبکہ 2-1 سے آئے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے میں وزیراعلی کے طریقہ کار کی بخیا ادھیڑی گئی ہیں۔ فیصلے میں مودی کی نکتہ چینی میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ ریاست میں لوک آیکت قانون میں تبدیلی لا کر چیف جسٹس کو ہی تقرری عمل سے ہٹانا چاہتے تھے۔ سچائی کیا ہے یہ تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن اندرونی طور سے ابھی دونوں فریق صحیح لگ رہے ہیں۔ بیشک گورنر مرکز کے نمائندے ہوتے ہیں اس لئے اپنی من مرضی ریاست کی منتخبہ سرکار پر نہیں تھونپ سکتے۔ مودی کو ان ریاستوں سے حمایت مل سکتی ہے جہاں غیر کانگریسی حکومتیں ہیں لیکن آج کی تاریخ میں کرپشن روکنے کے کسی بھی عمل کو روکنے کی کوشش جنتا کو نہیں پسند آئے گی۔ مودی کی لڑائی سیاسی ہے دائرہ اختیارات کے قبضے کا معاملہ ہے وہ کرپشن کو روکنے کے خلاف نہیں دکھانا چاہئے۔ دلچسپ یہ بھی ہے کہ جو بھاجپا مضبوط لوکپال کی وکالت کرتی نظر آتی ہے اور جس نے متعلقہ بل میں ایک ترمیم یہ بھی تجویز کی تھی کہ لوکپال کے انتخاب میں مرکزی حکومت کا رول کم کیا جائے۔ وہ اس بات کو لیکر ناراض رہی ہے کہ گجرات میں لوک آیکت کی تقرری ریاستی حکومت کی مرضی سے کیوں نہیں کی گئی۔ کیا پارٹی یہ چاہتی ہے کہ لوک آیکت کون ہو ، اور اس کے اختیارات کیا ہوں ، اس کا فیصلہ ریاستی حکومتوں کے اوپر چھوڑ دیا جائے؟ پھرکیا ایسا سسٹم کرپشن کو روکنے میں پائیدار ثابت ہوسکتا ہے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Lokayukta, Narender Modi, Vir Arjun

۔راہل کے بعد اب پرینکا بھی میدان میں اتریں



Published On 21th January 2012
انل نریندر
کانگریس کے نوجوان سکریٹری جنرل اور یووراج راہل گاندھی نے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں دن رات ایک کردیا ہے۔ اپنے مشن2012ء کو پورا کرنے کے لئے وہ کیا کچھ نہیں کررہے۔ راہل آج کل بندیلکھنڈ کے دورہ پر ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان کی ریلیوں میں بھیڑ کم آرہی ہے۔ پروآنچل کے مقابلے بندیلکھنڈ میں بھیڑ کا کم ہونا کانگریس کے لئے تشویش کا سبب ہے۔ بھاری تعداد میں خالی پڑی کرسیوں کو دیکھ کر کانگریس اعلی کمان اس لئے بھی فکرمند ہے کیونکہ نہ صرف بھیڑ کم آرہی ہے بلکہ راہل کو کئی جگہ مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے دنوں راہل مشرقی اترپردیش کے دورہ پر تھے۔ گورکھپور، اعظم گڑھ، مؤ اور بلیا میں اتنی بھیڑ اکھٹی نہیں ہوئی جتنی امید کی جارہی تھی۔ یوپی میں کانگریس کا سارا دارومدار سونیا گاندھی خاندان پر ٹکا ہوا ہے اس لئے تمام کانگریسی سینئر لیڈر اپنے خاندان کی ساکھ بچانے کے لئے گاندھی پریوار کے وقار کو آگے کرنے کی کوشش میں ہیں۔ بنیادی حقیقت کا حوالہ دیکر راہل گاندھی سے ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر بیان بازی کر چکے یہ لیڈر اب اسی اترپردیش کے چناؤ میں اپنا حکم کا اکا چلانے کیلئے میدان تیار کرنے میں لگ گئے ہیں۔ یہ حکم کا اکا ہے پرینکا گاندھی ودیڑا کی امیٹھی ، رائے بریلی سے باہر بھی ہر حال میں ریلی کرانے کے لئے سبھی بڑے نیتا اور مرکزی وزراء نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ دراصل اترپردیش کے سبھی کانگریسی لیڈر یہ مان رہے ہیں کہ ایک دو فیصدی ووٹ بھی اگر کانگریس کے حق میں چلے جائیں تو نتیجے پوری طرح بدل سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ووٹوں کا اتنا فیصد پلٹنے میں پرینکا پوری طرح اہل ہیں۔ پرینکا گاندھی ودیڑا کی سب سے بڑی کشش ان کی شخصیت مرحومہ اندرا گاندھی جیسی ہونا ہے۔ چناؤ مہم کے دوران جب وہ بات کرتے ہوئے مسکراتی ہیں تو پاس کھڑی عورتیں کہتی ہیں کہ بٹیا ایسے ہی مسکراتی رہنا۔ مسکان تم پر اچھی لگتی ہے۔ یہ مسکراہٹ ہی پرینکا کو اپنی دادی اندرا کی سب سے قریبی جھلک دکھاتی ہے۔ لوگ ان میں بہت کچھ اندرا گاندھی جیسا پاتے ہیں۔ چہرے کی بناوٹ ، ویسی ہی ناک اور پاور ڈریسنگ کا اسٹائل اندرا جی کے پرانے دنوں کی یاد دلاتا ہے۔ اگر کچھ الگ ہے تو وہ اس مسکراہٹ میں گال پر پڑنے والا ڈمپل ہے۔ بالی ووڈ کے بڑے ستارے جان ابراہم پرینکا کو دیش کی سب سے خوبصورت خاتون بتاتے ہیں۔ پارٹی چناؤ میں جب پرینکا اترتی ہیں تو سب سے پہلے اپنی دادی کو یاد کراتی ہیں۔ اندرا کی طرح ہی وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں۔ جب وہ کسی ریلی میں آرہی ہوتی ہیں تو وہاں بیٹھی جنتا کہتی ہے دیکھو اندرا جی آرہی ہیں۔ پرینکا نے پتہ نہیں انجانے میں یا سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اپنے بالوں کا اسٹائل بھی دادی اندرا کی طرح اپنایا ہوا ہے۔ راہل اور پرینکا دونوں کو دیکھنے بھیڑ آتی ہے لیکن سوال یہ ہے کیا جو لوگ ریلی میںآتے ہیں وہ کانگریس کے ووٹر ہیں؟ راہل کی کوششوں سے یوپی میں کانگریس کی حالت پہلے سے اچھی ہوئی ہے۔ اب پرینکا کے آنے سے یہ اور اچھی ہونے کی کئی کانگریسی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ کانگریس نے اپنی پوری طاقت چناؤ میں جھونک دی ہے۔ سونیا گاندھی ۔ راہل اور اب پرینکا دیکھیں ان کا ووٹروں پر کیا اثر پڑتا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Priyanka Gandhi Vadra, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Uttar Pradesh, Uttara Khand

20 جنوری 2012

پنجاب میں کانٹے کی ٹکر میں تیسرے مورچے کا کردار اہم ہوسکتا ہے


Published On 20th January 2012
انل نریندر
پنجاب کے نائب وزیر اعلی و شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے فاضلکا میں ایک میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے ورکروں اور لیڈروں کو ہدایت دی کہ وہ اکالی ۔ بھاجپا اتحاد کے امیدواروں کی پوری حمایت کریں۔ اتحاد کے امیدواروں کی حمایت نہ کرنے والوں کو پارٹی سے باہر کردیا جائے گا۔ وہ ایتوار کو فاضلکا میں بھاجپا امیدوار و وزیر ٹرانسپورٹ سرجیت جیانی کی حمایت میں ریلی کو خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے ساتھ ہی آزاد امیدواروں کو بھی خبردار کیا اور کہا کہ جو آزاد امیدوار ورکروں کو دھمکائیں گے ان سے پنجاب پولیس اور وہ خود نمٹنا جانتے ہیں۔بادل نے کہا کہ کانگریس صدر کیپٹن امریندر سنگھ دی ڈریم سنڈروم (دن میں خواب دیکھنا) سے متاثر ہیں۔ اس لئے وہ شرومنی۔ بھاجپا کو 33 سیٹوں تک محدودرہنے اور کانگریس کے کھاتے میں 75 سیٹیں آنے کا دعوی کررہے ہیں۔ لگتا ہے کیپٹن کو دن میں خواب دیکھنے کی بیماری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2002ء میں جب پنجاب میں کانگریس کی لہر تھی تب بھی اکالی بھاجپا اتحاد کو48 سیٹیں ملی تھیں اب تو حالات بالکل برعکس ہیں۔
پنجاب کے ووٹر 30 جنوری کو117 اسمبلی سیٹوں کے لئے ووٹ ڈالیں گے لیکن کونسی پارٹی یا اتحاد سرکار بنائے گی اس بارے میں نہ تو حکمراں شرومنی اکالی دل ۔ بھاجپا اتحاد ی پرامیدہے اور نہ ہی کانگریس ۔50 سال پہلے 1966ء میں ریاستوں کی تشکیل کے بعد سے پنجاب صوبے کے عوام نے کسی بھی سیاسی پارٹی کو مسلسل دوسری مرتبہ جتا کر پنجاب میں حکومت کی کمان نہیں سونپی ہے۔ پنجاب کا سیاسی ماحول اس کی پڑوسی ریاست ہریانہ سے میل نہیں کھاتا کیونکہ ہریانہ آیا رام گیا رام کے سبب پورے ملک میں بدنام ہوچکا ہے۔ وہاں سرکار بنانے کے لئے ممبران کی خریدو فروخت کا بھی ماحول نہیں ہے۔ چاہے کانگریس ہو یا اکالی اتحاد ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بار پنجاب میں اکالیوں کی چناوی نیا بھاجپا کے بھروسے ہے۔ ریاست میں بھاجپا کی حالت کافی پتلی ہے۔ اگر پارٹی پچھلی بار کے مقابلے میں آدھی سیٹیں بھی جیت پانے میں کامیاب رہتی ہے تو اکالی محاذ کی حکومت بن سکتی ہے۔ ویسے ریاست میں کرپشن ،کالی کمائی یا لوکپال چناوی اشو نہیں بن پائے ہیں۔تازہ جائزے کے مطابق کانگریس کے ساتھ اکالی۔ بھاجپا محاذ میں کانٹے کی ٹکرہے۔ اگر بھاجپا کو 10 سیٹیں بھی حاصل ہوگئیں تو اتحادی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔پچھلی مرتبہ بھاجپا کو19 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اس مرتبہ ایک دوسرا فیکٹر تیسرا مورچہ بھی ہوگا جسے سانجھہ مورچہ کا نام دیا گیا ہے۔ اکالی ۔ بھاجپا اتحاد اور کانگریس دونوں پارٹیوں کے لئے پنجاب کے سابق وزیر مالیات منپریت بادل ایک ایسی سیاسی شخصیت بن گئے ہیں جنہیں وہ نہ چاہ کر بھی اپنے کندھوں پر لادے اور اپنا اپنا سیاسی داؤ بنا رہے ہیں۔ منپریت بادل پرکاش سنگھ بادل کے بھتیجے ہیں اور سکھبیر کے چچیرے بھائی۔ انہیں اکتوبر2010ء میں وزیر مالیات و شرومنی اکالی دل سے برخاست کیا گیا تو انہوں نے اپنی پیپلز پارٹی آف پنجاب بنا لی اور تب سے وہ چناوی حکمت عملی میں لگے ہوئے ہیں۔ اس سانجھہ مورچے میں پیپلز پارٹی آف پنجاب، لیفٹ پارٹیاں اور چھوٹی موٹی پارٹیاں شامل ہیں۔ سانجھہ مورچے نے سبھی 117 سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور کئی سیٹوں پر مضبوط امیدوار بھی اتارے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پنجاب میں ابھی تک نہ تو بہوجن سماج پارٹی اور نہ ہی لیفٹ پارٹیوں کا کھیل بگاڑ سکے۔ بسپا کے بانی کانشی رام پنجاب کے ہی تھے اور یہاں دلتوں کی آبادی قریب 30 فیصد ہے۔ بہرحال مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی بھی سانجھہ مورچہ میں ہے۔ سانجھہ مورچہ آنے والے چناؤ میں کیا رول نبھاتا ہے اس کا پتہ تو چناؤ نتیجے ہی بتائیں گے لیکن کانگریس ۔ اکالی ۔ بھاجپا اتحاد کی کانٹے کی ٹکر میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔اور ہوسکتا ہے کہ تیسرا مورچہ کنگ میکر کے کردار میں سامنے آجائے؟
Akali Dal, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Punjab, State Elections, Vir Arjun

چھتیس برس کی نوکری،22 لاکھ تنخواہ اور 29 کروڑ کی املاک؟



Published On 20th January 2012
انل نریندر
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے دیش میں سیاستداں تو بلیک منی کے لئے ضرورت سے زیادہ بدنام ہیں اصل تو ناجائز کمائی افسر شاہوں کے پاس ہے۔ مدھیہ پردیش میں پچھلے کچھ عرصے سے افسر شاہی برادری پر چھاپے پڑ رہے ہیں۔ ان چھاپوں کے نتیجوں سے تو یہی لگتا ہے کہ لوگ جو سوچتے ہیں وہ صحیح ہے۔ نچلی افسرشاہی نے اتنی لوٹ کھسوٹ مچا رکھی ہے جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ منگلوار کو اجین میں لوک آیکت کی ٹیم نے پی ایچ آئی (عوامی صحت نگرانی محکمہ) کے ایک اسسٹنٹ انجینئر رمیش کمار ولد کندن لال دویدی کے گھر چھاپہ مارا اور تلاشی میں زرعی زمین، مکان، سونے چاندی کے زیورات ، لکژری گاڑیوں سمیت قریب20 کروڑ روپے کی املاک ہونے کے دستاویز ملے۔ لوک آیکت ایس پی ارون مترا نے بتایا کہ دویدی کی 1976 میں ڈپٹی سکریٹری کے عہدے پر نوکری لگی تھی۔ اسے 2010ء تک کل 22 لاکھ روپے تنخواہ ملی۔ کورٹ کے ایک فیصلے کے سبب ڈیڑھ برس سے تنخواہ نہیں لی ہے۔ دویدی کے گھر تلاشی لینے گئی ٹیم کو جب طبیلے میں واقع گھر میں جانا پڑا تو وہ چونک گئے اور انہیں لگا کہ وہ غلط گھر میں تو نہیں گھس آئے۔ بعد میں 20 کروڑ کی املاک کی تفصیل ملی اور طبیلے کی چھان بین ہوئی تب جاکر انہیں لگا کہ وہ صحیح جگہ پر آئے ہیں۔ لوک آیکت کی تلاشی میں دویدی کے گھر پر ایک کار ڈرائیور اور دو نوکر ہونے کا بھی ریکارڈ ملا ہے۔ ان تینوں ملازمین کو دویدی تقریباً15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دیتا تھا جبکہ اس کی خود تنخواہ 24 ہزار روپے ماہانہ تھی۔ چھاپے میں کیا کیا ملا اس پر غور فرمائیں۔86 بیگھہ زمین قیمت17 کروڑ روپے، 4مکان (اندور، اجین) ڈیڑھ کروڑ روپے، 3 لکژری کاریں21 لاکھ روپے، دو ڈمپر، ٹریکٹر25 لاکھ روپے، دو بائک 1 لاکھ روپے، 13 تولہ سونا 3.64 لاکھ روپے، 2.5 کلو چاندی قیمت85 ہزار روپے،بیوی سادھنا، لڑکاپرینک، پیوش ، اور بہو میگھا کے نام سے بینکوں میں16 کھاتوں میں4 لاکھ روپے۔ دویدی کی9 لاکھ کی بیمہ پالیسی ملی۔
ابھی کچھ عرصے پہلے ہی اندور میں مدھیہ پردیش پولیس کی کرائم جانچ بیورو (ای او ڈبلیو) نے ٹرانسپورٹ محکمے کے ایک کلرک کی 40 کروڑروپے سے زیادہ کی بے حساب املاک کا پردہ فاش کیا تھا۔ زونل ٹرانسپورٹ دفتر میں کلرک کی شکل میں مقرر رمیش عرف رمن پھلدوہے کے خلاف مبینہ کرپشن سے بے حساب دولت بنانے کی شکایت ملی تھی۔ اس شکایت پر اس کے تین مقامی ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپے مارے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ کلرک کی بے حساب املاک میں الگ الگ مقامات پر کل 49 بیگھہ زمین، 4 پلاٹ، اعلی شان بنگلہ،ایک ہوٹل ، ایک مکان شامل ہے۔ چھاپوں کے دوران پھلدوہے کے ٹھکانے پر زیورات کی شکل میں تقریباً1 کلو سونا اور ساڑھے چار کلو چاندی ملی۔ اس کے علاوہ پانچ بینک کھاتوں اور بیمہ اسکیموں میں سرمایہ کاری کے دستاویز بھی برآمد ہوئے۔ چار مہنگی گاڑیاں، اسکوٹر بھی کلرک کی بے حساب املاک کی فہرست میں ہیں۔ پھلدوہے 1996ء میں سرکاری ملازمت میں آیا تھا اور فی الحال اس کی تنخواہ قریب16 ہزار روپے ماہانہ ہے۔16 ہزار روپے تنخواہ پانے والے نے40 کروڑ روپے کی املاک کیسے بنا لی؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پکڑی گئی ایسی املاک کا کیا کیا جائے؟ ایک حل تو بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے دکھایا ہے۔ ایک کرپٹ ملازم گریش کمار کے پٹنہ میں واقع عالیشان بنگلے میں اب نتیش کمار نے لڑکیوں کا رہائشی اسکول کھول دیا ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے یہ بنگلہ بند تھا۔ پارک روڈ پر واقع اس 28 کمروں والے بنگلے کو پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی طالبات کی کلاس و رہائشی اسکول میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ یہاں 6 سے10 برس تک کی 140 طالبات رہیں گی اور سبھی کلاسیں اسی عمارت میں ہوں گی۔ گریش کا مکان آمدنی سے زیادہ املاک معاملے میں سرکار نے ضبط کیا تھا۔ گریش کمار نے سال1992ء سے 2004ء کے درمیان آمدنی سے 96 لاکھ روپے کی زیادہ املاک بنائی تھی۔ عدالت نے15 نومبر کو ضلع افسر کو گریش کی پراپرٹی ضبط کرلینے کا حکم دیا تھا۔ ڈیڑھ کٹا زمین جو اس کی بیوی کے نام تھی، کو بھی ضبط کرلیا گیا۔ اس اسکول کی پہلی گھنٹی نئے سال (2012ء) میں 2 جنوری کو بجی۔ پسماندہ طبقے کی طالبات جب نئے اسکول کے کمروں میں پہنچیں تو وہ چوک گئیں۔ 10 ویں طالبہ سونی کا کہنا ہے کہ کتنی بڑی الماری ہے؟ ٹیچر میرا آریہ نے ٹوکا: یہ الماری نہیں وارڈ روب ہے ۔ پہلی بار یہ لفظ سن رہی سونی نے الٹا سوال داغا۔ یہ وارڈروب کیا ہوتا ہے؟
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun

19 جنوری 2012

جنرل وی کے سنگھ نے بنائی ایک نئی تاریخ


Published On 19th January 2012
انل نریندر
بدقسمتی دیکھئے کے دونوں پڑوسی ملکوں میں زمینی فوج کے سربراہ سرخیوں میں ہیں۔ اگر بھارت میں فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ بنام حکومت ہند لڑائی کھل کر آمنے سامنے آگئی ہے تو پڑوسی ملک پاکستان میں زمینی فوج کے جنرل اشفاق کیانی کی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے درمیان اقتدار کی لڑائی سرخیوں میں چھائی ہوئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنرل سنگھ ایک شخصی مسئلے پر حکومت سے لڑ رہے ہیں تو جنرل کیانی اقتدار کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ خیر ہم بات کرتے ہیں اپنے جنرل وی کے سنگھ کی۔ جنہوں نے آخر وہ کام کردیا ہے جو بھارت کی تاریخ میں پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔ وہ بھارت سرکار کے خلاف عدالت میں چلے گئے ہیں۔ اپنی تاریخ پیدائش کے دعوے کو مسترد کئے جانے کے ڈیفنس وزارت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں عرضی دائرکردی ہے۔دیش کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب کسی فوج کے سربراہ نے سرکار کے فیصلے کو عدالت میں چنوتی دی ہے۔ ڈیفنس وزارت نے حال ہی میں فوج کے چیف کی اس دلیل کو خارج کردیا تھا کہ وہ 1951ء میں پیدا ہوئے تھے1950ء میں نہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اپنی عرضی میں جنرل سنگھ نے کہا کہ عمر تنازعہ ان کے لئے عہد کا نہیں بلکہ عزت اور ایمانداری کا معاملہ ہے کیونکہ وہ 13 لاکھ فوجی جوانوں والی فورس کی قیادت کرتے ہیں۔ معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے اس لئے معاملے کی دلیلوں، حقائق پر غور نہیں ہوسکتا لیکن موٹے طور پر الجھن یہ ہے کہ فوج کی ان فائلوں میں جنرل سنگھ کی دو الگ الگ یوم پیدائش درج ہے۔ جہاں ان کے میٹرک کے سرٹیفکیٹ اور دستاویزوں میں یہ تاریخ 10 مئی1951 ہے۔ ڈیفنس وزارت نے ان کی خدمات کو زیادہ تر موقعوں پر اسے قبول کیا ہے۔ دوسری جانب نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے داخلہ فارم میں ان کی یوم پیدائش10 مئی1950 ء بتائی گئی ہے۔ فوج کی ایگزیکیوٹ برانچ کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش10 مئی 1951ء ہے جبکہ فوج کے سکریٹری برانچ کے مطابق یہ10 مئی 1950ء ہے ۔ اس سے نہ صرف جنرل سنگھ کے عہدہ میعاد میں ایک سال کا فرق پڑتا ہے بلکہ ان کے جانشین کے لائن میں بھی بڑی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک زمینی فوج کے چیف کو اپنی بات منوانے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ یہ اس یوپی اے سرکار کے معاملے سے نمٹنے کے قدم کی ایک اورپیچیدہ مثال ہے۔ سرکار کو معاملہ یہاں تک پہنچنے نہیں دینا چاہئے تھا۔ جنرل سنگھ کے سپریم کورٹ جانے سے نہ صرف یہ صاف ہوگیا ہے کہ سرکار اس کا قابل قبول حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ یہ بھی صاف ہوگیا ہے کہ اپنے برتاؤ کے مطابق اس نے ایک اور متنازعہ معاملے کو لٹکائے رکھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس تنازعے کا نپٹارہ چاہے جیسے بھی ہو ہر کوئی یہ محسوس کرے گا کہ اعلی سطح کے فوجی افسر کی عمر کو لیکر ایک تو کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہونا چاہئے تھا، اگر وہ کھڑا بھی ہوا تو اس کا حل خیرسگالی طریقے سے ہونا چاہئے تھا۔ وہیں جنرل وی کے سنگھ کے سپریم کورٹ جانے پر اس دلیل کو اہمیت دینا مشکل ہے کہ عام ہندوستانی شہری کی طرح وہ بھی عدالت جا سکتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ زمینی فوج کے سربراہ کے ذریعے ں سرکار کو سپریم کورٹ میں کھینچنے کا بن گیا ہے۔ یہ زیب نہیں دیتا کہ تاریخ پیدائش کو لیکر ہی صحیح زمینی فوج کے سربراہ اور سرکار سپریم کورٹ میں آمنے سامنے ہوں گے۔ بھلے ہی یہ لائن کھینچنے کی کوشش کی جائے کہ جنرل سنگھ عام شہری ہیں اور اسی نیت سے وہ عدالت گئے ہیں لیکن حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ13 لاکھ فوج کے ملازمین کی سربراہی کررہے ہیں۔ ہندوستانی زمینی فوج کے سب سے بڑے افسر ہیں۔ جہاں اس معاملے سے فوج اور سرکار دونوں کی ساکھ اورحوصلے پر اثر پڑے گا وہیں سیاسی نکتہ نظر سے کانگریس کو اس کے مضر اثرات سے بچنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ سرکار کی غلطی کا کہیں کانگریس پارٹی کو سیاسی نقصان نہ ہوجائے۔ پانچ ریاستوں کے چناؤ سر پر ہیں۔ پنجاب ۔ اترا کھنڈ جیسی ریاستوں میں جہاں سے بہت فوجی آتے ہیں، جہاں بہت ریٹائرڈ فوجی رہتے ہیں اس کا کیا اثر پڑتا ہے یہ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کے لئے تشویش کا سبب بن سکتا ہے۔ اس واقعہ سے چناؤ کے ذات پات کے تجزیئے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Geelani, General Kayani, General V.k. Singh, Indian Army, Vir Arjun

یوپی میں ہوگا سوشل انجینئرنگ کا اصلی امتحان

اترپردیش چناؤ میں ہرسیاسی پارٹی کی خودساختہ سوشل انجینئرنگ کا امتحان ہونے والا ہے۔ بسپا چیف مایاوتی نے اسمبلی چناؤ کے لئے پارٹی کے 403 امیدواروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے گنانا شروع کیا۔درجہ فہرست ذاتوں88، اوبی سی113، برہمن 74،33 ٹھاکر وغیرہ اور 85 مسلمان وغیرہ غیرہ۔ بسپا کی جانب سے اپنی فہرست میں ذات پات کی تفصیل دینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نئی بات یہ رہی کہ بہن جی کی پریس کانفرنس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی بھاجپا کی پریس کانفرنس میں پارٹی کے قومی نائب صدر مختار عباس نقوی نے بھی تفصیلات پیش کیں کے اب تک جاری بھاجپا کی فہرست میں کتنی پسماندہ ذاتوں اور درجہ فہرست ذاتوں کی حصے داری کی گئی ہے۔ یہ بانگی اس لئے کہ اترپردیش اسمبلی کا یہ چناؤ ہر پارٹی اپنی سوشل انجینئرنگ اور کافی حد تک منڈل واد سے حوصلہ افزا اقدامات کو آزمانے کے امتحان میدان میں بھی ثابت ہونے جارہے ہیں۔کانگریس پر غور فرمائیے۔ راہل گاندھی کی کمان والے دور میں پارٹی نے اب تک اعلان شدہ325 امیدواروں میں سے 87 او بی سی کے لوگوں کو نمائندگی دی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی بیٹ مانے جانے والی مین پوری، ایٹا، فیروز آباد میں پارٹی نے سپا سے ناراض ہوکر نکلے یادوؤں کو ٹکٹ سے نوازا ہے۔ یہ منڈل واد کا ہی اثر مانا جائے گا۔ اب تک اعلان شدہ 325 امیدواروں میں سے بڑی ذاتوں خاص کر برہمنوں کی پارٹی مانی جانے والی کانگریس نے ابھی تک 39 براہمنوں کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔ ٹھاکروں کے کھاتے میں51، درجہ فہرست کھاتے میں 82 اور مسلمانوں کو اب تک52 ٹکٹ دئے گئے ہیں۔ اشارہ صاف ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے ووٹوں کے لئے گھماسان شباب پر ہے۔ تبھی تو بھاجپا نیتا مختار عباس نقوی نے اپنی پارٹی کے اعدادو شمار دیتے ہوئے فخر کے ساتھ بتایا کہ اب تک اعلان شدہ381 امیدواروں میں پسماندہ کو123 ، درجہ فہرست ذاتوں کے83 امیدوار شامل ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے بھی ٹکٹ بٹوارے میں اپنی سوشل انجینئرنگ کا پورا خیال رکھا ہے۔ پارٹی تقریباً400 سیٹوں کے امیدوار اعلان کرچکی ہے اور اس میں اپنے ووٹ بینک مسلم پسماندہ طبقوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ پارٹی نے80 مسلمانوں کو میدان میں اتارا ہے۔
چناؤ سے پہلے جائزوں کی سچائی پر اکثر نکتہ چینی ہوتی ہے۔لیکن ایک تازہ سروے ہوا ہے۔ امر اجلا۔سی ووٹر انڈیا ٹی وی کے دوسرے دور کے اوپینین پول کے مطابق اترپردیش میں بہوجن سماج پارٹی۔ سماج وادی پارٹی میں کانٹے کی ٹکر نظر آرہی ہے۔ پنجاب میں اکالی۔ بھاجپا محاذ اور کانگریس میں سخت مقابلہ ہے جبکہ اتراکھنڈ میں بسپا کنگ میکر بننے کی راہ پر ہے۔ سروے کے نتیجوں کے مطابق یوپی میں بسپا اب تک اندازاً 145 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔ سپا 138 سیٹوں اور کانگریس 48 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر اپنی جگہ پکی کررہی ہے۔ بھاجپا کو اب تک 41 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔
بھاجپا کو چوتھے مقام پر چھوڑ کر کانگریس کنگ میکر ہونے کی طاقت ضرور حاصل کرتی نظر آرہی ہے۔ پردیش کا سورن کانگریس اور بھاجپا کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ کشواہا معاملے سے بھاجپا کو نقصان ہوتا نظر آرہا ہے اور اس کافائدہ اٹھانے میں کانگریس کافی دلچسپی سے کام کررہی ہے۔مسلم یا تو سپا کے ساتھ ہیں اور جہاں سپا کمزور ہے وہاں وہ کانگریس کے ساتھ ۔ مورتی معاملے سے بسپا کے دلت ووٹر متحد ہوئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں پارٹی کی لڑائی کے چلتے کانگریس نے اپنی ابتدائی بڑھت کھو دی ہے۔ یوپی کے برعکس یہاں کانگریس کا کھیل خراب کر بسپا کنگ میکر بنتی جارہی ہے۔وزیراعلی بی ۔ سی کھنڈوری کی اچھی ساکھ کا فائدہ بھاجپا کو ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے لیکن وہ پارٹی کو اکثریت کے اعدادو شمار تک شاید ہی لے جا پائے۔ کل ملاکر دلچسپ صورتحال بنی ہوئی ہے۔ دیکھیں یوپی میں سوشل انجینئرنگ کتنی کارگر ثابت ہوتی ہے یا کسی پارٹی کا ذات تجزیہ فٹ بیٹھتا ہے۔
Anil Narendra, BC Khanduri, Daily Pratap, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

18 جنوری 2012

آئی ایس آئی بھی چلا رہی ہے ایک ریزرو بینک آف انڈیا


Published On 18th January 2012
انل نریندر
ایک ریزروبینک بھارت میں ہے اور لگتا ہے کہ ایک ریزرو بینک آف انڈیا پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے چلا رہی ہے۔ ریزرو بینک سے میری مراد جعلی نوٹوں دھندہ ہے۔ اصل نوٹ بھارتیہ ریزرو بینک چھاپتا ہے تو نقلی نوٹ آئی ایس آئی چھپوا کر ہندوستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کیلئے بھجواتی ہے۔ گذشتہ جمعہ کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے نقلی نوٹوں کی ایک بڑی کھیپ سیتا پور سے پکڑی۔ پولیس نے نقلی نوٹوں کی اس کھیپ کے ساتھ دو لوگوں کو بھی گرفتار کیا ہے ذیشان خان و عیش محمد نام بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں سے قریب دو کروڑ 24 لاکھ50 ہزار روپے کے نقلی نوٹ برآمدہوئے ہیں۔ پولیس کو پچھلے دو ماہ سے خفیہ ایجنسیوں سییہ خبر مل رہی تھی کہ اترپردیش کے ضلع پربد نگر کا رہنے والا اقبال عرف کانا نقلی نوٹوں کا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ وہ پاکستان میں کہیں روپوش ہے۔ پولیس کا کہنا ہے یہ نقلی نوٹ بہت اچھی کوالٹی کے چھپے ہوئے ہیں اور بتانا آسان نہیں کہ کونسا اصلی کونسا نقلی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں جب موسٹ وانٹڈکانا نے بھارت میں نقلی نوٹوں کی کھیپ بھیجی ہو۔ اس سے پہلے بھی وہ سال2010ء میں ایک ترکی شہری کو قریب ڈیڑھ کروڑ روپے کے نقلی نوٹوں کے ساتھ دہلی بھیج چکا ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ یوپی کے پربد نگر میں واقع کیرانا گاؤں کا رہنے والا اقبال کانا اس وقت پاکستان کے شہر کراچی میں موجود ہے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اشارے پر ڈی کمپنی و لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر بھارت کے مختلف حصوں میں نقلی نوٹوں کو بھیجنے میں جٹا ہوا ہے۔ پولیس نے پایا کہ ان نقلی نوٹوں میں ریزرو بینک آف انڈیا کے سبھی چھ ضروری پیمانے جیسے مائیکرو پرنٹنگ، واٹر مارک آف گاندھی جی، سوفیصد کارٹن پیپر، امبوسس ٹکنالوجی، الیکٹروایڈ واٹرمارکنگ و دھاگے کا استعمال کیا گیا ہے۔ نوٹوں کو دیکھ کر یہ پتہ چلتا ہے کہ انہیں کراچی کے سرکاری پریس میں چھاپا گیا ہوگا۔ پولیس نے بتایا جن کپڑوں کے تھان میں چھپا کر یہ جعلی نوٹوں کی کھیپ دہلی بھیجی گئی ہے ان پر سبھی تھانوں پر چھپی مہر پاکستان کے فیصل آباد ضلعوں کی ملی ہے۔ ان میں سفاری ٹیکسٹائل مل فار اسٹار صدیقی پروسسنگ مل، مہارانی کلکشن، کوہینور سوٹنگ وعثمان نعیم فیبرک مل شامل ہیں۔ ان نقلی نوٹوں کو بھارت میں بیچنے کی کمیشن کچھ اس طرح ہے 10 لاکھ روپے کے فرضی نوٹ پر 40 ہزاراور 50 لاکھ پر 1 لاکھ روپے کمیشن کا وعدہ ہے۔ آئی ایس آئی نے پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں یہ چال چلی ہے۔ خفیہ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی کا ٹارگیٹ قریب تین سے چار کروڑ روپے کے فرضی نوٹوں کو بھارت کی مارکیٹ میں کھپانے کی نیت و ارادہ ہے۔ یہ نوٹ نیپال، بنگلہ دیش سرحد کے علاوہ پنجاب اور کشمیر کے راستے سے بھارت آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے کراچی، کوئٹہ، پیشاور اور لاہور کے علاوہ نیپال کی تراہی سے جاری نوٹوں کی چھپائی دن رات چل رہی ہے۔ آئی ایس آئی کو بھارتیہ نوٹوں میں استعمال ہونے والی سیاہی بھی ہاتھ لگ گئی ہے جس سے جعلی نوٹوں کو پہچاننا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ آئی ایس آئی کے اس کام کو انجام دینے میں داؤد ابراہیم بھی پوری مدد کررہا ہے۔ اس کام کا ذمہ آئی ایس آئی کے میجر صادق حسین اور میجر اے اصغر ، اقبال رانا اور مہروالنساء کو دیا گیا ہے۔ میجر اصغر کے رشتے دار جہاں اترپردیش میں رہتے ہیں وہیں مہر النساء کے رشتے دار بہارمیں رہتے ہیں۔ ان کا پلان نقلی نوٹوں کو نیپال سے بہار،اترپردیش اور بنگلہ دیش کے راستے بہار بھیجنے کا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی سرحد سے لگے پنجاب اور کشمیر کے راستے سے بھی فرضی نوٹوں کی کھیپ پہنچائی جائے گی۔ اس کھیل میں آئی ایس آئی نے کافی احتیاط برتی ہے۔ ان چاروں راستے سے بھارت میں نوٹوں کی جو کھیپ آئے گی اس کے لئے ہر راستے کے لئے چار ٹولیاں بنائی گئی ہیں۔ ہر ٹولی میں 9 لوگ ہوں گے جن میں چار عورتیں ہیں۔ ہر ایک ٹولی کو کور کرنے کے لئے ایک ٹولی ہوگی۔ داؤد ابراہیم کا نیٹ ورک بھی اس کام میں مدد کررہا ہے۔ بھارت کی وزارت مالیات کی فائننشل انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 500 روپے کے نقلی نوٹ تیار کئے جاتے ہیں۔ نقلی نوٹ لین دین کی کل قیمت 60.74 فیصدی500 روپے کے نوٹ کی شکل میں ہوتے ہیں۔ ویسے بازار میں 1000 کے نوٹ کا چلن بڑھنے کے ساتھ ہی ان کے نقلی نوٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جعلی نوٹوں کی برآمدگی یقینی طور پر تشویشناک ہے۔ معاملہ تب اور سنگین ہوجاتا ہے جب یہ سامنے آتا ہے کہ برآمد کئے گئے یہ نقلی نوٹ دیکھنے میں اصلی نوٹ جیسے لگتے تھے اور انہیں بھیجنے والا پاکستان ہے۔ آئی ایس آئی اپنی حرکتوں سے باز آنے والا نہیں، ہمیں ہی چوکس رہنا پڑے گا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Fake Currency, ISI, Pakistan, Vir Arjun

ایک اور نہایت شرمناک حرکت میں نظر آئے امریکی فوجی


Published On 18th January 2012
انل نریندر
کہنے کو تو امریکہ اپنے آپ کو ایک مہذب دیش کہتا ہے اور ساری دنیا کو مہذب ہونے کا سبق سکھاتا پھرتا ہے لیکن اس کے فوجیوں کی کرتوت سے تو ایسا نہیں لگتا کہ گھناونے پن میں اس سے گھٹیا اور کوئی دیش ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کا ایک اور گھناؤنا کارنامہ سامنے آیا ہے۔ انٹرنیٹ پر حال ہی میں جاری ایک ویڈیو میں امریکی فوجیوں کو طالبان لڑاکوؤں کی لاشوں پر پیشاب کرتے دکھایاگیا ہے۔ویڈیو میں ایئر فورس کی وردی پہنے چار جوانوں کو تین طالبانی لڑاکوؤں پر پیشاب کرتے دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک جوان نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا لو دوست آج کا دن تمہارے لئے شبھ ہو، ایک دوسرے جوان نے بھی کافی بدھا مذاق اڑایا۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی سپریم امن کونسل کے چیف مذاکرات کار ارسلارحمانی نے کہا کہ اس طرح کی حرکات سے حالانکہ امن عمل متاثر تو نہیں ہوگا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس طرح کی گھناؤنی حرکتوں کو دکھا کر طالبان آسانی سے اور نئے آتنکیوں کو بھرتی کرسکتا ہے۔تنظیم یہ کہہ کر ورغلا سکتی ہے کہ ان کے دیش پر عیسائیوں اور یہودیوں نے قبضہ کرلیا ہے اور انہیں کسی بھی قیمت پر دیش کی حفاظت کرنی چاہئے۔ افغانستان میں تعینات ناٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی مددگار فورس نے واقعے کی مذمت اور اسے بہت ہی گندی حرکت قرار دیا ہے۔ ترجمان نے کہا ویڈیو میں دکھائی گئی حرکات امریکی مسلح افواج کی اقدار کے مطابق نہیں۔ ایران جنگ کے دوران بھی امریکی فوجوں کے ذریعے عراقی یرغمالوں سے غیر انسانی برتاؤ کا پردہ فاش ہوا تھا۔ ابوغریب جیل میں امریکی فوجی طرح طرح سے غیر انسانی طریقے سے حراست میں لئے عراقیوں کوتوہین آمیز سزائیں دیتے تھے اور ایسا کرنے میں انہیں مزہ آتا تھا۔ اس پربھی ساری دنیا اور خاص کر عرب ممالک میں سخت رد عمل ہوا تھا۔ بعد میں ساری دنیا میں بے عزتی ہونے کے سبب امریکی فوج نے اس جیل کو بند کردیا تھا اور کچھ قصورواروں کو سزا بھی دی تھی۔ خبر ہے کہ افغانستان کے اس غیر انسانی واقعہ کی جانچ ہورہی ہے۔ امریکہ کے ایک سینئر افسر کے مطابق طالبان آتنکیوں کی لاشوں پر پیشاب کرتے نظر آرہے امریکی مرین کے دو فوجیوں کی پہچان کرلی گئی ہے۔ سی این این نے پینٹاگان کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے ''اس شرمناک حرکت میں شامل دو قصوروار لوگوں اور ان کی فوجی ٹکڑی کی پہچان ہوگئی ہے۔'' ہم فوجی ٹکڑی اور قصورواروں کا نام نہیں لے سکتے کیونکہ معاملے کی جانچ چل رہی ہے۔ ٹی وی چینل کے مطابق یہ ٹکڑی افغانستان اور خاص طور پر ہیلمنت صوبے میں 2011ء کے آغاز سے ہی تعینات تھی۔ ستمبر ۔اکتوبر میں واپس لوٹ آئی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے بھی انٹرنیٹ پر اجاگر ہوئے اس واقعہ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جیکارنی نے اخبار نویسوں سے کہا کہ ہم نے ویڈیو دیکھا ہے اس میں جو کچھ بھی دکھائی دیتا ہے وہ افسوسناک ،قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ یہ یو ٹیوب اور دیگر ویب سائٹوں پر نشر ہوگا۔ اوبامہ انتظامیہ کے لئے شرمندگی والا واقعہ ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب طالبان سے امن عمل چل رہا ہے۔ڈیفنس محکمے نے ویڈیو کے جواز کی جانچ کے احکامات دے دئے ہیں اور ان لوگوں کے خلاف جانچ ہورہی ہے جو اس میں شامل تھے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, USA, Vir Arjun

17 جنوری 2012

مورتی ڈھکنے کا آدیش مایاوتی کے حق میں نہ چلا جائے؟


Published On 17th January 2012
انل نریندر
ایتوار کو اترپردیش کی وزیر اعلی و بسپا چیف مایاوتی کی 56 ویں سالگرہ تھی۔چناؤ ضابطہ و چناؤ کمیشن کی سختی کے سبب بہن جی نے اس سال اپنی سالگرہ سادگی سے لکھنؤ میں منائی۔اس موقعہ پر مایاوتی نے چناؤ کمیشن کو کھری کھوٹی سنائیں۔ مورتیوں کو ڈھکنے کے فرمان سے ناراض بہن جی نے کہا کہ چناؤ کمیشن کانگریس کے دباؤ میں کام کررہا ہے اور چناؤ کمیشن کو چنوتی دی کہ جس طرح اترپردیش میں ان کے مجسموں اور بسپا کے چناؤ نشان ہاتھی کو ڈھک دیا ہے اسی طرح وہ کانگریس کے چناؤ نشان ہاتھ کو ڈھکنے کی ہمت دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت نے کانشی رام کی وصیت کے مطابق ان کے بت کے ساتھ لگی میری مورتیاں ڈھک کر چناؤ کمیشن کے حکم کی تعمیل کی۔ چناؤ کمیشن کو چنڈی گڑھ میں کانگریس کی حکومت کے عہدۂ میعاد میں سرکاری خرچ سے سینکڑوں ایکڑ زمین میں بنے پارک میں 45 فٹ اونچے ہاتھ کے پنجے اور یوپی میں سرکاری خرچ سے لگائے گئے راشٹریہ لوکدل کے چناؤ نشان ہینڈ پمپ کو بھی ڈھکنے کا فرمان جاری کرنا چاہئے۔ کمیشن کا یہ فیصلہ کانشی رام کی وصیت کی توہین ہے۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے تسلیم کیا ہے کہ چناؤ کمیشن کے اس حکم سے بسپا کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی شکایت پر چناؤ کمیشن نے یوپی میں مایاوتی اور بسپا چناؤ نشان ہاتھی کو ڈھکنے کا حکم تو دے دیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ اس قدم کا نفع نقصان کیا ہوگا؟ ہمیں تو لگتا ہے کہ چناؤ کمیشن کا یہ فیصلہ بسپا کے حق میں جاسکتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ چناؤ کمیشن کے اس فیصلے سے مایاوتی کو ہی فائدہ ہوگا۔ پارٹی نے اس فیصلے کو ''دلت وقار '' سے جوڑ دیا ہے۔ پوری طرح سے ذات پات پر مبنی انتخابات میں چناؤ کمیشن کے اس فیصلے نے ایک بار پھر بسپا حمایتیوں کو متحد کردیا ہے۔ بی ایس پی نے ہائیکورٹ میں اس سلسلے میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جو تکنیکی اسباب کے سبب خارج کروادی ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر پارٹی سکریٹری جنرل ستیش مشرا نے یہ صاف کردیا ہے کہ اس فیصلے سے دلت سماج خود کو ٹھگا سا محسوس کررہا ہے۔ چناؤ کمیشن کو اس طرح کا فیصلہ دیگر پارٹیوں کیلئے بھی لینا چاہئے نہیں تو یہ فیصلہ آئین کی دفعہ14شق کی خلاف ورزی ہوگی۔ چناؤ کمیشن کے یہ متنازعہ فیصلے بہن جی کے الٹے حق میں جارہے ہیں۔ اب دلتوں کو مورتیوں کو ڈھکنے میں جانبداری نظر آرہی ہے۔ بسپا نے اسے دلت وقار سے سیدھا جوڑدیا ہے۔ ٹی وی اور اخباروں کے سبب چناؤ کمیشن کا یہ فیصلہ گاؤں گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ یہ اشو دن بہ دن گرما رہا ہے۔ ذات کی بنیاد پر بٹے یوپی کے ووٹروں میں بھی اس مسئلے کو عزت و بے عزتی سے جوڑدیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر ایک طبقہ دلتوں کو طعنے دے رہا ہے۔ اس کے چلتے وہ متحد ہورہے ہیں۔ کچھ فیصدی دلت ووٹ جو اس فیصلے سے پہلے بسپا سے بدک رہا تھا اب وہ پھر واپس بہن جی کی پناہ میں آتا نظر آرہا ہے۔ جب سبھی پارٹیاں ذات کی بنیاد پر اپنے امیدوار طے کررہی ہوں تب تک کسی ایک طبقے سے وابستہ پارٹی کے لئے ایسا فرمان تاحیات حامی ثابت ہوسکتا ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ مایاوتی اپنی چناؤ مہم کا آغاز اسی اشو سے کریں گی اور لوگوں کو بتائیں گی کہ ان کی حکومت نہ بننے پر اپوزیشن دلتوں کے نیتاؤں کے بتوں کو اکھاڑ کر دلت وقار سے کھلواڑ کریں گے اور ان کی بے حرمتی کریں گے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, Elephant, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر کنٹرول کا سوال


Published On 17th January 2012
انل نریندر
سوشل سائٹ پر کنٹرول کرنے کے لئے حکومت نے کمر کس لی ہے۔ فیس بک گوگل سمیت 21 سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ لے لیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ مرکزی حکومت نے جمعہ کے روز پٹیالہ ہاؤس کورٹ کو بتایا کہ ان کے خلاف کارروائی کی مناسب بنیاد موجود ہے۔ ان پر مختلف طبقوں کے درمیان نفرت پھیلانا اور قومی سالمیت کو خطرہ پہنچانے سے متعلق قابل اعتراض مواد ڈالنے کا الزام ہے۔ مرکز کے رخ کے بعد کورٹ نے سبھی ویب سائٹوں کے نمائندوں کو13 مارچ کو شخصی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔اگر ان ویب سائٹوں کی مقبولیت کی بات کی جائے تو چونکانے والے اعدادو شمار سامنے آئیں گے۔ مثال کے طور پر ای میل کے کھیل میں 1 ارب 88 کروڑ یوزرس دنیا بھر میں ہیں۔ انہوں نے تقریباً1100 کھرب ای میل پچھلے ایک سال میں کئے ۔ یومیہ اوسطاً29 ارب 40 کروڑ ای میل جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں پچھلے ایک سال تک 25 کروڑ5 لاکھ ویب سائٹیں موجود تھیں۔25 ارب ٹوئٹس پچھلے سال سوشل سائٹ پر کئے گئے۔ غیر دھارمک اور غیر سماجی مواد ہٹانے پر آنا کانی کررہی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹوں پر بھارت میں مقدمہ چلانے کا راستہ صاف ہوجانے کے بعد سوال یہ اٹھ رہا ہے کیا یہ ممکن ہے بھی یا نہیں؟ پوسٹ ہونے والے مواد کے معنی کے لئے ویب سائٹ منتظمین کو اڈیٹروں کی فوج کی ضرورت ہوگی۔ اگر عدالتوں میں کیس چلانا ہوگا تو یہ یقینی کرنا ہوگا کہ قانونی نکتہ نظر سے مقدمہ جیتنے کے لئے موزوں ثبوت ہیں یا نہیں۔بھاری مقدارمیںآنے والے مواد کو سینسر کرنے کے لئے بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسی تکنالوجی ایجاد کرنی ہوگی جو اس کام کو آسان کرے۔ اس کا ایک متبادل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انٹر نیٹ کے ایڈیشن بن جائیں۔ جس میں ایک صبح کا ہوگا اور ایک شام کا۔ سرکار کا خیال ہے کہ یہ قدم اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ کئی ویب سائٹوں پر ایسی اطلاعات بھی شیئر ہوتی ہیں جن سے ملکی مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فحاشی اور تشدد سے متعلق میٹر انٹر نیٹ پر آسانی سے دستیاب ہے۔ یہ آسان پہنچ بچوں کے لئے بری ثابت ہورہی ہے۔ انٹر نیٹ پر اطلاع کا اثر فوراًہوتا ہے۔ ہم نے مشرقی وسطیٰ میں دیکھا کہ کئی ملکوں میں تختہ پلٹ انٹر نیٹ کے ذریعے مددگار ثابت ہواہے۔ گمراہ کن معلومات، معیشت کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کو شخصی سکیورٹی ،عزت و احترام قائم رکھنے کے لئے بھی ویب سے سینسر شپ ضروری ہے۔ گوگل اور فیس بک کے میٹر کی نگرانی کے بجائے ابھی صرف شکایت پر ہی کارروائی کرتے ہیں۔ اس کے لئے امریکہ کے سلیٹن ویلی میں واقع دفتر میں بڑی تعداد میں ملازمین تعینات ہیں۔ وہ قابل اعتراض مواد جس کی شکایت کی جائے پر کارروائی کرتے ہیں۔ کئی دنیا کے ملکوں پر انٹرنیٹ میٹر پر سخت قانون بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں بھی سبھی الیکٹرانک کمیونی کیشن کنٹرول سینٹرل کمیونی کیشن کمیشن کرتا ہے۔انٹر نیٹ بھی اسی کے تحت ہے۔فحاشی مواد پر جیل جانے کی شق موجود ہے۔سنگا پور نے براڈ کاسٹنگ اتھارٹی بنائی ہے جو انٹر نیٹ سینسر شپ کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ قاعدے توڑنے پر لائسنس منسوخ کرنے کی بھی اجازت ہے۔ پراکسی سرور کا استعمال کر کچھ ویب سائٹ کو پوری طرح سے بند رکھا گیا ہے۔ یہ ہی حال میں جرمنی نے ملٹی میڈیا قانون بنایا ہے جس کے تحت فحاشی مواد کے ساتھ سیدھا تعلق والی باتوں پربھی سینسر شپ لگائی گئی ہے۔ فرانس میں ویب سینسر شپ کے لئے فرانس منیٹیل کے بنائے ایک عمل کی میکنزم کو اپنایا جارہا ہے۔ اس کے تحت انسپکٹر یہ دیکھیں گے کہ انٹرنیٹ پر دستیاب مواد فرانس ٹیلی کام معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں؟ چین۔ پاکستان میں بھی انٹرنیٹ پر کنٹرول کرنے کے لئے سخت قانون ہے۔ اس پابندی کے تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ سرکار کا یہ قدم سینسر شپ ہے اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کی نیت سے پہلا قدم ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں چاہے وہ انا کی تحریک رہی ہو یا ٹو جی اسپیکٹرم جیسے گھوٹالے ہوں، سرکار کی انٹرنیٹ کے ذریعے ساری دنیا میں ساکھ خراب ہوئی ہے۔ سرکار اپنی خامیوں کو اجاگر ہونے اور پروپگنڈے سے پریشان ضرور ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ آتنکی نیٹ ورک اس ذرائع کا اپنے مقاصد کی تکمیل میں استعمال کررہے ہیں۔ اگر اسے قومی سلامتی سے جوڑا جائے تو جائز ہی لگتا ہے لیکن اس سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا انٹرنیٹ سے کروڑوں لوگوں کو بہت فائدہ بھی ہوا ہے۔اگر آتنکی، فحاشی و مذہب کے خلاف پرچار کو چھوڑدیا جائے تو انٹرنیٹ نے عام آدمی کی ذاتی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi High Court, Facebook, Google+, Social Networking Sites, Twitter, Vir Arjun

15 جنوری 2012

یوپی چناؤ میں نریندر مودی و نتیش کمار آمنے سامنے


Published On 15th January 2012
انل نریندر
یوپی کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس ، بھاجپا، سپا و بسپا کے اہم کمپینر کون کون ہوں گے۔ لوگوں کی اس کو لیکر دلچسپی بنی ہوئی ہے۔ خاص طور سے اترپردیش میں۔ مشن 2012ء فتح پر دیو بھومی اتراکھنڈ و یوپی میں کانگریس کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی۔ امیدواروں کے نام کے اعلان کے ساتھ پارٹی اب چناؤ مہم کیلئے اشتہار کمپینروں کی فہرست بنانے میں لگ گئی ہے۔ ظاہرہے محترمہ سونیا گاندھی ، راہل گاندھی خاص کشش کا مرکز ہوں گے۔ مسلم ووٹروں کو رجھانے کیلئے سلمان خورشید دگوجے سنگھ، راشد علوی، رشید مسعود کا استعمال ہوسکتا ہے۔ پتہ نہیں وزیر اعظم بھی جائیں گے یا نہیں؟ اس کے علاوہ دہلی ۔
راجستھان کے وزرائے اعلی کا بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی بھی چناؤ مہم میں شامل ہوسکتے ہیں۔ نوجوانوں کو راغب کرنے کیلئے راہل کے ساتھ سچن پائلٹ، جوتر ادتیہ سندھیہ، جتن پرساد بھی عوام سے خطاب کرسکتے ہیں۔ جہاں تک بھاجپا کا سوال ہے پارٹی صدر نتن گڈکری،ایل کے اڈوانی، سشما سوراج،ارون جیٹلی اہم کمپینر ہوسکتے ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پر بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ یوپی میں ضرور چناؤ پرچار کے لئے آئیں گے۔ نتیش کمار اور نریندر مودی سیاست میں ایک دوسرے سے نظریں ملانے سے بھی پرہیز کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ اترپردیش میں دونوں آمنے سامنے ہوں گے۔
بھاجپا کے ذریعے وقاری سیٹیں نہ دئے جانے کے سبب پہلے نتیش نے اترپردیش سے الگ رہنے کا فیصلہ لیا تھا۔ اب جبکہ ان کی پارٹی (جنتا دل یو) سبھی403 سیٹوں پر تنہا لڑنے کی کوشش کررہی ہے تو چناؤ مہم کے لئے ان کا یوپی آنا طے مانا جارہا ہے۔ ادھر بھاجپا نے نریندر مودی کو اپنے سٹار کمپینر کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔بہار اسمبلی چناؤں میں بھاجپا نے وزیر اعلی نتیش کمار کی شرط کو قبول کرلیا تھا اور چناؤ مہم چلانے کیلئے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بہار نہیں آنے دیا تھا۔ مودی کی ساکھ کٹر پسند ہندو لیڈر کی رہی ہے اس وجہ سے نتیش ان سے پرہیز کرتے ہیں۔ نتیش کو اقلیتوں کی بھاری حمایت ملتی رہی ہے اور وہ کسی قیمت پر اس مینڈیڈ کو کھونا نہیں چاہتے۔
ماضی میں بھی این ڈی اے کے وزراء اعلی کی کانفرنس میں نتیش اور مودی آمنے سامنے ایک اسٹیج پرتھے۔ دونوں لیڈروں کے ساتھ والی تصویر سے سیاست میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔ بھاجپا کی قومی ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ کے دوران اس تصویر کے چھپنے پر نتیش اتنے ناراض ہوگئے کہ انہوں نے بھاجپا کی ریلی میں شرکت کرنے سے منع کردیا۔ یہ ہی نہیں نتیش نے گجرات سرکار کے دئے پانچ کروڑ بھی واپس لوٹا دئے جو سیلاب راحت کے لئے مودی نے بھیجے تھے۔ حالانکہ اب بھی بہار میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد قائم ہے۔ ان دونوں سیاستداں حریفوں کے درمیان ایک چناؤ میں آمنے سامنے دیکھیں کیا حالات بنتے ہیں؟ سماجوادی پارٹی کے اسٹار کمپینرملائم سنگھ یادو ان کے بیٹے اکھیلیش یادو اور اعظم خاں اہم ہوں گے۔ بسپا میں تو ایک ہی اسٹار کمپینر ہیں بہن جی۔ مایاوتی اکیلے اپنے ہی دم خم پر پارٹی کو جتانے کی کوشش کریں گی۔ یوپی میں ان بڑی پارٹیوں کے علاوہ درجنوں چھوٹی پارٹیاں بھی چناؤ میدان میں ہیں۔ وہ سب ہی اپنی تال ٹھوکیں گی۔ کل ملا کر دلچسپ ہوگا ان سٹار کمپینروں کے آپس میں بھڑنے کا نظارہ۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, Narender Modi, Nitish Kumar, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

چناؤ کمیشن کی سختی رنگ دکھانے لگی ہے


Published On 15th January 2012
انل نریندر
ووٹروں کو بہلانے کیلئے امیدوار اور سیاسی پارٹی ہر طرح کے ہتھکنڈے اپناتی ہیں۔ چاہے اس میں پیسہ ہو، طاقت ہو، چاہے شراب ہو یا شباب یا پھر نشے کے دیگر وسائل ہی کیوں نہ ہوں۔ چناؤ کمیشن نے اس مرتبہ ان سب پر روک لگانے کی ٹھان لی ہے۔ تبھی تو آئے دن روپیہ پکڑا جارہا ہے اکیلے اترپردیش میں ہی پولیس نے چناؤ کمیشن کی ہدایت پر چلائے گئے آپریشن میں جمعرات کو76 لاکھ روپے برآمد کئے ہیں۔اب تک ریاست میں نقدی برآمدگی کا گراف38کروڑ53 لاکھ53 ہزار 604 روپے ہوگیا ہے۔اے ڈی جی سدیش کمار سنگھ نے لکھنؤ میں بتایا کہ پولیس کی چوکسی نگرانی ٹیم کی کارروائی میں جمعرات کو 76 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔ اس میں لکھنؤ کے تالکٹورہ علاقے میں وین سے12 لاکھ روپے اور ٹھاکر گڑھ علاقے میں ایک اینووا گاڑی سے3 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔
چناؤ کمیشن کو اندیشہ ہے اکیلے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کالی کمائی کی شکل میں قریب 10 ہزار کروڑ روپے کا استعمال ہوسکتا ہے۔اس کے پیش نظر اس کی ہدایت پر ہی محکمہ انکم ٹیکس نے پوری ریاست میں گہرہ تلاشی آپریشن چلا رکھا ہے۔جمعرات کو ہی کمیشن نے ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی خط لکھا۔ اس میں ایسا سسٹم یقینی کرنے کوکہا گیا ہے جس سے بینکوں کا بیجا استعمال نہ ہوسکے۔ اترپردیش میں اب تک جو 38 کروڑ روپے ضبط کئے گئے ہیں اس کا60 فیصدی حصہ غازی آباد اور پنچ شیل نگر(ہاپوڑ) سے ملا ہے۔
غازی آباد کے صاحب آباد میں 9 جنوری کو12.38 کروڑ روپے ضبط کئے گئے جو آئی سی آئی سی آئی بینک سے لائے گئے تھے۔یہ رقم آر بی آئی کے ذریعے مقرر نقدی آمدورفت(بینک کی چھوٹی شاخ کے ذریعے بڑی شاخ میں جمع کرانے کے لئے یا کسی اے ٹی ایم میں ڈالنے کے لئے پیسے لے جانا)سسٹم کے تحت نہیں لیجایا جارہا تھا۔اس کے بعد کمیشن نے آر بی آئی کو خط لکھا اس میں کہا گیا ہے''ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس واقعہ (غازی آباد میں بینک پیسوں کی ضبطگی) کی جانچ کرائیں۔ ساتھ ہی یقینی بنائیں کہ چناؤ عمل میں بینک ناجائز پیسے کے لین دین کا ذریعہ نہ بنیں۔'' ممبئی میں کمیشن کے ڈپٹی گورنر کو یہ خط ملا ہے۔
عموماً پیسہ ، طاقت اور دبنگی کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں لیکن اس بار جو ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں وہ بہت ہی عجیب و غریب ہیں۔ چناؤ کمیشن نے پانچ ریاستوں میں ہونے والے چناؤ کے دوران جمعرات تک ساڑھے تین لاکھ لیٹر شراب کے ساتھ ساتھ 6 کلو ہیروئن،2.3 لاکھ نشے کے کیپسول و گولیاں ضبط کی ہیں۔ پنجاب سے85 ہزار نشیلے کیپسول و ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔
کمیشن کے افسر نے بتایا گاؤں گاؤں پہنچ رہی ہیں یہ نشے کی گولیاں۔ چناؤ کمیشن کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں نشے کا سامان جتنی مقدار میں ضبط ہوا اتنا پہلے نہیں ہوا۔ پہلے صرف شراب برآمد ہوتی تھی لیکن اس مرتبہ تو ہیروئن، نشے کے کیپسول و گولیاں تک مل رہی ہیں۔ یہ ٹرینڈ یقینی طور سے تشویش کا باعث ہے۔ ایسے میں نشے کا استعمال روکنا چناؤ کمیشن و متعلقہ سرکاری انتظامیہ کے لئے ایک سنگین چنوتی ثابت ہورہا ہے۔ چناؤ کمیشن کی اس سمت میں سختی قابل خیر مقدم ہے۔ اگر انتخابات کو ان لعنتوں سے نجات دلائی جاسکے تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...