Translater

13 ستمبر 2025

زین جی کا مظاہرہ ہوا ہائی جیک!

ایسا نہیں ہے کہ نیپال میں جن آندولن پہلی بار ہورہا ہے ۔ایسے جن آندولن پہلے بھی کئی بار ہوئے ہیں ۔جس طرح سے اس بار اس تحریک نے تشدد کی شکل اختیار کی ہے وہ غیر متوقع ہے ۔نیپال میں موجودہ احتجاج مظاہروں میں شامل زیادہ تر نوجوان 28 سال کی عمر سے کم کے ہیں اس لئے اسے زین جی کا آندولن کہا جارہا ہے ۔یہ پہلا موقع ہے جب نوجوان پیڑھی ایک طرح سے سڑک پر اتری لیکن کیا اتنی ناراضگی صرف شوشل میڈیا پر پابندی کو لے کر ہے ۔اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے شاید نہیں ۔شوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف سڑکوں پر اترنے سے پہلے یہ یوتھ لوگ حکمراں سرکار میں پیدا کرپشن اور دھاندلیوں کو لے کر لگاتار پوسٹ کررہے تھے ان کے لئے شوشل میڈیا اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا ایک ہتھیار تھا ۔لڑکے لوگ اہم پریواروں کے لڑکوں کی تصویریں پوسٹ کرکے سوال اٹھا نے لگے کہ ان کی زندگی کا خر چ کیسے اٹھایاجاتا ہے ۔پابندیاں نوجوانوں کے لئے اپنا ہتھیار چھیننے جیسا بھی تھیں ۔بڑھتی بے روزگار ی ایک بڑا ایشو تھا ۔شوشل میڈیا پر لیڈروں کے کرپشن اور ان کے بچوں کے ذریعے عیش وآرام کی زندگی جینے کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کئے گئے ۔پارلیمنٹ احاطہ تک پہنچے لوگوں نے نعرے لگائے کہ ہمارا ٹیکس تمہاری نہیں چلے گی ۔شوشل میڈیا پر پابندی نے آگ میں گھی کا کام کیا ۔جس کے پیچھے لمبے عرصے سے پیدا مایوسی اورناراضگی کا پتہ تھا۔جس طرح سے اس تحریک نے شکل اختیار کی اس سے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ صرف اقتدار تبدیلی کی تحریک نہیں یہ تو پورے نظام یا سسٹم بدلنے کے لئے تحریک کی شکل لے چکی ہے ۔پہلے جتنے بھی آندولن ہوئے ہیں اس میں کبھی بھی اس طرح کی آگ زنی ،توڑ پھوڑ اور بدلے کے جذبے سے مارکاٹ سنسد ،سرکاری عمارتیں جلانا جیسے واقعات پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے ان کے نشانے پر نیتا ہیں ۔چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں ۔سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس مشتعل تحریک کے پیچھے صرف گھریلو ناراضگی ہے یا پھر کچھ غیر ملکی طاقتوں نے بھی اسے ہوا دینے کی کوشش کی ہے ۔وہیں نیپال کے بہانے ساو¿تھ ایشیا میں ایک طاقت بیلنس کا کھیل تو نہیں کھیلا جارہا ہے ۔کچھ طلباءنے بھی دعویٰ کیا کہ ہماری تحریک پر امن تھی لیکن اسے بھاری عناصر نے ہائی جیک کر لیا اور تشدد کا ماحول بنا دیا ۔سودان گورنگ جس سماجی تنظیم نے حامی (ہمارے ادھیکار منچ انسیٹو ) سے جڑے ہیں اس پر اپوزیشن اور میڈیا نے الزام لگایا جسے غیر ملکی سفارتخانہ خاص کر امریکہ اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے پیسہ ملاہے ۔یو ایس آئی ڈی ، این ای ڈی اور کچھ یوروپی انجمنوں نے حامی کو درپردہ طور پر مدد دی ہے ۔منتظمین کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے ادارے جمہوری اصلاحات اور سول سوسائٹی کو مضبوط کرنے کے نام پر مغربی اثر کو پھیلانے کا کام کرتی ہیں ۔حالانکہ پبلک آڈٹ میں امریکی سرکاری ایجنسیوں سے بے نامی فنڈنگ کے ٹھوس ثبوت اب تک سامنے نہیں آئے ہیں ۔کاٹھمانڈو میں امریکی سفارتخانہ نے صفائی دیتے ہوئے کہا نیپال میں دی جانے والی کوئی بھی مدد پوری طرح شفاف اور قانوناً جائز ہے ۔یہ صرف تعلیم ،ہیلتھ اور عورتوں کو امپاور اور انتظامیہ میں صلاحیت اور تعمیر نو جیسے سیکٹر تک محدود ہے ۔روسی میڈیا ادارے آر ٹی اور اسپوتنک نے نیپال کے طلباء- یوتھ آندولن کا موازنہ یوکرین - 2002-2014 او جارجیر ( 2003) جیسے انگ انقلاب مہموں جو کہ ہیں ان آندلنوں کی غیر تسلی بخش جذبات کا استعمال کر مغربی دیشوں خاص کر امریکہ نے سیاسی اقتدار تبدیلی کی زمین تیار کی تھی ۔روس کا الزام ہے نیپال کے موجودہ حالات کا پیٹرن بھی ویسا ہی ہے جہاں کرپشن اور بے روزگاری جیسے اصل اشوز کے بیچ غیر ملکی طاقتیں اپنے مفادات پورا کرنا چاہتی ہیں ۔روس یہ بھی کہہ رہا ہے کہ امریکہ ،نیپال میں نوجوان طاقت کو ایک سافٹ ہتھیار کی طرح استعمال کر سکتا ہے ۔تاکہ بھارت اور چین دونوں پر دباو¿ بنایاجاسکے ۔یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جس طرح نیپال کی حکمراں سرکار چین کے قریب آتی جارہی تھی اس سے بھی امریکہ پریشان تھا ۔کل ملا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نیپال کا یہ نوجوان ، طلباءآندولن ہائی جیک ہو گیا ہے ۔ (انل نریندر)

11 ستمبر 2025

داغدار چنے عوامی نمائندے!

یہ اطلاع نہ صرف چونکاتی ہے بلکہ ہمیں سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے ۔کہ جن وزراءممبران پارلیمنٹ ،ممبران اسمبلی کو ہم اپنی قسمت بنانے کے لئے چنتے ہیں وہ اندر کھانے کتنے داغدار ہیں ان کے خلاف کتنے سنگین الزام عائد ہیں ۔جرائم کے معاملوں میں بھی قتل ، اغوا خواتین کے خلاف جرائم جیسے سنگین معاملے شامل ہیں ۔چناو¿ اختیار ادارہ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم (اے ڈی آر ) نے اپنی رپورٹ میں حیرت انگیز الزمات کی لمبی فہرست جاری کی ہے۔ابھی حال میں تین بل پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے تھے تاکہ سنگین جرائم معاملوں میں اگر کسی وزیراعظم ،وزیراعلیٰ یا وزیر کو تیس دن کی بھی جیل میں رہنا پڑے تو اسے از خود عہدے سے ہٹایا گیا مان لیا جائے ۔حالانکہ اپوزیشن نے اس کی جم کر مخالفت کی ہے اور اندیشہ جتایا گیا ہے کہ اگر یہ قانون بن گئے تو ان کا بیجا استعمال ہوگا ۔جس سے اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنایاجائے گا ۔فی الحال یہ قانون جے پی سی کو سونپا گیا ہے ۔اور اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی آگے کی کاروائی ہوگی ۔لیکن ہم اے ڈی آر کی رپورٹ کی طرف لوٹتے ہیں ۔اس کے مطابق دیش بھر کے 302 وزیر (تقریبا 47 فیصدی ) خود پر کرمنل کیس ہونے کی بات تسلیم کر چکے ہیں ۔ان میں 174 وزیر ایسے ہیں جن پر قتل ،اغوا اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم جیسے سنگین الزام ہیں۔وہیں مرکزی حکومت کے 72 وزراءمیں سے 29 یعنی (40 فیصدی ) نے مجرمانہ کیس ہونے کی بات مانی ہے ۔اے ڈی آر نے 27 ریاستوں تین مرکزی حکمراں ریاستوں اور مرکزی سرکار کے کل 643 وزراءکے حلف ناموں کا تجزیہ کیا ہے ۔یعنی یہ سب کیس نیتاو¿ں نے اپنے حلف ناموں میں بتائے ہیں ۔یہ سب خود اعتراف کیا گیا ہے ۔ا ے ڈی آر نے یہ بھی کہا کہ جس حلف ناموں کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی گئی ہے وہ 2020 سے 2025 کے درمیان چناو¿ میں داخل ہوئے تھے ۔ان سبھی معاملوں کی پوزیشن بدل بھی سکتی ہے ۔جن وزرائے اعلیٰ پر مجرمانہ کیس چل رہے ہیں اس فہرست میں سب سے اوپر تلنگانہ کے کانگریسی وزیراعلیٰ اندت ریڈی ہیں جن پر 89 کیس چل رہے ہیں ۔اگلا نمبر تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ اسٹالن کا آتا ہے ان پر 43 کیس چل رہے ہیں ۔آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ اور مودی سرکار کی بیساکھی بنے چندر بابو نائیڈو پر 19 کیس چل رہے ہیں ۔کرناٹک کے کانگریسی وزیراعلیٰ سدا رمیا پر 13 اور ہیمنت سورین پر 5 ،دیوندر فڑنویس پر 4 ،ہماچل پردیش کے سکھویندر سنگھ پر 4 کیرالہ کے وزیراعلیٰ پی وجین پر 2 اور سکم کے پی ایس تمانگ پر ایک ،بھگونت مان ،موہن مانجھی ،بھجن لال پر ایک ایک کیس چل رہا ہے ۔پارٹی وار کچھ پوزیشن ایسی ہے بھاجپا کے 336 وزراءمیں سے 136 ( 40 فیصد) پر مجرمانہ کیس ہیں ۔وہیں 88 ( 26 فیصدی پر ) سنگین الزام ہیں ۔کانگریس کے 61 وزراءمیں سے 45 ( 74 فیصدی ) پر کیس ہیں ۔18 ( 30 فیصدی ) پر سنگین الزام ہیں۔ڈی ایم کے 31 میں سے 27 وزیر ملزم ہیں ۔14 پر سنگین کیس درج ہیں ۔ٹی ایم سی کے 40 میں سے 13 ( 33 فیصدی ) پر کیس ہیں (20 فیصدی پر سنگین الزام ہیں ۔تیلگو دیسم پارٹی (ٹی ڈی پی کے 23 میں سے 22 ( 96 فیصدی ) منتری ملز م ہیں ان میں سے 13 ( 57 فیصدی پر ) سنگین مقدمہ درج ہیں ۔عام آدمی پارٹی کے 16 میں سے 11 ( 69 فیصدی )وزیر ملزم ہیں ۔پانچ اکتیس فیصدی پر سنگین الزام ہے ۔تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں حقیقت میں دیش میں کوئی ایسی پارٹی نہیں ہے جس میں مجرمانہ نوعیت کے نیتا نہ ہو ں ۔مجرمانہ معاملے کے اعداد شمار یہ بتاتے ہیں کہ مبینہ طور پر صاف ساکھ کا دعویٰ کرنے والوں میں سیاسی پارٹی بھی اپنے نیتاو¿ں پر لگنے والے داغ کو سنجیدگی سے نہیں لیتی ۔وہ اگر سب سے پہلے کچھ دیکھتے ہیں کہ کون آدمی یہ سیٹ نکال سکتا ہے ۔بھلے ہی اس کی ساکھ کچھ بھی ہو ۔بہرحال اے ڈی آر نے وزراءکی اوسط پراپرٹی کے بھی دلچسپ اعداد شمار پیش کئے ہیں ۔کرناٹک میں سب سے زیادہ 8 ارب پتی وزیر ہیں ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دیش میں امیر لیڈروں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی ۔یہی نہیں چناو¿ لڑنا بھی مہنگا ہوتاجارہا ہے ۔چناو¿ لڑنا عام آدمی کے بس سے باہر ہوتا جارہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایماندار کم وسائل والے لوگ اب اسمبلیوں ،لوک سبھا چناو¿ لڑنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں اور یہ حال سب پارٹیوں کا ہے اس لئے میں کہتاہوں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ (انل نریندر)

09 ستمبر 2025

چین سے ہے سب سے بڑی چنوتی!



جب سے وزیراعظم ایس سی او کے لئے چین کی راجدھانی بیجنگ گئے ہیں تب سے پورے دیش میں ایک بار پھر ہندی -چینی بھائی بھائی کے نعرے سنائی دینے لگے ہیں۔حالانکہ ٹرمپ کے دو دن پہلے دیے گئے بیان میں وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف سے پھر دیش میں شش وپنج کی صورتحال بن گئی ہے ۔بھکتوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ٹرمپ کی جے جے کریں یا شی جن پنگ کی ؟ ہمارا خیال ہے کہ چین کبھی بھی بھارت کا بھروسہ مند دوست نہیں ہوسکتا ۔اس درمیان بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا ایک تازہ بیان آیا ہے ۔جنرل انل چوہان نے اتر پردیش کے گورکھپور میں ایک پروگرام میں کہا تھا کہ چین کے ساتھ ان سلجھا سرحدی تنازعہ بھارت کی سب سے بڑی قومی سلامتی چنوتی ہے ۔اور پاکستان کے ذریعے چلائی جارہی پراکسی وار و ہزاروںزخموں سے بھارت کو لہو لہان کرنے کی اس کی پالیسی دوسری سب سے سنگین چنوتی ہے ۔جنرل چوہان نے اس سال مئی میں پہلگام آتنکی حملے کے بعد بھارت کے آپریشن سندور کا بھی ذکر کیا ۔اور کہا ہے کہ فوج نے اس دوران آتنکی کیمپوں کو تباہ کیا تھا ۔اس آپریشن میں فوج کو فیصلہ لینے کی پوری آزادی تھی ۔جنرل چوہان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میںچین کے تیانجنگ شہرمیں ہوئی اایس سی او سمٹ میں بھارت اور چین کے رشتوں میں گرماہٹ کے اشارے ملنے کی بات کہی جارہی ہے ۔اس سمٹ میں پاکستان نے بھی حصہ لیا تھا ۔اسی سال جولائی مہینے میں ہندوستانی فوج کے ڈپٹی چیف راہل سنگھ نے کہا تھا کہ آپریشن سندھور کے دوران چین نے بھارت کی ملیٹری تعیناتی پر نظر رکھنے کے لئے اپنے سیٹلائٹ کا استعمال کیا اور پاکستان کو اس کی ریئل ٹائم جانکاری دی تھی ۔یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ہندوستانی فوج صرف پاکستان میں نہیں لڑ رہی تھی بلکہ پاکستان تو ایک مکھوٹہ تھا پیچھے کھڑا تھا چین ۔ہم پاکستان اور چین دونوں سے لڑرہے تھے ۔چین نے پاکستان کو ہر طرح کے فوجی ساز وسامان ،ہتھیار مہیا کرائے کہا جارہا ہے کہ 80 فیصدی پاکستان کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ چین کے ذریعے دیے گئے ہیں ۔ان میں وہ فائٹر جنگی جہاز بھی ہیں جن کو لے کر پاکستان دعویٰ کررہا ہے کہ اس نے ہندوستانی جنگی جہازوں کو گرایا ہے ۔جنرل چوہان نے کہا کہ دیشوں کے سامنےآنے والی چنوتیاں عارضی نہیں ہوتیں بلکہ الگ الگ شکلوں میں بنی رہتی ہیں ۔میرا خیال ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ بھارت کے ساتھ بڑی چنوتی ہے ۔اور آگے بھی بنی رہے گی ۔دوسری بڑی چنوتی ہے پاکستان کا بھارت کے خلاف پراکسی وار جس کی حکمت عملی ہے ہزار زخم دے کر بھارت کو کمزور کرنا ۔ادھر آرمی کے ڈپٹی چیف نے بھی آپریشن سندھور میں چین اور پاکستان کے بھارت کے خلاف مل کر لڑنے کی بات کہی تھی ۔بھارت پاک فوجی لڑائی کو چین نے ایک لائیو لیو کی طرح استعمال کیا تھا وہ دیکھ رہا تھا کہ جب چین کے ذریعے دیے گئے اس کے ہتھیار کیسے کام کررہے ہیں ۔چین کو چنوتی بتانے والے جنرل چوہان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت کے خلاف ٹرمپ کے 50 فیصدی ٹیرف کی چین نے مخالفت کی ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چین بھارت کے ساتھ متوازن بنائے رکھنا امریکی دباؤ کے خلاف ایک وار کا کام کرسکتا ہے ۔اور نئی دہلی کو پوری طرح واشنگٹن کی حکمت عملی گھیرے میں جانے سے روک سکتا ہے ۔یہ فوری مفادات کا میل ہے ۔کوئی گہری حکمت عملی اتحاد نہیں ہے ۔لیکن دونوں فریقین کے لئے کشیدگی بڑھانے کا موقع ضرو ر ہے ۔وزیراعظم مودی نے سات سال بعد چین کا دورہ کیا ۔اور صدر شی جن پنگ سے پچھلے دس مہینوں میں پہلی باہمی ملاقات کی تھی حالانکہ برف تو پگھلی ہے لیکن ہم ان رشتوں کو ایک دقیانوس لین دین والے نظریہ سے دیکھتے ہیں اس کے باوجود یہ رشتے بے بھروسے سے نجات نہیں ہیں ۔چین پاکستان کے ساتھ اپنے گہرے فوجی اور نیوکلیائی اشتراک بنائے ہوئے ہے ۔برہم پتر پر چین کے بڑے باندھ کی تعمیر اور اکسائی چین سے ہو کر گزرنے والی نئی ریل لائن بھارت کی سلامتی تشویشات کو بڑھاتی ہے ۔شنگھائی اشتراک انجمن جیسے کثیر علاقائی اسٹیجز پر بیجنگ نے جموں وکشمیر میں ہوئے حملے کی مذمت والے بیانوں کو روک لیا ۔لیکن بلوچستان تشدد کو اہمیت بنائے رکھی۔ان قدموں سے صاف ہے کہ چین کا موجودہ کشیدگی کو بڑھاوہ دیا ہے ۔چین بھلے ہی بھارت سے رشتے بہتر بنانے کی بات کہے لیکن اس نے اپنے سدابہار دوست پاکستان کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔یہ اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دونون ملکوں نے 8.5 ارب امریکی ڈالر پر مشتمل کے 21 سمجھوتے و جوائنٹ وینچر پر کچھ دن پہلے ہی دستخط کئے ہیں ۔اس میں چین پاک اقتصادی کوریڈور (سی پی ایس سی) پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کی شروعات شامل ہے ۔پاک وزیراعظم شہباز شریف کے چین دورہ کے آخری دن جمعرات کو بیجنگ میں اس معاہدے پر دستخط کئے گئے ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...