Translater

20 جنوری 2018

پاکستان میں کوئی کیس حافظ صاحب کے خلاف نہیں

پاکستان آتنک اور آتنک وادیوں کے تئیں نہ صرف ہمدردی ہی رکھتا ہے بلکہ انہیں ہر طرح سے پناہ و سمرتھن بھی دیتا ہے۔ یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگئی ہے۔پاکستان کے پردھان منتری شاہد عباسی نے ایک ٹی وی چینل کو دئے انٹرویو میں کہا پاکستان میں کوئی کیس حافظ سعید صاحب کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف کیس رجسٹرڈ ہوگا تو کارروائی ہوگی۔نومبر 2017 میں بھی عباسی نے کہا تھا کہ بھارت نے حافظ سعید کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے جس کے بل پر قانونی کارروائی کی جا سکے۔ عباسی نے حافظ سعید کے بارے میں پوچھے جانے پر صاحب کہتے ہوئے بڑے ادب کے ساتھ ان کا نام لیا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب پاکستانی حکومت نے حافظ سعید صاحب کا اس طرح سے بچاؤ کیا ہے۔ حالانکہ بہت سیثبوتوں سے ظاہر ہے کہ ممبئی کے آتنکی حملہ اوربھارت میں ہوئی دہشت گردی کی کئی دوسری وارداتوں میں حافظ کا ہاتھ تھا مگر بھارت کی طرف سے پیش کئے گئے تمام ثبوتوں کو پاکستان خارج کرتا رہا ہے۔ بیشک وہ اپنی طرف سے دنیا بھر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کے پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے مگر وہ اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ امریکہ اور اقوام متحدہ نے نہ صرف حافظ سعید کو مطلوب عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں نام درج کررکھا ہے بلکہ ان کے اوپر امریکہ نے 6 کروڑ روپے سے زیادہ کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ دہشت گردی پاکستان سرکار کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے ۔ یہ بھی بعد میں ثابت ہوچکا ہے کہ پاکستانی حکمراں دہشت گرد تنظیموں فوج اور وہاں کی خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی کی طرح کام کرتی ہیں۔ پاکستانی حکومت چاہے جتنا بچاؤ کرے یہ حقیقت دنیا کے سامنے ہے کہ حافظ سعید پاکستان میں آتنکی تنظیموں کا سرغنہ ہے۔ خاص کر بھارت میں دہشت گردی پھیلانے میں اس کا اکثر ہاتھ رہتا ہے۔ جب امریکہ کا دباؤ پڑا تو پاکستان نے لشکر طیبہ پر پابندی ضرور لگا دی تھی لیکن جماعت الدعوی نام سے اس نے نئی تنظیم کھڑی کرلی تھی۔ یعنی تنظیم نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے صرف اپنا چولا بدل دیا۔ اپنی حکومت محفوظ رکھنے کے ارادے سے بیشک پاکستانی وزیر اعظم شاہد عباسی خاکان حافظ سعید کا بچاؤ کرلیں لیکن دیر سویر اس کا انہیں بھی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ بھارت، امریکہ و اقوام متحدہ سبھی کوبیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔
(انل نریندر)

چین بھارت کی چوطرفہ گھیرا بندی میں لگا ہے

ساؤتھ ایشیا میں طویل عرصے سے بھارت کی بالادستی قائم ہی ہے لیکن اب چین اسے کم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ وہ بھارت کے دوست چھوٹے ملکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ بھارت پڑوسیوں کے ساتھ رشتے مضبوط بنانے کی کتنی ہی کوشش کر لے لیکن چین اس میں روڑا اٹکاتا رہا ہے۔ سری لنکا، نیپال، مالدیپ ایسے ملک ہیں جن کے ساتھ بھارت کے ہمیشہ رشتے رہے ہیں۔ ان دیشوں کو چین اپنی طرف راغب کرنے کے لئے اقتصادی مدد کا سہارا لیتا ہے۔ ہمالیہ کی سیریز بھارت کو باقی ایشیا سے الگ کرتی ہے۔ اس برصغیر میں بھارت کی پوزیشن بڑے ہاتھی کے برابر ہے۔ پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے دشمنانہ رویہ بھول کر بھارت نے چھوٹے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے رشتے بنانے کی کوشش کی لیکن ان پڑوسیوں نے بھارت کی فراخدلی کا کبھی کبھی غلط مطلب نکالا ہے ، چین اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ اس نے بھارت کے اثر والے علاقوں میں اقتصادی مدد کی شکل میں اپنا اثر بڑھانا شروع کردیا ہے۔ پچھلے کچھ ہفتوں کو ہی دیکھ لیجئے۔ سر ی لنکا نے 9 دسمبر کو اپنی اہم بندرگاہ 99 برس کے پٹے پر اس کمپنیوں کو سونپ دی ہے جس کی مالک چین حکومت ہے۔ نیپال کی کمیونسٹ پارٹی کے اتحاد نے پارلیمانی چناؤ جیتا پھر اس نے چین سے قریبی اور بھارت سے دوری بنانے کی اپیل کی۔ مالدیپ کی پارلیمنٹ میں نومبر میں ایمرجنسی سیشن بلایا گیا۔ بغیراپوزیشن والے اس سیشن میں چین کے ساتھ اقوام متحدہ مستثنیٰ کاروبار سمجھوتے کا اعلان کیا۔ساؤتھ ایشیا میں ایسا کرنے والا وہ پاکستان کے بعد دوسرا دیش بن گیا ہے۔ چین تیزی سے بھارت کے ارد گرد پیر پھیلا رہا ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج بھی نیپال میں بھارت کا اثر ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نیپال سرکار نے چین کے ساتھ کئی معاہدے کررکھے ہیں۔ 
وہاں حال ہی کے چناؤ میں بجلی، سڑک اور دیش کے پہلے نیٹ ورک چینی سرمایہ لانے کے وعدے شامل ہیں۔ چین نے کچھ مہینے پہلے بھوٹان، چین، بھارت والے سہ ملکی پٹھار (ڈوکلام) میں فوج بھیج کر بھارت ۔ بھوٹان کے رشتوں کا امتحان لیا چینی فوج وہاں سڑک بنانا چاہتی تھی لیکن بھارت کے احتجاج کے سبب اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔ چین نے بھوٹان کو لالچ دیا کہ وہ سرحدی تنازعہ سلجھانا چاہتا ہے۔ بھارت نے اس کی چال ناکام کردی۔ کئی دہائیوں سے بھوٹان اور بھارت کے رشتے مضبوط و گہرے ہیں۔ اگرکسی ایک معاملہ کا موازنہ ہو تو بھارت چین سے کم نہیں ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسیوں میں رشتوں و لیکر کچھ خامیاں ضرور ہیں لیکن وہ اس میں بہتری لا رہا ہے۔ خاص طور پر نارتھ زون کے پڑوسی ملکوں کو لیکر حالات بدل رہے ہیں، ہندوستانی ہاتھی آہستہ آہستہ صحیح راستے پر جارہا ہے۔ چین کی فروغ وادی پالیسی کا معقول جواب دے رہا ہے۔
(انل نریندر)

19 جنوری 2018

طاقتور ہی امن لا سکتا ہے

بھارت کے دورہ پر تشریف لائے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے پیر کو کہا دہشت گردی سے بھارت اور اسرائیل دونوں ہی متاثر ہیں۔ نتن یاہو نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ بھارت۔ اسرائیل دونوں ہی آتنکی حملہ کے درد کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہمیں آج بھی 26 نومبر2008 کو ممبئی پر ہوئے خوفناک حملہ کا منظر یاد ہے لیکن دہشت گردی کے آگے ہم جھکیں گے نہیں بلکہ اس کا مل کر منہ توڑ جواب دیں گے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے آتنکی اور ان کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ دہشت گرد اسپانسر کرنے والے اور انہیں مدد دینے والوں اور پناہ دینے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی پر زور دیا ہے۔ آتنکی سرگرمیوں کو کسی بھی بنیاد پر جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ بتادیں کہ 2016 میں اسرائیل میں 122 آتنکی حملہ ہوئے ان حملوں میں 90 لوگوں کی موت ہوئی اور 38 لوگ زخمی ہوئے۔ فلسطین کے کٹر پسند تنظیم حماس کے جنگ باز اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ راکٹ حملہ، چاقو بازی، گولی باری اور بم دھماکوں سے حملہ ہوتے ہیں۔ غزہ پٹی اور ویسٹ بینک کے سرحدی علاقہ اور یروشلم میں سب سے زیادہ حملے ہوتے ہیں۔ بھارت میں پچھلے سال جموں و کشمیر میں آتنکی حملوں میں 75 جوانوں کی شہادت ہوئی۔ 40 شہریوں کی جان گئی۔ 321 لوگ ان آتنکی حملوں میں زخمی ہوئے۔ کروڑوں کی جائیداد کا نقصان ہوا۔ ان آتنکی حملوں میں بھارت اور اسرائیل کے رسپانس میں فرق ہے۔ دنیا کی سب سے طاقتور خفیہ ایجنسی موساد آتنکیوں پر نظر رکھتی ہے۔ دشمنوں کو حملہ کرنے سے پہلے موساد کی اطلاع پر ہی فوجی ان کا صفایا کردیتے ہیں۔ اسرائیلی شہری جہازوں میں کمانڈو تعینات کرنے والے شروعاتی ملکوں میں سے ایک اسرائیل ہے۔ سرحد پر لیجر دیوار کھڑی کی۔ میزائل کا توڑ سسٹم قائم کیا۔ یروشلم تنازعہ کو پیچھے چھوڑ بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کے خلاف سانجھہ مکینیزم بنانے پر متفق ہوئے ہیں۔ یہ رضامندی دونوں ملکوں کے قومی سکیورٹی ایڈوائزر کے بیچ میریکن میٹنگ کے بعد ہوئی بات چیت بنیادی طور پر سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مشترکہ مکینیزم تیار کرنے پر رضامندی ہوئی ہے۔ اسرائیل دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مشہور ہے۔ اگر وہ بھارت کے ساتھ اس پیچیدہ مسئلہ پر ساتھ آئے تو یقینی طور سے بھارت کی سکیورٹی میں کافی بہتری آئے گی۔
(انل نریندر)

مودی سرکار کا بڑا فیصلہ : حج سبسڈی ختم

مرکزی سرکار نے منگلوار کو ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو حج یاترا کے لئے دی جانے والی سبسڈی ختم کردی ہے۔ مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سال سے حج پر کوئی سبسڈی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا حج پر سبسڈی کا انتظام ختم ہونے کے باوجود 2018 میں 1.75 لاکھ ہندوستانی مسلمان حج پر جائیں گے۔ سرکار ہر سال700 کروڑ روپے حج یاترا کی سبسڈی پر خرچ کرتی ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ عازمین حج کی سبسڈی ہٹائی گئی ہے۔ حج پر دی جانے والی سبسڈی ختم ہونی ہی تھی کیونکہ سپریم کورٹ نے سال2012 میں بھی 10 برسوں میں مرحلہ وار اس کو ختم کرنے کے احکامات دئے تھے۔ بتادیں کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ سبسڈی اقلیتی برادری کو لالچ دینے جیسا ہے اور سرکار کو اس پالیسی کو ختم کردینا چاہئے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سرکار آہستہ آہستہ اس سبسڈی کو ختم کرے۔ سپریم کورٹ نے مرکز کو 10 سال کا وقت دیا تھا یعنی 2022 تک سبسڈی پوری طرح ختم کی جانی تھی اس حکم کی سب سے بڑی بنیاد اسلامی روایت بنی تھی کہ حج تو اپنے پیسوں سے ہی کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ایک سیکولر دیش میں حج کے لئے سبسڈی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اگر مرکزی سرکار نے طے میعاد سے چار سال پہلے ہی حج سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کا مطلب ہے کہ مسلم سماج کے تعلیمی بھلائی کے لئے جو پیسہ 2022 سے خرچ ہونا تھا وہ اسی سال سے خرچ ہونے لگے گا۔ حکومت کا کہنا ہے یہ فیصلہ اقلیتوں کی خوش آمدی کئے بغیر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے عام طور پر مسلمان خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے سبسڈی نہیں روزگار چاہئے، لیکن جو پیسہ بچا کر مسلمان لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کی بات کی جارہی ہے وہ نہ کی جائے بلکہ دیش کی سبھی لڑکیوں کی بات کی جائے نہیں تو یہ خوش آمدی ہی ہوگی۔ انہوں نے کہا یہ فیصلہ بہت دیر سے ہوا۔ حج کرنے غریب انسان نہیں جاتا اور نہ حج ان پر واجب ہے بلکہ حج کرنا اسی مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس خرچ کے علاوہ اتنا پیسہ ہے کہ وہ سفر کرسکے۔ یہ پیسہ دیش کی غریب جنتا کے مفاد میں خرچ ہو تو اچھا ہے۔ ایک مسلمان کا کہنا تھا کہ سبسڈی مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ سچ تو یہ تھا کہ ایئرانڈیا کو دلدل سے نکلنے کے لئے سبسڈی دی جاتی تھی۔ اب مسلمان اچھی اور زیادہ سہولت والی فلائٹ سے سفر کرسکیں گے۔ دہلی ویلفیئر ایسوسی ایشن سے وابستہ جامع مسجد کے باشندے کہتے ہیں کہ جو مسلمان حج کرنے جاتا تھا وہ اب بھی جائے گا۔ اس سے مسلمانوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ جہاں ڈیڑھ لاکھ روپے مسلمان یاترا پر خرچ کرسکتا ہے وہاں 10 ہزار روپے اور بھی کرسکتا ہے۔ فتحپوری مسجد کے امام مفتی محمد مکرم احمد کہتے ہیں کہ کھٹارہ جہازوں میں سفر کرکے نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ سبسڈی کے اس پیسے کو بچا کر مسلم لڑکیوں پر خرچ کرنے کی بات کہی جارہی ہے وہ نہ کی جائے بلکہ دیش کی سبھی لڑکیوں پر خرچ ہو۔ حج کے لئے سبسڈی کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ عازمین حج کو ایسی کوئی سہولت اسلامی ملکوں میں نہیں دی جاتی لیکن بھارت میں خوش آمدی کی سیاست کے تحت ایسا کئے جانے لگا۔ بلا شبہ حج سبسڈی ختم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ حج مسافروں کو سہولت دینے کے علاوہ انہیں سستے سفرکے متبادل کرانے سے منہ موڑا جائے۔ اب پانی کے جہاز سے حج یاترا کی بات ہورہی ہے۔ اسے یقینی بنانے کی کوشش ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)

18 جنوری 2018

فوجی کارروائی کیساتھ سیاسی پہل بھی ضروری

سرحد پر ہندوستانی فوج کی کارروائی میں 4 پاکستانی فوجیوں کے مارے جانے کے درمیان فوج کے چیف جنرل بپن راوت نے پاکستان کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر وہ باز نہیں آتا تو بھارت ایک بار پھر مجبوری میں دوسرا متبادل اپنانے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ جنرل راوت نے 70 ویں آرمی ڈے کے موقعہ پر شاندار پریڈ کی سلامی لینے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی فوج دراندازوں کی مدد کرتی رہے ہی۔ اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو اور مضبوط کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا فوج کے اکساوے کی کسی حرکت کا منہ توڑ جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ جموں و کشمیر میں قیام امن کے لئے فوجی آپریشن کے ساتھ سیاسی پہل بھی جاری رہنی چاہئے۔ ان کے کہنے کا مقصد یہی ہے کہ سرکار بات چیت کے ذریعے پاکستان کی حکومت کو دہشت گردی پھیلانے اور دراندازی سمیت تمام مسئلوں پر غور کرنے کو کہے۔ لیکن فوج کا دہشت گردوں کے خلاف سختی کا رخ برقرار رہے گا۔ جنرل راوت دہشت گردوں کے خلاف اپنے سخت رویئے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ حالانکہ فوج کے چیف نے اس کے علاوہ دو اور اہم باتیں کیں۔ پہلی یہ کہ جموں و کشمیر میں کام کررہی مسلح فورس تماشائی نہیں رہ سکتی، انہیں ہمیشہ چوکس رہنا ہوگا اور اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی ہوگی اور دوسری اہم بات انہوں نے یہ کہی کہ اگر صحیح طریقے سے فوجی اور سیاسی غور و خوض ہوگا تو ریاست میں مستقل طور پر امن کا پرچم لہرائے گا۔ جموں و کشمیر میں جنرل راوت کی پہل پر آپریشن آل آؤٹ چل رہا ہے۔ اس دوران 210 آتنکی مارے جاچکے ہیں۔
یہ اعدادو شمار تین سال میں سب سے زیادہ ہیں۔ حالانکہ سال بھر کے دوران آتنکی تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔10 دسمبر تک جہاں 2016 میں 302 آتنکی وارداتیں ہوئیں وہیں 2017 میں یہ بڑھ کر 335 ہوگئیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے آتنکی پاکستانی فوج کے تعاون سے سرحد پر تعینات جوانوں کو نشانہ بنا نے اور دراندازی میں مشغول ہیں۔ سرحد پر فوجی چوکسی بڑھانے کے باوجود پاک فوج جس طرح آئے دن جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتی ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ابھی اسے ضروری سبق سکھایا جانا باقی ہے۔ پاکستان کی طرف سے 2017 میں 820 جنگ بندیوں کی خلاف ورزی کے واقعات ہوئے ہیں اور یہ سب کچھ تب ہے جب فوج کی سختی ہے۔ اس ناطے فوج کے چیف نے ایک طرح سے سرکار کو بات چیت سے مسئلے کو سلجھانے کی کارروائی جاری رکھنے کا اشارہ بھی دے دیا ہے اور پاکستان کو کہا ہے کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔
(انل نریندر)

ضمنی چناؤ میں وسندھرا راجے کی ساکھ داؤں پر لگی

سال2019 میں ہونے والے عام چناؤ اور اگلے سال مجوزہ راجستھان اسمبلی چناؤ کے سنگرام سے پہلے پردیش کی دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی سیٹ کے لئے 29 جنوری کو ہونے والے ضمنی چناؤ میں حکمراں بھاجپا اور بڑی اپوزیشن کانگریس کی اگنی پریکشا ہوگی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس تینوں ضمنی چناؤ جیتنے کا دعوی کررہی ہیں لیکن دعوؤں کی اصلیت 1 فروری کو چناؤ نتیجے بتائیں گے۔ یوں تو تینوں چناوی حلقوں میں چناؤ کمپین کا گھمسان شروع ہوچکا ہے لیکن 16 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی کی باڑھ میڑ میں پنچ پدرا ریفائنری پروجیکٹ کے کام کوشروع کرنے کے بعد اس میں تیزی آئے گی۔ وزیر اعلی وسندھرا راجے نے تینوں سیٹوں پر بھاجپا کا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے چناؤ کے باقاعدہ اعلان سے پہلے تینوں حلقوں میں دھنواں دھار دورہ کر ورکروں میں جوش بھرنے کی کوشش کی ہے۔ ادھر کانگریس نے پھول پور کے ضمنی چناؤ میں ملی کراری ہار سے سبق لیتے ہوئے امیدواروں کے اعلان الور پارلیمانی سیٹ سے سابق ایم پی ڈاکٹر پریم سنگھ یادو کو چناؤ میں اتار کر بڑھت ضرور بنالی تھی لیکن بعد میں دونوں حلقہ اجمیر، ماؤلگڑھ میں وہ بھاجپا سے پچھڑ گئی۔ بھاجپا کے پردیش صدر اشوک پٹنامی نے تینوں ضمنی چناؤ میں تاریخی جیت کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے ذریعے ترقی کے سبب بھاجپا بھاری اکثریت سے جیتے گی۔ ساتھ ہی اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا پھر سے سرکار بنائے گی۔ دوسری طرف کانگریس کے پردیش صدر ستن پائلٹ نے پٹنامی کے دعوؤں کوکھوکھلا بتاتے ہوئے پردیش کی جنتا سے اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناؤ اور بھاجپا سرکار کی بدائی کرے گی۔ اس کی الٹی گنتی ضمنی چناؤ سے شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اتحاد سے چناؤ میں جٹ گئی ہے اور تینوں ضمنی چناؤ جیتے گی۔ کانگریس ذرائع نے کہا کہ چناؤ کمپین شروع ہوچکی ہے، سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت اور پردیش پردھان سچن پائلٹ اور دیگر نیتا چناؤ کمپین میں جٹے ہوئے ہیں۔ بھاجپا کیندر اور ریاستی حکومت کی ترقیاتی اسکیموں، فلیگ شپ اسکیموں کے زور پر تینوں سیٹیں جیتے گی جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ پردیش کے بگڑے قانون و نظام و بے روزگاری اور کسانوں کو نظر انداز کی مخالفت میں تینوں حلقوں میں ووٹر بھاجپا کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔ یہ ضمنی چناؤ مکھیہ منتری وسندھرا راجے کے لئے ایک طرح سے ساکھ کا سوال بن گیا ہے کیونکہ اگلے سال اسمبلی چناؤ نتیجہ اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

17 جنوری 2018

نتن یاہو کے دورہ بھارت کی اہمیت

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو ا چھ روزہ بھارت دورہ کئی معنوں میں اہم ہے۔ پچھلے سال جولائی میں وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل گئے تھے۔ نریندر مودی کے اسرائیل جانے سے ہی یقینی ہوگیا تھا کہ آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے رشتے اور مضبوط ہوں گے۔ نتن یاہو کے استقبال کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی ہوائی اڈے پر خود پہنچے اور پروٹوکول توڑتے ہوئے انہیں گلے لگا کر گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔ 15 سال بعد کسی اسرائیلی وزیر اعظم کا بھارت دورہ ہے۔بھارت روانہ ہونے سے پہلے نتن یاہو نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ اپنے دوست نریندر مودی سے ملنے جارہے ہیں اور یہ دورہ اسرائیل کے لئے وردان ثابت ہونے والا ہے۔ وزیر اعظم نے بھی انہیں دوست کہہ کر مخاطب کیا۔ پچھلے مہینے ہی یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی اعلان کرنے کے امریکی صدر کی تجویز کی بھارت نے اقوام متحدہ میں مخالفت کی تھی لیکن نتن یاہو کے استقبال کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کا پروٹوکول توڑ کر ہوائی اڈے پہنچنا اور دونوں کا گلے ملنا ،بتاتا ہے کہ نئی دہلی کا یہ فیصلہ بھارت ۔ اسرائیل کے درمیان رشتوں کی پھانس نہیں بنا ہے۔ اس کے برعکس نتن یاہو کے پہلے دن تین مورتی چوک میں اسرائیلی شہر ہائیفا کا نام جوڑ کر مودی نے بھارت۔ اسرائیل کے پرانے رشتوں کو جائز بنانے کا قدم اٹھایا ہے۔ دراصل پہلی جنگ عظیم کے دوران ہندوستانی فوجیوں نے اسرائیل کے ہائیفا شہر کو آزاد کرانے میں بڑا اہم کردار نبھایاتھا۔ اسرائیل کی آزادی کا راستہ ہائیفا کی اس لڑائی سے ہی کھلا تھا۔ 
غور طلب ہے کہ ہائیفا کی اس لڑائی کا بھی یہ 100 واں برس ہے۔ نتن یاہو کے ساتھ 130 افراد کا کاروباری نمائندہ وفد بھارت آیا ہے جس میں ڈیفنس ،انفارمیشن ٹیکنالوجی، بجلی، سیاحت وغیرہ سیکٹر سے وابستہ لوگ شامل ہیں۔ پچھلی جولائی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور وہ بھی بھارت کے کسی وزیر اعظم کا پہلا دورہ تھا۔ حالانکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان کاروباری رشتے پرانے ہیں۔ بھارت ہر سال قریب 1 ارب روپے کا ڈیفنس سازو سامان خریدتا ہے لیکن پچھلے دنوں جب بھارت نے اسرائیلی کمپنی رافیل کے ساتھ ڈیفنس سودے کو منسوخ کردیا تھا تو دونوں کے رشتوں میں کچھ تعطل کی قیاس آرائیاں کی جانے لگی تھیں۔ وہ سودا 50 ارب ڈالر کا تھا۔ اس طرح رافیل کی مدد سے بھارت میں اسٹرائک نام سے تیار ہونے والی اینٹی ٹینک گائڈڈ میزائل پروجیکٹ پر بھی روک لگ گئی تھی۔ نتن یاہو کے اس دورہ میں اس تعطل کو دور کرنے کی کوشش ہوں گی۔ نتن یاہواپنے ملک کے تئیں زیادہ تر ملکوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے لہٰذا اس کی حمایت کی عالمی اہمیت ہے۔ بھارت سے اسرائیل کی دوستی اور اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نکھار سکتی ہے۔ دوسری طرف ڈیفنس سائنس اورٹیکنالوجی و دہشت گردی کے محاذ پر بھارت کو بھی اسرائیل کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ باہمی انحصار دونوں دیشوں کو قریب لا رہا ہے۔ مسٹر بنجامن نتن یاہو کا بھارت میں خیر مقدم ہے اور ہم امیدکرتے ہیں کہ دونوں دیشوں کے آپسی رشتے اور مضبوط ہوں گے۔
(انل نریندر)

84 کے دنگوں کا بدنماداغ

1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہوئے سکھ دنگوں میں اپنا سب کچھ کھو چکے خاندانوں کے لئے سپریم کورٹ نے بھاری راحت دی ہے۔عدالت نے ان 186 معاملوں جنہیں بغیر کسی وجہ بند کردیا گیا تھا، اس کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنانے کے احکامات دئے ہیں۔ یہ کتنا تکلیف دہ ہے کہ ان دنگوں کے متاثرین کو 34 سال بعد بھی انصاف نہیں مل سکا۔ حالانکہ اس قتل عام کے لئے اب تک 10 کمیشن اور کمیٹیاں بن چکی ہیں لیکن خون خرابہ کرنے والے ابھی بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ متاثرین کو اگر انصاف کی ذرا سی امید ہے تو وہ عدلیہ سے ہی ہے۔ ان دنگوں میں تین ہزارسے زائد لوگ مارے گئے تھے۔ اکیلے دہلی میں ڈھائی ہزار سے زیادہ لوگوں کو مارا گیا تھا تب سے سکھوں کی حمایت پانے کے لئے وقتاً فوقتاً جانچ اور معاوضے کے اعلان ہوتے رہے ہیں۔ لیکن انصاف کا تقاضہ کبھی پورا نہیں ہوسکا۔ دراصل دنگوں کی جانچ جن محکموں کو کرنی تھی سب سے بڑا سوال تو اس کے رول پر ہی اٹھتا ہے۔ پولیس نے نہ صرف شکایتوں کو نظر انداز کیا بلکہ کئی معاملوں میں سکھوں پر ہوئے حملوں میں بھیڑ کا ساتھ تک دیا۔ یہی اس کانڈ کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔ سپریم ورٹ کے ایس آئی ٹی بنانے کے فیصلے سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملنے کی امید جہاں ایک بار پھر جاگی ہے وہیں سابق ایس آئی ٹی کے سست اور لچر رویئے سے اندیشہ بڑھ جاتا ہے کیافساد متاثرین کو انصاف ملے گا جس کی آس میں یہ لوگ ابھی بھی انصاف پر بھروسہ بنائے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے 1984 کے 186 معاملوں کی نئے سرے سے جانچ کے لئے دہلی ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شیو نارائن ڈھینگرا کی قیادت میں تین نفری ایس آئی ٹی بنائی ہے۔ آئی پی ایس افسر ابھیشیک دلار اور ریٹائرڈ آئی جی راجیو سنگھ بھی اس میں ہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے دو مہینے میں اسٹیٹس رپورٹ دینے کو کہا ہے۔ بتادیں جسٹس ڈھینگرا وہی ہیں جنہوں نے ملزم افضل گورو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ 1990ء میں ترلوک پوری میں 150 قتلوں کے قصوروار کشوری لال کو بھی موت کی سزا سنائی تھی۔ یہ سچ ہے کہ جن کا سب کچھ برباد ہوچکا ہو ،لٹ چکا ہو اسے اسی شکل میں واپس نہیں کیا جاسکتا۔ انصاف ملنے سے ان کا درد کافی حد تک کم ہوگا۔
(انل نریندر)

16 جنوری 2018

ایف ڈی آئی کو لیکر حکومت کا بڑا فیصلہ

عام بجٹ سے ٹھیک پہلے مودی سرکار نے ایف ڈی آئی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایئرانڈیا نے غیر ملکی پروازوں کو 49 فیصدی سرمایہ کاری اور سنگل برانڈ ریٹیل اور پروڈکشن سیکٹر میں آٹومیٹک روٹ سے 100 فیصدی سرمایہ لگانے کی اجازت دے دی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں بدھوار کو کیبنٹ کی میٹنگ میں یہ فیصلے لئے گئے جو کافی اہم ترین ہیں۔ اس لئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سرکار نے جس طرح سے نئی غیرملکی سرمایہ کاری پالیسی بنادی ہے ان فیصلوں پر ایک رائے بننا مشکل ہے۔ فسیکل برانڈ ریٹیل کاروبار اور پروڈکشن سیکٹرمیں آٹومیٹک راستے سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو اجازت دینے کا مطلب ہے کہ ان سیکٹر کو غیر ملکی کمپنیوں کے لئے پوری طرح کھول دیا جانا۔ ایئرانڈیا نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو لیکر دو مطلب نکالے جارہے ہیں ایک تو یہ کہ سرکار نے اب یہ پوری طرح سے تسلیم کرلیا ہے کہ مسلسل خسارہ میں چل رہی ایئرلائنس میں اور زیادہ پبلک سرمایہ جھونکنا بے سود ہے ، دوسرا یہ کہ غیر ملکی سرمایہ کے باوجود اس کا کنٹرول غیر ملکی ہاتھوں میں نہیں پہنچے گا۔ امید کی جانی چاہئے کہ اسکے بعد ایئرانڈیا پیشہ ور مینجمنٹ کی ہاتھوں میں پہنچ جائے گی اور بازار کی طرح دوسری ایئرلائنس سے بھی مقابلہ کرسکے گی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سرکاری پیسے کی بربادی کے دور سے باہر نکل آئے گی۔ ابھی تک حکومت میں جو پرائیویٹ ایئرلائنس کام کررہی ہیں ان میں 49 فیصدی غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت ہے ۔ مگر ایئرانڈیاکو اس سے الگ رکھا گیا تھا۔ اب اس پر بھی یہی قاعدہ لاگو ہوگا۔ اس اشو کو لیکر دیش میں لمبے عرصے سے بحث چل رہی تھی۔ خود بھاجپا نے پچھلی سرکار کے دوران خوردہ سیکٹر میں صد فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کے خلاف جو موقف اپنایا تھا آج بھی سنگھ پریوار کی تنظیم’سودیشی جاگرن منچ‘ اور ’بھارتیہ مزدور سنگھ‘ اس کے خلاف ہیں۔ لیفٹ پارٹیوں نے بھی اس کی مخالفت کی ہے اور کئی کاروباری انجمنوں نے بھی ۔ایسا نہیں کہ تشویش واجب نہیں ہے۔ خوردہ کاروبار میں ہمارے یہاں کئی کروڑ لوگ لگے ہیں۔ ڈر ہے کہ غیرم لکی دوکانداروں کے آنے سے کہیں ان کا روزگار ختم نہ ہوجائے؟ حالانکہ اس کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ اس سے روزگار گھٹے گا نہیں بڑھے گا۔ کم سے کم ابھی ملٹی برانڈ خوردہ کاروبار میں یہ اجازت نہیں ملی ہے، جو ملی ہے اس میں بھی شرط یہ ہے کہ انہیں بھارت میں اپنی پہلی دوکان کھولنے کے دن سے اگلے پانچ سال تک اپنے کاروبار کے لئے کچے مال کا 30 فیصد حصہ بھارت سے ہی خریدنا ہوگا۔ قیمت کنٹرول کرنے کے لئے غیرملکی اجناس سے بازار کوبڑھانا کوئی آخری قدم نہیں مانا جاتا۔ متوازن ترقی شرح کے لئے دیسی کاروبار کو بڑھاوا دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ پہلے ہی ہمارے یہاں چھوٹے اور منجھولے کاروباری مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیوں کے لئے بلا تنازعہ راستہ کھول دینے سے ان کی مشکلیں اور بھی بڑھیں گی۔ ایسے میں غیر ملکی کے ساتھ ساتھ ملکی کمپنیوں کے لئے بھی جگہ بنانے کے لئے باقاعدہ قدم تلاشنے کی امید فطری ہے۔بے روزگاری کا مسئلہ بڑے پیمانے پرتبھی دور ہوسکے گا جب غیر ملکی سرمایہ کاری کے بعد سودیشی صنعت بھی اس کے مقابلے کے لئے ڈٹ کر کھڑی ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

جب پاکستان ایک جنازہ کے بوجھ میں دبا

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی ایک نربھیا کانڈ ہوگیا ہے۔ 7 سالہ بچی زینب کے ساتھ بدفعلی اور اس کے قتل سے پورے پاکستان میں آگ لگ گئی ہے۔ جگہ جگہ تشدد اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے علاقہ قصور میں پچھلی جمعرات کو سات سال کی بچی اپنے گھر کے پاس ہی ٹیوشن پڑھنے گئی تھی اسی دوران اسے اغوا کرلیاگیا اور اس کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔بعد میں بچی کی لاش منگل کے روز کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔ اس کے بعد شہر میں تشدد مظاہرے ہوئے۔ معصوم کو انصاف اور قصورواروں کو سزا دلانے کے لئے لوگوں نے سوشل میڈیا سے لیکر سڑک تک مہم شروع کی ہے۔ بچی کے ساتھ بدفعلی اور قتل کے خلاف ایک ٹی وی نیوز اینکر نے انوٹھے طریقے سے ناراضگی جتائی۔ جگہ جگہ خونی تشدد ،احتجاجی مظاہروں کے درمیان ’سماں‘ نیوز چینل کی اینکر کرن ناز نے لائیو شو میں اپنی چھوٹی بچی کو گودمیں بٹھا کر خبریں پڑھیں۔ وہ بتانا چاہتی تھیں کوئی بھی اکیلی بچی اس دیش میں محفوظ نہیں ہے۔ ان کا یہ ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہو گیا اور لوگ ان کے اس قدم کی تعریف کررہے ہیں۔ معصوم کے قتل سے دکھی ناز نے نیوز بلیٹن کی شروعات کرتے ہوئے کہا آج میں ٹی وی ہوسٹ کرن ناز نہیں بلکہ ایک ماں کی حیثیت سے اپنی بچی کے ساتھ آپ سب کے سامنے بیٹھی ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ جنازہ جتنا چھوٹا ہوتا ہے وہ اتنا ہی بھاری ہوتا ہے۔ آج ایک ایسا ہی جنازہ قصور کی سڑکوں پر پڑا ہو ا ہے اور پورا پاکستان اس کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ ماں باپ عرب میں بیٹھ کر بیٹی کے لئے دعا کررہے تھے ادھر قصور میں درندہ اس بچی کی زندگی کی ڈور کاٹ رہا تھا۔ اس بچی سے بدفعلی کے بعد قتل کا معاملہ جمعرات کو پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں بھی اٹھا اور پاک اخبار ’ دی نیشن‘ کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے واقعات کو روکنے میں ناکام رہنے پر پاک پنجاب کے گورنر کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ادھر لاہور ہائی کورٹ میں پاکستانی پنجاب صوبہ کے پولیس چیف کو حکم دے دیا ہے کہ سات سالہ بچی کی آبروریزی کے بعد نربھیا قتل ہونے کے معاملہ میں مجرم کو 36 گھنٹے کے اندر گرفتار کیا جائے۔ اب پتہ چلا ہے کہ وہ ملزم پکڑا گیا ہے۔ ’ڈان‘ اخبار کے مطابق شہر میں پچھلے سال سے اب تک دو کلو میٹر کے دائرہ میں اس طرح کی 12 وارداتیں ہوچکی ہیں۔ 2015 میں قصور تب انٹرنیشنل سرخیوں میں آیاتھا جب بچوں سے جنسی استحصال معاملہ میں شامل ایک گروہ پکڑا گیا تھا۔ اس نے علاقہ میں کم سے کم280 بچوں کو اغوا کر جنسی استحصال کیا تھا۔
(انل نریندر)

14 جنوری 2018

نارتھ۔ ساؤتھ کوریا میں بات چیت کا خیر مقدم

ساؤتھ کوریا کے صدر نے بدھوار کو کہا کہ مناسب حالات میں نارتھ کوریائی لیڈر کم جونگ ان سے ملنے کے لئے تیار ہیں۔ قریب دو سال بعد دونوں ملکوں میں پہلی سرکاری میٹنگ کا ساری دنیا نے خیر مقدم کیا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں نارتھ کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ ڈر لگنے لگا تھا کہ کہیں تیسری عالمی جنگ نہ چھڑ جائے۔ لیکن اچانک نارتھ کوریا کے خیالات بدلے اور وہ بات چیت کو تیار ہوگیا۔ دونوں ملکوں کی پہلی سرکاری میٹنگ میں یہ سمجھوتہ کیا گیا جسے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ فروری مہینے میں ساؤتھ کوریا میں منعقدہ 2018 ونٹر اولمپک کھیل کے لئے نارتھ کوریا ایک نمائندہ وفد بھی بھیجے گا۔ دونوں ملکوں میں فوجی ہاٹ لائن کو پھر سے بحال کرنے پر بھی رضامندی ہوگئی ہے۔ اسے دو سال پہلے بن کردیا گیا تھا۔ حالانکہ ساؤتھ کوریا کا کہنا ہے کہ نارتھ کوریا کا نیوکلیائی تخفیف اسلحہ پر موقف منفی ہے۔ بات چیت کے بعد دونوں دیشوں نے مشترکہ طور سے ایک بیان جاری کیا۔ اسی بیان میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ دونوں دیش سرحد پر کشیدگی ختم کرنے کو لیکر فوجی بات چیت کیلئے راضی ہوگئے ہیں۔ ساؤتھ کوریا کی نیوز ایجنسی یون ہیپ کے مطابق دونوں دیشوں کے بیانوں میں رشتوں کی بہتری کے لئے ایک اعلی سطحی میٹنگ کی باتیں کہی گئی ہیں۔ ساؤتھ کوریا کی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے نارتھ کوریا سے کسی بھی دشمنانہ قدم کو ختم کرنے کے لئے کہا تھا تاکہ کشیدگی کم کی جاسکے۔ ساؤتھ کوریا سرکار کا کہنا ہے کہ نارتھ کوریا رضامند ہوگیا ہے۔ امریکہ کے وزارت خارجہ کے ترجمان ہترناٹ نے منگلوار کو ہوئی کوریائی بات چیت کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا اس کا مقصد اولمپک کھیلوں کو محفوظ رکھنا اور کامیاب انعقاد کرنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود کم کے ساتھ بات چیت کو تیار ہیں۔ انہوں نے کوریائی بات چیت مثبت رہنے کی امید جاتی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ نارتھ کوریا اور ساؤتھ کوریا کی بات چیت شروع ہونے پر ساری دنیا نے راحت کی سانس لی ہے نہیں تو نارتھ کوریا کے ڈکٹیٹر کم جونگ ان کی آئے دن دھمکیوں سے تو سارا ماحول خطرناک ہورہا تھا۔
(انل نریندر)

ایئر ہوسٹس رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

دہلی سے ہانگ کانگ جانے والی جیٹ ایئرویز میں ایک ایئرہوسٹس کو محصولاتی خفیہ ڈائریکٹوریٹ نے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ وہ 3 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی غیر ملکی کرنسی ہانگ کانگ لے جارہی تھی۔ پتہ لگا ہے کہ وہ اس سے پہلے 9 بار اسی طرح امریکی ڈالر ہانگ کانگ لے جاچکی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ قریب 20 کروڑ روپے کے امریکی ڈالر ہانگ کانگ لے کر گئی ہے۔ڈالر فائل پیپر کے اندر چھپا کر ہوائی جہاز تک لے جائے جاتے تھے تاکہ ایکسرے اسکینر مشین میں اس کا پتہ نہ لگ سکے۔ ڈی آر آئی کے ذرائع کا کہنا ہے ملزم ایئرہوسٹس کو ہانگ کانگ والی فلائٹ میں 7/8 جنوری کی رات کو اس وقت پکڑا گیا جب وہ روانہ ہونے کے لئے تیار ہورہی تھی۔ اطلاع ملنے پر ڈی آر آئی ٹیم نے فلائٹ رکوا کر ایئرہوسٹس سے پوچھ تاچھ کی۔پہلے تو اس نے کچھ نہیں بتایا لیکن ہینڈ بیگ کی تلاشی لینے پر امریکی ڈالر مل گئے۔ کچھ ڈالر اس نے رجسٹرڈ لگیج میں چھپا کر رکھے تھے۔ کل 4 لاکھ80 ہزار 200 یو ایس ڈالر اس کے پاس ملے۔ پوچھ تاچھ میں اس نے بتایا کہ ڈالر امت ملہوترہ نام کے ایک شخص نے دئے تھے۔ وہ وویک وہار میں رہتا ہے۔ ڈی آر آئی نے اسے بھی پکڑ لیا ہے۔ امت کو حوالہ کے اس گیم کا ابھی تک دہلی این سی آر کا ماسٹر مائنڈ بتایا گیا ہے۔ ڈی آر آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہینڈلر بھی ہوسکتے ہیں۔
جانچ میں پتہ لگا ہے کہ پکڑی گئی ایئر ہوسٹس اس سے پہلے 9 بار امریکی ڈالر ہانگ کانگ لے جاچکی تھی۔ یہ ٹرانزیکشن کیوں کی جارہی تھی ؟ اس کے جواب میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل میں یہ سارا پیسہ چین کو جاتا ہے۔چین نے انڈیا مال امپورٹ کرنے والے کچھ بڑے امپوٹر کسٹم ڈیوٹی کرنے کے لئے مال کی انڈر بلنگ کررہے ہیں۔ پھر انڈربلنگ کے بیلنس کو ہی حوالہ کے ذریعے چین پہنچایا جاتا ہے جیٹ ایئرویز کا کہنا ہے کہ جانچ پوری ہونے کے بعد ہی اس معاملہ میں آگے بڑھا جائے گا۔ اس معاملہ میں ڈی آر آئی کا ایک ایئرلائنس عملہ کا ممبر بھی ہے۔ ان سبھی کے غیرملکی ٹور کی تفصیلات دیکھی جارہی ہیں۔ منگلوار کو گرفتار کی گئی ایئر ہوسٹس کو دہلی کی ایک عدلت میں پیش کیا گیا۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ ریتو سنگھ نے ایئرہوسٹس دیویشی کلشریش کے ساتھ ایک ایجنٹ امت ملہوترہ کو بھی اس حکم کے ساتھ جیل بھیجا کہ انہیں متعلقہ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔ پوچھ تاچھ میں ایئرہوسٹس نے خلاصہ کیا کہ وہ اس عوض میں 50 فیصد کمیشن لیتی تھی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...