Translater

12 اکتوبر 2013

ہر بات ممی سے پوچھنے والا دیش کا وزیر اعظم کیسے ہوسکتا ہے:رام دیو

یوگ گورو بابا رام دیو آج کل پھر سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ وہ نریندر مودی کے حق میں ملک گیر جاگرن مہم چلا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مودی کے کچھ تبصروں پر بابا نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ ایک یوگ کیمپ میں کہہ ڈالا اگر شوچالیہ کے مسئلے کے بارے میں ہی مودی کو بولنا تھا تو اس میں انہوں نے دیوالیہ کیوں جوڑا؟ مودی کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایسے حساس مسئلوں پر سنبھل کر بولیں۔ یہ ان کی سیاسی صحت کے لئے اچھا ہے۔یوگ کیمپ کے ساتھ اپنے بھکتوں کو جم کر سیاست کا پاٹھ پڑھا رہے ہیں کہ اب دیش میں بڑی تبدیلی کا موقعہ آرہا ہے اس کی کنجی عام آدمی اور ووٹروں کے ہاتھ میں ہے۔ اس بات چوک ہوئی تو کانگریس لیڈر شپ دیش کا بہت زیادہ نقصان کردے گی۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہر شخص سیاسی سسٹم میں تبدیلی کاعہد کرے۔ انہوں نے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے بارے میں کہا کہ ان کی شخصیت میں کوئی کرشمائی جادو نہیں ہے۔ ایسا شخص کیسے وزیر اعظم بن سکتا ہے جسے چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے اپنی والدہ کی صلاح پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ بابا نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ 40 پار کرگیا ایک شخص جب کئی دن بعد یہ کہے کے اسے ممی نے بتایا ہے کہ فلاں دن اس نے جو لفظ بولے تھے وہ ٹھیک نہیں تھے، تو بھلا ایسی باتیں کرنے والا کوئی شخص دیش کی کامیاب لیڈر شپ کیسے کرسکتا ہے؟ انہوں نے کانگریس کو ڈوبتا جہاز تک کہہ دیا۔ بابا رام دیو کے پروچنوں پر روک لگانے کے لئے چناؤ کمیشن اب سرگرم ہوگیا ہے۔ بی جے پی سے پی ایم کے امیدوار نریندر مودی کا گنگان بابا کو اب ذرا سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ چھتیس گڑھ کے الگ الگ علاقوں میں یوگ کیمپ کا انعقاد کروزیراعلی رمن سنگھ اور مودی کا پروپگنڈہ کرنے والے بابا رام دیو پر چناؤ کمیشن نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے ان کا سرکاری مہمان کے طور پر درجہ ختم کردیا ہے۔ چناؤ کمیشن نے بابا کی ریلیوں کی ویڈیو گرافی کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے اٹھائے جارہے اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے رام دیو نے الزام لگایا کے مرکزی سرکار چناؤ کمیشن کے ذریعے سے جان بوجھ کر دباؤ بنا رہی ہے اور انہیں پریشان کررہی ہے۔ یہ اظہار آزادی کے خلاف ہے۔ وہ کسی پارٹی خاص کو ووٹ دینے کی اپیل نہیں کررہے ہیں وہ صرف دیش میں ہوئے مختلف گھوٹالوں اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ بابا کا کہنا ہے کئی دھارمک اداروں کی طرف سے چناؤ کے دوران کسی پارٹی کو ووٹ دئے جانے کے لئے فتوے جاری کئے جاتے ہیں لیکن چناؤ کمیشن اور سرکار کی نظر کبھی ان پر نہیں جاتی جبکہ ہم جنتا کو بیدار کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو ہمیں الگ الگ طریقوں سے پریشان کیا جارہا ہے۔ یوگ گورو نے پھر سے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو سیاسی ہیرو بتاتے ہوئے کہا کہ پچھلے10 برسوں کے درمیان جس طرح سے انہوں نے گجرات کی ترقی کی ہے اس سے دیش دنیا میں ان کا وقار بڑھا ہے جبکہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی ہیرو سے زیرو ہوگئے ہیں۔یوگ گورو نے اس اسٹیج سے دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اچھا وزیر اعلی بتایا ۔ کہا کہ وہ ذاتی طور سے ان کی بہت عزت کرتے ہیں وہ ایک نرم گو خاتون ہیں لیکن وہ کانگریس پارٹی سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا جرم کرنے والا اور کرانے والا اور اس کا ساتھ دینے والا بھی ملزم ہوتا ہے۔
شیلا دیکشت اس اسمبلی چناؤ میں جیت جاتی ہیں تو انہیں کوئی دقت نہیں ہے۔ ادھر چھتیس گڑھ کے چناؤ افسر سنیل کجور نے بابا رام دیو کی ریلیوں کا خرچ بھارتیہ جنتا پارٹی کے چناؤ خرچ میں جوڑنے کے احکامات جاری کردئے ہیں۔ بابا رام دیو نے چھتیس گڑھ سرکار کے مہمان خاص کے طور پر جتنی ریلیاں کی ہیں ان کا خرچ بھاجپا کے خرچ میں منتقل کیا جائے گا۔ بھاجپا نے کہا کہ وہ اس کے خلاف اپیل کرے گی۔ چناؤ کمیشن نے بابا رام دیو کے اس بیان پر بھی اعتراض اٹھایا کے نریندرمودی دیش کے سب سے اچھے وزیر اعظم ہوں گے اور رمن سنگھ سب سے اچھے وزیر اعلی ثابت ہوں گے۔ ظاہر ہے کے بابا رام دیو پر لگام لگانے کے لئے اب چناؤ کمیشن کا استعمال کیا جارہا ہے۔ دیکھیں اس تازہ واقعے کا رام دیو پر کیا اثر ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

پاکستان میں جمہوریت کے مضبوط ہونے کے اشارے

ہم سب کو مل کر یہ دعا کرنی چاہئے کہ پاکستان میں وزیر اعظم نواز شریف مضبوط ہوں اور پاکستان میں جمہوریت اور محفوظ ہو۔ کیا آپ کبھی دشمن کو اس کی کامیابی کے لئے دعا کرتے دیکھیں گے؟ لیکن بھارت کے دوررس مفاد میں یہ ہی ہے کہ پاکستان میں امن قائم ہو، جمہوریت کے پاؤں جمیں اور میاں نواز شریف جو بھارت کے ساتھ امن کا دور چاہتے ہیں، وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب ایک طرف پاکستانی فوج کی سرکاری کام کاج اور پالیسیوں پر پکڑ کمزور ہو۔ دوسری طرف ان جہادی تنظیموں، دہشت گردوں پر لگام لگے۔ بھارت کے نقطہ نظر سے پاکستان سے سب سے بڑی شکایت یا اختلاف اس بات کو لیکر ہے کہ وہ اپنی سرگرمی سے ان جہادی تنظیموں کی نہ صرف مدد کرتے ہیں بلکہ کچھ حد تک یہ سرکاری پالیسی میں بھی ہے۔ تازہ واقعات میں ایک قسم کی خانگی ہے جو جمہوری عمل کو بلند بناتی جارہی ہے۔ پچھلے ایتوار کو اس کی ایک اور تصدیق ہوئی جب پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی نے ایک بیان جاری کر بتایا کے وہ29 نومبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوجائیں گے اور توسیع لینے کا ان کا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کا اپنی نوکری پورا کرکے چپ چاپ رخصت ہوجانا پاکستان کے لئے یہ کم بڑا واقعہ نہیں ہے۔ ایسا ہی کچھ جنرلوں کے ساتھ پہلے ہوا ہے۔ زیادہ تر جنرل ہنگامہ خیز طریقے سے کام کرتے رہے ہیں اور عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی سسٹم کو جھنجھوڑتے رہے ہیں۔ کچھ مارے گئے ،کچھ بے آبرو ہوکر نکلے لیکن پوری مشینری کو چنگل میں رکھنے کی ان کی منشا ہمیشہ نظر آتی رہی ہے۔ پاکستان میں فوج کے چی کے لئے بھارت مخالف بھی ایک بڑا یجنڈا رہا ہے۔ اس کو آگے بڑھانے سے پہلے کسی جنرل نے شہری حکومت کی اجازت لینا ضروری نہیں سمجھا۔ انہوں نے آزادانہ طور سے آگے بڑھایا اور اپنی حکومتی مشینری کی دنیا میں کرکری کروائی لیکن جنرل کیانی نے صبر و تحمل دکھا کر پورے وقار کے ساتھ اپنا عہد پورا کیا۔ وہ اپنا نمبر آتے آتے شاید اپنا ارادہ بدل دلیں یا کوئی ایسے حالات پیدا نہ ہوجائیں کے انہیں توسیع دینا پڑے؟ ویسے یہ ماننا پڑے گا جنرل کیانی لوکل پروفیشن میں بھی رہے ہیں اور کبھی بھی انہوں نے سرکار و انتظامیہ کو ڈکٹیٹ نہیں کیا نہ ہی انہوں نے بڑبولے پن کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اٹھایا جس سے لگے فوج جمہوری حکومت پر حاوی ہونا چاہتی ہے لیکن پردے کے پیچھے اور بھارت مخالف عناصر کوہوا اور حمایت کرتے رہے ہیں۔ کیرن سیکٹر میں تازہ دراندازی اسی بات کا ثبوت ہے ۔ پاکستان میڈیا میں ایسی بحث عام ہے کہ کیانی اپنے حق میں ماحول بنا کر پاکستانی فوج کا سربراہ بنے رہنا چاہتے یا کسی اور ذمہ داری کے خواہش مند ہیں۔ قیاس آرائی تو یہ بھی ہے کہ انہیں بطور بڑی ذمہ داری جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی چیف بنایا جاسکتا ہے۔ فی الحال یہ عہدہ رسمی بھر ہے۔ امید یہ ہی کی جاتی ہے کہ پاکستان اس دوڑ سے کافی آگے نکل گیا ہے جس میں اپنے فائدے کے لئے مختلف طاقتیں جمہوریت کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں۔ کل ملاکر پاکستان صحیح سمت میں بڑھ رہا ہے جس کا ہمیں خیرمقدم کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

11 اکتوبر 2013

نریندر مودی امت شاہ پر سی بی آئی کا کستا شکنجہ!

چناوی ماحول میں جس طرح حکمراں کانگریس سی بی آئی کو اپنے سیاسی حریفوں کو سیاسی جنگ میں استعمال کررہی ہے اس سے اپوزیشن پارٹیوں خاص کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کی نیند حرام ہونا فطری ہی ہے۔ کل ہی سی بی آئی نے بسپا سپریموں مایاوتی کو بڑی راحت دیتے ہوئے آمدنی سے زیادہ اثاثہ کیس کوبند کرنے کی مانگ کی ہے۔ یوپی اے II- سرکار کی اکثریت مسلسل پانچ سال تک گارنٹر رہے سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی پر کانگریس کی زیادہ مہربانی سے بھی بھاجپا کے کان کھڑے ہوگئے ہیں۔ پچھلے دنوں سی بی آئی نے ملائم سنگھ اور ان کے لئے درد سر بنے آمدنی سے زیادہ اثاثہ معاملے میں عدالت سے معاملہ بند کرنے کی درخواست کی ہے۔ وہیں منگلوار کو بڑی حریف سپریموں مایاوتی کے خلاف چل رہے آمدنی سے زیادہ اثاثہ کیس کو بند کرنے کی اجازت عدالت سے مانگی لیکن سی بی آئی دوسری طرف بھاجپا اور خاص کر نریندر مودی اور امت شاہ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے۔ سی بی آئی عشرت جہاں اور تلسی پرجاپتی مڈبھیڑ معاملے میں ضمنی چارج شیٹ داخل کرنے سے پہلے بھاجپا نیتاؤں سے پوچھ تاچھ کرنے میں جٹ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دیش میں جہاں چناوی ماحول گرم ہے وہیں سی بی آئی کے ذریعے عشرت جہاں اور تلسی پرجاپتی مڈ بھیڑ معاملے میں بھاجپا نیتاؤں کو پوچھ تاچھ کے لئے بھیجے جارہے سمن نے بھاجپاو پارٹی نیتاؤں کو چوکنا کردیا ہے۔ عشرت جہاں مڈ بھیڑ کیس میں ضمنی چارج شیٹ کی تیاری کررہی سی بی آئی مودی کے تین وزرا سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ اپنی نئی چارج شیٹ میں سی بی آئی مڈ بھیڑکی سازش اور جانچ کومتاثر کرنے والے بھاجپا کے بڑے لیڈروں کے ناموں کا خلاصہ کرسکتی ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ نہ صرف نریندر مودی اپنی ہر تقریر میں سی بی آئی پر نشانہ لگا رہے ہیں بلکہ ارون جیٹلی نے بھی سی بی آئی کے کام کاج کو لیکر وزیر اعظم کو خط لکھا ہے۔ بھوپال ریلی میں نریندر مودی نے سی بی آئی کے معاملے کا ذکر یوں نہیں کیا ،وہ جانتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں فرضی مڈبھیڑ کیس میں سی بی آئی ان کے ارد گرد (امت شاہ) پر شکنجہ کسنا چاہتی ہے۔ عشرت جہاں مڈ بھیڑ کیس میں مودی کے تین وزرا سے پوچھ تاچھ کے بعد ضمنی چارج شیٹ تیاری زوروں سے چل رہی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ سی بی آئی نے اپنی کارروائی تیز کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق فاضل چارج شیٹ میں سی بی آئی یہ بتانے والی ہے کہ عشرت جہاں مڈ بھیڑ کو بھلے ہی پولیس والوں نے انجام دیا ہو مگر اسکے ثبوت مٹانے میں بڑے لوگ شامل تھے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ15 جون 2004ء کو عشرت جہاں ،جاوید شیخ اور علی اکبر رانا اور نشان جوہر کے مڈ بھیڑکے بعد موقعے پر پہنچے پولیس والوں نے سنگین لاپروائی برتی تھی۔ سی بی آئی کے پاس ایک ویڈیو کلپ بتایا جاتا ہے جس میں یہ نظارہ قید ہے کہ گولی کانڈ میں استعمال ہتھیاروں کو پانچ سال تک فورنسک جانچ کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ یہ کہا جارہا ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔ سی بی آئی کا دعوی ہے کہ مڈ بھیڑ میں شامل افسروں کی ٹیلیفون بات چیت تفصیلات بھی سال بھر تک نہیں جانچی گئیں۔ سی بی آئی کے مطابق کوئی بھی موبائل سروس پرووائڈر ایک سال تک ہی پوری کال تفصیلات رکھتا ہے۔ مڈ بھیڑ سے جڑے اہم ثبوت بھی جان بوجھ کر ختم کردئے گئے۔ سپلمینٹری چارج شیٹ کی تیاری کررہی سی بی آئی کو احمد آباد کے سابق معطل آئی پی ایس افسر جی ایل سنگلا نے دو پین ڈرائیو دئے ہیں جس میں ایک بیحد میٹنگ کے ثبوت فیڈ ہیں۔ابھی حال ہی میں ایک آزاد صحافی کے ذریعے ایک اسٹنگ آپریشن میں بھاجپا نیتا رام لال کے ساتھ بھاجپا کے دو دیگر لیڈر پرکاش جاویڈکر اور بھوپندر یادو کو ملاقات کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس دوران گجرات کے تین لیڈر تلسی پرجاپتی مڈبھیڑ معاملے میں اس کی ماں کے ذریعے دئے گئے بیان کو متاثر کرنے کی حکمت عملی بنانے پر باتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ تلسی پرجاپتی کو گجرات پولیس کے ذریعے 28 دسمبر2006ء کو سانبرکاٹھا ضلع کے امباجی علاقے میں فرضی مڈ بھیڑ میں مار گرایا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسٹنگ آپریشن حال ہی میں بھاجپا نیتا پرکاش جاویڈ کر اور بھوپندر یادو سے گہری پوچھ تاچھ کی گئی تھی۔اس میں انہی نیتاؤں کی ہے جس میٹنگ میں وہ موجود تھے۔ سی بی آئی اب رام لال سے بھی پوچھ تاچھ کرنے والی ہے۔ سی بی آئی سوال جواب بھی کرے گی۔ جس صحافی نے یہ اسٹنگ آپریشن کیا تھا اس نے الزام لگایا تھا بھاجپا کے اعلی نیتا تلسی پرجاپتی کی ماں سے بغیر تاریخ کے وکالت نامے پر دستخط کروا لئے تھے تاکہ جانچ کو متاثر کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں سی بی آئی تلسی پرجاپتی کی ماں نرمدا دیوی سے بھی الزامات کی توسیع کرائے گی۔ ذرائع کے مطابق بھاجپا کے بڑے نیتا اور نریندر مودی کا بایاں ہاتھ امت شاہ کو بھی اس معاملے میں لپیٹا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف سی بی آئی نے اپوزیشن لیڈروں خاص کر نریندر مودی اور امت شاہ کو پھنسانے کے الزامات کو مسترد کردیا۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کا کہنا ہے سی بی آئی بغیر ثبوت کے کسی کے گریبان پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ یہ بات لوگوں کو سمجھنی چاہئے۔ سی بی آئی کو پتہ ہے کہ وہ کیا کررہی ہے۔ ایک پروفیشل ایجنسی ہے اور اسے ہائی پروفائل معاملوں کی جانچ کا پرانا تجربہ ہے۔
بھاجپا کے سینئر لیڈروں (نریندر مودی اور جیٹلی) کے ان الزامات کو رنجیت سنہا نے بے تکا اور بے دلیل قراردیا۔ ایک ہندی اخبار ’امر اجالا‘ سے بات چیت میں سنہا نے بتایا کہ ایجنسی کسی کے دباؤ یا مشورے نہیں بلکہ ثبوتوں کی بنیاد پر کام کرتی ہے ۔یوپی میں بھاجپا کے چناؤ انچارج امت شاہ ،تلسی پرجاپتی مڈ بھیڑ معاملے میں جیل بھی جاچکے ہیں۔ سی بی آئی کے ایک افسر نے معاملے کی پیچیدگی کے بارے میں بتایا کہ شاہ پہلے ہی ان معاملوں میں اتنا پھنسے ہوئے ہیں پھر بھی ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی یہ تعجب کی بات ہی ہوگی۔ جہاں تک نریندر مودی کاسوال ہے وہ اپنے چہیتے پولیس افسر ڈی جی بنجارا کے انکشاف سے ڈرے ہوئے ہیں۔ جیل میں بند بنجارا نے مودی کو خط میں امت شاہ پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ ایک وقت میں ساتھ دینے والے پولیس افسروں کا ساتھ چھوڑنے کی بات کرتے ہوئے بنجارا نے مودی پر بھی انگلی اٹھائی۔ بتایا جاتا ہے کہ بنجارا نے سی بی آئی کو بھاجپا نیتا ہریند پانڈیہ مرڈر کیس میں بھی کچھ ثبوت سی بی آئی کو دئے ہیں۔ آنے والے کچھ دن نریندر مودی ، امت شاہ معاملے پر بھاجپا کے لئے انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

کیرن میں آتنکی دراندازی میں جنرل کیانی کا ہاتھ یا نواز کی چال؟

جموں وکشمیر کے کیرن سیکٹر میں پچھلے دو ہفتے سے دراندازوں اور ہندوستانی فوج کے درمیان جو مڈ بھیڑ چلی ہے اس کا کارگل سے موازنہ بیشک نہ کیا جائے لیکن یہ معاملہ سنگین ضرور ہے۔ پاک اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ کیرن میں پچھلے دو ہفتے سے حالات کو قابو کرنے میں ہندوستانی فوج کو لگنا پڑ رہا ہے۔ آخر یہ نام نہاد دہشت گردوں کے پاس اتنے دن تک ہندوستانی فوج سے لوہا لینے کی ہمت اور صلاحیت کہاں سے آئی؟ ہندوستانی بری فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے پیچھے پاکستانی فوج ضرور ہے۔ آپریشن پورا ہونے پر انہوں نے کہا پاک فوج کی مدد کے بغیر سرحد پر یوں ہی دراندازی نہیں ہوسکتی۔ ہماری فوج سے لڑ چکے آتنکیوں کے پاس سے برآمد جدید ہتھیاروں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ان کو پاکستانی فوج سے ٹریننگ ملی ہے اور اس حملے کا پلان اور اس پر عمل اسی فوج کے تعاون ہوا ہے۔ عام طور پر پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے دراندازی ہوتی رہتی ہے کیونکہ برف پڑجانے کے بعد ان کا آنا جانا تقریباً نا ممکن ہوجاتا ہے۔ نارتھ کمان کے چیف لیفٹیننٹ جنرل سنجیو چائرا نے بتایا کہ کیرن سیکٹر کے شالاماٹ گاؤں میں پچھلے 15 دن سے جاری کارروائی ختم ہوچکی ہے اور 8 لاشیں ملی ہیں باقی کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے جبکہ فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ کہتے رہے ہیں کہ کیرن سیکٹر میں کارگل جیسے حالات نہیں ہیں۔
آپریشن کے دوران پکڑے گئے میسج سے صاف ہوگیا ہے کہ ان جہادیوں کو پاکستان سے رسد اور ہتھیار سپلائی ہورہے تھے۔ انہوں نے کہا بہت سے ٹی وی چینلوں نے اسے قبضہ بتایا جبکہ ایسا نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو درانداز دبدبے والی جگہوں پر قبضہ کرتے جس کی حفاظت کی جاسکتی تھی۔ ہندوستانی علاقے میں گھس پیٹھ15 دنوں تک اور وہاں رہنا پاکستانی فوج کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔1999ء میں کارگل دراندازی کے دوران پاکستانی فوج نے یہ ہی کہا تھا کہ دراندازی کرنے والے پاکستانی مجاہدین ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کارگل اور کیرن سیکٹر میں دراندازی کے وقت نواز شریف پردھان منتری تھے اور اب بھی حال ہی میں نیویارک پہنچ کر نواز شریف نے کہا تھا کہ اس وقت فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف بھارت کے ساتھ امن بات چیت کے خلاف تھے اس لئے انہوں نے گھس پیٹھ کروائی تھی تو کیا ہم یہ سمجھیں کے موجودہ فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی نے اس بار یہ گھس پیٹھ کرائی ہے تاکہ بھارت ۔پاک امن بات چیت کا ماحول خراب ہو؟
(انل نریندر)

10 اکتوبر 2013

دو بھارتیہ کرکٹ لیجنڈوں کی ٹی۔20 سے وداعی!

وہ 10 اکتوبر 1993ء کا دن تھا جب پہلی بار کرکٹ کے دو نوجوان ستارے ایک ساتھ کرکٹ کے میدان پراترے تھے۔ سچن تیندولکراور راہل دراوڑ نام کے دو ابھرتے ستارے آمنے سامنے تھے۔ سنجوگ دیکھئے کہ اس انجان سی گھٹنا کے قریب20 سال بعد یہ دونوں مہان بلے باز ایک دوسرے کے مخالف خیموں میں کھیل کر جدا ہوئے اور یہ اتہاسک لمحہ تھا۔تندولکر اور دراوڑ بھارت ہی نہیں عالمی کرکٹ کے ستون ہیں۔ کرکٹ کے یہ دولیجنڈ سچن تندولکر اور راہل دراوڑ جب آخری بار ایتوارکو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان پر اترے تو انہوں نے ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ تندولکر نے چمپئن لیگ ٹی۔20 کے فائنل سے پہلے کہا کہ ان کی ہر ٹیم میں نمبر3 پر دراوڑ ہوں گے۔ دوسری طرف درواڑ نے کہا کہ تندولکر ہمیشہ ان کے آئیڈیل رہے ہیں۔ سچن نے کہا میں پہلی بار راہل کے ساتھ ایک ٹیم میں 1995ء میں چیلنجر ٹرافی میں کھیلا تھا ،تب میں ٹیم کا کپتان تھا۔ ان کی تکنیکی اتنی اچھی ہے کہ آپ ان پر آنکھ موند کر وشواس کرسکتے ہیں۔ میری کوئی بھی ٹیم ہوگی اس میں نمبر3 پر دراوڑ ہوں گے۔ دراوڑ نے عمرمیں خودسے دو مہینے چھوٹے سچن کے بارے میں کہامیں عمر میں ان سے سینئر ہوسکتا ہوں لیکن کرکٹ میں وہ مجھ سے سینئر ہیں اور میں ہمیشہ انہیں اپنے لئے آئیڈیل مانتا رہا ہوں۔ تیندولکر اور دراوڑ کی جگل بندی کرکٹ کے میدان میں جگ ظاہر ہے۔ آخر 146 ٹیسٹ اور 245 ایک روزہ میچوں میں انہوں نے ایک دوسرے کا ساتھ جو دیا۔ٹیسٹ میچوں میں 6920 رن ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جوڑے۔کن ہی دو بلے بازوں کے بیچ سانجھے داری کا یہ عالمی ریکاڈر ہے۔ دراوڑ نے سچن کو ٹیسٹ میچوں میں 12586 رن اور 40 سنیچری لگاتے ہوئے دیکھا۔ دوسری طرف تندولکر بھی درواڑ کے11894 ٹیسٹ رنوں اور 34 سنچریوں کے گواہ رہے۔ ان دونوں نے50 ٹیسٹ میچوں میں جیت کا مل کر جشن منایا اور44 ایسے موقعے بھی آئے جو انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہار کا غم بھلانا پڑا۔ بھارتیہ کرکٹ کے یہ دو لیجنڈ اب ٹی۔20 کرکٹ میں نہیں دکھائی دیں گے۔ سچن اور راہل کا چمپئن لیگ فائنل مقابلہ ان کا آخری ٹی۔20 میچ تھا۔ راہل دراوڑ کا تو تمام طرح کے کرکٹ سے سنیاس ہوچکا ہے جبکہ سچن کا ابھی ٹیسٹ کرکٹ میں بنے رہنے کا ارادہ ہے۔ حالانکہ اس بات کی اٹکلیں لگ رہی ہیں کے سچن اپنے 200 ویں ٹیسٹ کے بعد کرکٹ کو الوداع کہہ سکتے ہیں۔ اس برس آئی پی ایل کے چھٹے سنسکرن کے بعد سچن اور درواڑ دونوں نے ہی اعلان کیا تھا کہ چمپئن لیگ ان کا آخری ٹی۔20 ٹورنامنٹ ہوگا۔اگلے برس جب آئی پی ایل کے لئے نئے سرے سے نیلامی ہوگی تو دونوں دگج بلے باز نیلامی میں موجود نہیں ہوں گے۔ بھارتیہ کرکٹ کے لئے یہ بڑا اموشنل لمحہ تھا جب فیروز شاہ کوٹلہ میدان میں ایک ساتھ وداعی لے رہے تھے۔سچن کو میدان پر اترتے ہوئے اور میچ ختم ہونے پر ان کی ممبئی انڈین ٹیم کے کھلاڑیوں نے شاندار وداعی دی۔ برسوں سے کرکٹ پریمیوں نے ان دونوں دگجوں کو میدان میں دیش کے لئے ڈھیروں رن بناتے دیکھا تھا۔ جب وہ میدان سے جا رہے تھے تب لگا کہ اب کرکٹ کے اس فارمیٹ میں دونوں پھر دکھائی نہیں دیں گے یقین نہیں ہوا۔ ہم دونوں لیجنڈوں کوبدھائی دیتے ہیں اور ان کے ذریعے دیش سیوا کے لئے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

جب قانون کا رکھشک ہی بھشک بن جائے تو جنتا کہاں جائے؟

جب قانون کا رکھشک ہی بھشک بن جائے تو جنتا کہاں جائے؟ لوگوں کی حفاظت کرنے والی دہلی پولیس کے دو دو سپاہیوں نے ایک ایسا شرمسار کارنامہ کیا ہے کہ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کہیں۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود لوگوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے۔جب وہ پولیس وردی پہنے ایک نابالغ لڑکی سے بدفعلی کی کوشش کریں تو اس سے دہلی پولیس تو شرمسار ہوتی ہی ہے سارے سماج کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ شرمسار کرنے والا یہ واقعہ سنیچروار دیر شام کا ہے۔ وکاس پوری پولیس لائن کے پاس متاثرہ 14 سالہ کشوری اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ کوڑا بین رہی تھی۔ اس دوران وہاں سپاہی امت تومر پہنچا اور اس نے کشوری کو یہ کہتے ہوئے جھانسے میں لیا کے اس کے دوست کے کمرے میں کچھ کباڑ رکھا ہے وہ انہیں دلا دے گا۔ اس کے بعد امت کشوری اور اس کی دونوں سہیلیوں کو اپنے ساتھ لے کر کنزوے کیمپ علاقے میں گیا۔ وہاں کمرے میں اس کا ساتھی سپاہی گوروندر پہلے سے ہی موجود تھا۔ الزام ہے کہ دونوں نے اس نابالغ لڑکے سے بدفعلی کی کوشش کی۔ متاثرہ نے شور مچایا تو کمرے کے باہر اس کی دونوں سہیلیوں نے بھی شور مچادیا۔ بچیوں کے شور سے کسی پڑوسی نے پی سی آر کو فون کردیا۔ موقعہ پر پہنچی پولیس نے کشوری کا میڈیکل کرایا اور اعلی ادھیکاریوں کو حادثے کی جانکاری دی۔ ادھیکاری نے معاملے کی جانچ دکشن ضلع کے ایڈیشنل ڈی سی پی پرمود کسواہا سے کرائی جائے۔ ان دونوں آروپی سپاہیوں کو قصوروار پائے جانے کے بعد فوراً برخاست کردیاگیا اور دونوں کے خلاف معاملہ درج کرلیا گیا۔ حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ دوشی سپاہیوں کا ریکارڈ پہلے سے ہی خراب ہے ایک کے خلاف ہتیا کے معاملے میں شامل ہونے کا الزام ہے جبکہ دوسرے پر کام میں لاپروائی برتنے کا معاملہ ہے۔ دونوں کے خلاف وبھاگیہ استر پر جانچ چل رہی ہے۔ جانچ ادھیکاری نے بتایا کے گورویندر سنگھ پر ہتیا کی ایک واردات میں شامل ہونے کے الزام میں وبھاگی کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ دہلی پولیس کی وردی داغدار کرنے پر دو دن میں تین پولیس والوں پر گاج گری ہے۔ ان میں ایک ایس ایچ او اور دو سپاہی شامل ہیں۔ اتم نگر ایس ایچ او کو ایک مہلا کے ذریعے کی گئی شکایت کے بعد لائن حاضر کیا گیا۔ الزام تھا کہ ایس ایچ او نے ریپ پیڑت مہلا سے غیر مہذب سوال پوچھے تھے۔ ستمبر میں دہلی پولیس کے ایک کانسٹیبل پر الزام لگاتھا کہ اس نے مہیپال پور علاقے میں ایک مہلا کے ساتھ بلاتکار کیا۔ اس سے پچھلے اگست ماہ میں دہلی ٹریفک پولیس کے ایک کانسٹیبل پر الزام لگا کے اس نے دو لوگوں کے ساتھ ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کیا ہے۔ ملزم کانسٹیبل اشوک وہار سرکٹ پر تعینات تھا۔ 16 دسمبر کے وسنت وہار کانڈ کے بعد امید کی جارہی تھی کے دہلی پولیس اب پہلے سے زیادہ حساس ہوگی اور جنتا میں اپنا وشواس پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔بیشک اوپری سطح کے دہلی پولیس افسر اپنی فورس کی چھوی کو بدلنے کے لئے دن رات ایک کررہے ہیں پر نچلی سطح پر جب تک پولیس کرمی اپنی ڈیوٹی صحیح سے نہیں نبھاتے جب تک زمینی سطح پر پوزیشن کا سدھار نہیں ہوسکتا۔ اتنی بڑی فورس میں بیشک اکا دکا چھوٹے لیبل کا پولیس کرمچاری ایسا کانڈ کرے پر بدنامی تو پوری فورس کی ہوتی ہے۔
(انل نریندر)

09 اکتوبر 2013

منموہن سنگھ جی راشٹرپتی سے تو تلقین لیں!

ہندوستان کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو صدر پرنب مکھرجی کی شیر دھاڑ سے تھوڑی تلقین اور ہمت لینی چاہئے۔ جو باتیں منموہن سنگھ آج تک نہیں کہہ سکے وہ صدر محترم کہہ رہے ہیں اور وہ بھی کھلے عام ۔ بیلجیم کے دورے پر گئے صدر پرنب مکھرجی نے پاکستان کو کھری کھری سنائیں۔ پرنب دا نے دو ٹوک کہا کہ جب تک اپنی سرگرمی سے پاکستان دہشت گردی کا ڈھانچہ ختم نہیں کرتا دونوں دیشوں کے درمیان بات چیت آگے بڑھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ صدر موصوف نے کہا کہ بھارت پاکستان سے امن چاہتا ہے لیکن وہ اپنی جغرافیائی سلامتی کولیکر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔سرحد پار سے سرکار اسپانسر دہشت گردی کو قطعی منظور نہیں کیا جاسکتا۔ صدر نے پاکستان کی اس دلیل کو بھی مسترد کردیا کے بھارت میں دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کے پیچھے سرکاری عناصر(نان اسٹیٹ ایکٹرس) کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا یہ عناصر جنت سے نہیں آتے بلکہ پڑوسی دیش کے کنٹرول والے جغرافیائی علاقے سے آتے ہیں۔ صدر موصوف نے کہا کہ پاکستان 9 سال پہلے اپنے وعدے سے مکر گیا جس میں اس نے اپنی سرگرمی کا استعمال بھارت کے خلاف نہ ہونے دینے کی بات کہی تھی۔ مکھرجی نے ترکی کے اخبار’زمان‘ کو دئے ایک انٹرویو میں کہا ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بنائے گئے کیمپوں کو ختم کیا جائے۔ بھارت کے تئیں اپنے عزم کو پورا کیا جائے۔ دہشت گردوں کو بھارت کے خلاف ان کی کرتوتوں کے لئے اپنی سرزمین کا استعمال مت ہونے دیجئے۔ صدر نے کہا جب تک ماحول نہیں بنایا جاتا آپ دیگر سرگرمیوں کے بارے میں بات کیسے کرسکتے ہیں؟ اس لئے ہمیں امید ہے جیسا کہ نواز شریف نے کہا کہ وہ اس پر تعمیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ صدر کا یہ سخت ردعمل کیا منموہن سنگھ سرکارکی آنکھیں کھول پائے گا ،جو جموں وکشمیر سرحد پر جاری خون خرابے کے باوجودپاکستان کی مدد سے امید لگائے بیٹھی ہے اور نواز شریف کی بات چیت کے جال میں پھنستی نظر آرہی ہے۔ کشمیر کے کیرن سیکٹر میں پچھلے 12-13 دنوں سے دہشت گردوں کے خلاف ہماری بہادر سینا جنگ لڑ رہی ہے۔ ان جہادیوں ، جس میں پاکستانی فوجی بھی شامل ہیں ،کی جرأت دیکھئے کے انہوں نے کنٹرول لائن پار کرکے ہمارے علاقے میں گھس پیٹھ کر ایک ویران گاؤں اور نگرانی چوکیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ حالانکہ ایسا کارگل جیسا واقعہ نہیں ہوا جیسا کہ سرکار خود انکارکررہی ہے لیکن وہ مان رہی ہے دہشت گردوں سے جنگ بھارت کی سرزمین پر ہورہی ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ہندوستانی فوج کی بھاری موجودگی اور ہیلی کاپٹروں سے فوجیوں کو اس جگہ پر اتارے جانے کے باوجود مٹھی بھر دہشت گردوں سے چل رہی یہ لڑائی اتنی لمبی ہوتی جارہی ہے؟ فوجی ذرائع نے بتایا دہشت گردوں کے پاس طویل عرصے تک لڑنے کے لئے سامان موجود ہے۔انہیں پاکستانی فوج کی اسپیشل فورسز سے مدد مل رہی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں پاکستانی فوج گولہ باری اس لئے کررہی ہے جس سے کے ہندوستانی فوج اس کا جواب دینے میں الجھی رہے اور در اندازی جاری رکھی جاسکے۔12 ہزار فٹ کی اونچائی پر 12-13 دنوں سے جاری کارگل کی طرح کی جنگ ہے۔ یہ مٹھی بھردہشت گردوں کو بھگانے کے لئے فوج کی دو برگیڈ جنگ لڑ رہی ہیں۔ دیش میں چناؤ کا موسم ہے افراتفری کا فائدہ اٹھا کر پاک ہم پر فیصلہ کن حملے کو انجام دے رہا ہے اور ہم انہیں پھولوں کا گلدستہ دیں۔
(انل نریندر)

آسا رام کے کالے کارناموں کا پٹارہ کھلنے لگا!

سنتوں کی کسی بھی طرح کی بے عزتی قابل برداشت نہیں ہے لیکن بھگوا کپڑے پہننے اور اپنے چیلوں کے گنگان سے کوئی سنت نہیں بن جاتا۔ سنتوں جیسا برتاؤ بھی ہونا چاہئے۔ ان کی پاکیزگی ہونی چاہئے اور عام انسان کی طرح کمزوریاں بھی نہیں ہونی چاہئیں۔ آسا رام باپو کے حمایتی انہیں سنت مانتے ہیں اور سنتوں کی طرح پوجتے ہیں لیکن جو الزام آسا رام پر لگ رہے ہیں ان سے تو یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ سنت کے بھیس میں وہ شیطان ہے۔ آسا رام باپو کے بارے میں بہت کچھ لکھا پڑھا جاچکا ہے مگر بہت کچھ ابھی ان سنا ہے۔ روزنامہ ہندی ہندوستان میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ نامہ نگار مانسی مکشا نے ایک متاثرہ خاندان سے بات چیت کی۔چشم دید کا بیان کچھ اس طرح ہے۔’’دہلی کے ایک ست سنگ کے دوران میں نے آسا رام کو ایک عورت کو لات مارتے دیکھا تھا۔ اس وقت میری آنکھوں میں اندھی عقیدت کا پردہ پڑ گیا۔ مجھے لگا بھگوان ہیں نہ جانے چھونے پر میرا کیا ہوگا۔ اسی طرح احمد آباد آشرم میں میرے سامنے ایک خوبصورت عورت کو اندر بلا لیا اور میں باہر رہی۔ تب بھی میں نے سمجھا کہ وہ قسمت والی ہے جسے بھگوان نے بلایا ہے۔ اب جب اپنے پر بیتی ہے تو سچ پتہ چلا۔ شاہجہاں پور میں رہ رہی متاثرہ لڑکی کی ماں نے آسا رام کے بارے میں کئی چونکانے والی باتیں بیان کی ہیں۔ ایک بیحد معمولی اور گھریلو دکھائی دینے والی35 سالہ اس گرہستن کی زندگی میں ایسا لگا کے جیسے گرہن لگ گیا ہو۔ آسا رام کی شردھالو بن کر بیتے 11 سالوں سے اس عورت نے نہ تو چائے پی اور نہ ہی پیاز ۔لہسن کھایا مگر اچانک کی سب کچھ بدل گیا۔ گھر میں لگی آسا رام کی تصویریں پھینک دیں۔ متاثرہ کی ماں کا الزام ہے کہ شلپی جیسی عورتیں آسا رام کے پاس سپردگی کے لئے لڑکیاں تیار کیا کرتی تھیں۔ ان لڑکیوں سے کہا جاتا تھا کے اگر باپو ایک بار ان سے ملیں گے تو وہ بہت بڑا پد پا سکتے ہیں۔ آشرم کی نگراں یا پھرمقرر بنانے کا لالچ دے کر آسا رام تک پہنچا دیا جاتا تھا۔ بعد میں متاثرہ لڑکیاں ڈر سے منہ نہیں کھول پاتی تھیں۔ 
نابالغ لڑکی کے ساتھ آبروریزی کے معاملے میں75 سالہ آسا رام کو اگست میں گرفتار کیا گیا اور تب سے وہ جیل میں ہے۔ اس نے بیماری کے بہانے سے ضمانت مانگی لیکن عدالتوں نے اس کو مسترد کردیا۔ تازہ خبر کے مطابق سورت کے پولیس کمشنر راکیش آستھانا نے ایتوار کو بتایا کے پولیس نے جنسی استحصال اور ناجائز طریقے سے یرغمال بنانے اور دیگر الزامات کو لیکر ایک شکایت آسا رام اور دوسری ان کے بیٹے نارائن سائیں کے خلاف درج کی ہے۔ بتایا کہ متاثرہ دو بہنیں ہیں اورنارائن سائیں کے خلاف کیس درج کروانے کے لئے سورت آئی ہیں جبکہ اس کے والد کی آسارام کے خلاف درج شکایت احمد آباد منتقل کی گئی ہے۔واقعہ وہاں کا ہے بڑی بہن نے آسا رام کے خلاف جنسی استحصال کا الزام لگایا جبکہ چھوٹی بہن نے آسا رام کے بیٹے کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ یہ واقعہ2001ء سے لیکر 2006ء کے درمیان کا ہے۔ ریپ کے معاملے میں پہلی بار آسا رام کی بیوی اور بیٹی بھارتی کے خلاف بھی معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ دونوں پر سازش میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ آسارام کے ایک سیوادار نے ان پر زندگی برباد کرنے کا الزام لگایا۔ شاہجہاں پور کے باشندے کا الزام ہے کہ آسا رام نے جڑی بوٹی دے کر اسے نامرد بنادیا۔ آسا رام کے کالے کارناموں کا پٹارہ اب آہستہ آہستہ کھل رہا ہے اور آنے والے دنوں میں پتہ نہیں کتنے اور گھناؤنے کانڈوں سے پردہ اٹھے گا۔
(انل نریندر)

08 اکتوبر 2013

سیمی فائنل کا بگل بج گیا پہلوان دنگل میں اترنے کو تیار!

2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے فائنل سے پہلے سیمی فائنل مانے جارہے دہلی سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کا بگل جمعہ کو بج گیا۔ چناؤ کمیشن نے دہلی ، مدھیہ پردیش،راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورم کے لئے چناؤ کی تاریخیں طے کردی ہیں۔ ان ریاستوں کی کل630 اسمبلی سیٹوں پر 11 نومبر سے 4 دسمبر کے درمیان ووٹ ڈالے جائیں گے۔ سبھی ریاستوں کی ووٹوں کی گنتی ایک دن8 دسمبر کو ہوگی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پہلی بار ریاستوں کے ووٹروں کو سبھی امیدواروں کو مسترد کرنے کا حق ملے گا۔ اس کے لئے ای وی ایم مشین میں الگ سے بٹن ہوگا۔ پہلی بار ووٹروں کو ہر حال میں ووٹ ڈالنے کا موقعہ ملے گا۔ اکثر سبھی لیڈروں کو کرپٹ یا ناکارہ بتاکر کئی لوگ ووٹ نہیں ڈالتے تھے، ایسے لوگوں کیلئے اب الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں نیا بٹن لگایا جارہا ہے۔ جس پر لکھا ہوگا ان میں سے کوئی نہیں۔ 2.25 کروڑ نوجوان پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ ایک طرح سے18 سے28 سال کے 33.44 فیصد ووٹر ان انتخابات میں فیصلہ کن ہوں گے۔ دہلی میں 20.57 لاکھ نئے نوجوان ووٹر پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ بھلے ہی انتخابات میں بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی اور کانگریس نائب صدر راہل گاندھی سیدھے طور پر آمنے سامنے نہ ہوں مگر سیمی فائنل کی جنگ راہل بنام نریندر مودی کے بینر تلے ہونا طے ہے۔ پانچ ریاستوں میں سے چاردہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھاجپا اور کانگریس کے بیچ آمنے سامنے کی ٹکر ہونے والی ہے جبکہ میزورم میں کانگریس کا مقابلہ پردیش کی میزو نیشنل فرنٹ سے ہونا ہے۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج بھاجپا۔ کانگریس کی آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔ ساتھ ہی پارٹی کی اندرونی سیاست پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ کہنے کو یہ ریاستوں کا چناؤ ہے لیکن چناؤ کے نتائج قومی سطح پر بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی اور کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی مقبولیت کا پیمانہ بھی طے کریں گے۔ ان انتخابات کے بعد دونوں بڑی قومی پارٹیوں کے درمیان مرکز میں اگلی حکومت کا فائنل مقابلہ لوک سبھا چناؤ ہوگا۔ بھاجپا نے اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے نریندر مودی کووزیراعظم کاا میدوار بنا کر ان کی مقبولیت کو ریاست میں بھی بھنانے کی حکمت عملی اپنانا بہتر سمجھا۔ مودی پی ایم کے اڈوانی کی مخالفت کو درکنار کرکے امیدوار بن گئے ہیں لیکن پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج اگر موافق میں نہیں رہے تو اندر اور باہر سے بھی مودی کی مقبولیت اور چناؤ جتاؤ لیڈر شپ پر سوال اٹھنے لگیں گے۔ دوسری طرف کانگریس نے راہل گاندھی کو پی ایم کا امیدوار نہیں اعلان کیا ہے۔ ان کو لیکر کانگریس سیاسی طور سے اسمبلی چناؤ میں خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے۔ کانگریس کی سیاست رہی ہے کہ چناؤ ہارے تو ذمہ دار ریاست کی لیڈر شپ ہوگی اور جیتیں تو سہرہ راہل اور سونیا کے سر جائے گا۔ اب بات کرتے ہیں دہلی کے اسمبلی چناؤ کی۔ نہ صرف راجدھانی کا نیا نظام طے کرے گا بلکہ شہر کی حکومت سے گہرائی سے جڑے رہے سرکردہ لیڈروں کی قسمت کا فیصلہ بھی کرے گی۔ دہلی چناؤ کا دنگل اس بار پچھلے مقابلوں کی بہ نسبت کچھ الگ ہوگا۔ اب تک مقابلہ کانگریس اور بھاجپا کے درمیان ہوا کرتا تھا لیکن اس بات عام آدمی پارٹی کی موجودگی سے یہ مقابلہ سہ رخی ہونا تقریباً طے مانا جارہا ہے۔ حالانکہ پچھلے چناؤ میں بسپا نے بھی مقابلے کو سہ رخی بنایا تھا۔ اس بار بسپا کے لئے دہلی میں پوزیشن بھلے ہی مختلف ہو لیکن مقابلہ پوری طرح سہ پارٹی ہوگا۔پہلی بار چناؤ لڑنے جارہی عام آدمی پارٹی اس چناؤ میں اہم کردار نبھانے والی ہے۔ کرپشن کے خلاف تحریک کے بعد سیاست میں آئے اروند کیجریوال کی رہنمائی والی جماعت آپ نے سب سے پہلے چناؤ تیار شروع کی ہیں۔ آپ کا پورا زور بھاجپا کے اثر والے شہری علاقوں کے ساتھ کانگریس کے گڑھ مانی گئیں کچی کالونیوں میں بھی مرکوز ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے میڈیا کے سرووں میں ’آپ‘ کے ذریعے مضبوط چیلنج پیش کرنے کی بات کہے جانے کے بعد دونوں بھاجپا اور کانگریس کے لئے ٹیم کیجریوال کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اروند کیجریوال نے چناؤ کو جنگ کی تشبیہ دی ہے۔ پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ اس کو 47 سیٹیں ملیں گی اور اس میں سرکار بنانے تک کا اعلان کردیا ہے۔ دوسری طرف سرکار کے بدانتظامیہ کو اجاگر کرنے کے لئے بھاجپا گھر گھر جائے گی۔ بھاجپا پردیش پردھان وجے گوئل نے بتایا کہ سبھی ضلع پردھانوں سے کہا گیا ہے وہ اپنے علاقوں میں اشوز کی پہچان کریں اور ان پر خاص توجہ دیں۔ دہلی میں بھاجپا کے پاس کوئی اثر دار چہرہ نہ ہونا ایک بڑی کمزوری مانی جارہی ہے۔ پارٹی کا فیڈ بیک ہے کہ لوگ شیلا سے تو ناراض ہیں لیکن متبادل کے طور پر بھاجپا کوئی نیا چہرہ ان کے سامنے نہیں پیش کرپائی۔ بھاجپا دہلی یونٹ میں آپسی رسہ کشی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ گزشتہ 15 برسوں سے دہلی کی حکومت چلا رہیں شیلا دیکشت کی مقبولیت کو خاص طور پر اس چناؤ کی کسوٹی مانا جارہا ہے۔ پچھلے سال ہی مرکزی کیبنٹ میں ہوئی ردوبدل کے وقت انہیں مرکز میں وزیر بنائے جانے کی بحث زوروں پر تھی لیکن سیاسی واقف کاروں کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے دہلی اسمبلی چناؤ کے پیش نظر ان کا کوئی اور متبادل نہ دیکھ انہیں یہاں سے نہ ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ شیلا جی اپنے عہد میں ترقی ،عوامی بہبودی پالیسیوں کی بنیاد پر چناؤ لڑیں گی۔ وہ کہتی ہیں میرا کام بولتا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے تو عوامی بہبود کی اسکیموں کی شیلا جی نے جھڑی لگادی ہے۔ اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر اور سابق وزیر اعلی رہے پروفیسر وجے کمار ملہوترہ کے بارے میں بتایا جارہا ہے وہ اس مرتبہ اسمبلی چناؤ لڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنی سیٹ اپنے بیٹے کو دینے کے حمایتی ہیں اگر بھاجپا چناؤ جیت درج کر لیتی ہے تو انہیں کوئی اہم ذمہ داری دے دی جائے گی یہ اور بات ہے ایسے لیڈروں کی فہرست لمبی ہے جو 65 سے70 سال کی عمرکو پار کرچکے ہیں۔ آنے والے چناؤ میں ہار کا مطلب ہوگا دہلی کی سیاست سے کنارہ کرنا لہٰذالب و لباب یہ ہے کہ اسمبلی کے آنے والے چناؤ کے نتائج کئی بڑے قد کے لیڈروں کے لئے بہت اہم ثابت ہونے والے ہیں۔ کل ملاکر سیمی فائنل کا بگل بج چکا ہے، دنگل شروع ہونے جارہا ہے، پہلوان تیار ہورہے ہیں۔
(انل نریندر)

06 اکتوبر 2013

مودی کا بے تکا بیان:دیوالیہ سے پہلے شوچالیہ؟

بھاجپا کے پی ایم امیداور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیکر مصیبت مول لے لی ہے۔ عام طورپرنپا تلا متوازن بیان دینے والے نریندر مودی نے راجدھانی میں منعقدہ پروگرام میں کہا کے مجھے ایک ہندو وادی لیڈر کے طور پر مانا جاتا ہے۔ میری ساکھ مجھے ایسا کہنے کی اجازت نہیں دیتی لیکن پھر بھی میں یہ کہنے کی ہمت کررہا ہوں۔ پہلے ’’شوچالیہ پھر دیوالیہ‘‘ انہوں نے آگے جوڑا کے 21 ویں صدی میں دیش کے لئے یہ شرم کی بات ہے کہ لاکھوں دیہاتی عورتیں آج بھی کھلے میں رفع حاجت کے لئے مجبور ہیں۔ مودی کے اس بیان پر کانگریس کو تو ایک موقعہ ملا ہی ان پر حملہ کرنے کا ساتھ ساتھ آر ایس ایس بھی الجھن میں آگئی ہے۔ وی ایچ پی نیتا پروین توگڑیا نے کہا مودی کا بیان سن کر ہم صدمے میں ہیں۔ ہم بھی صاف صفائی کے حق میں ہیں لیکن جس طرح سے مندر کو بیچ میں گھسیٹا گیا وہ غیر ضروری تھا۔ یہ ہندو سماج کو بے عزت کرنے جیسا ہے۔ توگڑیا نے کہا کہ کانگریس نیتا جے رام رمیش کے اسی طرح کے بیان کی بھاجپا نے مذمت کی تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ بھاجپا مودی کے بیان کی مذمت کرے۔ کانگریس کو تو مودی نے ایک زور دار موقعہ فراہم کردیا ہے۔ مرکزی وزیر جے رام رمیش نے نریندر مودی سے پوچھا ہے کہ کیا وہ ایودھیا میں مہا شوچالیہ بنانے سے متعلق بسپا کے سابق چیف کانشی رام کی تجویز سے متفق ہیں۔کبھی جے رام رمیش نے گاؤں میں شوچالیہ کے مندر سے زیادہ ضروری بتایا تھا تب بھاجپا نے اس کی جم کر تنقید کی تھی۔ قریب ایک سال پہلے انہوں نے ایسے ہی رائے زنی کی تھی تب انہیں سنگھ اور بھاجپا کی طرف سے تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔ جے رام رمیش نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے ایسا بیان دیا تھا تب بھاجپا اور سنگھ نے میرا گھر سے نکلنا مشکل کردیاتھا۔ میرے اوپر ہندوؤں کے جذبات کی توہین کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ کچھ تنظیموں نے میرے گھر کے سامنے پیشاب کی بوتلیں رکھ دی تھیں مگر اب جب مودی دیوالیہ سے زیادہ ضروری شوچالیہ کو بتا رہے ہیں تو بھاجپا کے نیتا خاموش کیوں ہیں؟جے رام نے لگے ہاتھوں مودی سے کانشی رام کی اس تجویز پر رائے مانگی ہے جس میں انہوں نے ایودھیا کے متنازعہ جگہ پر مہا شوچالیہ بنوانے کی تجویز رکھی تھی۔ جے رام نے کہا مودی کو یہ بتانا چاہئے کہ کیا وہ کانشی رام کی تجویز سے متفق ہیں۔ انہوں نے کہا مودی کا یہ بیان اس کام میں بھروسے سے زیادہ سیاسی مجبوری میں دیا گیا لگتا ہے۔ یہ بیان مودی کا نیا اوتار جیسا ہے۔ وہ ہر دن نئے انداز میں نمودار ہوتے ہیں۔ میں نے ہندو مذہب کے دش اوتار کی بات سنی ہے لیکن مودی تو شتااوتارہیں۔ وہ ہر دن کوئی نہ کوئی بیان دیکر سرخیوں میں بنا رہنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی جے رام نے کہا بھاجپا کو اب شوچالیہ کی اہمیت کا احساس ہوا ہے اگر یہ احساس 90ویں کی دہائی میں ہوجاتا تو پورا دیش فرقہ وارانہ تشدد سے بچ جاتا۔ کل ملاکر ہمیں بھی اس بات کا دکھ ہے کہ شری نریندر مودی نے بے شک بات تو صحیح کہیں ہو لیکن انہیں شوچالیہ کو مندروں سے نہیں جوڑنا چاہئے تھا۔ شوچالیہ بنانے ضروری ہیں لیکن یہ کہنے کا کیا تک ہے کہ’’ دیوالیہ سے پہلے شوچالیہ‘‘ انہوں نے نہ صرف کانگریس کو ہندوتو پر حملہ کرنے کا موقعہ دے دیا ہے بلکہ ہندوؤں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔
(انل نریندر)

پٹھان کوٹ جموں قومی شاہراہ پر حملے سے ویشنو دیوی بھکت بھی خطرے میں

ادھرنیویارک میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف ہندوستان سے بہتر رشتوں کی بات کرتے ہیں تو ادھر جموں و کشمیر میں جہادی تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں۔ پاکستان نواز دہشت گردوں نے جمعرات کو بے قصوروں کونشانہ بنایا۔ فوج کی وردی پہنے تین دہشت گردوں نے تڑکے جموں علاقے میں ایک فوجی کیمپ پر اور ایک پولیس تھانے کو نشانہ بناتے ہوئے دوہرا حملہ کردیا۔ ان حملوں میں فوج کے لیفٹیننٹ کرنل سمیت 10 لوگ مارے گئے۔ یہ آتنکی جمعرات کو صبح سویرے سرحد پار سے ہندوستانی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ ہری نگر تھانے پر حملے کے بعد وہ آفیسرز میس میں داخل ہونے کے بعد کئی گھنٹوں تک فوج کے کیمپ میں چھپے رہے۔ 10 گھنٹے چلی مڈ بھیڑ میں تینوں آتنکی جن کی عمر16 سے19 سال کے درمیان تھی ، ہندوستانی فوج نے مار گرایا۔ فوج کی مدد کے لئے دہلی سے این آئی سی کمانڈو بلائے گئے تھے۔ شاید یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی آتنکی حملے سے نمٹنے کے لئے فوج نے ٹینک کا استعمال کیا۔ ہندوستانی بین الاقوامی سرحد سے لگے کٹھوہ ضلع کے ہری نگر پولیس تھانے پر آتنکی حملے میں چار پولیس والوں سمیت6 لوگوں کی موت ہوگئی۔ اس کے کچھ دیر بعد سانبا کے قریب فوجی کیمپ پر ہوئے ایسے ہی حملے میں لیفٹیننٹ کرنل وکرم جیت سنگھ سمیت فوج کے چار جوان شہید ہوگئے۔ کمانڈنگ افسر کرنل اے متھیا سمیت تین جوان زخمی ہوئے۔ سانبا میں جس کیمپ پر حملہ کیا گیا وہ اس کی مسلح یونٹ ہے جہاں بڑے جنگی ٹینک ٹی۔72 کی پوری ایک ریجمنٹ ہے۔ اس میں46 ٹینک ہوتے ہیں۔ فوج کو اندیشہ ہے کہ جس طرح تینوں آتنکیوں نے تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے اس انتہائی حساس ترین کیمپ میں گھس پیٹھ کی اس کے پیچھے کسی ٹینک پر قبضہ کر بھاری تباہی مچانے کا بھی ارادہ ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ٹینک چلانے کی ٹریننگ بھی پاکستانی فوج سے حاصل کر لی ہو۔ ٹی ۔72 ٹینک ہندوستانی فوج کا بڑا جنگی ٹینک ہے جنہیں پاکستان سے لگی بین الاقوامی سرحد کی حساسیت کے پیش نظر وہاں ایک ریجمنٹ کے طور پر لگایا گیا ہے۔ ویسے یہ واقعہ جموں و کشمیر فوج کے چوکسی اور اس کی نگرانی مشینری پر سوالیہ نشان ضرور کھڑے کرتا ہے۔ ہری نگر پولیس اسٹیشن میں گھس کر دن دہاڑے چھ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد تین آتنکی25 کلو میٹر دور سانبا کے فوجی کیمپ میں فائرننگ کرتے ہوئے گھس جاتے ہیں اور افسر سمیت دو کو گولی مار جاتے ہیں؟ فوجی سکیورٹی مشینری کی اس سے بڑی کیا خامی ہوگی کے آدھے گھنٹے تک آتنک اپنا حملہ جاری رکھے رہے اور ہماری سکیورٹی مشینری ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ نہ تو کہیں انہیں روکا جاسکا اور نہ پیچھا کیا جاسکا۔ خود فوج کی خفیہ یونٹ کافی پہلے سے کہتی آرہی ہے کہ وادی میں ابھی بھی 500 سے زیادہ آتنکی موجود ہیں۔ سب سے بڑی تشویش کی بات ہے کہ پٹھان کوٹ جموں نیشنل ہائی وے پر واقع سانبا قصبے میں آتنکی واقعہ نے ویشنو دیوی یاترا میں شامل ہونے والوں کی سلامتی پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ سکیورٹی کا مسئلہ آنے والے سیاحوں کے لئے اہم ہے۔ ویشنو دیوی یاتری جو کاراور بس سے جاتے ہیں وہ بھی اسی راستے سے جاتے ہیں۔کہنے کو سکیورٹی کے انتظام اتنے ہیں کے چڑیا بھی پر نہیں ماسکتی لیکن آتنکیوں کی گھس پیٹھ اور ان کے حملے نے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس شاہراہ کا زیادہ تر حصہ ریل پٹری کی طرح سرحد سے ہوکر گزرتا ہے اور اس پر سکیورٹی انتظام صرف امرناتھ یاترا کے دوران ہی دکھائی پڑتے ہیں جبکہ اس سچائی سے منہ نہیں موڑا جاسکتا کے قومی شاہراہ اور جموں آنے والی ریلوں کا استعمال90فیصد ویشنو دیوی کے یاتری اور ٹورسٹ کرتے ہیں اور امرناتھ یاترا صرف دو مہینے ہی چلتی ہے جب یاترا شروع ہوتی ہے یہ ایک پیچیدہ پیش رفت ہے۔ کشمیر وادی میں تو تابڑ توڑ حملے چلتے ہی رہتے ہیں اب جموں و کشمیر کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اگر کٹرہ اور ماتا کے دربار پر آتنکی حملہ کرنے میں ناکام رہے ہیں تو شاید راستے میں ماتا کے بھکتوں کو نشانہ بنانے کی پلاننگ بنا رہے ہوں۔ آخر میں ہم بھارت کے مہان سپوت لیفٹیننٹ کرنل وکرم جیت سنگھ کو اپنی شردھانجلی دینا چاہتے ہیں جنہوں نے کمانڈنگ افسر کو بچانے میں اپنی جان نچھاور کردی۔ سانبا کیمپ کے 16ویں لائٹ کویلری کے لیفٹیننٹ کرنل بکرم سنگھ کو پانچ گولیاں لگیں۔ جمعرات کی صبح قریب7:25 بجے تین آتنکی کیمپ میں سنتری کو گولی مار کر اندرداخل ہوئے تھے۔ گولیوں کی آواز سن کر کمانڈنگ افسر کرنل اشون متھیا کمرے سے باہر آئے۔ آتنکیوں نے ان پر دو گولیاں داغ دیں۔ گولی لگتے ہی وہ نیچے گر پڑے اتنے میں لیفٹیننٹ کرنل بکرم جیت باہر آئے اور سی او کو گرتے ہوئے دیکھا۔ جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ متھیا کے پاس پہنچے اور گود میں اٹھا کر پیچھے آرہے جوانوں کو سونپ کر فوراً ہسپتال پہنچانے کے احکامات دئے۔ لیفٹیننٹ کرنل متھیا کو سونپ کر جیسے ہی پیچھے مڑے تو ایک دہشت گرد نے ان پر تین گولیاں داغ دیں۔ پھر بھی وہ آتنکیوں کی طرف بڑھے آتنکیوں نے اور دو گولیاں ماریں۔ سی او پٹھان کوٹ ہسپتال میں ہیں اور خطرے سے باہر ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل بکرم جیت سنگھ کو ہم سلام کرتے ہیں۔ ایسے بہادر کبھی مرتے نہیں۔ مر کر بھی وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...