Translater

29 اگست 2015

بڑھتی آبادی اصل تشویش کاباعث ہوناچاہئے

مذہب کی بنیاد پر مردم شماری کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے علاوہ دیش میں دوسرے سبھی مذاہب کے لوگوں کی آبادی بڑھی شرح دیش کی اوسطاً اضافی شرح سے کم ہے لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ مسلم آبادی اضافے کی شرح بھی مسلسل گھٹ رہی ہے۔ مردم شماری 2011 مذہب کی بنیاد پر کے اعداد وشمار سابقہ یوپی اے سرکار کے عہد میں تیار ہوگئے تھے لیکن اس کی وقت کی منموہن حکومت نے لوک سبھا چناؤ کو دیکھتے ہوئے اسے جاری نہیں کیا تھا۔ عام طورپر مردم شماری کے 3سال کے اندر مذہب پر مبنی اعداد وشمار جاری کردیئے جاتے ہیں اس طرح مارچ 2014 تک ان اعداد شمار کو جاری کردیاجاناتھالیکن منموہن سرکار نے اس کے سیاسی زوال کے ڈر سے انہیں روکا ہوا تھا۔ اب مرکز میں مودی سرکار نے بھی اسے دبائے رکھا اب بے حداہم مانیں جانے والے بہاراسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے ان اعداد وشمار کو جاری کیا گیا ہے مردم شماری کے مذہبی اعدادوشمار کو سیاسی وجہ سے روکنے یا جاری کرنے کے الزام اگر صحیح ہے تو یہ ہماری آج کی سیاست پر ایک تبصرہ ہے بتایا جارہا ہے کہ پچھلی مردم شماری کے مذہبی اعدادوشمار کو 2014 کے لوک سبھا چناؤ کو دیکھتے ہوئے پچھلی سرکار نے روکا تھا اب انہیں جاری کرنے کے پیچھے بہار کے چناؤ کو پولارائزیشن کرنے کے ارادہ ہے لیکن سیاست سے دور ہٹ کر دیکھیں تو مردم وشماری کے یہ اعداد وشمار کچھ اور ہی تشویش کا نتیجہ پیش کرتے ہیں اعداد وشمار کے مطابق 2001 سے 2011کے درمیان مسلم آبادی 0.8فیصدی بڑھی جب کہ ہندو آبادی 0.7 فیصدی گھٹی ہے۔ حالانکہ 2001کے مقابلہ میں 2011مسلموں میں آبادی اضافہ کی شرح ہندو میں آبادی اضافی شرح سے کم ہوئی ہے۔ اس اندیشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مذہب پر مبنی اعداد وشمار کاسیاسی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ دیش میں یہ دونوں اہم بڑھے مذاہب کی طرف سے ایسی چپ چاپ آوازیں اٹھ رہی ہیں جو اپنے اپنے مذہب پر خطرہ بتا کر لوگوں سے آبادی بڑھانے کی اپیل کرتی رہی ہیں۔ کیونکہ دیش کا بٹوارہ ایک مرتبہ مذہب کی بنیاد پر ہوچکا ہے لہذا کئی بار تھوڑے بہت ایسی آوازوں پر کان نہیں رکھتے نظر آتے۔ البتہ آسام میں 6 کی جگہ 9ضلعوں کا مسلم اکثریتی ہوجانا اور مغربی بنگال میں سرحدی اضلاع میں مسلم آبادی کا بڑھنا باعث تشویش ضرور ہے اس سے اس دلیل کو کو تقویت ملتی ہے کہ بنگلہ دیش سے آسام اور مغربی بنگال میں سرحدی اضلاع میں ناجائز دراندازی کثرت سے ہورہی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر اعداد وشمار کو جاری کرنے کی منشاء خاص کر اس کے وقت کو لے کر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔ لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ ایسی شکایت کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہے جو مردم شماری کی ذات پات پر مبنی اعداد وشمار کو شائع کرنے کے لئے آسمان اور زمین کو سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ یقیناًدوکلہ پن ہے ایک طرف ذات پات پر مبنی مردم شماری اور اس کے اعداد وشمار کو ظاہر کرنے کی مانگ تو دوسری طرف مذہب پر مبنی مردم شماری اور اس کے سامنے لانے کی مخالفت کرنا۔ یقیناًسیاسی اغراز پر مبنی ہے۔ اگرچہ سرے سے مذہب اور ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی مخالفت میں آوازیں اٹھنا ممکن ہے انہیں وسیع حمایت مل سکتی ہیں۔ بہرحال بڑا سوال یہ نہیں کہ بڑھتی آبادی میں مذہب کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ بلکہ یہ کہ کیا دیش اس طرح بے قابو ہوتی آبادی مار جھیلنے کے لئے قوت رکھتا ہے؟ 2000 یا 2011 کے درمیان دیش کی آبادی جس طرح سے تقریبا 18 فیصدی بڑھی ہے باعث تشویش اور چیلنج بھرا ہے۔ آبادی کی رفتار اسی طرح بڑھتی رہی تو دیش کے تمام وسائل اور اس کی ضرورتوں کے سامنے اونٹ میں زیرہ ثابت ہوں گے۔ ہندو آبادی کے 80% سے کم ہونے پر تشویش ظاہر کرنے والوں کے لئے اس سے بھی زیادہ تشویش کا پہلو یہ ہوناچاہئے پچھلی دہائی میں ہندو کو چھوڑ کر سبھی فرقوں میں جنسی تناسب میں بہتری آئی ہیں۔ تشویش کا سوال یہ بھی ہوناچاہئے کہ مسلمانوں کے مقابلے دیش کی اکثریتی ہندو میں بچوں کی موت شرح زیادہ اور اوسط عمر کیوں ہے؟
(انل نریندر)

تہاڑ میں بدمعاش گروہوں میں دبدبہ کی بڑھتی لڑائ

روہنی عدالت میں پیشی کے بعد تہاڑ جیل لے جاتے وقت پولیس کی گاڑی میں دو گروپوں میں گینگ وار چوکادینے والی وار دات سامنے آئی ہیں۔ پولیس وین میں نیرج بوانیاں نیٹو دبودیا گروہوں کے درمیان ہوئی خونی لڑائی میں دو قیدیوں کی موت ہوگئی۔ جب کہ پانچ قیدی شدید طورپر زخمی ہوگئے۔ جن دوقیدیوں کی موت ہوئی ہیں ان کی پہچان پارس و پردیپ کی شکل میں ہوئی ہیں اور دونوں متوفی قیدی نیٹو دبودیا گروہ کے ممبر بتائے جاتے ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ بھی نیٹو دبودیا اور نیرج بوانیاں گروہ کی رنجش کے بارے میں پولیس کو معلومات تھی اس کے باوجود پولیس نے دونوں گروہ کے بدمعاشوں کو ایک ہی گاڑی میں لے جانے کی لاپرواہی دکھائی۔ اتنا ہی نہیں۔ کسی بھی قیدی کے ہاتھ میں ہتھکڑی نہیں لگی تھی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر نیرج اور اس کے ساتھیوں نے دوہرے قتل واقعہ کو انجام دیا۔ یہ پوری واردات کے دوران وین میں تقریبا انچارج و ڈرائیور سمیت 12 گارڈ تھے لیکن ان میں کسی نے بھی بیچ بچاؤ نہیں کیا۔ ایک سینئر افسر نے بتایاکہ دونوں گروہ ایک دوسرے کو مارنے سے کبھی چوکتے۔ ایسے میں ایک گاڑی کے اندر دونوں گروہ کے بدمعاشوں کو لانااس واردات کی وجہ بنی۔ روہنی عدالت میں گاڑی شام 4:30 منٹ پر تہاڑ جیل جانے کے لئے نکلی تھی۔ وین کے اگلے حصے میں ڈرائیور انچارج اور ایک گارڈ بیٹھاتھا اس کے پیچھے بنے کیبن 9 زیر سماعت قیدی تھے۔ سب سے پہلے کیبن میں 9 گارڈ موجود تھے وین میں جیسے ہی مدھو پن چوک پہنچی تو دونوں گروہ میں آپس میں تکرا گئے نیرج اور اس کے حمایتیوں نے پارس و پردیپ کو جم کر پیٹا اور پھر انہیں نیچے گرا کر سر پر جم کر لات اور گھونسوں سے حملے کئے پوری واردات کے دوران کسی گارڈ نے اس کو روکنے یا بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش نہیں کی۔ واردات کی جانکاری پولیس کو دے کر وین ڈرائیور بھگوان مہاویر ہسپتال کی طرف لے گیا۔ لیکن وہاں پہنچنے تک پاس اور پردیش کی موت ہوچکی تھی۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تہاڑ کے اندر جرائم پیشہ اپنے قصور کی سزا کاٹنے بچائے بڑی آسانی سے گینگ چلا رہے ہیں۔ موقعہ ملتے ہی دوسرے گروہ کے بدمعاشوں پر حملہ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ان کا خوف تہاڑ جیل کے اندر چھایا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جیل انتظامیہ بھی اس پر روک لگانے میں ناکام رہا ہے۔ جیل کی ذرائع کی مانے تو تہاڑ جیل میں خاص طور سے دوگینگ سرگرم ہے جو جیل کے اندر سے جرائم کوانجام دے رہے ہیں۔ ان میں لوگوں سے زرہ فدیہ کی مانگ اور اغوا کی وارداتیں شامل ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی جیل نمبر8 میں ایک قیدی دپیک کی آنکھ پھوڑ دی۔ اور بے رحمانہ طریقہ سے مار ڈالا گیا تھا۔ کچھ ماہ پہلے امیت بھورا نے جیل میں رہتے ہوئے بھی رجوری گارڈن کے ایک کاروباری سے زرہ فدیہ کی مانگ کی تھی جیل کے اندر منشیات اور موبائل آسانی سے پہنچ جاتے ہیں۔ پولیس انتظامیہ کو تہاڑ میں چل رہی جرائم کی سرگرمیوں پر سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی نہیں تو ایسی ہی وارداتیں ہوتی رہے گی۔
(انل نریندر)

28 اگست 2015

بات چیت منسوخ ہونے پر پاکستان میں ملا جلا رد عمل

ہند ۔ پاک کے درمیان قومی سلامتی سطح کی بات چیت منسوخ ہونے پر سرحد پار میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ یعنی وہاں خوشی بھی ہے اور تنقید بھی ہورہی ہے۔ پہلی بات کرتے ہیں خوشی کی۔ بات چیت ٹوٹنے پر سرحد پار جشن منا۔ سب سے زیادہ خوش پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پاکستانی رینجرس اور دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں (انٹیلی جنس بیورو، ملٹری انٹیلی جنس اور را) نے اس سلسلے میں حکومت کو مفصل رپورٹ دی ہے۔ اس کے مطابق این ایس اے سطح کی بات چیت منسوخ ہونے کے اعلان کے فوراً بعد پاکستان سرحد پر بڑی بھیڑ دیکھی گئی۔ آتش بازی کی گئی، مٹھائیاں بھی باٹی گئیں۔ پاکستانی رینجرس کے ڈی جی رہے موجودہ آئی ایس آئی چیف رضوان اختر کا پیغام دو رینجروں نے مائیک پر پڑھ کر سنایا۔ اس دوران لشکر طیبہ کا کمانڈر ابو راشد خان اور اس کی ٹیم بھی موجود تھی۔ پیغام تھا ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت رکوادی ہے۔ اب آپ زیادہ سے زیادہ فائرنگ کروں، گھس پیٹھ کراؤ۔ خفیہ ایجنسیوں نے اس واقعے کا ویڈیو فٹیج وزارت داخلہ کو دیا ہے۔ آنے والے تین مہینوں میں بی ایس ایف چوکی پر پاک رینجرس زبردست گولہ باری کریں گے تاکہ دہشت گردوں کو گھس پیٹھ کرا سکیں۔ اب بات کرتے ہیں تنقید کی۔ بات چیت ٹوٹنے پر نواز شریف سرکار کو پاکستان کے اندر بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے زیادہ اخبارات نے اپنے اداریوں اور ادارتی صفحات پر شائع ماہرین کی رائے میں شریف سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ تنقید روس کے شہر اوفا سمجھوتہ میں کشمیر کا تذکرہ نہ کرنے اور بعد میں یہ آئی ایس آئی و فوج کے دباؤ میں اس اشو پر اڑیل رویئے کو لیکر ہورہی ہے۔ پاکستان کے مشہور اخبار ’دی ڈان‘ کے ادارہ صفحے پر شائع مضمون عنوان یہ بات چیت منسوخ کرنے کے لئے سیدھے طور پر نواز شریف کوذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ کسی اخبار میں سرل المیڈا نے لکھا ہے کہ اسے وقت پر کشمیر اشو کو اٹھانے کا کوئی تک نہیں تھا۔ان کے مطابق اوفا میں بھارت کی شرط کے آگے جھکتے ہوئے شریف کشمیر کو چھوڑ کر دہشت گردی پر بات کرنے کے لئے راضی ہوگئے تھے لیکن واپس لوٹنے کے بعد فوج و آئی ایس آئی کا دباؤ نہیں جھیل پائے۔ سرل نے سیدھے فوج اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لکھا ہے۔ اس کی جگہ لڑکوں کا لفظ استعمال کیا ہے، لیکن اشارہ صاف ہے ۔’ دی نیوز‘ اخبار نے اوفا میں اہم اشو پر صاف بات چیت نہ کرنے اور اسے عام جنتا کو صحیح طریقے سے نہ سمجھانے کے لئے اپنی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اخبار کے مطابق اس سے حالات اور الجھ گئے ہیں۔ جبکہ پاکستان آبزرور میں شائع مضمون میں ایچ ۔ضیا ء الدین نے حریت لیڈروں سے ملاقات کے لئے سرتاج عزیز کے اڑیل رویئے کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ حریت نیتاؤ ں سے ملاقات کے سبب ہی ٹھیک ایک سال پہلے ہندوستان سکریٹری سطح کی بات چیت منسوخ کرچکا ہے۔ ایسے میں شریف سرکار سے یہ کیسے سوچ لیا کہ اس بات ایسا کرنے پر وہ بات چیت کے لئے تیار ہوجائیں گے؟ پاکستان کے قومی سلامتی مشیر نے ’ڈان‘ اخبار سے کہا کہ اگر بھارت کے لئے کشمیر اشو نہیں ہے تو اس نے وہاں 7 لاکھ فوجیوں کو کیوں تعینات کیا ہوا ہے؟ بات چیت منسوخ ہونے کے سبب انہوں نے کہا پوری بین الاقوامی برادری مانتی ہے کشمیر دو ملکوں کے درمیان کا مسئلہ ہے جس کا حل نکالنا چاہئے۔
(انل نریندر)

مکمل ریاست کا درجہ دلانے کیلئے دہلی میں ریفرنڈم کی مانگ

دہلی میں اروند کیجریوال حکومت نے دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلوانے کے لئے ریفرنڈم کی مانگ اٹھا کر دہلی سرکار ، چناؤ کمیشن اور مرکزی سرکار کے درمیان ایک نیا ٹکراؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ اب تک تو جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند کشمیر کا مستقبل طے کرنے کے نام پر اس طرح کی مانگ کرتے رہے ہیں۔ کیجریوال سرکار نے دہلی کے حکمرانی نظام پر ریفرنڈم کی جو مانگ کی ہے وہ آئینی نہیں ہے اور آئین میں کہیں نہیں ہے۔ آئین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے۔ دنیا میں ہر ملک کی راجدھانی مرکزی سرکار کے ہی ماتحت ہے۔ دہلی دیش کی راجدھانی بھی ہے اس ناطے اس پر دیش بھر کے لوگوں کا برابر کا حق ہے۔ مرکزی انتظامیہ سے پوری طرح الگ کرنے کے فیصلے پر تو دیش بھر میں ریفرنڈم کروانا پڑے گا۔ دہلی مرکز کے زیر انتظام ریاست ہونے کی وجہ سے دہلی کے سرکاری ملازم مرکزی سرکار کے ملازم ہوتے ہیں۔ ان پر مرکزی سرکار کے قاعدے قانون نافذ ہوتے ہیں۔ ایسے میں دہلی سرکار کا رول محدود ہوجاتا ہے لیکن کم اختیار تعلیم ،ہیلتھ اور پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم، سماجی بہبود جیسے کاموں میں دخول نہیں ہے۔ آپ کے چناوی منشور کے 70 نکات میں دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کی بھی بات تھی۔ پھر الگ سے ریفرنڈم کرانا تو وقت کی بربادی مانی جائے گی۔ ریفرنڈم آئین میں ہے ہی نہیں۔ ایک تو کونسا ادارہ یہ کام کرے گا اس کے جواز چناؤ کمیشن جیسا نہیں ہوسکتا یہ جب طے ہے کہ ریفرنڈم کے بعد بھی پارلیمنٹ ہی فیصلہ کرے گی ۔ ابھی کیجریوال سبھی پارٹیوں سے بات کرسکتے ہیں۔ دیش کی راجدھانی پوری طرح کسی ریاستی حکومت کے ماتحت کرنا ممکن نہیں دکھائی دے رہا ہوگا تبھی تو اس مطالبے کی شروعات کرنے والی بھاجپا اور کانگریس نے پہلے منع کردیا۔ حکومت کے ذریعے ریفرنڈم کرانے کی اسکیم پر چناؤ کمیشن بھی راضی نہیں ہے۔ چناؤ کمیشن کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ سرکار کو بتایا دیا ہے کہ آئین میں ریفرنڈم کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ ایسے میں رائے شماری ممکن نہیں ہے۔ دہلی کو مکمل ریاست کے درجے کو لیکر ریفرنڈم کرانے کی عام آدمی پارٹی کی مانگ غیر آئینی قرار دیتے ہوئے دہلی پردیش کانگریس کی چیف ترجمان شرمشٹھا مکھرجی نے دھمکی دی کہ اگر کیجریوال سرکار اس ریزولیوشن کو آگے بڑھاتی ہے تو پارٹی عدالت جائے گی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ ’آپ‘ پارٹی ریفرنڈم کی بات کرے وہ تقسیم کاری اور علیحدگی پسند طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرے گی۔ آپ کا کہنا ہے 44 ویں آئین ترمیم ایکٹ 1978 کے پیرا دو کے مطابق جنتا کو سماجی اقتصادی، سیاسی اور انصاف ،اظہار آزادی کو یقینی کرنے کیلئے چوطرفہ حقوق پر مفاد عامہ کے کسی مسئلے پر ریفرنڈم کیا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

27 اگست 2015

Pak broke negotiations by inviting Hurriyat : US

While allegations and counter allegations are going on for cancellation of Indo-Pak NSA level dialogue but we believe this is a win-win for India.  It had not occurred earlier to Pakistani the Indo-Pak negotiations are broken due to these very   separatists of J&K.  India has given a signal to Pakistan and the world that India will decide the direction and situation of the negotiations.  We feel it has also been decided for future that a handful Pak-pro separatists will not be deciding the Kashmir issue and if felt necessary, Government of India can express it by taking strict action.  US experts have also held Pakistan responsible for cancellation of dialogue.  South Asia Associated Kugelman of a prestigious institute like Woodrow Wilson International Centre said that Pakistan blasted off the bridge of dialogues by inviting Hurriyat.  Former Pak Ambassador to US Hakkani said that Pakistan’s conduct was according to its old efforts of trying to attract international attention towards Kashmir.  New York Times says that Pakistan cancelled dialogue with India citing of ban on the Hurriyat Leaders.  The news reports suggest that it was the result of dispute between two countries over Pak’s plan to meet Kashmiri separatists in India.  Both paid for non-consent as both are blaming each other for failure of dialogue.  LA Times reacted that influential army of Pakistan gave signs of sidelining the Prime Minister Nawaz Shareef.  It’s a big win of Modi government that separatists in J&K themselves have become the target of those parties who had given a warm approach for them.  BJP and Central Government were encircled by the questions arising over some issues soon after the formation of government with PDP in J&K especially on the issue of separatism.  Though the dialogue was not less opposed within BJP itself, especially after the terrorist Naved was captured.  Some leaders were openly demanding to cancel the dialogue.  Whether the opposition may allege the government failure after the cancellation of the dialogue but in our opinion the Government of India succeeded in its strategy.  Pakistan itself fell prey in the game of the government and had to face checkmate.  Modi government killed the snake without breaking the stick.  The credit goes to Prime Minister Narendra Modi, External Affairs Minister Sushma Swaraj and NSA to India Ajit Doval.

Anil Narendra

 

گھناؤنے جرائم میں موت کی سزاغیر انسانی نہیں

پچھلی ڈیڑھ دہائی میں جن چار لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہے ان میں سے 3 دہشت گرد تھے۔ ان معاملوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں سے صاف ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پھانسی کی سزا ضروری ہے۔ ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا پر سپریم کورٹ نے صاف کیا کہ موت کی سزا غیر انسانی یا بربریت آمیز نہیں ہے۔ گھناؤنے جرائم میں سزائے موت زندگی اور آزادی کے حق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر، جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس اے کے گوئل پر مشتمل تین نفری بنچ نے قتل کے معاملے میں موت کی سزا کے ایک قصوروار کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارکس دئے تھے۔ ایک لڑکے کے اغوا اور قتل کے قصوروار اپنی عرضی میں دلیل دی تھی کہ موت کی سزا صرف دہشت گردوں پر ہی لاگو ہوتی ہے۔ اس پربنچ نے کہا قتل کے معاملے میں موت کی سزا اہم ہے لیکن اگر عدالت نے موت کی سزا ہو تو اس پر سوال کھڑا کرنا مشکل ہے لیکن زرفدیہ کے لئے اغوا کرنے کے بڑھتے واقعات کو روکنے کیلئے سخت سزا دینا ضروری ہے۔ پھر چاہے اغوا پیسے کے لالچ میں عام جرائم پیشہ افراد نے یا منظم سرگرمیوں کے طور پرکیا ہو یا دہشت گردتنظیموں نے۔عزت مآب بنچ نے آئی پی سی کی دفعہ364A کے تحت سزائے موت کو جائز ٹھہراتے ہوئے یہ رائے زنی کی تھی۔ بنچ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے یہ قانون دیش کے شہریوں کی سلامتی کیلئے بنایاتھا۔
اسے تیارکرتے وقت دیش کے اتحاد ،سالمیت اور سرداری کی سلامتی پر تشویش ظاہرکی تھی۔ ایسے میں دفعہ364A کے تحت سزائے موت کو جرائم کے موازنے میں زیادہ بے رحم نہیں مانا جاسکتا۔ اسے غیر آئینی نہیں کہا جاسکتا۔ قابل ذکر ہے وکرم سنگھ کو2005ء میں ایک طالبعلم کے اغوا اور قتل کے معاملے میں پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی بعد میں سپریم کورٹ نے اس پر اپنی مہر لگادی تھی۔ زرفدیہ کے لئے اغوا میں دفعہ364 کا قصوروار ٹھہرائے جانے پر اس نے سزاکے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ اس نے یعقوب میمن کی پھانسی کے بعد ان انسانی حقوق انجمنوں نے ہائے توبہ مچادی تھی۔ اس پر آئینی کمیشن نے پھانسی کو بنائے رکھنے کے حق میں رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ پھانسی کی سزا کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت سماج کی سلامتی اور انسانیت کی حفاظت کی ضرورت کو دھیان میں رکھنا ہوگا۔ پھانسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے کہا تھا کہ یہ سوال آئی پی سی سیکشن کو بنائے رکھنے کا نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ خوف پیدا کرنے والی سزا کو ختم کرنے کے کیا کیا اثرات ہوں گے؟ موجودہ مشکل اور شش و پنج کے ماحول میں یہ انسداد (ڈیٹورینٹ) سزا اگر نہیں بنائے رکھی تو دیش میں بدامنی پھیل جائے گی۔
(انل نریندر)

تین طلاق کے سخت مخالف مسلم خواتین

خواتین انقلاب نے ہندوستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔ اب خواتین کی شادی کیلئے زور زبردستی نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ اپنے من پسند جیون ساتھی کے ساتھ بسنے سے پہلے نوکری یا کام کرنے پرتوجہ مرکوز کرنے لگی ہیں۔آج مسلم خواتین کی ذریعے غیر شادی شدہ یا تنہا عورت (سنگل وومن) کی شکل میں زندگی گزارنا کچھ ملکوں میں قابل قبول روایت بن گئی ہے۔ بیشک اس تبدیلی کی رفتار دھیمی ہے لیکن کیریئر کو ترجیح دینے والی ان خواتین میں یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ آج ایران کے شہروں میں کنواری یا تنہا عورت کا ہونا غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ اس کی اصلی آبادی کے اعدادو شمار تو دستیاب نہیں ہیں لیکن یونیورسٹی کے پروفیسروں ، ریئل اسٹیٹ ایجنٹوں، خاندانوں و نوجوان عورتوں کا ماننا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں بڑی تعداد میں لڑکیوں کے یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور طلاق کے معاملوں میں اضافے کے چلتے یہ نیا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سال2000ء میں ایران میں 50 ہزار طلاق ہوئیں جبکہ سال2010ء میں اس میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا اور یہ اعدادو شمار ڈیڑھ لاکھ کو پار کرگئے ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں تو اضافے کا اندازہ نہیں ہے۔ ادھر ہمارے دیش میں کئی برسوں سے مسلم سماج میں تین طلاق پر بحث جاری ہے لیکن حال میں مسلم خاتون تحریک (وی ایم ایم اے) کی جانب سے کئے گئے سروے کی مانیں توبھلے ہی مسلم علماؤں کی طرف سے اس پر کوئی بھی رائے ہو لیکن سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مسلم خواتین تین طلاق کے بالکل خلاف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ تین طلاق اور کثیر شادیاں روایت پر قانونی طور پر پابندی لگنا چاہئے۔ سروے میں 4710 مسلم خواتین کو شامل کیاگیا تھا۔ 10 ریاستوں میں یہ رائے شماری کرائی گئی تھی۔ سروے میں شامل خواتین نے بتایا کہ ان کے شوہر نے زبانی طلاق دی۔ کچھ عورتوں کے مطابق خط یا ایس ایم ایس سے انہیں طلاق کی اطلاع ملی۔ 78 فیصدی خواتین کی نا منظوری کے باوجود شوہر نے طلاق دی۔
90 فیصدی خواتین نے کہا کہ تین طلاق پر روک لگنی چاہئے۔ 88فیصدی خواتین کی رائے قانونی چارہ جوئی کے تحت طلاق ہونی چاہئے۔ 50 فیصدی خواتین تعلیم یافتہ ہیں جبکہ قومی اوسطاً 53 فیصدی ہے۔ 90 دنوں تک طلاق کی کارروائی آسان ہو تاکہ سمجھوتے کی گنجائش رہے۔90 فیصدی نے کہا کہ دوسری بیوی رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ دیش کی کل1.2 ارب آبادی میں 13 فیصدی مسلمانوں کی حصہ داری ہے۔انڈونیشیا کے بعد بھارت دنیا کا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا دیش ہے۔ محض تین بار طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)

26 اگست 2015

حریت کو دعوت دے کر پاک نے توڑی بات چیت:امریکہ

بھارت پاک این ایس اے سطح کی بات چیت منسوخ ہونے کو لیکر بھلے ہی الزام تراشیوں کادور جاری ہو لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں بھی ہندوستان کی جیت ہوئی ہیں۔ شاید ایسا پہلے کبھی ایساہوا ہو۔ کہ جموں وکشمیر کے علیحدگی پسندوں کو لیکر بھارت پاک بات چیت ٹوٹ گئی ہو۔ اس سے پاکستان اور بیرونی ممالک تک یہ پیغام گیا ہے کہ بات چیت سمت اور صورت بھارت طے کرے گا۔ ہمیں لگتا ہے کہ مستقبل کے لئے بھی یہ طے ہوگیا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ مٹھی بھر پاک پرست علیحدگی پسند لیڈر نہیں کریں گے۔ ضروری ہوا تھا تو حکومت ہند سخت قدم اٹھا کر اس کا بھی اظہار کرسکتی ہیں۔ امریکی ماہرین نے مذاکرات منسوخ ہونے کا ذمہ بھی پاکستان کے سر ڈالا ہے۔ ووڈروولسن انٹر نیشنل سینٹر جیسا نامور ادارہ کے ساؤتھ ایشیا کے اسویسیٹڈ کے نمائندے گیل مین نے کہا کہ پاکستان میں حریت لیڈر شپ کو دعوت نامہ بھیج کر بات چیت کے پل کو ہی مسمار کردیا ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حقانی نے کہا کہ پاکستان کا رویہ کشمیر کی طرف بین الاقوامی توجہ مرکوز کرنے کی پرانی کوشش کے مطابق کی تھا۔ نیویارک ٹائمز کا عنوان کہتا ہے کہ پاکستان نے روک کاحوالہ دیتے ہوئے بھارت سے بات چیت منسوخی کی خبر میں لکھا ہے کہ پاکستان کی بھارت میں کشمیری علیحدگی پسندوں سے ملنے کا منصوبہ کو لے کر دونوں ملکوں میں تنازعے کے چلتے یہ فیصلہ ہوا اوردونوں میں نہ اتفاقی فریقین پر بھاری پڑی۔ کیونکہ دونوں ہی کی مذاکرات منسوخ ہونے پر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی حالت میں ہے ۔ ایل اے ٹائمز کا رد عمل تھا کہ ’’پاکستان کی طاقتور فوج وزیراعظم نواز شریف کو درکنار کئے جانے کااشارہ دیا اس سے نریندر مودی کی سرکارنے مذاکرات کو لیکر شش وپنچ کی صورت حال کھڑی ہوئی مودی سرکار کی ایک بڑی کامیابی کا اشارہ یہ ہے کہ خود جموں کشمیر میں علیحدگی پسند ان پارٹیوں کے بھی نشانے پر آگئے ہیں جن کا رخ ان کے تئیں نرم مانا جاتا تھا۔ کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ سرکار کی کے قیام کے بعد سے ہی کچھ اشوز کو لیکر اٹھ رہے سوالات میں بھاجپا اور مرکزی سرکار بھی گھیرتی آرہی تھی۔ خاص کر علیحدگی پسند اشوز پر۔بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر پاکستان بے نقاب ہوا۔ ویسے مذاکرات کی مخالفت خودبھاجپا کے اندر بھی کم نہیں تھی۔ خاص کر دہشت گرد نوید کے پکڑے جانے کے بعد کچھ لیڈر کھل کر بات چیت منسوخ کرنے کی مانگ کرنے لگے تھے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھلے ہی بات چیت منسوخ ہونے پر سرکار کچھ بھی الزام لگائے لیکن ہماری رائے میں بھارت سرکار کی ڈپلومیٹک چالیں کامیاب رہیں۔ بھارت سرکار کی چال میں پاکستان خود مات کھا گیا۔ مودی سرکار نے سانپ بھی مار دیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی اس کا سہرا وزیراعظم نریندر مودی، وزیرخارجہ محترمہ سشما سوراج اور این ایس اے کے مشیر اجیت دوبھال کو جاتا ہے۔
(انل نریندر)

جام سے ہر سال 600ارب روپےکا نقصان ہوتا ہے

راجدھانی دہلی کی بھاگ دوڑ بھری زندگی سڑکوں پر ٹھہرتی نظر آتی ہیں۔ دہلی کی زیادہ تر شاہراہوں پر گاری چلاتے وقت تو آپ کے صبر کا امتحان ہوتا ہے جام نہ صرف لٹین زون( راشٹرپتی بھون) بلکہ دہلی کے تقریبا سبھی علاقوں میں گھنٹوں سڑک پر کبھی کبھی رک کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ حالت درسال در بڑھتی جارہی ہیں۔ جس سے مستقبل قریب میں کوئی راحت نظر نہیں آتی۔ سال 1982میں ایشیائی کھیلوں کے انعقاد کے وقت دہلی میں فلائی اوور کی تعمیر ہوئی تھیں۔ اس کے بعد جام سے نجات سے ملنے کے لئے ان فلائی اوور بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ایک کے بعد ایک فلائی اوور بنتے گئے۔ سال 2010میں کامن ویلتھ کھیلوں کے آس پاس یہاں فلائی اوور کی تعداد 75 تک پہنچ گئی تھی۔ امید تھی کہ اس سے جام سے پریشان حال دہلی والوں کو کچھ راحت ملے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 96 لاکھ سے زائد گاڑیوں کا بوجھ سہہ رہی دہلی ٹریفک جام کے دلدل میں پھنستی جارہی ہیں۔ گاڑیوں کا یہ بوجھ سال در سال بڑھتا ہی جارہا ہے۔ سڑکوں کا ڈیزائن وہی برسوں پرانا ہے سڑکیں توقع سے کم چوڑی ہے ہر علاقے میں لگنے والے سڑک جام کے پیچھے وجہ بھی الگ الگ سامنے آئی ہیں۔ دھرنامظاہروں سے بھی جام لگنے لگے ہیں۔ گزشتہ برس میں 2409 مظاہرے، 361 ریلیاں اور 4170 دھرنے وہڑتال، 342 تہواروں کے متعلق پروگرام ہوئے۔ اس وجہ سے بھی جام لگتا ہے۔ایک ٹی سی بس بریک ڈاؤن ہوتی ہے تو4 گھنٹے تک ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ بسیں ہائیڈرولک ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے بریک ڈاؤن کے بعد بس ایک انچ بھی نہیں ہل پاتی اگر وہ ٹریفک لائٹ یا سڑک کے بالکل بیچ میں خراب ہوجائے تو وہ کہاں تک وہ وہاں گھنٹوں کھڑی رہتی ہے اور ٹریفک کی ایسی حالات ہوجاتی ہے کہ آنے جانے والوں کو جام سے پریشان ہوناپڑتا ہے۔ اگر اندر دیو جب زیادہ خوش ہوجائے تو بارش سے پانی بھرجانے کی پریشانی کھڑی ہوجاتی ہیں۔ بارش کے موسم میں کل 152 مقامات پر پانی بھرجاتا ہے۔ ٹریفک پولیس نے اس بارے میں بلدیاتی ایجنسیوں کو بھی آگاہ کیا ہے کہ پانی بھرنے اور تیز بارش کے سبب ٹریفک سنگل بھی کام نہ کرنے سے گاڑیوں کی لمبی لائن سڑکوں پر لگ جاتی ہیں۔ دہلی میں گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو صبر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ پہلے نکلنے کے چکر میں یہ بیچیدہ صورت حال کردیتے ہیں اور انہی اسباب سے سڑک پر مار پیٹ کے معاملے بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان ٹریفک جام سے مالیاتی نقصان بھی بہت زبردست ہورہا ہے۔ انڈین ٹریفک کارپوریشن اور آئی آئی ایم کی ایک رپورٹ کے مطابق میٹروپولٹین شہرو ں میں یومیہ کسی گاڑی کو 20% سے زیادہ ایندھن جام میں پھنسنے پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہرسال ٹریفک جام کی وجہ سے دیش کو قریب 600 ارب رو پے کے ایندھن کا برباد ہونا سہنا پڑتا ہے۔ دہلی میں 96.34 لاکھ گاڑیاں ہیں۔ جب کہ چنئی میں 44.90 لاکھ گاڑیاں، ممبئی میں 25.02لاکھ، اور کولکتہ میں 4.45 لاکھ گاڑیاں ہیں۔
(انل نریندر)

25 اگست 2015

داؤد ابراہیم کے کراچی میں ہونے کے پختہ ثبوت

ایک بار پھر اس کی تصدیق ہوگئی ہے کہ انڈر ورلڈ ڈان اور 1993کے ممبئی بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم پاکستان کے شہر کراچی میں ہی قیام پذیر ہے۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے پاس اس کہ خفیہ ثبوت ہیں۔ کراچی میں کلفٹن روڈ سمیت دیگر علاقوں میں اس کے گھروں کے پتے اور اس کی بیوی مہ جبیں شیخ کا اپریل 2015 ء کا ٹیلی فون بل، دوبئی اور پاکستان کے درمیان سفر کی تفصیلات کے ساتھ ہی ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے پاس 59 سالہ داؤد کی سال2012ء کی تازہ تصویر اور پاکستانی پاسپورٹ کی کافی ہے۔ ممبئی دھماکوں میں 257 ہندوستانیوں کی موت کے ذمہ دار داؤد کے پاس 3 پاسپورٹ(پاکستانی) ہیں۔ داؤد ابراہیم کی22 سال بعد نئی تصویر سامنے آئی ہے ۔ ساتھ ہی ایک نیوز چینل نے داؤد کی بیوی مہ جبیں سے بات چیت کا دعوی کیا ہے۔ اس میں مہ جبیں نے بتایا کہ وہ کراچی سے بول رہی ہے ساتھ ہی داؤد کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ وہ ابھی سورہا ہے۔ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے پاکستانی قومی سلامتی مشیر (این ایس اے) کو سونپنے کے لئے جو ثبوت اکھٹے کئے ہیں ان میں داؤد کے کراچی میں واقع گھر کے فون کا بل بھی ہے۔ اس فون نمبر پر ایک انگریزی چینل نے سنیچر کو دوبار بات چیت کی۔ سکیورٹی ایجنسیوں کو داؤد کے گھر کا جو ٹیلیفون بل ملا ہے اس میں پتہ D13، بلاک 4، کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی اسکیم۔5 کلفٹن روڈ۔ کراچی لکھا ہے اس پر نمبر+9223587 درج ہے۔اس میں کسٹومر آئی ڈی نمبر 1215871639 ہے۔ فون نمبر کے آخری پانچ ڈیجٹ انگریزی چینل و انگریزی نیوز پیپر نے شائع نہیں کئے ہیں۔ داؤد شیخ ابراہیم نام سے جاری پاسپورٹ کے ذریعے وہ کئی بار پاکستان اور دوبئی کے دورہ پر جاچکا ہے۔ اس کے رشتے دار بھی پاکستانی پاسپورٹ سے ہی سفر کرتے ہیں۔ داؤد کراچی کے عالیشان کلفٹن علاقے میں بیوی مہ جبیوں شیخ ، بیٹے معین نواز اور تین بیٹیوں ماہ رخ، مہرین اور شازیہ کے ساتھ رہتا ہے۔ داؤد اکثر پاکستان میں اپنی جگہ اور پتہ بدلتا رہتا ہے۔ داؤد کی بیٹی ماہ رخ کی شادی سابق پاکستانی کرکٹر جاوید میاں داد کے بیٹے جنید سے ہوئی ہے۔ ہندوستانی ایجنسیوں کے پاس داؤد کے خاندان کے سبھی لوگوں کے پاسپورٹ نمبر اور دیگر ہوائی ٹکٹ کی جانکاری بھی ہے۔ ساتھ ہی آئی پی ایل کرکٹ میچ فکسنگ میں ڈی کمپنی کی بات چیت اور کچھ ہندوستانی تاجروں کے ساتھ دوبئی اور دیگر ملکوں میں سانٹھ گانٹھ کی مفصل تفصیلات بھی ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ تمام پختہ ثبوت کے باوجود پاکستان پچھلی دو دہائی سے یہ کہتا آرہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار داؤد پاکستان میں نہیں ہے۔ ویسے اس طرح کے ثبوت پچھلی ہندوستانی حکومتیں پاکستان سرکار کو کئی بار سونپ چکی ہیں اور تازہ جانکاری سے شاید پوزیشن بدلے۔ اب بھارت کے لئے ایک پختہ فیصلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ پچھلے دنوں ٹائیگر میمن اس کی ماں سے فون پر بات چیت ہونے کی رپورٹ ہندوستانی میڈیا میں شائع ہوئی تھی۔ بتا دیں کہ ایک انگریزی اخبار نے چھاپا تھا کہ ٹائیگر نے اپنی ماں حنیف میمن کو فون کیا اور اپنے بھائی یعقوب میمن کی پھانسی کا بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ اس بار چیت کے دوران حنیفہ نے کہا تھا کہ بس ہوگیا۔ اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹائیگر نے 30 جولائی کو یعقوب کو پھانسی پر لٹکائے جانے سے1 گھنٹے پہلے فون کیا تھا۔ ٹائیگر نے یہ فون وائس انٹرنیشنل پروٹوکال سے کیا تھا تاکہ ممبئی پولیس اس کا فون ٹیپ نہ کرسکے۔ حالانکہ مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ نے اس بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ممبئی پولیس کے پاس ایسی کسی بات چیت کی تردید نہیں ہے اور نہ ہی ممبئی پولیس نے اس طرح کی بات چیت کی کوئی تفصیل جاری کی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بھی اس کی تردید کی ہے کہ داؤد پاکستان میں ہی ہے۔ کیا مودی سرکار داؤد کو بھارت لانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر دباؤ ڈالے گی؟
(انل نریندر)

جنسی جرائم پر تبصرہ کرکے پھر نیتا جی تنازعوں میں گھرے

سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو وقتاً فوقتاً بے موقعہ محل ایسے متنازعہ اور بے تکے بیان دیتے رہتے ہیں جس سے خود ان کے بیٹے اکھلیش کی سرکار اور پارٹی مشکل حالت سے دوچار ہوجاتی ہے۔ ایک بار جب پورے دیش میں خواتین کے تئیں تشدد اور آبروریزی کو لیکر ہائے توبہ مچی ہوئی تھی تب نیتا جی نے اسے لڑکوں سے ہو جانے والی چھوٹی بھول بتا کر تقریباً معافی نامہ سا جاری کر ہنگامہ کھڑا کردیا تھا۔ ان کے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان پر ملک گیر سطح پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور پورے مہذب سماج اور خاص طور سے خواتین انجمنوں نے انہیں زور دار طریقے پرنشانے پر لیا تھا۔اب ملائم نے کہہ دیا کئی بار آبروریزی ایک آدمی کرتا ہے اور اس میں چار لوگوں کو نامزد کردیا جاتا ہے۔ ایسا بدلے کے جذبے سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے آگے یہ بھی کہا کہ ایسی مثال بھی ہے کہ جس میں بے قصوروں کو پھنسا دیا جاتا ہے۔ اب اجتماعی آبروریزی کو غیر مہذب اور غیرمعمولی بتا کر پھر سے تنازعوں میں پھنس گئے ہیں۔ اجتماعی آبروریزی کے بڑھتے واقعات کو سپریم کورٹ نے نہ صرف وقتاً فوقتاً باعث تشویش بتایا ہے بلکہ اسی سال اجتماعی گینگ ریپ کے کچھ ویڈیو پر خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے معاملے کی سی بی آئی جانچ کرنے کا حکم تک دے دیا۔لیکن ملائم سنگھ کی اگر مانیں تو قومی راجدھانی دہلی کو ہلا دینے والے نربھیا گینگ ریپ سمیت اجتماعی آبروریزی کے تمام معاملے ہی جھوٹے کہلائیں گے۔ جب جنسی جرائم کے خلاف سخت سزا پر غور ہورہا تھا تب بھی یہ کہہ کر کہ لڑکوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں اس کے لئے کیا انہیں پھانسی دے دی جائے گی۔ سینئر سوشلسٹ لیڈر نے اجتماعی آبروریزی کو ایک معمولی واقعہ بتانے کی کوشش کی تھی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے دیش میں خاص کر شمالی ہندوستان کے مرد بالادستی سماج میں عورتوں کے تئیں غلط اور قابل اعتراض رائے بنی ہوئی ہے۔یہاں تک کہ عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کیلئے بھی چھوٹے اور عریانی کپڑوں اور لڑکی کے دیر رات باہر رہنے اور کوئی جینس اور موبائل کو تو کوئی لبھانے کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے لیکن اترپردیش جیسے صوبے کا وزیر اعلی رہ چکے حکمراں پارٹی کا چیف اگر ایسی رائے زنی کرتاہے تو یہ سنگین اور باعث تشویش ہے۔ ملائم کے اس بیان کے بعد اجتماعی اور سلسلہ وار آبروریزی کے واقعات کے جو معاملے سامنے آرہے ہیں اس سے پردیش سہما اورشرمسار ہے۔ چراغ تلے اندھیرے کی صورت تو صوبے کی راجدھانی لکھنؤ کی ہے جہاں اسکول سے لوٹتی نابالغ طالبہ کو دن دھاڑے کار میں اغوا کر اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے اس طالبہ کی حالت نازک ہے۔ لکھنؤ پولیس صرف اس بات کو ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے کہ یہ آبروریزی کی واردات ہے لیکن اجتماعی آبروریزی کی نہیں۔ مطلب صاف ہے اسے ملزمان کو پکڑنے کے بجائے نیتا جی کی آبروریزی سے متعلق غیر ذمہ دارانہ خیالات کو صحیح ثابت کرنے کی فکر ہے اور نیتا جی کے ذریعہ حوصلہ افزائی سے حوصلہ پائے لڑکے (جرائم پیشہ) آبروریزی جیسی غلطی درغلطی کرتے جارہے ہیں۔ نیتا جی لگے ہوئے ہیں یہ ثابت کرنے میں کہ پردیش کے شہریوں کو مطمئن ہونا چاہئے کہ اترپردیش میں آبروریزی کے واقعات کے اعدادو شمار دیگر ریاستوں سے کم ہیں۔ حالانکہ قومی کرائم بیورو کچھ اور ہی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس کے مطابق 2014ء میں پورے دیش میں آبروریزی کے قریب2300 معاملے درک ہوئے تھے۔جس میں525 کے قریب صرف یوپی میں ہی تھے لہٰذا ذمہ دار لوگوں کوایسی اوچھی رائے زنی سے پرہیز کرنا چاہئے جن سے بالآخر جرائم پیشہ کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔
(انل نریندر)

23 اگست 2015

تو کیا آئی ایس چھیڑے گی تیسری عالمی جنگ؟ناسٹرا ڈومس صحیح ہوں گے

فرانس میں 16 ویں صدی کے دوران کئی پیشینگوئیاں کر چکے ناسٹرا ڈومس کی ایک اور پیشینگوئی کے سچ ہونے کا وقت آ چکا ہے۔ ناسٹرا ڈومس نے 16ویں صدی میں ہی پہلی جنگ عظیم ، دوسری جنگ عظیم، نیپولین کے سامراجیہ سمیت تمام پیشینگوئیا ں کی تھیں جو سچ ثابت ہوئی ہیں۔انہوں نے 21 ویں صدی میں تیسری عالمی جنگ کی پیشینگوئی کی تھی جس کی شروعات انہوں نے میسوپوٹامیا(حال کے عراق۔ ایران) کو کہا تھا۔ ناسٹراڈومس کی پیشینگوئیوں کے مطابق میسو پوٹامیا کی پاک زمین سے ایشو کے تیسرے مخالف کے ابھرنے کی بات کہی تھی جو اب تک آئی ایس آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کے روپ میں سچ ہوتی نظر آرہی ہے۔یہ ناسٹرا ڈومس کی ہی پیشینگوئی تھی کہ نیپولین اور ہٹلر جیسے ایشو مخالف دنیا کے بڑے حصوں میں لاکھوں کا خون بہائیں گے، ہوا بھی یہی۔ نیپولین نے پورے یورپ میں مارکاٹ مچائی اور فرانس کے اقتدار کو بڑھایا۔ ایسے ہی ہٹلر نے دنیا کا ایسا حال کیا جس میں60 لاکھ یہودیوں کو گیس چیمبروں میں مارا۔ اب آئی ایس کی شکل میں تیسرے سب سے بڑے ایشو مخالف کا جنم ہوچکا ہے۔ناسٹراڈومس کی پیشینگوئی کو اگر تاریخ دانوں اور مبصرین کی نظر سے دیکھیں تو ناسٹرا ڈومس نے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کا وقت 2042 ء بتایا ہے جب کہ اس سے27 سال پہلے ایشور کے اس طاقتور مخالف (آئی ایس) کا بڑھنا ۔ ناسٹراڈومس کی پیشینگوئیوں کو لیکر چلنے والی ایک ویب سائٹ پر دعوی کیا گیا ہے کہ تیسری جنگ عظیم سے پوری دنیا میں زبردست مار کاٹ ہوگی جو27 سال تک چلے گی ۔ اس حساب سے 2015 ء ہی وہ وقت ہے اور اتفاق دیکھئے کہ آئی ایس نے اسی سال دنیا پر قبضہ کرنے کی اپنی سازش و پلان کو پیش کیا ہے جس میں یوروپ، ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے پر قبضے کی حکمت عملی کو بتایا گیا ہے۔ دنیا بھر میں اپنے وحشیانہ پن کے لئے مشہور آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی اب ایک اور وحشیانہ حرکت سامنے آئی ہے۔یہ خونخوار آتنکی تنظیم اگلے پانچ سالوں میں پورے بھارتیہ اپ مہادیپ سمیت پوری دنیا کے زیادہ تر حصے پر قبضہ جمانے کی فراق میں ہے۔ آتنکی تنظیم نے 2020ء تک بھارتیہ اپ مہادیپ کے علاوہ مدھیہ پورب، اتری افریقہ اور یوروپ کے کئی حصوں تک اپنی جڑ جمانے کی اسکیم بنائی ہے۔ جہاں وہ اپنی خلافت کا پرچم لہرانا چاہتا ہے۔ یہ خلاصہ ہوا ہے ایک کتاب سے ، جس میں آئی ایس کی اس یوجنا کے ساتھ ساتھ باقاعدہ اس بارے میں نقشہ بھی دیا گیا ہے۔ برٹش ویب سائٹ مرر کی ایک رپورٹ کے مطابق ابھی عراق اور سیریا کے کئی حصوں میں قبضہ جما چکا آئی ایس ان دیشوں کی جانب رخ کرنے کی اسکیم بنا رہا ہے۔تاکہ اگلے پانچ سالوں میں خلافت کو توسیع دی جاسکے۔آتنکی تنظیموں کی یوجنا پشچم میں اسپین سے لیکر پورب میں چین تک کے علاقوں پر اپنا قبضہ جمانے کی ہے۔ بی بی سی رپورٹر انڈریو ہڈسن کی نئی کتاب ’’امپائر آف فائر: ان سائڈ دی اسلامک اسٹیٹ‘‘ میں آئی ایس کا یہ نقشہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس دنیا کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ جمانا چاہتا ہے تاکہ وہ اسلامی دنیا قائم کرسکے۔انڈریو نے کہا کہ خلافت کے پہلے مرحلے کے پورا ہونے پر آئی ایس کو دنیا کے باقی حصوں کی طرف رخ کرنا ہے۔ نقشے میں بھارتیہ اپ مہادیپ کا نام خراسان دیا گیا ہے۔جبکہ یورپ کے جن علاقوں میں آئی ایس اپنا قبضہ جمانا چاہتا ہے اس کا نام اندولس دیا گیا ہے جو ایک عربی لفظ ہے جسے آٹھویں سے پندرھویں صدی کے درمیان مسلم قبائلی لوگوں کے ذریعے قبضہ کرلیا گیا تھا۔ تو کیا آئی ایس چھیڑے گا عالمی جنگ؟ ناسٹراڈومس کی پیشینگوئی سچ ہوگی؟
(انل نریندر)

ڈینگو کی روک تھام کیلئے بیداری ضروری

برسات کے موسم میں مچھروں کے کاٹنے سے پیدا ہونے والے ڈینگو، جاپانی بخار، چکن گنیا اور ملیریا وغیرہ امراض ہونا سالانہ کا معمول بن گیا ہے۔ اکیلے دہلی میں ہیں اس سال اب تک ڈینگو متاثرین کی تعداد277 ہوچکی ہے۔ کئی موتیں بھی ہوچکی ہیں۔ ہر بار برسات شروع ہونے کے پہلے ان بیماریوں سے محتاط رہنے کے لئے کہا جاتا ہے مگر حالات میں کوئی سدھار نہیں ہورہا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جہاں عملی قدم اٹھائے جانے چاہئیں سیاسی دل ایک دوسرے پر الزام لگا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ ابھی کانگریس کے نیتا عام آدمی پارٹی سرکار پر الزام لگا رہے ہیں کہ مچھروں سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے مناسب اقدام نہیں کررہی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے کانگریس سرکار کے وقت اس مسئلے نے کم خطرناک رخ نہیں اختیار کیا تھا۔ دہلی سرکار کے مولانا آزاد میڈیکل کالج کے قریب ایک درجن ٹرینی ڈاکٹروں اور نیم فوجی دستوں کے کئی جوانوں کا ڈینگو کی چپیٹ میں آنا اور بھی فکر کا موضوع ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ تو مولانا آزاد میڈیکل کالج اور نہ ہی نیم فوجی دستوں کے کیمپوں میں صاف صفائی کا مناسب انتظام ہے۔ سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس ادارے کے پاس لوگوں کا علاج کرنے کی ذمہ داری ہے اسی کے احاطے میں ڈینگو کے مچھر پنپ رہے ہیں اور اسے اس کی بھنک تک نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ جانکاری نہیں ہے کہ ڈینگو مچھر سے بچاؤ ہوسکتا ہے۔ سفید کالے رنگ کے دھبو ں کا یہ مچھرنیچے اڑتا ہے اور عموماً ٹانگو پر ہی کاٹتا ہے اس لئے بچوں کو جب پارکوں وغیرہ میں بھیجیں تو ان کے پاؤں میں اوڈوماس اسپرے یا آج کل پیچ چل رہے ہیں وہ لگادیں۔ ان کی خوشبو سے ڈینگو، چکن گنیا مچھر نزدیک نہیں آسکیں گے۔ حالانکہ ڈینگو کا انفیکشن ہو بھی رہا ہے لیکن لوگوں میں گھبراہٹ زیادہ ہے جبکہ اس کے سنگین ہونے کی امید صرف ایک فیصد ہوتی ہے اور اگر لوگوں کو خطرے کی جانکاری ہو تو جان جانے سے بچائی جاسکتی ہے۔ اگر ڈینگو کے مریض کے پلیٹ لیٹ کاؤنٹ 10 ہزار سے زیادہ ہوں تو پلیٹ لیٹ چڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ غیر ضروری پلیٹ لیٹ نقصان کر سکتے ہیں۔ ڈینگو بخار چار قسم کے ڈینگو وائرس کے انفیکشن سے ہوتے ہیں جو مادہ ایڈیز مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ ڈینگو بخار میں تیز بخار کے ساتھ ناک بہنا، کھانسی، آنکھوں کے پیچھے درد، جوڑوں میں درد اور کھال پر ہلکے رنگ دار دانے یا چکتے ہوتے ہیں۔ حالانکہ کچھ بچوں میں لال اور سفید نشانوں کے ساتھ پیٹ خراب ، جی مچلانا، الٹی بھی ہوسکتی ہے۔ آپ بھی سرکار کی مدد کریں آپ کے گھر میں کوئی گندگی نہ رہے، پانی اکھٹا نہ ہونے دیں، کولروں میں پانی بدلتے رہیں،محلے میں مچھر مار دواؤں کا مستقل چھڑکاؤ کریں۔ آنے والے دنوں میں جب تاپ مان میں تھوڑی کمی آئے گی اس وقت ڈینگو کے لئے ذمہ دار مچھروں کی پیدائش بڑھے گی اس لئے ضروری ہے کہ سبھی لوگ آج سے ہی ہوشیار ہوجائیں اور بچاؤ کی تیاری کریں۔ ساتھ ہی لوگوں کے درمیان بیداری پھیلائیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...