Translater
19 جون 2025
کیا ایران وسطی ایشیا کا نیا سپر پاور بنے گا؟
جمعہ کو اسرائیل نے ایران کیخلاف یہ کہتے ہوئے بڑے حملوں کو انجام دیا کہ ایران اس کے لئے اور دنیا کیلئے وجود کیلئے سنکٹ کھڑا ہو گیا ہے ۔اسی مقصد کو ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل نے تہران پر تابڑ توڑ حملہ کیا ۔اسرائیل اور اس کے حمایتی ملکوں نے سوچا تھا کہ اس حملے کے بعد جس میں اس نے ایران کی ٹاپ ملیٹری لیڈر شپ اور نیوکلیائی سائنسدانوں کو مار ڈالاتھا سوچا کہ ایران اب ڈر کر چپ بیٹھ جائے گا لیکن اتنی بربادی کے 24 گھنٹے کے اندر اندر ایران نے اسرائیل پر اتنا زبردست جوابی حملہ کیا کہ اسرائیل ،امریکہ تمام اس کے ساتھی تلملا گئے ہیں۔اسرائیل کے جمعہ کو کئے گئے حملے کے جواب میں سنیچروار کو ہی جوابی حملہ کر دیا ۔اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کے مطابق ایران نے سنیچروار کی دیر رات قریب 24 گھنٹے میں 150 سے زیادہ اسرائیلی محاذوں کو نشانہ بنایا اور تب سے لے کر اس آرٹیکل کے لکھنے تک اسرائیل پر اپنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون کے ذریعے تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔ایرا ن نے اسرائیل کے کئی اہم ترین فوجی اڈوں کو سیدھا نشانہ بنایا ہے ۔ان میں فوج کا ہیڈکوارٹرسے لے کر وائز مین سنٹر جہاں سے اسرائیل ساری فوجی کاروائی طے کرتا ہے ۔وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہ تک کو نہیں چھوڑا ۔اسرائیل دراصل ایرانی میزائل اسرائیل کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو گچا دے کر اپنے نشانہ پر پہنچ گئے ۔اس سے ساری دنیا چونک گئی ۔ایران نے ثابت کر دکھایا کے اس کی ٹیکنالوجی امریکہ روس اورچین کے تقریباً برابر پہنچ گئی ہے ۔اسی سے اسرائیل اور امریکہ میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے ۔یہی نہیں دیگر فوجی عرب ممالک میں بھی دہشت پیدا ہو گئی ہے۔ایران دراصل پچھلے 20-25 برس سے اس لمحہ کی تیاری کررہا تھا ۔اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنے کے پیچھے کئی مقصد تھے ۔دراصل وہ چاہتے ہیں کہ ایران میں آیت اللہ عہد کا تختہ پلٹ کر اپنی من پسند ہمدردر دسرکار کو سونپ دیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای اس مقصدمیں ایران کے اندر سے بھی اس کو مدد مل رہی ہے ۔موساد نے ایران کے اندر کئی سلیپر سیل تیار کر لئے ہیں جو آیت اللہ علی خامنہ ای سرکار کے خلاف اسرائیل کے لئے کام کرتے ہیں ۔پھر شاہ رضا پہلووی کے حمایتی ابھی بھی ایران میں موجود ہیں ۔جمعہ کو جب اسرائیل نے پہلی بار جب ایران پر حملہ کیا تھا تو ان میں ایران کے اندر سے ہی ڈرونوں سے حملہ کیا گیا ۔اس کا مطلب ہے کہ موساد نے ایران کے اندر ہی ڈرون فیکٹری تیار کر لی تھی ۔ایران کے ٹاپ ملیٹری لیڈر شپ کی پختہ جانکاری بھی ایران موساد ایجنٹوں نے اسرائیل کو دی ہوگی ۔اور تبھی موساد نے ٹھیک نشانوں پر حملہ کیا ۔اس درمیان اسرائیل سرکار نے ایرانی لوگوں سے خامنہ ای کو اقتدار کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ہے ۔اس کے لئے اسرائیل کی جانب سے فارسی زبان میں پیغام میں جاری کئے جارہے ہیں ۔اس درمیان یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کرنے کی اسرائیلی اسکیم پر روک لگا دی ہے ۔کل ملا کر جس طریقہ سے ایران اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے کررہا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مڈل ایسٹ میں ایک نیا پاور سنٹر ایران بننے جارہاہے ۔
(انل نریندر)
17 جون 2025
اگر جنگ بڑھی تو کیا ہوگا؟
پہلے سے جنگ لڑرہے اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کر جس میں کئی بڑے ایرانی فوجی کمانڈر مارے گئے ہیں ۔اپنے لئے جنگ کا نہ صرف ایک نیا مورچہ کھول دیا ہے بلکہ یوں کہیں نہ صرف مغربی ایشا کو ہی بلکہ پوری دنیا کو ایک خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔دراصل اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن رائزنگ لائن ایران کے مبینہ نیوکلیئر ہتھیار کی توقعات کے ناکام کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔اسرائیل کے حملے کے جواب میں جمعہ کے روز ایران نے اپنا جوابی کاروائی شروع کی۔اسرائیل میں راجدھانی تل ابیب ،یوروشلم میں کئی جگہوں پر کئی بیلسٹک میزائلیں داغی گئیں ۔اور ڈرون سے حملہ کیا گیا ۔شوشل میڈیا میں بصرہ میں ایران کے حملے سے ہوئی بربادی کی کئی تصویریں بھی سامنے آئی ہین ۔ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ملٹری کمانڈ سنٹر جہاں سے اسرائیل کے سارے حملے اور کاروائیں طے کی جاتی ہیں اس کو بھی تباہ کر دیا ہے ۔اسرائیل کا طاقتور ایئر ڈیفنس سسٹم کو کئی میزائلوں اور ڈرون سے گراسکا لیکن بہت سی میزائلیں اور ڈرون ٹھیک نشانہ پر لگی ۔اب اسرائیل کی باری ہے اور پھر ایران کا جواب دے گا ۔ایران بے شک یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا نیوکلیائی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے لیکن اس پر خفیہ طور سے نیوکلیائی پروگرام چلانے کے جو الزام لگتے رہے ہیں وہ خدشات بھی پیدا کرتے ہیں ۔اس کا مزید ایران کی جانب سے باربار اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکیاں اور اس کے ذریعے حمایتی حماس اور حزب اللہ اور حوسی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں اسرائیل کی تشویشات کو اور ٹھوس بناتی ہیں ۔پھر سوال صرف اسرائیل کی سیکورٹی کا نہیں ہے بلکہ ایک نیوکلیائی طاقت کفیل ایران پورے مغربی ایشیا میں طاقت کے تواژن کو بگاڑنے کا بتایاجارہا ہے ۔پھر سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ پاکستا ن بھی تو ایک اسلامی نیوکلیائی کفیل دیش ہے تو اس سے نہ تو امریکہ کو کوئی فکر ہے اور نہ ہی اسرائیل کو کیا ہم یہ مان کر چلیں کہ پاکستان خفیہ طور سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے ۔شوشل میڈیا میں تو یہاں تک دعویٰ کیاجارہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے قریبی تعلقات ہیں اور اطلاعات کے تبادلے میں شریک کار ہیں ۔جب پاکستا ن سے کوئی خطرہ نہیں تو ایران سے کیوں ؟ وہیں دہائیوں میں ہم نے مغربی ایشیا میں بہت خون خرابہ دیکھا ہے ۔لاکھوں بے گناہ مارے جاچکے ہیں ایسے میں اگر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اور بڑھتی ہے تو بڑی تعدادمیں لوگ مارے جائیں گے ۔ایراق وافغانستان کی تباہی لوگ بھولے نہیں ہیں اور بیچ میں بسے اسرائیل اور ایران کی تباہی کو ئی نہیں چاہے گا ۔اگر شوشل میڈیا پر جائزہ لیا جائے تو کچھ بسطی ایشیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ خراسان میں امانت اللہ عہد کو ختم کرکے اپنے مفاد والی سرکار بنانا چاہتا ہے ۔اور ایران کو بم بنانے کی جلدی ہے ۔جبکہ امریکہ کے ساتھی دیش ایسا نہیں چاہتے ۔ایران کی اس کوشش پر اسرائیل کو سخت اعتراض ہے اور اس کا خیال ہے کہ اگر ایران کا نیوکلیائی پروگرام بھی نہیں روکا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی اور ایران ایک نیوکلیائی کفیل ملک بن جائے گا جو اسرائیل کے وجود کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جائے گا اس لئے وہ جلدی میں ہے ۔آج جنگ اور جنگ کے ماحول دونوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔کچھ لوگوں کا غرور کی وجہ سے عام لوگوں کا خون نہیں بہنا چاہیے اس کے ساتھ ہی یہ مسلم ملکوں کے لئے بھی امن چین سے سوچنے کا وقت ہے ۔انہیں مذہب کی بنیاد پر کسی بھی گروپ بندی یا جنگ کی حمایت سے بچنا ہوگا ۔رہی بات اسرائیل کی تو امریکہ ایسے ہر مورچہ پر پلہ جھاڑ کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اس لڑائی میں امریکہ پوری طاقت سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ہے بلکہ ہم یہی کہیں کہ یہاں ساری خرافات کے پیچھے امریکہ اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہاتھ ہے ۔اس کا پٹھو نیتن یاہو بغیر امریکہ کے ایک قدم بھی نہیں اٹھاتا ۔ٹرمپ کو لگتا ہے کہ اس میں بعد کی بھی قطعی فکرنہیں ہے کہ ایران - اسرائیل جنگ تیسری جنگ میں نہ بدل جائے جس کا امکان ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...