17 ستمبر 2016

سپا میں رسہ کشی کتنی فطری کتنی ڈرامہ بازی

اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے جس طرح سے غیر قانونی کھدان اور کرپشن کے الزامات سے گھرے اپنے دو کیبنٹ وزیروں گائتری پرجاپتی اور راج کشور سنگھ کو برخاست کیا تب یہ اندازہ شاید ہی کسی کو تھا کہ سماجوادی پارٹی کے اندر چھڑی خانہ جنگی کتنی آگے بڑھ جائے گی؟وزرا کو ہٹانے کے پیچھے الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے صوبے میں ناجائز کھدان کی سی بی آئی جانچ پر روک لگانے سے انکار بیشک ایک بڑا سبب رہا ہو لیکن ان کے اس قدم کے سیاسی نفع نقصانات بھی تھے۔ وہ جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں 2017ء کا اسمبلی چناؤ جیتنا ہے توعوام کے سامنے ایک صاف ستھری ،ایماندار ساکھ پیش کرنی ہوگی۔ اس لئے کسی بھی داغی وزیر کو وہ چناؤ میں نہیں اتارنا چاہتے۔ اس سے پہلے دبنگ مختار انصاری کی جماعت قومی ایکتا دل کا سماجوادی پارٹی میں انضمام بھی ان کے احتجاج کے سبب نہیں ہوسکا۔ انتظامیہ پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے مقصد سے اکھلیش نے چیف سکریٹری کو بدل ڈالا۔ معاملہ یہیں تک نہیں رکا۔ صوبہ میں اقتدار کے کئی مرکز کے عام تصور کو بدلنے کیلئے چاچاؤں کے اثر سے انتظامیہ کو چست کرنے کے لئے اکھلیش نے چاچا شیو پال یادو کے اہم محکمے واپس لیتے ہوئے ان کا قد چھوٹا کردیا۔ سماجوادی پارٹی اور سرکار کی اس شہ مات کے کھیل میں پارٹی چیف ملائم سنگھ نے منگلوار کی شام غیر متوقع فیصلہ لیتے ہوئے وزیر اعلی اکھلیش یادو کی جگہ سینچائی اور پبلک ورکس وزیر شیو پال سنگھ یادو کو پارٹی کا پردیش پردھان بنادیا۔ شیو پال یادو کو پردیش پردھان بنانے کے حکم پرقومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کے دستخط ہیں۔ شیو پال کو انچارج کا یہ عہدہ پارٹی و خاندان میں توازن بنانے کے لئے سونپا گیا تھا۔ اکھلیش کا خیال ہے کہ آنے والے اسمبلی چناؤ محض ذات پات کی سیاست کے دم پر نہیں جیتے جاسکتے اس لئے وہ ترقی کے ساتھ سرکار کی ساکھ کو لیکر بھی کافی چوکس ہیں اور وہ اس تصور سے بھی نجات چاہتے ہیں کہ صوبے میں اقتدار کے کئی مرکز ہیں۔ اس کے لئے چاچاؤں کے اثر سے نجات کا سندیش دینا ان کے لئے ضروری لگتا ہے۔ ملائم سنگھ خاندان میں اقتدارکی لڑائی نئی نہیں ہے ان کے پہلے دبنگی مختار انصاری کی پارٹی کے سپا میں انضمام کو لیکر اکھلیش اور شیوپال میں ٹھن گئی تھی تب ملائم سنگھ بیچ بچاؤکرتے نظر آئے لیکن یہ صاف تھا کہ وہ خود یہ چاہ رہے تھے کہ مختار انصاری کی پارٹی کا سپا میں انضمام ہو۔ ملائم سنگھ یادو کے خاندان میں تیز ہوتی اقتدار کی لڑائی پریوار واد کو ہوا دینے کا نتیجہ ہے۔ پریوار واد کو فروغ دینے والی پارٹیوں میں ایسی اقتدار کی لڑائی ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ شیو سینا ، انڈین نیشنل لوک دل، اکالی دل و ڈی ایم کے پریوار کے ممبران کے درمیان بھی اتنی سیاسی بالادستی کو لیکر وقتاً فوقتاً رسہ کشی جاری رہتی ہے اور اس نے اب ایک سنگین رخ اختیار بھی کرلیا ہے۔ کچھ پارٹی تو چٹ پٹ کی بھی شکار ہوئی ہیں۔ پریوار واد کو فروغ دینے والی سیاسی پارٹیاں عام طور پر نجی کمپنی کے طور پر چلتی ہیں۔ اندرونی جمہوریت کی کمی میں ایسی پارٹیوں میں پردھان کا ہی آخری فیصلہ ہوتا ہے لیکن کئی بار ان کے فیصلے نئی پیڑھی کو راس نہیں آتے۔ اہم عہدوں کے لئے پریوار کے ممبران میں ٹکراؤ ہوجاتا ہے ۔ یہ ٹکراؤ جنتا کے سامنے ہوجاتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان پارٹی کو ہوتا ہے۔ سماجوادی کنبے میں تازہ رسہ کشی سامنے آنے سے یوپی کے سارے سیاسی اشو پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ بسپا چیف مایاوتی نے سپا سرکار میں چل رہی اٹھا پٹخ کو ڈرامہ بازی بتایا۔ انہوں نے کہا اسمبلی عام چناؤ سے ٹھیک پہلے اس طرح کی کارروائیاں ووٹروں کو بہکانے کی کوشش ہے۔ صوبے میں اور پیچیدہ اشو سے جنتا کی توجہ ہٹانے کی ایک قواعد ہے۔ دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے بنیادی اشو سے توجہ ہٹانے کو اسے سپا کا ناٹک قراردیا ہے جبکہ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے پریوار ایک ہے ،جھگڑا سرکار میں ہے اور اگر کوئی باہری شخص مداخلت کرے گا تو پارٹی اور سرکار کیسے چلے گی، کہہ کر بحث کو آگے بڑھادیا ہے۔ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اکھلیش کسے باہری بتا رہے ہیں؟ کیا ان کے نشانے پر امر سنگھ تو نہیں ہیں؟ اشاروں سے تو یہ بات واضح ہے اور جب خود امرسنگھ نے باہری لفظ پر جواب دیا تو اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔ اشو یہ ہے کہ سپا کنبے میں جھگڑا فطری ہے یا اس کی کہانی لکھی گئی ہے، کیا یہ اکھلیش یادو کی امیج بتانے کی کوشش ہے، کیا سپا سرکار میں کرپشن قانون و نظام اور بڑھتے جرائم سے توجہ ہٹا کر انہیں مقبول اور وکاس پروش ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ اپوزیشن پارٹی تو کم سے کم یہی کررہی ہیں لیکن سپا کا ایک طبقہ اس جھگڑے اور رسہ کشی کے لئے امر سنگھ کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ امر سنگھ کی واپسی کے بعد سے ہی اندر خانے چل رہی لڑائی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ امر سنگھ کو شیو پال یادو کا قریبی مانا جاتا ہے بلا شبہ چاہے ملائم سنگھ ہوں یا شیو پال یا پھر اکھلیش ہوں سبھی کا نشانہ سپا کو پھر سے اقتدار میں لانا ہی ہوگا لیکن ممکن ہے اس پر ایک رائے نہیں کے پارٹی کو کامیابی کی شکل میں کیسے لایا جائے۔ اگر اکھلیش یادو سپا کا چہرہ ہیں اور انہی کے نام پر ووٹ مانگے جانے ہیں تو پھر یہ ضروری ہے کہ انہیں اپنے طریقے سے سرکار و انتظامیہ چلانے کی آزادی ہو۔ وزرا کے انتخاب سے لیکر افسروں کی تقرری تک میں انہیں کھولی چھوٹ دینی ہوگی۔ خاندان کے دیگر ممبران کو اس میں دخل اندازی نہ کرنے کی سخت ہدایت پارٹی چیف ملائم سنگھ کو دینی پڑے گی نہیں تو وہی ہوگا کہ ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘۔
(انل نریندر)

تو اس لئے پاکستان چین پر قربان ہے

یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ چین پاکستان کے آپسی رشتے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ بھارت کے خلاف چین پاکستان کو ہر طرح کی ممکنہ مدد کررہا ہے۔ تازہ واقعہ میں بھارت کے مقابلے پاکستانی فوج کو مضبوط کرنے کے لئے چین نے اسے 8 ڈیزل زمرے کی آبدوز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کو یہ آبدوز 2028ء تک ملیں گی۔ پاکستان کی اگلی پیڑھی کی آبدوز پروگرام کے چیف اور سینئر بحریہ افسر نے اسلام آباد میں ڈیفنس امور کی پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کو یہ جانکاری دی ہے۔ یہ سودا چار سے پانچ ارب ڈالر کا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ چین بیحد کم داموں میں آسان قسطوں میں یہ رقم اپنے سدا بہار دوست پاکستان سے لے گا۔اپریل میں پاک بحریہ کے افسر نے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں 8 آبدوز میں سے 4 بنانے کا ٹھیکہ بھی حاصل کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی ٹائپ 038، اور ٹائپ041 زمرے کی جن روایتی آبدوز کا استعمال کرتی ہے ان کا ہلکا ایڈیشن پاکستان کو دیا جائے گا۔ یہ سودا ایسے وقت ہوا ہے جب بھارت کو فرانس سے ملنے والی نیوکلیائی توانائی سے چلنے والی اسکارپین آبدوز کا ڈاٹا لیک ہوا ہے۔ ان آبدوز کے شامل ہونے کے ساتھ ہند مہا ساگر میں ہندوستانی بحریہ چین کو ٹکر دینے کی پوزیشن میں آجائے گا۔ 2023ء تک چین پاکستان کو پہلی چار آبدوز سونپے گا اور چار دیگر آبدوز کی پروڈکشن کراچی میں 2028ء تک ہوگی۔ 6 کنگ زمرے کی آبدوز بھی پاکستان کو چین سے ملنی ہے اور اگلے سال تک 3 اگستا 90 بی زمرے کی پاک آبدوز کو ترکی میں اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ پاک ۔ چین فوجی گٹھ جوڑ میں2015ء اگست میں چین کی مدد سے کراچی میں 10 ارب ڈالر کی نیوکلیائی بھٹی کی تعمیر کا کام شروع ہوچکا ہے۔ ستمبر 2015ء میں چین نے پاکستان کو ٹائپ۔99 کے 300 جنگی ٹینک دینا ہیں۔ 2017ء سے یہ سپلائی شروع ہوگی،2016، میں اپریل میں پاک۔ چین نے جو ایف۔17 جنگی جہاز اپ گریڈ کا کام شروع کیا جون 2016ء میں ہوئے معاہدے کے مطابق پاکستان کی گوادر بندرگاہ کا ڈیولپمنٹ چین کررہا ہے۔ کہا جارہا ہے چین کا اب تک کا بیرون ملک میں یہ سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔ پاکستان اور چین کے درمیان بن رہے چائنا ۔پاکستان اکنامک کوریڈور کو گیم چینجر کہا جارہا ہے۔ سی پی آر سی 3 ہزار کلو میٹر لمبا روٹ ہوگا۔ اسے بنانے میں 15 سال سے زیادہ کا وقت لگے گا۔ اس میں ہائی وے ، ریلوے پائپ لائن کے ذریعے چین کے شہر شنگ جانگ سے پاکستان کے گوادر بندرگاہ کو جوڑا جائے گا۔ پروجیکٹ کا کل خرچ 75 بلین ڈالر تجویز ہے۔
(انل نریندر)

16 ستمبر 2016

کشمیرمیں اب کٹر پسنداسلامی تنظیم کا ہاتھ

آتنکی کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد سے کشمیر میں جاری تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پچھلے دو مہینے سے دہشت گردی کا ایک ایسا نیا دور شروع ہوا ہے کہ دہائیوں بعد ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جس نے 90 کی دہائی کی یادوں کو تازہ کردیا ہے۔ اس تازہ تشدد کے دور نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کشمیر کے اسلامی کٹر پسندوں نے آزادی کے نام پر جہاد چھیڑ رکھا ہے۔ لوگوں کو بھارت کے خلاف اکسانے والا علیحدگی پسند یا صرف ہڑتالی کلینڈر جاری کرنے تک سمٹ چکا ہے۔یہ جو پرتشدد مظاہرے ہو ہرے ہیں، ایک ساتھ پانچ پانچ جگہ پر سکیورٹی فورس پر حملہ کئے جارہے ہیں، اس کے پیچھے تمام کشمیر میں شریعت کا خواب دیکھنے والی جہادی تنظیموں نے کمان اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔جماعت اسلامی ،سوت الاسلام اور سوت العالیہ، سوت الحق، جماعت اہل حدیث سمیت مختلف مذہبی تنظیموں کے ذریعے مشترکہ طور سے گزشتہ دو ماہ سے وادی کے مختلف حصوں میں دیش مخالف ریلیاں ، جلسے، روڈ شو کئے جارہے ہیں۔ریلیوں کو خطاب کرنے والوں میں بیشک حریت نیتا بھی شامل ہیں لیکن اہم مقرر جہاد کا سبق پڑھاتے مختلف اسلامی آئیڈیالوجی کے عالم و مولوی ہی رہتے ہیں۔ پاکستان سے ناطہ کیا لا الہ لا اللہ، یہاں کیا چلے گا نظام مصطفی، الجہاد۔ الجہاد، لشکر آئی لشکر آئی۔ بھارت تیری موت آئی، یہ وہ چند نعرے ہیں جو پاکستان کے گروپوں کے درمیان کہیں نہ کہیں آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے جھنڈے و بینر لہراتی بھیڑ ریلیوں میں لگاتی ہے۔ 
کشمیری ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سرگرم مختلف مذہبی تنظیم بھارت سے علیحدگی پسندی کی حمایتی ہے ان میں سے کئی حریت کانفرنس کے ممبر بھی ہیں، لیکن ان کا ایجنڈا نہایت خطرناک و کشمیر کی جغرافیائی آزادی سے کہیں زیادہ ہے۔ انہی تنظیموں کا ہر ضلع میں ،محلہ میں کارڈر بن گئے ہیں۔یہ ریلیاں بھی ان علاقوں میں ہورہی ہے جہاں آتنکی تنظیموں کی پود اور آئیڈیا لوجی کی تنظیموں کا کیڈر زیادہ ہے۔ حریت نیتاؤں کوبھی اس سچ کا پتہ ہے اور کشمیر میں جاری ریلیاں اس سچائی کو دنیا کے سامنے لا رہی ہیں۔ ریاستی پولیس کے ذریعے اکھٹے کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ63 دنوں میں کشمیر میں ایسی چھوٹی بڑی 530 سے زیادہ ریلیاں و جلسے ہوچکے ہیں۔ ان میں آتنکی بھی بندوق لہراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کشمیر میں آزادی کا کوئی آندولن نہیں ہے۔ اسلامک کٹرواد ہی کشمیر میں تشدد کی جڑ ہے۔ حزب المجاہدین، لشکر طیبہ، جیش محمد، تحریک المجاہدین، حرکت الجہاد اسلامی سمیت آپ کسی بھی تنظیم کا نام لے لیں وہ اسلام کی کسی نہ کسی کٹر پسند آئیڈیا لوجی سے وابستہ ہے۔
(انل نریندر)

اس طرح سوشل میڈیا نے لگائی کاویری پانی میں آگ

کاویری کے پانی نے ایک بار پھر آگ لگادی ہے۔ تامل نوجوان کو سوشل میڈیا میں ایک کمینٹ سے شروع ہوا ٹکراؤ پیر کو پرتشدد ہوگیا۔ کرناٹک میں تمل نمبر کی اور تاملناڈو میں کرناٹک نمبر کی 105 سے زیادہ گاڑیاں آگ کے حوالے کردی گئیں۔50 سے55 دوکانوں کو لوٹ لیا گیا۔ اس دوران فائرننگ میں ایک شخص کی موت ہوگئی۔ کرناٹک کے سی ایم سدارمیا کے گھر پر لوگوں نے پتھر پھینکے۔ الگ الگ مقامات پر 200 سے زیادہ لوگ حراست میں لئے گئے۔ بنگلورو سمیت کئی شہروں میں اسکول، کالج بند کردئے گئے۔ کاویری آبی تنازعے کو لیکر ہوئے آندولن کے سبب تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا اندازہ ہے۔ تازہ جھگڑا سپریم کورٹ کے اس حکم کے احتجاج میں ہے جس کے تحت تاملناڈو کو 12 ہزار کیوسک پانی (پہلے 15 ہزار کیوسک دینے کی ہدایت تھی) 20 ستمبر تک روزانہ دینا ہے۔اس پر کرناٹک میں لوگوں نے سڑکوں پر اتر کر تمل بولنے والے افراد کی جان مال پر حملے کئے اس کو دیکھتے ہوئے 1991ء کے نسلی تشدد کی یاد تازہ ہوگئی۔ تین دن میں ہی تملوں کی سینکڑوں کروڑ کی املاک کو تباہ کردیاگیا جبکہ سپریم کورٹ نے تو اپنے تازہ حکم میں15 ہزار کیوسک پانی کی جگہ 12 ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کو کہا تھا اس سے کرناٹک کے لوگوں کا غصہ ٹھنڈا ہوجانا چاہئے تھا۔ اس کے باوجود اگر بنگلورو میں کنڑ حمایتیوں نے گاڑیوں میں آگ لگائی اور چنئی میں کنڑلوگوں کے ہوٹلوں پر حملے کئے تو ظاہر ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے جنتا کے درمیان ضرور غلط فہمی پیدا کی ہے۔ یہ عجیب غریب حالات اس وقت ہوئے جب کاویری ندی کے آس پاس بسے دونوں ریاستوں کے درمیان گہرے اور خوشگوار نسلی اور سماجی، ثقافتی، اقتصادی رشتے ہیں۔ان میں روٹی ۔بیٹی کا تعلق ہے۔ اس یا اس پار پیدا پڑھے بڑے لوگ اپنے کام کا علاقہ بتاتے رہے ہیں پھر بھی پانی کے مسئلے پر جھگڑے کی آگ جب تک دہکتی رہے گی تو اس رشتے کو جھلسا دیتی ہے۔ 
یہ تنازعہ 124 سال سے چلا آرہا ہے۔ پیر کو بنگلورو میں ہوئی آتشزنی اور تشدد کا آغاز ایک فیس بک پوسٹ سے شروع ہوا۔ 23 سالہ ایک شخص نے فیس بک پر کنڑ اور تمل اداکاروں کا موازنہ کرتے ہوئے ایک پوسٹ کیا تھا۔ لڑکے نے ان کنڑ اداکاروں کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ کیا جنہوں نے جمعہ کو کرناٹک بند کی اپیل کی اور حمایت کی تھی۔ ساؤتھ بنگلورو کے گری نگر کے کچھ لڑکوں نے آخر کار اس لڑکے کی پہچان شری رام پورا کے جے سنتوش کی نگر میں کی تھی اور اسکی پٹھائی کی اور اس سے معافی منگوائی۔ لڑکوں نے ایتوار کو سنتوش کا معافی مانگتے ہوئے ویڈیو بھی بنایا اور اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔اس ویڈیو سے تاملناڈو میں غصہ بھڑک گیا تو ایک طرح سے سوشل میڈیا نے بھی کاویری کے پانی پر آگ لگوادی۔ وزیر اعظم کا درد اور نصیحت جائز ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا نہ تو حل ہے اور نہ ہی کوئی متبادل۔
(انل نریندر)

15 ستمبر 2016

سوشاسن کمار عرف نتیش کمار حالات کے مکھیہ منتری

ضمانت پر چھوٹنے کے بعد آر جے ڈی کے سابق ایم پی اور سیوان کے دبنگ محمدشہاب الدین کا جیل سے باہر آنے پر جس طریقے سے خیر مقدم ہوا اور جو ان کے بیان ہیں اس سے سوشاسن کمار عرف نتیش کمار کی پریشانیاں بڑھنا فطری ہی ہیں۔ اس دبنگی نے سنیچر کو 11 سال جیل میں رہنے کے بعد باہر آتے ہی پارٹی صدر لالو پرساد یادو کی جم کر تعریف کر ڈالی۔ آر جے ڈی کی قومی کمیٹی کے ممبر شہاب الدین کو لالو کا قریبی مانا جاتا ہے۔ شہاب الدین نے کہا ان کے لئے لالو پرساد نیتا ہیں، ہم سب ان کے پیچھے پوری مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ نتیش کمار وزیر اعلی ہیں لیکن قومی لیڈر نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ان کے نتیش کمار سے کبھی بھی اچھے تعلقات نہیں رہے۔ لالو پرساد یادو کی تعریف کرتے ہوئے نتیش کمار کو جس طرح کے حالات کا وزیر اعلی بتایا وہ ایک طرح سے بہار میں اقتداری سیاست کی اندرونی سچائی ہے۔اسمبلی چناؤ میں جے ڈی یو کی سیٹیں آ ر جے ڈی سے کم ہونے کے باوجود نتیش وزیر اعلی بنے کیونکہ ان پر اتفاق رائے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ لالو خود تو وزیر اعلی نہیں بن سکتے تھے اور آر جے ڈی کی مجبوری یہ بھی تھی کہ اس کے پاس کوئی متبادل بھروسے مند چہرہ نہیں تھا۔ لیکن سرکار بننے کے بعد سے آر جے ڈی جس طرح اپنی طاقت بڑھانے کی مہم میں لگی ہوئی ہے اور جے ڈی یو کو پریشان بھی کرتی رہی ہے وہ اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ شہاب الدین کی رہائی اس مہم کو اور مضبوطی دے گی۔ دبنگ لیڈر کے جیل میں ہونے کے سبب سیوان ۔ چھپرا۔ گوپال گنج میں آر جے ڈی کا جو مینڈیڈ گھٹا تھا وہ رہائی کے بعد اب پورا ہوجائے گا اور دوسری طرف سوشاسن کمار عرف نتیش کمار نے شہاب الدین کی باتوں کو سرے سے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ان پر ایسی باتوں کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ جنتا نے انہیں کیا مینڈیڈ کیا ہے۔جنتا نے انہیں جو مینڈیڈ دیا ہے وہ اسی حساب سے کام کررہے ہیں۔ ادھر شہاب الدین کے سر میں سر ملاتے ہوئے آر جے ڈی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر رگھونش پرساد سنگھ نے بھی نتیش کمار کو نیتا ماننے سے منع کردیا۔ انہوں نے ایتوار کو دہلی میں کہا کہ جب اتحاد بنا تو اس کے نیتاؤں نے فیصلہ کیا کہ نتیش کمار اس کے نیتا ہوں گے، اس سے وہ بالکل متفق نہیں تھے پھر بھی اتحاد نے فیصلہ کیا تو انہیں ماننا ہی پڑا۔ وہیں شہاب الدین نے یہ بھی کہا کہ آر جے ڈی بڑی پارٹی ہے اور اس کے پاس زیادہ سیٹیں ہیں۔ روایت کے مطابق بڑی پارٹی کا وزیر اعلی ہوتا ہے۔ جہاں تک شہاب الدین کا سوال ہے تو 2005ء میں شہاب الدین کو جیل بھیجنے کے پیچھے نتیش کمار کی ہی سرگرمی تھی لیکن وہی نتیش اب شہاب الدین کے خلاف ویسی ہی سختی دکھا پائے اس میں شبہ ہے۔ بہار میں بگڑتے قانون و نظم سے سوشاسن کمار کے کام کاج پر سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ بہار میں اتحادی سرکار کو ابھی ایک سال پورا نہیں ہوا لیکن نتیش کمار کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔
(انل نریندر)

بدفعلی کے30فیصد معاملے ’’لو ان ریلیشن شپ‘‘سے جڑے ہیں

راجدھانی دہلی میں ہر مہینے اوسطاً 50 سے زیادہ بد فعلی کے معاملے درج ہورہے ہیں اور پریشان دہلی پولیس نے ان معاملوں کی اصلیت سامنے لانے اور ان پر لگام لگانے کے لئے ایک خاص رپورٹ تیار ہی ہے۔ پیش ہے اس رپورٹ کے اہم حصے۔ لو ان ریلیشن میں رہنے والی عورتوں کے ذریعے بدفعلی کے معاملے درج کرانے میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس سال دیش کی راجدھانی دہلی میں تقریباً 30فیصدی معاملے لو ان ریلیشن شپ سے جڑے ہیں۔دہلی پولیس کی اس رپورٹ کے مطابق سال2014ء میں لو ان ریلیشن میں رہنے والے کے خلاف بدفعلی کا فیصد قریب17 فیصدی تھا لیکن سال2015ء میں یہ بڑھ کر 25.5 فیصد تک پہنچ گیا۔ اس سال تو اگست تک ہی یہ تعداد 30.21 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ کچھ معاملوں میں کئی برس تک ساتھ رہنے کے بعد عورت نے اپنے ساتھی پر بدفعلی کا مقدمہ درج کرادیا۔ نیہال بہار میں 5 اکتوبر 2013 ء کو ایک لڑکی نے فیز بک پر دوستی کے بعد لڑکے کے ساتھ لو ان ریلیشن میں رہنے کے بعد شادی پر رضامندی نہ بننے پر بدفعلی اور دھوکہ دھڑی کا معاملہ درج کرادیا۔ مگر کورٹ میں لڑکی بیان سے پلٹ گئی اور کہا کہ ایک واقف کار کے کہنے پر میں نے الزام لگائے تھے۔ مالویہ نگر میں13 مارچ 2013ء کو مینجمنٹ کی ایک طالبہ نے اپنے ساتھی پر ریپ کا مقدمہ درج کرایا حالانکہ بعد میں لڑکے کے رشتے داروں کو رشتے کے قبول کرنے کے بعد معاملہ واپس لے لیا لیکن پٹنہ بہار میں بدفعلی کے معاملوں میں50فیصد معاملے لو ان ریلیشن و شادی سے انکار کے ہیں۔ سٹی ایم پی چندن کشواہا نے کہا کہ شہری علاقوں میں لو ان ریلیشن کے معاملے زیادہ ہیں۔ دیہات میں اب بھی ایسے معاملے کم دیکھے جاتے ہیں۔ زیادہ معاملوں میں اپنے ہی ملزم ہوتے ہیں۔40فیصدی ملزم دوست یا فیملی فرینڈ ہوتے ہیں جبکہ دیگر واقف کار 27 فیصدی ،پڑوسی 15 فیصدی، رشتے دار 11 فیصدی اس کے علاوہ نا واقف کار4 فیصدی اور ساتھی 3فیصدی ہوتے ہیں۔ 23 فیصدی شادی شدہ عورتوں کے ساتھ بدفعلی ہوتی ہے۔77فیصدی غیر شادی شدہ عورتوں کے ذریعے ،33فیصدی بڑے طبقے سے متعلق ہوتی ہیں۔38 فیصدی درمیانہ طبقے کی عورتیں ،62 فیصدی مختلف طبقے کی عورتیں ،75 فیصدی معاملوں میں ثبوتوں کی کمی کے سبب ملزم چھوٹ جاتے ہیں صرف 17 فیصدی معاملوں میں ہی الزام ثابت ہو پاتے ہیں۔ 28 فیصدی معاملوں میں الزام ثابت کرنے کا اوسط ہے۔ فورینسک ثبوت کی کمی ہے۔ دیری کے چلتے ثبوت ضائع ہوجاتے ہیں۔ شکایت کنندہ کا بیان سے پلٹنا یا پھر کورٹ میں راضی نامہ ہونے کی وجہ سے معاملے ختم ہوجاتے ہیں لیکن تشویش کا باعث یہ ہے کہ سماج میں بڑھتے لو ان ریلیشن شپ کا مسئلہ حل ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

13 ستمبر 2016

21 ممبران اسمبلی کی ممبر شپ کو خطرہ،سنکٹ میں آپ

دہلی ہائی کورٹ نے پچھلے مہینے جب اہم فیصلے میں یہ واضح کیا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ ہی دہلی کے ایڈمنسٹریٹو چیف ہیں، تبھی صاف ہوگیا تھا کہ عام آدمی پارٹی کی اروند کیجریوال سرکار کے ایسے ہر فیصلے پر بجلی گر سکتی ہے جو اس نے لیفٹیننٹ گورنر کی اجازت کے بغیر لیا ہے۔ اس لئے ہائی کورٹ کے ذریعے 21 پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری منسوخ کرنے کے تازہ فیصلے پر کوئی تعجب نہیں ہوا۔ اس فیصلے نے بہرحال عام آدمی پارٹی کو مشکل میں ضرور ڈال دیا ہے۔ دہلی سرکار کے 21 پارلیمانی سکریٹریوں (ممبران اسمبلی) کے سامنے اب ممبر شپ کا خطرہ لگاتار منڈراتا جارہا ہے۔ ان کی ممبر شپ کو لیکر سینٹرل چناؤ کمیشن نے فیصلہ ریزرو رکھا ہوا ہے۔ اب کمیشن کو ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینا ہے۔ دہلی سرکار کے ان21 ممبران اسمبلی (پارلیمانی سکریٹریوں) کا معاملہ پچھلے 56 سال سے تنازعوں میں پھنسا ہوا ہے۔ فائدے کے عہدے میں پھنسے ان ممبران اسمبلی کو بچانے کے لئے دہلی سرکار ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔ معاملہ دوہرے فائدے کا ہے۔ آئین کی دفعہ 102(1)(a) کے تحت پارلیمنٹ یا ممبر اسمبلی ایسے کسی عہدے پر نہیں رہ سکتا جس پر رہتے ہوئے اسے تنخواہ بھتے ملتے ہوں۔ آئین کے سیکشن 191(1)(a) اور عوامی نمائندگان ایکٹ کی دفعہ 9(a) کے تحت ایم پی اور ممبر اسمبلی رہتے ہوئے کوئی بھی فائدے کے کسی دوسرے عہدے پر نہیں رہ سکتا ہے۔ آئینی ماہر سبھاش کشیپ کہتے ہیں کہ پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری میں دہلی سرکار نے نجیب جنگ سے منظوری نہیں لی تھی اس لئے ہائی کورٹ نے تقرری منسوخ کردی۔ حالانکہ ابھی ہائی کورٹ اور چناؤ کمیشن کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پارلیمانی سکریٹری عہدہ فائدے کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں؟ کشیپ نے کہا آئین کوجتنا میں نے سمجھا ہے اس حساب سے یہ عہدہ فائدے کے دائرے میں آتا ہے لیکن اس طرح کے معاملوں میں فوری طور پر ترمیم کو قانونی منظوری نہیں ہے۔ میری رائے میں ان 21 ممبران اسمبلی کی ممبر شپ کو پورا خطرہ ہے۔ اصل میں پچھلے7 مارچ کو دہلی سرکار نے اپنے محکموں کا کام آسان کرنے کیلئے اپنے 21 ممبران اسمبلی کو ان محکموں سے جوڑ کر انہیں پارلیمانی سکریٹری بنایا تھا۔ سرکار کو لگا کہ معاملہ گڑ بڑ نہ ہوجائے اس کے لئے وہ اسمبلی میں بل لائی تھی اور پارلیمانی سکریٹریوں کو فائدے کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ پچھلے سال حکومت نے اپنے اس بل کو پاس کرانے کے لئے راشٹرپتی کے پاس بھیجا تھا۔ اس بارے میں راشٹرپتی نے چناؤ کمیشن سے صلاح مانگی ، لیکن اس سال جون ماہ میں سرکار کو بل بیرنگ لوٹا دیاگیا۔ اس معاملہ کو لیکر کمیشن مسلسل سماعت کررہا ہے اور پچھلے ماہ اس نے اپنا فیصلہ ریزرو کرلیا ہے۔ کمیشن اب مفصل رپورٹ بنا کر راشٹرپتی کو بھیجے گا۔ سکریٹریوں کی ممبر شپ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لے گا۔ ان کی ممبر شپ رہے گی یا جائے گی اس پر فیصلہ راشٹرپتی ہی لیں گے۔
(انل نریندر)

پانچ سال کی عمر میں پیر گنوایا 21 سال میں گولڈ میڈل لایا

بھارت کے 100 سے زیادہ کھلاڑی پچھلے مہینے ریو اولمپک میں ایک گولڈ میڈل تک نہیں لا سکے۔ ایک سلور اور ایک تانبہ میڈل ہی پر دیش کو تسلی کرنی پڑی۔ وہیں اس کے برعکس ایک معزور ایتھلیٹ نے ریو میں جاری پیرا اولمپکس میں بھارت کے لئے گولڈ میڈل جیت کر شہریوں کا سینا فخر سے چوڑا کردیا۔ محض پانچ سال کی عمر میں اسکول جاتے وقت بس حادثہ میں دائیاں پیر گنوانے والے تاملناڈو کے سیلم ضلع کے پیریاوادا گاؤں کے رہنے والے مریپن تھنگا ویلو نے 21 سال کی عمر میں ریو پیرا اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کردی۔ جذبہ ، سنگھرش اور حوصلے جیسے لفظوں کو نیا باب دیتے ہوئے اس ہندوستانی نے ٹی۔42 ہائی جمپ مقابلے میں 1.89 میٹر کی چھلانگ لگا کر پیلا تمغہ جیتا۔ ورلڈ چمپئن امریکہ کے سیم گیریو نے 1.86 میٹر اونچائی سے کودنے کے ساتھ دوسرے مقام پر رہے۔ اس ایوینٹ میں بھارت کے ہی ورون سنگھ نے تانبہ میڈل جیتا۔ یہ پہلی بار ہے کہ ایک ہی ایونٹ میں دو ہندوستانی کھلاڑیوں نے میڈل جیتا۔ٹی۔42 کلاسی فکیشن جسم کے نچلے حصے میں معزوریت اور پیر کی لمبائی یا موومنٹ میں فرق سے متعلق ہے۔ اسی کیٹگری میں بھارت کے شرد کمار چھٹے مقام پر رہے۔ ایک وقت تو ایسا لگ رہا تھا کہ بھارت کو گولڈ اور سلور دونوں مل جائیں گے لیکن امریکی کھلاڑی اور ورلڈ چمپئن نے1.86 میٹر کی چھلانگ لگا کر دوسرے نمبر کی پوزیشن حاصل کرلی۔ اسی سال تاملناڈوکے مریپن پیرا اولمپک کھیلوں میں گولڈ جیتنے والے تیسرے ہندوستانی بن گئے ہیں۔ اس طرح اولمپک اور پیرا لیپک کھیلوں میں تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب دو ہندوستانی کھلاڑی ایک ساتھ پوڈیم میں کھڑے ہوئے۔ اس سے پہلے 1972ء میں میونخ میں پیرا اولمپک میں تیراکی میں مرلی کانت پاٹیکر اور2004ء میں ایتھینس پیرا اولمپک میں دیویندر جھجھریا نے گولڈ میڈل جیتے تھے۔ تاملناڈو سرکار نے اعلان کیا ہے کہ وہ مریپن کو 2 کروڑ روپے کا انعام دے گی۔ کھیل وزارت نے مریپن کو 75 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا وہیں کھیل وزارت نے اعلان کیا ہے کہ تانبے کا میڈل ونر گریٹر نوئیڈا کے ورون بھاٹی کو 30 لاکھ روپے دے گی۔ بتا دیں کہ معذور کھلاڑیوں کے لئے پیرا اولمپک گیمز کا انعقاد اولمپک کے فوراً بعدا سی شہر میں ہوتا ہے۔ ریو میں ہو رہے ان کھیلوں میں 161 دیشوں کے قریب 4300 پیرا ایتھلیٹس حصہ لے رہے ہیں اور من میں کچھ کرنے کا جذبہ ہو تو پیسہ اور جسم کی معذوری راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ اترپردیش کے گریٹر نوئیڈا کے باشندے ورون سنگھ بھاٹی نے تانبے کا میڈل جیت کر یہ ثابت کردیا کہ ورون جب چھ مہینے کا تھا تو اس کو پولیو ہونے کا پتہ چلا تھا۔ گھر والوں نے کافی علاج کرایا لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ لیکن جذبہ اور ہمت و لگن ہو تو کچھ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ہم ان دونوں بہادر کھلاڑیوں کو سلام کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

11 ستمبر 2016

فلیکسی فیئر بڑھوتری واپس کرو

ریلوے نے راجدھانی، شتاپدی اور دورنتو کے مسافروں کو زور کا جھٹکا دیا ہے اورکرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔ یہ اضافہ فوری طور پرپریمیم کی طرز پر ہے۔ اس سسٹم کو فلیکسی سسٹم کا نام دیا ہے۔ اس کے تحت ہر 10فیصد تک برتھ اور سیٹ بکنگ کے بعد 10فیصد اصل کرایا اور بڑھے گا۔ یہ زیادہ سے زیادہ50 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ اضافہ9 ستمبر سے نافذالعمل ہوگیا ہے۔ اس اضافے کا احتجاج ہونا فطری ہے۔ نہ سہولیات بڑھی ہیں نہ ٹرینوں کا لیٹ ہونے کا سلسلہ بند ہوا ہے۔ راجدھانی دورنتو اور شتاپدی دیر سے نہیں چلتی ایسا بھی نہیں ہوا۔ اس اضافے کے پیچھے دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اے سی پریمیم ٹرینوں میں سفر کرنے والے تو کوئی بھی بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر ان ٹرینوں کا اتنا کرایہ ہوجائے گا تو مسافر ٹرین کی جگہ تھوڑا زیادہ پیسہ دے کر ہوائی سفر کیوں نہیں کرنا پسند کریں گے؟ مجھے یاد ہے کہ فروری میں جب ریل منتری سریش پربھو جی اپنا ریل بجٹ پیش کررہے تھے تو آپ نے یقین دلایا تھا کہ ہماری ساری توجہ مسافروں کے لئے سہولتیں بڑھانے اور ٹرینوں میں اضافہ اور رفتار بڑھانے پر ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے نہ تو سہولیات بڑھی ہیں، نہ ٹرینوں کا لیٹ چلنے کا سلسلہ بند ہوا، الٹا کھانے کا معیار اور گر گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کرایہ اضافے کے بعد اب ان تینوں ٹرینوں میں مسافروں کو ایک اور جھٹکا دینے کی تیاری ہے۔ ریل منترالیہ مسافر کینٹین سیوا میں بھی 30سے40 فیصدی تک اضافہ کرسکتی ہے۔ نئے کھانے پینے کی پالیسی اسی ماہ سے لاگو ہوسکتی ہے۔ ٹرینوں میں اچھا کھانا دینے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ کئی وی آئی پی ٹرینوں میں بھی پینٹی کار میں منمانے دام وصولنا اب ایک رواج بن چکا ہے۔ مہنگی ہوتی ریل کے دور میں آج مسافر کا یہ درد کون سمجھے گا؟ ریل منترالیہ ریل مسافروں کو ایک اور زیادہ بوجھ اٹھانے پر مجبور کردے گا۔کئی سطحوں پر ٹکٹ شرح بڑھا کر، ٹکٹ منسوخ کرنا مہنگا کرکے، ریل مسافروں کی کمر تو پہلے سے ہی ٹوٹ چکی ہے اور بات ہم بلٹ ٹرینوں کی کرتے ہیں جو ٹرین چل رہی ہے پہلے انہیں تو ٹھیک کرو ۔ریل منتری سریش پربھو سے جنتا کو بہت امیدیں تھیں جس پر اب پانی پھرتا نظر آرہا ہے۔ چوطرفہ مہنگائی کے چلتے ٹرین کا سفر بھی اگر اتنا مہنگا ہوجائے گاتو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ ہم امید کرتے ہیں کہ وزارت ریل اس بڑھی ہوئی اضافی شرح پر نظرثانی کرے گا اور اسے واپس لے گا۔ زیادہ توجہ مسافروں کی سلامتی، سہولیات اور ٹائم سے چلنے والی ٹرینوں پر دی جائے تو سبھی کیلئے بہتر ہوگا۔ سریش پربھو سے یہی امید کی جاتی ہے۔
(انل نریندر)

پرسنل لاء بورڈ کی دلیلیں تو حافظ سعید جیسی

ایک مسلم خاتون وکیل نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے کہا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، بھارتیہ مسلم مہلا آندولن اور حافظ سعید و ان کی تنظیم جماعت الدعوی عرف لشکر طیبہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سبھی کی آئیڈیالوجی ایک ہی ہے۔ اس خاتون وکیل کو سپریم کورٹ نے تین طلاق سے جڑے معاملوں میں دخل دینے کی اجازت دی ہے۔ خاتون وکیل نے تین طلاق کو غیر اسلامی بتایا ہے ۔ معلوم ہوکہ تین طلاق کی شرعی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں داخل عرضی کو خارج کیا جانا چاہئے۔ عرضی میں جو سوال اٹھائے گئے ہیں وہ جوڈیشیل ریویو کے دائرے میں نہیں آتے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ پرسنل لاء کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ حلف نامہ میں آگے کہا گیا ہے کہ پرسنل لاء کو سوشل ریفارم کے نام پر دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا۔ بورڈ کے مطابق مسلم سماج میں تین طلاق کو چیلنج کرنے والی عرضی سپریم کورٹ کے دائرے سے باہر ہے۔غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نے تین طلاق کے خلاف اس سے پہلے کئی اور عرضیاں دائر کی گئی ہیں جس میں تین طلاق کو غیر آئینی اور منمانا بتایا گیا ہے۔ اتراکھنڈ کی سائرہ بانو ، جے پور کی ایک دوسری خاتون کی جانب سے عرضی درج کی گئی ہے جس پر سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کر جواب چار ہفتے میں داخل کرنے کو کہا ہے۔ ایک دوسرے معاملے میں سپریم کورٹ کی ڈبل بنچ نے خود نوٹس لیا تھا اور چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ وہ اسپیشل بنچ قائم کریں تاکہ امتیاز کی شکارمسلم خواتین کے معاملے کو دیکھا جاسکے۔ یہ بیحد افسوس کی بات ہے کہ تین طلاق کے معاملے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ آج بھی اپنے پرانے موقف پر قائم ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامہ میں بورڈ نے کہا کہ تین طلاق کا جواز سپریم کورٹ طے نہیں کرسکتا۔ پرسنل لاء بورڈ کوئی قانون نہیں ہے جسے عدالت میں چنوتی دی جائے، بلکہ یہ قرآن سے لیا گیا ہے اور یہ اسلام مذہب سے متعلق مذہبی اشو ہے۔ غور کریں تو ایسی ہی دلیل کئی اور معاملوں میں دی جاتی رہی ہیں۔ مثلاً حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلے پر چلی آرہی پابندی کے بچاؤ میں۔ کہا جاتارہا ہے کہ یہ پابندی اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس میں دخل دینا مذہبی معاملوں میں دخل دینا مانا جائے گا۔ لیکن ممبئی ہائی کورٹ نے ان دلیلوں کو مسترد کردیا۔ جیسا کہ اس نے شنی شنگھنا پور مندر کے معاملے میں بھی کیا تھا اور پابندی ہٹانے کا حکم دے کر درگاہ میں مسلم خواتین کے داخلے کا راستہ صاف کردیا تھا۔ دوسری طرف سپریم کورٹ میں خاتون وکیل فرح فیض نے داخل اپنے حلف نامہ میں اس شرعی کورٹ پر پوری طرح پابندی لگانے کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ذریعے دیش کی عدلیہ پر سوال اٹھائے جارہے ہیں اور سرکار کو چنوتی دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیش کو بچانے کے لئے آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ اور بھارتیہ مسلم مہلا آندولن جیسی تنظیموں کو ختم کردیا جانا چاہئے کیونکہ ان کی آئیڈیا لوجی حافظ سعید کے برابر ہے۔ قرآن کا سہارا لے کر تین طلاق کا رواج کا بچاؤ نہیں کیا جانا چاہئے۔ دراصل یہ معاملہ مقدس قرآن پا ک کا نہیں بلکہ اس کی الگ الگ تشریحات کا ہے۔مسلم پرسنل لاء میں ترمیم سے نہ تو قرآن کی پاکیزگی پر کوئی آنچ آئے گی اور نہ اسلام کا کوئی نقصان ہوگا۔ مناسب یہی رہے گا کہ معاملے کو ججوں کی زیادہ بڑی بنچ یا آئینی بنچ کو سونپا جائے۔
(انل نریندر)