Translater
19 دسمبر 2020
کورونا کے بعد ہو رہا ہے خطرناک بلیک فنگس!
کورونا سے ٹھیک ہوئے مریضوں میں خطرناک فنگس مکومائکوسز کا انفیکشن دیکھاجا رہا ہے ا سے بلیک فنگس بھی کہا جارہا ہے ۔پچھلے دو ہفتہ میں گنگا رام اسپتال میں انفیکشن سے متاثر پندر ہ سے اٹھارہ مریض پہونچ چکے ہیں اس سے مریضوں کے آنکھ کی روشنی جار ہی ہے ناک و جبڑے خراب ہورہے ہیں اور اس سے پانچ مریضوں کی مو ت بھی ہو چکی ہے اسپتال کے ڈاکٹرس کا کہنا ہے بیماری سے موت شرح قریب پچاس فیصدی ہے ۔سرجن ڈاکٹر منیش منجال کاکہناہے اعضا ءٹرانسپلانٹ کے مریضوں شوگر کے مریضوں اور لمبے وقت تک اسی دوا کا استعمال کرنے والے لوگوں میں اس مرض کا اندیشہ رہتا ہے کیوں کہ یہ ان کی جسمانی طاقت کو کمزور کرتی ہے پہلے ہر سال آٹھ سے دس مریض دیکھتے جاتے تھے لیکن اب ہفتہ میں پندرہ سے اٹھارہ مریض آرہے ہیں ۔حیران کرنے والی بات یہ ہے ان سبھی کو پہلے کورونا ہوا تھا ابھی مغربی دہلی کے تاجر میں بھی فنگس انفیکشن ملا ہے ۔سات دنوں کے بعد رپورٹ نگیٹو آنے پر انہیں چھٹی دے دی گئی تھی لیکن کورونا کے بعد ناک کے بائیں حصہ میں رکاوٹ پیدا ہونے لگی اس کے بعد آنکھوں میں سوجن آگئی جس پر اینٹک بایوٹک دواو¿ں کا کوئی اثرنہیں ہوا اور آہستہ آہستہ ان کی آنکھوں کی روشنی کم ہوتی چلی گئی ۔کورونا سے ٹھیک ہونے کے بعد بھی مریضوں کو بہت احتیاط برتنی ہوتی ہے یہ نئی نئی بیماریاں اس منہوس کورونا کی وجہ سے آتی جارہی ہیں۔
(انل نریندر)
ہائی سکورٹی رجسٹریشن پلیٹ اور کلر کوٹڈ اسٹیکر کیا ہے ؟
دہلی ٹرانسپورٹ محکمہ نے منگل کے روز ایم ایس آر بی جسے ہائی سکورٹی نمبر پلیٹ بھی کہتے ہیں اس کے نا ہونے اور کلر کوٹڈ فیو اسٹیکر کے نا ہونے پر دہلی کی کاروں پر چالان شروع کردیا ہے ۔پہلے دن دو سو سے زیادہ کار مالکوں کا چالان کیا گیا ۔ابھی دہلی میں فی الحال رجسٹرڈ کاروں کے چالان ہو رہے ہیں اور د و پہیا گاڑیوں اور دہلی کی نمبر کی گاڑیوں کو لیکر بھی کچھ وقت کے لئے چھوٹ دی گئی ہے ترمیم موٹر ایکٹ کے مطابق ایم ایس آر پی نا ہونے پر دس ہزار روپے تک کا چالان ہو سکتا ہے جو ابھی 55سو روپے ہے ۔دہلی میں رجسٹرڈ ان گاڑیوں کے لئے یہ ہی چالان رقم طے کی گئی ہے جن پر کلر کوٹڈ فیو ل اسٹیکر نہیں ہوگا ۔دہلی بی جے پی نے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل کو خط لکھ کر چھ مہینہ کے لئے چالان کاروائی کو ملتوی کرنے کی مانگ کی ہے دہلی کے ٹرانسپورٹ محکمہ کی اس کاروائی سے گاڑی مالکوں میں گھبراہٹ ہے کیوں کہ ابھی بیس لاکھ دوپہیا اور چالیس لاکھ کاروں کے پاس ایم ایس آر پی نہیں ہے ۔آخر کیا ہے ایم ایس آر پی ؟ حال ہیں میں سڑک ٹرانسپورٹ و نیشنل ہائی وے وزارت نے اپریل 2019سے پہلے خریدی گئی سبھی گاڑیوں پر ہائی سکیورٹی رجسٹریشن پلیٹ کا ہونا ضرور ی کیا تھا اس اسکیم کی شروعات مارچ 2008میں کی گئی تھی اور گاڑیوں کو یہ نمبر پلیٹ لگوانے کے لئے دو سال کا وقت دیا گیا تھا لیکن آج بھی دیش میں ایم ایس آر پی کے بنا دھرللے سے گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں اس کا خاص مقصد گاڑیوں کی چوری اور دھوکے بازی کو بند کرنا ہے اگر ایک گاڑی میں جب یونک ایم ایس آر پی لگائی جاتی ہے تو اس کی اور گاڑی کی جانکاری ایک پختہ تال میل بناتی ہے اور اس کے علاوہ پرانے نمبر پلیٹ میں آرام سے دھوکہ دھڑی ہو سکتی ہے اسے بدلا جاسکتا ہے ۔یہ نمبر پلیٹ صرف دو نان -رییوزایبل لاک سے ہی لگائی جاتی ہے اگر یہ لاک ٹوٹ جاتے ہیں تو صاف ہو جاتا ہے کہ نمبر پلیٹ سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس پر کروسیم دھات میں نیلے رنگ کا اشوک چکر کا ہولوگرام ہوتا ہے جو بیس ملی میٹر کی بنیاد کا ہوتا ہے اس پلیٹ کے نیچے کی بائیں طرف دس نمبروں کا خا ص پن نمبر ہوتا جسے لیئر سے بنایا جاتا ہے جو گاڑی کی سکورٹی کو پختہ کر دیتا ہے ۔نمبر پلیٹ پر لکھا گاڑی کا نمبر بھی عام نہیں ہوتا بلکہ وہ ابھرے ہوئے لفظ میں ہوتا ہے ۔45ڈگری کے کون پر دکھائی دینے پر ان کے اوپر انڈین لکھا نظر آتا ہے ایم ایس آرپی اس لئے بھی فائدے مند ہے کیوں کہ کار کا انجن نمبر اور کیسز نمبر اس کے سنٹرلائز ڈیٹا بیس میں سیو رہتا ہے ۔محفوظ رہتا ہے اس ڈیٹا اور دس نمبروں کے پن کے ذریعے کسی چوری ہوئی کار کو پہچانا جاسکتا ہے گاڑی میں کس طرح کا فیول ایندھن استعمال ہوتا ہے اس کا پتہ لگانے کے لئے کلر کوٹڈ فیول اسٹیکر کو دہلی ٹرانسپورٹ محکمہ نے ضروری کر دیا ہے جو گاڑیاں پٹرول یا سی این جی سے چلتی ہیں اس کے لئے نیلا اسٹیکر اور جو ڈیجل سے چلتی ہیں اس کے لئے نارنگی رنگ کا اسٹیکر طے کیا گیاہے اس فیصلے پر عمل کردیاگیا ہے سرکار کو چاہیے کہ پہلے اس کی پبلک سٹی کرے تاکہ گاڑی چلانے والوں کو اس کی جانکاری ہو اچانک لاگو فیصلے سے کار چلانے والوں میں دہشت پھیل گئی ہے ۔
(انل نریندر )
پرسنل لاءمیں ہم دخل نہیں دے سکتے !
سپریم کورٹ ان دو مفاد عامہ کی عرضیوں پر غور کرنے کیلئے تیار ہوگیا ہے جن میں سبھی شہریوں کے لئے طلاق اور گزارا بھتہ اور یکسیاں بنیاد اور آئین کی مانگ کی گئی ہے چیف جسٹس ایس اے بووڑے ، جسٹس اے ایس بوپنہ اور جسٹس شیامہ سبرا منیم کی بنچ نے بدھ کو بھاجپا نیتا اوروکیل اشونی اپادھیائے کی دائر عرضیوں پر مرکز کو نوٹس جاری کرکے جواب داخل ہونے کو کہا ہے ۔غور طلب ہے اشونی اپادھیائے ایک دیگر نے مانگ کی ہے سبھی مذاہب میں گزارا بھتے کے لئے آئین کے جذبے کے مطابق ایک یکساں ضابطہ طے کئے جائیں ۔عرضی گزاروں کا کہنا ہے ابھی ہندو ، بودھ ،سکھ اور جین فرقہ کے لوگوں کو ہندو میرج ایکٹ کے تحت طلاق ملتی ہے جبکہ مسلم ایسائیوں اور پارسیوں کے اپنے اپنے پرسنل لاءہیں ۔جس کے چلتے نابالغی ، نامردی اور کم عمر میں شادی جیسی بنیاد جو ہندو میرج ایکٹ کے تحت طلاق کی بنیاد بنتے ہیں وہ پرسنل لاءمیں نہیں ہیں ۔عرضی گزار اشونی اپادھیائے کی جانب سے سینئر وکیل پنکی آنند نے دلیلیں دیں کہ بین الاقوامی معاہدہ اور آئین کے آرٹیکل 4915کے تحت ملے حقوق کے تئیں پرسنل لاءامتیاز پر مبنی ہے ۔سماعت کے دوران عرضی گزار کی طرف سے سینئر وکیل پنکی آنند اور مناکشی اروڑا سے کہا کہ آپ چاہتی ہیں کہ پرسنل لاءکو ختم کردیا جائے ۔بغیر پرسنل لاءمیں دخل دئیے ہم اس رواج کو کیسے ختم کر سکتے ہیں ؟ ان سبھی معاملوں پر غورکرنے کا مطلب پر سنل لاءکو مسترد کرنا ہے ؟ وہیں مناکشی اروڑا نے کہا کہ آئین کے تحت ریاستوں کو کچھ اختیارات و سمان یقنی کرنا ہوتا ہے اگر کوئی بھی دھارمک روایت بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتی ہے تو ریاست کو اس میں ضرور دخل دینا چاہیے ۔کس طرح سے مسلم خواتین کو گزارا بھتہ معاملے میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں صرف عدت تک گزارا بھتہ دیاجاتا ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا مسئلہ یہ ہے کہ کس رواج کو ایک برابر طریقہ سے اپنایا جانا چاہیے ؟ عدالت شروع میں ان عرضیوں پر غور کرنے کی خواہش مند نہیں تھی کیوں کہ معاملہ پرسنل لاءسے جڑا تھا حالانکہ بعد میں عدالت نے عرضیوں پر مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کیا لیکن یہ بھی کہا کہ وہ احتیاط کے ساتھ اس پر غور کرےگا ۔سماعت کے دوران بنچ نے کہا کورٹ سے پرسنل لاءختم کرنے کی مانگ کررہے ہیں آپ نے سیدھے طور پر یہ مانگ نہیں کی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہی نکلتا ہے اس پر پنکی آنند نے کہا کہ عدالت نے اس سے پہلے آرٹیکل 142کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سائرہ بانو (تین طلاق کیس)کے فیصلے میں کہا تھا کہ جب تک قانون بنتا ہے کورٹ کی ہدایت لاگو رہیں گے جسٹس بوگڑے نے کہا کہ آئینی کمیشن کو معاملہ سونپنے کی مانگ پر غور کرسکتا ہے ۔
(انل نریندر)
18 دسمبر 2020
کڑاکے کی سردی کےلئے تیار ہوجائیں!
راجدھانی دہلی میں سرد لہر کا اثر کچھ ایسا دکھائی دے رہا ہے نارتھ انڈیا کے میدانی علاقوں میں سردی کے معاملے میں ہماری دہلی ٹاپ پر پہونچ گئی ہے اور بدھوار کے روز سرد لہر کی اور برفیلی ہواو¿ں کے سبب راجدھانی دہلی والوں کے لئے اس وقت مصیبت بنی ہوئی ہے دوپہر میں بھی برفیلی ہوائیں چل رہی تھی اور دہلی کا کم سے کم درجہ حرارت 4.1ڈگری تک آگیا ۔ پچھلی ایک دھائی کے دوران کبھی ایسا نہیں ہوا لیکن 20دسمبر سے پہلے راجدھانی کا درجہ حرارت 4ڈگری کے آس پاس آگیا شہروں میں یہ عام سے پانچ ڈگری کم ہے جعفر پور میں 3.6ڈگری ،آیا نگر میں 4ڈگری ، اور لودھی روڈ پر 4.2ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا وہیںزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے معاملے میںبھی دہلی میںا اس سیزن کا سب سے ڈنڈا دن بھی دیکھا ہے یہ محض 18.5ڈگری پر سمٹ گیا اور یہ عام سے پانچ ڈگری کم ہے دن کے وقت بھی راجدھانی کو سخت سردی سے راحت نہیں مل رہی ہے جمعہ و اتوار کو ہمالیائی علاقوں کشمیر و ہماچل اور اترا کھنڈ میں زبردست ٹھنڈ گری ہے ۔ اسی وجہ سے نارتھ ویسٹ سندھ سے آنے والی برفیلی ہواو¿ں سے دہلی کے درجہ حرارت میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے دوسری طرف راجدھانی دہلی کے لوگوں نے سولہ دنوں کے بعد صاف ستھری ہوا کی سانس لی ہے سینٹرل پالوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق پیر کے روز دہلی کی اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 160کے نمبر پر رہا پچھلے دنوں میں ہوا کی کوالٹی بے حد خراب یا پھر سنگین زمرے میں رہی ایئر کوالٹی منگل وار سے خراب کٹیگری میں آ سکتی ہے پنجاب میں لگاتار کئی دنوں سے سورج نہ نکلنے سے وہاں پچاس سال میں پہلی بار لدھیانہ میں دن کا درجہ حرارت 13.4ڈگری سیلسیس تک گر گیا ۔ وہیں امرتسر میں سب سے ٹھنڈا دن رہا یہاں کی درجہ حرار ت 5.6ڈگری سیلسیس اور زیادہ سے زیادہ 12ڈگری تک رہا علاقائی محکمہ موسمیا ت کے مطابق 15سے18دسمبر تک دن اور رات میں دہلی میں سرد لہر جاری رہے گی ۔ اس لئے اورینج الرٹ جاری کر دیا گیا ہے وہیں اسکائی میٹ کے مطابق جموں کشمیر ہمانچل لداخ اور اتراکھنڈ میں پچھلے ہفتے برف باری کی وجہ سے دہلی این سی آر میں درجہ حرارت تیزی سے نیچے آرہا ہے پہاڑوں میںبرف گر رہی ہے اسی دوران دہلی میں گرمی محسوس ہونے لگی تھی 9دسمبر کو زیادہ درجہ حرارت 29ڈگری تک پہونچ گیا تھا لیکن اب دہلی پر نارتھ ویسٹ سرد ہواو¿ںکا دور اگلے کچھ دنوں تک جاری رہے گا اس کے چلتے دن اور رات میں ددرجہ حرارت میں کمی آئے گی ساتھ ہی دہلی والوںکو اس ہفتے گہرے کہرے کا سامنہ کرنا پڑے گا۔
(انل نریندر)
آندولن جاری رہے گا ،کھیتوں میں ہل بھی چلے گا!
دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا آندولن جاری ہے ۔اس کے لمبا کھینچنے سے کسانوں نے اپنی حکمت عملی بدل لی ہے کسان گروپوں میں بٹ کر آگے بڑھ رہے ہیں کسانوں نے مان لیا ہے کی زرعی قوانین کو واپس کرانے کےلئے لمبی لڑائی لڑنی پڑے گی آندولن کا جوش بھی کم نہ ہو اور کھیتوں میں بھی ہل چلتا رہے اس کا راستہ بھی کسانوں نے نکال لیا ہے ۔ پنجاب کے کسانوں نے آندولن کے لئے الگ الگ جتھہ تیار کیا ہے جب ایک جتھہ آندولن میں مورچہ سنبھال رہا ہوگا تو دوسرا گاو¿ں میںکھیتی کرے گا جب وہ آندولن سے واپس آئے گا تو اس کی جگہ دوسرا گھر چلا جائے گا کسان آندولن میں شامل اشوندر سنگھ نے بتایا کی مرکزی حکومت غلط فہمی میں ہے یہ تحریک جلد ختم ہوجائے گی ہم کھیتی کر رہے ہیں اور آندولن بھی کھیتی اور آندولن دونوں چلتا رہے اس لئے گاو¿ں سے جتھہ بنا کر باری باری سے لوگ اس میں شامل ہورہے ہیں جس سے کسی کو نقصان نہ ہو ہمیں اگر برسات تک بھی بیٹھنا پڑاتو رہنیگے پٹیالہ سے سراڑا گاو¿ں سے آئے 84سالہ بلویر سنگھ کا کہنا ہے یہ میرا دوسرا آندولن ہے اس سے پہلے میں 1983میں ہم نے سراڈامیں نہر کے لئے آندولن کیا تھا اس وقت میں ایک مہنیے تک جیل میں رہا کسانوں کو جب یہ قانون مار ہی رہا ہے تو آندولن میں بھی مرجائیں گے غم نہیںجب پوچھا کھیتی کیسی ہورہی ہے اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کی چنتا نہیں گاو¿ں کے بچوں نے کہا کہ آپ ڈٹے رہیں کھیتوں کی چنتا نہ کریں مرکز کے نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی سے لگی سرحدوں پر جاری کسانوں کے مظاہرے آنے والے دنوں میں کمزور نہیںپڑیں گے بلکہ اورتیز ہوسکتا ہے سندھو بارڈر پر مظاہرے میں کسانوں کے کنبوں کی دو ہزار سے زیادہ عورتیں پہونچ رہی ہیں اور پنجاب کے مختلف حصوں سے آرہی عورتوں کے لئے انتظام کئے جارہے ہیں ٹینٹ لگائے جارہے ہیں الگ سے لنگر چلانے کا منصوبہ بنایا گیاہے ۔ اور مزید ٹوائلٹ کا انتظام کیا گیا ہے الگ الگ ریاستوں کے کسان سندھو پکری غازی پور بارڈر پر تین ہفتے سے زیادہ وقت سے ڈٹے ہوئے ہیں بدھوار کو کنڈلی بارڈر پر دھرنے میں شامل ایک کسان کی گولی مارنے سے حالت خراب ہوگئی ہے یہ گاو¿ں کگرا کا ہے اس کانام بابا رام سنگھ ہے وہ گرودوارا جنک سر میں گرنتھی تھے چار پانچ دن پہلے دھرنے میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے ان کے پاس سے پنجابی میں سوسائڈ نوٹ ملا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسانوں کے حق میں اور سرکاری ظلموں کی ناراضگی نے انہوں نے خود کشی کرنے کی بات انہوں نے بدھوار کو دھرنا جگہ پر پہونچنے کے بعد اسٹیج کے پیچھے والے روڈ کے دوسرے کنارے پر جاکر خود کو گولی مار لی ان کی موت سے پہلے سے زیادہ کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔
(انل نریندر)
17 دسمبر 2020
فیملی پلانگ کےلئے زبردستی نہیں کرسکتے !
سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ لوگوں کو فیملی پلانگ کے تحت خاندان مین بچوں کی تعداد دو تک محدود رکھنے کے لئے مجبور کرنے کے خلاف ہے اس سے آبادی کے سلسلے میں عجب حالات پیدا ہونگے مرکزی سرکار نے عدالت سے کہا کہ وہ فیملی پلانگ کے لئے کسی پر دباو¿ نہیں ڈال سکتی ایسا کرنے سے منفی اثر بھی ہوتا ہے اور ڈیمو گرافی کی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں سپریم کورٹ نے اس عرضی پر مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کر جواب داخل کرنے کو کہا تھا عرضی میں عرضی گزار نے آبادی کنٹرول کے لئے وینکٹ چلیہ کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کے لئے درخواست دی تھی اس میں کہا گیا ہے کہ دو بچوں کی پالیسی لوگو کی جائے سرکار ی سب سڈی اور نوکری کے لئے دو بچے کی پالیسی کو نافذ کرنے کا حکم دیا جائے مرکزی وزارات صحت کی جانب سے داخل جواب میں کہا گیا ہے فیملی پلاننگ ایک مرضی والا پروگرام ہے یہ لوگوں کی خواہش کے حساب سے فیملی پلاننگ اسکیم ہے اس میں کوئی زور زبردستی نہیں اس معاملے میں مرکزی سرکار نے کہا کہ پبلک ہیلتھ اسٹیٹ کا اشو ہے اس معاملے میں ان کا کوئی سیدھا رول نہیں ہیلتھ سے متعلق گائیڈ لائنس لاگو کرنے کا حق اسٹیٹ کا ہے ۔ سرکار ایک پائیدار ،آبادی پالیسی کی تعمیل کرتی ہے اور وہ فیملی پلاننگ کے زبردستی کرنے خلاف ہے ۔ ویسے بھار ت آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے تمام پروگرام چلاتا ہے مثلاًیوم آبادی منایا جاتا ہے مشن فیملی ڈیولیپمنٹ یوجنا ہے اس کے تحت فیملی پلاننگ پروگرام چلاتا ہے ایسے بہت سے پروگرام ہیں سپریم کورٹ نے بھاجپا نیتا اشونی اپادھیا کی جانب سے داخل عرضی میں بھارت سرکار کو شریک مدعی بنایا ہے اور کہا گیا ہے کہ دیش میںآبادی کنٹرول کرنے کے لئے قدم اٹھائے جائیں اوردو بچے کی پالیسی علان کی جائے یعنی سرکاری نوکری سب سڈی وغیرہ کرائیٹیریا طے کیا جایا اور اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے قانونی حق ووٹنگ کا حق اور چناو¿ لڑنے کے حق سے محروم کیا جائے ۔وزارات نے کہا کہ آبادی کنٹرول ریاست کا اشو ہے جب کی ہمارا کہنا ہے وزارت کے افسران نہ آئین کو پڑھتے ہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں آئین کے سیڈول سات میں کاموں کا بٹوارہ ہے اس میں تین لسٹ ہیں مرکزی ،ریاستی ،اور سرحدی فہرست شامل ہیں آبادی کنٹرول کا اشو اخری فہرست میں ہے یعنی آبادی کنٹرول پر مرکز اور ریاستی حکومتیں دونوں ہی قانون بنا سکتی ہیں ۔
(انل نریندر)
کہرے و ٹھنڈ میں کانپتے کسان ارادے اب بھی مضبوط!
پچھلے دو تین دن سے دہلی کی سڑکوں پر زبردست کہرہ ہے ،سردی بڑھ گئی ہے سخت ٹھنڈ کے درمیان لوگوں کا چند منٹ بھی سڑک پر رہ پان مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ کہرے کی وجہ سے سڑکوں پر روشنی اتنی کم ہوگئی چند قدم دور تک دیکھ پانا بھی مشکل ہے دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ہے لیکن پیدل چلنے پر محض دس قدموں پر ہی سڑکوں کے کنارے ٹرالی کے نیچے تو کوئی ٹرالی کے اندر سوتا دکھائی دے رہا ہے یہ نظارہ ہے سندھو بارڈر کا دھرنے کی جگہ پر دن بھر چہل پہل کے بعد روزآنہ رات کو لوگ اپنے اپنے بسیروں پر پہونچ جاتے ہیں جہاں انہوں نے اپنے ٹھہرنے کا ٹھاکانہ بنایا ہوا ہے۔ کچھ کسان گاو¿ں سے لائے ٹرالیوں میں سو رہے ہیں کوئی جن بسوں میں آئے ان میں سونے پر مجبور لیکن بہت سے ایسے کسان ہیں جنہیں اب بھی دھرنے کی جگہ پر سونے کی جگہ نصیب نہیں ہوتی ان کسانوں کےلئے سر د ہوائیں کسی مصیبت سے کم نہیں اس کے باوجود مظاہر ہ کر رہے کسانوں میں جذبے کی کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی دھرنا کی جگہ کے قریب سو میٹر آگے کنڈلی کی طرف خالصہ ایڈ کی طرف سے عارضی رین بسیرہ دکھائی دیتا ہے ۔یہاں پر قریب چار سو لوگوں کے رہنے کا انتظام کیا گیا ہے وہاں جاکر ہم نے دیکھا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ رضائی گدے لئے سوئے ہوئے تھے وہاں موجود انچارج سے بات کرنے پر پتہ چلا یہ وہ لوگ ہیں جو دھرنہ دینے کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔ کئی کلو میٹر تک یہ کسان پھیلے ہوئے ہیں اور ٹریکٹر ٹرالیوں میں رات کو بے فکر ہوکر کسان اپنی راتیں گزارتیں ہیں ان کے پیچھے نوجوان اور دوسرے فورس کا سخت پہرہ ہوتا ہے۔ یہ لڑکے رضا کار کے طور پر چو بیس گھنٹے کام کرتے ہیں کپ کپاتی ٹھنڈ میں روز آنہ اپنی ڈیوٹی پر مستعد دکھائی پڑتے ہیں اور لڑکوں کی باری باری ڈیوٹی بدلتی ہے در اصل سندھو بارڈر ایک بڑا اسٹیج بنا ہوا ہے جو دس فٹ اونچااور تیس چالیس فٹ چوڑاہے اس کے سامنے بڑی تعدا دمیں کسان بیٹھ کر دھرنا نعرے بازی کرتے ہیں اس کے آس پاس اسٹال ٹینٹ کھانے پینے کے لنگر دستیاب ہیں ۔ ایک رضا کار جسپیر سنگھ نے بتایا کہ وہ یہاں سیوا دار کی میں خدمت کرتے ہیں ہزاروں کسانوں کے درمیان کوئی پولس والا نہیں ہوتا وہ چبڑی پریمی کے نام سے جانے جاتے ہیں ان کا نام کلوندر سنگھ ہیں وہ کبڈی ٹیم کے ساتھ اپنی خدمات دے رہے ہیں ہم کسانوں سکے جذبے کو سلا م کرتے ہیں تمام نا گزیر حالات میں اپنے محذ پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔واہے گورو جی دا خالصہ واہے گوروجی دی
(انل نریندر)
16 دسمبر 2020
نیوز پیپر انڈسٹری ڈوبنے کے دہانے پر ہے !
انڈین نیوز پیپر سوسائٹی (آئی این ایس ) کے صدر ایل اے ڈیمولم نے مرکزی سرکار سے نیوز پیپر انڈسٹریز کو حوصلہ افزا مالی پیکیج دیئے جانے کی مانگ کی ہے واضح ہو کہ آئی این ایس کئی ماہ سے اس پیکیج کی امید سرکار سے لگائے ہوئے ہے ۔ آئی این ایس کا کہنا کہ نیوز پیپیر انڈسٹری محصول میں کمی کے چلتے بھاری مالی بہران کا سامنہ کر رہی ہے کیونکہ کووڈ 19کی وجہ سے اشتہارات اور سرکولیشن دونوں ہی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس کی وجہ سے بہت سے اخبارات تو بند ہوگئے ہیں یا کچھ اخباری ایڈیشن بے میعاد ملتوی کردئے گئے ہیں اگر یہی حالت رہی تو مستقبل قریب میں اور بھی کئی اخبار بند ہو سکتے ہیں8مہینے میں اخباری صنعت کو قریب 12500کروڑ روپئے کا نقصان ہوچکا ہے سال کے آخیر تک یہ تخمینہ 16ہزار کروڑ تک جاسکتا ہے ۔ دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت کا چوتھا ستون ڈھانے کے سنگین وسماجی اور سیاسی نتیجوں کا تصور آسانی سے کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس بہران سے تیس لاکھ اخباری صنعت سے جڑے ورکروں اور اسٹاف وغیرہ پر برا اثر پڑے گا جو براہ راست یا غیر براہ راست سے اخباری صنعت میںلگے ہوئے ہیں جیسے پترکار پرنٹر ،ڈیلوری وینڈر اور کئی دیگر شکلوں میں کام کر رہے ہیں ۔ اگر نیوز پیپر انڈسٹری ڈھ جاتی ہے تو اس کی تباہ کاری کا اثر لاکھوں ہندوستانیوں پر پڑے گا جس میں اس کے ملازم اور ان کے بچے وغیرہ شامل ہیں ۔ اس سے جڑی صنعت پرنٹنگ پریس نیوز پیپر ہاکر اور ڈلیوری وینڈر سمیت پوری چین کے بے حد ایکو سسٹم پر بھی برا اثر پڑے گا۔ جو دہائیوں سے روزی روٹی کے لئے ااس پر منحصر ہیں۔
(انل نریندر)
امریکی سپریم کو رٹ نے ٹرمپ کو دیا زبردست جھٹکا!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کی سپریم کورٹ سے زبردست جھٹکالگا ہے ٹرمپ اور ان کی پبلیسٹی ٹیم نے حال ہی میں ہوئے صدارتی چناو¿ میں وسیع دھاندلی کے الزام لگائے تھے اور کئی صوبوںمیں جو بائیڈن کی جیت کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی تھی ۔ وہیں صوبائی چناو¿ حکام اور آزاد میڈیا کا کہنا ہے کہ انہیں دھاندھلی کے سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ٹرمپ نے سپریم کورٹ میںنتیجوں کو منسوخ کرنے کی عرضی کو خارج کردیا ان عرضیوں میں دلیل دی گئی تھی کہ ان کانٹوں کے مقابلے والے صوبوں کے چناو¿ کو منسوخ کر دوبارہ سے چناو¿ کرانے کا حکم دے جن میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے امید وار جو بائیڈن نے جیت درج کی تھی فیصلے سے ناراض ٹرمپ نے ٹویٹ کرکے کہا کہ عدالت نے در حقیقت مجھے نیچا دکھایا ہے نہ تو اس میں کسی طرح کی سمجھ ہے اورنہ ہمت یہ فیصلہ قانونی طور پر میری بے عزتی ہے بتا دیں امریکی صدارتی چناو¿ میں جو بائیڈن کو شاندار کامیابی ملی ہے ۔ وہ 20جنوری کو امریکی صدر کے عہدے کا حلف لیں گے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر اور بے غیر دستخط والے حکم میں کہا کہ ٹیکساس میں اس طرح سے عدالتی فیصلے میں دلچسپی نہیں دکھائی جس طرح سے دیگر ریاست چناو¿ میں دکھاتے ہیں ۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹرمپ کے لئے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے جو بائیڈن کے انتخاب کو چنوتی دیتے ہوئے نتیجوں کو پلٹنے کی کوشش کررہے ہیں سپریم کورٹ کے جسٹس سیمول ایلیٹو اور جسٹس فلورینس تھامس نے کہا ان کا خیال ہے کہ عدالت کو اس معاملے کی سماعت کرنی چاہئے لیکن انہوں نے ٹیکساز کے دعوے پر کوئی واضح پوزیشن ظاہر نہیںکی کم سے کم 126ریپبلیکن ایم پی نے اس مقدمے کی حمایت کی تھی خود ڈونلڈ ٹرمپ نے عرضیوں کو لیکر خوشی ظاہر کی تھی ۔ عدالت نے لاکھوں امریکی ووٹروں کی خواہش پلٹنے کےلئے ریپبلکن پارٹ کے غیر ضروی مقدمے کو خارج کرنے کا صحیح قدم اٹھایا عرضی پر دستخط کرنے والے سینیٹروں نے افغانی نمائندگان کی بے عزتی کی ہے ، ایوانی نماندگان کے چیف لیڈر اسٹینی ہوچر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ صاف ہوگیا کہ چناو¿ میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی اور اب جو بائیڈن امریکہ کے اگلے صدر ہونگے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی ٹرمپ کے تیور ڈھیلے پڑتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا صدر کی قانونی ٹیم چناو¿ نتائج کو چنوتی دیتی رہے گی انہوں نے ایک اینٹر ویو میں کہا کہ فیصلوں میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا ہے جو ہمیں ضلع عدالتوں میں عرضی دائر کرنے سے روکتا ہے بھروسہ رکھئے ہم چنوتی دینے جارہے ہیں۔
(انل نریندر)
کسان ایکتا توڑنا چاہتی ہے سرکار!
نئے زرعی قوانین کو منسوخ کرانے اور ایم ایس پی کی گارنٹی کی مانگ کو لیکر جاری کسان تحریک رکتی نظر نہیں آرہی ہے حکومت کی حکمت عملی لگتی ہے کسانوں میں پھوٹ ڈال کر تحریک کو ختم کرانا چاہتی ہے کسان آندولن کے لیڈروں اور کھاپ چودھریوں نے مرکزی سرکار پر سنگین الزام لگائے ہیں اس کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت پھوٹ ڈال کر آندولن ختم کرانے کی حکمت عملی بنا رہی ہے ۔ کسانوں کی آواز بلندکر رہے کسان لیڈروں کو دھمکانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اتحاد کا احساس کرانے کے لئے کھاپ چودھری پیر کے روز کھاپوں کے رویتی مرکزی دفتر گاو¿ں سورم (مظفر نگر)میں پنچایت کریں گے ۔ ادھر سخت سردی میں کسان اتوار کو 18ویں دن بھی سندھوں بارڈر اور یوپی کے غازی پور اور چلاّ بارڈر پر ڈٹے رہے ۔ نروال کھاپ بھرت چودھری بابا رنویر سنگھ منڈیر کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے اشارے پر مقامی لیڈر کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں کسی نہ کسی معاملے میں پھنسانے کی دھمکی دیکر چپ کرانے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ آندولن ختم کیا جاسکے ۔اتر پردیش اور ہریانہ میں کئی کسان لیڈروں کو دھمکانے کی اطلاع مل رہی ہے حالانکہ وہ لوگ ان دھمکیوں کو نظر انداز کر تحریک کو مضبوطی دینے میں لگے ہیں ۔ بھارتی کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹیکیت نے کہا کہ زرعی قوانین کو واپس لینے کی مانگ کوسرکار سن نہیں رہی ہے ۔ اور تحریک لمبی ہوتی جارہی ہے ایسے میں اب سرکار کو گولہ لاٹھی دینے کا وقت آگیا ہے کسانوں سے زرعی سازوسامان کو لیکر یوپی گیٹ پہونچنے کی اپیل کی گئی ہے اسی بیچ کسان سرکار سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں لیکن بات زرعی قوانین کو واپس لینے پر ہوگی ۔راکیش ٹیکیت نے کہا کہ جو کسان مصروف ہیں یا آنے جانے کی سہولت کے سبب نہیں آپارہے ہیں وہ مقامی سطح پر مظاہر ہ کر رہے ہیں اور سرکار کسان کی ایکتاکو توڑنا چاہتی ہے کسان جان چکا ہے ایک طرف حکمت عملی پر سرکار کام کر رہی ہے وہ ہے تحریک کو صرف پنجاب تک محدود کرنا ہے تاکہ پنجاب کے کسانوں کی تحریک بنا کر اسے الگ تھلگ کردیا جائے ۔ حکمراں پارٹی نے تمام فرنٹل چہروں کی مدد سے اس سمت میں کام شروع کردیا ہے ۔ آر ایس ایس سے جڑے بھارتی کسان مورچہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے آندولن پنجاب اور دہلی کے آس پاس کا ہے اور اس میں جو اشو اٹھ رہے ہیں وہ پنجاب کے بڑے کسانوں اور آڑتیوں سے وابستہ ہیں ان کا عام کسانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ہم یہ ساری حقیقت دوسروں ریاستوں میں لیجاکر وہاں کی کسان یونینوں کی مدد سے ان کے بیچ رکھنے کی کوشش کریں گے ایک سرکاری حکمت عملی ساز کے مطابق اگر ہم یہ اشارہ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ زرعی قوانین کو لیکر صرف ایک ریاست میں احتجاج ہورہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ باقی سبھی ریاستوں کے کسانوں کو یہ تسلیم ہے تب ہم ایک ریاست کے لئے قانون کو نہیں بدل سکتے اس کے علاوہ سرکار مسلسل تحریک میں گھس کر غیر کسان عناصر کے اِشو کو اٹھاتے رہیں گے ۔
(انل نریندر)
15 دسمبر 2020
آیوش ڈاکٹروںکو سرجری کی اجازت کے خلاف ڈاکٹر ہڑتال پر !
سینٹر ل کونسل آف انڈین میڈیسن کی جانب سے آیوش ڈاکٹرو ں کو سرجری کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کے خلاف سی سی آئی ایم نے جمعہ کو دیش بھر میں ہڑتال کی تھی ۔آئی ایم اے کی طرف سے ایمرجنسی اور کووڈ کو چھوڑ کر باقی سبھی علاج سیوائیں بند رہیں گی ۔آئی ایم اے اس فیصلے کو مکسو پیٹھی کاروائی کا نام دے رہا ہے حالانکہ دہلی میں اس کا کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیںملا دہلی میں ڈاکٹروں نے ہاتھوں پر کالی پٹی باندھ کو ناراضگی جتائی ۔اور مظاہرہ کیا اور کسی بھی طرح کی میڈیکل سیوا بند نہیں کی گئی ۔فیڈریشن آف ریزی ڈنٹ ڈاکٹر اسوشیئیشن کے صدر ڈاکٹر سوا جی دیو برمن نے بتایا دہلی کے سبھی اسپتالوں کے ڈاکٹر اس احتجاج میں شامل ہوئے اور یہ اس میڈیکل سروس ٹھپ نہیں کی اس لئے کہ کورونا وبا کے دور میں کسی بھی مریض کو کوئی بھی پریشانی نا آئے لیکن اگر اس فیصلے کو واپس نہیں لیا جاتا تو ڈاکٹروں کو آگے کی حکمت عملی بنانے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا ۔آئی ایم اے کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے دیش کی سبھی ریاستوں نے ایمرجنسی اور کووڈسیوائیں چھوڑ کر او پی ڈی و دیگر سیوائیں بند رہیں ۔سی سی آئی ایم کے ڈاکٹر فیصلہ کی مخالفت کرتے ہیں کہ آیوروید ڈاکٹروں کو موڈرن میڈیسن کی پریکٹس کرنے اور آپریشن کرنے کی اجازت دی جارہی ہے اس سے عام لوگوں کی زندگی پر خطرہ بڑھ رہا ہے ۔
(انل نریندر)
فیس بک پر چھوٹی کمپنیوں کو کچلنے کا سنگین الزام!
آن لائن سوشل میڈیا پر ایک طرفہ راج قائم کرنے کے لئے فیس بک نے جس طرح مقابلہ ختم کیا اس کے خلاف امریکہ کی فیڈرل کامرس کمیشن اور چالیس سے زیادہ ریاستوں کی طرف سے مقدمات دائر کئے گئے ہیں فیس بک پر یک طرفہ حق بنانے کے لئے اور چھوٹے مقابلے میں شامل کمپنیوں کوکچلنے کے لئے مارکیٹ پاور کے بیجا استعمال کا الزام ہے ۔فیس بک نے مقابلے میں سامنے آرہی کمپنیوں کو غیر اخلاقی طریقے سے اپنا کر معاہدہ کرنے کے لئے مجبور کیا اس سے کئی چھوٹی کمپنیاں تو مقابلے میں کھڑی نا ہو پائیں اس سے ہونے والی ہمارے مقابلوں اور ایجادات کا فائدہ عام شہریوں کو نہیں ملا ۔ایف ٹی سی کا کہنا ہے کہ فیس بک انکورپریٹڈ کے ذریعے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کو تحویل میں لینے کا مقصد اس سیکٹر میں مقابلے کو ختم کرنا تھا اس لئے اس ایکوائر منٹ کو ختم کیا جانا چاہیے ۔مطلب یہ ہے کہ اس معاملے کے نیتجے میں فیس بک کو واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر اپنا مالکانہ حق چھوڑنا پڑ سکتا ہے ۔مقدموں میں مانگ کی گئی ہے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کو فیس بک سے تقسیم کرکے الگ کمپنیاں بنائی جائیں ایسے میں اگر فیس بک مقدمہ میں ہارتا ہے تو اسے یہ دونوں کمپنیاں فروخت کرنی پڑ جائیںگی شکایتوں میں کہاگیا ہے فیس بک نے چھوٹی کمپنیوں کو اس لئے خریدا کیوں کہ یہ پلیٹ فام مستقبل میں اسے سیدھا چیلنج کر سکتے تھے ۔18مہینے پہلے نیویار ک کی سرکاری وکیل لٹیشیا جیمس نے بتایا تھا فیس بک کے خلاف مقابلہ ذاتی سرگرمیوں کے الزامات کی جانچ شروع کی گئی ہے ۔نیویار ک کی اٹارنی جنرل جیمس کا کہنا ہے کہ فیس بک نے ایک دہائی تک اپنی بالادستی کا استعمال انسٹاگرام ،واٹس ایپ جیسی کمپنیوں کو کچلنے کے لئے کیا یہ خاص بات ہے اس بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ اور ان کے حریف ڈیموکریٹس ایک جیسی رائے رکھتے ہیں ۔مقدمہ میں مزید کہا گیا ہے کہ فیس بک ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ کا کوئی بھی معاہدہ کسی کمپنی سے کرتا ہے تو اسے اس کی جانکاری سرکار کو دینی ہوگی اس سے پہلے اکتوبر میں گوگل کی بالادستی رکھنے والی کمپنی الفابیٹ رک پر بھی امریکہ کے محکمہ انصاف اور گیارہ ریاستوں نے اسی طرح کامقدمہ دائر کیا تھا ۔اس پر بحث ہو سکتی ہے دیگر ملکوں کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی عام لوگوں کا فیصلہ نظریہ کو متاثر کرنے اور ان تک غلط اور جھونٹی اطلاعات پہوچانے اور مختلف فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے معاملے فیس بک انتظامیہ کا رول تنازعات میں رہا ہے مانا جارہا ہے صدر جوبائیڈن کے عہد میں بھی یہ مقدمہ جاری رہے گا ۔یوروپ میں بھی ریگولیٹرس انڈسٹی کے قانون کی خلاف ورزی پر بڑا جرمانہ لگانے کی تیاری خود پر لگے الزام پر فیس بک نے کہا ہے کہ وہ عدالت میں لگے تمام الزامات کا پرزور بچاو¿ کرے گا ۔کمپنی کے بانی مارک جوکر برگ نے کمپنی توڑنے کی مانگ کو وجو د پر خطرہ قرار دیا ہے ۔
(انل نریندر)
ان زرعی قوانین سے کھیتی میں کارپوریٹ کا دخل بڑھے گا!
دہلی اور اس کے بارڈر پر بیٹھے کسانوں کو وہاں رہنے دینے اور سپریم کورٹ میں زرعی بلوں کے خلاف داخل اپنی عرضی میں عدالت سے معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے ۔یہ عرضی بھارتیہ کسان یونین (بھانو گروپ)نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے ۔دراصل عدالت نے پہلے ہی 12اکتوبر کو چھتیس گڑھ کسان کانگریس ،ڈی ایم کے این پی تروچی سوا ، ایم پی منوج جھا سمیت دیگر کی طرف سے داخل عرضی پر عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہوا ہے ۔زرعی بل کے جواز کوچنوتی دینے والی عرضی پرسپریم کورٹ پہلے سے ہی سماعت کا فیصلہ کرچکی ہے اور اسی عرضی میں بھارتیہ کسان یونین کی جانب سے مداخلت کی درخواست کی گئی ہے ۔بھانو گروپ کی طرف سے داخل عرضی میں کہا گیا ہے زرعی قوانین من مانے ہیں اور یہ غیر آئینی ہیں ۔یہ قانون کسان مخالف ہے ۔نیا زرعی قانون زراعت سیکٹر کو کارپوریٹ کے ہاتھوں میں دینے کی تیاری ہے ۔اس قانون سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فائدہ ہوگا ۔یہ کمپنیاں بلا کسی روک ٹوک کے زرعی چیزوں کا ایکسپورٹ کریں گی ۔اور کوئی غور خوض کئے بغیر دیکھیں سپریم کورٹ ان عرضیوں پر سماعت کر کیا فیصلہ کرتی ہے ؟ ادھر تحریک چلا رہے کسانوں کا خیال ہے نریندر مودی سرکار کے رخ سے صاف ہے کہ وہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کو تیار نہیں ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے وسیع اور غورخوض یہ جمہوری نکتہ چینی کے آگے جھکنا مودی سرکار کی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے یہ بات پچھلے سال سی اے اے کے سلسلے میں صاف ہو گئی تھی لیکن تب تنازعہ اقلیتوں کا تھا ۔حکمراں جماعت نے اس مسئلے پر ہو رہی گو ل بندی کو اپنے لئے فائدے مند سمجھا فی الحال ا ب کافی کچھ نظریہ کسان آندولن کے سلسلے میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اس بار چونکہ بات کسانوں کی اور اس کو درمیانہ طبقہ کی حمایت بھی ملی ہے اس لئے بات چیت ایک دکھاوا ہے اب تک سرکار نے کوئی ایسی ٹھوس بات نہیں کی ہے جس کی بنیاد پر سمجھوتہ کی گنجائش ہو ہونا تو یہ ہی چاہیے تھا کہ سرکار کسانوں کے ساتھ رائے مشورے سے ہی قانون بنا لیتی لیکن ابھی بھی وہ ان ان چاہے قانون پر عمل کو معطل کر وسیع رائے مشورے سے انہیں کیا شکل دیتی ہے لیکن اس کے برعکس حکمراں پارٹی کے ایک نیتا نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر قانون لاگو نہیں ہوئے تو کارپوریٹ سیکٹر ناراض ہو جائیگا اس سے کسان اور بھڑکے ہیں ایک وزیر چین ،پاکستان کی سازش بتا رہا ہے اور اب تک وزیرزراعت نے صاف کر دیاہے کھیتی ریاست کا اشو ہے اور انہوں نے زراعت کے لئے نہیں بلکہ ٹریڈنگ کے لئے قانون بنایا ہے یعنی معاملہ کارپوریٹ کا زیادہ ہے ۔کسان تو برائے نام ہیں جس سے کسان تنظیم بھی قانونوں کے پیچھے کی اس منشا کو ملی بھگت جان رہے ہیں ۔اور وہ سمجھ گئے ہیں اس کی پول بھی بخوبی کھول رہے ہیں کہ کیسے قانون آنے سے پہلے سرکار کے دو امیر سرمایہ داروں امبانی اڈانی نے زراعت سے و ابسطہ تجارت میں داخل ہونے اور قبضہ کرنے کا بلو پرنٹ بنایا ہوا ہے یہ قانون اسی بلو پرنٹ پر عمل کا دستاویز ہے تبھی کسانون نے اعلان کیاہے امبانی اڈانی بھاجپا کا بائیکاٹ کریں گے کسان جان گیا ہے کہ کارپوریٹ کے طوطے میں مودی سرکار کی جان بسی ہے ۔
(انل نریندر)
13 دسمبر 2020
مرکزمیں مودی سرکار نہیں انبانی ۔اڈانی سرکار ہے !
کسان تحریک دنوں دن اپنی خطرناک شکل اختیا ر کرتی جارہی ہے ابھی تک تو کسان نیتا نشنل ہائیو ے پر بیٹھ کر دہلی کے گھیرا و¿ کررہے تھے اب حکمت عملی بنا کر ریلائنس کے پٹرول پمپ بند کرانے کی حکمت عملی بنائی ہے اسی کے چلتے سونی پت میں گاندھی چوک میں ریلائنس شاپنگ مول پر تالا لگا دیا اور مرکز کے خلاف نعرے بازی کی کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ دیش میں مودی سرکار نہیں بلکہ ریلائنس اور انبانی اڈانی کی سرکار چل رہی ہے انہوں نے دھمی بھرے انداز میں کہا اس تحریک کو کسانوں کی تحریک نہ سمجھیں بلکہ یہ ہر ایک دیش کے شہری ،غریب مزدور کا آندولن ہے آج کہنے کو تو مودی سرکار ہے لیکن یہ سرکار ریلائنس انبانی اڈانی کے اشاروں پر چلتی ہے اور انکی وجہ سے عام آدمی مسلسل پس رہا ہے اور ہمیں ان کے سامان کا بائیکاٹ کرنا چاہئے کسان لیڈروں کا کہنا ہے انہیں سرمایا داروں کو راجیہ سبھا ایم پی بنا دیا جاتا ہے پھر اپنے حساب سے دیش کے قانون کا استعمال کرتے ہیں جو قابل مذمت ہے انہوں نے ہر ایک شہری سے اپیل کی ہے کہ ہمیں ان کے سامان کا استعمال چھوڑ کر دکھا دینا چاہئے کہ ان کے بغیر بھی دیش چل سکتا ہے اور انبانی اڈانی اب کسانوں کے نشانے پر آچکے ہیں ۔
(انل نریندر)
تلنگانہ سے حوصلہ افزا بھاجپا کی نظر اب پورے ساو ¿تھ انڈیا پر !
ساو¿تھ انڈیا کی واحد ایک ریاست کرناٹک میں مضبوطی کے ساتھ مضبوط ہونے پر بھی قریب کے تلنگانہ اور آندھرپردیش میں بھاجپا کی کمزوری ہمیشہ سے پارٹی کو ہچکولے دیتی رہی ہے حال ہی میں کچھ ایسا ہورہا ہے پچھلے چھ برسوں میں بھاجپا نے اپنا نظریہ بدلا اور لگن کے سبب نارتھ اور ایسٹ میں چوٹی پر پہونچ گئی وہیں تلنگانہ میں ایک قدم بھی نہیں بڑھ پائی 1999میں بھی پارٹی کے چار ایم پی تھے اور 2019میں بھی چار ہیں ۔ لیکن حیدرآباد میونسل کارپوریشن کے نتیجوں نے یہ بتا دیا ہے کہ اب بھاجپا کی نظر تلنگانہ کے راستے پورے ساو¿تھ انڈیا پر ہے جہاں پنچایت سے لیکر ریاست کے اقتدار تک بھاجپا کی اتنی چمک رہے کہ وہ اپنے آئیڈولوجی کو بڑھا سکے تھے اس وقت سوال اٹھے تھے حیرت ظاہر کی گئی تھی جب ایک ہفتے پہلے بھاجپا صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت بڑے نیتا حیدرآباد میونسپل چناو¿ کمپین میں اتر گئے تھے بھاجپا نے سبھی پارٹیوں کے سامنے لیڈر شپ کی حکمت عملی کا بڑا سوال کھڑا کردیا ہے یہ پھر سے سمجھا دیا ہے کہ سیاسی پارٹی کے سینئر لیڈر شپ کو بھی نیچے تک جانے اور ورکروں کے ساتھ کھڑاہونے میںکوئی قباحت نہیں دکھانی چاہئے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لگن کانگریس میں نہیں دکھائی دی جس وجہ سے لیڈر شپ پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں ۔ بھاجپا جنرل سیکریٹری بھوپیندر یادو نے بھی چٹکی لینے میں دیر نہیں کی ٹی آر ایس کے سامنے کانگریس نے وی آر ایس لے لیا ہے بھاجپا بہت مضبوط ہوکر ابھر رہی ہے ۔ اور چار سے بڑھ کر چالیس تک پہونچ گئی ہے اویسی کی جماعت اپنے ہی گڑھ میں سمٹ کر رہ گئی ہے حیدرآباد چناو¿ میں جو پچھلا نتیجہ تھا اسی پر کھڑی ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قومی خواہش کے ساتھ بہار کے بعد بنگال کی طرف بڑھ رہے اویسی کو ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا ظاہری طور پر ممتا بنرجی کو حیدرآباد کے نتیجے ضرور پریشان کر رہے ہونگے مگر تیلنگانہ و ساو¿تھ انڈیا کی بات کی جائے تو بھاجپا کرناٹک دہرانے کی کوشش کرے گی یہ بات یاد دلانے کی ہے کہ آزاد تلنگانہ کی علامت بھلے ہی ٹی آر ایس نیتا چندر شیکھر راو¿ بن گئے ہوں لیکن اس کی سوچ جن سم نیتاو¿ نے رکھی تھی کرناٹک سے الگ تلنگانہ میں بھاجپا کو بہار کے لئے جنتا دل جیسا کندھا تو نہیں مل سکتا لیکن ٹی آر ایس کے طئیں اقتدار مخالف لہر کے اشارے بھاجپا کے حوصلہ افزا ضرور ہیں اب بھاجپا کی نظریں پورے ساو¿تھ انڈیا کی ریاستوں پر قبضہ کرنے کی لگ رہی ہیں ۔ تلنگانہ نتائیج نے بھاجپا کی خواہشات کو بڑھایا ہے آنے والے دنوں میں ہم دیکھیں گے کہ ساو¿تھ انڈیا میں بھاجپا زیادہ سرگرمی سے دکھائی پڑے گی ۔
(انل نریندر)
جب دیکھو اڈا،نڈا ،پھڈا،چڈا،بنگال چلے آتے ہیں !
مغربی بنگال میں باقاعدہ بازی یعنی اسمبلی چناو¿کی تاریخوں کا ابھی اعلان نہیں ہوا لیکن اس سے پہلے ہی چناوی سطرنج کی بسات بچھ چکی ہے اور دونوں بڑے کھلاڑیوں ترنمول کانگریس اور بی جے پی نے اپنی اپنی چالیں بھی شروع کردیں ہیں ریاست میں اسمبلی کی 294میں سے 200سیٹیں جیتنے کا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا دعوی جنوری میں شہریت ترمیم قانون نافذ کرنے کا کیلاش وجے ورگیہ کا دعویٰ ،مغربی بنگال میں قانون و نظم پوری طرح بگڑنے اور جمہوریت ختم ہونے کے بی جے پی لیڈروں کے دعوے ہوں یا بی جے پی صدر جے پی نڈا کے کوکلکتہ دورے کے وقت ان کو کالے جھنڈے دکھانے اور ان کے قافلے پر پتھراو¿ یہ سب اسی شطرنجی چالوں کا حصہ بتایا جارہے ہیں ۔ سی اے اے کے مسئلے پر جہاں گھمسان شروع ہوگیا ہے وہیں جے پی نڈا کے قافلے پر پتھراو¿ کے مسئلے پر مرکز اور ممتا سرکار آمنے سامنے آگئے ہیں ۔ مغربی بنگال میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان جاری سیاسی دنوں دن تیز ہوتی جارہی ہے۔اور دونوں نیتاو¿ں میں زبانی جنگ خوب چلی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پتھراو¿ کے واقع کو بی جے پی کا ناٹک کہا اور ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے سب کے سب یہاں جمے ہوئے ہیں ۔ممتا نے کہا اکثر وزیر داخلہ یہاں ہوتے ہیں باقی وقت ان کے مڈا نڈا پھڈا اڈا یہاں ہوتے ہیں۔ جب ان کے پاس کوئی سننے والا نہیں ہوتا تو وہ اپنے ورکروں کو نوٹنکی کرنے کےلئے کہتے ہیں ۔ ڈیمائینڈ ہاربر علاقے میں اس واردات پر ممتا نے انگلی اٹھاتے ہوئے کہا آپ کے ساتھ سیکیورٹی عملا ہے کوئی آپ پر حملہ کیسے کر سکتا ہے۔ حملے کی یوجنا بنائی گئی ہوگی میں نے پولس سے جانچ کرنے کو کہا ہے لیکن میں ہر وقت جھوٹ برداشت نہیں کروں گی بی جے پی کے ورکر ہرروز ہتھیاروں کے ساتھ ریلیوں کے لئے آتے ہیں اور وہ خود کو تھپڑ ماررہے ہیں ۔ اور اس کا الزام ترنمول کانگریس پر لگا رہے ہیں ذرا حالات کے بارے میں ساچئے وہ بی ایس ایف سی آر اے پی ایف اور فوج اور سی آئی ایس ایف کےساتھ گھوم رہے ہوں پھر بھی اتنے خوف زدہ کیوں ہیں ؟ ممتا کی باتیں سن کر نڈانے کہا میرے بارے میں بہت ساری تشبیہات دی ہیں اور انہیں ڈیکشنری ہی بدل دی ہے ممتا جی میں آپ کے سنسکاروں کے بارے میں بتاتاہوں یہ بنگالی کلچر نہیں ہے اور آپ بنگال کو کتنے نیچے لے گئی ہیں ادھر خبر ہے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 19دسمبر کو ایک بار پھر مغربی بنگال پہونچ رہے ہیں مغریبی بنگال کے 24پرگنہ ضلع میں جے پی نڈا کے قافلے پر حملے کے چند گھنٹے بعد ترنمول کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ بھگو ا دل کے لوگوں نے لوگوں کو حالات خراب کرنے کےلئے بھڑکیا تھا ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر سبرت مخرجی نے کہا کہ بھاجپا کا ریاست کے حکمراں پارٹی کے تاریخی رپورٹ کارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی ؟ ویسے بھاجپا صدر جے پی نڈا کو جےڈ سیکیورٹی ملی ہوئی ہے اس کے باوجود کچھ لوگ نڈا کی گاڑی پر پتھر بازی کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقینی طور سے اسے سیکیورٹی انتظام میں ایک بڑی چوک کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...