Translater

30 مارچ 2013

آتنک واد کو بڑھاوا دینے کا کام کررہے ہیں عمر عبداللہ

دہلی پولیس کے ذریعے گرفتار حزب المجاہدین کے جنگجو لیاقت شاہ معاملے میں ایک نیامتنازعہ موڑ اس وقت آیا جب جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے لیاقت معاملے میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے سے بات چیت کی۔اس کے بعد وزیر داخلہ نے لیاقت کی گرفتاری معاملے کو دہلی سرکار سے این آئی اے کو منتقل کردیا۔ عمر عبداللہ نے سوال کیا کیا لیاقت سرنڈر ہونے کے لئے اپنے خاندان کے ساتھ آیا؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ عمر عبداللہ کس منہ سے یہ سوال جواب کرسکتے ہیں؟نیشنل پینتھرز پارٹی کے چیف پروفیسر بھیم سنگھ نے حکومت ہند کو خبردار کیا ہے کہ سرنڈر کردہ آتنکوادیوں کی باز آبادکاری کی پالیسی کے بہانے عمر سرکار آتنک واد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ جس سے جموں و کشمیر میں آئی ایس آئی کے ادھورے ایجنڈے کو پورا کیا جارہا ہے۔ ایک ایمرجنسی پریس کانفرنس میں پروفیسر بھیم سنگھ نے کئی سوال اٹھائے جنہیں مبینہ باز آبادکاری پالیسی کو سمجھنے کے لئے ان کے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ ایک پاکستانی شہری کو نیپال میں داخل ہونے کیسے دیا گیا؟ پھر یہ لوگ سرحد پار کر بھارت میں کیسے داخل ہوئے؟ کیا باز آبادکاری پالیسی پاکستان اور نیپال کے ساتھ کئے گئے بین الاقوامی معاہدے سے بھی اوپر ہے جو ان کے شہری بھارت میں داخل ہوسکیں؟ کیا نیپال سمجھوتے کے تحت غیر ملکیوں کو نیپال کے راستے بھارت میں بغیر شناختی کارڈ داخل ہونے کی اجازت ہے؟ باز آبادکاری پالیسی سیدھے سیدھے بھارت کے آئین میں مداخلت کرتی ہے۔ خاص کر شہری قانون کے تحت۔ایک پاکستانی شہری کو ہندوستان میں داخل ہونے کیسے دیا گیا اور پھر اسے جموں و کشمیر میں گھسنے میں ریاستی حکومت نے مدد دی۔ جس میں بھارت حکومت کا درپردہ تعاون رہا؟ جموں و کشمیر پولیس نے مرکزی وزیر داخلہ کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ آتنکی بھارت میں خودسپردگی کرنے والے ہیں لیکن اس معاملے سے اس پر شش و پنج بنا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کے سینئر افسر کے مطابق بازآبادکاری عمل کے تحت آئندہ دنوں میں چار آتنکی بھارت میں داخل ہونے والے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو ان میں ایک آتنکی کشمیر کے ڈوڈہ علاقے کا کمانڈر رہ چکا ہے جبکہ دو آتنکی پلوامہ وادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکومت ہند نے خود تسلیم کیا ہے کہ قریب250 ایسے لوگ اپنے آپ کو کشمیری بتاتے ہیں۔ دہلی کے راستے جموں و کشمیر میں داخل ہونے دیا گیا جن کے پاس جموں وکشمیر سرکارکے شناختی کارڈ تھے۔ یہ کارڈ ان لوگوں کو جاری کئے جاتے ہیں جن کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں اور جو نیپال میں داخل ہوتے ہیں۔ جموں وکشمیر کے وزیر اعلی اور آئی ایس آئی کے درمیان ایک یقینی معاہدے کے تحت جموں و کشمیر میں بسائے جاتے ہیں، یہ کہنا ہے پروفیسر بھیم سنگھ کا۔ اور یہ سراسر دھوکہ دھڑی ہے اور قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ مرکزی سرکار بھی اس پر فکر مند ہے تبھی تو ان باز آبادکاری پالیسی کا جائزہ لینے کی بات کررہی ہے۔
(انل نریندر)

سہارا گروپ کو دوہرا جھٹکا

سہارا انڈیا گروپ کو منگلوار کو دوہرا جھٹکا لگا ہے۔ اسٹاک ریگولیٹری اتھارٹی سیبی نے جہاں سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے اور تین بڑے عہدیداران کو سرمایہ کاروں کوتقریباً24 ہزار کروڑ روپے لوٹانے کے معاملے میں پراپرٹی کی فہرست کو قطعی شکل دینے کے لئے 10 اپریل کو طلب کیا ہے وہیں ہماچل پردیش ہائی کورٹ نے سہارا کی پانچ کمپنیوں کوعام سرمایہ کاروں سے پیسہ جمع کرنے سے روک دیا ہے۔ سیبی نے منگلوار کو اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ اگر سبرت رائے ، اشوک راج چودھری اور روی شنکر دوبے، وندنا بھارگو اس کے سامنے10 اپریل کو پیش نہیں ہوتے تو وہ بغیر سنے ہی ایک طرفہ فروخت کی کارروائی کی شرطیں مقرر کرے گی۔ اس درمیان ہماچل پردیش ہائی کورٹ نے لکھنؤ میں واقع سہارا گروپ اور ان کے یونٹوں کو اپنی اسکیموں کے ذریعے عام لوگوں سے پیسہ لینے پر روک لگا دی ہے۔ سہارا کی پانچ یونٹوں سہارا انڈیا پریوار، سبرت رائے سہارا، سہارا کے کریڈٹ کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ، سہارا کوالٹی شاپ یونک پروڈکٹ رینج لمیٹڈ اور سہارا کیو گولڈ آئی لمیٹڈ کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے احکامات دئے۔ معاملے کی اگلی سماعت 22 اپریل مقرر کرتے ہوئے عدالت نے اپنے عارضی حکم میںیہ بھی کہا کہ معاملے کی آگے کی جانچ ریزرو بینک اور سیبی کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی معاملے کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو بھیجا گیا ہے۔ آئی اے جانتے ہیں کہ سہارا گروپ کے خلاف عدالتوں اور اتھارٹیوں کی یہ سختی کس لئے ہے؟ سہارا گروپ کی تمام فرمیں جنتا سے تمام طرح کی اسکیموں کے ذریعے پیسہ جمع کرتی ہیں۔ ان میں سے دو کمپنیوں سہارا انڈیا ریئل اسٹریٹ کارپوریش، سہارا ہاؤسنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے 3 کروڑ سرمایہ کاروں سے 24 ہزار کروڑ روپے اکٹھے کئے تھے۔ یہ رقم متبادل او ایف سی ڈی جاری کرکے اکٹھی کی گئی تھی۔ 10 اپریل کو پیش ہوکر سبرت رائے کو بتانا ہوگا کہ ان کی کون کون سی پراپرٹیوں کو بیچ کر سرمایہ کاروں کو 24 ہزار کروڑ روپے لوٹائے جائیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر گروپ کو یہ رقم سرمایہ کاروں کو لوٹانی ہے۔ سیبی کے چیئرمین یو کے سنہا نے کولکاتہ میں سی آئی آئی کے ذریعے منعقدہ ایک پروگرام میں کہا غیر قانونی طور سے چٹ فنڈ کاروبار پھیل رہا ہے ۔ منگلوار کو اسی پروگرام میں مسٹر سنہا نے کہا سیبی اندراج شدہ کمپنیوں پر بھی کارروائی کرے گی جو مقررہ میعاد کے اندر 25 فیصد پبلک سانجھے داری کے قواعد کی تعمیل نہیں کریں گی۔
انہوں نے کہا کچھ چٹ فنڈ کمپنیاں تو اس طرح کے وعدے کررہی ہیں جن کے تحت کوئی بھی جائز طریقے سے کاروباری سرگرمیاں کرتے ہوئے وعدے کے مطابق رٹرن نہیں دے سکتی۔ ہم نے ان میں سے کچھ کمپنیوں کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔ جانچ جاری ہے کچھ معاملوں میں عارضی طور پر حکم بھی جاری کئے گئے ہیں۔ پھر یہ کمپنیاں کورٹ چلی جاتی ہیں۔ کئی لوگ ان چٹ فنڈ کمپنیوں کی اسکیموں میں پیسہ لگا رہے ہیں جو خطرے بھرا ہے۔ یہ کمپنیاں قانون میں خامیوں کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ اسے نئے قانون کے ساتھ آگے آنا چاہئے۔ جس میں ان کمپنیوں کیلئے ایک ریگولیٹری کا انتظام ہو۔ سنہا سے جب سہارا کے اشوز پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کچھ کہنے سے صاف منع کردیا۔ کمپنیوں میں کم از کم 25 فیصد پبلک حصے داری کے قواعد کی تعمیل کئے جانے کے اشو پر سیبی کے چیئرمین نے کہا کہ تعمیل میں ناکام رہنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
(انل نریندر)


29 مارچ 2013

پرویز مشرف کی وطن واپسی

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف جان لیوا حملے کی طالبانی دھمکی کے باوجود پاکستان بچانے کاعزم کرکے 8 سال بعد لوٹ آئے ہیں۔ ان کی ہمت اور جذبے کی داد دینی پڑے گی کہ وہ پاکستان میں پیدا ان کے تئیں شک و شبہات کو درکنار کرتے ہوئے پھر تاریخ کو اپنے ساتھ کھڑا کریں گے۔تاریخ دوہرانے کے محاورے کے باوجود واقف کار مانتے ہیں کہ جنرل مشرف کے لئے پاکستان میں اپنے آپ کو پہلے کی طرح کھڑا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر پوت کے پاؤں پالنے میں دیکھنا کسی کا ابتدائی عمل کا نتیجہ بنتا ہے تو مشرف کا بے جان خیر مقدم اور ان کا مستقبل کا عکس دکھائی پڑتا ہے۔ جوپاکستان میں11 مئی کو ہونے والے طالبانی چناؤ میں شرکت کرنے کے مقصد سے آئے ہیں۔حالانکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی موجودگی سے چناوی جنگ کی شکل بدل سکتی ہے۔مشکل یہ ہے کہ ان کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کا کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے۔ پارٹی میں تجربے کار سیاستدانوں کی کمی ہے۔ اپنے عہد میں مشرف نے جن سیاستدانوں کو تحفظ دیا تھا وہ آج دیگر پارٹیوں سے جڑ گئے ہیں۔ مشرف اپنے لئے کیڈر تک تیار نہیں کرسکے۔ ایک کمزور تنظیمی ڈھانچے کے سہارے مشرف کیا کچھ کرپائیں گے کہا نہیں جاسکتا۔ اب چناؤ میں قریب ڈیڑھ مہینہ باقی ہے۔ اتنے دن میں تنظیم کوکھڑا کرنا اور پورے دیش میں چناؤ لڑنا بہت مشکل کام ہے۔ ان کی واپسی پر ویسا ہی شاندار تماشہ دیکھا گیا جیسا بینظیر کی واپسی پر دیکھا گیا تھا۔ اور تو اور مشرف کی واپسی کے ایک دن پہلے ہی عمران خاں کی ریلی میں بھیڑ ایک لاکھ تھی۔ وہ ان کے یہاں نہیں نظر آئی۔ محض 10-15 ہزار لوگ اکٹھا کرنے سے کیا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ تعداد پر زور اس لئے کے پہلی جمہوری آصف زرداری سرکار کی میعاد پوری کر تاریخ بنانے والے پاکستان نے اکثریت پانے کی یہ ایک زبردست چنوتی ہے۔ پھر مشرف کے لئے کئی اور طرح کی مشکلیں بھی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور دوسری انتہا پسند تنظیمیں ان کی جان کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔ پھر ان پر کئی مقدمے بھی چل رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو اور اکبر بکتی کے قتل، لال مسجد میں فوجی کارروائی اور ججوں کی گرفتاری کے معاملے انہیں پریشان کرتے رہیں گے۔ ان کے جانے کے بعد حالات کافی بدل گئے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے پاک حکومت کو مشرف کے دیش لوٹنے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لئے انہیں جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہئے۔ ان پر نومبر2011ء میں بلوچ لیڈر اکبر بکتی کے قتل میں شامل ہونے کا الزام ہے، جن کو سال2006ء میں مشتبہ حالات میں مرا ہوا پایا گیا تھا۔ فروری 2011ء میں راولپنڈی کی عدالت نے مشرف کے خلاف پاکستان کی فیڈرل جانچ ایجنسی کی طرف سے دائر عارضی چارج شیٹ میں تسلیم کیا ہے جس میں ان پر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل میں شامل ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے مشرف کو بھگوڑا قراردیا۔ تنظیم نے کہا کہ مشرف کے فوج کے سربراہ رہتے ہوئے پاک فوج اور دیش کی خفیہ ایجنسیوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ کئی سیاسی حریفوں کو جلا وطن یا جیل تک بھیجا گیا اور انہیں ٹارچر کیا گیا۔ بلوچ قوم پرستوں اور عمران خاں کی پارٹی تحریک انصاف اپنی طریقے سے چیلنج پیش کئے ہیں۔پاکستانی میڈیا میں میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مشرف کی واپسی کے لئے انہیں نواز شریف سے سودے بازی کرنی پڑی ہے اور یہ سودے بازی سعودی عرب کے شاہی خاندان نے کروائی ہے۔ پاکستان کے بڑے اخبار ’دی ٹریبیون ایکسپریس‘ کے مطابق پاکستان کی بڑی اپوزیشن پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز کو اس بات کے لئے تیار کیا گیا ہے کہ یہ مشرف کی واپسی پر روڑے نہ اٹکائے۔ مشرف کی سلامتی کو لیکر جنرل کیانی سے یقین دہانی لی گئی ہے۔ مشرف کے ایک قریبی کے مطابق نواز شریف اور جنرل اشفاق کیانی نے حال ہی میں سودی عرب کا دورہ کیا تھا ۔ بیشک زرداری حکومت کے خلاف آج پاکستان میں ناراضگی ہے لیکن پھر بھی مشرف مشکل سے ہی پاکستانی عوام کو قابل قبول ہوں، اس لئے کے سرکار کے عہد کے بارے میں ان کا نظریہ جمہوریت پر کم فوج پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ وہ فوج کی کمان میں ہی جمہوری حکومت چلانا چاہتے ہیں۔ مشرف کی نظر میں جمہوری سرکاریں کرپٹ و تمام برائیوں سے بھری پڑی ہیں۔ اس سے آج کا پاکستان کا نوجوان طبقہ اور خوشحال طبقہ شاید ہی متفق ہو۔ دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ اب مشرف کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔ اب تک ڈیموکریٹک سیکولر ایجنڈے پر چلتے ہیں یا اقتدار کا فائدہ لینے کے لئے سیدھے سیدھے یا بیک ڈور سے پاکستانی فوج یا کٹر پنتھیوں سے ہاتھ ملاتے ہیں؟
(انل نریندر)

پونٹی چڈھا کی طرز پر دیپک بھاردواج کا قتل

ریئل اسٹریٹ اور شراب کے بڑے تاجر پونٹی چڈھا قتل کی طرح ہی منگلوار کی صبح ساؤتھ دہلی کے رجوکڑی علاقے کے ارب پتی بلڈر و کاروباری دیپک بھاردواج کو ان کے فارم ہاؤس میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ قومی شاہراہ نمبر8 پر واقع نتیش کنج ہوٹل کے احاطے میں ایک اسکویڈا کار میں آئے تین بدمعاش بھاردواج کو گولی مارکر ہریانہ کی طرف فرار ہوگئے۔ بدمعاشوں نے کار پر ماروتی وین کی فرضی نمبر پلیٹ لگا رکھی تھی۔ دیپک بھاردواج نے 2009ء میں مغربی دہلی سے لوک سبھا کا چناؤ بسپا کے ٹکٹ پر لڑا تھا۔تب ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کے سبب لوک سبھا کے مقبول امیدواروں میں تھے۔حالانکہ وہ کانگریس کے مہاول مشرا سے چناؤ ہار گئے تھے۔ پولیس کمشنر نیرج کمار نے بتایا کہ صبح8:55 منٹ پر سلور کلر کی اسکویڈا کار میں سوار تین لڑکے رجوکڑی علاقے میں نتیش کنج نامی فارم ہاؤس میں داخل ہوئے۔ وہ شادی کے لئے بکنگ کرانے کے بہانے آئے تھے۔ گیٹ پر انہوں نے گیٹ پرانہوں نے سمت نام سے انٹری بھی کی تھی۔ اس کے بعد کار میں سوار ہوکر اندر چلے گئے۔ صبح تقریباً9:10 منٹ پر گولی چلنے کی آواز آئی۔ اندر کام کرنے والی ایک خاتون جس کا نام آرتی بتایا جاتا ہے، نے آواز لگائی کے اس کے مالک کو گولی مار دی گئی ہے۔ فارم ہاؤس میں تعینات گارڈوں نے بدمعاشوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن بدمعاش پستول دکھا کر کار سے فرار ہوگئے ۔ ابھی تک ان کے قتل کی وجہ واضح نہیں ہو پائی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ آپسی رنجش یا پراپرٹی کا جھگڑا واردات کا سبب ہوسکتا ہے۔ دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر لا اینڈ آرڈر دیپک مشرا نے بتایا سی سی ٹی وی فٹیج سے حملہ آوروں کی پہچان کی جاچکی ہے۔ جانچ میں ابھی تک یہ لگ رہا ہے کہ ملزم گوڑگاؤں کی طرف فرار ہوئے ہیں۔تازہ اطلاع یہ ہے کہ پولیس نے ہریانہ میں دبش دے کر تین ملزموں کو گرفتار کیا ہے جن کو وہ دہلی لے آئی ہے۔ دیپک بھاردواج سیلف میڈ انسان تھے۔ انہوں نے 30 سال پہلے ایک اسٹینوگرافر کی شکل میں اپنی نوکری کا آغاز کیا تھا بعد میں وہ دہلی ایئر پورٹ کے آس پاس گاؤں میں پراپرٹی کے کام سے جڑ گئے۔ ان کا کاروبار فارم ہاؤس ، ہاؤسنگ، اسکول وغیرہ سیکٹرمیں پھیلا ہوا تھا۔ دیپک بھاردواج نے 2009ء کے چناؤ میں اپنے حلف نامے میں بتایا تھا کہ وہ603 کروڑ روپے کی پراپرٹی کے مالک ہیں اور 368 کروڑ روپے کی ان کے پاس کھیتی کی زمین ہے۔29 کروڑ کی عمارتیں ہیں۔ دیپک بھاردواج کے دو بیٹے ہیں۔ بڑا بیٹا ہتیش عرف سونو،وسنت وہار میں پریوار کے ساتھ رہتا ہے۔ ان سے دیپک کا تناؤ چل رہاتھا۔ بات چیت بھی بند تھی۔ ہتیش کی پہلی شادی شاہدرہ میں ہوئی تھی لیکن بیوی سے ان کا طلاق ہوگیا۔ دوسرا بیٹا نتیش ماں اور بیوی بچوں کے ساتھ دواکا سیکٹر 22 میں نو سنسد اپارٹمنٹ میں رہتا ہے۔ نتیش کنج کمپلیکس میں بھاردواج اکیلے ہی رہتے تھے۔گھر والوں کے مطابق نتیش کی شادی فلم اداکار شاہ رخ خان کی بیوی گوری خان کی موسیری بہن پرینکا تیواری سے ہوئی ہے۔ پولیس جانچ میں سامنے آیا ہے کہ دیپک بھاردواج کا اپنے رشتے داروں سے بھی پراپرٹی کو لیکر جھگڑا چل رہا تھا۔ زمین قبضانے کے الزام میں ان کے خلاف 2012ء میں مقامی ایس ڈی ایم کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سیاست میں آنے کے سبب ان کے کئی مخالف بھی بن گئے تھے۔ دیپک ہری دوار میں مال و ٹاؤن شپ بسا رہے تھے۔ ان کے کئی بزنس پارٹنر ہیں۔ پولیس کے مطابق ان کے خلاف ساؤتھ ویسٹ ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر نے 15 سال پہلے پانچ ایکڑ زمین پر قبضے کولیکر مقدمہ درج کرایا تھا۔ ان کا کینیڈا او دوبئی میں بھی کاروبار ہے۔ پولیس معاملے کی چھان بین کررہی ہے امید ہے جلد ہی قتل کی گتھی سلجھ جائے گی۔
(انل نریندر)

27 مارچ 2013

ہولی منائیں احتیاط بھی برتیں! ہولی مبارک

خوشی اور مسرت کا تہوار ہولی آج ہے۔ دانشور وں کے مطابق یہ تہوار ہر برس پھاگن شوکل کی پورنیما کو منایا جاتا ہے۔ اس میں چندرکال ممنوع ہے۔ دھرم شاستروں کے مطابق پرتیپدا ، چترودرشی آدھی رات کے بعد ہولی کا دہن کی بات کہی گئی ہے۔ ہولی کا دہن کرنا قوم و سماج کے لئے فلاحی رہی گا۔ بڑھتی مہنگائی کا اثر ہولی پر بھی دکھائی پڑ رہا ہے۔ بازاروں میں پچکاری اور گلال خریدنا لوگوں کو کافی مہنگا پڑ رہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے اس سال گلال کی مانگ میں 40 فیصدی کمی آئی ہے اور اس کی قیمت 15 سے30 فیصدی بڑھی ہے جبکہ پچکاریوں کے لئے بھی لوگوں کو پچھلے سال کے مقابلے میں 20 سے25فیصدی زیادہ دام دینے پڑ رہے ہیں۔ صدربازار کے ایک تاجر کا کہنا ہے پچکاریوں کے کاروبار میں اس سال بھی چینی پچکاریوں کی مانگ زیادہ ہے ۔ دراصل دہلی میں پچکاریوں کا کاروبار 250 سے300 کروڑ روپے کا ہے۔ جو پچکاریاں دہلی میں بنائی جاتی ہیں ان کی مانگ دہلی کے آس پاس کی ریاستوں میں زیادہ ہے۔ ان دنوں دوکانوں میں فلم’ دبنگ ۔2‘ ، ’جب تک ہے جاں‘ ’کھلاڑی نمبر786‘ اور بالی ووڈ اسٹار سلمان خان، سوناکشی کے پوسٹر اسٹیکر تھیم والی چھوٹی بڑی پچکاریاں خریداروں کو خوب لبھا رہی ہیں۔ چینی پچکاریوں پر بھی بالی ووڈ کا تڑکا دیکھنے کومل رہا ہے۔اس سال کی ہولی میں ایک نئی چیز یہ آرہی ہے بے رنگ زندگی جی رہی ورندا ون کی ودھواؤں کی زندگی ایتوار کو رنگ سے بھر گئی۔ سبھی پرو خاص کر رنگوں سے پہلے الگ تھلگ رہنے والی ودھواؤں نے ایتوار کو رنگ سے ہولی کھیلی۔ دراصل کرشن کی سرزمین ورنداون کی عورتوں نے ایتوار سے ہولی کھیلنی شروع کردی ہے۔ یہ ہولی کا تہوار چار دنوں تک چلتا ہے۔ان چار دنوں میں قریب پانچ آشرم کی 800 عورتیں ہولی منائیں گی۔ ابھی تک یہ عورتیں صرف اپنے ٹھاکرجی(شری کرشن ) کے ساتھ ہولی کھیلتی تھیں۔ یہ سہولیات این جی او سلبھ انٹرنیشنل کے ذریعے مہیا کروائی گئی ہے۔ ہولی کا تہوار محبت اور مسرت کی علامت ہے اس کو سماج و دل میں پھیلی برائیوں کو دور کرنے کے طور پر جانا جانا چاہئے۔ رنگوں کا رتہوار ہولی بسنت کی آمد کی خوشی کا بھی پیغام دیتا ہے۔ ہولی میں استعمال کئے جانے والے مختلف رنگوں کو بھی بسنت کی علامت مانا جاتا ہے لیکن آج کل ہولی میں ایسے رنگوں ، کیمیکل کا استعمال ہونے لگا ہے جس سے جسم کو نقصان ہوتا ہے۔ پہلے میری روز، چائنا روز،کیش و پریزاد وغیرہ پھولوں سے رنگ بنائے جاتے تھے۔ یہ رنگ کھال کے لئے نقصاندہ نہیں ہوتے تھے۔ ان میں خوشبو بھی ہوتی تھی لیکن مسلسل کٹ رہے پیڑوں اور پھولوں کی کمی کے سب ان کی جگہ اب کیمیکل والے رنگوں نے لے لی ہے۔رنگوں میں مختلف طرح کے کیمیکل جیسے کرومیم سے دمہ کی بیماری جسم میں جلن وغیرہ جیسی بیماریاں ہڈیوں میں بخار ہوسکتا ہے۔ وہیں مٹی و پانی کے ساتھ مل کر یہ کیمیکل رنگ زیادہ زہریلی بن جاتے ہیں۔ رنگ چھٹانے کے لئے ٹھونس صابن کا استعمال نہ کرے۔ صابن میں الکلائن ہوتا ہے جس سے خوشکی اور بڑھتی ہے۔ پہلے کلینزنگ کریم اور لوشن سے کال کی مالش کریں ،پھر روئی سے صاف کریں۔ لیمو کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے اس سے داغ ہلکے ہوجائیں گے۔ ایک ڈاکٹر کے مطابق رنگ میں سنتھیٹک ہوتا ہے۔ ہرے رنگ میں کوپر سلفر ہوتا ہے جس سے آنکھوں میں الرجی اور چندھیایا پن اور دوسری بیماری ہوسکتی ہے۔ عورتیں ان باتوں کا خاص خیال رکھیں۔ اکیلے ہولی کھیلنے کے لئے نہ نکلیں۔ صرف واقف کاروں ، رشتہ داروں کے ساتھ ہولی کھیلیں۔ بھانگ نہ پئیں، انجان سے کوئی کھانے پینے کی چیز نہ لیں۔ بھیڑ میں شامل آوارہ گرد لوگوں کا سامنا ہو نے پر فوراً پولیس ہیلتھ لائن کی مدد لیں اور مہنگے زیورات نہ پہنیں۔ اپنے بچوں کے لئے بڑی بالٹی میں پانی بھر کر رکھیں ۔ سبھی قارئین کو روزنامہ ویر ارجن، پرتاپ اور ساندھیہ ویر ارجن کے تمام ساتھیوں کی جانب سے ہولی کی مبارکباد اور یہ ہولی آپ سب کے لئے خوش آئین ، منگل مے اور سکھی ہو۔
(انل نریندر)

اماموں کی تنخواہ بڑھانے کی مانگ نشانے پر دہلی حکومت اور وقف بورڈ

دہلی سرکار اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین چودھری متین کے خلاف دہلی کی مساجد کے اماموں نے مورچہ کھول دیا ہے۔ کل ہندا مام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد رشیدی نے دہلی حکومت اور دہلی وقف بورڈ پر الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی اماموں کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ان کا الزام ہے دہلی کی وزیراعلی شیلادیکشت سے امام کئی بار ملنے گئے لیکن انہوں نے ان سے ملنے تک کا وقت نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے دہلی وقف بورڈ کے ماتحت 371 پراپرٹیاں ہیں ، اگر ان کو اماموں کو سونپ دیا جائے تو سرکار کو اماموں کی تنخواہ کا پیسہ ادا کرنے میں کوئی دقت نہیں آئے گی کیونکہ ان املاک پر یا تو قبضے ہیں یا کچھ کرائے پر اٹھی ہوئی ہیں۔ ان سے کم آمدنی کا بہانا کرکے دہلی وقف بورڈ اماموں کی تنخواہ بڑھانے سے بچ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی مہنگائی میں 6 ہزار روپے امام کی تنخواہ بہت کم ہے۔ سپریم کورٹ دہلی سرکار اور سینٹرل وقف بورڈ کو آدیش دے چکی ہے کہ وہ موجودہ گریٹ سے اماموں کی تنخواہ ادا کرے لیکن دہلی وقف بورڈ اور دہلی سرکار اس حکم کو تلانجلی دئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا اگردہلی سرکار نے ان کی مانگیں 15 دنوں میں نہیں مانیں تو وزیر اعلی شیلا دیکشت کے خلاف تحریک چھیڑیں گے اور ان کے گھر کے باہر بھوک ہڑتال کریں گے۔ پچھلے دنوں نئی دہلی میں شیعہ عالموں کے پیشوا مولانا کلب جواب نے پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس کی تھی۔ اس میں مولانا جواد نے ڈی ڈی اے کے ذریعے مہرولی میں ناجائز طور سے گرائی گئی غوثیہ مسجد کو لیکر احتجاج کیاتھا۔ مولانا جواد خاص طور سے لکھنؤ سے دہلی آئے تھے۔ انہوں نے کانگریس سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سرکار ترقی کے نام پر مسجد اور قبرستانوں کو ڈھا رہی ہے اور یہ کارروائی ناجائز قبضے بتا کر کی جاتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وقف بورڈ کی زمین پر سب سے زیادہ قبضہ سرکار کے ذریعے کیا گیا ہے۔ 
انہوں نے الزام لگایا کے کانگریس نے اپنے عہد میں لکھنؤ وقف بورڈ کی زمین پر نہرو اور اندرا گاندھی کے نام پر عمارتیں بنا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کانگریس کا کام ہے وقف بورڈ کی زمین پر قبضہ کرنا۔ انہوں نے کانگریس کے دو مسلم لیڈروں کا نام لیتے ہوئے کہا یہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ مولانا ساجد رشیدی نے مرکزی اور دہلی سرکار پر الزام لگایا کہ وقف بورڈ کی 271 ایسی جائیدادیں ہیں جس پر سرکاری محکموں کا قبضہ ہے۔ ان میں سے ڈی ڈی اے کے پاس 172 پراپرٹیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقف بورڈ کی زمین لوٹا دی جائے تو مسلمانوں کوسرکاری مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مولانا کلب جواد نے کہا کہ کانگریس اور وقف بورڈ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ اپنے اپنے اسباب سے شیعہ سنی دونوں فرقوں کے مسلمان لیڈر کانگریس سرکار اور وقف بورڈ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اماموں کی تنخواہ میں تو اضافے کی مانگ جائز ہے۔
(انل نریندر)

26 مارچ 2013

آتنک کے سائے میں راجدھانی دہلی

دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ہولی سے پہلے فدائی حملہ کرکے دہلی کو دہلانے کی بڑی آتنکی سازش کو ناکام کرنے کا دعوی کیا ہے۔ پولیس نے حزب المجاہدین کے آتنکی سید لیاقت شاہ کو گورکھپور سے گرفتار کر اس کی نشاندہی پر دہلی کے جامع مسجد علاقے میں ایک گیسٹ ہاؤس سے تباہی مچانے کا سامنا برآمد کیا ہے۔ جس میں دھماکوں دستی بم اور ایک اے کے۔56 رائفل شامل ہے۔ گرفتار آتنکی سید لیاقت شاہ عرف لیاقت بخاری جموں و کشمیر کے کپواڑہ کا رہنے والا ہے۔ دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر(اسپیشل سیل) ایس این شریواستو نے بتایا کہ خفیہ محکمے کو اطلاع ملی تھی کہ لشکر طیبہ ، حزب المجاہدین آتنکی افضل گورو کی پھانسی کا بدلہ لینے میں آتنکی حملہ کرنے کی فراق میں ہیں اور وہ دہلی میں موجود ہیں۔ اس کے بعد لیاقت علی کو گورکھپور میں بھارت۔نیپال سرحد سونالی بارڈر سے گرفتا ر کیا گیا۔ لیاقت کراچی سے نیپال پہنچا تھا۔ اس کی نشاندہی پر پولیس نے دہلی میں واقع حاجی عرفات گیسٹ ہاؤس میں چھاپہ مارا تو دھماکوں سامان لانے والا آتنکی استقبالیہ پر چابی دے کرکھانا کھانے کی بات کہہ کرچلا گیا۔21 مارچ کی رات قریب پونے 11 بجے اسپیشل سیل کی ایک ٹیم اس گیسٹ ہاؤس پہنچی ۔ پولیس ٹیم کمرہ نمبر304 کی تلاشی لینا چاہتی تھی۔ کمرہ نمبر304 میں رہنے والے کے بارے میں پوچھ تاچھ کی تو پتہ چلا کہ وہ شخص 27 گھنٹے پہلے ہی کمرے میں تالا لگا کر جا چکا ہے ۔ پولیس کی ٹیم قریب ڈھائی بجے تک چھان بین کرتی رہی۔ اس دوران کمرے سے دھماکوں سامان اور اے کے۔56 کے علاوہ کئی کاغذات بھی ملے ہیں لیکن وہاں اس سامان کو چھوڑنے والا نہیں ملا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ دہلی کے کئی علاقوں میں بھی آتنکی نے اپنا ٹھکانا بنا رکھا ہو۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے دہلی میں ابھی بھی آتنکی خطرہ ٹلا نہیں ہے۔جامع مسجد علاقے سے دھماکوں سامان برآمد ہونے کے بعد فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔ اسپیشل سیل کے جوائنٹ کمشنر شریواستو کے مطابق دیش کی راجدھانی ہونے کے ناطے دہلی میں بم دھماکے کرنے کا منصوبہ آتنکی بناتے ہی رہتے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہاں ہونے والے دھماکوں کی گونج بھارت میں نہیں بلکہ بیرونی ممالک تک سنی جاتی ہے اور اس کا اثر بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ آتنکیوں سے لوہا لینے کے لئے اسپیشل سیل بنایا گیا تھا۔اعدادو شمار کے مطابق انہوں نے بتایا کہ 2011ء سے اب تک لبریشن ٹائیگرز اور انڈین مجاہدین وغیرہ سمیت 28 آتنک وادیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس میں سب سے زیادہ18 آتنکی حزب المجاہدین سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو اس بار امکانی حملے میں کسی اہم شخصیت کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا۔ اس کے لئے فدائی حملہ کیا جانا تھا۔ ساتھ ہی اسرائیلی سفارتخانے کی طرح کسی وی آئی پی پر دستی بم حملہ کرنے کی پوری کہانی تیار کرلی گئی تھی۔ پولیس یہ مان رہی ہے کہ لیاقت اس کھیل میں اکیلا نہیں ہے بلکہ 6 لوگوں کی ٹیم راجدھانی میں دہشت پھیلانے کے لئے بھیجی گئی تھی۔ لیاقت کو گرفتار تو کرلیا گیا لیکن راجدھانی میں خطرہ جوں کا توں برقرار ہے۔ویسے اسپیشل سیل کے ذریعے لیاقت کی گرفتاری پر واویلا کھڑا ہوگیا ہے۔کشمیر پولیس کے حوالے سے آئی خبر نے اسپیشل سیل کی اس کارروائی پر سوالیہ نشان کڑے کردئے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ لیاقت ریاستی حکومت کی معافی نامے کی پالیسی کے تحت پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے براستہ نیپال پھر سے کشمیر میں بسنے کے لئے آرہا تھا۔ اس پر دہلی پولیس اور خفیہ افسروں کا کہنا ہے کہ اس نے نیپال کا روٹ کیوں پکڑا؟ وہ پاک قبضے کے کشمیر سے آسانی سے ادھر کے کشمیر میں آ کر بس سکتا تھا۔ اگر وہ سرنڈر کرنے آرہا تھا تو کشمیر پولیس کا کوئی ملازم اسے لینے کے لئے بھارت۔ نیپال بارڈر کیوں نہیں گیا؟ یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ جامع مسجد علاقے کے گیسٹ ہاؤس سے ملے اتنے خطرناک ہتھیار کس کے ہیں اور کس نے کس کے لئے رکھے تھے؟ یہ بھی کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرنے آیا شخص اصل میں کون تھا اور وہ کس سے ملنے آیا تھا۔ 
(انل نریندر)

گردش میں چلتے بالی ووڈ کے ستارے

بالی ووڈ کے ان دنوں ستارے گردش میں چل رہے ہیں۔ بالی ووڈ کے دھندے کی بات نہیں کررہا ہوں میں تو ستاروں کے ستاروں کی بات کررہا ہوں۔ ادھر سنجے دت جیل جانے کی تیاری کررہے ہیں تو ادھر راجستھان کے جودھپور کی ایک عدالت میں کئی اور ستارے گردش میں پھنستے دکھائی دے رہے ہیں۔ کالے ہرن کے شکار کے معاملے میں سنیچر کے روز بالی ووڈ ستارے سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم، تبو، ستیش شاہ پر نئے سرے سے الزامات طے کئے گئے ہیں۔ اس معاملے میں ایک دوسرے ملزم سلمان خان علاج کے لئے امریکہ میں ہونے کی وجہ سے عدالت میں حاضر نہیں ہو پائے تھے۔ جودھپور کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں حاضر ہونے والے ستاروں پر شکار کرنے اور شکاری کی مدد کرنے اور شکار کے لئے اکسانے کے الزامات عائد ہیں۔ان جرائم کے لئے تین سال سے چھ سال کی سزا ہے۔ سبھی ستاروں نے اپنے الزام سے انکار کیا ہے۔ معاملے کی سماعت اب 27 اپریل کو ہوگی۔ ویسے سلمان خان کے پرستاروں کے لئے امریکہ سے اچھی خبر آئی ہے۔ وہ اپنے ہیلتھ چیک اپ کے لئے امریکہ گئے ہوئے تھے۔ سلمان کو ڈاکٹروں نے کلین چٹ دے دی ہے۔ اب سلو کا کوئی آپریشن نہیں ہوگا۔ غور طلب ہے کہ انہیں2011ء میں نیورل پرابلم تھی۔ تب ان کی سرجری بھی ہوئی تھی۔ بھلے ہی فلم ’دبنگ‘ میں سلمان خان پولیس والے کا رول کررہے ہوں لیکن جودھپور میں کالے ہرن کے شکار معاملے میں انہیں 1996ء میں تین دن جیل میں گزارنے پڑے تھے اس کے بعد1998ء میں بھی سلو اسی سلسلے میں ایک بار جیل گئے تھے۔ سلمان کو برے دن یہیں ختم نہیں ہوئے۔2002 ء میں ان کی گاڑی نے فٹ پاتھ پر سو رہے پانچ لوگوں کو کچل دیا جس میں ایک کی موت ہوگئی تھی۔ ہٹ اینڈ رن کا معاملہ بھی عدالت میں جاری ہے اگر ان کا یہ گناہ ثابت ہوجاتا ہے تو پھر انہیں 10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ جب بھی سلو جیل گئے تو ان کے پروڈیوسروں کی راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے لیکن اسے سلمان کی قسمت ہی کئی کہ ان کے جیل جانے کے باوجود بھی ان کے کیریئر پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔جب بات جیل جانے کی ہوتو سنجے دت کے لئے صرف تین ہفتے بچے ہیں انہیں اپنے بچے اور شوٹنگ پروگرام کو مکمل کرنے کا موقعہ دیا گیا ہے۔ خبر ہے کہ اسی درمیان سنجے دت نے اپنی فلموں کے ڈائریکٹروں راج کمار ہروانی، اپورو لکھیا اور راہل اگروال کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ سنجو نے فلم پرڈیوسروں کو بھروسہ دلایا ہے کہ وہ انہیں بیچ میں چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور اپنی شوٹنگ مکمل کریں گے۔ جہاں راہل کو فلم پوری کرنے کے لئے سنجو کے لئے15 دن چاہئیں وہیں ہرانی اور لکھیا کو 5-5 دن کا وقت درکار ہے۔ اگر سنجو اسی پروگرام پر چلے تو ان کے پاس اپنے خاندان کے ساتھ وقت بتانے کے لئے صرف 3 دن ہی بچتے ہیں۔ ادھر سنجے دت کو معافی دینے کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے۔ دراصل حکمراں اور اپوزیشن دونوں طرف سے دلیلیں پیش کی جارہی ہیں۔ سنجو کے حق میں راشٹریہ دلت کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین راج کمار ویرکا نے سنیچر کو جالندھر میں بتایا کہ انہوں نے صدر اور مہاراشٹر کے گورنر کو خط لکھ کر دیش کے لئے ان کے والد کے اشتراک کا حوالہ دیتے ہوئے سنجو کو معافی دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنجے کے والد اور سابق مرکزی وزیر سنیل دت نے دیش کی سرداری اور امن کے لئے پیدا پریشانیوں کا حل نکالنے کی سمت میں بہتر کام کیا۔ ممبئی سے امرتسر ،پنجاب و حضرت بل جموں و کشمیر تک انہوں نے پد یاترا کی۔ لوگوں کو امن کا پیغام دیاتھا۔ دیش بھر میں کینسر کے لئے ان کے کئے گئے کاموں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کینسر کے بارے میں لوگوں کے درمیان جس طرح سے بیداری پھیلائی اور دیش بھر میں کینسر ہسپتال بنانے کے لئے پیسہ اکٹھا کیا وہ قابل تعریف قدم ہے۔ مسٹر ویرکا نے اپنے خط میں گورنر سے یہ بھی کہا کہ دت کے خاندان نے دیش میں کئی سماجی اسکیمیں چلائی ہیں۔ سنجے دت کی بہن پریہ دت آج بھی ممبر پارلیمنٹ ہیں اور ممبئی سمیت کئی مقامات پر سماجی مفاد کی اسکیمیں چلا رہی ہیں۔ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین نے خط میں دعوی کیا ہے کہ اس فیصلے سے ایک طرف جہاں پیسے کی کمی آئے گی وہیں دوسری طرف سنجے دت کی فلم سے وابستہ فلمی دنیا کے سینکڑوں ملازم اور دیگر لوگوں کی زندگی بھی متاثر ہوگی۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2013

’پان سنگھ تومر‘۔’وکی ڈونر‘ جیسی فلموں کا سنمان ہونا چاہئے

اس بار کے نیشنل فلم ایوارڈ بالی ووڈ کے لئے اچھی خبر لے کر آئے۔ ہندی سنیما کا سر فخر سے اونچا ہوگیا۔فخر اس لئے نہیں ہے کہ 100 کروڑ کلب کی فلم کو ایوارڈ نہیں ملا بلکہ اس لئے کہ ایوارڈ کے لائق فلموں کا سنمان کیا گیا۔ یہ ان لوگوں کے لئے ایک کرارا جواب ہے جو کسی فن کو محض پیسوں تک محدود کردیتے ہیں۔ ’پان سنگھ تومر‘ اور ’وکی ڈونر‘ جیسی فلموں کو سراہا کر ناظرین نے یہ بھی جتادیا کے مار دھاڑ، پیڑوں کے پیچھے رومانس کرنے یا پھر بیرونی ممالک میں شاندار خوبصورت جگہوں پر شوٹ ہوئی فلمیں انہیں پسند آئیں یہ ضروری نہیں۔ فلم کی کہانی اس میں کردار کو نبھانے کو بھی اب سنمان ملنا شروع ہوگیا ہے۔ یہ اچھا اشارہ اس لئے بھی ہے کیونکہ بالی ووڈ ہی کیوں ورلڈ سنیما اب پوری طرح سے کمرشل ہوتا جارہا ہے اور فلم کی کامیابی محض باکس آفس پر ٹک جاتی ہے۔ اس بار کے ایوارڈ ز نے اس ترمیم کی طرف نشاندہی کی ہے۔ ’پان سنگھ تومر‘ کہانی اور گینگس آف واسے پور، وکی ڈونر جیسی فلم بازو تفریح والی فلمیں نہیں ہیں۔ ’پان سنگھ تومر‘ کے لئے بیسٹ ہدایت کاری کا ایوارڈ لتمنگو پھلیا کو ملنا قابل تعریف ہے۔ انہوں نے فلم کی کہانی کو اس طریقے سے پردے پر اتارا کے اس کی بات اور گہرائی سے سامنے آئے۔ جو بھی فلموں کو اس بار ایوارڈ دیا گیا ہے ان میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ناظرین سنیما ہال سے باہر نکلتے ہی انہیں بھول نہیں پاتے۔ بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ پانے والے عمر داز وکرم گوکھلے اور نوجوان اداکار عرفان خان الگ ہی زمرے کے اداکار ہیں۔ ایوارڈ پانے کے بعد عرفان نے کہا میں کافی خوش ہوں ،اس سے بڑی خوشی یہ ہے کہ میرے پرستار خوش ہیں۔ ایوارڈ کے لئے یہ بات بہت معنی رکھتی ہے کہ کس کام کے لئے آپ کو ایوارڈ ملا ہے۔ ’پان سنگھ تومر‘ ایک نئی طرح کی کوشش تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کمرشل سنیما دائرہ بڑھانا ہوگا۔ جنتا بھی چاہ رہی ہے نئے طرح کا سنیما دیکھیں۔ ہم نے تفریح کی شکل میں جو کمرشل کی تشریح بنا رکھی ہے وہ فلموں کے لئے بہت بڑی نا انصافی ہے ہم اسے بدلیں گے۔ ہم تو بغاوت کرنے آئے ہیں ،بغاوت ہی کریں گے۔ ایوارڈ نہ بھی ملتا تو ہم یہ ہی کہتے ۔ عرفان کا کہنا تھا کہ مجھے وکی ڈونر فلم بھی اچھی کوشش لگی۔ حقیقت میں جو بھی ہورہا ہے اس کو پردے پر لانا ہمت والا کام تھا جو ڈائریکٹر نے ، آیوش مان کھورانہ اور انوکپور نے بخوبی نبھایا۔ اس فلم کو ایوارڈ ملنا چاہئے تھا۔ خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ نیشنل ایوارڈ میں پیسہ نہیں چلتا۔ کئی دیگر فلمی ایوارڈز میں، ٹی وی ایوارڈ میں سنا ہے کہ پیسوں سے ایوارڈ خریدہ جاتا ہے۔ یہ نیا پن کہیں سے اڑ کر نہیں چلا آیا۔ لمبے عرصے سے بالی ووڈ یہ ہی بھولتا آرہا تھا کہ فلم سماج کو متاثر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ناظرین یہ ہی چاہتے ہیں تو ہم ان کے دل کی بات ماننے کو مجبور ہیں۔یہ کہنا ہے بالی ووڈ کے زیادہ تر فلم پروڈیوسروں کا کہ اداکاروں کی نئی پود نے ناظرین اور کمرشل اینگل دونوں کو ایک ساتھ پرکھنا شروع کردیا ہے اور اپنا فن کا لوہا منوالیا ہے۔ ایسے میں سنیما نئی شکل اختیارکررہا ہے۔ یہ اس تعمیری نظریئے کا اعزاز ہے جو تکنیکی نقطہ نظر سے مکمل ہے ۔ گڑھے ہوئے فارمولے سے بھی بالی ووڈ کو اپنے دائرے سے باہر آنے پر مجبور کررہی ہے۔ اس سال کے نیشنل ایوارڈ اس نظریئے کو مضبوط فراہم کریں گے۔
(انل نریندر)

بھارتیہ دباؤ کے سبب اٹلی نے اپنے ملزم مرین واپس بھیجے

کیرل ساحل سے دور دو ہندوستانی ماہی گیروں کے قتل کے ملزم دونوں اطالوی مرین کا جمعہ کے دن ہندوستان لوٹنا ہندوستانی ڈپلومیسی و سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے۔ان دونوں اطالوی بحری جوانوں کو بھارت نہ بھیجنے کے اٹلی کے پرانے فیصلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان جو ڈپلومیٹک بحران کھڑا ہوگیا تھا۔ اب اٹلی کے تازہ فیصلے نے یقینی طور پر اس بحران کو ختم کردیا ہے۔ قابل غور ہے کہ اٹلی نے جب یہ خبر دی کے انتخابات میں ووٹ دینے کیلئے ہندوستانی سپریم کورٹ سے خاص اجازت لیکر اٹلی آنے والے دونوں ملزم اب بھارت نہیں لوٹیں گے تو عدالت ہذا نے اس پر سخت نوٹس لیا اور بھارت نے اٹلی کے مقیم سفیر کو ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اطالوی سفیر نے ملزموں کی واپسی کی گارنٹی سے متعلق حلف نامہ دیکر اپنا سفارتی اختیار کھو دیا ہے لیکن جمعہ کو جب دونوں ملزمان واپس بھارت آ گئے تو سبھی نے راحت کی سانس لی ہے۔ یہ بحران غیر متوقع طور پر کھڑا ہوگیا تھا۔اب ایسی نظیر تاریخ میں کہیں نہیں ملتی جس میں کوئی دیش دوسرے دیش کی سپریم کورٹ کے سامنے کوئی وعدہ کرے اور پھر اس سے مکر جائے۔ بھارت کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس صورتحال کا سامنا کیسے کرے؟ بھارت اور اٹلی کے رشتے کبھی خراب نہیں رہے لیکن اس سلسلے میں بے مطلب کی کڑواہٹ مستقل طور پر آجاتی۔ ویسے اٹلی کا یو ٹرن یوں ہی نہیں ہوا۔ ہندوستانی سپریم کورٹ سے کئے گئے وعدے کے مطابق اپنے بحری جوانوں کو مقدمے کے لئے اس نے واپس بھیج تو دیا لیکن تحریری گارنٹی کے بدلے اٹلی نے بھارت سے وعدہ لیا ہے کہ اسکے بحری جوانوں کو موت کی سزا دلائی جائے گی۔ وہیں اس سفارتی بحران کے حل کے لئے بھارت کو رعایت کے ساتھ ساتھ اپنی طاقت کے کئی سفارتی داؤ بھی چلنے پڑے ہیں لیکن یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ قانون کے واقف کار مانتے ہیں کہ سرکار ایسا بھروسہ دے رہی ہے جس میں سزا طے کرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے نہ کہ اس کے۔ سرکار کا فیصلہ اچانک نہیں تھا۔ کیا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قتل جیسے گھناؤنے جرائم کا ملزم سپریم کورٹ سے وعدہ کرکے باہر جانے کی اجازت لے اور واپس آنے کیلئے شرطیں رکھے؟ اٹلی کے بحری جوانوں نے کچھ ایسا ہی کیا ہے۔ پہلے تو اٹلی نے انہیں بھیجنے سے منع کردیا۔ جب بھارت و سپریم کورٹ نے دباؤ بنایا تو واپس بھیجا لیکن تحریری وعدے کے ساتھ۔ ان کے علاوہ اٹلی حکومت کو بھارت سرکار نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ بحری جوانوں کے اخلاقی حق کی حفاظت اور مقدمہ پورا ہونے تک انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ جب تک مقدمہ چلتا رہے گا وہ دونوں اٹلی سفارتخانے کے ہاسٹل میں ہی رہیں گے۔ لیکن یہ صاف ہے کہ دونوں ہندوستانی عدلیہ کے سامنے پیش ہوتے رہیں گے اور ان کے قصوروار یا بے قصور ہونے کا فیصلہ ہندوستانی عدالتیں ہی کریں گی۔ اب حکمراں فریق اپوزیشن میں دوڑ لگ گئی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اٹلی کے ملزمان کو واپس بھیجنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوستانی عدلیہ کا سچائی اور وقار بڑھا ہے۔ کیرل کے وزیر اعلی اومن چانڈی نے کہا یہ بات واضح طور سے ثابت ہوگئی ہے کہ کوئی بھی دیش بھارت کی سرداری کو لیکر سوال نہیں کرسکتا۔ وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا فیصلے کے بارے میں مناسب عمل کے ذریعے میں اس سلسلے میں سپریم کورٹ کو مطلع کیا جائے گا اور وہ خود پارلیمنٹ کو جانکاری دیں گے۔ وزیر مملکت داخلہ آر پی این سنگھ نے کہا وزیر اعظم اور یوپی اے چیف کے سخت رویئے کے سبب مرین کو واپس بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ بڑی اپوزیشن جماعت بھاجپا کے ترجمان راجیو پرتاپ روڑی نے کہا کہ یہ سب اپوزیشن پارٹیوں کی اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہے اور انہوں نے دباؤ بنایا اس کے بعد حکومت نے اس مسئلے پر سخت موقف اپنایا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو سرکار کے ٹال مٹول رویئے سے اٹلی ملزمان کو بھیجنے کے لئے شاید ہی راضی ہوتی۔ مارکسوادی پارٹی کے گوروداس داس گپتا نے کہا یہ اچھا ہے کہ اٹلی نے ملزم فوجیوں کو واپس بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کا سہرہ صرف بھارت سرکار کو نہیں دے سکتے۔ حقیقت میں اس کا سہرہ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور بین الاقوامی دباؤ کو جاتا ہے۔ چلو دیر آید درست آید۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...