Translater

29 اکتوبر 2016

یدی یرپا کے بری ہونے سے دور رس سیاسی اثر ہوگا

بھاجپا کے سینئر لیڈر اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یرپا کو راحت دیتے ہوئے سی بی آئی کی اسپیشل عدالت نے انہیں اور ان کے دونوں لڑکوں اور داماد کو ناجائز کوئلہ کھدائی سے جڑے 40 کروڑ روپے کے دلالی معاملے میں بری کردیا ہے۔ اس مسئلے کے سبب ہی یدی یرپا کو سال2011ء میں اس وقت کے لوک آیکت جسٹس سنتوش ہیگڑے نے مقدمہ چلایا تھا اور انہیں وزیر اعلی کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ عدالت نے جانچ پڑتال کے بعد یدی یرپا اور ان کے خاندان کو کرپشن اور دھوکہ دھڑی اور مجرمانہ سازش کا قصوروار پایا تھا۔ صرف یہی نہیں یدی یرپا کو وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ بھی دینا پڑگیا تھا بلکہ کچھ دن انہیں جیل میں بھی گزارنے پڑے تھے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر یہ معاملہ سی بی آئی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ بلاری کھدان رشوت کانڈ میں بری ہونے کا نہ صرف انہیں فائدہ ہوگا بلکہ اس کا ساؤتھ انڈیا کی سیاست پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ سی بی آئی عدالت کے فیصلے سے ساؤتھ انڈیا میں بھاجپا کی پہلی سرکار بنانے والے یدی یرپا پھر سے طاقت کے ساتھ ابھر سکتے ہیں۔ ممکن ہے یدی یرپا ساؤتھ میں پھر کانگریس کی اکیلی سرکار کو 2018ء کے چناؤ میں ہراکر ساؤتھ انڈیا کو کانگریس مکت بنادیں۔ کانگریس کی نیا دوسری اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے میں مرکزی سرکار کے ذریعے فیصلے کو متاثر کرنے کے جو بھی الزام لگا رہی ہیں اس میں کچھ نیا نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس وقت کے لوک آیکت سنتوش ہیگڑے کے نتیجے پر تو سوال اٹھیں گے ہی کہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں یدی یرپا اور ان کے خاندان کو قصوروار کیسے ٹھہرایا؟ پھر تب ایسے کون کون سے اصلاً حقائق ہیں اور ثبوت تھے جس بنیاد پر وزیر اعلی کو عہدے سے استعفیٰ دیکر جیل جانا پڑا تھا؟ اس فیصلے نے یدی یرپاکو نہ صرف نئی سیاسی زندگی دی ہے بلکہ وہ پھر سے کرناٹک میں بھاجپا کے سب سے بڑے نیتا کے طور پر ابھر سکتے ہیں کیونکہ پچھلے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا سے باہر ہوئے یدی یرپا نے بھاجپا کو کافی نقصان کیا تھااور کانگریس کامیاب رہی تھی۔ ایسے میں ان کے بری ہونے سے بھاجپا فطری طور پر کافی خوش ہوگی۔ دراصل لنگیات فرقے میں یدی یرپا کا خاصہ اثر بتایا جاتا ہے جو ریاست کی آبادی کا تقریباً 17 فیصد ہے۔ اسی سال مقامی مخالفتوں کے باوجود یدی یرپا کو کرناٹک بھاجپا کا صدر بنایا گیا تھا۔ ظاہر ہے اس فیصلے سے گد گد اب یدی یرپا کی لیڈر شپ میں پھر سے کرناٹک اسمبلی چناؤ میں کامیابی کا تانا بانا بن رہی ہوگی۔ یدی یرپا نے فیصلے کے بعد ٹوئٹ کیا ہے ’ستیہ میں جیتے انصاف ہوا ، میری بات صحیح ثابت ہوئی۔ بعد میں انہوں نے اخبارنویسوں سے کہا کہ میں اس بات سے خوش ہوں کہ جھوٹے اور سیاسی اغراض پر مبنی الزامات مسترد کئے گئے۔
(انل نریندر)

پاکستان کیلئے اگلے 10 دن بہت اہم ہوں گے

پاکستانی فوج اور نواز شریف سرکار مل کر کام کررہی ہیں یا دونوں میں ٹکراؤ ہے اس کا فیصلہ آنے والے چند دنوں میں ہوجائے گا۔ مسئلہ ہے پاکستانی فوج کے چیف جنرل راحیل شریف کے موجودہ عہد کو بڑھانے کا۔موجودہ فوج کے چیف راحیل شریف نومبر میں ریٹائرڈ ہورہے ہیں اور وہ توسیع ضرور چاہیں گے۔ حالانکہ پبلک میں وہ کہہ رہے ہیں کہ میں دوسری میعاد کے حق میں نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سابقہ جنرل اشفاق کیانی کی طرح دوسری میعاد نہیں لیں گے۔ پاکستان سرکار کے ایک وزیر نے کہا کہ ہفتہ دس دن میں پاک سرکار نئے فوج کے سربراہ کا اعلان کردے گی لیکن راحیل شریف کی جگہ کون لے گا ابھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان کی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے سینئر وزیر طارق فضل چودھری کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرکار نے اب تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے کہ کون نیا فوج کا سربراہ ہوگا لیکن جلد ہی اس کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔ اندرونی اور باہری سلامتی چیلنجوں کے درمیان پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی سرکار پر جنرل راحیل شریف کے جانشین کے نام کو لیکر غیر یقینی ماحول ختم کرنے کا دباؤ ہے ۔ قانون کے تحت وزیر اعظم کو نئے فوج کے سربراہ ہی تقرری کا مخصوص اختیار ہے۔ اس سلسلے میں ان کے اختیارات محدود ہیں لیکن عہدے سے ریٹائرڈ ہو رہے فوج کے چیف انہیں صلاح دے سکتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کسی بھی سینئر لیفٹیننٹ جنرل کو فوج کے چیف کے طور پر چن سکتے ہیں اور وہ افسران کی سینیرٹی ماننے کے لئے مجبور نہیں ہیں۔ پاکستان کے وزیر کے ذریعے نئے فوج کے چیف کا نام ہفتہ دس دن میں اعلان ہونے کا امکان ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے ٹھیک بعد یہ معاملہ آیا جس میں راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کا درجہ دینے کی مانگ سے متعلق عرضی خارج کردی گئی تھی۔ اہم اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق جسٹس عمر شیخ نے کہا کہ عدالت کے پاس اس بارے میں آئین سازیہ کو ہدایت دینے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے حکم میں کہا کہ عرضی کو اس لئے خارج کردیا گیا تھا کہ وہ قابل سماعت نہیں تھی۔ عرضی 16 اکتوبر کو لگائی گئی تھی اس لئے عمران خان نے خبردار کیا تھا کہ تیسری طاقت نے تختہ پلٹ کیا تو اس کے لئے نواز شریف سرکار ذمہ دار ہوگی۔ دراصل عمران کی پارٹی راجدھانی اسلام آباد میں گھراؤ کا بڑا مظاہرہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ پناما پیپر میں کرپشن کے خلاصے کے بعد عمران خان وزیر اعظم سے استعفے کی مانگ کررہے ہیں۔ آنے والے دن پاکستان کے لئے بیحد اہم ہوں گے ،دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

28 اکتوبر 2016

اصل جھگڑاٹاٹا گروپ میں ساکھ کا ہے

نمک سے لیکر سافٹ ویئر تک بنانے والی 100 ارب ڈالر کی کمپنی ٹاٹا گروپ نے اپنے چیئرمین سائرس مستری کو برخاست کرنے کی خبر نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ کمپنی کے بورڈ نے چارسال سے چیئرمین کا عہدہ سنبھال رہے48 سالہ مستری کی چھوٹی کرکے ان کی جگہ انترم کمان ایک بار پھر سے رتن ٹاٹا کوسونپ دی ہے۔ چار برس پہلے ٹاٹا گروپ کی کمان سنبھالنے والے سائرس مستری کو ہٹایا جانا جتنا غیر متوقعہ ہے دیش کی ڈیڑھ سو برس پرانے صنعتی گھرانے میں جانشینی کی لڑائی کا عدالت اور کمپنی لاٹریبیونل پہنچ جانا اتنا ہی افسوسناک ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ ٹاٹا سنز کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا تھا اور اندر ہی اندر تلخی اتنی بڑھ گئی تھی کہ ٹاٹا بورڈ نے سائرس کو بغیر کوئی نوٹس لئے ایک جھٹکے میں عہدے سے ہٹا دیا۔ ٹاٹا گروپ نے اس فیصلے کی وجہ نہیں بتائی ہے لیکن قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کچھ عرصے سے کمپنیوں کا کاروبار گر رہا تھا۔ قرضے بڑھ رہے تھے اور سائرس بیمار کمپنیوں کو بیچنا چاہتے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ ان سب کے چلتے گروپ کے سابق چیئرمین رتن ٹاٹا اور سائرس مستری کے درمیان اختلافات ابھرآئے تھے۔ 78 سالہ رتن ٹاٹا نے عارضی طور پر سائرس کی جگہ گروپ کی کمان دوبارہ سنبھال لی ہے اور چار مہینے کے اندر نئے چیئرمین کی تلاش کی جانی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا واقعی دلچسپ ہوگا کہ اس مرتبہ ٹاٹا گروپ یا ٹاٹا کنبے سے کسی پر بھروسہ جتایا جائے گا یا پھر سائرس کی طرح کسی باہری آدمی کو لایا جائے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سائرس مستری کو30 برس کے لئے کمان سونپی گئی تھی صرف چار برس میں ٹاٹا سنز کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا کر بزرگ رتن ٹاٹا کو انترم چیئرمین کا ذمہ دئے جانے سے اشارہ صاف ہے کہ دیش کے اس سب سے پرانے صنعتی گھرانے میں ابھی بھی پرانے اقدار کے لئے آستھابنی ہوئی ہے۔یہ پرانے اصول نہ تو تیزی سے فیصلے لینے کی اجازت دیتے ہیں نہ بزنس کو سمیٹنے کی اور نہ ہی زیادہ مقدمے بازی کی۔ مستری کے کھاتے میں کارنامے ہونے کے باوجود ان کا تیزی سے فیصلہ لینے اور کوئی بڑی کارکردگی نہ دکھاپانے کے سبب انہیں 26 سال پہلے ہی اہم ذمہ داری سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔حالانکہ مستری نے ای کارمس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیارکیا۔ٹی سی ایس کا منافع دگنا کیا اور ٹاٹا موٹرس والی گاڑیوں کی فروخت میں نئے نئے ماڈل اتارکر اضافہ کیا، لیکن ان سے کئی کام ایسے ہوئے جو کمپنی کے دوسرے منتظمین کو راس نہیں آئے۔ مستری پر کمپنی کے بڑھتے قرض کو کم کرنے کا دباؤ بھی تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے کئی طرح کے بزنس سمیٹنے کا کام کیا۔ اسے کمپنی کے مفاد میں نہیں سمجھا گیا۔103 ارب ڈالر کی کمپنی گروپ پر 24.5 ارب ڈالر کا قرض کافی ہوتا ہے اور اسے کم کرنے کیلئے سائرس نے برطانیہ کے فولاد کاروبارکا جرمن کمپنی تھائسن گروپ سے سودا کرنے کی بات چیت چل رہی تھی وہ ٹاٹا ٹیٹلی اور ٹاٹا جیگوار میں بھی ٹاٹا سنس کی حصے داری گھٹانا چاہتے تھے۔ جبکہ اس کے ٹھیک پہلے چیئرمین رہے رتن ٹاٹا نے کورس گروپ کے ساتھ ان تمام کمپنیوں کو اکوائرکرتے ہوئے ٹاٹا اسٹیٹ کو فروغ دیا تھا۔ کسی بھی کاروبار میں اتار چڑھاؤ کا دور چلتا ہی رہتا ہے۔ رتن ٹاٹا 21 برسوں تک گروپ کے چیئرمین رہے اور کمپنی کے کاروبار میں قریب57 گنا اضافہ کیا۔بیشک ان کی میعاد سب سے بہتر کہی جاسکتی ہے۔ نمک سے لیکر لوہا اور سافٹ ویئر سے لیکر بھاری گاڑیاں بنانے والے ٹاٹا گروپ کا جھگڑا کنبہ جاتی مفادات سے بھی وابستہ ہے۔ اصل میں سائرس مستری اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ٹاٹا گروپ میں 30 فیصدی حصے داری ہے۔ لہٰذا وہ اس لڑائی کودور تک لے جاسکتے ہیں۔ مگر عام ہندوستانیوں کے لئے اس جھگڑے کا صرف اتنا مطلب ہے کہ ٹاٹا کی ساکھ بنی رہنی چاہئے کیونکہ اس کا لوہا دنیا مانتی ہے۔
(انل نریندر)

وینٹی لیٹر پر تاملناڈو: اشاروں میں بات کرتی ہیں جے للتا

34 دن گزر گئے ہیں اور تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا چنئی کے اپولو ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ڈاکٹرصرف یہی بات کہہ رہے ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں۔ 22 ستمبرکی رات 9:45 بجے اچانک وزیر اعلی رہائش پی ایس گارڈن میں پتہ چلاکہ محترمہ جے للتا بے ہوش ہوگئی ہیں۔ سی ایم ہاؤس نے اپولو ہسپتال کے مالک اور سی ای او پرتھا ریڈی کے پاس فون آیا۔ فوراً اپولو کی ایمبولنس روانہ ہوئی یہ نہیں بتایا گیا کہ مریض کون ہے؟ اچانک ایمولنس کے ڈرائیور کو کہا گیا کہ پی ایم ہاؤس پہنچے۔30 منٹ کے بعد جیہ بے ہوشی کی حالت میں اپولو ہسپتال کے آئی سی یو میں پہنچ چکی تھیں۔ جے للتا پہلی بار اپولو ہسپتال میں داخل کرائی گئیں اس سے پہلے طبیعت بگڑنے یا ٹیسٹ کرانے چنئی کے ہی شری رام ہسپتال جایا کرتی تھیں۔ یہ باتیں کسی کو بتائی نہیں جاتی تھیں۔ دن میں انہیں اپولو نہیں لایا جاتا لیکن طبیعت اتنی نازک تھی کہ اگلے دن23 تاریخ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی کے تین ایمس کے ڈاکٹروں کو چنئی بھیجا۔ ان میں امراض قلب کے نتیش نائک، پولیونیورولوجسٹ جی ۔سی کھنانی اور استھما کے ماہر انجان مترا تھے۔اسی درمیان جے للتا کو ہلکا دل کا دورہ پڑا۔ ان کی شگر کافی بڑھی ہوئی تھی۔ بلڈپریشر بھی بے قابو تھا انہیں پیس میکر لگایا گیا۔ یہ 24 سے27 تاریخ کے درمیان کی بات ہے۔28 اکتوبر سے ان کی حالت مزید خراب ہونے لگی۔ ملٹی آرگن پرابلم شروع ہوگئی۔ کڈنی ،لیور اور پھیپھڑوں میں انفکشن ہو چکا تھا۔ 28 کو ہی وینٹی لیٹرپر رکھا گیا۔ اس درمیان لندن سے ڈاکٹر رچرڈ جان بیلے کو بلایا گیا۔ سنگا پور سے بھی ڈاکٹروں کی ٹیم آچکی تھی۔ اپولو نے پہلی بار باہر سے ماہرین بلوائے ہیں۔ جے للتا کی دیکھ بھال میں ابھی اپولو کے18 ڈاکٹروں کی ٹیم تعینات ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم میں سے کئی ڈاکٹر آئی سی یو کے آس پاس بنے وی وی آئی پی وارڈ میں ہی رہ رہے ہیں،9 نرسیں ہیں جن کی شفٹ میں پوری ڈیوٹی لگتی ہے۔ ان کے فون تک لے لئے گئے ہیں، کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ دو دن پہلے میڈیکل بولٹین میں بتایا گیا ہے کہ گلے میں ٹرائیکو لگائی گئی۔ اسی سے وہ آکسیجن اور فلوڈ لے رہی ہیں۔ نلی کے سبب بولنا ممکن نہیں ہے۔ وہ اشاروں میں ہی جواب دے رہی ہیں۔ لکھ کر بھی جواب دے سکتی ہیں لیکن ہاتھ پھیر ہلا نہیں سکتیں۔ ڈاکٹر نے انہیں مسکرانے کو کہا تو وہ مسکرائیں۔ ابھی وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ وزن بھی کافی گھٹ گیا ہے، حالت اب بھی نازک بنی ہوئی ہے۔ کیرل کے ایک ڈاکٹر کے ذریعے جب اپولو کے ڈاکٹر سے بات کرنے کی کوشش کی تو جواب ملا : میری جان اور نوکری دونوں خطرے میں ہیں، کوئی بات نہیں کرپاؤں گا۔ امید کی جاتی ہے کہ جے للتا جلد تندرست ہوکر پھر سے اپنا کام سنبھال لیں گی۔
(انل نریندر)

27 اکتوبر 2016

اترپردیش کا دی گریٹ ملائم یادو کا خاندانی ڈرامہ

پچھلے کچھ دنوں سے اترپردیش میں دا گریٹ انڈین پالیٹیکل فیملی ڈرامہ چل رہا ہے۔ اس میں ا مویشن ہے اور ایکشن ہے اور ری ایکشن بھی ہے۔ سوشل میڈیا میں اس ڈرامہ کو امریکی ٹی وی سیریز گیم آف تھرون کا نام دیا جارہا ہے۔ وزیراعلی اکھلیش بولے: بچپن میں والد کے خلاف اب بولنے والے کو ڈانٹ مار دی جاتی تھی میں زندگی بھر پتا کی سیوا کرتا رہوں گا۔ یہ تھا ا مویشن۔ ایکشن۔ رام گوپال نے نام لئے بغیر شیو پال کو بھرشٹا چاری، چاپلوس تک کہہ دیا۔ رام گوپال نے اپنے خط میں لکھا ہے: ا ن لوگوں نے ہزاروں کروڑ روپئے جمع کئے ہیں وہ لالچی ہے اکھلیش کو ہٹا چاہتے ہیں لیکن جہاں پر اکھلیش وہاں پر وجے ہے۔ اس کا ری ایکشن ہوا۔ رام گوپال کو پارٹی سے نکالتے وقت شیو پال بولے۔ ان کے بیٹے بہو یادو سنگھ کے کیس میں پھنسیں ہے اس لئے تکڑم کررہے ہیں۔ پارٹی میں انہوں نے گروہ بنالیا ہے اس ناٹک کے دو ویلن ہے ایک ملائم سنگھ اور دوسری پتنی اکھلیش یادو کی سوتیلی ماں سادھنا یادو اور انکل امرسنگھ۔ سادھنا یادو کھلے طور سے اس لئے بحث میں ہے کہ ایم ایل سی اودے ویر نے ان پر اکھلیش کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگادیا ہے اور شری پال کو ان کاسیاسی چہرہ بتا دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے خاندان میں بہت دنوں سے اس بات کو لے کر رسہ کشی چل رہی تھی کہ سب کچھ اکھلیش یادو کو ملتا جارہا ہے۔ پرتیک یادو( اکھلیش کے سوتیلے بھائی) کو کیا ملا؟ اکھلیش یادو کو وزیراعلی بنا کر نیتا جی نے ایک طرح سے انہیں اپناسیاسی جانشین قرار دیا ہے اکھلیش کی بیوی کو ایم پی بنادیا گیا لیکن پرتیک کی بیوی کو کچھ نہیں ملا۔ کہاجاتا ہے کہ ایک ماں کی شکل میں سادھنا ا پنی اسی پریشانی سے کئی بار ملائم کو واقف بھی کرچکی ہیں اس کے بار پرتیک کی بیوی کو اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا ہے اور پرتیک کے لئے بھی کوئی متبادل تلاش کرنے کاوعدہ بھی کیا گیا ہے۔ خاندان کو قریب سے جاننے والے کہتے ہیں کہ سادھنا یادو اور پرتیک سے اکھلیش کے رشتے کبھی ا چھے نہیں رہے۔ ادھر شری پال یادو ا پنی بھابھی کا پہلے سے کئی زیادہ بھروسہ جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں اسی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں جاری ہے کہ شری پال یادو کو نیتا کی طر ف سے زیادہ توجہ مل رہی ہیں۔ اب بات کرتے ہیں۔ امر انکل ، جن کو کبھی اکھلیش یادو انکل کہہ کر پکارا کرتے تھے آج ان کا نام لیناتک انہیں گوارا نہیں۔ سماج وادی پارٹی اور مکمل اکثریت سے بنی ان کی سرکار کو پچھلے دو مہینوں میں جو جھٹکے لگے ہیں۔ اکھلیش اس کی اصل کڑی ہے دراصل امر سنگھ کو ہی اس کے لئے ذمہ دار مانتے ہیں پچھلے ایتوا ر کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ میں ا کھلیش یادو نے پہلی بار پارٹی کے لیڈروں کے سامنے امر سنگھ کو دلال لفظ کااستعمال کرڈالا۔ پردیش پردھان کی کرسی جانے کے بعد امر سنگھ کے لئے انکل کی جگہ دلال لفظ کااستعمال کرنے والے سیاست کے اس بے حد مہذب ، نرم گوہ نوجوان لیڈر نے اپنے لیڈروں سے کہا ہے کہ میں اب نہ تو دلال کو برداشت کروں گا اور نہ ہی ان کے حما یتیوں کواکھلیش کو لگتا ہے کہ انہیں پردیش پردھان کے عہدے سے ہٹوانے میں امرسنگھ کاہاتھ ہے اور ان کے خلاف شری پال یادو کو تقویت دے رہے ہیں امر سنگھ کو ملائم سب سے بھروسے اور کام کا آدمی مانتے ہیں انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے امر سنگھ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ امرسنگھ نے مجھے جیل جانے سے بچایا ہے جب کہ وہ پارٹی میں بھی نہیں تھے تب بھی ملائم امرسنگھ کی تعریف کیا کرتے تھے پارٹی میں اب ان کا متبادل نہ ہونے پر افسوس ظاہر کرتے تھے۔ اکھلیش اس کے لئے امرسنگھ کو پسند نہیں کرتے۔ وہ اکھلیش کو توجہ نہیں دیتے ۔ امرسنگھ کی واپسی کی اکھلیش اس لئے مخالف کررہے تھے انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ وہ ان کے خلاف ماحول بنائیں گے اور کیونکہ وہ نیتا جی کے بھروسے مند لوگوں میں ہے۔ اس لئے ا ن سے نپٹ پانا آسان نہیں ہوگا۔ امرسنگھ کی واپسی کے بعد وہی ہوا جس کا ڈر اکھلیش کو تھا۔ پارٹی میں امر کے ذریعے اکھلیش مخالف گروپ کو تقویت ملی۔ سپا کے سیکریٹر ی جنرل اعظم خاں نے کہا ہے کہ افسوسناک واقعات کے لئے ایک باہری شخص ذمہ دار ہے اور اسی کی وجہ سے سب کچھ ہورہا ہے جو حکمراں پارٹی کے اندر داخل ہوگیا اور میں اپنے ساتھیوں کو اس شخص کی پارٹی میں نقصان دہ موجودگی کے بارے میں بار بار بتاتا رہا ہوں اگر سنجیدہ کارروائی کی گئی ہوتی تو نقصان سے بچایا جاسکتا تھا۔ 6 سال پہلے امرسنگھ کو سپا سے نکال دیا گیا تھا۔ اکھلیش کی مخالفت کے باوجود 5مہینے پہلے ا نہیں پارٹی میں لایا گیا ۔ راجیہ سبھا بھی بھیج دیا گیا ۔ یہاں تک پارٹی سیکریٹری جنرل بھی بنا دیا گیا اس سے اکھلیش خفا ہے شری پال نے شروع سے ہی ا نہیں پارٹی مخالف مانتے ہیں اعظم خاں نے کہا ہے ہمارے جیسے لوگوں کے لئے بھی بے حد بدنصیب دن تھا جب ان کانام( امرسنگھ ) کا فائنل کردیا گیا۔دنیا کہتی ہے کہ امرسنگھ کو بی جے پی نے بھیجا ہے لیکن خون کے رشتوں کوتو سب سے اوپر ہوناچاہئے اعظم خاں نے یہ بھی کہا ہے کہ جب باپ بیٹے ایک ہے یا ہوجائیں گے تو وہی کہیں کہ نہیں رہیں گے۔ یہ گروپ باز۔ ا ترپردیش کے گورنر رام نائک پورے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مرکزی سرکار کو مسلسل آگاہ کررہے ہیں۔ اترپردیش کا یہ سیاسی ڈرامہ آہستہ آہستہ کلائیمیکس پر پہنچ رہا ہے، ویسے ا س کا خیال ہے کہ اندر خانے سب کچھ ٹھیک ہے، یہ نورا کُشتی ہے سپا کو بحث میں رکھنے کے لئے اور اقتدار کی دوڑ میں بنائے رکھنے کے لئے ہے۔
(انل نریندر)

کیا ایک دیش ایک چناؤ کی تجویز گمراہ کن ہے

سال 2017میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے ابھی سے بساط بچھائی جانے لگی ہیں۔ سب اپنے اپنے پتے کھولنے لگے ہیں حالانکہ چناؤ کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ بگل کب بجیں گا کیا پانچ ریاستوں کے چناؤ ا یک ساتھ ہوں گے یا الگ الگ؟ ذرائع کے مطابق چناؤ کمیشن اس بار بھی روایت کے مطابق پانچ ریاستوں کا چناؤ ایک ساتھ ہی کرانے کے حق میں ہے۔ لیکن چناؤ کمیشن کاکہناہے کوئی بھی تاریخ طے کرنے سے پہلے سبھی سیاسی پارٹیوں سے بات کی جائے گی۔ ساتھ ہی 15اکتوبر 15نومبر کے درمیان کمیشن کی اعلی سطحی ٹیمیں ان سبھی پانچ ریاستوں کے دورے پر ہیں جہاں چناؤ ہونے والے ہیں بتادیں سال 2012میں اتراکھنڈ میں ایک مرحلہ میں 30 جنوری کو چناؤ ہوئے تھے۔ منی پور میں بھی 28 جنوری کو ایک مرحلے میں ہوئے اترپردیش میں پچھلی بار 2012میں سات مرحلوں میں 4 فروری سے 28 فروری کے درمیان چناؤ کرائے گئے تھے۔ گوا میں ایک مرحلے میں 3مارچ کو اور پنچاب میں ایک مرحلے میں30 جنوری 2012کو چناؤ ہوئے تھے۔ اس لئے پچھلے دنوں ایک نیا سجاھو آیا کہ لوک سبھا اور اسمبلیوں کے چناؤ ایک ساتھ ہونے چاہئے یا نہیں؟یہ اشو پرانا ہے جس پر کئی برسوں کے بحث چھڑی ہوئی ہیں لیکن حال کے دنوں میں یہ قومی تشویش کا باعث بن گیا ہے اس پر نہ صرف ٹی وی چینلوں پر بحث ہورہی ہیں بلکہ مرکزی سرکار بھی دیش کے شہریوں سے ویب سائٹ کے ذریعہ متعلقہ سوالات پر رائے مانگ رہی ہیں۔ مرکزی سرکار کا خیال ہے ایسا کرنے سے کافی پیسہ بچیں گا اور سرکار بلا رکاوٹ کے ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھا سکیں گی لیکن ایسا سوال اس کا نہیں ہے بلکہ جواز کا ہے ہمارے آئین میں جو جمہوریت کے لئے فیڈل ڈھانچے کی گارنٹی دی گئی اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا لوک سبھا و ریاستی اسمبلیوں کے چناؤ ایک ساتھ کرانے کی تجویز لاگو کی جاسکتی ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ بھارت میں چناؤ کا انعقاد کرنے میں بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ امیدواروں کا سیاسسی پارٹیوں کااور چناؤ کمیشن کو مل کر یہ طے کرناہے بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ساتھ چناؤ کرانے کے سلسلے میں جو پیسہ بچانے کی دلیل دی جارہی ہیں وہ اسے سیاسی پارٹیوں و امیدوار وں کا پیسہ بچانے کا نہیں بلکہ چناؤ کمیشن کاپیسہ بچانے کے سلسلے میں ہے۔ دوسری طرف چناؤ جمہوریت کی جیون ریکھا ہے اگر لوک سبھا و اسمبلی چناؤ ایک ساتھ ایک وقت پر ہوتے ہیں تو یہ قدرتی عمل ہے لیکن اگر چناؤ کی تعداد گھٹانے و خرچ کو کم کرنے کے لئے انہیں ساتھ تھوپا جاتا ہے تو یقینی طور سے نامنظور ہوگا کیونکہ اس کامطلب ہوگا کہ جمہوریت اصولوں پر مالی تشویشات کو ترجیح فراہم کرنا آپ کا اپنا خیال ہے؟
(انل نریندر)

26 اکتوبر 2016

ہندوستان سے کروڑوں کیکمائی کرتے تھے پاک ایکٹر

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی فلم ایکٹر اور کرکٹ کھلاڑی جو بالی ووڈ، اسٹیج شو اور کرکٹ کے ذریعے سے ہندوستان سے تقریبا 5سوکروڑ روپے سے زیادہ کمائی کرکے لیجاتے ہیں اور ہم انہیں خوب پیسہ اور عزت دیتے ہیں مزیدار بات یہ ہے کہ ان کے اپنے گھر پاکستان ان کو کوئی پوچھتا نہیں ہے لیکن ہم ان کے دیوانے ہیں اب جب کرن جوہر کی فلم’’اے دل ہے مشکل‘‘ پر اتنا تنازعہ کھڑا ہوا تب جا کر بالی ووڈ کے پروڈیوسروں نے سنیچرکو مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کے ساتھ سامنا کرنے کااعلان کیا ہے اس کے ساتھ ہی کرن جوہر کی فلم ’’اے دل ہے مشکل‘‘ ریلیز کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیراعلی دیویندر فڑنویس کی ثالثی میں ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے اور پروڈیوسر گلڈ کے چیئرمین مکیش بھٹ کی ملاقات ہوئی ان میں کرن جوہر بھی موجود تھے۔پروڈیو سرگلڈکی مانگوں کو مانے جانے کے بعد ایم این ایس نے احتجاج کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ بھٹ نے بتایا کہ فلم کے شروع ہونے سے پہلے اڑی اور پٹھان کوٹ حملہ میں شہیدوں کو شردھانجلی دی جائے گی ساتھ ہی پروڈیوسر سیناراحت فنڈ میں پانچ پانچ کروڑ روپئے کاعطیہ بھی دیں گے ۔ حالانکہ فوج نے اس رقم کو لینے سے انکار کردیا ہے۔ کرن کی فلم میں پاک ایکٹر فواد خان بھی ہے ایم این ایس پاک اداکار والی فلم دکھانے پر احتجاج کررہا تھا۔ پاکستانی سماج میں سنیما گانے بجانے وغیرہ کو بہت بے حد حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اس لئے پچھلے کچھ برسوں سے اس طرح کے پاکستانی اداکاروں کی کمائی کا ایک ذریعہ بھی بالی ووڈ بن گیا ہے۔ بالی ووڈ کی فلمیں پاکستان میں جتنا بزنس پندرہ دن میں کرتی ہیں ہندوستان میں وہ صرف دو دن میں کمالیتی ہیں۔ ان پاکستانی اداکارو ں نے بھی کبھی تصوربھی نہیں کیا ہوگا کہ انہیں ہندوستان میں اتنی موٹی کمائی ہوگی۔ پاکستان میں ہر سال بالی ووڈ قریب پچاس فلمیں ریلیز ہوتی ہیں اور اوسطاً ہر فلم ڈیڑھ سے دو کروڑ روپئے کمائی کرلیتی ہیں۔ اس طرح ہر سال پاکستان کو تقریبا پچاس کروڑ کا نقصان ہوتا ہے یہی نہیں بالی ووڈ کی فلمیں پاکستان میں ریلیز ہوتی ہیں وہاں کی فلموں کے مقابلے میں بہت زیادہ بزنس کرتی ہیں۔ پاکستان میں بالی ووڈ کی فلمیں نہیں دکھائی جانے سے پاکستان کی فلم انڈسٹریز کا بزنس 70 فیصدی کم ہوجائے گا کیونکہ پاکستانی فلم انڈسٹریز 70فیصدی بزنس بالی ووڈ اور ہالی ووڈ سے آتا ہے۔ کوک اسٹوڈیو پاکستان کے سنگر عاطف اسلم ہندوستان میں گا کر زیادہ مقبول ہوا ہے۔ کچھ وقت پہلے عاطف اسلم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں نے بے شمار پیسہ تو ہندوستان میں پروگرام دے کر کمایا ہے وہ ایک گانے کے لئے پندرہ سے بیس لاکھ روپئے لیتا ہے پاکستان میں اس طرح کے شو کے لئے یہی عاطف اسلم ایک لاکھ روپئے لیتا ہے۔ گانے کے علاوہ عاطف اسلم ہندوستان میں اسٹیج شو کے قریب 75لاکھ روپئے چارج کرتا ہے کئی بار وہ یہاں پر اپنے پروگرام کے منتظمین سے پیسہ کو لے کر لڑائی بھی کرچکا ہے۔ علی جعفر بھی پاکستان کے کوک ا سٹوڈیو کی دین ہے اور یہ پاکستانی اداکار گلوکار جیسے ہی پاکستان میں تھوڑا سا مشہور ہوا اور اس نے پیسہ کمانے کے مقصد سے ہندوستان کی راہ پکڑ لی۔ علی جعفر نے بالی ووڈ کی فلم’’تیرے بن لادین‘‘ کی تھی۔ جس میں ان کی اداکار سرخیوں میں چھائی ہوئی تھی ایک فلم کے لئے ہندوستان میں وہ چھ کروڑ روپئے لیتا ہے اور اب تک انہوں نے ہالی ووڈ کی دس فلموں میں کام کیا ہے۔ پاکستانی اداکار کا نام لینے پر سب سے پہلا نام فواد خان کاآتا ہے۔ بالی ووڈ سے پہلے فواد نے پاکستانی فلموں میں کام کرنے کے لئے بہت ہاتھ پیر مارے اور وہاں کی فلموں میں مفت میں بھی کام کیا ۔ ہندوستان میں کام ملتے ہی اس پاکستانی ایکٹر کے رنگ دھنگ بدل گئے ۔ انہوں نے بالی ووڈ کی فلم’’خوبصورت‘‘ سے اپنا کیریئر شروع کیا تھا۔لیکن ہندوستان میں فواد خان ایک فلم کے لئے سو کروڑ روپئے لینے لگا ہے۔ اس کے مطابق میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے ہندوستان میں اتنا پیسہ ملے گا اب بات کرتے ہیں نصرت علی فتح خاندان کے گلوکار راحت فتح علی خاں کی۔ وہ بھارت میں ایک فلم میں گانے کے لئے تقریبا پچیس لاکھ روپئے لیتا رہا ہے۔ سالانہ اندازے کے مطابق وہ ہندوستان سے 60کروڑ روپئے کی کمائی فلموں اور اسٹیج شو کے ذریعے کرتا ہے کچھ وقت پہلے اس کو دہلی ایئر پورٹ پر کثیر تعداد میں غیرملکی کرنسی لے جاتے ہوئے محکمہ کسٹم نے پکڑا تھا اکیلے فلموں میں ہی نہیں پاکستانی ایکٹر موٹی کمائی کررہے ہیں۔ کرکٹ میں بھی پاک کمنٹری کرکے موٹی رقم کماتے ہیں دنیا کے سب سے تیز گیندباز راولپنڈی ایکسپریس عرف شعیب اختر اپنازیادہ تر وقت ہندوستان میں ہی گزارتے ہیں کیونکہ وہ دو تین سال سے بھارت میں رہ کر کرکٹ کمنٹری کرتے رہے ہیں اور بھاری بھرکم فیس بھی وصولتے ہیں اس کے علاوہ کئی ٹیم چینلوں میں گیسٹ بن کر بھی کمائی کرتے ہیں۔ آئی پی ایل کے سیزن 2017 اس کے ٹیلی کاسٹ چینل نے اس پاکستانی ایکسپرٹ سے دوری بنانے کا من بنالیا ہے۔ شعیب سالانہ 25کروڑ روپئے کی کمائی کرتے ہیں۔ کمنٹری پینل سے باہر ہونے والوں میں وقار یونس ، وسیم اکرم جیسے سابق کرکٹر شامل ہیں میں نے ان ا داکاروں کے بارے میں اس لئے بتایا ہے کہ کھاتے تو ہندوستان کا اور گل گان پاکستان کاکرتے ہیں ۔ بھارت کو چاہئے وہ ایکٹر ہوں یا کمنٹیٹر ہوں ، ایمپائر ہوں یا کھلاڑی ہوں سب پر پابندی لگنی چاہئے۔
(انل نریندر)

ریسرچ اینڈ انلاسس ونگ( را) کو مضبوط کرنے کی ضرورت

اڑی حملے اور سرحد پار سے بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے چلتے بھارت کو ا پنی سلامتی وانتظام کو چوکس کرنا ہوگا۔ حملے کو روکنا آسان نہیں لیکن اگر حملے سے پہلے جانکاری مل جائے تو اس سے ہونے والے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ اور کبھی کبھی حملے بھی ٹل سکتے ہیں لیکن ایسا کبھی ممکن ہے وہ ہماری خفیہ ایجنسیاں اتنی سرگرم ہوں؟ خفیہ اطلاعات کو پانے کے لئے ہمیں اپنی خفیہ خدمات خاص کر ’’را‘‘ کو دوبارہ سے سخت کرنے کی ضرورت ہے خبر ہے کہ ’’را‘‘ میں پاکستان، چین، روس اور یوروپی فرقوں کی ڈیکس کو پھر سے منظم کیا جارہا ہے اقتصادی اطلاعات ، تکنیک تونائی سیکورٹی اور زیادہ سے زیادہ معلومات سے ’’را‘‘ کو آراستہ کرنے کے لئے اسرائیلی خفیہ ا یجنسی موساد کے ساتھ تعاون بڑھانے کی سمت میں کام چل رہا ہے۔ بتادیں اس وقت دنیا میں سب سے بڑی خفیہ ایجنسی اسرائیل موساد ہے۔ اور ان سے بہتر خفیہ اطلاع اکٹھی کرنے میں نہ تو سی آئی اے ٹیکتی ہے اور نہ کوئی اور۔ یوروپی ایجنسی ، اڑی حملے کے بعد سیکورٹی امور کی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں ’’را‘‘ کا حال سامنے آنے کے بعد پی ا یم او نے آنا فانا میں کئی فیصلوں کو منظوری دے دی۔ سبرامنیم کمیٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر فی الحال پاکستان ڈیکس کو بانٹ کر چار نئے ڈیکس بھی بنانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔ اب پلوچستان، صوبہ پنجاب، پشاور اور مغربی سرحدی ڈیکس بنائے جارہے ہیں۔ ہر ڈیکس کی ذمہ داری جوائنٹ سکریٹری سطح کے ایک افسر کے پاس ہوگی۔ فلڈ اسٹاف کی بھرتی کا کام شروع ہوگیا ہے۔ پی ایم او نے تین دن پہلے ہی ’’را‘‘ کے ذریعے تکنیکی ماہرین اور نئے کیدر بھرتی کرنے کی منظوری ملی ہے۔راجیو گاندھی کے زمانے میں کچھ بھرتیاں ہوئی تھی اس کے بعد 2004-05-09-10 میں ہوئیں تھیں لیکن وہ کام چلاؤ رہی۔ دراصل عرصے سے ’’را‘‘ سست پڑی رہی۔ اس میں روح پھونکنے بہت کوشش 2015میں شروع ہوئی قومی سلامتی مشیر اجیت ڈھوپال نے راجندرکھنہ کو’’را‘‘ کاچیف بنایا تھا اور ان کو انسداد دراندازی ،آپریشنوں اور مشرق میں سرحد پار حملے کرنے کا ماہر ماناجاتا ہے۔ اڑی حملے کے بعد طے حملوں کے لئے اکٹھا کی گئی ’’را‘‘ کی اطلاعات سے فوج کا کافی کام آسان ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے ڈیفنس سکریٹری لیفٹیننٹ جنرل ’’ریٹائرڈ‘‘ عالم کھٹ نے ڈیفنس پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’’را‘‘ نے خاص طور سے چین اور پاکستان اقتصادی گلیارے کو نقصان پہنچانے کے لئے خصوصی ٹیم بنائی ہیں اور انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ بھارت کھلے طور پر پاکستان کو کمزور کررہا ہے پاکستان کو من گھڑت الزام لگاتا ہی رہتا ہے ہمیں ا پنا کام کرتے رہناچاہئے۔
(انل نریندر)

25 اکتوبر 2016

32لاکھ کارڈ ہولڈروں میں سائبر سیند ھ ماری

دیش کے بینکوں میں سائبر سیندھ ماری کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔خبر ہے کہ بھارت کے 19 بینکوں کے 32لاکھ اے ٹی ایم کارڈ میں گڑ بڑی ہوئی ہیں۔ ڈیبٹ یا اے ٹی ایم کارڈ ہولڈروں سے ٹھگی کے معاملے نئے نہیں ہے مگر منظم طور سے تقریبا 19 بینکوں کے 32 لاکھ کارڈ وں میں گڑ بڑی انتہائی سنگین معاملہ اس لئے بھی ہے کیونکہ یہ بینکنگ نیٹ ورک کی ایک بڑی خامی ہے اور کچھ معاملوں میں یقینی طور سے بینک ملازمین کی ملی بھگت کو اجا کر کرتا ہے یوں تو دیش میں موجود کل ڈیبٹ کارڈ ہولڈروں کی تعداد میں یہ صرف 0.5 فیصدی ڈاٹا چرانے کی بات ہورہی ہیں لیکن اعداد وشمار دیکھیں تو ان کی تعداد 32لاکھ ہے۔ اس گڑ بڑی سے پتہ چلتا ہے کہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے 6لاکھ گراہکوں کے ڈیبٹ کارڈ منسوخ کردیئے ہیں۔ اور ان کی جگہ نئے کارڈ جاری کریں گے ممکن ہے کہ دوسرے بینک بھی اس تعمیل کریں کیونکہ یہ پوری طرح سامنے نہیں آرہا ہے کہ کتنے گراہکوں کے ڈیبٹ کارڈ سے متعلق ڈاٹا چرایاگیا ہے دیش کی تاریخ کے سب سے بڑے اے ٹی ایم، ڈیبٹ کارڈ جعلسازی کے تار چین سے جڑ رہے ہیں۔ کئی بینکوں کا دعوی ہے کہ ان کے گراہکوں نے اپنے کارڈوں سے چین میں ٹرانزیکشن کی شکایت کی ہے جب کہ ان کے پاس چین کے پاسپورٹ بھی نہیں ہے ۔ 641 لوگوں کے قریب 1.3کروڑ روپئے کی غلط نکاسی کے دعوی بھی کئے جارہے ہیں الیکٹرانک لین دین کی نگرانی کرنے والے ادارے نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا کے ایک افسر نے بتایا کہ چین سے گڑ بڑی اطلاع مل رہی ہیں۔ ہم ریزرو بینک اور دیگر بینکوں کے ساتھ مل کر جانچ کررہے ہیں۔ اس درمیان سبھی بینکوں کو مزید سیکورٹی قدم اٹھانے کی صلاح دی گئی ہیں حالانکہ مالیاتی سروس محکمہ میں ایڈیشنل سیکریٹری سی مرو نے بتایا کہ اس سے بہت گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے صرف 0.5 فیصد ڈیبٹ کارڈ پن اور دیگر ڈاٹا چوری ہوا ہے۔ باقی 99.5 فیصد کارڈ پوری طرح سے محفوظ ہے سیدھے طور پر کہا جاسکتا ہے جو بینکنگ سائبر دھوکا دھڑی کا معاملہ سامنے آیا ہے اسے بھی دیش کی سرحد سے باہر ہی انجام دیا گیا ہے۔ دھوکا دھڑی اتنی خطرناک ہوسکتی ہیں ، اس کے بنگلہ دیش میں اسی برس ہوئے ایک واقعہ سے سمجھاجاسکتا ہے جہاں سائبر چوروں نے کہا ہے کہ وہاں کے سینٹرل بینک سے ہیکنگ کر دس کروڑ ڈالر اڑا لئے تھے جس کی وجہ سے وہاں کے سینٹرل بینک گورنر کو استعفی دینا پڑا تھا اور کچھ لوگوں کاکہنا ہے کہ جسے دیش سے اور جس ذریعہ سے ہندوستانی بینکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اس کی پہچان ہونے کے باوجود سائبر حملہ کرنے والے ایک گروہ تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ ہندوستانی بینکوں کو خاص پریشانی یہ ہے کہ منظم طریقے سے انہیں نشانہ بنایاجارہا ہے۔ وہ زیادہ سنگین معاملہ ہے امید کی جاتی ہیں گراہکوں کو ہوئے نقصان کی بینک بھرپائی کریں گے اور مستقبل کے لئے پختہ انتظام کریں گے۔
(انل نریندر)

آخر ریتا بہوگنا کانگریس چھوڑ نے پر کیوں مجبور ہوئیں

اترپردیش میں 2017کے اسمبلی چناؤ کی تیاریوں میں سب سے لاچار کانگریس پارٹی ہی نظر آرہی ہیں۔ اس کی یہ حالت اس کے سرکردہ لیڈروں کے ذریعہ پارٹی چھوڑ کر چلے جانے کے سبب ہوئی ہے ویہی کئی لیڈر پارٹی کے گرتے گراف سے پریشان ہو کر اب اس سے کنارہ کررہے ہیں۔ تازہ مثال کانگریس ایم ایل اے و سرکردہ لیڈر ریتا بہو گنا جوشی کی ہے۔سابق ریتا بہوگنا جوشی کے بھاجپا میں شامل ہونے سے پارٹی کو بڑا جھٹکا لگا ہے پارٹی کے حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ ریتا کے جانے سے کانگریس ا صولاً لڑائی ہار گئی ہے اس سے کانگریس کے برہمن کارڈ کی ہوا نکل گئی ہے۔ پارٹی دہلی کی سابق وزیراعلی شیلادیکشت آگے کرکے برہمن کارڈ کھیلا ہے لیکن پردیش کانگریس کی بڑے لیڈروں میں شمار لیڈر ریتا کی پارٹی چھوڑنے سے برہمنوں کے سارے یوپی کا اقتدار چابی حاصل کرنے کے کانگریس کے منصوبوں پر پانی پھیرتا نظر آرہا ہے۔ ریتا کے پارٹی چھوڑنے سے یہ ا شارہ کیاگیا ہے کہ یوپی میں کانگریس صرف پرشانت کشور کے اشارے پر چل رہی ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں کانگریس کی تنظیم تک کا ڈھانچہ تک نہیں بن سکا ہے۔ موجودہ پردیش صدر تو تین مہینے سے ا پنی ٹیم تک نہیں بنائے پائے پارٹی کے لیڈروں کی آپسی گروپ بندی اتنی زبردست ہے کہ پرانی ٹیم کے بھروسہ راج ببر چناؤ میدان میں اترنے کی تیاری کررہے ہیں۔ وہ ان کے بجائے اس نیتا کے تئیں وفاد ار ہے جس نے انہیں عہدہ دیا ہے کانگریس کا کوئی بھی لیڈر یہ نہیں چاہتا کہ کامیابی کاسہرا کسی دوسرے کو ملے۔ صوبے میں پچھلے 27 سال سے اقتدار سے دور کانگریس نے اس بار چناؤ مینجمنٹ کے لئے پرشانت کشور کو چنا ہے صوبے میں راہل گاندھی کے کئی پروگرام کرا کر پارٹی کو سرخیوں میں لے آئے ہیں لیکن اب وہ پارٹی کے ممبران اسمبلی کی نبض کو ٹٹول نہیں پائے اب تو یہ بھی سوال ا ٹھنے لگے ہیں کہ جو اپنے سرکردہ لیڈروں ممبران اسمبلی کی نبض نہ ٹٹول پائے ہوں وہ جنتا کے من کو کیسے جان پائیں گے ؟ بحال اتنا تو طے ہے کہ پرشانت کشور کے ساتھ کانگریس اعلی کمان بھی ممبران اسمبلی کا پارٹی سے نکلنا نہیں روک پارہا ہے کئی نیتا تو پرشانت کشور کے رخ سے ہی ناراض ہو کر پارٹی چھوڑ گئے ہیں خود ریتا بہو گنا نے بھی بھاجپا میں شامل ہوتے وقت پرشانت کشور و راہل گاندھی پر جم کر حملے کئے ہیں کافی دنوں سے ریتا بہو گنا کے کانگریس چھوڑنے قیاس آرائیوں کو تب روک لگی جب وہ دہلی میں بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں قومی صدر امیت شاہ کے بگل میں بھگوا چولا پہنے کھڑی نظر آئیں۔ ریتا بہو گنا نے کانگریس چھوڑنے کا من یوں ہی نہیں منایا جس طرح کانگریس یوپی میں ا پنے کھوئی زمین تلاش میں لگی تھی ٹھیک اسی طرح وہ پارٹی میں اپنے آپ کو تلاشنے میں لگی ہوئیں تھیں۔ 67 سالہ ریتا بہو گنا کے خواہشات اس وقت مدھم پڑ گئی تھیں جب انہیں یوپی کی کانگریس کی ٹیم میں جگہ نہیں دی گئی۔ رہی سہی کثر تب پوری ہوگئی جب ایک بھاری امیدوار( دہلی کی سابق وزیراعلی شیلادیکشت) کو لا کر سر پر بیٹھادیا گیا۔سابق سورگیہ وزیراعلی ہیممتی نند بہوگنا کی بیٹی کو یہ راس نہیں آیا کہ اپنے آپ کو زمینی ورکر ماننے والی ریتا کے پاس اب کانگریس چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ ریتا سب سے زیادہ دکھی اس لئے تھی کہ پارٹی کے نئے صدر راہل گاندھی اپنے پپو والے بیانوں سے باز نہیں آرہے تھے ۔ پانچ سال تک الہ آباد کی میئر اور لکھنؤ چھاؤنی سے ممبراسمبلی ریتا نے جم کر راہل گاندھی کے خلاف بھڑاس نکالی۔ ریتا جوشی اصلا اب اتراکھنڈ کی ہے ان کا حلقہ الہ آباد رہا ہے ان کے بھائی وجے بہو گنا جو اس وقت بی جے پی میں ہے وہ اترا کھنڈ کے وزیراعلی رہ چکے ہیں۔ ریتا کے بی جے پی میں آنے سے ان دونوں ریاستوں میں ان کے بل پر سیاسی تجزیہ میں فرق ضرور پڑے گا دونوں ہی ریاستوں میں ا گلے برس چناؤ ہونے ہے۔ ریتا جوشی کو بی ایس پی چیف مایا وتی کا کٹر حریف ماناجاتا ہے۔مایا وتی کے خلاف متنازعہ بیان دینے کی وجہ سے ریتا جیل تک جاچکی ہیں۔ بھلے ہی کانگریس کے نیتا اور خاص طور سے راہل گاندھی ریتا بہو گنا کے الزامات سے متفق نہ ہوں لیکن اس میں شبہ نہیں دیش کی اس سب سے بڑی پارٹی کی پالیسی میں کوئی بڑی کمزوری ہے۔ اگر یہ کمزوری دور نہیں ہوئی تو کانگریس چھوڑنے والے لیڈروں کا سلسلہ برقرار رہ سکتا ہے۔
(انل نریندر)

23 اکتوبر 2016

ایک کے بعد ایک تنازعے میں پھنستی جے این یو

دیش کی سب سے مشہور یونیورسٹیوں میں شمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی( جے این یو) ایک بار پھر اپنی نام نہاد حرکتوں کے سبب سرخیوں میں ہے جے این یو کے ناراض طلباء کے ذریعے وائس چانسلر سمیت دیگر حکام کو یرغمال بنانے کے واقعہ نے نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں مٹھی بھر طلباء کے لئے نہ تو دیش کے قانون و اخلاقیات کی فکر ہے اور نہ ہی اپنے بڑوں کے لئے عزت۔ یہ وجہ عام ہوتی جارہی ہیں اس وقت میں اس مشہور تعمیر ادارہ تحریک اورسیاست کا اڈہ بن گیا ہے یہ تشویش کا موضوع اس لئے بھی ہے کہ یہاں عام والدین اور بہتر تعلیم کی خواہش کے لئے طلباء اب جے این یو تحریک کی وجہ سے اس کی ساکھ سے ڈرنے لگیں ہیں کسی کو بھی اس طرح پوری مشینری کو ناکارہ کرنے کی چھوٹ نہیں دی جاسکتی ہیں ۔ وہ بھی جب چانسلر مسلسل اس معاملے کو لے کر پولیس اور انتظامیہ سے رابطے میں ہے اور طلباء کو بھی اس کی معلومات دے رہے ہیں۔ جس طرح سے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کو لے کر قریب 21 گھنٹے تک یرغمال بنائے گئے چانسلر سمیت دیگر انتظامی حکام کو بند رکھا اس سے صاف ہے یہاں کے چانسلر کے تئیں عزت ہے اور نہ ہی صبر ۔انہیں یہ سمجھناہوگا کہ چانسلر اور دیگر حکام کو کمرے میں بند کرنے سے ان کا ساتھی نجیب احمد ملنے والا نہیں ہے پچھلے سال بھی ملک کی بغاوت کے معاملے پر جے این یو کے طالب علم سرخیوں میں آگئے تھے۔ دیش بھر میں اس کو لے کر عام طور پر علیحدگی پسندگی جذبہ بھی تیزی سے پھیلا ۔ حال ہی میں یہاں کے کچھ طلباء نے جہاں وجے دشمی پر دیش بھر میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف و حافظ سعید کے چہروں کو راؤن کے پتلوں پر لگا کر جلا یا گیا وہی جے این یو میں این ایس یوآئی نے وزیراعظم نریندر مودی اور بھاجپا پردھان امیت شاہ، یوگورو بابا رام دیو اور نتھو رام گوڑ سے، یوگیہ آدتیہ ناتھ، جے این یو وائس چانسلر سادھوپرگیہ اور آسا رام باپو کے چہرے پتلے لگا کر جلائے گئے تھے۔ ان طلباء کے کہنا تھا کہ ان برائیوں کی علامت مان کر ایسا کیا گیا تھا۔ طالب علم نجیب احمد معاملے کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ٹھیک ہے طلباء کے درمیان کسی معاملے کو لے کر تلخی اور نظریاتی اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔اس کامطلب یہ نہیں کہ حد سے گزر جانے والی کوئی کرتوت کی جائے۔ اہم یہ ہے کہ جے این یو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو پھر سے حاصل کریں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ کو سیاست نہ کرتے ہوئے پڑھائی کے علاوہ طلباء میں اس جذبے کو بیدار کرنا ہوگا، جس کے لئے یہ ادارہ پوری دنیا میں مشہور رہا ہے۔ یہ سب کچھ تب ہی ہوپائے گا جب خود یہاں کے طلباء بہتر ماحول کے لئے کوشش کرتے رہیں گے۔ جو طالب علم ملک و بیرونی ملک تک اپنی دانشورانہ نظیر پیش کرتے ہیں پتہ نہیں ایسے دانشور بے فضول کی باتوں میں کیوں پھنس جاتے ہیں؟ فی الحال کو نجیب احمد کی صحیح سلامت برآمدگی پر سبھی کو توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

کیا سائیکل پر اکیلے چلنے پر مجبور ہوں گے اکھلیش

تمام کوششوں اور دعوؤں اور بیانات کے باوجود اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی کے یادو خاندان کا جھگڑا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ 5نومبر کو پارٹی کے قیام کی سلور جوبلی منانے جارہی سپا کے نیتا جنیشور مشر پارک میں منعقدہ پروگرام کے 48 گھنٹے پہلے ہی اکھلیش یادو سماج وادی وکاس یاترا پر نکلنے جارہے ہیں۔ اس بات کااعلان انہوں نے ملائم سنگھ یادو کو لکھے خط میں کیا ہے۔ اپنے نوجوان حمایتیوں پر کارروائی اور پردیش تنظیم نے تبدیلی سے ناراض اب لگتا ہے کہ شاید وزیراعلی نے اکیلا چلو کا رک اختیار کرلیا ہے۔ سپا پردیش پردھان شیو پال یادو کو ایک طرح سے چنوتی دینے کے ا نداز میں 3نومبر سے’’ وکاس سے وجے کی اور ‘‘ اور سماج وادی وکاس یاترا کااعلان کر یہ ظاہر کردیا ہے کہ یادو پریوار میں جنگ جاری ہے کلی طور پر لوگوں کاکہنا ہے کہ وزیراعلی ا کھلیش یادو نے اگر حالات پر کنٹرول نہیں کیا اور ان کی مانگیں نہیں مانی گئی تو وہ نئی پارٹی بھی بنا سکتے ہیں مگر فی الحال وہ کرسی چھوڑنے کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کھل کر بغاوت بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ وہ اپنے حمایتیوں کے ذریعے نیتا جی اور ان کے بھائی کو ا لجھائے رکھناچاہتے ہیں دراصل اکھلیش کو اس بات کا ڈر ہے اگر نئی پارٹی کا اعلان کردیا تو ملائم سنگھ ان کو وزیراعلی کے عہدے پر نہیں رہنے دیں گے اور چناؤ ضابطہ لگنے تک شاید انتظار کریں۔ اکھلیش کے پاس ایم ایل اے تبھی تک ہے جب تک وہ وزیراعلی ہے جیسے ہی نیتا جی خود کو وزیراعلی بنانے کی تجویز رکھوائیں گے تو زیادہ تر ممبر اسمبلی اکھلیش کا ساتھ چھوڑ کر نیتا جی کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے کیونکہ نئی پارٹی سے رکس لینے والوں کی تعداد کافی کم ہوگی۔ ا دھر اگر ملائم سنگھ کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں تو ان سب کو ٹھیک کرنے میں لگ جائیں گے جو اس وقت ان کے شیو پال یادو کے خلاف کھڑے ہورہے ہیں اس صورت میں کتنے لوگ اکھلیش کاساتھ دیتے ہیں اس پر بھی شبہ ہے میٹنگ میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے اکھلیش کو پارٹی کا صدر کے عہدے سے ہٹا کر اپنے بھائی شیو پال سنگھ یادو اس کرسی پر بیٹھایا سماج وادی پارٹی میں جاری آپسی کھینچ تان کس مقام پر پہنچے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اتنا طے ہے کہ اس پوری قواعد کی بڑی قیمت اکھلیش یادو کے اس وکاس ایجنڈے کو چکانی پڑے گی جس کو لے کر انہوں نے جیتیں ساڑھے چار برس تک اترپردیش میں کام کیا ہے اور جسے بنیاد پر بنا کر اسمبلی چناؤ میدان میں جانے کا سبز باغ پالے ہوئے بیٹھیں ہیں دیکھیں آنے والے وقت اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...