Translater

24 اپریل 2021

ویکسین اور کورونا ٹیسٹ ایک ہی جگہ !

دہلی میں لاک ڈاو¿ن کے دوران ویکسی نیشن اور ٹسٹنگ کیلئے لوگوں کو چھوٹ دی گئی ہے لیکن ڈسپنسریوں میں ان دنوں کاموں کیلئے جانے والے لوگ کافی پریشان ہیں ڈرے ہوئے ہیں ساو¿تھ ویسٹ ایرئیا کی ڈسپنسریوں میں ایک ہی جگہ پر ٹسٹنگ اور ویسکی نیشن کیلئے لائنیں لگ رہی ہیں بھڑ اتنی ہے سماجی دوری بنائے رکھنامشکل ہورہا ہے یہاں ٹسٹنگ لائن میں لگے بہت سے مریج کھانستے اور چھینکتے دیکھے گئے اتنی تیز گرمی میں پسینے کے سبب لوگ ماسک ابھی نیچے کر لیتے ہیں تاکہ کھل کر سانس لے سکیں ایسے میں لوگوں کو ڈر ہے کہ وہ آئے تو ویکسین کیلئے ہیں لیکن کہیں انہیں کورونا نہ ہوجائے یہی حال پالم، منگلا پوری دونوں ڈسپنسریوں کا ہے یہاں صبح سے ہی قطاریں لگ جاتی ہیں اور کئی گھنٹے میں ٹسٹنگ یا ویکسین لگنے کا نمبر آتا ہے اس وقت بھیڑ کم رہے اس کیلئے سرکار کو قدم اٹھانے چاہئے سرکار کو پہلے کی طرح ٹسٹنگ کیمپ لگانے چاہئے تاکہ لوگوں کو اپنے گھروں کے پاس ہی ٹسٹنگ کی سہولت ملے اور بھیڑ نہ لگانی پڑے اگر ڈسپنسریوں میں ہی ٹسٹنگ اور ویکسی نیشن کرنی ہے تو دونوں کے وقت الگ الگ کردینے چاہئے ویکسی نیشن کےلئے آنے والے لوگ ٹسٹ کرانے والے مریضوں سے نہ مل پائیں بہت سے لوگوں کے مطابق اس طرح کے انتظا م لوگوں کو ویکسین لگوانے سے دور کرسکتا ہے۔ (انل نریندر)

غریب کے پیٹ پر ہی بار بار لات ماری جاتی ہے!

پچھلی بار لاک ڈاو¿ن مارکیٹ اسوشیشن کی طرف سے کھانا تقسیم کیا گیا تھا روزآنہ صبح شام کھانا بنتا تھا اور پھر لوگوں میں تقسیم کیا جاتا تھا لیکن اس بار کے لاک ڈاو¿ن میں نہیں ملا ابھی تک اس کی کوئی خبرنہیں ہے مارکیٹ کے دکانداروں کی حالت اس مرتبہ مالی طور پر خراب ہے یہ رام چوک مارکیٹ میں دیئے اور پھول بیچ رہی ایک خاتون پونم کا کہنا ہے کہ وہ پھول مالا بیچ کر گھر کا گزر بسر کر تی ہے پتی پہلے بیل داری کا کام کرتے تھے لیکن اب وہ بیمار ہیں گھر میں بچے ہیں میرے علاوہ کوئی کمانے والا نہیں ہے پھر سے لاک ڈاو¿ن لگنے کی وجہ سے کافی دقت آرہی ہے یہ پتہ نہیں کب تک چلے گا پہلے دو دن کا لگایا گیا تھا اب ایک ہفتے کا اور لگا دیا گیا ہے کرائے کے مکان کا پیسہ کہاں سے لائیں کھانے پینے کا انتظام کیسے کریں گے۔ ایک ایسے ہی دھاڑی مزدوری کرنے والے سریندر جو پالم میں رہتے ہیں بتایا کہ دہلی میں کورونا کا انفیکشن بڑھ گیا ہے ایک بار پھر لاک ڈاو¿ن لگ گیا ہے امید ہے کہ سرکار دھاڑی مزدوروںکے بارے میں کچھ سوچا ہوگا اس کی وجہ سے کام پر اثر پڑے گا کمائی کم ہوگی کیا کرسکتے ہیں ؟ ہر بار غریب کے پیٹ پر لات پڑتی ہے پچھلی بار لگے لاک ڈاو¿ن سے کام کافی متاثر تھا مگر کھانے کو لیکر کوئی دقت نہیں ہوئی راشن آرام سے ملتا تھا ایسے ہی پٹری لگانے والی ایک عورت نرملا کا کہناہے کہ پتی کا اکسیڈینٹ ہوگیا ہے فیکٹری میں کام کرتے تھے مگر وہ بند ہوگئی کوئی دوسراکام نہیں مل رہا جس کی وجہ سے دیوالی پر پھول بیچنے کا کام شروع کر دیا تھا اب پھر لاک ڈاو¿ن لگ گیا جس وجہ سے گھر کا خرچ نکالنا مشکل ہوگیا ۔ایک اور ریڈی لگانے والے دھیرج کہتے ہیں کام کی تلاش میں پندرہ سال آگرہ سے دہلی آیا تھا تب سے چوڑی اورکنگن بیچ کر گھر چلاتا ہوں بچوں کی پڑھائی بھی اسی سے چلتی ہے اب دوبارہ لاک ڈاو¿ن سے پریشانی بڑھ گئی ایسے میں بچوں کے اسکول کی چھوٹی موٹی ضرورت اور دوائیوں کے خرچ کیسے پورے ہونگے؟ اس لاک ڈاو¿ن نے سب سے زیادہ غریبوں کو پریشان کیا ہے روزآنہ کی کمائی پر ہی گھر کا خرچ اور کرایہ نکلتا ہے لیکن ایک دن بھی کمائی نہیں ہوتی تو پورے مہینے کا بجٹ بگڑ جاتا ہے۔ لاک ڈاو¿ن کی سب سے زیادہ مار دھاڑی مزدوروں ریڈی پٹری لگانے والوں پر پڑ رہی ہے انہیں کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ہیں بعض اوقات کہیں سے کھان آجاتاہے کھا لیتے ہیں ورنہ بھوکے پیٹ ہی سونا پڑتا ہے بہر حال لاک ڈاو¿ن سے دہلی میں دھاڑی مزدوروں اورریڈی پٹی والوں مالی تنگی کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے اس لئے سرکار کو چاہئے کہ وہ ان کی اقتصادی مد د کیلئے آگے آئے۔ (انل نریندر)

اقتصادی مفاد انسانی زندگی سے بالاتر نہیں ہوسکتے!

ہائی کورٹ نے کووڈ 19-مریضوں کے لئے راجدھانی میں آکسیجن کی کمی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اس کا کہنا ہے کہ اقتصادی مفاد ، انسانی زندگی سے اوپر نہیں ہوسکتے صنعتیں تو انتظار کر سکتی ہیں لیکن مریض نہیں کورونا مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنے کیلئے فولاد و پیٹرولیم پیداوار میں کچھ کمی کی تجویز پیش کی ہے جسٹس ویپن سانگھی اور جسٹس ریکھا پلی کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے بتایا کہ فی الحال دہلی میں آکسیجن کی سپلائی میںکوئی کمی نہیں ہے کچھ صنعتوں کو چھوڑ کر آکسیجن کے دیگر طرح کے صنعتی استعمال پر روک لگا دی گئی ہے اس سے پہلے عدالت نے کہا تھا کہ صنعتیں بغیر آکسیجن کے رک سکتی ہیں لیکن کورونا مریض نہیں عدالت نے مرکزی حکومت سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر لاک ڈاو¿ن جاری رہتا ہے تو سب کچھ رک جانا چاہئے اس لئے ایسی حالت میں فولاد پیڑول اور ڈیزل کی کیا ضرورت ہوگی ؟عدالت نے یہ بھی پوچھا تھا کہ آکسیجن کے صنعتوں میں استعمال پر پابندی لگانے کیلئے 22اپریل تک کا کیوں انتظار کیا جارہا ہے ؟عدالت نے کہا کہ کمی اب ہے اور اس لئے آکسیجن پیدوار میں ایک لابی کہتی ہے کہ صنعتی پیدوار میں کٹوتی کرتے ہیں تو آکسیجن کی کھپت رک جائے گی بنچ نے آگے کہا سب سے پہلے لوگوں کی جان بچانی ہوگی عدالت نے مرکزی سرکار کو ایک وکیل کی مثال رکھی جس کے والد اسپتال میں بھرتی تھے اور آکسیجن سپورٹ پر تھے لیکن آکسیجن کی کمی کے سبب اس کے بچاو¿ کیلئے کم دپریسر پر آکسیجن مہیا کرائی جا رہی تھی عدالت نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اب بھی کچھ نہیں کیا گیا تو ہم ایک بڑی ٹریجڈی کی طرف جا رہے ہیں قریب ایک کروڑ لوگوں کو ہم کھو سکتے ہیں کیا ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں ؟عدالت نے ان اسپتالوں میں کووڈ بیڈ کے بڑھانے کی تجویز رکھی جن میں اپنی آکسیجن پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اس سے پہلے عدالت نے مرکزی حکومت سے سوال کیا تھا کیا صنعتوں کی آکسیجن سپلائی کم کرکے اسے مریضوں کو مہیا کرائی جاسکتی ہے عدالت کا کہنا تھا کہ سنا کہ گنگا راسپتال کے ڈاکٹروں کو کووڈ 19کے مریضوں کو دی جانے والی آکسیجن مجبوری میں کم کرنی پڑ رہی ہے ۔ دہلی میں میڈیکل آکسیجن کی تعدا د بڑھانے کے خاطر پی ایم کیئر فنڈ سے آٹھ پریسر سونگ آئسو لیشن آکسیجن پیداوار پلانٹ لگائے جا رہے ہیں اس نے کہا کہ ان پلانٹ کی مدد سے میڈیکل آکسیجن کی قوت 14.4میٹرک ٹن بڑھ جائے گی۔ (انل نریندر)

23 اپریل 2021

گوداموں سے آتی رہی شراب پھر بھی کم پڑ گئی!

لاک ڈاو¿ن کا حکم آتے ہی پوری دہلی میں لوگ شراب خریدنے کیلئے لوگ ٹھیکوں پر جمع ہوگئے کہ بھیڑ اتنی تھی کہ سماجی دوری کے قواعد کی دھجیاں اڑ گئیں۔ ایک ایک شخص نے بوتلوں کی کئی پیٹیاں خرید ڈالیں حالانکہ پوری دہلی میں ایک دن میں کتنی شراب بکی ہے اس کی تفصیل نہیں ملی لیکن محکمہ ایکسائز کے مطابق ضروت سے کئی گنا زیادہ شراب بکی گریٹر کیلاش میں تو دو بجے ہی شراب کی دوکانوں پر اتنی بھیڑ جمع ہوگئی کی ٹھیکوں کو بند کرنا پڑا مالویا نگر میں اسٹاک ختم ہونے کی وجہ سے دکانیں بند کر دیں گئیں ایسا ہی حال کال کا جی میں ہو جہاں بھیڑ کی وجہ سے پولس کو کنٹرول کرنا پڑا لکچھمی نگر میٹرو اسٹیشن کے پاس بھی پولس کو بھیڑ کو قابو کرنے میں کافی مشقت کرنی پڑی ایسے ہی خان مارکیٹ اور درگا پوری چوک وغیرہ علاقوں میں شراب خریدنے والوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں جس کی وجہ سے سڑکوں پر جام لگ گیا لوگ بغیر ایم آر پی پوچھے ہی شراب خرید رہے تھے ایسے ہی روہنی سیکٹر 20میں دوپہر دو بجے کافی لوگ لائن میں کھڑے نظر آئے اور جلد بازی میں شراب لینے کے چکر میںلوگ سماجی دوری بھول گئے اور شراب کا اسٹاک ختم نہ ہوجائے بنالائن کاو¿نٹر پر پہونچے دہلی میں کئی دکانوں پر اسٹاک ختم ہونے کے بعد گاڑیوں سے شراب کی نئی کھیپ منگوائی گئی لیکن خریدار زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی کم پڑ گئی ۔مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ ٹھیکہ آبادی کے بیچ میں اور کورونا دور میں اتنی بھیڑ آئے گی تو لوگوں میں کورونا انفیکشن کا خطرہ زیادہ اوربڑھ جائے گا۔لیکن شراب پینے والوں کو اس کی پرواہ ہے ؟ (انل نریندر)

پیغمبر کی شان میں گستاخی پر پاکستان میں تشدد!

فرانس نے اپنے پندرہ ڈپلو میٹ کو پاکستان سے واپس بلا لیا ہے پیغمرمحمد کے خیالی کارٹون کے اشاعت کو لیکر ہوئے تشدد ے بعد فرانس نے یہ فیصلہ لیا ہے ۔پاکستان میں پچھلے ہفتے بھر سے پر تشدد جھڑپیں جاری ہیں اس کے پیچھے ایک ممنوعہ تنظیم بھی شامل ہے ۔ ان لوگوں کی مانگ ہے کہ فرانس کے سفارت خانوں کو پاکستان سے باہر کیا جانا چاہئے تشدد کے درمیان فرانس نے اپنے سفارت کاروںکو اسلامی ملک پاکستان سے واپس بلا لیا ہے ۔ اس تشدد میں شامل تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کاروائی کرتے ہوئے پابندی لگا دی گئی ہے اس تشدد میں دو پولس والوں کی موت ہونے کی اطلاعات ہیں پاکستان میں تشدد کے چلتے اب تک 15سفارت کار ملک چھوڑ چکے ہیں ۔ فرانسیسی اخبار لیہ فنگارو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو صلاح دی ہے کہ وہ اور دیش کی کمپنیاں عرضی طور پر دیش سے چلی جائیں ۔فرانس کی طرف سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلائے جانے سے صاف ہے کہ یوروپی ملک اور پاکستان کے درمیان تعلقات کمزور پڑ گئے ہیں فرانس کی ایمونیل میکرو سرکار کی طرف میگزین شارلی ہیدو میں شائع پیغبر حضرت کے کارٹون کے بارے میں رپورٹ چھاپی گئی تھی اس کے بعد سے ہی ان دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں میں درار دیکھنے کو مل رہی ہے صدرمیکروں کے بیان پر پاکستان نے تلخ احتجاج کیا تھا ۔ عمران خان نے بھی میگزین شارلی ہیپو میں شائع نام نہاد کارٹون و آرٹیکل پر مذمت کی ہے ۔ (انل نریندر)

ویکسین کی لاکھوں ڈوز برباد !

ایک طرف جب دیش میں کووڈ 19کے سبب روزانہ 15سو سے زیادہ لوگوں کی جان جانے لگی ہے وہیں کئی ریاستوں سے کورونا ویکسین کی کمی کی شکایتین سننے کو مل رہی ہیں ، اس وقت یہ چونکانے والا انکشام ہوا ہے کہ 11اپریل تک دیش میںٹیکے کی 44.5لاکھ سے زیادہ ڈوز بربا د ہوگئی ہیں دیش میں 16جنوری سے ویکسی نیشن مہم شروع ہونے کے بعد سے 11اپریل تک یہ ڈوز برباد ہوئی ہے ٹیکے کی بربادی میں سب سے آگے تامل ناڈو ہے حکومت نے یہ معلومات آر ٹی آئی رضا کار اور فری لانس جنرلسٹ وی ویک پانڈے کے ذریعے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دی گئی سرکار کی طرف سے دستیاب اعداد شمار کے مطابق 11اپریل تک ریاستوں کو ٹیکے کی قریب 10.34کروڑ ڈوز جاری کی گئی جس میں 44.78لاکھ سے زیادہ ڈوزمختلف وجوہا ت کے سبب بے کا ر ہوگئیں سب سے زیادہ ڈوز 12فیصدی تامل ناڈو میں برباد ہوئی اس کے بعد ہریانہ میں 9.74فیصد، پنجاب میں8.12فیصد ،منی پور میں 8.8فیصد ، تلنگانہ میں 7.55فیصد ڈوز ضائع گئیں وہیں کیرل، بنگال ہماچل ، میزورم، گوا ،انڈمان نکو بار اورلکچھدیپ جیسی ریاستیں اور مرکزی حکمراں ریاستیں ہیں۔جہاں ویکسین کی ڈوز نہ کے برابر برباد ہوئی قابل ذکر ہے کہ دیش میں کورونا ویکسین کو لیکر غیر بھاجپا حکمراں ریاستوں اور مرکز کے درمیان جم کر سیاست جاری ہے ۔ مہاراشٹر پنجاب اور دہلی کی حکومتیں مرکز پر الزام لگاتی رہی ہیں کہ انہیں گجرات کے مقابلے ویکسین کا اسٹاک کم ملا مرکزی سرکار کے ذریعے پیر کو یعنی پہلی مئی سے 18سال کے اوپر سبھی لوگوں کو ٹیکہ لگانے کی اجازت دینے کے بعد دیش بھر میں انجیکشن لگانے کی مہم کو اور رفتار ملنے کی امید ہے ۔دیش بھرمیں ویکسین کی بھاری مانگ کو دیکھتے ہوئے مرکزی سرکار نے بیرونی ممالک میں استعمال ہورہی الگ الگ کورونا ویسکین کی بھی بھارت میں برآمدات کی اجازت دے دی ہے ۔ ویکسین کی بربادی قابل برداشت نہیں ہے اسے فوراً روکنے کے اقدامات ہونے چاہئے ماہرین کا کہنا ہے ٹیکہ رکھنے کے ساز و سامان اور بہتر رکھ رکھاو¿ ہونا چاہئے ۔ اور ہر مرحلے میں زیادہ سے زیادہ سو سے زیادہ ٹیکے لگائے جانے چاہئے جب تک 10لوگ موجود نہ ہوں تب تک سی سی نہ نکالی جائے ایک سیسے میں 10ڈوز ہوتی ہیں اگر دس سے کم لوگ ہوں گے تو ڈوز بچ جائے گی اگر اس کو احتیاط سے اسٹور نہ کیا جائے تو وہ برباد ہوجائے گی ۔ تاکہ سیسی میں دستیاب سبھی خوراک استعمال ہوسکے کووڈ 19سے لڑائی میں ہم اس وقت جس موڑ پر کھڑے ہیں اس سے اب کسی لاپرواہی کیلئے جگہ نہیں ہے بلکہ وہ جنتا کی ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے لاپرواہی مانی جائے گی ۔ واضح ہو ویکسی نیشن مہم کی شروعات سے پہلے باقاعدہ مشق کی گئی تھی اس کا پروٹوکول طے ہوا تھا اس کے باوجود اگر یہ غلط ہے تو ہمیں اپنی ناگہانی مشینری پر غور کرنے اور بغیر وقت گنوائے اسے چست کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی سرکاروں کو بھی اپنے طریقے کار پر دھیان دینے کی سخت ضرورت ہے دیش کے شہری اس وقت تکلیف میں ہیں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہونا چاہئے جس سے ان کی تکلیف اور بڑھ جائیں لوگ غم کو سہہ لیتے ہیں اگر انہیں یہ نظر آتا ہے کہ مدد گاروں نے ایمانداری سے کام کیا ہے اس لئے زندگی بخش سامان کی بربادی کالا بازاری کو مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ہر حال میں روکنا ہوگا۔
(انل نریندر)

22 اپریل 2021

نیرو مودی کی حوالگی کا راستہ صاف ہوا !

بھارت میں پنجاب نیشنل بینک سے 13ہزار کروڑ روپئے کا چونا لگانے والے ہیرا تاجر نیرو مودی کی حوالگی کی برطانیہ کے وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے اجازت دے دی ہے اسے حکومت کی ہند کی کوششوں کی کامیابی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے سی بی آئی کی عرضی پر برطانوی عدالت نے نیرو مودی کی حوالگی کا حکم دیا جس کے بعد پٹیل نے برطانوی سرکار کی طرف اسے بھارت بھیجنے کی ہری جھنڈی دے دی ہے ۔ بھارت میں سی بی آئی نے 31جنوری 2018کو نیرو ،میوہل چوکسی اور پنجاب نیشنل بینک کے گھوٹالے میں ملوث حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا لیکن جانچ ایجنسی کی قدم کے بھنگ لگتے ہی نیرو اور میہل چوکسی دیش سے فرار ہوگئے اس کے بعد یہ گھوٹالہ فرضی لیٹر اورانڈر ٹیکنگ جاری کرنے کو لیکر ہوا تھا اسکی بنیاد پر نیرو اور میہل کو بینکوں سے بے روک ٹوک نقد رقم مل جاتی تھی جسے بعد میں واپس نہیں کرتے تھے اسی کے چلتے 13ہزار کروڑ کا گھوٹالہ ہوا تھا برطانوی کورٹ نے ہندوستانی جیلوں اور نیرو کے ذہنی بیماری کو لیکر ہیراتاجر کو لیکر ساری دلیلوں کو خارج کر دیا تھا ۔ اور اسی فیصلے کی بنیا د پر برطانیہ کے وزیر داخلہ کی حوالگی کے اجازت نامہ پر دستخط کئے ہیں لیکن نیرو وزیر داخلہ کی اجازت کے 14دن کے اندر ہائی کورٹ میں اس اجازت کوچنوتی دے سکتا ہے۔ (انل نریندر)

کندھا دینے والے چار لوگ بھی نہیں ملے!

گورکھپور شہر میں والد کی موت کے بعد ٹیچر بیٹے نے بھی کورونا سے دم توڑ دیا لاش اسپتال سے گھر پہونچی تو خوف میں پڑوسیوں نے دروازے بند کرلئے کسی نے جھانکا تک بھی نہیں ٹیچر کے بھائی بھیتجے بھی کورونا سے متاثر پائے گئے ایک بھائی کی حالت نازک ہے کندھہ دینے والے چار لوگ بھی نہیں ملے جس وجہ سے انتم سنسکار کرنے کا سنکٹ کھڑا ہوگیا ایسے میں کورن ٹائن میں رہنے والے دوسرے محلے کے ایک شخص کو جانکاری ملی اس نے فون کرکے انتظامیہ خبر کردی لیکن کئی گھنٹے بعد مردہ لے جانے والی گاڑی پہونچی پتا کو اگنی دینے والے کورونا متاثر بھائی نے راپتی ندی کنارے پر سکچھک کا بھی انتم سنسکار کیا اس واقعے نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رھ دیا یہ واقعہ گورکھپور شہر کے رام جانکی نگر کا ہے 12اپریل کو کالونی میں رہنے والے ریٹائرڈ کرم چاری کے گھر موت نے دستک دی اور وہ چل بسے خاندان کے قریبی کے مطابق ان کی رپورٹ نگیٹیو تھی لیکن اثرات کورونا کے تھے ایسے میں ٹیچر بیٹے نے اپنی اور دونوں بھائیوں اور بچوں کو 11اپریل کو ڈی آر ڈی میڈیکل کالج میں جانچ کرائی جن کی رپورٹ پتا کے موت کے ایک بعد پاجیٹیو آئی جمعرات کی دیر رات اس ٹیچر کی حالت بگڑ گئی جمعہ کو صبح سویرے کورونا متاثر بھائی اور بھتیجے نے آٹو میں ایک پرائیویٹ اسپتال لے گئے جہاںڈاکٹروں نے انہیں مرا ہوا بتا دیا یہاں سے ڈی آر ڈی میڈیکل لے گئے جہاں اسپتال کے سامنے ایمبولینس ڈیوٹی میں تعینات ٹیکسی ڈرائیور نے بھی مردہ بتایا اور صبح سات بجے لاش کو لیکر گھر آگئے اس کے بعد دیکھتے دیکھتے آس پاس کے گھروں میں رہنے والے لوگوں نے دروازے اور کھڑکیاں بند کرلیں اور دوپہر تک لاش گھر پر ہی رہی اس درمیان کوتوالی علاقے میں ایک شخص وجے سری واستو کو اس کی جانکاری ملی بھائی انفیکشن کا شکار ہونے سے خوس آئیسو لیٹ ہونے کے باوجود وجے نے سرکاری افسروں کو خبر دی ۔ اور ایک بجے انتظامیہ نے مردہ گاڑی کے ساتھ ٹیم کو بھیجا اور لاش کو راپتی ندی کے کنارے لے جایا گیا اور وہاں چتا کو آگ دینے والے بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی کا انتم سنسکار کیا گیا۔ (انل نریندر)

پرواسی مزدوروں کی دہلی سے روانگی شروع!

پرواسی مزدور دہلی میں تیزی سے پھیل رہا کورنا انفیکشن مسلسل خطرناک حالات پیدا کررہا ہے اور جس وجہ سے کورونا مریضوں کی بڑھتی تعداد سے اسپتالوں میں آئی سی یو بیڈ پھل ہوچکے ہیں۔ کورونا کے نازک مریض کو لیکر رشتے دار اسپتال در اسپتال گھوم رہے ہیں تاکہ انھیں آئی سی یو میں بیڈ مل جائے لیکن ایپ اور اسپتال میں آئی سی یو بیڈ نہ ہونے کے سبب اسپتال مریض کو بھرتی کرنے کے بجائے کسی اور اسپتال میں مریض کو لے جانے کی صلاح دے رہے ہیں جی ٹی بی اور ایل این جے پی اسپتال سمیت دہلی کے کئی اسپتالوں میں مریضوں کی بھرتی نہ کرنے پر وہ برآمدے اور اسپتال کمپلیس میں بیٹھنے کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں دہلی میں مکمل لاک ڈاو¿ن ہونے کے ساتھ ہی پرواسی مزدوروں کی دہلی سے گھروں کو روانگی شروع ہوگئی ہے پہلے ہی دن وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اپیل بے اثر ہوتی دکھائی دی انہوںنے ان مزدوروں کو دہلی نہ چھوڑ کر جانے کی اپیل کی انہوںنے سمجھایا کہ چھوٹا سا لاک ڈاو¿ن ہے امید ہے کہ اسے آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیجریوال نے دہلی سے باہر کے مزدوروں سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا لاک ڈاو¿ن لگانے کا فیصلہ اس وقت لینا پڑا جب میرے پاس کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔یہ فیصلہ ہمارے لئے مشکل تھا کیجریوال نے کہا آپ کے آنے جانے میں آپ کا پیسہ اور وقت و طاقت کافی ختم ہوجائے گی اس لئے آپ دہلی میں ہی رہئے اوریہ لاک ڈاو¿ن چھوٹا ہے اور چھوٹا ہی رہے گا سرکار آپ کا خیال رکھے گی لیکن اس اپیل کے باوجود پرواسی مزدور مسلسل دہلی چھوڑ رہے ہیں آنند بہار بس اڈے پر گھر جانے والوں کی کافی بھیڑ ہے لوگ دیوار فلانگ کر بس اڈے میں داخل ہونے لگے ہیں زیادہ تر لوگ یوپی بہار جا رہے ہیں بس ٹرمنل پر دیر رات تک اتر پردیش اور بہار جانے والے لوگوں کی بھیڑ بڑھتی گئی ہے مزدوروں کو بھروسہ نہیں ہے کہ ایک ہفتے بعد دہلی میں سب کچھ حالات بحال ہوجائین گے لیکن سب کو اس لاک ڈاو¿ن کو لمبا چلنے کا ڈر ستا رہا ہے یوپی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی کوشامبی بس اڈے سے یوپی بہار کے لئے بسیں پھل جا رہی ہین دیگر بس اڈوں ریلوے اسیٹیشنوں پر بھی مزدوروں کی ایسی ہی بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے وہاں پر موجود بہت سے لوگوں نے بتایا کہ اب یہاں کام نہیں مل رہا ہے اب یہاں کھانے پینے کی پریشانی ہونے لگی ہے لہذا گھر لوٹ رہے ہیں ۔عورتیں اپنے بچوں کو گوند میں لئے اور کندھے پر سامان لیکر آنند بہار بس ٹرمنل اور کوشامی بس ڈپو کے درمیان لوگ بس پکڑنے کیلئے دوڑتے دکھائی دیئے ہیں ہر کوئی جلدی سے جلدی اپنے گھروں کو لوٹنے کیلئے بے چین ہے کیونکہ وہ سال 2020میں لاک ڈاو¿ن کی پریشانی دیکھ چکے ہیں یہ افسوس ناک ہے کہ مزدوروں کی ہجرت کے حالات ایک بار پھر سے دیکھنے کو مل رہے ہیں مزدور بھی کیا کریں انہیں 2020کے لاک ڈاو¿ن کا بھوت ستانے لگا ہے وہ دوبارہ ان حالات سے نہیں گزرنا چاہتے انہیں روکنے کیلئے کوشش ہونی چاہئے اور ساری سہولیات کا موقعہ دینا ہوگا تاکہ وہ دہلی میں ہی رکے رہیں ۔ (انل نریندر)

21 اپریل 2021

امریکہ میں فائرنگ میں 4 شکھوں کی جان گئی !

امریکہ کی ریاست انڈیانہ میں فیڈیکس کمپنی کے کمپلیکن میں فائرنگ کے واقعہ میں سکھ فرقہ کے چار افراد کی جان چلی گئی اور دیگر تین لوگ بھی مارے گئے ۔اور کئی زخمی ہوئے بندوقچی حملہ آور کی پہچان انڈیانہ کے انیس سالہ نوجوان برنڈن اکارہول کی شکل میں کی گئی ہے ۔اس نے انڈیانہ پولیس میں فیڈیکش کمپنی کے کمپلیکس میں گولی چلانے کے بعد مبینہ طور پر خود کو گولی مار لی اس واردات پر متاثرہ کنبوں نے غصہ اور خوف وتشویش جتائی ہے ۔ڈلیوری سروس دینے والی کمپنی کے ایک کمپلیکس میں کام کرنے والے 90 فیصد سے زیادہ ملازم ہندوستانی نزاد ہیں اور وہ امریکی شہری بتائے جاتے ہیں جن میں زیادہ تر شکھ ہیں سکھ فرقہ کے لیڈر گوندر سنگھ خالصہ نے فیڈ ایکٹ کمپلیکس کے ملازمین کے رشتہ داروں سے ملاقات کر کہا یہ واردات بے حد تکلیف دہ ہے اور پورا سکھ فرقہ اس واردات سے دکھی ہے ۔ان میں تین عورتیں شامل ہیں آئی این پی ڈی نے کہا کہ کمپنی کے دفتر میں فائرنگ کے واقعہ کے اسباب کا پتہ لگایا جائے گا کہ سکھ فرقہ کو ایک دوسرے شخص ہرپریت سنگھ گل کو آنکھ کے پاس گولی لگی اور وہ بھی اسپتال میں زیرعلاج ہے بتایا جاتا ہے کہ واردات کی جگہ پر پولیس کے آنے سے پہلے ہی حملہ آور نے خود کو گولی مار لی یہ انڈیانہ پولیس میں کمپنی کا سابق ملازم تھا ۔آگے کی جانکاری اکھٹی کی جارہے امریکی صدر جوبائیڈن اور نائب صدر کملا حیرث نے اس ٹریجڈی پر اپنا گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ (انل نریندر)

لالو کو ہائی کورٹ نے دی ضمانت !

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے کروڑوں روپے کے چارہ گھوٹالے سے وابسطہ دنکا خزانہ معاملے میں سنیچر کو آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کو ضمانت دے دی ہے ۔اس کے ساتھ ہی ان کے جیل سے رہا ہونے کا راستہ صاف ہوگیا چارہ گھوٹالے کے کیس میں لالو 23 جولائی سے باہر آنے کیلئے ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے کا بانڈ نچلی عدالت میں بھرنا ہوگا ۔حالانکہ عدالت نے انہیں ضمانت میعاد کے دوران بغیر اجازت دیش سے باہر جانے پر روک لگا دی ہے ۔اپنا پتہ موبائل نمبر نہ بدلنے کی ہدایت بھی دی ہے ۔چارہ گھوٹالے مین سزا یافتہ لالو یادو کی ضمانت پر سماعت کے دوران عدالت نے سی بی آئی کی دلیلیں خارج کردیں کہ لالو ابھی نئی دہلی میں ایمس میں جودیشیل حراست میں داخل ہیں ۔سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں ضمانت سے متعلق کاروائی پوری ہونے پر ان کو پیر کو رہا ہو جانے کا امکان ہے ۔انہیں چارہ گھوٹالے کے دیگر تین معاملوں میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے ۔رانچی کورٹ نے انہیں آدھی سزا پوری کرنے کے بعد ضمانت دی ہے ۔ذرائع کے مطابق پیر کو لالو پرساد یادو کو ضمانت ملنے اور رہائی کی کاروائی پوری ہوگئی لیکن چونکہ ان کا علاج دہلی کے ایمس میں چل رہا ہے اس لئے ایسے میں انہیں شاید دو ہفتہ بعد ہی جیل سے باہر آنے کا موقع ملے ۔لالو پرساد کے قریبیوں کے مطابق وہ پوری طرح ٹھیک ہونے کے بعد ہی لوگوں کے سامنے آئیں گے آر جے ڈی کے بانو لالو پرساد یادو چارہ گھوٹالے میں تین سال پہلے تیسری مرتبہ جیل گئے تھے تو سب سے بڑا سوال یہ بھی تھا کہ کیا وہ جیل سے واپسی کرپائیں گے اور کیا ان کے بغیر ان کی پارٹی متحد رہ پائے گی ؟ تب لالو پرساد پچھلے کئی برسوں سے یوپی اے کے پہیا رہے ہیں اور بی جے پی کےخلاف مضبوط آواز اٹھارہے ہیں لیکن ان کے بیٹے تیجسوی یادو نے نہ صرف آر جے ڈی کو بکھرنے سے روکا بلکہ پچھلے سال این ڈی اے کو سخت چنوتی بھی دی تھی ایسے میں سوال ہے کہ کیا لالو پرساد یادو اب دوبارہ آر جے ڈی میں اپنی سرگرمیاں بڑھائیں گے یا قومی سیاست پر توجہ دیں گے دوبار جیل جانے کے بعد بھلے ہی لالو پرساد اور مضبوط بن کر نکلے ہوں لیکن اس مرتبہ ان کے سامنے مشکل چنوتی ہے ۔لالو پرساد کے اب تک سیاسی ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ان کے حریفوں کی نظر ہوگی کہ اس بار واپسی کے بعد لالو کا کیا رخ رہتا ہے ؟ حالانکہ آر جے ڈی کے اندر بھی یہ کلیش رہے گا کہ جس پارٹی میں پوری طرح پیڑی رد وبدل کی کاروائی ہو چکی ہے وہاں اب لالو پرسادکا کتنا رول ہوگا آر جے ڈی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا لالو پرساد کی ضرورت قومی سیاست میں سب سے زیادہ ہے اور وہ اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرنے میں بڑا رول نبھا سکتے ہیں بیٹے تیجسوی یادو کا کہنا تھا کہ ضمانت ملنے سے خوشی ہے لیکن ان کی صحت کو لیکر ابھی بھی فکر ہے ۔جب تک کہ وہ صحتیاب ہو کر گھر نہیں آجاتے ۔وہیں رہیں گے ۔ (انل نریندر)

ووٹر کی جان سے زیادہ ضروری ریلی ، روڈ شو!

اتوار کو مغربی بنگال کے چناو¿ ماحول میں ایک نیا رنگ مل گیا ۔کورونا کے بڑھتے قہر کے درمیان کانگریس نیتا راہل گاندھی نے بنگال میں باقی مرحلوں کے چناو¿ کیلئے کمپین نہ کرنے کافیصلہ کیاہے اور انہوںنے ریاست میں ہونے والی باقی ریلیوں کو منسوخ کر دیاہے راہل نے اتوار کو ٹوئیٹ کیا، کووڈ کی حالت کو دیکھتے ہوئے اپنی سبھی ریلیوں کو ملتوی کررہا ہوں اور سبھی لیڈروںکو صلاح دوں گا کہ موجودہ حالات میں بڑی ریلیوں کے نتیجوں پر گہرائی سے غور کریں سوچنا چاہیے کہ ان ریلیوں سے جنتا کا دیش کو کتنا خطرہ ہے وہیں دوسرے کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے بھی کہا پی ایم کو دہلی میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور وزرائے اعلیٰ کے ساتھ تال میل کرکے کورونا سے نمٹنا چاہیے ۔راہل گاندھی نے ایک دوسرے ٹوئیٹ کے ذریعے وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا جس میں انہوں نے حوالہ دیا کہ پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ان کی ریلی میں بنگال میں اتنی بھیڑ ہے جہاں تک نظرجارہی ہے وہیں لوگ دکھائی دے رہے ہیں ان کی تقریر کا یہ ویڈیو بھی شوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے ا س سلسلے میں راہل نے لکھا کہ بیماروں متوفیوں کی بھی اتنی بھیڑ پہلی بار دیکھی گئی ہے سینئر کانگریس لیڈر اور ریاست کے وزیر شومن دیو بھٹا چاریہ نے کہا کہ پارٹی کوئی بڑی ریلی نہیں کرے گی ۔چٹوپادھیائے بھوانی پور شیٹ سے چناو¿ میدان میں ہیں دراصل بنگال میں ریلیوں میں اکٹھی ہونے والی بھیڑ کو لیکر شوشل میڈیا اور سیاسی پارٹیوں اور چناو¿ کمیشن پر بھی نکتیہ چینی کی جا رہی ہے عام آدمی پارٹی نے کورونا وبا کے انتظام میں لا پرواہی کو لیکر مرکزی سرکار کو کٹھگرے میں کھڑا کیا ہے پارٹی کے سینئر لیڈر اور ممبر اسمبلی راگھو چڈھا نے کہا کہ پچھلے دس دنوں میں جس تیزی سے کورونا انفیکشن اور مرنے والوں کی تعداد گھٹی ہے اس سے زیادہ رفتار بنگال میں بی جے پی کی ریلیوں کی تھی دیش میں کورونا کے روزانہ دو لاکھ سے زیادہ معاملے سامنے آرہے ہیں اور بی جے پی بنگال چناو¿ میں عوامی سیلاب والی ریلیوں میں مصروف ہے چڈھا نے وزیراعظم اور مرکزی وزیرداخلہ اور بھارتی جنتا پارٹی سے وبا کی لڑائی میں دیش واسیوں کا ساتھ دینے کی اپیل کی انہوں نے کہا عوامی سیلاب والی ریلیوں کے ذریعے سپرم اپرینڈ رایونٹ منعقد کئے جا رہے ہیں دیش کے کسی بھی شہری یا سماجی و کلچرل انجمنوں کو کورونا سے بچاو¿ کے قواعد کی تعمیل کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو اس کا فوراً جواب آتا ہے کہ مغربی بنگال کے چناو¿ میں تو سبھی سیاسی پارٹیاں اور اس کے نیتا ورکر کورونا کے سبھی قواعد کی دھجیاں اڑا رہے ہیں وہیں بھاجپا نیتا کیلاش ورگیہ نے کہا کہ راہل ریلی کریں یا نہ کریں فرق نہیں پڑتا ہے ان کی ریلی میں بھیڑ نہیں آتی اب چہرہ بچانے کو ایسا کہہ رہے ہیں ویسے چناو¿ کمیشن کے پاس آئین کی دفع 324 کے تحت پر امن چناو¿ کرانے کے لئے ریلیون پر پابندی لگانے کاحق ہے ۔اور اس اختیار کے تحت وہ مغربی بنگال کے چناو¿ میں ریلیوں اورروڈ شو وغیرہ پر پابندی لگا کرایک مثال پیش کرسکتا تھا مگر چناو¿ کمیشن ایسا کرتا تو پورے دیش میں اس کی تعریف ہوتی اس الزام سے بھی بچ جاتا کہ وہ بی جے پی کے اشاروں پر کام کررہا ہے ۔مرکزی سرکار کو بھی کورونا کی سنگین صورتحال کو سمجھنا چاہیے بھاجپا اور ٹی ایم سی دونوں کو عوام کے مفاد کو ذہن میںر کھتے ہوئے چناو¿ مفاد کو اوپر رکھنا چاہیے ۔ (انل نریندر)

20 اپریل 2021

کورونا کا ڈر دکھانے کی جگہ مسئلہ حل کرے سرکار!

کسان لیڈروں نے سرکار کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ دھرنے کی جگہ سے نہیں ہٹیں گے ان کا کہنا ہے کہ یہاں اب احتجاجی کسانوں کا ایک گاو¿ں بس گیا ہے کورونا کا ڈر دکھا کر آندولن ختم کرانے کی سرکار کی کوشش بیکار جائے گی اس سے بہتر ہے کورونا کی روک تھا م کے انتظام یہاں بھی کئے جائیں کسانوں نے اس کی تعمیل بھی کرنا شروع کردی ہے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے صاف الفاظ میں کہا کہ کسان اپنی مانگیں پوری ہوئے بغیر کسی بھی قیمت پر یہاں سے نہیں ہٹیں گے ہم کہاں جائیں گے یہیں رہیں گے یہ ہمارا گاو¿ں ہے کوئی بھی سرکار گاو¿ں کے لوگوں کو بھگا نہیں سکتی جوائنٹ کسان مورچہ ، غازی پور کے نیتا جگتار سنگھ باجو نے کہا کسان آندولن ایک گاو¿ں کی شکل لے چکا ہے سرکار آندولن کو ختم کرنے کی کوئی سازش رچتی ہے تو اسے سنگین نتیجہ بھگتنے پڑیں گے کسان اسٹیج سے کہا کہ اب یہ ہمارا گاو¿ں بن گیا ہے کورونا قواعد کی تعمیل کرتے ہوئے یہ آندولن جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آندولن کہ جگہ میں کوئی تشد د آمیز واقعہ ہوتا ہے تو اس کیلئے سیدھے طور سے سرکار ذمہ دار ہوگی واردات کی جگہ میں کسانوں کو ہٹانے کا موضوع ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے لیکن گرمی ہوتے ہوتے مغرب کی ہواو¿ں نے گرمی سے کسانوں کو تھوڑی راحت دے دی ہے جس وجہ سے دھول بھری آندھی سے اسٹیج پر جاری جو سرگرمی تھی وہ تھوڑی دیر کیلئے رک گئی تھی ۔ (انل نریندر)

150لاکھ کروڑ خرچ 20سال بعد افغانستان سے نکلے گا امریکہ !

امریکہ کی فوجیں 20سال بعد اور بے حد طویل اور مہنگی جنگ کے بعد افغانستان سے اپنے وطن لوٹے گی 9-11حملے کی 20برسی یعنی 11ستمبر تک امریکی فوج یہاں سے چلے جائیں گے پہلے یہ میعاد یکم مئی طے تھی لیکن ڈھای ہزار سے زیادہ فوجیوں کی واپسی کو دیکھتے ہوئے میعاد بڑھا دی گئی ۔ القاعدہ 9-11حملے بعد سال 2001میں امریکہ نے افغانستان میں فوج اتاری تھی اس جنگ میں امریکہ نے 24سو فوجیوں کو کھویا ہے اور جنگ پر امریکہ نے دو ٹریلین ڈالر یعنی 150لاکھ کروڑ روپئے خر چ کئے مئی 2011میں امریکہ نے اسامہ بن لادین کو مار گرایا لیکن نہ تو طالبان کو ختم کر پایا اور نہ ہی افغانستان میں امن قائم کر پایا جو بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ لمبی بحث اور کئی رپبلیکن ممبروں کے مخالفت کے باوجود صدر جو بائیڈن نے یہ فیصلہ لیا ہے حالانکہ اس فیصلے کے بعد یہ بحث امریکہ میں شروع ہوگئی ہے کہ امریکہ کہ افغانستان سے واپسی کے بعد اس علاقے میں پھر سے جنگ کے حالات نہ پیدا ہوجائیں لیکن سب سے زیادہ نقصان افغانیوں کا ہوا ہے ان کے ساٹھ ہزار سے زیادہ سیکورٹی ملازمین مارے گئے ہیں اور اس سے زیادہ تعدا د میں شہریوں کی جان گئی تو یہ سوال پوچھا جانا چاہئے کہ کیا یہ سب جائز تھا؟ اس کا جواب اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ اسے آپ کیسے بھانپ پاتے ہیں ایک پل کے لئے پیچھے چلتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ مذہبی طاقتیں آخر وہاں گئیں کیوں تھیں ؟ آخر کیا حاصل کرنا چاہتی تھیں ؟ 1996سے 2001تک پانچ برسوں میں کٹر پسند گروپ القاعدہ اپنے لیڈر اسامہ بن لادین کی قیادت میں افغانستان میں خود کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگیا اس کے بعد دنیا بھر سے 21ہزار 20ہزار جہازیوں کی بھرتی کی گئی اور انہیں ٹریننگ دی گئی ۔1998میں کیما اور تنزانیا امریکی سفارت خانوں پر حملے کئے گئے جس میں 224لوگ مارے گئے القاعدہ افغانستان نے کام کرنے میں پوری طرح اہل تھا کیونکہ اس وقت طالبانی سرکار اسے سرپرستی دیتی تھی سوویت ریڈ آرمی کے واپس لوٹنے اور بعد میں تباہ کن خانہ جنگی کے بعد کے برسوں میں طالبان نے 1996میں پورے دیش پر کنٹرول کرلیا تھا دسمبر 2001میں 9-11حملے کے بعد بین الاقوامی برادری نے طالبان کو حملے کے لئے ذمہ دار لوگوں کو سونپنے کیلئے کہا لیکن طالبان نے انکار کر دیا امریکہ اور برطانیہ کی فوج نے طالبان کو اقتدار سے ہٹا کر القاعدہ کو پاک سرحد پر جانے پر مجبور کر دیا اس لئے بین الاقوامی کٹر پسند کے نظریئے سے مغربی فوجی موجود اپنے مقاصد میں کامیاب رہی ہے لیکن یقینی طور سے اسے صرف اس طریقے سے بھانپنا بہت ایک معمولی خانہ پوری ہوگی اور یہ افغانستا ن کے فوجی اور عام جنتا پر اپنی جان گنوا چکی ہے ابھی وہاں اور گنوا رہے ہیں ، اسے نظر انداز کرنا ہوگا امریکی فوج کے ہٹنے کے بعد یقنین طور سے طالبان پھر مضبوط ہوکر اترے گا وہ ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے امریکہ کو ہرا دیا ہے اس کے علاوہ امریکہ کے جانے سے جو خلا بنے گا اسے چین اور روس مل کر پاکستان کے ساتھ بھرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ یقینی طور پر بھارت کا وہاں اہم کردار ہے ۔ جیسا کہ بائیڈ ن نے بھی کہا کہ اچھا تو یہ ہوتا کہ کچھ دن پہلے امریکہ نے جو تجویز دی تھی کہ افغانستان میں امن اور مضبوطی کیلئے اقوام متحدہ کہ رہنمائی میں کانفرنس ہو بھلے ہی اگلے چار مہینے چیلنج بھرے ہیں جس میں بھارت کو افغانستا ن میں اپنا رول طے کرنا ہوگا تاکہ پاکستان اور افغانستا ن کے راستے اسکے خلاف دہشت گرد اپنی سرگرمیاں انجام نہ دیں ۔ (انل نریندر)

ہم چناو ¿ نہیں چاہتے تھے ،جوڈیشری و چناو ¿ کمیشن نے نہیں سنی!

راجستھان نے تین اسمبلی سیٹوں اہاڑہ وغیرہ ضمنی چناو¿ کیلئے سنیچر کوو وٹ ڈالے گئے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے جمعہ کو جو ڈیشری اور چناو¿ کمیشن پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ ایک طرف تو ہم کووڈ پروٹوکال فالو کرنے کیلئے کہتے ہیں اور دوسری طرف چناو¿ میں لاکھوں لوگ کی بھیڑ کی ریلیاں اور روڈ شو ہوتے رہتے ہیں ایسا سب بہار چناو¿ سے ہوتا آرہاہے سیاست داں چاہتے تو ورچول ریلی جیسے متبادل کا استعمال کر بھیڑ جمع ہونے سے روک سکتے تھے وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جو ڈیشری اور چناو¿ کمشین اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے ۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے ریاستوں کی مخالفت کے باوجود پنچایت ، بلدیاتی اداروں و ریاستی اسمبلی چناو¿ کروانے کے احکامات دیئے چناو¿ کمیشن چاہتا تو ہنگامی حالات میں چناو¿ آگے بڑھا سکتا تھا ۔ کووڈ 19کی خوفناک صورتحال میں ایمرجنسی مانا جاسکتا تھا نیتاو¿ں نے جم کر کووڈ 19کی پرواہ کئے بغیر چناو¿ کمپین کی اور روڈ شو کئے گہلوت کا کہنا تھا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ٹھیک ہی کہا کہ کورونا انفیکشن پھیلنے کیلئے ہم سیاست داں بھی کچھ حد تک قصور وار ہیں اب کورونا کا نیا روپ سامنے آیا ہے جس سے دیش میں خطرناک حالات بنتے جارہے ہیں و لاک ڈاو¿ن کرفیو لگانے جیسے سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ دیش کہ پانچ ریاستوں میں چناو¿ میں کورونا انفیکشن کی رفتار میںاضافہ درج کیا گیا ریلیوں کے سبب کیرل ، آسام ،مغربی بنگال، پڈوچیری ،اور تامل ناڈو کورونا ہاٹ اسپوٹ بن کر ابھرے ہیں 15اپریل کو ختم ہوئے پندرہ دن میں ملے نئے انفیکشن مریضوں کی تعداد میں سب سے زیادہ 625فیصدی اضافہ آسام میں درج کیا گیا یہی اضافہ مغربی بنگال میں 504فیصدی اور کیرل میں 125فیصدی اور پڈوچیری میں 195فیصدی رہی ہے آسام میں 16سے 31مارچ کے درمیان صرف 537لوگوں میں کورونا کا انفیکشن پایا گیا تھا مطلب صاف ہے کہ اس دوران حالات کافی بہتر تھے لیکن 1سے 15اپریل کے درمیان کورونا متاثرین کی تعدا میں 625فیصدی اضافہ ہوگیا بنگال میں اس میعاد میں 32مریضوں کی موت ہوئی لیکن یکم سے پندرہ اپریل کے درمیان 149مریضوں کی موت ہوچکی ہے ۔ تامل ناڈو انفیکشن شرح 4.6فیصدی رہی جو بہت زیادہ ہے ایک اپریل سے پندرہ اپریل کے درمیان پچھلے پندرہ روز کے مقابلے 190.9فیصد درج کی گئی یہی حال کیرل اور پڈوچیری کا بھی ہوا ہے ابھی تو ریلیاں اور روڈ شو جاری ہے ان میں انفیکشن کا پتہ تو بعد میں پتہ چلے گا کورونا وبا کے چلتے ریاستوں میں اسمبلی چناو¿ ملتوی ہونے چاہئے تھے لیکن سیاست دانوں کوا قتدار بچانے و اقتدار میں آنے کی اتنی جلدی تھی کہ انہوں نے جنتا میں اس کے مضر اثرات کی پرواہ نہیں کی جوڈیشر ی بھی سیاست دانوں کے اشاروں پر چلی اس نے بھی چناو¿ ملتوی کرنے کی ہدایت نہیں دی ۔ اب ان کی لاپرواہی کا اثر پورے دیش کو بھگت نہ پڑ سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

18 اپریل 2021

کرفیو تبھی اثر دار ہوگا جب سختی سے لاگو ہو !

دہلی والوں کو اب کووڈ سختی سے گھروں میں گزارنا ہوگا کورونا کی رفتار روکنے کیلئے چین توڑنے کیلئے دہلی سرکار نے وی کینڈ کرفیو کا اعلان کردیا ہے جسے اکسپرٹ پوزجیٹو قدم بتا رہے ہیں مگر بہت سوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وی کینڈ کے بجائے وی ڈیز میں کرفیو زیادہ گاری ثابت ہوسکتا ہے ۔ روزانہ تیزی سے بڑھ رہے کورونا کے معاملوں کو دیکھتے ہوئے وی کینڈ کرفیو اس اسپیڈ کو کچھ کم کرنے کا حل مانا جارہا ہے اسی طرح مختلف حکومتوں نے رات کے کرفیو کا بھی سہارہ لیا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی چین کو بریک لگانے کیلئے لاک ڈاو¿ن بہت ضروری ہے معیشت کو دیکھتے ہوئے شروعات کے وی کینڈ ایک طرح سے صحیح ہے اسے آگے بڑھایا جاسکتا ہے حالانکہ وی کینڈ کرفیو سے وائرس کا پھیلنا تبھی کم ہوگا جب اسے سختی سے لاگو کیا جائے انڈین میڈیکل اسوشیشن کے سابق صدر ڈاکٹر کے کے اگروال کہتے ہیں وی کینڈ کے بجائے اس وقت پانچ دن کے کرفیو کی ضرورت ہے لاک ڈاو¿ن کا مطلب ہوتا ہے مسی گین یعنی اس سے کم کرنا بچاو¿ کی اسٹیج نکل چکی ہے دو دن لاک ڈاو¿ن میں لوگ گھرمیں بیٹھیں گو ان کے اثرات کچھ سامنے آئیں گے ابھی ایسے مریض باہر نکل رہے ہیں اور سب کو بیماری پھیلا رہے ہیں ۔ خانسی ، بخار میں اب لوگ ویکسین لگونے جارہے ہیں اگر پانچ دن کا لاک ڈاو¿ن ہوتا ہے تو بیماری کا اثرات پوری طرح باہر نکل کے آئیں گے کچھ لوگوںکی تجویز ہے کہ وی کینڈ کی جگہ آڈ ای وین بہتر متبادل ہے سنیچر اتور کو زیادہ تر لوگ گھر کے لئے ضروری سامان خریدنے نکلتے ہیں سرکار کو کووڈ میں دو دن کا کرفیو یا مارکیٹ کا وقت گھٹانے یا آڈ ای وین اسکیم شروع کرنی چاہئے ۔ (انل نریندر)

نرجنی کے بعدآنند اکھاڑے نے بھی کمبھ ختم کر دیا

جھارکھنڈ کے ہریدوار میں جاری کمبھ میلے میں کورونا وبا کا اثر ہونا ہی تھا جہاں لاکھوں کی تعداد میں شردھالوجمع ہیں وہاں کورونا کا خطرہ ہونا فطری تھا کمبھ میں متعدد شادھوں اور شردھالوں کو کورونا پاجیٹو ملنے کے بعد اکھاڑوں نے اپنا دھارمک اور کلچرل پروگرام کمبھ سے دوری بنانا شروع کردیا ہے کمبھ میلے نے بڑھتے خطرے کو دیکھتے ہوئے بڑے تیرہ اکھاڑے میں سے دو نرجنی اکھاڑے اور آنند اکھاڑے نے اس سے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے ان دونوں کا کہنا ہے کہ یہاں کورونا کے حالات بگڑ سکتے ہیں ۔ اور انہوںنے اپنی سادھو سنتوں کیلئے 17اپریل کمبھ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے اکھاڑے کے سیکریٹری مہیندر روندر پوری نے کہا سادھو سنت کورونا کی زد میں آنے لگے ہیں ایسے میں یہ جگہ خالی کردینا چاہئے نرجنی اکھاڑے کے مہنت کے اکھل بھارتیہ اکھاڑے کے پریشد صدر نریندر سمیت چالیس سنت کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں انہوںنے کہا جن سنتوں کو 27اپریل کو اسنان کرنا ہوگا وہ الگ الگ پیدل جائیں گے ادھر چتر کوٹ سے ہریدوار کمبھ میلے میں شامل مہا منڈلیشور کپل دیوی داش کے کورونا انفیکشن کے چلتے موت ہوگئی ہے وہ شاہی اسنان سے پہلے ہریداوار آئے تھے اور 12اپریل کو اسنان کے بعدا پنے اکھاڑے میں لوٹ گئے کچھ دیر بعد انہوں نے سانس لینے میں تکلیف اور بخار ی شکایت محسوس کی اس کے بعد انہیں دہرادون کے کیلاش اسپتال میں بھرتی کرایا گیا جانچ میں ڈاکٹروں کے مطابق وہ گردے کی بیماری میں مبتلا تھے اور وائرس انفیکشن سے ان کی حالت بگڑ گئی اور ان کی جان چلی گئی ۔ کووڈ میں کمبھ جگہ سے وبا کا خطرہ منڈرانے لگا ہے 14اپریل تک گنگا میں 49لاکھ سے زیادہ سنت اور شردھالو نے ڈبکی لگائی تھی وہیں دھارمک ماہرین کا دعویٰ ہے گنگا کا پانی بہاو¿ کے ساتھ وائرس بانٹ سکتا ہے اور انفیکشن کے گنگا اسنان اور لاکھوں کی بھیڑ کا اثر وبا کی شکل میں سامنے آسکتا ہے انفیکشن کے پھیلاو¿ سے روڈکی یونیورسٹی کے سینئر سائنسداں ڈاکٹر سندیپ کے مطابق سوکھی سطح اور دھات کے مقابلے میں پانی میں زیادہ سر گرم رہتا ہے گروکل کانگڑی یونیورسٹی کے مائیکرو بائیو لوجی کے صدر پروفیسر رمیش چند دوبے کا کہنا ہے کمبھ میں کووڈ کا کئی گنا خطرہ بڑھا دیا ہے اور اس کا اثر 10سے 15دنوں میں سامنے آنے لگے گا کیا اترا کھنڈ حکومت کو کمبھ میلا ختم کردینا ہوگا؟ جو بھی اسنان کرنا چاہے بیشک اکیلے اکیلے جا کر کر لے لیکن لاکھوں کی بھیڑ ختم کرنی چاہئے 12سے 14اپریل تک 49لاکھ سے زیادہ شردھالوں و سادھو سنتوں نے تین بار اسنان کر لیا ہے اب باقی اسنانوں کو ختم کرنا ہی بہت ہوگا۔ (انل نریندر)

شمشان میں قطار ، کوو یکسین چوری ، دواو ¿ں کی کالا بازاری

کورونا وبا میں جہاں روزانہ سیکڑوں لوگوں کی موت ہورہی ہے وہیں لوگوں کو بچانے کیلئے بنائے گئے سسٹم بھی الگ الگ وجوہات سے بگڑ چکی ہیں کئی جگہوں پر ضروری انجیکشن کی کالا بازار ی کو لیکر چوری ہورہی ہے وہیں پرائیویٹ اسپتالوں کے ذریعے لاکھوں روپئے وصولے جارہے ہیں جس سے علاج سے دور مریضوں کی موت بھی ہورہی ہے جانئے بدھوار کو مختلف ریاستو ںمیں آئے سامنے آئے ایسے ہی کچھ معاملے چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں تو حالات اس قدر خراب ہیں کہ اسپتال سے لیکر سمسان اور قبرستان تک لوگوں کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے اور لاشوں کیلئے پلیٹ فارم بڑھائے جار ہے ہیں گجرات کے سورت میں قبروں کی خدائی جار ی ہے مدھیہ پردیش کے اندور اور بھوپال شہروں میں بھی حالات خراب ہیں اور انتم سنسکارکیلئے بھی لائن لگ رہی ہے ایک ساتھ کئی لاشیں جلنے کا نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا سبھی پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں کو بستر نہ ہونے کا حوالہ دیکر واپس کیا جارہا ہے پچھلے چار دنوں میں ریاست میں 150سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے ادھر راجستھا ن کے ساشتری نگر کے اسپتال میں رکھی گئی کورونا دوا کوویکسین کی 320ڈوژ چوری ہوگئی یہ چوری 12اپریل کو ہوئی تھی لیکن مقدمہ بدھ کو درج کروایا گیا ۔ یہاں کئی ضلعوں میں داو¿ں کی کالا بازاری اور دواو¿ں کی قیمت پر بیچنے کی شکایتیں بھی آرہی ہیں گجرات کے کئی ضلعوں میں سمسان گھاٹو ں کے باہر انتم سنسکار کیلئے لائے اپنے اپنے رشتہ داروں کی قطاریں نظر آرہی ہیں لوگ پریشان ہیں پچھلے ہفتے سے انتم سنسکار کیلئے باری کا انتظار نہیں آپارہا ہے اور احمدآباد میں تو دہا سنسکار کیلئے 8گھنٹے قطار میں انتظارکرنا پڑرہا ہے بڑودا میں کارپوریشن کے افسر ہتیندر پٹیل نے بتایا کہ بھیڑ کی وجہ سے رات میں باڈیز کو جلا یا جا رہا ہے اور عارضی طور پر انہیں رکھنے کیلئے دھات کی 75ٹرے لگائی گئیں ہیں تاکہ دھا جگہ پر جلدی خالی کر دوسری لاشوں کا انتم سنسکار کروا سکے ۔ ادھر راجدھانی بھوپال میں 88کورونا سے مرے افراد کا انتم سنسکار کیا گیا ایسی کہانی بہت سی جگہ سے سننے میں آرہی ہے مہاراشٹر کا بھی برا حال ہے سرکار کے ذریعے سرکاری اسپتالوں کی تعدادا ور ان میں بیڈ نہ بڑھانے کی قیمت مریض اپنی جان دیکر چکا رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں بھی پرائیویٹ اسپتال ان مرتے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو لوٹ رہے ہیں مہاراشٹر کے پونے اورنگ آباد، ناگ پور، تھانہ سمیت پرائیویٹ اسپتال کووڈ 19سے متاثرہ مریضو ں کے علاج کیلئے 3سے 8لاکھ روپئے سے زیادہ وصول رہے ہیں زیادہ تر مریض بھاری خرچ سے بچنے کیلئے سرکار اسپتال میں بیڈ ملنے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن تب تک کورونا وائرس ان کے پھینپھڑوں میں پھیل کر ان کیلئے جان لیوا بن رہا ہے یہ حالت آگے چل کر مزید خراب ہونے کا امکان ہے ۔ کیونکہ کووڈ متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ (انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...