Translater
03 اپریل 2021
پولیس حراست سے فرار بدمعاش مان مڈبھیڑ میں ہلاک !
دہلی کے علاقہ روہی سیکٹر 14 کے تلسی اپارٹمنٹ میں اتوار کی صبح تڑکے اندھیرے میںگولیاں چلنے سے لوگوں کی نیند اچانک کھل گئی ۔پہلی بار تو لوگوں کو لگا کہ پولیس اور آتنکیوں سے مڈبھیڑ ہو رہی ہے لیکن لوگ اپنی بالکنی میں پہونچے تو باہر موجود دہلی پولیس کے اسپیشل ٹیم نے سبھی لوگون کو گھر کے اندر ہی رہنے کی ہدایت دی ۔کچھ لوگوں کے چلانے کی بھی آوازیں آئیں لیکن قریب آڈھے گھنٹہ تک رک رک کر فائرنگ چلتی رہی ۔یہ کچھ دیر بعد شانت ہوگیا ۔کاروباری شیکھر نے بتایا کہ پولیس ملازم جب گارڈ سے بات کررہے تھے تو وہ باہرہی تھے اور انہیں لگا کہ پولیس کسی بدمعاش کو پکڑنے آئی ہے ۔گولیوں کی آوازوں سے لوگ ڈر گئے تھے مڈبھیڑ والے فلیٹ سے لاش اور کچھ سامان جارہے پولیس افسران نے بتایا کہ فلیٹ کے مالک سے بھی وہ کبھی نہیں ملے اور نہ انہیں یہ پتہ چلا کہ اس کا مالک کون ہے ۔مقامی لوگوں کا کہناہے کہ انہیں ٹی وی پر خبر دیکھنے کے بعد ہی اس واردات کی اطلاع ملی فلمی اسٹائل میں جی ٹی وی اسپتال سے پولیس حراست سے فرار بدمعاش کلدیپ مان عرف فوجا کی موت بھی کسی ولن کی طرح ہو گئی ہے اس کو پولیس نے مڈبھیڑ میں ڈھیر کردیا وہیں اس کے دو ساتھیوں بھوپندر اور یوگیندر کو پولیس نے گرفتار کر لیا جن پر اس بدمعاش کی مدد کا الزام ہے ۔اسپیشل سیل اور کرائم برانچ کی ٹیم اس کی تلاش میں تھی مشکل سے چار دن کے اندر پولیس نے کلدیپ مان عرف فوجہ کو ڈھونڈ نکالا اور اس کام تمام کردیا ۔پولیس اور کلدیپ کی طرف سے فائرنگ و جوابی فائرنگ ہوئی کلدیپ زخمی ہو گیا اسے علاج کے لئے جی ٹی وی اسپتال لے جایا گیا لیکن تب تک اس کی راستہ میں موت ہو چکی ہے پولیس کی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ کلدیپ کو پولیس حراست سے بھاگنے کی سازش بے شک رچی گئی تھی اس میں سندیپ عرف کالا نے اس کی مدد کی تھی ان کی گرفتاری پر کئی لاکھ روپے کا انعام رکھا ہوا تھا ۔
(انل نریندر)
چھوٹی پارٹیاں کر سکتی ہیں بڑا دھماکہ !
آسام میں پہلے مرحلے کی پولنگ ہو گئی ہے ۔بنگال چناو¿ میں بے شک شور گل بھلے ہی زیادہ رہا ہو لیکن آسام کا چناو¿ بھی کم اہمیت نہیں رکھتا ۔آسام میں سے رخی مقابلہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آسام میں چھوٹی پارٹیاں بھی چناو¿ نتیجوں پر بڑا اثر ڈال سکتی ہیں آسام میں بی جے پی قیادت والا اتحاد کے ساتھ سیدھی ٹکر میں نظر آرہا ہے تیسرا مورچہ مقامی پارٹیوں اے جی پی آر ڈی کا بھی ہے ان اتحاد کے ساتھ آسام کی چھوٹی علاقائی پارٹیوں کی موجودگی کا اثر نارتھ ایسٹ ریاست کے چناو¿ نتائج پر دیکھنے کو مل سکتاہے ۔سب سے پہلے بات کرتے ہیں کہ کونسی علاقائی چھوٹی پارٹی اس چناو¿ میں بھاجپا کی حمایت کررہی ہے اس کا نام ہے یونائٹڈ پیوپلس پارٹی لبرل یہ آسام کے بوڑو علاقہ کی پارٹی ہے ۔اورپچھلے سال بی ٹی سی میں بی جے پی کے ساتھ رہنے کے لئے ہاتھ ملایا تھا پارٹی کے چیف آل بیورو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر پرمود بیورو ہیں جنہیں مرکز اوربوڑو گروپ کے درمیان امن معاہدہ میں اہم رول نبھانے کے لئے جانا جاتا ہے یو پی ایل اس بار کے چناو¿ میں بی جے پی کے ساتھ ہے اور آٹھ سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے ۔دلچشپ بات یہ ہے کہ پارٹی ریاست کی تین سیٹوں پر بی جے پی کے ساتھ دوستانہ مقابلہ بھی کرے گی یہ ایک با اثر پارٹی ہے اور ماضی گزشتہ میں بی جے پی کی ساجھیدار رہ چکی ہے ۔اس کے چیف ہنگرایہ شہلاٹی جنہوں نے اس بار کانگریس کا ہاتھ تھامنے کا فیصلہ کیا ۔جو آسام چناو¿ پر اثر ڈال سکتی ہے ۔راجیہ سبھا ایم پی اجیت کمار مرمو کی قیادت والی اے جی ایم اس بار کانگریس کے اتحاد کیطرف سے دو سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے ۔پچھلے سال دسمبر میں بی ٹی ایس میں چالیس سیٹوں پر ہوئے چناو¿ میں بی پی ایف نے سب سے زیادہ 17شیٹیں جیتی تھیں اس چناو¿ میں دوسرے نمبر پر یو پی ایل تھی جسے 12سیٹیں ملی تھی جبکہ بی جے پی کو نو اور کانگریس کو ایک سیٹ ملی تھی بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ آسام میں ایک تیسرا مورچہ بھی سرگرم ہے آسام جاتیہ پریسد اور آرڈی مل کر ایک اتحاد اس بار آسام میں اترا ہے دونوں پارٹیاں ہی سی اے اے کی مخالف ہیں اے جی پی کو آسام کے دو سب سے بڑی طلبہ انجمنوں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین اور آصام جاتی متاوادی یووا مورچہ کی ہمایت حاصل ہے ۔اس کی قیادت سابق جنرل سکریٹری گوگوئی کررہے ہیں کل ملا کر آسام میں چھوٹی علاقائی پارٹیاں اور دونوں اتحاد بھاجپا اور کانگریس کا کھیل بگاڑ سکتی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ آسام میں کونسا اتحاد زیادہ حاوی رہے گا۔
(انل نریندر)
عشرت جہاں مڈبھیڑ فرجی ہونے کا سوال نہیں اٹھتا!
گجرات میں سرخیوں میں چھائے رہے عشرت جہاں انکاو¿نٹر معاملے میں سی بی آئی کی اسپیشل عدالت نے بدھ کو آئی جی ایل سنگھل سمیت تین پولیس والوں کو بری کر دیا ہے ۔کرائم برانچ کے دیگر افسران ترون باٹور (ریٹائرڈ )اور انوج چودھری ہیں ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فرجی مڈبھیڑ کا کوئی سوال نہیں اٹھتا ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مارے گئے آتنکی نہیں تھے ۔عشرت جہاں لشکر طیبہ کی آتنکی تھی اس خفیہ رپورٹ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔اس کے ساتھ ہی سی بی آئی جج وی آر راول نے تینوں پولیس ملازمین کو بری کرنے کی درخواست کو منظوری دے دی ۔سی بی آئی نے 26مارچ کو عدالت کو بتایا تھا کہ ریاستی حکومت نے تینوں ملزمان کے خلاف منظوری دینے سے انکار کر دیا اس معاملے میں سابق آئی جی بنجارہ ، پی پی پانڈے اور این کے امین کو پہلے ہی بری کیا جاچکا ہے ۔اب سبھی چھ ملزم پولیس والے اس معاملے میں بری ہو چکے ہیں انہیں شروع میں ہی گرفتار کیا گیا تھا ۔اور چارشیٹ داخل کی گئی تھی ۔بتا دیں کہ 15جون 2004 کو ممبئی کے قریب رہنے والی 19 سالہ عشرت جہاں گجرات پولیس کے ساتھ ہوئی مڈبھیڑمیں ماری گئی ۔مڈبھیڑ میں جاوید شیخ عرف پروین کلئی امجد عہلی ،اکبر علی رانا اور ذیشان جوہر بھی مارے گئے تھے ۔چاروں لوگ آتنکی تھے اور اس وقت گجرارت کے وزیر اعلیٰ رہے نریندر مودی کو مارنے کا منصوبہ بنا رہے تھے ۔حالانکہ ہائی کورٹ کی قائم کردہ اسپیشل جانچ ٹیم اس نتیجہ پر پہونچی تھی کہ مڈبھیڑ فرجی تھی ۔اس کے بعد سی بی آئی نے کئی ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا سی بی آئی کے اسپیشل جج وپل آر راول نے کہا تینوں ملزمان نے آئی بی و گجرات پولیس کے اعلیٰ افسران کے حکم کی تعمیل کی تھی ۔عشرت جہاں و اس کے ساتھ آتنکی نہیں تھے اس کے بارے میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اپوزیشن نے اس معاملے کو خوب اچھالا تھا اور گجرات پولیس پر کئی الزام لگائے تھے لیکن اب سی بی آئی عدالت نے معاملے مین کوئی بھی گنجائش ہونے کی بات کو سرے سے ختم کر دیا ہے اور مارے گئے آتنکی تھے یہ کورٹ نے بھی مان لیا ہے ۔
(انل نریندر)
02 اپریل 2021
بھاجپا ممبر اسمبلی کے کپڑے پھاڑے سیاحی پوتی اور ننگا کردیا!
پنجاب میں کسان تحریک مستعل ہوتی دکھائی دے رہی ہے دو دن پہلے پنجاب اسمبلی میں ابوہر سے بھاجپا ممبر اسمبلی ارون نارن کو کسانوں نے مکت سر بری طرح پیٹا ان کے کپڑے تک پھاڑ ڈالے اتنی بھیڑ میں انہیں بچانے کیلے پولس کو کافی مشقت اٹھانی پڑی اور بھیڑ سے نکال کر ایک دوکان کے اندر بند کردیا تاکہ بھیڑ اندر نہ گھس سکے بتایا جاتا ہے نارن پریس کانفرنس کر کے لوٹ رہے تھے تبھی پنجاب میں زرعی قوانین کو لیکر بھاجپا نیتاو¿ں کو نارضگی کا سامنہ کرنا پڑا اس سے پہلے بھی کسان بھاجپا نیتاو¿ں کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں بھاجپا کے ریاستی صدر اور نائب صدر پروین بنسل کو کسانوں کی ناراضگی کا سامنہ کرنا پڑا کسانوں کو جب ارون نارنگ کے پہونچے کی بھنک لگی تو وہ ریسٹ ہاو¿س کے آس پاس اکٹھے ہوگئے اورنعرے بازی کی جس کے چلتے ریسٹ ہاو¿س میں پھنسے رہے پولس نے بہ مشکل لوگوں کی بھیڑ کو ہٹایا ایسے ہی بھاجپا پنجاب صدر اشونی شرما کو بھی اسی طرح کی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ایسے ہی سابق وزیر کو جمعرات کو تیاگی کے خلاف کسانوں نے دھرنا دیا کسانوں نے ہوشیار پور میں بھاجپا نیتا و سابق وزیر ترن سود کے پر گوبر پھینک دیا ایسے ہی دوسرے نیتاو¿ ں کو بھی جھیلنا پڑ ا بتا دیں کہ حال میں ختم ہوئے مقامی چناو¿ میں پنجاب میں بھاجپا کا پتہ صاف ہوگیا تھا کسانوں کا سب سے زیادہ احتجاج بھاجپاکو جھیلنا پڑ رہا ہے آندولن اب آہستہ آہستہ مستعل رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔
(انل نریندر)
مختار انصاری کو یوپی کی جیل میں آنا ہی پڑے گا!
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں پنجاب سرکار کو روپ نگر جیل میں بند دبنگ ممبر اسمبلی مختار انصاری پر کیس چلانے کیلئے یوپی کی جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے بڑی عدالت نے جمعہ کو کہا کہ یوپی پولس ہفتے بھر میں مختار کو حراست میں لے جسٹس اشون بھوشن ، جسٹس آرایس ریڈی کی بنچ نے یوپی سرکار کی عرضی پر سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ انصاری کو باندہ جیل میں رکھیں اور میڈیکل سہولیات دی جائیں پنجاب سرکار پر مختار کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ چلانے کیلئے اترپردیش منتقل کرنے کی اپیل کی گئی تھی یوپی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا قریب دو برسوں سے عدالت سمن بھیج رہیں ہیں لیکن پنجاب حکومت آنا کانی کر رہی ہے پنجاب نے یوپی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو ایک دوسروں کا احترام کرنا چاہئے نہ کہ بے بنیاد الزامات لگانے چاہئے پنجاب کی روپڑ جیل میں بند مختار انصاری 27مہینوں میں ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا جیل سے ہی خرابی صحت کا حوالہ دے کر 54مرتبہ تاریخ لیتا رہا اس کو کئی بار علاج کیلئے اسپتال لے جایا گیا مہالی میں ایک بلڈر سے پیسہ مانگنے کے الزام میں مختار انصاری 24جنوری کو 2019سے روپڑ جیل میں بند ہیں اب ان کو یوپی سفٹ کرنے کی کاروائی چل رہی ہے اترپردیش نہ بھجے جانے میں مختار کے ساتھ پنجاب سرکار کی ملی بھگت دکھائی پڑتی ہے اور وہ اس کو بچا رہی ہے کورٹ نے مختار کو پنجاب سے اتر پردیش منتقل کرنے والے اپنے حکم میں پپو یادو اور شہاب الدین کے معاملے میں دیئے گئے فیصلے کو بھی نظیر بنایا اور پنجاب جیل منتری سکھویندر رندھاوا نے کہا سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی اور ایک غنڈے کو اس طرح سے سے نہیں دینا چاہئے سبھی لوگ اس کے ہماری جیل میں ہونے کے سبب مجھ پر انگلی اٹھاتے ہیں کورٹ کے حکم کے بغیر میںاسے نہ تو رکھ سکتا ہوں اور نہ ہی چھوڑ سکتا ہوں پنجاب کے ڈی جی پی جیل پی کے سنھا نے کہا کہ اتر پردیش پولس مختار کو لینے آئے گی اتو اسے پورہ تعاون ملے گا مختار انصاری پر یوپی میں دس مقدمے زیر سماعت ہیں اس کی پیشی کیلئے ایک سال میں 26وارنٹ بھیجے گئے لیکن جیل حکام نے خرابی صحت کی دلیل دیکر انہیں واپس بھیج دیا خیر اب تو بڑی عدالت نے طے ہی کردیا ہے اس لئے مختار انصاری کو اتر پردیش منتقل کر نا ہوگا ۔
(انل نریندر)
نندی گرام کے دنگل میں شاہ -ممتاکی ساکھ داو ¿ں پر لگی!
مغربی بنگال اسمبلی چناو¿ کی سب سے وی آئی پی سیٹ نندی گرام میں سرکردہ لیڈروں نے منگل کے روز اپنے آخری داو¿ں چل دیا بھاجپا کی جانب سے جہاں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے چار کلومیٹر لمبا روڈ شو کیا وہیں ویل چیئر پر بیٹھیں ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی نے تین کلو میٹر کا روڑ شو کرکے اپنے دم خم دکھایا دوسرے مرحلے کی چناو¿ مہم ختم ہوگئی اس مرحلے میں30 سیٹوں پر چناو¿ مکمل ہوگیا حلانکہ سبھی کی نگاہیں نندی گرام پر لگی ہوئیں تھیں اس سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف بھاجپا میں آئے شبھندو ادھیکاری آمنے سامنے تھے بھاجپا کی کامیابی کا یقین ظاہر کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا ترنمول کانگریس کے کرپشن اور خوف دہشت کے بیچ کے خاتمے کا وقت آگیا ہے عوامی حمایت اس کا ثبوت ہے انہوں نے الزام لگایا کہ نارتھ 24پرگنہ میں بھاجپا ورکر کی ماں کی موت کیلئے ترنمول کانگریس ذمہ دار ہے مزدور خاندان کے ملے زخم کا درد ہمیشہ قصور وار کو پریشان کرے گا وہیں ممتا نے دعوہ کیا کہ ان کی پارٹی تیسری مرتبہ اقتدار میں آئے گی باہر سے لائے گئے سیکورٹی ملازمین کچھ دن یہاں رہیں گے اور یہ نندی گرام کے ووٹروں کو ڈرا رہے ہیں ممتا نے وزیر داخلہ امت شاہ پرحملہ کرتے ہوئے بھاجپا مووا مجم دار کی موت کی سیاست کر رہے ہیں اور پوچھتے ہیں اور مغربی بنگال کے حالات کتنے خراب ہیں میں خود ان سے پوچھتی ہوں یوپی کے ہاتھرس میں کیا حالات ہیں ؟امت شاہ نے شبھندو ادھیکاری کے ساتھ رتھ پر سوار ہوکر روڈ شو کیا نندی گرام میں مہیلہ سے بد فعلی ہوئی وہ (ممتا مہیلا سیکورٹی کے بارے میں باتیں کرتی ہے )کیا حالات ہیں شاہ نے کہا اس بار پورہ بنگال پریورتن کے مونڈ میں ہے سب سے آسان طریقہ ہے کہ نندی گرام میں ممتا دیدی کو ہرا دواور ترنمول کانگریس ریاست کے دوسرے حصوں سے اپنے آپ ہار جائے گی اور اس کے بعد توقع کے مطابق تبدیلی اپنے آپ آجائے گی وہیں ممتا دیدی نے کہا مغربی بنگال کی جنتا بھاجپا کو صحیح وقت پر جواب دے گی۔بھاجپا کو سیاسی طور پر دفنا دیجئے اور ریاست سے باہر کر دیجئے ہم واپس آئیں گے اور بھاجپا کو قرارہ جواب دیں گے ۔ ممتا نے کئی ریلیوں کو خطاب کیا اور اپنے چناوی حریف شبھندو ادھیکاری کو تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے ہی لوگوں کو مروانے اور اسے ہماری حرکت بتا کر دنگے کی سازشیں ایسی اطلاع ہے ۔ پولنگ ہوگئی ہے دیکھیں نتیجوں کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
(انل نریندر)
01 اپریل 2021
اپنی جان پرکھیل کر آگ میں پھنسے پریوار کو بچایا!
آئے دن دہلی پولس کی شکایتوں کی خبریں اخباروں میں شائع ہوتی رہتی ہیں ۔لیکن دہلی پولس اچھے کاموں کا ذکر کم ہی پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے بتایا جاتا ہے گریٹر کیلاش پارٹ ون میں جمعہ کو صبح ایک عمارت می آگ لگ گئی یہ آگ تیسی منزل پر لگی اس میں پھنسے تین افراد کی جان مقامی پولس فائر ملازمین کی ٹیم بر وقت دہلی پولس کے جوان اپنی جان پر کھیل گرل کے سہارے ہی تیسری منزل پر پہونے اچھا آگ پر چار فائر برگریڈ نے ڈیڑھ گھنٹے مین مشکل سے قابو پایا اور سارا سامان جل کا خاک ہوگیاآور آگ لگنے کی وجہ ساٹ سرکٹ بتائی جاتی ہے پولس ڈپٹی کمشنر اتل کمار ٹھاکر نے بتایا مقامی آر ڈبلیو نے گریٹر کیلاش تھانہ پولس کو صبح 7.30اطلاع دی کانسٹبل منشی لال اور کانسٹبل سندیپ پال گرل کے سہارے چڑھتے ہوئے تیسیر منزل لوگوںکو آگ سے بچانے پہونچے گرل توڑنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے فوری راحت دینے کیلئے پولس ملازمین متاثرین کو پانی مین بھیگے کپڑے بھیجوائے تبھی فائر کی گاڑیوں نے پھنسے لوگوں نکالا اور اسپتال پہونچایاساباش دہلی پولس اور دہلی فائر سروس کے جوان۔
(انل نریندر)
مغربی بنگال میں بمپر ووٹنگ کھلا سکتی ہے بڑا گل!
مغربی بنگال میں ہر چناو¿ میں ہی بھاری ووٹنگ ہوتی ہے ایسے میں اس بار شام پانچ بجے تک 80فیصد پول ہونا کوئی خاص بات نہیں ہے ایسا اکثر چناو¿ مین ہوتا ہے کیا اس مرتبہ بھاری پولنگ کوئی بڑا گل کھلا سکتی ہے؟ 2001میں 75.23فیصدی ووٹنگ ہوئی ہے اور نتیجہ حکمراں لیفٹ فرنٹ کے حق میں رہا اسی طرح 2006کے اسمبلی چناو¿ کے پہلے ممتا بنرجی نے ریاست میں اپنے پیر جمانے کی کوشش کی تھی مگر لیفٹ فرنٹ کی جڑیں نہیں ہلا سکی اس برس اسمبلی انتخابات میں 21.95فیصدی پولنگ ہوئی تھی اور فائدہ لیفٹ پارٹیوں کو ہی ملا تھا 2011میں ممتا نے لیفٹ فرنٹ کے 34برسوں کی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا ۔اس مرتبہ 84.86فیصد ووٹ پڑے تھے 2016میں کمیونسٹ پارٹیوں کےخلاف ماحول بنایا گیا تھا ریاست میں82.96فیصد ووٹنگ ہوئی مگر جیت ممتا کی ترنمول کانگریس کی ہوئی لیکن اس مرتبہ کا چناو¿ الگ ہے کیونکہ اس مرتبہ ممتا کے سامنے بھاجپا ہے ایسے میں 2016یا 2011کے سابقہ چناو¿ میں لیفٹ پارٹیوں کی طرح بھاری پولنگ اور اقتدار مخالف لہر کو ثابت کرنا ممتا کیلئے آسان نہیں ہوگا چناو¿کمیشن کے پولنگ اعدادو شمار کے مطابق پہلے مرحلے میں پانچ بجے تک 80فیصد ووٹنگ ہوئی تھی ایسے چناو¿ کمیشن پولنگ کا وقت ساڑھے چھ بجے تک مقرر کر رکھا ہے جس کے چلتے 2016میں 85.50فیصد پولنگ ہوئی تھی اب اسی وقت زیادہ پولنگ ہونے کی امید کی جارہی ہے سیاسی مبصرین کا خیال ہے پہلے مرحلے کس پارٹی کے نیتا ورکر زیادہ بے چین تھے اس سے صاف ہوتا ہے کھیل کس کا بگڑ اورکس کا بن سکتا ہے حکمراں ترنمول کانگریس کی طرف سے بھاجپا پر کئی الزامات لگائے پولنگ کے دوران دس ایم پی کی ٹیم چناو¿ کمیشن کے پاس گئی انٹرنیٹ میڈیا پر بھی بھاجپا کے خلاف ترنمول کانگریس کی ٹیم اور ان کے نیتا کافی سر گرم تھے دونوں کی طرف سے بے چینی صاف جھلکتی ہے ۔مغربی بنگال میں باکوڈہ پروڈیا مدنا پور اور مشرقی مدنا پور ضلع کے تین سیٹوں پر جہاں پولنگ ہوئی ہے وہاں کا علاقہ ممتا بنرجی کا گڑھ مانا جاتا ہے کچھ دن پہلے وزیر داخلہ امت شاہ کے ریلی اچانک منسوخ ہوگئی اور دلیل دی گئی ہیلی کاپٹر میں تکنیکی خرابی آگئی اور جھاڑ گرام میں جو30دنوںمیں ماحول بدلا ہے اس کے چلتے شاہ کی ریلی میں لوگ نہیں آئے خالی میدان کی فوٹو ٹی ایم سے نے شیئر کی تھی مقامی لوگ کہتے ہیں ممتا نے دس سال میں یہاں وکاس کے بہت کام کئے پکی سڑکیں اور وور برج کا جال بچھایا اور 2017میں جھاڑ گرام کو نیا ضلع بنایا لیکن ٹولہ بازی اور بے روزگاری کے چلتے ٹی ایم سی سے ناراض لوگ اس چناو¿ کو متبادل کی شکل میں دیکھ رہے ہیں اور برسوں سے کام کر رہا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں بمپر ووٹنگ کیا گل کھلائے گی؟
(انل نریندر)
مقدموں سے نہیں دبائی جا سکتی اظہار کی آزادی!
سپریم کورٹ نے پچھلے جمعرات کو کہا کہ دیش میں کسی بھی شہری کی اظہار رائے کی آزادی کو مجرمانہ معاملے تھوپ کر دبایا نہیں سکتے یہ کہتے ہوئے بڑی عدالت نے صحافی پیٹریسیا مکھی کے خلاف ایف آئی آر منسوخ کردی دی شیلونگ ٹائمس کی مدیر اور سینئر صحافی پیٹریسیا مکھی پر فیس بک پوسٹ سے فرقہ وارانہ دنگہ بھڑکانے کا الزام ہے جسٹس ایل نگیسور راﺅ اور جسٹس ایس روندر بھٹ کی بنچ نے کہا مکھی نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میںمیگھالیہ کے قبائلیوں کی سلامتی اور ان کی برابری کیلئے جو دلیل دیں ہیں اسے مستعل تقریر نہیں مانی جاسکتی اور پوسٹ کو استعال انگیزی بیان کے دائرے میں نہیں رکھا جاسکتا فیصلہ دینے والے جسٹس راو¿ نے کہا سرکار کے کام کاج نے نہ خوشی ظاہر کرنے والوں کو مختلف فرقوں کے بیچ ان نفرت کو فروغ دینے کی کوشش کی شکل میں برانڈ نہیں بنایا جاسکتا اور بھارت ایک کثیر تہذیبی سماج ہے جہاںآزادی کو وعدہ ہندوستان کی آئینی تمہید میں دیا گیا ہے اظہار رائے کی آزادی گھومنے کی آزادی بھارت میں کہیں بھی بسنے کی آزادی ہر شہری کے حقوق کو کئی تقاضوں میں بیان کیا گیا ہے عدالت نے مکھی کی میگھالیہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دی گئی عرضی کی منظوری دے دی ہے جس میں ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار کردیاتھا عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ مکھی کی وکیل کی دلیل تھی 3جولائی 2020کو ایک قاتلانا حملے سے وابستہ معاملے سے متعلق پوسٹ سے بے چینی یا جھگڑے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا پچھلے سال 10نومبر کو میگھالیہ ہائی کورٹ کی یونی فائیڈ بنچ نے لاسو ہوتب دربار سونیا انجمن کے ذریعے ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار کر دیاتھا مکھی نے باسکیٹ بال کورٹ میں پانچ لڑکوںپر حملے کے بعد قاتلانہ حملے کرنے والے حملہ آوروں کی پہچان کرنے میں ناکام رہنے کیلئے فیس بک پر یہ پوسٹ ڈالا تھا اس میں وہ قبائلی گروپ و غیر قبائلی افراد شامل تھے 11لڑکوں کو پولس نے حراست میں لیا اور دو کو گرفتار کیا کورٹ نے کہا ایسے معاملوں میں جب ریاستی انتظامیہ متاثرین کے طئیں اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے یا ان کی ناراضگی کی آوازوں کو دبا دیتی ہے تو یہ ناراضگی بن جاتی ہے ایسے میں یا تو انصاف نہیں ملتا یا تو پھر انصاف ملنے میں دیری ہوتی ہے اس معاملے میں ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے۔
(انل نریندر)
31 مارچ 2021
اویگ نگر میں پھنسے مال بردار بیڑے کو نکالنا بڑی چنوتی!
مصر کے اویگ سمند رمیں پھنسے 400 میٹر لمبے مال بردار بیڑے کو نکالنے کے لئے مسلس ایک ہفتہ سے کوشش جاری ہے ۔حکام کا کہناہے 2.20 لاکھ ٹن وزنی مال بردار بیڑے کو نکالنے میں کئی ہفتہ لگ سکتے ہیں ۔جہاز کے پھنسے کے پیچھے تکنیکی یا انسانی غلطی ہو سکتی ہے ۔اویگ سمندر اتھارٹی کے چیف اسامیہ ریبی نے بتایا کہ کنٹینر کے دریا میں پھنسنے سے یہاں مال بردار جہازوں کی آمد ورفت بند ہے ۔مصر کے وزیر اعظم مصطفی ٰ ابدالی نے اس حادثہ کو ایک اچانک حادثہ بتایا ۔اس سوال کے پوچھے جانے پر ریبی نے کہا کہ کب تک نکال لیا جائے گا کہ یہ اس کی کاروائی پر منحصر کرتاہے ۔جہاز پر ہوا کا بھی اثر پڑتا ہے ۔اس میں دس طاقتور آبدوست کی مدد لی جارہی ہے ۔اس جہاز پر بڑی تعداد پر کنٹینر لدے ہونے سے دقت آرہی ہے ۔اب جوار بھاٹا آنے کے بعد پانی کی سطح کم ہونے پر نکالنے کا پلان بنایا گیا ہے ۔اس حادثہ سے یومیہ طور پر مصر کو ایک ارب روپے کا مالی نقصان ہو رہا ہے ۔امریکہ کے صدر بائیڈن نے مصر کو مدد کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس اس طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے نہ صرف اہلیت ہے بلکہ ضروری ساز و سامان بھی ہیں ۔جو دوسرے ملکوں کے پاس نہیں ہیں ۔بہر حال نیدر لینڈ کی کمپنی بورس کالس کو بھی جہاز نکالنے میں لگایا گیا ہے ۔بتادیں ایویک سمندر کو لال ساگر کو جوڑتا ہے ۔اس راستہ کے ذریعے ایشیا اور افریقہ گھوم کر جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر اس کو جلد نہیں نکالا گیا تو تیل گیس کی سپلائی کا نیا بحران کھڑا ہو جائے گا۔
(انل نریندر)
5ماہ میں مل گیا بیٹی کو انصاف !
قتل معاملے کے محض پانچ ماہ میں ہی فریدآباد کی بدنصیب لڑکی نکیتا کو انصاف مل گیا فیصلے کے جلدی آنے کے سبب معاملے کی سماعت صرف فاسٹ ٹریک عدالت میں ہونا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے کئی پہلو ہے جس وجہ سے جلد سے جلد ملزمان کو سزا سنائی جا سکتی ہے ۔26اکتوبر 2020کو توصیف نے نکیتا کو گولی مار کرہلاک کردیا تھا کچھ گھنٹوں میں ہی کرائم برانچ نے سوہنا سے دبوچ لیا ۔اس کے ساتھ اس کا ساتھی اگلے دن نوح سے پکڑا گیا ۔ایس آئی ٹی نے گیارہ دن میں ہی دن رات محنت کرکے 700 صفحات کی چارشیٹ کورٹ میں داخل کی تھی ۔اور ایس آئی ٹی کے چیف رہے آلوک متل اور ضلع اٹارنی سینئر وکیل اور پولیس کے سینئر حکام نے معاملے کی گہرائی سے اسٹڈی کی اور پولیس نے 64 گواہ بنائے ۔عدالت نے قصوروار توصیف کو دفع 302 و 34 کے تحت عمر قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ لگایا ۔اس کے ساتھ ہی ریحان کو ہتھیار ایڈ کے علاوہ سبھی دفعات میں توصیف کو برابر کا قصوروار مانتے ہوئے و 26ہزار روپے کا سزا جرمانہ کی سزا ویکام کر چکا نکیتا کے اغوامیں ناکام رہنے پر توصیف اور ریحان نے اس کو دن دہاڑے گولی مار کر مارا ڈالا تھا سرکار وکیل نے اس معاملے کو اہم سے اہم زمرے میں رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے قصورواروں کو پھانسی دینے کی مانگ کی وہیں بچاو¿فریق نے تقریباً 12 معاملوں کا ذکر کرتے ہوئے کیس کو عام جرم کے زمرے میں رکھتے ہوئے انہیں پھانسی کی سزا نہ دینے کی اپیل کی اور آخر کار عدالت نے قصورواروں کو عمر قید اورجرمانہ کی سزا سنا دی ۔ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج اور نکیتا کے ماں باپ اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہےں اور سرکار فاسٹ ٹریک کورٹ کے فیصلے کی اسٹڈی کررہی ہے ۔قاتلوں کو پھانسی دلانے کے لئے سرکار ہائی کورٹ جائے گی انہوں نے کہا قصورواروں سزائے مو ت سے کم سزا نہیں چاہتا ایسے معاملوں میں سزا سے متعلق فیصلے سماج کے لئے نظئیر بننے چاہیں ۔نکیتا کے والد تومر کا کہنا ہے جب تک ان کی بیٹی کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا نہیں مل جاتی وہ سکون سے نہیں رہ سکتے ۔وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔ہماری بیٹی کو انصاف نہیں ملا قصورواروں کو پھانسی ہونی چاہیے۔
(انل نریندر)
کیا مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے سرکار گرنے والی ہے ؟
مہاراشٹر میں مکیش امبانی کے گھر انٹیلیا معاملے کے ملزم سچن واجے کے ریاست کے وزیرداخلہ انل دیشمکھ سے رشتوں پر ریاست کی سیاست گرم ہو گئی ہے ۔اس درمیان ادھو ٹھاکرے سرکار کی اتحادی این سی پی کے دو بڑے لیڈروں کے گجرات دورہ نے سرکار کی نیند اڑا دی ہے ۔خبر یہ ہے کہ شرد پوار اور پرفل پٹیل نے احمد آباد میں مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے دیررات ملاقات کی اس سے ریاست میں سرکار چلا رہی مہاوکاش اگاڑی کے لئے خطرہ کی گھنٹی مانا جارہا ہے ۔امت شاہ نے یہ کہہ کر سسپنس اور بڑھا دیا ہے کہ ہر بات سامنے نہیں لائی جاتی اسے سیاسی جانکار قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ مہاراشٹرمیں جلد الٹ پھیر ہو سکتا ہے ۔احمد آباد میں بے جی پی کے قریبی کاروباری کے یہاں شردپوار اور پرفل پٹیل کی امت شاہ کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے ۔جب امت شاہ سے پوچھا گیا کہ آپ کل احمد آباد میں تھے تو اس پر شاہ نے جواب دیا کہ اب بہت سی چیزیں عام نہیں کی جاتی ادھر شیو سینا نے بھی اتوار کو اپنے اخبار سامنا کے ذریعے دیش مکھ پر نکتا چینی کی سنجے راوت نے سامنا میں لکھے اپنے اداریہ میں پوچھا کہ آخر معطل افسر سچن واجے کی وصولی کی جانکاری وزیر داخلہ کو کیسے نہیں ہوئی ؟ انہوں نے وزیرداخلہ انل دیش مکھ کو حادثاتی وزیر بتاتے ہوئے انہیں نصیحت بھی دے ڈالی ساتھ ہی اپوزیشن کو بھی جتا دیا کہ لاکھ کوشش کرلو مہاوکاس اگھاڑی سرکار نہیں گرے گی ۔اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ دیش مکھ نے کچھ سینئر افسران سے بے وجہ پنگا لیا اور وزیر داخلہ کو کم بولنا چاہیے ۔بے وجہ کیمرے کے سامنے جانا اور جانچ کے احکامات جاری کرنا اچھا نہیں ہے ۔100سنار کی 1لوہار کی جیسا برتاو¿ وزیرداخلہ کا ہونا چاہیے ۔پولیس محکمہ کی رہنمائی صرف سیلوٹ لینے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ انہیں مضبوط قیادت دینی ہوتی ہے ۔راوت نے آگے لکھا کہ این سی پی کے سینئر لیڈروں جینت پاٹل اور ولد سے پاٹل نے وزیرداخلہ کا عہدہ لینے سے انکار کر دیا تھا اس لئے شردپوار نے انل دیش مکھ کو وزیر بنادیا ۔آج موجودہ سرکار کے پاس ڈیمج کنٹرول کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔مشتبہ شخص کے گھیرے میں رہ کر ریاست کے وزیرداخلہ کے عہد ہ پر بیٹھا کوئی بھی شخص کام نہیں کر سکتا پولیس محکمہ پہلے ہی بدنام ہے اس پر اتنے سارے الزامات سے شبہہ پیدا ہو تا ہے ۔شردپوار نے ناراضگی جتائی کہ مہاوکاس اگاڑی سرکار کے بڑے نیتاو¿ں کو اس طرح کے بیان دے کر سرکار کو مشکل میں ڈالنے کا کام نہیں کرنا چاہے ۔این سی پی نیتا اجیت پوار نے اخبار نویسوں سے کہا وزارتی عہدوں کا الارٹ منٹ ایک اتحاد میں ہر حکمراں پارٹی کے چیف کا اختیا ر ہوتا ہے ادھر مہاراشٹر سرکار میں وزیراور این سی پی کے ترجمان نواب ملک نے پارٹی چیف شردپوار اورمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے درمیان ملاقات کی تردید کی ہے اس طرح کی باتیں کرکے غلط فہمی پیدا کرنا بھاجپا کاطریقہ ہے ۔اور یہ جان بوجھ کر پھیلائی گئی ہے ۔بھاجپا کچھ غلط فہمی پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے شردپوار کا امت شاہ نے ملنے کی کوئی وجہ نہیں ہے سیاست میں ایسی تردید آتی رہتی ہے لیکن اتنا ضرور لگتا ہے کہ اندر خانہ شردپوار امت شاہ کے درمیان کھچڑی ضرور پک رہی ہے ۔
(انل نریندر)
28 مارچ 2021
جب دو راہباوںکوزبر دستی ٹرین سے اتارا!
پچھلے ہفتے تبدیلی مذہب کے سبہے میں دو راہباوں اور ان کے ساتھ جارہے اور ان کےساتھ جارہی دولڑکیوں کو جھانسی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین سے اتارے جانے کے معاملے نے طول پکڑ لیا ہے کیرل کے وزیر اعلیٰ کے ذریعے اس واقعے پر اعتراض جتائے جانے کے بعد مرکزی وزیر داخلہ نے پورے معاملے کی رپورٹ جی آر پی سے مانگی ہے وہیں وزیر داخلہ امت شاہ نے کیرل میں ایک چناوی ریلی میں کہا کہ ملزم بخشے نہیں جائیں گے بتادیں 19مارچ کو اتکل ایکسپریس کے کوچ نمبر بی 2راہبا لیویا تھامس ، ہیملتا شویتا بترنگ ہجرت نظام الدین سے راول قلعہ (اڑیشہ)کیلئے سفر کر رہی تھی اسی ٹرین کے بیچ ان کے کوچ نمبر b-1میں آل انڈیا ودھایرتھی پریشد کے کچھ ورکر جھانسی آرہے تھے ورکروں نے تبدیلی مذہب کے شبہے میں لڑکیوں کو لے جانے کی اطلاع ریلوے کی آر پی ایف کو دے دی ورکروں کی اطلاع کے بعد ایک انجمن کے نیتا جھانسی اسٹیش پہونچ گئے تھے اور ساتھ ہی آر پی ایف نے اطلاع ملتے جی آر پی نے بھی پلیٹ فارم پر پہونچ کر شام ساڑھے سات بجے چاروں کو ٹرین سے اتار لیا اور ڈیڑھ گھنٹے کی جانچ پڑتا ل کے بعد تبدیلی مذہب کی شکایت غلط نکلنے پر سبھی کو چھوڑ دیا تھا اس کے بعد وہ سبھی دوسری ٹرین سے اپنی منزل مقصود کیلئے روانہ ہوگئے کیرل کے وزیر اعلیٰ نے بھی واردات پر اعتراض جتاتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ کو خط لکھا تھا اس کے بعد اس پورے معاملے کی رپورٹ جھانسی جی آر پی ایف سے طلب کی گئی ہے اس سے کھلبلی مچ گئی ہے وزیر داخلہ امت شاہ نے کیرل کی راہباوں کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ معاملے میں سخت کاروائی کا یقین دلایا ہے ۔ اور انہوں نے کہا اس واردات کے پیچھے جو بھی لوگ شامل ہیں انہیں جلد قانون کے شکنجے میں آنا پڑے گا۔ انہوں نے یقین دھانی کیرل کی جنتا سے یقین دھانی کرائی ہے ۔
(انل نریندر)
ہمت:حراست سے ملزم کو بھگا لے گئے بدمعاش!
راجدھانی دہلی میں بد معاشوں کہ اتنی ہمت بڑھ گئی ہے کہ بد معاش جیل سے اسپتال میں علاج کروانے پہونچے اپنے ساتھی کو پولس کی آنکھوں میں مرچ جھونک کر آنکھوںمیں جھونک دن دہاڈے چھڑا لے گئے جی ٹی وی اسپتال کیمپس میں تقریباً آٹھ بد معاش پولس سے بھڑ گئے اور فائرنگ کرتے ہوئے دولکھ کے انعامی بدمعاش کلدیپ مان عرف فوجا (29)سال کو لے گئے مڈ بھیڑ میں ایک بدمعاش روی ڈھیر ہوگیا جبکہ دوسرا زخمی ، ہریانہ کہ مشہور گلو کارہ ہرشتہ دہائیہ قتل کانڈ میں شامل جتیندر عرف یوگی گینگ کے بدمعاش کلدیپ کو پولس نے گروگرام سے گرفتار کیا تھا ۔دہلی پولس کی تیسری بٹالین کے پانچ جوان کلدیپ کو منڈولی جیل سے لائے تھے اسپتال کمپلیکس میں ساڑھے بارہ بجے اسکارپیو میں سوار بد معاشوں نے پولس کانسٹبلوں کی آنکھ میں مرچ جھونکی اور کلدیپ کو چھڑانے کیلئے فائرنگ کی پولس نے بھی جوابی کاروائی کی اس میں روی ماراگیا۔اور مکیش زخمی ہوگیا فائرنگ سے مچھی افرا تفری کے درمیان باقی بد معاش کلدیپ کو لیکر پیدل ہی اسپتال سے باہر چلے گئے وہاں بد معاشوں نے ایک نوجوان سے بائیک لوٹی اور بیٹھ کر فرار ہوگئے دہلی کے نریلا کے باشندے کلدیپ نے دہلی یونیورسٹی کے نامی کالج بوٹنی آنرس کی پڑھائی کی ہے اس پر کئی ریاستوں نے مکوکہ سمیت قتل اقدام قتل لوٹ مار زبردستی اصولی اگو جیسے جرائم کے ستر مقدمے درج ہے ۔ پچھلے سال تین مار چ کو پولس نے گروگرام سے کلدیپ مان روہت اور کپل عرف گورو کو گرفتار کیا تھا گینگ نے سترہ اکتوبر ،2017کو پانی پت کی مشہور ہریانوی گلوکارہ ہرشتہ دھائیہ کو ہلاک کردیا گیا تب جتیند ر کی گرفتاری پر دہلی میں چار لاکھ ہریانہ میں ڈھائی لاکھ اور کلدیپ پر دولاکھ روپئے کا انعام رکھا گیا تھا روی بیگم پور کا رہنے والا تھا جبکہ اب وہ منڈکا میں رہتا ہے انکش پر قتل و اقدام قتل کے مقدمے درج ہیں پولس کی صفائی گھات لگائے بیٹھے تھے بد معاش جوائنٹ پولس کمشنر اشوک کمار نے بتایا جی ٹی بی کے سرجری محکمے میں علاج کے بعد پولس ملازم کلدیپ کو لیکر اسپتال سے نکلنے لگے اس درمیان گیٹ نمبر 7کے پاس پہلے سے تاک میں بیٹھے بدمعاشوں نے پولس ٹیم پر حملہ کر دیا کلدیپ کو ویڈیو بنا رہے ایس آئی بھرم پال کی آنکھوں میں مرچ پاوڈر جھونکنے کے بعد سپاہی اروند کو پیچھے سے پکڑ لیا اس درمیان گولی چلانے لگے کسی طرح پولس والوں نے خود کو بچا کر جوابی فائرنگ کی پچھلے کچھ وقت سے راجدھانی اور این سی آر میں بد معاشوں کے حوصلے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اب تو دن دھاڑے بھی یہ پولس پر حملہ کرنے لگے ہیں ۔
(انل نریندر)
کیاکیجریوال مودی کا متبادل بن سکتے ہیں؟
دہلی کی عآپ پارٹی کی سرکار میں نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیانے جمعرات کو اخباری کانفرنس میں کہا کہ دہلی کے اختیارات کے معاملے میں مرکزی سرکار نے جو بل پاس کیا ہے ، یہ مودی اور آج کی عدم سلامتی کو ظاہر کرتا ہے پورے دیش میں کیجریوال ماڈل کی دھوم ہورہی ہے اروند کیجریوال کو لوگ مودی ے متبادل کی شکل میں دیکھنے لگے ہیں ، اس سے گھبرا کر کیجریوال کے اچھے کام کرنے سے روکنے کیلئے یہ بل لایا گیا ہے اگر کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اس کے سامنے اور بہتر کام کر کے لمبی لکیر کھینچی چاہئے نہ کہ اس کی لکیر کو مٹانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے منیش سسودیا نے مزید کہا کہ پچھلے چھ سال میں دہلی میں بہت اچھے کام ہوئے ہیں ،دہلی کے اسپتال بہت اچھے ہوگئے ہیں ہر علاقے میں محلہ کلینک بن گئے ہیں لوگوں کو 24گھنٹے 200یونٹ بجلی مفت مل رہی ہے دہلی کے شہری مفت میں پانی لے رہے ہیں پورے دیش میں کیجریوال ماڈل کی خوب تذکرہ ہورہاہے اور اب پورے دیش میں کیجریوال ماڈل کی ڈیمانڈ ہونے لگی ہے اور جب مودی اور بھاجپا کیجریوال کے ماڈل آف گورننس سے مقابلہ نہیں کر پارہے تو ان میں سامنے ایک ہی راستہ بچا ہے کہ کیجریوال کو کام کرنے سے روکو کیجریوال دہلی میں راشن کی ڈور اسٹپ ڈلوری یوجنا لارہے ہیں ، مگر نریندر مودی سرکار اس میں بھی اڑنگا لڑا رہی ہے سسودیا نے کہا کہ دیش کی جنتا کو اب پتہ چل گیا ہے کہ مودی اور بھاجپا کو کیجریوال سے ڈر لگنے لگا ہے ، ابھی تک لوگ پوچھتے تھے مودی نہیں کون مودی کے بعد کون؟ اب لوگوں کو مودی کے متبادل کے طور پر کیجریوال مل گئیں ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...