Translater

22 فروری 2020

بھاجپا ممبر اسمبلی کے خلا ف آبروریزی کا مقدمہ درج

اترپردیش کے بھدوئی قصبے سے بھاجپا کے ممبراسمبلی رویند رناتھ ترپاٹھی سمیت سات لوگوں پر بدھ کے روز اجتماعی آبروریزی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔یہ عورت وارانسی کی رہنے والی ہے اور اس نے کچھ دن پہلے پولیس ایس پی دفتر پہنچ کر اپنی شکایت درج کرائی تھی ۔اس معاملے میں عورت نے ممبرا سمبلی سمیت سات لوگوں کو ملزم بنایا ہے ۔وہیں ملزم ممبراسمبلی نے اس پورے معاملے کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر الزام سچ ثابت ہوئے تو وہ پورے خاندان سمیت پھانسی پر لٹکنے کے لے تیار ہیں ۔ایس پی رام بدن سنگھ نے معاملے کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ایک خاتون نے دس فروری کو تحریر دے کر الزام لگایا تھا کہ اس کے ساتھ بی جے پی ممبر اسمبلی رویندر ناتھ ترپاٹھی ان کے ساتھیوں سندیپ ،سچن، چندر بھوشن، دیپک،پرکاش،وغیرہ نے ایک ہوٹل میں ایک مہینے تک باری باری سے ریپ کیا ۔اس کے علاوہ ایک بار جب وہ حاملہ ہوئی تو زبردستی اس کا اسقاط حمل کرایا گیا ۔بھدوئی پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 376بی،313اور504اور506کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور جانچ اپر پولیس ایس پی کو سونپ دی گئی تھی خاتون کے بیان اور ہوٹل سمیت تمام نکتوں پر جانچ کے بعد بی جے پی ممبراسمبلی سمیت ساتوں ملزمان پر مقدمہ درج کیا گیا ۔خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان کرانے کے ساتھ میڈیکل جانچ کے بعد آگے کی کارروائی ہوگی ابھی فی الحال کوئی گرفتاری نہیں ہوگی ۔بتا دیں کہ اس طرح کا سامنا آنے سے بھدوئی ضلع میں سیاست شروع ہو گئی ہے ۔بھدوئی اور گیان پور کے ممبراسمبلی کے درمیان سیاسی نورہ کشتی تیز ہو گئی ہے ۔وارانسی کی لوہٹیا کی باشندہ ایک خاتون نے پولیس ایس پی آر بی سنگھ کو دی گئی ایک درخواست میں الزام لگایا کہ بھدوئی کے بی جے پی ایم ایل اے ترپاٹھی کے بھتیجے سندیپ سے چھ سال پہلے ممبئی سے لوٹتے وقت اس کی ملاقات ٹرین میں ہوئی تھی معاملہ سنگین ہے پولیس تحقیقات کر رہی ہے ۔اس کے بعد ہی آگے کی کوئی کارروائی ہوگی ۔

(انل نریندر)

گاندھی اور گوڈسے ایک ساتھ نہیں چل سکتے

الگ الگ چناﺅ میں علیحدہ پالیسیوں والی پارٹیوں کےلئے لبھاﺅنے نعرے گھڑنے والے چناﺅی منتظم پرشانت کشور کی بہا رکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ٹھن گئی ہے جے ڈی یو سے نکل جانے کے 20دن کے بعد پرشانت کشور نے جے ڈی یو اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو پتا چلےّ مانا پھر فوراََ بعد ہی ان کو بھاجپا کا پچھل پنگو کہہ دیا ۔پی کے نے نتیش کمار پر منگلوار کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اپدیشوں کی بات کرنے والے نتیش کمار ناتھو رام گوڈسے کی آئیڈیالوجی سے اتفاق رکھنے والے لوگوں کے نظریے سے متفق لوگوں کے ساتھ کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟پرشانت نے پٹنہ میں اخبار نویسیوں سے بات چیت میں تسلیم کیا کہ وہ نتیش کو کئی معنوں میں پتا تلیے ہی مانتے ہیں ۔جے ڈی یو میں شامل کرنے او رپھر پارٹی سے نکالے جانے کا نتیش نے جو فیصلہ لیا ہے وہ اس کو دل سے تسلیم کرتے ہیں ۔اور ان کے تئیں احترام آگے بھی بنا رہے گا ۔جے ڈی یو چیف کے ساتھ اپنے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے پی کے نے کہا کہ نتیش سے جب بھی باتیں ہوا کرتی تھیں وہ یہ کہتے تھے کہ مہاتما گاندھی ،جے پرکاش نارائن اور رام منوہر لوہیا کی بتائی گئی باتوں کو نہیں چھوڑ سکتے ۔میرے من میں یہ مشکل رہی ہے کہ آپ جب پورے بہار میں گاندھی جی کے بتائے راستے کو لے کر شلا پٹ لگا رہے ہیں اور یہاں کے بنیوں کو گاندھی کی باتوں سے واقف کرا رہے ہیں ۔اسی وقت گوڈسے کے ساتھ کھڑے ہوئے لوگ بھگوا نظریے کو رضامندی دینے والوں کے ساتھ کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں ؟دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں ہو سکتیں ۔انہوںنے نتیش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ بھاجپا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس میں ہمیں دقت نہیں ہے ۔لیکن اختلاف کا پہلا موضوع ہے کہ گاندھی اور گوڈسے ساتھ نہیں چل سکتے ۔پارٹی کے نیتا کے طور پر آپ کو بتاناپڑے گا کہ ہم کس طرف کھڑے ہیں دوسرے اختلافات کی وجہ نتیش کے این ڈی اے میں جگہ کو لے کر ہے ۔بھاجپا کے ساتھ نتیش کا تعلق پچھلے 15برسوں سے ہے ۔لیکن 2004میں این ڈی اے میں ان کا جو مقام کا اس میں آج زمین آسمان کا فرق ہے ۔نتیش کو بہا رکی شان قرار دیتے ہوئے پی کے نے کہا کہ آج 16ایم پی والی پارٹی کے نیتا کو گجرات کو کوئی نیتا (امت شاہ)یہ بتاتے ہیں کہ آپ این ڈی اے ہی کے بہار میں نیتا بنے رہیں گے تو انہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی ۔بہار کے وزیر اعلیٰ یہاں کے دس کروڑ لوگوں کے نیتا ہیں اور ان کی عزت اور شان بان ہے ۔وہ کوئی مینجر نہیں کہ کسی بھی پارٹی کا نیتا انہیں ڈپویٹ کرئے کہ یہ ہمارے نیتا ہوں گے لیکن حق صرف او صرف بہار کی جنتا کا ہے ۔انہوںنے سوال کیا کہ اتحادی دو سیٹ زیادہ پانے یا وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بنے رہنے کے لئے ہے ۔نتیش کو کسی اتحاد کی ضرورت نہیں اب لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگلے دس سال میں آپ بہار کے لئے کیا کریں گے ؟لالو کے عہد کے مقابلے میں بہار کہاں کھڑا ہے؟پرشانت کشور نے پہلی بار نتیش کی پالیسوں اور ان کی سرکار کے کام کاج پر کھلے طور پر رائے زنی کی تو جے ڈی یو کے بڑے لیڈرو ں نے ان پر زوردار طریقے سے نکتہ چینی کی جے ڈی یو اور بھاجپا کی ریلی میں ایم پی آر پی سنگھ نے کہا کہ زمین پر کسی کی اوقات نہیں کہ جو نتیش کمار کو پچھل پنگو بنا سکے ۔ایسے کسی ایرے غیرے نتھو خیرے سے نتیش کو سرٹیفکٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے ہماری پارٹی گاندھی اور لوہیا جے پی اور امبیڈکر کے اصولوں پر چلتی ہے ۔بہار کسی بھی میدان میں پسماندہ نہیں ہے جنتا جانتی ہے نتیش کمار نے بہار کے لئے کتنا کام کیا ہے ؟حد تو یہ ہے اخلاقیت کے خلا ف ہے یہ کون سا طریقہ ہوا کہ کوئی صرف اپنی آسانی سے سب کچھ کرے جس میں اسے فائدہ نظر آئے اور اس کا ہو لے اور جب کہیں زیادہ گنجائش نہ لگے تو پہلے والے کو بے وجہ کٹگھرے میں کھڑا کر دے ؟بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور سینئر بھاجپا لیڈر سشیل کمار مودی نے کہا جو شخص(پرشانت کشو)2014میں نریندر مودی کی جیت کے لے کام کرنے کا ڈنکا پیٹ چکا ہو اسے بتانا چاہیے تب مودی گوڈسے والے کیوں نہیں لگے؟پچھلے ڈھائی سال سے نتیش کمار بھاجپا کے ساتھ ہیں ۔لیکن چناﺅ سے آٹھ مہینے پہلے وہ گوڈسے وادی کیوں لگنے لگے ۔عجیب پاکھنڈ ہے کہ کوئی کسی کو پتا تلّے بتائے اور پتا کے لئے پچھل پنگو جیسا گھٹیا لفظ چنے ۔یہ ایونٹ مینجمنٹ کرنے والوں کے اپنی لائن نہیں ہوتی لیکن وہ اپنے اسونسر کی آئیڈا لوجی اور زبان کو فوراََ اپنانے میں ماہر ہوتے ہیں پی کے نے صاف کیا کہ وہ کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائیں گے او ربہار کے نام سے کسے کمپین شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اس دورے کے دوران اگلے سو دن تک وہ ایک کروڑ سے زیادہ نوجوانوں سے ملیں گے جو بہار میں نئی قیادت پر یقین رکھتے ہیں ۔

(انل نریندر)

21 فروری 2020

خواتین کسی سے کم نہیں ،حکومت اپنا دقیانوسی نظریہ بدلے

آج کے دور میں عورتوں نے ہر سطح پر ہر میدان میں یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ گھر سے لے کر باہر تک کسی بھی محاظ پر پیچیدہ سے پیچیدہ حالات میں کام کرنے میں اہل ہیں ۔ان کی صلاحتیوں کو کٹگھرے میں کھڑا کرنا اپنے آپ میں بے حد افسوسناک ہے اب وہ بھی فوج میں کسی فوجی ٹکڑی کی کمان سنبھال سکیں گی ۔پیر کے روز یہ دور رس تاریخی فیصلہ سپریم کورٹ نے دیا ہے ۔مرکزی سرکار کو فٹکار لگاتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ عورتوں کو لے کر مرکز کی دقیانوسی ذہنیت کو بدلنا ہوگا ۔فوجی کمان میں تقرریوں میں خواتین کو شامل نہ کرنا غیر قانونی ہے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ و جسٹس اجے رستوگی کی بنچ نے کہا کہ لیڈی افسروں کو فوج کے دس شعبوں میں مستقل کمیشن دیا جائے ۔عدالت نے اسے لے کر مرکز کی پچھلی 25فروری کو مستقل کمیشن پالیسی کو منظوری دی تھی ۔حالانکہ بنچ نے صاف کیا کیونکہ جنگی ذمہ داری کے لئے خاتون افسروں کی تعیناتی ایک پالیسی ساز معاملہ ہے ۔اسے سرکار طے کرے سپریم کورٹ نے کہا کہ 2دسمبر 2011کو ہم نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک نہیں لگائی پھر بھی مرکز نے فیصلے کو لاگو نہیں کیا ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ یا جواز نہیں ہے ۔عورتوں کی جسمانی قوتوںپر مرکز کے نظریات کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ستر سال بعد بھی سرکار نے اپنے نظریے اور ذہنیت میں تبدیلی نہیں کی ۔فوج میں سچی یکسانیت لانی ہوگی ۔اصل میں تیس فیصدی خواتین جنگی علاقوں میں تعینات ہیں اور مستقل کمیشن سے انکار کرنے سے پہلے ہی پریشان ہیں عورتیں خواتین کے برابر ہیں ان کی وہ معاون نہیں سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا عورتیں اپنے مرد افسران کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھا سے کندھا ملا کر کام کرتیں ہیں اور لیڈی افسر اپنے ذمہ داری کے معاملے میں کسی بھی طرح کم نہیں ہیں ۔عدالت نے کہا کہ عورتوں کو جسمانی بنیاد پر پرمانینٹ کمیشن نہ دینا آئینی تقاضوں کے خلاف ہے ۔مستقل ذمہ داری سے لے کر یونٹ اور کمان کی قیادت یعنی کمانڈ پوسٹنگ کو لے کر سرکار کا رخ بے حد منفی تھا ۔عدالت میں جس طرح کی دلیلیں دی گئیں وہ نہ صرف بے حد کھوکھلی تھیں بلکہ برابری کے تقاضوں پر مبنی تھیں ۔ایک جدید سماج میں پختگی کے خلاف بھی جہاں خود سرکار کو سماج میں پہلی عورتوں کے تئیں پسماندہ اور سامنتی خیالات کو ٹوٹ کر جنسی برابری کی سمت میں آگے بڑھنے دینا چاہیے تھا ۔وہاں اُس نے عدالت میں عورتوں کی صلاحیت کو کٹگھرے میں کھڑا کیا ۔یہاں تک کہ عورت کے خلا ف اوسطا مردوں کی ذہنیت کو اپنی دلیل میں پیش کیا 51خواتین کو یہ جنگ جیتنے کا یہ سہرا جاتا ہے جو اپنے حق کے لئے لڑتی آرہی ہیں ۔بتا دیں کہ فیصلہ ان افسروں کی عرضی پر ہی آیا ہے اس وقت فوج میں 1653خاتون افسر ہیں جو افسروں کی تعداد کا 3.9فیصد ہے اور 30فیصد خواتین جنگی میدانوں میں تعینات ہیں ۔

(انل نریندر)

شاہین باغ کو لے کر اگلے سات دن اہم ترین

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شاہین باغ کو لے کر اگلے کچھ دن اہم ترین ہیں ۔شاہین باغ میں شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف دو مہینے سے شاہین باغ میں چل رہے دھرنے سے متعلق ایک عرضی پر سپریم کورٹ نے جمہوریت میں احتجاج کے حق اور مظاہروں کے ذریعہ عام زندگی ٹھپ کر دینے کے فرق کو بھی مناسب طریقے سے رکھا ۔عدالت کا کہنا تھا کہ جمہوریت نظریات رکھنے کی تو اجازت دیتی ہے لیکن ان کی حدود اور لائن بھی ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ شاہین باغ میں مظاہرین نے وہ سڑک بند کر رکھی ہے جو دہلی اور نوئیڈا کو جوڑتی ہے اس سے دہلی اور نوئیڈا کے درمیان سفر کرنے والوں کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑر ہا ہے اس لئے سپریم کورٹ کو کہنا پڑا کہ یہ اشو عام زندگی ٹھپ کرنے سے پریشانی سے جڑا ہے اس نے کہا تھا کہ ایک عام شاہراہ پر طویل مدت کے لئے مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا ۔عدالت کی تشویش یہ ہے کہ شاہین باغ کی طرز پر لوگ اگر سماج اور سرکار تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے پبلک مقامات پر مظاہرہ کرنے لگیں تو بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا ۔عدالت کا کہنا تھا کہ مظاہرے کرنے کے لئے جنتر منتر متعین ہے ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے سڑک خالی کرانے کی کوئی ہدایت دینے کے بجائے مظاہرین سے بات چیت کرنے کے لئے مذاکرات کار مقرر کر دئے ۔وہ شاہین باغ گئے تھے وہاں دھرنا دے رہی عورتوں کا کہنا ہے کہ اگلی تاریخ پر سپریم کورٹ نے راستہ خالی کرنے کی ہدایت دی تو سبھی مظاہرین اسے تسلیم کریں گے ۔عورتوں نے سپریم کورٹ کے ذریعہ مذکرات مقرر کرنے کا خیر مقدم کیا ۔سپریم کورٹ میں سماعت پیر کو صبح ہے ۔جس وجہ سے شاہین باغ کے مسئلے پر نگاہیں لگی ہوئی تھیں ۔عدالت نے کہا کہ دہلی پولیس اور دہلی سرکار کو مظاہرین سے بات کرنی چاہیے ۔اور عدالت کی طرف سے بات چیت کے لئے وکیل سنجے ہیگڑے ،سادھنا رام چندرن اور سابق انفورمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ ثالثی مقرر کرنےکے لئے دھرنے پر بیٹھی عورتو ں نے خیر مقدم کیا ۔دھرنے پر بیٹھی دادی بلقیس نے اسٹیج سے دوسری عورتوں کو اس کی جانکاری دی دادیوں کا کہنا تھا کہ وہ ثالثیوں کے سامنے اپنی بات مفصل رکھیں گی ۔لیکن پولیس کے کسی بھی افسر سے بات نہیں ہوگی ۔اس معاملے میں پولیس کا رول شروع سے ہی مشتبہ رہا ہے ۔اُدھر سپریم کورٹ میں سماعت سے پہلے شاہین باغ میں معمولی بھیڑ تھی لیکن اس کے بعد وہاں کافی لوگ جمع ہو گئے ۔کچھ لوگ سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط بتا رہے تھے ۔یہ دکھ کی بات ہے کہ راستہ کھلوانے کا بھی کام سپریم کورٹ کو کرنا پڑ رہا ہے ۔یہ کام سرکار کا ہے ۔اگر سرکار کے سطح پر مظاہرین سے بات چیت کی پہل ہوتی تو ممکن ہے کہ حل نکل سکتا تھا لیکن اس سے الٹا کیا گیا ۔مگر اب بھی موقع ہے کہ سرکار چاہے تو بات چیت سے حل نکل سکتا ہے ۔لیکن بات چیت تو شروع کی جاے؟

(انل نریندر)

20 فروری 2020

عدم اتفاق جمہوریت کا محفوظ والو ہے !

سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے سنیچر کو ایک اہم ترین بیان دیا اور ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب شہریت ترمیم قانون او راین آر سی کے احتجاج میں دیش بھر کے کئی حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں جسٹس موصوف نے سنیچر کو کہا کہ عدم اتفاق کو جمہوریت کی حفاظت کے والو کی طرح دیکھنا چاہیے اور عدم اتفاق کو سرے سے ملک مخالف اور جمہوریت مخالف بتا دینا آئینی اقدار کے تحفظ کے بنیادی نظریے پر چوٹ کرتا ہے ۔اور اس پر لگام لگانے کے لئے سرکاری مشینری کاا ستعمال ڈر کا احساس پیدا کرتا ہے ۔جو قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔انہوںنے منفی رائے کی سرپرستی کی یہ یاد دلائی کہ جمہوری طور سے ایک منتخب سرکار ہمیں ترقی اور سماجی تال میل کے لئے ایک با قاعدہ موقع فراہم کرتی ہے وہ ان اصولوں و شناختوں پر بھی کبھی ایک طرفہ اختیار کا دعوی نہیں کر سکتی جو ہماری کثیر سماج کو تشریح کرتی ہے ۔جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ رائے زنی والے مذاکرہ کی سرپرستی کرنے کا عزم ہر جمہوریت کا ایک ستون ہے ۔اور کامیاب جمہوریت کا ایک ضروری پہلو بھی ہے ۔جمہوریت کا اصلی امتحان ان گنجائشوں کو پورا کرنے کی صلاحیت ہے جہاں ہر شخص بغیر کسی خوف کے اپنے خیال رکھ سکے آئین میں آزاد خیالی نظریہ رکھنے کا عہد ہے ۔او ر بات چیت کے لئے ایک عہد بند ایک جائز حکومت سیاسی حریف پر پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ اس کے خیالات کا خیر مقدم کرئے گی ۔غور طلب ہے کہ جسٹس چندر چوڑ اس بنچ کے حصہ تھے جس نے یوپی میں سی اے اے خلاف مظاہروں کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے اس کا ہرجانہ وصولنے کے لئے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ مبینہ مظاہرین کو بھیجے گئے نوٹس پر جنوری میں ریاستی سرکار سے جواب مانگا تھا ۔انہوںنے کہا کہ نظریات کو رکھنا دیش کے سمان کو بڑھاتا ہے ۔یہ بھی کہا کہ کوئی شخص یا ادارہ بھارت کے تصور پر ایک طرفہ حق رکھنے کا دعوی نہیں کر سکتا انہوںنے کہا کہ آئین کے معیاماروں نے ہندو بھارت یا مسلم بھارت کے نظریے کو مسترد کر دیا تھا ۔انہوںنے صرف جمہوری مملکت کو منظوری دی تھی ۔

(انل نریندر)

پی ایم مودی پوچھیں گے -کیم چھو ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مہینے کی 24,25تاریخ کو اپنے دو روزہ دورے پر بھارت تشریف لا رہے ہیں ۔ٹرمپ کے خیر مقدم میں کوئی کمی نہ رہ جائے اس لئے پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے اپنے بھارت دورے پر ٹرمپ محض تین گھنٹے کے لئے احمد آباد آئیں گے مگران کے یہ تین گھنٹے گجرات انتظامیہ کو کافی مہنگے پڑ رہے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق تین گھنٹے کے ٹرمپ دورے کے لئے گجرات انتظامیہ کو 100کروڑ روپئے تک کی رقم خرچ کرنی پڑ رہی ہے یعنی ایک منٹ میں قریب 55لاکھ روپئے ۔کرکٹ اسٹیڈیم سے لوٹنے کے لئے ائیر پورٹ تک خاص طور سے بنائی جا رہی ڈیڑھ کلو میٹر لمبی سڑک پر ہی قریب ساٹھ کروڑ روپئے خرچ ہوئے ہیں اس روٹ اور جگہ کو خوبصورت بنانے کے لئے آٹھ کروڑ روپئے کا بجٹ رکھا گیا ہے ۔راستے میں جتنی جھگیاں آرہی ہیں ان کے ساتھ ساتھ اونچی دیوایں بنائی جا رہی ہیں تاکہ ٹرمپ بھارت کی یہ تصویر نہ دیکھ سکیں یہ دورہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی دونوں کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے ۔امریکی کانگریس کے ایوان بالا سنٹ کے ذریعہ مقدمہ چلانے کی کارروائی سے بچنے میں کامیاب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو اس برس صدارتی چناﺅ کا سامنا کرنا ہے امریکہ کی اب تک کی جمہوری تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ مقدمہ کے کارروائی سے بچنے کے بعد کوئی بھی صدر دوبارہ اس عہدے کے لئے چناﺅ لڑنے جا رہا ہے ۔ظاہر ہے کہ اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے ٹرمپ کے خلاف کرپشن کے جو ثبوت اکھٹے کئے ہیں وہ سبھی چناﺅ مہم کے دوران اُٹھاے جائیں گے جن کا سامنا ٹرمپ کو کرنا پڑئے گا امریکہ میں ہندوستانی نژاد امریکیوں کی تعداد کافی ہے ۔اس دورے سے وہ اپنی راغب کرنا چاہیں گے ۔خیال رہے کہ نریند مودی جب حال ہی میں امریکہ گئے تھے تو اپنی ایک عظیم الشان ریلی میں انہوںنے بھی ٹرمپ کے لے ہندوستانیوں سے ووٹ کی اپیل کی تھی وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے حالیہ وقت زیادہ بہتر نہیں رہا ۔سی اے اے اور این آر سی کے خلاف بنا ماحول انہیں ضرور ستا رہا ہوگا ۔رہی سہی کسر دہلی اسمبلی چناﺅ نتائج نے پوری کر دی جہاں ساری طاقت لگانے کے باوجود بھاجپا کیجرویوال کی عام آدمی پارٹی سے ہار گئی بھاجپا میں چناﺅ وزیر اعظم مودی کے چہرے پر لڑا گیا تھا ۔اس بات کا امکان کم ہی نظر آرہا ہے کہ ٹرمپ کے دورہ بھارت سے سی اے اے تحریک مدھم پڑ جائے گی ۔اس بات سے بھی انکا ر نہیں کیا جا سکتا کہ ٹرمپ کے دورے کے دوران تمام دنیا کی توجہ ان کے بھارت دورے پر لگی ہوگی اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تحریک اور تیز ہو جائے اس لئے ٹرمپ اور مودی دونوں اس دورے کو ایک موقعہ میں بدلنے کی بھر پور کوشش کریں گے وزیر اعظم مودی پچھلے برس امریکہ کے شہر ہوسٹن میں ہوئے ہاﺅڈی مودی کے کجرات ایڈیشن کیم چھو مسٹر پرسیڈینٹ پیش کرنے کی کوشش میں ہیں ۔پچھلے چھ مہینے بھارت میں سفارتی سطح پر اتھل پتھل ہو رہی ہے ۔پہلے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370کو بے اثر کا کرنے کا معاملہ ہو یا بعد میں شہریت ترمیم قانون ،پاکستان سمیت کچھ دیشوں نے اس کو بین الا اقوامی رنگ دینے کی کوشش کی زیادہ تر دیشوں نے جہاں دونوں ہی مسئلوں کو بھارت کا اندرونی معاملہ بتایا وہیں ٹرمپ کا رخ الجھن بھرا رہا ۔ٹرمپ کئی بار ثالثی کی تجویز رکھ چکے ہیں ایسے میں بھارت میں ٹرمپ کے دورے سے اس معاملے کا مستقل حل نکالنا چاہے گا ساتھ ہی ٹرمپ اگر پاکستان نہیں جاتے ہیں تو یہ بھی بڑا پیغام ہوگا ٹرمپ کے دورے کے درمیان دونوں ملکوں کے ٹریڈ معاہدے پر مہر لگنے کا امکان جتایا گیا تھا لیکن تازہ اطلاع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا ہے کہ ان کے دورے میں کوئی ٹریڈ سمجھوتہ نہیں ہوگا۔اس سے بھارت کے معاشیاتی حلقوں میں مایوسی ضرور چھا گئی ہے ۔چونکہ مندی کے دور سے گزر رہی ہندوستانی معیشت کو تجارتی سمجھوتے سے سنجیونی مل سکتی تھی ۔دراصل بھارت اس ڈیل میں امریکہ کا کچھ خاص رعایتوں کی مانگ کر رہا ہے ۔بھارت نے میک ان انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔اس کے علاوہ بھارت امریکہ سے دوبارہ سے خصوصی درجہ بحال کرنے کی بھی مانگ کر رہا ہے کیونکہ دورہ بھارت پر پاکستان کی نگاہیں بھی لگی ہیں کشمیر کو لے کر وہ پہلے سے ہی پریشان ہے ۔ٹرمپ کشمیر میں ثالثی اور مدد کے شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں جو بھارت کا اکثر ناگوار گزرے ہیں ایسے میںیہ دیکھنے کی بات ہے کہ ٹرمپ کے اس دورے سے بھارت کو کتنا اور کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے ؟

(انل نریندر)

18 فروری 2020

رائے دہندگان نے نفرت کی سیاست کو مسترد کیا

غیر ملکی میڈیا میں عام آدمی پارٹی کی جیت اور بھاجپا کی ہار کی خبریں چھائی رہیں اور انہوںنے مانا کہ رائے دہندگان نے نفرت کی سیاست کو مسترد کیا ہے ۔وہیں وزیر اعظم نریندر مودی کو اشارہ کیا ہے کہ انہیں پارٹی پر اپنا اثر بڑھانے اور ورکروں کو خود قابو کرنے کی کوشش کرنی چاہیے دوسرے الفاظ میں وہ پارٹی اور ورکروں کو امت شاہ کے بھروسے اب نہیں چھوڑ سکتے ۔دی نیویارک ٹائمس نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ نریندر مودی کی راشٹروادی پارٹی کو ایک علاقائی سیاسی پارٹی نے ذبردست شکست دے دی ہے اسے مودی کی پالیسیوں پر فیصلے کی منفی کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے ان پارلیسیوں میں ملک کے اندر مسلم مخالف سی اے اے بھی شامل ہے ۔دراصل مودی کے کئی پالیسیوں کو لے کر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اپنی ناراضگی جتا چکے ہیں ۔دہلی کی عآپ سرکار کی تعلیم اور صحت اور بجلی پانی کی پالیسیوں کو لوگوں میں زبردست حمایت دی ہے بھاپا نیتاﺅں کا قومی اشوز پر دہلی چناﺅ لڑنے کی حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے اور عوام نے دکھایا ہے ک ریاست کے چناﺅ میں اسے مقامی اشوز میں دلچسپی ہے ۔ناکہ قومی مسئلوں پر یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا چناﺅ میں مودی نے دہلی کی ساتوں سیٹیں جیتی تھیں لیکن پارٹی اب اسمبلی چناﺅ ہار گئی ۔پاکستان کے دو اخباروں نے دہلی اسمبلی چناﺅ پر رائے زنی کی ہے ۔انگریزی اخبار ایکسپریس ٹری بیون نے لکھا ہے کہ شہری ترمیم قانون مودی کو لے ڈوبا یہ عنوان لگایا گیا ہے اخبار لکھتا ہے کہ دہلی اسمبلی چناﺅ میں عام آدمی پارٹی نے مودی کی بھاجپا کو تیسری مرتبہ شرمناک شکست دی ہے ۔انگریزی اخبار ڈان نے لکھا کہ سی اے اے کو پارلیمنٹ سے پاس کرانے کے بعد مودی کے لے دہلی چناﺅ پہلی چنوتی تھی اور اس کو بھنانے کے لئے پارٹی نے جارحانہ چناﺅ پرچار بھی کیا لیکن لوگوںنے اس پر توجہ نہ دی ۔ہار بھاجپا کے لئے پچھلے دو برسوں میں کئی ریاستوں کے چناﺅ سے مل رہی ہے ۔شکست کی تازہ کڑی ہے دہلی چناﺅمیں ہار ۔وہیں خلیج ٹائمس نے لکھا کہ حکمراں بھاجپا نے دہلی چناﺅ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور اس کی جھولی میں صرف آٹھ سیٹیں آئی ہیں ۔دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے چناﺅ کی کمان سنبھالی اور انہوںنے دہلی میں ہندو وٹروں کو لبھانے کی کوشش کی مگر تمام کوششوں کے باوجود دہلی کے ووٹروںنے مودی سرکاری کی پالیسی کو مسترد کر دیا اور دھول چٹا دی ایک دوسرے غیر ملکی اخبار نے لکھا ہے کہ دہلی کے چناﺅ بھارت کے لئے سیاسی طور سے اہم ہیں ۔ایک طرف تو اس نے دکھایا کہ لوگوںنے نفرت کی سیاست کو قبول نہیں کیا وہیں ووٹر سیاسی پارٹیوں کی وکاس کے نعروں کو کوئی سنجیدگی سے لیتے ہیں اروند کجریوال کی بھاری جیت اس بات کا اشارہ ہے کہ دہلی کی جنتا نے نفرت کو مسترد کیا اور وکاس کو چنا ہے ۔

(انل نریندر)

پلوامہ حملے کی برسی پر چھڑی سیاسی جنگ

پلوامہ حملے پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے بیان پر سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے ۔پلوامہ حملے کی پہلی برسی پر جمعہ کو نریندر مودی سرکار پر کانگریس نے جم کر نکتہ چینی کی اور سوال کیا کہ اس واقعہ سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا اس کی جانچ رپورٹ سامنے کیوں نہیں لائی گئی راہل گاندھی نے شہید جوانوں کے جسد خاکی والے تابوت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ آج جب ہم پلوامہ حملے میں شہید ہوئے چالیس جوانوں کو یاد کر رہے ہیں تو ہمیں یہ پوچھنا ہے کہ اس حملے کی جانچ میں کیا نکلا؟حملے سے وابسطہ سیکورٹی میں خامی کے لئے بھاجپا سرکار میں اب تک کس کو جواب دینا ہے ؟پلوامہ حملے کی برسی پر کمسٹ پارٹی نے واقعہ کی جانچ رپورٹ کے بارے میں یہ سوال کیا اور یہ بتانے کو کہا کہ اس کے لئے کسے جواب دہ ٹھہرایا گیا ہے؟کمیونسٹ نیتا سیتا رام یچوری نے کہا کہ ساتھ ہی پارٹی نے اس حملے میں مارے گئے سی آر پی ایف کے جوانوں کے نام پر بھاجپا پر ووٹ مانگنے کا الزام لگایا ۔انہوںنے پوچھا کہ آتنکی حملے کے سال بھر بعد جانچ رپورٹ کہاں ہے ؟اتنی ساری اموات کے لئے اور خفیہ مشینری کی بڑی ناکامی کے لئے کسے جواب دہ و ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے؟انہوںنے سی آر پی ایف کے شہید جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے نام پر ووٹ مانگنے کا بھی الزام لگایا ۔یچوری نے اپنے دوسرے ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا نے اس کو سیاسی رنگ دیا ہے ۔کانگریس نے سوال کیا کہ پلوامہ حملے کی جانچ رپورٹ ابھی تک سامنے کیوں نہیں لائی گئی ؟اس حملے سے کئی ایسے سوال وابسطہ ہیں جن کے جواب ملنا باقی ہیں مثلا اس کے لئے کون ذمہ دار ہے ؟350کلو آر ڈی ایکس کون لے کر آیا حملے کے بارے میں خفیہ معلومات کیوں نظر انداز کیا گیا ۔کیا گرفتار ڈی ایس پی دیوندر سنگھ کا اس حملے میں کوئی رول تھا ؟بھاجپا نے راہل گاندھی کے بیان پر تلخ رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ ان پر آتنکی تنظیموں لشکر طیبہ ،جیش محمد سے ہمدردی رکھنے کا الزام لگایا اور یہ بیان ان شہیدوں کی بے عزتی ہے جنہوںنے دیش کے لئے اپنی جان نچھاور کر دی ۔بھاجپا کے ترجمان سنبت پاترا نے کہا کہ شری متی اندرا گاندھی راجیوگاندھی کے قتل کا کسے فائدہ ملا؟اس سیاسی تنازعہ میں اصل سوال دب رہے ہیں ۔اتنا بڑا حملہ ہوا کہ چالیس جوان شہید ہوئے اور آج تک یہ نہیں پتہ چلا کہ آخر اتنا بڑا حملہ کیسے ہوا کون کون اس کے لئے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں؟

(انل نریندر)

16 فروری 2020

19سال بعد پھر نکلا میچ فکسنگ کا بھوت

بھارت اور ساﺅتھ افریقہ کرکٹ میچ فکسنگ کانڈ کے اہم ملزم سنجیو چاﺅلہ کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ پولیس کا 20سال بعد لندن سے دہلی لے کر آنا اس نظریے سے بھی اہم ہے کہ اس میچ فکسنگ کے کئی راز کھلیں گے ۔وزارت خارجہ نے گذشتہ سال مارچ میں برٹش حکومت کو سنجیو چاﺅلہ کے بارے میں ایک ڈوزیئر دے کر واپسی کا عمل شروع کیا تھا ۔50سالہ سنجیو چاﺅلہ برطانوی شہری ہے ۔دہلی پولیس کی ٹیم نے اسے عدالت میں پیش کیا عدالت نے اسے پوچھ تاچھ کے لئے بارہ دنوں کی پولیس حراست میں بھیج دیا ۔میچ فکسنگ معاملہ میں سنجیو چاﺅلہ کے پاس کئی سابق کرکٹروں کے راز ہیں ۔ساﺅتھ افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونیے سے جڑے میچ فکسنگ معاملے میں ماسٹر مائنڈ رہے چاﺅلہ کے کئی ہندوستانی اور بین الاقوامی کرکٹروں کا آنا جانا تھا ۔میچ فکسنگ میں اس وقت کی افریقی ٹیم کے کپتان ہنسی کرونیے سمیت چھ لوگ شامل تھے ۔پولیس نے سنجیو سے پوچھ تاچھ کے لئے سوالات تیار کئے ہیں ،جس کے ذریعہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ کرونیے کے ساتھ ساتھ اس میں کن دیگر کھلاڑیوں سے تعلقات بنایے تھے ؟اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ میچ فکسنگ میں اُس نے کسی بھارتیہ کھلاڑی سے تو رابطہ نہیں کیا تھا ۔پولیس افسران کو یقین ہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران سنجیو چاﺅلہ کچھ بڑے کھلاڑیوں کے ناموں کا کھلاسہ کر سکتاہے ۔معاملہ درج ہونے کے دو دہائی بعد اہم ملزم سنجیو چاﺅلہ پولیس کی گرفت میں آیا ہے حالانکہ پہلے بھی اس معاملے میں کچھ لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جا چکی ہے لیکن اہم ملزم ہونے کی وجہ سے سنجیو چاﺅلہ سے کئی جانکاریاں ہاتھ لگنے کی امید ہے کیونکہ سنجیو ہی کھلاڑیوں سے رابطے کا اہم ذریعہ تھا ۔اس کے ذریعے ہی میچ فکسنگ کی گئی تھی پولیس کے ڈپٹی کمشنر رام گوپال نائک نے بتایا کہ جب سے معاملہ درج کیا گیا تب ہی سے وہ لندن میں رہ رہا تھا ۔سنجیو چاﺅلہ کو بھارت لانے کے لئے کرائم برانچ کی ٹیم لگی ہوئی تھی ۔جس کے لئے وزارت خارجہ اور بھارتیہ ہائی کمیشن لندن ،وزارت داخلہ،برٹش امبسی اور سنٹرل اتھارٹیوں کی مدد سے لگاتار رابطہ کیا گیا اور قانون کارروائی کی جاتی رہی ۔میچ فکسنگ معاملے کی جانچ کرتے ہوئے دہلی پولیس کی کرائم برانچ تین ملزمان کرشن کمار ،سنیل دارہ،اور راجیش کاٹرا کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے ۔دو ملزمان سنجیو چاﺅلہ اورمن موہن پولیس کی گرفت سے بچ رہے تھے ۔پولیس کے مطابق سنجیو چاﺅلہ لندن میں چھپا ہوا تھا جبکہ من موہن کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ وہ امریکہ میں ہے ۔ہنسی کرونیے کی2002میں ایک ہوائی حادثے میں موت ہو گئی ہے ۔

(انل نریندر)

حافظ سعید کی سزا ،دباﺅ میں اُٹھایا گیا فیصلہ

لاہو ر کی دہشتگردی مخالف کورٹ کے ذریعے جماعت الدعوہ کے سرغنہ حافظ سعید اور اس کے قریبی کو ساڑھے پانچ سال کی دو سزاﺅں سے اتنا تو ثابت ہوہی گیا ہے کہ بین الاقوامی دباﺅ کا اثر پاکستان کی عمران خان سرکار پر ہے ۔نہیں تو اس کا مقدمہ اس سے پہلے کبھی بھی ٹھیک طریقے سے نہیں چلایا گیا ۔پاکستان کی دہشتگردی مخالف عدالت (اے ٹی ایم)نے سعید اور اس کے قریبی اقبال کو دہشتگردی میں مالی مدد کے دو معاملوں میں ساڑھے پانچ سال کی قید کی سزا سنائی ۔دونوں سز ا ایک ساتھ چلیں گی ۔پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے اس معاملہ میں سختی دکھائی ہے ،لیکن اس کے پس منظر پر اگر نگاہ ڈالیں تو فی الحال یہ صرف رسم ہی پورا کرنا دکھائی دیتا ہے ۔اب تک جماعت الدعوہ کے چیف حافظ سعید کی کار گزاریاں جگ ظاہر ہونے کے باوجود پاکستان نے اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کو لے کر جس طرح کا ٹال مٹول والا رویہ دکھایا تھا اس سے تو نہیں لگتا تھا کہ اسے بچانے کی کوشش اعلیٰ سطح سے کی جا رہی تھی ۔لیکن یہ تبھی تب ممکن تھا جب تک کہ پاکستان کے اس رخ کا اثر اُس کے خلاف بننے والے عالمی ماحول اور اُس سے ہونے والے بڑے نقصان کی شکل میں اس کے سامنے نہیں آرہا تھا ۔ظاہر ہے کہ جب اس کی شروعات ہو گئی تب جا کر پاکستان کو شاید اس معاملے کی اہمیت کا اندازہ ہوا ،چونکہ عدالت نے سعید کی دہشتگردی کے مالی مدد معاملے میں اس کے خلاف چل رہے معاملوں کو ایک ساتھ جوڑنے کی اپیل بھی قبول کر لی اس لئے آنے والے وقت میں اُس کو اور سزا بھی مل سکتی ہے ۔اس کے خلاف دہشتگردی کو مالی مدد کو لے کر کل 23مقدمے درج ہیں ۔دو میں سزا کے بعد اس کے خلاف اب بھی 21معاملہ قائم ہیں ۔ہمارے لئے یہ زیادہ راحت کی بات اس لئے نہیں ہے کہ سنسد حملہ سے لے کر 2006کے ممبئی سبربن ریلوں پر اور پھر 26نومبر2008کو سب سے بھیانک ممبئی حملے کو لے کر پاکستان کی یہی اے ٹی ایس ٹال مٹول کا رویہ اپناتی رہی ہے ۔اسے اقوام متحدہ کے ذریعہ دہشتگرد قرار دیا جا چکا ہے ۔امریکہ نے اس پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہے ،تو اس کے دہشتگرد ہونے میں دنیا کو کوئی شک نہیں تھا لیکن پاکستان میں اسے پوری عزت اور سرکشا مل رہی تھی ۔لگتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ اسے بلیک لسٹ کئے جانے کے اندیشے میں پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ کچھ کارروائی کر کے دکھائے ۔لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کو جیل بھیجے کا فیصلہ کتنا اثر دار ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا کیونکہ یہ فیصلہ پاکستان کی زمین پر سرگرم آتنکوادی نیٹ ورک کے خلاف اسلام آباد کی کارروائی کو عالمی نگرانی ادارے کے ذریعے جانچ کئے جانے سے محض کچھ دن پہلے آیا ہے ۔یہ فیصلہ پیرس میں ہونے والی بیٹھک سے محض چار دن پہلے آیا ہے ۔

(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...