Translater
20 اپریل 2023
9 ریاستوں میں سی بی آئی کی نو انٹری!
تلنگانہ اورمیگھالیہ سمیت 9 ریاستوں نے چنندہ جرائم کی جانچ کے لئے سی بی آئی کو دی گئی عام رضامندی واپس لے لی ہے ۔مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں بتایا دہلی اسپیشل پولیس ادارہ ایکٹ (DSPE ACT) کی دفعہ 6 کے تحت کسی بھی ریاست کی سرحد کے اندر جانچ کے لئے سی بی آئی کو متعلقہ ریاست کی سرکار سے اجازت لینی ہوگی ۔وزیر موصوف جتیندر سنگھ نے بتایا کہ ریاستوں نے کچھ خاص طرح کے جرائم اور کچھ خصوصی زمرے کے لوگوں کے خلاف جانچ کے لئے سی بی آئی کو ایک رضامندی دے رکھی تھی ۔تاکہ وہ سیدھے کیس کی جانچ کر سکیں ۔حالانکہ چھتیس گڑھ ،جھارکھنڈ ،کیرل ،میگھالیہ ،میزورم ،پنجاب ،راجستھان ،تلنگانہ ،اور مغربی بنگال نے سی بی آئی کو دی گئی عام رضامندی واپس لے لی ہے ۔غیر بھاجپا حکمراں ریاستوں نے سی بی آئی پر اپوزیشن لیڈروں کو چن چن کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے ۔عام رضامندی واپس لینے سے سی بی آئی کو ان معاملوں کی جانچ میں کافی دکت آسکتی ہے جن کی قومی اہمیت یا بین ریاستی توسیع ہے ۔یہ دیکھنا ہوگا کہ سی بی آئی ان چنوتیوں کا کس طرح سے سامنا کرتی ہے اور مو¿ثر ڈھنگ سے اپنے فرض کو نبھاتی ہے ۔9 ریاستوں کے عام رضامندی واپس لینے کے بعد DSBA ایکٹ 1996 اور سی بی آئی کے دائر اختیار اور دیگر حقوق کی تشریح اور اس کا جائزہ لینا محسوس کیا جا رہا ہے ۔اس سال مارچ میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے کئی ریاستوں کے ذریعے سی بی آئی کو دی گئی عام رضامندی کو واپس لینے کا اشو اٹھاتے ہوئے کہا کہ فیڈرل جانچ ایجنسی کو کنٹرول کرنے والے موجودہ قانون کی کئی حدیں ہیں ۔کمیٹی نے سی بی آئی کا اختیار اور کام کے لئے نئے سرے سے قانون بنانے کی رائے دی ہے ۔ان کا کہنا ہے کمیٹی محسوس کرتی ہے دہلی اسپیشل پولیس ادارہ ایکٹ کی کئی حدود ہیں اور اس لئے سفارش کرتی ہے کہ ایک نیا قانون بنانے اور سی بی آئی کی پوزیشن اور کام اور اختیارات کی تشریح کرنے کی ضرورت ہے اورغیر جانبداری یقینی کرنے کے لئے سیکورٹی اقدامات کو مقرر کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔سپریم کورٹ کے وکیل سندھو وکرم سنگھ نے کہا کہ عام رضامندی واپس لینے کا مطلب ہے کہ سی بی آئی کو ہر معاملے کی جانچ سے پہلے نئے سرے سے درخواست کرنی ہوگی اور منظوری دئے جانے سے پہلے وہ کام نہیں کر سکی ہے ۔
(انل نریندر)
عتیق کے قاتلوں سے ملئے!
خطرناک جرائم پیشہ شخص عتیق کو سب کے سامنے گولی مارنے والے لڑکوں کی خود کی اپنی کرائم ہشٹری ہے ۔ان تینوں قاتلوں نے پولیس ،میڈیا کے سامنے عتیق اور اس کے بھائی اشرف کو گولیوں سے بھون دیا ۔موقع پر پولیس نے تینوں کو دبوچ لیا ۔لولیش تیواری ،موہت عرف سمیع ،ارون موریہ عرف کالیا تینوخ کے خلاف کرائم کے معاملے چل رہے ہیں ۔لولیش تیواری باندا نگر کوتوالی علاقے کے کیوترا کا رہنے والا ہے اور اس کا پریوار کرائے کے مکان میں رہتا ہے اس کے پتا کا نام یگیہ تیواری ہے اور ایک پروائیویٹ اسکول کی بس چلاتے ہیں ۔لولیش کی ماں کا نام آشا تیواری ہے لولیش چار بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہے ۔لکھنو¿ یونیورسٹی میں فرسٹ ایئر میں فیل ہونے کے بعد لولیش نے پڑھائی چھوڑ دی تھی ۔لولیش کے پتا کی مانیں تو لولیش نے دو سال پہلے ہی ایک لڑکی کو بیچ چوراہے پر تھپڑ مار دیا تھا ۔اس پر چار مقدمے درج ہیں۔ہمیر پور ضلع کے کرارہ تھانہ علاقے کے وارڈ نمبر ۱۱ قصبہ کرارہ باشندہ موہیت سنگھ عرف سمیع کی بھی کرائم کی تاریخ ہے ۔وہ لوٹ مار ایکٹ اور اقدام قتل سے بھری پڑی ہے ۔موہت کے خلاف لوٹ اور اقدام قتل کی کوشش سمیت ۴۱ مقدمے رجسٹرڈ ہیں ۔سنی تھانہ میں سال 2016 پہلے لوٹ مار اور حملے کا کیس درج ہوا تھا ۔اور آخری معاملہ 2019 میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ۔سمیع سنگھ کے بھائی پنٹو نے بتایا کہ میرا بھائی کچھ کام نہیں کرتا تھا اس پر کچھ کیس ہیں ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سمیع کے تعلقات لارنش بشنوئی گروہ سے بھی ہیں ۔ارون موریہ عرف کالیا کا گھر سوٹو تھانہ علاقے کے برتھلا پکتا گاو¿ں میں ہے ارون کے پتا کا نام ہیرا لال تھا ارون عرف کالیا ۶ سال سے گھر سے باہر ہے ۔گھر میں دو بڑے بھائی رہتے ہیں دو بہنوں کی شادی ہو چکی ہے ۔ماں باپ پندرہ سال پہلے ہی موت ہو چکی تھی اس کے چاچا نے بتایا ارون کافی پہلے سے گاو¿ں چھوڑ گیا تھا ۔تب سے وہ نہیں لوٹا ۔اس کی کھیتی پڑی ہوئی ہے ارون شاطر بدمعاش ہے اس نے جی آر پی تھانہ کے ایک پولیس ملازم کا مرڈر کر دیا تھا ۔اس کے بعد فرار ہو گیا تھا تب سے ارون گھر نہیں آیاحالانکہ تینوں لڑکے جرائم پیشہ نوعیت کے ہیں ۔لیکن اس میں شبہ ہے کہ انہوں نے عتیق اور اس کے بھائی پر حملہ کیا ان کے پیچھے کون ہے یا کون سی طاقتیں ہیں یہ شاید پتہ چلے ۔بے شک جانچ ہونے پر اصلی سچائی سامنے آئے یہ مشکل لگتا ہے ۔کہانی اصل کیا ہے یہ جانچ کے بعد ہی پتہ چل پائے گا ۔یہ تینوں شاطر بدمعاش ہیں جس کسی نے انہیں چنا ہے وہ یہ جانتا تھا کہ یہ عتیق کے قتل کو انجام دے سکتے ہیں ۔گولی مارنے کے بعد تینوں نے بھاگنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔بڑی آسانی سے پولیس کی پکڑ میں آگئے یہ بھی شک پیدا کرتا ہے دیکھیں جانچ میں کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔
(انل نریندر)
18 اپریل 2023
اطفال شادی انسداد قانون !
سپریم کورٹ نے خاتون واطفال ترقی وزارت کو اطفال شادی انسداد ایکٹ 2006 کے تقاضوں کو نافذ کرنے کے لئے مرکزی کے اٹھائے اقدامات کے بارے میں صحیح پوزیشن پر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وی چندر چور ،جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس بی پاردیوالہ پر مشتمل بنچ نے مرکزی سرکار سے اس مسئلے پر مختلف ریاستوں کے اعداد شمار دیکھنے اور اس کے سامنے ایک رپورٹ داخل کرنے کو کہا ہے ۔بنچ سوسائٹی فار انلارج مینٹ اینڈ وائلنٹری ایکشن کی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کررہی تھی اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اطفال شادی ایک صدی پہلے بند ہونے اور 2006 میں نیا قانون بننے کے باوجود 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کرائی جا رہی ہے ۔مرکز کی جانب سے پیش سرکاری وکیل مادھوی دیوان نے کہا کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر 21 سال تک بڑھ جانے والی شق والا ایک بل 2001 میں قائمہ کمیٹی کے پاس لٹکا ہوا ہے ۔اس پر بنچ نے کہا کہ یہ بل بھی اطفال شادی انسداد ایکٹ کے مسئلے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ ہم وزارت کو اطفال شادی انسداد ایکٹ کی دفعات کو نافذ کرنے کے لئے اب تک اٹھائے گئے قدموں پر ایک رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں ۔
(انل نریندر)
رحم کی عرضیوں پر فیصلے میں دیری !
سپریم کورٹ نے کہا موت کی سزا پائے قصور وار رحم کی عرضیوں پر فیصلہ لینے میں زیادہ دیری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔بڑی عدالتوں نے ریاستی سرکاروں اور ان عرضیوں کو دیکھنے والے حکام سے ان پر جلد فیصلہ لینے کی ہدایت دی ہے ۔جسٹس ایم آر شاہ ،جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے کہا کہ بڑی عدالت کے آخری نتیجے کے بعد بھی رحم کی عرضی پر فیصلہ کرنے میں زیادہ ہی دیری ہوئی ہے اس سے موت کی سزا کا مقصد ناکام ہو جائے گا ۔اس لئے ضروری ہے کہ ریاستی سرکار ان معاملوں کو دیکھنے والے افسر پوری کوشش کریں کہ رحم کی عرضیوں پر جلد سے جلد کوئی فیصلہ ہو تاکہ ملزم کو بھی اپنے حشر کا پتہ چل سکے اور متاثرہ کو بھی انصاف مل سکے ۔سپریم کورٹ کی یہ رائے زنی مہاراشٹر سرکار کے بومبے حکم کے خلاف عرضی پر آئی ہے ۔ہائی کورٹ نے ایک عورت اور اس کی بہن کو دی گئی موت کی سزا کو عمر قید میں اس بنیاد پر بدل دیا تھا کہ گورنر کی طرف سے ملزمان کی رحم کی عرضیوں پر فیصلہ نہ کرنے میں ایک غیر ضروری اور نا مناسب تاخیر ہوئی ہے ۔رحم کی عرضی تقریباً سات سال دس مہینے سے لٹکی رہی تھی ۔یہ ہی نہیں بصد احترام صدر جمہوریہ کے پاس بہت سی رحم کی عرضی زیر التواءہیں جن پر فیصلہ ہونا باقی ہے ۔رحم کی عرضیوں کو نپٹانے کے لئے ایک وقت میعاد طے ہونا چاہے ۔
(انل نریندر)
پلوامہ : سرکار کی لاپرواہی کا نتیجہ !
جموں وکشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے نامور صحافی کرن تھاپڑ کو دئیے ایک انٹرویو میں 2019 میں ہوئے پلوامہ حملے کے لئے مرکزی سرکار کو ذمہ دار بتاتے ہوئے کئی سنسنی خیز دعوے کئے ہیں اور الزام لگایا کہ 2019 کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر ہوا حملہ سسٹم کی نا اہلیت اور لاپرواہی کا نتیجہ تھا ۔ملک نے کرپشن کے تئیں وزیراعظم نریندر مودی کی مبینہ زیرو ٹالرنس پالیسی پر بھی سنگین سوال کھڑے کئے اور دعویٰ کیا کہ پی ایم کو کرپشن سے بہت نفرت نہیں ہے ۔نیوز پورٹل دی وائر کو دئیے انٹر ویو میں انہوں نے جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور بی جے پی نیتا رام مادھو سے وابستہ تنازعوں پر بھی بے باکی سے اپنی بات رکھی ہے ۔ستیہ پال ملک کے ان الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ کئی دوسرے لوگ بھی سوال کھڑے کرتے ہوئے انٹرویو کی ایک کلپ ٹوئیٹ کئے ہیں ۔کشمیر میں کرپشن کے معاملوں میں جیل جائیں گے کچھ نیتا ۔ملک نے کہا کانگریس نے اپنے سرکاری ٹوئیٹر ہینڈل سے کئے ٹوئیٹ میں پی ایم مودی پر الزام لگایا ہے کہ پلوامہ حملہ اور اس میں چالیس جوانوں کی شہادت سرکار کی غلطی سے ہوئی ہے ۔ٹوئیٹ کے مطابق نریندر مودی جی پلوامہ حملہ اور اس میں جوانوں کی شہادت عآپ کی سرکار کی غلطی سے ہوئی ہے اگر ہمارے جوانوں کو ایئر کرافٹ مل جاتا تو آتنکی سازش ناکام ہو جاتی ہے ۔عآپ کو اس غلطی کے لئے ایکشن لینا چاہئے تھا اور آپ نے نہ صرف بات کو دبایا اور اپنی ساکھ بچانے میں لگ گئے ۔پلوامیہ میں ستیہ پال ملک کی بات سن کر دیش حیران ہے ۔کانگریس صدر ملکہ ارجن کھرگے نے ٹوئیٹ کیا کہ سابق گورنر ستیہ پال ملک جی کے انکشافات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ مودی جی کا دیش کے نقصان سے اتنا ڈر نہیں ہتک عزت سے وہیں راہل گاندھی نے لکھا کہ وزیراعظم جی کو کرپشن سے کوئی بہت نفرت نہیں ہے ان کے ساتھ کانگریس کے لوک سبھا ایم پی منیش تیواری نے ٹوئیٹ میں لکھا میں نے جموںوکشمیر کے سابق گورنر ملک کے کرنتھاپر کے ساتھ بہت ہی نپی تلی بات چیتی ہوتی ہوئی دیکھی ہے ۔محترم گورنر جو کہہ رہے ہیں اگر وہ صحیح ہے تو یہ بہت پریشان کرنے والی بات ہے ۔دیش کے باہر اس کا بہت برا اثر پڑے گا ۔عام آدمی پارٹی نے ٹوئیٹ کیا کہ مودی جی اگر کیجریوال کرپٹ ہے تو دنیا میں کوئی ایماندار نہیں ہے ملک نے بولا کہ مودی جی کو کرپشن سے کوئی پرہیز نہیں ہے جو سر سے لے کر پیر تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے اس کے لئے کرپشن کا اشو کیا ہوگا ۔ترنمول کانگریس کی تیز ترار ممبر پارلینٹ مہوا موترا نے لکھا ہے کہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر نے ایک بہت بڑے بہت صاف انٹرویو میں پلوامہ سے متعلق پیچھے کے جھونٹ سے پردہ اٹھایا ہے ۔اس میں بتایا گیا کہ اگر آر ایس ایس کا آدمی اڈانی کے لئے کیسے رشوت دیتا ہے ۔اور مکھیہ اور چنندہ میڈیا اداروں میں اس کی خبر شائع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے میڈیا ادارے کب تک جھوٹ بولتے رہیں گے ؟ جانے مانے صحافی رویش کمار نے ستیہ پال ملک کے ایک دوسرے انٹر ویو میں رام مادھو پر ٹوئیٹ کیا ایک بات پوچھنی تھی رام مادھو نے ستیہ پال ملک کو ہتک عزت کا نوٹس کیوں بھیجا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...