Translater
10 اگست 2024
یوٹیوبروں کو کنٹرول کرنے کی منشا!
مرکزی سرکارنشریاتی سروس (ریگولیشن)بل 2024 میں ےوٹیوبروں اور سوشل میڈیا کے نیوز اینکروں کو ڈیجیٹل نیوز براڈکاسٹ کی کٹیگری میں لانے کی کوشش کر رہی ہے ۔یہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری تھی دراصل حال ہی میں عام چناﺅ میں دلچسپ واقعہ دیکھنے کو ملا کے نیوز اور نشریاتی معاملوں میں رپوٹنگ ، بحث اور تجزیہ کرنے والے ذاتی یوٹیوب کی مقبولیت میں اذافہ ہو گیا ۔نیوز اینکر دھرو راٹھی ،رویش کمار اور 4 پی ایم نیوز ابھسار شرما ، آکاش بنرجی جیسے ےوٹیوبروں نے عام لوگوں کو متاثر کرنے والی سرکاری پالیسیوں کے بارے میں ایم ترین سوال اٹھانے والے ویڈیو سے کافی مقبولیت حاصل کی اور حال ہی میں دھرو راٹھی کے ویڈیو ،کیا بھارت تانہ شاہ بن رہا ہے؟ کو فروری کے آخر میں اپ لوڈ کئے جانے کے بعد سے 24 ملین سے زیادہ بار دیکھا جاچکا ہے قابل ذکر ہے کے ان ویڈیوں کو کئی ملین ویوز ملے جو اکثر ٹی وی چینلوں کے کل ویوز سے بھی زیادہ ہیں ۔یوٹیوبر کی اتنی بڑھتی مقبولیت کی بڑی وجہ ہے کی ٹی وی چینلوں کا گھٹتا بھروسہ کیوں کے موجودہ ٹی وی چینل آﺅٹ لیٹ میں سرکار کے طئیں چاپلوسی بھرے اپنے نظریہ کو بار بار دکھایا اور اس کی قصیدہ کھانی کی جس سے ان کے ناظرین تھک چکے ہیں اور یہ ٹی وی چینل گودی میڈیا بھی کہی جا رہی ہے ۔حکمرا پارٹی کے کہانی کے پبلیشر کے طور پر کام کرتے ہیں ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم کی مقبولیت بھی بڑھی ہے جو ایماندار نقطہ چینی صحافت کے لئے اہد بند ہے جو سرکار کو جواب دہہ ٹھہراتے ہیں سپریم کورٹ ادم اتفاق اور آزاد صحافت ڈیجیٹل سورس میں اس لئے زندہ ہیں کیوں کے یہ سرکار کے کنٹرول سے باہر کام کرتی ہے ۔ریوایتی میڈیا آﺅٹ لیٹ کے برعکس ریگولیشن دباﺅ اور امکانی سینسر شیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں ڈیجیٹل پیلٹ فارم کو غیر متوقہ بڑی آزادی حاصل ہے انہیں پریشان کرنے والے سوال اٹھانے اور مسلوں کو اجاگر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔جنہیں قومی دھارے کا میڈیا نظر انداز کر سکتا ہے یا ٹال دیتا ہے ۔سرکار کے اس بل کو لیکر سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں اپوزیشن پارٹیوں نے ٹیلی کاسٹ سروس ریگولیشن بل 2024 کے ذریعہ سرکار نیا قانون بنانے جا رہی ہے جس کے بعد یوٹیوبر اور انسٹا گرام اسپاٹ پر گہری نظر رکھی جائے گی کہا جا رہا ہے کے اس بل میں انسٹا گرام ریگولیشن ایکٹ اور یوٹیوبریز کو بھی ریگولیٹری نگرانی میں لانا چاہتی ہے اور وہ سینسر عائد کرنا چاہتی ہے اگر سرکار ان سے کوئی جانکاری مانتی ہے تو انہیں دینی پڑے گی نہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے ۔اس قانون سے لوگوں کی آزادی چھن جائے گی اور سوشل میڈیا پر سینسر شپ کرے گی ۔ٹیلی کاسٹ سروس ریگولیشن بل ہماری اظہار رائے کی آزادی اور آزاد میڈیا کے لئے انتہائی خطرہ ہے ۔
(انل نریندر)
تختہ پلٹ کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ؟
پچھلے کچھ وقت سے بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ سرکار کےلئے سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا تھا ۔گھریلو محاذ پر جہاں گھریلوں اپوزیشن پارٹیوں اور طلبہ کے دباﺅ اور مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا ۔وہیں غیر ملکی محاذ پر بھی سازش رچی جا رہی تھی ۔پچھلے مہینے شیخ حسینہ چین کے دورے پر گئیں تھی وہاں وہ وقت سے پہلے ہی دورے سے واپس آ گئیں تھی تب ویسا مانا گیا کے شیخ حسینہ جو سوچ کر چین گئیں تھیں وہ انہیں حاصل نہیں ہوا بنگلہ دیش میں بھارت کی سابق ہائی کمشنر وترا سیکری نے بی بی سی ہندی کو بتایا کے چین میں شیخ حسینہ کو مناسب عزت نہیں دی گئی ۔وہ چینی وزیراعظم جن پن کے ساتھ جو ملاقات کرنا چاہتی تھی وہ بھی نہ ہو پائی چین کی نیت اسی وقت سے خراب لگ رہی تھی ۔بنگلہ دیش میں جاری ہلچل میں سیاسی مبصرین کو امریکہ ،پاکستان اور چین کا ہاتھ لگ رہا ہے ۔اس طلبہ آندولن کے پیچھے بنگلہ دیشی کٹر جماعت اسلامی کو مانا جا رہا ہے یہ تنظیم پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی قریبی ہے ۔دراصل لمبے عرصے سے امریکہ چاہ رہا تھا کے بنگلہ دیش میں سرکار بدلے اور ایسی سرکار بنے جو بنگلا دیشی مفادات کے بجائے امریکہ اور مغربی ممالک کے لئے کام کرے ۔شیخ حسینہ نے کئی بار صاف کہا کے امریکہ اور اس کے ساتھی میامار اور بنگلا دیش کے کچھ حصوں کو ملاکر ایک نیا ایسائی دیش بنانا چاہتے ہیں۔جس میں کچھ حصہ بھارت کے شمال مشرقی راجیوں کے بھی شامل ہیں اس کے علاوہ ،امریکہ خلیج بنگال میں ایسے حالات چاہتا ہے جن کے بہانے بھارت پر منحصر بنے بنا فوجی موجودگی بنا سکے ۔امریکہ اپنی اس حکمت عملی ضروریات کو تبھی پورا کر سکتا ہے جب یہاں عدم استحکام ہو اور ایسے لوگ اقتدار میں آئے جنہیں آسانی سے کنٹرول کیا جا سکے ۔میانمار میں پہلے ہی ادم استحکام اور فوجی حکومت ہے ۔اب حسینہ کے چلے جانے کے بعد امریکہ کے لئے بنگلا دیش میں گھسنا اور فوج کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا آسان ہو جائے گا ۔ایسا لگتا ہے کے طلبہ کے احتجاج کے سبب یہ بحران پید اہوا ۔جس کا فائدہ جماعت اسلامی اور پاکستان کی آئی ایس آئی نے اٹھایا ۔موقع پرست چاہے وہ اپوزیشن بی این پی ہو ہا جماعت اسلامی جو شدت پسند پاکستان حمایتی اسلامی گروپ ہے جو سڑکوں پر سر گرم ہے وہ احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو گئے اور مظاہروں میں دنگہ بھڑکانے میں ان کا ہاتھ ہے ۔سوال اٹھتا ہے آخر بنگلہ دیش میں اتنا تشدد تحریک نے اتنا مشتعل کیسے بنا لیا ؟کیوں ہندوﺅ کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے ان کے پیچھے کسی کی ایسی چال تو نہیں جس کے دورس اثر بھارت پر پڑے گا ۔اس کے پیچھے چین پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہو سکتا ہے سازش آئی ایس آئی نے رچی ہو دونوں اسلامک طلبہ کیمپ جماعت اسلامی کے طلبہ انجمن ہے خفیہ رپوٹو کے مطابق آپریشن ریجیم چینج کا خاکہ لندن میں آئی ایس آئی کے مدد سے تیار کیا گیا تھا اور بنگلہ دیش میں لاگو کیا گیا بنگلہ دیش کی حکام کے پاس بڑی پارٹی کے لیڈر کے آئی ایس آئی دہشت گردوں سے ملنے کے بھی ثبوت ہیں ۔آئی ایس آئی کے لوگ اپنے حمایتی طلبہ کو بھڑکانے میں لگے رہے ۔چین کا تو پلان سبھی جانتے ہیں وہ بھارت کرو مرو اور شعاﺅ سے گھیرنے میں لگا رہتا ہے ۔
(انل نریندر)
08 اگست 2024
بہتر پرفارمنس کی ابھی بھی چنوتی !
دس سال بعد کانگریس لوک سبھا میں 99 سیٹ حاصل کر 100 کے نمبر کے قریب پہنچنے میں کامیاب رہی لیکن کانگریس کے سامنے ابھی بھی بہت سی چنوتیاں ہیں ۔کمزور تنظیم آپسی گروپ بندی ،ورکروں میں جوش کی کمی ،پیسہ کی کمی وغیرہ ابھی بھی چنوتیاں ہیں ۔آنے والے دنوں میں 4 ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں ۔فصل تیار ہے لیکن کاٹنے والا چاہیے ۔لوک سبھا چناو¿ 2024 میں کانگریس نے بہتر پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ۔پارٹی نے قریب 2 فیصدی ووٹ کے اضافہ کے ساتھ اپنی سیٹ میں بھی اضافہ کیا ہے ۔کئی ریاستوں اور مرکزی حکمراں ریاستوں میں پارٹی کی پرفارمنس کمزور رہی ہے ۔سال 2014 میں کانگریس کو 44 او ر سال 2019 میں 52 سیٹیں ملی تھیں ۔اس سال اس کی سیٹیں بڑھی ہیں لیکن پنجاب میں 7 اور کیرل 13 کو چھوڑ کر کہیں بھی کانگریس اپنے بل پر کسی بھی ریاست میں سب سے بڑی پارٹی نہیں بن پائی ۔ہندی بیلٹ میں کانگریس برسوں سے بی پارٹر بنی ہوئی ہے ۔بہار میں کانگریس کو تین سیٹیں ،آر جے ڈی اور اترپردیش میں 6 سیٹیں سماج وادی کے سبب ملی ہیں ۔مہاراشٹر میں کانگریس نے سب سے زیادہ 13 سیٹیں جیتی ہیں ۔لیکن یہاں بھی شردپوار ،ادھو ٹھاکرے کے ساتھ اتحاد تھا ۔جن ریاستوں میں سیدھی ٹکر والے راجستھان میں کانگریس کو 8 ،بھاجپا کو 14 ،کرناٹک میں 9 بھاجپا کو 7 ، آسام میں 3 بھاجپا کو 9 ، ہریانہ میں 5 بھاجپا کو 5 ،تلنگانہ میں 8 بھاجپا کو بھی 8 سیٹیں ملیں ۔ان ریاستوں میں کانگریس کا کھاتہ نہیں کھل پایا ۔دہلی ،مدھیہ پردیش ،اتراکھنڈ ،آندھرا پردیش ،اروناچل پردیش،ہماچل پردیش ،لداخ ،میوزرم ،سکم ،تریپورہ ،دمن دیپ ،جموں کشمیر اور انڈومان نکوبار ،شامل ہیں ۔کانگریس کی حالت پتلی رہی خوشی کی بات یہ ہے ۔بھاجپا سے سیدھے مقابلے میں اس کا اسٹرائک ریٹ بڑھا ہے اس سے مستقبل میں پارٹی بہتر پرفارمنس کر سکتی ہے ۔سال 2019 میں بھاجپا کےخلاف کانگریس کا اسٹرائک ریٹ صرف 8 فیصدی تھا ۔اس بار بڑھ کر 29 فیصدی ہو گیا ۔حال ہی میں ہریانہ کانگریس میں گروپ بندی کا معاملہ سامنے آیا۔تمام کوششوں کے باوجود پارٹی پردیش میں گروپ بندی روکنے میں اب تک کامیاب رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہریانہ میں چناو¿ سے پہلے دپندر ہڈا اور کماری شیلجا آپس میں لڑرہے ہیں ۔اسمبلی چناو¿ سے ٹھیک پہلے پردیش میں گروپ بندی سے پارٹی لیڈر شپ الجھن میں ہے ۔پارٹی لیڈر شپ میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ایک بڑی چنوتی بنا ہوا ہے ۔تقریباً یہی حال زیادہ ریاستوں میں ہے ۔پارٹی اگر اسمبلی چناو¿ میں متحد ہوکر میدان میں نہیں اترتی تو اس کے لئے جیت کی دہلیز پر اترنا آسان نہیں ہوگا ۔اس درمیان منگلوار کو کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے کرناٹک کے لیڈروں سے ملاقات کی اس میں وزیراعلیٰ سدارمیا اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار بھی موجود رہے ۔ان کو آپسی تال میل سے کام کرنے کی نصیحت دی ۔دراصل کرناٹک میں پردیش کانگریس صدر کی ذمہ داری نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار سنبھال رہے ہیں ۔لوک سبھا چناو¿ میں امید کے مطابق پارٹی اچھا پرفارمنس نا دے پانے کے بعد پارٹی میں گروپ بندی سامنے آگئی ہے ۔پردیش میں جلد بلدیاتی چناو¿ ہیں ۔پارٹی میں گروپ بندی کا فائدہ سیدھے بھاجپا کو ملتا ہے ایسے میں پارٹی کو متحد ہو کر چناو¿ میدان میں اترناہوگا اور گروپ بندی سے سختی سے نمٹنا ہوگا ۔
(انل نریندر)
کسان آندلون کے بیچ نائب کا ماسٹر اسٹروک !
ہریانہ کی نائب سینی کی قیادت والی بھاجپا سرکار نے اسمبلی چناو¿ سے ٹھیک پہلے کسانوں کا 133 کروڑ 55 لاکھ 48 ہزار روپے کا بقایا قرض معاف کرنے کا اعلان کیا ہے ۔وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی اتوار کو کرکچھیتر میں منعقد مانیسر اسمبلی حلقہ میں پبلک ریلی کو خطاب کررہے تھے انہوں نے ریاست کی سبھی فصلوں کی خرید کم از کم مارجنل پرائز (ایم ایس پی ) پر خریدینے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ریاستی سرکار کی جانب سے 14 فصلوں کی خرید ایم ایس پی پر کی جارہی ہے ۔اب ہریانہ کی دیگر فصلوں کو بھی ایم ایس پی پر ہی خریدا جائے گا ۔وزیراعلیٰ نے ضلع روہتک نوح فتح آباد اور سرسا میں 2023 سے پہلے قدرتی آفت میں فصلوں کو ہوئے نقصان کا معاوضہ کی التوا 137 کروڑ روپے کی رقم ادائیگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں یہ رقم متعلقہ کسانوں کے کھاتے میں چلی جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب کسانون کو نئے ٹیوب ویل کنکشن کے لئے تین ستارے والی موٹر دیش بھر میں کہیں بھی خریدنے کی اجازت ہوگی ۔حال ہی میں ریاست میں تین ستارے والی موٹر کی صرف دس کمپنیاں ہی رجسٹرڈ ہیں ۔اب دیش میں تین ستارہ موٹر بنانے والی سبھی کمپنیاں ہریانہ کے پینل پر آجائیں گی اور کسان اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی کمپنی سے تین ستارہ موٹر خرید پائیں گے اس سے 31 دسمبر 2023تک نئے ٹیوب ویل کنکشن کے لئے درخواست دینے والے کسانوں کو بڑی راحت ملے گی اس کے علاوہ بجلی کا ٹرانسفارمر خراب ہونے پر ٹرانسفارمر کا خرچ کسانوں سے نہیں لیا جائے گا بلکہ بجلی کارپوریشن اپنے خرچ پر بدلے گی ۔مرکزی سرکار ہر سال 24 فصلوں کی ایم ایس پی ڈکلیئر کرتی ہے ہریانہ دیش کا ایک واحد راجیہ تھا جو پہلے سے ہی 14 فصلوں کی خرید ایم ایس پی پر کررہا ہے اب وہ 24 فصلیں ایم ایس پی پر خریدنے والا دیش کی پہلی واحد ریاست بن گئی ہے ۔فصلوں کی خرید ایم ایس پی پر کرنے کو لے کر ہریانہ اور پنجاب کے کسان پچھلے کئی برسوں سے آندولن کررہے تھے ۔تین زرعی قوانین کے خلاف اور ایم ایس پی کی فصلوں کی کرید کو لے کر دہلی ،ہریانہ کی سرحد پر پورے ایک سال تک دھرنے پر بیٹھے اس میں 700 سے زیادہ کسانوں کی جانیں گئیں ۔اب پھر سے ہریانہ ،پنجاب کی سرحد پر امبالہ کے قریب شمبھو بارڈر پر ایم ایس پی کے لئے دھرنے پر بیٹھے ہیں اس بیچ وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی کی سرکار نے کرکچھیتر میں ایم ایس پی پر سبھی 24 فصلوں کو خریدنے کا اعلان کر کسانوں کی ایک بڑی مانگ پوری کر دی ہے ۔یہ آندولن کرنے والے کسانوں کی ایک بڑی جیت ہے ۔ہریانہ کی سرکار کے اس فیصلے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دیش کی دیگر ریاستیں بھی اسی طرح کا اعلان کریں گی جس سے دیش کا انداتا اور اس کی کھیتی کی پوری لاگت ملنی چاہیے۔ایم ایس پی کی گارنٹی کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ سینی کی ٹیو ب ویل کنکشن سے متعلق شکایتوں کے ازالہ کا بھی ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے قریب پہلے اسے نائب سنگھ سینی کا ماسٹر اسٹروک کہا جائے تو یہ کوئی تعجب نا ہوگا ۔
(انل نریندر)
06 اگست 2024
موساد کی ٹرمپل اسٹرائک : جنگ کی تیاری !
اسرائیل کی ہٹ لسٹ میں شامل دو بڑے نام تین گھنٹے کے اندر موساد نے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔تہران میں ہوئی حماس چیف اسماعیل ھنیہ کی موت نے ساری عرب دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔حملہ ہندوستانی وقت کے مطابق بدھوار اندھیرے 4 بجے ہوا ۔ھنیہ ایرانی صدر مسعود قزسقیان کی حلف برداری میں شامل ہونے کے لئے تہران آئے ہوئے تھے فلسطین کے پی ایم رہ چکے ھنیہ ابھی ضلع وطنی میں قطر رہ رہے تھے اس سے پہلے اسی دن دیر رات ایک بجے اسرائیل (موساد ) نے بیروت میں حملہ کر ایران کے بڑے حزب اللہ کمانڈر فعود کو مار گرایا ۔فعود پر 41 کروڑ روپے کا انعام تھا اس نے 1983 میں 241 امریکی فوجیوں کو مارا تھا ۔وہیں ا یران میںحماس کے سیاسی چیف اسماعیل ھنیہ اور فعود کے بعد اسرائیلی فو ج نے حماس کے فوجی شاکھ کے چیف محمد داعف کو مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے ۔جمعرات نے اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ہوائی حملے میں داعف ماراگیا ہے ۔اسرائیل نے 13 جولائی کو اسے نشانہ بناتے ہوئے غزہ کے خان یونس شہرمضافاتی علاقوں میں حملہ کیا جس میں داعف مارا گیا ۔فلسطین کے مسلح گروپ حماس کے لیڈر اور اسرائیل کی آنکھ کا کانٹا اسماعیل ھنیہ کے ایران کی راجدھانی تہرا ن میں مارے جانے سے دنیا حیران ہے ۔آخر ہائی سیکورٹی زون میں ہوٹل کے کمرے کے اندر اسے کیسے مارا گیا ۔سوال اٹھ رہے ہیں کہ ایران بتارہا ہے کہ یہ ہوائی حملہ تھا کیوں کہ ایسا کہہ کر وہ اسرائیل کو دوسرے دیش پر حملہ کرنے کا الزام لگا سکتا ہے ۔حالانکہ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قتل اسرائیلی خفیہ ا یجنسی موساد نے کروایا ہے ۔اسے پتہ تھا کہ ھنیہ تہران میں کب آئے گا اور کس ہوٹل میں کس کمرے میں رہے گا اس نے ھنیہ کے کمرے میں پہلے سے ہی بم لگایا ہوا تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کیا گیا ۔ایجنسیوں نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایاکہ حملہ کمرے میں دھماکہ سے کیا گیا ۔مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر امریکی وزارت دفاع نے وہاں جنگی جہازوں کا دستہ اور جنگی بیڑے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ایران کے سپرم لیڈر آیت اللہ خامنئی نے ھنیہ کے قتل پر اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور کہا کہ اسماعیل کی موت کا بدلہ لینا ہمارا فرض ہے کیوں کہ وہ ہمارے مہمان تھے ۔روس ،چین اور ترکیہ نے بھی ھنیہ کے قتل کی مذمت کی ہے ۔اسرائیل کی جس طرح سے گھیرا بندی کی جارہی ہے اس سے مغربی ایشیا میں کشیدگی اور جنگ کے بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے ۔حال فی الحال لبنان کی آتنکی تنظیم حزب اللہ اور ازرائیل کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں لیکن آنے والے دنون میں ان کے درمیان کھل کر جنگ ہوئی تو ہزاروں لوگ مارے جاسکتے ہیں ۔حزب اللہ نے اپنے کمانڈر کی موت کا بدلہ لینے کا عہد کر لیا ہے ۔ایران بھی بدلہ لینا چاہتا ہے اس سے اسرائیل فلسطین عرب جنگ اب مشرقی وسطیٰ میں پھیلنے کے آثار ہیں ۔بین الاقوامی پش منظر یہ ہے کہ جنگ کے تین زون ہیں روس ،یوکرین ،اسرائیل ،فسلطین ،چین،طائبان ان علاقوں میں جنگ پھیلتی ہے تو جان مال کر بھاری نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔
(انل نریندر)
میرے خلاف ای ڈی ریڈ کی پلاننگ!
راہل گاندھی نے 29جولائی کو پارلیمنٹ میں تقریر کی تھی اس دوران انہوں نے کہا کہ مودی سمیت 6 لوگ دیش کو چکرویوہ میں پھنسا رہے ہیں ۔کانگریس اپوزیشن لیڈر ایم پی راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف ای ڈی ریڈ کی پلاننگ کررہی ہے ۔انہوں نے دیر رات 1.52 بجے ایکس پر ڈالی گئی پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا انہوں نے لکھا کہ 2 ان 1 کو میرا چکرویوہ بھاسن پسند نہیں آیا ۔ای ڈی کے اندرونی ذرائع نے مجھے بتایا کہ میرے خلاف ریڈ کی پلاننگ بنائی جارہی ہے میں ای ڈی حکام کا ہاتھ پھیلا کر انتظار کررہا ہوں۔چائے اور بسکٹ میری طرف سے ؟ دراصل راہل گاندھی نے 29 جولائی کو پارلیمنٹ سیشن کے دوران بجٹ 2024/25 پر لوک سبھا میں تقریر کی تھی اسی دوران انہوں نے بجٹ کا موازنہ مہابھارت میں چکرویوہ سے کیا اور کہا کہ 6 لوگوں کا ایک گروپ پورے دیش کو چکرویوہ میں پھنسا رہا ہے یہ چھ لوگ ہیں نریندر مودی ،امت شاہ ،موہن بھاگوت ،اجیت ڈوبھال ،اڈانی اور امبانی ہیں ۔انہوں نے کہا تھا کہ ہزاروں سال پہلے کرک چھیتر میں ابھی منیو کے چکرویوہ میں پھنسا کر 6 لوگوں نے مارا تھا ۔چکرویوہ کا دوسرا نام ہے پد چکرویوہ جو کمل کے پھول کی شکل میں ہوتا ہے اس کے اندر ڈر اور تشدد ہوتا ہے ۔راہل نے کہا کہ 21 ویں صدی میں ایک نیا چکرویوہ رچا گیا ہے وہ بھی کمل کے پھول کی شکل میں تیار ہوا ہے اس کا نشان پردھان منتری اپنے سینے پر لگا کر چکتے ہیں ۔ابھیمنیو کے ساتھ جو ہوا وہ بھارت کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔وہیں راہل گاندھی کے دعوے پر بھاجپا نیتا بولے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے کہ یہ دیش کی بدقسمتی ہے کہ راہل گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں وہ پارلیمنٹ کے اندر جھوٹ بولنے کے ساتھ ساتھ باہر بھی گمراہ کن پروپیگنڈہ کررہے ہیں وہ دنیا سے ذات پوچھ رہے ہیں اور اپنی ذات بتانے سے بھاگ رہے ہیں اگر ان میں ہمت ہے تو ای ڈی کے اس ادھیکاری کا نام بتائیں جس نے انہیںچھاپہ پڑنے کی خبر دی ہے ۔بھاجپا ایم پی تروندر سنگھ راوت کہتے ہیں کہ نا چور کی داڑھی میں تنکا وہی ڈر انہیں (راہل گاندھی ) کو ستا رہا ہے ۔راہل کے دعوے پر انڈیا بلاک کے نیتا بھی بولے کانگریس ایم پی منیکم ٹیگور نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں بھاجپا سرکار اور پی ایم مودی پچھلے دس برسوں سے اپوزیشن لیڈروں کوبدنام کرنے کے لئے ای ڈی اور سی بی آئی ،انکم ٹیکس کے بڑے پیمانے پر بیجا استعمال کیا ہے ۔2024 میں بھاجپا اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکی ۔یہ سرکار پھر سے اپوزیشن کے نیتا کے خلاف مرکزی ایجنسیوں کا بیجا استعمال شروع کر رہی ہے ۔بلکہ یہ بھی کہا جائے کہ ای ڈی کے چھاپے تو چالو ہو چکے ہیں وہی ای ڈی راج واپس آرہا ہے ۔شیو سینا ٹھاکرے گروپ کے لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ وہ سبھی لوگ جو جمہوریت کوبچانے کے لئے سرکار کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ان کے کلاف سازش ہو رہی ہے کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ہم سب پر حملہ ہوسکتاہے راہل گاندھی پر حملہ ہوسکتا ہے کیوں کہ پچھلے مہینے ہم سب نے راہل گاندھی کی قیادت میں سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ان سے ان کی نیند اڑ گئی ہے ۔بیرون ممالک میں ہمارے خلاف سازشیں رچی جارہی ہیں وہیں شیوسینا نیتا پرینکا چترویدی نے کہا کہ راہل گاندھی کو جانکاری ملی ہے کہ ای ڈی کے حکام ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارسکے ہیں جب سرکار ڈرتی ہے تو وہ ای ڈی اور سی بی آئی کو آگے کر دیتی ہے ۔مرکزی سرکار نے مہوا موئترا ،سنجے راوت او سنجے سنگھ اور کیجریوال وہیمنت سورین کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا تھا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...