Translater

12 جنوری 2013

لانس نائک ہیمراج و سدھاکر سنگھ جیسے بہادر کبھی نہیں مرتے!

ترنگے میں لپٹا گھر لوٹا شیر گڑھ کا شیر لانس نائک ہیمراج کے کوسی کلاں(متھرا) گاؤں والوں نے اپنے شہید کو یہ ہی پیغام دیا۔ خبر آنے کے بعد سے ہی روکتی بلکتی ماں مینا دیوی بیٹے کی لاش گھر پہنچتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ پہلے میرے بیٹے کا سر لاؤ۔ فوج کے جوان دو گھنٹے تک دھاڑ دھاڑ کر یہ ہی کہتی مینا دیوی کو خاموش کرنے میں لگے رہے۔ آخر میں فوج کے جوانوں نے ہیمراج کی لاش کو چتا پر لٹایا تو گاؤں کے باقی لوگ بھی آگئے اور مینا دیوی کی آواز بن گئے۔ سبھی نعرے لگا رہے تھے کہ شہید کا سر چاہئے، صاحب ایک بار پھر آدیش دے دو،دو دو ہاتھ کرنے کے لئے پھر دیکھو ہم ان کا کیا حال کرتے ہیں۔ انہوں ننے ہمارے دو ساتھیوں کو بے رحمی سے مارا ہے ہم ان کی پوری بٹالین کو موت کی نیند سلانے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ بس ایک بار حکم دے دو۔۔۔ غصے میں بھرے ان خیالات کا اظہار سرحد پر تعینات 13 راجپوتانہ رائفلز ریجمنٹ کے جوانوں کے ہیں۔ وہ بار بار اپنے حکام سے یہ ہی درخواست کررہے تھے۔ بدلے کی آگ میں اس قدر جھلس رہے ہیں کہ انہوں نے دو دن سے کھانا تک نہیں کھایا۔ وہ بھوک ہڑتال پر ہیں اور یہ ہی کہہ رہے ہیں جب تک بدلہ نہیں لے لیں گے گیہوں کا ایک دانا بھی نہیں کھائیں گے۔ اس ریجمنٹ کے جوانوں کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ساتھیوں کی شہادت یوں ہی ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم بدلہ ضرور لیں گے۔ کم و بیش پورے دیش میں یہ ہی آواز بلند ہورہی ہے۔ان پاکستانی درندوں کو نہ تو جنیوا سمجھوتے کی پرواہ ہے اور نہ ہی ان کی ذہنیت 19 ویں صدی سے باہر نکل پائی ہے۔ اس صدی میں قبیلوں کی لڑائی میں اپنے دشمن کے سرکو ٹرافی مان کر لے جانے والے ہیڈ ہنٹرس (سر کاٹنے والے) آج بھی پاکستانی فوج میں موجود ہیں۔ قاعدے قانون، انسانیت میں بھروسہ رکھنے والی ہندوستانی فوج سے بالکل برعکس پاکستانی فوج ایک بار نہیں کئی بار ایسی درندگی کا مظاہرہ کرچکی ہے۔ سال1999ء میں کارگل سے پہلے پاکستانی فوج کے جوانوں نے ٹھیک اسی حالت میں فوج کی16 ویں بٹالین پر کنٹرول لائن پار کر جوانوں پر گھات لگاکر حملہ کر ان کے سر کاٹ لئے تھے۔ پچھلے 12 برسوں میں جموں و کشمیر میں سر کاٹ کر لے جانے کا یہ ایسا دوسرا واقعہ ہے۔ کارگل جنگ کے دوران کیپٹن سوربھ کالیا کے سرکو جسم سے الگ کرنے والی پاکستانی فوج نے کپواڑہ میں واقع کنٹرول لائن پر بھی بھارتیہ فوج کے کچھ جوانوں کو اذیتیں دے کر مارا تھا۔ شہید لانس نائک ہیمراج اور لانس نائک سدھاکر سنگھ کے بے رحمانہ قتل کے پیچھے پاکستانی فوج کا ہاتھ ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بتایا کہ اس بربریت کے کچھ دن پہلے لشکرطیبہ کے بانی خطرناک آتنک وادی سرغنہ حافظ سعید نے کنٹرول لائن کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس نے کچھ لوگوں سے وہاں بات بھی کی تھی۔ پونچھ کے مینڈھر سیکٹر میں بھارت ۔ پاک سرحد پر اس بربریت آمیز قتل کو پاکستان اسپیشل کمانڈو فورس نے انجام دیا۔ بھارتی جوانوں کو جس طرح سے نشانہ بنایا گیا اس سے صاف ہے کہ ان کا منصوبہ کافی پہلے بنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور پاکستان کی29 ویں بلوچ ریجمنٹ میں افغانستان کے کچھ آتنک وادی شامل کر انہیں اس طرح کی چھاپہ مار جنگ کے لئے خصوصی ٹریننگ دی گئی ہے۔ ہندوستانی فوج کی 25 ویں ڈویژن کے ڈپٹی جنرل آفیسر کمانڈنگ برگیڈیئر جے کے تیواری نے بتایا کہ راجوری میں شہیدوں کو شردھانجلی دینے کے بعد حملہ ہوا تھا۔ اس وقت دونوں جوان 8 ممبری گشتی پارٹی کا جائزہ لے رہے تھے۔ کالی وردی پہنے پاکستانی فوجیوں نے 600 میٹر ہندوستانی علاقے میں گھس کر گھنے کہرے میں نشانہ لگایا اور پارٹی کے پاس آتے ہی انہوں نے آگے چل رہے دو جوانوں پر گولی مارکر شہید کردیا۔ 25 منٹ تک گولی چلی۔ گولہ باری میں موقعہ پا کر پاکستانی فوجیوں نے دونوں جوانوں کے سر کاٹ لئے۔ سدھاکر سنگھ کا سر غائب تھا ۔ اس کی تلاش جاری ہے جبکہ بدھوار کی صبح شہید ہیمراج کی لاش گاؤں شیر پور پہنچی تو شیر ہیمراج کی شہادت پر ہر گاؤں والے کا سینہ فخر سے چوڑا تھا۔100 سے زیادہ عورتوں سے گھری ہیمراج کی بیوی دھرموتی سے جب پوچھا گیا کہ تیرا بیٹا کیا کرے گا؟ تو وہ پھربولی سرحد پر جائے گااوردیش کی حفاظت کرے گا۔ میرا لال پرنس اب فوج میں جائے گا۔ ابھی 7 سال کا ہے بڑا ہوکر ضرور جائے گا اب وہی دشمنوں کو سبق سکھائے گا۔ ہم ہیمراج کے کنبے کے دکھ میں ساتھ ہیں ۔ ان کے جذبے کو سلام کرتے ہیں۔ ہیمراج اور سدھاکر سنگھ جیسے بہادر کبھی نہیں مرتے۔ وہ امر ہوجاتے ہیں۔ آج سارا دیش ان کی شہادت کو سلام کرتا ہے۔
(انل نریندر)

آئیے ملئے مجلس اتحاد المسلمین کے ممبر اسمبلی اویسی سے!

آج ہم آپ کا تعارف مجلس اتحاد المسلمین کے ممبر اسمبلی اکبرالدین اویسی سے کرواتے ہیں۔ آندھرا پردیش اسمبلی میں اپنی پارٹی کے لیڈر 22 سالہ اویسی پر چار مینار علاقے میں واقع بھاگیہ لکشمی مندر کے جھگڑے کو لیکر بھڑکیلی تقریریں کرنے کا الزام ہے۔ اسے لیکر ان کے خلاف دیگر معاملے بھی ہیں۔ حیدر آباد اور دیگر مقامات پر ان کے خلاف کیس درج ہوا ہے۔ دراصل حیدر آباد میں اولڈ سٹی میں قریب40 سال سے بھی زیادہ سے اویسی خاندان کا سیاسی دبدبہ بنا ہوا ہے۔ صلاح الدین اویسی کے ذریعے شروع کردہ مجلس اتحاد المسلمین پارٹی نے حیدر آباد اولڈ سٹی کو اپنا گڑھ بنا رکھا ہے۔صلاح الدین اویسی کی سیاسی وارثت کو ان کے دونوں بیٹے اسدالدین اور اکبرالدین اویسی سنبھالے ہوئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ حیدر آباد کے پرانے شہر سے ایم آئی ایم ہمیشہ کم سے کم 7 مسلم ممبران اسمبلی کو جتا کر ودھان سبھا میں بھیجتی رہی ہے۔ لیکن ممبر پارلیمنٹ صرف اویسی خاندان کے ہی ہوتے ہیں۔ اکبرالدین کی بھڑکیلی تقریروں کو میں نے سنا اور میرے رونکٹے کھڑے ہوگئے۔ میں ان جناب کو پہچانتا نہیں اس لئے میں نے پہلے سوچا کے شاید یہ پاکستان میں لشکر طیبہ کا مقرر بھارت کے خلاف زہر اگل رہا ہے لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ نہیں یہ تو ہمارا بھائی ہندوستانی ہے۔ اور یہ زبان بھی حیدر آبا د کی ہے تو میں حیرت میں پڑ گیا۔ میں اس کی تقریر کے بارے میں کچھ بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔اس طرح کی بھڑکیلی ،بے تکی تقریریں انہوں نے کیوں دیں؟ ووٹ بینک کی سیاست کا میعار کس حد تک گر چکا ہے اس تقریر سے پتہ چلتا ہے۔ تالیوں اور نعروں کے ساتھ اس تقریر کا خیر مقدم کیا جانا بھی تعجب کا موضوع ہے۔ یعنی بھائی بھائی میں اس قدر دشمنی پیدا کی جارہی ہے اور فرقہ وارانہ نفرت کا زہر گھولا جارہا ہے۔ قریب 15 روز پہلے اویسی نے اپنی تقریر میں ہندوستانی مملکت اور اس کے انتظامیہ ،یہاں تک کے اس کی عدلیہ کو بھی جس طرح کھلے عام چنوتی دی تھی تبھی اگر آندھرا سرکار اور پولیس انتظامیہ نے ان کے خلاف کارروائی کرلیتی تو معاملہ یہاں تک نہ بگڑتا۔ لیکن سرکار نے گرفتاری تو دور غیرضمانتی دفعات کے تحت مقدمے درج کرنے کے باوجود پولیس اویسی کو بچانے کا راستہ دیتی رہی اور وقت وقت پر سوشل میڈیا سے ناراضگی ظاہر کرنے والی سرکار کو بھی خیال نہیں آیا کہ اویسی کا ملک دشمن بھاشن یو ٹیوب و فیس بک پر کھلے عام دیکھا اور سنا جارہا ہے۔ اس معاملے میں اتنی ہی قابل مذمت اور ان خود ساختہ سیکولر پارٹیوں و ان کے لیڈروں کی خاموشی بھی ہے ، جو فرقہ وارانہ خطرے کی آہٹ پاتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا رویہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ فرقہ واریت کے خلاف نام نہاد مہم نہ صرف نقلی ہے بلکہ صرف انہی معاملوں میں آواز اٹھاتے ہیں جو ان کے ووٹ بینک کی سیاست میں کھرے اترتے ہیں۔ اویسی کا جرم اس لئے بھی قابل قبول نہیں کیونکہ وہ ایک عوامی نمائندے ہیں اور ایسے میں یہ ضروری ہے کہ بھڑکیلی تقریر پر لگی دفعات کے مطابق سزا تو وہ بھگتتے ہی ،ساتھ ساتھ ان کی ممبر اسمبلی بھی فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کے لئے ختم کی جائے۔ دور اندیشی برتتے ہوئے اگر آندھرا سرکار فوری کارروائی کرتی تو بگڑتے ماحول سے شاید بچا جاسکتا تھا۔
(انل نریندر)

11 جنوری 2013

بند کرو یہ’ امن کی آشا ‘اور بھائی چارے کی بات

ہم تو پاکستان کی طرف امن کا ہاتھ بڑھاتے نہیں تھکتے اور ہر بار جواب میں ہمیں بربریت اور غیر انسانی برتاؤ پاکستان کی جانب سے جواب میں تحفے کی شکل میں ملتا ہے۔ وہ بھارت ہمارے مہمان بن کر آتے ہیں اور ہمارے گھر میں ہی ہمیں گالیاں دے کر چلے جاتے ہیں۔ آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ یہ ’امن کی آشا‘ جیسے بے تکے ایک طرفہ پروگرام کب تک برداشت ہوتے رہیں گے؟ ایک بار پھر پاکستان کی بربریت اور ظالمانہ چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ پاکستان کے قریب15 فوجی منگل کو ہندوستانی سرحد میں واقع کونچ کے مینڈھر سیکٹر میں قریب100 میٹراندر تک گھس آئے۔ انہوں نے یہاں ہندوستانی گشتی پارٹی پرحملہ بول دیا اور دو بھارتیہ جوانوں کوگلا کاٹ کر مار ڈالا۔ انہوں نے ان کی لاشیں ادھر ادھر پھینک دیں۔ ایک فوجی کا سر بھی حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔ کارگل حملے (1999) کے بعد یہ ممکنہ پہلا موقعہ ہے کہ جب پاکستانی فوج نے اس طرح سے ہندوستانی سرحد میں دراندازی کی ہے۔حال ہی میں پاکستان فوج نے کیپٹن کالیا سے غیر انسانی اور بربریت برتاؤ کی بات کئے جانے کے معاملے کو ان کے والد نے اٹھایا تھا۔ پاکستان نے تب بھی اس کی تردید کی تھی اور اب بھی وہی کررہے ہیں۔ ہر بار وہ کہہ دیتے ہیں یہ پاک فوج کی کرتوت نہیں ہوسکتی۔ کچھ ’غیر ملکی عناصر‘ نے ایسا کیا ہوگا۔ ہم سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ نان اسٹیٹ ایکٹر ہیں تو یہ کس کی زمین سے کام کررہے ہیں؟ انہیں لائن آف کنٹرول یا بارڈر تک کون پہنچاتا ہے؟ اگر وہ پاکستان میں موجود ہیں تو انہیں گرفتار کر ہمیں کیوں نہیں سونپ دیا جاتا؟ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ بھارت میں کسی بھی جوابی سخت کارروائی کرنے کا دم نہیں ہے۔ ہم نئی دہلی میں واقع پاک ہائی کمشنر کو بلا کر ملامتی ریزولیشن پہنچادیں گے اور بات رفع دفع ہوجائے گی۔ اس بار بھی ایسا ہی دیکھنے کو ملے گا ۔ چاہے معاملہ26/11 کے قصورواروں کا ہو، چاہے لشکر طیبہ کے بڑھتے اثر کا ہو، ہر بات سے پاکستان انکارکردیتا ہے۔ میں نے انگریزی (ہالی وڈ)کی ایک فلم دیکھی تھی۔ فلم کا نام تھا ’ڈرٹی انجن‘ اس فلم میں امریکی فوج نے ایک پلان بنایا کہ ان قیدیوں کو جو خونی ہوں، درندے ہوں ، یا مجرم ہوں یا تو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے والے ہوں یا آبروریزی یا مرڈر کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہوں، ان کو اکٹھا کرکے بلایا اور امریکی فوجی کمانڈر نے ایک پرپوزل دیا آپ یہیں پھانسی پرلٹکو گے یا جیل میں سڑ جاؤں گے۔ اگر آپ تیار ہوں تو ہم آپ کو ٹریننگ دیکر دشمن دیش (جرمنی) میں اتاردیں گے۔ آپ کا کام ہے زیادہ سے زیادہ جرمن افسروں کو مارنا۔ اگر آپ اس مشن میں کامیاب ہوجاتے ہو اور زندہ بچ کر واپس آتے ہو تو آپ کی باقی سزا معاف کردی جائے گی۔ وہ سبھی تیار ہوجاتے ہیں۔ کیا ہم بھی ایسا کچھ کرسکتے ہیں۔ ہم بھی ان خونی درندوں کو یا آبروریزی کے قصورواروں کو ایل او سی کے اس پار بھیجیں اور ان نان اسٹیٹ ایکٹروں کا کام تمام کروائیں۔ ہر بار ایسا کام کرنے کے لئے حوصلہ چاہئے۔ گڈس چاہئیں۔ ہمیں اس سرکار میں یہ نظر نہیں آتے۔ ہم ان بہادر شہید جوانوں کو اپنی شردھانجلی دیتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ ان سے اس جانوروں جیسے برتاؤکے قصورواروں کو ضرور سزا دلائیں گے۔
(انل نریندر)

16 دسمبر کا حادثہ آٹو و ڈی ٹی سی بس نہ ملنے کے سبب ہوا

16 دسمبر کی رات کو وسنت وہار میں جو آبروریزی کی واردات ہوئی اس کی ایک خاص وجہ دہلی میں ان آٹو رکشا والوں کی منمانی اور تاناشاہی اور پبلک ٹرانسپورٹ جس میں خاص کر بسیں شامل ہیں، کی ناکامی ذمہ دار مانی جاسکتی ہے۔ وہ بدقسمت لڑکی انامیکا اور اس کا دوست ان آٹو رکشا والوں سے گڑگڑاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہمیں ہماری منزل پر لے چلو، لیکن ایک بھی آٹو والا تیار نہیں ہوا۔ رات کو اکثر یہ ہی دیکھا گیا اول تو آٹو والا جہاں آپ جانا چاہتے ہیں وہاں جانے کو تیار نہیں ہوتا اور اگر تیار ہوتا بھی ہے تو اتنے اناپ شناپ پیسے مانگتا ہے کے آپ اس کے لئے تیار ہی نہیں ہوسکتے۔ رہا سوال بسوں کا تو سرکار اور انتظامیہ بھلے ہی دعوے کچھ کرے لیکن رات10 بجے کے بعد ایک آدھ ہی بس ملتی ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ نہ تو ان آٹو والوں پر کوئی لگام کسی جارہی ہے اور نہ ہی بسوں کے نظام کو بہتربنانے میں ٹھوس قدم اٹھایا جارہا ہے۔ ٹرانسپورٹ قواعد کو طاق پر رکھ کر تمام روٹوں پر چلنا آج زیادہ تر آٹو چالکوں کی روز مرہ کی عادتوں میں شمار ہوگیا ہے۔ ایسے میں مسافروں کو بیحد دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عالم یہ ہے کہ ہزاروں آٹو چالک ایسے ہیں جن کے میٹر خراب پڑے ہوئے ہیں۔ایسے میں ڈرائیوروں کے ذریعے مسافروں سے منہ مانگا کرایہ وصولا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں آٹو چالک تو شام سے ہی نائٹ چارج وصولنا شروع کردیتے ہیں۔ کارروائی کی کوتاہی میں ایسے چالکوں کے حوصلے بلند ہوتے جارہے ہیں۔ جب مسافروں کے ذریعے پریشان ہونے پر ایسے آٹو رکشا چالکوں کی شکایت ہیلپ لائن نمبر پر کی جاتی ہے تو معاملے کو لیکر کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ ٹریفک پولیس ابھی ایسے آٹو چالکوں کو لیکر سنجیدہ دکھائی نہیں پڑتی۔ گینگ ریپ کے بعد ہوئی کرکری سے پریشان ڈی ٹی سی نے جہاں آناً فاناً میں اپنی ڈیڈپڑی نائٹ سروس کو نہ صرف چالو کردیا بلکہ اس میں ہوم گارڈ جوان تعینات کردئے ہیں۔ وہیں رات10 بجے تک چلنے والی بسوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ لیٹ نائٹ بسیں آج بھی لوگوں کو وقت پر نہیں مل رہیں۔ یہ بات عورتوں کو زیادہ پریشان کرتی ہے۔ انہیں صرف بس کے انتظار میں بس اسٹینڈ پر کھڑا رہنا پڑتا ہے بلکہ اکیلا ہونے پر بھی منچلوں کی چھینٹا کشی جھیلنی پڑتی ہے۔ زیادہ تر سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والی خاتون ملازم صبح7 سے10 بجے کے درمیان گھر سے نکلتی ہیں اور جن کی ڈیوٹی شام6 بجے سے10 بجے کے درمیان ہوتی ہے تو بسوں کے لئے گھنٹوں اسٹاپ پر انتظار کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ورکنگ کلاس عورتوں کا کہنا ہے کہ کسی روٹ کی بس جہاں لگاتار آتی جاتی ہے وہیں کہیں روٹوں پر تو گھنٹوں تک بسوں کے درشن نہیں ہوتے۔ ایسے میں ڈی ٹی سی بس نہ ملنے پر انہیں مجبوراً پرائیویٹ بسوں میں جانا پڑتا ہے۔ ایسے میں کب کس عورت کے ساتھ کیا انہونی ہوجائے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دہلی کے زیادہ تر روٹوں پر بسوں میں یہ ہی پریشانی ہے۔ سرکار نہ انتظامیہ اور عدالتوں کو اس بنیادی مسئلے پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہیں چلتا رہا تو نہ صرف خواتین مخالف جرائم بلکہ دیگر قسم کے جرائم کی وارداتیں رکنے سے رہیں۔ پتہ نہیں دہلی سرکار کا محکمہ ٹرانسپورٹ کب جاگے گا۔
(انل نریندر)

10 جنوری 2013

آسا رام کہاں کا سنت ہے؟ یہ تو خطرناک بہروپیاہے

دہلی میں درندگی اور اس کے بعد پیدا ناراضگی پر بیشک بیانات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ آندھرا پردیش پردھان بودساستیہ نارائن اور صدر کے صاحبزادے ابھیجیت مکرجی اور مدھیہ پردیش کے بھاجپا وزیر کیلاش وجے ورگیہ سمیت آدھا درجن سے زائد لیڈروں کی زبان مریادا کو بھول چکی ہے اس کڑی میں اب اپنے آپ کو خود ساختہ روحانی گورو کہنے والے آسا رام باپو کا نام بھی جڑ گیا ہے۔ کہنا ہوگا اسبات تو انہوں نے حد ہی کردی اور لکشمن ریکھا تک پار کرڈالی۔ اب سنئے اپنے آپ کو سنت کہنے والا یہ بہروپیا کیا کہتا ہے۔ جب لڑکی نشے میں چور چھ لوگوں کے چنگل میں پھنس گئی تھی تو اسے بھگوان کا نام لے کر کسی ایک کا ہاتھ پکڑ کر کہنا چاہئے تھا میں آپ کو اپنا بھائی مانتی ہوں۔ اس کے بعد ان کے پیڑ پکڑتی تو اس کے ساتھ ایسا حادثہ نہیں ہوتا۔ غلطی ایک طرف سے نہیں ہوتی ہے اگر لڑکی دھارمک ریتی رواج کو ماننے والی ہوتی تو وہ اس بس میں چڑھتی ہی نہیں۔ آسا رام باپو کے اس بے تکے بیان کی چوطرفہ نکتہ چینی ہونا فطری ہی تھا۔ ان کے بیان کو لیکر لوگوں میں زبردستی ناراضگی ہے۔ آسا رام باپو کے بیان سے متاثرہ لڑکی کے والد بہت مایوس ہیں۔ بلیا میں انہوں نے بات چیت میں کہا آسا رام باپو سنت نہیں وہ بہروپیا ہیں۔ اگر ان کی خود کی بیٹی ہوتی تو انہیں درندگی کے درد کا احساس ہوتا۔ میری بیٹی نے سرنڈر کرنا نہیں سیکھا تھا۔ اس نے آخری سانس تک بہادری کے ساتھ درندوں سے لڑ کر جان دی ہے اس کا مجھے فخر ہے۔ آسام رام باپو کو اس طرح کی رائے زنی نہیں کرنی چاہئے۔ ان کے بیان سے ہم بیحد دکھی ہیں۔ سنت کی ایک مریادا ہوتی ہے جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی ہے۔ ہمیں اپنی بیٹی گنوانے کا ملال نہیں ہے۔ وہ عزت کے ساتھ جینا چاہتی تھی اور اس نے اپنی قربانی دی۔ آسارام باپو کا بیان نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ہماری رائے میں تو ان کی ذہنیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ جس کا شکار اکثر عورتوں کو ہونا پڑتا ہے۔ ان سے پہلے بھاجپا کے کچھ لیڈر اور آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت بھی عورتوں کو تہذیب اور کنبہ جاتی ذمہ داری کا پاٹھ پڑھا چکے ہیں۔ جنتا دل (یو) کے لیڈر شرد یادو نے آبروریزی اور جنسی چھیڑ چھاڑکے واقعات کی جو تشریح کی ہے اس نے تو انہیں کھاپ پنچایتوں کے قریب ہی لاکر کھڑا کردیا ہے۔ دراصل یہ وہ ذہنیت ہے جو عورتوں کی خود کفالت اور ان کے آزادانہ نظریئے کو قبول نہیں کرپارہی ہے۔ یہ حالت تو تب ہے جب بھارت کی30 فیصدی سے بھی کم عورتیں کسی روزگار سے جڑی ہوئی ہیں۔ دہلی کے واقعے کو لیکر تنقید کرنے والے چین میںیہ اعدادو شمار 70 فیصدی سے اوپر ہے۔ اپنے آپ کو سنت کہلانے والے آسا رام ہمیشہ تنازعات میں گھرے رہے ہیں۔ 2008ء میں ان کے آشرم میں دو لڑکوں کی پراسرار موت سے کبھی پردہ نہیں اٹھ سکا۔2009ء میں ان کے ایک چیلے راجو کنموچک نے ان پر جنسی استحصال کے الزام لگائے تھے۔ مہندرو چاولہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے آشرم کے ایک ملازم نے آسارام کے بیٹے نرائن سائیں پر الزام لگایا کہ وہ مردہ لاشوں پر جادو ٹونا کرتا ہے۔آسا رام پر موٹیرا میں 67 ہزار مربع کلو میٹر زمین ہڑپنے کے الزام لگے ہیں۔ ہم تو مانتے ہیں کہ وہ سنت کے کپڑے پہنے ہوئے ایک خطرناک بہروپیا ہے جس کا جلد سے جلد پردہ فاش ہونا چاہئے۔ یہ کہاں کا سنت ہے؟
(انل نریندر)

مسلمانوں میں 4 شادیوں کے مسئلے پر مولوی اور عدالت آمنے سامنے

اسلام بھلے ہی 4 بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہو لیکن کن حالات میں یہ شادی ہوگی، اسے لیکر عدالت اور مولویوں کی الگ الگ رائے ہے۔ ایک لڑکی سے زبردستی شادی شدہ شخص سے نکاح کرانے کے معاملے میں ملزم مولوی کی پیشگی ضمانت کو خارج کرتے ہوئے روہنی کی ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا نے کہا شرعی قانون ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت تو دیتا ہے مگر خاص حالات میں۔ قرآن اس طرح کے ٹرینڈ کو بڑھاوا دینے کا کام نہیں کرتا۔ جسٹس کامنی لانے مولوی مصطفی رضا کو ضمانت دینے سے انکارکرتے ہوئے اسکی اپیل کو بھی خارج کردیا جس میں اس نے کہا تھا شرعی قانون شخص کو ایک ہی وقت میں 4 شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے ہندوستان میں شرعی قانون کے تحت کسی مسلم شخص کو دوسرا نکاح کرنے سے پہلے پہلی بیوی کے بیمار ہونے یا بچہ پیدا نہ کرسکنے جیسے حالات میں اجازت دی جاسکتی ہے۔ ایسے میں پہلی بیوی کی رضامندی پر شخص دوسری شادی کرسکتا ہے۔ جسٹس کامنی لا نے کہا بہت سے مسلم ملکوں میں جیسے ترکی، تیونس میں ایک سے زیادہ شادی کرنے پر روک لگائی جارہی ہے۔ وہاں پر اسے غیرقانونی قراردیا گیا ہے۔ ایسے میں بھارت جیسے جمہوری ملک میں اس طرح کی کارروائی کو بڑھاوا نہیں دیا جاسکتا۔ مقدس قرآن پاک ایک مسلمان کو ایک وقت میں ایک سے زیادہ 4 عورتوں سے شادی کی اجازت تو دیتا ہے لیکن اس طرح کی روایت کو فروغ نہیں دیتا۔فیصلے میں جسٹس کامنی لا نے کہا کثیر شادی روایت کی صرف کچھ حالات میں ہی اجازت ہے جس میں شوہر کی موت پر بیوی کے پاس زندگی گزربسر کا کوئی ذریعہ نہ ہو شامل ہے۔ شرعی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کثیر شادی کو ایک سماجی ذمہ داری اور مذہبی فرائض یابرائیوں سے بچنے کے لئے ہیں اجازت دی گئی ہے۔ اسے دیگر طریقے سے نہیں لیا جانا چاہئے۔ اس معاملے میں پولیس نے شکایت کی تھی کہ مصطفی نام کے ایک ملزم نے ندیم خاں کی شادی کروائی۔ ندیم پہلے سے ہی شادی شدہ تھا۔ اس شادی کے لئے لڑکی سے رضامندی نہیں لی گئی تھی نہ ہی اس کے والدین اس کے لئے تیار تھے۔ الزام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑکی کے قصوروار شوہر نے متاثرہ کے ساتھ آبروریزی کی تھی۔ پولیس نے کہا کہ اس معاملے میں ندیم خان کی پہلی بیوی سے بھی رضامندی نہیں لی گئی جس سے اس کے تین بچے ہیں۔ دوسری شادی کے وقت پہلی بیوی کو بھی نہیں لایا گیا۔ 
لڑکی کسی طرح سے ندیم خان کے چنگل سے بچ نکلی تھی اور اپنے گھر پہنچ کر گھروالوں کو اس واقعہ کی خبردی۔ ندیم نے لڑکی کو ندیم کو یرغمال بنائے رکھا اور اس کے ساتھ آبروریزی کی۔ ایک دن جب لڑکی کو موقعہ ملا تو وہ بھاگ کر اپنے گھر آگئی۔ مولوی صاحب کو تب ڈر ستانے لگا اور وہ اپنی گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالت میں پیشگی ضمانت کی درخواست لیکر پہنچ گئے۔ مفتی سید کفیل جو مدرسہ منظر اسلام درگاہ اعلی حضرت بریلی کے مفتی ہیں، کا کہنا ہے شریعت مرد کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ چار شادیاں کرسکتا ہے لیکن شادی کا مقصد نفس کی خواہش پورا کرنا نہ ہو۔ اگر پہلی بیوی بیمار ہے یا اس سے اولاد نہیں ہورہی تو ایسا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ایسی عورت جس کے مالی حالات خراب ہیں تو اس سے شادی کا حکم ہے۔
  1. (انل نریندر)

09 جنوری 2013

دہلی پولیس اپنی جوابدہی سے نہیں بچ سکتی!

یہ بہت دکھ کی بات ہے جو دہلی پولیس عوام کے ساتھ ہونے کا دعوی کرتی ہے آج سب سے بڑے گنہگار کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج پولیس کی وردی کا کسی کو خوف نہیں رہا۔ اس کی ایک وجہ ہے پولیس محکمہ میں بڑھتا کرپشن۔ لگتا تو اب یہ ہے کہ پولیس والے یہ بھول چکے ہیں کے ان کی ڈیوٹی کیا ہے؟ کس مقصد سے انہوں نے پولیس کی نوکری جوائن کی تھی؟ اگر مقصد جنتا کو لوٹ کر اپنا گھر بھرنا ہے تو ٹھیک ہے لیکن میںآج بھی مانتا ہوں کہ سبھی پولیس والے ایسے نہیں۔ وہ ایمانداری سے نہ صرف خدمت کرتے ہیں بلکہ سسٹم میں اتنی خرابی آچکی ہے کہ محکمے میں ان کا دم گھٹنے لگا ہے۔ زیادہ تر پولیس ملازم پولیس جوائن کرنے پر لئے گئے حلف کو بھی بھول چکے ہیں۔ وہ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ وہ عوام کی سیوا کے لئے لگائے گئے ہیں ناکہ عوام کو حیران و پریشان کرکے لوٹنے کے لئے۔ وسنت وہار اجتماعی آبروریزی معاملے میں ایک واحد چشم دید گواہ و شکایت کنندہ (لڑکی کا دوست) نے کچھ ایسے سوال کھڑے کردئے ہیں جس سے پولیس کے محکمے کے کام کرنے کے طور طریقوں کا پتہ چلتا ہے۔ پولیس محکمے نے بوکھلاہٹ میں لڑکی کے دوست کے الزامات کا جواب تو دیا لیکن وہ یہ دیکھنا ضروری نہیں سمجھے کہ اس مسئلے پر انہوں نے واقعے کے فوراً بعد کیا بیان دیا۔ پولیس بھلے ہی صفائی دے کر اپنی لاپروائی نہیں مان رہے لیکن متاثرہ لڑکی کے دوست کے ذریعے نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو سے یہ بات تو صاف ہوگئی ہے کہ پورے معاملے میں پولیس سے کئی جگہ بھول ہوئی ہے جس کا خمیازہ آخر کار اس بدقسمت لڑکی کو بھگتنا پڑا۔ حالانکہ پولیس کے افسر اپنی صفائی کے ذریعے خود کو چست درست اور پاک صاف بتانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ آخر متاثرہ کا دوست جھوٹ کیوں بولے گا؟ اور وہ متضاد جواب دے رہے ہیں۔ تسلی بخش جواب نہیں مل پارہا ہے۔ متاثرہ اور اس کے دوست کو پولیس گاڑی میں لے جانے کی جرأت کیوں نہیں دکھائی گئی؟ زخمی لڑکے، لڑکی کو پاس کے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں کیوں نہیں داخل کرایا گیا تاکہ متاثرہ کی جان بچ جاتی۔ اس کوشش میں ان کی سنجیدگی نظر نہیں آئی؟ ایک مرتبہ ہسپتال ہی پہنچ گئے تو فوراً میڈیکل راحت کیوں نہیں دی گئی؟ کیا ہسپتال میں سب کچھ ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر ہی چھوڑا گیا؟ اور بھی کئی ایسے سوال ہیں جن کا پولیس کے پاس جواب نہیں ہے۔ دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اپنی غلطی کو قبول کرنے کے بجائے وہ لڑکے پر جھوٹ بولنے کا الزام لگا رہی ہے۔ پولیس کا موقف اس لئے اور بھی کمزور نظر آنے لگا کیونکہ عام جنتا اس کی سچائی پر بھروسہ کرپارہی ہے اور نہ ہی مختلف سیاسی پارٹیاں۔ مشکل یہ بھی ہے دہلی پولیس سے جواب مانگنے والا کوئی نہیں ہے۔ وزارت داخلہ پولیس کو چھونے کے لئے نہ تو تیار ہے اور نہ ہی وہ اس بات کی ضرورت سمجھتی ہے کہ اس پورے معاملے میں گہری جانچ پڑتال ہو۔ دہلی سرکار لاچاری ظاہر کر اپنا پلہ جھاڑ لیتی ہے کے پولیس ہمارے ماتحت نہیں۔ آج نہ تو وردی کا خوف رہا ہے اور نہ کی جنتا کو پولیس پر بھروسہ۔ رہی سہی کثر پولیس کے خوف کی اور عدالتوں میں چکر لگانے سے جنتاکی بیزاری ظاہر کرتی ہے۔ایسا نہیں کہ لوگ سڑکوں پر زخمیوں کی مدد نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ پولیس اور عدالتوں میں چکر لگانے سے ڈر جاتے ہیں۔ جب ہم قانون میں ترمیم کی بات کررہے ہیں تو میری رائے میں نئے قانون میں ایسی ترمیم ضرور ہونی چاہئے کے سڑک پر زخمیوں کو فوراً ہسپتال لے جانے والی پبلک ان چکروں سے بچ سکے۔ ان کی گواہی پولیس اسی وقت لے لے اور بعد میں بار بار عدالتوں کے چکر کاٹنے سے بچ سکے۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ میں اپنی بیٹی جو مشکل سے اس وقت 6-7 سال کی تھی بھوگل سے گھر لوٹ رہا تھا ساہی ہسپتال کے سامنے ایک کار ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ۔ ایک شخص اور اس کی بیٹی زخمی حالت میں پڑے تھے۔ لوگ آ جا رہے تھے تماشا تو دیکھ رہے تھے لیکن زخمیوں کو کار سے باہر نکال کر ہسپتال نہیں لے جارہے تھے۔ مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں نے اور میری بیٹی نے پتا و لڑکی کو کار سے نکالا اور اپنی کار میں بٹھایا۔ انہیں چوٹ لگی تھی لیکن وہ بہت بری طرح زخمی نہیں تھے۔ بات چیت کررہے تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کہاں چلیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ریلوے ہسپتال کناٹ پلیس لے چلو۔ ہم انہیں وہاں لے گئے۔ وہاں ڈاکٹروں نے فوراً معاملہ سنبھال لیا۔ میں اس بات کو بھول بھی گیا تھا لیکن اچانک مجھے ایک فون آیا کہ میں وہی شخص کو جسے آپ نے ریلوے ہسپتال پہنچایا تھا۔ میں ریلوے میں ڈی آئی جی ریلوے پولیس ہوں۔ میں آپ کا اور آپ کی بیٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہ بھی یادنہیں کہ میں نے انہیں اپنا فون نمبر دیابھی تھا۔ خیر! کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سبھی کا پہلا فرض یہ بنتا ہے کہ اگر آپ سڑک پر کسی زخمی کو دیکھیں تو بغیر سوچے سمجھے پہلے اسے ہسپتال پہنچائیں۔ سب کام پولیس پر نہ چھوڑیں۔
(انل نریندر)

اب درندوں کو بھی ستانے لگا پھانسی کا پھندہ!

جرائم پیشہ میں خوف پیدا کرنا ضروری ہے۔ قانون کا خوف نہ ہونے کے ہم منفی نتیجے دیکھ رہے ہیں۔ جب ان درندوں کو سزا کا خوف ہونے لگے گا تبھی ان کے سدھرنے کا چانس بنتا ہے۔ خوف کی تازہ مثال ہمارے سامنے آگئی ہے۔ وسنت وہار گینگ ریپ کے درندوں کو اب اپنے جان کی فکر ستانے لگی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایتوار کو دو ملزمان نے عدالت میں سرکاری گواہ بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ دراصل قارئین کو بتادیں کہ سرکاری گواہ بننے کا مطلب اور فائدہ کیا ہوتا ہے؟ قانوناً جو کوئی سرکاری گواہ بنتا ہے اسے سزا سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ سرکاری گواہ بننے والا شخص اگر جیل میں ہوتا ہے تو ٹرائل کی میعاد کے دوران اسے جیل میں گذارا گیا وقت ہی اس کے لئے سزامانی جاتی ہے۔ اگر کسی کو ضمانت مل گئی ہے تو ضمانت سے پہلے گذارا گیا وقت ہی اس کی سزا مان لی جاتی ہے اور بدلے میں وہ اپنے ساتھی جرائم پیشہ کے خلاف گواہی دے کر پولیس کو جرم ثابت کرنے میں مدد کرتا ہے۔ سرکاری گواہ بننا کسی بھی ملزم کے لئے سوچی سمجھی چال ہوتی ہے تاکہ سزا کے وقت عدالت اس پر نرمی برتے۔ سرکاری گواہ بنے ملزمان کو عموماً کم سزا ہوتی ہے۔ سنیچر کو ساکیت کورٹ میں میٹرو کنوکشن افسر جوتی کالرا کے سامنے پیشی کے دوران چار میں سے دو ملزمان پون گپتا اور ونے شرما نے خود کو سرکاری گواہ بننے کی خواہش ظاہر کی اور دونوں ملزمان نے گرفتاری کے بعد عدالت میں پیشی کے دوران خود کو پھانسی دئے جانے کی مانگ کی تھی۔ قانون کے ماہرین کا خیال ہے کہ ان دونوں ملزمان کو گواہ بنانے کی ضرورت دہلی پولیس کو نہیں ہے۔ کیونکہ دہلی پولیس کے پاس کافی ثبوت ہیں اور انہیں کی بنیاد پر اسے کیس ثابت کرنے میں زیادہ مشکل نہیں ہونی چاہئے۔ عدالت نے چاروں ملزمان کو19 جنوری تک جوڈیشیل ریمانڈ میں جیل بھیج دیا۔ دیگر دو ملزمان نے مقدمے کے لئے کورٹ سے قانونی مدد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ کسی بھی بدفعلی میں ملوث ملزم کو تبھی سرکاری گواہ بنایا جاتا ہے جب پولیس یا جانچ ایجنسی کے پاس ثبوت کم ہوں یا نہ ہوں۔ پولیس کے پاس متوفی کا خود کا دیا ہوا بیان ہے۔ اس کے دوست کی شکل میں چشم دید گواہ بھی موجودہے۔ پولیس افسر ، ڈاکٹر فورنسک رپورٹ وغیرہ وہ سب گواہی اور ثبوت موجود ہیں جو مجرمانہ کو سزا دلانے کے لئے کافی ہوں گے۔ ان حالات میں ہمیں نہیں لگتا پولیس ان دونوں کو سرکاری گواہ بنانے کے لئے حامی بھرے گی۔ پھانسی کا پھندہ، موت کا خوف اب ملزمان کو ستانے لگا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے یہ ہتھکنڈہ اپنایاگیا ہے۔ یہ درندگی تبھی رکے گی جب پھانسی کے پھندے پر انہیں لٹکایا جائے گا۔
(انل نریندر)

08 جنوری 2013

مہلاؤں سے زیادتی میں اترپردیش نے ریکارڈ توڑا

ہمارے سماج کو کیا ہوتا جارہا ہے۔ نہ مریاداؤں کا پالن اور نہ ڈسپلن اور نہ ہی تشدد کا ٹرینڈ کچھ بھی تو نہیں پچ رہا۔پچھلے کچھ دنوں سے آبروریزی کے واقعات کا سیلاب سا آگیا ہے۔ وردی و قانون کا خوف تو ختم ہی ہوگیا ہے۔ سارے دیش میں وسنت وہار گینگ ریپ پر بحث اور مظاہر ے ہورہے ہیں اور یہ آبروریزی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دہلی میں ہوئی درندگی کے معاملے میں ابھی عدلیہ نے کام شروع ہی کیا ہے کہ دہلی سے ملحق نوئیڈا میں ایک دلت لڑکی کو اغوا کرکے اس کے ساتھ بدفعلی اور قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ نوئیڈا میں کمپنی سے ڈیوٹی کرنے کے بعد جمعہ کو یہ لڑکی گھر لوٹ رہی تھی، اگلے دن یعنی سنیچر کی صبح گھر کے پاس اس کی نیم برہنہ لاش جھاڑوں سے ملی۔ جسم پر ناخون سے کھرونچ کے نشان تھے۔ لڑکی کے والد نے بدفعلی کے بعد قتل کی رپورٹ درج کرائی ہے۔ اس سے پہلے پولیس نے معاملہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی درج کرنے کی بات کہی تھی لیکن ممبر پارلیمنٹ اور عوامی غصے کے چلتے اسے آبروریزی کی دفعہ کے تحت معاملہ درج کرنا پڑا۔ متوفی لڑکی 21 سال کی ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق لڑکی کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے جس کی ایک وجہ گلا دبانے سے بھی ہوسکتی ہے۔ اترپردیش میں قانون و انتظام کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ پیلی بھیت میں کھیت پر بتھوا توڑنے گئی لڑکی کوگنے کے کھیت میں کھینچ کر ایک لڑکے نے اس سے آبروریزی کی۔ درندگی کی اس شرمناک واردات میں مددگاربنا ایک سابق پردھان۔ اس شرمناک حرکت کے دوران سابق پردھان پہرا دیتا رہا۔ جہاں آباد علاقے کی یہ 13 سالہ لڑکی جمہ کو دوپہر بعدبتھوا توڑ رہی تھی کہ تبھی گاؤں شیوپوریہ کے سابق پردھان رام کماراور اسی کے گاؤں کے انل کمار نامی دونوں شخص وہاں پہنچے۔ سابق پردھان نے طمنچہ دکھاتے ہوئے لڑکی کو روکا اور شورمچانے پر جان سے ماردینے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد دوسرے شخص انل نے لڑکی کو گنے کے کھیت میں کھینچ کر اس سے بدفعلی کی جبکہ سابق پردھان طمنچہ لیکر پہرا دیتا رہا۔ درندوں کے چنگل سے آزاد ہونے کے بعد لڑکی نے شور مچایا اور آس پاس کے کھیت پر موجود لوگ موقعہ پر پہنچ گئے۔ اترپردیش میں سرپھرے منچلوں نے عورتوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ ذرا اعدادو شمار پر نظر ڈالیں۔ اترپردیش میں یومیہ 300 عورتیں چھیڑ چھاڑ کا شکار ہوتی ہیں، پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر یہ سچائی قبول کی ہے۔ یہ جانکاری حیرانی بڑھا دیتی ہے کہ لوک لاج کے ڈر سے عورتیں ایف آئی آر درج کرانے سے بچتی ہیں۔ یوپی پولیس کی ویب سائٹ پر عورتوں کے لئے 15 نومبر 2012ء کو شروع کی گئی ہیلپ لائن 1090 کے بارے میں بھی جانکاری دی گئی ہے۔ اس ہیلپ لائن سروس پر 1 جنوری 2013ء تک 61 ہزار عورتوں نے مدد مانگی۔ ان میں14 ہزار سے زیادہ معاملے چھیڑ خانی اور فقرے کسنے کے پائے گئے۔ ان میں سے10 ہزار معاملے درج کئے گئے۔ ان عورتوں نے فون پر تو شکایت کی تھی لیکن متعلقہ تھانوں میں رپورٹ نہیں درج کرائی۔ جب عورتوں پر بڑھتے جرائم کے بارے میں اترپردیش کے نوجوان وزیر اعلی اکھلیش یادو سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا آبروریزی کے معاملوں میں کوتاہی برتنے والے پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ عورتوں و لڑکیوں کے رشتے داروں کو مدد دی جائے گی۔ قانون و نظام سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
(انل نریندر)

آر ایس ایس کو’’پپو‘‘ بھاجپا پردھان کی تلاش

بھاجپا میں صدر کے عہدے کولیکر کی گئی پارٹی آئین میں ترمیم کے بعد سے زیادہ تر بڑی ریاستوں و علاقائی منڈلوں کے ذریعے دوسری میعاد کی چاہت بھاجپا کے لئے بڑی مشکل بنتا جارہا ہے۔ پارٹی کے سینئر ذرائع کی مانیں تو پارٹی کے لئے اہم کئی ہندی بولنے والی ریاستوں جیسے بہار، راجستھان، چھتیس گڑھ، اترانچل میں تنظیم کے بڑے عہدوں پر بیٹھے لیڈر ہر ممکن کوشش میں لگیں ہیں کہ نتن گڈکری کو بھی آرایس ایس پردھان کی طرح دوسری میعاد دے دی جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کیا یہ طے ہوگیا ہے کہ موجودہ پردھان کو قومی صدر کے عہدے کے لئے کلین چٹ مل گئی ہے؟ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے اتفاق رائے کے بعد ہی نیا پردھان طے ہوگا۔ مذہبی مانیتاؤں کے مطابق مکر سکرانتی سے سوریہ دیو کے اتردشا میں داخل ہونے کے بعد ہی اچھے کام شروع ہوتے ہیں۔ اس لئے مانا جارہا ہے بھاجپا اسی دن کا انتظار کررہی ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ یا آر ایس ایس کو پردھان کے لئے نتن گڈکری کا متبادل نہیں مل رہاہے۔ بھاجپا پر اپنی پکڑ بنائے رکھنے کے لئے آر ایس ایس نے پپو پردھان کی تلاش شروع کردی ہے لیکن سنگھ کی مشکل یہ ہے کہ وہ جس پارٹی کے لیڈروں کو سب سے زیادہ پسند کررہا ہے وہ خود اسے لینے کو تیار نہیں ہے۔ سنگھ کسی بھی قیمت پر دلی فورم یا جسے ڈی۔4 کہا جاتا ہے ،میں کسی کو کوئی عہدہ سونپنا نہیں چاہتے ۔ ویسے تو سنگھ کی پہلی پسند موجودہ پردھان نتن گڈکری ہیں لیکن اگر حالات ٹھیک نہیں نظر آئے تو وہ جن ناموں پر غور کررہے ہیں ان میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان، سابق پردھان راجناتھ سنگھ، شانتا کمار شامل ہیں۔ سشما سوراج کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ بھاجپا کے ایک سینئرلیڈر کے مطابق حقیقت میں سنگھ کو ایک ’’پپو‘‘ پردھان کی تلاش ہے جو صرف اس کے ایجنڈے کو لاگو کرسکے۔ اسے کبھی آنکھیں نہ دکھائے۔ اس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا جاسکے۔ اس کسوٹی پر کم ہی لیڈر کھرے اتریں گے۔ لوک سبھا میں کئی بڑے لیڈر ہیں جو اپنے آپ کو پردھان کے عہدے کے لئے اہل مانتے ہیں۔ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، یشونت سنہا، جسونت سنگھ، اننت کمار، گوپی ناتھ منڈے سمیت لیڈروں کی لمبی فہرست ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی کو لیکر مشکل یہ ہے کہ وہاں بھی ان کا جانشین سشما جی کی طرح چننے میں مشکل ہوجائے گا۔ راجناتھ سنگھ پر اڈوانی خیمہ شاید تیار ہوجائے۔ موجودہ پردھان نتن گڈکری کی میعاد19 دسمبر کو ختم ہوگئی لیکن پارٹی کے اندر کسی ایک شخص کے نام پر اتفاق رائے نہ بن پانے کی وجہ سے فی الحال گڈکری کو ہی تھوڑی میعاد دے دی جائے۔ بھاجپا کے لئے اگلا پردھان انتہائی اہم ہوگا۔ اگر لوک سبھا چناؤ وقت پر یعنی 2014ء میں ہوتے ہیں تو بھی بھاجپا کے نئے پردھان کو چناوی جنگ کے لئے تیاری کیلئے ڈیڑھ سال ملے گا۔ پھر اس سال 9 ریاستوں کے اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ اگلے دو مہینے میں کرناٹک، میگھالیہ، ناگالینڈ، تریپورہ اور اس کے بعد دہلی، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان اور میزورم اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ بہت کم وقت رہ گیا ہے اور دیش کی بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا یہ نہیں طے کر پارہی کے پارٹی صدر کون ہوگا۔ امید کریں کے یہ مکرسکرانتی کے فوراً بعد پتہ لگے گا کہ پارٹی کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہوگی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...