Translater

23 دسمبر 2022

دنیا کے کئی ملکوں کی کمان ہندوستانیوں کے پاس!

آئر لینڈ کی فائن گیل پارٹی کے نیتا ہندوستانی نژا لیو براڈکر کو آئر لینڈ کی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان میں ووٹنگ کے بعد ملک کا نیا وزیر اعظم چنا گیا ۔ آئر لینڈ اس میں اکیلا ہی نہیں ہے ہندوستانی نژاد صدر مملک برطانیہ کے رشی سونک وزیر اعظم بنے ہیں۔ یوروپ میں ہندوستانی نژاد لیڈروں میں اٹونیو کوسٹا کا نام خاص طور سے لیا جاتا ہے۔ وہ پرتگال کے وزیر اعظم ہیں اور اسٹوسس کے والد اورلیڈو کوسٹا ایک کوی تھے ۔انہوںنے سرمایہ کار ی مخالف تحریک میںحصہ لیا تھا اور پر تگالی زبان میں شہن آف اینگر نامی مشہور کتاب لکھی تھی۔دادا لوئی الفانسو ماریہ ڈی کوسٹا بھی گوا کے باشندے تھے حالاںکہ اٹونیوکوسٹا کی پیدائش مذمبق میں ہوئی ۔لیکن ان کے رشتہ دار آج بھی گو امیں رہتے ہیں ۔اپنی ہندوستانی پہچان پر کوسٹا نے ایک بار کہا تھا کہ گوری چمڑی کے رنگ سے مجھے کبھی بھی کچھ کہنے سے روکا میں اپنی چمڑی کے رنگ کے ساتھ مل جل کر رہتا ہوں ۔یہی نہیں کوسٹا بھارت کے اوسیائی کارڈ ہولڈروںمیں ہیں بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی نے سال2017میںانہیں انکا اوسیائی کارڈ دیا تھا ۔ ماریشش کے وزیر اعظم جگن ناتھ بھی ہندوستانی نژاد لیڈر ہیں جن کی جڑیں بھارت کے بہار سے جڑی ہوئی ہیں۔ اروند جگن ناتھ کے والد انیرودھ جگن ناتھ بھی ماریشش کے سیاست کے قد آور لیڈروں میں شمار کئے جاتے تھے وہ ماریشش کے صدر اور وزیر اعظم کے عہدو ں پر رہے تھے ۔ ایسے سنگاپور کے صدر ریما یعقوب کے آباو اجداد کی جڑیں بھی بھارت سے جڑتی ہیں ان کے والد ہندوستانی نژاد تھے اور والدہ ملیالی نژاد تھیں ۔سنگاپور میں ملے آبای تقریباً15فیصد ہے اورانڈونیشیا اور ملیشیا میں یہ لوگ پھیلے ہوئے ہیں ۔ان کے بعد بھی حلیمہ یعقوب نے سنگاپور کی پہلی صدر بن کر تاریخ رقم کی تھی ۔ لاطینی امریکہ دیش سورینام کے صدر چندریکا پرساد سنتوکھی بھی ایسے سیاست داں ہیں جن کے تار بھارت سے جڑے ہیں ہندوستانی سورینامی ہندو خاندان میں پیدا ہونے والے پرساد کو سنتوکو مان سنتوکھی کہا جاتا ہے ۔ ایسے ہی کیریبیائی ملک گویانا کے صدر عرفان علی کے آباو اجداد کا تعلق بھی بھارت سے ہے ان کی پیدائش 1980میں ایک ہندوستانی خاندان میں ہوئی تھی۔وہیں سورول کے صدر واویل رام کلاون بھی ہندوستانی نژاد لیڈر ہیں ان کے آبا و اجدا د میں بہار سے ہیں ان کے والد ایک لوہار تھے اور ان کی والدہ ایک ٹیچر تھیں ۔ہندوستانی نژاد کے بڑے لیڈروں میں امریکی نائب صدر کملا ہیرس بھی ہیں سال2021میں انہیں 25منٹ کے کیلئے امریکی صدر کے اختیارات دئے گئے تھے ۔ وہ امریکی تاریخ میں صدر کے اختیارات سنبھالنے والی پہلی خاتون بن گئیں تھیں ۔کملا ہیرس نے بتایا تھا کہ میرے نام کا مطلب ہے کمل کا پھول اورہندوستانی تہذیب میں اس کی کافی اہمیت ہے ۔اورکمل کاپودا پانی میںپیدا ہوتا ہے اور پھول پانی کے سطح کے اوپر کھلتا ہے اور جڑیں نزدیکی زمین سے مضبوطی سے جڑی ہوتی ہیں ۔ کملا بھارت میں پیدا ماں اور جمائیکا میں پیدا والد کی اولاد ہیں۔ (انل نریندر)

بڑھتی جھڑپیں بڑھتی تجارت !

بھار ت اور چین کی سرحدوں پر ایک بار پھر سے کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ اس مرتبہ کشید گی کے مرکز میں لداخ کی جگہ اروناچل پردیش کی سرحدیں ہیں ۔ اس کی وجہ کہ 9دسمبر کی صبح توانگ سیکٹر کے ینگسٹر س میں بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان تشدد آمیز جھڑپیں ہوئیں۔ اس جھڑپ میں کچھ ہندوستانی فوجیوں کو چوٹیں بھی آئیں۔ اس سے پہلے گلوان وادی میں خونی جھڑپ میں 20ہندوستانی جوانوںکی موت ہو گئی تھی ۔ اس بعد دونوں ملکوںمیں کشید گی انتہا ءپر پہنچ گئی تھی۔ گلوان سے پہلے دونوں دیش دوکلام میں قریب ڈھائی مہینے تک ایک دوسرے کے سامنے تنے کھڑے رہے ۔پچھلے سال چین اور بھارت کے درمیان ایک طرف جہاں تعطل بڑھا ہے وہیں دوسری طرف چین پر بھارت کے انحصار میں بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس درمیان چین سے سامان خریدنے میں بھارت نے قریب 60فیصد تجارت میں اضافہ کردیا ہے۔ آسان لفظوںمیں کہیں تو سال 2014میں بھارت اور چین سے سامان خریدنے پر 100روپے خرچ ہوتا تھا آج یہ بڑھ کر 160روپے ہوگئے ہیں۔ ڈپلومیسی میں کہتے ہیں جس ملک سے خطرہ محسوس ہو اس پر انحصار کم کرلینا چاہئے ۔ایسے ہی وعدے حالیہ دنوںمیں روس یوکرین جنگ کے بعد مغربی ملکوںنے بھی کئے ہیں۔ وہ روس پر اپنی انحصار کو کم کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ چین کے ساتھ سرحدوں پر ٹکراو¿ کے باوجود بھارت اپنا انحصار کم نہیں کر رہا ہے؟ وہ کون سے سامان ہیں جو بھار ت میں چین سے سب سے زیادہ خریدے جاتے ہیں؟ اس راستے پر اگر بھارت چلتا رہا تو اسے مستقبل میں کئی طرح کی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ بھارت نے سال2021-22میں دنیا بھر کے 216ملکوں اور علاقوںسے سامان خریدا ہے جس پر بھارت نے 61305کروڑ امریکی ڈالر خرچ کئے ہیں۔ بھارت کے تجارت و صنعت وزارت کے اعداد وشمار کے مطابق اس خرچ میں سب سے زیادہ فائدہ چین کو ملا۔بھار ت کے کچھ در آمدات نے چین کی حصہ داری 15.42فیصد رہی ٹاپ کے دس ملکوںمیں چین کے علاوہ متحدہ عرب امارات،امریکہ ،عراق ،سعودی عرب ،سوٹزر لین، ہانگ کانگ ،سنگاپور،انڈونیشیا اور کوریا شامل ہیں ۔بھارت چین تازہ تنازعہ کے درمیان کل درآمدات میں کس دیش کا کتنا فیصدی حصہ ہے ؟ چین پر بھارت کے انحصار کے پیچھے ماہر اقتصادیات صنعتی پالیسی نہ ہونے کو ایک بڑی وجہ مانتے ہیں۔ بی بی سی ہندی سے بات چیت میں ماہر اقتصادیات سنتوش نیرمان کہتے ہیںپچھلی سرکار نے 2011میںنئی مینوفیکچرنگ حکمت عملی بنائی تھی اسے وہ لاگو نہیں کرپائی ۔ 1992سے 2014تک بھارت کی جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا تناسب 17فیصد بنا رہا لیکن 2014کے بعد اس میں 203فیصد کمی درج کی گئی ۔ آسان لفظوں میںکہیں تو 100روپے میں سے 15روپے کا سامان بھارت اکیلے چین سے خرید تا ہے ۔ اس میں الیکٹریکل ،مکینیکل مشینری ،کل پرزے ساو¿نڈ ریکارڈ ،ٹیلی ویژن اور دوسری کئی چیزیں شامل ہیں۔ ٹاپ 10چیزوں کی بات کریں تو اس میں الیکٹرونک سامان کے بعد نیو کلیر ریئکٹرس ،بائلر آرگینک کیمیکل پلاسٹک کا سامان ،کھاد اور گاڑیوں سے جڑا سامان ،کیمیکل سامان آئرن اسٹیل کا سامان اور الومینیم شامل ہیں اگر تجارت کی بات کریں تو یہ سال 2014-15میں قریب 48ارب ڈالر کا تھا جو سال 2021-22میں بڑھ کر قریب 73ارب ڈالر کا ہو گیا ۔ ہمیں چین پر انحصاریت گھٹانی ہوگی اور جنتا کو چینی سامان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، بھلے ہی دیشی مہنگا سامان کیوں نہ خرید نا پڑے ۔ (انل نریند)

20 دسمبر 2022

20منٹ کی فلائٹ اور مشقت 5گھنٹے کی !

ایک طرف تو دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فلانا ہائیوے بنادیا گیا ہے اور آپ اس ہائیوے سے دو گھنٹے میں دہلی سے ڈیڑھ گھنٹے میں آگرہ ،دو گھنٹے میں دہرادون ،چار گھنٹے میں جے پور ،چنڈی گڑھ سے شملہ پہنچ سکتے ہیں ۔وہیں انہیں شہروں کیلئے محض 50منٹ کی فلائٹ کیلئے وزراءکو پانچ سے چھ گھنٹے لگ رہے ہیں۔ہوائی اڈوں پر کافی وقت تک انتظار کرنے کی بڑھتی شکایتوں کے درمیان ایئر لائنز کمپنیوں نے اب مسافروں کو کم سے کم ساڑھے تین گھنٹے پہلے پہنچنے اور جانچ پڑتال کرانے اور تیز رفتار سے کام کاج کے نپٹارے کیلئے صرف ایک ہینڈ بیگ ساتھ رکھنے کی صلاح دے ڈالی ۔ انڈیگونے گھریلو مسافروں سے کہا کہ ڈیپارچر سے ساڑھے تین گھنٹے پہلے دہلی ایئر پورٹ پہنچیں ،ہینڈ بیگ کا وزن سات کلو سے زیادہ نہ ہو۔ وستارا نے مسافروں سے تین گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے کی اپیل کی ۔اسپائس جیٹ نے بھی ایسے ہی شرط لگائی ہے اس نے ممبئی ایئر پورٹ سے فلائٹ پکڑنے والے گھریلو مسافروں کو ڈیپارچر سے ڈھائی گھنٹے پہلے اور انٹر نیشل فلائٹ لینے والوں کو ساڑھے تین گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے کیلئے کہا ۔ ادھر منگل روز بھی مسافروں کو دہلی ایئر پورٹ پر بد انتظامی کی شکایت جھیلنی پڑی وزارت ہوا بازی نے ایئر لائنز کو مین رن اور بیگج کاو¿نٹروں پر کافی تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایئر لائنز سے کہا گیا ہے کہ انتظار کرنے والے مسافروں کو وقت کے بارے میں سوشل میڈیا پر جانکاری دیں ۔اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر بڑھتی ہوائی ٹریفک کے درمیان مسافروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھیں جا رہی ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس مسئلے کے پیچھے ہوائی سفر کا کووڈ سے پہلے کی طرح بحال ہو جا نا ہے ۔جبکہ کووڈ سے پہلے تو مسافروں کی سفر بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ فضول کی بہانے بازی کی جار ہی ہے۔ مسئلہ کہیں اور ہے اور اس کا حل کرنے کے بجائے اول جلول بہانے کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں بے شک ایئر ٹریفک بڑھ رہا ہے ۔لیکن اب بھی نیو یارک لندن پیرس جیسے شہروں کا ہم مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ وہاں انتظام کتنے چست درست ہیں۔ ہم ایئر پورٹ تو بنا لیتے ہیں لیکن اس میں ضروری سہولیات کا خیال نہیں رکھتے کئی دنوں سے چلے آرہے مسئلے کو دیکھتے ہوئے آخر سرکار کچھ چوکس ہوئی ہے۔وزیر شہری ہوا بازی جیوتر آدتیہ سندھیا نے ہوائی اڈے پر انتظامات کا جائزہ لیا ہے اس کے بعد عام مسافروں کیلئے کچھ اور گیٹ کھولے گئے ہیں تاکہ جانچ کیلئے سی آئی ایس ایف فاضل جوانوں کی تعیناتی کی جار ہی ہے۔ اور سامان کی جانچ کیلئے چار مزید اکسرے مشینیں لگائی جا رہی ہےں ۔بھارت میں ٹورسٹ سیزن شروع ہو گیا ہے اور ایئر ٹریفک بڑھے گا ۔بہتر ہے کہ جنگی سطح پر کام ہو تاکہ مسافروں کا وقت ضرورت سے زیادہ برباد نہ ہو۔ (انل نریندر)

ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ شخصی آزادی کی مثال پر اگرقدم نہیں اٹھاتے تو ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ بڑی عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے جڑے معاملوں میںکاروائی نہیں کرتی تو یہ آئین کی دفعہ 136کے تحت ملے اختیارات کی خلاف ورزی ہوگی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کو خارج کرتے ہوئے سوال کیا کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟ اگر ہم اپنی ضمیر کی نہیں سنتے ہیں بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کیلئے کوئی بھی معاملہ چھوٹا نہیں ہوتا ۔اگر ہم شخصی آزادی سے جڑے معاملوں میں کاروائی نہیں کرتے اور راحت نہیں دیتے تو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟ سی جے آئی چندر چوڑ نے یہ رائے زنی بجلی چوری کے ایک ملزم کی ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران کی ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کیلئے کوئی معاملہ چھوٹا نہیں ہے ۔ چیف جسٹس کی اس رائے زنی کو وزیر قانون کیرن رجیجو کو جواز سمجھا جا رہا ہے ۔ کیوں کہ انہوںنے ایک دن پہلے ہی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو ضمانت جیسے معاملوں کی سماعت نہیں کرنی چاہئے بلکہ آئینی معاملوںکی سماعت تک محدود رہنا چاہئے۔معاملوں میں عرضی گزار کو بجلی چوری کے نو معاملوںمیں ہر میں دو دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔بنچ نے فیصلہ کیا کہ سزائیں الگ الگ چلیںگی اس سے اس کی کچھ سزا 18سال ہو گئی ۔عرضی گزار اس کے خلاف بڑی عدالت پہنچا تھا ۔ بنچ نے کہا کہ معاملے کے پہلو بڑی عدالت کو ہر شہری کو ملے ،زندگی شخصی آزادی کے بنیادی حقوق کے محافظ کی شکل میں اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کا ایک اور موقع ہے ۔ایک موقع ضرور ملنا چاہیے ۔ بنچ نے کہا کہ اگر کوئی ایسا نہیں کرے گا تو ایک شہری کی آزادی ختم ہو جائے گی۔شہریوں کی شکایتوں سے جڑی چھوٹے اور ریگولر معاملوں میں اس عدالت کے دخل سے جوڈیشری ماہرین اور آئینی مسئلوں سے متعلقہ پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں ۔سی جے آئی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نر سمہا کی بنچ نے معاملے کو چوکانے والا قرار دیا ۔بنچ نے پایا کہ اپیل گزار تین سال کی سزا کاٹ چکا ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے سزا ساتھ ساتھ چلنے کے اس کی درخواست کو نہیں مانا تب اس نے بڑی عدالت کا رخ کیا ۔ سپریم کورٹ نے اس کی فوراً رہائی کو حکم دیا ۔بنچ نے سماعت کے دوران مدراس ہائی کورٹ نے سابق جج جسٹس ایس متو کی مدد مانگی ۔وہ اتفاق سے ایک دوسرے معاملے کیلئے عدالت میں تھے ۔سینئر وکیل میتو نے اسے ایک غیر معمولی حالت بتایا اور انہوںنے ہائی کورٹ کے حکم کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ یہ بجلی چوری کیلئے ایک طرح سے عمر قید ہے ۔سی جے آئی نے کہا کہ اس لئے سپریم کورٹ کی ضرورت ہے۔بجلی چوری قتل کے برابر کا معاملہ نہیں ہے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...