Translater
30 دسمبر 2022
آگئی دہلی والی کڑاکے کی سردی !
پورے بھارت میں نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے لیکن ٹھر کرنے والی سردی سے نئے سال کا آغاز ہونے والا ہے محکمہ موسمیات کے سائنس دانوں کے مطابق 31 سے 4 جنوری 2023 تک 5 دن اس سیز ن کا سب سے سرد دن رہ سکتے ہیں ۔اس دوران پنجاب ،ہریانہ کے کچھ علاقوں میں رات کا درجہ حرارت نفی میں جارہا ہے ۔راجستھان کے چورو علاقے میں تو پیر کو ہی درجہ حرارت زیرو پر پہونچ گیا وہیں دن کا زیادہ تر درجہ حرارت 10 سے 14 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے ۔نئے سال کی شروعات میں اس دوران شمالی ہند کے پہاڑی ریاستوں سے لے کر پنجاب ،ہریانہ، دہلی ،راجستھان ،اتر پردیش اور جھارکھنڈ ،مغربی بنگال اور مشرقی اور شمالی مدھیہ پردیش کے زیادہ تر علاقوں میں گھنا کہرہ چھایا رہے گا۔ اگر آپ ٹرین سے روزانہ دہلی این سی آر آتے ہیں تو آپ کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں ۔بڑھتی ٹھنڈ اور گھنے کہرے کو دیکھتے ہوئے ناردن ریلوے نے دہلی این سی آر ،لکھنو¿ سمیت کئی شہروں میں چلنے والی 48 مسافر ٹرینوں کو منسوخ کر دیا ہے ۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق پسنجر ٹرینیں ،25 دسمبر سے لیکر 24 جنوری تک منسوخ رہیں گی ،کہرے کے چلتے لمبی دوری کی سپر فاسٹ ایکسپریس ٹرینوں کا لیٹ ہونا جاری ہے ۔اس کو دیکھتے ہوئے ریلوے انتظامیہ نے کئی مسافر ٹرینوں کو چلانا روک دیا ہے جس کی وجہ سے دوسری ٹرینوں کی آمد ورفت ٹھیک ٹھاک ہو سکے گی ۔وہیں لمبی دوری کی گاڑیوں میں کوچ کی تعداد بڑھا دی گئی ہے ۔حالانکہ ٹھنڈ اور کہرے کو دیکھتے ہوئے نارتھ ریلوے نے مشرقی ریلوے نے لمبی دوری کی 110 ٹرینوں کو منسوخ کر دیا ہے جو 1 جنوری سے 28 فروری تک منسوخ رہیں گی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق 30 دسمبرکے درمیان رات میں درجہ حرارت میں معمولی اضافہ ہوگا ۔اور ٹھنڈی ہوائیں چلیں گی جس کی وجہ سے دن رات دونوں کے درجہ حرارت میں کمی آئے گی ۔کرسمس کے دن راجدھانی میں لوگ پورے دن ٹھنڈ سے کپکپاتے رہے ۔دھوپ میں بھی لوگوں کو برفیلی ہواو¿ں کی وجہ سے سردی سے راحت نہیں ملی ۔جس کی وجہ سے کافی لوگوں نے اتوار کو گھر پر ہی گزارنا بہتر سمجھا ۔اس سیزن میں پہلی بار راجدھانی میں دن میں زبردست سردی کی لہر بنی رہی ۔اور آنے والے دنوں میں کم ازکم درجہ حرارت کچھ جگہوں پر تین ڈگری کے آس پاس رہا ۔پیر کو بھی ایسے ہی حالات بنے رہے اور راحت کی امید نہیں نظر آتی سرد لہر کے چلتے یلو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔منگلوار کو بقدر سردی سے راحت ملی ۔دن میں بھی راجدھانی کے کئی حصوں میں لوگ سردی سے بچنے کے لئے آگ جلا کر ہاتھ تاپتے نظر آئے اتوار کو راجدھانی کا زیادہ اور کم ازکم درجہ حرارت میں بڑی گراوٹ آئی ہے اور یہ 16.2 فیصد رہا ہے جو عام درجہ حرارت سے پانچ ڈگری کم تھا ۔آپ اپنا خاص دھیان رکھیں خاص کر بچوں کا ان کو باہر کھیلنے سے روکیں ۔یومیہ مزدوروں کی مشکل ہے جنہیں کھلے میں کام کرنا پڑتا ہے ۔
(انل نریندر)
بہار کا شراب مافیہ !
اس دن پارٹی میں کسی نے دے دیا ہم ہلکا سا پی لیے تو سر چکردینے لگا ۔کام چھوڑ کر چلے آئے ۔ہم ڈاکٹر کے پاس نہیں جا رہے تھے ، لیکن پھر یہ کانڈ ہو گیا ۔تو ماں رونے لگی تب ڈاکٹر کے پاس گئے بولے ایک مہینے آنکھوں میں تھوڑا کچھ دکھنے لگے گا ۔ستیندر مہتو بہار میں چھپرا کے بہرولی گاو¿ں کے ہیں ان کی آنکھیں عام انسانوں کی طرح نظر آتی ہیں لیکن زہریلی شراب سے آنکھوں کی روشنی چلی گئی ۔ستیندر 12 دسمبر کی شام پڑوس کے ایک گاو¿ں جنیو تقریب میں کام کرنے گئے تھے وہاں کسی نے انہیں شراب دے دی جسے پی کر ان کی طبیعت خراب ہو گئی بہرحال ادھر سارن کے کئی علاقوں میں زہریلی شراب نے موت کا قہر مچا دیا ۔مقامی رپورٹ کے مطابق بہرولی میں بھی زہریلی شراب سے کچھ لوگوں کی موتیں ہوئی ہیں ماں کی ضد پر ستیندر وقت پر ہسپتال چلے گئے تو جان بچ گئی لیکن ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ۔مزدوری کر گزر بسر کرنے والے ستیندر کا خاندان اب کیسے چلے گا اس کا کچھ پتہ نہیں ہے لیکن وہ اب بھی شراب کے کاروباریوں کے بارے میں کچھ بتانا نہیں چاہتے شراب کہاں سے آئی اب یہ نہیں بتاو¿ں گا ۔ستیندر کے الفاظ کے پیچھے شراب مافیہ کا ڈر ہے یا قانون کا اس کو لیکر بھی وہ خاموش ہیں ۔لیکن زہریلی شراب سے متاثرہ سارن کے علاقے میں شراب کے اس ناجائز کاروبار کے بارے میں لوگ واقف ہیں ۔اشوماد پور کے سکھرا گاو¿ں کی انیتا دیوی کے ہاتھ مسلسل تھر تھرا رہے ہیں ان کے شوہر بکی مہتو پہلے گجرات کی ایک کمپنی میں کام کرتے تھے وہیں کی فیکٹری کا انٹری کارڈ دکھاتے ہوئے انیتا دیوی کچھ بتانے کی کوشش کررہی ہیں ۔لیکن بتا نہیں پارہی ہیں ۔ان کا تین سال کا بیٹا ہے وہ بول نہیں پاتا لیکن اسی عمر میں پتا کا وہ داہ سنسکار کررہا ہے ۔انیتا دیوی نے زندگی کے 22 سال بھی پورے نہیں کئے لیکن پتی چھوڑ کر چلاگیا ۔بکی مہتو کی کچی چھونپٹری میں بیوی تین بچے اور بوڑھے ماں باپ رہ گئے ہیں ۔زہریلی شراب نے ہی 25 سالہ بکی کی جان لے لی ہے ۔اب ان کے پاس ہر مہینے سرکار کی طرف سے مفت ملنے والا گیہوں تک نہیں ہے ۔بکی کے والد لال بابو مہتو کہتے ہیں ایک کلو میٹر دور بہورئیا میں دارو بکتا ہے وہیں 14 تاریخ کو دارو پی کر گھر آیا اور کہنے لگا طبیعت خراب لگ رہی ہے ۔اس کو ڈاکٹر کے پاس جانے کو کہا لیکن نہیں گیا ۔رات میں طبیعت بگڑی اور بے چینی ہونے لگی ۔ایمبولینس میں 15 تاریخ کی صبح ہی راستے میں موت ہو گئی ۔ان کا کہنا ہے نکلی شراب کیسے آتی ہے یہ تو نتیش کمار ہی بتا سکتے ہیں لیکن ادھر دارو کا ٹینکر آتا ہے ۔بہار میں یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ زیادہ تر شراب مافیہ سیاست دانوں ،سیاسی پارٹیوں ،کے آس پاس رہنے والے یہ کام کرتے ہیں تاکہ اس کی آڑ میں اپنا دھندہ چلا سکیں ۔بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کہہ چکے ہیں جو لوگ زہریلی شراب پی کر مارے گئے ان کے پریوارکو سرکار کی طرف سے کوئی معاوضہ نہیں ملے گا ۔اس شراب کانڈ میں مارے گئے زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے نہیں تھے ۔ان میں زیادہ تر مزدوروں کی ہے ۔یہاں کئی ایسے پریوار ہیں جن کے پاس کھانے پینے کی قلت ہے اور اب وہ قرض میں ڈوب گئے ہیں اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آتا ۔سال در سال یہی قصہ دہرایا جاتا ہے ۔شراب بندی میں الٹا ان مافیاو¿ں کی مدد کی ہے ۔دکھ کی بات یہ ہے اس کا شکار ہونے والے زیادہ تر غریب اور مزدور طبقے کے لوگ ہیں ۔وہ تو چلے جاتے ہیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں روتا بلکتا خاندان ۔
(انل نریندر)
27 دسمبر 2022
نیپال جیل سے رہا بکنی کلر !
ہندوستانی اور ویتنامی نژاد خطرناک فرانسیسی سیرئل کلر جسے بکنی کلر میں کہا جاتا ہے نیپال نے رہا کردیا ہے ۔چارلس شوراج کے رہا ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد جمع کو اسے فرانس سے جلا وطن کردیا گیا ہے۔ اس نے 1970کی دہائی میں ایشیا بھر میں کئے گئے قتلوں کیلئے زیادہ تر سزا نیپا ل کی جیل کاٹی ۔سپریم کورٹ کے حکم کے دو دن بعد 78سالہ چارلس شوراج کو کاٹھمنڈو کی سینٹرل جیل سے جمع کی صبح رہا کیا گیا اسے بھاری پولیس سیکورٹی آبرورزن محکمہ میں لے جایا گیا ۔ شووراج کے وکیلوں میں شامل سدیش سبیدی نے بتایا کہ اس کی ماں اور بیٹی اس کے پیرس پہنچنے کا انتظار کر رہی تھیں ۔اس درمیان شووراج کو گرفتار کرنے والے ممبئی پولیس کے ریٹائرڈ اڈیشنل کمشنر مدھوکر جینڈے نے بتایا کہ چارلس شووراج جیسے خطرناک مجرم کوزندگی بھر جیل میں رہنا چاہئے لیکن مجرمانہ انصاف سسٹم کیا سوچنا ہے اس پر غور کیا جانا چاہئے ۔ اہم ترین یہ ہے کہ شووراج کو 1976میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر دہلی کے ایک ہوٹل میں انجیئرنگ کے 30سے زیادہ طلبہ کو زہر دینے کی کوشش کرتے وقت گرفتار کیا تھا ۔بعد میں پتا چلا کہ اس نے ایک فرانسیسی سیاح کو بھی قتل کیا ہے اور مختلف جرائم کیلئے دہلی کے تہاڑ جیل میں 12سال قید رکھنے کی سزا سنائی تھی لیکن وہ سخت حفاظت والی تہاڑ جیل سے بھاگ گیا اور سرخیوں میں آ گیا ۔ لیکن گوا کے ایک ریستوراں سے گرفتار کیا گیا ۔ وہ 1997سے جیل میں ہی رہ رہا تھا ۔شووراج نے 41سے 42عورتوں کی قتل کی بات قبولی ہے اور وہ ایک خطرناک مجرم ہے ۔جو جیل سے باہر آتے ہی کچھ بھی کر سکتا ہے نیپال کی وزارت داخلہ میں جوئینٹ سیکریٹری وترجمان دھرندر پوکھریل نے بتایا کہ شووراج اگلے دس برسوں تک نیپال میں داخل نہیں ہو پائے گا۔ کاٹھمنڈو کے ایک اخبار سرکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ وزارت داخلہ نے شووراج کو جلا وطن کردیا ہے ۔ شووراج پہلے قطر ایئر ویز کی فلائٹ QR647سے دوحہ گیا وہاں سے پیرس چلا گیا ۔اس سے پہلے شوراج کے وکیل گوپال شیو کوٹی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ شووراج کو فرانس سے جلا وطن کرنے کیلئے تری بھون انٹرنیشل ایئر پورٹ لے جایا گیا اس کے بعد اس کے نیپال لوٹنے پر تاحیات پابندی لگادی ۔ حالاںکہ یہاں میڈیا میں شائع خبروں کے مطابق شووراج نیپا ل میں ہی رہنا چاہتا تھا اور اس نے دس روز کیلئے علاج کیلئے گنگاجل ہسپتال میں بھرتی کرنے کی درخواست کی تھی ۔اس کا 2017میں دل کا آپریشن ہواتھا۔ جسٹس سپنا پردھان بھلا کور جسٹس تلک پرساد سریشٹھ کی ڈویزن بنچ نے سرکار کو اس کے فرانس جلا وطن کا بندو بست کرنے کا حکم دیا تھا۔
(انل نریندر)
صنعت کاروں کی سرکار ہے !
راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں کیا عام اور خاص،کانگریس کے سبھی بڑے لیڈروں کو دہلی کی سڑکوں پر لاکر کھڑا کردیا۔ سنیچر کی صبح راہل گاندھی 3000کلو میٹر جسے 108دن میں پور ا کیا ۔بھارت جوڑو یاترا دہلی سے لگے ہریانہ کے فرید آباد بد رپور سرحد سے راجدھانی دہلی میں داخل ہوتے ہی چاہے پبلک ہو چاہے کانگریسی نیتا ہوں سبھی صبح سے اور ٹھند بھری سڑکوں پر گھومتے دیکھے گئے ۔ چھوٹے چھوٹے اسکولی بچے اور دور دراز سے آنے والے کانگریسی ورکر س گھنٹوں راہل گاندھی کی جھلک پانے کیلئے سڑکوں پر کھڑے رہے ۔ یہی نہیں جب روڈ شو سے آشرم فلائی اوور کے بغل میں واقع جے رام بھرم چاری آشرم ٹرسٹ پر کچھ گھنٹوں کیلئے روکے تو وہاں پارٹی کے کیا عام اور کیا خاص یوں ہی وقت گزارتے راہل گاندھی کے ان کے آرام بنے کنٹینر سے باہر آنے کا انتظار کرتے نظر آئے ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ ، ادھیر رنجن چودھری ، جے رام رمیش وغیرہ بڑے لیڈ صبح سے شام تک یاترا کے انتظام میں مشغول دکھائی دئے ۔ راہل گاندھی نے اپنی یاترا کو لال قلعہ پہنچا کر آرام دے دیا ۔ راہل کے ساتھ یہاں ہزاروں کی بھیڑ تھی ۔ لال قلعہ کے پاس واقع میدان میں جمع لوگوں سے کہاکہ میڈیا والے ہمارے دوست ہےں ۔ ہماری بات کو بڑھا چڑھا کر نہیں دکھاتے جو یہاں یہاں کھڑے ہیں ان سے کہا کہ ناراض مت ہوہئے ان کی لگام کہیں اور ہے ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جیب کاٹی جاتی ہے تو جیب کترا پہلے آپکا دھیان بھٹکاتا ہے ،ٹھیک وہی کیا جا رہا ہے 24گھنٹے ہندو مسلم کرکے یہی لوگوں میں نفرت پیدا کی جارہی ہے ۔ یہاں اڈانی امبانی کی سرکار ہے ان کو فائدہ پہنچا یا جا رہا ہے ۔ راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر ارب پتیوں کیلئے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے پی ایم پر بھی لگام لگی ہوئی ہے ۔راہل گاندھی نے شروع سے ہی اپنی تقریر میں مودی کو نشانے پر لیا ۔جب مودی چناو¿ لڑ رہے تھے تو انہوںنے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا ۔ کانگریس ایک تنظیم ہی نہیں ہے بلکہ یہ زندگی جینے کا طریقہ ہے ۔ ایک طرف آر ایس ایس اور بی جے پی ہے تو دوسری طرف کانگریس پارٹی ہے وہ سوچنے اور جینے کے طریقے پر چلتی ہے اور پیار بانٹتی ہے آر ایس ایس اور بی جے پی نفرت پھیلاتی ہیں ۔کانگریس محبت کی زبان ہے اور کانگریس کی آئیڈولوجی کونریندر مودی سمجھ نہیں پائے ۔ یہ نئی لڑائی نہیں ہے وہ نفرت پھیلاتے ہیں ہم محبت پھیلاتے ہیں راہل گاندھی نے کہا جب میں کنیا کماری سے چلا تب پایا کہ جہاں جہاں سے گزرا ایسا لگا کہ دیش میں نفرت نہیں ہے ۔ وہیں کانگریس صدر ملکاارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ مہنگائی ،بے روزگاری ،نابرابری اور نفرت کے خلاف یاترا ہے ۔ راہل کی 3000کلو میٹر لمبی یاترا میں لاکھوں لوگ جڑ چکے ہیں کچھ ساتھ بھی چلے ہیں۔ بہر حال اس یاترا سے چناو¿ میں تو پتہ نہیں کتنا فائدہ ہوتا ہے لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس یاترا نے کانگریس ورکروں میں جان ڈال دی ہے ۔ دور دراز شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں جو ورکرآئے ان میں بھار ی جوش دیکھنے کو ملا۔بہت دنوںکے بعد کانگریسی ورکروں میں اتنا جوش اور ہمت دیکھنے کو ملی ہے ۔
(انل نریندر)
23 دسمبر 2022
دنیا کے کئی ملکوں کی کمان ہندوستانیوں کے پاس!
آئر لینڈ کی فائن گیل پارٹی کے نیتا ہندوستانی نژا لیو براڈکر کو آئر لینڈ کی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان میں ووٹنگ کے بعد ملک کا نیا وزیر اعظم چنا گیا ۔ آئر لینڈ اس میں اکیلا ہی نہیں ہے ہندوستانی نژاد صدر مملک برطانیہ کے رشی سونک وزیر اعظم بنے ہیں۔ یوروپ میں ہندوستانی نژاد لیڈروں میں اٹونیو کوسٹا کا نام خاص طور سے لیا جاتا ہے۔ وہ پرتگال کے وزیر اعظم ہیں اور اسٹوسس کے والد اورلیڈو کوسٹا ایک کوی تھے ۔انہوںنے سرمایہ کار ی مخالف تحریک میںحصہ لیا تھا اور پر تگالی زبان میں شہن آف اینگر نامی مشہور کتاب لکھی تھی۔دادا لوئی الفانسو ماریہ ڈی کوسٹا بھی گوا کے باشندے تھے حالاںکہ اٹونیوکوسٹا کی پیدائش مذمبق میں ہوئی ۔لیکن ان کے رشتہ دار آج بھی گو امیں رہتے ہیں ۔اپنی ہندوستانی پہچان پر کوسٹا نے ایک بار کہا تھا کہ گوری چمڑی کے رنگ سے مجھے کبھی بھی کچھ کہنے سے روکا میں اپنی چمڑی کے رنگ کے ساتھ مل جل کر رہتا ہوں ۔یہی نہیں کوسٹا بھارت کے اوسیائی کارڈ ہولڈروںمیں ہیں بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی نے سال2017میںانہیں انکا اوسیائی کارڈ دیا تھا ۔ ماریشش کے وزیر اعظم جگن ناتھ بھی ہندوستانی نژاد لیڈر ہیں جن کی جڑیں بھارت کے بہار سے جڑی ہوئی ہیں۔ اروند جگن ناتھ کے والد انیرودھ جگن ناتھ بھی ماریشش کے سیاست کے قد آور لیڈروں میں شمار کئے جاتے تھے وہ ماریشش کے صدر اور وزیر اعظم کے عہدو ں پر رہے تھے ۔ ایسے سنگاپور کے صدر ریما یعقوب کے آباو اجداد کی جڑیں بھی بھارت سے جڑتی ہیں ان کے والد ہندوستانی نژاد تھے اور والدہ ملیالی نژاد تھیں ۔سنگاپور میں ملے آبای تقریباً15فیصد ہے اورانڈونیشیا اور ملیشیا میں یہ لوگ پھیلے ہوئے ہیں ۔ان کے بعد بھی حلیمہ یعقوب نے سنگاپور کی پہلی صدر بن کر تاریخ رقم کی تھی ۔ لاطینی امریکہ دیش سورینام کے صدر چندریکا پرساد سنتوکھی بھی ایسے سیاست داں ہیں جن کے تار بھارت سے جڑے ہیں ہندوستانی سورینامی ہندو خاندان میں پیدا ہونے والے پرساد کو سنتوکو مان سنتوکھی کہا جاتا ہے ۔ ایسے ہی کیریبیائی ملک گویانا کے صدر عرفان علی کے آباو اجداد کا تعلق بھی بھارت سے ہے ان کی پیدائش 1980میں ایک ہندوستانی خاندان میں ہوئی تھی۔وہیں سورول کے صدر واویل رام کلاون بھی ہندوستانی نژاد لیڈر ہیں ان کے آبا و اجدا د میں بہار سے ہیں ان کے والد ایک لوہار تھے اور ان کی والدہ ایک ٹیچر تھیں ۔ہندوستانی نژاد کے بڑے لیڈروں میں امریکی نائب صدر کملا ہیرس بھی ہیں سال2021میں انہیں 25منٹ کے کیلئے امریکی صدر کے اختیارات دئے گئے تھے ۔ وہ امریکی تاریخ میں صدر کے اختیارات سنبھالنے والی پہلی خاتون بن گئیں تھیں ۔کملا ہیرس نے بتایا تھا کہ میرے نام کا مطلب ہے کمل کا پھول اورہندوستانی تہذیب میں اس کی کافی اہمیت ہے ۔اورکمل کاپودا پانی میںپیدا ہوتا ہے اور پھول پانی کے سطح کے اوپر کھلتا ہے اور جڑیں نزدیکی زمین سے مضبوطی سے جڑی ہوتی ہیں ۔ کملا بھارت میں پیدا ماں اور جمائیکا میں پیدا والد کی اولاد ہیں۔
(انل نریندر)
بڑھتی جھڑپیں بڑھتی تجارت !
بھار ت اور چین کی سرحدوں پر ایک بار پھر سے کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ اس مرتبہ کشید گی کے مرکز میں لداخ کی جگہ اروناچل پردیش کی سرحدیں ہیں ۔ اس کی وجہ کہ 9دسمبر کی صبح توانگ سیکٹر کے ینگسٹر س میں بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان تشدد آمیز جھڑپیں ہوئیں۔ اس جھڑپ میں کچھ ہندوستانی فوجیوں کو چوٹیں بھی آئیں۔ اس سے پہلے گلوان وادی میں خونی جھڑپ میں 20ہندوستانی جوانوںکی موت ہو گئی تھی ۔ اس بعد دونوں ملکوںمیں کشید گی انتہا ءپر پہنچ گئی تھی۔ گلوان سے پہلے دونوں دیش دوکلام میں قریب ڈھائی مہینے تک ایک دوسرے کے سامنے تنے کھڑے رہے ۔پچھلے سال چین اور بھارت کے درمیان ایک طرف جہاں تعطل بڑھا ہے وہیں دوسری طرف چین پر بھارت کے انحصار میں بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس درمیان چین سے سامان خریدنے میں بھارت نے قریب 60فیصد تجارت میں اضافہ کردیا ہے۔ آسان لفظوںمیں کہیں تو سال 2014میں بھارت اور چین سے سامان خریدنے پر 100روپے خرچ ہوتا تھا آج یہ بڑھ کر 160روپے ہوگئے ہیں۔ ڈپلومیسی میں کہتے ہیں جس ملک سے خطرہ محسوس ہو اس پر انحصار کم کرلینا چاہئے ۔ایسے ہی وعدے حالیہ دنوںمیں روس یوکرین جنگ کے بعد مغربی ملکوںنے بھی کئے ہیں۔ وہ روس پر اپنی انحصار کو کم کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ چین کے ساتھ سرحدوں پر ٹکراو¿ کے باوجود بھارت اپنا انحصار کم نہیں کر رہا ہے؟ وہ کون سے سامان ہیں جو بھار ت میں چین سے سب سے زیادہ خریدے جاتے ہیں؟ اس راستے پر اگر بھارت چلتا رہا تو اسے مستقبل میں کئی طرح کی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ بھارت نے سال2021-22میں دنیا بھر کے 216ملکوں اور علاقوںسے سامان خریدا ہے جس پر بھارت نے 61305کروڑ امریکی ڈالر خرچ کئے ہیں۔ بھارت کے تجارت و صنعت وزارت کے اعداد وشمار کے مطابق اس خرچ میں سب سے زیادہ فائدہ چین کو ملا۔بھار ت کے کچھ در آمدات نے چین کی حصہ داری 15.42فیصد رہی ٹاپ کے دس ملکوںمیں چین کے علاوہ متحدہ عرب امارات،امریکہ ،عراق ،سعودی عرب ،سوٹزر لین، ہانگ کانگ ،سنگاپور،انڈونیشیا اور کوریا شامل ہیں ۔بھارت چین تازہ تنازعہ کے درمیان کل درآمدات میں کس دیش کا کتنا فیصدی حصہ ہے ؟ چین پر بھارت کے انحصار کے پیچھے ماہر اقتصادیات صنعتی پالیسی نہ ہونے کو ایک بڑی وجہ مانتے ہیں۔ بی بی سی ہندی سے بات چیت میں ماہر اقتصادیات سنتوش نیرمان کہتے ہیںپچھلی سرکار نے 2011میںنئی مینوفیکچرنگ حکمت عملی بنائی تھی اسے وہ لاگو نہیں کرپائی ۔ 1992سے 2014تک بھارت کی جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا تناسب 17فیصد بنا رہا لیکن 2014کے بعد اس میں 203فیصد کمی درج کی گئی ۔ آسان لفظوں میںکہیں تو 100روپے میں سے 15روپے کا سامان بھارت اکیلے چین سے خرید تا ہے ۔ اس میں الیکٹریکل ،مکینیکل مشینری ،کل پرزے ساو¿نڈ ریکارڈ ،ٹیلی ویژن اور دوسری کئی چیزیں شامل ہیں۔ ٹاپ 10چیزوں کی بات کریں تو اس میں الیکٹرونک سامان کے بعد نیو کلیر ریئکٹرس ،بائلر آرگینک کیمیکل پلاسٹک کا سامان ،کھاد اور گاڑیوں سے جڑا سامان ،کیمیکل سامان آئرن اسٹیل کا سامان اور الومینیم شامل ہیں اگر تجارت کی بات کریں تو یہ سال 2014-15میں قریب 48ارب ڈالر کا تھا جو سال 2021-22میں بڑھ کر قریب 73ارب ڈالر کا ہو گیا ۔ ہمیں چین پر انحصاریت گھٹانی ہوگی اور جنتا کو چینی سامان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، بھلے ہی دیشی مہنگا سامان کیوں نہ خرید نا پڑے ۔
(انل نریند)
20 دسمبر 2022
20منٹ کی فلائٹ اور مشقت 5گھنٹے کی !
ایک طرف تو دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فلانا ہائیوے بنادیا گیا ہے اور آپ اس ہائیوے سے دو گھنٹے میں دہلی سے ڈیڑھ گھنٹے میں آگرہ ،دو گھنٹے میں دہرادون ،چار گھنٹے میں جے پور ،چنڈی گڑھ سے شملہ پہنچ سکتے ہیں ۔وہیں انہیں شہروں کیلئے محض 50منٹ کی فلائٹ کیلئے وزراءکو پانچ سے چھ گھنٹے لگ رہے ہیں۔ہوائی اڈوں پر کافی وقت تک انتظار کرنے کی بڑھتی شکایتوں کے درمیان ایئر لائنز کمپنیوں نے اب مسافروں کو کم سے کم ساڑھے تین گھنٹے پہلے پہنچنے اور جانچ پڑتال کرانے اور تیز رفتار سے کام کاج کے نپٹارے کیلئے صرف ایک ہینڈ بیگ ساتھ رکھنے کی صلاح دے ڈالی ۔ انڈیگونے گھریلو مسافروں سے کہا کہ ڈیپارچر سے ساڑھے تین گھنٹے پہلے دہلی ایئر پورٹ پہنچیں ،ہینڈ بیگ کا وزن سات کلو سے زیادہ نہ ہو۔ وستارا نے مسافروں سے تین گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے کی اپیل کی ۔اسپائس جیٹ نے بھی ایسے ہی شرط لگائی ہے اس نے ممبئی ایئر پورٹ سے فلائٹ پکڑنے والے گھریلو مسافروں کو ڈیپارچر سے ڈھائی گھنٹے پہلے اور انٹر نیشل فلائٹ لینے والوں کو ساڑھے تین گھنٹے پہلے ایئر پورٹ پہنچنے کیلئے کہا ۔ ادھر منگل روز بھی مسافروں کو دہلی ایئر پورٹ پر بد انتظامی کی شکایت جھیلنی پڑی وزارت ہوا بازی نے ایئر لائنز کو مین رن اور بیگج کاو¿نٹروں پر کافی تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایئر لائنز سے کہا گیا ہے کہ انتظار کرنے والے مسافروں کو وقت کے بارے میں سوشل میڈیا پر جانکاری دیں ۔اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر بڑھتی ہوائی ٹریفک کے درمیان مسافروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھیں جا رہی ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس مسئلے کے پیچھے ہوائی سفر کا کووڈ سے پہلے کی طرح بحال ہو جا نا ہے ۔جبکہ کووڈ سے پہلے تو مسافروں کی سفر بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ فضول کی بہانے بازی کی جار ہی ہے۔ مسئلہ کہیں اور ہے اور اس کا حل کرنے کے بجائے اول جلول بہانے کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں بے شک ایئر ٹریفک بڑھ رہا ہے ۔لیکن اب بھی نیو یارک لندن پیرس جیسے شہروں کا ہم مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ وہاں انتظام کتنے چست درست ہیں۔ ہم ایئر پورٹ تو بنا لیتے ہیں لیکن اس میں ضروری سہولیات کا خیال نہیں رکھتے کئی دنوں سے چلے آرہے مسئلے کو دیکھتے ہوئے آخر سرکار کچھ چوکس ہوئی ہے۔وزیر شہری ہوا بازی جیوتر آدتیہ سندھیا نے ہوائی اڈے پر انتظامات کا جائزہ لیا ہے اس کے بعد عام مسافروں کیلئے کچھ اور گیٹ کھولے گئے ہیں تاکہ جانچ کیلئے سی آئی ایس ایف فاضل جوانوں کی تعیناتی کی جار ہی ہے۔ اور سامان کی جانچ کیلئے چار مزید اکسرے مشینیں لگائی جا رہی ہےں ۔بھارت میں ٹورسٹ سیزن شروع ہو گیا ہے اور ایئر ٹریفک بڑھے گا ۔بہتر ہے کہ جنگی سطح پر کام ہو تاکہ مسافروں کا وقت ضرورت سے زیادہ برباد نہ ہو۔
(انل نریندر)
ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ شخصی آزادی کی مثال پر اگرقدم نہیں اٹھاتے تو ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ بڑی عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے جڑے معاملوں میںکاروائی نہیں کرتی تو یہ آئین کی دفعہ 136کے تحت ملے اختیارات کی خلاف ورزی ہوگی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کو خارج کرتے ہوئے سوال کیا کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟ اگر ہم اپنی ضمیر کی نہیں سنتے ہیں بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کیلئے کوئی بھی معاملہ چھوٹا نہیں ہوتا ۔اگر ہم شخصی آزادی سے جڑے معاملوں میں کاروائی نہیں کرتے اور راحت نہیں دیتے تو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟ سی جے آئی چندر چوڑ نے یہ رائے زنی بجلی چوری کے ایک ملزم کی ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران کی ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کیلئے کوئی معاملہ چھوٹا نہیں ہے ۔ چیف جسٹس کی اس رائے زنی کو وزیر قانون کیرن رجیجو کو جواز سمجھا جا رہا ہے ۔ کیوں کہ انہوںنے ایک دن پہلے ہی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو ضمانت جیسے معاملوں کی سماعت نہیں کرنی چاہئے بلکہ آئینی معاملوںکی سماعت تک محدود رہنا چاہئے۔معاملوں میں عرضی گزار کو بجلی چوری کے نو معاملوںمیں ہر میں دو دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔بنچ نے فیصلہ کیا کہ سزائیں الگ الگ چلیںگی اس سے اس کی کچھ سزا 18سال ہو گئی ۔عرضی گزار اس کے خلاف بڑی عدالت پہنچا تھا ۔ بنچ نے کہا کہ معاملے کے پہلو بڑی عدالت کو ہر شہری کو ملے ،زندگی شخصی آزادی کے بنیادی حقوق کے محافظ کی شکل میں اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کا ایک اور موقع ہے ۔ایک موقع ضرور ملنا چاہیے ۔ بنچ نے کہا کہ اگر کوئی ایسا نہیں کرے گا تو ایک شہری کی آزادی ختم ہو جائے گی۔شہریوں کی شکایتوں سے جڑی چھوٹے اور ریگولر معاملوں میں اس عدالت کے دخل سے جوڈیشری ماہرین اور آئینی مسئلوں سے متعلقہ پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں ۔سی جے آئی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نر سمہا کی بنچ نے معاملے کو چوکانے والا قرار دیا ۔بنچ نے پایا کہ اپیل گزار تین سال کی سزا کاٹ چکا ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے سزا ساتھ ساتھ چلنے کے اس کی درخواست کو نہیں مانا تب اس نے بڑی عدالت کا رخ کیا ۔ سپریم کورٹ نے اس کی فوراً رہائی کو حکم دیا ۔بنچ نے سماعت کے دوران مدراس ہائی کورٹ نے سابق جج جسٹس ایس متو کی مدد مانگی ۔وہ اتفاق سے ایک دوسرے معاملے کیلئے عدالت میں تھے ۔سینئر وکیل میتو نے اسے ایک غیر معمولی حالت بتایا اور انہوںنے ہائی کورٹ کے حکم کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ یہ بجلی چوری کیلئے ایک طرح سے عمر قید ہے ۔سی جے آئی نے کہا کہ اس لئے سپریم کورٹ کی ضرورت ہے۔بجلی چوری قتل کے برابر کا معاملہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)
16 دسمبر 2022
کانگریس کی ہاتھ جوڑو یاترا !
چھتیس گڑھ میں کانگریس تنظیم ایک بارپھر اسمبلی حلقوںمیں اپنی بنیاد مضبوط کرنے کی تیاری میں ہے ۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندی کی بھارت جوڑو یاترا کو دیش میں مل رہی کامیابی اور مقبولیت کے پیش نظر ان اشوز کو چھتیس گڑھ میں اٹھایا جا ئے گا۔وہیں مودی سرکار کی ناکامیوں بد انتظامی سے لیکر مہنگائی اور بے روزگاری کے اشو پر کانگریس گھر گھر جائے گی۔ بھارت جوڑا یاترا کی ترز پر چھتیس گڑھ کانگریس ہر اسمبلی حلقے میںہاتھ جوڑا یاترا نکالنے جا رہی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی نے اس کا اعلان کردیا ہے کہ وہ یوم جمہوریت 26جنوری سے شروع کرے گی ۔ یاترا کے آغاز کے ساتھ ا س میںریاستی سرکار کے کارناموں اور مودی سرکار کی ناکامیوں کو جم کر اچھالا جائے گا۔ اس یاترا کے ذریعے کانگریس نیتا اور ورکر علاقے میںہر بوتھ اور ہر گھر تک پہنچنے کی کوشش میںہیں۔ اس یاترا کو لیکر جلد ہی حکمت عملی کے ساتھ ایک حکمت عملی پلان طے ہو جائے گا۔چھتیس گڑھ کانگریس کی نئی انچارج کمای شیلجا کی موجودگی اور اقتدار تنظیم کے لیڈروں کی موجودگی میںہونے والی میٹنگ میں اس مسئلے پر اہم بحث ہوگی ۔ پردیش کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ہاتھ جوڑو یاترا کو لیکر غور ہوگا۔ بھارت جوڑو یاترا کی شاندار کامیابی سے حوصلہ افزا چھتیس گڑھ کانگریس ریاست میں بہتر ڈھنگ سے عمل کرنے کے موڈ میں ہے۔ دوسری طرف یہ یاترا چناوی سال میں نکلے گی ۔اور اس میں مقامی سطح کے لیڈروں کو شامل کرنے کی تیاری ہے ۔ذرائع کادعوی ٰہے کہ چناوی سال ہونے کی وجہ سے اسمبلی حلقوںمیں ایک طرح سے تنظیم کی زمین کے حالات بھی ٹٹولے جائیںگے ۔ اور اصلی تنظیم کی حالات کے تجزیہ کے ساتھ ایک طرح سے ممبران اسمبلی کی کارکردگی اور ان کی مقامی سطح پر مقبولیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس معاملے میں ورکروں کوبھی ذمہ داری دی جارہی ہے۔ اس یاترا سے چھتیس گڑھ میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ کے ساتھ آنے والے سال 2024میں لوک سبھا چناو¿ کی تیاریاں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ دیش میں بہت زیادہ مہنگائی ،بڑھتی بے روزگاری کے اشوپر ایک طرح سے کانگریس مودی سرکار اور بھاجپا کو گھیرنے کی کوشش کرے گی ساتھ ہی اس اشو پر عام لوگوںکو کانگریس کے حق میںووٹ ڈلوانے کی کوشش کرے گی۔ اسمبلی حلقوں میںاس پد یاترا کے ذریعے ورکروں کو ہر بوتھ بوتھ تک پہنچنے کی ہدایت ہے اور مقامی ورکروں کوبوتھ کے علاوہ گھر گھر لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کے احکامات دئے جارہے ہیں۔ دیکھیں یہ ہاتھ جوڑو یاترا زمین پر کتنی کھڑی اترے گی۔ ماننا ہوگا کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاتراکا کانگریس کے ورکروں اور نیتاو¿ پر خاصہ اثر ہو رہاہے۔
انل نریندر)
طالبان نے بھارت سے مانگی مدد!
طالبان نے 15اگست 2021کو جب کابل پر قبضہ جمایا تھا تب سے اسے امریکہ کے ساتھ ہی ہندوستانی ڈپلومیسی کو بھی شکست کے طور دیکھا گیا تھا ۔ لیکن پچھلے 15مہینوںمیں افغانستان میں ڈپلومیٹک حالات کافی بدل گئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ طالبان کے رشتے مسلسل کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ جبکہ پچھلے دنوں وہاں کے سفارت خانے میںکام کررہی ڈپلومیٹک تکنیکی ٹیم سے طالبان نے درخواست کی تھی کہ بھارت وہاں اپنے التویٰ میں پڑے پروجیکٹس کو شروع کرے ۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی اسکیموں کو شروع کرنے کو لیکر زیادہ ولولہ نہیں ہے ۔وزارت خارجہ کا یہ بھی خیال ہے کہ طالبان بین الاقوامی سطح پراپنی حکومت کو تسلیم کرانے کے منصوبے سے بھی بھار ت کے ساتھ رشتوں کو لیکر زیادہ جوش نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے مدد مانگی گئی ہے لیکن ابھی ممکن نظر نہیں آتا ۔ اگر بھارت وہاں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ یا بجلی سپلائی سے متعلق پروجیکٹس کو شروع کرنے کا فیصلہ بھی کرتا ہے تو پہلا سوال یہ ہے کہ وہاں سازوسامان کیسے بھیجے جائیںگے ؟ اناج تو بھیجنا ممکن نہیں ہو پا رہا ہے ۔ کیوںکہ پاکستان کی طرف سے مسلسل رکاوٹےں پیدا کی جا رہی ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ ابھی وہاں کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ لیبرس کی حفاظت کو لیکر مطمئن ہوا جا سکے ۔طالبان کے آنے سے بھی وہاں سکھوں پر حملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کو وہاں سے سیکڑوں سکھو کو نکالنا پڑ رہا ہے ۔کئی طرح کی دوسری پریشانیاں بھی ہیں۔ جیسے افغانستان میں کسی طرح کی کاروبار کیلئے کوئی بیمہ سہولت ابھی دستیاب نہیں ہے ۔یہاں تک کہ وہاں بینکنگ سسٹم بھی باہری دنیا سے کٹا ہوا ہے ۔ہندوستانی ڈپلومیٹک ٹیم سے ملنے دوران طالبان میں وزیر شہری ترقی حمداللہ نعمانی نے خاص طور پر چار مطالبے رکھے ہیں ۔پہلا بھارت پروجیکٹس کو پھر سے شروع کرے ۔دوسرا کابل میںڈیولپمنٹ سے وابسطہ پروجیکٹس کو شروع کرنے کیلئے فنڈ دے ۔تیسرا افغانی طلبہ کو ویزا دینے کا کام شروع کرے ۔چوتھا ہندوستانی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرنے کیلئے افغانی طلبہ کی مدد کرے ۔ اگست2021میں کابل سفارت خانہ خالی کرنے کے 9ماہ بعد بھارت نے طالبان سے سیدھی بات کی تھی اس کے بعد افغانستان کو انسانی ہمدردانہ بنیاد پر گیہوں ،دوائیاں بھیجی گئیں ۔ درمیان بھارت نے وہاں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ لیا ۔ حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغانستان کی خراب حالت کا اشو اٹھایا تھا ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستان سے افغانستان کے رشتے برابر خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ خبر آئی ہے کہ پاکستان کی فوج اور افغان طالبان جنگ بازوں کے درمیان یمن سرحد پر زبردست گولہ باری ہوئی ہے ۔دونوں کے درمیان حملوں میں اب تک 10لوگوں کی موت ہوگئی ہے ۔ جبکہ 37لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے اور پتہ چلا ہے کہ دونوں میں لڑائی بدستور جاری ہے۔
(انل نریندر)
13 دسمبر 2022
اس بمپر جیت کا 2024کے عام چناو ¿ پر کیا اثر ہوگا؟
گجرات میں جیت کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میں آنے والے سال 2024میں ہونے والے عام چناو¿ کی تیاریوں کی جھلک دیکھنے کو ملی ۔ انہوںنے ابھی سے چناو¿ کمپین شروع کردی ہے اور جس طرح سے ورکروں سے بات کی اور ان کو سراہا اس سے لگتا ہے کہ 2024میں کیا ہونے جا رہا ہے اور مودی ابھی سے مورچہ بندی کررہے ہیں ۔ہندوستانی جمہوریت میں اقتدار سنبھال رہے نیتا ہمیشہ سرکار مخالف لہر سے ڈرے رہتے ہیں لیکن بی جے پی نے گجرات میں 27سال کی سرکارچلانے کے بعداگلے 5سال کیلئے بھی ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اور ثابت کردیا ہے کہ ابھی بھارت میں بھاجپاہی سب سے بڑی سیاسی طاقت ہے اور اگلے کچھ برسوں تک اقتدار میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ تیار بھی ہے ۔وزیر اعظم نریندرمودی مسلسل 12سال گجرات میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دہلی آئے تھے اور وہ پچھلے 8برسوں سے بھارت کے وزیر اعظم ہیں اور ان کی قیادت میں کئی چناو¿ جیتے ہیں ۔ کورونا وبا کے بعد بی جے پی نے سب سے اہم ریاستوں میں سے ایک اترپردیش میں بھاری اکثریت سے چناو¿ جیتا اور آسام ،گجرات اورگوا میں بھی سرکاریں بنائیں۔انہوں نے اپنے نام پر ووٹ مانگے اور ایک طرح سے وہ گجرات کو اپنا جانشین کی شکل میں پیش کرتے رہے ہیں۔ اور ہندوستانی سیاست میں گجرات کی زبردست جیت کو ہندوستانی سیاست میں برانڈ مودی کے اور مضبوط ہونے کی شکل میں بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ گجرات دہلی ،ہماچل پردیش کے نتیجے آنے والے 2024کے لوک سبھا چناو¿ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ کیا ان نتیجوں کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی حکمت عملی بدلنی پڑ سکتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں 30سے زیادہ ریلیاں کیں بار بار گجرات کو اپنے آپ سے جوڑا اور انہوںنے گجرات کی وقار کی بات کی ۔اور ووٹروں سے خود پر اور بی جے پی پر بھروسہ کرنے کی اپیل کی ۔ گجرات چناو¿ کے دوران بی جے پی نے ہندوتو کی اپنی سیاست پر زور دیا ۔ بی جے پی کے اسٹار کمپینروں کے نشانے پر مسلمان رہے سیاسی مبصر مانتے ہیں کہ بی جے پی ہندوتو کی اپنی آئیڈیولوجی کو تو ظاہر کرتی ہے لیکن وہ صرف ہندوتو کے نام پر ہی ووٹ نہیں مانگتی بلکہ اپنے اشوز کے ذریعے بھی لوگوں کو اپنی طرف کھیچ رہی ہے ۔ اس بار عورتوں نے بھی کھل کر بھاجپا کا ساتھ دیا ۔یہ کہنا غلط ہے کہ بی جے پی صرف ہندوتو کی حکمت عملی پر چناو¿ لڑ رہی ہے ۔وہ بجلی ،پانی جیسے بنیادی اشوز کو بھی اٹھا رہی ہے سب سے زیادہ کامیاب وہیں اسکیمیں ہیں جو ان اشوز کے ارد گرد ہیں اور ان کا فائدہ اٹھانے والا طبقہ بی جے پی کے ساتھ جڑاہوا محسوس کرتا ہے ۔بی جے پی کو صرف ہندوتو کے دم پر نہیں بلکہ کام کے دم پر کامیابی ملی ہے۔ چناو¿ کا اشوز کا اثر پڑتا ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہماچل میں سرکار نہیں بدلتی ۔ دہلی ایم سی ڈی میں عام آدمی پارٹی کو اتنی شاندار کامیابی نہیں ملتی ۔ عام آدمی کے درمیان پارٹی کا بھروسہ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
(انل نریندر)
بیٹیاں بھگوان کی دین ہوتیں ہیں!
روہنی کیسی ہے ؟سنگا پور میں آپریشن کے بعد ہوش میں آنے پر سب سے پہلے آر جی ڈی چیف لالو پرساد یادو نے یہی پوچھا تھا ۔یہ لفظ نہ تو آر جے ڈی چیف کے ہیں اور نہ ہی بہار کے سابق وزیر اعلیٰ کے ہیں ۔ یہ لفظ ایک والد کے ہیں جو اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ اس بیٹی کے بارے میں جس نے کچھ ہی گھنٹے پہلے اپنی کڈنی اپنے پاپا کی زندگی بچانے کیلئے ڈونیٹ کردی ۔ ایسا نہیں ہے کہ جذبات کی یہ دھار ایک طرف سے بہہ رہی ہے ۔ سنگاپور میں اپنے والد کو کڈنی دینے سے پہلے روہنی نے بھی مسلسل کئی جذباتی ٹویٹ کئے تبھی سے باپ بیٹی کے رشتوں پر خوب بحث جاری ہے ۔ جیسے ہی روہنی کو پتہ چلا کہ لالو پرساد یادو کو کڈنی دینے کیلئے وہ ڈونر بن سکتی ہیں۔ روہنی نے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹ کئے گزشتہ 11نومبر کو والد لالو پرساد یادو کے ساتھ بچپن کی اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے روہنی نے ٹویٹر پر لکھا کہ ماں باپ میرے لئے بھگوا ن ہیں میں ان کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔آپ سبھی کی دوعاو¿ں نے مجھے اور مضبوط بنایا ہے ۔ میں آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں آپ سب کا خاص پیار اور عزت مل رہی ہے ۔ میں بہت جذبات میں ہوں آپ سب کو دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں ۔روہنی نے لکھا ہے کہ زمین پر ماں باپ ہی بھگوان ہوتے ہیں اور ان کی پوجا اور خدمت کرنا ہر بچے کا فرض ہے ۔ پتا کو کڈنی دینے کے فیصلے پر روہنی نے اپنے ٹویٹر پر لکھا میرا تو خیال ہے یہ تو بس ایک چھوٹا گوشت کا ٹکڑا ہے جو میں اپنے پاپا کیلئے دینا چاہتی ہوں میں اپنے پاپا کیلئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔ روہنی نے اپنے ٹویٹ میں سب سے گزارش کی ہے کہ آپ سب دعا کیجئے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے اور پھر سے آپ سبھی کے درمیان عوام کی آواز بلند کریں ،نیک خواہشات کیلئے ایک بار پھر سے آپ سب کا شکریہ ۔ روہنی آچاریہ کے اس فیصلے پر کئی ٹویٹر یوزر تعریف بھی کر رہے ہیں جس میں نیتا بھی پیچھے نہیں ہےں اور نہ سیاسی حریف ۔ بیگوسرائے سے ایم پی و مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے لالو کی بیٹی روہنی کے اس فیصلے پر لکھا بیٹی تو روہنی آچاریہ جیسی ہو اس پر فخر ہے ۔آ پ پر ہمیں فخر ہے آپ آنے والی نئی نسل کیلئے ایک مثال بنیںگی۔ اتنا ہی نہیں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے بعد وزیر اعظم نریند مودی نے آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کی طبیعت اور حال چال جاننے کیلئے تیجسوی یادو سے بات کی ۔ سینئر صحافی رویش کمار نے بھی فیس بک پر روہنی کے تعریف میں ایک لمبا پوسٹ لکھا اور وہ روہنی کی اس فیصلے پر لکھتے ہیں کہ جس طرح سے روہنی نے ٹویٹر پر اپنے والد کے تئیں فراخدلی کا اظہار کیا وہ کافی الگ ہے ۔اس میں کوئی پرچار نہیں ہے اس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے اس میں صرف پاب بیٹی کا رشتہ ہے ۔روہنی بچوں میں لالو یادو کی نمبر دو کی اولاد ہیں ان کی بڑی بیٹی نیسا بھارتی ہیں ۔اس کے بعد تیج پر تاپ یادو ،تیجسوی یادو ۔ رہنی 43سال کی ہیں انہوں نے اسکول کالج میں تعلیم کے بعد میڈیکل سیکٹر میں اپنا کریئر چنا اور انہوںنے جمشید پور کے ایم جی ایم کالج سے ایم بی بی ایس کیا ۔ حالاںکہ انہوںنے کبھی ڈاکٹری کی پریکٹس نہیں کی ۔ روہنی بھاگوان ہیں اور دیوی ہیں آپ لاکھوں لوگوں کیلئے ایک مثال بن گئیںہیں۔
(انل نریندر)
09 دسمبر 2022
دی کشمیر فائلس پر تنازعہ !
انڈیا انٹر نیشنل فلم فیسٹیول فیصلہ کمیٹی کی ممبر برٹش اکادمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس کے وینر جنکو گوتوہ اور دیگر ممبران نے کشمیر فائلس پر کئے گئے فیصلہ کمیٹی کے چیئر مین مدن لاپت کی رائے زنی کی حمایت کی ہے۔گوتوہے نے ٹویٹ کر کہا کہ دی کشمیر فائلس گمراہ کن اور پبلیسیٹی کر نے والی فلم ہے 9روزہ فلم فیسٹیول میں اپنی تقریر میں دی کشمیر فائلس فلم کو جھوٹی اور پبلیسیٹی فلم کہا تھا ۔ امریکی پروڈیوسر جنکو گوتوہ فرانسیسی فلم مدیر پاسکل ماوینس اور فرانسیسی فلم پروڈیوسر زیویئر انگلو باہورین نے لاپت کے تبصرے کی حمایت کرتے ہوئے ٹویٹر پر ایک بیان پوسٹ کیا جس سے ایک ہفتے پہلے بہت بڑی کنٹرورسی کھڑی ہو گئی تھی ۔ انڈیا انٹر نیشنل فلم فیسٹیول فلم میں جوری کے چیئر مین لاپت نے پیر کو فلم فیسٹیول کے اختتام کے دوران ایوارڈ تقریب میں دی کشمیر فائلس کو جھوٹی اور پبلیسیٹی فلم کہا تھا ۔ ویویک اگنی ہوتری کے ذریعے لکھی اور ہدایت کی گئی فلم دی کشمیر فائلس پاکستانی حمایتی آتنک وادیوں کے ذریعے فرقے کے قتل کے بعد کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کی ہجرت پر مرکوز تھی گوتوہ کے ذریعے ٹویٹ مشترکہ بیان نے تینوں افراد نے کہا کہ فیصلہ کمیٹی کی طرف سے کئے گئے قلمبند بیان سے اتفاق رکھتے ہیں۔ انہوں نے صاف کیا کہ وہ فلم کی کہانی پر کوئی سیاسی رخ نہیں دکھارہے تھے ۔ہم ایک کہانی پیش کر رہے تھے یہ دیکھ کر ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے کہ فیسٹیول کے اسٹیج کا سیاست کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور ہم کہانی پر شخصی حملے کئے جا رہے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔ایک اور ممبر سدپ سین نے کہا کہ مین لاپت کے بیان کی تردید کی تھی ۔انہوںنے کہا کہ اب وہ دیش میں نہیں ہیں میں دیش میںہوں اس لئے میں ان کا بیان ان کا بچاو¿ کرنے کیلئے سب سے اچھا شخص ہوتا لیکن انہوںنے مجھے شامل نہیں کیا۔ سدپت سین نے کہا کہ فلم فیسٹیول تقریب میںکیا کہنے جار ہے ہیں اس پر دیگر ممبران سے کبھی بھی تبادلہ خیال نہیں کیا اس لئے انہوںنے جو پڑھا وہ سرکاری بیان نہیں تھا اس کے بعد اگر کوئی پبلک طورپر بیان جاتا ہے اور کسی خاص فلم کو چنتا ہے اور کچھ ایسا کہتا ہے جس کی امید نہیں ہے یہ ان کی ذاتی رائے ہے ۔ ادھر بھارت میں اسرائیلی سفیر نورگیلان نے ایک اسرائیلی فلم کار کے ذریعے دی کشمیر فائلس پر کی گئی رائے زنی کو لیکر تنازعہ کے بیچ مبینہ طور سے ملے ایک یہودی مخالف پیغام دیا ۔ سنیچر کو ٹویٹر پر شیئر کیا یہ بیان ان کے کچھ در پر دہ پیغامات میں سے ایک ہے جو انہیں ملا ہے۔انہوںنے ٹویٹ کیا کہ میں ملے کچھ پیغامات میں سے آپ کے سامنے ایک کو شیئر کرنا چاہتا تھا۔
(انل نریندر)
سرکاریں جھکتی ہیںجھکانے والا چاہئے !
ایران اس کی ایک برننگ مثال ہے ایران میںلڑکی مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہوئی موت کے بعد حجاب کو لیکر جو مشتعل مظاہرے ہوئے اس سے آخر کار ایران سرکار کو جھکنا ہی پڑا ۔حکومت نے اپنے یہاں حجاب کے خلاف ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے درمیاں اخلاقیاتی پولیس (مورلیٹی پولیس)کو ختم کر دیا ہے ۔اسے احتجاجی مظاہرہ کرہیں خواتین کیلئے ایک بڑی کامیابی کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔ وہاں کے اٹارنی جنرل محمد ظفر نے خبر رساں ایجنسی آئی این اے کو بتایا کہ مورالیٹی پولیس کا جوڈیشری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اس لئے اسے ختم کیا جا رہا ہے ۔ جنرل ظفر مونٹیجری کی رائے زنی ایک مذہبی کانفرنس میں سامنے آئی یہاں انہوںنے کانفرنس میں شامل مدعو شخص کو جواب دیا اس نے پوچھا تھا کہ مورالیٹی پولیس کو بند کیوں کیا جا رہا ہے؟ ایران کی مورالیٹی پولیس کو باقاعدہ طور سے گشت ارشاد کی شکل میں جا نا جاتا ہے ۔سال 2006میں اس وقت کے صدر مرحوم احمدی نزاد نے اس ایجنسی کو قائم کیا اور نرم گوئی اور حجاب کے کلچر کو پھیلانے کیلئے کیا تھا ۔ ایران میں 16دسمبر کو 22سالہ طالبہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد حجاب مخالف مظاہرے شروع ہو گئے تھے ان میں اب تک 300سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں ۔ اور ہزاروں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔مورالیٹی پولیس ان لوگوں اور خاص طور پر عورتوں کے خلاف سخت کاروائی کرتی رہی ہے جو دیش کے اسلامی قانون کے حساب سے کپڑے نہیں پہنتی یا کسی بھی شرعیہ قانون کو توڑتی ہیں۔وہاں صدر حسن روحانی کے دور میں لباس کو لیکر کچھ راحتیں دی گئیں تھیں تب عورتوں کو ڈھیلی جینس اور رنگین حجاب پہننے کی اجازت دی گئی تھی ۔جولائی میں جب ابراہیم رئیسی صدر بنے تو انہوںنے بہت سختی سے پرانے قانون کو نافذ کردیا ۔ غور طلب ہے کہ ایران میں 14دسمبر کو 22سالہ طالبہ مہسا امینی کی موت پولیس حراست میں ہو گئی تھی ۔ ایرانی پولیس نے مہسا امینی کو اس لئے حراست میں لیا تھا کیوں کہ انہوںنے اپنے سرکو نہیں ڈھکا ہوا تھا یعنی حجاب نہیں پہنا ہوا تھا ۔ ایران میں عورتوں کیلئے حجاب ایک ضروری قانون ہے مہسا امینی کی موت کے بعد پورے دیش میں مظاہرے شروع ہو گئے اور ہزاروں عورتیں اور مرد سڑکوں پر اتر آئے ۔ ایران میں ویسے تو حجاب کو 1979میں ضروری قرار دیا گیا تھا ۔ سب سے پہلے شاہ رضا پہلوی کے دور حکومت میں عورتوں کے کپڑوں کے معاملے میں ایران کافی آزاد خیال تھا ۔1963میں محمد رضا شاہ پہلوی نے عورتوں کو ووٹ دینے کا حق دیا ۔اور پارلیمنٹ کیلئے عورتیں بھی چنی جانے لگیں ۔1967میں ایران کے پرسنل لاءمیں بھی اصلاحات کی گئی جس میں عورتوں کو برابری کے حق ملے پڑھائی میں لڑکیوں کی ساجھےداری بڑھانے پر زور دیا گیا۔ ایران سرکار 40سال پرانے حجاب قانون پر پھر سے غور کرنے کو تیارہے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے سنیچر کو اس قانون میں نرمی لانے کے اشارے دئے ہیں۔
(انل نریندر)
06 دسمبر 2022
کالیجیم سسٹم کو بے پٹری نہ کریں!
سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ موجودہ کالیجیم سسٹم کو کچھ ایسے لوگوں کے بیانوں کی بنیاد پر بے پٹری نہیں کیا جانا چاہئے یہ جو دوسروں کے کام کاج میں دلچسپی رکھتے ہیں اس کے ساتھ ہی اس نے زور دیا کہ سپریم کورٹ سب سے صاف ستھرے اداروں میں سے ایک ہے ۔عدلیہ میں کام کی تقسیم اور عدلیہ کے ججوں کے ذریعے آئینی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کا موجودہ سسٹم کو لیکر سرکار کے ساتھ بڑھتے تنازعات کے درمیان بڑی عدالت نے کہا کہ وہ کچھ سابق جج صاحبان کے بیانوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ۔جو کبھی ہائر کالیجیم کے ممبر تھے اور اب سسٹم کے بارے میں بول رہے ہیں ۔جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے کہا کہ ان دنوں کالیجیم کے اس وقت کے فیصلوں پر رائے زنی کرنا ایک فیشن بن گیا ہے اور وہ سابق ججوں کی رائے زنیوں پر ہم کچھ بھی کہنا نہیں چاہتے ۔بنچ نے کہا کہ موجودہ کالیجیم سسٹم جو کام کرہی ہے اسے بے پٹری نہیں ہو ناچاہئے ۔کالیجیم کسی ایسے شخص کی بنیا د پر کام نہیں کرتا جو دوسروں کے کام کاج میں زیا دہ دلچسپی رکھتے ہوں ۔کالیجیم کو اپنے فرائض کے مطابق کام کرنے دیں ۔ہم سب سے صاف ستھرے ادارے میں سے ایک ہیں ۔بنچ ایک آر ٹی آئی رضاکار انجلی بھاردواج کی اس عرضی پر وسماعت کررہی تھی جس میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک حکم کو چنوتی دی گئی تھی ۔دہلی ہائی کورٹ نے ان کی اس عرضی کو خارج کر دیا تھا جس میں 12دسمبر 2018کو ہوئی سپریم کورٹ کالیجیم کی میٹنگ کی ایجنڈے کی مانگ کی تھی ۔ جب سپریم کورٹ میں کچھ ججوں کی ترقی کو لیکر مبینہ طور سے کچھ فیصلے لئے گئے تھے ۔ بھاردواج کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ بڑی عدالت کے سابق جج جسٹس ایم بی لوکر جو 2018 میں کالیجیم کا حصہ تھے انہوں نے کھلے طور پر کہا تھا کہ اس برس 12دسمبر کو کالیجیم کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کو بڑی عدالت کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا جانا چاہئے تھا۔
(انل نریندر)
خطرے کی گھنٹی :ایمس سروس ہیکنگ!
دیش کے سب سے بڑے ہیلتھ ادارے ایمس کا سرور پچھلے 10،12دنوں سے ہیک ہوا ہے ۔انتظامیہ نے حالاںکہ اسٹاف بڑھاکر او پی ٹی کو مینولی ہینڈل کرنا شروع کر دیا ہے ۔ لیب کا بار کوڈ نہیں بن رہا ہے ۔اس لئے مریضو ں کے فون نمبر کی بنیاد پر اسے چلا یا جا رہا ہے ۔ حالاں کہ پہلے کے مقابلے میں رپورٹ ملنے میں مریضوں کو ایک یا دو دن انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ہندوستان میں تقریباً سبھی کو پتا ہے کہ ایمس دیش کا سب سے بڑا نامور ،پرانا اور سب سے بھروسہ مند سرکاری اسپتال ہے ۔ایمس تو 1947کے بعد مریضوں کیلئے کھل گیا تھا لیکن کمپیوٹر میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی تکنیک آنے کے بعد سے ایک اندازہ ہے کہ کم سے کم 5کروڑ مریضوں کے ریکارڈ اس میں محفوظ رہے ہیں ۔23نومبر 2022تک چوںکہ اس دن ایمس ہاسپیٹل کے سرور پر سائبر اٹیک ہوا تھا ۔جس کے بعد تقریباً سبھی سرور ٹھپ پڑ گئے اس میں اسپتال کا ای ہاسپیٹل نیٹورک بھی شامل تھا ۔جس سے نیشنل انفورمیٹک سینٹر کنٹرول ہوتا ہے ۔ معاملہ کتنا سنگین ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ کروڑو مریضوں کے پرائیویٹ میڈیکل ہسٹری والے ایمس ڈاٹا بینک میں بھارت کے اب تک کے تقریباً سبھی وزیر اعظم ،کابینہ وزیر ،کئی سائنسدانوں اور ہزاروں اہم شخصیات کا بھی میڈیکل ریکارڈ ہے جو خطرے میں پڑگیا ہے ہو سکتاہے کہ سیکورٹی وجوہات کے چلتے بغیر اس فلور و بلڈنگ کا نام لکھتے ہوئے یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ایمس ہسپتال کے ایک بڑے میڈیکل سینٹر کے ایک خاص فلور پر وزیر اعظم سے لیکر کسی میڈیکل ضرورت کیلئے ایک وارڈ 24گھنٹے تیار رہتا ہے ۔ اس میں ہر موجودہ وزیر اعظم کی میڈیکل ہسٹری مسلسل اپڈیٹ کی جاتی ہے اس کے علاوہ وہاں کئی پرائیویٹ ،وی وی آئی پی وارڈ ہیں جہاں سابق وزرائے اعظم اور سینئر انتظامی حکام کا نہ صرف علاج چلتا ہے بلکہ ان کا پورا میڈیکل ہسٹری کمپیوٹر پر موجود رہتی ہے ۔ اس لئے خطرے کی گھنٹی بجنا لازمی ہے ۔ ایک اور وجہ انٹر نیٹ پر ہونے والے کرائم اور سائبر وار فیئر پر کام کرنے والے تھنک ٹینکس سائبر سروس فاو¿نڈیشن کے مطابق دنیا بھر میں سال2021کے دوران ہوئے سائبر حملوں میں سے 7.7فیصد کا نشانہ ہیلتھ سیکٹر تھا جس میں امریکہ کے بعد دوسرے سب سے زیادہ بھارت میں اٹیک ہوئے ہیں ایمس پر ہوئے سائبر اٹیک کا معمہ ابھی تک نہیں سلجھ پا یا ہے۔ کیوں کہ حملے کے ادارے کی جانچ جاری ہے ۔اور 280کروڑ روپے کی کرپٹوکرنسی کی فیروتی کی مانگ کو دہلی پولیس نے غلط خبر بتایا ہے ۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ایمس کے سرور ہیک کرنے والوں کو کتنا ڈیٹا ملا ہوگا ۔ یہ سب منحصر ہوگا ایمس کے مریضوں کی ہسٹری اسکرپٹ ڈیٹ سسٹم یعنی کئی کوڈ والی سیکورٹی میں تھا یا نہیں ؟سسٹم کی کمیاں تو تھیں ہی جس کے چلتے یہ سرور ہیک ہو گیا ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کا قصور وار کون ہے؟ اگر پرائیویٹ ایجنسی اس کام کو دیکھ رہی تھی تو کیا کام دینے سے پہلے یہ دیکھا گیا تھا کہ وہ کتنی قابل ہے؟ اب اس ایجنسی اور اسے دینے والوں کی جواب دہی طے ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)
02 دسمبر 2022
مرکز کیوں لٹکارہا ہے ججوں کی تقرری؟
سپریم کورٹ نے بڑی عدالت میں جج صاحبان کی تقرری کیلئے کالیجیم کی طرف سے سلیکشن شدہ ناموں کو منظوری دینے میں مرکزی حکومت کی طرف سے تاخیر پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقرری کے طریقے کو ٹھوس دبا و¿ کے ذریعے ناکام کرتی ہے ۔جسٹس ایس کے کول اور جسٹس اے ایس اوکا کی بنچ نے کہا کہ بڑی عدالت کی تین ججوں کی بنچ نے تقرری کاروائی پوری کرنے کیلئے طے میعاد مقرر کی تھی اس میعاد کی تعمیل کرنی ہوگی ۔جسٹس کول کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ سرکار ان حقائق سے ناخوش ہے اور قومی جوڈیشری تقرری کمیشن ایکٹ کو منظوری نہیں ملی لیکن یہ دیش کے قانون کی حکمرانی کو نہیں مارنے کی وجہ نہیں ہوسکتی ہے ۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کالیجیم سے ان 20فائلوں پر نظر ثانی کرنے کو کہا جو ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری سے متعلق ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ان میں وکیل سوربھ کرپال کی فائل شامل ہے جو خود کو سیم لینگک ہونے کی بارے میں بتا چکے ہیں ۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججوںکی تقرری کی کاروائی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارش شدہ ناموںپر مرکزی سرکار نے سخت اعتراض جتایا ہے اور گزشتہ 25نومبر کو فائلیں کالیجیم کو واپس کردیں انہوں نے کہا کہ ان 20معاملوں میں سے 11نئے معاملے ہیں ۔ جبکہ بڑی عدالت کالیجیم نے 9معاملوں کو دہرایا ۔ وکیل سوربھ کرپال کے نام کی سفارش دہلی ہائی کورٹ میں جج تقرری کرنے کیلئے ہے ۔ کرپال سابق چیف جسٹس بے این کرپال کے بیٹے ہیں ۔ جسٹس ایس کے کول کی رہنمائی والی بنچ نے کہا کہ حیرانی کی بات ہے کہ کالیجیم ناموں کو دوبارہ سفارش کر چکاہے ۔لیکن سرکار اس کو دباکر بیٹھ جاتی ہے کئی بار سرکار کالیجیم کی سفارش کو آدھا ادھورا منظور کرتی ہے جن میں کچھ کو منظوری دے دیتی ہے اور کچھ ناموں کو روک لیتی ہے ایسا کرکے سرکار سینئریٹی کو خراب کر دیتی ہے سرکار ایسا کرے گی تو سسٹم کیسے چلے گا؟ بڑی عدالت ایک عرضی پر سماعت کررہی تھی جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ وقت پر تقرری کیلئے پچھلے سال 20اپریل کے حکم میں بڑی عدالت کے ذریعے طے میعاد کی جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے بنچ نے بڑی عدالت اور بڑی عدالتوںمیں ججوں کی تقرری کیلئے کی گئی کاروائی کا تذکرہ کیا ۔ بنچ نے کہا کہ ایک بار جب کالیجیم کسی نام کو دہراتا ہے تو یہ بات ختم ہو جاتی ہے ساتھ ہی بنچ نے کہا کہ ایسی صورت نہیں ہو سکتی ہے جہاں سفارش کی جارہی ہے اور سرکار ان کو لیکر بیٹھی رہتی ہے ۔کیوں کہ یہ نظام کو تباہ کرتی ہے۔
(انل نریندر)
یوپی میں مافیاو ¿ں سے چھڑائی زمین پر مکان بنیںگے !
اتر پردیش میں قانون و نظام کو لیکر آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں۔وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی جی توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست میں قانون و صورت حال میں بہتری آئے اور مافیاو¿ں پر شکنجہ کسا جائے وزیر اعلیٰ نے پچھلے دنوں کہا کہ پچھلی حکومتوں میں فامیاں ترقیاتی کام میں بیریئر بنتے تھے ،روکاوٹیں ڈالتے تھے لیکن اب وہ مافیا جیل میں ہیں یا یوپی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ۔ پر یاگ راج کے پریڈ میدان میں پرووردھ جن سمیلن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کسی غریب ،تاجر اور عام آدمی کی پروپرٹی پر مافیا قبضہ کرے گا تو اسے خالی کراکر اس کو اکوائر کرکے اس پر غریبوں و دیگر لوگوں کیلئے مکان بنانے کی یوجیا تیار کی جائے گی ۔ انہوںنے تعلیمی مافیاو¿ں کو بھی خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت میں تعلیمی مافیاو¿ں کو ان کے کھیل میں کامیاب نہیں ہونے دیںگے ۔ وہ لڑکوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی عادت سے باز آئیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہ ڈبل انجن کی سرکا ر نے پورے پردیش وکاس کیلئے جس ڈھنگ سے کام کیا ہے وہ زمین پر دکھائی دے رہا ہے ۔اگر بلدیاتی چناو¿ میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی ملتی ہے تو ٹریپل انجن کی سرکار وکاس کے انجن کو اور بھی مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائیںگے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2017سے پہلے مافیا اقتدار کے خواب دکھاکر غریبوں اور تاجروں کی پروپرٹی ہڑپ لیتے تھے ۔پولیس اور انتظامیہ کو پریشان کرتے تھے آج وہی پولیس ان مافیاو¿ ں کیلئے کال بن چکی ہے جن مافیاو¿ں نے ناجائز طریقے سے سرکاری اداروں کو لوٹا ہوگا ۔کسی غریب یا تاجر کی پروپرٹی پر قبضہ کیا ہوگا۔ اور اگر ابھی تک خالی نہیں ہوا ہے تو سود سمیت اس کو خالی کرانے کی تیار ی چل رہی ہے۔ان کی پروپرٹی کو ضبط کرکے مکان بنائے جائیںگے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 10سے 12فروری 2023کو لکھنو¿ میں گلوبل انویسٹر سمٹ منعقد ہوگی ابھی تک 1.25لاکھ کروڑ روپے سرمایہ کاری تجاویز آ چکی ہیں 25پالیسی تیار کی گئی ہے اس میں سرمایہ کاری کے امکان کے ساتھ ساتھ سرکار کی رعایتیں بھی ملیںگی ۔ یہ سب آن لائن ہوگا سرمایہ لگائیے اور درخواست دیجئے پھر ساری کاروائی پورٹل کے ذریعے سے آگے بڑھے گی۔ صنعت لگانے کے ساتھ ہی رعایت لینے کیلئے درخواست دیں اپنے آپ آٹو موڈ پر پیسہ آپ کے کھاتے میں پہنچ جاےئگا ۔ بیچ میں کرپشن کی کوئی جگہ نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا چناو¿ تھا جس میں آزادی کے بعد کرپشن کی کوئی جگہ نہیں ۔ جب جنتا ٹھان لیتی ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہے ۔آج ریاست فساد سے نجات پا چکی ہے پچھلی سرکاروں کی بد نیتی کی سیاست کی پالیسی کے سبب بندیل کھنڈ بد حال تھا لیکن اب حالات بہتر ہو گئے ہیں ۔جھانسی سے اڈوانس ٹریفک مینیجمنٹ سسٹم شروع ہو چکا ہے ۔آج کسی چور اچکے بدمعاش کی ہمت نہیں کہ وہ کسی تاجر یا بیٹی کو چھیڑ دے کیمرے میں ایک ایک چیز قید ہو رہی ہے۔
(انل نریندر)
29 نومبر 2022
اپوزیشن لیڈروں پر شکنجہ !
تلنگانہ میں انکم ٹیکس محکمہ کی قریب 50ٹیموں نے وزیر محنت ملہ ریڈی اور ان کے رشتہ داروں اور دفتروں اور گھر پر چھاپہ ماری کی ۔در اصل ملہ گروپ میڈیکل کالج ،ڈینٹل کالج ،انجینئرنگ کالج و ایک اسپتال سمیت کئی تعلیمی ادارے چلاتے ہیں ۔اور ان میں ٹیکس چوی کے الزامات کے بعد انکم ٹیکس محکمہ نے یہ کاروائی کی ہے ۔ 9نومبر 2022کو گرینائٹ گھوٹالے میں ای ڈی نے تلنگانہ کے وزیر خوراک گگلا کملاکر کے دفاتروں پر چھاپہ مارے ۔ 104سیٹوں والی ٹی آر ایس کے 25ممبر اسمبلی رئیل اسٹیٹ ،ہیلتھ ،تعلیم اور شراب جیسے چھاپوں سے جڑے ہیں ۔وزیر مویشی سرنیواس یادو نے مرکز پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس ڈرنے والی نہیں ہے ۔تلنگانہ ٹی آر ایس کے نیتا بھلے ہی یہ کہہ رہے ہوں کہ وہ ڈرنے والے نہیں ہیں ۔لیکن اندر ہی اندر ان ممبران اسمبلی کے ہاتھ پاو¿ں پھولے ہوئے ہیںجن کے کئی دھندھے چل رہے ہیں ۔ اس سال کئی الگ الگ پارٹیوں کے 15بڑے نیتاو¿ں کے خلاف جانچ ایجنسیاں شکنجہ کس چکی ہیں ۔ ان میں سونیا گاندھی،راہل گاندھی سے لیکر سنجے راو¿ت ،نواب ملک ،ستیندر جین ،پارتھ چٹرجی تک کے بڑے نام ہیں ۔ 2014سے لیکر اب تک قریب 121نیتا تو اکیلے ای ڈی کے جانچ کے دائرے میں آ چکے ہیں ان میں 115یعنی 95فیصد اپوزیشن کے ہیں ۔ جبکہ یوپی اے کے عہد میں 2004سے 2014کے درمیان صر ف 26نیتا ای ڈی کے نشانے پر آئے تھے ۔ان میں 14یعنی 54فیصد اپوزیشن کے تھے ۔وہیں 2004سے 2014کے درمیان سی بی آئی نے 72نیتاو¿ ں پر جن میں 43اپوزیشن کے تھے کے خلاف ایکشن لیا ۔ ایسے ہی 124میں سے 118لیڈر اپوزیشن پارٹیوں کے ہیں جو سی بی آئی کے شکنجے میں آئے ۔حال ہی میں ہیمنت سورین سے ای ڈی نے کھدان لاج پٹے میں جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ سے 10گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ۔فاروق عبداللہ سے جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں پیسوں کا گھوٹالہ وغیر کے بارے میں پوچھ تاچھ ہوئی ۔ اسی طرح ای ڈی نے اگست میں پاتر چال کیس میں شیو سینا لیڈ ر کو حراست میں لیا تھا ۔نواب ملک سے ای ڈی نے فروری میں منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا ۔ایسے ہی درجنوں نیتا اور بھی ہیںجو یاتو ای ڈی یا سی بی آئی یا انکم ٹیکس محکمہ کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں۔تکلیف دہ یہ ہے کہ تقریباً یہ سبھی نیتا اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔
(انل نریندر)
کرپشن کی جڑ :پاکستانی فوج!
پاکستان کی فوج کو دنیا کی سب سے زیادہ کرپٹ فوج مانا جاتا ہے۔پاکستان کا ہر نوجوان کسی نہ کسی طرح پاک فوج میں شامل ہونا چاہتاہے ۔پاکستان کہنے میں تو وہاں ایک جمہوری حکومت ہے لیکن اصل پاور پاک فوج کے پاس ہے ۔اس وقت پاکستان کے چیف جنرل قمر باجوا حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں ان کی جگہ نئے چیف آگئے ہیں ،جنرل قمر باجوا کی املاک 4.50کروڑ روپے پتا لگی ہے ۔ یہ ان کے چھ سال کے عہد میں چھ گنا ہو چکی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اکلوتے رئیس فوج کے چیف نہیں ہیں۔پاکستانی فوج کے افسروں کی پروپرٹی بے تحاشہ کیوں بڑھ جاتی ہے ۔اس کولیکر ماہرین نے ایک یہ وجہ بتائی ہے ۔فوج دیش کا سب سے بڑا کاروباری گھرانہ ہے وہ صنعت چلاتی ہے اور کرپشن میں بوری طرح ملوث ہے ۔وہاں کی پارلیمنٹ میں دیش سرکاری دستاویزوں کے مطابق پاکستانی فوج 1.5لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کرتی ہے اس کی جانب نے چل رہے کاروبار میں سمینٹ ،کھاد ،بیج ،تیل ،گیس ،بجلی ،ایئر پورٹ سروسیز اور جہاز رانی سازوں سامان جوتے ،فوج کے سازوسامان ،سیکورٹی سر وس ،ڈسٹلری ،بینک میٹر اشتہاری ایجنسی میڈیکل سروسیز سے لیکر ریئل اسٹیٹ تک کے کاروبار شامل ہیں۔ فوج کی جانب سے یہ کاروبار 50سے زیادہ کمپنیاں اور ملیٹری فاو¿نڈیشن ،شاہین فاو¿نڈیشن ،اور بحریہ فاو¿نڈیشن کے تحت چلاتی ہے ۔ جنرل قمر باجوا تقریبا ً500کروڑ روپے کے دولت کے مالک ہیں اس کا پتہ تو ایک سرگرم ویب سائٹ سے نے دیا ہے یہ بھی ایک وجہ بتائی جا رہی ہے۔ان کے رضاکارانہ سروس سے ریٹا ئر ہونا اس میں تھوڑی بہت خدشات ہو سکتے ہیں لیکن ان کا موازنہ ذرا ہمارے فوج کے چیف سے رکریں وہ و بے چارے اپنی پینشن پر کسی طرح گزارا کرتے ہیں۔ پاکستان کے کئی فوجیوں کے عالیشان مکان ،لندن ،نیو یارک فرینک فرٹ اور دبئی میں دیکھے گئے ہیں ویسا ایک بھی مکان کسی بھی ہندوستانی فوج کے چیف کا آج تک کسی بھی بیرونی ممالک میں نہ دیکھا گیا نہ سنا گیا ہے ۔کریڈٹس گس کی اگتوبر 2022کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے 25ریٹائر ڈ افسرو کے سوز بینک میں کھاتے ہیں جن 80ہزور کرسے زیادہ روپے جمع ہیں ۔ اس میں آئی ایس آئی کے سابق چیف اختر عبدالرحمان خان کا بھی کھا تا ہے ۔ اوو اس طرح بہت سے جرنل بھی لندن میں 5ہزاو کروڑ کی ر پورٹ ہے مشرف کے دورمیں سیکنڈ این کمانڈ افسر تھے ۔پاکستان میں کرپشن کی 2018کی رپورٹ کے مطابق تانا شاہ جنرل پر ویز مشرف نے صدر بنتے ہی اپنی پسندیدہ افسروں کو قریب 1لاکھ کروڑ کے پلاٹ اور فائدے پہچائے ۔ مشرف اور ان کے خاندان کا نام اربوں روپے کی دس پروپرٹیاں ہیں ۔حال ہی میں سرکار کی آڈیٹ رپورٹ میں انکشا ف ہے ہوا ہے ۔پاکستانی فوج نے 25سو کروڑ روپے کی گھوٹالہ کیا ہے ۔ اس میں فوج کے بڑے افسروں کی ملی بھگت سے فوجی زمین اور چھاو¿نیوں کی زمینی اپنے لوگوں کو کوڑیوں کی دام بیچی گئی ۔ پاکستان کے سابق وزیز اعظم عمران خاں نے فوج اور ایک آئی کے خلاف مورجہ کھول دیا ہے جن کو پاکستانی عوام کی بھر پور حمایت ہے لیکن پاک فوج کا اتنا دبدبہ ہے کہ کوئی ان کے خلاف کاروائی کی جرایئت نہیں کرتا ۔
(انل نریندر)
26 نومبر 2022
ضمانت دینے سے کتراتے ضلع جج !
ہائی کورٹس میں ضمانت کی بڑھتی عرضیوں کے تعدا دکے مسئلے پر بھارت کے نئے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے پچھلے سنیچر کو کہا کہ زمینی طورپر جج ضمانت دینے کیلئے غیر خواہش مند ہیں کیوں کہ انہیں گھناو¿نے معاملوں میں ضمانت دینے کیلئے نشانہ بنائے جانے کا ڈر ہے یہی وجہ کہ ہائی کورٹس میں ضمانت کی عرضیوں کی باڑھ آگئی ہے یہ بات انہوں نے بار کونسل آف انڈیا کے ذریعے استقبالیہ تقریب میں کہی ۔سی جے آئی چندر چوڑ نے کہا کہ ضمانت دینے کیلئے بنیادی سطح پر ناخواہشی کے سبب بڑی عدلیہ ضمانت کی درخواستوں سے بھر گئی ہیں اور وہ بنیادی سطح پر ضمانت دینے سے کتراتے ہیں اس لئے نہیں کہ وہ جرم کو نہیں سمجھتے ہیں بلکہ گھناو¿نے معاملوں میں ضمانت دینے کیلئے نشانہ بنائے جانے کا ان میں ڈر ہے ۔اس ڈر کے بارے میں کوئی بات جہاں کرتا جو ہمیں کرنی چاہئے اس سے ضلع عدالت کا دبدبہ کم ہو رہا ہے اور ہائی کورٹ کے کام کاج پر اثر پڑ رہا ہے ۔ سی جے آئی نے کہا کہ اگر ضلع ججوں کو اپنی اہلیت اور اوپری عدالتوں پربھروسہ نہیں ہوگا تو ہم ان سے کسی اہم معاملے میں ضمانت کی امید کیسے کر سکتے ہیں؟ پچھلے دنوں میںجسٹس چندر چوڑ نے ضلع ججوں کے تئین برتاو¿ کولیکر طنز بھی کیا تھا سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے ایک پروگرام میں کہا کہ ہائی کورٹ کے ججوں کو ضلع عدالتوں کو سبورڈینیٹ ماننے کی ذہنیت بدلنی چاہئے ۔ یہ ہماری کم ظرفی کی ذہنیت کو بتاتی ہے چندر چوڑ اپنے فیصلوں اور کورٹ کے معاملوں میں منفرد کمنٹس کیلئے مشہور ہیں جمعہ کو بھی ایک کیس کی سماعت کیلئے پہنچے ایک نوجوان وکیل کو انہوں نے ڈانٹ لگائی ان درمیان مرکزی وزیر قانون کیرن ریجوجی بھی اس پروگرام میںموجود تھے نے تبادلوں کے سلسلے میں کئی وکیلوں کے چیف جسٹس سے ملنے کے مسئلے پر تشویش جتائی ان کا کہنا تھا سنا ہے کہ کچھ وکیل تبادلہ معاملے کے سلسلے میں چیف جسٹس سے ملنا چاہتے ہیں ۔ یہ ایک شخصی مسئلہ ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ سرکا ر کے ذریعے اسپانسر کالیجیم کے ذریعے ہر فیصلے کیلئے ایک غیر ضروری مثال بن جاتا ہے تو یہ کہاں تک لے جائےگا ۔پورا معاملہ ہی بدل جائےگا ۔ہر روز دس ضمانت عرضی دس ٹرانسفر پیٹیشن چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کیلئے لیا بڑا فیصلہ ضمانت کا معاملہ لوگوں کی پرسنل لیبرٹی سے جڑا ہوا ہے ایسے میں ضمانت کی عرضی پر ترجیحی بنیا دپر سماعت کی جائے گی ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ اس بارے میں فل کورٹ میں فیصلہ لیا گیا ہے اس طرح دیکھا جائے تو کورٹ میں 13بنچ بیٹھتی ہے اور ہر بنچ دس دس ضمانت اور ٹرانسفر پیٹیشنوں کو سنے گی۔
(انل نریندر )
ایسے نہیں چلے گا،فائل دکھائیے!
کسی بھی دیش کی جمہوریت کی بنیاد اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہاں پر چناو¿ عمل کتنا منصفانہ اور آزاد ہے ۔چناو¿ جمہوریت کی ریڑ ہوتا ہے اور چناو¿ کمیشن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بغیر کسی دباو¿ یا لالچ کے دیش میں منصفانہ و آزادانہ چناو¿ کرائے ۔ یہ چناو¿ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ چناو¿ کمیشن اس کو چلانے والے افسر کسی پارٹی کے مہا منڈل سے متاثر ہوئے بغیر صرف سختی سے قواعد و شرائط کے مطابق اپنا کام کرے ۔سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مرکزی حکومت سے چناو¿ کمشنر ارون گوئل کی تقرری سے منسلک فائل اس کے سامنے پیش کرنے کو کہا تھا جو سرکار نے پیش کردی گوئل کو 19نومبر کو الیکشن کمشنر بنا یا گیا تھا جسٹس کے ایم جوسیف کی سربراہی والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے کہا کہ وہ جاننا چاہتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے حیثیت میں گوئل کی تقرری کیلئے کہیں کو ئی نامناسب قدم تو نہیں اٹھا یا گیا چوںکہ حال ہی میں سروس سے رضاکارانہ ریٹائر منٹ دیا گیا تھا ۔ بنچ نے سماعت کے دوران گوئل کی تقرری سے جوڑی فائل دیکھنے کی خواہش پر اٹارنی جنرل آر وینو وینکٹرمنی کے اعتراضات کو خارج کر دیا ۔ بنچ کے ممبران نے جسٹس اجے رستوگی ،جسٹس انیرودھ باس ،جسٹس رشی کیش رائے اور جسٹس سی ٹی روی کمار شامل ہیں ۔چناو¿ کمشنروں اور چیف الیکشن کمشنر کو لیکر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ضرورت ایسے چیف الیکشن کمشنر کی ہے جو پی ایم کے خلاف بھی ایکشن لے سکے ۔ زبانی ریمارکس میں سپریم کورٹ میں مرکزی سرکار کے وکیل سے کہا کہ فرض کیجئے کہ کسی پی ایم کے خلاف کچھ الزام ہیں اور چناو¿ چیف الیکشن کمشنر کو ان پر ایکشن لینا ہے ۔اگر چیف الیکشن کمشنر کمزور ہے تو وہ ایکشن نہیں لے سکتا ۔کیا ہمیں سسٹم کو تباہ کرنے والا نہیں ماننا چاہئے ۔چیف الیکشن کمشنر کے کام میں سیاسی دخل اندازی نہیں ہونی چائیے ۔ مرکز میں کسی بھی پارٹی کی سرکا رہو ،اقتدار میں بنے رہنا چاہتی ہے ۔تقرری کے موجودہ سسٹم میں سرکا ر ہاں میںہاں ملانے والے کی تقرری کر سکتی ہے ۔سپریم کورٹ ان عرضیوں پر سماعت کر رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے کالیجیم جیسا سسٹم ہونا چاہیے ۔غور طلب ہے کہ بھارت میں انتخابات کرانے کے سلسلے میں جو یاد رکھی جانے والی کچھ شخصیات رہی ہیں ان میں ٹی ایم سیشن تھے ۔اس دور میں صاف اور منصفانہ چناو¿ کرانا ایک چیلنج تھا لیکن انہوںنے اپنے عہد میں کسی لیڈر یا پارٹی کے دباو¿ میں آئے بغیر جس طرح چناو¿ کاروائی چلائی وہ آزادانہ اور منصفانہ صاف ستھرے انتخابات کرانا ایک ٹھوس مثال ہے ۔اس لئے سپریم کورٹ نے اگر مضبوط اور صاف ستھرا کردار رکھنے والے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر زور دیا ہے تو اس کی اہمیت سمجھی جا سکتی ہے ۔ سرکار ی وکیل نے ارون گوئل کی فائل دکھانے میں ہچکچاہٹ دکھائی تو کورٹ نے کہا کہ ایسے چلے گا،فائل دکھائیئے ۔ (انل نریندر)
22 نومبر 2022
کشمیری صحافیوں کو مارنے کیلئے ہٹ لسٹ !
کشمیر ی صحافیوں کو مل رہی دھمکیوں کی ماسٹر مائنڈ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا دہشتگرد مختار بابا ہے ۔ ترکی میں اپنے منصوبوںکو انجام دے رہا ہے بابا نے مرکزی حکمراں ریاست کے صحافیوں پر سیکورٹی فورسیز کے مخبر ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ایک ہٹ لسٹ تیار کی ہے ۔اس کا انکشاف خفیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے بابا کے ساتھ ہی اس کے رابطے میں رہنے والے چھ دیگر لوگوں پر شبہ ہے ۔یہ دھمکی لشکر کے اتحادی گروپ ٹی آر ایف کی طرف سے دھمکی ملنے کے بعد کئی صحافی مقامی اخبارات سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔پولیس کے مطابق ہٹ لسٹ سامنے آنے کے بعد یو پی اے کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور معاملے کی جانچ کی جارہی ہے ۔ مرکزی خفیہ ایجنسیوں کی خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر پتہ چلا ہے کہ بابا ترکیہ اکثر پاکستان آتا جاتا رہتا ہے ۔ اور اس نے لشگر طیبہ کی شاخ دی مزاہمت فرنٹ کے بینر تلے دہشت گردی کیلئے وادی میں نوجوانوں کو تیار کرنے فرضی کہانی بنانے اور ان کا پروپیگنڈہ کرنے کے کارناموں کا سرغنہ ہے ۔ بنیادی طور سے وہ سری نگر کا باشندہ مختار بابا ترکیہ کی راجدھانی انقرہ بھاگنے سے پہلے وہ ناگام میں شفٹ ہو گیا تھا اس نے صحافیوں کے درمیان اس نے مخبروں کا ایک نیٹورک بنا یا ہے ۔ جن کی رپورٹ اس نے صحافیوں کی لسٹ تیار کی وہ 1990کی دہائی میں آتنکی گروپ حزب اللہ سے جڑا تھا اسی برس ستمبر میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی تھی تو ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ دونوں دیشوں کے درمیا ن کشمیر کو لیکر اختلافات دور کرنے کوشش ہوگی لیکن اس کے بعد جو اشارے ترکیہ سے ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کو ملے وہ بہت زیا دہ حوصلہ افزا نہیں ہے جس طرح سے 80اور 90کی دہائی میں شروعات میں دبئی بھات مخالت سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا اسی طرح آج انقلابی مرکز بنا رہا ہے ۔حالیہ مہینوں میں جس طرح سے افغانستان میں اور وسط ایشائی ممالک میں ترکی ایک طراپنے سرگرمیاں تیز کرنے اطلاعات آرہی ہیں اس سے بھارت کی سیکورٹی ایجنسیاں چوکس ہیں ۔ بھارت کے حکمت عملی سازوں کو پختہ جانکاری ہے کہ پاکستان ترکیہ کے ذری کشمیر اور افغانستان میں بھار ت کے خلاف کام کرنے کی سازش میں لگا ہوا ہے ۔ترکیہ حکومت کے بڑے افسرا ن اس میں پاکستان کی ایجنسیوںکو پوارا تعاون دے رہے ہیں ۔ اور ترک صدر ایردوان کئی بار اقوام متحدہ میں کشمیر کا اشو اٹھا چکے ہیں ۔ بھارت نے اس کا حالاںکہ معقول جواب دیا ہے ۔ لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ ترکیہ بھارت مخالف سرگرمیوںکا گڑھ بن چکاہے۔
(انل نریندر)
بم سے اڑانے کی دھمکی!
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور کانگریس نیتا کمل ناتھ کو جان سے مارنے کی دھمکی کے معاملے میں پولیس نے دو لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔بھارت جوڑو یاترا کے اندور پہنچنے سے محض دس دن پہلے شہر میں مٹھائی نمکین کی دکان کے پتے پر دھمکی بھرے خط کو لیکر پولیس نے جمعرات کو نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر دوج کی تھی پولیس کے مطابق ڈاک سے ملے خط میں سال 1984کے سکھ مخالف دنگوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اور اس مہینے کے آخر میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران اندور کے الگ الگ مقامات پر زبردست بم دھماکوں اور راہل گاندھی و مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ کو بم سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے ۔ پولیس کمشنر ہری نارائن مشرا نے بتایا کہ جونی اندور علاقے میں مٹھائی نمکین کی ایک دکان کے پتے پر بھیجے گئے خط کے بنیاد پر پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 507کے تحت نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔اس کے بعد جونی اندور تھانے کی انچارج یوگیش سنگھ تومر نے بتایا کہ دھمکی بھرا خط بھیجنے کے معاملے میں دو لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ ان سے پوچھ تاچھ جاری ہے ۔اس خط میں لکھا ہے کہ سکھ مخالف دنگوں کے دوران ہوئے ظلم کے خلاف کسی بھی سیاسی پارٹی نے آواز نہیں اٹھائی ۔خط میں کمل ناتھ کیلئے ناقابل بیان الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی گئی ہے ۔راہل گاندھی کے اندور پہنچنے کے دوران کمل ناتھ کو بہت جلد گولی مار دی جائے گی۔ راہل گاندھی کے پاس پہنچا دیا جائے گا۔ لیکن اس میں راہل گاندھی کو بم سے اڑانے سیدھے طور بات نہیں کہی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ڈاک کی مہر لگے لفافے کی تصویر میں سامنے آئی ہے جس میں خط بھیجنے والے کی شکل میں رتلان شہر کے بھاتیہ جتنا پارٹی کے ممبر اسمبلی کا نام لکھا گیا ہے ۔بھاجپا ممبر اسمبلی نے کہا انہیں بدنام کرنے کیلئے سازش رچی گئی ہے اس لئے ان کا خط میں نام بھیجنے والے کے طور پر لکھا گیا ہے ۔ممبئی یاترا پر گئے ممبراسمبلی کممپ نے فون پر کہا کہ میں نے رتلان اور اندور کے اعلیٰ پولیس افسران سے درخواست کی ہے کہ دھمکی بھرے خط کے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کر ملزم کو جلد گرفتار کیا جائے ۔ کانگریس پر دیش سیکریٹری نیلاب مبلاً نے مانگ کی کہ دھمکی بھرے خط کی سنجید گی سے جانچ کی جائے اور اندور میں بھارٹ جوڑ و یاترا کے دوران پختہ انتظام کی جائے ۔ واضح ہو کہ اس یاترا میں شامل لوگوں کا اندور کے اس کھالسہ اسٹیڈیم میں 28نومبر کو استقبال کیا جا نا تجویز ہے جو کچھ دن پہلے کمل ناتھ سے جوڑے تنازعہ کا گواہ بنا تھا۔ دھمکی بھرے خط میں کتنا دم ہے یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ جس طرح بھیڑ راہل گاندھی کی بھارت جوڑ و یاترا میں جڑ رہی ہے اس سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔راہل بھی کوئی احتیاط کرتے نظر نہیں آرہے ہیں۔بھیڑ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ان کو اوپر والا بچائے !
(انل نریندر)
18 نومبر 2022
رام سیتو پر پیچھے ہٹتے سرکار کے قدم !
سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی عرضی پر جواب داخل کر تے ہوئے مرکزی حکومت کو چا ر ہفتے کا وقت دیا ہے جس میں رام سیتو کو قومی وراثت ڈکلیئر کرنے کیلئے ہدایت دینے کی دوخواست کی گئی ہے ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ،جسٹس ہیماکوہلی اور جسٹس جے وی پاردیوال کی بنچ کو سبرامنیم سوامیں نے بتایا کہ یہ ایک چھوٹا سا معاملہ کا جہاں مرکز کو اس معاملے میں ٹال مٹول نہیں کرنی چاہئے تھی ۔ مرکز کے وکیل جواب داخل کر تے ہوئے کہا کہ جواب حلف نامہ تیار ہے اور ہمیں سرکار سے ہدایت لینی ہے ۔ جج نے کہا کہ آپ اپنے (مرکزی حکومت ) پیر کیوں کھینچ رہے ہیں ۔بنچ نے چار ہفتے کے اندر جوابی حلف نامہ داخل کئے جانے پر اس کی ایک کاپی عرضی گزار سبرامنیم سوامی کو دی جائے اس کے بعد اگر کوئی جواب دینا ہو تو اس کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے اس سے پہلے سابق چیف جسٹس این وی رمن کی صدارت والی ایک بنچ نے 3اگست کو کہا تھا کہ سوامی کی عرضی کی سماعت کیلئے پینل کر دیا جائے گا ۔ رام سیتو کو ایٹمس برج کے طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔جو تامل ناڈو کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع پمبن جزیرے اور سری لنکا کے بیچ مغربی ساحل بھنجر جزیرے کے بیچ چونے پتھر کی ایک پل ہے ۔ہندوو¿ ں کا خیال ہے کہ یہ سیتو ہنومان جی نے شری رام کی سینا کو سری لنکا جانے کیلئے بنایا تھا۔بھاجپا نیتا سوامی کہا کہ وہ مقدمے کا پہلا مرحلہ جیت چکے ہیں جس میں مرکز نے رام سیتو کے وجود کو مانا ہے ۔اور مرکزی وزیر نے سال2017میں ان کی مانگ پر غور کرنے کیلئے ایک میٹنگ بلائی تھی لیکن اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا ۔ یوپی اے کی سرکار کی طرف سے شروع کی گئی متنازعہ سیتو سمندرم چیف چینل پروجیکٹ کے خلاف اپنی مفاد عامہ کی عرضی میں رام سیتو کو قومی وراثت ڈکلیئر کرنے کا اشو اٹھایا تھا ۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا جہاں 2007میں بھی رام سیتو پر پروجیکٹ کے کام پر روک لگا دی گئی تھی۔بعد میں مرکزی سرکا رنے کہا تھا کہ اس نے پروجیکٹ کے سماجی و اقتصادی نقصان پر غور کیا تھا اور رام سیتو کو نقصان پہنچائے بغیر پروجیکٹ کیلئے ایک راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد عدالت نے سرکار سے نیا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا تھا۔
(انل نریندر)
بڑھتی چینی طاقت سے امریکہ پریشان!
چینی صدر شی جن پنگ کی جاریحانہ خارجہ پالیسی کا سب سے زیادہ اثر وسط مشر ق ایشیا میں صاف دکھائی پڑ رہا ہے لیکن جیسے جیسے بیجنگ کی طاقت بڑھ رہی ہے امریکہ کی بے چینی بھی صاف جھلک رہی ہے ۔کئی برسوں کی ٹال مٹول کے بعد اب امریکہ اس خطے کی طرف آخر توجہ دے رہا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن سال 2017کے بعد جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم یعنی آسیان کی کسی بھی سالانہ میٹنگ میں حصہ لینے والے پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں۔حالاںکہ پچھلے سال بھی وہ آسیان کا حصہ تھے،لیکن ویڈیو لنک کے ذریعے انہوںنے شرکت کی تھی آسیان کی میٹنگ میں حصہ لینے کے بعد بائیڈن اس خطے کے ایک اہم ملک انڈونیشیا ،بھارت ہے جہاں وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملیںگے ۔اس کے بعد دونوں نیتا جی 20میں شامل ہوئے لیکن امریکہ اب پہلے سے کہیں وشواس گھاتی ڈپلومیٹک ماحول میں چلا رہا ہے ۔ایک زمانے میں آسیان گروپ کو ایشیائی بحرالکاہل خطے میں ڈپلومیسی کیلئے ایک اہم جگہ مانا جاتا تھا لیکن اب وہ گروپ بندی میں بٹتی جا رہی ہے ۔ دنیا میں اس کا اثر کم ہوا ہے آسیان گروپ اپنی ساکھ امن اور غیر جانبداری والا گروپ بنانا چاہتا ہے ۔گروپ اپنے دس ممبر ملکوں میںایک رائے پر رزور دیتا ہے تاکہ ایک دوسرے کی نکتہ چینی نہ کی جائے اور سبھی ممبر گروپ سے باہر کسی بھی ملک سے اپنے ڈپلومیسی جاری رکھ پائیں ۔چین کے صدر شی جن پنگ سال 2017میں آسیان اور ایشیائی پیسفک ایکانومک کوآپریشن کی میٹنگ میں حصہ لیتے ہوئے آسیان میں اپنے فیصلے لاگوں کر نے کی کسی مخصوص کاروائی کی کمی اس نظریہ کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔یہ رویہ تب تک تو صحیح تھا جب تک دنیا میں امریکہ کا بو ل بالا تھا لیکن سال 2000کے بعد عالمی منڈی میں چین کی بڑھتی دھاک سے اس خطے میں امریکی اثر گھٹا ہے کیوں کہ اس کی اقتصادی کمان وسط مشرق ایشیا کی طرف رہی ہے ۔اس دوران چین اس خطے میں اپنے سابق لیڈر ڈینگ زیاو¿پنگ کے منتر اپنی طاقت چھپا و¿ وقت کاٹتے رہو لیکن کام کر تا رہا ہے ۔شی کے عہد کے دس برسوں میں چین کی طاقت اور اثر کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔گزشتہ ایک دہائی میں جنوبی مشرق ایشیا میں مصنوعی جزیروں پر چین کا قبضہ اور فوجی اڈے بنانے کی کوشش نے اسے ویتنام اور فلپائن کے سامنے لا کھڑا کیا ہے ۔آسیان نے چین کے اس خطے میں قواعد کی تعمیل کرنے گزارش کی تھی۔لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں چین نے ساو¿تھ چین سمندر میں ایسے کئی مصنوعی ٹاپو بنائے ہیں جن میں چین کے فوجی اڈے ہیں۔چین اقتصادی طور سے کافی اہم ہے ،اور فوجی طور پر بھی اتنا طاقتور ہے کہ کوئی اسے کھلے عام چنوتی نہیں دے سکتا ۔چین نے آسیان گروپ کی اتحاد کی دھجیا ں اڑا دی ہے ۔اس کی ڈپلومیسی کی چالوں کی وجہ سے چھوٹے آسیان ممبر اب پوری طرح سے اس منحصر ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ یہ خطے میں اب امریکہ کے ساتھ رشتوں کولیکر مایو س ہوتا جا رہاہے ۔ اب یہ دیش امریکہ کو بھروسے کا پاٹنر نہیں مانتے انہیں لگتا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق اور جمہوریتی کی جنگوں میں الجھا رہتا ہے ۔سال1943میں ایشیا میں آئے مالی بحران کے دوران امریکہ نے اس خطے کو سخت اقتصادی قدم اٹھانے کیلئے مجبور کیا تھا اس کے بعد جارج بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے جنوب مشرقی ایشیا کی امریکہ میں دلچسپی تقریباً ختم کردی تھی۔
(انل نریندر)
15 نومبر 2022
کیا آئی پی ایل نے ٹی انڈیا کو نقصا ن پہنچایاہے ؟
کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جس طرح سے پوری ٹیم انڈیا ہاری اس سے کروڑوں ان کے فینز کو گہرا صدمہ لگا ہے اور بنا فائٹ کے ہی ہار گئے ۔مسلسل دوسرے سال ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹیم انڈیا دس وکٹ سے ہاری ۔یہاں تک کہ پوری دنیا کی سب سے مہنگی کرکٹ لیگ آئی پی ایل بھی بھارت کو اب تک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ونر نہیں بنا پائی ۔آئی پی ایل کی شروعا ت 2008میں ہوئی تھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ 20ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی برانڈ ویلیو اور جدید ترین سہولیات کے باوجود ٹیم انڈیا 14برسوں میں ایک بار بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپیئن نہیں بنی ٹی ٹوئنٹی ور لڈ کپ بھارت نے ضرور جیتا لیکن آئی پی ایل کا اس میں کوئی رول نہیں ہے۔ 2007آئی پی ایل شروع ہونے سے پہلے ایم ایس دھونی کی کپتانی میں چیمپئن بن چکی ہے ۔وہیں کئی دیش اپنے یہاں لیگ شروع کرنے کے بعد ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت چکے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آئی پی ایل کا بڑا ہاتھ ہے ۔ اس لیگ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ان کے کھیل کی دھار کند پڑ جاتی ہے جبکہ آئی پی ایل میں کروڑ پتی پلیئر خوب جلوہ بکھیرتے ہیں ۔پاکستان کے نامور گیند باز وسیم اکرم بطور کوچ آئی پی ایل کا حصہ رہ چکے ہیں وہ خود بھی حیران ہیں کہ اتنی بڑی لیگ ہونے کے باوجود ٹیم انڈیا 14برسوں میں ایک بار بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ چیمپیئن نہیں بن سکی ؟ آئی پی ایل کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ فائدہ ہوا ہے وہ ٹیم انڈیا کے پلیئر س کے انڈیا کے کھلاڑیوں کے اسٹائل و تکنیک سے واقف ہو گئے ہیں ۔ انہیں یہ پتا لگ گیا ہے کہ ٹیم انڈیا کا اسٹرونگ پوائنٹ کیا ہے اور کونسا کمزور پوائنٹ ہے اور نتیجہ صاف ہے ۔سیمی فائنل کی شرمناک ہار بھولائی نہیں جا سکتی جیسے شرمشار پرفارمنس کی قطعی امید نہیں تھی اور کروڑ وں ہندوستانی پرستاروں کا دل ٹوٹ گیا ۔یہاں قسمت نے بھی کام کیا بنگلہ دیش کے خلاف بارش نے ساتھ دیا اور ہم جیت گئے ۔پاکستان باہر ہوکر بھی فائنل میں پہنچ گیا ۔سیمی فائنل سے بہت مایوسی ہوئی۔
(انل نریندر)
سنجے راوت کی ناجائز گرفتاری!
شیو سینا لیڈر و ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت کو ممبئی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت دے دی ہے ۔لیکن انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے ان ضمانت کی مخالفت کی ۔شیو سینا لیڈر کو راحت دیتے ہوئے ممبئی کی سیشن عدالت نے ای ڈی پر کچھ سخت ریمارکس دئے ہیں۔ اور جانچ ایجنسی کے ارادے پر بھی سوال کھڑے کئے ۔ جیل سے باہر آنے کے بعد سنجے راوت نے کہا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں کسی سے ناراض نہیں ہوں ، میں نے 100سے زیادہ دن جیل میں گزارے ہیں میرا آخر گناہ کیاتھا؟ انہوںنے کہا جمہوریت میں الگ الگ لوگوں کی الگ الگ رائے ہو سکتی ہے ۔ جیل سے باہر آنے کے بعد سنجے راوت نے شیو سینا لیڈ اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی انہوں نے سنجے راوت تعریف کی اور کہا کہ ،دوست مصیبت کے وقت نہ صر ف ساتھ کھڑا ہوتا ہے بلکہ لڑتا بھی ہے ۔سنجے راوت ایسے ہی لڑ رہے ہیں انہوںنے کہا کہ آج تک مرکزی ایجنسیوں کا بےجا استعمال کر انہیں توڑا جا چکاہے ۔اور کئی پارٹیوں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،عدالت کی پھٹکار کے بعد بھی سنجے راوت کو دوسرے جھوٹے مقدموں میں پھنسانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ وہیں سنجے راوت نے کہا کہ وہ این سی پی نیتا شرد پوار سے بھی ملیںگے ۔ اورکچھ لوگوں کے کاموں کیلئے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے بھی ملاقات کریںگے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پورے معاملے کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ہے کہ دونوں ملزمان کو ناجائز طریقے سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ ضروری ہونے پر گرفتاری کی کاروائی کی جا سکتی ہے۔لیکن ای ڈی کی جانب سے پی ایم ایل اے ایکٹ کی دفعہ 19کے تحت کی گئی کاروائی ناجائز ہے ۔ سول معاملوں کو منی لانڈرنگ یا معاشی جرم کا نام دینے سے اسے وہ اسٹیٹس نہیں ملتا ۔گرفتاری سے بے قصور لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے کورٹ کے سامنے کوئی بھی ہو اس کا کام اسے مناسب انصاف دینا ہے ۔کورٹ کے سامنے موجود ریکارڈ اور دلائل سے صاف ہے کہ پروین راوت شیوانی معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اور سنجے راوت کو بے وجہ گرفتار کیا گیا ۔یہ حقیقت حیران کرنے والی ہے اس معاملے میں مہاراشٹر ہاوسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا رول مشتبہ تھا۔ ای ڈی بھی ان کے متفق ہو گئی لیکن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام پر کوئی الزام نہیں لگا یا گیا ۔ سارن اور راکیش وادھاون اہم ملزم تھے لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا گیا لیکن اسی وقت پروین راوت کو دیوانی معاملے میں گرفتار کر لیا گیا اور سنجے راوت کو بنا وجہ گرفتار کیا گیا ۔ یہ دکھاتا ہے کہ ای ڈی نے اپنی سہولت کے حساب سے برتاو کیا ۔ پی ایم ایل اے کورٹ کے جج ایم جی دیش پانڈے نے اپنے حکم میں ای ڈی پر سخت ریمارکس دئے اور پھر سوال بھی اٹھائے ۔پی ایم ایل اے کورٹ کی تشکیل کے بعد سے اب تک کسی بھی معاملے میں ای ڈی ٹھوس ثبوت پیش کر سکی ۔ یہاں تک کہ گزشتہ ایک دہائی میں بھی کورٹ نے کسی بھی معاملے میں فیصلہ سنایا ہے ۔ کیا معاملے کو شروع کرنے اور ختم کرنے کیلئے ای ڈی کا کوئی فرض نہیں ہے؟
(انل نریندر)
10 نومبر 2022
آبروریزی کی پہچان و بیان پر پابندی!
سپریم کورٹ نے دیش کی سبھی ہائی کورٹ عدالتوں کو آبروریزی متاثرہ خواتین کی پہچان اور ان کے بیان راز میں رکھنے کو لیکر اہم صلاح دی ہے ۔چیف جسٹس ادے امیش للت اور جسٹس بیلا ایم چتروید ی کی بنچ نے ماضی میں دئے گئے بڑی عدالت کے فیصلوں کو ایک بار پھر سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی سی کی دفعہ 164کے تحت آبروریزی کے معاملے میں جب تک چارج شیٹ یا فائنل رپورٹ داخل نہ ہوجائے تب تک متاثرہ کے بیان کا انکشاف کسی کے سامنے نہیں کیا جانا چاہئے ۔سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی ملک کی ہائی کورٹس کو صلاح دی کہ آبروریز یا جنسی استحصال کے معاملوں میں جرائم عمل کورٹ کی دفعہ 164کے تحت درج اہم ترین بیانوں سے متعلقہ مجرمانہ کاروائی یا ٹرائل کے قواعد میں مناسب ترامیم کی جائیں بنچ نے دو بچوں کی طرف سے دائر ایک توہین عرضی کا نپٹارہ کرتے ہوئے یہ صلاح دی جو اپنے ہی والد اور اس کے دوستوں کے ذریعے جنسی زیادتی کا شکار ہے ۔عرضی گزار کی وکیل تمنا اگروال نے اس سلسلے میں تجویز داخل کی اس میں ان کی طرف سے مانگ کی گئی کہ شیوبترا عرف تاکری شیوبترا بنام اترپردیش سرکار و دیگر کے معاملے میں بڑی عدالت کے ذریعے ڈکلیئر قانون کی مختلف تقاضو ں ودیگر عدالتوں کے ذریعے بنائے گئے جرائم مقدمہ قواعد میں شامل کیا جانا چاہئے ۔بنچ نے سینئر وکیل کی دلیل کو صحیح ٹھہرایا اور سبھی ہائی کورٹس کو اسے شامل کرنے کی صلاح دی ۔ اور دفعہ 164کے تحت درج بیان سپریم ہے اور اس میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔جب تک دفعہ 173کے تحت چارج شیٹ یا فائنل رپورٹ دائر نہیں کی جاتی ۔دراصل بڑی عدالت تلنگانہ پولیس کے خلاف دائر توہین عدالت کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی اس میں جارج شیٹ داخل نہ ہونے کے باوجود آبروریزی کے الزامات کو دفعہ 164کے تحت درج اہم بیانوں کی تہہ تک پہنچنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ وکیل تانیہ اگروال نے دلیل دی تھی کہ اس معاملے میں بڑی عدالت کے ذریعے طے قانون کی تعمیل نہیں کی گئی ۔اور مطالبے مجسٹریٹ کے ذریعے 164کے تحت درج متاثرہ کے بیانوں پر ملزم کے ذریعے مختلف معاملوں میں وسیع طور سے بھروسہ کیا گیا تھا ۔ عرضی دائر کرنے والے عرضی گزار نے الزام لگا یا تھا کہ 164کے تحت ان کی بیٹی کا بیان آبروریزی کے معاملے میں ملزم کو ہی دے دیا گیا ۔ اس معاملے میں بنچ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ان کو افسوس ناک قرار دیا ۔حالاںکہ اس معاملے میں بنچ نے توہین عدالت کے بارے میں کوئی کاروائی شروع نہیں کی۔
(انل نریندر)
ٹیم انڈیا کو روکنا مشکل ہوگا!
میلبورن کرکٹ میدان کے باہر اتوار کو ایک فین نے یہ دعویٰ پورے بھروسے کے ساتھ کیا کہ ٹیم انڈیا کو ورلڈ کپ جیتنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا جب اس فین کو یاد کرایا گیا کہ ابھی بھی دو میچ کھیلنے باقی ہیں دونوں جیتنے ہوںگے تبھی ورلڈ کپ مل پائے گا تو ان کا جواب تھا کہ بے شک انگلینڈ کی ٹیم مضبوط ہے لیکن ہم کونسے پیچھے ہیں ہم نے انگلینڈ کو کئی بار ہرایا ہے ۔گروپ راو¿نڈ کا یہ پہلا میچ تھا جہاں روہت شرما کاٹیم سے میلودور آگے نظر آئی ۔بھارت نے نیدرلینڈ کے خلاف 56رن کی بڑی جیت حاصل کی تھی لیکن اس میچ میں ٹیم کے کئی کمزور پہلو بھی اجاگر ہوئے تھے پاکستان کے خلاف میچ میں ٹیم انڈیا نے تقریباً ہار کے جبڑے سے جیت چھینی تھی ۔بنگلہ دیش نے بھی ایک وقت سانسیں پھلا دی تھی ۔ بھار ت نے پاکستان کو 4وکٹ اور بنگلہ دیش کو 5رن کے فرق سے مات دی تھی ۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم انڈیا کو ہار کا جھٹکا جھیلنا پڑا ۔ زمبابوے کے خلاف بھی فینز کو بیچ کے کھیل میں وہیں پہلو نظر آئے جو کرکٹ ماہرین نے دیکھے ۔کپتان روہت شرما کی ناکامی ،اسپینر س کے سلیکشن نہ ہونے کی دقت اور فلڈنگ کی کمزوریوں کے شکایت کی وجہ بنی لیکن پھر بھی میچ دیکھنے پہنچے اور سوشل میڈیا پر کمینٹ کر رہے فینز میں سے زیادہ تر دعویٰ کر رہے ہیں کہ اب ٹیم انڈیا کو روکنا مشکل ہے روہت شرما اور ٹیم انڈیا ورلڈ کپ کے ساتھ گھر لوٹے۔ ایسی خواہش تمام سابقہ کھلاڑی بھی ظاہر کر رہے ہیں ان میں کرکٹ کے عظیم بلے بازوں میں شمار سچن تیندولکر بھی شامل ہیں ۔ زمبابوے کے خلاف میچ کے ایک دن پہلے بھار ت کے اسٹار بلے باز ویراٹ کوہلی نے جنم دن منا یا ۔اس مو قع پر سچن تیندولکر نے بھی ٹویٹ کر ویراٹ کو مبارک باد دی اور کہا کہ ڈیئر ویراٹ ورلڈ کپ کے بیچ کیک پر لگی ممبتیاں بجھاتے وقت آپ بھی دعا کر رہے ہوںگے جو کروڑوں ہندوستانی کر رہے ہوںگے ۔ آسٹریلیا می روہت شرما کی کپتانی میں کھیل رہی ٹیم انڈیا کے سب سے بڑے میچ وینر ویراٹ کوہلی ہی بنے ہوئے ہیں ۔ بے جوڑ ویراٹ 5میچوں میں 123رن کے زبردست اوسط کے ساتھ ویراٹ 296رن بنا چکے ہیں ۔ان کے بلے سے 3ہاف سنچری نکل چکی ہیں ٹیم سے امید لگانے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ سوریہ کمار یادو کی بے جوڑ پرفارمنس فینز انہیں اسکائی کہتے ہیں اور وہ اس نام کو ثابت بھی کر رہے ہیں۔ سوریہ کمار یادو ٹی ٹوئنٹی کی ریٹنگ میں نمبر 1بلے باز بن چکے ہیں انہیں 360ڈگری کا بلے باز کہا جاتا ہے ۔اور اس کی وجہ کیا ہے اس ٹورنامنٹ میں وہ بخوبی بتا رہے ہیں۔سوریہ ان دنوں ٹورنامنٹ میں 3ہاف سنچری کی مدد سے 225رن بنا چکے ہیں۔ان کا اوسط ہے 75اور پوری دنیا میں ٹیم انڈیا کے کروڑوں فینز کی نظریں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میچ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ انگلینڈ کی ٹیم بھی مضبوط اور اسے ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا ہے ۔بیسٹ آف لک ٹیم انڈیا!
(انل نریندر)
08 نومبر 2022
دہلی میونسپل چناو ¿کا دلچسپ مہابھارت !
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناو¿ کا اعلان ہو چکا ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے اس چناو¿ کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھی پتا نہیں کب چناو¿ ہو جائے لیکن بے یقینی کے ماحول کو ختم کرتے ہوئے دہلی چناو¿ کمیشن نے چناو¿ کا اعلان کر دیا ۔اور اسی کے ساتھ دہلی میونسپل کارپوریشن کے موضوع بحث بنے مہا بھارت کی اب شروعات ہو گئی ہے ۔ یہ لڑائی صرف سیاسی پارٹیوں کی نہیں ہے یہ ایک جنگ ہے دہلی کے مسائل کی یہ جنگ ہے ۔دیش کی راجدھانی سے دنیا کی سب سے آلودہ راجدھانی کا ٹھپا ہٹانے کی ہے ۔ اس لئے دہلی والوں کو اس بار ایسے کونسلروں اور سیاسی پارٹیوں کو جتانا ہے جسے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ذریعے کام ممکن ہے ۔سب سے ضروری ہے کہ امیدوار کا کردار ووٹر کو ووٹ دینے سے پہلے اس کے بارے میں جاننا ضرور چاہئے ۔ اچھے لوگ جیتیںگے تو کچھ بہتری ممکن ہے ۔ایم سی ڈی میں کرپشن کے قصے آئے دن سننے کو ملتے ہیں دیکھیں نئی ایم سی ڈی میں کرپشن کم ہوتا ہے یا نہیں ؟ دہلی میونسپل چناو¿ کے اعلان کے بعد بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے ساتھ ہی کانگریس نے اپنی جیت کا بھروسہ جتایا ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ تینوں ہی پارٹیوں کیلئے یہ چناو¿ بیحد چیلنج بھرا ہے ۔تین مرتبہ سے مسلسل ایم سی ڈی میں قابض بی جے پی تو اسے پھر سے حاصل کرنے کی کوشش میں ہے لیکن اس مرتبہ اسے عام آدمی پارٹی سے زبردست چنوتی مل رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار گجرات اور ہماچل پر دیش اسمبلی چناو¿ کے درمیان ایم سی ڈی کے چناو¿ کے اعلان کو بھی ایک بڑے سیاسی داو¿ کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے ۔ دہلی میں 1997کے بعد سے اب پانچ مرتبہ چناو¿ میں ایک مرتبہ کو چھوڑ کر بی جے پی نے ہی چار بار کامیابی حاصل کی ہے اورکانگریس صرف 2002میں کامیاب ہوئی تھی اس کے بعد سے مسلسل تین بار بی جے پی ایم سی ڈی میں جیت حاصل کرتی رہی ہے لیکن اس مرتبہ بی جے پی کو بڑی چنوتی کا سامنا کر نا پڑسکتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ ہے15برس کے پارٹی مخالف ماحول ہے ۔ عام آدمی پارٹی اسے لیکر لگاتار حملہ آور ہے اور کوڑے کے پہاڑ کو لیکر وہ مسلسل اشو بناکر بھاجپا پر الزام لگاتی رہی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی ایم سی ڈی کے کاموں سے زیادہ مرکزی سرکار کے کام کاج کو بنیا د بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔دہلی کی سیاست کو جاننے والوں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی اس لڑائی میں بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے درمیان زبردست ٹکر نظر آ رہی ہے لیکن تیسر پارٹی کانگریس کا کیریکٹر ابھی بھی بر قرار ہے ۔ دراصل کانگریس چنوتی اور چناو¿ میں اس طرح کی پرفارمنس دیتی ہے اس کا عآپ اور بی جے پی کی جیت پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ 2017میں ایم سی ڈی چناو¿ ہوئے تھے اس سے پہلے 2015میں عام آدمی پارٹی کلین سویپ کر چکی تھی ۔لیکن ایم سی ڈی چناو¿ میں وہ بی جے پی کو اس لئے مات نہیں دے سکی کیوں کہ کانگریس بہت کمزور نہیں تھی ۔اس وقت عام آدمی پارٹی نے 26فیصد ووٹ حاصل کیا تھا جبکہ کانگریس 21فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی ۔بی جے پی اکیلے ہی 36فیصد ووٹ لے گئی اس لئے اس نے تینوں کارپوریشنوں میں 181سیٹیں جیت لی تھی ۔ابھی ایم سی ڈی کے چناو¿ کمپین زور پکڑے گی دیکھیں تینوں پارٹیاں کیسے آگے بڑھتی ہیں ۔ میونسپل چناو¿ کی مقبول ترین مہا بھارت کا آ غاز ہو چکا ہے۔
(انل نریندر)
پہل بار تاریخ میں آئی ایس آئی کے خلاف مظاہرہ!
سابق وزیر اعظم عمران خاں پر حملے کے ایک بعد پورے پاکستان میں عمران کے حمایتیوں نے فوج کے خلاف مظاہر کیا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے خلاف مظاہرے کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد ،لاہور سمیت پورے پاکستان میں جمعہ کو جم کر ہنگامہ ہوا ۔تحریک انصاف پارٹی کے ورکروں نے سڑکوں پر نعرے بازی کی اور کئی شہروں میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی بھی ہوئی ۔ خیبر پختونستان کے پیشاور میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کو ر کمانڈر ہاو¿س کے سامنے لوگوں نے نعرے لگائے ۔وکیلوں نے سپریم کورٹ کے باہر بھی احتجاج کیا ۔احتجاج کے سبب کراچی ہوائی اڈے اور فائیو اسٹار ہوٹل کے بیچ آمد و رفت بند رہی۔ مظاہرین نے آئی ایس آئی چیف میجر جنرل فیصل کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا ہے خیبر پختونخوا کے وزیر انور زیب خان نے کہا کہ ہم نے بدلہ لینے کی قسم کھائی ہے تحریک انصاف نے کہا کہ عمران احتجاجی مارچ جاری رکھنے کیلئے عہد بند ہیں۔ پارٹی کے ٹویٹر ہنڈل پر عمران خان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ میں نہیں جھکوں گا ۔اپنے ساتھی پاکستانیوں کےلئے عہد بند رہوں گا ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہیٰ نے حملے کی جانچ کیلئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے ۔ اس میں دہشت گردی انسداد محکمے کو بھی شامل کیا جائے گا۔ بتادیں کہ اپریل میں پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد تحریک پاس ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان اقتدار سے باہر ہو گئے تھے ۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ان کی سرکار اقتصادی محاذ پر ناکام رہی ہے جبکہ عمران خان کہنا تھا کہ انہیں اقتدار سے باہر نکالنے کیلئے امریکی لیڈر شپ میں سازش رچی گئی تھی اس کے بعد عمران خاں مسلسل نئی سرکار اور پاک فوج کی ملی بھگت کا الزام لگا رہے ہیں ۔وہ امریکی پرستی سے لیکر خراب مالی حالت کیلئے سرکار کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ۔عمران بار بار چناو¿ کرانے کی مانگ کر رہے ہیں ۔ لیکن پاکستان کی سرکار کا کہنا ہے کہ چناو¿ اپنے موجو دہ وقت پر ہی ہوںگے ۔ حال ہی میں توشے خانہ معاملے میں غلط جانکاری دینے کو لیکر چناو¿ کمیشن نے عمران خاں کو اگلے پانچ سال کیلئے چناو¿ لڑ نے کیلئے نااہل قرار دے دیا تھا ۔ دونوں فریق پورا زور لگا رہے ہیں اور عمران خاں اوقتدار میں واپسی کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ان کو لگتا ہے کہ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ ہے فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف ماحول بن رہا ہے ۔ ایسے میں کبھی بھی مستقبل قریب میں چناو¿ ہو جائے تو وہ پھر اقتدار میں آ جائیں گے ۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ پاک فوج اور خطرناک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنے اوپر ہو رہے سیدھے حملوں سے کیسے نمٹتی ہے ؟ وہ پہلی بار ہے جب پبلک پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف اتر کر کھل کر سامنے آئی ہے ۔ آنے والے دن پاکستان کیلئے چیلنج بھرے ہیں ۔ عمران خان کے لانگ مارچ کیا کیا گل کھلاتے ہیں دیکھنا باقی ہے ۔
(انل نریندر)
05 نومبر 2022
ٹو -فنگر ٹیسٹ پر لگی روک !
سپریم کورٹ نے آبروریزی کے معاملے میں غیر آئینی جسمانی جانچ کے استعمال کو غلط بتایا ۔ جسٹس دھننجے چندر چوڑ و جسٹس ہیما کوہلی کے بنچ نے خبردار کیا ہے کہ 2013سے ممنوع اس طرح کی جانچ کرنے والے لوگوں کو فوراً قصور وار ٹھہرایا جائے گا۔ آبروریزی کے ایک معاملے میں قصور ثابت کرنے والے کو بحال کر تے ہوئے اس بنچ نے پیر کو کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ یہ جانچ ٹو فنگر ٹیسٹ ہوتا ہے بنچ نے آبروریزی کے ملزم کو برے کرنے کے ہائی کورٹ کے حکم کو پلٹ دیا اور ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔سیشن عدالت نے ملزم کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔عدالت نے میڈیکل کالج میں اسٹڈی کتابوں کی جانچ اور اس طریقے کو ہٹانے کا حکم دیا ہے عدالت نے کہ آبروریزی متاثرہ کی جانچ کی غیر آئینی جارحانہ طریقہ جنسی استحصال والی عورت سے پھر سے اس طرح کا طریقہ ٹھیس پہنچاتا ہے ۔بنچ نے کہا کہ اس عدالت نے باربار آبروریزی جنسی استحصال کے الزامات کے معاملوںمیں غیر سائنسی جسمانی جانچ کے استعمال کو روک دیا ہے یعنی ٹو فنگر ٹیسٹ پر روک لگا دی اور کہا کہ اس نام نہاد ٹیسٹ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے ۔اس کے بجائے اور یہ عورتوں کو پھر سے اذیت پر اذیت پہنچاتا ہے ۔ یہ جانچ نہیں کی جانی چاہئے کیوں کہ یہ ایک غلط روایت پر مبنی ہے ۔جنسی زیادتی سہ چکی عورت کا آبروریزی نہیں کی جاسکتی ۔ یہ عورت کی گواہی اور جنسی تاریخ پر منحصر کر تا ہے بنچ نے مرکزی ہیلتھ وزارت کو یہ یقینی بنانے کی اجازت دی ہے کہ اس طرح کی جانچ نہیں ہونی چاہئے ۔سپریم کورٹ نے 2013میں اس رواج کو غیر آئینی مانا تھا ۔ اور کہا تھا کہ یہ جانچ نہیں ہونی چاہئے اور عدالت نے 2014میں آبروزیری متاثرین کی جانچ کے سلسلے میں نئی گائڈ لائن تیار کی تھی اس میں سبھی اسپتالوں سے فورینسک اور میڈیکل جانچ کیلئے اسپیشل سیل بنانے کی بات کہی تھی۔ بڑی عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد ٹو فنگر ٹیسٹ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے اور یہ عورتوں کو پھر سے متاثر کرتا ہے یہ غلط تصور پر مبنی ہے کہ ایک مسلسل جنسی استحصال کے شکا ر خاتون کی آبروریزی نہیں کی جاسکتی ہے ۔ سچائی سے آگے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔عدالت نے تلنگانا ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے یہ حکم دیا ہے ۔
(انل نریندر)
بد عنوانی کا برج !
وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز موربی پل گرنے والی جگہ کا دورہ کیا اور اسپتال میں جاکر زخمیوں سے بھی ملے وزیر اعظم نے کہا کہ حادثے سے جڑے سبھی پہلوو¿ں کی پہچان کرنے کیلئے وسیع جانچ کی ضرورت ۔ قصور واروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ مودی کی یقین دہانی کے بعد بے شک کچھ گرفتاریوں ہوئی ہے لیکن اپوزیشن پارٹیوں نے سرکار آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کئی سوال پوچھے ہیں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے منگل کے روز کہا کہ موربی پل حادثہ گجرات میں پھیلے کرپشن کا نتیجہ ہے اور اسے کرپشن کا پل قرار دیا ۔وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل استعفیٰ دیں ۔انہوں نے کہا کہ پل حادثے سے جو حقائق سامنے آ رہے ہیں اس سے صاف ہو رہا ہے کہ یہ بہت بڑے کرپشن کا معاملہ ہے جس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک گھڑی بنانے والی کمپنی کو پل بنانے کا ٹھیکہ دے دیا گیا جب اس کمپنی کو پل بنانے کا کئی بھی تجربہ نہیں ہے ۔ ایف آئی آر نہ تو کمپنی کا نام ہے اور نہ کمپنی کے مالک کا ۔کانگریس نیتا دگ وجے سنگھ نے کہا کہ یہ انسانی کرتو ت نہیں ہے بلکہ یہ سرکار کی تیار کردہ آفت ہے ۔اور گجرات کے وزیر اعلیٰ کو اس کے لئے جنتا سے معافی مانگی چاہئے اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینی چاہئے ۔ اتنے سارے لوگوں کو پل پر کیوں جانے دیا گیا؟ جواب دہی طے ہونی چاہئے ۔حادثے پر ترنمول کانگریس نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم گجرات کے وزیر اعلیٰ کی مذمت کریںگے جیسا کہ انہوں نے 2016میں مغربی بنگال میں ہوئے اسی طرح کے واقعے کو لیکر سرکار کی مذمت کی تھی ۔ اسمبلی چناو¿ کے دوران کولکاتا میں بن رہا فلائی اوور گر گیا تھا ۔ وزیر اعظم نے اس وقت کہا تھا کہ یہ حادثہ ہے ہیڈ آف گوڈ نہیں ہینڈ آف فروڈ ہے ایسی سرکار کو اقتدار میں بنے رہنے کا کئی حق نہیں ۔ کیا مودی جی اب گجرات سرکار کو اس ہینڈ آف فراڈ پر کچھ تبصر ہ کریںگے؟ پولیس نے بتایا ہے کہ بے قصور لوگوں کی موت کے سبب بنے جھولتے پل کی مرمت کا کام اناڑی ٹھیکیدار کو دیا تھا اس نے کمزور اور جنگ آلود کیبل تک نہیں بدلے اس وجہ سے وہ لوگوں کا بوجھ نہیں سہ پایا ۔پولیس نے موربی کی عدالت میں گرفتار ملزمان کی پیشی کے دوران ایک فارنسک رپورٹ کا حوالہ دیکر پولیس نے بتایا کہ پرانے پل کی مرمت کا ٹھیکہ جس ٹھیکدار کو دیا گیا تھا وہ اس کام کو کرنے کے قابل نہیں تھا۔ پل کی خانہ پوری مرمت اور پینٹ تو کر دیا گیا لیکن اس کے زنگ آلود کیبل نہیں بدلے ۔بچاو¿ مدعی کے دعوے کے بعد عدالت نے گرفتار ملزمان کو سنیچر تک پولیس حراست میں بھیج دیا ۔اس میں اوریوا کمپنی کے دو منیجر شامل ہیں کمپنی نے جن دو لوگوں کو آگے ٹھکہ دیا تھا انہیں بھی پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا ہے ۔چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ایم خاں نے پانچ ملزمان کو عدالتی حراست میں بھیج دیا ۔پولیس نے ا ن سبھی پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔
(انل نریندر)
03 نومبر 2022
رام رحیم کا سیاسی دبدبہ !
کیا رام رحیم اب بھی ہر یانہ پنجاب کی سیاست کو متاثر کرنے والا بڑا سیکٹر ہے؟ کیا ان کی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ؟ یہ تمام سوال اس وقت اٹھ رہے ہیں جب ہریانہ میں ایک اسمبلی سیٹ پر ضمنی چناو¿ سے پہلے رام رحیم پیرول پر جیل سے باہر آگئے ۔ اس کے بعد سیاسی تنازعہ کھڑا ہونا ہی تھا۔ بی جے پی کو اس مسئلے پر بیک فٹ پر آنا پڑا ۔ مانا جا رہاہے کہ سیاسی مجبوری اور رام رحیم کی طاقت سے سبب بی جے پی نے سمجھوتہ کیا ہے۔ ڈیرا چیف گرمیت رام رحیم کو 2017میں سی بی آئی کورٹ نے جنسی استحصال کے معاملے میں 20برس کی سزا سنائی تھی اس وقت سے وہ جیل میں ہیں حالاںکہ جیل میں بھی ان کے دبدبے کی خبریں آتی رہی ہیں ۔ شروع میں جب جیل ہوئی تب رام رحیم اور ان کے حمایتیوں سے ان بن کی خبریں آئیں لیکن بعد میں پارٹی نیتاو¿ں نے کئی موقعوں پر ان کا سامنا کیا ۔اور کئی بار وہ جیل سے بھی نکلا جب جیل گیا تھا تو ہریانہ میں جھگڑا ہوا تھا اس کے بعد کچھ مہینے تک خاموشی رہی لیکن بعد میں وہ بموقع بہانو ں سے وہ جیل سے نکل رہا ہے۔ اس سال فروری میں اسے 20دنوں کی پیرول دی گئی تھی تب مانا جا رہا تھا کہ پنجاب کے چناو¿ کے سبب یہ پیرول دی گئی ۔جون کے مہینے میں رام رحیم کو 30دن کی پیرول ملی تھی اب 40دن کی پیرول ملی ہے اس مرتبہ وہ ریاستی سرکا رکی مرضی سے جیل سے باہر آگیا ہے ۔ باہر آنے کے بعد وہ بھلے ہی اترپردیش کے باغپت میں ہے مگر اس سے آن لائن ست سنگھ میں ہر یانہ کے کئی لیڈر آشرواد لینے آ رہے ہیں ۔ ریاست میں ایک سیٹ پر ضمنی چناو¿ کے علاوہ بلدیاتی چناو¿ بھی ہیں ایسے میں اس کے ست سنگھ میں کئی نیتاو¿ں کا جڑنا اور اپنے لئے آشرواد مانگنا تنازعہ کھڑا کر رہا ہے ۔ سیاسی حریفوں نے اس پیرول کی شرائط کو خلاف ورزی مانا ہے وہ کافی مقبول ہے اور اس کے زیادہ تر ماننے والے غریب دلت ہیں جو اس کو احترام میں اسے پیتا جی بلاتے ہیں ان کے لئے رام رحیم کی کوئی بات ایک آدیش کی طرح ہوتی ہے جسے وہ پوری نیک نیتی کے ساتھ مانتے ہیں۔ہریانہ پنجاب میں اس کے ڈیروں کی تعدا د تقریباً 20ہزار ہے اور اس کے 6کروڑ ماننے والے ہیں۔زیادہ تر کی وابستگی ہر یانہ و پنجاب سے ہے ۔ماننے والے صرف رام رحیم کے ست سنگھ اور دوسرے دھارمک پروگراموں میں شامل ہوتے ہیں ۔بلکہ چناو¿ میںکس پارٹی کی حمایت کرنی ہے ان کےلئے ایک حکم ہے جس کی وہ تعمیل کرتے ہیں ۔ پنجاب کے مالوا اور ہر یانہ کی 40سے 50اسمبلی سیٹوں پر اس کے ماننے والے سیدھے طور پر چناو¿ پر اثر ڈالتے ہیں ۔چناو¿ میں کسے ووٹ دینا ہے اسے لیکر رام رحیم کا مو قف بدلتا رہا ہے ۔اس کا سیاسی ونگ چناو¿ سے پہلے تمام علاقوں میں لوگوں سے ان کی رائے لیتا ہے اور پھر اس کی جانکاری رام رحیم کو دی جاتی ہے ۔چناو¿ سے ٹھیک پہلے اس سیاسی ونگ کے ذریعے لوگوں تک اطلاع پہنچائی جاتی ہے کہ انہیں کسے ووٹ دینا ہے ۔
اس لئے اہم ہیںہماچل اور گجرات کے چناو ¿!
ہماچل پردیش اسمبلی چناو¿ کیلئے 12نومبر کو پولنگ ہوگی ،گجرات اسمبلی چنا و¿ کی تاریخوں کا اگلے کچھ دنوں میں اعلان ہو جائے گا۔ سبھی پارٹیاں پوری طاقت سے چناو¿ کمپین میں لگیں ہیں۔بی جے پی کیلئے ہماچل پر دیش اور خاص کر گجرات کا چناو¿ محض دو ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ نہیں ہیں بلکہ یہ 2024کے لوک سبھا چناو¿ کے لحاظ سے بھی اہم ہیں۔ ہماچل پر دیش اور گجرات دونوں ہی ریاستوں میں بھاجپا اقتدار میں ہے ہماچل میں اب تک کا ٹرینڈ ہے کہ وہاں ہر چناو¿ میں اقتدار بدل جاتا ہے ۔گجرات میں بی جے پی اس مرتبہ مسلسل چھٹی مرتبہ اقتدارمیں آنے کی کوشش کرے گی۔ ہماچل اور گجرات میں بی جے پی کے اقتدار میں ہونے کی وجہ سے اسمبلی چناو¿ میں سرکا ر کے کاموں کی آزمائش ہوگی۔بی جے پی مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہے اس کی سرکار نے لوگوں کیلئے بہت کام کیا ہے ۔بی جے پی ہر بار ڈبل انجن کی سرکار کا ذکر کرنا نہیں بھولتی اپنی کمپین میں یہ ضرور کہتی ہے کہ ڈبل انجن کی سرکار کا لوگوں کو ڈبل فائدہ ملتا ہے ۔گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی چناو¿ اس ڈبل انجن کی سرکاروں کے کام کا بھی امتحان ہوگا۔ گجرات وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست ہے گجرات کے ہر کونے میں انکی کی تصویر لگے پوسٹر نظر آتے ہیں ظاہر ہے کہ بی جے پی گجرات اسمبلی چنا و¿ صرف مودی کے نام پر ہی لڑ رہی ہے ۔ ایسے میں گجرات میں پھر سے اقتدار میں واپسی بی جے پی کیلئے محض ایک جیت کا سوال نہیں ہوگابلکہ یہ ان کے سب سے بڑے نیتا مودی کی امیج کا بھی سوال ہوگا۔ پچھلے اسمبلی چناو¿ میں بی جے پی نے گجرات کی کل 182سیٹوں میں سے 99سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی کانگریس نے 77سیٹیں جیتی بی جے پی کے سامنے اس مرتبہ ایک طرف کانگریس دوسری طرف عام آدمی پارٹی کی چنوتی ہوگی۔ موربی برج کا گرنا بھی اپوزیشن کے ہاتھ چناو¿ سے پہلے اچھا اشو ہے ۔بی جے پی تو چاہے گی کہ ان کی تعداد پچھلے کے مقابلے بڑھے اس مرتبہ گجرات میں دہلی اور پنجاب میں حکمراں عام آدمی پارٹی بھی میدان میں ہے اور وہ زبردست چناو¿ کمپین کر رہی ہے ۔ ہماچل پردیش اسمبلی چنا و¿ میں بی جے پی ریاستی سرکا ر کے ساتھ ہی مرکزی سرکا ر کے کاموں کا ذکر بھی کر رہی ہے ۔ مرکزی سرکارکی اسکیموں کا فائدہ اٹھانے والوں سے پارٹی رابطے میں ہے بھاجپا کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لئے ایک بڑا ووٹ بینک بن گیا ہے ۔بی جے پی نے ہماچل پردیش کی کل سیٹوں میں پچھلے اسمبلی چناو¿ میں 44سیٹوں پر جیت درج کی تھی ۔ بی جے پی اس بار ہماچل پردیش کے اقتدار بدلنے کے ٹرینڈکو توڑنے کی کوشش کررہی ہے ۔بی جے پی کی پرفارمنس بھی یہی دکھائے گی کہ ڈبل انجن کے سرکار کا واقعی لوگوں پر اثر ہوتا ہے ۔ یہ چھپا نہیں کہ ویسے اسی سال کی شروعات میں اتراکھنڈ میں بی جے پی نے اس ٹرینڈکو توڑا ہے ۔ وہاں بھی ہماچل کی طرح ہر چنا میں اقتدار بدلتا رہتا تھا اس بار بی جے پی اقتدار میں واپسی ان دونوں ریاستوں کے چناو¿ نتائج کے دور رس اثر ہوںگے ۔ ان کا سیدھا اثر 2024لوک سبھا چناو¿ پڑ سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
01 نومبر 2022
پاکستان کی اندرونی حالت میں طوفان!
پاکستان اس وقت سیاسی اتھل پتھل کے دور سے گزرہا ہے ۔ایک طرف سابق وزیر اعظم عمران خان اپنا حقیقی آزادی لانگ مارچ کر رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوا کی میعاد میں توسیع کو لیکر زبردست تنازعہ چھڑا ہواہے ۔سابق وزیر اعظم عمران خاں نے اپنے ورکروں کے ہجوم کے ساتھ لاہور کے مشہور لیبرٹی چوک سے اپنا حقیقی آزادی لانگ مارچ شروع کیا ان کی مانگ ہے کہ دیش میں جلد چناو¿ کرائے جائیں جبکہ سرکار کا کہنا ہے کہ چناو¿ اپنے وقت پر اگلے سال اکتوبر میں ہی کرائے جائیںگے ۔اس لانگ مارچ کو شہباز کی موجودہ سرکار اور پاک فوج کے ساتھ عمران کے ٹکراو¿ کے طور فیصلہ کن جنگ مانا جا رہا ہے ۔مارچ 4نومبر کو اسلا م آباد پہنچے گا۔ ادھر جنرل باجوا کو بطور فوج چیف توسیع دینے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ باجوا کو سروس میعاد میں توسیع کی پیشکش کی گئی تھی۔لیکن انہوں نے منع کر دیا تھا۔ عمران کی پارٹی تحریک انصاف پر اس بارے میں گمراہ کن بیان دینے کا ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ان پر دباو¿ ڈالا گیا لیکن انہوں نے فیصلہ نہیں بدلا ۔وہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خاں نے اس سال مارچ میں فوج کے چیف قمر جاوید باجوا کو بے میعاد توسیع دینے کی پیشکش کی تھی جسے منظور نہیں کیا گیا ۔میڈیا سے بات چیت میں فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی نے سابو گھر کے مسئلے پر اس پر تحریک انصاف کی طرف سے گمراہ کن سیاسی بیان دینے اور ارشد شریف کی موت سے جڑے واقعات پر مفصل بات کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ باجوا کو بے میعادی توسیع دینے کی پیشکش میرے سامنے کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے نامنظور کر دیا تھا اور آگے کہا کہ آپ کو اپنی رائے رکھنے کا اختیار ہے لیکن اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کا فوجی چیف ملک دشمن ہے تو ماضی گزشتہ میں ان کی اتنی تعریف کیوں کی گئی اور یہ پیشکش کیوں کی گئی تھی۔ اگر آپ زندگی بھر اس عہدے پر رہنا چاہتے ہیں تو رہیئے ۔ انہوں نے کہا آپ بھی ان سے چھپ چھپ کر کیوں ملتے ہیں؟آپ رات میں ہم سے غیر آئینی خواہشات رکھتے ہیں یہ آپ کا حق ہے لیکن پھر دن کے اجالے میں آپ جو کہہ رہے ہیں وہ مت کہیے ،آپ کی بات میں کھلے طور پر تضاد ہے اور ملک دشمن اور غیر جانبداری کی باتیں اس لئے بنائی گئیں کیوں کہ فوج نے غیر قانونی کام کرنے سے انکار کردیا ۔ادھر عمران خاں نے ایک بیان میں کہا کہ میں نواز شریف کی طرح دیش چھوڑ کر بھاگنے والا نہیں جو خاموش رہے وہ لندن جاکر مذمت کرنے لگے ۔میں یہیں جیو¿ںگایہی مروںگا۔ اگر سرکار سوچتی ہے کہ اسے مان لیںگے تو چن لیںدیش کوئی بھی قربانی دے سکتا ہے ۔لیکن چوروں کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی کان کھول کر سن لیں کہ میں اپنے دیش کے اداروں کو بچانے کیلئے چپ ہوں میں اور بھی بہت کچھ کہہ سکتا ہوں لیکن ہمارے اداروں کو نقصان پہنچے گا۔ اسلئے ابھی چپ ہوں ۔
(انل نریندر)
کانگریس کی کمان نہرو-گاندھی پریوار سے آزاد !
کانگریس پارٹی میں ایک نئے دور کی شروعات ہو گئی ہے 24سال بعد غیر گاندھی شخص نے گانگریس صدر کے عہدے کی کمان سنبھالی ہے ۔آخر کار وہ بد نما الزام بھی کانگریس سے ہٹ گیا ہے کہ پارٹی میں صرف نہرو -گاندھی خاندان کی ہی بالا دستی ہے اور پارٹی میں کوئی جمہوریت نہیں ہے اب کوئی یہ تو نہیں کہہ سکتا ہے کہ کانگریس میں غیر گاندھی پریوار کو آگے نہیں آنے دیا جاتا ۔کانگریس کے نئے منتخب صدر ملکا رجن کھڑگے کو بدھوار کے روز باقاعدہ طور پر منتخب خط سونپا گیا اور اسی کے ساتھ انہوں نے عہدہ سنبھال لیا ۔ کھڑگے نہ کہ کانگریس کے نئے صدر کی حیثیت میں ذمہ داری سنبھالنے کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کو توڑ دیا گیا اس کے سبھی ممبران ،جنرل سیکریٹریوں اور انچارجوں نے نئی ٹیم بنانے کیلئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا ۔کانگریس کے نئے صدر ملکا جن کھڑگے نے بدھوار کو 47ممبری اسٹئرنگ کمیٹی بنائی جس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ، پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی و راہل گاندھی شامل ہیں۔ تنظیمی کانگریس جنرل سیکریٹری سے ملی اطلاع کی بنیاد پر کمیٹی کے ممبروں میں سینئر پارٹی لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا ،اے کے انٹونی ،امبیکا سونی ،آنند شرما،کے سی وینو گوپال اور دگ وجے سنگھ شامل ہیں ۔اس موقع پر سونیا گاندھی نے کہا کہ وہ کانگریس کی انترم صدارت کی ذمہ داری کھڑگے کو سونپ کر راحت محسوس کر رہی ہیں اور ان کے سر سے بڑا بوجھ اتر گیا ہے ۔میں کھڑگے جی کو بدھائی دیتی ہوں اور سب سے زیادہ اطمینا ن اس بات کی ہے کہ جنہیں صدر چنا ہے وہ ایک تجربہ کار اور وہ زمین سے جڑے نیتا ہیں ۔ ایک معمولی ورکر کی شکل میں کام کرتے ہوئے اپنی محنت اور لگن سے اپنی اس اونچائی تک پہنچے ہیں۔ سونیا نے اپنے عہد میں تعاون کیلئے کانگریس لیڈوں اور ورکروں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ایک طرف سونیا گاندھی اور دوسری طرف راہل گاندھی کے ساتھ کھڑے کھڑگے کو کانگریس صدر کا سرٹفیکیٹ سونپا گیا تو ان کے چہرے پر ذمہ داری کا احساس صاف جھلک رہا تھا ۔ ان کا چہر ہ خاموش اور آنکھوں میںسوال تھے اس صا ف ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں اور چنوتیوں کا احساس تھا۔کھڑگے نے اسے وقت یہ ذمہ داری سنبھالی ہے جب پارٹی اپنی تاریخ سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے ۔اس لئے کہ راجستھان اور چھتیس گڑ ھ میں ہی پارٹی کی سرکار ہے ۔لوک سبھا میں پارٹی کے پاس 53اور راجیہ سبھا میںصر ف 31ممبر ہیں۔ کھڑگے کے سامنے سب سے پہلی چنوتی پارٹی میں خود کا دبدبہ قائم کرناہے ۔ کھڑگے نے ادے پور میں نو سنکلپ لاگو کرنے کے اعلان سے بزرگ نیتاو¿ں کی ناراضگی بڑھ سکتی ہے ۔کانگریس ورکنگ کمیٹی میں پرینکا گاندھی کو چھوڑ کر سبھی کی عمر 50برس سے زیا دہ ہے ۔ کھڑگے خود بھی 80سال کے ہیں ان کے سامنے چنوتیوں کا پہاڑ کھڑا ہے ۔چوںکہ پارٹی میں اتحاد پیدا کرنا گجرات ،ہماچل اسمبلی چناو¿ ،2023میں کرناٹک سمیت 9ریاستوں میں چناو¿ ہوںگے ۔ کرناٹک ان کی آبائی ریاست ہے ایسے میں کرناٹک چناو¿ میں ہار جیت کو صدر کے طور پر ان کی پرفارمنس سے جوڑ کر دیکھا جائے گا۔ سرپر کھڑے ہماچل اور گجرات میں بھی کانگریس کیلئے اچھا پر درشن کریں یہ بھی ان کیلئے چنوتی ہوگی۔
(انل نریندر)
27 اکتوبر 2022
کیا تیجسوی دور شروع ہو گیاہے؟
کیا راشٹریہ جنتا دل میں اب ساری طاقت باقاعدہ طور سے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے پاس آ گئی ہے؟ کیا پارٹی میں لالو دور ختم ہوگیا ہے پارٹی کو کیوں اپنی آئین سے جڑے تمام مسئلوں پر فیصلہ لینے کا اختیار تیجسوی کو دینے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے؟ یہ تما م سوال اس وقت اٹھے جب پچھلے دنوں آر جے ڈی کی قومی ایگزیکٹیو میٹنگ میں پارٹی نے اپنے آئین میں تبدیلی کرکے تمام فیصلے لینے کیلئے تیجسوی یادو کو آتھارائز کیا ۔ اب تک لالو پرساد یا دو کے پاس پارٹی کے سارے اختیارتھے پارٹی نے لالو پرساد یادو کو بارہویں مرتبہ پارٹی کا قومی صدر ضرور چنا لیکن پارٹی سے جڑوے فیصلے لینے کا پورا اختیا ر تیجسوی یادی کو دے دیا ۔لالو پر ساد یادو نے ایک مرتبہ اسٹیج سے اہم بات کہیں تھی کہ اب کسی بھی اہم پالیسی سزا مسئلوں پر صر ف تیجسوی ہی بولیں گے۔ یہ بات انہوں نے پارٹی کے کئی لیڈروں کے متضاد بیانوں سے اتحادی حکومت کو پریشانی کی وجہ سے کہی تھی۔اس بیان کے بعد آر جے ڈی کے اندر ان کے فیصلے کے معنی ٰ تلاش کیے جانے لگے اور خبر ہے کہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں اگلے کچھ مہنیوں میں انضمام ہو سکتا ہے جس کے لئے زمین تلاش کی جارہی ہے ۔اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ 2024میں عام چناو¿ میں نتیش کمار قومی سیاست میں جا سکتے ہیں ۔اور تیجسوی یاو کو ریاست کی کمان سونپ سکتے ہیں ساتھ ہی مستقبل میں آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے درمیان الضمام کو لیکر خبریں زور پکڑ رہی ہےں ۔ آر جے ڈی کے سینئر لیڈوں کے مطابق جے ڈی یو کے تھا کوئی ملنے کا امکان نہیں ہے اوریہ بحث غلط ہے ۔آر جے ڈی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ بحث مستقبل میں بھاجپا کے سرکار ی اداروں کا بے جا استعمال کر بہار میں ان کی پارٹی میں شیو سینا کی طرح بغاوت نہ کروائیں اس لئے دونوں پارٹیا کو ضم کرنے کا فیصلہ لیا ہے گیا ہے ۔پارٹی کو لگتا ہے کہ بی جے پی عام چناو¿ سے پہلے ان کی لیڈروں و بغاوت کیلئے اکسا سکتی ہے ایسے حالت سے بطنے کیلئے ایک سیکورٹی کور کے طور آر جے ڈی تیجسوی یادو کو تمام اختیار دئے ہیں ۔ 2015جب لالو پرساد یادو اور نیتش کمار نے مل بہار میں بڑی جتی حاصل کی تھی ۔اس کا اثر پٹنہ سے لیکر پورے دیش میں دیکھا گیا تھا۔اور ایک بڑی پہل کے تحت پرانے سبھی سماجوادیوں کے پارٹیو ں کو ضم کرنے کی تجویز رکھی تھی اور اس کیلئے آر جی ڈی ،جی ڈیو ،سپا ،جے ڈی ایس رضامند ہوئی تھی۔اور کئی دور کے بعد آگے بڑھی ۔نتیش کمار اور لالو پرسا د نے ضم کیلئے باقاعد ہ اعلان ،کامن ایجنڈا ،جھنڈے اور آگے کی حکمت عملی کی ذمہ داری اس وقت کے سپا چیف مولائم سنگھ یادو کو دے دی تھی۔ اب پرشانت کشور بیان دے رہے ہیں کہ نتیش کمار بھاجپا کے ساتھ تال میں ہیں۔یہ گڑھی ہوئی نیوز یا اس میں کچھ سچائی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)
رشی سونک نے کی تاریخ رقم!
چاہے ماریشش کو ،گوانا ہو،آئرلینڈ ،پرتگال یا فیجی ہندوستانی نژاد لیڈروں کی ایک لمبی فہر ست ہے جو ان دیشوں کے یا تو وزیر اعظم یا صدر رہ چکے ہیں۔ دنیا میں بھارت کے علاوہ ایسا کوئی دیش نہیں ہے جس کے نژاد لوگ 30سے زائد ممالک پر یا تو راج کرتے ہیں یا کر چکے ہیں۔ 42سالہ رشی سونک کا نام اس فہرست میں شامل ہو چکا ہے ۔کنزرویٹیو نیتا پینی مارڈر نے اپنی دعوےداری واپس لے لی ۔سونک اس سے پہلے اپنی حریف لیز ٹرس سے پچھڑ گئے تھے ۔ہندوستانی نژا رشی سونک کا برطانیہ کی سیاست میں بہت تیزی عروج ہوا ہے ۔انہوں نے 35سال کی عمر پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کا چناو¿ جیتا تھا صرف سات برسوں میں وہ برطانیہ کے وزیر اعظم بن گئے ۔وہ پہلے ہندوستانی نژا اور بلیک نسل کے وزیر اعظم ہوںگے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رشی سونک کا وزیر اعظم بننا ایک تاریخی لمحہ ہے ۔ٹھیک اسی طرح سے جس طرح امریکہ میں 2008میں براک اوبامہ کے صدر چنے جانے کے وقت ہواتھا ۔سونک سے پہلے ساو¿تھ ایشیا کے نژاد لیڈ ر بڑے عہدوں پر آئے اور وزیر اعظم بھی اور میئر بھی جیسے پریٹی پٹیل اس دیش کی پہلی وزیر داخلہ ہیں اور صادق خان لند ن کے میئر ہیں لیکن وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار اب تک کوئی نہیں ہوا تھا ۔سیاسی مبصرین کے مطابق رشی کا عروج ایشائی برادریوں کی کامیابی سے جڑا ہے ان کا کہنا ہے کہ برطانوی سماج میں ویراثت بھی رشی جیسے لیڈوں کا عروج ہے ۔ ڈاکٹر نیلم رینا مڈل سیکس یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیںان کا کہنا ہے کہ تاریخ تو ہوگی ہی ان کے بھارت کے موازنے میں یہاں پارلیمنٹ میں مذہبی نسلی ،اقلیتی فرقوں کی نمائندگی کہیں زیادہ ہے ۔تاریخی اس لئے ہے کیوں کہ انکی نسلی پہچان الگ ہے رشی ہندوستانی نژاد کی تیسری پیڑھی کے ہیں ان کے دادا دادی نے بھارت کی تقسیم سے پہلے ہی پاکستانی پنجاب کے گونجرا والہ شہر سے ایسٹ افریقہ کیلئے ہجرت کی تھی وہ بہت برسوں بعدا نگلینڈ کے ساو¿تھ کیپٹن آکر بس گئے تھے جہاں 1980میں رشی سونک کی پیدائش ہوئی اسی شہر میں پلے بڑھے برطانیہ میں عام تصور ہے کہ رشی سونک بہت امیر ہیں جو عام لوگوں سے ان کی دوری کی اہم وجہ بن گئی ہے ۔حالیہ ایک سروے کے مطابق ان کی برطانیہ کے 250سب سے امیر خاندانوںمیں شمار ہوتا ہے لیکن کیا وہ پیدائشی امیر تھے؟اس کی جانکاری تو ان کے وطن سے ہی مل سکتی ہے جہاں ان کا بچپن گزرا ۔ویدک سوسائٹی ٹیمپل ساو¿تھ کیپٹن میں ہندو فرقے کا ایک بڑا مند ر ہے جس کے بانیوں میں رشی سونک کو ان کے پرکھو ں سے جانا جاتا ہے ۔جب سونک چھوٹے بچے تھے تو وہ مند ر آیا کرتے تھے ان کے والدین اور دادا،دادی کے ساتھ رہ کر پلے بڑھے ۔ان کے والد یشویر سونک پیشے سے ڈاکٹر ہیں اور ان کی والدہ اوشہ سونک ابھی تک کیمسٹ کی دکان چلاتی تھیں وہ اب بھی اس شہر میں قیا م پذیر ہیں ۔رشی اسی طرح عام مذہبی ہندو دھرم کو ماننے والے لوگوں میں سے ہیں ۔خاندان میں پڑھائی اور کریئر پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اس لئے ان کے والد نے انہیں ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھایا ۔اپنی ویب سائٹ پر رشی سونک لکھتے ہیں کہ میرے والدین نے بہت محنت اور جد جہد کی تاکہ میں اچھے اسلو ل جا سکوں میں خوش قسمت تھا کہ مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی اور اسینفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے کا مو قع ملا ہم مسٹر رشی سونک کو مبارکباد دیتے اور ان سے امید کرتے ہیں کہ وہ برطانیہ کے کامیاب وزیر اعظم ثابت ہوں گے ۔
(انل نریندر )
26 اکتوبر 2022
گرے لسٹ سے ہٹتا پاکستان !
منی لانڈرنگ اور شدت پسندی کو ملنے والی مالی مدد پر نظر رکھنے والی ورلڈ آرگنائزیشن فائیننشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف )نے پاکستان کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا ہے اب اس بات کو امکان جتایا جا رہا ہے کہ اس اہم ترین قدم سے پاکستان کو فائدہ ہوگا اور اس کیلئے سہولتیں پیدا ہوں گی ۔ شدت پسند اور ٹیرر فائننسنگ کی نگرانی میں لگی ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو چار سال بعد جمعہ کے روز آخر کار اپنی گرے لسٹ سے نکال دیا ہے ۔ سرکار ی سطح پر اس اعلان خیر مقد م کیا گیا ہے اور اسے پاکستان کی بڑی کامیابی بتایا گیا ۔پاکستان جون 2018سے اس لسٹ کا حصہ رہا ہے اور کئی مرتبہ اس کے اشارے ملے ہیں کہ شاید پاکستان بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب آگے کی کاروائی کیا ہوگی ؟یا پاکستان کیلئے کئی سہولیات دی جا سکتی ہیں؟ماہرین کے مطابق اس لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان کیلئے بین الاقوامی سطح پر دیش کی معیشت میں بہتری کیلئے سرمایہ کاری کا راستہ کھلے گا۔ گر لسٹ میں رہنے کے سبب دنیا کی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کرنے یا بینکوں پر بھروسہ کرنے سے کتراتی تھی ۔ حالاںکہ اس بھروسہ کو بحال کرنے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے کیوں کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں کئی دہشت گرد تنظیمیں سر گرم ہیں جو بھارت کے خلاف اپنی ناپاک سرگرمیو ں سے باز نہیں آتی اور آئے جموں کشمیر اور دیش کے الگ الگ حصوں میں دھماکے کراتی رہتی ہیں۔اب پاکستان کیلئے شاندار موقع ہے کہ پاکستان کا بینکنگ سیکٹر خود کو مضبوط کرے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب پاکستان میں ایف اے ٹی ایف کی سفارشوں کے تحت بنائے گئے قوانین کی تعمیل کرے اور پاکستان کو سیلا متاثرین کی مدد کیلئے دی جانی والی مدد اب سیدھے مقامی بینکوں میں آسکے گی ۔ اس لئے ان پیسوں کی جانچ پڑتا ل کم ہوگی اور تجارت پر پابندیاں لگائی گئیں تھی وہ ہٹنے لگیں گی ۔ وہیں پاکستان کے وزیر مالیات ہارون شریف نے کہا کہ ویسے تو گرے لسٹ سے ہمیں اے ٹی ایف کی پچھلی میٹنگ نکالا جانا چاہیے تھا۔ جون 2018سے لیکر اکتوبر 2022تک پاکستان کو ان سبھی سفارشوں پر عمل کرنا جس بارے میں ایف اے ٹی ایف نے پورا پلان تیار کرکے دیا تھا۔ پاکستان میں شدت پسندوں کو مالی مدد روکنے کیلئے قانون تو بنا لیکن اس عمل کیسے ہوگا؟وزیر موصوف نے کہا کہ اداروں کے اندر بہتری لاکر ان کو طاقتور بنانے ضرورت ہوگی؟تاکہ کہیں بھی مشتبہ لین دین نہ ہوسکے ۔تو اگر ملے تو اس گروپ یا شخص یا کمپنی کے خلاف فوری کاروائی کی جائے ۔بی بی سی سے پاکستان انیشیٹیو ڈائریکٹر عزیز یونس نے کہا جب کوئی اے ٹی ایف کی لسٹ میں ہوتا ہے تو غیر ملکی کمپنیاں اور ادارے اس دیش میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کتراتے ہیں کیوں کہ ایف ٹی اے ایف کی گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے مالی لین دین میں دشواریاں کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ اب یہ پاکستان سرکار پر منحصر ہے کہ وہ گر ے لسٹ نکلنے کا کتنا فائدہ اٹھاتا ہے۔
(انل نریندر )
کنگ کوہلی نے دیا دیش کو ویراٹ تحفہ !
پل پل بدلتے میچ کے تجزیہ ،ہر گیند پر ٹینشن اور سرحد کے آ ر پار تھمی ہوئی سانسیں آخر کا ویراٹ کوہلی کا بیٹ شاہین شاہ افریدی اینڈ کمپنی پر بھاری پڑا ۔اتوارکو ورلڈ کپ میں بھارت پاکستان کا جو میچ ہوا وہ ایسا دلچسپ میچ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے آخری بال تک سسپنس بنا رہا ۔ کبھی لگ رہا تھا کہ پاکستان آسانی سے جیت سکتا ہے تو کبھی لگا جب تک ویراٹ کوہلی میدان میں ڈٹے ہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ بھارت پاکستان کے میچ دوران اگر آپ نے جوہانسبرگ ،کولمبو ،کولکاتا، برمنگھم ،ایڈلیڈ ،لنڈن اور مینچیسٹر جن گن من سنا ہے تو آپ بات کو مانیںگے ۔ اتوار کو میلبورن میں کرکٹ گراو¿نٹ ورلڈ فیمس ایم سی جی میں ماحول کچھ الگ ہی تھا ۔ میدان میں موجو د 90293لو گوں میں کم سے کم 60000ہندوستانی تھے اور جے ہو جے ہو ہی نے ایسا ماحول بنایا جیسے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی جذباتی ہو سکتا ہے پھر چاہے وہ کپتان روہت شرما ہی کیوں نہ ہوں ۔جن کے چہرے پر جذبات کا ابال صاف دکھائی دے رہا تھا ۔پل پل بدلتے میچ میں آخری اوور میں بھارت کو جیت کیلئے 16رن چاہئے تھے ۔نواز کی پہلی گیند پر ہاردک پانڈیا لمبا شاٹ لگانے کے چکر میں آو¿ٹ ہو گئے پھر دنیش کارتک آئے اور ایک رن لیا اور اسٹرائک کوہلی کے پاس آگئی اور تیسری بال پر کوہلی نے دو رن لئے نواز کی چھوتی بال کو ویراٹ کوہلی نے ڈیپ اسکوائر لیگ کے اوپر سے اسٹیدیم میں پہنچا یا اور شاندار چھکا مار دیا ۔ کمر سے اوپر ہونے کی وجہ سے نو بال قرار دی گئی اوراس پاک کپتان بابر اعظم امپائر سے بھڑ گئے اور بحث بازی کرنے لگے ۔میچ کچھ لمحوں کیلئے رک گیا ۔ پاکستان ٹیم کے م طابق یہ نو بال نہیں تھی۔ویراٹ کوہلی کے چھکے نے میچ کا رخ ہی بدل دیا نوبال دینے کی وجہ سے نواز نے پھر نو بال پھنیکی یعنی وہ فری ہٹ برقرار رہی اورکوہلی اس میں بولڈ ہو گئے لیکن فری ہٹ ہونے کی وجہ سے وہ آو¿ٹ نہیں ہوئے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تھرڈ پر گیند گئی اس سے پہلے کہ فیلڈ ہوتی کوہلی اور کارتک تین رن پورے کر لئے ۔پانچویں دنیش کارتک سویپ کیلئے گئے اورچوکے رضوان گلیاں بکھیر دیں اس دوران کچھ منٹ تک میچ رکا رہا ہے چھٹی بال نواز سے پھر وائڈ بال ڈالی اور اسکور برابر ہو گیا ۔اب بھارت کو صرف ایک رن چاہئے تھا ۔اور کریز پر تھے رویچندرن اشون اسٹرائک تھے اور انہوں نے نواز کی گیندر مڈ آف کھیل کر میچ جیتا دیا ۔یہ وننگ اسٹرائک تھی ۔ میں نے بہت سے میچ دیکھے ہیں ایسا میچ اور رن کا پیچھا کرتے دیکھا ہے ایک وقت پاکستان کے 160کے جواب میں بھارت 31رن پر ہی چار وکٹ گنواں چکا تھا لیکن ویراٹ ہمت نہیں ہارے اور ہاردک پانڈیا کے ساتھ مل کر بھار ت کو جیت کے قریب لا دیا ۔ کوہلی نے طلسمائی پاری میں 53گیندوں پر 6چوکے 4چھکے لگا کر ناٹ آو¿ٹ 82رن بنائے جبکہ پانڈیا نے ان کا ساتھ دیتے 37گیندوں پر 40رن بنائے ۔ یہ ویراٹ کوہلی سب سے شاندار بیٹنگ پر فارمنس میں سے ایک تھی۔
(انل نریندر )
22 اکتوبر 2022
بی جے پی کیلئے کیا عآپ چنوتی ہے؟
گجرات اسمبلی چناو¿ کا اعلان کسی دن بھی ہو سکتاہے ،گجرات میں بی جے پی حکومت ہے وہ اپنے اقتدار کو بنائے رکھنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے کیا بی جے پی کیلئے عام آدمی پارٹی و کانگریس کوئی چنوتی کھڑی کر سکتی ہیں؟ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھاجپا سرکار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہ گجرات ڈبل انجن والی نہیں نئے انجن والی سرکار چاہتا ہے ۔بھاو¿نگر ریلی میں انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو بھاجپا سرکار میں مختلف فرقوں گروپوں اور سرکاری ملازمین کے خلاف آندولن کرنے کیلئے درج سبھی جھوٹے مقدموں کو ترجیحاتی بنیاد پر واپس لے لے گی ۔ کیجریوال نے کہا کہ ڈبل انجن بہت پرانا ہوگیا ہے دونوں انجن 40سے 50سال پرانے ہیں ۔ ایک نئی پارٹی ،نئے چہرے ،نئے نظریہ ،نئی توانی اور ایک نیا سویرا نئی پارٹی آزماکر دیکھیں۔آپ اس کوشش میں کچھ نہیں گنوائیںگے ۔اس بار ہمیں موقع دیں وہیں انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ گجرات میں بھاجپا کی بڑی لہر ہے اور اس بار پارٹی پچھلے سبھی ریکارڈ توڑ دے گی اور پھر سرکار بنائے گی ۔ اور بھاجپا سرکار 400سے زیادہ پارلیمانی سیٹیں جیت کر 2024میں تیسری مرتبہ اقتدار میں واپس آئے گی ۔انوراگ ٹھاکر نے بھاجپا کی گورو یاترا سے خطاب میں کہا کہ مودی کی قیادت میں ہندوعلامات کا سمان کیا گیا ایودھیامیں رام مندر ایک سچائی بن گیا ہے ۔کانگریس اور عام آدمی پارٹی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے ایک اٹلی کی خاتون وزیر اعظم کی بے عزتی کرتی تھی اب اٹلی اس کی ماں کی بے عزتی کررہا ہے۔ دہلی کے بعد عام آدمی پارٹی اسی سال پنجاب میں اپنی سرکار بنائی اور پنجاب میں کئے وعدوں کے مطابق ریاست کے لوگوں کو مفت بجلی مل رہی ہے 300یونٹ تک ۔عورتوں کو ہر مہینے 1000روپے دینے کا بھی گجرات میں بھی وعدہ کیا ہے بی جے پی مسلسل عآ پ کو ریوڑیاں بانٹنے کے الزام کو لیکر گھیر رہی ہے۔بی جے پی کے سامنے یہ چنوتی ہے کہ عآپ کے وعدوں سے کیسے وہ نمٹ پائے گی؟ عآپ کے میدان میں آنے سے بی جے پی کے ساتھ کانگریس کو بھی نقصان ہوا ہے ۔ عام آدمی پارٹی جس ریاست میں مضبوط ہوئی اس ریاست میں کانگریس کا ووٹ بینک عآپ کی طرف کھسک گیا ہے دہلی میں بھی یہی ہوا اور پھر پنجاب میں اسے دہرایا گیا ۔ کانگریس کے کمزور ہونے کا فائدہ عام آدمی پارٹی ملے گا۔ اس سے بی جے پی کی چنوتی بھلے ہی کم لگ رہی ہو لیکن اگر مقابلہ تیکونہ ہوا تو بی جے پی کو نقصان اٹھا نا پڑ سکتا ہے کیوں کہ عام آدمی پارٹی بھاجپا کیلئے ایک بڑی چنوتی ہے ۔اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بی جے پی مسلسل عام آدمی پارٹی پر حملہ آور ہے ۔بی جے پی کے نیتا بھلے کہہ رہے ہیں کہ گجرات میں بی جے پی کا مقابلہ کانگریس سے ہے لیکن بی جے پی کو زیادہ خطرہ عآپ سے ہے ۔گجرات اسمبلی کی 182سیٹیں ہیں اس میں سے بھاجپا کا کم سے کم 140سیٹیں جیتنے کا ٹارگیٹ ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...