Translater

12 مارچ 2016

قرض میں ڈوبے مالیہ ہوئے اڑن چھو

ہزاروں کروڑ روپے کے ڈیفالٹر صنعت کاروجے مالیہ کے ذریعے تمام وارننگ کے باوجود بینکوں کا قرض نہ چکانا جتنا حیران کرنے والا تھا اب ان کے چپ چاپ دیش چھوڑ کر بھاگ جانے کی معلومات اتنی ہی حیران کن ہے۔ وجے مالیہ کا نام جب بھی ذہن میں آتا ہے ایک ایسے شخص کی تصویر ابھرتی ہے جو آن ۔بان۔ شان کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے اور ہر طرح کے عیش و آرام اٹھانے میں ہی زندگی کی بہتری مانتا ہے۔ اسی مالیہ کے بارے میں سرکار نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ وہ کہاں ہے، اس کی جانکاری نہیں ہے۔ ہندوستانی بینکنگ کی تاریخ میں ممکنہ طور پر یہ پہلی مثال ہے جب پوری مشینری ایک ڈیفالٹر کے سامنے تقریباً لاچار ہے۔ ایک وقت صنعت کاروں اور کاروباریوں کا آئیکون مانے جانے والے مالیہ اصلیتاً کنگال ہوچکے ہیں لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ابھی تک بینکوں کے بیانوں ،قدموں انکم ٹیکس محکمہ، انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ وغیرہ سے آرہیں اطلاعات بتا رہی ہیں کہ ان کے ذریعے قرض کی قسط نہ چکانے کے باوجود بینکوں نے قرض دینا جاری رکھا۔ ان کی کنگ فشر ایئر لائنس پر ہی 7800 کروڑ روپے کا قرض ہے۔ انہیں کل9 ہزار کروڑ روپے کا بقایا دار مانا جارہا ہے۔ اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ کنگ فشر ایئر لائنس کو ہزاروں کروڑ روپے کا قرض منظور کرنے سے پہلے ان 17 بینکوں نے کمپنی کی مالی حالت اور منافع کے امکانات ہی ٹھوس پڑتال کی ضرورت کیوں نہیں سمجھی؟ اگر صحیح ڈھنگ سے پڑتال کی گئی تھی تو پڑتال کرنے والوں کی جوابدہی طے کرکے ان کے خلاف کارروائی یقینی بنانا ضروری ہے جو بینک دو چار ہزار روپے کے معمولی قرض کے لئے بھی گارنٹی یا گروی رکھنے کے لئے کچھ سکیورٹی مانگتے ہیں ان کا ہزاروں کروڑ روپے خیرات کی طرح منظور کردینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف کنگ فشر کمپنی دم توڑتی رہی، اس کے ملازمین مہینوں سے بقایا تنخواہ کوترستے رہے تو دوسری طرف مالیہ اپنی عالیشان کشتیوں میں خوبصورت ماڈلوں کے ساتھ فوٹو کھنچواتے، موج مستی کرتے نظر آتے رہے۔ اس سب سے بینک افسران اور ان کے اکاؤنٹ آفیسر آنکھیں کیوں بند کئے رہے؟ قرض دینے کے قواعد و ضوابط کی تعمیل نہیں ہوئی ۔ یہ صاف ہے کہ مالیہ کو اس کے لئے سیاسی سرپرستی ضرور حاصل تھی۔بغیر سیاسی سرپرستی کے اتنابڑا قرض نہیں مل سکتا۔ بینکوں کے نجی کرن کے خلاف سب سے بڑی دلیل یہ بھی دی جاتی تھی کہ ان کے کرتا دھرتا اپنے لوگوں کو قرض دیتے ہیں لیکن بینکوں کے نیشنلائزیشن کو ساڑھے چار دہائیاں گزر چکی ہیں اس کے بعد جب لوگوں نے اپنے نیشنلائز ہوئی معیشت کو چونا لگانے کا کام جاری ہے تب بینکوں کے انتظام میں بہتری کے بارے میں سوچنا ہی ہوگا۔ صرف بینکنگ سسٹم ہی نہیں وجے مالیہ کی فراری بتاتی ہے کہ ٹھیک انہی حالات میں آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کے بیرون ملک بھاگ جانے کے معاملے سے بھی سرکار نے کوئی سبق نہیں لیا۔ مالیہ کے بیرون ملک چلے جانے کے اندیشے کے باوجود ٹریبیونل نے بھی حیرت انگیز طریقے سے مارچ کے آخرمیں اس معاملے کی سماعت کی تاریخ رکھنا بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ کنگ آف گڈٹائمس کے اچھے دن تو بہت پہلے ہی ختم ہوگئے تھے لیکن جب تک مالیہ کو جان بوجھ کر کئے گئے کارناموں کے لئے پکڑا اور سزا نہیں دی جاتی تب تک ہمارا پورا نظام بھی اپنے بے اثر ہونے کے غم سے شاید ہی نکال سکے۔ آخرمیں سبرت رائے ، وجے مالیہ کی کہانی ایک جیسی ہے دونوں اپنی عالیشان اور مہنگی لائف اسٹائل کی وجہ سے سرخیوں میں رہے اسپورٹس، ایویایشن اور ہوٹل کاروبار میں دونوں کی خاصی دلچسپی لیکن دونوں کے بزنس کرنے کے طور طریقوں پر سوالیہ نشان۔ دونوں ہی بیحد مہنگی پارٹیاں دینے اور سیلبریٹیز کو اکٹھا کرنے، مہمانوں کے لئے ایئر لائنس کا استعمال کرنے کے لئے مشہور تھے۔ فی الحال دونوں کا برا دور چل رہا ہے۔ رائے نے 1978 میں ’’سہارا‘‘ قائم کیا تھا تو مالیہ نے1983 میں ’’مووی گروپ‘‘ سنبھالی۔ فرق اتنا ہی ہے کہ رائے نے این بی ایف سی بزنس سے دولت کمائی تو مالیہ نے شراب کنگ کا درجہ حاصل کیا۔ شراب پینے سے بہتوں کو تباہ ہوتے دیکھا جاتا ہے لیکن شاید شراب بنانے والے کی پہلی بار تباہی دیکھ رہے ہیں۔
(انل نریندر)

دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج سے تقریب شروع ہوگی

شری شری روی شنکر کی تنظیم ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کی طرف سے منعقد ہونے والا عالمی کلچرل فیسٹول بھلے ہی تنازعوں کے مرکز میں آگیا ہے لیکن جمنا ندی کے نشیبی علاقے میں اس وسیع فنکشن کے لئے اسٹیج پوری طرح سے سج چکا ہے۔اس درمیان روی شنکرکہا کہ این جی ٹی کی طرف سے لگائے گئے 5 کروڑ روپے کا جرمانہ وہ ادا نہیں کریں گے چاہے انہیں جیل کیوں نہ جانا پڑے۔ دہلی میں جمعہ سے شروع ہورہے ورلڈ کلچرل فیسٹول میں کئی ریکارڈ بنیں گے۔ روحانی گورو شری شری روی شنکر کی تنظیم ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کے پورے35 سال ہورہے ہیں۔ پروگرام کو شاندار شکل دینے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا اسٹیج بنایا گیا ہے۔ قریب1200 فٹ لمبے اور 400 فٹ چوڑے اس اسٹیج پر ایک وقت میں قریب 28 ہزار لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔منتظمین کا دعوی ہے کہ یہ دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا اسٹیج ہے ۔ یہاں دیش اور دنیا کے 35 ہزار آرٹسٹ ایک ساتھ پروگرام پیش کریں گے۔ فیسٹول کے اہم اسٹیج کو 10 حصوں میں بانٹا گیا ہے۔ اسٹیج کے بیچوں بیچ پروگرام کے مہمان خصوصی موجود رہیں گے اور اس کا افتتاح پی ایم نریندر مودی کے ذریعے یقینی مانا جارہا ہے۔ 12 مارچ یعنی آج روحانی گورو و دھرم گوروؤں کی موجودگی میں سرو دھرم کانفرنس ہوگی۔ دیش کے قریب 20 ہزار مہمان پروگرام میں شرکت کریں گے۔ 173 دنیا بھر کی ہستیاں موجود رہیں گی جن میں موجودہ سربراہ مملکت و سابق سربراہ مملکت ، وزرا اور ایم پی بھی شامل ہیں۔ فیسٹول کے اسٹیج کو روشن کرنے کے لئے چار فلڈ لائٹس کے ٹاور لگائے گئے ہیں جو کرکٹ کے میدان کی طرح روشنی دیں گے۔ پروگرام میں روشنی کے لئے ایل ای ڈی بلب کا استعمال کیا جارہا ہے جو اپنے آپ میں انوکھی بات ہے۔ فیسٹول کے انعقادکے لئے کل 7 ایکڑ زمین کا استعمال کیا جارہا ہے۔ داخلہ کے لئے 13 دروازے بنوائے گئے ہیں۔ آرٹ آف لیونگ کے ایک افسر کے مطابق فیسٹول کا اسٹیج نہ صر ف بہت شاندار ہے بلکہ اس کو بنانے کے لئے نئی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اسٹیج کو کھڑا کرنے کے لئے کوئی کھدائی نہیں کی گئی ہے نہ کوئی پختہ تعمیر کی گئی ہے۔ یہ پوری طرح سی ایکوفرینڈلی اسٹیج ہوگا۔اسٹیج کی تعمیر میں کہیں بھی سیمنٹ کا استعمال نہیں ہواہے۔ اس افسر نے یہ بھی بتایا کہ پوری دنیا میں اس وسیع تقریب کا پورا لائیو ٹیلی کاسٹ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

11 مارچ 2016

ہدایت کی خلاف ورزی سے کنہیا کی ضمانت منسوخ ہونی چاہئے

رنگ ہرا ہری سنگھ نالوا سے رنگ لال سے لال بہادر، رنگ بنا بسنتی منگل سنگھ، رنگ امن ویر جوان سے۔۔۔ کنہیا کمار کو ضمانت دینے کے دوران دہلی ہائی کورٹ کی جج محترمہ اوشا رانی نے ’اپکار‘ فلم کے ایک گانے کی ان ستور کو بیان کرتے ہوئے سوال کیا کہ جے این یو سے امن کے رنگوں کو ختم کیوں کیا جارہا ہے؟عدالت نے آگے کہا اس سوال کا جواب وہاں کے طلبا، اساتذہ اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مانگنی کی ضرورت ہے۔کورٹ نے یہ بھی کہا کہ جے این یو میں جس طرح سے ملک مخالف نعرے لگے اس سے شہیدوں کے رشتے داروں کو مایوسی ہوئی ہوگی۔ یہ طلبا آزادانہ طور سے اس لئے نعرے لگا رہے ہیں، کیونکہ فوج کے جوان اور پیرا ملٹری فورس دیش کی سرحدوں کی حفاظت کررہی ہیں۔ کنہیا کمار کو مشروط ضمانت ملی تھی اس میں صاف کہا گیا تھا کہ ملکی بغاوت کے ملزم جے این یو اسٹوڈنٹ یونین لیڈر کنہیا کمار نے اگر ہائی کورٹ کی ایک بھی گائیڈ لائنس کو سنجیدگی سے نہیں لیا، تو ان کی عارضی ضمانت منسوخ ہوسکتی ہے۔ عدالت نے کنہیاکو صاف ہدایت دی تھی کہ وہ کسی بھی طرح کی ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل نہ ہو لیکن کنہیا کمار ان گائیڈ لائنس کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ وہ تو سیاسی آئیکون بننے کے چکر میں ہیں۔ ان کو اس میں حمایت مل رہی ہے لیفٹ پارٹیوں کی، کانگریس پارٹی کی اور عام آدمی پارٹی و دیگر اپوزیشن لیڈروں کی۔ پہلے بات کرتے ہیں کنہیا کمار کیا کہہ رہے ہیں۔ ویسے تو رہا ہونے کے بعد سے ہی وہ بکواس کررہے ہیں۔ جیل سے چھوٹتے ہی اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے کہا کہ دن میں مودی جی بھاشن دے رہے تھے انہوں نے اسٹالن اور اور میدوف کا ذکر کیا تب لگا کہ ٹی وی میں گھس کر مودی کا سوٹ پکڑ کرکہوں ہٹلر پر بھی بولئے۔کنہیا نے کہا جیل میں ایک تھالی اور دو رنگ کی کٹوری ملی۔ ایک لال اور ایک نیلی۔ تھالی سے مجھے بھارت دکھائی دیتا تھا اور اس میں رکھی دو کٹوریاں ایک انقلاب اور دوسری بابا صاحب کے سماجی سمرستہ تحریک کی جھلک تھی۔ چلو یہاں تک بھی ٹھیک تھا لیکن اب تو کنہیا نے ساری حدیں پار کردی ہیں۔ اس بار ان کے نشانے پر ہندوستانی فوج کے جوان ہیں۔ کنہیا نے کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کشمیر میں فوج کے ذریعے عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے۔ حفاظت کے نام پر جوان عورتوں سے آبروریزی کرتے ہیں۔ حالانکہ کنہیا نے یہ بھی کہا کہ وہ سکیورٹی فورس کی عزت کرتے ہیں لیکن جب اس نے کشمیر کا ذکرکیا تو کہا کہ وہاں فوج آبروریزی کرتی ہے۔ سینئر سپریم کورٹ وکیل مونیکا اروڑہ نے کنہیا کی مشروط ضمانت پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ جیسے یعقوب میمن اور افضل گورو کے فیصلوں کا جائزہ کنہیا اور ان کے ساتھی کررہے ہیں کنہیا کی ہائی کورٹ سے ضمانت پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔ اپنے حکم میں جسٹس پرتیبھا رانی نے کہا کہ 9 فروری کو افضل گورو پر مہما منڈل پروگرام میں کنہیا کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ جانچ کا شو ہے کے اس پروگرام میں کنہیا کا کیا رول تھا؟ فیصلہ کہتا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا بیجا استعمال کرنے اور ملک مخالف نعرے لگائے گئے۔ کیونکہ یہ کنہیا کا فرض تھا وہ ایسے نعروں کو روکے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نعرے لگانے دئے۔ بھارت کے ٹکڑے کردوں، بھارت کی بربادی وغیرہ جیسے نعرے اگر ملک مخالف نہیں ہیں تو کیا ہیں؟ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ’بندوق سے لیں گے آزادی‘ تو یہ ملکی بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا کیا؟ کنہیا کی ضمانت منسوخ کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ اس نے شرطوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور کررہا ہے۔ بشرطیکہ پولیس انترم ضمانت منسوخ کرنے کے لئے عدالت میں اپیل دائر کرے۔ مشروط ضمانت کے بعد بھی کنہیا کے انقلابی، ملک مخالف تقریر و نعرے جاری ہیں۔ دہلی پولیس کے افسران کی مانیں تو اگر کنہیا نے دیش مخالف بیان بازی کی تو ہائی کورٹ میں اس کے خلاف ضمانت منسوخ کرنے کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے اور اس کے کافی ثبوت ہیں۔
(انل نریندر)

ای پی ایف سے ٹیکس واپسی کے فیصلے کا خیر مقدم ہے

مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے آخر کار امپلائز پروویڈنٹ فنڈ (ای پی ایف) کھاتے کی رقم نکالنے پر ٹیکس لگانے کی بجٹ تجویز واپس لیکر ٹیکس دہندہ ملازمین کو بڑی راحت دی ہے۔ ای پی ایف کے تحت آنے والے لاکھوں ملازمین میں سے اس سے بھی بے چینی ہونا لازمی تھی ۔ اچھی بات ہے کہ حکومت نے ان کے جذبات کی قدر کی اور اس تجویز کو واپس لے لیا۔ اس فیصلے کے پیچھے حکومت کی دلیل تھی کہ وہ ایسا کرکے ان لوگوں کو خوش خرم کرنا چاہتی ہے جو سروس میں اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اس پیسے کا استعمال کرلیتے ہیں اور اس کے چلتے انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس دلیل کو بھی بے بنیاد نہیں مانا جاسکتا۔ ایک تو ایسے فیصلے وسیع تبادلہ خیالات اور بحث کے بعد لئے جانے چاہئیں اور اس کے بارے میں فیصلے کا اعلان کرتے وقت پوری وضاحت سامنے آنی چاہئے۔ وزیر موصوف نے اس کے ساتھ ہی نیشنل پنشن اسکیم کے تحت جمع رقم40 فیصد حصے کو ٹیکس سے چھوٹ دینے کی تجویز برقرار رکھنے کی بات بھی کہی ہے۔ اس سے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جو پنشن اسکیم کو مستقبل کی گارنٹی کے طور پر دیکھتے ہیں، حقیقت میں دیش میں بزرگوں کی سماجی سکیورٹی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مگر وزیر خزانہ نے تنخواہ داروں کے لئے جو راستہ چنا تھا اس میں تو ملازمین کو فائدے کی جگہ نقصان ہی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ اعلان کے بعد سے ہی اس کی چوطرفہ مخالفت ہورہی تھی۔ ای پی ایف اسکیم تنخواہ داروں کی سماجی سکیورٹی کا سب سے زیادہ بھروسے مند ذریعہ ہے جس میں جمع رقم ان کے آڑے وقت میں کام آتی ہے۔ ای پی ایف میں ملازمین کا ساڑھے آٹھ لاکھ کروڑ روپے جمع ہیں مگر دوسری طرف سرکاری بینکوں کا ڈوبتا قرض ہی 4 لاکھ کروڑ سے زیادہ ہوگیا ہے اور بینکوں کی 1.14 لاکھ کروڑ روپے کی این پی اے املا ک کو معاف کرنے کا فیصلہ لے لیا ہے۔ اچھا تو یہ ہوگا کہ سرکار نئے اقتصادی وسائل اکٹھا کرنے کے لئے ایسے قرض کی وصولی کے لئے کوئی کارگر پہل کرے۔ اس سلسلے میں وزیر مالیات کا یہ کہنا اہم ہے کہ سرکار کا مقصد زیادہ محصول کمانا نہیں بلکہ لوگوں کو پنشن اسکیم سے جوڑنے کے لئے وسائل پیدا کرنا ہے۔بھارت جیسے دیش میں سماجی سکیورٹی کے انتظام بہت ہی قابل رحم ہیں۔ ای پی ایف یا پنشن یا چھٹی یافتہ ملازمین کا ایک واحد سہارا ہے ۔ کوشش انہیں محفوظ کرنے کی ہونی چاہئے نہ کی بزرگوں کو اس سے نقصان پہنچانے کی۔
(انل نریندر)

10 مارچ 2016

پاکستان میں آتنکیوں کا اڈہ بنے مدرسے

آخر کار پاکستان نے قبولا ہے کہ آتنکیوں کا اڈہ بن گئے ہیں یہ مدرسے۔ پاکستان کے سرکردہ سفارتکار نے کہا ہے کہ افغان۔ پاک سرحد اور قبائلی علاقوں خاص طور پر نارتھ وزیرستان کے ارد گردواقع مدرسے دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مرکز بن گئے ہیں لیکن انہوں نے اس کے لئے افغان پناہ گزینوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جو 9/11 کے بعد امریکہ کے ذریعے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کئے جانے کے بعد دیش میں گھس آئے تھے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے خصوصی معاملات کے مشیر سرتاج عزیز نے اس ہفتے ڈیفنس مصنیفین کے ایک گروپ سے کہا کہ مدرسوں کے پاس تصور سے پرے دہشت گردی کا ٹھوس بنیادی ڈھانچہ ہے۔ یہ بم بنانے کا کارخانہ چلا رہے ہیں۔ یہ دہشت گردوں کے تجربے کا مرکز ہے اور اس میں فدائین حملہ آوروں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ یہ سب مسجد کے اندر کثیر منزلہ تہہ خانے میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا مجھے یاد ہے کہ میں میران شاہ میں ایک مسجد میں گیا تھا باہر سے ہمیں کچھ نہیں دکھا لیکن اندر 70 کمروں کا تین منزلہ تہہ خانہ تھا جس میں چار پانچ آئی ای ڈی کارخانے، چارپانچ فدائین تجربہ سینٹر کمیونی کیشن نیٹورک ،خاص کمرے، کانفرنس روم اور جنگ سے متعلق بنیادی ڈھانچہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کیسی آتنکی بنیادی ڈھانچے کی گہری جڑیں بن گئی ہیں۔ عزیز نے اندازہ لگایا کہ نارتھ وزیرستان میں اس طرح کے بنیادی ڈھانچے والی 30-40 مسجدیں ہیں۔ 
نارتھ وزیرستان میں جون 2014ء میں پاکستانی فوج نے آپریشن’ ضرب غضب ‘ شروع کیا تھا۔ افغان۔ پاک سرحد سے لگے قبائلی علاقوں میں 7 ایجنسیاں ہیں اور نارتھ وزیرستان ان میں سے ایک ہے۔ واشنگٹن میں امریکہ پاکستان چھٹی فوجی مذاکرات میں شرکت کرنے آئے عزیز نے کہا کہ ہمارے اندازے کے مطابق خاص طور پر ان ایجنسیوں میں اتنے آئی ای ڈی کارخانے تھے کہ اگر یہ بغیر رکاوٹ کے چلتے رہتے تو جس طرح کے حملے وہ کرتے رہے ہیں اس کے لئے ان کے پاس اگلے 20 سال کے لئے کافی آئی ای ڈی تھے۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کا یہ مسئلہ ہمیں 9/11 کے بعد وراثت میں ملا جب لوگ سرحد پرہماری طرف آ گئے اور وہ ہمارے لئے ایک خطرہ بن گئے کیونکہ وہ دنیا کے اپنے حصے پر اپنی پکڑ کھو بیٹھے تھے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہماری قبائلی پٹی بہت بڑی ہے اور بہت کھلا خطہ ہے۔ شروع میں وہ پناہ مانگنے آئے تھے لیکن انہوں نے قبائلی لیڈروں کو قتل کیا اور پھر انہوں نے اپنا کمیونی کیشن نیٹ ورک ، آئی ڈی کارخانے اور فدائین ٹریننگ سینٹر قائم کرنے شروع کردئے۔ یہ پہلی بار ہے کہ جب پاکستان نے قبول کیا ہے کہ کچھ مدرسے دہشت گردی کا مرکز ہیں۔
(انل نریندر)

جے این یو کے زہر اگلتے یہ لیفٹ پروفیسر

پچھلے دنوں جو جے این یو میں ملکی بغاوت سرگرمیوں سے جہاں کچھ طلبا بے نقاب ہوئے ہیں وہیں یہ بتانا ضروری ہے طلبا کے دماغ و نظریات آلودہ کرنے والے جے این یو کے اساتدہ کا ماحول آلودہ کرنے میں کم کردار نہیں ہے۔ یہ اساتذہ طلبا کو بھڑکاتے ہیں اور انہیں آگے کرکے خود پرچے کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔ دیش ملکی بغاوت معاملے پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں مچے ہنگامے کے درمیان نیا ویڈیو سامنے آیا ہے۔ یو ٹیوب پر دستیاب اس ویڈیو کلپ میں جے این یو کے اسکول آف انٹر نیشنل اسٹڈیز کی پروفیسر نویدیتا مینن یہ کہتی پہلی بار نظر آرہی ہیں کہ کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ ہے اور پوری دنیا ایسا مانتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ کیمپس میں یہ بات پروفیسر مینن روزانہ انتظامی بلاک کے باہر لگنے والی راشٹرواد کی پاٹھ شالہ میں کہہ رہی ہیں۔ جے این یو ایڈمنسٹریشن بلاک کے باہر ہوئی اس کلاس میں سینٹر فار کمپریٹیو پالیٹکس اینڈ پالیٹیکل تھارٹ کی پروفیسر نویدتا مینن کہہ رہی ہیں کہ دنیا میں مانا جاتا ہے کہ بھارت نے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اکثر میگزین میں ایسے نقشے شائع ہوتے رہتے ہیں جس میں دکھایا جاتا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔جب دنیا بھر میں کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کی بات ہورہی ہے توہ میں سوچنا چاہئے کہ کشمیر کی آزادی کا نعرہ غلط نہیں ہے، یہ نعرہ ایک دم جائز ہے۔ 
گزشتہ27 فروری کو سامنے آئے اس ویڈیو کی سچائی کی تصدیق ہم نہیں کرسکتے لیکن اس موضوع پر جب اے بی وی پی کے نیشنل میڈیا کنوینر سنکیت بہوگنا سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پروفیسر مینن کا یہ بیان سن کر کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے ۔ وہ اور ان کے جیسے دیگر لیفٹ پسند آئیڈیا لوجی کے حمایتی پروفیسر لگاتار ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو پروفیسر راشٹرواد کی پاٹھ شالہ کے نام پر کیمرے کے سامنے بچوں کو ایسا پاٹھ پڑھاتے ہیں تو وہ کلاسوں میں کیا کرتے ہوں گے؟ جے این یو کے دوسرے پروفیسر نے الزام لگایا ہے پارلیمنٹ حملے کے قصوروار افضل گورو کی پھانسی کو لیکر جے این یو میں اس پروگرام کے انعقاد پر تنازع یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی رچی ہوئی سازش تھی۔جس دوران مبینہ طور پر دیش مخالف نعرے بازی ہوئی ۔ 
جے این یو پروفیسر اور جانی مانی ماہر اقتصادیات جینتی گھوش نے این ڈی اے کی دیش مخالف پالیسیاں بل اور ایک مقالہ کے دوران طلبا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونیورسٹی کو بدنام کرنے کے لئے رچی گئی سازش تھی اور اس کی پلاننگ اعلی سطح پر کی گئی تھی۔ پروگرام کے دوران جو لوگ موجود تھے ان میں تین نقاب پوش لوگ تھے جنہوں نے مخالفت میں نعرے بازی کی تھی اور یہ درپردہ طور سے خفیہ بیورو کے تھے۔ ہمارا سندیش یہی ہے ۔
(انل نریندر)

09 مارچ 2016

5 ریاستوں میں چناؤ کا اعلان نیتا پھر ووٹروں کے قدموں میں

پانچ ریاستوں آسام، مغربی بنگال، تاملناڈو، کیرل ،پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کا بگل بج گیا ہے۔ جمعہ کو چناؤ کمیشن نے وہ تاریخیں اعلان کردیں جب ان پانچ ریاستوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹنگ کا سلسلہ 4 اپریل سے شروع ہوگااور 19 مئی کو نتیجوں کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے دیش میں سبھی چناؤ کو کافی سنجیدگی سے لیا جانے لگا ہے یہاں تک کہ ضمنی چناؤ کو بھی۔ ان کا قومی سیاست پر بھلے ہی سیدھا اثر نہ پڑتا ہو لیکن ان کے نتیجوں سے سیاسی پارہ اور تیور ضرور بدل گئے ہیں۔ اسمبلی چناؤ کے اگلے دور میں ویسے تو دونوں بڑی قومی پارٹیوں بھاجپا یا کانگریس کا زیادہ کچھ داؤ پر نہیں لگا ہے۔ پھر بھی نتیجوں کا دیش کو گہری دلچسپی کے ساتھ انتظار ہوگا۔15 مہینے پہلے بہار میں ہارنے والی بھاجپا کا یوں تو ان ریاستوں میں کچھ خاص داؤ پر نہیں لیکن دیش میں وجود بتانے کے لئے زور ضرور لگائے گی۔ دہلی بہار کے صدمے سے نکالنے اور 2017 میں فروری میں یوپی ، پنجاب میں اقتدار پانے بچانے کے لئے بھاجپا کا مظاہرہ یہاں معنی رکھے گا۔ مرکز کی پردھان منتری مودی سرکار اور بھاجپا کے لئے پانچ ریاستوں کے یہ اسمبلی چناؤ ایک لٹمس ٹیسٹ بھی کئے جاسکتے ہیں۔ پارٹی ان چناؤ میں مودی لہر سماجی ذات پات تجزیئے،دیش بھگتی بنام ملکی بغاوت، مرکزی سرکار کی ساکھ کا امتحان کرے گی تاکہ سال بھر بعد ہونے والے اترپردیش کے چناؤ میں ایک پختہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔ جہاں تک کانگریس کی بات ہے تو اس کے پاس 15 سال سے آسام ہے۔ کیرل میں اتحاد ہے باقی ریاستوں میں وہ اسی پوزیشن میں ہے جس میں پانچ ریاستوں میں بھاجپا ہے۔ مغربی بنگال میں 37 سال کے لیفٹ راج کو ختم کر 2011ء میں اقتدار سنبھالنے والی ممتا بنرجی کو اقتدار بچائے رکھنا ہوگا۔تاملناڈو میں اماں کا مقابلہ روایتی حریف کروناندھی سے ہے۔ کیرل میں کانگریس ضرور کسی آس کے سہارے ہے۔ بات آسام کی تو لوک سبھا میں 14 میں سے7 سیٹیں جیتنے والی بھاجپا کچھ پانے کی دوڑ میں دکھائی پڑتی ہے۔ 2001ء سے مسلسل یہاں کانگریس کا راج رہا ہے۔ پڈوچیری میں کانگریس کی سرکار ہے نہ بھاجپا کی۔ آسام میں بھاجپا نے آسام گن پریشد اور بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ سے تال میل کیا ہے۔ ریاست میں ترون گگوئی کی لیڈر شپ میں 15 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود اقتدار مخالف رجحان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کانگریس نے سبھی سیٹوں پر اکیلے چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ریاست کی مسلم اکثریتی سیٹوں پر پکڑ بنانے والا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ بھی 60 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتار رہا ہے یعنی مقابلہ سہ رخی ہوگا جسے بھاجپا اپنے حق میں مان کر چل رہی ہے۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈرشپ والے لیفٹ فرنٹ کے لئے یہ زندگی اور موت کی لڑائی ہے۔اس کے سامنے تریپورہ کے علاوہ باقی دونوں گڑھ مغربی بنگال ،کیرل میں اقتدار میں واپسی کیلئے زبردست چیلنج ہے۔ جے این یو معاملے میں لیفٹ پارٹیوں کو نئی طاقت اور ایک نیا چہرہ ملا ہے کنہیا۔ اس کا استعمال لیفٹ پارٹیاں اس چناؤ میں خوب کریں گی۔ چناؤ پروگرام تقریباً ڈھائی مہینے لمبا چلنے والا ہے۔ پرامن و منصفانہ ووٹنگ کرانے کے لئے چناؤ کمیشن نے وسیع اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ توقع ہے کہ ہمیشہ کی طرح وہ اس کام میں پوری طرح کامیاب ہوں گے۔ ان چناؤسے یہ بھی پتہ چلے گا کہ ووٹر حالیہ ہلچلوں کس حد تک متاثر ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

جسٹس وشنو سہائے کمیشن کی سپا کو کلین چٹ

مظفر نگر فسادات کی جانچ کے لئے تشکیل جسٹس وشنو سہائے کمیشن نے اپنی جانچ میں اترپردیش کی سپا حکومت کو ایک طرح سے کلین چٹ دیتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کیلئے خفیہ مشینری کو پوری طرح سے ناکام اور ذمہ دار مانا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں حالات کی نزاکت کو سمجھنے میں ناکام رہی ہیں۔ کمیشن نے فسادات کے لئے سرکاری مشینری کو ذمہ دار مانا ہے لیکن کئی جگہ خود ہی بچاؤ بھی کیا ہے۔ دنگے کے بعد مظفر نگر میں تعینات کئے گئے ایس ایس پی سبھاش چندر دوبے اور نوٹی فکیشن یونٹ کے انسپکٹر پربل پرتاب سنگھ کو ہی سیدھے طور پر قصوروار مانا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے دنگوں سے متعلق واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ 27 اگست سے15 ستمبر 2013 کے دوران مظفر نگر، شاملی، باغپت، سہارنپور ، میرٹھ میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے لئے پرنٹ اور سوشل میڈیا اپنی جوابدہی سے نہیں بچ سکتا۔حالانکہ کمیشن نے کسی خاص سائٹ یا پرنٹ میڈیا کو ان دنگوں کے لئے جوابدہ نہیں مانا ہے۔ کمیشن نے مانا ہے کہ 30 اگست2013ء کو جمعہ کی نماز کے بعد سیدالزماں، قادر رانا، نور سلیم رانا، رشید صدیقی، اعظم الزماں وغیرہ نے ایک اسٹیج نے مسلمانوں کی ایک بڑی بھیڑ کو خطاب کیا تھا۔ اس میں ہندوؤں کے خلاف قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا گیا جس سے فرقہ وارانہ بھائی چارہ و مسلم فرقے کو ہندو فرقے کے خلاف بھڑکایا گیا۔ کمیشن نے کہا ہے کیونکہ اس معاملے میں بھی متعلقہ افراد کے خلاف کوتوالی سٹی میں مختلف دفعات میں مقدمات درج ہیں لہٰذا ان کے خلاف بھی سرکار کی طرف سے آئین کے سیکشن 20(2) کے تحت کوئی دیگر سزا دینے والی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ کمیشن نے کہا کہ یو ٹیوب پر ویڈیو کلپ لوڈ کرنے کے معاملے میں بھاجپا ممبر اسمبلی سنگیت سوم و دیگر 229 افراد کے خلاف مظفر نگر کی کوتوالی میں مقدمہ درج ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف آئین کے سیکشن20(2) کے تحت کوئی سزا دینے والی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ کمیشن نے موٹے طور پر فساد ہونے کے تین اسباب بتائے ہیں۔ طالبان کے ایک سال پرانے ویڈیو کو جس میں کچھ لڑکوں کی پٹائی ہو رہی ہے، کو سچن و گورو کے قتل سے جوڑ کر سوشل میڈیا کے ذریعے دکھایاگیا۔ مظفر نگر کے شہید چوک پر قادر رانا اور دیگر کے ذریعے میمورنڈم کی تقریر کا ڈی ایم و ایس ایس پی کے ذریعے نوٹس لیا جانا، ہندو مسلم دونوں فرقوں کے ذریعے بھڑکیلی تقریریں کرنا، نگلا مندوڑ میں منعقدہ پنچایت روکنے کے لئے انتظامیہ کی ناکامی، پنچایت میں حصہ لینے جارہے ہندوؤں پر بنسی کلاں میں حملہ، 7 ستمبر کی پنچایت میں حصہ لینے کے لئے مظفر نگر اور شاملی تک کے لوگ نگلا بھندوڑ آئے تھے راستے میں بنسی کلاں گاؤں میں نعرے بازی کو لیکر مار پیٹ ہوگئی تھی۔ لوگوں نے ٹریکٹر ٹرالیوں میں سفر کررہے لوگوں پر پتھراؤ کردیا تھا۔ انہی لوگوں نے نگلا مندوڑ پنچایت میں پہنچ کر بنسی کلاں میں جھگڑے کی جانکاری دی تھی۔کمیشن نے اس نکتہ کو بھی ہندو فرقے میں غصے کی وجہ بتایا ہے۔ پنچایت میں ایک بار توبنسی کلاں کوچ کرنے کا اسٹیج سے اعلان کردیا گیا تھا۔ بھاجپا نیتاؤں نے وشنو سہائے کمیشن کی رپورٹ پر سوال کھڑے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کمیشن نے صرف سپا سرکار کو بچانے کا کام کیا ہے۔ کمیشن نے حقائق کو چھپایا ہے۔ نگلا مندوڑ میں پنچایت کے کنوینر رہے وریندر سنگھ پردھان کا کہنا ہے کہ کمیشن نے ان سے یہ تک نہیں پوچھا کہ پنچایت کیوں منعقد کی گئی تھی۔ 27 اگست کی رات میں ڈی ایم سریندر سنگھ اور ایس ایس پی منجل سینی کا تبادلہ کس نے کرایا، سات قاتلوں کو کس نے چھڑوایا، اس کی جانچ ہوتی تو اعظم خاں اور امیرعالم کا نام سامنے آتا۔ کمیشن نے صرف سرکار کوہی بچایا ہے۔ اعظم خاں اور امیر عالم خاں کے رول کی جانچ نہیں کی گئی ہے۔ کمیشن نے محض لیپا پوتی کی ہے اور صرف سپا کے لیڈروں کو بچانے کا کام کیا ہے۔ دنگوں کی جانچ پانچ ججوں کے پینل سے کرائی جانی چاہئے۔
(انل نریندر)

08 مارچ 2016

بنگلہ دیشی ناظرین کی شرمناک کرتوت کا دھونی نے دیا معقول جواب

ایتوار کو بنگلہ دیش کے شہر میر پور میں کھیلا گیا ایشیا کپ فائنل بہت دلچسپ رہا۔ ہمیں اس میں خاص مزہ اس لئے بھی آیا کہ بنگلہ دیشی ٹیم کے کچھ حمایتی فائنل سے پہلے ہی اوچھی حرکتوں پر اتر آئے اور غیر ضروری ڈرٹی گیم کے ذریعے ہندوستانی ٹیم اور اس کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو بے عزت کرنے میں لگ گئے۔ اسی سلسلے میں بنگلہ دیش کے کچھ کرکٹ شائقین نے کمپیوٹر گرافکس کے ذریعے ہندوستانی کپتان دھونی کا کٹا سر بنگلہ دیشی تیز گیند باز تسکین احمد کے ساتھ دکھایا۔ میڈیا اسپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں یہ فوٹو سوشل میڈیا میں وائرل ہوگیا۔ جوش تو ٹھیک ہے لیکن جنون کے نام پرحریف ٹیم کو حد سے زیادہ پار جاکر اس سے بیہودگی یابچکانی حرکت کرنا نہ تو بنگلہ دیش کو زیب دیتا ہے اور نہ ہی کرکٹ کو۔ یہ تو کھیل جزبے کے خلاف ہے۔ آئی سی سی کو ایسی حرکتوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور قصورواروں پر سخت کارروائی ہونی چاہئے یہ کہنا تھا پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق کا۔بھارت کے سابق گیند باز مدن لال نے کہا حریف ٹیم کو لیکر ایسی شرمناک حرکت میں نے اپنے کیریئر میں کبھی نہیں دیکھی۔ ویسے بتا دیں کہ یہ پہلی ایسی حرکت نہیں تھی۔ پچھلے سال ونڈے سیریز میں بنگلہ دیش نے گھریلومیدان پر ٹیم انڈیا کو 2-1 سے مات دی تھی۔ ہندوستانی بلے باز بنگلہ دیشی تیز گیند باز مستفیق کو صحیح ڈھنگ سے کھیلنے میں ناکام رہے تھے۔ ٹیم انڈیا کا فوٹو کے ذریعے مذاق اڑایا گیاتھا۔ اس فوٹو میں ٹیم انڈیا کے کئی کھلاڑیوں کے سر کو آدھا گنجا دکھایا گیاتھا اور بنگلہ دیشی تیزگیندباز مستفیقرالرحمن ریزر لئے کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ آئی سی سی ورلڈ کپ کے دوران روہت شرما کو لیکر امپائر کے ایک فیصلے پر بڑا تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ ایتوار کو ہوئے 15 اوور کے میچ میں سب سے زیادہ مزہ اور بنگلہ دیش کو کرارا جواب مہندر سنگھ دھونی نے تب دیا جب الامین کی گیند پر چھکا جڑدیا اور ٹیم کو جیت دلا دی۔ ٹارگیٹ کا پیچھا کرنے اترے بھارت کی شروعات اچھی نہیں رہی۔ روہت شرما0-1 رن پر الامین حسین کی پاری کے دوسرے اوور میں ہی سومنے سرکار کو آسان سا کیچ دے بیٹھے۔ بھارت نے پاور پلے کے 5 اوور میں 1 وکٹ پر 33 رن بنائے۔ وراٹ کوہلی نے ایک بار پھر اپنا تباہ کن روپ دکھاتے ہوئے 32 گیندوں میں دھون کے ساتھ ہاف سینچری کی سانجھیداری پوری کی۔ بھارت کو آخری 3 اوور میں صرف24 رن چاہئے تھے۔ تسکین نے دھون کو سرکار کے ہاتھو ں کھینچ کرایا لیکن ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور سریش رینا اور یووراج سنگھ سے پہلے آئے تھے ، نے الامین کی گیند پر چھکا چوکا اورپھر چھکا جڑ کر بھارت کو ایشیا کپ کا سکندر بنا دیا۔
(انل نریندر)

وزیر اعظم نے دئے پارلیمنٹ کیلئے 5 اہم سجھاؤ

راشٹرپتی کے ایڈریس پر بحث کے دوران کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے بدھوار کو مرکزی سرکار اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جم کر کھنچائی کی تھی۔ ایسا کرکے انہوں نے سب کی توجہ اپنی طرف راغب کرلی۔ ان کے حمایتیوں نے راہل کی تعریف میں جھنڈے گاڑھ دئے۔پھر آئی باری وزیر اعظم کی۔اگلے دن یعنی جمعرات کو نریندر مودی پوری لے میں دکھائی دئے۔ پورے ایک گھنٹہ 30 منٹ کی اپنی تقریر میں انہوں نے کانگریس کی جم کر بخیاں تو ادھیڑی ہیں وہیں خود پارٹی کے ساتھ ہی باقی اپوزیشن پارٹیوں کو بھی ایوان میں ہنگامہ کرنے کے بجائے دیش کے مفاد میں کچھ کرنے کی نصیحت دی تھی۔ کیونکہ ایک دن پہلے راہل گاندھی سرکار کی پالیسیوں پر حملہ آور تھے لہٰذا مودی نے ایک ایک نکتہ پر موثر جواب دیا۔ مثالوں کے ذریعے ایوان کو بتایا کہ پارلیمنٹ کا چلنا کتنا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے لئے پانچ ایم تجاویز بھی رکھیں۔پہلی کیا ہم طے کرسکتے ہیں کہ 8 مارچ کو مہلا دوس پر ایوان کے اندر صرف مہلا ایم پی ہی بولیں۔ دوسری: کیوں نہ ہفتے میں ایک دن صرف پہلی بار چن کر آئے ممبران پارلیمنٹ کو ہی بولنے کا موقعہ دیا جائے۔ تیسری: کسی سنیچر ہم اقوام متحدہ کے ٹکاؤ ڈیولپمنٹ نشانے پر سیاست سے اوپر اٹھ کر بحث کر سکتے ہیں۔ چوتھی: پانی ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے اپنی اس سماجی ذمہ داری پر بھی ہم ایوان میں بحث کرسکتے ہیں۔ پانچویں : ابتدائی تعلیم کا معیار بہتر بنانے کی بات کریں۔ اگر ہم اپنے بچوں پر توجہ نہیں دیں گے تو کیا کریں گے؟ انہوں نے ایوان میں اپیل بھی کی کہ اس سرکار میں بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے جو اپوزیشن کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ میں نیا ہوں آپ تجربہ کار ہیں، مجھے آپ کے تجربے سے نصیحت لینے کی ضرورت ہے۔ سرکاریں آئیں گی جائیں گی۔ آئیے کندھے سے کندھا ملا کرکام کریں۔راہل کے اس الزام پر بھی کہ وزیر اعظم سے جب وزرا اور بھاجپا ایم پی ڈرتے ہیں اور کچھ بولتے ہیں، مودی نے اس وقت کے سوویت یونین ڈکٹیٹر لیڈر جوزف اسٹالن سے وابستہ ایک پیرے کو سناتے ہوئے کانگریس لیڈر شپ پر وار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹالن کی موت کے بعد سوویت کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل بنے نکیتا کرچیف ایک بار پارٹی کی جنرل اسمبلی میں اسٹالن کو کافی برا بھلا کہہ رہے تھے جس پر ایوان میں بیٹھے کسی ممبر نے ان سے سوال پوچھا ،تب وہ کرچیف (کہاں تھے؟)لیکن کرچیف نے کہا ۔۔۔ کون ہے یہ؟ اور اس شخص کے سامنے آنے پر کرچیف نے کہا کہ آج آپ بول سکتے ہیں۔ تب نہیں بول سکتے تھے۔ مودی نے اس حوالے کو کانگریس لیڈر شپ پر پلٹ وار کرنے کے لئے استعمال کرتے ہوئے کہا، ہم سبھی لوگ پبلک زندگی میں جوابدہ ہیں اور کوئی بھی ہم سے سوال پوچھ سکتا ہے لیکن کچھ ہیں جن سے کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا اور نہ پوچھنے کی ہمت کرتا ہے اور جو پوچھتا ہے اس کا حشر کیا ہوتا ہے میں نے دیکھا ہے۔ یہ اصلیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ایوان کے ہر منٹ کی کارروائی پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اگر اس اسٹیج پر دیش بھر سے چن کر آئے عوامی نمائندوں کا برتاؤ پر وقار اور سنجیدہ نہیں ہے تو ہم جمہوریت کے سب سے مقدس مقام کا کس منہ سے گنگان کریں گے۔ وزیر اعظم کی تقریر اسی طرف اشارے پر مبنی تھی۔ اب یہ ایوان کے سبھی ممبروں پر ہے کہ پارٹی مفاد سے اوپراٹھ کر رقابت بھلا کر دیش کی ترقی کیلئے کچھ منٹ سوچیں۔
(انل نریندر)

06 مارچ 2016

دیش مخالف سرگرمیوں کے پنگو بنتے کچھ تعلیمی ادارے

آئی آئی ٹی بامبے کے ٹیچروں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ اعلی تعلیم کے کچھ ادارے ایسی سرگرمیوں کی پناہ گاہ بن گئے ہیں جو دیش کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اساتذہ کے اس گروپ نے صدر پرنب مکھرجی سے اپیل کی ہے کہ وہ طلبا کو کیمپس میں نظریاتی چلن کی جنگ سے متاثر نہ ہونا کا پیغام دیں۔60 ممبران کی یہ عرضداشت آئی آئی ٹی بامبے کے ہی اساتذہ کے ایک دوسرے گروپ کی طرف سے پچھلے دنوں ایک بیان جاری کرنے کے بعد آئی ہے۔ اس گروپ نے جو جے این یو تحریک چلانے والوں کے تئیں حمایت ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ سرکارکو ’’قومیت ‘‘کا مطلب تھونپنا نہیں چاہئے۔صدر کو لکھے خط میں ادارے کے 60 ممبران نے دعوی کیا ہے کہ جے این یو معاملہ ملک کے مفاد کو کمزور کرتا ہے اور یہ اس بات کے کافی اشارے دیتا ہے کہ کچھ گروپ بڑے اداروں کے نوجوانوں کے دماغوں کا استعمال امن اور بھائی چارگی کی جگہ گالی گلوچ اور جارحیت والا ماحول بنانے کے لئے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جے این یو کے علاوہ کئی دیگر اعلی تعلیمی ادارے ایسی سرگرمیوں کیلئے پناہ گاہ مانے جاتے ہیں جو کہ قومی مفاد میں نہیں ہے۔ کچھ بیحد کٹردماغ نوجوان خود کو تعلیمی اداروں کے لئے خوشگوار ماحول دستیاب کرانے والی سرگرمیوں میں لگانے کے بجائے اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ایسی سرگرمیوں میں شامل کر لیتے ہیں جو تعلیمی ماحول کو بگاڑ دیتی ہیں۔ خط میں لکھا ہے کہ ہم آپ سے مودبانہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمارے دیش کے کٹر ذہن نوجوان سے اپیل کریں اور کہیں کہ وہ نظریاتی لڑائی میں نہ پڑیں اور نہ ہی ان سے متاثر ہوں۔ جے این یو تنازع ملک کے مفاد کو نظر انداز کرتا ہے اور اس طرف اشارہ دیتا ہے کہ کچھ گروپ کڑواہٹ اور ماحول خراب کرنے کے لئے نوجوانوں کے ذہن میں زہر گھول رہے ہیں۔ ان اداروں کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنا وقت توانائی اور قومی وسائل برباد نہ کریں بلکہ سنجیدہ دانشوری کو بڑھاوا دینے کا کام کریں جو دیش کو آگے لے کر جائے۔ 20 فروری کو آئی آئی ٹی بامبے کے اساتذہ کے ایک طبقے نے مختلف تحقیقی اداروں میں سرکار کے زیادہ دخل اور عدم اتفاق اور اختلافات کو دبانے کیلئے اس کی مذمت کی تھی۔ ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ہندوستانی ہونے کے کئی مطلب پر سرکار تانا شاہی نہیں چلا سکتی اور وہ راشٹرواد کے مطلب پر جن آدیش نہیں دے سکتی۔ جے این یو میں ہوئی نعرے بازی یقینی طور پر انتظامیہ یا بھارت سرکار کے ساتھ اختلافات کو ظاہر کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ صاف طور پر جموں و کشمیر کو الگ کرنے کی مانگ ہورہی تھی۔ اس کی وجہ تعلیمی سیکٹر میں بھاری کشیدگی پیدا ہوگئی۔ افضل گورو (پارلیمنٹ حملے کا قصوروار ) کو ملی موت کی سزا کو قتل کہہ کر مختلف گروپوں کی طرف سے نعرے لگائے گئے۔ ہماری عدلیہ ہماری سرکار اور بھارت کے صدر کے دفتر کی توہین کرکے ملک مخالف سرگرمیوں کی حمایت کے خفیہ مقاصد کو اجاگر کرتے ہیں۔ ہم صاف الفاظ میں اس اظہار رائے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم عزم کے ساتھ کہتے ہیں کہ بھارت کی سرداری اور اتحاد کا احترام ہر ہندوستانی کا پہلا فرض ہے۔
(انل نریندر)

ایک تھی نرجا

پچھلے دنوں ’’نرجا ‘‘فلم دیکھی بلا شبہ یہ ایک بہت اچھی فلم ہے۔ تفریح جذبات اور فرض شناسی کے حساب کتاب میں فلم ’’نرجا ‘‘ اپنی خاص چھاپ چھوڑتی ہے۔ ’’نرجا‘‘ ایک سچے واقعہ کو بیان کرتی ہے۔سال1986 کا ایک نقشہ کھینچا گیا ہے۔ بھارت کی ’’نرجا‘ ‘ وہ بہادر ایئر ہوسٹس تھی جس نے5 ستمبر 1986 ء کو اپنی جان کی بازی لگا کر پین ایم فلائٹ73 کے 359 مسافروں کی جان بچائی تھی۔ ممبئی سے نیویارک جارہی پین ایم فلائٹ کو کراچی میں 4 آتنک وادیوں نے اغوا کرلیا تھا۔ ایئر ہوسٹس نرجا بھنوٹ نے اپنی سمجھداری اور ہمت سے 359 مسافروں کی جان بچائی تھی۔حالانکہ آخر میں وہ بچوں کو بچاتے بچاتے دہشت گردوں کی گولی کا خود شکار ہوگئی۔ فلم میں ’’نرجا‘‘ کا رول سونم کپور نے بخوبی نبھایا ہے۔ ان کے بہت سے پرستار دعوی کرتے ہیں کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے اچھی پرفارمینس ہے۔ اس واقعہ کے دو دن بعد نرجا کی سالگرہ تھی اور وہ گھر سے اپنی ماں رما (شبانہ اعظمی) سے یہ کہہ کر نکلی تھی کہ اسے تحفے میں پیلے رنگ کا ایک سوٹ چاہئے۔ نرجا کو یہ تحفہ ملا تو لیکن اس تابوت کے ساتھ جو کراچی سے ہندوستان آیا تھا۔ پین ایم فلائٹ کراچی میں اترتی ہے۔ یہاں تھوڑی دیر رک کر جہاز کو آگے فرنکفرٹ کے لئے پرواز کرنی ہے۔ فلائٹ سے اترنے کی تیاری مسافر کرہی رہے ہوتے ہیں کہ کچھ آتنکی حملہ کردیتے ہیں اور جہاز کا اغوا کرلیتے ہیں۔ نرجا پہلی منزل پر بنے کاک پٹ میں بیٹھے طیارے کے پائلٹ کو طیارہ اغوا کی اطلاع دے دیتی ہے۔ پائلٹ ٹیم بھاگ جاتی ہے جس سے دہشت گردوں کے منصوبوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ پائلٹ ٹیم کو واپس پانے کے لئے دہشت گرد مسافروں اور جہاز کے اسٹاف کے ساتھ برا برتاؤ کرتے ہیں۔ نرجا انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی اور مسافروں کی مدد کرتے ہیں۔ گھنٹوں گزر جاتے ہیں آتنک وادی ایک دو لوگوں کو مار دیتے ہیں۔ پاک فوج جہازپر حملہ بول دیتی ہے اور موقعہ پا کر نرجا جہاز کا گیٹ کھول کر مسافروں کو وہاں سے نکال دیتی ہے۔ ’’نرجا‘‘ کا کردار مشعل رہا ہے۔ ایسی صورت میں جب ان کی ماں رما (شبانہ اعظمی) اسے بار بار نوکری چھوڑنے کو کہتی ہے تو بیٹی نرجا سے کہتی ہے کہ مشکل کی گھڑی میں پہلی اپنی جان بچائیں لیکن نرجا ایسا نہیں کرتی۔ اداکارہ سونم کپور فلم پروڈیوسر کو لگتا ہے کہ اکیڈمی ایوارڈ 2016 کے لئے فلم کو ہندوستان کی طرف سے منظوری ملنی چاہئے تھی۔ فوکس اسٹوڈیو کے سی ای او وجے سنگھ نے کہا میرے خیال میں یہ فلم بھیجنے لائق تھی۔ اس سے بھارت کو فخر ہوگا۔اس کو اس سال آسکر کے لئے بھیجا جانا چاہئے۔
(نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...