Translater

30 دسمبر 2018

2018میںپاکستان کے دو بڑے لیڈروں کی قسمت یوں بدلی

2018میں پاکستان کے دو بڑے لیڈروں کی قسمت الگ الگ ڈھنگ سے بدلی ہے ۔ لمبے عرصہ تک جد و جہد کے بعد عمران خان جہاں پاکستان کے نئے کپتان بنے وہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جیل جانا پڑا ۔کرکٹ میں پاکستان کو ورلڈ کپ دلانے والے عمران نے 18اگست کو پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم کے طور پر حلف لے کر اپنی نئی پاری کا آغاز کیا ہے ۔دوسری طرف پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے لئے سال 2018مصیبتوں بھرا رہا 24ستمبر کو کرپشن کے جرم میں عدالت نے شریف کو کرپشن کے معاملے میں 7سال کی جیل کی سز ا سنائی اس سے پہلے اپریل میں ان کے چناﺅ لڑنے پر روک لگا دی گئی تھی چھ جولائی کو کرپشن کے ایک دوسرے معاملے میں دس سال کی سزا سنائی گئی کچھ دن بعد پاکستان لوٹتے ہوئے انہیں اور ان کی بیٹی مریم نواز کو گرفتار کر لیا گیا۔ستمبر میں نواز شریف کی بیوی کلثوم نواز کا انتقال کینسر سے ہو گیا تھا ۔اس وجہ سے انہیں اور مریم کو ضمانت پر چھوڑا گیا مگر سال ختم ہوتے ہوتے ایک اور معاملے میں انہیں سزا سنا دی گئی حالانکہ فلیگ شپ انویسٹمینٹ معاملے میں انہیں بری کر دیا گیا ۔پاکستان نے نیتاﺅں کو کرپشن کے معاملے میں سزا دینے کی روایت رہی ہے زیادہ تر نیتا اس سے پچنے کے لئے بیرونی ملک چلے جاتے تھے مرحوم بے نظیر بھٹو خود کافی لمبے عرصے تک بیرونے ملک رہیں امریکی دباﺅ میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ سمجھوتے کے بعد چناﺅ میں شامل ہونے کے لئے واپس آئیں خود مشرف مقدمے کا سامنے کرنے کے بجائے بیرونے ملک خود جلا وطنی کی زندگی جی رہے ہیں ۔نواز نے اس کے بر عکس سزا ملنے پر لندن سے ملک آنے کا متابادل چنا اور مقدموں کا سامنا کر رہے ہیں ۔پاکستان میں جس طرح اقتدار کو لے کر کھیل چلتا ہے اسے دیکھتے ہوئے نواز شریف کے خلاف مقدمے اور سزا کوئی عجوبہ بات نہیں ہے ۔بے نظیر جب اقتدار میں آئیں تھیں تب ان پر شوہر آصف زرداری کے ذریعہ کرپشن کے الزام لگے تھے۔حال ہی میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی بہن متحدہ عرب امارات میں کئی سو کروڑ روپﺅں کی بے نامی پراپرٹی کا خلاسہ ہوا تھا ۔پاکستان میں فوج اور انتظامیہ میںاعلیٰ عہدوں پر ایسے لوگ ہیں جن کے خلاف بے نامی پراپرٹی رکھنے اور کرپشن کے معاملے ہیں ۔بھلے ہی نواز شریف کرپشن کے معاملے میں قصوروار پائے گئے ہوں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ انہیں سیاست سے باہر راستہ دکھانے کا بھی ہتھیار بنا ۔لیکن اتنا صاف ہے کہ آنےوالے لمبے عرصہ تک نواز شریف کی زندگی چنوتیوں سے بھری ہے۔

(انل نریندر)

پورا شمالی ہندوستان سرد لہر کی قہر میں

نیا سال آنے سے پہلے ہی کڑاکے کی سردی نے دستک دے دی ہے ۔پہاڑوں کو تو چھوڑئیے میدانی علاقوں میں بھی ریکارڈ توڑ سردی پڑ رہی ہے دسمبر میں سردیوں کا ایسا قہر ہم نے پچھلے کئی برسوں میں نہیں دیکھا دہلی میں تو پچھلے پندرہ دنوں سے جو ٹھنڈ ہو رہی ہے ایسی دہلی نے پچھلے دس سالوں میں نہیں دیکھی اس مہینے اب تک اوسطاََ کم از کم درج حرارت کی بات کریں تو یہ محض 7.1ڈگری رہا۔یہ عام اوسط درج حرارت سے ایک پوائنٹ دو ڈگری کم ہے اگلے چار پانچ دنوں تک سرد لہر کا قہر جاری رہے گا اگر دسمبر کا تجزیہ کریں تو اس بار دسمبر میں پچھلے تین دن میں کم از کم درج حرارت دو ڈیجٹ میں رہا لیکن پچھلے ہفتے سے درج حرارت پانچ ڈگری سے کم رہا اب آگے یہ دو سے تین ڈگری تک گر سکتا ہے دہلی کو دوہری مار پڑ رہی ہے ایک طرف کڑاکے کی سردی تو دوسری طرف دھواں اور آلودگی کی مار ۔اب یہ بات تو تقریبا طے ہے کہ دہلی میں لوگ نئے سال کا آغاز دھوئیں کے بیچ کریں گے اس دوران آلودگی کی سطح میں ہمیںکوئی راحت نہیں ملے گی کیونکہ دہلی این سی آر کو ابھی تین دن سے چار دن تک آلودگی کی سطح جھیلنی پڑئےگی۔تمام شمالی ہندوستان میں سردی کا ستم جاری ہے ۔سرد لہر کی زد میں آئے نارتھ انڈیا میں جمعرات کو سری نگر میں سب سے ٹھنڈی رات رہی ہماچل اور اتراکھنڈ میں ہوئی برفباری اور سرد ہواﺅں کے سبب شمالی ہندوستان میں درج حرارت نیچے آگیا ۔پہاڑی علاقوں میں کئی جگہ درج حرارت صفر سے نیچے آچکا ہے سری نگر میں بدھوار کی رات کم از کم درج حرارت نفی 7.6ڈگری سیلسیس تک رہا پچھلے 28برسوں میں یہ سب سے کم درج حرارت ہے سری کے قہر سے ڈل جھیل بھی جم گئی ہے ۔یوپی میں کم از کم درج حرارت 0.2ڈگری تک پہنچ گیا ۔وہیں اتراکھنڈ میں 4.2ڈگری سیلسیس رہا ۔جو تین سال میں سب سے کم ہے ۔ہریانہ کے حسار میں درج حرارت نفی رہا سرسا نارنول ،کرک چھیتر ،کرنال میں درج حرارت پانچ ڈگری سے نیچے رہا ۔پنجاپ ،چنڈی گڑھ میں سر د لہر جاری ہے گڑ گاﺅں میں درج حرارت 1.5ڈگری جبکہ راجستھان کے فتح پور میں دوسرے دن درج حرارت نفی 2.2ڈگری رہا ۔ریاست میں پانچ جگہوں پر درج حرارت پانچ ڈگری سیلیس نیچے رہا ۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے بارہ شہروں میں اگلے چار دن تک سر د لہر جاری رہنے کی وارنگ دی ہے ۔کیا یہ سب گلوبل وارنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے ؟ایسی سردی میں اپنے آپ کو کم سے کم ٹھیک ٹھاک کپڑے پہننے سے بچاﺅ ہو سکتا ہے اگر آپ اندر گرم بنیان پہنتے ہیں یہ صرف کافی نہیں ہے ۔بزرگوں کو انر گرم پاجامہ پہننے سے فائدہ ہوگا ۔عورتوں کو بھی سوئیٹر کورٹ و شال سے بچاﺅ کرنا ہوگا ابھی یہ سرد لہر جاری رہے گی ۔اس لئے کسی طرح کا خطرہ مول لینا بیماری کو دعوت دینے کے مانند ہے ۔

(انل نریندر)

29 دسمبر 2018

مہا سیتو سے چین کی سرحد تک پہنچ آسان ہوئی

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی 94ویں جینتی پر پی ایم مودی نے منگل کے روز دیش کا سب سے لمبا بوگی بیل ریل -سڑک پل کو جنتا کو منسوب کیا اس موقعہ پر انہوںنے تن سکھیا -ناہر لگن انٹرسٹی ایکسپریس ٹرین کی شروعات بھی کی تھی ۔4.94کلو میٹر لمبے اس پل کی تعمیر اٹل سرکار کے وقت میں شروع ہوئی تھی آسام میں برہم پتر ندی پر بنا یہ پل ڈبرو گڑھ نارتھ کنارے پر چھیماجی ضلع کو جوڑتا ہے اس پل کی اہمیت کو اس سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ دیش کا سب سے لمبا پل ہے تقریبا 5کلو میٹر سے کم لمبا یہ پل اتنا مضبوط ہے کہ کسی شکن کے بغیر 120برس تک ساتھ نبھاتا رہے گا اس پروجکٹ کا سنگ بنیاد سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دےگوڑا نے 22جنوری 1977کو رکھا تھا جب اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی سرکار کے عہد میں 21اپریل 2002سے اس پروجکٹ پر کام شروع ہوا تھا ۔کانگریس کی قیادت والی سرکار نے 2007میں اسے قومی پروجکٹ قرار دیا تھا اس کے عمل درآمد میں تاخیر کے سبب اس پروجکٹ کی لاگت 85فیصد تک بڑھ گئی اس کی تخمینہ لاگت 3230.02کروڑ روپئے تھی جو بڑھ کر 5960کروڑ روپئے تک پہنچ گئی لمبے عرصے تک ترقی کی قومی دھارا سے کٹے رہے نارتھ ایسٹ میں اس پل کی کیا اہمیت ہے یہ اس سے سمجھا جا سکتا ہے اس کی وجہ سے ڈبروگڑھ اور اروناچل پردیش کی راجدھانی ایٹا نگر کے درمیان سڑک شاہراہ سے دوری 150کلو میٹر ان دونوں شہروں کی ریل راستہ کی دوری 750کلو میٹر کم ہو جائے گی اس پل کے نچلے حصے میں ریل لائن بنائی گئی ہے اور اوپری حصے میں سٹرک راستہ یہ پل آسام اور اروناچل پردیش کے لوگوں کی زندگی کو تو آسان بنائے گا ہی ساتھ ہی ہندوستانی فوج کے لئے بھی ایک اہم پروجکٹ ثابت ہوگا فوج کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے اس کو اتنا مضبوط بنایا گیا ہے کہ اس پر بھاری بھرکم ٹینکوں کو لے جایا جا سکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر ائیر فورس کے جیٹ جہاز بھی اتارے جا سکتے ہیں یہاں یہ یاد دلانہ بھی ضروری ہے کہ بوگی بل پل سے کچھ ہی آگے بھارت اور چین کی سرحد ہے یعنی وہ جگہ جہاں چین ہمیشہ سے بھارت کے لئے درد سر بنا رہا ہے اس لحاظ سے یہ پل اس علاقہ میں فوج کو ملی محض ایک سہولیت ہی نہیں بلکہ ایک اہم بھروسہ بھی ہے پل کی تعمیر غیر ملکی تنیک اور ساز وسامان سے ہوئی ہے اس میں 80ہزار ٹن اٹیل لگی ہے اور یہ ریختر اسکیل پر آنے والے زلزلے کی رفتار کو جھیل سکتا ہے اس پل کے وجود میں آنے سے یقینی طور سے نارتھ ایسٹ میں ترقی کا ایک نیا باب کھل گیا ہے ساتھ ہی یہ پل فوجی نکتہ نظر سے بھی کم اہم نہیں ہے ۔بدھائی

(انل نریندر)

این آئی اے اوردہلی پولس کی شاندار کامیابی

نارتھ ایسٹ دہلی کی چھوٹی چھوٹی تنگ گلیوں اور بھرم پوری مین روڈ پر بھاری جام کی دشواری کے باوجود جعفرآباد علاقہ آتنک کا گڑھ بنتا جا رہا ہے یہاں کی بے حد تنگ گلیوں میں مقامی پولس بھی جاتی ہوئی گھبراتی ہے لیکن این آئی اے (قومی تفتیش رساں ایجنسی )و دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے جس بخوبی سے چودہ گھنٹوں تک علاقہ میں کارروائی کر کے دنیا کی سب سے خطرناک مانی جانے والی دہشتگرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس آئی ایس )کے بالکل نئی تنظیم حرکت الحرب کو بے نقاب کر کے کارروائی کی ہے وہ قابل تعریف ہے ۔این آئی اے نے بدھوار کو بتایا کہ اس نے اسلامک اسٹیٹ سے متاثر دہشت گرد تنظیم حرکت الحرب الاسلام کا پردہ فاش کر دیا ہے دہلی اور یوپی کے سترہ اڈوں پر چھاپہ مار کر فدائی حملوں کی سازش تیار کرنے میں لگے ماسٹر مائنڈ سمیت دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے پانچ سال میں یہ سب سے بڑا دہشتگردانہ ماڈول ہے پولس کے مطابق گرفت میں آئے اس کے گرگے کئی بم بنا چکے تھے اور دھماکوں کے لئے بیرون ملک میں بیٹھے آقا سے سگنل ملنے کا انتظار کر رہے تھے یہ لوگ دہلی سمیت اترپردیش کے کئی شہروں میں بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں سلسہ وار دھماکہ کی تیاری میں تھے،نشانے پر دہلی پولس اور آر ایس ایس کے ہیڈ کواٹر سمیت کئی بڑے ادارے اور بڑے لیڈر تھے وقت سے پہلے سازش بے نقاب ہونے سے نئے سال اور 26جنوری سے پہلے نارتھ انڈیا کو دہلانے کی کوشش ناکام ہوئی ہے ۔این آئی اے نے دہلی میں سیلم پور اور جعفرآباد میں چھاپے مارے ۔یوپی میں اے ٹی ایس کے ساتھ ملکر امروہہ ،ہاپوڑ ،میرٹھ اور لکھنﺅ میں چھاپہ مارا خاص بات یہ ہے کہ سازش کو انجام تک پہنچانے کے لئے ان لوگوں نے پیسہ بھی خود اکٹھا کیا تھا ۔کچھ نے تو ایسا کرنے کےلئے اپنا گھر تک بیچ دیا تھا ۔گرفتار لوگ ریموٹ کنڑول پائپ بم اور سوسائڈ جیکٹ تیار کر رہے تھے ان کے پاس سے ساڑھے سات لاکھ نقد اور 120ارارم گھڑی ،سو موبائل 135سم راکٹ لانچر دیسی پسٹل تلواریں اور جہادی لیٹریچر ملا ہے کئی لیپ ٹاپ اور ہارڈ دیسک بھی ضبط کی گئی ہیں ۔امروہہ کی مسجد کا امام مفتی سہیل حملے کا ماسٹر مائنڈ ان دنوں دہلی کے جعفرآباد میں رہ رہا تھا اور واٹس ایپ کال سے رابطہ قائم کرتا تھا اس سے جڑے لوگوں میں انجینئر آٹو ڈرائیور ،کاروباری،ویلڈراور ایک لڑکی بھی ہے سبھی کی عمر 20سے تیس کے درمیان بتائی جا رہی ہے حالانکہ خود این آئی اے کا بھی کہنا ہے کہ جن لوگوں کو اتنی بڑی آتنک کی سازش رکھتے ہوئے پکڑا گیا ہے ان میں سے کسی کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے مگر یہ سچ ہے تو اس میں بھولے بھالے لڑکوں کو دہشتگردی کے راستہ پر جانے سے روک پانے میں ہماری ناکامی ظاہر ہوتی ہے آتنکی نیٹورک کا جس رفتار سے پردہ فاش ہو رہا ہے یہ انجام تک پہنچانے کی رفتار ایسی ہے جیسی ہونی چاہیے ۔این آئی اے کی اہمیت سے انکار نہیں اس کا یہ دعوی ہے اس کے ذریعہ پکڑے گئے 95فیصدی ملزم قصوروار قرار دئے جاتے ہیں لیکن مالیگاﺅں دھماکہ سے لے کر مکہ مسجد دھماکہ تک کئی ہائی پروفائل معاملوں میں اس کا ریکارڈ ویسا با اثر نہیں رہا ایسے وقت میں جب پچھلے کچھ برسوں میں بھارت کے مختلف حصوں خاص کر کشمیر تمل ناڈو کیرل کرناٹک حیدرآباد اور مہاراشٹر میں کئی بار آئی ایس آئی ایس نئے گروہ سرگرم ہونے کی بات سامنے آچکی ہے ان حالات میں تازہ کارروائی بڑی کامیابی ہے اور راحت کا باعث بھی ہے کیونکہ این آئی اے نے آتنکی بڑی سازش بے نقاب کر دیا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ گرفتار ملزمان کے خلاف سارے ثبوت اکٹھے کر انہیں سزا دلانے کی سمت میں تیزی سے بڑھیں تاکہ کسی طرح کا شبہ اور سوالوں کی گنجائش نہ رہے یہ اسلئے ضروری ہے کیونکہ کئی بار کچھ لوگ دہشتگردی کے معاملے پر سیاست کرنے سے بعد نہیں آتے اور یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ جانچ ایجنسیاں بے قصور اقلیت طبقہ کو جان بوجھ کر ٹارگیٹ کرتی ہیں ایسے معاملے عدالت میں ٹکتے نہیں ہیں این آئی اے اور دہلی پولس کی شاندار کامیابی پر بدھائی لیکن اصل مبارکباد کی حقدار این آئی اے تب ہوگی جب عدالت میں وہ اپنا کیس ثابت کر سکے۔

(انل نریندر)

28 دسمبر 2018

این ڈی اے کے مستقبل پر سوالیہ نشان

ہندوستانی سےاست کا معےار اتنا گرچکا ہے حالانکہ ےہ کہلاتے تو عوامی نمائندے ہےں لےکن سب سے اوپر ان کا مفاد ہوتا ہے ۔جنتا کا بھلانہےں ۔اقتدار کےلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہےں ،آپ اوپندر کشواہا کا ےہ قصہ لے لےں ۔وہ ساڑھے چار برس تک مودی سرکار مےں منتری بنے رہے اور اب انہےں مودی سرکار نے پسماندہ اور غرےبوں کے لئے کوئی کام نہےں کےا ۔بہار مےں دونوں فرےقےن کے سےٹوں کے بٹوارے سے اتناصاف لگ رہا ہے کہ اتحادوں پر 2019کا لوک سبھا چناو ¿ زےادہ منحصر ہوگا ۔بھاجپا کو لگنے لگا ہے کہ اکےلے مودی کے کرشمے سے وہ اقتدا رمےں وہ واپس نہےں آسکتی اسلئے وہ مختلف ساتھےوں کی تلاش مےں ہے جو انہےں اقتدار تک پہنچا سکے بہار مےں جن ڈھنگ سے بھاجپانے اپنے ساتھےوں کو سےٹےں بانٹےں ہےں اس سے تو ےہی لگ رہا ہے کہ بھاجپا کو اب اکےلے اپنے اوپر چناو ¿ جےتنے مےں شبہ ہونے لگا ہے شےو سےنا لگا تار بھا جپا کوکٹھگھرے مےں کھڑا کررہی ہے وہ آخر مےں کےا کری گی فی الحال کہنا مشکل ہے اےن ڈی اے کی اہم اتحادی شےوسےنا کے راجےہ سبھا کے لےڈر سنجے راوت نے کہا کہ کانگرےس صدر راہل گاندھی بدل چکے ہےں اور وہ مودی کا مقابلہ کرنے مےں اہل ہے اسلئے راہل گاندھی اپوزےشن کے لئے پی اےم امےدوار کے اچھے متبادل ہےں راوت نے کہا کہ 2014والے راہل گاندھی اب 2019مےں نہےں ہے اب راہل دےش کے نتےا بن چکے ہےں جس طرح سے تےن رےاستوں کے نتےجے آئے ہےں اس سے راہل کے بارے مےں سوچ بدلی ہے ۔وہ مودی کو ٹکردے رہے ہےں ۔آج لو گ انہےں سننا چاہتے ہےں لوگ ان سے بات کرنا چاہتے ہےں تےن رےاستوں مےں بھاجپا کے اسمبلی چناو ¿ مےں ہار سے 2019کے لوک سبھا چناو ¿ پر اثر پڑے گا ۔ان تےنوں رےاستوں مےں 60سے لےکر 80لوک سبھا سےٹےں ہےں ۔اگر ان مےں سے آدھی بھی کانگرےس کے حق مےں آجاتی ہےں تو مودی کے نمبروں کی تعداد گھٹ جائے گی اتر پردےش تو سب سے بڑی چنوتی ہے اتر پردےش مےں سپا اور بسپا کا اگر صحےح معنی مےں اتحا د ہوجاتا ہے تو ےہ نرےندرمودی کے دوبارہ وزےر اعظم بننے کی راہ مےں بڑا روڑا بن سکتا ہے در اصل ہندوستانی سےاست کی پرانی کہاوت ہے دہلی کا راستہ لکھنو ¿ سے ہوکر گذرتا ہے اور اے بی پی نےوز سی ووٹر کا چناو ¿ سے پہلے سروے اسی بات پر دعوی کرتا لگ رہا ہے ۔سروے کے مطابق اگر رےاست مےں اےس پی اور بسپا کا اتحاد نہےں ہوتا تو اےن ڈی اے کے 2019کے لوک سبھا چناو ¿ مےں 291سےٹےں مل سکتی ہےں جو اکثرےت کے لئے درکار نمبر سے 19زےادہ ہے دوسری طرف اگر اےس پی بی اےس پی کا اتحاد بنا رہتاہے تو 534پارلےمانی لو ک سبھا مےں اےن ڈی اے کی سےٹےں گھٹ کر 247ہوجائےں گی اس صورت مےں اسے اکثرےت کے لئے 25اور ممبران پارلےمنٹ کی حماےت کی ضرورت ہوگی ۔2014کے عام چناو ¿ مےں بھاجپا کی شاندار جےت مےں ےوپی کی بڑا اشتراک رہا تھا ۔جہاں پارٹی نے 80مےں سے 71لوک سبھا سےٹےں جےتی تھی وہےں اس حالےہ سروے کے مطابق اگر آج چناو ¿ ہوتا ہے تو اترپردےش مےں اےس پی بی اےس پی اتحاد 50سےٹےں جےت سکتی ہےں ۔وہےں بی جے پی کو محض 28سےٹوں سے تشفی کرنی پڑسکتی ہے ۔اس حساب سے اس نے 2014کے لوک سبھا چناو ¿ کے مقابلے 43سےٹوں کا نقصان ہوتا دکھائی پڑرہا ہے وہےں اگر ان گٹھبندھن مےں کانگرےس بھی شامل ہوتی ہے جس کے لئے پارٹی بھر پور کوشش کررہی ہے تو بی جے پی کی سےٹےں اور کم ہوجائےں گی لوک سبھا چناو ¿ سے پہلے اب تو اےن ڈی اے اتحادی بھی بی جے پی کو آنکھےں دکھانے لگے ہےں ۔اختلاف ےہاں تک پہنچ گےا ہے کہ رےاستی سرکار مےں شامل سوبھاشپا رےزروےشن کو تےن حصوں مےں بانٹنے کے لئے دھرنا مظاہرہ دی رہی ہےں اپنا دل (اےس )کے قومی صدر آشےش سنگھ پٹےل نے منگلوار کو رےاستی حکومت پر سمان نہ دےنے کا الزام لگاےا ہے پٹےل نے کہا کہ موجودہ حالات مےں انہےں سوچنا پڑے گا جہاں عزت نہ ہو ،ضمےر نہ ہو وہاں کےوں رہےں؟سبھی متبادل رکھنے کا اشارہ دےتے ہوئے انہوں نے ماےاوتی کے عہد مےں قانون ونظام کو ےوگی سرکار سے بہتر بتاےا 2018کی سےاسی ہلچل کے نظرےہ سے بےحد اہم ترےن رہا اور آنے والے برسوں کی زمےن تےار کرگےااس حےران کن سبھی سے بڑی تبدےلی اپوزےشن سےاست مےں آئی پھولپور اور گورکھپور سے شروع ہوئے اپوزےشن اتحاد کی مہم نے اتنا زور پکڑا کے سال کا خاتمہ ہوتے ہوتے اس نے اےن ڈی اے کی گھےرا بندی کا تانا بانا بن لےا ۔تےن رےاستوں مےں جےت کر اہم بڑی اپوزےشن کانگرےس نے بھا جپا کو کمزور کےا ہے وہےں کمزور پڑی اپوزےشن مےں نئی جان ڈال دی ہے ۔بے شک پھولپور ،گورکھپور کی جےت بی جے پی کے لئے اتنی اہم نہ ہو لےکن اس جےت سے بھاجپا سے لڑنے کا فار مولہ مل گےا ےعنی بھاجپا کو ہرانا ہے تو ساری اپوزےشن اےک ہوجائےں اس فارمولہ پر ہی عام چناو ¿ کے لئے اتحاد کی بساط بچھنے لگی ہے ۔اےک طرح جہاں اپوزےشن متحدہ ہوئی وہےں اےن ڈی اے کی دو اہم اتحادی ٹی ڈی پی اور آر اےل اےس پی اسے چھوڑ کر چلی گئی سب سے پرانی اتحادی جماعت شےوسےنا نے بھی الگ چناو ¿ لڑنے کا فےصلہ کےا اکالی دل نے بھی آنکھےں دکھائی 2018مےںنو رےاستوں تری پورہ ،مےگھالے،ناگالےنڈ ،کرناٹک ،چھتےس گڑھ ،مےزورم ،مدھےہ پردےش ،راجستھان او رتلنگانہ مےں اقتدار بدلا ،وزےر اعظم نرےندرمودی جو لہر 2014مےں دکھائی دی وہ 2018کے آتے آتے آخر مےں کافی کمزور پڑ گئی ان اسبا ب سے اےن ڈی اے کےلئے لوک سبھا چناو ¿ کل ملاکر اےک بڑی چنوتی لےکر آئے گا ۔اےن ڈی اے کا مستقبل کےا ہے ےہ تو چناو ¿ کے بعد ہی پتہ چلے گا ۔

(انل نریندر)

27 دسمبر 2018

امریکی جوج ہٹتے ہی طالبان کا ہو جائے گا پورا قبضہ

شام سے فوجوں کو واپس بلانے کے فیصلے کے اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان سے بھی سات ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔فی الحال افغانستان میں چودہ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جو طالبان آئی ایس (داعش)دہشتگردوں کے خلاف افغانستان میں افغانی فوج کو ضروری مدد پہچانے کے ساتھ ہی ضروری ٹرینگ دے رہے ہیں ۔ان میں سات ہزار فوجویوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔وہیں شام سے فوجوں کو واپس بلانے کو لیکر صدر ٹرمپ سے اختلافات کو لے کر امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے ۔بھارت کے ساتھ امریکہ کے مضبوط فریق کار جین میٹیس نے جمعرات کو اپنااستعفی نامہ صدر ٹرمپ کو سونپ دیا ہے ۔افغانستان حکومت نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے دیش کی سلامتی کو لے کر تشویش جتائی ہے وہیں طالبان نے اس پر خوشی ظاہر کی ہے ۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق میٹس جمعرات کو وائٹ ہاﺅس گئے تھے اور ٹرمپ کو منانے کی کوشش کی تھی کہ وہ شام سے امریکی فوج واپس نہ بلائیں اپنی بات نا منظور ہونے پر میٹس نے استعفیٰ دیا ۔جنرل جیمس میٹس عزت کے ساتھ اگلے ساتھ فروری میں ریٹائر ہونے تھے لیکن اب جلد ہی نئے وزیر دفاع کا اعلان ہو جائے گا ۔امریکی فوج دیش کے باہر دو لاکھ سے زیادہ موجود ہیں جو افغانستان میں پچھلے سترہ برسوں سے رہ رہے ہیں ۔11ستمبر2001کے حملے کے بعد افغانستان میں قابض طالبان نے نیو یارک ٹریڈ ٹاور اُڑانے کی ذمہ داری لی اور القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادین کو سونپنے سے انکار کر دیا تب امریکی صدر جارج ڈبیلو بش نے وہاں ایک فوجی کارروائی کی تاکہ اسامہ کا پتہ لگایا جا سکے اس حملے سے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول بڑھا ایک رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کا دیش کے 55.5فیصد علاقہ پر کنٹرول ہے امریکی فوجیوں کی واپسی کا اثر افغانستان کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔وہاں بڑے پیمانے پر تشدد بڑھ سکتا ہے جو طالبان کے لئے فائدہ کی پوزیشن ہوگی یہ طالبانی حکمت عملی کی جیت ہوگی کیونکہ وہ یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس نے امن سمجھوتے کے بغیر ہی امریکی فوجیوں کو دیش سے باہر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔یہ افغان فوجیوں کے لئے ایک ذہنی جھٹکا ہوگا انہوںنے کہا کہ بہت جد جہد کی ہے خون بہایا ہے اس لئے ان کے لئے یہ فیصلہ مایوس کن ہوگا یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طالبان کو پاکستان سے ہتھیار وں کی شکل میں مدد مل رہی ہے ٹرمپ کے فیصلے سے پاکستان بھی خوش ہے ۔بہرحال بھارت کے لئے یہ ایک تشویش کا موضوع ضرور ہے ۔

(انل نریندر)

سی بی آئی جج ایس جے شرما کا عہد کا آخری فیصلہ

ممبئی مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی )کے اسپیشل جج ایس جے شرما کے لئے بدمعاش سہراب الدین شیخ ،اس کی بیوی کوثر بی اور اس کے ساتھی تلسی پرجاپتی کا مبینہ مڈبھیڑ میں قتل کے 22ملزمان کو بری کرنا ان کے عہد کا آخری فیصلہ ہوگا۔یہ افسوس ناک ہے کہ متاثرین کے ایک پریوار نے ایک بیٹا ،بھائی گنوا دیا ......لیکن یہ ثابت کرنے کے لئے ثبوت نہیں ہیں کہ یہ ملزم جرم میں شامل تھے جج نے کہا کہ انہیں شیخ اور پرجاپتی کے کنبوں کے لئے افسوس ہے کیونکہ تین لوگوں کی جان چلی گئی لیکن نظام کی مانگ ہے عدالت صرف ثبوت کی بنیاد پر ہی چلتی ہے13سال پرانے اس معاملے نے کئی اتار چڑھاﺅ دیکھے اس میں وکیل صفائی کے 92گواہ اپنے بیان سے مکر گئے ایک وقت اسی مقدمہ میں بھاجپا صدر امت شاہ کو بھی 2010میں کچھ وقت کے لئے گرفتار کیا گیا تھا ۔معاملہ 22نومبر 2005کو شروع ہوا جب گجرات کے باشندے سہراب الدین ان کی بیوی کوثر بی اور ان کے ساتھی پرجاپتی کو حیدرآباد سے سانگلی لے جاتے وقت راستے میں پولس نے اپنی حراست میں لیا ۔سہراب الدین اور کوثر کو احمدآبادکے ایک فارم ہاﺅس میں لے جایا گیا جہاں 26نومبر کو سہراب الدین کو مبینہ فرضی مڈبھیڑ میں مار ڈالا گیا تھا اس فرضی نام نہاد مڈبھیڑ کے پیچھے گجرات اور راجستھان پولس کی مشترکہ ٹیم کو ذمہ دار بتایا گیا ۔سہراب الدین کے مبنیہ قتل کے بعد سہراب الدین کے خاندان نے اس معاملے کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا ساتھ ہی کئی طرح کے راز سے پردہ اُٹھنے لگا ۔اس معاملے میں سب سے بڑا نام موجودہ بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ اور گلاب چند کٹاریہ کا؛ ان کے علاوہ گجرات اور راجستھان پولس کے کانسٹبل سے لے کر آئی پی ایس افسر تک کے لوگ اس معاملے میں ملوث پائے گئے آئی پی ایس افسر ایم این دنیش راج کمار پانڈیہ اور ڈی جی بنجارہ سمیت امت شاہ کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ۔جو اس وقت وزیر داخلہ تھے ۔اس معاملے میں گرفتاریاں دینی پڑئیں جج شرما نے 13سال پرانے معاملے میں کہا کہ سہراب الدین کی موت گولی لگنے سے ہوئی قتل کا کوئی ثبوت نہیں ہے ،سازش بھی ثابت نہیں ہوئی ۔مدعی فریق واردات میں شبہ کی وابسطگی نہیں جوڑی جا سکتی اور حالات کے بارے میں ثبوت بھی الزام ثابت نہیں کرتے ۔فیصلے سے سہراب الدین کے رشتہ دار مایوس ہی لیکن ہمت نہیں ہارے اور ان کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے ۔رکب الدین شیخ نے جو سہراب الدین کے بھائی ہیں کا کہنا ہے کہ دھیان دینے کی بات ہے کہ سی بی آئی کی جانچ بھی سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئی تھی ۔

(انل نریندر)

26 دسمبر 2018

تین طلاق بل پر پھر پھنس سکتا ہے پینچ

مسلم سماج میں ایک بار تین طلاق (طلاق بدعت )پر روک لگانے کے مقصد سے لایا گیا مسلم خاتون(شادی ،حق،تحفظ)بل پر27دسمبر کو لوک سبھا میں بحث ہونے کا امکان ہے ۔اگر لوک سبھا کی کارروائی ٹھیک چلی تو آئین سازیہ کام کی فہرست کے تحت اس بل پر جمعرات کو بحث ہونی تھی لیکن ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے کی اپیل پر لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے اسے 27دسمبر کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ۔کھڑگے نے یقین دہانی کرائی کہ 27دسمبر کو بل پر بحث میں اپنی بات رکھیں گے اس میں شامل ہوں گے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کٹر پسندوں اور اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ رکاوٹ ڈالے جانے کے باوجود مرکزی سرکار فوری تین طلاق کے خلاف قانون بنانے کے لئے عہد بند ہے ۔ہمارا یہ عزم اس لئے ہے تاکہ مسلم خواتین کو زندگی کے ایک بڑے بحران سے چھٹکارا مل سکے اتنا ہی نہیں ،نئی حج پالیسی کے تحت سرکار نے آزادی کے ستر سال بعد مسلم خواتین کورشتہ داروں کے بغیر حج کرنے کی اجازت دی ہے ۔تین طلاق کے بل پر پارلیمنٹ میں پھر پینچ پھنس سکتا ہے ۔بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس اس میں تین سال کی سزا کی سہولت کے خلاف ہے کانگریس کا کہنا ہے کہ طلاق دینے پر سزا کی کوئی سہولت کسی مذہب میں نہیں ہے تو پھر اس میں بھی نہیں رکھی جائے ۔لوک سبھا میں دوبارہ بل پیش ہونے کے لئے کانگریس بحث کو تیار ہے ۔لیکن ملکہ ارجن کھڑگے نے کہا کہ ہم نے بحث کی بات کہی ہے اور بحث کرنے اور پاس کرنے میں فرق ہے ۔کیا بل کو موجودہ شکل میں کانگریس پاس ہونے دئے گی ؟اس پر انہوںنے کہا کہ بل میں شوہر کو تین سال تک کی سزا کی سہولت ہے ۔ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔کانگریس کے رخ سے صاف ہے کہ سرکار لوک سبھا میں یہ بل پاس کروانے میں بے شک کامیاب ہو جائے لیکن راجیہ سبھا میں اکثریت نہ ہونے سے یہ بل پھنس سکتا ہے ۔بل کی تین اہم نکات ہیں بل میں سہولت دی گئی ہے کہ بیوی کے علاوہ خونی رشتہ کے رشتہ دار لوگ بھی تین طلاق کی شکایت کر سکتے ہیں ۔شکایت درج کرانے پر مجسٹریٹ کی عدالت بیوی کا موقوف جاننے کے بعد ہی ضمانت پر سماعت کرئے گی۔مجسٹریٹ یہ بھی یقینی کرئے گی کہ متاثرہ کو شوہر سے مالی مدد دلائی جائے ۔معاملے میں 3سال کی سزا ہے ۔کانگریس سمیت تمام پارٹیوں کا کہنا ہے کہ جب تین طلاق ہی تسلیم نہیں ہے ایسے میں یہ جرم کیسے ہوگا ؟ساتھ ہی خاندان کے بکھرنے کا بھی دلیل دے رہے ہیں ۔

(انل نریندر)

اگر جیت کی ذمہ داری لیڈر کی ہے تو ہار کی کس کی؟

مرکزی وزیر بھاجپا نیتا نتن گڈکری ایک بار پھر تنازعات میں ہیں اس بار یہ تنازع گذشتہ سنیچر کو ان کے اس تبصرے کے سبب کھڑا ہوا جس میں انہوںنے مبینہ طور سے کہا تھا کہ اگر جیت کی ذمہ داری لیڈر کی ہے تو ہار کی ذمہ داری بھی لیڈر کی ہونی چاہیے ۔گڈکری کے حال میں ختم ہوئے مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،راجستھان اسمبلی چناﺅ کے بعد یہ ریمارکس آئے ۔انہوںنے کہا تھا کہ کامیابی کا سہرا لینے کے لوگوں میں دوڑ رہتی ہے لیکن ناکامی کو کوئی قبول کرنا نہیں چاہتا ۔لیڈر شپ میں ہار اور ناکامی کو قبول کرنے کا بھی جذبہ ہونا چاہیے ۔وزیر پنے میں ایک تقریب میں بول رہے تھے انہوںنے اپنی بات کی زیادہ تشریح نہیں کی لیکن ان کے تبصروں کو حال میں ہوئے تین ریاستوں کے انتخابات میں بھاجپا کی ہار کے پیش نظر اہم ترین مانا جا رہا ہے جیسا کہ عام طور پر لیڈروں کا ہوتا ہے ،پہلے رائے زنی کر دیتے ہیں پھر اس کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا ذمہ میڈیا کے سر ڈال دیتے ہیں ۔نتن گڈکر ی نے بھی یہی کیا انہوں نے اتوار کو کہا بھاجپا 2019کا لوک سبھا چناﺅ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہی لڑئے گی ۔گڈکری نے اس کے ساتھ ہی میڈیا پر ان کے ذریعہ پنے کے ایک پروگرام میں کئے گئے تبصرے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے لئے میڈیا پر ہی الزام لگا دیا انہوںنے صفائی دی کہ وہ کسی دوڑ یا مقابلے میں نہیں ہیں اور بھاجااگلے عام چناﺅ میں مناسب اکثریت حاصل کرئے گی ۔سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ دوڑ میں شامل ہونے کی بات کیسے آئی ؟آپ نے تو مبینہ طور پر یہی کہا تھا ہار جیت دونوں کی ذمہ داری لیڈر شپ کو ہی لینی چاہیے جو ایک طرح سے ٹھیک بھی ہے ۔لیکن لیڈر شپ بدلنے کی بات کہا ں سے آگئی ۔نتن گڈکری ایک سمجھدار اور تجربے کار نیتا ہیں تو نپی تلی بات کرتے ہیں ۔اگر انہوںنے ہار جیت سے متعلق بیان یا تبصرہ کیا تو اس کے پیچھے وجہ ہوگی ؟یہ کسی سے اب پوشیدہ نہیں ہے کہ ہندتو طاقتیں موجودہ بی جے پی لیڈر شپ سے ناراض ہیں گڈکری ان کے کافی قریبی مانے جاتے ہیں ۔کیا یہ ممکن ہے کہ گڈکری سے یہ بیان دلوایا گیا ہو ؟یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارتی جنتا پارٹی میں لیڈر شپ کے ورکنگ اسٹائل سے ناراضگی پیدا ہو رہی ہے ۔چاہے وہ نیتا ہو یا ورکر وہ اپنے آپ کو لیڈر شپ سے کٹا کٹا محسوس کر رہا ہے ۔بیشک بقول گڈکری کے میڈیا نے ان کے تبصرے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہو لیکن اس کے پیچھے گہرا مطلب ضرور لگتا ہے ۔

(انل نریندر)

25 دسمبر 2018

آپ کے کمپیوٹر جی پر سرکار کی نظر؟

یہ صحیح ہے کہ قومی سلامتی سے سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا اور اس کی سلامتی کے ہر ممکن قدم سرکار کو کرنے چاہیے ۔قومی سلامتی کی تشویش ہر حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے ۔ایسے عناصر پر نظر رکھنی چاہیے جو دیش کے خلاف کسی بھی طرح کی سرگرمیوںمیں شامل ہو اس میں اس کے کمپیوٹر وغیرہ کی نگرانی بھی شامل ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جمہوری نظام میں کسی سرکار کو لا محدود اختیار دیا جانا شامل ہے ؟جمعرات کی رات کو مرکزی حکومت نے قومی سلامتی کے سوال پر اپنے ایک حکم میں مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کر رہیں دس جانچ ایجنسیوں کو دیش میں چلنے والی سبھی کمپیوٹروں کی جانچ کا اختیار دیا ہے یعنی اگر ان ایجنسیوں کو محض ایک شک کی بنیاد پر کسی شخص یا ادارے کے کمپیوٹر میں موجود مواد کو دیکھنے یا جانچنے کا اخیار ہوگا حالانکہ سرکار نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ فی الحال دیش کی سلامتی کے مخصوص حالات پر یہ کارروائی ہوگی ۔بتا دیں کہ نئے حکم میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون 2000کی دفعہ 69کے تحت سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کو کسی کمپیوٹر سسٹم میں تیار اسٹور یا حاصل کئے گئے ڈاٹا کو چیک کرنے یا اس کی نگرانی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔کانگریس نے جمعہ کو مودی سرکار پر بھارت کو ایک سرویلانس اسٹریٹ بنانے کا الزام لگایا ۔پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے کسی بھی کمپیوٹر کے ڈاٹا کی جانچ پڑتال کرنے کے اس حکم کو شہریوں کی پرائیوسی کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کا تانا شاہ رویہ قرار دیا ہے ۔گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت کو پولس ریاست میں بدل کر آپ کے مسلئے کا حل ہونے والا نہیں ہے مودی جی اس سے دیش کی ایک ارب آبادی کا پتہ چل جائے گا کہ آپ حقیقت میں غیر محفوظ تانا شاہ ہیں اس کے ساتھ ہی انہوںنے وہ خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دس مرکزی جانچ ایجنسیوں کو کسی بھی شخص کے کمپیوٹر اور ٹیلی فون کے ذریعہ نگرانی کا اختیار ہے سوال یہ ہے کہ کیا نئے حکم کے بعد عام لوگ بھی اس کی زد میں ہوں گے ؟لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی پرائیویسی کے حق میں مداخلت ہے اپوزیشن پارٹی بھی یہی سوال اُٹھا رہی ہیں ۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ سرکار کے ا س فیصلے کے بعد دیش میں غیر اعلانیہ امرجنسی لاگو ہو گئی ہے ۔وہیں سرکار کا کہنا ہے کہ یہ اختیار ایجنسیوں کو پہلے سے ہی حاصل تھے ۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے الزاما ت کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی نے کہا اپوزیشن عام لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال رہی ہے ۔انہوںنے یقین دلایا کہ انہیں کے کمپیوٹر کی نگرانی رکھی جاتی ہے جو قومی سلامتی اور یکجہتی کے لئے چنوتی ہوتے ہیں ۔اور دہشت گرانہ سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں ۔عام لوگوںکے کمپیوٹر یا ڈاٹا پر نظر نہیں رکھی جاتی ہے ۔

(انل نریندر)

دلت،آدیواسی،جین،مسلمان کے بعد اب ہنومان کو بتایا جاٹ

سنکٹ موچک کہے جانے والے رام بھگت بھگوان ہنومان کی ذات کو لیکر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے ایک ایسی بحث خامخواہ چھیڑ دی ہے ۔اب اس بے فضول بحث کے چلتے دعوں میں تو بھگوان ہنومان کی پہچان کا بحران کھڑا ہوتا جا رہا ہے آدتیہ ناتھ کے ذریعہ ہنومان جی کو دلت بتانے سے شروع ہوا ذات کا تنازع اب یوگی کیبنٹ میں دھامک امور وزیر لکشمی نارائن چودھری کے ذریعہ جاٹ بتانے تک پہنچ گیا ہے ۔وزیر لکشمی نارائن چودھری کا کہنا ہے کہ جاٹ پربھو ہنومان کے ونش ہیں ہنومان جی جاٹ تھے ۔اترپردیش ودھان پریشد میں سوال جواب کے دوران چودھری نے تحریری جواب میں بتایا کہ ہنومان مندروں میں چڑھاﺅے کی رقم کی تفصیل دستیاب نہیں ہے ۔اس پر اپوزیشن کے لیڈروںنے ان کی ذات کا اشو اُٹھا دیا ۔چودھری نے کہا کہ جو دوسروں کے بیچ میں ٹانگ اڑائے وہ جاٹ ہو سکتا ہے اس پر سپا ممبران نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہنومان جی کو تو دلت بتا رہے ہیں ؟اب آپ نے ایک نئی ذات بتا دی ؟چودھری نے بعد میں صفائی دیتے ہوئے بتایا کہ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم کسی کے برتاﺅ سے یہ پتہ کرتے ہیں کہ وہ کس نسل کے ہوں گے ۔جاٹ کا برتاﺅ ہوتا ہے کہ اگر کسی کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہو تو وہ بغیر کسی بات اور جان پہچان کے ہی اس کی مدد میں کو د پڑتا ہے ۔اسی طرح ہنومان جی جس طرح بھگوان رام کی پتنی سیتا کا اغوا ہونے کے بعد ان کی مدد کے لئے بیچ میں شامل ہو گئے تو ان کا یہ برتاﺅ جاٹ سے ملتا ہے اس لئے میں نے ایسا کہا اس سے پہلے جمعرات کو اتر پردیش سے بھاجپا کے ودھان پریشد کے ممبر نواب نے ہنومان کو مسلمان بتا دیا ان کے بیان پر دیوبند کے علماﺅںنے جمعہ کے روز سخت رد عمل ظاہر کیا ۔دارالعوم کے آن لائن فتوی کے انچارج مفتی ارشد شاہ فاروقی نے کہا کہ بغیر کچھ جانے کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے اور کسی بات کو کہنے سے پہلے اس کے بارے میں پڑھنا اور اس کی تحقیقات ضروری ہے ۔دیوبند کے ہی علماءقاری اسحاق گورا نے کہا کہ کسی بھی اسلامی کتا ب میں یہ نہیں لکھا ہے کہ ہنومان جی مسلمان تھے لوگ شہرت حاصل کرنے کے لئے بیان بازی کرتے رہتے ہیں بکول نواب کو ہندو و مسلمان دونوں سے اپنے اپنے بیانوں کے لئے معافی مانگنی چاہیے بھگوان ہنومان کی ذات کو لیکر چل رہی بحث پر چٹکی لیتے ہوئے بھاجپا کی اتحادی پارٹی شیو سینا نے سنیچر کو کہا کہ بہتر ہے کہ رامائن کے دیگر کردار بھی اپنے ذات کا ثبوت نامہ تیار رکھیں ۔پارٹی نے بحث کو بے بنیاد اور فضول بتاتے ہوئے کہا کہ اترپردیش اسمبلی میں بھگوان ہنومان کی ذاتی کا ٹھپہ لگا کر نئی رامائن لکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔اور ایسی کوششوں کو بلا تاخیر روکا جانا چاہیے ۔شیو سینا نے اپنے اخبار سامنا میں اداریہ میں لکھا ہے کہ اصل میں بھگوان ہنومان کی ذاتی کا پتہ لگانا بے وقوفی ہے اداریہ میں آگے لکھا ہے کہ آچاریہ نربھیہ ساگر مہاراج نے دعوی کیا کہ جین گرنتھوں کے مطابق بھگوان ہنومان جین تھے اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس طریقہ سے اترپردیش ودھان سبھا میں نئی رامائن لکھی جا رہی ہے اور ا س کے اہم کرداروں کے ساتھ ذات کا ٹھپہ لگایا جا رہا ہے ۔ایودھیا میں بھگوان رام کا مندر بنایا جانا تھا لیکن یہ لوگ رام بھگت کی ذات پتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اس طریقہ سے وہ بھگوان ہنومان کو مذا ق کا موضوع بنا رہے ہیں لیکن جو لوگ اپنے آپ کو ہندتو کا سرپرست کہتے ہیں وہ اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اگر یہ مسلمانوں یا ترقی پسند لوگوں نے کیا ہوتا تو یہ ہندتو سینا ہنگامہ کر دیتی شیو سینا نے کہا حالیہ چناﺅ میں بھاجپا کو ہار کا سامنا کرنے کے باوجود ہنومان کی ذات پر بحث جاری رکھنا ہے اسلئے رامائن کے دیگر کرداروں کو اپنی ذات کا سرٹیفکٹ تیار رکھنا چاہیے ہم اس بحث کو مستر د کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں اسے یہیں ختم کیا جائے ۔لاکھوں کروڑوں لوگوں کے عقیدت کے حامل بھگوان ہنومان کو یوں سیاسی اشو بنانے سے باز آئیں اس سے ان کے بھگتوں کو ٹھیس لگی ہے ۔

(انل نریندر)

22 دسمبر 2018

سجن کیس کے دوررس نتائج ہوں گے

کانگریس کے سئنیر لیڈر سجن کمار کو عمر قید کی سزا ملنے کے بعد بھی ان کی مشکلیں کم نہیں ہوئیں ہیں انہیں بے شک نچلی عدالتوں سے راحت ملتی رہی ہے اور پہلے معاملے میں انہیں کسی مقدمے میں ہائی کورٹ سے سزا ملی ہے لیکن ابھی انہیں کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ایک دوسرے معاملے میں بھی چشم دید گواہ نے عدالت کے سامنے ان کی پہچان کی تھی اور اب اس معاملے میں بھی جلد فیصلہ آدسکتا ہے ۔سجن کمار پر قریب آدھا درجن معاملے چل رہے ہیں ۔سجن سے پہلے کانگریس کے ہی سورگیہ سرکردہ لیڈر ایچ کے ایل بھگت بھی ایک گواہ کے بیان کے بعد جیل بھیجے گئے تھے لیکن ان کے دیہانت ہونے کے سبب مقدمے کو بند کرنا پڑا ۔نو مبر 84دنگوں کے بعد سے ہی سابق ایم پی سجن کمار ،جگدیش ٹائٹلر اور سورگیہ بھگت کا نام ملزمان کے طور پر خاص طور سے لیا جا تا رہا ہے ۔سجن کمار کا رتبہ اتنا بڑا رہا ہے کہ جب سی بی آئی انہیں گرفتار کرنے مادی پور میں ان کے گھر گئی تھی تو جم کر ہنگامہ ہوا تھا اس کے بعد سے کبھی بھی سی بی آئی یا پولیس انہیں گرفتار کرنے کی ہمت نہ کر پائی ان کے خلاف دہلی چھاﺅنی علاقہ کے علاوہ سلطانپوری ،منگولپوری،نانگلوئی وغیرہ علاقوں میں ہوئے دنگوں کے معاملے زیر سماعت ہیں امکان جتایا جا رہا ہے اگلے برس یعنی 2019میں سبھی مقدمات کے فیصلے آجائیں گے جس طرح ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلہ کو پلٹتے ہوئے سجن کمار کو سزا سنائی ہے اس کا دیگر معاملوں میں بھی اثر پڑے گا ابھی تک سجن کمار کو شبہ کا فائدہ ملتا رہا ہے ۔لیکن آگے اس کا امکان کم ہے حالانکہ عدالت کا فیصلہ گواہوں اور دستاویزات کی بنیاد پر کرنا ہوتا ہے لیکن اب سجن و دیگر ملزمان کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ویسے یہ بتا دیں کہ 84کے دنگوں کے معاملے میں پہلی بار مجرمانہ سازش کے تحت ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے اور سزا سنائی گئی ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ اب تک نہ تو دہلی پولس نے اور نہ ہی سی بی آئی نے کسی بھی ملزم پردنگوں کو انجام دینے کے لئے مجرمانہ سازش کا الزام لگایا تھا معاملے میں سی بی آئی کی جانب سے پیروی کر رہے مخصوص وکیل صفائی اور سینئر وکیل آر ایس چیما نے بتایا کہ آئی پی سی کی دفعہ 120Bکا الزام لگانا ہی سجن کمار کی سزا یقینی کرنے میں اہم رول رہا ہے ۔دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے یہ پہلا معاملہ ہے جن دنگوں کی سازش کو ریموٹ کنٹرول کرنے والوں کو سزا ہوئی ہے ۔یہاں تک کہ سی بی آئی نے بھی چارج شیٹ میں قصورواروں کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام نہیں لگایا ہے چیما نے بتایا کہ پولس اور سی بی آئی نے تو سجن و دیگر پر صرف دنگا کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا تھا ۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے دوررس نتائج ہوں گے۔

(انل نریندر)

بھارت کو ہندو راشٹرگھوشت کرنا چاہیے تھا:جسٹس سین

میگھالیہ ہائی کورٹ نے قومی شہریت رجسٹر (این آر سی)سے متعلق ایک فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کی تاریخ ،تقسیم اور اس دوران ہندوﺅں و سکھوں وغیرہ پر ہوئے مضامین کا حوالہ دیا عدالت نے کہا کہ پاکستان میں خود کو اسلامی ملک اعلان کیا ہے ۔جسٹس ایس آر سین نے آگے کہا کہ وہیں بھارت کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہوئی تھی ۔اسے بھی ہندو راسٹر گھوشت ہونا چاہیے تھا ۔لیکن وہ سیکولر بنا رہا ۔کسی کو بھارت کو دوسرا اسلامی ملک بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ،ورنہ وہ دن دنیا کے لئے قیامت خیز ہوگا ۔انہیں یقین ہے کہ موجودہ حکومت معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ضروری قدم اُٹھائے گی اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ملکی مفاد کودھیان میں رکھتے ہوئے پورا تعاون دیں گی عدالت نے مرکزی حکومت سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ قانون بنائے جس میں پاکستان ،بنگلہ دیش ،افغانستان سے آنے والے ہندو ،سکھ ،جین،بدوھ، پارسی ، عیسائی،کھاسی،وغیرہ فرقہ کو بغیر کسی سوال و دستاویز کے بھارت کی شہریت دی جائے ان کے لئے کٹ آف ڈیٹ نہ ہو ۔یہی وصول بیرونی ملک سے آنے والے ہندوستانی نژاد ہندوﺅں اور سکھوں کے لئے اپنایا جائے حالانکہ عدالت نے کہا کہ بھارت میں پیڑھیوں سے رہ رہے اور وہاں کے قانون کی تعمیل کر رہے مسلم بھائی بہنوں کے خلاف نہیں ہے انہیں بھی پر امن طریقہ سے رہنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔جسٹس ایس آر سین نے استغاثہ رانا کے مقامی رہایشی سرٹیفکٹ سے متعلق عرضی کا نپٹارا کرتے ہوئے یہ ریماکس دئے اس دوران کورٹ نے آسام این آر سی کارروائی کو بھی الزام پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے غیر ملکی ہندوستانی بن گئے ہیں اور بنیادی ہندوستانی ہو گئے ہیں جو تکلیف دہ ہے ۔عدالت نے کہا کہ سرکار سبھی شہریوں کے لئے یکساں قانون بنائے اور اس کی تعمیل پر سبھی پابند ہوں جو بھی ہندوستانی قانون اور آئین کی مخالفت کرتا ہے اسے دیش کا شہری نہیں مانا جا سکتا ۔کورٹ نے فیصلے کی کواپی وزیر اعظم ،وزیر داخلہ،وزیر قانون اور گورنر کوبھیجنے کا حکم دیا ہے ۔میگھالیہ کے جسٹس سین کی بھارت کو ہندو راسٹر بنانے سے متعلق رائے نے سیاسی کھلبلی مچا دی ہے ۔اپنے متنازع تبصرے کے لئے موضوع بحث رہنے والے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے عدالت کی حمایت کی ہے ۔دوسری طرف نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ اور آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے اسے مسترد کر دیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گری راج سنگھ نے کہا کہ جج کے تبصرے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے انہوںنے کہا کہ کئی لوگ اس بارے میں مانگ اُٹھاتے رہے ہیں جنا نے مذہب کی بنیاد پر بٹوارہ کیا تھا یقینی طور پر لوگ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے رہے ہیں۔وہیں فاروق عداللہ نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اپنی پسند کی باتیں کہہ سکتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ایم پی اسدالدین اویسی نے اسے نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے ۔انہوںنے جج کی رائے زنی پر کہا کہ بھارت اسلامی ملک نہیں بنے گا ۔
(انل نریندر)
سجن کیس کے دوررس نتائج ہوں گے !
کانگریس کے سئنیر لیڈر سجن کمار کو عمر قید کی سزا ملنے کے بعد بھی ان کی مشکلیں کم نہیں ہوئیں ہیں انہیں بے شک نچلی عدالتوں سے راحت ملتی رہی ہے اور پہلے معاملے میں انہیں کسی مقدمے میں ہائی کورٹ سے سزا ملی ہے لیکن ابھی انہیں کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ایک دوسرے معاملے میں بھی چشم دید گواہ نے عدالت کے سامنے ان کی پہچان کی تھی اور اب اس معاملے میں بھی جلد فیصلہ آدسکتا ہے ۔سجن کمار پر قریب آدھا درجن معاملے چل رہے ہیں ۔سجن سے پہلے کانگریس کے ہی سورگیہ سرکردہ لیڈر ایچ کے ایل بھگت بھی ایک گواہ کے بیان کے بعد جیل بھیجے گئے تھے لیکن ان کے دیہانت ہونے کے سبب مقدمے کو بند کرنا پڑا ۔نو مبر 84دنگوں کے بعد سے ہی سابق ایم پی سجن کمار ،جگدیش ٹائٹلر اور سورگیہ بھگت کا نام ملزمان کے طور پر خاص طور سے لیا جا تا رہا ہے ۔سجن کمار کا رتبہ اتنا بڑا رہا ہے کہ جب سی بی آئی انہیں گرفتار کرنے مادی پور میں ان کے گھر گئی تھی تو جم کر ہنگامہ ہوا تھا اس کے بعد سے کبھی بھی سی بی آئی یا پولیس انہیں گرفتار کرنے کی ہمت نہ کر پائی ان کے خلاف دہلی چھاﺅنی علاقہ کے علاوہ سلطانپوری ،منگولپوری،نانگلوئی وغیرہ علاقوں میں ہوئے دنگوں کے معاملے زیر سماعت ہیں امکان جتایا جا رہا ہے اگلے برس یعنی 2019میں سبھی مقدمات کے فیصلے آجائیں گے جس طرح ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلہ کو پلٹتے ہوئے سجن کمار کو سزا سنائی ہے اس کا دیگر معاملوں میں بھی اثر پڑے گا ابھی تک سجن کمار کو شبہ کا فائدہ ملتا رہا ہے ۔لیکن آگے اس کا امکان کم ہے حالانکہ عدالت کا فیصلہ گواہوں اور دستاویزات کی بنیاد پر کرنا ہوتا ہے لیکن اب سجن و دیگر ملزمان کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ویسے یہ بتا دیں کہ 84کے دنگوں کے معاملے میں پہلی بار مجرمانہ سازش کے تحت ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے اور سزا سنائی گئی ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ اب تک نہ تو دہلی پولس نے اور نہ ہی سی بی آئی نے کسی بھی ملزم پردنگوں کو انجام دینے کے لئے مجرمانہ سازش کا الزام لگایا تھا معاملے میں سی بی آئی کی جانب سے پیروی کر رہے مخصوص وکیل صفائی اور سینئر وکیل آر ایس چیما نے بتایا کہ آئی پی سی کی دفعہ 120Bکا الزام لگانا ہی سجن کمار کی سزا یقینی کرنے میں اہم رول رہا ہے ۔دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے یہ پہلا معاملہ ہے جن دنگوں کی سازش کو ریموٹ کنٹرول کرنے والوں کو سزا ہوئی ہے ۔یہاں تک کہ سی بی آئی نے بھی چارج شیٹ میں قصورواروں کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام نہیں لگایا ہے چیما نے بتایا کہ پولس اور سی بی آئی نے تو سجن و دیگر پر صرف دنگا کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا تھا ۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے دوررس نتائج ہوں گے۔

(انل نریندر)

20 دسمبر 2018

موبائل میسجنگ بنا سیاسی کمپین کا اہم ذریعہ

مائکرو سافٹ کے فاﺅنڈر بلگیٹس نے اپنی کامیابی کے بعد آسان الفاظ میں بیان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کا سیدھا سیدھا فارمولہ ہے اچھی کمنیوکیشن اسکل ۔گیٹس کا کہنا کہ اگر اس سے لکھنے اور بولنے میں صحیح ہے تو وہ کسی بھی پیشے میں کامیاب ہونے کی قابلیت رکھتا ہے موبائل میسجنگ پچھلے کچھ عرصے سے سیاسی کمپین کا اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے ۔امریکہ کے کیلیفورنیا ریاست کے لیفٹ نینٹ گورنر عہدہ کا چناﺅ لڑئیں ایلینا کولکس نے سین فرینسکو میں اپنے گھر پر ہر سیکنڈ ایک ووٹر سے رابطہ کرتی ہیں ۔ٹیکس میسج کے لوگوں تک پہنچانے کا نیا طریقہ بن گیا ہے امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی زیادہ تر ریاستوں میں قابض ہونے کے باوجود پارٹی کمیٹی نے اس برس نو کروڑ چالیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں کے موبائل نمبر خریدے ہیں سیاسی مسودے کی اپیل نایاب ہے ووٹر کے کسی کام میں دخل دئے بنا اس سے رابطہ قائم ہو سکتا ہے ۔شخصی رابطہ کے دوران کئی لوگوں سے ملاقات نہیں ہو پاتی لیکن ٹیکسٹ میسج سے تیزی سے دور دراز علاقوں میں بیٹھے لوگوں سے رابطے قائم ہو جاتے ہیں کئی حکمت عملی سازوں کا خیال ہے کہ جہاں ہم نے ای میل ان باکس اور سوشل میڈیا پر میسج کی بھرمار تو اپنالیا ہے وہیں ٹیکسٹ میسج شخصی اور مدعو پر مبنی سوال کے ذریعہ ہے ۔مارکیٹنگ فرم موبائل اسکوائب کے مطابق 90فیصد میسج حاصل ہونے کے تین منٹ کے اندر پڑھ لئے جاتے ہیں حالانکہ کئی لوگ سیاسی مہموں میں نظر انداز بھی ہو جاتے ہیں امریکہ کے کئی رپبلیکن سیاست داں کی مہم میں مدد کر رہی فرم اوپینیین سی سیم کے فاﺅنڈر گیرٹ لوسنگ کا کہنا ہے کہ دیگر مقامات پر شور شرابا جھیلنے کے بجائے لوگ ٹیکسٹ میسج پسند کرتے ہیں اور ان کا پلیٹ فارم 17مہاوروں کی فہرست استعمال کرتا ہے اور منفی جواب والے لوگ خود باہر ہو جاتے ہیں ۔سرمایہ لگانے والی فرموں نے اے سیل جیسے پلیٹ فارم میں اربوں روپئے لگائے ہیں ۔ان میسجنگ کی بڑھتی مقبولیت کا ثبوت ہے لیکن کئی لوگ مانتے ہیں کہ کنجومر کی شکایتوں کے سبب سیاسی ٹیکسٹنگ کی شروعات سنہرے دور میں تبدیل ہو سکتی ہے حکومت ہند نے خبر دار کیا ہے کہ واٹس ایپ میں کئی بڑھکاﺅ سندیش بھی بھیجے جا رہے ہیں ایسے بھڑکاﺅ سندیش دینے والوں اور بھیجنے والوں کی شخصی پہچان اور ان کے مقام کے بارے میں جانکاری مانگی جا رہی ہے ۔واٹس ایپ کا بے جا استعمال روکنے کے لئے بھارت سرکار اور کمپنی دونوں پریشان ہیں ۔خیر کسی بھی ایسی سہولت کے بے جا استعمال کرنے والے ہوتے ہیں لیکن اس سے یہ سہولت غلط نہیں ہو جاتی ۔آنے والے دنوں میں خاص کر انتخابات میں یہ واٹس ایپ کمپین کا بڑا ذریعہ بن جائے گا ۔اس کے آثار آج ہی سے نظر آنے لگے ہیں ۔

(انل نریندر)

لوک سبھا چناﺅ دیکھ گہلوت اورکملناتھ کے سر پر تاج

کانگریس صدر راہل گاندھی نے دوراندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے راجستھان اور مدھیہ پردیش کے اوزرائے اعلیٰ کے نام پر مہر لگائی ہے بیشک ان کے انتخاب میں کچھ وقت لگا لیکن راہل گاندھی بطور کانگریس صدر اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں تو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کو لیکر تجربے کار لیڈر کملناتھ کے نام کا اعلان جمعرات کی رات ہی کر دیا گیا تھا راجستھان میں دو بار وزیر اعلیٰ رہے اشوک گہلوت کا انتخاب کانگریس کے مشن 2019کو دیکھ کر کیا گیا ہے ۔اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ میں کون چنا جائے گا یہ سسپینس 2دن بنا رہا آخر میں راہل کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے اس کے پیچھے مشن 2019کی چھاپ صاف نظر آرہی ہے اور راہل گاندھی کے اس فیصلے کا اثر چار ماہ بعد ہونے والے لوک سبھا چناﺅ میں دکھائی دے گا یہی وجہ رہی کہ راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے سبھی دعوے دار ریاستوں سے وابسطہ لیڈروں اور ورکروں سے بات چیت کر نئے نیتا کا انتخاب کیا اسکولی دنوں میں جادو گری کر کے دوستوں کو چونکانے والے گہلوت کو کملناتھ کی طرح سیاست کا جادو گر کہا جاتا ہے جو کانگریس کو مشکل سے مشکل حالات سے نکال لاتے ہیں دونوں ہی نیتا اشوک گہلوت اور کمل ناتھ نہرو گاندھی کے خاندان کے قریبی رہے ہیں ۔کملناتھ کی بات کریں تو وہ گاندھی پریوار کی تین پیڑھیوں سے کام کر چکے ہیں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی تو کملناتھ کو اپنا تیسرا بیٹا مانتی تھیں تو ان کے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی کے وہ اسکولی دوست تھے وہ راہل گاندھی کے بھی قریبی مانے جاتے ہیں دون اسکول میں پڑھائی کے دوران سنجے گاندھی کے دوست بنے تھے اور وہیں سے سیاست میں داخل ہونے کی بنیاد تیار ہوئی ایک بار اندرا گاندھی چھندواڑا کے لئے چناﺅ کمپین کرنے آئیں تھیں اندرا نے تب ووٹروں سے چناﺅی ریلی میں کہا تھا کہ کملناتھ ان کے تیسرے بیٹے ہیں ۔کملناتھ چھندواڑا سے مسلسل نو بار لوک سبھا کے ایم پی رہ چکے ہیں سنجے گاندھی اور کملناتھ کی دوستی اسکول کے زمانے سے ہی مشہور تھی دونوں کا سپنا تھا کہ دیش میں چھوٹی کار کی تیاری میں وسیع پیمانے پر پروڈکشن کرنا تھا اوریہیں سے ماروتی کا جنم ہوا تھا ۔امرجنسی کے بعد کملناتھ کو گرفتار کیا گیا تب وہ سنجے گاندھی کے لئے جج سے بدتمیزی کر بیٹھے تھے اس کے بعد انہیں تہاڑ جیل جانا پڑا لیکن اس سے اندرا گاندھی کی نظروں میں ان کا قد بڑھ گیا تھا ۔کملناتھ اور گہلوت کو کمان دینے کے پیچھے تجربے کے ساتھ سیٹوں کا حساب کتاب بھی لگانا مانا جا رہا ہے ۔دونوں ریاستوں میں کانگریس کو اکثریت کے لئے دوسری پارٹیوں آزاد ممبران پر انحصار کو دیکھتے ہوئے انتظامی تجربے کو زیادہ فائدہ مند مانا گیا ۔ہم کملناتھ اور شری اشوک گہلوت کو وزیر اعلیٰ بننے پر بدھائی دیتے ہیں ۔

(انل نریندر)

19 دسمبر 2018

ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ :سجن کمار کو تا حیات عمر قید

1984کے سکھ مخالف دنگوں کے معاملہ مےں دہلی ہائی کورٹ کا تارےخی فےصلہ آےا ہے ۔اس نے نچلی عدالت کے فےصلے کو پلٹتے ہوئے کانگرےس لےڈ ر سجن کمار کو دنگا بھڑکا نے اور سازش رچنے کے معاملے مےں قصوروار ٹھہراکر تاحےات عمر قےد کی سزا سنائی ۔سجن کو 31دسمبر 2018تک خود سپردگی کرنا ہے آپ کو بتادےں کہ 34سال کے بعد عدالت نے سجن کمار کو سز ا سنا ئی ہے ۔جبکہ اس سے پہلے انھےں بری کردےا گےا تھا ۔درا اصل سی بی آئی نے ےکم نومبر 1984کے دہلی چھاو ¿نی کے راج نگر علاقے مےں پانچ سکھوں کے قتل معاملہ مےں سجن کمار کو بری کئے جانے کے نچلی عدالت کے فےصلے کو ہائی کورٹ مےں چنوتی دی تھی ۔پےر کو جسٹس اےس مرلی دھر وجسٹس ونود کمار گوئل نے ےہ تارےخی فےصلہ سناتے ہوئے کہاکہ سی بی آئی ثبوت شبہ سے پرے ہےں کہ سجن کمار مشتعل بھےڑ کے نےتا تھے انھوں نے بھےڑ کو سکھوں کے قتل کے لئے اکسانے مےں سرگرم ساجھےداری نبھائی کورٹ نے مانا کہ ملزم سےاسی سرپرستی کا فائدہ اٹھاکر بچ نکلے او رسزا دےنے مےں تےن دہائی کی دےری ہوئی ججوں نے کہا کہ متاثرےن کو بھروسہ دےنا ضروری ہے کہ کورٹ کے سامنے چنوتےوں کے باجود سچائی کی جےت ہوگی انصاف ہوگا عدالت نے قصورواروں کو حوالات تک پہچانے کےلئے چشم دےد گواہوں ،جگدےش کور اور اس کے رشتہ دار جگدےش سنگھ اور اےک عورت نرپرت کو رکی ہمت کو سراہا عدالت نے اس معاملہ مےں نچلی عدالت سے قصوروار پانچ دےگر افراد کی اپےل بھی خارج کردی ۔مقدمہ سے پہلے کانگرےس کونسلر کھوکر ،رےٹائرڈ بحرےہ افسر کےپٹن بھاگمل اور گردھاری لال کوعمر قےد کی سزادی تھی ۔وہےں سابق ممبر اسمبلی مہندر ےادو اور کشن کھوکر کو تےن تےن سال قےد کی سزاسنائی تھی ۔ہائی کورٹ نے پانچوں افراد کی سزا برقرار رکھی ہے ساتھ ہی ےادو اور کھوکر کو نئے الزامات مےں قصوروار ٹھہراکر دی گئی سزا کو بڑھا کر دس دس سال کردےا ۔سجن سمےت سبھی قصورواروںکو اےک اےک لاکھ کا جرمانہ بھی لگاےا گےا ۔جسٹس مرلی دھر اور جسٹس گوئل نے فےصلہ مےں کہا اےک سے چار نومبر تک پورے دہلی مےں 2733سکھوں کو بے رحمی سے مار دےا گےا گھا ان کے گھروں کو تباہ کردےا گےا تھا دےش کے باقی حصوںمےں بھی ہزاروں سکھ مارے گئے تھے اس تباہ کن ٹرےجڈی کے جرائم پےشہ کے بڑے گروپ کو سےاسی سرپرستی کا فائدہ ملا اور چانچ اےجنسےوں سے بھی مدد ملی پھر مخالف دنگوں کے بارے مےں ہائی کور ٹ نے کہا ےہ الگ طرےقہ کا عجب معاملہ ہے اور عدالتوں کو اےسے معاملوں الگ نظرےہ سے دےکھنی کی ضرورت ہے بےنچ نے بےن الا قوام سطح پر ہوئے قتل عام کے معاملوں کا حوالہ ےہ دےا کہ عدالت نے دوسری جنگ عظےم کا بھی ذکر کرتے ہوئے بےن الاقوام ملٹری اتھارٹی نے اس طرح کے معاملوں کو انسانےت کے خلاف جرم قرار دےا تھا ۔روم انٹر نےشنل کرمنل کورٹ نے بھی قتل و بد فعلی جےسے معاملات کو انسانےت کے خلاف جرم بتاےا ہے ۔عدالت نے اپنے فےصلہ مےں دہلی وپنجاب مےں ہوئے سکھ مخالف دنگوں کے ساتھ دےگر قتل عام کا بھی ذکر کےا عدالت نے کہا اسی طرح کا قتل عام 1993مےں ممبئی مےں 2002مےں گجرات ڈ،2008مےں اڑےسہ ،اور 2013کے مظفر نگر مےں بھی ہوا تھا جو اقلےتی فرقہ کے خلاف ہوئے جو سنگےن جرم ہے اس طرح کے معاملوں مےں سےاستدانوں کو قانون کے رکھوالوں کی ہی سرپرستی رہتی ہے ۔انسانےت کے خلاف جرم ےا قتل عام گھرےلوجرم کا حصہ ہے ۔اسے فورًا دور کرنے کی ضرورت ہے فےصلہ پڑھ رہے جسٹس اےس مرلی دھر کا گلا بھر آےا اور آنکھےں نم ہوگئی انھوںنے خود کو سنبھالتے ہوئے آنکھےں پونچھےں اور پورا فےصلہ پڑھا انھوں نے اس جرم کو اسنانےت کے خلاف قتل قرار دےتے ہوئے قصورواروں کو جےسی ہی سزا سنائی تو کورٹ مےں موجود متاثرےن روپڑے متاثرےن کے رشتہ داروں نے کہا کہ آخر کا انھےں انصاف ملا ہے ۔سجن کمار کی سخت سزا کا ےہ فےصلہ کئی پےغام دےتا ہے ۔فساد متاثرےن کنبوں کو انصاف ملنے مےں بھلے ہی 34سال لگ گئے ہوں لےکن فےصلہ سے ےہ واضح ہوگےا ہے کہ قانون سے اوپر کوئی نہےں ہے چاہئے وہ کتنا ہی طاقتور سےاستداںکےوں نہ ہوں ۔31اکتوبر 1984کو اس وسوقت کے وزےراعظم اندراگاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے خلاف ےکطرفہ جنگےں ہوئے تھے جس سے دہلی مےں قتل عام کا رےکارڈ بنادےاتھا اےک مہےنہ کے اندر ہوئی دونوں سزا نے متاثرےن خاندانوں کو انصافی نظام سے ٹوٹتی نےند کو قائم رکھا ہے دنےا مےں بھی ےہ پےغام گےا ہے کہ بھارت عدلےہ نظام مےں دےر سوےر ہی صحےح انصاف ملتا ہے ۔جن دنگا متاثرےن نے بلوائےں کو بھڑکانے والوں کے خلاف بولنے کی ہمت دکھائی اور دھمکےں دباو ¿ کے درمےان پےچےدہ قانو ن کے تحت لڑائی لڑنے کا حوصلہ دےا ۔اور اسی کا نتےجہ ہے سجن کمار جےسے نےتاکو سزا کے انجام تک پہونچاےا جاسکا ۔چاہئے سکھ مخالف دنگےں ہوں ےاگجرات کے دنگےں ہو ےا پھر مظفر نگر کے دنگےں ہو ں ےہ وقت کے سماعت پر اےک بڑا داغ ہے ۔ان دنگوں نے دنےا بھر مےں بھارت کی ساکھ کو بھاری دھکا پہونچاےا اےسے مےں سجن کمار ہی نہےں بلکہ دنگےں کی سازش رچنے والے ملزم کو انصاف کے شکنجے مےں لاےا جانا چاہئے ۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2018

رافیل پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ؟

رافیل سودے میں کرپشن کے الزامات سے گھر ی مودی سرکار کے لئے جمع کی صبح اچھی خبر لے کر آئی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو کلین چٹ دیتے ہوئے چھتیس جنگی جہاز خریدنے کے لئے فرانس کے ساتھ ہوئے سودے کی جانچ کی مانگ کرنے والی چاروں عرضیوں کو خارج کر دیا ہے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی بنچ نے کہا کہ سی اے جی نے رافیل کی قیمت کو آڈیٹ کیا پھر پی اے سی نے سی اے جی رپورٹ جانچی ۔سودے میں بلا شبہ کوئی وجہ نہیں دکھائی دی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے 21ویں صفحہ پر 25ویں نقطہ (جواگ سیگمینٹ )میں لکھا ہے کہ کورٹ کو سونپے گئے دستاویزات کے مطابق سرکار نے جنگی جہاز کی قیمت سی اے جی کو بتائی تھی جس کی رپورٹ پارلیمنٹ کی پی اے سی نے دیکھی تھی ۔قومی سلامتی کے پیش نظر رپورٹ کے محدود حصہ ہی پارلیمنٹ میں رکھے گئے سپریم کورٹ کے سامنے تین اہم الزام تھے ۔پہلا خرید کی کارروائی الزام -سرکار نے سودا کرنے کے لئے خانہ پوری کی تعمیل نہیں کی فیصلہ-ہمیں فیصلے کے عمل پر شبہ کا موقع نہیں ملا ۔کارروائی میں معمولی گڑبڑی بھی ہوئی ہو تو یہ معاہدہ ختم کرنے یا مفصل جانچ کی بنیاد نہیں بنتا ۔دوسرا-رافیل کی قیمت الزام-طے قیمت سے زیادہ دکھائی گئی ہے ۔یہ پبلک حقائق ہیں ۔فیصلہ-قیمت سی اے جی کو بتائی گئی سی اے جی رپورٹ کو پی اے سی نے جانچا اس کا ایک حصہ پارلیمنٹ میں رکھا گیا یہاں پبلک ڈومین میں ہے ۔قیمتوں کا موازنہ کورٹ کا کام نہیں ہے ۔تیسرا-آپسیٹ پارٹنر -الزام-ریلائنس ائرو اسٹرکچر لمیڈیڈ کو فائدہ پہنچایا ۔فیصلہ-رکارڈ میں ایسا کچھ نہیں ملا جو یہ دکھائے کہ سرکار نے کسی کو فائدہ پہنچایا ۔انڈین آفسیٹ پارٹنر چننے کا متابادل بھارت سرکار کے پاس ہے یا نہیں جمع کو سپریم کورٹ کا فیصلہ بھاجپا کے لئے راحت لے کر آیا تین ریاستوں میں ہار سے مایوس بھاجپا کو ڈر ستا رہا تھا کہ کہیں اس اشو کو 2019کے عام چناﺅ تک کھینچا گیا تو ان کے لئے اور مودی سرکار کے لئے مشکلیں کھڑی ہو جائیں گی ۔اب پارٹی کو فیصلے کے بعد لگا کہ مودی سرکار کی ساکھ کو خراب کرنے والا ایک دھبہ ہٹ گیا ہے ۔رافیل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھاجپا کے لئے سنجیونی سے کم نہیں ۔پارٹی کے لیڈروں کے چہرے کھل گئے ۔پارٹی نے فورا ہی اشو پر کمپین کی یوجنا بھی طے کر دی ۔صبح وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں واقع اپنے کیبن میں اپنے سئنیر لیڈروں کی میٹنگ کر تبادلہ خیال کیا تو امت شاہ نے دل بل کے ساتھ بھاپا ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کر کے مفصل سے کانگریس صدر راہل گاندھی کے بیانوں کو جھوٹا ٹھہرایا اور دیش سے معافی مانگنے کی بات کہی شام ہوتے ہوتے پارلیمنٹ میں کانگریس نے پانسا پلٹنے کی نیت سے تنازع کو نئی شکل دے ڈالی کانگریس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے سرکار پر جم کر تنقید کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ قیمتیں سی اے جی کی رپورٹ میں درج ہیں پھر یہ رپورٹ سی اے جی کے سامنے رکھی گئی ۔یہ جانکاری حکومت نے سپریم کورٹ کو دی اسی بنیاد پر عدالت نے اپنا فیصلہ دیا میرے استاد پی اے سی کے چیرمین ملکا ارجن گھڑگے ہیں ان کے پوچھئے رپورٹ ان کے سامنے کب آئی ؟اس کے بعد گھڑگے نے کہا کہ پی اے سی میں سی اے جی رپورٹنہیں آئی پھر راہل نے کہا کہ کھڑگے یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے یہ رپورٹ دیکھی نہیں ہے تو کیا پی ایم مودی نے پی ایم او میں کوئی اور پی اے سی بنا رکھی ہے یا شاید فرانس میں چلتی ہوگی سرکار نے اداروں کی ایسی کی تیسی کر رکھی ہے خیر ہم یہ صرف کہہ رہے ہیں کہ معاملہ 30ہزار کروڑ روپئے کی چوری کا ہے مودی رافیل سودے میں متنازع ڈھنگ میں 36جنگی جہازوں کی خرید سے متعلق عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کی مانگ کر رہے عرضی گذار یشونت سنہا ،ارن شوری،پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ کو جمع کے فیصلے کو انتہائی تکلیف دہ بھر ا بتایا مگر کہا کہ اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ سپریم کورٹ نے رافیل سودے میں مودی سرکار کو کلین چٹ دے دی ہے انہوںنے کہا کہ سرکار نے سپریم کورٹ کو جھوٹی جانکاری دے کر جس طرح سے گمراہ کیا وہ دیش کے ساتھ دھوکہ ہے سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ایک بنیاد یہ بھی بتائی کہ مرکزی سرکار نے سی اے جی سے جنگی جہاز کی قیمتیں شئیر نہیں کیں جس کے بعد سی اے جی نے پی اے سی کو رپورٹ دے دی اور پھر پی اے سی نے پارلیمنٹ کے سامنے رافیل سودے کی جانکار ی دے دی ہے ۔جو اب سامنے نہیں لائی جا سکتی ان کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ سی اے جی کو قیمت کی تفصیل ملی ہے یا نہیں ؟لیکن باقی ساری باتیں جھوٹ ہیں ۔سی اے جی کی طرف سے پی اے سی کو کوئی رپورٹ دی گئی ہے نہ ہی پی اے سی نے ایسے کسی دستاویز کا حصہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھا اور نہ ہی رافیل سودے کے سلسلے میں ایسی کوئی اطلاع یا روپورٹ نہیں سامنے لائی ہے ۔سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 32کے تحت اپنے عدلیہ جائزہ کے دائرے کو بنیاد بنا کر عرضی خارج کی ہے ۔سرکار کو کوئی کلین چٹ نہیں ملی ۔رافیل سودے میں کرپشن کے سنگین الزام دیش واسیوں کو تب تک گمراہ کرتے رہیں گے جب تک اس معاملے کی منصفانہ جانچ کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہ ہو جائے ۔دیش کی خاطر ہم اس معاملے کو جاری رکھیں گے ۔صاف ہے کہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے پر نظر ثانی کی مانگ ہوگی ۔یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔یہ تو ٹریلر ہے پکچر آنا باقی ہے ۔

(انل نریندر)

16 دسمبر 2018

شکتی کانت داس کے سر پر کانٹوں کا تاج

ٹکراﺅ اور تمام طرح کے تنازعات کے درمیان ارجت پٹیل کے استعفی کے فورا بعد مقرر کئے گئے ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے گورنر شکتی کانت داس نے کانٹوں بھرا تاج پہنا ہے ۔رگھو رام راجن اور ارجت پٹیل کی شکل میں وہ بھاری اشخاص کے بعد سرکار نے ایک ایسے شخص کو گورنر کے عہدے کے لئے چنا ہے ،جو معاشی امور کے سیکریٹری و مالیاتی کمیشن کے ممبر رہ چکے ہیں اور سرکار کے کام کاج سے بخوبی واقف ہیں شکتی کانت داس نے نوٹ بندی کے وقت ریزرو بینک اور سرکار کے درمیان سالسی کا کردار نبھایا تھا تب میڈیا سے مخاطب ہونے کا ذمہ انہیں کا تھا اس کے بعد جی ایس ٹی کا مسودہ تیار کرنے سے لے کر اس پر ریاستوں کی رضامندی حاصل کرنے اور جی ایس ٹی سے وابسطہ حصاص ترین وسائل میں بھی ان کی سرگرمی تھی اس کا یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی لاگو کرنے میں ان کی بھی رضا مندی تھی ؟اگر تھی تو ان کے نتائج تو اچھے نہیں نکلے۔آج دیش میں ہزاروں کاروباری ،نوجوان بے روزگار ہیں دھندے چوپٹ ہو گئے ہیں اور لاکھوں لوگ روٹی تک کے لئے محتاج ہیں پھر یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مالی تنگی سے گذر رہی مرکزی سرکار ریزرو بینک سے مالی مدد چاہتی ہے ارجت پٹیل کے استعفی کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ مودی سرکار کی ہر مانگ کو منظور کرنے کو تیار نہیں تھے ۔شکتی کانت داس کے سامنے سب سے پہلا کام ریزرو بینک کی مختاری کو بچاتے ہوئے اس کی وزارت مالیات کے درمیان چلے آرہے ٹکراﺅ کو کم کرنا ہوگا اسی کے چلتے ارجت پٹیل نے اپنی میعاد پوری ہونے نو مہینے پہلے ہی استعفی دے دیا ہے ۔اور اسی کے سبب سابق گورنر رگھو رام راجن کی معیاد نہیں بڑھائی گئی یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ شکتی کانت داس رگھو رام راجن کی طرح سے پرفیشنل بینکر یا ماہر اقتصادیات نہیں ہیں وہ 1980بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور اس ناتے وہ دیش کے مختلف اداروں میں تال میل بٹھانے اور مالی معاملوں کو صلاحیت کے ساتھ چلانے کا کام کر چکے ہیں جب بھی ارجت پٹیل سے وزارت مالیہ کے رشتوں میں ٹکراﺅ آیا وہ ایک سنکٹ موچک بن کر کھڑے رہے چاہے یوی پی اے سرکار کے وزیر خزانہ پی چتمبرم کے عہد میں آئی ہو ۔2008کی مندی کا سوال ہو یا موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی 2016میں نوٹ بندی کا سوال ہو ہر مشکل میں وہ سرکار کے ساتھ کھڑے رہے ۔شکتی کانت داس نے ایسے نازک دور میں عہدہ سنبھالا ہے جب کچھ ہی مہینوں بعد 2019کے لوک سبھا چناﺅ ہونے والے ہیں ۔امید کی جاتی ہے کہ وہ سب سے پہلے ریزرو بینک کی مختاری بر قرار رکھیں گے اور دیش کے مفاد کو بالا تر رکھیں گے ۔مودی سرکار کے ربر اسٹیمپ نہیں بنیں گے اور کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھائیں گے جو دیش کے مفاد میں نہ ہو ۔

(انل نریندر)

سشما سوراج جی ہمیں یہاں سے نکالو

ہاتھ جو ڑ کے ونتی ہے ماجی سانو اے تھو کڈو لے آﺅ ۔نرک تو بی ماڈی زندگی کر انہیں آ اتھے ۔سڈی کوئی سوگندھا اتھے ۔کمپنی نو کہدآں تاں سانو دوجی کمپنی ویچ چلے جاں لئی کہہ دیں دے ۔جنہاں دے تے انہاں وی ماڑے حال نے ۔کوئی سنن والا نہیں ۔یہ بات گورایاں کے 29سال کے ایک شخص اوتا ر سنگھ نے روزنامہ ہندی بھاسکر کے رپوٹر سے فون پر کہی اوتار سنگھ دو سال سے سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں پھنسا ہوا ہے ۔ہوشیار پور کے ایک شخص ششی نے بتایا کہ اگر سفارتخانے جاتے ہیں تو وہاں کہا جاتا ہے کمپنی ہاتھ کھڑے کرتی ہے تو آپ کو انڈیا بھیجا جا سکتا ہے ۔سعودی عرب کے شہر ریاض ،جمبو ،کسین کے شہروں میں پھنسے پنجاب کے لڑکوں کی اتنی بد حالی ہے کہ سن کر بھی دکھ ہوتا ہے اوتار سنگھ بتاتا ہے کہ (انہیں کے الفاظ میں )لیبر کوڈ کو ہی لے لیں لوکل پولس تک سب آگے پیش ہوئے وے دیکھ لیاں لیکن او وی سڈی نہیں سندے ۔ہن ناں سڈے کو کوئی پاسپورٹ ہے تے نا ہی اقاما (ایک طرح کا پاس یا ویزا)کوئی میڈیکل کارڈ وی سڈے کول نہیں ۔بہت برا حال ہے ۔ویزا لے کر کے اسی سے باہر جاتے ہیں تو پولس پکڑ لیںدی ہے دسیے ایک کمرے میں وچ اسیں پندرہ پندرہ بندے رہ رہاں پتہ نہیں کیڈے ویل سانو کونڈ چھڑکے لے جاویں اتکے داں پرن سمندری ہیں تیں وانی خراب ہنڈ کر کے کسی نو لکوا ہمکا ہے کسی دی کوئی بیماری لگی ہے ۔میڈیکل ختم ہنڈ کر کے اسی اپنا علاج ہی خود کروا سکدے ۔اسی سارے توہاڈے ہاتھ جوڑدیں آں کہ سڈی گل سشما سوراج جی کول پہنچاواں ۔بس اواں تو علاوہ ہور کوئی مہارا نہیں سڈے کول سعودی عرب میں سائپرس کی جیے اینڈ پی کنسٹرکشن کمپنی سے بھارت کے تین ہزار سے زیادہ شہری کام کر رہے تھے ۔ان میں سے تقریبا بارہ سو لڑکے پنجاب کے الگ الگ ضلعوں کے ہیں ۔اور ان میں سے پانچ سو سے چھ سو لڑکے جالندھر ،ہوشیار پور کے بلویندر نے بتایا کہ وہ 2008میں جالندھر کے ایک ایجنٹ کے ذریعہ دبئی جے اینڈ پی میں کام کرنے گیا تھا ۔2012میں کمپنی کے نئے پروجکٹ کے چلتے وہ سعودی عرب آگیا تھا تین سال تک کمپنی کی طر ف سے میڈیکل کارڈ اقاما (ویزا)اور سیلری ٹائم پر دی جا رہی تھی مگر ایک سال سے وہ کام کر رہے ہیں جس کے بدلے نہ تو سیلری دی جا رہی تھی نہ ہی میڈیکل کارڈ بنایا جا رہا ہے ۔ریاض میں پھنسے زیادہ تر لڑکوں کے پاس نہ تو پاسپورٹ ہے اور نہ ہی ویزا اگر بغیر اقاما کے باہر جاتے ہیں تو پولس پکڑ لیتی ہے کمپنی اقاما بنانے کے لئے 8ہزار ریال (1.50)لاکھ روپئے مانگتی ہے دوسری کمپنی میں تو بارہ گھنٹے کام کرواتے ہیں اور پانچ گھنٹے کے پیسے دیے جاتے ہیں پہلے سے کام کر رہی لیبر کو کئی مہینے سے تنخواہ بھی نہیں ملی ہے انہیں کیسے بچایا جا سکتا ہے ؟سرکار یا تو بھیجنے والے ایجنٹوں کو پکڑے یا پھر ان کمپنیوں کو مجبور کرئے کہ وہ ان پھنسے ہوئے لڑکوں کو بچائے ۔سشما جی کو انہیں بچانا ہوگا ۔

(انل نریندر)

15 دسمبر 2018

مودی کو ہرانا مشکل نہیں اگر اپوزیشن میں اتحاد ہو

2019کے لوک سبھا چناﺅ کے لئے مودی کے خلاف مہا گٹھ بندھن کی کوشش ابھی تک پروان نہ چڑھنے کی ایک بڑی وجہ تھی حال ہی میں ہوئے پانچ ریاستوں کے نتائج ۔ اپوزیشن پارٹیاں یہ دیکھ رہی تھیں کہ ان ریاستوں میں کانگریس کتنی مضبوط ہو کر نکلتی ہے ؟دراصل سبھی اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے کی طاقت دیکھنے میں لگی ہوئی تھیں ۔ لوک سبھا چناﺅ سے ٹھیک پہلے پانچ ریاستوں کے چناﺅ نتیجوں کا انتظار ایک وجہ بھی تھی کہ اس سے مہا گٹھ بندھن کی طرف بڑھنے کا راستہ کھلتا نظر آئے ۔مانا جا رہا تھا کہ ان پانچ ریاستوں کے فیصلے کی معرفت سبھی پارٹیوں کو زمینی حقیقت کا اندازہ لگ جائے گا اور اس کے بعد جب وہ بات چیت کے لئے بیٹھیں گے تو کسی غلط فہمی میں نہیں ہوں گی کانگریس جس طرح سے ایک کے بعد ایک ریاستوں میں بے دخل ہو رہی تھی اس کے بعد بڑی اپوزیشن پارٹیوں میں مہا گٹھ بندھن کی قیادت پر سوالیہ نشان لگا گیا تھا ۔لیکن مدھیہ پردیش ،راجستھان،چھتیس گڑھ میں کانگریس کی شاندار پرفارمینس سے ان پارٹیوں کا کانگریس کے تئیں نظریہ بدلے گا ۔اب یہ سوال شاید ہی کوئی پوچھے کہ کانگریس کی لیڈر شپ کیوں ؟ان تین ریاستوں میں جیت کے بعد کانگریس دوسری بڑی پارٹی دیش بھر میں بن گئی ہے اب اس کی پانچ ریاستوں میں ٹکر ہے تین ریاستوں میں بی جے پی کو سیدھی ٹکر میں ہرانے کے بعد کانگریس نے قومی پارٹی کے اپنے وجود کو ثابت کر دیا ہے ۔یہ کیا ہو گیا ہے کہ اب جو بھی مہا گٹھ بندھن بنے گا وہ کانگریس کی ہی لیڈر شپ میں بنے گا اس جیت کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ بی جے پی مودی ،شاہ کی جوڑی کو سیدھی ٹکر میں ہرایا جا سکتا ہے ۔کانگریس کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ بی جے پی کو سیدھی ٹکر دینے کے لئے اسے علاقائی پارٹیوں کی ہمایت کی ضرورت ہوگی ۔کرناٹک میں بی ایس پی جے ڈی ایس کی طاقت سمجھنے میں اس کو زیادہ بھول ہوئی تھی ویسے ہی غلطی مدھیہ پردیش،راجستھان،اور چھتیس گڑھ میں بی ایس پی کے ساتھ تال میل پر ہوئی ۔پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ میں بی ایس پی نے کل دس سیٹیں جیتیں ہیں مایا وتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کانگریس کی ہمایت کرئے گی اسمبلی چناﺅ نتائج دکھاتے ہیں کہ لوگوں نے بھاجپا لیڈر شپ والی سرکار کی پالیسیو ں کو مسترد کر دیا ہے ۔راسٹروادی کانگریس پارٹی چیف شردپوار نے نتائج کے بعد پردھان منتری نریندر مودی کو ان کے گاندھی خاندان پر ذاتی حملوں کے لئے کٹاش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اونچے عہدے پر بیٹھے شخص کو ایسے الفاظ کااستعمال کر نا زیب نہیں دیتا ۔بدھوار کو پوار نے کہا کہ ان کی پارٹی کانگریس کو ہمایت دے گی اور صلاح دی کہ سپا اور بسپا کو بھی راہل کی قیادت کو منظور کر لینا چاہیے ۔مراٹھا لیڈر نے کہا کہ جنتا کو یہ بات پسند نہیں آئی کہ مودی کے ذریعہ کانگریس صدر کا مذاق اُڑایا جائے لوگوں نے راہل گاندھی کو بطور کانگریس صدر قبول کر لیا ہے ۔اور مودی سرکار کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ہے اور اسمبلی چناﺅ نتائج تبدیلی کی شروعات ہے ۔لوگوں نے کسان مخالف ،تاجر مخالف پالیسی کو مسترد کر دیا ہے ۔کیا مودی کو ہرانا مشکل ہے؟جب یہ سوال صحافی اور مصنف اور ماہر اقتصادیات و سابق مرکزی وزیر اروند کوری سے پوچھا گیا تو ان کا جواب کچھ ایسا تھا ؟ہرانا مشکل تو ہے ،کیونکہ ان کے پاس اوزار ہے ان کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے ۔ہر اوزار وقت کے حساب سے حملے میں استعمال کرتے ہیں ۔جیسے پیسہ ،نیٹ ورک دوسری پارٹیوں کے امیدواروں کو چھین لینا ،سوشل میڈیا کا غلط استعمال ،جھوٹ پھیلانا ،جھوٹے وعدے کرنا میڈیا کو کنٹرول کرنا وغیرہ وغیرہ ۔اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے پاس آر ایس ایس کا مضبوط کیڈر بھی ہے مگر ہرانا مشکل نہیں ہوگا ۔ان کی مقبولیت کی وجہ سے بھی صرف 31فیصد ووٹ ملے تھے ۔مگر اگر مہا گٹھ بندھن ہوتا ہے تو 69فیصد سے تو اپوزیشن شروع ہوتی ہے ۔آج مودی کی مقبولیت کا گراف 2014کے مقابلے گرا ہے ۔اپوزیشن میں دو تین شخص ڈرتے بہت ہیں اس لئے مودی،شاہ ایجنسیوں کا استعمال کرکے ،ڈرا کر اور جو فیکٹر ان کے پاس ہے اسے دکھا کر مہا گٹھ بندھن توڑنے کی کوشش کریں گے ۔گٹھ بندھن ہوتے ہوتے ریاستوں میں ٹوٹ جاتے ہیں ۔اپوزیشن میں رہ کر چناﺅ جیتنا آسان اور اقتدار کے ساتھ سرکار بچانے کی چنوتی بڑی ہوتی ہے ۔بھاجپا سمجھ گئی ہوگی ۔لوک سبھا چناﺅ آج ہوں تو ان پانچ ریاستوں میں بھاجپا کو 40لوک سبھا سیٹوں کا گھاٹا ہے ۔2014کے لوک سبھا چناﺅ کی روشنی میں دیکھیں تو بھاجپا کو ان میں نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ان ریاستوں میں لوک سبھا کی 83سیٹیں ہیں ان میں بھاجپا کے پاس موجودہ 63سیٹیں ہیں ۔اپوزیشن اتحاد لوک سبھا چناﺅ کے لئے کتنا کامیاب ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا ابھی تک بھاجپا کے خلاف جو اپوزیشن پارٹیاں اتحاد کی کوشش میں شامل ہیں ،وہ قریب 12ریاستوں کی 275سے زیادہ لوک سبھا سیٹ پر اثر ڈال سکتی ہیں ۔بہر حال پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے اپوزیشن کا اتحاد کچھ حد تک ثابت ہوا ہے ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ سبھی پارٹیوں میں یہ رضا مندی بنتی جا رہی ہے کہ اگر مودی کو 2019کے لوک سبھا چناﺅ میں ہرانا ہے تو سب کو اپنے اختلافات بھلا کر مہا گٹھ بندھن میں سچے دل سے شامل ہونا پڑے گا ۔اگر ہم سب مل کر 2019کا لوک سبھا چناﺅ لڑیں گے تو ہم سب بھاجپا کو ہرا سکتے ہیں ۔

(انل نریندر)


14 دسمبر 2018

2019میں برانڈ مودی کا سخت امتحان

ان پانچ ریاستوں کے اسمبلی نتائج کا اگر کوئی پیغام ہے تو وہ یہ ہے کہ دیش کی عوام وزیر اعظم نریندر مودی کے کام کاج سے خوش نہیں ہے ۔ان کے غرور اور ان کی ہٹلر شاہی سے پریشان جنتا ناراض ہے اتنا ہی نہیں دیش کا کسان ،اور نوجوان طبقہ اب سرکارپر بھروسہ نہیں کرتا یہ دعوی راہل گاندھی نے منگلوار کو شام اپنی پریس کانفرنس میں کیا ایک اخبار نے تو سرخی بنائی مودی کی نوٹ بندی کے بعد جنتا کی ووٹ بندی ۔نومبر سے ہی گرم کئے گئے رام مندر اشو کا نہ تو کوئی اثر ہوا اور نہ ہی سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف ایس سی /ایس ٹی ایکٹ لانے کا فائدہ ہوا ۔نوٹبندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے پہلے سے ہی ناراض سخت کٹر ووٹر ہاتھ سے نکل گئے ۔یہی نہیں بلکہ انہوںنے بھاجپا کے خلاف ووٹ بھی ڈالا ۔تینوں ہی ریاستوں میں لگ رہا تھا کہ بسپا ،سپا ،اور دیگر کئی اقدامات کا اثر نہیں ہوا ۔اُلٹا عوام نے اسے برا مانا۔بی جے پی کی یہ غلط فہمی بھی دور ہو جانی چاہئیے کہ مودی ،شاہ کی جوڑی ان کی نیا پار کرا دے گی ۔راجستھان ،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں مودی و شاہ کی تابڑ توڑ چناﺅ مہم پر راہل گاندھی کی 82ریلیاں و سات روڈ شو بھی بھاری پڑے ۔ان ریاستوں کے چناﺅ نتائج نے کانگریس کے لئے سنجیونی کا کام کیا وہیں راہل گاندھی کو سیاست میں نیا باب لکھنے کا موقع دیا ۔نتیجوں نے انہیں دیش کی سیاست کی پچ پر منجھے سیاست داں کی شکل میں قائم کرنے میں اہم ترین کردار نبھایا ۔رافیل،نوٹ بندی،جی ایس ٹی ،سی بی آئی ،آر بی آئی ،روزگار،کسان ونوجوان کو لے کر جہاں راہل گاندھی تلخ دکھائی دئیے وہیں بھاجپا بیک فٹ پر آگئی اتنا ہی نہیں اب تک پپو کہنے والی بھاجپا مودی ،شاہ کی ٹیم پر راہل نے اپنا جارحانہ طریقہ سے تین ریاستوں میں چناﺅی ایجنڈا سیٹ کیا ۔مودی سے لے کر امت شاہ و بڑے بھاجپا نیتا اس میں پھنستے چلے گئے ۔کہیں نہ کہیں و نوجوانوں کسانوں کو یہ پیغام دینے میںبھی کامیاب رہے کہ مودی کے وعدہ کھوکھلے ہیں اور جملے بازی سے لوگوں کا بھلا نہیں ہونے والا ہے انہوں نے جھوٹے وعدے اور نفرت کی سیاست پر مودی شاہ کو گھیرا ،نتیجے گواہ ہیں کہ راہل کا یہ نیا ماڈل مودی میجک کو پھیکا کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہا بی جے پی کو اس غلط فہمی سے نکلنا ہوگا کہ صرف مودی کے چہرے کو آگے کر سبھی چناﺅ جیتے جا سکتے ہیں ۔2014میں مودی کا جو آبھا منڈل دکھائی دیا تھا 2019کے آتے آتے بر قرار رہنے کے امکانات پر روک لگتی دکھائی دے رہی ہے ۔ووٹر صرف بھاشن کے ذریعہ تسلی پانے کے موڑ میں نہیں ہیں وہ اپنی مفاد کے اشوز پر ٹھوس کام دیکھنا چاہتے ہیں ۔بی جے پی کو وکاس کے ایجنڈے پر لوٹنا ہی پڑئے گا ۔

(انل نریندر)

راہل گاندھی مین آف دی سریز

بی جے پی کا کانگریس مکت بھارت کا سپنا پورا ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے بلکہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس طاقتور طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے ۔5ریاستوں میں ہوئے اسمبلی چناﺅ کے نتیجے بتاتے ہیں کہ مرکز حکمراں بھاجپا کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔نریندر مودی کے 2014میں پی ایم بننے کے بعد بی جے پی کی یہ سب سے بڑی ہار ہے یہ اسمبلی چناﺅ 2019کے لوک سبھا چناﺅ کے لئے سیمی فائنل سمجھے جا رہے ہیں ۔اگر ان انتخابات میں کوئی ہیرو ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں ان کے ایک سال کی قیادت میں کانگریس کی واپسی ہوئی ہے جو پارٹی کے لئے سنجیونی سے کم نہیں ہے۔ان انتخابات نے جہاں راہل گاندھی کو بطور لیڈر ثابت کیا ہے ۔وہیں اپوزیشن کو بھی وہ یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ وہ اب ان کے بھی لیڈر ہیں بھاجپا کے کانگریس مکت بھارت مہم کا رتھ پانچ سال پہلے جہاں سے چلا تھا وہیں آکر تھم گیا ہے ۔کانگریس نے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ اور راجستھان تینوں ہندی زبان والی ریاستوں میں بھاجپا کو بے دخل کر دیا ہے ۔مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں تو بھاجپا 15سال سے اقتدار میں تھی سب سے چونکانے والا نتیجہ چھتیس گڑھ کا رہا ۔وہاں کانگریس نے 76فیصد ووٹ حاصل کئے بھاجپا صرف 15سیٹیوں پر سمٹ گئی ہے ۔2014میں مودی سرکار کے مرکز میں بر سر اقتدار ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس نے بھاجپا سے اقتدار چھینا ہے اس سے اب کانگریس کی پانچ ریاستوں میں جن میں پنجاب راجستھان ،کرناٹک،پوڈو چیری،چھتیس گڑھ،شامل ہیں ۔وہاں سرکاریں ہیں ۔بھاجپا کی 12ریاستوں میں حکومتیں بچی ہیں کافی عرصہ سے بڑی جیت کے لئے ترس رہی کانگریس کو پانچ ریاستوں میں سے تین میں جیت ایک نئی طاقت کی طرح ابھر کر آئی ہے اس جیت کا زیادہ سہرا کانگریس گاندھی کے سر جاتا ہے ۔آخر کار راہل کی سخت محنت ۔اب ان نتیجوں کے بعد کوئی بھی راہل گاندھی کو پپو کہنے کی ہمت نہیں کر سکے گا ان نتیجوں کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ اب اس جیت کے بعد عوام کو یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ بی جے پی سے سیدھی ٹکر لے سکتی ہے ۔مدھیہ پردیش راجستھان اور چھیس گڑھ میں ہوئی ایک طرفہ جیت سے کہیں نہ کہیں کانگریس کے ورکروں کا ٹوٹا حوصلہ اور بکھرا بھروسہ لوٹے گا اور بڑھے گا۔دراصل اس جیت نے کہیں نہ کہیں کانگریس ورکروں کو بھی یقین دلایا ہے کہ بھاجپا سے سیدھی ٹکر میں نہ صرف سخت چنوتی دے سکتی ہے بلکہ اسے ہرا بھی سکتی ہے ۔اب راہل گاندھی مودی کے سامنے زیادہ مضبوطی سے کھڑے ہو پائےں گے ۔اس جیت کے بعد مانا جا رہا ہے کہ کانگریس کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی ۔دراصل اگر ان تین ریاستوں میں کانگریس کی پرفارمینس نہیں سدھرتی تو کانگریس تنظیم کے بکھرنے کے پورے امکانات تھے ۔لگاتار ہار کا منھ دیکھ رہے ورکر خوشی سے جھوم اُٹھے ہیں اس شاندرار جیت پر راہل گاندھی و کانگریس کو بندھائی

(انل نریندر)

13 دسمبر 2018

برطانیوی عدالت کی مالیا کو ارب پتی پلے بوائے سے تشبیح

برطانیہ کی ایک عدالت نے بھگوڑے ہندوستانی کاروباری وجے مالیا کو بھارت کو سونپنے کا حکم دیتے ہوئے مانا کہ مالیا کہ چمک دمک کے آگے ہندوستانی بینکوںنے اپنا ضمیر کھو دیا اور غلط شخص کو قرض دے بیٹھے بتا دیں کہ مالیا کو ہندوستانی بینکوں کا 9ہزار کروڑ روپئے دینا ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ویسٹ منسٹر ضلع کورٹ کی جج نے پیر کو فیصلہ دیتے وقت کہا تھا کہ ممکن ہے ہندوستانی بینکوں کو اس گلیمر ،چمک دمک اور مشہور باڈی گارڈ کے ساتھ گھومنے والے ارب پتی پلے بوائے نے بے وقوف بنا دیا اس نے بینکوں کے سامنے ایسی امیج پیش کی کہ وہ اسے دیکھ کر اپنا ضمیر کھو بیٹھے جب کہ سچائی یہ تھی کہ مالیا کی کمپنیاں مالی طور پر خاسا خالی کے دور میں تھیں اور اس بات کو بینکوں سے پوری طرح چھپایا گیا مقدمے کے دوران بھی عدالت نے مانا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ بینکوں نے کچھ معاملوں میں اپنی گائڈ لائنس کو نظر انداز کر کے مالیا کی کمپنی کو قرض دیا ۔برطانیہ کی عدالت نے مالیا کے وکیل یہ دلیل دیتے رہے کہ کنگ فشر ائر لائنس کے سبب بینکوں کا جو پیسہ ڈوبا و ہ بجنس میں نا کامی کے سبب ہوا تھا اور عالمی مندی بھی اس کے لئے ذمہ دار ہے ۔اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹروں کی خرید میں دلالی کے ملزم کرشن مشیل کو بھارت لائے جانے کے بعد مالیا کی حوالگی کو لے کر آیا یہ فیصلہ ہندوستانی جانچ ایجنسیوں کی بڑی کامیابی تو ہے ہی اس سے مودی سرکار کو اپوزیشن کے حملوں کے خلاف بڑا ہتھیا رمل گیا ہے ۔مالیا کے پاس ابھی بالائی عدالت میں اپیل کرنے کا موقع ہے لیکن نچلی عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی جس طرح انہوںنے اصل رقم لوٹانے کی پیش کش کی ہے لگتا ہے ان پر دباﺅ بڑھ گیا ہے ۔در اصل جرائم پیشہ کو بھارت لا کر ان کے خلاف مقدمہ چلانے میں سب سے بڑی رکاوٹ حوالگی کا مسئلہ آتا ہے حال ہی میں ارجنٹائنا میں ہوئی جی بیس چوٹی کانفرنس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھگوڑے مالیوی ڈیفالٹروں کو پکڑنے کے لئے مختلف ملکوں کے درمیان وسیع تال میل کے پیش نظر نو نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا تھا ۔مالیا کی حوالگی کی خبر نے تنازعوں میں گھرے سی بی آئی کے اسپیشل ڈائیرکٹر راکیش استھانا کو جشن منانے کا بھی موقعی دے دیا ہے برطانیوی عدالت نے کہا مالیا کے بچاﺅ میں ہندوستانی حکام پر کرپٹ طریقہ سے کام کرنے کا الزام لگایا تھا ۔جبکہ ایسا نہیں ہے ۔استھانا نے مالیا کو 2016میں بھارت سے بھاگنے کے بعد سی بی آئی کے اسپیشل جانچ دل کی قیادت کی تھی ۔برطانیوی کورٹ نے کہا کہ انہیں کوئی ثبوت نہیں ملا مدعی کرپٹ یا سیاست پر مبنی تھا ۔

(انل نریندر)

سیمی فائنل سے پہلے گرا ارجت اپٹیل کا وکٹ

2019کے فائنل سے ٹھیک پہلے سیمی فائنل میں مودی سرکار کا پہلا وکٹ گر گیا ۔میں بات کر رہا ہوں ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل کے استعفی کی جنہوںنے آخر کار پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا ۔ریزرو بینک اور سرکار کے درمیان ٹکراﺅ کی خبروں کے درمیان ارجت پٹیل کے استعفی کے آثار کئی دنوں سے جتائے جا رہے تھے ۔پٹیل کی تین سالہ عہدہ معیاد ستمبر 2019تک تھی انہوںنے اپنے استعفی کی وجہ شخصی مصلحت بتایا ہے ۔مودی سرکار کے عہد میں مالی اداروں سے یہ تیسرا استعفی ہے اس سے پہلے نیتی آیوگ کے وائس چئیرمین اروند پنگڑیا اور چیف اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم بھی اپنے عہدوں سے وقت سے پہلے ہی استعفی دے چکے ہیں ۔ارجت پٹیل کو آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن کی جگہ لایا گیا تھا ۔راجن کی جارحیت کا مودی سرکار کو پسند نہیں آئی تھی اس کے ٹھیک اُلٹ ارجت پٹیل مودی حکومت کے قریبیوں میں دیکھے گئے ۔نوٹ بندی کے دوران ان کی خاموشی نے سرکار کا کام آسان کیا تھا لیکن گذشتہ کچھ مہینوںسے ایسا لگنے لگا کہ پٹیل کئی معاملوں میں راجن سے زیادہ اپنی بات کہنے اور رکھنے والے گورنر ہیں ارجت کے استعفی سے پہلے سابق گورنر رگھو رام راجن نے کہا کہ آر بی آئی میں جو کچھ چل رہا ہے اس پر سبھی ہندوستانیوں کو چنتا ہونی چاہئیے ۔بیشک ارجت پٹیل نے استعفی کے سبب ذاتی بتائے ہوں لیکن یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ان کا سرکار سے ٹکراﺅ بڑھ رہا تھا ۔کچھ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سرکار آر بی آئی کے ریزرو میں پڑے خزانے میں جمع رقم میں سے 3لاکھ کروڑ روپئے سے اوپر کی رقم میں سے بڑا حصہ چاہتی تھی ۔کچھ دن پہلے ہی ارجت پٹیل نے بینکوں میں ہوئی جعلسازی پر گہر ا دکھ جتاتے ہوئے کہا تھا کہ سینٹرل بینک نیل کنٹھ کی طرح بن جائے گا اور اپنے اوپر پھینکے جا رہے پتھروں کا سامنا کرئے گا ،لیکن ہر بار پہلے سے بہتر ہونے کی امید کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اسی مہینے کی شروعات میں جب آر بی آئی نے سود کی شرحوںکا جائزہ لیا تھا تو اس میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ لیا تھا تب مودی سرکار کے ساتھ چل رہے تعطل سے متعلق سوال پوچھے جانے پر پٹیل نے اس پر کوئی جواب دینے سے منع کر دیا تھا ۔وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے الزام لگایا تھا کہ ریزرو بینک نے قرض بانٹنے کے کام میں لا پرواہی برتی ساتھ ہی پی این بی گھوٹالے میں بھی سرکار نے آر بی آئی کو کٹھ گہرے میں کھڑا کر دیا تھا ۔سرکار نے الزام لگایا تھا کہ آر بی آئی کی ٹال مٹولی کے سبب ایم پی اے کا مسئلہ بڑھا ۔سرکار کے سامنے بڑی مشکل یہ ہوگی کہ بھارت کی اقتصادی گروتھ اسٹوری سے غیر ملکی سرمایا کاروں کا اعتماد ہٹ سکتا ہے ۔ویسے بھی ریٹنگ ایجنسیاں بھارت کو لے کر بہت ہی مثبت رائے نہیں رکھتی ہیں اس واقعہ کے بعد حالات اور بد تر ہوں گے ۔

(انل نریندر)

12 دسمبر 2018

ہار سے توجہ ہٹانے کے لئے بدلے کی کارروائی ؟

کانگریس لیڈر شپ کی مشکلیں لگاتار بڑھتی جا رہی ہیں ۔نیشنل ہیرلڈ کا کیس پہلے ہی چل رہا ہے اب رہی سہی کسر اس معاملے میں انکم ٹیکس کی جانچ روکنے کی سپریم کورٹ کے ذریعہ انکار سے پوری ہو گئی اس کے ساتھ ہی سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا پر چھاپے پڑنے شروع ہو گئے ہیں ۔اس لئے ایک طرح سے سونیا گاندھی ،راہل گاندھی،پرینکا گاندھی وغیرہ سبھی مشکل میں آگئے ہیں ۔نیشنل ہیرلڈ کیس میں انکم ٹیکس کی جانچ جاری رکھنا کانگریس صدر راہل گاندھی اور ان کی ماں سونیا گاندھی کے لئے بہت بڑا دھکا ہے عدالت نے حالانکہ کہا ہے کہ معاملہ لٹکا ہونے تک انکم ٹیکس کوئی کارروائی نہیں کرئے گا۔ لیکن وہ 2011.12کے مقرر ٹیکس معاملوں کو پھر سے کھول سکتا ہے اسے روکنے کے لئے ہی سپریم کورٹ میں پارٹی گئی تھی بے شک عدالت کے اگلے حکم سے پہلے انکم ٹیکس محکمہ پر ٹیکس متعین سے متعلق حکم پر عمل نہیں کرئے گا ۔لیکن باقی کارروائی پوری کر سکتا ہے ۔عدالت نے اگلی تاریخ 8جنوری طے کی ہے اور اس دن دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ دیتی ہے ؟نیشنل ہیرلڈ معاملے میں راہل گاندھی ،سونیا گاندھی سمیت دوسرے ملزم یعنی آسکر فرنانڈیز ،موتی لال ورا وغیرہ کو عدالت سے ابھی تک مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے ۔عدالت نے انہیں صرف ضمانت دی ہے راہل اور سونیا کو عدالت نے 19دسمبر 2015کو ضمانت دی تھی ۔واضح ہو کہ بھاجپا نیتا سبرامنیم سوامی کی عرضی پر نیشنل ہیرلڈ معاملے میں کانگریس لیڈروں کے خلاف فوجداری کی کاروائی چل رہی ہے ۔سوامی نے وزیر خزانہ کو بھی ٹیکس چوری کے بارے میں عرضی دی تھی اس میں عام سرمائے سے ایک نئی کمپنی بنا کر دھوکہ دھڑئی و سازش کے تحت کروڑوں روپئے کا غبن کا الزام ہے ۔اس میں پچاس لاکھ روپئے سے نومبر 2010میں ینگ انڈیا نام کی کمپنی بنائی گئی اور اس نے نیشنل ہیرلڈ اخبار چلانے والی اے جی ایل کے تقریبا سارے شئیر نا جائز طریقہ سے لے لئے تھے ۔محکمہ انکم ٹیکس کا کہنا تھا کہ ینگ انڈیا میں راہل گاندھی کے تو جو شئیر ہیں ان کے مطابق 154کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی ۔محکمہ انکم ٹیکس پہلے ہی ینگ انڈیا کو سال 2011.12کے لئے 249کروڑ روپئے کی مانگ کا نوٹس جاری کر چکا ہے جہاں تک رابرٹ واڈرا پر چھاپوں کا سوال ہے گانگریس پارٹی کھل کر ان کے بچاﺅ میں آگئی ہے ۔اس نے واڈرا کی کمپنیوں سے جڑے تین لوگوں کے گھروں اور دفتروں پر انفورسمینٹ ڈائرکٹریٹ کی چھاپہ ماری کو کانگریس نے بدلے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ڈیفنس سودوں میں کچھ مشتبہ افراد کے ذریعہ مبینہ طور پر کمیشن لئے جانے کی جانچ سے متعلق پارٹی نے کہا تھا پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ میں بھاجپا کی ہار طے دیکھ کر مرکز کی این ڈی اے سرکار لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے بدلے کی کارروائی کر رہی ہے۔

(انل نریندر)

بھیک نہیں مانگ رہے،قانون بنائے سرکار،مندر وہیں بنائیں گے......!

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے ٹھیک دو دن پہلے جے شری رام کے نعروں سے دہلی کا رام لیلا میدا ن اور آس پاس کا علاقہ گونج اُٹھا ۔مندر وہیں بنائیں گے...اٹل ارادے کے ساتھ رام بھگت وشیو ہندو پریشد کی جانب سے بلائی گئی دھرم سبھا میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے اکھٹے ہوئے رام لیلا میدا ن میں ریلی شروع ہوتے ہی اسٹیج سے رام مندر کی تعمیر کا اعلان نہ ہونے سے جمع لوگوں کو مایو س کر دیا ۔اسٹیج سے اعلان ہوا کہ رام لیلا میدان میں اور رام بھگت نہ آئیں یہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں باہر اسکرین لگی ہے وہیں سے پروگرام دیکھیں رام مندر تعمیر کو لیکر امڑی بھگتوں کی سڑک پر لمبی قطاریں لگی رہیں ۔عالم یہ تھا کہ رام لیلا میدا ن کی طرف جانے والے سارے راستہ میں بھگوا رنگ میں ہی لوگ نظر آئے ۔وی ایچ پی نے بھگتوں کو لانے کے لئے تیرہ ہزار بسوں کا انتظام کیا تھا ۔اور ہزاروں رام بھگت اپنی اپنی موٹر سائیکلوں سے آئے اس ریلی میں نو لاکھ بھگتوں کی شمولیت کا عوہ کیا گیا ہے لیکن پولس کا کہنا تھا کہ پونے دو لاکھ بھگت آئے ۔رام بھگتوںنے زبردست اتحاد کا مظاہرہ کیا ۔منعقدہ دھرم سبھا میں آر ایس ایس کے نگراں پردھان بھیا جی جوشی نے کہا کہ ہم رام مندر کے لئے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں سرکار اپنے ادھورے عزم کو پورا کرنے میں ٹال مٹولی چھوڑ کر جلد قانون بنائے وہیں وی ایچ پی کے نگراں صدر آلوک کمار نے کہا کہ دہائیوں سے انتظار کے بعد اب اور انتظار کرنے کے موڑ میں نہیں ہیں بڑی عدالت و سرکار عوام کے جزبات کا خیال رکھنے کی نصیحت دیتے ہوئے جوشی نے کہا کہ مندر تعمیر کی رکاوٹیں دور کرنا دونوں کا فرض ہے ۔آج جو لوگ اقتدار میں بیٹھے ہیں انہوںنے پہلے مندر وہیں بنائیں گے کا اعلان کیا تھا اس عزم کو پور ا کرنے کا وقت آگیا ہے ۔دیش رام مندر چاہتا ہے ۔1992میں ادھورے چھوڑے کام کو اب وقت ہے کہ اب پورا کیا جائے۔سادھوئی رتمبرا نے کہا کہ رام مندر کی بات کرنے والے عیش وآرام میں ہیں جب کہ رام للا ٹاٹ میں ہیں سرجو ندی پر کتنے شری دیپ جلاﺅگے رام کی مورتی بنا لو لیکن جب تک رام مندر نہیں بنے گا تب تک ساری کوششیں بے کار ہیں ۔وی ایچ پی کے ایس سنگھ وینکٹیش نے کہا کہ مندر ہی گرا کر مسجد بنائی گئی تھی اب رام مندر کو ہی چناﺅی اشو نہیں ہے دیش میں ہر چھ مہینے کہیں نہ کہیں چناﺅ ہوتے رہتے ہیں ،کیا ہم چپ بیٹھیں گے ؟یہ دھرم سبھا وی ایچ پی نے منعقد کی تھی اور اس کے اسٹیج پر آر ایس ایس کے نیتا بھی موجود تھے ۔آر ایس ایس کے چیف نے بھی دہلی میں اور پھر ناگپور میں مندر کے لئے سرکار کو قانون یا آرڈی نینس لانے کا مشورہ دیا تھا ۔اس طرح پچھلے کچھ مہینوں سے مندر بنانے کےلئے ماحول شروع ہو گیا تھا ۔دھرم سبھا میں سنت سماج اور ہندو تنظیموں نے ایک بار پھر سرکار پر دباﺅ ڈالا کہ وہ پہلے چناﺅ میں کئے وعدے کو پورا کرئے ۔اب سرکار کے سامنے سنکٹ ہے وہ اگلے عام چناﺅ سے پہلے اس مسئلہ کا حل کیسے نکالے ؟

(انل نریندر)

11 دسمبر 2018

ای وی ایم آج کھلیں گی لیکن ایگزٹ پول میں ملے جلے اشارے

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات آج آجائیں گے ان میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا یہ پتہ چل جائے گا اور کئی دنوں کا سسپینس بھی ختم ہو جائے گا ۔لیکن ان نتائج سے آنے والے لوک سبھا چناﺅ میں مودی سرکار کی سمت اور حالت طے کرنے کے ساتھ ہی اپوزیشن پارٹیوں کی کیا حکمت عملی ہوگی ان نتائج پر منحصر کرئے گی لیکن ہمیں ان اسمبلی انتخابات سے کچھ اشارے ضرور مل رہے ہیں پہلا اشارہ تویہ مل رہا ہے کانگریس صدر راہل گاندھی کے لئے پہلی بار ایگزٹ پول میں بی جے پی کے سامنے بڑی کامیابی ملنے کے آثار ہیں اگر 11دسمبر یعنی آج ایگزٹ پول نے جو نتیجے دکھائے وہی رہے تو راہل کو عام چناﺅ سے ٹھیک پہلے کامیابی کا ٹونک ملے گا ۔جس کی انہیں اور کانگریس کو سخت ضرورت ہے اس سے 2019سے پہلے راہل ایک قد آوار نیتا کے طور پر خود کو پروجیکٹ کریں گے ۔اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان ان کی قدر بڑھے گی دوسرا اشارہ تلنگانہ میں اتحاد کی نا کامی دکھائی پڑ رہی ہے وہاں کانگریس نے ٹی آر ایس کے خلاف اتحاد بنایا اس میں چندر بابو نائیڈو کی رہنمائی والی ٹی ڈی پی بھی تھی اتحاد نے بہت ہائی اولٹیج کمپین چلائی لیکن نتیجے یہی رہے تو اتحاد کے تجربے پر سوال اُٹھیں گے 2019سے پہلے عام چناﺅ میں اس اتحاد کے مستقبل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے ۔تیسرا اشارہ یہ مل رہا ہے کہ راجستھان میں وسندھرا راجے کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے راجستھان میں وسندھرا کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے ایک بار تو انہیں کٹانے کی بات بھی آئی تھی لیکن وہ مرکزی لیڈر شپ کو چنوتی دیتے ہوئے اپنے عہدے پر جمی رہیں ۔ٹکٹ کی تقسیم میں بھی ان کی چلی لیکن جس طرح ایگزٹ پول کی پرجکشن ان کے خلاف دکھائی دیئے ہیں اگر یہ سہی ہوئے تو ان کی لیڈر شپ پر سوال اُٹھیں گے ۔راجستھان میں بھلے ہی وسندھرا کے خلاف لوگوں کی ناراضگی کھل کر دکھ رہی تھی لیکن مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی مقبولیت برقرار ہے ۔ایسا لگتا ہے ۔یہی حال رمن سنگھ کا بھی ہے ایگٹ پول کے حساب سے آئے نتیجے تو برینڈ مودی پر بھی اثر ڈالیں گے ۔پی ایم مودی نے سبھی ریاستوں میں جم کر ریلیاں راجستھان میں تو پورا زور لگا دیا تھا بھاجپا بھی اسی پر توجہ دے رہی تھی کہ 2019میں پھر سے مودی کو لانے کے لئے ان ریاستوں میں بی جے پی کی جیت ضروری ہے کانگریس اگر ان ریاستوں میں بی جے پی کومات دینے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ مودی کی اس اجے امیج کو بری طرح توڑے گی جو امیج بی جے پی دکھانے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔ایگزٹ پول کے نتیجے اپوزیشن کے لئے آکسیجن کی طرح کام کر سکتے ہیں اگر یہی نتیجہ ہے تو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اپوزیشن کے جارحانہ تیور دیکھنے کو ملیں گے ۔کانگریس پھر سے سینٹر پوائنٹ پر نظر آئے گی ۔اور اپوزیشن ایکتا کی کوشش پھر سرے چڑھے گی ۔رافیل سے لے کر کسانوں کا اشو اور نوٹ بندی جی ایس ٹی سے ہوئی پریشانیوں پر اپوزیشن سرکار کی گھیرا بندی کر سکتی ہے لیکن سب کچھ آج ای وی ایم میں کیا نتیجے چھپے ان کے سامنے آنے پر منحصر ہوگا ۔ای وی ایم سے کس کی لاٹری نکلتی ہے یہ توآج ہی پتہ چلے گا۔

(انل نریندر)

اگستا سودے میں کس کس نے کتنی رشوت کھائی؟

ا س میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ اطالوی کی کمپنی فن میکنکا کی برطانیوی اتحادی کمپنی اگستا ویسلینڈ معاملے میں پچولیے کرشچن مشیل کی حوالگی کے بعد بھارت لایا جانا مودی حکومت کی بڑی ڈپومیٹک کامیابی ہے ۔یہ اس لئے بھی ایک بڑا کارنامہ ہے کہ وجے مالیہ اور نیرو مودی جیسے مالی قرض داروں کے بھاگ جانے سے حکومت کی ساکھ پر اثر پڑ رہا تھا ۔انتہائی اہم شخصیات کے لئے نئی تکنیک والے ہیلی کاپڑوں کی ضرورت تو بھاجپائی سرکار کے وقت میں ہی محسوس کر لی گئی تھی ۔لیکن 2006میں یوپی اے ون کے دور میں بارہ ہیلی کاپڑوں کے لئے ٹینڈر جاری ہوئے تھے اس کے قریب دو سال بعد انڈین ائیر فور س نے اٹلی کی فن مکینکا کی برطانیوی اتحادی کمپنی اگستا ویسٹ لینڈ کو اس سودے کے لئے چنا تھا ۔اس کے تین ہیلی کاپٹر دیش کو مل بھی گئے تھے لیکن 2012میں اٹلی کی جانچ ایجنسیوں کے ذریعہ اس سودے میں دلالی کا پتہ لگنے کے بعد کھلبلی مچ گئی ان کا کہنا تھا کہ فن مکینکا نے کچھ ہندوستانی لیڈروں اور ائیر فورس کے حکام کو کرڑوں روپئے کی رشوت دے کر یہ ٹھیکہ حاصل کیا تھا اس سے مشیل سمیت تین بچولیوں کے نام بھی بتائے تھے اٹلی کی عدالت نے اس معاملے میں سخت کارروائی کی نہ صرف فن مکینکا اور اگستا ویسٹ لینڈ کے بڑے عہدے داروں کی گرفتاری بھی ہوئی سماعت کے دوران یوپی اے کچھ نیتاﺅں کے نام بھی سامنے آئے اس درمیان منموہن سنگھ حکومت نے یہ سودا بھی منسوخ کر دیا اور اس وقت کے ائیر فورس چیف ایس پی تیاگی اور ان کے کچھ رشتہ داروں اور وکیل گوتم کھیتان کے نام اس گھوٹالے میں سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف کاروائی بھی ہوئی سودے سے پہلے منموہن سنگھ حکومت نے ایک شرط یہ بھی رکھی تھی کہ اس میں کسی بچولئے کا نام شامل نہیں کیا جائے گا ۔اگر کسی بچولئے کے اس میں شامل ہونے کی بات پتہ چلے گی تو سودا منسوخ مان لیا جائے گا ۔مگر سودا ہونے کے کچھ وقت بعد ہی اس میں رشوت دینے کی بات اُٹھی تھی اس پر فورا اٹلی کی جانچ ایجنسی نے اگستا ویسٹ لینڈ اور اس کی سسٹر کمپنی فن میکنکا کے خلاف جانچ شروع کر دی اور پایہ کہ اس میں دس فیصد یعنی 300کروڑ روپئے کی رشوت دی گئی ۔اس جانچ کی بنیاد پر یوپی اے سرکار نے فورا سودا منسوخ کر دیا اور کمپنی کی طرف سے ضمانت کے طور پر پیسے لوٹا دئے گئے ۔مگر اتنے سے ہی معاملہ رفا دفا نہیں ہو جاتا آخر یہ سوال ابھی بھی باقی ہے کہ اس سودے میں جن لوگوں نے رشوت کھائی وہ کون ہیں ؟یوں تو اس وقت کے ائیر چیف کو بھی اس میں ملزم بنایا گیا تھا ۔سودے کی منظوری دیتے وقت منموہن سنگھ سرکار کی طرف سے اس ٹھیکے میں کون لوگ شامل تھے ان میں سے کن کے ذریعہ مشیل نے اس سودے کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی اسے جاننا ضروری ہے فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ اس گھوٹالے میں کیسے کیسے راز سامنے آتے ہیں اور ان کے ذریعہ کسی کو سزا یا ساجھے دار بنایا جا سکتا ہے یا نہیں ؟یہ جانچ ایجنسیوں کے لئے چنوتی ہوگی فی الحال پٹیالہ ہاﺅ س عدالت میں اسپیشل سی بی آئی جج اروند کمار سے سی بی آئی کے وکیل ڈی پی سنگھ نے کہا کہ مشیل پر بارہ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودے میں قریب 37.7ملین یورو یعنی 225کروڑ روپئے کی رشوت کا الزام ہے ان کا کہنا ہے کہ مشیل نے کئی کمپنیوں کے ساتھ فرضی سودے کرائے تھے لیکن اس پر عمل نہیں کیا ۔ان کے سہارے دبئی میں بینک کھاتے کھولے گئے اور ان میں 225کروڑ روپئے کی رقم ٹرانسفر کی گئی تھی لیکن اس کے بعد یہ رقم کس کو دی گئی اس کا پتہ ملزم سے ہی چلے گا ۔مشیل برطانیوی شہری ہے اس کی حوالگی کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ سرکاری بینکوں سے 9ہزار کروڑ روپئے لیکر فرار ہوئے وجے مالیا بھی پیسہ لوٹانے کو تیار لگتے ہیں لگتا ہے کہ یہ اگستا ویسٹ لینڈ کا معاملہ اب بھاجپا رافیل سودے کے تنازع کے خلاف کانگریس کے خلاف استعمال کرئے گی ۔کورٹ میں سماعت سے پہلے ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے راجستھان کے سمیر پور میں چناﺅ ریلی کے دوران مشیل کا حوالہ دیتے ہوئے گاندھی خاندان پر تقطہ چینی کی تھی سونیا گاندھی کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ دلال(مشیل)کئی راز کھولے گا۔مودی نے کہا کہ 2014میں میں نے کئی ریلئیوں میں بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹر معاملے میں ہزاروں کروڑ کا گھوٹالہ ہوا تھا وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر اور وہ خط کے بارے میں معلوم ہوگا میڈم سونیا جی نے لکھی ہے ۔ساری فائلیں اور کاغذات نہ جانے کہاں چھپا دئے گئے تھے ہماری سرکار آنے کے بعد ہم ان کو مسلسل ڈھونڈتے رہے اس میں ایک رازدار ہاتھ لگ گیا ۔یہ دلالی کا کام کرتا تھا ۔نام داروں کا خیال رکھتا تھا ۔کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر جوابی وار کرتے ہوئے جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے ۔پارٹی نے دعوی کیا کہ پانچ ریاستوں کے چناﺅ میں بھاجپا کی ہار طے دیکھ کر بوکھلائے وزیر اعظم جھوٹے الزام کے سہارے بات چیت کی مریاداﺅں کو نیچے لے جارہے ہیں ۔میڈیا کے مشیل کو لے کر پوچھے گئے سوال پر راہل گاندھی نے الٹا مودی پر ہی سوال داغ دئے اور کہا کہ ان کو رافیل ڈیل پر بولنا چاہئے جو مشیل کے ذریعہ چناﺅ ی فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں وہ جھوٹی کہانیاں گھڑ رہے ہیں ۔مشیل کے وکیل نے جولائی میں کہا تھا کہ مودی سرکار اس سے سونیا گاندھی کے خلاف جھوٹے قبول نامے پر دستخط کرنے کا دباﺅ بنا رہی تھی اب امید کی جاتی ہے کہ سی بی آئی معاملے کے تہہ تک پہنچے گی اور بتائے گی کہ یہ رشوت کس کو کتنی دی گئی ہے؟اس سودے میں کن کن لوگوں نے کتنی رشوت کھائی ہے؟

(انل نریندر)

09 دسمبر 2018

بلیوں کی طرح لڑتے افسروں نے سی بی آئی کا تماشہ بنا دیا

سپریم کورٹ نے آلوک ورما کو سی بی آئی کے ڈائرکٹر کے اختیارات سے محروم کر چھٹی پر بھیجنے کی سماعت جمعرات کو پوری کر لی ہے ۔عدالت اس معاملے میں فیصلہ بعد میں سنائے گی ۔عدالت نے سماعت کے دوران مرکزی حکومت سے تلخ سوال پوچھے عدالت نے جاننا چاہا کہ جب دونوں سینئر افسروں (ورما،آستھانا)کے درمیان جولائی سے سرد جنگ چلی آرہی تھی ،پھر تین ماہ بعد راتوں رات فیصلہ لینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟چیف جسٹس رنجن گگوئی جسٹس سنجے کشن کول اور جی ایم جوزف کی بینچ نے کہا تھا اداروں کو تباہ ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے ۔بینچ نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل نے خود کہا ہے کہ سی بی آئی ڈائرکڑ آلوک ورما اسپیشل ڈائرکٹر ارکیش استھانا کے درمیان جولائی سے تو تو میں میں ہو رہی تھی اور اس کی خبریں اخبار بٹور رہے تھے ۔تین ماہ تک اس حالت کو کیوں بننے دیا گیا ؟آخر ایسی حالت کیوں آئی کہ راتوں رات کارروائی کرنی پڑی ؟بینچ نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے پیچھے سرکار کا ارادہ ادارے کے مفاد میں ہونا چاہیے نہ کہ سی بی آئی کو تباہ کرنے کی نیت ہو ۔سی بی آئی کو تباہ نہیں ہونے دیا جا سکتا ۔سماعت کے دوران مرکزی وجیلنس کمیشن کی جانب سے دلیل دی گئی حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے تھے اس لئے یہ قدم اُٹھانا ضروری تھا ایسا نہیں کیا جاتا تو یہ فرض میں لاپرواہی ہوتی سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا کوئی نگراں افسر سی بی آئی ڈائرکٹر مقرر نہیں کیا جا سکتا ؟آلوک ورما کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا ۔کورٹ نے پوچھا مخصوص حالات پیدا ہو جائیں تو؟تب بتایا گیا کہ سپریم کورٹ اپنی دائرہ اختیارات کا استعمال کریں تو یہ ہو سکتا ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے سی بی آئی ڈائرکٹر اسپیشل ڈائرکٹر کے بیچ جھگڑا راتوں رات سامنے آگیا ۔جس کی وجہ سے سرکار کو سلکشن کمیٹی سے مشورے کے طور پر ڈائرکٹر کے اختیارات لینے کو مجبور ہونا پڑا سرکارکو غیر جانب داری رکھنی ہوگی اور اسے سی بی آئی ڈائرکڑ کے اختیارات و اپس لینے سے پہلے سیلکشن کمیٹی کی رائے لینے میں کیا مشکل تھی؟سی جی اونے سی وی سی سے یہ بھی پوچھا کہ کس وجہ سے انہیں کاروائی کرنی پڑئی کیوں یہ سب راتوں رات میں کیوں ہوا ؟سی بی سی کا موقوف رکھتے ہوئے سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا کہ سی بی آئی کے سنئیر افسر معاملوں کی جانچ کرنے کے بجائے بلکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف معاملوں کی تفتیش کر رہے تھے ۔سی بی سی کے دائرے اختیار میں جانچ کرنا شامل ہے ورنا وہ فرض میں لاپرواہی تھی اور قصوروار ہوگی ۔مرکزی حکومت نے عدالت سے کہا کہ ورما اور استھانا بلیوں کی طرح آپس میں لڑ رہے تھے دونوںنے ہی سی بی آئی کو تماشا بنا کر رکھ دیا تھا ۔لہذا سرکار کو مجبور ہو کر معاملے میں مداخلت کرنی پڑی۔دیکھیں سپریم کورٹ کیا فیصلہ سناتی ہے۔

(انل نریندر)

پانچ ریاستوں کے چناﺅمودی بنام راہل پر لڑے گئے ہیں

حال میں اختتام پزیر 5ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ میں کانگریس صدر راہل گاندھی کا نیا اوتار دیکھنے کو ملا یہ چناﺅ مقامی اشوز اور سرکار سے ناراضگی ،کسانوں کا مسئلہ بے روزگاری کا مسئلہ وغیرہ سے ہٹ کر مودی بنام راہل ہو گیا ہے۔مودی نے اپنی ہر ریلی میں راہل گاندھی کو نشانہ بنایاتو راہل گاندھی نے مودی سے تلخ سوال پوچھے ۔پچھلے کچھ برسوںمیں اسمبلی چناﺅ بھی عام چناﺅ کی طرح لڑے جانے لگے ہیں ۔وزیر اعظم سے لے کر تمام مرکزی وزراءپارٹی صدر امت شاہ نے تابڑ توڑ ریلیاں کیں یہ اس لئے بھی کیا گیا کیونکہ موجودہ سیاسی پس منظر میں ان انتخابات میں بھاجپا کی جیت سب سے ضروری فیکڑ ہے پارٹی اپنی ہر چناﺅ ی جیت کو اپنی پالیسیوں سے زیادہ کانگریس اور راہل گاندھی و گاندھی خاندان کو نشانہ بناتے نظر آئے اس لئے بھی اس بار بھی 5ریاستوں کے چناﺅ مودی بنام راہل گاندھی کے اشو پر لڑے گئے اور تو اور نہ تو وزیر اعظم کے لئے اور نہ ہی پارٹی صدر کے لئے رام مندر بنے یا نہ بنے اس پر زیادہ ضروری بحث کرنا ضروری سمجھا اس بار میں کانگریس بھی مقامی اشوز سے پرہیز کرتی دکھائی دی حالانکہ راہل گاندھی ویاپم گھوٹالے سے زیادہ نوٹ بندی رافیل اور جی ایس ٹی جیسے اشوز زیادہ اُٹھا رہے تھے۔ان انتخابات میں ہمیں کانگریس کے ورق کلچر میں بھاری تبدیلی دیکھنے کو ملی ہر ریاست میں کانگریس ایک ہو کر لڑی لوکل لیڈر شپ اپنے نجی اختلافات کو بھول کر کے راہل کی قیادت میں متحد ہو کر لڑے ۔جب نیتا ایک ہو گئے تو ورکر بھی کھل کر سامنے آگئے ۔ان انتخابات میں یہ بھی تقریبا لگتا ہے جو لہر مودی کی 2014میں چلی تھی وہ اب نہیں ہے اور ان کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے ان انتخابات کے نتائج کے بعد چاہے وہ کچھ بھی ہوں راہل گاندھی کو کوئی پپو کہنے کی ہمت نہیں کرئے گا ۔ان انتخابات کے نتائج بھاجپا اور اس کی قیادت کے لئے اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ کچھ ہی مہینوں بعد لوک سبھا چناﺅ ہونے ہیں ۔اگر ان انتخابات میں کانگریس کی اچھی کارکردگی رہتی ہے تو ذاتی طور پر راہل گاندھی مضبوط ہوں گے اور کانگریس کو نئی طاقت ملے گی ۔پانچ اسمبلی انتخابات کے نتیجے یہ بھی طے کریں گے کہ آگے چل کر کس طرح کے محاز بنیں گے یہ ایک طرح سے اپوزیشن اتحاد کا بھی مستقبل ان اسمبلی انتخابات کے نتائج پر منحصر کرئے گا۔دیکھیں 11دسمبر کو جب ڈبے کھلیں گے تو جنتا کیا فیصلہ سناتی ہے ان چناﺅ ایگزٹ پول پر میں زیادہ یقین نہیں کرتا اگر ان کی مانی جائے تو بھاجپا کو سخت مار پڑنے والی ہے ۔بہر حال صحیح تصویر تو منگلوار کو ہی پتہ چلے گی اورابھی پکچر باقی ہے۔

(انل نریندر)

08 دسمبر 2018

فیول سے فرانس نے فائر ،خانہ جنگی کے حالات

ان دنوں دہائی کی سب سے خطرناک خانہ جنگی سے محاظ آرا ہے ۔مہنگائی اور پٹرول کے دام بڑھانے کے خلاف پیرس میں پچھلے دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ گذشتہ سنیچر کو کچھ نوجوانوں نے سینٹرل پیرس میں کئی گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ کے حوالے کر دیا ۔ایسے میں سرکار امرجنسی لاگو کرنے پر غور کر رہی ہے ۔یہ جانکاری فرانس حکومت کے ترجمان نے دی ہے اس مظاہرے کو یلو ویسٹ کا نام بھی دیا گیا ہے۔فرانس کے وزارت داخلہ کے مطابق سنیچر وار پہلی دسمبر کو مظاہرے میں 36500ہزار لوگوںنے حصہ لیا تھا ۔پچھلے ایک ہفتہ ہوا اس میں لوگوں کی تعداد بڑھ کر 53000ہو گئی ۔اس کے بعد مظاہرین بڑھتے گئے اور یہ تعداد113000لاکھ ہو گئی تھی ۔فرانس کے صدر ایونول میکرون نے اپنے خلاف مظاہر ہ کرنے والوں کو بد امنی کا قدم مانتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں تشدد برداشت نہیں کریں گے ۔ملک میں ایدھن کی قیمتوںمیں پہلے سے طے اضافے کے تحت اضافہ کیا گیا ہے ۔اس کے بعد لوگ تشدد پر اتر آئے ۔میکرون نے کمریشل کاروبار کو ٹھپ کرانا ،راہگیروں اور صحافیوں کو دھمکی دینا کسی بھی صورت میں دلائل آمیز نہیں کہا جا سکتا۔اس درمیان صدر میکرون ملک میں پھیلی بد امنی کے سبب اپنے بیرونی ملک دورے سے واپس وطن لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔راجدھانی پیرس کے کئی عالی شان علاقوںمیں جنگ جیسے بربادی کا منظر تھا ،کاریں جلی پڑی تھیں،دکانیں لوٹی جا چکی تھیں،عمارتیں جل کر خاک ہو چکی تھیں ہر جگہ توڑ پھوڑ کی تھی۔بلوائیوںنے شہید میموریل آرک ڈی ٹرمف کو بھی نہیں بخشا مظاہرین اور پولس کے سیکورٹی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ان میں 23جوان بھی زخمی ہوئے ۔ان کے علاج کے دوران ایک جوان کی موت ہوگئی ہے۔پیرس میں پچاس سال بعد ایسے حالات بنے ہیں اس سے پہلے تقریبا یہی حالات ہوئے تھے ۔لیکن اس وقت لوگ سماجی تبدیلی کے لئے مظاہرے کے لئے سڑکوں پر اترے تھے ۔سنیچر اور اتوار کو مظاہروں کے بعد پولس نے 412لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔مظاہروں میں یلو ویسٹ نقاب پہنے لوگوں نے کئی اہم عمارتوں کو آگ لگائی تھی پیرس میں ایدھن کے دام بڑھانے پر اتنا مشتعل مظاہر ہوگا یہ کبھی سوچا نہیں جا سکتا تھا ۔لیکن بھارت نے تو ایدھن کے دام آئے دن بڑھتے رہتے ہیں ۔فرانس کی عوام نے کسی مسئلے کو لیکر بھاری ناراضگی رہی ہوگی جو تیل کی قیمتوں پر غصہ کی شکل میں باہر آگئیں ۔فرانس کے صدر ایمنیول میکرون کے عہد میں یہ پہلی اور اب تک کی سب سے بڑی چنوتی ہے ۔یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔فی الحال جنتا کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے سرکار نے پیٹرولیم ایدھن کے دام میں اضافہ کو فی الحال ٹال ہی دیا ہے۔

(انل نریندر)

پورے مغربی یوپی میں فساد کرانے کی تھی سازش

بلند شہر میں ہوئے تشدد میں انسپکٹر سمیت ہوئے دو افراد کی موت کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے سخت رخ اپناتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دئے ہیں ۔ا س کے بعد پولس نے بھاجپا،بجرنگ دل،اور وشو ہندو پریشد کے عہدیداروں کے گھروں پر دبش دیتے ہوئے الزام میں چار نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ملزم مانے جا رہے بجرنگ دل کے ضلع کنوئنر یوگیش راج نے واردات کے 48گھنٹے کے بعد ایک ویڈیو جاری کر خود کو بے قصور بتایا ہے۔بلند شہر تشدد کو لے کر اب مانا جا رہا ہے اگر یہ تشدد ایک گھنٹے بعد ہوتا تو پورے مغربی اترپردیش میں مظفر نگر دنگے جیسے حالات ہو سکتے تھے ۔تشدد کی چنگاری ایک بڑی آگ بن کر بھڑک سکتی تھی ۔روزنامہ ہندی ہندوستان کے نامہ نگار نشانت کوشک کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کو بھیجی گئی خفیہ رپورٹ میں بھی یہی اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔پردیش سے لے کر دیش تک کی سیاست میں زلزلہ لا سکتی تھی ۔بلند شہر کے سیانہ کا واقعہ اچانک ہے یا پھر سازش؟اس کو لے کر ایڈیشنل ڈائیرکٹر جنرل انٹلی جینس اور ایس آئی ٹی جانچ میں لگی ہوئی ہے۔لیکن واردات کی جگہ سے جو ثبوت ملے ہیں پہلی نظر میں دیکھ کر حکام بھی ایک بڑی سازش کا اندیشہ جتا رہے ہیں ۔افسر اس پورے واقعہ کو اتفاقی ماننے کو تیار نہیں ہیں ۔انہیں اس میں سازش کی بو آرہی ہے ۔سئنیر افسران کی ذرائع کی مانے تو وہاں پر سارے حالات ایسے تھے کہ لوگوں کے جذبات بھڑک جائیں اور بلبہ ہو سکے ۔اس کےلئے ہی گﺅ کے باقیات کو وہاں پر ایسے پھینکا گیا تھا کہ وہ دور سے دکھائی دئیں ۔وہاں اگست سے ہی یہاں کے لوگ گﺅ کاٹنے کی شکایتیں مسلسل حکام اور عوام کے چنے ہوئے نمائندوں سے کر رہے تھے ۔ان میں گﺅ ونش کو لے کر غصہ بھی تھا ۔اور گﺅ ونش کے باقیات کو بڑی تعداد میں دیکھ کر ہی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور انہوںنے سڑک پر جام لگا دیا ۔اگر ایہ جام آتش زنی کے واقعہ ایک گھنٹہ بعد ہوتا تو پھر اسے سنبھالنا آسان نہیں ہوتا ۔اس دوران وہاں سے اجتماع سے لوٹ رہے دوسرے فرقہ کے لوگوں کی گاڑیاں بڑی تعداد میں ہوتیں اور دونوں کے درمیان ٹکراﺅ بلند شہر سے ہی ہوکر پورے مغربی اترپردیش میں پھیلنے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا ۔کیونکہ اس اجتماع میں بڑی تعداد میں مغربی اترپردیش کے لوگ بھی شامل ہوئے تھے۔اس خطرناک سازش کرنے والوں کی اسکیم کو اس سے بھی دھکہ لگا کہ پولس انسپکٹر ثبوت کمار سنگھ کو گولی لگنے کے بعد پولس بھی پوری طرح چوکس ہوگئی اور اس کی مستعدی سے دنگا نہیں بھڑکایا جا سکا ۔واقف کار مانتے ہیں کہ انسپکٹر اور نوجوان کی موت 32بور کی پستول سے گولی لگنے سے ہوئی یہ ہتھیار کسی کا لائسنس یافتہ ہے یا بغیر لائسنس کا تھا اس کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ۔اس پورے واقعہ میں یہ بات بھی پتہ کرنے کی ہے کہ انسپکٹر ثبوت کمار سنگھ کے پاس بھی نجی لائسنس والی ریوالور تھی ۔یہ ہتھیار واردات کے بعد سے ہی غائب ہے ۔معاملے میں کس ہتھیار سے گولی چلی اس کا پتہ تبھی چلے گا جب وہ مل جائے گا۔اور اس کی فورنسک جانچ ہوگی ۔واقف کاروںنے بتایا کہ اگر کسی کے پاس اپنا نجی لائسنس یافتہ ہتھیار ہے تو وہ ڈیوٹی کے وقت اپنے پاس رکھ سکتا ہے ۔چونکہ یہ بات شروع میں اُٹھی تھی کہ انسپکٹر کے پاس نجی ریوالور تھا جو واردات کے بعد سے ہی غائب ہے اس پورے معاملے کی جانچ انٹلی جینس اور ایس آئی ٹی کر رہی ہے ۔امید ہے کہ وہ پوری سازش کا پردہ فاش کریں گی۔دیش کو آخر پتہ تو چلے کہ کس نے اور کیوں یہ خطرناک سازش بنائی تھی ؟مظفر نگر کے بعد بلند شہر کی یہ واردات انتہائی سنگین ہے اور پورے مغربی اترپردیش کو دنگے کی آگ میں جھونکنے کی سازش تھی ۔لیکن شکر ہے یہ ٹل گئی ؟

(انل نریندر)

07 دسمبر 2018

ایودھیا کی اصل تاریخ

ایودھیا کی اہمیت اس بات کی علامت ہے کہ جب بھی قدیم بھارت کے تیرتھوں کا تذکرہ ہوتا ہے تب اس میں سب سے پہلے ایودھیا کا نام ہی آتا ہے میں نے بی بی سی میں پروفیسر ہرے بھاﺅ چترویدی سابق ہیڈ تاریخ الہٰ آباد یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مضمون پڑھا پروفیسر چترویدی نے لکھا ہے کہ ایودھیا اور نپر (جھوسی )کی تاریخ کا عروض برہما جی کے مانس پتر منو سے ہی تعلق ہے جیسے پرتسٹھا نپر اور یہاںکے چندر ونشی حکمرانی کا قیام منو کے پتر ایل سے وابسطہ ہے جسے شیو کے جاپ نے ایلا بنا دیا تھا اسی طرح ایودھیا اور اس کا شوریہ ونس منو کے پتر سے آغاز ہوا ۔ہندوستانی قدیم گرنتھوں کے مطابق ایودھیا کا وجود قبل عیسیٰ مسیح 22سو کے آس پاس مانا جاتا ہے اس ونش میں راجا رام چندرجی کے والد دشرتھ 63ویں حکمراں ہیں ایودھیا کے مہاتمبھ کے بارے میں یہ اور واضح کرنا صحیح ہوگا کہ جین روایت کے مطابق بھی 24تیرتھ کاروں میں سے 22اکھوادو ونش کے تھے ان 24تیرتھ کاروں میں سے بھی سب سے اول تیرتھ کار آدتیہ ناتھ تریمے دیو جی (کے ساتھ)چا ر دیگر تیرتھ کاروں کا جنم استھان بھی ایودھیا ہی ہے۔بہت مانیہ تاﺅں کے مطابق بدھ دیو نے ایودھیا یا ساکیت میں سولہ برس تک قیام کیا تھا ۔میں ہندو دھرم اور اس کے حریف فرقوں جیسے اور بدھوں کو بھی پوتر دھارمک استھان تھا ۔سرسٹی کے آغاز سے تیرتا یوگن رام چندر جی سے لے کر قدیم دور مہا بھارت اور اس کے بہت بعد تک ہمیں ایوھیا کے سوریہ ونشی اکوواکوئں کا تذکرہ ملتا ہے ۔اس ونش کا بھرم ناتھ ،ابھنیو کے ہاتھوں مہابھارت کے یدھ میں مارا گیا تھا ۔پھر لبن بستی بسائی اس کا آزادانہ تذکرہ اگلے 8سو برسوں تک ملتا ہے ۔پھر یہ نگر مگد کے مورچوں سے لے کر انپتوں اور قنوج کے حکمرانوں کے ما تحت رہا ۔آخر میں یہ محمود غزنوئی کے بھانجے سید ستار نے ترک حکومت قائم کی وہ 1033قبل عیسوئی میں مارا گیا تھا ۔اس کے بعد تیمور،اس کے بعد جونپور میں ایکوں کی ریاست قائم ہوئی تو ایودھیا راکیوں کے ماتحت ہوگیا ۔خاص طور سے راک شاسک محمود شاہ کے عہد میں 1440عیسوئی میں 1526عیسوئی میں بابر نے مغل حکومت قائم کی اور اس کے سینا پتی نے 1528میں یہاں حملہ کر کے مسجد بنوائی تھی جو 1992میں مندر مسجد تنازع کے چلتے رام جنم بھومی آندولن میں ڈھہ گئی۔تاریخ رام جنم بھومی معاملے میں عزت معآب عدالت کے فیصلے میں بھی سب سے زیادہ بے چین ہے ایودھیا کے بنیادی باشندے ہونے کے ناطے فخر کے ساتھ اپنے نام سے پہلے سدد اود واسی لکھتے ہیں ۔یہ ہے مختصر میں ایودھیا کی تاریخ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...