Translater

21 مارچ 2015

ڈی ۔ کے ۔ روی کی پر اسرار موت پر اٹھے کئی سوال

ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے منگل کے روز اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے سرکار پر ایک ایماندار افسر کو بچا پانے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔ پولیس بھلے ہی 2009 بیج کے افسر ڈی ۔ کے ۔ روی کی موت کو پہلی نظر میں خودکشی بتا رہی ہے لیکن سوال اٹھنا لازمی ہے کہ جس افسر کے پیر اونچی پہنچ والے بدعنوانوں کے سامنے نہیں کانپے، وہ دنیا چھوڑنے کیلئے اتنا بزدلانہ راستہ کیوں چنیں گے؟ڈی۔ کے۔ روی کے قریبی دوستوں نے کہا ہے کہ نیتاؤں کے قریبی نامی گرامی بلڈروں اور زمین مافیاؤں پر شکنجہ کسنے والے روی کو انڈر ورلڈ سے بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ ایک کسان پریوار سے آنے والے روی نے سخت محنت کے بلبوتے پر آئی اے ایس کا امتحان پاس کیا تھا۔ سال 2009 کے بیج کے کرناٹک کیڈر کے افسر روی کو کولار ضلع میں ریت اورزمین مافیاؤں کے خلاف مہم چلانے سے مقبولیت ملی تھی۔ اکتوبر میں کولار سے روی کے تبادلے کی مقامی عوام نے بھاری مخالفت کی تھی۔ بنگلورو میں انہوں نے کئی بڑے بلڈروں ریئل اسٹیٹ گروپوں اور ریٹیل کاروباریوں پر ٹیکس چوری کے معاملے میں شکنجہ کسا، ساتھ ہی ہزاروں کروڑ روپے کی قبضائی زمین بھی آزاد کرائی۔ حال ہی میں وہ بنگلورو میں ایڈیشنل کمشنر (سیلس ٹیکس) کے بطور عہدہ پر فائض تھے۔کچھ سماجی ورکروں کا دعوی ہے کہ روی ٹیکس چوری کے بڑے معاملوں کا انکشاف کرنے کے لئے کچھ بڑے بلڈروں پر چھاپہ ماری کا پلان بنا رہے تھے۔ خبروں کے مطابق وہ ایسی کارروائیوں کے ذریعے 400 کروڑ روپے سے زیادہ کی وصولی کر چکے تھے۔ظاہر ہے ایسے میں روی بہت سے طاقتور لوگوں کی آنکھوں کاکانٹا رہے ہوں گے۔ روی کے والد کریپا، ماں گورمّا، بھائی رمیش نے بدھ کے روز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا اور دھمکی دی کہ اگر ( سی بی آئی جانچ) کی ان کی مانگ نہیں مانی گئی تو وہ خودکشی کرلیں گے۔ پہلے سے پریشان انتظامیہ پر اس دھمکی سے دباؤ اور بڑھ گیا ہے۔ ادھر اسمبلی چناؤ میں اپوزیشن نے بھی سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے دوسرے دن بھی حکومت پر دباؤ بنائے رکھا۔حالانکہ حکومت نے اسے ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ واقعے کی سی آئی ڈی جانچ ہوگی۔ وزیر اعلی سدا رمّیا نے اسمبلی کے باہر کہا یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جسے سی بی آئی کو سونپا جائے۔ ڈی ۔کے۔ روی35 سال کے تھے ضروری ہے کہ ان کی موت کی وجہ کا صحیح خلاصہ ہو، اگر جانچ میں یہ ثابت ہو بھی جائے کہ انہوں نے واقعی خودکشی کی ہے، تب بھی یہ سچائی سامنے آنی چاہئے کہ انہیں کن حالات میں یہ قدم اٹھانا پڑا؟ بہتر ہوگا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کیلئے ریاستی حکومت معاملے کو جلد سے جلد سی بی آئی کو سونپ دے تاکہ روی اگر کسی سازش کا شکار ہوئے ہیں تو اسے بے نقاب کیا جاسکے۔ ڈی۔کے۔ روی جیسے نڈر اور ایماندار افسر کا یوں اچانک چلے جانے نہ صرف ان کے پریوار اور سرکار ، بلکہ دیش کے لئے نقصان ہے۔ ہم ایسے بہادر افسر کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

سونیا گاندھی کی سرگرمی سے کانگریس کو ملی سنجیونی!

اراضی تحویل بل کے معاملے میں مودی سرکار کے خلاف منگل کے روز ہوئے 14 پارٹیوں کے مورچے نے جہاں مرکزی حکومت کے لئے مسئلہ کھڑا کردیا ہے وہیں اس اتحاد نے سیاسی طور سے سوئی نظر آرہی کانگریس میں اچانک نئی جان ڈال دی ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی سرگرمی سے بھی پوری پارٹی اچانک رو میں دکھائی پڑنے لگی ہے۔ کانگریس صدر اچانک سرگرم ہوگئیں ہیں۔ منگل کے روز لوک سبھا میں آندھرا پردیش کی تشکیل بل پر کمان سنبھالی۔اس کے بعد وہ تقریباً پوری اپوزیشن کی لیڈر کے طور پر مارچ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس سے راشٹرپتی بھون تک گئیں۔ اس پوری قواعد میں پارٹی کے تمام سینئر لیڈر متحد نظر آئے، وہ خود نیتاؤں کو اپنے ساتھ آگے چلنے کیلئے بلا رہی تھیں۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کئی اشوز نے پارٹی میں جان پھونکنے کا موقعہ دے دیا ہے۔ حال تک غیر سرگرم اور مایوس دکھائی پڑنے والی کانگریس پارٹی میں ایک نیا جوش پیدا ہوا ہے۔ یقینی طور پر اس کا سہرہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو جاتا ہے۔ انہوں نے جتا دیا کہ طویل غیر صحتمندی کے باوجود وہ پست نہیں پڑی ہیں اور ضرورت پڑنے پر آج بھی سڑک پر اتر سکتی ہیں۔ اس سے بے سمت کانگریس میں بھی ایک نئی چیتنا لوٹی ہے۔ سونیا گاندھی کی سرگرمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ پارٹی کے اندر سپریم لیڈر ہیں اور لیڈر شپ کو لیکر پارٹی میں کوئی شش و پنج نہیں ہونا چاہئے۔ سب سے اہم یہ بھی ہے کہ سونیا کے سڑک پر اترنے سے کانگریسی ورکر بھی سرگرم ہوگئے ہیں دوسری طرف اراضی تحویل بل پر سرکار کو گھیرنے میں کانگریس کو ملی کامیابی راہل کے راستے میں روڑا بن سکتی ہے۔ ایک ہفتے میں دو بار سڑک پر اتر کر کانگریس کو سنگھرش میں لانے والی کانگریس صدر سونیا گاندھی کی سرگرمی دیکھ پارٹی میں تبدیلی کی مہم کو بھوترا(کند) کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔منگلوار کو پوری اپوزیشن کو پارٹی کے پیچھے کھڑا کرچکی سونیا کی رہنمائی کو لیکر پھر سینئر کانگریسی میدان میں ہیں جبکہ بجٹ سیشن سے پہلے چھٹی لیکر گئے پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کو لیکر ٹیم راہل پش و پیش میں ہے۔ ان سبھی پارٹیوں کیلئے کسان کا اشو بیحد اہم ہے اور بی جے پی سے اپنے اپنے قلعہ بچانے میں اس کے خلاف متحد ہونا ان کی مجبوری بھی ہے۔ بہار میں لالو،نتیش اور کانگریس مل کر بی جے پی کو چنوتی دینے کا پلان بنا رہے ہیں۔بی ایس پی ، اے آئی ڈی ایم کے اور بی جے ڈی جیسی اہم علاقائی پارٹیاں ابھی اس وسیع گول بندی سے دور ہیں۔ تحویل اراضی پر اپوزیشن کے تیوروں کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے اسے راجیہ سبھا میں لانے اور پھر سے آر ڈیننس لانے ، پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن سمیت سارے متبادل کھلے رکھے ہیں۔ اس پر جاری آرڈیننس کی میعاد 5 اپریل کو ختم ہورہی ہے۔ راجیہ سبھا میں اقلیتی اور تحویل اراضی بل کے خلاف زیادہ تر اپوزیشن کا اتحاد سرکار کے لئے بڑی مصیبت بن گیا ہے اور اسے اب متبادل پر غور کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

20 مارچ 2015

نقلی نوٹ، ڈرگس اور سینکڑوں فرضی بینک کھاتے آئی ایس آئی چلا رہی ہے

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نہ صرف آتنک وادی بلکہ بھارت میں نقلی بھارتیہ کرنسی اور نشیلی اشیاء کی سمگلنگ میں بھی لگی ہے۔ 2008 سے پاک کے قبضے والے کشمیر سے لگے جموں و کشمیر کے حصے سے کاروبار کے لئے کھولے گئے راستے سے نقلی بھارتیہ کرنسی اور ڈرگس دیگر سامان کی آڑ میں بھیجے جانے کی رپورٹ آئی ہیں۔ سرینگر سے ایجنسیوں کے مطابق پی او کے کے ایک ڈرائیور سمیت دو لوگوں کو سرینگر۔ مظفر آباد روڈ پر کنٹرول لائن کے پار سے مبینہ طور سے نشیلی اشیاء سمگل کرنے کو لیکر گرفتار کیا گیا ہے۔ بارہمولہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سہیل میر نے کہا کہ مظفر آباد کے باشندے ڈرائیور عنایت حسین کو نشیلی اشیاء برآمد ہونے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی کاروباری احمد ملا یہ کھیپ لینے والا تھا۔پونچھ کے چکاداباغ اور پاک کے قبضے والے کشمیر کے راولکوٹ کے درمیان جاری ٹریڈ سینٹر کے راستے عرصہ قبل کرانے کے سامان سے لدے ایک ٹرک نے بڑی مقدار میں نقلی بھارتیہ کرنسی ضبط کی گئی تھی۔ اس کے بعد اڑی کے سنلاماباد کنٹرول لائن پر بنے ٹریڈ پوائنٹ پر گزشتہ سال17 جنوری کو114 کلو گرام ہیروئن پکڑی گئی تھی۔اب تازہ معاملہ گزشتہ جمعرات کا ہے جب پاک کے قبضے والے کشمیر مظفر آباد کے راستے سے ایک ٹرک سے ایک بار پھر نشیلی اشیاء کی کھیپ پکڑی گئی۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھارت میں نقلی بھارتیہ کرنسی پھیلانے کیلئے بنگلہ دیش بارڈر کا بھی استعمال کرتی ہے۔ بنگلہ دیش کے راستے پاکستان بھارت میں نقلی نوٹ بھیج رہا ہے۔دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے نقلی نوٹوں کا دھندہ کرنے والے ایک گروہ کو بے نقاب کیا ہے۔پولیس نے اس سلسلے میں ایک نابالغ سمیت چار لوگوں کو دبوچا ہے۔ ملزمین کی پہچان بیتیا بہار کے باشندے شاہنواز انصاری(20) اور دو سگے بھائی شیخ نور اللہ (21) و شیخ عطاء اللہ (19) کی شکل میں ہوئی ہے۔ پولیس نے ان کے پاس سے 6.25 لاکھ روپے برآمد کئے ہیں۔ آئی ایس آئی کے بھارت میں کئی سلیپر سیل ہیں۔یہ وہ سلیپر سیل ہیں جو اپنے آقاؤں کے ایک اشارے پر کہیں بھی موت کا منظر پیدا کردیتے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے سینکڑوں ایسے بینک کھاتوں کو ڈھونڈ نکالا ہے جس کی مدد سے ان آتنک کے مہروں کو روپیہ پہنچایا جاتا ہے اور وہ تباہی مچاتے ہیں۔ بھارتیہ خفیہ ایجنسیوں کو سینکڑوں ایسے بینک کھاتوں کی جانکاری ملی ہے جن کے ذریعے آئی ایس آئی اور پاکستان کی درجنوں جہادی تنظیمیں پیسوں کا لین دین کرتی ہیں۔ہماری ایجنسیوں نے ملک کے 16 بینکوں کے 1162 کھاتوں کا پتہ لگایا ہے جن میں یہ کام ہورہا ہے۔ ان کھاتوں سے پاکستان کے1175 اور بھارت کے305 موبائل نمبر بھی جڑے ہیں۔آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ یہ بینک کھاتے ایسے لوگوں کے ہیں جن کی عمر بیحد کم ہے ۔ مگر ان کے کھاتوں میں لاکھوں روپے کا لین دین ہوا ہے۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ یہ سارے کھاتے بہت کم پیسوں سے کھولے گئے تھے۔ خفیہ ایجنسیوں کے مطابق ایسے قریب 30 فیصدی کھاتے بہار،18 فیصدی کھاتے پشچمی بنگال، 13.5 فیصدی کھاتے یوپی میں اور11 فیصدی کھاتے مدھیہ پردیش میں کھلوائے گئے ہیں۔اس کالے کھیل کا ایک سرا حوالہ سے جڑتا ہے تو دوسرا آتنک واد سے۔
(انل نریندر)

نیشنل کونسل میں کیجریوال کو جھٹکا لگ سکتا ہے

اندرونی انتشار سے جھوجھ رہی عام آدمی پارٹی میں اروند کیجریوال کے واپس آنے کے بعد صلاح صفائی کی سبھی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ منگلوار کو سینئر لیڈر پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے ساتھ صلاح سمجھوتہ کرنے کے عمل کے ساتھ ہی دیگر راجیوں میں پارٹی کی بنیاد کے پھیلاؤ کا فیصلہ کیا گیا۔بالائی سطح پر لگتا ہے کہ صلاح صفائی کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن اندرونی طور پر اختلاف ابھی بھی برقرار ہے۔اروند کیجریوال پرشانت بھوشن سے اکیلے ملنے سے کترا رہے ہیں۔ صحیح معنی میں ایکتا تبھی ہوگی جب مدعوں پر اتفاق ہوگا اور وہ فی الحال ہوتا نظر نہیں آرہا۔ پرشانت بھوشن نے کہا ہے کہ وہ صرف کیجریوال سے بات کریں گے۔ کیجریوال نے پرشانت بھوشن کو آشیش کھیتان سے ملنے کو کہا تھا لیکن پرشانت بھوشن نے کھیتان سے ملنے سے صاف انکار کردیا ہے۔عآپ کی سیاسی معاملوں کی کمیٹی (پی اے سی) سے ہٹائے گئے پرشانت بھوشن نے کہا ہے کہ وہ صرف اروند کیجریوال سے ہی ملاقات کریں گے۔ انہوں نے منگلوار کو کہا کچھ اہم مدعوں کو حل کرنے کے لئے وہ کیجریوال کے علاوہ کسی دوسرے نیتا سے نہیں ملیں گے۔ پارٹی کی دہلی اکائی سے جڑے ایک اہم ممبر آشیش کھیتان نے ان کے ساتھ بیٹھک کی گزارش کی تھی۔ بتادیں کہ جب دونوں گروپوں کے درمیان تلخ بیان بازی چل رہی تھی تو اتفاقاً کھیتان نے بھی بھوشن پر حملہ بولا تھا۔ انہوں نے پرشانت بھوشن ، ان کے پتا اور پارٹی کے سرپرست شانتی بھوشن اور بہن شالنی پر پارٹی کی سبھی اکائیوں پرکنٹرول کی چاہت رکھنے کا الزام لگایا تھا۔اروند کیجریوال چاہتے ہیں کہ سبھی تنازعے پارٹی کی نیشنل کونسل کی اہم بیٹھک جو اسی مہینے کے آخر میں ہونی ہے، سے پہلے سلجھا لئے جائیں۔ بیشک یوگیندر یادو۔ پرشانت بھوشن پر عام آدمی پارٹی سے باہر ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے لیکن پارٹی کی نیشنل کونسل میں پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے۔امکان ہے کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کو پارٹی کے کنوینرکا عہدہ چھوڑنا پڑے۔ کیجریوال کے نزدیکی بھی مان رہے ہیں کہ دونوں گروپوں کے درمیان لڑائی کانٹے کی ہے۔دراصل صورتحال یہ ہے کہ نیشنل کونسل کے زیادہ تر ممبر یوگیندر یادو کے ذریعے بنائے گئے ہیں اور امکان ہے کہ ووٹنگ کی نوبت آئے تو یادو خیمہ کیجریوال خیمے پر حاوی رہے۔ نیشنل کونسل عآپ کی سب سے بڑی اکائی ہے۔نیشنل ایگزیکٹو او سیاسی معاملوں کی کمیٹی (پی اے سی) کے بارے میں یہ فیصلہ اور پارٹی کے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔ پریشد میں فی الحال 400 سے زیادہ ممبر ہیں۔ اس میں دہلی کے ممبروں کی تعداد50 سے بھی کم ہے اور اس کی بیٹھک ایک سال پہلے ہوئی تھی۔ دہلی کے ممبروں کو چھوڑ کر ٹیم کیجریوال کا سیدھا رابطہ ان سے زیادہ نہیں رہا ہے۔ دوسری طرف یوگیندر یادو عآپ کے’ مشن وستار‘ سے جڑے رہے ہیں۔ کیجریوال کے نزدیکیوں کے مطابق کونسل کے ممبروں کے لگاتار تعلق میں رہنے سے ممکن ہے کہ اس میں یادو حمایتیوں کا پلڑا بھاری ہو۔ 28 مارچ کو کونسل کی بیٹھک طے ہے۔ ٹیم کیجریوال کو فکر اس لئے بھی ہے کیونکہ نیشنل ایگزیکٹیو میں پی اے سی سے یوگیندر یادو۔ پرشانت بھوشن کو نکالنے کی تجویز 11-8 کے بیحد قریبی فرق سے پاس ہوئی تھی۔ ادھر عام آدمی پارٹی کے اندرونی جھگڑے سے دلبرداشتہ اس کے حمایتیوں کا غیر معینہ دھرنا منگلوار کو ساتویں دن بھی جاری رہا۔ دھرنے پر بیٹھے لوگوں نے عآپ کے کنوینر و وزیر اعلی اروند کیجریوال کو خط بھی بھیجا ہے۔ دھرنے پر بیٹھے لوگوں کو امید تھی کہ کیجریوال اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ٹھوس قدم اٹھائیں، جو فی الحال ہوا نہیں ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ عام آدمی پارٹی کے منتھن سے امرت نکلے گا۔
(انل نریندر)

19 مارچ 2015

مودی نے سری لنکا میں آئی دراڑ کو پاٹنے کی کوشش کی

وزیر اعظم نریندر مودی کے حال کے تین جزائر دیشوں کے دورہ کا آخری اور سب سے اہم پڑاؤ سری لنکا تھا۔ یوں تو اس پڑوسی دیش کے ساتھ بھارت کے رشتے ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں بیچ بیچ میں تھوڑی کھٹاس بھی آئی، خاص کر دو مدعوں پر۔ مچھواروں سے متعلق اور اقوام متحدہ انسانی حقوق قونصل میں پشچمی دیشوں کی طرف سے لائے گئے پرستاؤ پر بھارت کے سمرتھن کا۔ اس پس منظرکو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ بھارت۔ سری لنکا رشتوں میں ایک نیا باب شروع ہوا ہے۔ یوپی اے سرکار کی پچھلی ایک دہائی ودیش نیتی کے مورچے پرمایوس کرنے والی زیادہ تھی۔نتیجتاً سری لنکا بھارت کے مقابلے چین کے زیادہ قریب ہوگیا تھا۔ چین نے اس کشیدگی کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے سری لنکا میں اپنا اثر بڑھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ اس دوران سری لنکا سے ہمارے رشتے اتنے بگڑے کے پڑوس میں چین کے اثر کی ہم قاعدے سے مخالفت کرنے کی حالت میں بھی نہیں رہ گئے تھے۔ حالانکہ سری لنکا میں تمل اقلیتوں کی خراب حالت بھی کولمبو سے ہمارے کڑوے رشتے کی وجہ بنتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ تمل مچھواروں کو سری لنکا کے آبی علاقے میں نشانہ بنانے کے واقعات بھی تشویشناک ہیں۔وزیر اعظم کے سری لنکا میں ہونے کے دوران بھی کچھ بھارتیہ مچھواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسے میں اس معاملے کا حل دونوں طرف سے احتیاط کی بھی مانگ کرتا ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ گزشتہ دنوں سری لنکا کے چناؤ میں چینی حمایت یافتہ راشٹرپتی مہندر راج پکشے کی ہار سے چوطرفہ رشتوں کے پٹری پر آنے کی جو امید بنی،وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دورے سے اسے عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ تمل اکثریتی اتری پراونس کی راجدھانی جافنا میں پہنچنے والے مودی پہلے پردھان منتری بنے۔بہت سی نشانوں کے ذریعے انہوں نے تمل مفاد سے جڑے ہمارے جذبات کا پیغام بھی دیا۔ پردھان منتری نے وہاں 13 ویں ترمیم جلد ہی تکمیل پزیر ہوگی اور تمل اقلیتی طبقے کے ساتھ صلاح کے لئے اس میں آگے جانے کی اپیل بھی کی۔ وزیر اعظم نے ایک متحد سری لنکا میں مساوی انصاف امن اور حل کیلئے تملوں سمیت سماج کے سبھی طبقوں کی امیدوں کو جگہ دینے والے ایک مستقبل کی تعمیل کی کوششوں کو بھارت کی حمایت کی بات کرتے ہوئے کہا تھا ہمارا ماننا ہے کہ ’’13 ویں ترمیم کے جلد اور مکمل تکمیل پزیر اور اس میں آگے جانے سے اس عمل کو تقویت ملے گی۔‘‘ مودی نے سری لنکائی راشٹرپتی میتری پالا سری سونا کے ساتھ اپنی بیٹھک میں یہ بات کہی تھی۔سری لنکا میں چین نے جس بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی ہے اپنا اثر بڑھایا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ماننا بھول ہوگی کہ محض اقتدارکی تبدیلی سے بیجنگ کا اثر کم ہوگا۔لیکن کئی ایسے مورچے ہیں جن پر سری لنکا کے ساتھ آگے بڑھ کر ہم دوستی کی نئی عبارت لکھ سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

بے موسمی بارش نے توڑی کسانوں کی کمر

مارچ مہینے میں چوتھی بار بارش وہ بھی زبردست، نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اس مہینے میں بارش نے نہ صرف 100 سال کا ریکارڈ توڑا ہے بلکہ کسانوں کی رہی سہی امیدیں بھی دھو ڈالی ہیں۔ بھارت گاؤں کا دیش ہے یہ محاورہ ابھی پرانا نہیں ہوا ہے۔ اندازہ ہے کہ ملک کی تقریباً68 فیصدی آبادی گاؤں میں ہی رہتی ہے جو کھیتی میں لگی ہوئی ہے اور اسی پر منحصر ہے۔پشچمی گڑ بڑیوں کی وجہ سے مارچ مہینے میں چوتھی بار بے موسم بارش کے ساتھ تیز ہواؤں کے جھونکوں نے بارش کے باوجود کچھ علاقوں میں سنبھلی گیہوں کی فصل کو تباہ کردیا ہے۔ گیہوں کے ساتھ سرسوں، آلو، مٹر اور سبزیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ حالات کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ بیتے11 مارچ تک دیش بھر میں اوسط سے 237 فیصدی زیادہ بارش ہوئی ہے۔ قریب 1015 فیصدی کی مار ہریانہ ،چنڈی گڑھ اور دہلی کے کسانوں کو جھیلنی پڑی ہے۔ جبکہ پوربی اور پشچمی اترپردیش میں اوسط سے 640.64 فیصد زیادہ بارش ہوچکی ہے۔زراعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بے موسم بارش سے جہاں کسان بے حال ہوں گے وہیں اس کا خمیازہ صارفین کی جیبوں کو بھی اٹھانا پڑے گا۔ آلو اور پیاز کی فصل کو نقصان ہونے کے بھاری اندیشے سے اس کی قیمتوں میں تیزی کا اندازہ ہے۔گرمی کے موسم کے اہم پھل آم کے بور کے جھڑنے اورٹوٹ کر گرنے سے زبردست نقصان ہوا ہے۔ ربیع فصلوں کے شاندار پردرشن کی امید لگائی جارہی تھی لیکن مارچ کی قدرتی آفت نے کسانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ سنسد میں گزشتہ ہفتے ہی وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ نے 50 لاکھ ہیکٹر ربیع فصلوں کا نقصان ہونا قبول کیا تھا لیکن بارش اور تیز ہواؤں کا جھونکا رواں ہفتے میں بھی جاری ہے۔ کھیتوں میں کھڑی فصلیں تو بیکار ہوئی ہی ہیں کٹ کر رکھی زرعی فصلوں کی بھاری پیمانے پر بربادی بھی ہوئی ہے۔ کسانوں کے لئے یہ آفت اتنی بڑی ہے کہ الگ الگ علاقوں میں ان داتاؤں کے ذریعے خود کشی کرنے کی خبریں لگاتار آ رہی ہیں۔ ایتوار کو ہوئی بارش سے فصل خراب ہوتے دیکھ آگرہ کے ملپورہ کے کسان پریم سنگھ اورچندولی کے کسان راجندر سنگھ فاکرے کی صدمے سے موت ہوگئی۔ ان کے علاوہ مین پوری کے بٹناہل میں کسان روہن سنگھ اور مدھیہ پردیش کے کھڑوا میں بھی ایک کسان کی دل کا دورہ پڑنے سے موت کی اطلاع ہے۔ بارش سے راجستھان میں12 لوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ یوپی میں 5 اور اتراکھنڈ میں2 لوگوں کی جان چلی گئی۔ زبانی مرحم صدمے سے متاثر کسانوں کیلئے کافی نہیں ہوگا۔ ضروری ہے کہ جنگی سطح پر ایسے انتظام کئے جائیں تاکہ فصل برباد ہونے سے ٹوٹ چکی کسانوں کی کمر سیدھی ہوسکے۔ ایک طرف ان کی ضائع ہوچکی لاگت کی بھرپائی ضروری ہے دوسری طرف یہ بھی لازمی ہے کہ ان کی دیکھ بھال کا مکمل انتظام ہو۔ فوری راحت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کا انتظام کیا جانا چاہئے کہ ایسی آفات کے وقت کسانوں کو بیمہ کے ذریعے موثر تحفظ فراہم کرایا جائے۔صارفین کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔
(انل نریندر)

18 مارچ 2015

پہلی بار 4 ایشیائی ٹیم ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں

پول میچوں کے آخری دن پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی زبردست جیت سے آئی سی سی ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل کی لائن طے ہوگئی ہے۔گروپ دور ختم ہوچکا ہے اور اب باری ہے ناک آؤٹ دور کی یعنی جیتے تو سیمی فائنل میں اور ہار گئے تو باہر۔ یہ آئی سی سی ورلڈ کپ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چار ایشیائی ٹیمیں کوارٹر فائنل میں پہنچی ہیں۔نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی مشترکہ میزبانی میں ہورہے اس ٹورنامنٹ کے ناک آؤٹ فیز کی شروعات18 مارچ کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر دکشنی افریقہ اور 1996 کے فاتح سری لنکا کے درمیان مقابلے کے ساتھ ہوگی۔کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ایشیا کی چار ٹیمیں کوارٹر فائنل میں چنوتی پیش کریں گی۔ لیگ فیز میں سبھی میچ ٹیم ایشیا نے جیتے ہیں۔19 مارچ کو بھارت کا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہوگا۔20 مارچ کو پاکستان کا سامنا آسٹریلیا سے ہوگا۔ وہیں 21 مارچ کو نیوزی لینڈ کی ٹکر ویسٹ انڈیز سے ہوگی۔ سری لنکا کے وکٹ کیپر بلے باز کمار سنگاکارا نے لیگ فیز میں لگاتار 4سنچریاں جڑ کر ریکارڈ بنایا۔ وہ ایسا کرشمہ کرنے والے پہلے بلے باز ہیں۔ اس عالمی کپ میں سب سے زیادہ 100 کے معاملے میں بھی وہ نمبر ون چل رہے ہیں۔ دکشنی امریکہ کے اے بی ڈیویلیئرس 6 میچوں میں417 رن بنا کر انہیں چنوتی دے رہے ہیں۔ کوارٹر فائنل میں گزشتہ چمپئن بھارت کو ایشیائی مقابل بنگلہ دیش کے روپ میں سب سے آسان چنوتی ملی ہے۔ کپتان مہندر سنگھ دھونی نے ٹیم کو بنگلہ دیش کے خلاف کسی بھی طرح کے بھروسے کے تئیں وارننگ دی ہے۔ کیونکہ اس ٹیم نے انگلینڈ کو ہراکر ورلڈ کپ سے باہر کیا ہے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے ہی2007 میں بھارت کو بھی ہرا کر عالمی کپ کے لیگ فیز سے ہی باہر کا راستہ دکھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بھارت کے پاس اس کا حساب برابر کرنے کا موقعہ ہے۔ شکروار کو چار بار کے چمپئن آسٹریلیا کا سامنا 1992 کے چمپئن پاکستان سے ہوگا جو رومانچک مقابلہ ہوسکتا ہے۔پاکستان ٹیم گزشتہ کچھ میچوں سے اپنی لے میں آرہی ہے۔ آخری کواٹر فائنل میں ساتھی میزبان اور اس بار کی زبردست دعویدار نیوزی لینڈ کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے شنی وار کوہوگا۔ ویسٹ انڈیز نیٹ ان ریٹ کی بنیاد پر آئرلینڈ کو پچھاڑ کر آخری8 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔ لیکن کیربیائی ٹیم کے پاس بھی ایسے کھلاڑی ہیں جو پاسا پلٹ سکتے ہیں۔ ٹیم انڈیا کے حق میں ایک یہ بات بھی جاتی ہے کہ اس کی بالنگ اس ٹورنامنٹ میں پر اثر رہی ہے۔سبھی 6 میچوں میں اپنے مقابلے میں آئی ٹیموں کو آل آؤٹ کرنے کاسہرہ بھارتیہ گیند بازوں کو جاتا ہے۔ بیٹنگ تو ہمیشہ سے ہی بھارت کا پلس پوائنٹ رہا ہے۔ ٹیم انڈیا کے سیمی فائنل میں پہنچنے میں ہمیں تو کوئی شک نہیں لیکن ٹورنامنٹ اب ایسے دور میں پہنچ گیا ہے کہ اب ہارے تو کھیل ختم۔ ہم ٹیم آف انڈیا کو بیسٹ آف لک دیتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ دھونی کے دھورندھر ورلڈ کپ کو اس بار بھی جیت کر لائیں گے۔
(انل نریندر)

آئی ٹی او چوراہے پر جام سے ملے گی راحت

گاڑیوں کے ڈرائیور آئی ٹی او کے ڈبلیو پوائنٹ، تلک مارگ، متھرا روڈ اور سپریم کورٹ کے آس پاس جام سے پریشان ہیں۔ شام کو پانچ بجے کے بعداگر آپ بہادر شاہ ظفر مارگ سے تلک مارگ یا پرگتی میدان کی جانب جانا چاہتے ہیں تو آپ کو10-15 منٹ ریڈ لائٹ پر کھڑا رہنا معمولی بات ہوگئی ہے۔ کبھی کبھی تو 25 منٹ تک لگ جاتے ہیں۔ اگر آپ کو کہیں وقت پر پہنچنا ہے تو آپ کو پانچ بجے سے پہلے ہی اپنے دفتر سے نکلنا ہوگا نہیں تو آپ کسی بھی حالت میں وقت پر نہیں پہنچ سکتے۔ایک تو ریڈ لائٹ اور دوسری طرف میٹرو کا چلتا کام، دونوں نے مل کر گاڑی ڈرائیوروں کے ناک میں دم کررکھا ہے۔ کیونکہ لگتا ہے کہ میٹرو کا کام تو اپنے آخری لمحوں میں ہے اس لئے اس سے جلدی نجات مل جائے گی ،لیکن ریڈ لائٹ کا کیا کریں؟ خبر ہے کہ دہلی کی ٹریفک پولیس نے آئی ٹی او سمیت تلک مارگ، ڈبلیو پوائنٹ اور دہلی گیٹ کراسنگ کو جام فری کرنے کا پلان بھی تیار کرلیا ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے کہنے پر بی ایم آر سی نے ایک کنسلٹینٹ کو اپوائنٹ کر باقاعدہ ان جگہوں پر اسٹڈی کروائی ہے اور اسی کے مطابق ان جگہوں پر ڈی کنجیشن کے پلان بنائے گئے ہیں لیکن اصل میں تلک مارگ اور آئی ٹی او کے آس پاس لگنے والے جام کے مسئلے کو دور کرنے کے لئے ٹریفک پولیس نے جو پلان فائنل کیا ہے اسے پانچ سال پہلے ہی بنایا جاچکا تھا۔ خیر جو پلان بنایا گیا ہے اس میں کچھ جگہوں پر ٹریفک ون وے کرنا بھی شامل ہے۔ ٹریفک پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ کچھ وقت پہلے لیفٹیننٹ گورنر کو اس سلسلے میں آفر بھیجی گئی ہے۔
آئی ٹی او پر میٹرو کی تعمیر کا کام اس مہینے کے آخر تک پورا ہونے کا امکان ہے۔ اس کے بعد ٹریفک پولیس پلان کو عملی جامہ پہنائے گی۔ ڈاکٹر دنیش نندنی ڈالمیہ چوک پر آنے والی گاڑیوں کو سکندرا روڈ کیلئے رائٹ ٹرن نہیں ملے گا۔ڈرائیور یہاں سے سیدھے تلک مارگ پر بھی نہیں جاسکیں گے۔ انہیں متھرا روڈ پر جانا ہوگا ۔ پرگتی میدان کے گیٹ نمبر7 کے سامنے سے ڈرائیور بھگوان داس روڈ پر نکلیں گے۔اسی راستے پر سپریم کورٹ کا سی اینڈ ڈی گیٹ پڑتا ہے۔ یہ راستہ ون وے ہوگا۔ اس روڈ کے ذریعے ہی گاڑی تلک مارگ جا سکے گی۔ وہاں سے انہیں سکندرا روڈ پر جانا ہوگا۔ ان بدلاؤ میں تلک مارگ پر سپریم کورٹ چوراہے سے لیکر ڈبلیو پوائنٹ تک کی سڑک کو ون وے بنایا جائے گا۔
یہاں ڈبلیو پوائنٹ کی طرف سے گاڑیاں نہیں آسکیں گی جبکہ سپریم کورٹ سے دونوں راستوں کا استعمال کرتے ہوئے ڈرائیور آئی ٹی او پہنچ سکتے ہیں۔ آئی ٹی او چوک سے پرگتی میدان والی سڑک پر سندر نگر تک کم سے کم 6 ریڈ لائٹ سگنل ہیں ان میں بہت دیر تک انتظار کرنا پڑتا ہے کیا اس کا بھی کوئی حل ٹریفک پولیس نے سوچا ہے۔ دیکھیں کہ اس سجھاؤ میں کیا کیا عمل ہوتا ہے اور ہمیں کتنی راحت ملتی ہے؟
(انل نریندر)

17 مارچ 2015

معاملہ الہ آباد کچہری میں وکیل نبی احمد کے قتل کا

الہ آباد کی ضلع عدالت کے احاطے میں بدھوار دوپہر جھڑپ کے دوران ایک دروغہ کے ذریعہ ایک وکیل کو گولی مار کر قتل کرنے کا معاملہ طول پکڑ گیاہے۔ دروغہ اوروکیل میں ہوئی کہا سنی بڑے جھگڑے کا سبب بنی۔ عدالت میں اپنے ساتھی کے قتل سے وکیلوں میں غصہ پھوٹ پڑا۔ گولی چلا کر بھاگے دروغہ کو دبوچنے کے لئے وکیل ایس ایس پی دفتر میں پہنچے تو پولیس ملازمین سے ان کا ٹکراؤ ہوگیا۔ دونوں طرف سے پتھراؤ اور فائرنگ میں ایک سپاہی کے گلے میں گولی لگ گئی۔ اس کے بعد کچہری کے اندر اور باہر پولیس ووکیلوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا۔ الزام ہے کہ پولیس نے وکیلوں کو عدالت کے احاطے میں دوڑا دوڑا کر پیٹااور درجنوں گاڑیاں توڑ کر آگ لگادی۔ فائر بریگیڈ اور پولیس کی 4 گاڑیاں جلا دی گئیں۔ دیہی علاقوں میں تحصیلوں کو بند کرا کر وکیلوں نے چکہ جام کیا اور پولیس بوتھ میں گھس کر آگ زنی کی۔ واقعہ بدھوار قریب ڈیڑھ بجے کا ہے چوکی پر بھاری شیلندر سنگھ ایک کیس کے سلسلے میں ضلع عدالت گئے تھے۔وہاں شیلندر کی وکیلوں سے کہا سنی ہوگئی۔ جھڑپ کے دوران دروغہ نے اپنا سرکاری پستول نکال کر وکیل نبی احمد(27 سال) پر فائر کردیا۔
سینے پر گولی لگنے پر نبی گرا تو دروغہ عدالت کے احاطے سے باہر نکلا اور ایس ایس پی کے دفتر کی جانب بھاگا آنا فانا میں نبی احمد کو ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔قتل کے ملزم دروغہ کی گرفتاری کی مانگ کو لے کر وکیل ہڑتال پر رہے اور پورے دن مظاہرے چلے۔ وزیراعلی اور پولیس کا پتلا پھونکا گیا اور ہوڑڈنگ و گاڑیاں بھی جلائی گئیں۔ الہ آباد ضلع کچہری اور ہائی کورٹ احاطہ چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا۔ پولیس نے15مقدمے درج کئے ہیں۔ وارانسی میں بھی 200 نامعلوم وکیلوں کے خلاف معاملہ درج کیاگیا ہے۔ دہلی وجھاڑ کھنڈ میں بھی وکیلوں نے ہڑتال کی۔ معاملے کو بڑھتے دیکھ اترپردیش سرکار نے شکروار کو پورے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی سفارش کی ہے۔ گولی چلانے والے دروغہ کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ پولیس انسپکٹر جنرل ( عوامی شکایات) اشوک جین نے لکھنؤ میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ راجیہ سرکار نے الہ آباد کچہری احاطے میں گزشتہ بدھوار کو ہوئے دواہم معاملوں وکیل نبی احمد کی موت اور اس کے بعد ہوئے پولیس ووکیلوں کے درمیان سنگھرش میں سپاہی اجے ناگر کے زخمی ہونے کے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی سفارش کی ہے۔ ملزم دروغہ شیلندر سنگھ کو گرفتار کرلیا ہے اس کے پاس سے سروس ریوالوربھی برآمد کرلی گئی ہے۔ چیف جسٹس ایم ایل دت نے واقعہ پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جج نے کہا کہ الہ آباد کے واقعہ کو لے کر فکر مند ہوں میں اس جگہ کے جج کے تعلق میں ہوں اور امید ہے کہ ہم جلد ہی مسئلہ کو حل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو خود الہ آباد جائے گے اور بار کے ممبران کو اطمینان دلائیں گے۔ ہم بھی امید کرتے ہیں کہ جلد معاملے کو شانت کرلیا جائے گا اور دونوں فریقوں میں شانتی قائم ہوگی۔
(انل نریندر)

پھر اُکسانے والی لکھوی کی رہائی

پاکستان سرکار کے لچر رویہ کی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک بار پھر 26/11 کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی کو جیل سے رہا کرنے کے احکام دے دئے ہیں۔ لکھوی ممبئی پر 26/11 حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا اس پر سازش رچنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کا الزام ہے حملے کے دوران لکھوی ہی سیٹیلائٹ فون پر دوسرے آتنکیوں کو ہدایات دے رہا تھا۔ لکھوی کو جیل سے باہر لانے کی قواعد گزشتہ سال دسمبر میں شروع ہوئی تھی۔ 18 دسمبر کو ممبئی سے جڑے حملے کی سنوائی کررہی پاکستان کی آتنکواد مخالف عدالت نے لکھوی کو ضمانت دے دی تھی۔ لیکن بھارت اورامریکہ کی سخت مخالفت کے بعداسلام آباد انتظامیہ نے ایم پی او قانون کے تحت اسے جیل میں رکھاتب پاکستان نے ایک افغان شہری کے اغوا کے معاملے کی پرانی فائل کھول کر یہ یقینی بنایا کہ لکھوی جیل میں ہی رہے۔ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی جہاں بھارت کے لئے فکر کا سبب ہے وہی یہ پاکستان کے سرکار کے آتنکو ادی کے خلاف لچر رویہ کو بھی دکھاتا ہے۔ پاکستان کی نواز شریف سرکار کو اس بات کی فکر نظر نہیں آتی کہ امریکہ سمیت دنیا میں اس کے خلاف اس لچر رویہ پر کیا رد عمل ہوگا؟ بھارت نے لکھوی کے خلاف پاکستان کو تمام ثبوت سونپے ہیں جن کی بنیاد پر اس اب تک سزا ہوجانی چاہئے تھی لیکن پاکستان نے سارے ثبوتوں کو محض کاغذ کا پلندہ بتا کر بھارت کا مذاق بنایا ہے اس سے تو ہمیں اب کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان میں ایسے عناصر موجود ہے جو ہرحالت میں لکھوی کو باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ یہ کسی سے چھپا نہیں کہ نواز شریف سرکار پوری طرح پاکستانی فوج اور آئی ایس ایس کے کہنے میں اور یہ نہیں چاہتے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات معمول پر آئے لیکن بات نواز شریف سرکار کیوں نہیں سمجھ رہی ہے کہ لکھوی جیسے آتنکیوں کو تحفظ فراہم کرنا نہ اس کے لئے مناسب ہے اور نہ ہی باقی دنیا کے لئے۔بدقسمتی یہ ہے کہ لکھوی کی رہائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت کے خارجہ سکریٹری کے حال کے پاکستان کے دورے کے بعد یہ امید بنی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان ملتوی ہوئی امن بات چیت پھر سے شروع ہوسکتی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن بات چیت کرنے کا اتنا خواہش مند نہیں ہے پاکستان کو یہ سمجھناچاہئے کہ اچھے آتنک وادی اور برے آتنکوادی جیسا فرق نہیں ہوتا اس بات کو عالمی سطح پر بھی قبول کیاجاچکا ہے۔ لکھوی کے معاملے میں پاکستان سرکار نے جان بوجھ کر کمزور کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں عدالت نے اس کی رہائی کا حکم دیا۔ یہ لازمی ہے کہ پاکستان اس اسے اچھی طرح جانتا ہو کہ لکھوی کو رہاکرنے سے بھارت پر کیا اثر ہوگالیکن اس کی جانب سے ا یسی کوئی کوشش نہیں کی گئی جس سے اس آتنکی کی رہائی کے راستے بند ہوں۔

16 مارچ 2015

Dr. Manmohan Singh please break your silence and disclose the truth to the country!

Former Prime Minister Dr. Manmohan Singh was summoned by Delhi based special court in the case of coal block distribution scam. Along with Manmohan Singh the court has also summoned businessman Kumar Mangalam Birla and former Coal Secretary Mr. P. C. Parakh and has asked them to be present in the court on 8th April. This case is about the distribution of coal block Talabira II and III in Odisha to Hindalco, a company under Birla Group in 2005. The summoning of the former Prime Minister like an ordinary accused is more or less shattering the honest image of Manmohan Singh which was exemplary amidst the various scams that arose during the UPA government’s rule. On his last day as the Prime Minister, Manmohan Singh said that he hoped that history will do justice to him but this summon  in the coal block scam has entirely rocked his present. Accusing the former Prime Minister Dr. Manmohan Singh of criminal conspiracy and breach of public faith by a public servant under the Anti Corruption law in the coalgate scam is not a normal event. Mr. Singh is presently angry with this summon but he is taking this news as a phase of life to calm his distraught self. He absolutely believes in the law and order of the country as well as his honesty. For the sake of debate let’s believe for a moment that Mr. Singh is honest and his loyalty cannot be questioned but still the question arises that as a finance minister who released the economy of the country out of the web of Redtapism, how did the flames of coalgate scam reach him?

However the arguments of the congress party is right that only summoning someone does not prove his guilt yet it is a fact that during the scam the coal ministry was handled by Manmohan Singh and CBI did submit the closure report without questioning him.  Also there is proof that in spite of various attempts the former Prime Minister was kept at bay from questioning. Due to the force of Special Court he was first questioned on this matter and now along with a few others he has been charged in this case.  The court has not just merely called them but it has obtained numerous circumstantial evidences which makes their presence crucial to the case. Along with being a Prime Minister Mr. Singh at that time was looking after the coal ministry while Mr. P.C. Parakh was the secretary, but what made the court suspicious was the fact that the PM Office in its eagerness to distribute the coal block to Hindalco was constantly putting pressure.  The head of PMO and Coal ministry Mr. Manmohan Singh now has to disclose the true facts about this scam. The former head of CAG Mr. Vinod Rai has clearly stated in his book that not only coal block distribution but also other files like spectrum case used to reach the PM’s desk and the then prime minister was regularly informed about such cases by the respective ministers. Evidently it will be tough to prove that Mr. Manmohan Singh had a personal interest in granting Talabira II to Hindalco at the end due to Mr. Birla’s repeated letters to the PM.  In this circumstance it might happen that the allegations against Mr. Manmohan Singh may not last in the special court. In spite of this Mr. Manmohan Singh will remain responsible for not being able to regulate malpractices during his reign. He will obviously be asked the question that the Prime Minister who risked everything to pass the nuclear treaty with America, why couldn’t he show the same loyalty by making the process of coal block auction transparent? In spite of his clean and honest mage if Dr. Manmohan Singh is the second prime minister after the late P.V. Narasimha Rao to be accused of deception in democratic India then his silence and his effortlessness has played a major role behind it. Dr. Manmohan singh it is the need of the hour that you come clean and tell the truth to the country.  Now you will have to break your silence. 

 

 

15 مارچ 2015

اسٹنگ ماسٹر خود اسٹنگ میں پھنسے: پارٹی بے حال

دہلی میں عام آدمی پارٹی سرکار کا پہلا مہینہ پورا ہوچکا ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ان 30 دنوں میں عام آدمی پارٹی کی سرکار نے فضیحت کے سوا اور کچھ حاصل نہیں کیا۔ دیش کی تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ کوئی پارٹی اتنے کم وقت میں اقتدار کی بلندیوں پر پہنچی ہو اور پھر اچانک اس کی پوری ساکھ مٹی میں مل گئی ہو اور یہ ساکھ کسی مخالف دل نے نہیں مٹی میں ملائی بلکہ خود پارٹی کے لیڈروں نے ایک دوسرے پر الزامات لگاکر حاصل کی ہے۔ نئی طرح کی سیاست کرنے کے بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ اقتدار میں آئی عام آدمی پارٹی جس طرح اندرونی جھگڑوں سے گھری ہے اس سے وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے سمرتھکوں اور شبھ چنتکوں کو بھی شرمسار کررہی ہے۔ عام آدمی پارٹی میں پھوٹ سے غصائے والینٹروں نے بدھوار شام ایسٹ پٹیل نگر واقع پارٹی دفتر کے باہر اپنے سینئر لیڈروں کے خلاف نعرے بازی کی، کینڈل مارچ نکالا۔ والینٹروں نے کہا کہ آپ میں تنازعے سے انہیں صدمہ پہنچا ہے۔ا س سے عوام کے درمیان غلط پیغام جارہا ہے۔ اس پر فوراً روک لگے۔ اگر نہیں لگی تو پارٹی کو سخت نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ جس امید سے عوام نے ووٹ دے کر آپ کو جتایا تھا وہ جھوٹ ہوسکتا ہے۔ جس طرح سے پارٹی نیتاؤں میں کھینچ تان شروع ہوئی ہے وہ شرمناک ہے۔ پولیس ذرائع کی مانیں تو مظاہرین میں شامل والینٹئر یوگیندر یادو کے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں لوک تنتر ہونا چاہئے اور سبھی کو اپنی بات رکھنے کا حق ہے۔ جس طرح یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے وہ غلط ہے۔آج دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ میں بھاری جوتم پیزار مچی ہے۔ پارٹی دو گٹوں میں بٹی ہے اور دونوں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ کوئی بلاگ لکھ رہا ہے ،کوئی چٹھی تو کوئی اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی پیش کررہا ہے۔ اس ڈرامے میں کبھی اموشن آجاتا ہے تو کبھی بدلے کی آگ بھڑکتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا کل نتیجہ یہ ہے کہ پارٹی کی لیڈر شپ میں شامل سارے لوگوں کی قلعی کھل گئی ہے۔ لوگ حیران پریشان ہیں کہ جن سے سیاست کی صفائی کی امید تھی وہ اپنے اندر اتنی گندگی چھپائے ہوئے تھے۔ اب تو یہ بھی طے سا لگ رہا ہے کہ آپ پارٹی کا تنازعہ منصوبہ بند طریقے سے بڑھایا جارہا ہے۔اس پارٹی کی اندرونی رسہ کشی اب اپنے شباب پر جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ کب ختم ہوگی اور کیسے۔ یہ بھی کہنا آج مشکل ہے کہ رسہ کشی ختم ہونے کے بعد وہ اپنا وقار بچانے میں کامیاب ہوگی یا نہیں؟ حیرت انگیز یہ ہے کہ جب پارٹی کے سینئر لیڈر کھلے عام ایک دوسرے پر حملہ کرنے میں لگے ہیں تب پارٹی چیف اروند کیجریوال علاج کے بہانے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کی اس پراسرار خاموشی یہی بتا رہی ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ انہیں راس آرہا ہے اور شاید اس لئے کہ ان کے مخالف قرار دئے گئے پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے خلاف ماحول بن رہا ہے۔
گزشتہ کچھ دنوں سے کیجریوال کے حامیوں نے ان دونوں لیڈروں پر جیسے زوردار حملے کئے ہیں اس کے بعداس کے آثار بڑھ گئے ہیں کہ انہیں پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا جاسکتا ہے۔ کیجریوال کی خود کی شبیہ خراب ہورہی ہے۔راجیشگرگ نے جو آڈیو ٹیپ جاری کیا ہے اس ٹیپ میں کیجریوال نہ صرف کانگریس سے مل کر سرکار بنانے کو بے قرار دکھتے ہیں بلکہ وہ کانگریسی ممبران اسمبلی کو توڑنے کی بھی صلاح دے رہے ہیں۔ آواز کیجریوال کی ہی ہے اور وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان کی آواز کو توڑ مروڑ کر جھوٹا ٹیپ جاری کیا گیا ہے اور ویسے بھی ان کی قریبی اس بات سے انکار بھی نہیں کررہے کہ کیجریوال تب کے سیاسی حالات میں سرکار کے قیام کے امکانات کو ٹٹول رہے تھے۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر الگ طرح کی سیاست کرنے اور اپنے لئے اخلاق کے اچھے اصول طے کرنے کا کیا مطلب؟ موجودہ حالات یہی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح اقدار مریاداؤں اور آدرشوں کی باتیں کرنے والے دل موقعہ ملتے ہی موقعہ پرست بن جاتے ہیں۔ ’آپ‘ انا ہزارے کی لیڈر شپ میں چلے بدعنوانی مخالف آندولن کی دین ہے۔ اس آندولن سے جڑے ایک طبقے نے یہ لائن پکڑی کہ نظام کو درست کرنے کے لئے اس کے اندر گھسنا ہوگا۔ بری سیاست کو ختم کرنے کے لئے اچھی سیاست کھڑی کرنی ہوگی اور اسی کا جنتا نے استقبال کیا اور کیجریوال کی پارٹی کو دل کھول کر ووٹ دیا۔ اب وہی جنتا یہ ماننے لگی ہے کہ ’آپ‘ پارٹی میں بھی وہ تمام کمزوریاں ہیں جن سے لڑنے کا دعوی کیجریوال کرتے آئے ہیں۔ آج ’آپ‘ کارکن سوال کررہے ہیں کہ اگر آپ نے بھی وہی ہتھکنڈے اپنانے ہیں تو آپ میں اور بھاجپا۔ کانگریس میں فرق کیا ہے؟اور اگر اس پارٹی کو بھی وہی کرنا ہے تو پھر ان کی ضرورت ہی کیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اروند کیجریوال کے لوٹنے پر پارٹی کی اس اندرونی جنگ پر روک لگے گی اور کیجریوال اینڈ کمپنی اپنے وہ سارے وعدے پورے کریں گے جس کے لئے دہلی کی جنتا نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ پہلے 30 دن کی آپ کی سرکارمیں بیشک بجلی، پانی میں راحت ملی ہو لیکن کل ملاکر پارٹی کا شرمناک پردرشن رہا ہے۔ آپ کی اس حالت سے انا کی اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ آندولنوں اور سیاست میں بہت فرق ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آندولن کاری کامیاب سیاستداں بھی ہو۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...