Translater

09 فروری 2019

وجے مالیہ کی حوالگی کی ایک اور اڑچن دور ہوئی

برطانیہ کے وزیر داخلہ کی جانب سے ہندوستان کے بھگوڑے مالی مجرم وجے مالیہ کی حولگی کا حکم ملنا حکومت ہند اور ہندوستانی جانچ ایجنسیوں کا بڑا کارنامہ ہے ۔برطانیہ کے وزیر داخلہ ساجد جاوید کے دستخط ہندوستان کی ڈپلیومیٹک جیت بھی مانی جائے گی ۔لندن کی نیکولے عدالت میں لمبی لڑائی کے بعد ہندوستان کو پچھلے دس دسمبر کو کامیابی ملی لندن کی عدالت نے آخر کار مجرم مالیہ کی ساری دلیلیں مستر د کر دیں اس کے حق میں وہاں کے بڑے بڑے وکیل جرہ کر رہے تھے جب ساری دلیلیں فیل ہو گئیں تو انسانی حقوق کا اشو اُٹھایا گیا جس میں بتایا گیا کہ ہندوستان کی جیلوں میں غیر انسانی صورتحال ہے اس اشو پر بھی بھارت کی جیت ہوئی عدالت کے حکم کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ برطانیوی حکومت سے رابطے میں تھا اور اس کی لگن سامنے آئی ہے ۔اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ موجودہ حکومت کرپشن اور مالی جرم کرنے والوں کو سزا دلانے کے لئے عہد بند ہے ۔اس لئے امریکہ میں علاج کرا رہے وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے ٹیوئٹ بھی کیا ہے ۔کہ ایک اور افسر کو بچانے کے لئے ممتا بنرجی انشن کر رہی ہیں تو دوسری طرف سرکار وجے مالیہ کی حوالگی کے حکم حاصل رہی ہے ۔مالیہ کی حوالگی کی کارروائی ابھی فائنل نہیں ہوئی ہے اس کے پاس اس حکم کے خلاف اپیل کرنے کے لئے دو ہفتے کا وقت ہے اگر اپیل منظور نہیں ہوتی ہے تو اسے ہر حال میں 28دنوں کے اندر بھارت کو سنوپنا ہی ہوگا لیکن ہائی کورٹ مالیہ کے حق میں کوئی فیصلہ دے گا ایسا ہونے کے کوئی آثار نہیں دکھائی پڑتے نچلی عدالت میں معاملہ جتنا الجھایا جا سکتا ہے اتنا بڑی عدالت میں نہیں ۔مودی حکومت نے بھگوڑے مجرموں کے خلاف نیا قانون بنا کر قانونی ایجنسیوں کو کافی مضبوطی دی ہے اس کے تحت بھگوڑا قرار دینے کے بعد اس کی بیرونی ملک میں املاک بھی ضبط کی جا سکتی ہیں ۔بھارت نے اس قانون کے تحت مالیہ کو پہلا بھگوڑا ڈکلیر کیا ہے ۔اس کی غیر ملکی املاک بھی ضبط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے سیوزرلینڈ سرکار نے مالیہ کے بینک کھاتوں کی جانکاری دینے پر بھی رضا مندی دے دی ہے ۔دیر سویر مالیہ کا بھارت آنا اور اسکی املاک ضبط کرنا یقینی ہو گیا ہے ۔بتا دیں کہ مالیا پر مختلف بینکوں کا 9400کروڑ روپئے کا قرض ہے اس کے خلاف سترہ بینکوں کے گروپ نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی تھی سی بی آئی اور ای ڈی معاملے کی جانچ کر رہی ہیں ۔فی الحال تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ مالیہ کی حوالگی کے لئے حکومت ہند نے ایک اور رکاوٹ پار کر لی ہے ۔اور یہ نیرو مودی ،میہل چوکسی ،للت مودی،کے لئے بھی ایک سندیش ہے ۔امید ہے کہ جلد مالیہ کو بھارت لایا جائے گا ۔اور قانونی کارروائی پوری کر لی جائے گی ۔

(انل نریندر)

امریکہ میں ویزا اسکینڈل میں پھنسے 129بھارتیہ طلبا

امریکہ میں بڑی تعداد میں ہندوستانی طلباءتعلیم حاصل کرتے ہیں ۔پچھلے برس 1 .96لاکھ ہندوستانی طلباءنے مختلف امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا تھا ۔ امریکی جانچ ایجنسیوںنے غیر قانونی طور سے قیام کے لئے طلباءکا غلط طریقے سے داخلہ کرانے والے ریکٹ پر لگام کسنے کے لئے فرمنگٹن یونیورسٹی کے نام سے ایک فرضی یونیورسٹی قائم کر رکھی تھی امریکہ میں رہنے کے لئے اس فرضی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے معاملے میں گرفتار کئے گئے 129ہندوستانیوں سمیت سبھی 130غیر ملکی طلباءکو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔آبرزن اور ایکسائز ٹیکس کے حکام نے بدھ کو یہ گرفتاریاں کیں ۔''پے اینڈ اسٹے''نامی گروپ کو بے نقاب کرنے کے لئے گریٹر ڈیٹرائٹ علاقہ میں ڈی ایچ ایس کی تفتیشی نیونٹ نے فرضی یونیورسٹی آف فمنٹن کو بے نقاب کیا تھا امریکہ وزارت خارجہ نے کہا کہ یونیورسٹی آف فرمنگٹن میں داخلہ لینے والے سبھی لوگوں کو پتہ تھا کہ اس میں ٹیچر نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی کلاس ہوتی ہے ۔انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ وہ امریکہ میں ناجائز طریقے سے رہنے کے لئے جرم کر رہے ہیں ۔ہندوستان نے گرفتار طلباءتک سفارتی مدد فراہمی کی مانگ بھی کی تھی ہندوستانی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ معاملے پر نگاہ رکھے ہوئے ہےآبرزن گھوٹالے کا پتہ لگانے کے لئے محکمہ داخلہ نے فرمنگٹن ہلس میں ایک فرضی یونیورسٹی بنائی غیر ملکی طلباءنے فرضی یونیورسٹی میں اس لئے داخلہ لیا تاکہ وہ غلط طریقے سے اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کر سکیں۔ اس درمیان ''پے اینڈ اسٹے''معاملے میں گرفتار آٹھ ہندوستا نیوں کو مشیگن کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوںنے خود کو بے قصور بتایا پانیدیپ ،کرناتی،بھرتکاکی ،ریڈی،سریش کنڈالا،پریم رام پیسا،سنتوش،سمع،ویناش،تھکل پللی،نیون،پارٹھی پاتی وغیرہ کو مشیگن میں جج کے سامنے پیش کیا گیا ۔کرنانی کے وکیل جون ڈبلیو برسٹار نے کہا کہ سبھی نے خود کو بے قصور بتایا تھا ۔130لوگوںنے نیو جرسی ،اٹلانٹا ہوسٹن ،مشیگن،کیلیفورنیا ،لیوسیانا ،نارتھ کیرولینا،اور سینٹ لوئی،سے گرفتار کیا گیا ۔یہ سبھی طالبعلم ویز ا پر جائز طریقے سے امریکہ آئے تھے اور انہیں فرمنگ یونیورسٹی میں داخلہ دیا گیا ۔امریکہ میں قائم ہندوستانی سفارتخانے کے عملے کے ذریعہ طلباءکی مدد کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش جاری ہے قانونی مدد بھی لی جا رہی ہے ۔رسوخدار ہندوستانی امریکی اور میڈیا ادارے بھی سرکار کے اس طرح طلباءکو گرفتار کرنے کے معاملے پر سوال اُٹھا رہے ہیں ۔امریکی ترجمان نے کہا کہ سبھی طلباءکو یہ اچھی طرح سے معلوم تھا کہ فرمنگ یونیورسٹی میں نہ تو کوئی پڑھانے والا ہے اور نہ ہی کوئی آن لائن تعلیم کی سہولت ان سب نے امریکہ رہنے کے لئے یہ جرم کیا ہے ۔ہندوستانی طلباءکی گرفتاری کے معاملے میں نامور ہندوستانی نژاد انجوپیشوریا نے ٹرمپ حکومت کو اڑے ہاتھوں لیا ہے انہوںنے وزارت داخلہ پر جان بوجھ کر فرضی یونیورسٹی بنانے اور دوسرے ملکوں کے طلباءکو گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے ۔کیلیفورنیا میں پرواسی امور کی وکیل انجو نے کہا کہ امریکی حکومت کی اس مہم کا سینکڑوں ہندوستانی طلباءپر برا اثر پڑئے گا ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہمارے طلباءکی غلطی نہیں ہے انہیں یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے پہلے چھان بین کرنی چاہیے تھی ۔مگر جان بوجھ کر غلطی کی ہے تو انہیں سزا ملنی چاہیے ۔لیکن اگر انہیں پھنسایا گیا ہے یا جرم کرنے کے لئے اکسایا گیا ہے تو ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے۔

(انل نریندر)

08 فروری 2019

سی بی آئی بنام کولکاتہ پولس...(2)

نرےندرمودی اور امت شاہ کی قےادت مےں بھاجپا مغربی بنگال مےں خود کو ابھار نے مےں لگی ہے توممتابنرجی اپنے گھڑ کو بچاتے ہوئے خود کو وزےر اعظم کے عہدے کی دعوےدار پےش کرنا چاہتی ہے ےہ ہے لب لباب سی بی آئی او رمغربی بنگال حکومت کے درمےان داو ¿ں پےنچ کا سلسلہ ہے ۔بھاجپا کی قےادت مےں کام کررہی مرکزی سرکار کا کہنا ہے کہ رےاستی پولےس کے ذرےعہ سی بی آئی افسرو ں کو گرفتا رکرنے کا واقعہ معمولی نہےں ہے ۔اور ےہ مرکز رےاستی تعلقا ت کے درمےان اےک پرےشانہ کن صورتحال ہے ۔ممتا بنرجی 13سال بعد مےٹرو چےنل پر انشن کرنے گئی اس امےد سے کہ وہ رےاست مےں بھاجپا کے حق مےں بن رہے ماحول کو روک سکے ۔ےہ سبھی جانتے ہےں کہ اس پوری لڑا ئی کو کہےں پہ نگاہےں ،کہےں پہ نشانہ والے انداز مےں ہی دےکھا جائے گا ۔مغربی بنگال مےں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے اسے آنے والے عام چناو ¿ سے جوڑ کر نہ دےکھاجائے ےہ ہونہےں سکتا کہ وہاں جوکچھ بھی ہورہا ہے ہے اس کے پےچھے سےاسی مفادات تلاش کئے جائےں گے ۔ےہ کسی سے پوشےدہ نہےں ہے کہ پچھلے کچھ ہفتے سے بھاجپا اور ممتا بنرجی اور ترنمول کانگرےس کا ٹکراو ¿ بڑھتاجارہا ہے ۔اس وقت مغربی بنگال کچھ ان رےاستوںمےں سے اےک ہے ۔جس کے بارے مےں بھاجپا کو لگتا ہے کہ وہاں اےک بڑی چناوی جےت درج کراسکتی ہے اس لئے اس نے اپنی سرگرمی وہاں تےزی سے بڑھائی ہے دوسری طرف ممتا نے بھی اسے بڑی ٹکر دےنے کی ڈھان رکھی ہے ۔پہلے بھاجپا صدرامت شاہ کو مغربی بنگال مےں رتھ ےاترا کی اجازت نہےں دی گئی ۔اتوار کو جب اترپردےش کے وزےر اعلی آدتےہ ناتھ رےلی کو خطاب کرنے مغربی بنگال پہنچے تو انکے ہےلی کاپٹر کو وہاں اترنے کی اجازت نہےں دی گئی اسی شام کو سی بی آئی کے 40افسر کولکاتہ کے پولےس کمشنر کے گھر شارداچٹ فنڈ گھوٹالے کے بارے مےں پوچھ تاچھ کرنے پہنچے ہمےں پتہ نہےں ہے ےوگی آدتےہ ناتھ کے ہےلی کاپٹرکو اترنے کی اجازت نہ دےنا اور سی بی آئی افسران کے پولےس کمشنر کے گھر پہنچنا ،دونوں جڑے معاملہ ہے ۔ےہ نہےں ،لےکن جس طرح کی سےاست چل رہی ہے ،اس مےں انہےں جوڑ کر دےکھا جانا تھا ۔بھاجپا نےتاو ¿ں کے بھی ترکش مےں بہت سے تےر آگئے ۔خود وزےر اعظم نے اپنی رےلےوں مےں ممتا پر حملہ تےز کرنے شروع کردےئے شاےد بھاجپا نے سوچا ہو کہ وہ مرکزی بجٹ پر بحث سے عام چناو ¿مہم کا شری گنےش کرے گی لےکن چناو ¿ مہم مغربی بنگال سے ہی شروع ہوچکی ہے ۔حکمراں فرےق اس جنگ مےں اےک تےر سے کئی شکار کرنا چاہ رہی ہے دیدی ۔بےشک سپرےم کورٹ کا فےصلہ پوری طرح حق مےں نہےں آےا ہو لےکن اس سے بھی انکا ر نہےں کےا جاسکتا کہ ممتا مودی مخالف سےاست کا مرکز بننے کی کوشش مےں بہت حد تک کامےاب ہورہی ہےں عالم ےہ ہے کہ دےش کی تمام بی جے پی مخالف پارٹےاں چاہے نہ چاہے ڈھنگ سے ممتا کو حماےت دےنے کے لئے مجبور ہے ڈی اےم کے لےڈر کنی موجھی سے لےکر آر جے ڈی لےڈر تےجسوی ےادو اور پھر آندھرا پردےش کے لےڈر چندر بابو نائےڈو جےسے لےڈر کولکاتہ پہنچے اور ممتا کو مرکزی سرکار کے خلاف مورچہ کھولنے کےلئے اپنی حماےت دےنے کو مجبور ہوئے ظاہر ہے کہ ممتا مودی مخالف سےاست کا مرکز بن پانے مےں تےزی سے کامےاب ہورہی ہےں ۔امت شاہ کا ہےلی کاپٹر نہ اترنے دےنا اور ےوگی کو رےلی سے روکنے مےں مےسج دےنے مےں کامےاب رہی کہ بی جے پی کو روکنے کےلئے وہ ہرراستہ اختےار کرسکتی ہےں ۔اس سے بی جے پی مخالف طاقتوںکو ےکجا کرنے مےں ان کا کردار اہم نظر آنے لگا ہے اور وہ موقعے کے حساب سے مہرا چلتی نظر آتی ہے ۔وہےں رےاست مےں سی پی اےم بھی انکے نشانے پر ہے بھاجپا کے علاوہ انکے نشانے پر اتوار کو کولکاتہ مےں ہوئی لےفٹ مورچہ کی بڑی رےلی تھی اس لئے لےفٹ کے لوگ غےر رسمی طور پر کہہ رہے ہےں کہ ےہ تو بھاجپا اور ترنمول کانگرےس مےں نورہ کشتی ہے تاکہ مغربی بنگال مےں لےفٹ فرنٹ کے ابھار کو روکا جاسکے آنے والا لوک سبھا چنا و ¿ مےں مقابلہ ممتا بنام بی جے پی ہوگا او راےسا پےغام دےنے مےں کچھ حد تک کامےاب ہورہی ممتا لےفٹ اور کانگرےس سےاست پر چنگاڑی لگانے مےں کامےاب نظر آرہی ہے اور کانگرےس اور لےفٹ کی حےثےت فی الحال ممتا بنرجی کے سامے بونی نظر آرہی ہے ۔وہےں مارکس وادی پارٹی کے جنرل سےکرےٹری سےتا رام ےچوری نے شاردا چٹ گھوٹا لے مےں سی بی آئی کو وفاقی نظام پر حملہ قرار دےتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے معاملہ مےں ترنمول کانگرےس اور بھاجپا دونوں ہی کٹگھرے مےں کھڑے ہےں انہوں نے کہا کہ شاردا جٹ فنڈ کے ملزامان کو بھاجپا نے اپنی پارٹی مےں شامل کر لےا ہے لےکن اس پورے معاملہ مےں مےڈےا نے صحےح تصوےر پےش نہےں کی ہے ےہ مرکز او ررےاستی حکومت کے درمےان ٹکراو ¿ کی وجہ بنی ہے ۔کچھ ماہرےن کا خےال ہے ممتا بنرجی نے مرکزی جانچ اےجنسی کے اقتدار کو چےلنج دےکر ٹھےک کام نہےں کےا ۔اگر ممتا کا کارنامہ دوسری رےاستوں کےلئے نظےر بن جاتا ہے تو سی بی آئی کسی بھی رےاست کے کرپٹ وزراء،افسران او رملزمان پر ہاتھ نہےں ڈا ل سکے گی ۔پچھلے دنوں سی بی آئی کے اندر جس طرح کی اتھل پتھل ہوا اس کا اشارہ ےہی تھا کہ بھاجپا کی حکومت مےں اس مرکزی تفتےشی اےجنسی کی ساکھ اور بھروسے کو دھکا لگا ہے حقےت مےںاگر بھاجپانے سی بی آئی کو کمزور کےا ہے تو ممتا نے بھی جمہورےت کو مضبوطی نہےں دی ہے ۔تلخ حقےقت تو ےہ ہے کہ سےاسی فائدہ کے لئے آئےنی تقاضوں اور قانونی سسٹم کا مذاق دونوں نے ہی اڑا ےا ہے ۔مرکز،رےاست کے ان چناوی پےنتروں سے الگ آئےن اور اس کے اداروں کا سوال بھی اہم ہے ضرورت ےہ ہے کہ اداروں کے توازن کو بنائے رکھتے ہوئے ان کا چناوی بےجا استعمال کو روکا جائے ۔(ختم )

(انل نریندر)

07 فروری 2019

ای وی ایم کے بھروسے پر پھر اُٹھے خدشات

چناﺅ کمیشن ای وی ایم میں کسی طرح کی ہیرا پھیر ی کی گنجائش کو بھلے ہی مسترد کرتا رہا ہو مگر اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے مسلسل اُٹھائے جا رہے سوال اس کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں ای وی ایم مسلئے پر پیر کو اپوزیشن پارٹیوں کے چناﺅ کمیشن میں دستک دینے سے صاف ہے کہ 2019کے سیاسی سنگرام میں کمیشن کو اس پر گہری حساسیت ہی نہیں بلکہ زیادہ چوکسی دکھانی ہوگی ۔پیر کو تمام اپوزیشن پارٹیوں نے کمیشن سے مل کر اپنے اندیشات ظاہر کئے ان نیتاﺅں نے چیف الکشن کمشنر سنین اروڑا سے کہا کہ لوک سبھا چناﺅ میں وی وی پیڈ کی 50فیصدی پرچیوں کا ملان کر کے چناﺅ کی منصفانہ حیثیت بنائے رکھی جائے پچھلے سال ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شکایتوں کے بعد تجرباتی طور پر کورٹ عدالتی سطح پر وی وی پیڈ کی پرچیوں کا ملان کیا گیا تھا ۔کمیشن سے ملنے گئے نمائندہ وفد میں کانگریس کے سئینر لیڈر غلام نبی آزاد ،ملکا ارجن کھڑگے ،احمد پٹیل،آنند شرما،تیلگو دیشم لیڈر ،چندر بابو نائیڈو،بسپا لیڈر ،ستیش چندر مشرا،سپا نیتا ،رام گوپال یادو،آر جے ڈی لیڈر ،منوج جھا ،اور کمیونسٹ لیڈر، محمد سلیم ،اور دوسرے کمینسٹ لیڈر ڈی راجا اور عآپ لیڈر سنجے سنگ شامل تھے ۔این سی پی کے لیڈر ماجد میمن اور یو ڈی ایف لیڈر بدرالدین اجمل بھی ان لیڈروں کے ساتھ تھے ۔بعد میں سئینر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کمیشن کو کہا گیا ہے کہ چناﺅ میں منصفانہ عمل بنائے رکھنے کے لئے جو بھی ضروری ہو وہ قدم اُٹھائے جائیں انہوںنے بتایا کہ چناﺅ کمیشن نے انہیں یقین دلایا کہ ای وی ایم میں وی وی پیڈ پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کی رپورٹ چناﺅ سے پہلے آجائے گی ۔اور اسے شائع کیا جائے گا ۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ ای وی ایم کا بھروسہ بر قرار رکھنے کے لئے ہر ایک ریاست میں آدھے پولنگ مرکزوں پر ای وی ایم کے ووٹوں کا وی وی پیڈ کی پرچیوں سے ملان کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔انہوں نے کمیشن سے یہ بھی اپیل کی کہ یہ سسٹم لوک سبھا اور ودھان سبھا چناﺅ سمیت سبھی چناﺅ میں نافذ کرنے جمہوریت کی حفاظت ہو ۔بسپا نیتا ستیش چندر مشرا نے کہا کہ یوپی چناﺅ کے بعد ان کی پارٹی ای وی ایم کے معاملے میں کورٹ گئی تھی جہاں چناﺅ کمیشن نے وی وی پیڈ کو لے کر حلف نامہ میں عدالت کو بتایا تھا ،اس کی تعیل کی جائے ۔چناﺅ کمیشن کئی موقوں پر ای وی ایم کو فل پروف بتاتے ہوئے اب بیلٹ پیپر پر چناﺅ کرانے کی مانگ کو مسترد کر چکا ہے ۔ہمارا خیا ل ہے کہ 2019لوک سبھا چناﺅ بالکل منصفانہ اور آزادانہ ہونے چائیں ۔چناﺅ کمیشن اچھی طرح سے واقف ہے کہ مدھیہ پردیش ،تلنگانہ ،کے حالیہ اسمبلی چناﺅ میں پولنگ کے بعد ای وی ایم کے ہوٹل میں ملنے سے لے کر پولنگ مرکز کے باہر خالی ای وی ایم سے بھری بس کے پکڑے جانے جیسے واقعات سے شبہ کی گنجائش ہو تو وہ غلط نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

سی بی آئی بنام کولکاتہ پولس(1)

کولکاتہ میں اتوار کو سی بی آئی اور ریاستی پولس کے درمیان جو کچھ ہوا وہ حیران و پریشان کرنے والا معاملہ ہے ۔سی بی آئی کے 40ممبروں کی ٹیم شاردہ چٹ فنڈ گھوٹالے کی جانچ کے سلسلے میں کولکاتہ پولس کمشنر کے گھر پر چھاپہ مارنے پہنچی تھی لیکن مقامی پولس نے سی بی آئی ٹیم کو پولس کمشنر کے گھر میں گھسنے نہیں دیا ۔یہی نہیں کولکاتہ پولس سی بی آئی کے پانچ افسروں کو اپنے ساتھ لے گئی اور کچھ گھنٹوں تک وہیں بٹھائے رکھا ۔معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا کولکاتہ پولس نے کولکاتہ سی بی آئی کے دفتر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اس کے بعد وزارت داخلہ کی ہدایت پر سی بی آئی کولکاتہ کے دفتر کے باہر سی آر پی ایف تعینات کر دی گئی حالات تب اور سنگین ہو گئے جب ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سی بی آئی کی کارروائی کے خلاف دھرنے پر بیٹھ گئیں اور مرکز ریاست کے درمیان ایک نئی جنگ شروع ہو گئی کولکاتہ کی یہ واردات ایک طرح سے مرکز اور ریاست کے درمیان طاقت آزمائی میں تبدیل ہو گئی ۔اس کے دورس پیغام اچھے نہیں کہے جا سکتے ۔اس پورے تنازعے کے دو پہلو ہیں پہلا قانونی دوسرا سیاسی ۔جہاں تک قانونی پہلو کا سوال ہے تو معاملہ سپریم کورٹ میں گیا آج ہم قانونی پہلو کی بات کرتے ہیں کولکاتہ کے پولس کمشنر راجیو کمار کے خلاف سی بی آئی نے منگلوار کو مبینہ ثبوت سپریم کورٹ میں پیش کئے۔ان پر غور کرنے کے بعد چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی بنچ نے شاردہ چٹ فنڈ گھوٹالے میں پوچھ تاچھ کے لئے کولکاتہ کے پولس کمشنر راجیو کمار کو سی بی آئی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی ۔اور ایمانداری سے سی بی آئی جانچ میں تعاون کرنے کو کہا ۔یہ پوچھ تاچھ شیلانگ (میگھالیہ)میں ہوگی ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے راجیو کمار کی گرفتاری پر روک لگا دی عدالت نے کہا تھا کہ سی بی آئی کولکاتہ کے کمشنر کے خلاف ثبوت لے کر آئے ہم ایسا قدم اُٹھائیں گے تاکہ انہیں پچھتانہ پڑئے گا جانچ میں اڑچن ڈالنے کے لئے ریاست کے چیف سیکریٹری اور پولس کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کرنے کی عرضی پر سپریم کورٹ نے تینوں کو نوٹس جاری کئے اور 18فروری تک جواب مانگا ہے ۔سپریم کورٹ کی ہدایت کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جس طرح سی بی آئی اچانک اتوار کی شام کمشنر راجیو کمار کو گرفتار کرنے آئی اسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا دیش بندوق اور گﺅ رکشکوں کے بل پر نہیں چلے گا کوئی بھی ان کے خلاف بولتا ہے تو اسے گرفتار کر لیا جا تا ہے ۔وہیں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ سپریم کے حکم اخلاقی طور سے سی بی آئی کی بڑی جیت ہے ممتا جانچ میں رکاوٹ پید ا کر رہی ہیں وہ پولس کمشنر کو بچانا کیوں چاہتی ہیں ؟(جاری)

(انل نریندر)

06 فروری 2019

جند اور رامگڑھ ضمنی چناﺅ کے سندیش

عام طور پر اسمبلی ضمنی چناﺅ کی محدود اہمیت ہوتی ہے لیکن لوک سبھا کے عام چناﺅ سے ٹھیک پہلے جند اور رامگڑھ کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے کہ اس میں دونوں بھاجپا اور کانگریس کے لئے پیغام اور اشارے ہیں جند میں بھاجپا کے کرشن مڈا 12935ووٹوں سے جیتے ہیں کرشن مڈا نے جج پا کے سرکردہ لیڈر دگ وجے چوٹالہ کو ہرایا ہے ۔کانگریس کے قومی لیڈرسورجیوالا تیسرے نمبر پر رہے بھاجپا امیدوار کرشن مڈا کو 50566ووٹ ملے جبکہ جن نائک جنتا پارٹی کے امیدوار دگ وجے سنگھ چوٹالہ کو 37631ووٹ ملے ۔کانگریس کے رندیپ سنگھ سورجیوالا کو 22740ووٹ ملے کانگریس و اپوزیشن کے لئے یہ صاف پیغام ہے کہ اگر مل کر نہیں لڑیں گے تو ہاروگے اگر چوٹالہ سورجیوالا کے ووٹ جوڑ لئے جائیں تو ان کا ٹوٹل 60371جبکہ جیتنے والے بھاجپا کے مڈا کو 50566ووٹ ملے جو اپوزیشن امیدواروں سے کم ہیں ۔اگر آمنے سامنے مقابلہ ہوتا تو یہی نتیجہ کچھ اور ہوتا مقامی بلدیاتی چناﺅ میں بھاجپا کی یک طرفہ جیت کے بعد جند کا چناﺅ ہریانہ بی جے پی اور وزیر اعلیٰ کھڑ کے لئے طاقت دینے والا ثابت ہوگا ۔جنتا کے ساتھ ساتھ جن نائک جنتا پارٹی بھی ایک مضبوط متابادل کے طور پر ابھری ہے ظاہر سی بات ہے ان انتخابات کا اثر وہاں آپسی گٹھ بندھن اور تال میل پر نظر آئے گا ۔دلچسپ ہے کہ اس چناﺅ میں جہاں بی ایس پی نے آئی این ایل ڈی کے ہاتھ مضبوط کئے وہیں عام آدمی پارٹی نے جے جے پی کو ہمایت دی دیکھنے والی بات ہوگی کہ اپوزیشن نے اس سے کوئی سبق سیکھا ہے ؟راجستھان کے الور ضلع میں دوسرے ضمنی چناﺅ میں کانگریس کی جیت ہوئی ہے یہ جیت اس لئے بھی اہم ترین ہے کیونکہ کانگریس اب 2سو ممبروں والی اسمبلی میں سو نمبر تک پہنچ گئی ہے ۔رامگڑھ سیٹ پر کانگریس کی صفیہ زبیر خان نے بھاجپا کے سکھونت سنگھ کو 12728ووٹوں کے فرق سے ہرا دیا ہے ۔وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اسے حکومت کی فلاحی پالسیوں کی جیت قرار دیا ہے ۔سپا نے سابق مرکزی وزیر نٹور سنگھ کے بیٹے جگت سنگھ کو امیدوار بنایا تھا جنہیں قراری شکست ملی بلکہ ان کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی ۔پردیش بھاجپا کے ترجمان اور ممبر اسمبلی ستیش پنیا کا کہنا تھا کہ بھاجپا کے باغی نے بسپا سے چناﺅ لڑ کر ووٹوں کا پولارائزیشن کیا ۔اور اس سے کانگریس کی جیت آسان ہوئی جند میں تیسرے مقام پر رہے کانگریس امیدوار رندیپ سورجیوالا نے ای وی ایم میں گڑبڑی کا الزام لگایا ہے ان کا کہنا تھا کہ قریب 24ای وی ایم مشینوں میں گڑبڑی کی گئی اور مشینوں کے نمبر آپس میں میل نہیں کھا رہے تھے حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ سی ایم کھڑ اور نئے منتخب مڈا لوگوں کی توقعات پر کھرے اتریں گے ۔

(انل نریندر)

واڈرا قصوروار یا سیاسی بدلے کی بھاونا میں ہوئے شکار؟

محترمہ سونیا گاندھی کے داماد اور پرینکا کے شوہر رابرٹ واڈرا پر انفورسمینٹ ڈائرکٹریٹ کا شکنجہ کستا جا رہا ہے پیسہ کمانے کے ایک معاملے میں رابرٹ واڈا کو 16فروری تک کےلئے انترم ضمانت مل گئی ہے ۔پٹیالہ ہاﺅ س کورٹ کے اسپیشل جج اروند کمار نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں واڈرا کی انترم ضمانت پر سماعت کے بعد انہیں فی الحال کچھ دنوں کی راحت دے دی ہے ۔ واڈرا کی طرف سے پیش ہوئے وکیل کے ٹی ایس تلسی نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ جانچ میں پورا تعاون کریں گے لیکن اندیشہ ہے کہ جانچ ایجنسیاں انہیں گرفتار کر سکتی ہیں ایسے میں امکانی گرفتاری سے بچاﺅ چاہتا ہے واڈرا نے اپنی پیشگی ضمانت عرضی میں کہا کہ ان کے ساتھ نا مناسب اور غیر انصاف پر مبنی اور بد قسمتی سے بھرپور مجرمانہ مقدمہ چلایا جا رہا ہے جو پوری طرح سے سیاسی اغراض پر مبنی ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ ان کے دفتر میں ای ڈی نے 7دسمبر 2018کو چھاپے ماری کی تھی ان کی آزادی کو جانچ ایجنسی کے ذریعہ روکنے کی کوشش کی جار ہی ہے اسپیشل عدالت نے واڈرا کی پیشگی ضمانت درخواست منظور کرتے ہوئے حالانکہ یہ ہدایت بھی دی ۔کہ انہیں 6فروری کو ای ڈی کے سامنےپیش ہونا ہوگا ۔2009میں ایک پٹرولیم سودے کی جانچ کرتے ہوئے انفورسمینٹ ڈائرکٹریٹ نے واڈرا کے معاون منوج اروڈا پر لندن کی پراپرٹی کو لے کر مقدمہ درج کیا تھا ان کے مطابق لندن میں کم سے کم چھ فلیٹ ایسے ہیں جن کا تعلق واڈرا سے ہے لیکن یہ ان کے نام سے نہیں ہیں اس میں ایک فلیٹ کے سلسلے میں ای ڈی کا کہنا ہے کہ 19لاکھ پاونڈ یعنی 16کروڑ 80لاکھ روپئے میں یہ فلیٹ ہتھیار کاروباری سنجے بھنڈاری سے خریدا گیا تھا سنجے بھنڈاری نے اتنے میں ہی فلیٹ خریدا تھا اس پر مزید ساٹھ لاکھ اسی ہزار روپئے خرچ کئے تھے سوال ہے کہ فاضل خرچ کرنے کے باوجود سابقہ قیمت میں ہی مکان کیوں بیچا گیا ؟یہ معاملہ جتنا پیچیدہ ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جائے گا کہ ای ڈی بھگوڑے ہتھیار کاروباری بھنڈاری کے خلاف بلیک منی سے متعلق نئے قانون و ٹیکس قانون کے تحت جانچ کر رہا تھا ۔جس میں انکم ٹیکس محکمہ بھی شامل تھا ۔اس سے پہلے جودھپور ہائی کورٹ بھی واڈرا کے ای ڈی کے سامنے بیکا نیر زمین معاملے میں پیش ہونے کا حکم دے چکا ہے اس میں ان کو ضمانت نہیں ملی ہے اس طرح دیکھیں تو رابرٹ واڈا کو چاروں طرف سے پوری کوشش گھیرنے کی کی جا رہی ہے ۔محض الزام لگانے سے کوئی قصوروار نہیں ہو جاتا واڈرا اتنے بڑے سیاسی خاندان سے جڑے ہیں ان کے خلاف کسی طرح کی کاروائی اور وہ بھی عین عام چناﺅ سے پہلے سیاسی قرار دیا جا سکتا ہے ۔دوسری طرف اگر واڈرا کے خلاف پورے ثبوت ہیں تو ان کا بڑے سیاسی خاندان سے تعلق ہونے کے سبب وہ قانونی کارروائی سے بچ نہیں سکتے معاملہ اس لئے بھی حساس بن جاتا ہے کہ کانگریس و تمام اپوزیشن کا الزام ہے کہ سرکار ان جانچ ایجنسیوں کا بے جا استعمال کر رہی ہے ۔

(انل نریندر)

05 فروری 2019

سنگم ساحل پر دھرم سنسد میں دھرم سنکٹ

پریاگ راج (الہٰ آباد)سنگم ساحل پر کمبھ کے بہانے رام مندر کی تعمیر کے اشو کو ہوا دینے کی کوشش کے تحت منعقدہ وشو ہندو پریشد کی دھرم سنسد میں تب دھرم سنکٹ کھڑا ہو گیا جب دھرم سنسد کے دوسرے دن بدھ کے روز سنگھ پرمکھ موہن بھاگوت نے کہہ دیا کہ ایودھیا میں مندر تعمیر کو لے کر وقت فیصلہ کن موڑ پر ہے میں سمجھتا ہوں کہ چار چھ مہینے میں (چناﺅی وقت )کی اتھل پتھل میں کچھ ہوا تو ٹھیک ہے ورنہ اس کے بعد تو کچھ ضرور ہوگا ۔مندر ایک دو سال میں ہی بنے گا مندر کی تاریخ کے اعلان کی امید لگائے قریب دو درجن سنت موہن بھاگوت کی یہ باتیں سنتے ہی ناراض ہو گئے ۔مندر کی تعمیر کی تاریخ کے اعلان کی امید لے کر آئے لوگوں نے اس بیان کے بعد فورا اسٹیج کے سامنے مظاہرہ شروع کر دیا ۔سادھو سنتوںنے موہن بھاگوت سے کہا کہ مندر کی تعمیر کی تاریخ بتائیں یہاں سیاسی بیان دینا بند کیجئے ۔سادھو سنتوں میں کئی وجوہات سے ناراضگی ہے جو دھرم سنسد میں ظاہر کی گئی مودی سرکار کا پانچ سالہ عہد آخری مرحلے میں ہے سادھو سنتوں کو لگتا ہے کہ سرکار نے مندر تعمیر کی سمت میں کوئی کوشش نہیں کی وہ اس معاملے پر آڈی نینس تک نہیں لا سکی ۔سادھو سنتوں کو وشو ہندو پریشد آر ایس ایس اور اس کے ماتحت انجمنوں سے امید تھی وہ مندر تعمیر کے لئے تحریک چھیڑ کر سرکار پر دباﺅ بنائیں گے ۔لیکن سنگھ نے ایسا نہیں کیا سنتوں کو عدالت سے بھی مایوسی ہاتھ لگی انہیں امید تھی سپریم کورٹ اس معاملے میں ریگولر سماعت کر فیصلہ دے دیے گی لیکن کورٹ کی سماعت ٹلتی جا رہی ہے ایودھیا معاملے کی سماعت کے لئے گزرے سال سپریم کورٹ میں آئینی بنچ کی قیام کا اعلان ہوا تھا سماعت دس جنوری کو ہونی تھی لیکن بنچ کے جسٹس للت بنچ سے ہٹ گئے اور سماعت 29جنوری کو جو تھی وہ ایک جج کے نہ ہونے سے ٹل گئی اسی درمیان سادھوی پریوندا نے 2020میں مندر تعمیر کی بات کہہ دی اس پر ناراض لوگ بڑھک اُٹھے اور اسٹیج کے سامنے آکر لوگوںنے نعرے بازی شروع کر دی اور تاریخ اعلان کرنے کی مانگ اُٹھائی اس سے ناراض وی ایچ پی ورکر آگے آئے اور دھکا مکا کر کے نعرے بازی کرنے والوں کو باہر نکال دیا اور نوبت مار پیٹ تک آگئی میڈیا کی موجودگی کو دیکھ کر احتجاج کرنے والوں نے کہا کہ یہاں پر چناﺅ ی سبھا میں سرکار کی تعریف سننے نہیں آئے وہ مندر تعمیر کی تاریخ سننے آئے تھے اسٹیج پر اتنے ممبروں نے اس بارے میں کچھ نہ بول کر سبھی کو مایوس کر دیا ۔حالانکہ اسٹیج پر موجود سنتوںنے پچھلے پانچ برسوں میں مندر کی تعمیر کو لے کر کچھ کرنے نہیں دیا لیکن مودی سرکار کو کھری کھری سنائی لیکن ساتھ ہی یہ بھی دہرا دیا کہ رام مندر بھاجپا کے حکومت میں ہی سمسیہ ہے پریاگ کمبھ کے دوسرے شاہی اسنان مونی اماوسیہ کے ٹھیک پہلے اکھاڑہ پریشدنے امرجنسی میٹنگ کر رام جنم بھومی اشو پر آر پار کی لڑائی کا اعلان کر دیا میٹنگ میں طے ہو ا کہ مہا شیو راتری اسنان کے بعد اکھاڑے کے سبھی سادھو سنت ناگا سنیاسیوں کے ساتھ ایودھیا ہنومان گڑھی پہنچیں گے پہلے مندر پر عام رائے بنائی جائے گی اگر بات نہ بنی تو آر پار کی لڑائی کے لئے حکمت عملی طے کی جائے گی ۔کنر اکھاڑے کی مہا منڈلیشور لکشمی نارائن ترپاٹھی نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کنر اکھاڑہ کرئے گا سادھو سنتوں اور اکھاڑوں کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ ایودھیا میں شاندار شری رام مندر تعمیر شروع کرانے کے لئے اب بہت بے چین ہیں ۔آنے والے کچھ دنوں میں صورتحال دھماکہ خیز ہو سکتی ہے ۔

(انل نریندر)

ہٹلر بنام موسولینی

انگریزی اخبار بزنس اسٹنڈرڈ نے جمعرات کو نیشنل سیمپل سروے آفس(این ایس ایس او)کی ایک روپورٹ افشاں کے حوالے سے ایک سنسنی خیز خبر شائع کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ نوٹ بندی کے بعدسال2017-18میں دیش میں بے روزگاری شرح 6.1فیصد پہنچ گئی ہے جو 45سال میں سب سے زیادہ ہے اس سے پہلے 1972-73میں بے روزگاری شرح اتنی اونچی نہیں تھی ۔بے روزگاری کے اعداد شمار پر کانگریس صدر راہل گاندھی سمیت اپوزیشن نے مودی سرکار کو گھیرا ہے شام ہوتے ہوتے نیتی آیوگ نے بچاﺅ میں آکر اس کے چیرمین راجیو کمار نے ایک پریس کانفرنس میں رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فائنل ڈیٹا نہیں ہے بلکہ ڈرافٹ رپورٹ ہے سرکار نے نوکریوں پر کوئی ڈیٹا جاری نہیں کیا ہے ۔میڈیا رپورٹ پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کے آخر تک سہہ ماہی ڈیٹا اکٹھا کر کے سرکار نوکریوں پر اپنی رپورٹ جاری کرئے گی ۔بے روزگاری بڑھنے کے دعوے کو خارج کرتے ہوئے راجیو کمار نے کہا کہ بنا روزگار کے اوسط اضافی شرح 7فیصد کیسی ہو سکتی ہے ؟وہیں آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے کہا کہ دیش میں نئے روزگار کافی پیدا ہو رہے ہیں لیکن شاید ہم بڑھیا کوالٹی والے روزگار پیدا نہیں کر رہے ہیں ۔اخبار کا دعوی ہے کہ یہ رپورٹ این ایس ایس او کو پیریاڈک لیبر فورس سروے کی ہے ۔اس کے مطابق شہری علاقہ میں بے روزگاری کا مسئلہ کافی سنگین ہے بے روزگاری شرح شہروں میں 7.8فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 5.3فیصد رہی مالی سال 2011-12میں بے روزگاری شرح2.2فیصد تھی قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے سینٹر فار مانیٹرینگ اینڈین ایکونومی نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کے فورا بعد 2017کے ابتدائی نو مہینوں میں پندرہ لاکھ نوکریاں گئیں ۔این ایس ایس او کی یہ رپورٹ کافی اہم ترین ہے یہ جولائی 2017سے جون 2018کے درمیان جمع کئے گئے ڈیٹا پر مبنی ہے ۔یعنی یہ نوٹ بندی کے بعد پہلا سرکاری سروے ہے سرکار پر یہی رپورٹ دبانے کا الزام لگاتے ہوئے نیشنل ٹیلی کمیشن کے نگراں چیرمین سمیت دو ممبروں نے پچھلے ہفتے استعفہ دیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کو کمیشن کی منظوری ملنے کے بعد بھی سرکار یہ جاری نہیں کر رہی یہ رپورٹ دسمبر 2018میں جاری ہونی تھی ۔بے روزگاری کے اعداد شمار پر زبانی جنگ میں کانگریس اور بھاجپا نے جرمنی اور اٹلی کے تعنہ شاہوں کو بھی گھسیٹ لیا ۔وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے جرمن لفظ چھوا کا استعمال کیا یہ لفظ جرمن تعنہ شاہ ایڈالف ہٹلر کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔جواب میں بھاجپا نے راہل کو اٹلی کے تعنہ شاہ موسیلنی جیسا غیر دور اندیش بتا دیا ۔ادھر وزیر اعظم اقتصادی مشاورتی کاﺅنسل چیف دیو رائے نے کہا کہ روزگار پر نیا سروے ہونا چاہیے ۔کیونکہ اس پر این ایس ایس او کی رپورٹ صحیح ہے تو یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے روزگار بڑھنے کے بجائے گھٹتے جا رہے ہیں ۔پچھلے 45سال میں یہ سب سے اونچی سطح پر اگر ہے تو یہ دیش کے لئے نہایت تشویشناک اور خطرناک ہے اتنے نوجوان اگر بے روزگار ہوں گے تو ہم ٹائم بم پر بیٹھے ہیں اور کبھی بھی دھماکہ خیز حالات بن سکتے ہیں ۔

(انل نریندر)

03 فروری 2019

بلیو وھیل کے بعد پب جی بیٹل نیا سر درد

امتحان میں غور کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے موبائل فون پر انٹرنیٹ کے ذریعہ کھیلے جانے والے پب جی گیم بیٹل کا ذکر کیا تھا ۔گیم کی لت میں ڈوبے لڑکوں کی عمر آٹھ سے بائس سال کے درمیان زیادہ ہے ان لڑکوں کو فون کے ایپ پر پب جی بیٹل (کھیلنا)اتنا پسند ہے کہ یہ آفس ٹائم بھی اسی کھیل میں ضائع کر دیتے ہیں ۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بلیو وھیل کے بعد پب جی دوسرا سب سے زیادہ لت لگانے والے کھیل کی شکل میں سامنے آیا ہے جبکہ اور بھی کھیل تفریح کے لئے ہیں لیکن یہ کشیدگی بڑھانے کی سب سے بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے ۔صفدر جنگ اسپتال کے ایک سنئیر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بیلو وھیل کی طرح پب جی گیم بھی بچوں کو غصیل اور لڑاکو بنا رہا ہے گیم میں گولیاں چلانا ایک دوسرے کو قتل کرنا ،لوٹ مار اور جارحیت وغیرہ کو بڑھاوا دے رہا ہے ۔دہلی میں واقع ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال(آر ایم ایل)میں علاج کے لئے پہنچے بچوں کی کاﺅنسلنگ میں بھی اس کی تصدیق بھی ہو رہی ہے ۔بیلو وھیل گیم بچوں کو خودکشیاں کرنے کے لئے اکسا رہا تھا ۔جبکہ پب جی دوسروں کی جان لینے کے لئے ایک طرح سے معصوموں کی فوج تیار کر رہا ہے ۔صفدر جنگ اور آر ایم ایل اسپتال میں پب جی سمیت آن لائن گیم کی لت سے پریشان ہر دو ہفتے سے دو تین مریض یومیہ پہنچ رہے ہیں ۔ان میں پندرہ سال تک کے بچوں کی تعداد زیادہ ہے ۔اس گیم میں ایک آئی لینڈ پر ایک شخص کو اتار دیتے ہیں اور گروپ بنا کر اس شخص کو اپنے آپ کو بچا کر رکھنے کے لئے اوروں کو گولی مارنی ہوتی ہے ۔اسٹڈی کے مطابق اس گیم کے چلتے زیادہ تر بچے تشدد کی رویہ میں ڈھل جاتے ہیں یہی نہیں ان بچوں کا دماغ ہی نہیں بلکہ جسمانی توازن بھی بگڑ رہا ہے ۔اتنا ہی نہیں اس گیم کے شکار کچھ بڑے لوگ بھی ہیں جو اپنے کام کو چھوڑ کر لنچ ٹائم میں اس گیم کو کھیلتے ہیں اور تشدد کے رویہ کو اپنے اندر پیدا کرتے ہیں ۔بہرحال اس گیم ذریعہ سے نوجوانوں اور بڑوں میں ایسا نظریہ قائم ہو رہا ہے جس سے وہ اپنا بچاﺅ کرتے ہوئے اورں کو موت کے گھاٹ اتار دیں ۔یہ ضروری ہے کہ حکومت ہند اس گیم پر پابندی لگائے اور ہماری نوجوان پیڑھی کو اس نئی لت سے بچائے چونکہ وزیر اعظم نے اس گیم کا ذکر کیا ہے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس گیم پر پابندی لگانے کے لئے ضروری قدم جلد اُٹھائے جائیں گے۔

(انل نریندر)

مودی نے نوجوانوں سے پوچھا ہاﺅ ازیور جوش؟

26/11میں بے قصور لوگ مارے گئے اور سرکار سوتی رہی ۔اڑی آتنکی حملے نے ہمیں سونے نہیں دیا جو آگ ان جوانوں کے دل میں تھی وہی آگ اس پردھان منتری کے دل میں تھی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ سرجیکل اسٹرائک ہو سکا دراصل صدر اور وزیر اعظم جس سرجیکل اسٹرائک کا ذکر کر رہے ہیں اسی ایکشن پر بنی فلم اڑی دی سرجیکل اسٹرائک فلم پورے دیش میں تحلکا مچائے ہوئے ہے ۔ویکی کوشل کی حال میں ریلیز ہوئی فلم اڑی کو لوگوں کا بہت پیار مل رہا ہے ۔25کروڑ روپئے میں بنی اس فلم کی کہانی 2016میں ہندوستان کے ذریعہ پاکستان کے بارڈر پر کئے گئے سرجیکل اسٹرائک پر بنی ہے فلم میں اداکارہ یامی گوتم کیرتی کلہاڑی ،پریش راول ،راکیش بیدی،اور رنجیت کپور بھی اہم رول میں ہیں ۔فلم کی ہدایت آدتیہ دھار نے دی ہے ۔فلم نے محض دس دنوں میں 100کروڑ روپئے کما لئے ہیں ۔اڑی دی سرجیکل اسٹرائک پاکستانی دشمنوں کو منھ توڑ جواب دینے کے لیے بنائی گئی کامیاب سرجیکل اسٹرائک کی داستاں ہے ۔فلم کافی شاندار ہے جو نہ صرف فلم شائقین کے رونگٹے کھڑی کرتی ہے بلکہ فخر سے سینہ چوڑا کر دیتی ہے ۔یہ فلم بھارت کی جانب سے پاکستان پر کی گئی سرجیکل اسٹرائک کو بیاں کرتی ہے ۔اور خوبصورتی کے ساتھ ہندوستانی فوج کی بہادری کی کہانی بیاں کرتی ہے ۔18ستمبر2016کو اڑی حملے میں ہندوستانی فوج کے 19جوان شہید ہوئے تھے جس کے جواب میں ہندوستانی فوج میں پاکستان میں سرجیکل اسٹرائک کیا تھا فلم اسی رات کی کہانی کو پردے پر دکھاتی ہے ۔پریش راول دیش کی سیکورٹی صلاحکار اجیل ڈھابول کے رول میں نظر آئے فلم کے ڈائلاگ جوشیلے ہیں جیسے آج تک ہماری برداشت کو ہماری کمزوری سمجھا جاتا تھا مگر اب نہیں ...یہ نیا ہندوستان ہے ہندوستان گھر میں گھسے بھی اور مارے گا بھی ۔دیش بھگتی سے ڈائلاگ آج کی نوجواں پیڑھی کو جوش سے بھر دیں گے ۔ہندوستان میں آج تک کی تاریخ میں ہم نے کسی ملک پر پہلا وار نہیں کیا ہے ۔ 1947,1956,1971,1999یہی موقعہ ہے ان کے دل میں ڈر بٹھانے کا اس ڈائلاگ کے ساتھ شروع ہوتی ہے فلم پاکستان کے خلاف ایک جنگ کی کہانی شروع ہوتی ہے ایک مشن سے میجر ویہانت شیرگل یعنی وکی کوشل اور کیپٹن کرن کشیپ یعنی موہت رینا منی پور کے کیمپ پر آتنکیوں کے حملے کا جواب دیتے ہیں ۔ویہان شیرگل ایسے جوان ہیں جو جنگ کی پالیسی میں ماہر ہیں ویہان کی ماں (سروپ سمپت)کو الجیرس ہیں اس لئے وہ بارڈر سے دلی میں انفارمیشن سینٹر میں پوسٹنگ لیتا ہے تبھی اڑی میں ایک آتنکی حملہ ہوتا ہے ۔جس میں 19جوان شہید ہو جاتے ہیں یہ حملہ اقتدار اعلیٰ کو ہلا دیتا ہے ۔سیکورٹی مشیر اجیت ڈوبھال بنے پریش راول وزیر اعظم سے بات کرتے ہیں اور پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دینے کی بات کہتے ہیں پی ایم منظوری ملتی اور شروع ہوتی ہے خاتمے کی جنگ اگر آپ نے ابھی تک یہ فلم نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں یہ فلم مس کرنے والی نہیں ہے۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...