Translater

06 نومبر 2021

وراٹ کوہلی کی ننھی بیٹی کو دھمکی !

پاکستان سے کرکٹ میچ ہارنے اور آل راو¿نڈر گیند باز محمد سمیع کے حق میں کھڑے ہونے کے بعد سے ہی ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی کے لئے ٹویٹر سمیت انٹر نیٹ میڈیا کو الگ الگ پلیٹ فارم پر مسلسل انتہائی فحشی اور قابل اعتراض تبصرے پڑھنے کو مل رہے ہیں ان کے خاندان تک کو بھی دھمکی دی جا رہی ہے اب وراٹ کوہلی کی نو ماہ کی بیٹی کے لئے بھی بیہودہ زبان کا استعمال کیا گیا ہے اس سلسلے میں دہلی اومین کمیشن نے اس سلسلے میں دہلی پولس کو نوٹس جاری کر کاروائی کرنے کا کہا وہیں اس مسئلے پر وراٹ کوہلی کے ساتھ اظہار یکجہتی کہا کہ پریا وراٹ یہ لوگ نفرت بھرے ہیں کیونکہ انہیںکوئی پیار نہیں دیتا اس لئے مہیلا کمیشن کی چیئر مین سواتی مالی وال نے از خود نوٹس لیا اور دہلی پولس کی سائبر سیل کے ڈی سی پی کو نوٹس جاری کر معاملے میں کیس درج کرکے ملزمان کو گرفتار کرنے کی مانگ کی ہے اورمعاملے کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے ۔ پاکستان سے میچ ہارنے کے بعد مذہب کو لیکر کمنٹ کئے تھے کوہلی نے سمیع کا بچاو¿ کیا تھا اس کے بعد سے ہی وراٹ کو گھیرا جا رہا ہے ہم انتہائی اس قابلے اعتراض تبصرے کو پوری طرح سے کنڈم کرتے ہیں اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

ای ڈی بنام راشٹروادی کانگریس پارٹی!

مہاراشٹر میں سیاسی اتھل پتھل آہستہ آہستہ انتہا کو پہونچ رہی ہے نواب ملک بنام ثمیر وانکھڑے کا تنازع تو چل ہی رہا ہے اس درمیان منگل کو ایک بڑے واقعے میں انفورسمینٹ ڈائریکٹریٹ (ای ڈی )نے ریاست کے موجودہ نائب وزیر اعلیٰ کی چودہ سو کروڑ روپئے کی پراپرٹی ضبط کرنے کے احکامات جار ی کر دیئے ہیں شعبہ ذاتی ذرائع کے مطابق ملک گیر چھاپہ ماری کاروائی کے تحت اجیت پوار کی تمام بے نامی پراپرٹی کو پتہ چلا تھا یہ پراپرٹیاں ممبئی ، دہلی ، پونے گوا میں ہیں محکمے نے اجیت اور ان کے گھر والوں کو 90دن کا وقت دیا ہے اس دوران انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ یہ سبھی پرا پرٹیاں جائز ہیں جانچ کے دوران وہ ان پراپرٹیوں کو بیچ بھی نہیں سکیں گے ۔ یہ معاملہ ستارہ کے علاقہ کے 750کروڑ روپئے کے قرض گھوٹالے سے جڑا ہے وہیں دوسری طرف ای ڈی نے سابق وزیر داخلہ انل دیش مکھ کو گرفتار کر عدالت میں پیش کیا جہاں ان کو چھ نومبر تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا ۔ ممبئی کے سابق پولس کمشنر پرمبیر سنگھ نے دیش مکھ پر ممبئی سے ہی قریب 100کروڑ ورپئے کی ناجائز وصولی کرانے کا الزام لگایا تھا این سی بی نے کہا کہ محکمہ انکم ٹیکس کے ذریعے قرق کردہ پراپرٹیوں سے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کا مقصد انہیں بدنام کرنے کا ہے این سی بی کے ترجمان و وزیر نواب ملک نے الزام لگایا کہ مرکزی ایجنسیاں مہاراشٹر میں سیو شینا کانگریس کی قیادت والی مہا وکاس سرکار پر دباو¿ بنانان چاہتی ہے انہوں نے حکمراں پارٹی اور اس سے جڑے شخص بغیر ڈر کے سامنہ کر رہا ہے نواب ملک نے کہا کہ مغربی بنگال میں جو ہوا وہ اب مہاراشٹر میں بھی ہو رہا ہے ۔ (انل نریندر)

آئندہ سیاست کی زمین تیار کریں گے نتائج!

دیش کی تیرہ ریاستوں میں لوک سبھا کی تین اور اسمبلی کی29سیٹوں کے آئے نتیجوں نے منگل کو نئے سیاسی اشارے دیئے ہیں ۔ ہماچل پردیش میں کانگریس نے بھاجپا کا صفایا کر دیا ہے تو مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس بنے بھاجپا کو قراری شکست دے دی ہے لوک سبھا کی تین سیٹوں میں سو شینا کانگریس اور بھاجپا کو ایک ایک سیٹ حاصل ہوئی ہے حالانکہ مدھیہ پردیش و آسام میں بھاجپا کو تھوڑی راحت ضرور ملی ہے اگر ہماچل پردیش کو چھوڑ دیا جائے تو سبھی ریاستوں میں حکمراں پارٹیوں کا کار کر دگی بہتر رہی ہے با وجود سیاسی مبصرین کا خیال ہے کئی ریاستوںمیں یہ نتیجے آنے والی سیاست کو متاثر کر سکتے ہیں خاص کر جن ریاستوںمیں مستقبل قریب میں چناو¿ ہونے والے ہیں بھاجپا نہ صرف ہماچل میں لوک سبھا کہ اپنی منڈی سیٹ کانگریس کے ہاتھوں گنوا بیٹھی ہے بلکہ تینوں سیٹوں پر کانگریس کے امیدواروں نے قبضہ جما لیا ہے غور طلب ہے کہ وہاں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ان ضمنی چناو¿ کو سیمی فائنل کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے ہماچل کے یہ نتائج اسلئے بھی خاص و اہم ہیں کہ اس کے پڑوسی ریاستوں میں پنجاب اتراکھنڈ میں اور اتر پردیش میں بھی اگلی سال کی شروع میں وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر نے اس قراری ہار کے لئے اگر چہ مہنگائی کو جواب دہ ٹھہرایا ہے تو اسے بچاو¿ کا بیان نہیں سمجھا جانا چاہئے یہ صحیح ہے مہنگائی لوگوں کو دن بدن زندگی پر اثر ڈالنے لگی ہے اور اس کے لئے سستا پیٹرول یا ڈیزل غضائی چیزوں کے دام یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے ۔ ہماچل میں بھاجپا کی سرکار عام طور پر جس پارٹی کی سرکار ریاست میں ہوتی ہے اسے ایسی شکست کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا ۔ اس لئے ہماچل کی ہار جیت کو آنے والے چناو¿ سے جوڑ کر دیکھا جانے لگا ہے لیکن چناو¿ میں ابھی وقت ہے اور بھاجپا کے پاس حکمت عملی کو نئے سرے سے مقرر کرنے کی کافی وقت ہے راجستھان میں دونوں سیٹیں کانگریس نے جیت ہے جس میں سے ایک سیٹ بھاجپا سے چھینی ہے راجستھان میں گہلوت سرکار کی کام کاج کو لیکر بیشک پارٹی میں سوال اٹھ رہے ہیں با وجود اس جیت میں یہی مانا جائے گا کہ راجستھان کی عوام میں سرکار کی مخالفت بھی اس قدر نہیں بڑھی ہے ان نتیجوں کے بعد بھاجپا کو بھی نئے سرے سے گہلوت سرکار کی گھیرا بندی کے لئے حکمت عملی بنانی ہوگی بنگال میںترنمول کانگریس کا چاروں سیٹوں پر اس میں پانچ سیٹوں پر بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں کا قابض ہونافطری ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ریاستوں میں دونوں پارٹیوں نے ووٹوں پر پکڑ مضبوط کی ہوئی ہے بھاجپا نے مدھیہ پردیش میں تین میں سے دو سیٹیں جیتیں ہیں اس کی ایک سیٹ بڑھی ہے لوک سبھا کی سیٹ بر قرار رکھنے میں کامیابی ملی ہے کرناٹک میں دو سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناو¿ میں بھاجپا حالانکہ کی ہنگل سیٹ کو کانگریس سے ہار گئی ہے لیکن اس نے جے ڈی ایس سے سدنگی سیٹ جیت لی ہے پانچوں ریاستوں کے اسمبلی سیٹوں کے نتائج سے کانگریس بہت خوش ہے پارٹی کو ہماچل راجستھان کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں امید کی کرن دکھائی دی ہے کیونکہ ضمنی چناو¿ میں کئی سیٹیں ایسی تھی جہاں کانگریس اور بھاجپا کا سیدھا مقابلہ تھا کل ملا کر یہ ضمنی چناو¿ آنے والی سیاست کے اشارے دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

04 نومبر 2021

حید رنے القاعدہ کے فارمولے سے کئے بم دھماکے!

2013میں پٹنہ جنگشن اور گاندھی میدان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہنکار ریلی کے دوران ہوئے بم دھماکوں میں پلانٹ کئے گئے بم القاعدہ کے فارمولے پر ہی رانچی کے باشندے دہشت گر د حید ر نے تیار کئے تھے انہیں بموں میں سے ایک نے 27اکتوبر 2013کو پٹنہ جنگشن پر دھماکے سے ایک آتنکی کو موت کے منھ تک پہونچایا پھر گاندھی میدان میں نریندر مودی کی ہونکار ریلی کے دوران دھماکے میں 6لوگوں کی جان گئی اور 89زخمی ہوئے این آئی اے کی جس جانچ نے ان آتنک وادیوں کو سزا تک پہونچایا ہے اس کی چارج شیٹ کے مطابق ملا ، رانچی کا رہنے والا حیدر اس دھماکے کے ماسٹر مائینڈ ہیں اس نے القاعدہ کی آن لائن میگزین انسپائر کو پڑھ کر ایلبو و ٹائمر بم بنانا سیکھا سیکھنے کے بعد اس بم کو گاندھی میدان میں نصب کر دیا اور بم بنانے کا سامان رائے پور ، مرزا پور آلہ آباد اور رانچی سے خریدا تھا بودھ گیا دھماکے کا سلینڈر بم بھی حید رنے بنایا تھا دھماکوں میں قصور وار پائے گئے چار دہشت گردوں کو موت کی سزا سنا کر اس معاملے کو فیصلہ کن مقام تک پہونچانے کے لئے این آئی اے مبار ک باد کی مستحق ہے ایجنسی کی اسپیشل عدالت نے 9قیدیوں میں سے چار کو پھانسی کی سزا سنائی اور دیگر پانچ میں سے دو کو عمر قید اور دو کو دس دس سال اور ایک کو سات سال کی سزا سنائی ہے جبکہ ایک دیگرملزم کو یوپی کے فخر الدین کو بےقصور پاتے ہوئے عدالت نے بری کر دیا وہ آٹھ سال جیل میں بند تھا تب مودی گجرات کے وزیرا علیٰ تھے اوران کی ریلی سے عین پہلے صبح 9.30سے 12.30بجے کے درمیان پٹنہ ریلوے اسٹیشن اور گاندھی میدان سمیت کئی مقامات پر بم دھماکے کئے گئے تھے حالانکہ ان کی ذمہ داری کسی آتنکی تنظیم نے نہیں لی تھی لیکن جانچ ایجنسیوں نے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین سے جڑے ایک ممنوعہ تنظیم سیمی پر شک ظاہر کیا تھا اور یہ سچ ثابت ہوا ریلی میں قریب 2لاکھ لوگ موجود تھے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آتنکی کس طرح دہشت برپا کرنا چاہتے تھے ایک ملزم کو موقع واردات سے یہ گرفتار کر لیا گیا تھا جس سے پوچھ تاچھ میں ساری سازش کا پتہ چلا این آئی اے کے اس فیصلے نے جتادیا ےہ کہ بھارت جیسے جمہوری دیش میں دہشت گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے یہ فیصلہ کٹر پسند آئیڈیلوجی پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے جس کے بہکاوے میں آکر نوجوان یہاں تک نا بالغ بھی دہشت گردی کے راستے پر چل پڑتے ہیں ۔ (انل نریندر)

دھوم دھڑام جگمگاتی ہوئی دیوالی منائیں!

رام نگری تریتا آیگ جیسی سجی ہے اس کی شان کو دیکھتے ہی بنتی ہے چارو طرف خوش و خرم کا ماحول ہے اپنے رام کے سواگت میں رام نگری ایودھیا کا کونا کونا جوش سے بھر پور ہے یوگی سرکار پانچویں دیو دیپ اتسو کی شروعات سوموار سے ہی کر چکی ہے پانچ دن تک چلنے اس دیپ اتسو کا انعقاد 3نومبر سے شروع ہوگیا اس دن اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت گورنر آنندی بین پٹیل و کئی وزراءاور غیر ملکی مہمان شرکت کریں گے اس دن ماں سریو کا ساحل نو لاکھ دیووں سے جگمگائے گا اجودھیا کے نام ایک نیا ورلڈ ریکارڈ بن جائے گا وزیر اعلیٰ انعقاد کے دن پوری رام نگری میں قریب 12الاکھ دیئے جلائیں گے اکیلے رام کی پوڑی پر ہی نو لاکھ دیئے روشن کئے گئے ہیں باقی تین لاکھ رام نگری کے دیگر جگہوں پر مٹھ اور مندروں پر جلایا گیا ہے ہائیوے و ساکیت کالج سے رام کی پوڑی تک کل 20انٹری گیٹوں پر رامائن کالین یگ کو زندگی کے بارے میں دکھایا گیا ہے رامائن پر مبنی 20تورن دوار بھی رام نگری کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے ہیں الیکٹرانک کلش اور جھالر وغیرہ کے ذریعے سے پورے شہر کو روشن کیا گیا ہے دہلی کے وزیر ماحولیات رام گوپال رائے نے اصل پاک آلودگی کے خلاف مہم کے تحت پیر کو اسکولی بچوں و استادوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سبھی سے وعدہ لیا کہ اس بار دھوم دھڑام و آلودگی پر مبنی نہیں ہوگی جگمگاتی ہوئی دیو¿ں کی دیوالی منائیں گے انہوں نے کہا کہ بچے اپنے دوستوں کو بتائیں کی وہ دیا اور دیئے سے دیپاولی ہوتی ہے پٹاخوں سے آلودگی پیدا ہوتی ہے اس لئے آلودگی سے نجات پانی ہے اور دیوالی منانی ہے آلودگی کم کرنے و پٹاخے نہیں لائیں مہم کامیاب بنانے کے لئے وزیر ٹرانسپورٹ نے حلف دلایا کہ پٹاخے جلانے سے ٹھنڈ کے موسم میں جگہ جگہ آگ لگتی ہے کوڑا جلایا جا تا ہے پارکوں میں لوگ پتے جلا دیتے ہیں اس سے نکلنے والا دھواں آب و ہوا کو خراب کر تا ہے آپ سب سے نرم گوئی سے در خواست ہے کہ آپ صرف گرین پٹاخے چلائیں روایتی پٹاخوں کے مقابلے گرین پٹاخوں سے دھواں اور گیس کم نکلتی ہے جس سے 40سے فیصد تک آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے ساتھ ہی پٹاخوں سے آسمان میں دھویں سے آتش بازی کا غبار بن جاتی ہے ۔ آپ سبھی کو دیوالی کی دلی نیک خواہشات اپنا دھیان رکھیں اور بغیر پٹاخوں کے دیوالی منائیں۔ جے شری رام (انل نریندر)

03 نومبر 2021

زہریلے کوبرا سے ڈسوا کر بیوی کو مارنے کا پلان!

پچھلے ہفتے کیرل کے ایک شخص کو اپنی بیوی کو کوبرا سے ڈسو ا کر مارنے کے جرم میں دوہری عمر قید کی سزا دی گئی جو اپنے آپ میں ایک اہم ترین بات ہے پچھلے سال 28اپریل کو ایک شخص سورج کمار نے دنیا کے سب سے زہریلے سانپوں میں سے ایک اسپیکٹکلڈ کوبرا اس نے سات ہزار میں خریدا تھا بھارت میں سانپوں کی تجارت غیر قانونی ہے اس لئے سورج نے جنوبی ریاست کیر ل کے ایک سپیرے سوریس کمار سے چپ چاپ اس کی خریداری کی اور سورج نے ایک پلاسٹک ڈبے میں ہوا آنے جانے کے لئے ایک سوراخ کیا اور کوبرا سانپ کو اس کے اندر رکھا اور گھر لے گیا 13دن بعد اس نے کینٹینر کو ایک بیگ میں رکھا اور تقریباً44کلو میٹر دور اپنی سسرال چلا گیا جہاں اس کی بیوی اترا کو پہلے سے ہی سانپ نے کاٹا تھا وہ ٹھیک ہو رہی تھی سورج اور اترا کی ملاقات دو سال پہلے ایک شادی کرانے والے دلال کے ذریعے ہوئی تھی اترا سورج سے تین سال چھوٹی تھی اور وہ معذوری بیماری سے متاثر تھی جس میں انسان کو نئی چیزیں کھانے میں پریشانی ہوتی ہے اتر ا کا پریوار خوشحال تھا اوروہ بیٹی کی دیکھ بھال کے لئے 800روپئے مہینے دیا کرتے تھے اتر ا کو سانپ ایم ایل وائپر نے کاٹا تھا اور اس کے لئے ان کے پیر کی سرزری ہوئی تھی چھ مئی کی رات کو سورج نے اسے ایک گلاس پھلوں کا جوش دیا اور جس میں بیہوشی کی دوا ملا گئی تھی جب دو ا نے اثر دکھایا تو اترا بیہوش ہوئی تو سورج نے کوبرا کا ڈبا باہر نکالا اور پانچ فٹ لمبے کوبرا سے اپنے سو رہی بیوی کے اوپر چھوڑ دیا لیکن سانپ اس پر حملہ کرنے کے بجائے بھاگ گیا سورج نے بھاگے سانپ کو پھر اٹھایا اور اترا پر پھینک دیا لیکن سانپ پھر سے پھسل گیا سورج نے تیسری بار پھر پکڑا اس باراس نے کوبرا کی گرد ن کو پکڑ کر اترا کے بائیں ہاتھ کی طرف چھوڑ دیا غصائے سانپ نے اترا کو کاٹا جس سے اس کی موت ہوگئی پولس نے 24مئی کوسورج کو اپنی بیوی کی غیر فطری موت کے معاملے میں گرفتار کر لیا اور 78دنوں کی جانچ کے بعد 1ہزار سے زائد صفحات پر مبنی چارج شیٹ کے ساتھ مقدمہ شروع ہوا تفتیش کرنے والوں نے کہا کہ سوریس نے رسیل سانپ بھی خریدا تھا جس نے اترا کو مارنے سے کچھ مہینہ پہلے کاٹا تھا ۔ سانپ پکڑنے والے سوریس نے قبول کیا کہ اس نے ہی دونوں سانپ سورج کو بیچے تھے۔ (انل نریندر)

فوجی تعطل کے درمیان نیاسرحد اراضی قانون !

اپنی فروغ پسند پالیسیوں سے بعض آنے سے کیسے بعض رہ جانے کے بجائے تین پڑوسیوں کو پریشان کرنے کی پالیسی پر پوری طرح سے آگے بڑھ رہا ہے اسی سلسلے میں وہ نیا سرحداراضی قانون (لینڈ باو¿نڈری قانون )لیکر آیا ہے جو پڑوسی ممالک کے ساتھ ترقی پذیر علاقوں پر مرکوز ہے ، بھارت نے چین کی اس حرکت پر سخت اعتراض جتایا ہے اس قانون سے پہلی نظر میں ہی صاف ہو جاتا ہے کہ وہ جس زمین پر قدم رکھے گا وہ اسی کی ہو جائے گی یہ نیا قانون یکم جنوری 2022سے نافذ ہو جائے گا ۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ چین نے یہ پیترا ایسے وقت میں چلا ہے جب بھارت کے ساتھ اس کا جھگڑا چل رہا ہے اسے لیکر اکثر ٹکراو¿ اور کشیدہ حالات بنتے جا رہے ہیں چین کا دعویٰ ہے اپنی سرحد سے لگتے چودہ ملکوں کے ساتھ سر حدی تنازع سلجھا لیا ہے ایسے میں بھارت اور بھوٹا ہی بچے ہیں جن کے ساتھ تنازع کا حل نکالا جانا ہے ۔ غور طلب ہے کہ بھوٹا ن کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ چین کا سرحدی تنازع زیادہ پیچیدہ ہے وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ٹکراو¿ سے اسے الجھا دیا گیا ہے ایسے میں نیا قانون کا استعمال کیسے اور کب کرے گا اس میں کوئی شبہ نہیں ہو نا چاہئے بھارت نے بدھ کو کہا کہ چین کو سر حدی متنازع علاقوں میں یکطرفہ تبدیلی کرنے کے لئے اپنے نئے سر حدی قانون کا استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ چین نے 23اکتوبر کو یہ نیا قانون پاس کیا ہے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ اراضی سر حد معاملوں پر چین دوسرے ملکوں کے ساتھ ہوئے یا مشترکہ طور سے منظور کئے گئے معاہدوں کی تعمیل کرے گا ۔ اس میں سر حدی علاقوں میں ضلعوں کی دوبارہ تشکیل کی سہولت ہے یہی بھارت کے اعتراض کی اہم وجہ ہے بھارت اور چین نے سر حد سے متعلق سوالوں کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکالا ہے اور دونوں فریقین نے یکسانیت پر مبنی غو ر خوض کی بنیاد پر منصفانہ طور پر دونوں فریق نے قابل قبول حل نکالنے پر اتفاق رائے اظہار کیا ہے بھارت کی اصل تشویش لائن آف کنٹرول کے لداخ سیکٹر میں فوجی تعطل کے پس منظر میں ہے خیال رہے کہ اس سے پہلے وہ اسی سال کی شروعات میں سمندی سر حد کو لیکر بھی ایسا ہی دعویٰ کرنے والا ساحلی نگرانی قانون پاس کر چکا ہے ۔ بتایا تو یہ جا رہا ہے کہ اراضی سے متعلق سرحدی قانون افغانستان میں طالبان کے کنٹرول اور کوویڈ سے پیدا حالات کو ذہن میں رکھ کر لایا گیا ہے کہ اندیشہ جتایا جا رہا ہے کہ افغانستان سے مسلم شدت پسند سر حد پار کرکے جن شیانگ صوبے میں داخل ہو سکتے ہیں اور ایغور مسلمانوں سے مل سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ چین کی چودہ ممالک کے ساتھ 22ہزار کلومیٹر لمبی سر حد سے جس سے بارہ دیشوں کے ساتھ سر حد سے متعلق مسئلے سلجھانے کے دعویٰ کئے گئے ہیں چین کے اراضی سر حد قانون سے متعلق سوال اٹھ رہے ہیں کیونکہ یہ قانون ایسے وقت آیا ہے کہ جب مشرقی لداخ میں کنٹرول لائن پر تعطل قائم ہے اور حال ہی میں اس نے ایک بار پھر اروناچل پردیش کا اشو اٹھانے کی بھی کوشش کی تھی ۔بھارت اپنے علاقائی سالمیت اور سرداری کو لیکر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا ، لیکن اس کے ساتھ ہی چین کی ان نئی سر گرمیوں پر گہری نظر رکھنی ہوگی دوستانہ ماحول کے لئے قانون کی نہیں بلکہ اچھے پڑوسی اور میل جول کے جذبے کی ضرورت ہے جو اس میں نہ پہلے کمی رہی اور اب دکھائی دے رہی ہے ۔ (انل نریندر)

بڑھتی مہنگائی غریبوں کی کمر توڑ رہی ہے !

مہنگائی آسمان چھو رہ ہے تعجب اور دکھ کی با ت یہ ہے کہ بڑھتی مہنگائی سے جنتا پریشان ہے اور کوئی سننے والا نہیں ہے ۔ سرکار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے لگتا ہے کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔ عام جنتا میں ہائے توبہ مچی ہوئی ہے دو وقت کی روٹی بھی غریب کو نصیب نہیں ہو رہی ہے رہی بات دیوالی کی تو دیوالی سے عین پہلے چودہ کلو والے سلینڈر کے دام 216روپئے بڑھا دیئے گئے ہیں اب دہلی میں اس کا ریٹ 2ہزار روپئے ہوگئے ہیں ۔ خوردنی تیل کے بھی دام بڑھے ہوئے ہیں ۔ پیٹرول ڈیزل کی شرحوں میں اضافہ اس ماہ بھی جا ری ہے اب دونوں کے دام 35پیسے فی لیٹر دونوں میں بڑھے ہیں دہلی میں پیٹرول 109.69پیسے ڈیزل 98.42روپئے فی لیٹر ہو گیا ہے اس اضافے کے سبب سبزیوں اور دیگر غذائی اجناس کے دام چھو رہے ہیں گاڑیوں کے مال بھاڑے اور مسافر کرائے میں بھی تیزی آرہی ہے 31دنوں میں 24 مرتبہ پیڑول ڈیزل کے دام میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ ایک رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں کچے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے تیل کی سپلائی مضبوط کرنے کےلئے چین نے تو دو گیسو لین اور ڈیزل کے ذخیرے کھولے ہیں اس سے بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام میں گراوٹ آسکتی ہے اس سے اقتدار میں بیٹھے لیڈروں کو فرق نہیں پڑتا غیرب اور فاقہ کشی کے لوگوں کی حالت خراب ہے پیاز ٹماٹر کے دام تک بڑھ گئے ہیں اس دوران خبر آئی ہے کہ سرکار کی پیٹرولیم مصنوعات پر بھی اکسائز ٹیکس کی شکل میں رواں مالی سال کی پہلی چھ ماہی میں 43ہزار کروڑ روپئے کی زیادہ کی کمائی ہوئی ہے اس میعاد میں کل ایکسائز ٹیکس ذخیرہ میں 33فیصدی بڑھ کر 1.71لاکھ کروڑ روپئے تک پہونچ گیا ہے ۔ وبا سے پہلے یعنی 2019میں یہ 93.930کروڑ روپئے سے 79فیصدی زیادہ ہے 2020-21کے اپریل ۔ ستمبر میں کل ایکسائز ٹیکس ذخیرہ 1.28لاکھ روپئے کا رہا ہے ۔ سرکاری تجوری بھرتے جانے کے باوجود لوگوں کو راحت نہیں ہے ۔ چاہے مرکزی سرکار ہو چاہے ریاستی سرکاریں ہوں سبھی نے پیٹرول ڈیزل مصنوعات کو جنتا کے قیمت پر اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ مدھیہ پردیش کے پنچایت و گرامین وکاس منتری مہیندر سنگھ سسودیا نے کہا کہ اگر جنتا کی آمدنی بڑھ رہی ہے تو اسے تھوڑی مہنگائی بھی قبول کرنی پڑے گی ساتھ ہی وزیر نے کہا کہ سرکار شہریوں کو ہر چیز مفت نہیں دے سکتی وزیر سے پوچھا گیا کہ پیڑولیم مصنوعات کے بڑھتے داموں کی مار جھیل رہی عوام کو راحت دینے کے لئے کیا ریاستی حکومت ان پر ویٹ نہیں ہٹا سکتی ؟اس پر انہوں نے کہا کہ اب سرکار شہریوں کو مفت میں ہر چیز نہیں دے سکتی ۔ پیڑولیم مصنوعات پر ٹیکس وصولی سے سرکار کو محصول ملتا ہے اسی محصول سے ترقی اور مفاد عامہ کی سرکاری اسکیمیں چلتی ہے ۔ جنتا گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے اور منتری بھی بڑھتی قیمتوں کودلائل پر مبنی بتا رہے ہیں؟ (انل نریندر)

02 نومبر 2021

سعودی شاہی خاندان کا سرمایہ لگانے والا شخص یاسر لا پتہ!

سعودی شاہی خاندان کی پوری دنیا میں کئے گئے سرمایہ کاری کی نگرانی کرنے والے شخص یاسر الریان مشتبہ طریقہ سے غائب ہونے سے سنسنی پھیل گئی ہے ۔یاسر کے کاندھوں پر راج شاہی کے قریب 450 ارب ڈالر قریب 33.6 لاکھ کروڑ روپے ) کے پبلک سرمایہ کاری فنڈ کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں اور ان کی ذمہ داری سعودی حکومت کی طرف سے دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کرنا ہے ۔یاسر اپنی سرکار کی طرف سے ریاض میں بلائی گئی سالانہ انویسٹمنٹ کانفرنس میزبانی کرنی تھی جس میں دنیا بھر سے بری بڑی کمپنیوں کے بڑے عہدیدار پہونچے تھے لیکن نہ تو یاسر اس کانفرنس میں اپنا افتتاحی سندیش دینے پہونچے ۔اور پینل مباحثہ میں بھی شرکت نہیں کی ۔یاسر کی غیر موجودگی کے سبب ان سرمایہ کاروں میں کھلبلی مچ گئی ہے جنہوں نے سعودی عرب میں پیسہ لگایا ہوا ہے ۔ماہرین کے مطابق ان کمپنیوں میں پہلے سے ہی بے چینی ہے کہ سعودی شاہی خاندان اپنے پبلک فنڈ کو اپنے قواعد سے چلاتا ہے اس میں شفافیت رکھنا اس کی ترجیح میں نہیں رہا ۔ (انل نریندر)

خود ہی چاروں طرف سے گھر گئے سمیر وانکھیڑے!

نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی )ممبئی زون کے انچارج سمیر وانکھیڑے خود ہی کئی طر ف سے گھر گئے ہیں اس چنگل سے نکلنا آسان نہیں ہوگا خاص کر یہ دیکھتے ہوئے کہ مہاراشٹر کی مہا اگھاڑی سرکار ہے اور اس کے ایک نواب ملک نے وانکھیڑے پر الزامات کی بوچھار کررکھی ہے ۔نواب ملک نئے نئے الزام لگا رہے ہیں ۔ممبئی میں کیس وانکھیڑے کو کافی پریشان کر سکتے ہیں اب تو ان کے اپنے محکمہ کی وجلنس جانچ بھی ہو رہی ہے ۔آرین کیس کے گواہ کی شکایت پر پوری جانچ ہوگی ۔اس درمیان گواہ پ گوسوابی پونے میں گرفتار ہو گیا ہے ۔دیگر گواہ پربھاکر ساحل کی طرح اب گوسابی پہلے کے بیان سے پلٹتا ہے یا قسم کھاتا ہے کیا وانکھیرے پر دباو¿ بنانے میں بیان لینے یا کورے کاغذ پر دستخط لینے کا کوئی بیان کسی دباو¿ یا پولیس جانچ کیس سے بچنے کے لئے ہوتا ہے ۔واقف کار مانتے ہیں کہ اگر گوسابی ہوسٹائل ہو جاتا ہے ۔تو نہ صرف وانکھیڑے کی مصیب بڑھ سکتی ہے بلکہ این سی بی کے کروز کیس پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اس نے ویڈیو جاری کر سائل پر الزام لگائے ہیں کہ وہ جھونٹ بول رہا ہے اور وہ دو اکتوبر کی رات کروز کیس کے بعدسائل کے فون چیٹ اور دیگر طرح کی جانچ کی جائے لیکن جانچ کون کرے گا ؟ کیا این سی بی کرے گی ۔اور اتنے تنازعہ بڑھنے کے بعد اس جانچ کا نتیجہ کتنا قابل قبول ہوگا ۔وانکھیڑے پر ایک کیس فرضی ذات سرٹیفکیٹ کا بھی ہے آنے والے وقت میں کیس درج ہو سکتا ہے پھر وانکھیڑے کی بیوی کرانتی نے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خط لکھ کر مددمانگی ہے ۔ادھر مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک کے ذریعے ٹارچر کئے جانے کی شکایت کی ہے ۔اور اس مصیب سے نکلنے کے لئے وانکھیڑے ہو سکتا ہے قانونی راہ تلاشیں ۔فی الحال وانکھیڑے بہت پریشان ہیں اور عدالت بھی گئے ہیں ۔ادھر ان کے خلاف معاملہ بڑھتا دیکھ مہاراشٹر سرکار کے وکیل نے یقین دلایا ہے کہ تین کام کاجی دنوں کے نوٹس دینے کے بعد بھی ان کی گرفتاری نہیں ہوگی ۔بہرحال انہوں نے اپنے معاملے کی سی بی آئی کی مانگ کی ہے ۔وانکھیڑے نے جمعرات کو ممبئی ہائی کورٹ کا رخ کیا اور گرفتاری سے انترم راحت دینے کی مانگ کی ہے ۔ساتھ ہی جانچ کے لئے ممبئی پولیس کی چار نفری ٹیم تشکیل کئے جانے کے فیصلے کے خلاف اپنی عرضی پر فوری سماعت کی بھی مانگ کی تھی ۔مہاراشٹر سرکار نے شروعات میں ان کی عرضی کی مخالفت کی لیکن بعد میں سرکاری وکیل اروناپائی نے کورٹ کو یقین دلایا کہ وہ تین دن کا نوٹس دئیے بغیر ان کی گرفتاری نہیں ہوگی ۔اس کے بعد کورٹ نے وانکھیڑے کی عرضی کو مٹا دیا ۔اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بالی وڈ میں وانکھیڑے کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے اور ان کی پوری مدد نواب ملک کررہے ہیں۔ (انل نریندر)

مکھیہ منتری کھٹر کی ایمانداری پر مودی کی مہر!

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ مجھے ہریانہ میں لمبے وقت تک کام کرنے کا موقع ملا ہے اور بہت سی حکومتوں کو میں نے قریب سے کام کرتے دیکھا ہے لیکن ہریانہ کو بہت سی دہائیوں میں منوہر لعل کھٹر کی قیادت میں اصل طور سے ایماندار سرکار ملی ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی حال ہی میں جھجر ضلع کے بڑسا زونل استتھی نینشل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں نائب بنائے گئے انفوسز فاو¿نڈیشن سائنس سدن کا افتتاح پر منعقد پروگراموں سے خطاب کرر ہے تھے ۔ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سے وگیان سدن کے ذریعے سے کئے گئے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم نے ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لعل کھٹر کی ایماندار کام کے طریقہ پر مہر لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے ہریانہ سرکار ہر وقت ریاست کی بھلائی کے لئے سوچتی ہے انہوں نے ہریانہ کی ترقی کا تجزیہ کیا تو پچھلے پانچ دہائیوں کی سب سے عمدہ اور سب سے تعمیراتی طریقہ سے کام کرنے والی منوہر سرکار ہریانہ کو ملی ہے ۔ان کی قیادت صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں منوہر لعل جی کو لمبے عرصہ سے جانتا ہوں لیکن وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کا جوہر اور بھی نکھر آیا ہے ۔جس طرح سے ہریانہ سرکار ان کی قیادت میں ایجاداتی کام کررہی ہے کئی بار اس طریقہ کار کو مرکزی سرکار بھی اپناتی رہی ہے ۔یہی نہیں بلکہ دیگر ریاستوں کے لئے بھی منوہر لعل کی قیادت میں ہریانہ مشعل راہ کا ذریعہ بن گیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا میں کھلے طور پر وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں جس طرح سے وہ کام کررہے ہیں وہ ہریانہ کی خوشحال مستقبل کی بنیاد میں سنگ میل ثابت ہوگا ۔انہوں نے فخر محسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہریانہ ریاست آج منوہر لعل کھٹر کی قیادت میں دیش کے روشن مستقل کی طاقت بن رہا ہے ۔وزیراعظم نے توانائی سے بھرپور تلقین ملنے کے بعد وزیراعلیٰ منوہر لعل کھٹر نے ہاتھ جوڑ کر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا جو بھی مرکزی سرکار و وزیراعظم کی طرف سے ذمہ داری ہریانہ سرکار کی لگائی جائے گی اس بھروسہ پر ریاستی حکومت کھری اترے گی ۔ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لعل کھٹر وزیراعظم نریندر مودی کے دل کے قریب مانے جاتے ہیں ۔اور ان کی نظر میں منوہر لعل نہ صرف بہتر طریقہ سے ہریانہ کی سرکار چلا رہے ہیں بلکہ ان کے ذریعے شروع کر دہ اسکیموں سے بھی وہ کافی خوش ہیں ۔مسٹرلعل نے اپنے عہد میں نہ صرف دو درجن اسکیموں کا آغاز کیا بلکہ آدھا درجن سے بھی زیادہ اایسی اسکیمیں ہیں جنہیں مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ مختلف ریاستی حکومتوں نے بھی اپنے یہاں لاگو کیا ہے ۔ہریانہ کی سرکار سال 2019 میں 27 اکتوبر کو بنی تھی ۔اس سیاسی اشتراک میں دو سال پورے کرتے ہوئے بھاجپا نے ہریانہ میں اپنے اقتدار کے سات سال پورے کر لئے ہیں ۔کھٹر سرکار کے سات سال کے عہد پر نظر ڈالی جائے تو قریب 150 ایسے کام دکھائی دیتے ہیں جو اس سرکار کی دوسری سرکاروں سے الگ کرتے ہیں ۔ہم اس موقع پر شری منوہر لعل کھٹر کو مبارکباد دیتے ہیں ۔اور امید کرتے ہیں کہ ان کی قیادت میں مفاد عامہ کی اسکیمیں جاری رہیں گی اور ہریانہ کی عوام کی ترقی ہوگی ۔ (انل نریندر)

31 اکتوبر 2021

کیپٹن صاحب سے میرے روح کے رشتے ہیں !

پاکستان صحافی عروشہ عالم کا نام پنجاب کی سیاست میں ہنگامہ مچائے ہوئے ہے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے ساتھ ان کے قریبی رشتوں کو لیکر ایک گروپ مسلسل حملہ آور ہے جبکہ کیپٹن عروشہ کے ساتھ کانگریس کے بڑے نیتاو¿ں کی تصویریں جاری کر جوابی حملہ کر رہے ہیں ۔پنجاب کانگریس کی سیاست میں اس طرح سے گھسیٹے جانے سے مایوس عروشہ نے بھی اپنا موقف رکھنا شروع کر دیا ہے میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں امریندو کو اپنا قریبی دوست بتاتے ہوئے کہا کہ میرا ان سے روح کا رشتہ ہے عروشہ کہتی ہیں 2004میں میری کیپٹن صاحب سے میری پہلی بار ملاقات ہوئی تھی تب میں 50برس کی عمر کی تھی اور 66برس کے تھے اس عمر میں آپ پریمی نہیں تلاشتے اس لئے ہمارے رشتے میں رومانس جیسا کچھ تلاشنا بیکار ہے ہاں ہمارا دانشورانہ فتح پر ایک جیسا تعلق ہے جس کے سبب ہم دوست بنے کیپٹن صاحب نے پوری دنیا میں صرف مجھے اپنی دوستی کے لائق سمجھا اس کا مجھے فخر ہے جب ہم ملے تو ہمیں ایک دوسرے کی کچھ باتیں پسند آئیں جیسے کہ مجھے ان کی باغ بانی اور کھانا بنانے کا فن جبکہ انہیں میری تحریریں ہم ایک دوسرے کو سول میٹ کہہ سکتے ہیں میں صرف کیپٹن صاحب کی ہی نہیں بلکہ ان کی پریوار کی بھی دوست ہوں ان کی اہلیہ مہار انی صاحبہ چرم جیت کور اور ان کی بہنیں و بہنوئی و پورہ خاندان سب میرے دوست ہیں ان سے دوستی کے بعد 16سال سے میں بھارت آرہی ہوں لیکن پچھلے ایک سال سے میں پاکستان میں ہی ہوں نوجوت سدھو کی بیوی نوجوت کور نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب پولس والوں کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں عروشہ نے جم کر پیسہ کمایا اور وہ پیسہ لیکر پاکستان بھاگ گئی ۔ (انل نریندر)

26دن بعد پوری ہوئی شارخ کی منت!

نشیلی چیزیں رکھنے اور استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار ادا کار شارخ خاں کے بیٹے آرین خان کی آخر کار بمبئی ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ۔ 26دن تک حراست چلی اوردو دن تک چلی بحث کے بعد یہ فیصلہ آیا بامبے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے جمعرا ت کے روز این سی بی کی جانب سے پیش ہوئے اڈیشنل سالی سیٹر جنرل انل سنگھ کی دلیلیں سننے کے بعد آرین خان اوردو دیگر کو ضمانت دے دی این سی بی کے وکیل نے عدالت کے سوالوں میں الجھ گئے اور اسی کے بعد آرین کی ضمانت کا راستہ صاف ہوگیا این سی بی کی جانب سے پیش وکیل انل سنگھ نے 2.58منٹ پر دلیلیں شروع کیں اور 4.10بجے اپنی بات پوری کر لی سماعت کے دوران جسٹس سامرے نے جاننا چاہا کہ کس بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ آرین نے کمرشیل یاترا میں نشیلی چیز کا سودا کیا اس پر انل سنگھ نے کہا کہ آرین نے سودا کرنے کی کوشش کی واٹس ایپ چیٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملزم کے فون سے الیکٹرانک ثبوت اکٹھے کئے گئے این سی بی نے ضمانت عرضیوں کی مخالفت کی اس معاملے میں سازش و جرائم کے لئے اکسانے کے الزام لگتے ہیں اس پر آرین کے وکیل مک روہتگی نے کہا کہ ساز ش کا مطلب ہے کہ وقت اور منشا سے ملاقات ہوئی ہو آرین ارباض کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا اس لئے سازش ظاہرہونے والا کچھ نہیں ہے ۔ این سی بی پر بھاری پڑے بچاو¿ فریق کی یہ دلیلیں ۔ : آرین کے پاس کوئی ڈرگس نہیں تھی نہ ہی کچھ بر آمد ہوا نہ ہی اس کو استعمال کرتے پائے گئے تھے۔ عرباض کے جوتے سے ڈرگس ملی تھی لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ آرین کے استعمال کے لئے یا انہیں اس کی جانکاری تھی اس لئے قیاس آرائی نہیں کر سکتے اس طرح کے چھوٹے کیس میں پہلے نوٹس دیا جاتا ہے پھر پوچھ تاچھ ہوتی ہے ۔ پہلے سے ہی گرفتاری ہوئی ہے ، یہ تو غلط ہے ۔ آرین خاں کے خلاف پورہ کیس این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت سیکشن 67کے تحت اپنی مرضی سے دیئے گئے بیان پر مبنی ہے ۔ طوفان سنگھ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کر سکتے ۔ آرین کی چیٹ میں کروز پارٹی کا کوئی ذکر نہیں ہے چیٹ کی بنیاد پر کوئی سازش کی بات ثابت نہیں ہوتی ۔ آرین کا فون موبائل نہیں ضبط کیا گیا ہے پنچ نامے میں بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے ان کا میڈیکل بھی نہیں کروایا گیا ۔ آرین کروز پارٹی میں کسٹمر نہیں تھے ۔ انہیں بطور گیسٹ وہاں بلایا گیا تھا ۔ آرین خان اور سپلائر امت کمار کی چیٹ پوکر گیم کے لیے تھی ڈرگس کے لئے نہیں تھی اور یہ چیٹ بھی ایک ڈیڑھ سال پرانی ہے ویسے بھی امت تو کروز پر تھا ہی نہیں مطلب اس نے آرین کے ساتھ کوئی پلان کیا ہے ایسی کوئی نظیر نہیں ملی اگر آرین نے ڈرگس لی تھی تو اس کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک سال کی قید کی سزا ہے اس میں اس کو ری ہیبلی ٹیشن سینٹر بھیجنے کی ضرورت ہے ۔ کروز میں 1300لوگ موجود تھے ارباض اور امت کے علاوہ دوسرے کسی کو آرین جانتا نہیں تھا ایسا کچھ بھی این سی بی نے نہیں بتایا ارباض کے علاوہ باقی گرفتار لوگوں کو بھی آرین نہیں جانتا پھر سازش کیسے ہوئی اگر سازش کی بات کرتے ہیں تو آرین کو پرتیک گابا اور مانو نے بلایاتھا اور کروز پر ان کی گرفتاری نہیں کی گئی آرین کے بامبے میں معاملے میں این سی بی خود سوالوں کے گھیرے آگئی ہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...