Translater

31 اکتوبر 2024

اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی مشکل !

جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات میں ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد سے مشرقی وسطیٰ میں جنگ کا بحران اور گہرا ہو گیا ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے چیف مشیر جو فیصلے لے رہے ہیں اس کے مرکز میں علاقہ میں اور بھی بدتر حالات پیدا ہونے سے بچانا یا خطرہ اٹھانا شامل ہو سکتا ہے ۔انہیں کئی مشکلیں اور متبادلوں میں سے سب سے کم برے متبادل پر فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس کے ایک فیصلے میں بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ایک اور جوابی حملے کا متبادل ہے ۔لیکن اسرائیل نے پہلے ہی وارننگ دے دی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ پھر سے جوابی حملہ کرے گا ۔ممکنہ طور پر ایران کے سپریم لیڈر اور ان کے مشیر وہی فیصلہ لے سکتے ہیں جس سے ایران کے اسلامی حکومت کے وجود اور ایرانی عوام کو کم سے کم نقصان ہو ۔برطانیہ کے پی ایم کیمر اسٹارمر وامریکہ اس دلیل سے متفق ہیں کہ اسرائیل نے یہ کاروائی اپنی حفاظت میں کی ہے ۔اسٹارمر نے اس بات پر واضح ہو ں کہ اسرائیل کو ایرانی جارحیت کے خلاف خود کی حفاظت کرنے کا حق ہے ۔ایران کو جواب نہیں دینا چاہیے اور آگے علاقائی کشیدگی بڑھانے سے بچنا چاہیے اور سبھی فریقین کو تحمل برتنا چاہیے ۔اتوار کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے شوشل میڈیا پر لکھا کہ اسرائیل نے غلط قدم اٹھایا ہے ۔ہمیں انہیں ایران کے لوگوں کی طاقت اور مصمم عزم اور پہلے کے بارے میں بتانا ہوگا ۔اسرائیل نے مہینوں پہلے ہی حملے کی رفتار طے کر دی تھی ۔7 اکتوبر 2023 کو حملے میں قریب 1200 لوگ مارے گئے تھے ۔مرنے والوں میں زیادہ تر اسرائیلی تھے ۔وہیں 70 سے زیادہ غیر ملکی بھی شامل تھے ۔ایران نے کئی بار اشارہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ پوری طرح سے جنگ نہیں چاہتا ۔اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ایران اور اس کے ساتھیوں پر اس کی وجہ سے پڑ رہے دباو¿ کو روکنے کے لئے ایران تیار تھا ۔ایران کے لوگوں کو لگا کہ اس کے پاس مشرقی وسطیٰ جنگ سے بہتر قدم ہے ۔اس کے بجائے ایران نے اپنے ساتھیوں پر اور کراکسی کاروائی کا استعمال کرکے اسرائیل پر حملے کروائیے جو اب بھی جاری ہیں ۔یمن میں حوثیوں نے لال ساغر میں تباہی مچائی ہوئی ہے ۔لبنان اور غزہ سے راکٹ حملے ہو رہے ہیں ان حملوں کی وجہ سے کم سے کم 60000 اسرائیلوں کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے پرمجبور ہونا پڑا ۔لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 2ہزار سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں اور 12 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ۔غزہ میں تو یہ تعداد اب 45 ہزار سے زیادہ مرنے والوں کی پہنچ چکی ہے ۔لاکھوں لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں اسرائیل نے باہری امداد پر بھی پابندی لگا دی ہے ۔اگلے مہینے پانچ نومبر کو امریکی صدارتی چناو¿ ہیں ہمیں نہیں لگتا تب تک ایران کوئی جوابی کاروائی کرے گا اور نا ہی اسرائیل کوئی حملے کو انجام دے گا ۔5 نومبر کوامریکی چناو¿ اسرائیل اور ایران کے لئے خاص ہیں کیوں کہ یہ طے کر سکتے ہیں کہ اب آگے کیا ہوگا ؟ چناو¿ میں اگر ٹرمپ کامیاب ہوتے ہیں تو ایران کے نیوکلیائی پروگرام ،تیل اور گیس ٹھکانوں پر حملے سے بائیڈن کے موازنہ میں کم فکرمند ہو سکتے ہیں ۔ایران کی سب سے قیمتی اثاثوں پر حملہ نہ کرنے کا اسرائیل کا فیصلہ شاید ایران کو اپنے رد عمل سے روکنے کا موقع دے سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

اسمبلی ضمنی چناو ¿ میں بھاجپا - سپا آمنے سامنے !

اترپردیش کی 9 اسمبلی سیٹوں پر ہونے جارہے ضمنی چناو¿ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان اہم مقابلہ ہے ۔اس چناو¿ میں جہاں بھاجپا کی سینئر لیڈر شپ نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے کاندھے پر جیت کی ذمہ داری ڈالی ہے ۔جبکہ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اپنی چار سیٹوں کو بچانے کے ساتھ بھاجپا کی تین سیٹوں پر نگاہیں لگا رکھی ہیں ۔کانگریس نے میدان میں نا اترنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس کے میدان میں نہ اترنے سے انڈیا اتحاد میں اس کی ساتھی پارٹی سماج وادی نے ضمنی چناو¿ کے لئے سبھی 9 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کے نام کا اعلان کر دیا ہے ۔کانگریس نے کہا ہے کہ اس نے آئیں اور سماجی بھائی چارے کی حفاظت کے لئے اترپردیش میں اسمبلی ضمنی چناو¿ میں اپنے امیدوار نا اتارنے کا فیصلہ کیاہے ۔جن 9 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی چاو¿ ہونے ہیں ان میں غازی آبا د صدر سیٹ کی پہچان بھاجپا کو مضبوط قلعہ پر ہے ۔2024 کے لوک سبھا چناو¿ میں اور 2022 کے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کے اتل گرگ چنے گئے تھے ۔یوگی کے لئے پھول پور کا ضمنی چنا و¿ ساکھ کا سوال بن چکا ہے ۔2018 کے لوک سبھا ضمنی چناو¿ میں سپا نے پھول پور پر جیت کا پرچم لہرایا تھا۔لیکن 2022 کے اسمبلی چناو¿ میں پریاگ راج کی پھول پور سیٹ سے بھاجپا کے پروین پٹیل نے کامیابی حاصل کی تھی ۔وہیں مظفر نگر کی میراپور سیٹ ،مرزا پور کی منجھوا سمبلی سیٹ اور مین پوری کی کرہل اسمبلی سیٹ اور کندرکی کی سیٹ و کانپور کی سسمو¿ اسمبلی سیٹوں پر یوگی آدتیہ ناتھ کی خاص نظر ہے اور انہیں امید ہے کہ اس بار وہ 9 میں سے 9 سیٹوں پر جیت دلائیں گے وہیں سپا کے سامنے ضمنی چناو¿ میں نئی چنوتیاں بھی ہیں ۔بھاجپا نے اس کے پی ڈی اے میں سیندھ لگانے کے لئے اسی کی طرز پر زیادہ تر ٹکٹ پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بانٹے ہیں اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر بہوجن سماج پارٹی نے بھی مسلم و پچھڑوں کے ووٹوں پر نظر لگا رکھی ہے۔بدلے حالات میں کانگریس کے چناو¿ نہ لڑنے پر سپا بھی سیٹوں کو جتانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے لیکن ریاست میں کانگریس کا ان سیٹوں پر جو ووٹ ہے وہ کتنا ٹرانسفر ہوگا ؟ سپا چیف اکھلیش یادو کے سامنے پی ڈی اے یعنی پچھڑا ،دلت ،اقلیت ووٹ کے نام پر سپا نے لوک سبھا چناو¿ میں جو جیت پائی اس کے چلتے بھاجپا اس بار کانٹے سے کانٹا نکالنے کی کوشش کر رہی ہے اس کا بھی فوکس او بی سی و دلت ووٹ پر ہے ۔ساتھ ہی ہندتو کے ذریعے سے او بی سی دلت ووٹوں کی فصل کاٹ لینے کی چنوتی ہے ۔سپا نے 4 مسلم لوگوں کو ٹکٹ دے کر لوک سبھا چناو¿ کے الٹ فیصلہ لیا ہے تب اس نے 63 سیٹوں پر 4 مسلمان کھڑے کئے تھے ۔اس بار 9 میں سے 4 مسلمان ہیں ۔دو دلت امیدوار ہیں ۔اس کے ذریعے سپا اس تصور کی دھار کو کند کرنا چاہتی ہے کہ غیر بھاجپائی پارٹیوں میں دلت مسلم کانگریس کو ترجیح دے رہے ہیں ۔اصل میں سپا کی خاص حکمت عملی کے چلتے کانگریس کو پیچھے ہٹنا پڑا ورنہ کانگریس کے کئی دعویدار ٹکٹ کی کوشش میں تھے لیکن ہریانہ چناو¿ کے نتائج نے کانگریس کوبیک فٹ پر لا دیا ہے وہیں دونوں سپا اور بھاجپا چھٹ پٹ قدم پر بیٹنگ کررہے ہیں دیکھیں کس کا پلڑا بھاری رہتا ہے ۔ (انل نریندر)

29 اکتوبر 2024

چناو بعد وادی میں لوٹی دہشت گردی!

اتوار کو جموں کشمیر کے گاندر بل ضلع میں ایک زیر تعمیر ٹنل کے پاس شدت پسندیوں کا حملہ ہوا جس میں دو مزدوروں کی موقع پر موت ہو گئی جبکہ ڈاکٹر اور دیگر چار مزدوروں کی اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوئی اور غیر وادی کے لوگوں کی پہچان ڈاکٹر شہنواز ،فہیم ،نظیر،کلیم،محمد حنیف اور ششی ابرول ،انل شکلا اور گرمیت سنگھ کی شکل میں ہوئی ہے ۔شدت پسندوں نے یہ حملہ اس وقت کیا جب گاندر بل میں سونمرگ علاقہ کی گونڈو میں سرنگ پروجیکٹ پر کام کررہے مزدور ا ور دیگر ملازم دیر شیام اپنے کیمپ میں لوٹ آئے تھے ۔دونوں مزدوروں کی موقع پر موت ہو گئی باقی کی اسپتال میں علاج کے دوران ہوئی ۔دیگر زخمیوں کا علاج چل رہا ہے ۔8 اکتوبر کو جموں کشمیر نتائج آگئے تھے اور سرکار بننے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب یہ شدت پسندی حملہ ہوا ۔کشمیر وادی میں مہینوں بعد ایسا ہوا ہے کہ سات دن میں ہی چار آتنکی حملوں میں تین لوگوں کی جان چلی گئی ۔18 اکتوبر کوشوپیاں میں ہو ئے آتنکی حملے میں بہار کے مزدور کی موت اور 20 اکتوبر کو گاندر بل میں 6 غیر کشمیری لوگوں اور ایک مقامی ڈاکٹر کی موت ہو گئی ۔24 اکتوبر کو گلمرگ میں فوج کی گاڑی پر ہوئے حملے میں تین جوان اور دو مقامی پورٹر کی جان گئی ۔اسمبلی چناو¿ کے بعدیہ حملے تیزی سے بڑھے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جموں کشمیر میں پر امن چناو¿ ہونے سے پاک سے اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بوکھلا گئی ہے ۔اب پاک حمایتی یہ آتنکی اپنی موجودگی دکھانا چاہتے ہیں اب وہ حساسیت چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں چنی ہوئی سرکار بنا کر بھلے ہی آپ نے جمہوریت کا پرچم بلند کر دیا ہو لیکن ہم ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں ۔1989سے لگاتار وادی میں شورش پھیلانے کی کوشش کررہا ہے پاکستان لیکن منصوبوں میں وہ کامیاب نہیں ہو پایا ۔جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے حملوں کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی ۔انہوں نے ایکس پر لکھا کہ سونمرگ علاقہ میں گگن جیر میں غیر مقامی مزدوروں پر بزدلانہ حملے کی بے حد تکلیف دہ خبر ہے ۔یہ لوگ علاقہ میں ایک مشط بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹ پر کام کررہے تھے ۔یہ نہتے بے قصور لوگوں پر ہوئے اس حملے کی سخت مذمت کرتا ہوں اور ان کے رشتہ داروں کے تئیں اپنے دکھ کا اظہار کرتا ہوں ۔پچھلے کچھ دنوں سے لگاتار ہوتے حملے پولیس انتظامیہ اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے لئے بڑی چنوتی ہیں ۔پوری ریاست میں آتنکوادی واقعات پر روک لگانے کے لئے خفیہ مشینری ،سیکورٹی اقدامات کے چاک و چوبند اقدام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امن بگاڑنے والے گروہوں کو شکست دی جاسکے ۔حالانکہ علیحدگی پسندوں اور دہشت گردی کو جنتا کی حمایت نہیں ہے جو اور تمام دھمکیوں کے باوجود اسمبلی چناو¿ کے لئے خود آکر ووٹ دیااور جمہوریت کی حمایت کی لیکن مشکل یہ ہے کہ سرحد پار سے آنے والے دراندازوں کا چھوٹا سا گروپ علیحدگی پسندی کو پاک فوج کے اس دعوے کو بڑھاوا دے رہا ہے ۔مرکز اور ریاستی سرکار کو اپنے سیاسی اختلافات کو درکنار کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی بنانی چاہیے اور ان تشددکے واقعات کو روکنے کے لئے پختہ حکمت عملی بنانی چاہیے ۔چناو¿ ختم ہو گئے ہیں جنتا نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اب اپنے وعدے پورے کرنے کی چنوتی ریاستی سرکار کی ہے ۔انتظامیہ اور مرکزی سرکار کی بھی ہے ۔ (انل نریندر)

مہاراشٹر میں لڑائی اصلی اور نقلی میں ہے !

چاہے معاملہ مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ کا ہو ،چاہے یوپی میں اسمبلی ضمنی چناو¿ کا ہو دونوں ہی جگہوں پر اتحادیوں کا امتحان ہے ۔آج مہاراشٹر کی بات کریں تو وہاں اتحادیوں کے درمیان سخت مقابلہ تو ہے ہی ساتھ ساتھ وہاں سب کی نظریں اتحاد سے زیادہ اصلی اور نقلی پر لگی ہوئی ہیں ۔میں بات کررہا ہوں شیو سینا کے دونوں گروپوں کی اور پوار خاندان میں چاچا بھتیجے کی لڑائی کا ۔مہاراشٹر اسمبلی میں دو اتحادیوں مہایوتی اور مہا وکاس اگھاڑی آمنے سامنے ہیں ۔دونوں اتحادوں میں خاص طور پر تین تین پارٹیاں شامل ہیں لیکن اصل میں مہاراشٹر چناو¿ میں اہم مقابلہ دو پارٹیوں کے درمیان ہے ۔ تقسیم کے بعد دونوں پارٹیوں سے ٹوٹ کر بنی چار پارٹیوں کے بیچ میں خود کو ووٹر کے سامنے اصل پارٹی ثابت کرنے کی چنوتی ہے ۔سال 2019 اسمبلی چناو¿ کے بعد مہاراشٹر کی سیاست کافی بدلی ہے ۔کبھی بھاجپا کی سب سے مضبوط اتحادی مانی جانی والی شیو سینا کے کانگریس اور این سی بی کے ساتھ آنے سے ریاست کی سیاست کے تجزیہ بدل گئے ہیں ۔اس کے بعد 2022 میں شیو سینا اور این سی پی میں ٹوٹ نے ریاست کی سیاست میں نئے سیاسی حالات پیدا کر دئیے ہیں ۔شیو سینا اور این سی پی ٹوٹ کر دو پارٹیوں سے چار پارٹیوں میں بدل گئی ۔لوک سبھا چناو¿ میں مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے ) بھاجپا کی قیادت والے مہا یوتی اتحاد پر بھاری پڑی ہے ۔ایم وی اے میں شامل کانگریس شیو سینا اور این سی پی (ایس پی ) 48 میں سے 30 سیٹ جیتنے میں کامیاب رہیں ۔جبکہ مہایوتی میں شامل بھاجپا ،شیو سینا (سندھے گروپ ) این سی پی (اجیت پوار ) کے حصہ میں صرف 17 سیٹیں آئیں ۔اس چناو¿ میں سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا نے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندھے کی قیادت والی شیو سینا کے مقابلے بہتر پرفارمنس دی ۔اسی طرح سینئر لیڈر شردپوار کی قیادت والی این سی پی نے اجیت پوار کی این سی پی سے اچھی پرفارمنس دی ۔ایسے میں مہاراشٹر چناو¿ میں مہا وکاس اگھاڑی اور مہایوتی میں سیدھا مقابلہ ہونے کے باوجود اصل لڑائی شیو سینا اور این سی پی کے الگ الگ گروپوں کے درمیان ہے ۔اسمبلی چناو¿ میں ووٹر اپنے ووٹ کے ذریعے ثابت کریں گے کہ ادھو ٹھاکرے اور یکناتھ شندھے میں اصلی شیو سینا کس کی ہے ۔اسی طرح چاچا شردپوار اور بھتیجے اجیت پوار کی صدارت والی کونسی این سی پی زیادہ بااثر ہے ۔لوک سبھا چناو¿ کے نتیجوں کو اسمبلی چناو¿ کی سیٹ کے مطابق دیکھیں تو ایم وی اے 156 اور مہا یوتی 126 سیٹوں پر بڑھت بنانے میں کامیاب رہی ہے ۔اس لئے شیو سینا اور این سی پی کے دونوں گروپوں کے درمیان آمنے سامنے کی لڑائی ہے ۔ساتھ ہی اپنے اپنے گڑھ کو برقرار رکھنے کی بھی چنوتی ہے ۔شیو سینا کے دونوں حصوں کے بیچ جہاں کونکن کی 39 سیٹ پر اہم مقابلہ ہے ۔اس خطہ کی 26 سیٹ پر ادھو کی شیو سینا اور شندھے کی شیو سینا آمنے سامنے ہیں ۔اسی طرح مغربی مہاراشٹر کی 58 سیٹ پر مقابلہ شردپوار ا جیت پوار کی قیادت والی این سی پی کے درمیان ہے ۔سال 2019 کے اسمبلی چناو¿ میں ا ین سی پی نے اس خطہ میں بہتر پرفارمنس دی تھی ۔اس چناو¿ میں این سی پی نے 54 سیٹیں جیتی تھیں لیکن بعد میں ٹوٹ کے بعد 40 اسمبلی سیٹ اجیت پوار کے ساتھ چلی گئیں ۔ریاست میں حکمراں مہایوتی اتحاد میں شامل ہو گئے ۔کل ملا کر مہاراشٹر میں اتحادیوں کے درمیان لڑائی تو ہے ہی ساتھ ساتھ اصل اور نقل کی لڑائی بھی چل رہی ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...