Translater

24 اکتوبر 2015

ہند ۔ پاک جھگڑے کی جڑ کشمیر نہیں آتنک واد ہے

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے واشنگٹن میں کہا کہ بھارت اور پاکستان کے بیچ فساد کی جڑ کشمیر مسئلہ ہے۔ جی او ٹی وی نے شریف کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کے 4 روزہ دورہ پر واشنگٹن گئے نواز شریف نے پاکستانی امریکیوں سے خطاب میں کہا کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان جھگڑے کی خاص وجہ کشمیر مسئلہ ہے اور علاقے میں امن اور استحکام کیلئے اسے سلجھانا ہوگا۔ ہم میاں نواز شریف کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کو گمراہ کرنے سے باز آئیں۔ بھارت۔ پاکستان کے درمیان سارے فساد کی جڑ دہشت گردی ہے۔ پاکستان اپنی سرزمیں سے دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور ان نام نہاد جہادیوں کو نہ صرف پیسہ، ہتھیار ، ٹریننگ وغیرہ دیتا ہے بلکہ اپنے قبضے والے کشمیر سے انہیں بھارت کے اندر دراندازی کراکر یہاں توڑ پھوڑ کراتا ہے۔ آئے دن رپورٹیں آتی رہتی ہیں کہ پی او کے میں دہشت گردی کے کیمپ و اسٹرکچر پھل پھول رہا ہے۔ اس اسپانسر دہشت گردی کی بھارت کو بڑی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ حال ہی میں دہلی میں بی ایس ایف نے اپنی گولڈن جوبلی تقریب منائی ہے۔ تقریب میں شہید جوانوں کے خاندانوں کو اعزاز سے نوازہ گیا ہے۔ پچھلے50 برسوں میں بی ایس ایف نے اکیلے ہی 9 ہزار دراندازدہشت گردوں کو پکڑا ہے اور تقریباً 2 ہزار سے زائد کو مار گرایا ہے۔ پاک اسپانسر اس دہشت گردی سے دیش کی سلامتی کرنے میں بی ایس ایف کے 1551 افسر و جوان شہید ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 1 ہزار سے زائد تو اکیلے جموں و کشمیر میں ہلاک ہوئے۔ دو دن پہلے بارہمولہ ضلع کے ٹن مرگ علاقے میں ایک مڈ بھیڑ میں ایک دہشت گرد کو مار گرایا جبکہ اس دوران تین فوجی زخمی ہوگئے۔ اس مہینے میں ہی آدھا درجن سے زیادہ دراندازی کی وارداتیں ہوچکی ہیں۔ ادھر نواز شریف واشنگٹن پہنچے ادھر امریکہ کی دہشت گردی و نیوکلیائی عدم توسیع مسئلہ پر سب کمیٹی کی سربراہی کرنے والے ایک سینئر امریکی سینیٹر نے کہا کہ پاکستان نے خود کو بار بار غلط فہمی کا شکار اور دھوکہ باز ثابت کیا ہے۔ کانگریس کے ممبر ٹیڈپو نے امریکی صدر براک اوبامہ کو لکھے خط میں کہا کہ پاکستان سے باہمی یا کسی بھی دوسرے کارگر باہمی اسٹیج پر سول نیوکلیائی سمجھوتے کی حمایت کرنے کے معاملے میں امریکہ کے ذریعے کسی طرح کی بات چیت کریں تو پاکستان کا موجودہ اور پرانا ریکارڈ دھیان میں رکھا جائے۔ انہوں نے کہا پاکستان نے ایک بار نہیں بار بار خود کو چالباز ثابت کیا ہے۔ پو نے الزام لگایا کہ پاکستان نہ صرف افغانستان میں امریکی فورسز اور ان کے مفادات پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے بلکہ اس نے ایران جیسے ملکوں سے بھی اپنی ایمانداری نہیں دکھائی تھی۔
(انل نریندر)

سی بی آئی کی ساکھ اور بھروسہ

یہ پہلی بار نہیں جب کسی عدالت نے ثبوت کی کمی میں کسی کو الزامات سے بری کیا ہو، لیکن فاضل اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے مبینہ گھوٹالے میں شامل قرار دئے گئے سابق ٹیلی کام سکریٹری ایمل گھوش کو الزام سے بری کرتے ہوئے سی بی آئی کی اسپیشل عدالت نے جس طرح سے سی بی آئی کو پھٹکار لگائی وہ کئی سنگین سوال ضرور کھڑے کرتی ہے۔ عدالت ہذا نے ملزمان کو بری کرتے ہوئے سی بی آئی کی چارج شیٹ کو جھوٹا قراردیا اور اس کے لئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ عدالت نے گھوش اور ٹیلی کام کمپنیوں کو بری کرتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور اس کے پیش نظر انہیں الزام سے بری کیا جانا چاہئے۔ اسپیشل سی بی آئی عدالت نے جانچ ایجنسی کو جھوٹی اور گھٹیا فرد جرم داخل کرنے کے لئے بھی کڑی پھٹکار لگائی۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت کے حکم کی تعمیل کب تک اور کس شکل میں ہوگی، لیکن یہ ضرور صاف ہورہا ہے کہ یو پی اے سرکار کے دور میں سی بی آئی کرپشن کی جانچ کے بجائے منمانی کرنے اور یہاں تک کہ عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا بھی کام کررہی تھی۔ہندوستانی سیاست میں حریف پارٹی یا نیتا کو پھنسانے یا بدنام کرنے کی کیسی کیسی سازشیں رچی جاتی ہیں، کس طرح گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ کچھ فیصلوں اور ریمارکس سے بھی ظاہرہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان سبھی معاملوں میں سازش کرنے کا الزام کانگریس پارٹی پر لگتا ہے۔ اس میں پہلا معاملہ ٹو جی گھوٹالے سے وابستہ ہے جس پر جمعرات کو فیصلہ دیتے ہوئے عزت مآب سپریم کورٹ نے نہ صرف سبھی ملزموں کو بری کردیا بلکہ جانچ ایجنسی سی بی آئی کے رول پربھی باقاعدہ ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے تفتیش سے وابستہ حکام پر کارروائی کرنے کو کہا ہے۔ اس میں سورگیہ بھاجپاکے اس وقت کے ٹیلی کام وزیر پرمود مہاجن کو بھی بدنام کیا گیا۔ دوسرا معاملہ گجرات کے سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ سے وابستہ ہے۔ اس سے جڑے معاملے کی جانچ کی نگرانی سپریم کورٹ کے ذریعے کرانے کی مانگ کو لیکر پیش سنجیو بھٹ کی عرضی بڑی عدالت نے نہ صرف خارج کردی بلکہ ان کی نیت اور طور طریقے پر بھی بہت سخت رائے زنی کی۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ سنجیو بھٹ اپوزیشن کانگریس، این جی او اور میڈیا کے کچھ لوگوں سے ملے ہوئے تھے۔ تیسرا معاملہ بدنام زمانہ تابوت گھوٹالہ رہا اور یہ این ڈی اے کی ایک حکومت سے جڑا ہے۔ تب اس معاملے نے اتنا طول پکڑا تھا کہ وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کو استعفیٰ دینا پڑا تھا لیکن اب سی بی آئی اور سپریم کورٹ کے ذریعے صاف کیا گیا ہے کہ تابوت خرید میں کوئی بے قاعدگی نہیں برتی گئی۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ زندگی بھر سادگی اور ایمانداری کے لئے جانے جانے والے جارج فرنانڈیز اس وقت جسمانی طور پر اس حالت میں نہیں ہیں کہ وہ خود پر لگائے گئے اس داغ کو دھونے پر کوئی رد عمل ظاہر کرسکیں۔ سی بی آئی کی ساکھ اور بھروسے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
(انل نریندر)

22 اکتوبر 2015

وزیراعلی کیجریوال کی تجویز کی ہم حمایت کرتے ہیں

بچیوں سے بدفعلی کرنے والوں کو پھانسی ہونی چاہئے۔ یہ مانگ پورا دیش تبھی سے کررہا ہے جب سے16 دسمبر 2012 ء کو نربھیاکانڈ ہوا تھا۔ یہ بھی مانگ تبھی سے اٹھتی رہی ہے کہ گھناؤنے معاملوں میں نابالغ کی عمر18 سے گھٹا کر15 سال کرنی چاہئے۔ خیال رہے کہ نربھیا کانڈ میں اہم سازشی اس لئے بچ گیا کیونکہ وہ کچھ مہینوں کی کمی کے سبب نابالغ زمرے میں آگیا تھا۔ میں نے بار بار اسی کالم میں لکھا ہے کہ جب ایک نابالغ ایسے گھناؤنے جرائم کو پلان کرسکتا ہے اسے عملی جامہ پہناسکتا ہے تو اسے وہی سزا ملنی چاہئے جو بڑی عمر والوں کو ملتی ہے۔ جب ہم دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی اس مانگ کی حمایت کرتے ہیں کہ بچیوں سے بدفعلی کرنے والوں کو پھانسی ہو اور گھناؤنے جرائم میں15 سال سے زیادہ کے ملزم کو بالغ نہ مانا جائے۔دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے پیر کو کہا کہ اگر آبروریزی ،قتل جیسے گھناؤنے جرائم کرنے والے کی عمر15 سال سے زیادہ ہے تو اس کے ساتھ قانون بالغ کی طرح سے نمٹے اور اسی طرح سزا ملے۔16 سال کے بعد بالغ اعلان کئے جانے کو لیکر جوئنائل ایکٹ ابھی پارلیمنٹ میں لٹکا ہوا ہے۔ وزیر اعلی کی سربراہی میں کیبنٹ کی میٹنگ میں جرائم قانون میں ترمیم کی تجویز تیار کرنے کے لئے وزارت گروپ بنانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عورتوں کے خلاف گھناؤنے جرائم کے قصورواروں کو سخت سزا دلانا ہے۔ جی او ایم نابالغ (بچی) کے ساتھ آبروریزی معاملے میں ملزم کو تاعمر جیل یا پھانسی کی سزا کو لیکر قانون اور شقات کا تجزیہ کرنے کے بعد سفارش کرے گا ۔ اروند کیجریوال نے بتایا کہ داخلہ اور قانون محکمے کو مختلف عدالتوں میں لٹکے آبروریزی کے مقدموں کی فہرست بنانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ دہلی کے چیف جسٹس سے صلاح مشورہ کر جلد سے جلد معاملوں کا نپٹارہ کیا جاسکے۔جہاں گھناؤنے مجرموں کو سخت سزا دینے کی بات ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے مقدموں کا جلد نپٹارہ ہو۔ راجدھانی میں روز بروز ریپ اجتماعی آبروریزی (خاص کر بچیوں سے) کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ سیاسی پارٹیاں واردات ہونے پر الزام درالزام کی بوچھارکردیتی ہیں اور کچھ مظاہرے کر اپنی بڑھاس نکال لیتے ہیں۔ لیکن ان واقعات کو جڑ سے روکنے کی سمت میں کوئی کوشش میں نہیں ہے۔ وسنت وہار گینگ ریپ معاملہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ معاملے کا تذکرہ بیرونی ممالک تک میں بھی ہوا۔ باوجود اس کے اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ آخری فیصلہ اب تک کیوں نہیں ہوا؟16 سمبر 2012 ء کو اس گھناؤنی واردات کو ساکیت ٹرائل کورٹ نے 13 دسمبر کو اپنا فیصلہ دے دیا تھا ۔ قصورواروں ونے شرما، اکشے ٹھاکر، مکیش اور پون کو پھانسی کی سزا ملی۔ پانچویں ملزم رام سنگھ نے11 مارچ 2013 ء کو تہاڑ جیل میں خودکشی کرلی تھی۔ قصورواروں کوسنائی گئی پھانسی کی سزا کی تصدیق کی فائل ہائی کورٹ پہنچی ہوئی ہے۔ ہائی کورٹ نے فوراً نوٹس لے لیا اور محض6 مہینے میں ہی اپیل کا نپٹارہ کر ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بدل دیا۔ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ 13 مارچ2014ء کو دے دیا۔ اب معاملہ قریب ڈیڑھ سال سے (مارچ2014سے) التوا میں ہے۔ عدالت نے اپیل منظور کر معاملے کو باقاعدہ سماعت کیلئے چھوڑدیا ہے۔ طے قواعد کے تحت اگر سماعت لگاتار ہوئی تو یہ معاملہ 5 سے7 برس بعد سماعت کے لئے آسکتا ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ مرکزی سرکاری، دہلی سرکار و دہلی پولیس معاملے کی جلد سماعت کیلئے عرضی لگاتی تو ممکن ہے کہ سپریم کورٹ میں اب تک معاملے کا نپٹارہ ہوجاتا لیکن کسی نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اگر معاملے کا جلد نپٹارہ ہوجاتا تو توقع تھی کہ ملزمان کو پھانسی ہوجاتی۔ ایسا ہوتا تو دوسروں کو بھی سبق ملتا۔ ان کے دل میں بھی ڈر بیٹھتا۔ جب تک ایسے مقدمات کو فاسٹ ٹریک طریقے سے نپٹارہ نہیں ہوتا یہ درندگی رکنے والی نہیں۔ ہم دہلی کے وزیر اعلی کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

بیرونی ممالک سے زیادہ کالی کمائی تو دیش میں جمع ہے

جس ڈھنگ سے ان سرکاری بینکوں میں کالی کمائی بیرونی ملک بھیجی جارہی ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ پتہ نہیں دیش کے اندر کتنا کالا دھن جمع ہے؟ایس آئی ٹی کے وائس چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس ارجیت پسایت نے کہا کہ دیش میں جمع کالا دھن کی مقدار بیرونی ملکوں سے کافی زیادہ ہے۔انہوں نے کہا اگر کالے دھن کے اس ذرائع کو یہیں روکا جائے تو بیرونی ممالک میں کالی کمائی بھیجنے پر کافی حد تک روک لگ جائے گی۔ بینک آف بڑودہ کی دہلی میں واقع شاخ کے ذریعے کالا دھن بیرونی ممالک بھیجنے کے انکشاف کے بعد ایس آئی ٹی نے پچھلے ہفتے ایجنسیوں کے ساتھ جائزہ لیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ بین آف بڑودہ سے6 ہزار کروڑ روپیہ بیرونی ممالک میں بھیجے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں 4 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سی بی آئی نے فرضی درآمدات کے لئے ادائیگی کے نام پر دیش سے تقریباً 6 ہزار کروڑ روپے کی مبینہ کالے دھن کو ہانگ کانگ بھیجنے جانے کی جانچ کے سلسلے میں ایتوار کو 50 مقامات کی تلاشی لی۔ یہ پیسہ بینک آف بڑودہ کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے کہا کہ بینک کے ایک ٹرانزکشن میں اس کی اشوک وہار شاخ سے تقریباً لین دین کے 8 ہزار معاملوں کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ ہانگ کانگ کے لئے مبینہ طور پر یہ ادائیگی کرنے والے کھاتے داروں کا دعوی تھا کہ کاجو، چاول کی درآمدات کے لئے ایڈوانس کے طور پر یہ ادائیگی کی گئی جبکہ اس طرح کی کوئی درآمدات کبھی نہیں ہوئی۔ کالی کمائی کے کھیل میں بینک آف بڑودہ کے بعد آرینٹل بینک آف کامرس سمیت8 بینکوں کے نام اب تک سامنے آچکے ہیں۔ غازی آباد کی او بی سی بینک کی برانچ کے 66 کھاتوں اور 7 پرائیویٹ بینکوں کے ذریعے 11 فرضی کمپنیوں میں قریب557 کروڑ روپے ہانگ کانگ بھیجے۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے گزشتہ بدھوار کو حوالہ کاروباری سنجے اگروال سمیت دیگر کو گرفتار کرنے کے بعد جمعرات کو اس کا پردہ فاش کیا۔ محکمے نے بتایا کہ سنجے اگروال میسرس پی آر فار ایکس فرم کی ملی بھگت سے کام کرتا تھا۔ ان بینکوں میں یہ گورکھ دھندہ چل رہا ہے۔ او بی سی، یش بینک ، انڈس بینک، دھن لکشمی، کوٹک مہندرا، آئی سی آئی سی آئی، آئی این جی، ویشے اور بی سی بی ، آر بی آئی کے گورنر رگھو رام راجن نے بتایا کہ بینک آف بڑودہ معاملے سے یہ سوال اٹھتے ہیں کہ حالیہ نظام میں دھوکہ دھڑی ہورہی ہے۔ ہمیں اسے روکنے کے قدم اٹھانے ہوں گے۔ ہم کریں گے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ بینک آف بڑودہ سے پیسہ بھیجنے کا معاملہ کتنا بڑا ہے اس کا پتہ سی بی آئی ، ای ڈی اور ایس ایف آئی او کی جانچ کے بعد چلے گا۔ پہلے تو یہ کہا گیا تھا کہ بیرونی ممالک میں بھارت کا اتنا کالا دھن جمع ہے کہ ہر کوئی ایک کار خرید سکتا ہے۔ جب اس کالے دھن کو واپس لانے والی مودی سرکار کی تین مہینے کی یوجنا ختم ہوئی تو اس سے ہر شخص کے لئے ایک آئس کریم خریدنے لائق پیسہ ہی ہاتھ آیا۔ صرف 2500 کروڑ روپے ہی واپس آیا۔ دیش سے بیرونی ممالک میں پیسے جانے کو تو روکو،باہر سے دیش میں لانا تو الگ اشو ہے۔
(انل نریندر)

21 اکتوبر 2015

دہلی میں بڑھتی درندگی کیلئے سماج بھی قصوروار ہے

یہ ہماری دہلی کو کیا ہوتا جارہا ہے؟ ان درندوں نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ ایک بار پھر دہلی شرمسار ہوگئی ہے۔ دہلی میں ایک پانچ سال اور ڈھائی سال کی دو معصوم بچیوں سے بدفعلی کے واقعے نے ایک بار پھر نربھیا کانڈ کے زخم کو تازہ کردیا ہے۔ پہلا واقعہ جمعہ کی رات نیہال وہار کا ہے تو دوسرا آنند وہار کا ہے۔ نیہال وہار میں ایک ڈھائی سال کی بچی 70 سالہ اپنی دادی کے ساتھ جمعہ کی دیر رات رام لیلا دیکھنے گئی تھی قریب11 بجے اچانک بجلی چلی گئی۔ اتنے میں بچی کا ہاتھ دادی سے چھوٹ گیا۔ اسی درمیان وہ غائب ہوگئی۔ قریب تین گھنٹے بعد گھر سے ایک کلو میٹر دور پارک میں وہ خون سے لت پت ملی۔ اسے سنجے گاندھی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ راجدھانی میں ہر روز اوسطاً 6 لڑکیوں سے بدفعلی ہوتی ہے اور 15 لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ حالانکہ دہلی پولیس کے سینئر افسران کہتے ہیں کہ 16 دسمبر2012ء کے واقعے کے بعد خواتین کے لئے اٹھائے گئے سکیورٹی اقدامات پر ان کا بھروسہ بڑھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بنا ڈرے پولیس تھانے پہنچ کر اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی اور جرائم کی شکایت درج کروا رہی ہیں۔ دراصل بچیوں کے ساتھ ہورہی حیوانیت پر ایک سائیکلوجسٹ نے بتایا کہ کئی بار یہ لوگ جنسی تسکین کے لئے سامنے والے کا پورا کنٹرول چاہتے ہیں اس کیلئے بچے انہیں سافٹ ٹارگیٹ نظر آتے ہیں۔ چھوٹی بچیاں معصوم ہوتی ہیں اور احتجاج بھی نہیں کرپاتی۔ گھریلو جھگڑا، غریبی، گندگنی میں رہنے کی وجہ سے یہ فرسٹیٹ ہوتی ہیں اور اسی الجھن سے نکلنے کیلئے ظلم کا راستہ اختیار کرجاتے ہیں اور لاچار بچوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ نشے کی عادت ،منشیات وغیرہ لینے کے سبب یہ اپنے آپ پر کنٹرول کھو بیٹھتے ہیں اور اس دوران واقعات کو انجام دیتے ہیں۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر ارونا بوٹا فرماتی ہیں کہ ایسے مریض پیڈیفلز (اطفال جنسی استحصال) بیماری سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں جو کہ معصوم بچیوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔نٹھاری کانڈ کا قصور وار پیڈیفلز بیماری سے متاثر تھا حالانکہ ان معصوم بچیوں کے گناہگار بے حد سنگین طور سے ذہنی مریض ہیں جن کا خود پر کنٹرول نہیں رہتا۔ ماں باپ کو کچھ باتوں کا دھیان رکھنا ہوگا۔ اندھیری تنگ گلیوں میں شام ڈھلنے سے پہلے ہی بچیوں کو گھر میں بلا لینا چاہئے۔اندھیرے میں خاص کر ان مقامات پر جہاں روشنی کا اچھا انتظام نہیں ہے وہاں تو بالکل نہ کھیلنے دینا چاہئے۔2012 ء میں 400ایسے واقعات سامنے آئے تھے جو 2014ء میں بڑھ کر 1004 معاملے ہوگئے۔ جھگی کالونیوں ،سلم علاقے زیادہ متاثر ہیں۔اسپیشل کمشنر آف پولیس دیپک ؂مشرا( کرائم و انتظام) نے کہا بدفعلی کے واقعات صرف دہلی میں ہیں نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات کو روکنے کی ذمہ داری صرف پولیس کی نہیں بلکہ سماج کی بھی ہے۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہمارے سماج کو کیا ہوتا جارہا ہے اور یہ سلسلہ کب تھمے گا۔
(انل نریندر)

’رہسہ‘ اور’ تلوار‘ ایک ہی قتل کانڈ پر دو برعکس فلمیں

پچھلے دنوں میں نے دو ایسی ہندی فلمیں دیکھیں جو ایک سچے واقعے پر مبنی ہیں۔ کچھ سال پہلے نوئیڈا میں ایک دوہرے قتل کی واردات ہوئی تھی جس میں ایک بچی اور اسی کے گھریلو نوکر کا قتل ہوا تھا۔ اس پر بنی میں نے دونوں فلمیں دیکھیں (رہسہ اور تلوار) کے ۔ کے ۔مینن اور ٹسکا چوپڑہ اسٹارر ’رہسہ‘ بھی اسی قتل کانڈ پر بنی ہے اور اب میگھنا گلزار کی فلم ’’تلوار‘‘ جس میں عرفان خان اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ 7 سال پہلے ہوئی دل دہلانے والے وارادت کے نتیجے پر تنازعہ آج بھی برقرار ہے۔ ’تلوار‘ فلم میں دکھائے گئے واقعات کو پردے پر میگھنا گلزار نے ایسے زوردار ڈھنگ سے پیش کیا ہے جسے دیکھنے کے بعد آروشی قتل کیس کی پولیسیا جانچ اور جانچ میں اعلی افسر شاہی کا دباؤ سرکاری ایجنسیوں کا آپسی ٹکراؤ اور وقار کی لڑائی کولیکر ایسی بحث شروع ہوتی ہے جو شو ختم ہونے کے بعد اکثر مال میں کسی ریستوراں میں لمبے وقت تک چلتی ہے۔ ساکیت کالونی میں اپنے شوہر کے ساتھ ’تلوار‘ فلم دیکھنے آئی ایک خاتون جو تعلیم یافتہ ہاؤس وائف ہیں، کہتی ہیں کہ میں نے اس سے پہلے نوئیڈا میں ہوئے دوہرے قتل کانڈ کے پس منظر میں بنی کے ۔ کے مینن اور ٹسکا چوپڑا اسٹارر فلم ’رہسہ‘ بھی دیکھی تھی، لیکن 7 سال پہلے ہوئی دل دہلانے والی اس واردات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
خاتون کے مطابق ا س معاملے کی ابتدائی پولیس جانچ رپورٹ میڈیا میں آنے کے بعد میں نے اپنے گھریلو نوکر کو ہٹا دیا تھا لیکن ’تلوار‘ دیکھنے کے بعد مجھے لگ رہا ہے کہ میں نے اس وقت غلطی کی تھی۔انہوں نے کہا ہمیشہ اخباروں میں پولیس اور سی بی آئی جانچ رپورٹ کے بارے میں پڑھا تھا لیکن وہاں معاملہ فلم میں ایک دم مختلف تھا۔ ’رہسہ‘ فلم میں قاتل بچی کی ماں کو دکھایا گیا ہے جبکہ ’تلوار‘ فلم میں ماں باپ بے قصور ہیں اور نوکر کے دوست قاتل تھے اور دونوں فلموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ابھی معاملہ عدالت میں جاری ہے۔ ماں باپ جیل میں بند ہیں اور یہ فلم والوں نے اپنی طرف سے معاملے کو حل بھی کرلیا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کیا ان فلموں کا عدالتی کارروائی پر اثر نہیں پڑے گا؟ ’تلوار‘ فلم میں تو ماں باپ بے قصور دکھائے گئے ہیں جنہیں زبردستی پھنسایا جارہا ہے۔ یوپی پولیس اور سی بی آئی کی تفتیش میں کتنا فرق ہے یہ بھی باریکی سے دکھایا گیا ہے۔ کون صحیح ہے کون نہیں اس کا فیصلہ تو عدالت کا کام ہے لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ عدالت کے سامنے بھی اس کیس کو سلجھانے کی چنوتی کم نہیں ہے۔ پتہ نہیں اس 14 سالہ بچی اور گھریلو نوکر قتل کانڈ میں اصل کیا ہوا اس پر موثر ڈھنگ سے پردہ اٹھے گا بھی یا نہیں؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...