Translater

20 جون 2015

تاکہ پھر نہ لگے ایمرجنسی!

دیش میں ایمرجنسی تھونپنے کی برسی25 جون سے پہلے بھاجپا کے سینئر لیڈر اور اب مارگ درشک منڈل کے ممبر لال کرشن اڈوانی نے ایک انگریزی اخبار کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ1975-77 میں ایمرجنسی عہد کے بعد کے برسوں میں میں نہیں سوچتا کہ ایسا کچھ بھی کیا گیا ہے جس سے میں پوری طرح با آور رہوں کہ شہری آزادی پھر سے معطل یا تباہ نہیں کی جائے گی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے کوئی بھی اسے آسانی سے نہیں کرسکتا۔ ایسا پھر سے ہوسکتا ہے۔ بنیادی آزادی میں کٹوتی کردی جائے۔ ایک جرم کی شکل میں ایمرجنسی کو یاد کرتے ہوئے اڈوانی جی نے کہا کہ اندرا گاندھی نے اسے بڑھاوا دیاتھا۔2015 کے بھارت میں کافی سکیورٹی کوچ نہیں ہے۔ شری اڈوانی کے اس بیان کو اپوزیشن پارٹیوں نے نریندر مودی سرکار کے خلاف کی گئی رائے زنی کی شکل میں لے کر اس کا غلط مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ٹام وڈریکن نے کہا کہ مودی عہد ایمرجنسی کا اشارہ دے رہا ہے۔ اڈوانی جی کو جو کہنا تھا وہ کہہ دیا۔ صاف ہے کہ وہ اس کس کی بات کررہے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا اڈوانی جی صحیح کہہ رہے ہیں کہ ایمرجنسی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیا دہلی ان کا پہلا تجربہ ہے؟ لال کرشن اڈوانی نے جو اندیشہ ظاہر کیا ہے اسے ایک خاص پارٹی کے حمایتی یا باغی لیڈر کے بیان کی شکل میں نہیں لیا جاسکتا اور نہ ہی لیا جانا چاہئے۔ یہ جدید بھارت کے سیاسی فروغ میں لمبا اور سرگرم نبھا چکے ایک تجربہ کار اسٹیٹ مین کی نپی تلی رائے ہے۔ ہندوستانی جمہوریت اور اس کے شہریوں کے لئے ایمرجنسی کا دور ایک کالا باب رہا ہے۔ تب دیش نے دیکھا تھا کس طرح عدم تحفظ اور غرور میں چور ہوکر اس وقت کی سیاسی لیڈر شپ نے بے رضامندی اور احتجاج کے شہری حقوق کو یرغمال کرلیا تھا۔ لیکن تاریخ میں یہ بھی درج ہے کہ دیش میں جمہوریت کو کچلنے کی اس بدنیتی کے خلاف زبردست پلٹ وار کرتے ہوئے ووٹ کے ذریعے ذمہ داری کو زبردست سبق سکھایاتھا۔ یہ صحیح ہے کہ ہونے کو کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ جس دور میں دیش نے ایمرجنسی کو سہا آج ہمارے جمہوریت اس سے زیادہ سنجیدہ اورسرگرم حالت میں ہے۔ سرگرم عدلیہ اور بیلاگ میڈیا اور اپنے شہری حقوق کے تحفظ کو لیکر چوکس ووٹر خاص کر چناہوا طبقہ کی موجودگی میں ایمرجنسی کی آہٹ دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔ جہاں تک اڈوانی جی کا یہ کہنا کہ ایمرجنسی سے بچنے کے پختہ قدم ابھی نہیں اٹھائے جاسکے ،تو شاید ان کی یہ کمی ہے کہ ہمارے آئین میں ایسی ترمیم نہیں ہوئی جس سے ایمرجنسی لگانے کی بات پر کوئی حکمران غور نہ کرسکے۔ سچائی یہ ہے کہ اکیلے ایسی قانونی قدم میں اتنا مادہ نہیں ہے کہ وہ ایمرجنسی عہد کے خطرے سے ہمیں محفوظ کر سکے۔ یہ بھی نظر آرہا ہے کہ ان کے کہنے کے بہانے مخالف مودی سرکار پر نشانہ لگانے میں جٹ گئے ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی کے اندر بھی حالیہ دنوں میں ایسے ٹرینڈ کو مضبوطی ملی ہے جن کا جمہوری اقدار اور کسوٹیوں سے کوئی میل نہیں ہے۔سرکار میں سارے اختیارات ایک شخص کے ارد گرد سمٹے ہوئے ہیں لیکن اڈوانی جی کی تشویشات صرف سیاسی پارٹیوں تک محدود نہیں لگتی۔ جمہوریت کا پہریدار کہے جانے والے ایسے ادارے دیش میں نظر نہیں آتے جن کے جمہوری اقدار کو لیکر عزم پر شبہ ہو۔ یہ خیال رکھنا ضروری ہے جمہوری اقدار اور حقوق کو یرغمال ہر بار باقاعدہ اعلان کرکے نہیں کیا جاسکتا۔ وہ جمہوری دائرے میں قاعدے قانون کی آڑ میں بھی ہو سکتا ہے۔ بچا ہوا اور کوئی قدم نظر نہیں آتا سوائے مسلسل چوکسی ، مسلسل بیداری کے علاوہ۔ اڈوانی جی نے یہ بھی کہا کہ آج کی تاریخ میں نکمے پن کے خلاف میڈیا بیحد طاقتور ہے لیکن یہ جمہوری اور شہری حقوق کے لئے اصلی عزم ہے۔مجھے نہیں پتہ اس کی جانچ کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

تھوک مہنگائی شرح گھٹی لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی

حالانکہ تھوک قیمتوں پر مبنی مہنگائی شرح مسلسل ساتویں مہینے صفر سے نیچے رہی لیکن بازار میں سبزیوں ،اناج کے دام کم نہیں ہوئے ہیں۔ مئی 2015 میں یہ صفر سے 2.34 فیصدی نیچے رہی لیکن جس طرح سے دالوں اورپیاز کی قیمتوں میں تیزی کا رخ بنا ہوا ہے وہ سرکار کے لئے تشویش کا موضوع ضرور ہونا چاہئے۔ اگر مودی سرکار کے عہد کی بات کریں تو مہنگائی کی شرح2014 (مئی) 6.18 فیصدی تھی۔ مہنگائی کم ہونے کی ایک وجہ پیٹرول و ڈیزل سمیت ایندھن اور برقی سیکٹر میں گراوٹ کے سبب آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں تھوک مہنگائی مانسون پر منحصر کرے گی۔ محکمہ موسمیات نے اوسط سے12 فیصدی کم بارش کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ اس کی شروعات عام سے زیادہ ہوئی ہے۔ دالوں کی قیمتیں اور خوردہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تشویش کا موضوع یہ بھی ہے دال پیداوار والے علاقوں میں کم بارش کے آثار ہیں۔ ویسے بھی ان علاقوں میں سنچائی کی سہولیت کی کمی ہے۔ دیش میں پچھلے سال 184 لاکھ ٹن دال پیدا ہوئی تھی لیکن سالانہ کھپت210-220 لاکھ ٹن کی ہے۔ اس کمی کو دالوں کی درآمدات کرکے پورا کیا گیا۔ گذشتہ برس 34 لاکھ ٹن دال منگائی گئی۔ اس سال دال کی پیداوار والے علاقوں میں مانسون کو لیکر بے یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے ایسے میں ان کے دام آنے والے دنوں میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔ وزارت کامرس کے اعداو شمار کے مطابق پچھلے ماہ ایندھن اور بجلی گروپ کی چیزوں کے دام 10.51 فیصدی گر گئے۔ پیٹرول میں11.29 فیصدی اور ڈیزل میں 11.62 فیصدی گراوٹ آئی۔ رسوئی گیس کے دام 5.18 فیصدی کم رہے۔ انڈیکس میں 64.57 فیصدی کی برابری رکھنے والے مینوفیکچرنگ مصنوعات کے دام میں 0.64 فیصدی کی گراوٹ آئی ہے۔ دل۔ پیاز کے علاوہ گوشت، انڈہ، پھلوں اور دودھ جیسی مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی کا رخ دیکھنے کو ملا ہے۔ واقف کاروں کا کہنا ہے کہ سرکار کو اب ان مصنوعات کی سپلائی کے بارے میں توجہ دینا چاہئے تاکہ مہنگائی بڑھنے سے پہلے ان پر لگام لگائی جا سکے۔ دال کی سپلائی بڑھانے کے لئے حکومت نے حال ہی میں کئی قدم اٹھائے ہیں اس کے باوجود غذائی چیزوں کے دا م میں3.80فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ سی آر آئی کے سکریٹری جنرل کا کہنا ہے غذائی چیزوں میں 3-4فیصدی کا اضافہ تشویش کی بات نہیں ہے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوگا۔ ایسے میں ریزرو بینک کو سود کی شرحوں کو گھٹانے میں زیادہ پریشانی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ مہنگائی کی شرح مرکزی بینک کے نشانوں کے مطابق ہی ہے۔ فکی کی چیئرمین جوتسنا سوری کا کہنا ہے کہ مانسون عام سے کم رہنے کا خطرہ تو ہے لیکن سرکار نے جس طرح سے اس سے نمٹنے کا خاکہ تیار کیا ہے اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی زیادہ نہیں بڑھے گی۔ ہم بھی امید کرتے ہیں مہنگائی پر کنٹرول رکھا جائے گا۔
(انل نریندر)

19 جون 2015

مودی کے چہرے پر ہی بھاجپا لڑے گی بہار چناؤ!

بہار کے سیاسی مہا بھارت میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لئے سیاسی پارٹیوں میں دوڑلگی ہوئی ہے۔ اقتدار پانے کی اس دوڑ میں شامل سیاسی پارٹیوں نے اسمبلی چناؤ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی چناؤ مہم سے لیکر ووٹ مینجمنٹ پرپورا زور لگادیا ہے۔ ووٹوں کی گول بندی کے لئے سیا۹سی پارٹیوں نے اپنے اپنے لیڈروں کے چہرے کو آگے کردیا ہے۔ بہار کے چناوی موسم میں وزیر اعلی نتیش کمار ہائی ٹیک کمپین کا کوئی بھی ہتھیار چھوڑنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے ’بڑھ چلا بہار‘ ابھیان کے ذریعے خود کو جنتا دل (یو) آر جے ڈی اتحاد کے لیڈر کی شکل میں تشہیر کرنا شروع کردیا ہے۔ جہاں تک بھارتیہ جنتا پارٹی کا سوال ہے وہ اپنے وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار کا نام اعلان نہیں کرے گی۔ امید یہی تھی کہ مہاراشٹر، ہریانہ چناؤ کی طرح بہار میں بھی کسی لیڈر کو سی ایم اِن ویٹنگ کی شکل میں پیش نہیں کرے گی۔ پارٹی وزیر اعظم نریندر مودی کی لیڈر شپ میں ہے اپنی چناؤ کمپین کو بنیاد بنائے گی۔ ریاست کے لئے پارٹی کے چناؤ انچارج اننت کمار نے اعلان کیا ہے بھاجپا نریندر مودی کی لیڈر شپ میں وکاس کے ایجنڈے کو پروپگنڈہ کرنے کے لئے تین مہینے بعد ہونے والے چناؤ میں اترے گی۔ ایک لحاظ سے یہ چالاکی بھرا فیصلہ ہے۔ بہار جیسے ذات پات کے تجزیوں کے درمیان کسی ایک برادری کا امیدوار کئی ذاتوں کے لئے مشکل کا سبب بن سکتا تھا ویسے بھی بہار میں بھاجپا کے پاس کوئی قابل قبول چہرہ نہیں ہے۔ اس کے کئی لیڈر وزیر اعلی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ کوئی ایک ایسا لیڈر نہیں ہے جس کے نام سے پورے بہار میں ووٹ مل سکیں۔ ڈر یہ بھی ہے کہ اگر کسی لیڈر کو وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار اعلان کردیا جاتا ہے تو مہاراشٹر لیڈر اندر خانے اتر آتے ہیں اور صاف ساکھ اور اپنے خاص ترقی کے ایجنڈے کے ساتھ نتیش کمار آج بھی مضبوط طاقت ہیں اور جنتادل یونائیٹڈ اور لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی میں اتحا د پکا ہونے کے بعد سماجی تجزیئے کے معاملے میں بھی بھاجپا کی راہ آسان نہیں رہ گئی ہے۔ اس پس منظر میں اس کی نیا اپنے حمایتی نتیش ۔لالو مخالف ووٹروں کا پوری طرح سے پولارائزیشن سے ہی پار لگ سکتی ہے۔ بھاجپا کے سیاسی حکمت عملی سازوں نے ٹھیک ہی تجزیہ کیا ہے ایسی کسی جگاڑ بندی کے لئے جو جوش چاہئے وہ صرف نریندر مودی کے نام سے ہی پیدا ہوسکتا ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا لیڈر شپ والے اتحاد کو بہار میں38.77 فیصدی ووٹ ملے تھے۔ کیااین ڈی اے اسمبلی چناؤ میں بھی اس کو دوہرا سکے گی؟ وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت وہ نہیں جو پارلیمانی چناؤ کے وقت تھی اس میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ رہی سہی کثر للت مودی معاملے نے نکال دی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کیا اس للت مودی کا اثر اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو اٹھانا پڑے گا۔ بھاجپا کے لئے بہار کے چناؤ بہت اہم ہیں کیونکہ لوک سبھا چناؤ میں اس نے بہار ہی نہیں پورے شمالی ہندوستان میں اپنا ڈنگا بجایا تھا۔ اگر بہار میں بھاجپا کے حق میں نتیجے نہیں آئے تو یہ اشارہ جائے گا کہ مودی لہر اب رک گئی ہے اور اس کا دور رس اثر ہوگا۔
(انل نریندر)

امتحان کے پروسس پر لگا داغ!

آخر کار سپریم کورٹ نے اے آئی پی ایم ٹی (آل انڈیا پریمیڈیکل ٹیسٹ) منسوخ کردیا ہے۔ ساتھ ہی سی بی ایس ای کو چار ہفتے میں دوبارہ امتحان لینے کو کہا ہے۔یعنی15 جولائی سے پہلے امتحان منعقد کرانا ہوگا۔ اس سے پہلے 3 مئی کو امتحان ہوا تھا اس میں دیش بھر سے 6.3 لاکھ طالبعلم بیٹھے تھے۔ امتحان میں گڑ بڑی کی پہلی شکایت ہریانہ کے روہتک سے آئی تھی۔ معاملہ کورٹ پہنچا تو 10 ریاستوں سے بھی اسی طرح کی شکایتیں آگئیں لیکن سی بی ایس سی انکار کرتی رہی ہے۔ روہتک پولیس نے جب کورٹ میں ثبوت پیش کرکے کہا کہ کم سے کم 44 طلبہ نے نقل کا فائدہ اٹھایا۔ اس پر سی بی ایس ای نے دلیل دی تھی کہ 44 طلبا کے سبب6.3 لاکھ طلبا کو دوبارہ ٹیسٹ دلوانا صحیح نہیں ہوگا لیکن سپریم کورٹ نے پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اشو ٹیسٹ کی سنسیرٹی کا ہے جس پر شبہ اٹھ رہا ہے۔ اب دوبارہ ٹیسٹ منعقدکرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس امیتابھ رائے کی لیو سیشن بنچ نے اے آئی پی ایم ٹی کو منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹیسٹ سے غلط طریقے سے کچھ طلبا کو فائدہ پہنچا ہے لہٰذا ٹیسٹ مشتبہ ہوگیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ اگر اس ٹیسٹ کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو میریٹ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ اگر اس امتحان کے پروسس کو جاری رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے تو عرضی گزاروں میں غصہ بڑھ جائے گا۔ اس سے ایماندار طلبا کا کیریئر متاثر ہوگا۔ اندیشہ ہے کہ اہل طلبا کی جگہ ان طلبا کو مل جائے گی جنہیں بے قاعدگی سے فائدہ پہنچا لیکن ان کی پہچان نہیں ہوپائی۔ نقل کے لئے انڈرگارمینٹ میں لگا رکھی چپ، جسے موبائل میں لگا کر نقل کی گئی اس کا انکشاف 7 مئی کو روہتک نے کیا۔ ملزمان کے پاس سے موبائل، مائیکرو چپ لگے انڈر گارمینٹ ضبط کئے گئے۔ موبائل میں پیپر کے جواب بھی ملے ، وہ واٹس اپ سے بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد راجستھان، ہریانہ، دہلی سمیت 6 ریاستوں میں چھاپے مارے گئے۔ اب ان ریاستوں میں داخلے میں تاخیر ہوگی جو اپنا میڈیکل اینٹرنس ٹیسٹ نہیں کرواتے۔ اے آئی پی ایم ٹی کے ذریعے سیٹیں بھرتے ہیں۔ ہریانہ ، ہماچل، مدھیہ پردیش، راجستھان اور ہماچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، اڑیسہ، چنڈی گڑھ اور دہلی یونیورسٹی، اے ایف ایم ٹی ، بی ایچ یو اور جامیہ ملیہ اس زمرے میں آتے ہیں۔ طلبا کو پھر سے امتحان کی تیاری کرنی پڑے گی۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں نئے بیچ شروع ہوچکے ہوں گے۔ ٹیچروں کے لئے پرانے بیچ کے طلبا کو پھر سے وقت دینا مشکل ہوسکتا ہے۔ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ پورا سسٹم ہائی جیک ہوچکا ہے۔ سی بی ایس ای نے تعاون نہیں کیا۔ اس سے ٹیسٹ کا پورا پیٹن بدلنا ہوگا تاکہ پھر سے ایسی گڑ بڑی نہ ہو۔ نقل اور پیپر آؤٹ ہونے سے روکنے کے لئے سی بی ایس ای سبھی امتحان مراکز پر جیمر لگانے پر غور کررہی ہے۔ امتحان سینٹر طلبا کی پسند نہ ہوکر رینڈم طریقے پر طے کرنا چاہئے۔ امید کرتے ہیں مستقبل میں نقل اور پیپر آؤٹ ہونے پر کنٹرول ہوگا۔
(انل نریندر)

18 جون 2015

جگیندر معاملہ:کٹہرے میں کھڑی اکھلیش یادو حکومت

اترپردیش کے شاہجہاں پور میں جرنلسٹ جگیندر سنگھ کو جلانے کا واقعہ جتنا بے رحمانہ تھا جس سے آخر کار ان کی موت ہوگئی۔ اس واردات کے قریب 9-10 دن بعد بھی اہم ملزم ریاست کے وزیر رام مورتی ورما کے خلاف کارروائی ہونا تو دور کی بات ہے سماج وادی پارٹی نے صاف کیا کہ فی الحال ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ اترپردیش کے سینئر کیبنٹ وزیر شیو پال یادو نے کہا جانچ پوری ہونے پر ہی کسی وزیر کو ہٹایا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہا کہ آپ تو جانتے ہیں کہ جھوٹی رپورٹ درج کرائی جاتی ہے، الزام لگائے جاتے ہیں۔ جب تک جانچ پوری نہیں ہوگی تب تک کسی وزیر کو ہٹایا نہیں جائے گا۔ جگیندر سنگھ کے قتل کے معاملے میں وزیر سے اب تک پوچھ تاچھ نہیں کئے جانے کے پیش نظر منصفانہ جانچ کے امکان کو لیکر اٹھ رہے سوالات کے بارے میں پوچھے جانے پر یادو نے دعوی کیاکہ تفتیش جاری ہے جانچ بھی ہورہی ہے۔ یوپی کے گورنر رام نائک نے پچھلے ہفتے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کرکے ریاست کے حالات کے ساتھ جرنلسٹ جگیندسنگھ و جلائے جانے ے واقعے کی جانکاری دی۔ چاروں طرف سے دباؤ کے سبب بڑی مشکل سے اکھلیش سرکار نے ان پانچ پولیس والوں کو معطل کردیا جو اس بے رحمانہ قتل میں ملوث تھے۔ سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر اپنے صفحہ شاہجہاں پور سماچار پرخبریں و رپورٹ مقامی صحافیوں کے لئے اطلاعات کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ ان کا استعمال ایک بااثر رسوخ بن گیا تھا۔انہوں نے ریاستی سرکار کو رو ک کے باوجود اے پی ایل( خط افلاس کی سطح سے اوپر) راشن کارڈ سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پسماندہ طبقے کے براہمن وزیر راج مورتی خفا ہوگئے۔ گذشتہ 22 مئی کو اپنی فیس بک پوسٹ میں جگیندر نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ کبھی بھی ان پر حملہ ہو سکتا ہے اور حملہ ہوا بھی جس میں ان کا پیر ٹوٹ گیا۔ ادھر شاہجہاں پور پولیس کا دعوی ہے جگیندر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے جس وجہ سے ان کے خلاف پانچ فوجداری کے مقدمے درج ہوئے۔ 27 مئی کو جگیندر نے اپنے فیس بک پوسٹ میں ورما پر آبروریزی میں شامل ہونے کا الزام لگایا۔ انہی حالات میں 1 جون کو پولیس ان کے گھر پر پہنچی۔ اسی دوران ان کی جل کر موت ہوگئی۔ جگیندر کے بیٹے کے ذریعے صاف الفاظ میں ورما اور پولیس ملازمین کا نام لینے کے باوجود پولیس مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول کرتی رہی۔ معاملہ تب درج ہوا جب یہ واردات ملک و بیرون ملک کے بارے میں خبریں شائع ہوئیں اور ایمنسٹی انٹر نیشنل جیسی تنظیموں نے آوازاٹھائی۔ رام مورتی ورما پر محض قتل کا الزام اور ریپ کا الزام ہی نہیں کچھ دن پہلے تک وقف املاک پر زبردستی قبضہ کرنے کے الزامات کا سامنا کررہے تھے۔ نوجوان وزیر اعلی اکھلیش یادو سے جنتا کو بہت امیدیں ہیں اور اتنے دن بعد بھی وہ رام مورتی ورما کو ہٹانے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں۔ مایوس کن بات ہے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اکھلیش سرکار کی میعاد میں سپا نیتا اور ورکر وں کے اتنے حوصلے بلند ہوگئے ہیں کہ وہ اپنے خلاف آواز اٹھانے والوں کا قتل تک کرنے سے نہیں ہچکچا رہے ہیں۔ جرنلسٹ اور آر ٹی آئی ورکر کے قتل عام جہاں شفافیت کی بات کرنے والی اکھلیش سرکار کی ساکھ پر دھبہ لگا ہے وہیں پارٹی ورکروں کا بڑھتا حوصلہ اس کی ناکامی کی علامت بھی ہے۔ جگیندر کے خاندان والوں نے پوری واردات کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی بات ہی ہے کیونکہ وہ پولیس انتظامیہ کیسی جانچ کرے گی جس میں وہ خود ملزم ہے؟ ہماری مانگ ہے کہ ریاستی وزیر رام مورتی کو جانچ پوری ہونے تک وزیر کے عہدے سے ہٹایا جائے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کی جائے۔ اکھلیش سے یہی امید ہے۔
(انل نریندر)

اور اب جانچ کے دائرے میں آئیں ڈبہ بند غذائی اجناس

میگی نوڈلس میں طے پیمانوں سے زیادہ مقدار پائے جانے کے بعد اب سبھی ڈبہ بند فوڈ پروڈکٹس کی کوالٹی کو لیکر سوال اٹھنے لگے ہیں۔فوڈ سیفٹی ریگولیٹر اتھارٹی آف انڈیا نے اسٹیٹ فوڈ کمشنروں سے کہا ہے کہ وہ بازار میں دستیاب سبھی ڈبہ بند چیزوں کی جانچ کریں۔ یہ حکم میگی کو لیکر پیدا ہوئے تنازعہ کے درمیان آیا ہے۔ دیش میں سینکڑوں ڈبہ بند غذائی اجناس بغیر رجسٹریشن کے ہی فروخت ہو رہی ہیں۔ ایسے میں ان پروڈکٹس کی جانچ ضروری ہوگئی ہے لیکن اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ انڈین فوڈ محکمے کی جانب سے ریاستی حکومتوں کو ڈبہ بند اجناس کی جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اس حکم کے تحت جس طرح یہ کہا گیا ہے ان غذائی پروڈکٹس کے نمونوں کی بھی جانچ ہو جو ایف ایس ایس اے آئی سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دیش میں ایسے بھی ڈبہ بند سامان بک رہے ہیں جن کی کوالٹی کی کہیں کوئی جانچ پرکھ نہیں ہورہی ہے۔حالانکہ ڈبہ بند فوڈ سے صحت پر پڑنے والے نا مناسب اثر کو لیکر پہلے کئی جائزے آئے ہیں۔ان کی کوالٹی پر سختی سے نظر رکھنے کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن تب اس معاملے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی دی تھی۔ رسوئی گھر میں روز تیار ہونے والے کھانے پر آہستہ آہستہ بازار کا قبضہ ہوتا گیا ہے اور طرح طرح کی نمکین اور مٹھائیوں ،دودھ سے بنی چیزوں کے علاوہ اچار، چٹنی، مربے ، پھل کے رس، شربت، کٹی ہوئی سبزیاں یہاں تک کہ تیار روٹی ،پراٹھے دال و گوشت وغیرہ بھی پیکٹوں میں دستیاب ہونے لگے ہیں۔ شاید ہی اب ایسا کوئی روایتی کھانا ہے جسے پیکٹ میں بند کرکے بیچنے کی ترکیب نہ نکالی گئی ہو۔ غذائی پروڈکٹس کی خامی کا معاملہ کوئی پہلی بار سامنے نہیں آیا اس طرح کے معاملے رہ رہ کر سامنے آتے رہتے ہیں اور ان سے یہی پتہ چلتا ہے کہ مرکز اور ریاستوں میں فوڈ پرڈکٹس کی کوالٹی پرکھنے کے لئے کوئی ٹھوس سسٹم نہیں بنا رکھا ہے۔ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے غذائی پروڈکٹس کی کوالٹی کی جانچ پرکھ کا موجودہ سسٹم کوئی بہت زیادہ بھروسے مند نہیں ہے۔ فوڈ پروڈکٹس صحت کے لئے نقصاندہ ہیں یا نہیں اس کا تجربہ کرنے والی لیباریٹری کی پوزیشن پر بھی تسلی نہیں ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اس طرح کی لیباریٹری میں بنیادی وسائل ہی نظر نہیں آتے۔ دیر سے ہی صحیح ایف ایس ایس آئی سبھی ڈبہ بند غذائی پروڈکٹس کی کوالٹی جانچنے کیلئے سرگرم ہوا ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں کتنی شفافیت اور غیر جانبداری برتی جاتی ہے۔ نامی گرامی کمپنیوں کی پبلسٹی اور بکری مشینری کو لیکر کئی بار شبہ ہوا ہے لیکن ان کے رسوخ یا پہنچ کے سبب کبھی ان پر جانچ کی آنچ نہیں آتی۔ صارفین کے پاس غذائی پروڈکٹس کی کوالٹی جانچنے کا نہ توک وئی آسان اور ٹھوس ذریعہ ہے اور نہ ہی عدالت میں یہ ثابت کر سکنے کا طریقہ ہے کہ کوئی چیز کھانے کے بعد اس کی صحت پر مضر اثر پڑا اس لئے ایف ایس ایس اے آئی کی تازہ پہل نے امید جگائی ہے بشرطیکہ یہ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
(انل نریندر)

17 جون 2015

سشما کنٹروورسٹی: کانگریس بات کا بتنگڑ بنا رہی ہے

وزیر خارجہ سشما سوراج آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کی مدد کے معاملے میں تنازعے میں زبردستی پھنسانے پر تلی کانگریس بات کا بتنگڑ بنا رہی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ فنڈ میں غبن کے الزامات کے سلسلے میں للت مودی کے خلاف ہندوستان میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے ان کی تلاش کے لئے نوٹس جاری ہوا ہے۔للت مودی 2010ء سے ہی لندن میں رہ رہے ہیں۔ الزامات کے مطابق للت مودی کو پرتگال کے دورے کے لئے دستاویز فراہمی کیلئے برطانوی ایم پی اور ہائی کمشنر سے درخواست کی تھی۔ سشما نے ایتوار کو 14 مرتبہ ٹوئٹ کرکے صفائی دی۔ کہا کہ للت مودی کی اہلیہ کو کینسر تھا اور پرتگال میں آپریشن ہونا تھا۔ للت مودی کو آپریشن کے پیپرس پر دستخط کرنے تھے۔ میں نے انسانی بنیاد پر مدد کی اس میں غلط کیا ہے؟ آپریشن کے بعد ویسے بھی للت مودی لندن واپس آگئے تھے۔ میں نے برطانوی ہائی کمشنر سے صاف کہا تھا کہ وہ برطانیہ کے قواعد کے تحت ہی للت مودی کی مدد کریں۔کہا یہ بھی جارہا ہے کہ سشما کے شوہر سوراج کوشل اور بیٹی بنسری کوشل ملزم للت مودی کی وکیل ہیں۔ سشما پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بھتیجے جوتربھے کوشل کو برطانیہ کے لا ڈگری کورس میں داخل دلانے کے لئے واچ کی مدد لی تھی۔ ایک ای میل میں دعوی کیا گیا ہے کہ سشما کے شوہر سوراج کوشل نے للت مودی سے ایک برطانوی یونیورسٹی میں بھتیجے کا داخلہ کرانے کو کہا تھا۔ انہوں نے اس کا داخلہ 1993 میں یعنی میرے وزیر بننے سے ایک سال پہلے ہو چکا تھا۔ ہائی کورٹ نے للت مودی کا پاسپورٹ بحال کردیا تھا۔ سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے کہا کہ کسی کی بیوی کو کینسر ہو اور انسانی بنیاد پر سشما سوراج نے کچھ کہا ہو تو کونسا پہاڑ ٹوٹ گیا؟ جو لوگ سشما سوراج کو جانتے ہیں وہ واقف ہوں گے کہ سشما کا رویہ ہر ایک کی مدد کرنے والا ہے۔ ایسے ہی ان کے شوہر سوراج کوشل ہیں ،کوئی بھی اپنا مسئلہ لے کر ان تک جا سکتا ہے او ر وہ قاعدے قانون میں رہ کر اس کی مدد کرتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اپوزیشن خاص کر کانگریس بغیر کسی جانچ پرکھ کے ’کوا کان لے گیا‘ کے محاورے کی طرح شور مچانے میں لگی ہوئی ہے۔ اسے سشما سوراج کا استعفی چاہئے اور وہ بھی فوری۔ سشما جی پر الزام ہے کہ انہوں نے للت مودی کے پرتگال دورے میں مدد کی تھی۔ حالانکہ للت مودی کے پرتگال جانے کی درخواست پر فیصلہ برطانوی حکومت کو اپنے قاعدے قانون کے تحت کرنا تھا لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس میں سشما سوراج کا کردار رہا اور وہ ان کی مداخلت سے پرتگال جا سکے تو یا یہ جرم کے زمرے میں آتا ہے؟ آخر ایسا بھی نہیں ہے کہ للت مودی پرتگال جا کر فرار ہوگئے یا پھر انہوں نے وہاں کسی طرح کے جرم کو جنم دیا ہے؟ للت مودی پرتگال گئے اور اپنی کینسر سے بیمار اہلیہ کے آپریشن کے بعد لندن واپس لوٹ آئے۔ اس میں گھپلا گھوٹالہ کیا ہے؟ کیا یہ کسی سودے بازی کے تحت ہوا، کیا کوئی پیسے لین دین کے سبب ہوا؟ جرم تو تب بنتا ہے جب سشما سوراج یا سوراج کوشل نے مدد کرنے کے لئے پیسے لئے ہوں؟ مجھے کیرل کے ماہی گیروں کے قتل کا الزام کا سامنا کر رہے اٹلی کے مرین کا قصہ یاد آرہا ہے۔ اگر یہ قتل کے ملزم کرسمس منانے اپنے وطن جا سکتے ہیں تو للت مودی کینسر سے بیمار بیوی کے آپریشن کے لئے پرتگال کیوں نہیں جاسکتے؟ للت مودی پر مالی گھوٹالے کے الزام ضرور ہیں لیکن انہیں ابھی تک کسی بھی عدالت نے نہ تو انہیں قصوروار قرار دیا ہے اور نہ ہی کوئی سزا سنائی ہے۔ للت مودی کے وکیل محمود عابدی نے کہا للت مودی کو کانگریس لیڈر ششی تھرور کی بیوی سنندا پشکر کے آئی پی ایل ٹیم کے شیئر کا خلاصہ کرنے کے بعد سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آج اے راجہ اور جمائی راجہ والے اخلاقیات کی بات کررہے ہیں۔عابدی نے انگریس کے ذریعے للت مودی کو بھگوڑہ کہے جانے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ہا کہ کسی کورٹ نے للت مودی کو قصوروار قرار نہیں دیا ہے۔ آج وہ کانگریس سب سے زیادہ ہلا مچا رہی ہے جس نے بوفورس گھوٹالے میں دلالی کھانے والے اٹلی کے تاجر کواتروچی اور سینکڑوں لوگوں کی موت کے لئے یونین کاربائیڈ کے چیف وائن اینڈرسن کو بھاگنے کا موقعہ دیا۔ انہیں بھی انسانی بنیاد پر دیش سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ جن لوگوں کے گھر شیشے کے ہوتے ہیں وہ دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں مارتے۔ للت مودی ا شو اٹھا کر کانگریس بے تکی بات کا بتنگڑ بنا رہی ہے۔ دیش شاید ہی ان کے بہکاوے میں آئے۔

(انل نریندر)

موبائل میں کال ڈراپ ہونے اور کنکشن نہ ملنے کامسئلہ

پچھلے کچھ دنوں سے موبائل سروسز میں کچھ گڑ بڑی سی آگئی ہے۔ آپ کا موبائل کھلا ہو تب بھی آپ کا فون نہیں بجتا اور پھر میسج آجاتا ہے مس کال کا۔ آپ بات کررہے ہوتے ہیں اچانک رابطہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ کال ڈراپ کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں 10 سے زیادہ علاقے موبائل نیٹور ک کے لئے مردہ زون بن گئے ہیں۔ ایسے علاقے ہیں جہاں پہنچنے پر نیٹ ورک غائب ہوجاتا ہے۔ فون یاتو کٹ جاتا ہے یا کنکشن ہی نہیں ملتا۔ ہر کمپنی کے ڈیڈ زون کے الگ الگ نیٹ ورک ہیں۔ 45 فیصد سے زیادہ یعنی ساڑھے چار کروڑ صارفین بھارتیہ ایئر ٹیل، ووڈا فون اور آئیڈیا سیلولر ا استعمال کرتے ہیں۔ 5700 سیل سائٹ ہیں بھارتیہ ایئر ٹیل کی دہلی میں، ووڈا فون کی5900 سائٹ ہیں۔ ٹاور اینڈ ڈھانچہ بند پرووائڈر ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل امنگ داس کے مطابق موجودہ وقت میں موبائل گراہکوں کی تعداد کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیش میں فی الحال625000 موبائل ٹاور ہونے چاہئیں جبکہ دیش میں اب تک محض 425000 ٹاورلگائے جاسکے ہیں۔ بہتر موبائل سروس کے لئے دیش میں ابھی کم سے کم دو لاکھ ٹاور لگائے جانے کی ضرورت ہے۔ سیلولر آپریٹرس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے مطابق مارچ2009ء میں جہاں دیش میں موبائل ہولڈروں کی تعداد تقریباً 39 کروڑ تھی ان کی تعداد بڑھ کر مارچ 2014ء میں 90 کروڑ ہوگئی ہے۔اس دوران جہاں گراہکوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ درج کیا گیا وہیں موبائل ٹاوروں کی تعداد میں سال 2010 سے2014 کے درمیان محض41 فیصد ا اضافہ درج کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق پوری دنیا میں بھارت کی موبائل آپریٹر کمپنیوں کے پاس اوسطاً سب سے کم اسپیکٹرم ہے۔ آسٹریلیا ، ساؤتھ کوریا، سنگا پور، ملیشیا جیسے بازارکی بہ نسبت یہ بیحد کم ہے۔ دوسری طرف وزیر مواصلات روی شنکر پرساد نے کال بیچ میں ہی ختم کرنے کے اشو پر ٹیلی کمپنیوں کو کھری کھوٹی سنائی ہے۔وزیر نے ان کمپنیوں سے کہا ہے کہ زیادہ کوششوں سے اپنے سسٹم کو مضبوط کریں کیونکہ ان کے پاس بغیر کسی رکاوٹ کے ٹیلی سہولیات دینے کے لئے کافی اسپیکٹرم ہے۔ پرساد نے بتایا کہ انہوں نے انڈین ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے تیزی سے سسٹم بنانے کو کہا ہے۔ ایک انٹرویو میں پرساد نے کہا وزیر کی حیثیت سے میں چاہوں گا کہ سبھی ٹیلی کمپنیاں اپنے سسٹم کو درست کریں جس سے کال ڈراپنگ سے بچا جا سکے۔ وہ اپنی سیوا و بہتر طریقے سے چلا سکیں۔ مسئلے کا حل تبھی ہوسکتا ہے جب کمپنیوں پر جرمانہ رقم زیادہ بڑھے۔ ریڈیو کوریج میں بہتری لائی جائے۔ نیٹ ورک کی صلاحیت بڑھا کر اس مسئلے سے نپٹا جاستا ہے۔ دہلی میں ٹاور بڑھانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ وقت میں دہلی میں 34000 موبائل ٹاور ہیں جبکہ 50 ہزار سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ ہرایک موبائل آپریٹر کو بہتر فریکوئنسی دی جائے۔ امیدکی جاتی ہے موبائل آپریٹر صارفین کو آرہی دقتوں کا جلد ہی کئی حل نکالیں گے۔
(انل نریندر)

16 جون 2015

مہنگائی سے پریشان دہلی والوں پر مہنگی بجلی کی مار!

دہلی کی سیاست میں بجلی پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کو دہلی کے تاج تک پہنچانے میں بجلی کا اہم کردار رہا ہے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کم بجلی کھپت کرنے والے صارفین کیلئے بجلی بل میں 50 فیصدی کمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے دہلی کے شہریوں نے راحت کی سانس لی تھی۔ لیکن اب ایک بار پھر راجدھانی میں بجلی مہنگی ہوگئی ہے۔ جہاں ایک طرف دہلی سرکار ہے تو دوسری طرف دہلی بجلی ریگولیٹری کمیشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دہلی سرکار میں وزیر بجلی ستیندر جین نے ٹوئٹ کیا کہ سرکار ڈی ای آر سی کو بجلی دام بڑھانے کے حکم پر نظرثانی کرے گی۔ ہم اس حکم سے متفق نہیں ہیں۔ ڈی ای آر سی نے اپیلیٹ ٹربونل آف الیکٹریسٹی کی ہدایت کا حوالہ دے کر بجلی کمپنیوں کو صارفین سے بجلی خریدمجموعی لاگت ٹیکس(پی پی اے سی) سرچارج وصولنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے بجلی 4 سے6 فیصد تک مہنگی ہوگئی ہے۔ اسے روکنے کیلئے نہ تو دہلی سرکار اور نہ ہی ڈی ای آر سی نے کوئی قدم اٹھایا ہے۔ سیاسی پارٹی اب اس کیلئے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کررہی ہیں۔ سرکار جہاں کمیشن کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج رنے کی بات کررہی ہے وہیں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بجلی کے دام بڑھانے کے لئے پوری طرح سے دہلی سرکار ذمہ دار ہے۔ ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنوں کی بھی ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے جس طرح سے شیلا دیکشت سرکار بجلی کے دام بڑھنے پر بیان بازی کرتی تھی ٹھیک اسی طرح سے عام آدمی پارٹی سرکار بھی بات کر رہی ہے۔ اگر سرکار کمیشن کے سامنے صحیح ڈھنگ سے جنتا کے مفاد کا موقف رکھتی تو یہ حالت نہ ہوتی۔ اب وزیر اعلی اروند کیجریوال اور وزیر بجلی ستیندر جین لوگوں کو بوقوف بنا رہے ہیں۔ دہلی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر وجیندر گپتا کا کہنا ہے کہ کانگریس سرکار کی طرح عام آدمی پارٹی سرکار بھی بجلی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے پی پی اے سی کے بہانے دہلی کے شہریوں پر مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔ آپ سرکار اس فیصلے کو واپس لے اور سی اے جی سے بجلی کمپنیوں کے کھاتوں کی جانچ جلدی پوری کرکے انہیں سامنے لانے کی درخواست کرے۔ ادھر نارتھ ایسٹ ریزینڈنٹ ویلفیئر فیڈریشن کے صدر اشوک بھسین کا کہنا ہے کہ اے ٹی ای کے حکم پر عمل کرنے کے لئے تین ہفتے کا وقت تھا لیکن ڈی ای آر سی نے ٹربونل کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہیں دیا۔ ساتھ ہی پی پی اے سی مقرر کرنے کے لئے عوام کی نہیں سنی گئی۔ کمیشن نے کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے چپ چاپ پی پی اے سی لگا کر دہلی کے شہریوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ بجلی مہنگی ہونے سے پہلے ہی مہنگائی سے پریشان دہلی کے شہریوں پر مزید بوجھ بڑھ گیا ہے اور جھلسا دینے والی اس گرمی میں جہاں لوگ بجلی کی قلت سے پریشان ہیں وہیں قیمت بڑھنے سے خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

سگریٹ کے پیکٹ سے بھی سستی بکتی ہیں لڑکیاں

اس وقت دنیا میں سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم آئی ایس کی حرکتیں آئے دن سامنے آتی رہتی ہیں۔ تازہ خبر کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کے لڑاکو کے ذریعے مارے گئے 600 لوگوں کی لاشیں شمالی عراق میں زمین کھود کر نکالی گئی ہیں۔ عراق کے انسانی حقوق وزیر محمد البیاتی نے کہا کہ لاشوں کی تعداد اور بڑھ سکتی ہے۔ یہ تمام لاشیں ایئرفورس کے ان جوانوں کی ہیں جو دیش کے سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہرتکرت کے دہشت گردوں کے قبضے میں آنے کے مار ڈالے گئے تھے۔ ایک سال پہلے 12 جون2014 کو آئی ایس نے تکرت شہر پر ایک فوجی اڈے پر قبضہ کرلیا تھا اور ایئر فورس کے قریب چار ہزار جوانوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں ایک ہزار سے 1700 کے قریب جوانوں کو مار کر مختلف مقامات پر گاڑھ دیا گیا تھا۔ آئی ایس کے ذریعے لڑکیوں کا اغوا کر انہیں بیچے جانے کی خبریں آتی رہی ہیں لیکن اس فروختگی کے شرمناک طریقوں پر تازہ انکشاف نے دہشت گردی کا ایک اور خوفناک چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ شام اور عراق کے ان بازاروں میں لڑکیاں کسی سامان کی طرح مردوں کے سامنے پیش ہوتی ہیں۔ انہیں سب کے سامنے پردہ کر وڑیوں کے بھاؤ بیچا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنسی تشدد امور معاملوں کی امبیسڈر زینب بانگولا کے مطابق انہوں نے اپریل میں عراق اور شام کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے آئی ایس کے قبضوں والے علاقوں میں سے بچ کر آئی عورتوں اور لڑکیوں سے بات کی۔انہوں نے پایا کہ دہشت گرد جب کسی علاقے پر قبضہ کرتے ہیں تو عورتوں کا اغوا کر لیتے ہیں پھر انہیں کسی سامان کی طرح بعد میں کم دام پر بیچ دیا جاتا ہے۔ یہ سگریٹ کے ایک پیکٹ کے دام سے بھی کم میں ہوسکتا ہے تو کئی بار 100 سے 1000 ڈالر تک بولی جاتی ہے۔ یہ قیمت ان ی عمر اور خوبصورتی پر طے ہوتی ہے۔ رپورٹ ے مطابق لڑکیوں کا اغوا کرنا، ان کو خوبصورت دکھا کر غیر ملکی لڑکوں کو تنظیم میں شامل کرنا آئی ایس کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ آئی ایس غیر ملکی لڑکوں سے کہتا ہے کہ ان کے پاس بہت ساری لڑکیاں ہیں جس سے وہ شادی بھی کر سکتے ہیں۔ اس سے راغب ہوکر بڑی تعداد میں غیر ملکی نوجوان دہشت گرد بن کر آئی ایس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ پچھلے18 مہینوں میں عراق اور شام میں ریکارڈ تعداد میں غیر ملکی لڑاکے شامل ہوئے ہیں۔ خبر ہے کہ 100 ملکوں سے 25 ہزار لڑاکے دہشت گرد تنظیم کے ساتھ ہاتھ ملا چکے ہیں۔ وہیں غیر ملکی لڑاکے آئی ایس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ جنگ کے دوران پکڑی گئی عورتوں کو کہتے ہیں ’اصبی‘ آئی ایس انہیں زبردست جنسی رشتے بنانے کی اجازت دیتا ہے اور تحفے کے طور پر بھی لڑاکے سونپ سکتے ہیں لڑکیاں مار پیٹ سے لیکر چھوٹی بچیوں کو بھی اذیت پہنچانے کی اجازت ہے انہیں بھاگنے نہیں دیا جاتا۔ سزا پر پھر سے قید کردیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے 15 سال کی ایک لڑکی کے درد کو سمجھا ہے یہ لڑکی 50 سال کے ایک شیخ کو بیچی گئی تھی۔ شیخ نے اسے ایک بندوق اور چھڑی دکھا کر پوچھا کیا اسے یہ چاہئے۔ لڑکی شاید جینا نہیں چاہتی تھی اس لئے بندوق مانگی۔ اس پر شیخ نے کہا کہ اسے خودکشی کا موقعہ نہیں دے گا۔ بعد میں وہ لڑکی بار بار آبروریزی کا شکار ہوئی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...