Translater
30 مارچ 2023
ممبرشپ جانے کے بعد کانگریس کی پہلی پریکشا!
کانگریس نیتا راہل گاندھی کی لوک سبھا ممبر شپ منسوخ ہونے کے ساتھ ہی 2024کے انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کا خاکہ بننا طے ہو گیا ہے ۔ پہلا سیاسی مورچہ اگلے ماہ ہونے والے کرناٹک اسمبلی چناو¿ ہوگا ۔ اس واقعے کے بعد بدلنے والے سیاسی جائزوں اور آنے والے نتیجوں کا اثر مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر پڑے گا۔ کرناٹک میں بھاجپا اور کانگریس کے درمیان چناو¿ مہم کا ایک اہم اشو ہوگا کہ راہل کی پارلیمنٹ سے برخاستگی ۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں پارٹی ابھی تک 124سیٹوں پر اپنا امیدوار اعلان کرچکی ہے ۔ باقی سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان فی الحال ٹال دیا ہے۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ جے ڈی ایس کے ساتھ بھلے ہی رسمی سمجھوتہ ہو لیکن اس کی باقاعدہ پہل ہونی چاہئے ۔ اس بات چیت کی کمان خود راہل اور پرینکا گاندھی نے سنبھالی ہوئی ہے۔ ملکارجن کھڑگے اور سونیا گاندھی اس کام میں مدد کر رہیں ہیں ۔ یہ بھی مانا جا رہاہے کہ چناو¿ کمیشن جلد ہی وائیناڈ لوک سبھا حلقے میں چناو¿ کا اعلان کردے گاجو راہل گاندھی کی وجہ سے خالی ہوئی ہے ۔ پارٹی میں اس بات پر بھی دباو¿ پر وائیناڈ سے پرینکا گاندھی کو امیدوار بنایا جائے لیکن ابھی فیصلہ نہیں ہو ا ہے اور یہ نوٹیفیکیشن آنے کے بعد ہی ہوگا۔ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ایکتا ہمیشہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہوتی ہے ۔اب کانگریس کیلئے جو پارٹیاں ساتھ ہیں ان میں وی آر ایس ،عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس شامل ہیں ۔لیکن پچھلے دنوں وی آر ایس نے اپنے موقف میں کافی تبدیلی دکھائی ہے ۔چوںکہ وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راو¿ کی بیٹی کے کویتا کو بھی دہلی شراب گھوٹالے میں ای ڈی نے پوچھ تاچھ کیلئے بلایا تھا۔ وہیں عام آدمی پارٹی کے نیتا منیش سسودیا اور ستیندر جین سی بی آئی اور ای ڈی کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے نیشنل کنوینر اروند کیجریوال نے راہل گاندھی کی ممبر شپ منسوخ کرنے کو لیکر بھاجپا اور وزیر اعظم کے خلاف جتنا جارحانہ بیان دیا ہے اس کے کانگریس میں کافی جوش ہے۔ اسی طرح ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک اور ان کی بیوی ای ڈی کے دفتروں کے چکر لگا رہے ہیں۔ ان تینوں پارٹیوں کے علاوہ آر جے ڈی کے نیتا لالو پر ساد یادو ،رابڑی دیوی،تیجسوی یادو،میشا بھارتی ،اور این سی پی کی نیتا سپریا سولے ،شیو سینا کے نیتا سنجے راو¿ت جیسے تمام نیتاو¿ں پر الگ الگ ایجنسیوں نے کیس درج کر رکھے ہیں ۔کانگریس کا ماننا ہے کہ بھاجپا ان معاملوں کا استعمال اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کیلئے کر سکتی ہے۔ لیکن زیادہ تر نیتاو¿ں نے یقین دلایا ہے کہ اس ایکتا کو توڑنا اب مشکل ہے ۔ کرناٹک کے چناو¿ کے نقطہ نظر سے کافی اہم ہے۔ راہل گاندھی کی ممبر شپ منسوخ ہونے کے بعد کانگریس کی یہ پہلی پریکشا ہوگی۔
(انل نریندر)
بر خاستگی غیر ملکی میڈیا کی نظروںمیں !
کانگریس نیتا راہل گاندھی کی ایم پی ممبر شپ منسوخ ہونے کو لیکر رد عملوں کا دور جاری ہے۔مجرمانہ ہتک عزت کے اس معاملے میں سورت کی ایک عدالت نے راہل کو دو سال کی جیل کی سزا سنائی اس کے بعد ان کی لوک سبھا کی ممبرشپ منسوخ ہو گئی ۔ راہل گاندھی نے اس مسئلے پر اپنی بات رکھی اور کہاکہ معاملہ عدالت کا ہے اس بارے میں میں کوئی رائے زنی نہیں کروںگا۔ حالاںکہ انہوںنے وزیر اعظم مودی اور اڈانی گروپ کے درمیان کے رشتوں پر سوال اٹھایا اور پوچھے کئی سوال ۔ انہوںنے الزام لگایا کی میری ممبرشپ منسوخ کی گئی کیوں کہ پی ایم میرے اگلے امکانی بھاشن سے ڈرے ہوئے تھے۔ جو اڈانی پر ہونے والی تھی ۔ راہل گاندھی کی لوک سبھا ممبر شپ منسوخ ہونے کے مسئلے پر غیر ملکی میڈیانے بھی اس پر اپنی رائے زنی کی ہے۔ برطانوی اخبار د گارڈین نے عنوان دیا ہے ’ہتک عزت معاملے میں اپوزیشن لیڈر کا اخراج‘ اخبار لکھتا ہے کہ بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ہتک عزت معاملے میں سزا ملنے کے 24گھنٹے کے بعد ہی انہیں پارلیمنٹ کے ایم پی شپ سے ہٹادیا گیا۔ راہل فوراً جیل نہیں جائیںگے کیوںکہ انہیں فوری ضمانت مل چکی ہے ۔ اب اگر ہائی کورٹ ان کی سزا پر روک لگا دیتا ہے تو لوک سبھا کی ممبری کیلئے پھر سے اہل ہو جائیںگے ۔ اخبار نے سیاسی معاملوں کے ایکسپرٹ عاصم علی کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ بی جے پی کے راہل کے بیان پر مرکوز کرنے سے حیران ہیں ۔ مجھے سمجھ مین نہیں آرہا ہے کہ یہ کیسے حکمت عملی ہے چوںکہ اس سے راہل اور کانگریس کو ہی فائدہ ہوگا۔ بی جے پی راہل سے عدم محفوظ محسوس کرتی ہے ۔ اور ا س سے کانگریس کی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سرکاری مودی کی تنقید بر داشت نہیں کر سکتی ہے ۔ امریکہ اخبار نیویارک ٹائمز نے عنوان دیا ہے کہ ’راہل گاہل گاندھی کو ایم پی شپ سے ہٹاکر کے مودی کو بھارت کی اکثریتی فرقے کی روایت کو ختم کرنے والا ہندو راشٹر وادی نیتا بتایا تھا۔ جو دیش کی جمہوریت کو ختم کرسکتا ہے۔ جمعہ کو مودی کے ساتھیوں نے ان کا یہ کام پورا کردیا ۔ اخبار کے مطابق پی ایم کے امکانی حریفوں کو مات دینے کیلئے ان کے ساتھیوں نے یہ سب سے بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ اور احتجاج کی آواز کے خلاف کورٹ گئی تھی ۔واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے ’بھارت میں مودی کے نکتہ چیں راہل گاندھی کو پارلیمنٹ سے نکالا ‘ وہ حالیہ مہینوں میں کرپشن کا اشو اٹھاکر اور مودی سرکار پر بھارت کی جمہوریت کی بنیاد بگاڑنے کا الزام لگاکر ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کرتے رہے ۔پچھلے سال راہل گاندھی نے ایک مقبول ایکتا مارچ نکالا تھا اور مودی سرکار پر دیش کو بانٹنے کاالزام لگایا تھا۔ اپوزیشن مودی کی پارٹی بی جے پی کو حال کے برسوں میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرتی تقریر اور تشدد بھڑکانے کا قصور وار مانتے ہیں ۔ حالاںکہ بی جے پی ان الزامات سے انکار کرتی ہے اور انکی حمایت کرتی ہے ۔ گجرات سے ایک چائے بیچنے والے کے بیٹے نے دیش کی حالت میں بہتری لادی ہے ۔
(انل نریندر)
28 مارچ 2023
یوگی نے بنا یا ریکارڈ !
اتر پردیش میں مسلسل چھ برس تک وزیر اعلیٰ بنے رہنے کا ریکارڈ بنانے کے بعدیوگی آدتیہ ناتھ اتوار کی صبح ایودھیا میں ہنومان گڑھی میں سنکٹ موچن ہنومان جی اور رام للا کے درشن اور پوجن کیا ۔ اور آرتی اور پریکرمہ کی ۔اتر پردیش میں اسمبلی چناو¿ میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں سرکار بنائی تھی ۔یوگی نے 19مارچ 2017کو پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے تھے ۔2022کے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کو دوبارہ اکثریت ملنے کے بعد یوگی 25مارچ 2022کو پھر وزیر اعلیٰ بنے۔یوگی نے چھٹے برس کی میعاد پوری ہونے کے بعد ریاست میں سب سے زیادہ وقت تک وزیر اعلیٰ بننے کا ریکارڈ اتوار کو پورا کرلیا۔ یوگی ایودھیا گئے اور ہنومان جی کے درشن کر انہوںنے خوشحال صحت مند اترپردیش کی کامنا کی ۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے رام للا کے درشن کئے ۔ اور رام مندر تعمیر کی پروگریس کے بارے جانا ۔ لکھنو¿ میں سنیچر کو ایک تقریب میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے وزیر اعلیٰ کی شکل میں یوگی آدتیہ ناتھ کی میعاد کے چھ سال پورے ہونے پر کہا کہ شاید آپ لوگوں کو اس بات کی جانکاری نہیں ہوگی کہ آج تاریخ کا اہم دن ہے ۔ چوں کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے بطور وزیر اعلیٰ چھ سال پورے کر لئے ہیں۔ اور اب تک اتنے لمبے وقت تک کوئی وزیر اعلیٰ نہیں رہا ۔ ڈاکٹر سمپورن جی اب تک کے سب سے زیادہ وقت تک رہنے والے وزیر اعلیٰ تھے لیکن ان کے ریکارڈ کو کسی نے نہیں توڑا ۔ یوگی ہی ہے جنہوںنے اسے توڑا ہے۔ دسمبر 1954کو پہلی بار اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ۔ ان کی میعاد اپریل 1957تک رہی ۔ ڈاکٹر سمپورن آنند نے دوبارہ 10اپریل 1957کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا اور چھ دسمبر 1960تک وہ اس عہدے پر بنے رہے ۔ ہم یوگی آدتیہ ناتھ جی کو اس ریکارڈ کیلئے بدھائی دیتے ہیں ۔ اور ہمیں امید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ ان کی پاری لمبی ہے اور اسی طرح اترپردیش کا وکاس کرتے ہو ئے مافیاو¿ں کی صفائی بھی کرتے رہیں۔
(انل نریندر)
دیش میں جمہوریت کیلئے پریس کی آزادی ضروری !
الگ الگ نظریات کے احترام کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے بدھوار کو کہا کہ نااتفاقی کو نفرت میں نہیں بدلنا چاہئے اور ناہی نفرت کو تشدد میں بدلنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔نئی دہلی میں رام ناتھ گوئنکہ قابل قدر صحافت ایوارڈ کے 16ویں تقریب میں چیف جسٹس چندر چوڑ مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوئے تھے انہوںنے کہا کہ ہمارے دیش کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے کئی صحافی ناگزیں حالات میں کام کرتے ہیں ۔ لیکن ان حالات اور احتجاجوں کا سامنا کرتے ہوئے اٹل رہتے ہیں یہ ٹھیک ویسی خوبی ہے ،جسے گنوانانہیں چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ صحافیوں کی شکل میں ہو سکتا ہے ہم اس نظریہ سے متفق نہ ہو ںجو کسی صحافی نے اپنانا ہو یا جس نتیجے پر پہنچے ہوں ۔میں بھی خود کو کئی دفعہ صحافیوں سے غیر مطمئن پاتا ہوں آخر کار ہم میں سے کون اور دیگر سبھی لوگ متفق ہیں ؟ لیکن عدم اتفاقی کو نفرت میں نہیں بدلنا چاہئے اور نفرت کو تشدد میں نہیں بدلنا چاہئے ۔ جمہوریت کیلئے آزاد پریس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا دیش کی جمہوریت کے چوتھا ستون ہے اور اس طرح جمہوریت کا ایک اہم جز ءہے ۔ایک طریقہ کار صحت مند جمہوریت کو ایک ایسے ادارے کی شکل میں صحافت کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے جو حکمراںسرکار سے مشکل سوال پوچھ سکے ۔ یا جیسا کہ عام طور پر جانا جاتا ہے،اقتدار سے سچ بولیں ،کسی بھی جمہوریت کی کی اقتدار سے سمجھوتہ تب کیا جا تا ہے جب پریس کو ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے۔ الگ کسی دیش کو جمہوریت میں بنے رہنا ہے تو پریس کو آزاد رہنا ہوگا ۔ انہوںنے کہ ذمہ دار صحافت سچائی کی کرن ہے جو ہمیں بہتر مستقبل کی طرف لے جاتی ہے یہ انجن جو سچائی ،انصاف اور برابری کی تلاش کی بنیا دپر جمہوریت کو آگے بڑھاتی ہے ۔ ڈیجیٹل دور کی چنوتیوں میں صحافیوں کیلئے رپورٹینگ میں پختہ غیر جانبدار اور ذمہ داری کے پیمانوں کو بنائے رکھنا پہلے سے بھی زیادہ اہم ہے۔ چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انڈین ایکسپریس کے چیف ایڈیٹر راج کمل جھاں نے کہا کہ آزاد پریس کیلئے آپ کے نظریات اور چتاو¿نیوںسے ہمار ا یہ بھروسہ پختہ ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ صحافیوں اور صحافت کیلئے ایک دھورو تارا بنا رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ سال در سال ایک کے بعد ایک معاملے اس چکر سے آگے کی راہ کو روشن کیا ہے ۔ اور عدالتیں ہماری آزادی کو بنائے رکھنے کیلئے حکمراں فریق پر دباو¿ بناتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب روشنی ہلکی ہوتی ہے جب ایک رپورٹر کو آتنک وادیوں کیلئے بنے قانون کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے ۔ دیگر کسی سوال پوچھنے کیلئے ، ایک کارٹون بنانے کیلئے اسے جیل میں ڈال دیا جاتاہے ۔تب ہم دھورو تارے کی طرف دیکھتے ہیں اور ہمیں روشنی ملتی ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...