Translater

29 مارچ 2014

وقت بتائے گا نئی دہلی اور مشرقی دہلی پارلیمانی سیٹ پر کس کا ہوگا دبدبہ!

دہلی کی سبھی ساتوں پارلیمانی سیٹوں کے لئے نام واپسی کے آخری دن کل150 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ چاندنی چوک سیٹ پر9 اور نارتھ ایسٹ دہلی سے 14 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔ دہلی میں مجموعی طور پر ساتوں سیٹوں کیلئے 150 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔ نئی دہلی سیٹ صرف دہلی کے لئے ہی نہیں بلکہ دیش کے لئے ہمیشہ وی آئی پی سیٹ رہی ہے۔ اس سیٹ کی اہمیت اسی بات سے لگتی ہے کہ اٹل بہاری واجپئی، لال کرشن اڈوانی، راجیش کھنہ جیسی سرکردہ ہستیاں یہاں سے ایم پی رہ چکی ہیں۔ نئی دہلی پارلیمانی سیٹ پر ایک بار پھر دیش کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے میں یہاں سے اہم امیدواروں کے بارے میں روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں کہ نئی دہلی پارلیمانی سیٹ پر سرکاری ملازمین کا ایک بڑافیکٹر ہے لوک سبھا سیٹ پرہار یا جیت طے کرنے میں سرکاری ملازمین کا نظریہ سب سے بڑا فیکٹر ثابت ہونے والا ہے۔ حلقے میں ویسے تو دہلیمیں باقی 6 لوک سبھا سیٹوں کے مقابلے میں چاندنی چوک میں اور نئی دہلی میں سب سے کم ووٹر ہیں۔ نئی دہلی حلقے میں سرکاری ملازمین کا تناسب زیادہ ہے اور اس میں 14.89 لاکھ ووٹروں میں 2.5 لاکھ سرکاری ملازم ہیں۔ ایسے میں ان کا فیصلہ ایک بڑا فیکٹر ثابت ہوگا۔ ان ووٹروں کے لئے بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے امیدوار نئے ہیں وہیں کانگریس کے اجے ماکن مسلسل دو بار اس سیٹ سے ایم پی رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں دہلی اسمبلی چناؤ میں یہیں سے اروند کیجریوال نے وزیر اعلی محترمہ شیلا دیکشت کو بھاری ووٹوں سے ہرایا تھا۔حلقے کے اندر آنے والی 10 میں سے7 اسمبلی سیٹوں پر ’آپ‘ پارٹی کے امیدوار جیتے تھے۔ اسی ہوا کا فائدہ اٹھانے کے لئے لوک سبھا چناؤ کے لئے آشیش کھیتان کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ کانگریس نے یہاں موجودہ ایم پی اجے ماکن پر پھر سے بھروسہ جتایا ہے۔ وہیں بھاجپا نے پارٹی کی ترجمان تیز طرار خاتون میناکشی لیکھی کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ پچھلے دو لوک سبھا چناؤ میں اجے ماکن نے بازی ماری تھی اور اس بار وہ ہیٹ ٹرک لگانے کی کوشش میں ہیں۔ سہ فریقی مقابلے میں میری رائے میں تو اجے ماکن سیٹ نکال سکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں دوسری مقبول ترین سیٹ مشرقی دہلی کی۔ کبھی بی جے پی کو کبھی کانگریس کی جھولی میں جاتی رہی ہے۔ اس بار اس سیٹ پر بھی کثیر رخی مقابلہ ہے۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار اور مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی کے یہاں سے چناؤ لڑنے سے اس سیٹ پر دیش دنیا کی نظریں لگ گئی ہیں۔ موجودہ ایم پی اور شیلا دیکشت کے صاحبزادے سندیپ دیکشت یہاں سے ہیٹ ٹرک لگانے کے چکر میں ہیں لیکن ان کی راہ آسان نہیں دکھائی پڑتی۔ اس بار ان کا مقابلہ گاندھی گیری یعنی ’آپ‘ کے امیدوار راج موہن گاندھی اور بھاجپا کے مہیش گیری سے ہے۔ مشرقی دہلی کسی خاص پارٹی کا گڑھ نہیں رہی ہے۔1967ء میں اس سیٹ کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک ہوئے 12 لوک سبھا چناؤ میں 6 بار کانگریس اور اتنی ہی بار بھاجپا و بھارتیہ لوک دل، بھارتیہ جن سنگھ کامیاب ہوتی رہی ہے۔ اس حلقے میں 16 لاکھ سے زیادہ ووٹر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا بھاجپا اور کانگریس کے ہاتھوں میں رہی یہ سیٹ اس بار اپنے وقار کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں؟ 1980 سے اس سیٹ کی خاصیت یہ رہی ہے جو امیدوار یہاں سے ایک بار جیتا اسے یہاں کے لوگوں نے دوبارہ کام کرنے کا موقعہ ضرور دیا ہے۔ 1980ء میں کانگریس کے لیڈر سورگیہ ایچ۔کے۔ ایل بھگت1980 سے1991 تک ایم پی رہے۔ اس کے بعد باری آئی بھاجپا کی 1991ء میں مشرقی دہلی کے لوگوں نے بھاجپا کے لیڈر بی ۔ ایل شرما پریم کو چن کر پارلیمنٹ بھیجا تھا پھر کیا تھا وہ بھی 91 سے97 تک دو بار ایم پی رہے۔ اس کے بعد بھاجپا کے ہی لال بہاری تیواری نے1997 سے2004 تک تین بار ایم پی چنے گئے۔ مشرقی دہلی کی10 سیٹوں میں سب سے زیادہ پانچ اسمبلی سیٹیں عام آدمی پارٹی کے پاس ہیں۔دوسرے نمبر پر بی جے پی کے پاس3 سیٹیں ہیں کل اسمبلی میں70 سیٹوں میں سے 8 سیٹوں پر کانگریس سمٹ گئی۔کانگریس کو دو سیٹیں ہی مل پائیں۔ مشرقی دہلی کے ذات پات کے تجزیئے پر ایک نظرڈالیں تو مسلم ووٹروں کی تعداد 15 فیصدی سے کچھ زیادہ ہے۔ اوکھلا، کرشنا نگر، گاندھی نگر اور شاہدرہ میں ان کی موجودگی کافی مضبوط ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر دلتوں کی تعداد ہے جو 14.82 فیصد ہے جبکہ پنجابی کم ہیں14.35 فیصدی۔ سندیپ دیکشت کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی ٹیم کا حصہ ہیں اور وہ کانگریس کے ترجمان بھی ہیں اور اسی سیٹ سے چناؤ لڑ رہے ہیں اور کام بھی کیا ہے۔ بھاجپا کے امیدوار مہیش گیری روی شنکر آرٹ آف لیونگ کے ممبر ہیں۔ سیاست میں نئے ہیں لیکن حلقے میں وہ پچھلے دو سال سے سماج سیوا کے ذریعے سے جڑے ہوئے ہیں۔عام آدمی کے امیدوار راج موہن گاندھی پہلے بھی چناؤ میں اپنی قسمت آزما چکے ہیں اس وقت انہوں نے امیٹھی میں راجیو گاندھی کے خلاف چناؤ لڑا تھا اور ہار گئے تھے۔ راج موہن نے اب بھی اپنی نیا پار لگانا چاہتے ہیں۔ بھاجپا کی سب سے بڑی امید مودی کی مقبولیت پر ٹکی ہے۔ دیکھیں کس کرونٹ اونٹ بیٹھتا ہے؟ مسلم بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار شکیل سیفی بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
(انل نریندر)

دبنگوں کے معاملے میں حمام میں سبھی پارٹیاں ننگی ہیں!

بہت پرانی بات نہیں ہے جب سپریم کورٹ نے دیش کی سیاست کو جرائم سے بچانے کے لئے ایک اہم فیصلہ دیا تھا۔تب ایک بار تو ایسا لگا تھا کہ اب مستقبل میں سیاست میں جرائم کی چھایا ختم ہوجائے گی۔ تمام بڑی سیاسی پارٹیوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا۔ دو ممبران پارلیمنٹ لالو پرساد یادو ، رشید مسعود کی ممبر شپ بھی چلی گئی تھی لیکن قتل ،لوٹ مار اور تشدد جیسے سنگین معاملوں میں گھرے کئی دبنگی ایک بار پھر چناؤ میں اترے ہوئے ہیں۔ اصولوں کی بات کرنے والی کئی پارٹیاں انہیں اپنے پالے میں کھینچنے سے باز نہیں آئیں۔ سب کی نظر سیٹیں بچانے میں لگی ہوئی ہے وہیں کئی دبنگئی ایسے بھی ہیں جو بڑی پارٹیوں سے موقعہ نہیں ملا تو وہ علاقائی پارٹیوں کے سہارے پارلیمنٹ میں پھر سے دستک دینا چاہتے ہیں۔ وارانسی میں دبنگی مختار انصاری نے چناؤ لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ انصاری جیل سے ہی چناؤ لڑیں گے۔ الہ آباد کی پھولپور سیٹ سے ایم پی کا سفر کر چکے دبنگی عتیق احمد بسپا راج میں بھاگے بھاگے گھوم رہے تھے لیکن جیسے ہی سپا کا دور آیا وہ تال ٹھونکنے لگے اور سپا نے آخر کار انہیں چناؤ میدان میں اتار دیا۔ ادھر بلرام پور سیٹ سے ایم پی رہے رضوان ظہیر کو گونڈہ سے بسپا کا ٹکٹ نہیں ملا تو وہ پالہ بدل کر پیس پارٹی میں چلے گئے اور عتیق کے خلاف چناؤ میدان میں کھڑے ہوگئے۔ رام مندر تحریک سے سرخیاں بٹورنے والے دبنگی برج بھوشن سنگھ آج کل اپنے پرانے گھر بھاجپا میں ہیں۔ سپا سے ہوتے ہوئے وہ اپنی پرانی پارٹی میں بھاجپا میں آئے تو پارٹی نے ان کے لئے دروازہ کھولنے اور ٹکٹ دینے میں کوئی قباحت نہیں برتی۔ سپا کا ٹکٹ ٹھکرا کر بھاجپا میں آئے برج بھوشن کو راجناتھ کا بھروسہ حاصل تھا وہ کہتے ہیں میں مافیہ ہوں میرے خلاف 40 مقدمے درج ہیں۔ قتل لوٹ مار جیسے تمام سنگین الزامات میں جیل کی یاترا کرچکے ہیں اور معافی نامے کے بعد جیل سے باہر آگئے۔ دبنگ نیتا متر سین یادو فیض آباد لوک سبھا سیٹ سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ سپا کی سائیکل کے سہارے پارلیمنٹ پہنچنا چاہتے ہیں۔بسپا نے متر سین کو کانگریس کی پردیش پردھان ریتا بہوگنا جوشی کا گھر جلانے کے ملزم سابق ایم ایل سی جتندر سنگھ عرف ببلو کو میدان میں اتارا ہے۔ دبنگی ڈی پی یادو اور ان کی بیوی بسپا سے نکالے گئے دھننجے سنگھ لکھنؤ کا ارون بھلا عرف منا سبھی کی تمنا سفید پوش ہونے کی ہے۔ پوروانچل کا دبنگی منا بجرنگی جون پور سے تو برجیش سنگھ چندولی سے آزادامیدوار کی شکل میں قسمت آزمانے کی تیاری کررہے ہیں۔ بسپا نے سلطان پور سے دبنگ پپن پانڈے کو میدان میں اتار کر بھاجپا کے ورون گاندھی کو چنوتی کا راستہ ہموار کیا ہے۔ اعظم گڑھ کا دنگل بھی سیاسی ہے یہاں سے سپا چیف ملائم سنگھ یادو میدان میں اترنے سے وہاں کی پوزیشن کافی بدل گئی ہے۔ یہاں کے موجودہ دبنگی ایم پی رما کانت ملائم کے سبب دن میں تارے دیکھنے لگے ہیں۔ دبنگ ساکھ کے رما کانت یادو بھاجپا کے ایم پی ہیں ۔ سپا اور بھاجپا سے وہ کئی بار چناؤ لڑ رک لوک سبھا پہنچ سکے ہیں۔ اس بار پھر وہ اپنے دبنگی کا احساس کرانے کو تیار ہیں لیکن ملائم سے مقابلہ آسان نہیں لگ رہا ہے۔ کل ملا کر اگر دبنگیوں کی بات کریں تو اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔
(انل نریندر)

28 مارچ 2014

این سرینواسن : بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے!

اکیلے سیاستداں ایسے نہیں ہوتے جو ہر حال میں سنگین سے سنگین الزامات لگنے کے بعد کرسی سے چپکے رہتے ہیں۔ ہمارے کھیلوں کے مٹھادھیش بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ آپ بی سی سی آئی چیئرمین این سرینواسن کا معاملہ ہی لے لیجئے۔ آئی پی ایل اسپارٹ فکسنگ معاملے میں وہ پھنسے ہوئے ہیں تمام الزامات کے باوجود وہ اپنی کرسی چھوڑنے کوتیار نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے منگلوار کو مدگل کمیٹی کی رپورٹ پر سماعت کرتے ہوئے اس کے جسٹس اے کے پٹنائک کی بنچ نے جس طرح سے این سرینواسن کو پھٹکا لگائی اور عہدہ چھوڑنے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں فرمان جاری کرنے کی بات کہی تھی۔ اس کے بعد تو چاہئے تھا کہ سرینواسن فوراً استعفیٰ دے دیتے۔ کرسی سے چپکے رہنا اور کوئی گھپلا سامنے آجانے پر خودبخود ہی جانچ بٹھا کر خود کو بے قصور ثابت کردینا نیتاؤں کا ہی نہیں ہمارے دیش کے کھیل اداروں کے اعلی کمان کا بھی محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔بی سی سی آئی کے صدر مسٹر سرینواسن کی بیجا ضد کو دیکھتے ہوئے آخر کار جسٹس پٹنائک کی بنچ کو کہنا پڑا کے سٹے بازی اور اسپارٹ فکسنگ کی منصفانہ جانچ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے عہدے سے فوراً ہٹ جائیں۔ عدالت نے صاف کہا ہے کہ این سرینواسن نے اپنی مرضی سے ایسا نہیں کیا تو وہ اس کے لئے فرمان جاری کریں گے اور کربھی دیا اور ان کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ اگر کوئی ہٹا سکتا ہے تو وہ صرف سپریم کورٹ ہی ہے۔ بھارت کی کرکٹ انتظامیہ پر اپنی پکڑ انہوں نے دوسری بار بلا مقابلہ صدر بن کر دکھادی۔ اس کے پہلے انہیں بی سی سی آئی کے آئین میں ترمیم کروائی اور اپنے آپ کو دوسری بار صدر چنے جانے کے لئے راستہ ہموار کروا دیا کیونکہ بی سی سی آئی کے قانون کے مطابق موجودہ صدر دوسری مرتبہ چناؤ نہیں لڑسکتا تھا۔ انہوں نے لابنگ اور پیسے کی طاقت کا استعمال کرکے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) کے قاعدے بھی بدلوا دئے اور آئی سی سی کے اگلے صدر کا چناؤ بھی جیت لیا۔ یہ سب انہوں نے اس وقت کیا جب آئی پی ایل میں سٹے بازی اور اسپارٹ فکسنگ معاملے میں ان کے داماد اور ان کی ٹیم چنئی سپر کنگس کے کرتا دھرتا گوروناتھ میپئن جانچ کے گھیرے میں ہیں۔ اب سپریم کورٹ نے ان کی اس بے روک دوڑ پر لگام لگا دی ہے۔ آئی پی ایل میں سٹے بازی اور اسپارٹ فکسنگ کے معاملے میں سپریم کورٹ کے ذریعے بنائی گئی جسٹس مدگل کمیٹی نے فروری میں سونپی اپنی رپورٹ میں بی سی سی آئی پریسیڈنٹ اور چنئی سپر کنگ کے مالک این سرینواسن کے داماد گورو ناتھ میپئن اور کچھ کرکٹ کھلاڑیوں کے نام اجاگر کئے تھے۔ اس رپورٹ میں اتنی سنگین اطلاعات موجودہیں کہ ان کی تہہ تک جانے کا کام سرینواسن کے عہدے پر رہتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ بی سی سی آئی کے کورٹ آف کنڈیکٹ کی تعمیل کرنا تو دور سرینواسن اینڈ کمپنی نے بیحد منمانی ڈھنگ سے پورا کاروبار اپنے ہی ہاتھ میں لے لیا تھا۔غور طلب ہے کہ اپنے داماد کی گرفتاری کے بعد سرینواسن نے بیچ میں کچھ دنوں کے لئے اپنا عہدہ چھوڑدیا تھا۔ لیکن پھر خود کو بے قصور مانتے ہوئے بے شرموں کی طرح دوبارہ کرسی پر آ بیٹھے۔ اگر سرینواسن اپنے عہدے پر بنے رہتے ہیں تو نہ صرف کرکٹ کے سب سے بڑے ادارے بی سی سی آئی کی جگ ہنسائی ہوگی بلکہ سٹے بازی اور اسپارٹ فکسنگ جیسے سنگین الزامات کو بھی دبا دیا جائے گا۔ رہی این سرینواسن کی بات تو یہ ہی کہا جائے گا ’بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔‘
(انل نریندر)

پنجاب کا سب سے بڑا دلچسپ مقابلہ: ارون جیٹلی بنام کیپٹن امرندر سنگھ!

بھارتیہ جنتا پارٹی کے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی آئے تو تھے امرتسر کو بھاجپا کا ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ مان کر لیکن کانگریس نے ان کے سامنے کیپٹن امرندر سنگھ جیسے مضبوط امیدوار کو اتار کر ان کی ڈگر ہلا دی۔ اگر ڈگر مشکل جیٹلی کی ہوئی ہے تو کیپٹن امرندر سنگھ کا بھی اب مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ پہلے کیپٹن نے امرتسر سے چناؤ لڑنے سے منع کردیا تھا لیکن کانگریس اعلی کمان (سونیا ۔ راہل) کے حکم کے بعد ان کو میدان میں کودنا پڑا۔دراصل امرتسر سیٹ سے کانگریس کو جیٹلی کے خلاف ایک مضبوط اور بڑے امیدوار کی تلاش تھی اور اس سلسلے میں ہائی کمان نے کیپٹن کو بھٹنڈہ یا امرتسر سے چناؤ لڑنے لو کہا تھا لیکن انہوں نے اسے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وہ انہیں سیٹوں تک محدود رہ جائیں گے اور پٹیالہ سے چناؤ لڑرہی اپنی بیوی اور وزیر مملکت خارجہ پرمیت کور کے علاوہ ریاست میں پارٹی کے لئے چناؤ کمپین نہیں کرسکیں گے۔ بتایا جاتا ہے ریاست میں پارٹی کی حالت کو دیکھتے ہوئے اعلی کمان نے کیپٹن کو امرتسر سیٹ سے چناؤ لڑنے کے لئے منا لیا۔ ان کی امیدواری کا اعلان ہوتے ہیں امرتسر میں کانگریس ورکروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پارٹی کے مقامی لیڈر جگل کشور شرما نے کیپٹن کی امیدواری کے بعد ضلع یونٹ میں اندرونی رسہ کشی ختم ہونے کا دعوی کیا اور کہا سبھی متحد ہوکر انہیں بھاری ووٹوں سے کامیاب بنانے میں لگ جائیں گے۔امرتسر سیٹ نے 1951 ء سے 2009 ء تک کے لوک سبھا چناؤ نتائج پر کانگریس کا ہی دبدبہ رہا ہے۔ 1999 ء تک کے چناؤ میں یہاں سے 8 بار کانگریس کامیاب رہی جبکہ 1998 اور 2004 اور 2009 میں یہاں سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور 1967-77 کے دو چناؤ میں دوسری پارٹیاں کامیاب رہیں۔ امرتسر کی سیاست میں اچانک بدلے پس منظر میں آئی تبدیلی نے ارون جیٹلی کی مشکل بڑھا دی ہے۔ ایک طرف تو یہاں پردیش بھاجپا میں گروپ بندی چل رہی ہے تو دوسری طرف ریاستی بھاجپا پردھان کمل شرما خود امرتسر سیٹ کے لئے دعویدار تھے۔ بادل بھی خود امرتسر سیٹ سے دعوے دار تھے۔ بادل چاہتے تھے کہ کمل شرما اس حلقے سے امیدوار ہوں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیٹ پر نوجوت سنگھ سدھو کو الگ کیا گیاتھا لیکن کمل شرما کے بجائے بھاجپا ہائی کمان نے یہاں ارون جیٹلی کو بھیج دیا جس سے بھاجپا میں گروپ بندی شروع ہوگئی جس وجہ سے امرتسر سیٹ پر اس کا اثر پڑے گا۔ یہ اور بات ہے جیٹلی جیسے قومی سطح کے لیڈر کے سامنے آنے سے کوئی کھل کر بول نہیں پایا۔ امرتسر پارلیمانی سیٹ پر غور کریں تو یہاں ہندو اور سکھوں کی اوسط آبادی 65-35 کے آس پاس ہے۔ 9 میں 4 شہری اسمبلیوں کو چھوڑ کر باقی پانچ اسمبلی حلقوں میں دیہی آتے ہیں سکھ اکثریتی علاقوں میں جیٹلی کو اکالی ووٹ پر منحصر رہنا ہوگا کیونکہ شہروں میں بھاجپا کی بنیاد تو ہے لیکن اتحادی سرکار کی مخالف پالیسیوں کے سبب ووٹ بھاجپا سے کٹا ہوا ہے۔ کانگریس اور اکالیوں کے درمیان بنٹتا رہا ہے۔سدھو کے حمایتی جیٹلی کو ٹکٹ دینے کے فیصلے سے ناراض ہیں۔ اس کا خمیازہ بھی جیٹلی کو بھگتنا ہوگا۔ دوسری طرف کیپٹن امرندر سنگھ کانگریس میں مقبول ہیں اور ریاست کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور امرتسر کے سبھی سابق اور موجودہ کانگریسی ایم ا یل اے ان کے گروپ میں ہیں۔امرتسر بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر وکیلوں کی حمایت مانگنے بارروم گئے ارون جیٹلی کو کانگریس حمایتی وکیلوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اتنا ہی نہیں ان کے سامنے کانگریس اور کیپٹن امرندر سنگھ زندہ باد کے نعرے لگائے۔ امرندر سنگھ نے جیٹلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط نیتا پردھان منتری بننے کی اپنی توقعات کو پورا کرنے کے لئے سیٹ نہیں مانگتے۔جوابی حملہ کرتے ہوئے جیٹلی نے انہیں ا مرتسر میں ہی بتانے کے لئے سوال کیا کہ ان کی پارٹی چیف سونیا گاندھی کس ریاست سے آتی ہیں؟ پنجاب میں میری آبائی جڑیں ہیں۔ کیپٹن صاحب نے مجھے باہری اور فرضی پنجابی قراردیا براہ کرم وہ مجھے یہ بتائیں گے کہ شریمتی سونیا گاندھی بھارت کی کس ریاست سے آتی ہیں؟
(انل نریندر)

27 مارچ 2014

نریندر مودی کا مشن272+ بنام راجناتھ سنگھ کا خفیہ مشن!

عام چناؤ میری رائے میں مودی بنام باقی بن گیا ہے۔ کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، انا ڈی ایم کے و عام آدمی پارٹی سبھی نریندر مودی سے لڑ رہے ہیں اورکوئی اشو نظر نہیں آرہا ہے۔ اس چناؤ میں نریندرمودی اپنے مشن272+ پر دن رات لگے ہوئے ہیں لیکن پچھلے کچھ دنوں سے جو مودی حامی ہوا دیش میں بنی تھی اس کی رفتار میں کمی آئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ خود بھارتیہ جنتا پارٹی ہی ہے۔ پارٹی میں ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر پیدا ہوئی ناراضگی اور وفادار بزرگ نیتاؤں کی بے عزتی وغیرہ کے کہرام میں مودی کے مشن 272+ کے پنکچر ہونے کا خطرہ کھڑا کردیا ہے۔ پارٹی لیڈر شپ خاص کر پارٹی پردھان راجناتھ سنگھ کے فیصلوں نے بھاجپا کے لئے مصیبتیں بڑھا دی ہیں۔ پنجاب میں غبارہ پھٹنے سے لگی آگ بھاجپا کی بڑھتی پریشانی کا ایک نمونہ ہے۔ یوپی میں سڑکوں پر گھٹ رہے ورکروں کے غبار کی آنچ مشن مودی کے پسینے چھڑاتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنہیں مخالف سیناؤں سے مورچہ لینے کے لئے زمین پر دکھائی دینا چاہئے لیکن ورکر لیڈر شپ کے فیصلے سے خفا ہوکر گھر بیٹھ گئے ہیں۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ پارٹی پردھان ایسا کیوں کررہے ہیں؟ کیا بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ کی نظر وزیر اعظم کی کرسی پر لگی ہے؟ انہوں نے کئی ایسے قدم اٹھائے جس سے تو یہ ہی لگتا ہے۔ حالانکہ وہ کھل کر تو کچھ نہیں بول رہے ہیں لیکن ان کے ٹوئٹ وغیرہ سے کئی معنی نکالے جارہے ہیں۔ دل کی بات زبان پر آہی جاتی ہے۔ بھاجہا پردھان راجناتھ سنگھ کے ساتھ پیر کو ایسا ہی ہوا۔ دیش بھر میں جو بھاجپا کے بینر ،پوسٹر لگے ہیں ان پرصرف مودی کی تصویر ہے اور الگ الگ اشو پر ایک نعرہ لکھا گیا ہے’اب کی بار مودی سرکار‘ ۔ راجناتھ کے ٹوئٹرسے پیر کی دوپر 1:17 پر ایک پوسٹر پوسٹ کیا گیا اس میں لکھا تھا ’اب کی بار بھاجپا سرکار‘ تصویر بھی مودی کی جگہ راجناتھ کی لگی ہوئی تھی۔ تجزیہ کار جس طرح اس پر رائے دے رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ بھاجپا اور اس کے پردھان کو کچھ دیر سے بات سمجھ آئی ہے بات اور تصویر دونوں ہی ہضم نہیں ہورہے ہیں۔33 منٹ بعد 1:50 پر ٹوئٹر سے پہلے والا پوسٹر ہٹا دیا گیا اور مودی کی تصویر اور انہیں کے نعرے والا پوسٹر پھر آگیا’ اب کی بار مودی سرکار‘۔ دراصل سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی نے مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنایا ہے لیکن راجناتھ سنگھ کی نظریں بھی پی ایم کی کرسی پر ہیں۔ ویسے بھی ان دنوں بھاجپا میں تین پی ایم امیدوار ہیں ایک اعلان کردہ نریندر مودی ، ایک ویٹنگ (لال کرشن اڈوانی) اور ایک پوشیدہ یعنی راجناتھ سنگھ۔سیاسی واقف کاروں کی مانیں تو راجناتھ سنگھ نریندر مودی کو آگے رکھ کر خود کو پی ایم بنانے کے لئے بھی خفیہ مشن پر کام کررہے ہیں۔ اگر پارٹی اور اتحاد کو لوک سبھا چناؤ کے بعد مکمل اکثریت نہیں ملتی ہے اور مودی کے نام پر اتفاق رائے نہیں بن پاتا تو کوئی تعجب نہیں ہوگا کہ راجناتھ سنگھ اتفاق رائے سے پی ایم امیدوار کی شکل میں خود کو آگے کردیں۔ یہ بھی تذکرہ ہے کہ راجناتھ سنگھ نے اس سلسلے میں کچھ پارٹیوں اور کچھ لیڈروں سے بھی بات کررکھی ہے۔ مانیں یا نہ مانیں کہیں نہ کہیں راجناتھ سنگھ کے دل میں پی ایم بننے کی تمنا ہے۔ ایک سنت نے ان پر مودی کے خلاف سازش رچنے کا بھی الزام لگایا تھا۔ شری لال کرشن اڈوانی ،راجناتھ سنگھ کی چال کو سمجھ گئے ہیں کہ کیسے انہیں سیاسی پس منظر سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ کہیں مودی کے مشن 272+ پر راجناتھ سنگھ کا مشن بھاری نہ پڑ جائے؟
(انل نریندر)

ہریش راوت بنام ستپال مہاراج: داؤ پر اتراکھنڈ حکومت!

پوڑی گڑھوال سے ایم پی ستپال مہاراج کا کانگریس چھوڑنا اور بھاجپا میں شامل ہونا اتراکھنڈ کی سیاست میں خاصی اہمیت رکھتا ہے ستپال مہاراج کے بھاجپا میں شامل ہونے سے اتراکھنڈ میں سیاسی تجزیئے بدل گئے ہیں۔ ہریش راوت کی کانگریس سرکار کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ستپال مہاراج کے کئی آدمی کانگریس کے ایم ایل اے ہیں اور وقت آنے پر وہ بھی پالہ بدل سکتے ہیں۔ حالانکہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی ہریش راوت نے کہا کہ کانگریس پارٹی متحد ہے اور نہ تو ان کی سرکار کوکوئی خطرہ ہے اور نہ ہی پارٹی میں اتحاد کو۔ آنے والے چناؤ میں بھاجپا کو پوری طاقت سے ہرادینے کو پارٹی تیار ہے۔ پارٹی کے کچھ بڑے نیتاؤں کا خیال ہے کہ مہاراج کے کانگریس چھوڑ جانے سے پارٹی میں طویل عرصے سے چلی آرہی رسہ کشی پر لگام لگ جائے گی اور گروپ بندی بھی رکے گی۔ جب ہریش راوت سے اس بارے میں پوچھا گیاتو انہوں نے کہاکہ ہمیں اب یہ دیکھنا ہوگاکہ چناؤ میں بھاجپا کو کس طرح ہرایا جائے۔ مہاراج کے جانے کے بعد پوری پارٹی کے نیتاؤں اور ورکروں نے اتحاد کا ثبوت دیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک ایک دوسرے کے سیاسی دشمن نظر آرہے اتراکھنڈ کے دو سب سے بڑے حریف ہریش راوت اور سابق وزیر اعلی وجے بہوگنا ستپال مہاراج کے پارٹی چھوڑ جانے کے بعد اب متحد دکھائی دے رہے ہیں۔ لنچ ڈپلومیسی کے تحت بازی پور گیسٹ ہاؤس میں رکے ہریش راوت کے قریب رہنے والے اپنے پڑوسی بہوگنا کے گھر گئے جہاں ان کے درمیان سیاسی حالات پر لمبی بات چیت ہوئی ۔اس لنچمیں تقریباً 13 کانگریسی بھی شامل ہوئے جن میں زیادہ تر بہوگنا کے حمایتی ایم ایل اے تھے۔کانگریس پردیش پردھان یشپال آریہ بھی اس لنچ میں شامل ہوئے ۔ اس کے بعد راوت کافی خوش دکھائی دئے اور بولے کہ ہم متحد ہیں اورآگے بھی رہیں گے۔ دوسری طرف مہاراج کی بیوی اور ریاست کی وزیر سیاحت امرتا راوت نے بھی ایک اچھا بیان دے کر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ کانگریس چھوڑ کر نہیں جارہی ہیں۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق امرتا کا یہ بیان بہت ہی مثبت ہے اور اس سے یہ پیغام بھی گیا ہے کہ پارٹی کے اندر رسہ کشی کا دور رک جائے گا۔ مہاراج کے پارٹی چھوڑنے کی خاص وجہ ہریش راوت اور ان کے درمیان برسوں سے جاری رقابت مانی جارہی ہے۔ 2002ء میں راوت کے پردیش کے وزیر اعلی نہ بن پانے کی اہم وجہ ستپال مہاراج ہی تھے۔ مہاراج کی مخالفت کی وجہ سے وزیر اعلی کی کرسی راوت کے ہاتھ سے پھسل کر نارائن دت تیواری کے پاس چلی گئی تھی۔ راوت کو دوسرا جھٹکا 2012ء میں لگا جب ایک بار پھر ان کے ہاتھ سے کرسی چھن کر وجے بہوگنا کے پاس چلی گئی۔ راوت نے کہا ہم نے جو کھونا تھا وہ کھودیا ہے لیکن ہم اب اپنی پوری توجہ پردیش کی ترقی اور آنے والے چناؤ میں پانچوں سیٹوں پر جینے پر لگائیں گے۔ دوسری طرف ستپال مہاراج کے بھاجپا میں آنے سے پارٹی میں نئی جان آگئی ہے۔ اب ان کا نشانہ پانچ لوک سبھا سیٹوں پر ہے۔ ساتھ ساتھ اتراکھنڈ اپنی سرکار بنانے کی پوری امید بھی جاگی ہے۔ آنے والے دن دونوں فریقین کے لئے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

26 مارچ 2014

وقاس کی گرفتاری دہلی و راجستھان پولیس کی بڑی کامیابی!

دہلی پولیس کی اسپیشل سیل و راجستھان پولیس نے ایک بڑی دہشت گردانہ سازش کو ناکام کرتے ہوئے انڈین مجاہدین کے چار آتنک وادیوں کو گرفتار کیا ہے۔ اجمیر، جے پور اور جودھپور یں انڈین مجاہدین کے چار آتنک وادیوں کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ایک بڑی کامیابی ہے۔پاکستانی دہشت گرد وقاس کی گرفتاری کے ساتھ دیش میں چار برسوں سے جاری دہشت گردی و دھماکوں کے گناہگاروں میں سے ایک اہم کڑی ہاتھ میں آگئی ہے۔ بم بنانے میں ماہر اس آتنکی کے سال2010ء میں قدم رکھتے ہی دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس میں دہلی کی جامع مسجد میں سیلانوں پر حملے کے ساتھ بنارس ،ممبئی ، پنے اور احمد آباد ،حیدر آباد کے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں دھماکے کی وارداتیں شامل ہوتی گئیں۔ اس کامیابی کی اہمیت اس لئے بھی ہے کیونکہ یہ ہی وقاس جو کہ پاکستانی ہے انڈین مجاہدین کے سرغنہ یٰسین بھٹکل کا دائیاں ہاتھ بتایا جارہا ہے۔ اس بات پر زیادہ تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ پکڑے گئے دہشت گرد پڑھے لکھے ہیں۔ ضیاء الرحمن عرف وقاس عمر25 سال ، تعلیم فیصل آباد کالج سے فوڈ ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ، محمد مشرف عمر 21 برس، تعلیم جے پور میں وویکاآنند انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی سے انجینئرنگ کا طالب علم، محمد وقار عرف حنیف عمر21 برس تعلیم سیتا پور گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی سے انجینئرنگ، صابر انصاری عرف خالد عمر25 سال تعلیم کمپیوٹر کورس وغیرہ وغیرہ سبھی پڑھے لکھے ہیں۔ دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران وقاس نے یہ بھی بتایا دیا کہ اس چناوی دور میں ان کے نشانے پر صرف نریندر مودی ہی نہیں تھے بلکہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی بھی رہے ہیں کیونکہ سرحد پار بیٹھے آتنکی آقادباؤ بنائے ہوئے ہیں کہ چناوی موسم میں کوئی بڑا شکار ہونا چاہئے۔ بڑے شکار کا مطلب نریندر مودی اور راہل گاندھی سطح کا قومی لیڈر ہو۔ یہ اطلاع ملی ہے کہ وارانسی میں نریندر مودی پر پرچہ داخل کرنے کے دوران حملے کی سازش رچی گئی تھی۔ اس کے لئے تین چار مقامی لوگ تیار کئے گئے تھے اور ان کے بالوں کا منڈن کر رہے مودی کے بھکت کی شکل میں جلوس میں شامل کرلیا جائے۔ یہ لوگ بھیڑ کے ساتھ ہر ہر مودی کا نعرہ لگاتے رہے ہیں تاکہ ان پر کسی کو شک نہ ہو۔ دہشت گردی کے آقاؤں نے ان کے منڈے ہوئے سر پر مودی کے نعرے لکھنے کی اسکیم بھی بنائی تھی تاکہ یہ سازش کامیاب ہوسکے۔ ان سازشیوں کو فدائی دستے کی شکل میں تیار کیا جارہا تھا۔ اس حملے میں سکیورٹی ایجنسیوں نے کئی اسباب سے زیادہ تفصیل سے جانکاری دینے سے فی الحال انکار کردیا۔ بس اتنا کہا گیا ہے کہ وارانسی کی سازش ناکام کردی گئی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے ان چار آتنک وادیوں کی گرفتاری کو بڑی کامیابی بتایا ہے۔ شندے نے کہا پاکستانی دہشت گرد وقاس دیش میں مختلف حملوں میں مطلوب تھا۔ ہم پچھلے 8-10 دن سے ان پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ جب وقت آئے گا تب اس کی جانکاری دیں گے۔ یہ ہمارے لئے بڑی کامیابی ہے۔ راجستھان کے ان چار آتنک وادیوں کے پکڑے جانے سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا ہے۔ دہلی اور راجستھان پولیس مبارکباد کی مستحق ہے۔
(انل نریندر)

بہار کی سیلبریٹی سیٹ پٹنہ صاحب میں شترو کا وقار داؤ پر لگا!

بہار کے پٹنہ صاحب کا نام آتے ہی گورو گووند سنگھ پرم پاون نگری کی یاد آجاتی ہے۔ حد بندی کے بعد بنے اس نئے پارلیمانی حلقے میں پٹنہ کا اہم شہری علاقہ شامل ہے۔ 2009ء میں ہوئے عام چناؤ میں شتروگھن سنہا اور شیکھر سمن جیسے سیلبریٹی امیدواروں کے درمیان ٹکر سے یہ سیٹ سرخیوں میں آئی تھی۔ اس چناؤ میں شتروگھن سنہا نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن تب بھاجپا اور جنتا دل (یو) کا اتحاد تھا۔ اس بار دونوں الگ ہوچکے ہیں۔17 اپریل کو ہونے والے چناؤ میں دونوں پارٹیوں کے امیدوار ایک دوسرے کو ٹکر دیں گے۔ اس بار پٹنہ صاحب سے بھاجپا امیدوار شتروگھن سنہا ہی ہیں جبکہ جنتا دل (یو) سے مشہور ماہر طب ڈاکٹر گوپال پرساد سنہا چناؤ لڑ رہے ہیں۔ کانگریس ۔ آر جے ڈی اتحاد کی طرف سے کانگریسی امیدوار راج کمار راجن کو بدل کر بھوجپوری فلم اداکار کنال سنگھ کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ آپ پارٹی نے پروین امان اللہ کو اتارا ہے۔ کرپال سنگھ نے کہا کہ یہ مقابلہ دو ستاروں کا نہیں بلکہ راجہ اور رنک کے درمیان ہے جس میں جنتا اسی کو چنے گی جو ان کے درمیان کا ہے۔ چناؤ مبصرین کا کہنا ہے اس بار شتروگھن سنہا کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ پٹنہ دور قدیم اور وسطی دور کا اہم شہر رہا ہے۔ نہ صرف کاروباری بلکہ تاریخی اور سیاسی پس منظر سے بھی اس شہر کے تذکرے بغیر ہندوستان کی تاریخ لکھنا مشکل ہے۔ چھوٹی پٹن دیوی، پتھر کی مسجد اور پادری کی حویلی ہندو ،مسلم اور عیسائی مذاہب کے لوگوں کی عقیدت کا مرکز رہے ہیں۔ تخت شری ہرمندر صاحب کے درشن کے لئے پٹنہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جہاں لاکھوں لوگ ماتھا ٹیکنے آتے ہیں۔ بودھ دھرم کا بھی یہ ہی مرکز رہا ہے۔ پٹنہ صاحب ریاست کا اہم کمرشل مرکز رہا ہے۔1857ء میں بغاوت اور تحریک آزادی میں بھی پٹنہ کا اہم کردار رہا ہے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا۔ جنتادل اتحاد نے اس لوک سبھا سیٹ میں 6 میں سے4 اسمبلی سیٹوں پرجیت حاصل کی تھی۔ بختیار پور، فتوہا میں آر جے ڈی کا قبضہ تھا جبکہ دگہا میں جنتا دل (یو) آگے رہا۔ بانکی پور ، کمہارائی اور پٹنہ صاحب میں بھاجپا کے امیدواروں نے جیت حاصل کی ہے اس بار اتحاد ٹوٹنے کا اثر لوک سبھا چناؤ پر بھی ہوسکتاہے۔ سارے تجزیئے بگڑ سکتے ہیں، شتروگھن کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ فرقہ وارانہ طاقتوں اور کانگریس اور آر جے ڈی و جنتا دل (یو) جیسی سیکولر پارٹیوں کے درمیان ہے۔ سڑے ہوئے مال کو بڑھیا پیکنگ کرکے ٹی وی پر دکھانے سے لوگ متاثر نہیں ہوں گے۔ بھوجپوری اداکاری کنال سنگھ نے کہا کہ مودی لہر کا جنتا پر کوئی اثر نہیں ہونے والا ہے کیونکہ وہ بھی جانتی ہے ایک دن میں کوئی جادو کی چھڑی نہیں جو گھما کر ان کی تقدیر بدل دے۔ راہل گاندھی نوجوان ہے اور آنے والے وقت میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے برسوں پرانا بھاجپا۔ جنتادل اتحاد نریندر مودی کو لیکر ہی توڑا تھا۔ شتروگھن سنہا کی ساکھ کے ساتھ ساتھ نتیش کمار کی ساکھ بھی اس لوک سبھا چناؤ سے جڑی ہے۔رہا لالو پرساد یادو یہ ان کے وقار سے بھی جڑا ہے لیکن پٹنہ صاحب کی اس مقبول ترین سیٹ پر بھی اب سبھی کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔
(انل نریندر)

25 مارچ 2014

سری پرکاش جیسوال اور ڈاکٹر مرلی منوہرجوشی میں ٹکراؤ!

اترپردیش کا سب سے بڑا شہر کانپور ہے اس شہر میں اس بار وارانسی ، اعظم گڑھ کے بعد اس سب سے اہم سیاسی لڑائی کا چناوی حلقہ بن گیا ہے۔ وارانسی سے بھاجپا کے سرکردہ لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہرجوشی کے وارانسی سے مودی کے لئے سیٹ خالی کرنے پر مجبور ہونے کے بعد کانپور سے وہ چناؤلڑ رہے ہیں۔ سیاست میں کانپور کا اپنا ہی مزاج ہے۔ کانپور کے مزاج میں ممبران پارلیمنٹ کی ہیٹ ٹرک بنانا اور اب تک تین ممبران نے بنائی ہے۔ چار بار آزاد ایم پی چننے والا کانپور شاید پورے دیش میں اکیلا شہر ہوگا۔ اترپردیش کے سب سے بڑے شہر کی تکلیفیں بھی بڑی ہیں۔ گندگی، خستہ حال سڑکیں، صنعت، ٹریفک جام،کم ہوتے روزگارکے مواقع اور بجلی کا بحران وغیرہ وغیرہ شامل ہیں لیکن ان سے لڑتے ہوئے بھی شہر بار بار اپنے نیتاؤں کا موقعہ دیتا رہا ہے۔ تین بار سے کانپور کانگریس کے سری پرکاش جیسوال کو چنتا آرہا ہے۔ اس مرتبہ بی جے پی کے ڈاکٹر مرلی منوہرجوشی کے میدان میں اترنے سے مقابلہ دلچسپ ہوگیا ہے۔ 1857ء کی آزادی کی پہلی لڑائی کے میدان جنگ کی رانی جھانسی ، تاتیاٹوپے وغیرہ کا یہ شہر آزادی کی لڑائی کے لئے مشہور ہے۔ چندر شیکھر آزاد، بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں نے کانپور کے ڈی اے وی ہاسٹل میں پڑھ کر اپنی انقلابی سرگرمیاں چلائی تھیں۔ گنیش شنکر ودیارتھی اور حسرت موہانی اس شہر کے اہم پہچان رہے ہیں۔ کبھی ایشیا کے مانچسٹر کہے جانے والے اس شہر کی صنعتوں کی قابل رحم حالت بن گئی ہے۔ 2009 کا لوک سبھا چناؤ سری پرکاش جیسوال نے 214988 (41.92) فیصد ووٹ ملے اور بھاجپا کے ستیش بڑہانا کو 196082 (38.23) فیصد ووٹ مل پائے۔ اس طرح کل18,906 ووٹوں سے ہی جیسوال جیت پائے تھے۔ جیسوال مقامی آدمی ہیں ان کی پیدائش 25 ستمبر 1944ء کو کانپور میں ہیں ہوئی تھی۔ 2011ء میں مرکزی حکومت میں وزیر کوئلہ بننے کے بعد وہ کول بلاک الاٹمنٹ معاملے میں مسلسل تنازعوں میں رہے ہیں۔اس مرتبہ امیدوار بننے کے بعد پہلی بار شہر آئے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے اپنی پہلی ریلی میں سری پرکاش جیسوال پر تلخ تیور اپنائے اور کہا کہ پی اے سی کا چیئرمین رہتے گھوٹالے کی جانچ کی تھی اور یہ سوچا نہ تھا کہ انہیں اسی کے خلاف چناؤ لڑنا پڑے گا۔ ڈاکٹر جوشی کا گنگا پل پر ورکروں نے زور دار خیر مقدم کیا اور مقامی سرکردہ لوگوں اور بھاجپا نیتاؤں سے اپنے دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینکڑوں مرتبہ اس شہر میں آئے اور انہی لوگوں کے گھر میں ٹھہرا کرتے تھے۔ بسپا اور سپا امیدواروں کے اترنے سے چناؤ زبردست بن گیا ہے لیکن اہم مقابلہ ڈاکٹر صاحب اور جیسوال کے درمیان ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنی شخصیت اور مودی لہر پر سوار ہیں۔ دوسری طرف سری پرکاش جیسوال کو ایک طرح کوئلہ گھوٹالے اور کانگریس مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے دیکھتے ہیں کہ اونٹ اس کرونٹ بیٹھتا ہے؟
(انل نریندر)

دو ہیروئنیں ایک ویلن :چنڈی گڑھ میں دلچسپ مقابلہ

عام چناؤ 2014ء میں جہاں پورے دیش کی زیادہ توجہ وارانسی جیسی اہم سیٹ پر مرکوز ہے وہیں کئی دلچسپ مقابلے دوسری سیٹوں پر بھی ہونے جارہے ہیں۔ ان میں ایک ایسی سیٹ چنڈی گڑھ کی ہے جہاں ایک سیاستداں کی ٹکر سنیما کی دو ہیروئنوں سے ہونے والی ہے۔ ریلوے رشوت خوری معاملے میں ریل وزارت کی کرسی گنوانے کے بعد کانگریسی امیدوار پون کمار بنسل کے لئے اس مرتبہ کامیابی کی راہ آسان نہیں لگتی۔ چنڈی گڑھ سیٹ سے چار بار ایم پی رہے بنسل کا مقابلہ عورتوں سے ہے جن میں دو مشہور اداکارائیں ہیں۔دونوں سے انہیں سخت ٹکر مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں پارٹی میں رسہ کشی سے بھی نمٹنا ہوگا۔ اس بار بنسل کے خلاف بھاجپا کی ٹکٹ پر انوپم کھیر کی بیوی کرن کھیر اور ’آپ‘ کی امیدوار و سابق مس انڈیا گل پناگ میدان میں ہیں۔ حالانکہ پون بنسل کا پلڑا اس بار بھی بھاری مانا جارہا ہے لیکن جیت کے لئے انہیں سخت مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔ حالانکہ ریلوے رشوت معاملے میں پھنسنے کے بعد سے ان کی ساکھ خراب ہوئی ہے ساتھ ساتھ سرکار مخالف فیکٹر سے بھی انہیں مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر کی کرسی گنوانے کے بعد ورکروں سے دوری اور تال میل میں کمی بڑی کمزوری ثابت ہوسکتی ہے۔ رشوت معاملے میں پھنسنے کے بعد ووٹروں میں ساکھ کھلنائک کی بن گئی ہے۔ پون بنسل کے اس اشو کو اپوزیشن بھی بھنانے کی فراق میں ہے۔ داغ لگنے کے بعد پارٹی کے کچھ لیڈر ان کی امیدواری کی مخالفت کررہے تھے۔ وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری بھی یہاں سے ٹکٹ چاہتے تھے۔ کرن کھیر اور گل پناگ باہر سے آئی ہیں لیکن وہ چنڈی گڑھ میں پلی بڑھی ہیں اور ان کی بہ یہیں رہتی ہیں اسی بنیاد پر کرن کھیر خود کو مقامی ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ کرن کو جب ٹکٹ دینے کا اعلان ہوا تو انہیں مقامی لوگوں کی مخالف جھیلنی پڑی۔ چنڈی گڑھ بھاجپا کے پردھان سنجے ٹنڈن سابق ایم پی ستیہ پال جیل، سابق مرکزی وزیر ہرموہن دھون، ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض ہیں۔ سیاست میں نئی اور تنظیم چلانے کا انہیں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ چناوی تیاروں کے لئے بھی انہیں بس ایک مہینہ ہی ملا ہے۔ باہری ہونے کے اشو پر ناراضگی سے نمٹنا ہوگا۔سویتا ماہی کوٹکٹ دینے سے منع کرنے کے بعد گل پناگ کوٹکٹ ملا ہے۔ سروے میں یہاں سے آپ کو آگے بتانے کے بعد ان کے حوصلے بلند ہیں۔ ان کے والد چنڈی گڑھ میں رہتے ہیں حالانکہ خود وہ ممبئی میں رہتی ہیں اس لئے اس اشو سے پار ہونا ان کے لئے مشکل بھی ہوسکتا ہے۔ 35 سالہ نوجوان اداکارہ کے لئے شہرت کو ووٹ میں بدلنا آسان نہیں ہوگا۔ سیاست میں وہ نئی ہیں اور اس کی پوری سمجھ بھی نہیں ہے۔ چناؤ سے این پہلے امیدوار بدلنے پر پارٹی میں پیدا ناراضگی اور ٹکٹ پانے میں ناکام لوگوں سے نمٹنے کی بھی چنوتی ان کے سامنے ہے۔ پیراشوٹ امیدوار ہونے کے چلتے پارٹی کے اندر اور باہر مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چنڈی گڑھ کی کل آبادی11.9 لاکھ ہے اور5.87 ووٹر ہیں۔ ان میں 2.65 لاکھ عورتیں ہیں اور باقی مرد ہیں۔ کل ملاکر چنڈی گڑھ میں چناؤ مقابلہ دلچسپ ہونے والا ہے۔
(انل نریندر)

23 مارچ 2014

مودی ۔ ملائم کے آنے سے دلچسپ ہوگئی ہے پوروانچل کی سیاسی جنگ!

بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندر مودی کو وارانسی پارلیمانی سیٹ سے امیدوار بنا کر پوروانچل کی مٹی میں گرمی پیدا کردی ہے اور رہی سہی کثر سماجوادی پارٹی کے مکھیہ ملائم سنگھ یادو نے بنارس سے ہی سٹی اعظم گڑھ سیٹ پر امیدوار بن کر پوری کردی ہے۔ سیاست کے دھرندر مانے جانے والے ان دونوں کھلاڑیوں کے رن کوشل کی پرکھ اس بار پوروانچل کی زمین پر ہو جائے گی۔ بھاجپا کے اعلی لیڈر رہے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی گذشتہ چناؤ میں بنارس سے لگ بھگ 17 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتے تھے اور انہوں نے پوروانچل کے باہوبلی ودھایک مختار انصاری کو ہرایا تھا۔ مودی کا بنارس سے لڑنے کا اثر پوروانچل کی تقریباً آدھا درجن سیٹوں بمولی، غازی پور، بلیا، اعظم گڑھ، جونپور، مرزا پور، بھدوئی سمیت آدھا درجن سے زیادہ سیٹوں پر اس کا اثر پڑے گا اور کبھی بھاجپا کو سب سے زیادہ سیٹیں دینے والا پوروانچل ایک بار پھر مودی کے لئے فائدے مند ثابت ہوسکتا ہے۔ مودی اور بھاجپا کی اس راج نیتی کو دیکھتے ہوئے ہی سماجوادی پارٹی نے بھی ملائم سنگھ کو بنارس کے بجائے اعظم گڑھ لوک سبھا سیٹ سے چناؤ میدان میں اتارا ہے۔ آخر اعظم گڑھ سے ہی کیوں لڑنا چاہتے ہیں چناؤ ملائم سنگھ یادو؟ نریندر مودی کے اثر کو کم کرنے کے لئے وہ میدان میں اتر رہے ہیں یا اس کے ساتھ ساتھ پریوارک وجوہات ہیں جو انہیں پوروانچل جانے کے لئے پریریت کیا ہے۔ کیا بسپا مکھیا اپنے چھوٹے بیٹے پرتیک یادو کے لئے سیاسی زمین تیار کررہے ہیں؟ پوروانچل اگر سیاست کی زر خیز زمین ہے تو ملائم سنگھ کے اعظم گڑھ سے لڑنے کے فیصلے نے یہاں اس کی فصل لہلہا دی ہے۔ کئی دنوں سے چرچا کا جو بازار گرم تھا منگلوار کو اس اعلان نے اس پر مہر لگادی۔ الہ آباد سے پوروانچل کی طرف جانے پر بنارس کے بعد اعظم گڑھ صدر وہ اکیلی سیٹ ہے جو بھاجپا کے قبضے میں ہے۔ وہاں سے سانسد رماکانت یادو کا اپنا الگ انداز ہے لیکن کبھی وہ ملائم کے شاگرد رہ چکے ہیں اور گورو کے سامنے انہیں پریشانی تو ہونی ہی ہے۔ یادو۔ مسلم اکثریت والے اعظم گڑھ کے چناؤ کے پیچھے وہاں کے ذاتی مذہبی و سبھی طرح کی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن پارٹی ذرائع کے مطابق پریوارک اختلافات کو کم کرنا بھی ایک وجہ ہے۔ مسلم سماج حالانکہ سپا سے ناراض ہے لیکن شخصی طور پر ملائم کی چھوی مسلمانوں کے درمیان اچھی ہے اور اسی کے فائدے کی امیدسے وہ یہاں چناوی دنگل میں کودے ہیں۔ ملائم کے اعظم گڑھ آنے سے سارے سمی کرن بدل گئے ہیں۔ ادھر ہر ہرمہادیو کے نعروں کے ساتھ ہی کاشی میں ہر ہرمودی ۔ گھر گھر مودی کا نعرہ جاری ہے۔ گجرات کے سومناتھ سے بابا وشوناتھ تک کے پرتیکوں سے بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی نے اپنی ہندوتو کی پہچان کو بڑھایا ہے۔ہندو سنسکرتی کے ادگم کیندر کہے جانے والے بنارس سے تال ٹھونک کر سنگھ کے پوسٹر بوائے سے بنارس کا مسلم طبقہ مشوش یا خوفزدہ ہواس کا بھی انتظام مودی کرر ہے ہیں۔ بڑی تعداد میں یہاں موجود مسلمانوں کے درمیان مودی کو لیکر پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے گجرات کے عام و خاص مسلمان بنارس میں آنے لگے ہیں۔ وہ بنارس کے مسلم طبقے کو گجرات کے مسلمانوں کی اچھی مالی حالت اور سماجی تحفظ کے قصے سنائیں گے۔ گنگا کے ٹٹ پر بسی دیش کی ثقافتی راجدھانی ہے۔ بھاجپا کے پردھان منتری کے امیدوار نریندر مودی کو لڑانے کا فیصلہ بیحد سوچ سمجھ کر سیاست کے تحت ہی لیا گیا۔سنگھ اعلی کمان کا بھی ماننا ہے کہ وارانسی سے نمو کو اتارنے سے صرف پوروانچل یا اترپردیش ہی نہیں بلکہ پورے دیش میں بھاجپا اپنی وچار دھارا کے لوگوں کو سندیش دینے میں کامیاب رہے گی۔اب مودی انڈیا فرسٹ اور سبھی طبقے کے وکاس کے نعروں کے ساتھ ساتھ سیدھے مسلم طبقے کو بھی سمبودھت کریں گے ۔ گجرات کے مسلمانوں کی حالت باقی دیش کے مقابلے میں زیادہ اچھی بتانے اور ان کے آنکڑے پیش کرنے کا کام مودی اور بھاجپا کررہی ہے۔ بھاجپا ادھیکش راجناتھ سنگھ نے مسلموں کے درمیان جاکر مودی کے تئیں تشویش کو دور کرنے کیلئے کوششیں بھی کی ہیں خاص طور سے وارانسی میں مودی کی چھوی کو نکھارنے کے لئے گجراتی مسلمانوں کی فوج کاشی پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔ مودی کے دور اقتدار میں گجرات میں مسلمانوں کی ترقی کی تصویر اور گزشتہ 12 سالوں میں کوئی فرقہ وارانہ دنگا نہ ہونے جیسا اور بنارس کے مسلمانوں کو بتائے جائیں گے۔ کل ملا کر نریندر مودی اور ملائم سنگھ یادو کے اس علاقے سے چناؤلڑنے سے پوروانچل کی سیاسی جنگ کافی دلچسپ ہوگئی ہے۔ اس کے نتیجے دیش کی آئندہ سیاست پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

چاندنی چوک ہاٹ سیٹ بن گئی ہے۔ دلچسپ مقابلہ

راجدھانی کی چاندنی چوک لوک سبھا سیٹ آئندہ چناؤ میں سب سے ہاٹ میں سے ایک بن گئی ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگاوارانسی کی سیٹ کے بعد سب کا دھیان چاندنی چوک پر ٹک گیا ہے۔ وجہ ہے یہاں سے کھڑے کانگریس ۔ بھاجپا کے امیدوار۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس سیٹ پراپنے پردیش ادھیکش ڈاکٹر ہرش وردھن کو اتاراہے تو کانگریس نے اپنے قد آور نیتا و مرکزی وزیر کپل سبل کو اتارا ہے۔کپل سبل نے 2004-2009 کے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کو اس علاقے سے جیت دلائی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے آئی بی این۔7 کے سابق سمپادک آشوتوش کو میدان میں اتارا ہے۔ چاندنی چوک سیٹ کے کچھ ضروری آنکڑوں 1956 میں وجود میں آئی چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ انتخاب کے تحت آتی تھی۔8میٹرو پولیٹن کونسل سیٹوں پر 1993ء میں ودھان سبھاتشکیل ہونے کے بعد اس سیٹ کے تحت 6 ودھان سبھا سیٹیں پہاڑ گنج، مٹیا محل، بلیمان، چاندنی چوک، منٹو روڈ اور رام نگر شامل کی۔ 2008ء میں حد بندی کے بعد پارلیمانی سیٹ میں10ودھان سبھا سیٹیں شامل ہوں گئی۔ یہاں پر کل 1413535ووٹر ہیں۔ ان میں 783545 مرد ہیں اور 629990 عورتیں ہیں۔اس سیٹ پر انہیں اب تک چنے گئے 14 سانسدوں میں 9 کانگریسی رہے ہیں ان میں سبل2004 اور 2009 میں چنے گئے۔ سابق کانگریس صدر جے پی اگروال 1984,1989 اور 1996 ء اسی سیٹ سے سانسد بنے۔ ودھان سبھا سیٹوں میں 10 سیٹوں میں سے4 پر عام پارٹی ،3 پر بھاجپا اور 2 پر کانگریس اور 1 پر جدیو(شعیب اقبال) ودھایک ہیں۔اس وقت بہوجن سماج نے نریندر پانڈے کو ٹکٹ دیا ہے۔ چاندنی چوک اسمبلی حلقے میں تینوں چہروں کے بیچ زبردست ٹکر دیکھنے کو ملنے کی امکان ہے۔ اس حلقے میں ویاپاری طبقے کی کافی تعداد ہے۔پچھلے10 سالوں میں اس طبقے نے کانگریسی نیتا کپل سبل کو جتا کر سنسد پہنچایا ہے۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس کے مہا سچیو پروین کھنڈیلوال کا کہنا ہے کہ اس سیٹ پر کانگریسی امیدوار کپل سبل اوربھاجپا امیدوار ڈاکٹر ہرش وردھن کے بیچ سیدھا مقابلہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کے آشوتوش اور بسپا کے نریندر پانڈے اس ریس میں نہیں ہیں۔اس سیٹ پر 30 سے75 فیصد تاجر طبقہ رہتا ہے کسی بھی سانسد کو جتانے میں اس کا اہم رول رہتا ہے۔ کھنڈیلوال نے کہا کہ اس سیٹ پر وہی امیدوار جیت سکتا ہے جو تاجروں کے فائدے کی بات کرے گا۔ دہلی ودھان سبھا چناؤ میں تاجروں نے کانگریس اور بھاجپا دونوں ٹو ٹھینگا دکھاتے ہوئے آپ کا سمرتھن کیا لیکن اروند کیجریوال کے کارناموں سے یہاں کے تاجر طبقے کا ’آپ ‘ پارٹی سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ کانگریس کے مہا گھوٹالے ، مہنگائی سے کانگریس مخالف ہوا چل رہی ہے۔بیشک کپل سبل یہاں سے پہلے دو بار سانسد رہے ہیں پر انہیں بھی اینٹی این کنوینسی فیکٹر سے جھوجھنا پڑے گا۔ ڈاکٹر ہرش وردھن کے تئیں لوگوں میں ہمدردی ہے۔ ان کی صاف چھوی و تاجروں کا سمرتھن ان کے فیور میں جاتا ہے۔ پر مشرقی دہلی سے ودھان سبھا سیٹ جیتنے کے بعد چاندنی چوک میں شرکت کرنے کا نقصان بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔آشوتوش گمبھیر چنوتی نہیں بن پائے ہیں۔ جامع مسجد، چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ میں کوئی خاص ہوا دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔کل ملاکر یہاں سے سبل اور ہرش وردھن میں کڑا مقابلہ ہوگا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...