11 جون 2011

سوتی راج بالا کو اس حالت میں پہنچانے کا ذمہ دار کون؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
11 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر سنیچر کی آدھی رات کے بعد بربریت پر مبنی پولیس کارروائی کا آرڈر کس نے دیا تھا؟ دیش یہ جاننا چاہتاہے کہ وہ کونسا شخص تھا جس نے نہتے، بھوکے سوتے ہوئے بزرگوں، عورتوں اور بچوں پر دہلی پولیس کو ڈنڈے برستانے، بھگانے کا حکم دیا تھا؟ وزیر اعظم منموہن سنگھ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی اور متبادل نہیں تھا۔وزیر اعظم نے اس مہم کوانجام دینے کو افسوسناک تو قرار دیا تھا لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ کوئی اور اس کے علاوہ متبادل نہیں تھا۔ انہوں نے رام لیلا میدان میں رام دیو کے بدعنوانی مخالف مظاہرے کے خلاف درمیانی رات کے وقت کئی گئی پولیس کارروائی کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں یہ بات کہی۔ وہیں ہمارے وزیر داخلہ پی چدمبرم صاف کہتے ہیں کہ 25 مئی کو سوابھیمان ٹرسٹ سے تحریری طور پر تصدیق کی گئی تھی کہ رام لیلا میدان میں محض یوگ کیمپ لگانے کے سوائے کوئی اور پروگرام نہ ہوگا، لیکن اس کے باوجود رام دیو نے یکم جون کو رام لیلا میدان میں اعلان کیا کہ وہ 4 جون سے انشن کریں گے۔ جب اجازت کی شرطوں کی خلاف ورزی ہوتی دیکھی گئی تو اس اجازت نامے کو منسوخ کرکے یہ کارروائی کی گئی۔ چدمبرم کے مطابق پولیس نے کم سے کم نقصان کو ذہن میں رکھ کر یہ کارروائی کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بابا رام دیو کے پیچھے آر ایس ایس اور بی جے پی کا ہاتھ ہے اور یہ ایک سیاسی تحریک تھی۔ ہم شری چدمبرم کی دلیلوں سے متفق نہیں ہیں۔ مان بھی لیں کہ بابا رام دیو کے پیچھے آر ایس ایس تھی اور یہ ایک سیاسی تحریک تھی تو کیا ؟ کیا سنگھ دیش دشمن ہے؟ کیا بدعنوانی کا اشو اشو نہیں رہ جاتا۔ اگر سنگھ یا بھاجپا کہے؟ معاملہ اہم نہ کہ کون اس کے پیچھے ہے۔ رہی بات پولیس کا کم سے کم نقصان پر توجہ دینے کی تو شریمان آپ ہسپتال جاکر پتہ کیجئے کہ اس بدقسمت راج بالا کا حال کیا ہے جو زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔ گوڑ گاؤں کی باشندہ راج بالا 50 سال سنیچر کو پولیس کے قہر کا شکار ہوئی تھی۔ اس کو فالج مارچکا ہے اور اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے وینٹی لیٹر ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن پھر لگانا پڑا کیونکہ راج بالا کا سانس پھولنے لگا تھا۔ آج بھی پتہ نہیں کتنے لوگ ہیں جن کے رشتہ دار در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ انہیں ڈھونڈنے کے لئے محترم چدمبرم صاحب براہ کرم آپ کچھ سوالوں کا جواب دیں۔ اگر حکومت کو یہ معلوم تھا کہ بابا رام دیو کے پیچھے آر ایس ایس اور بی جے پی تھی تو انہوں نے 4 جون تک بابا سے بات چیت کیوں جاری رکھی؟ آپ نے بابا کو ہوائی اڈے پر ہی کیوں نہ روک دیا جبکہ آپ کو معلوم تھا کہ بابا کیا کرنے دہلی آرہے ہیں؟ اگلا سوال ہے کہ آپ کی سرکار کے چار وزیر بابا کو لینے ہوائی اڈے کیوں گئے تھے؟ ہماری بات تو چھوڑیئے آپ کے سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے بھی سوال کیا ہے کہ منموہن سرکار کے نمبر دو کے وزیر پرنب مکھرجی بابا کو لینے ہوائی اڈے کیوں گئے تھے؟چلئے اسے بھی چھوڑیئے آپ بتائیے کے کپل سبل ہوٹل کلریج میں اتنے گھنٹے بابا کو کیا سمجھانے کی کوشش کررہے تھے؟ 3 جون کو وہ گھنٹوں ہوٹل کے کمرے میں بابا سے بات چیت کرتے رہے۔کپل سبل بابا کو ڈرا رہے تھے کہ ہم یہ کردیں گے اگر تم نے ہماری بات نہیں مانیں۔ اور جب بابا نے آپ کی بات نہیں مانی تو آپ نے انہیں سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا اور نتیجہ ہوا لاٹھی چارج؟ آپ کی حکومت نے بابا کو20 دن کے یوگ کیمپ کی اجازت کیوں دی جبکہ بابا کے پوسٹروں ، بینروں اور سائن بورڈوں میں صاف لکھا تھا کہ وہ کالی کمائی ،بدعنوانی اور سرکار کے خلاف انشن کریں گے؟ ایک طرف پولیس کہتی ہے کہ رام لیلا میدان میں 25 ہزار لوگوں کے آنے کی امید تھی جب آپ کو یہ اندازہ تھا تو آپ نے شکروار یا سنیچروار کو کیمپ کی منظوری کیوں نہیں منسوخ کی؟ اب بات کرتے ہیں اس رات کی پولیس کارروائی کی۔ کیا یہ صحیح ہے کہ دہلی پولیس کمشنر نے آپ سے یہ کہا تھا کہ رات کو سوتے لوگوں پر لاٹھی چارج کرنا ، آنسو گیس چھوڑنا صحیح نہیں ہوگا۔ خاص کر جب وہاں عورتیں، بچے اور مرد سوئے ہوئے ہوں؟ انہوں نے آپ سے درخواست کی تھی کہ مجھے کچھ وقت دیجئے ، میں کل (ایتوار) کو دن میں بابا کو رنجیت ہوٹل میں کسی بہانے سے بلاکر حراست میں لے لوں گا اور پھر ہم انشن پر بیٹھے لوگوں کو پرامن طریقے سے ہٹنے کو کہیں گے۔ اور بغیر طاقت کے استعمال کے رام لیلا میدان خالی کروا لیں گے۔ لیکن آپ نے یا آپ کے ساتھی وزرا نے یہ نہیں مانا اور کہا کہ ہمیں دو گھنٹے کے اندر رام لیلا میدان خالی چاہئے۔ چاہے جو کچھ بھی کرنا پڑے؟
دہلی پولیس نے کیوں آنسو گیس کے گولے پنڈال پر برسائے جبکہ انہیں معلوم تھا کہ اس سے آگ لگ سکتی ہے اور آگ لگ بھی گئی تھی۔ اگر اس آگ میں عورتیں، بچے، بزرگ زد میں آجاتے تو کیا ہوتا؟ پھر آپ نے بتی بھی گل کروادی اور اندھیرا کردیا۔ کیا پولیس کو اتنا بھی خیال نہیں آیا کہ اندھیرے میں لوگ بھگدڑ میں دب کر مر سکتے ہیں؟ آپ نے مظاہرین کو بھگا دیا جبکہ آپ کو یہ معلوم تھا کہ دہلی کا ریڈ لائٹ ایریا بہت قریب ہے اور وہاں پر کئی جوان عورتیں بھی تھیں پولیس نے بھی وحشیانہ انداز میں برتاؤ کیا۔ اگر اسے پنڈال خالی کرانے کا حکم دے بھی دیا گیا تھا تو اسے تھوڑا انسانیت دکھانی چاہئے تھی۔ پچھلے دنوں مصر میں جب جنتا سڑکوں پر حسنی مبارک کے خلاف اتر آئی تھی تو مبارک نے فوج اور پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ مظاہرین پر فائر کرے اور انہیں چوک سے ہٹائے لیکن فوج اور پولیس نے ایسا کرنے سے صاف منع کردیا تھا کہ ہم اپنے لوگوں پر گولیاں نہیں چلائیں گے۔ پولیس بھی یہ کہہ سکتی تھی کہ ہم پرامن طریقے سے جنتا کو وہاں سے ہٹائیں گے۔ لیکن انہوں نے تو ایسا برتاؤ کیا جس سے سارا دیش چونک گیا۔اب اس دن کے ثبوت مٹانے کیلئے مختلف چینلوں سے فٹیج مانگ رہے ہیں۔کیونکہ سپریم کورٹ میں انہیں جواب دینا ہوگا آخر ایسی کونسی مجبوری تھی جس کے چلتے نہتے، بھوکے، سوتے لوگوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں، آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے۔ دہلی پولیس کے ایک افسر نے بھی مانا کہ سینئر پولیس افسروں کے حکم کے باوجود کئی موقعوں پر افسر اور جوانوں کو اپنے ضمیر کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ پولیس کو انسانی حقوق اور زمینی حرکات کو ذہن میں رکھ کرکارروائی کرنی پڑتی ہے۔ قومی انسانی حقوق تنظیم نے پولیس سے درخواست کی کہ انہیں کسی بھی کارروائی کے دوران تحمل برتنا چاہئے اور آنکھ کان بند کرکے احکامات کی تعمیل نہیں کرنی چاہئے۔
راج گھاٹ پر جب انا ہزارے ایک دن کے انشن پر بیٹھے تووہاں مظاہرین نے جم کر وزیراعظم منموہن سنگھ اور کپل سبل کے خلاف نعرے بازی کی۔ جب اروند کیجریوال تقریر کررہے تھے تو بیچ میں ہی عوام نے منموہن سنگھ مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردئے۔ کیجریوال رک گئے انہوں نے پھر تقریر شروع کی۔ اس بار کپل سبل کے خلاف نعرے لگنے شروع ہوگئے۔ کیجریوال پھر رک گئے۔ تیسری مرتبہ پھر تقریر شروع کی ۔ کچھ طلبا نے اپنے ہاتھ میں پوسٹر لے رکھے تھے جن میں منموہن سنگھ کو راون دکھایاگیا تھا۔ جس میں اے راجا، سریش کلماڑی، کنی موجھی، شرد پوار، پرنب مکھرجی کے سر بنے ہوئے تھے۔ ان سب سے اوپر سونیا گاندھی کا چہرہ بنا ہوا تھا ۔اس سے ہی پتہ چلتا ہے کہ جنتا میں اس حکومت کے تئیں کتنی ناراضگی ہے۔رام لیلا میدان میں لاٹھی چارج کا قصوروار آخر کون ہے؟ ہوسکتا ہے وزارت داخلہ دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر پولیس کی قربانی دے کر اپنا پلہ جھاڑ لیں۔ لیکن یہ انصاف نہیں ہوگا۔ اس کے لئے وزیر داخلہ خود ذمہ دار ہیں اور پی چدمبرم کو اس کی ذمہ داری لینی پڑے گی۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, delhi Police, Manmohan Singh, Raj Bala, Ram Lila Maidan, Sonia Gandhi, Vir Arjun

10 جون 2011

انا کااعلان، انٹونی کی وارننگ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
10 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بدھوار کا دن سیاسی سرگرمیوں سے بھرا رہا۔ ادھر راج گھاٹ پر انا ہزارے اعلان جنگ کررہے تھے تو ادھر نئی دہلی کے پریس کلب میں وزیر دفاع اے کے انٹونی نے یہ کہہ کرکہ یہ شفافیت کا انقلاب ہے جو اب رک نہیں پائے گا، سب کو چونکا دیا۔ بابا رام دیو اور انا ہزارے کی تحریکوں کا ہی اثر ہے کہ منموہن سنگھ سرکار کے اتنے سینئر وزیر ، 10 جن پتھ کے قریبی اے کے انٹونی جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بلا شبہ یقینی طور سے بغیر صلاح مشورے کے نہیں کہا ہوگا۔ پھر حکومت کا ایک ایسا وزیر ایسی وارننگ کس کو دے رہا ہے؟ کیا یہ اپنی ہی حکومت کو تو نہیں خبردار کررہا ہے؟ یا پھر انا کی تحریک اور مطالبات کی ہوا نکالنے کیلئے یہ سب ہورہا ہے؟ انا ڈر گئے ہیں۔ انا کا انشن ہر لحاظ سے ہٹ رہا۔ گاندھی وادی لیڈر انا ہزارے نے رام لیلا میدان میں بابا رام دیو کے حمایتیوں پر ہوئے لاٹھی چارج کے احتجاج میں بدھ کے روز راج گھاٹ پر اپنے ایک روزہ انشن کے اختتام پر جنتا کو اپیل کی کہ وہ آگے کی لڑائی کے لئے اپنے کو مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں لوکپال بل پاس نہ ہونے کی صورت میں 16 اگست سے جنتر منتر پر پہلے سے بڑی تحریک شروع کی جائے گی۔ انشن کے اختتام پر انا ہزارے نے خاص طور سے وزیر داخلہ پی چدمبرم کے اس بیان کی سخت تنقید کی جس میں کہا گیا کہ میڈیا کا ایک طبقہ بدعنوانی کے خلاف تحریک کو بڑھا چڑھا کر اور فائدے کے لئے کوریج کررہا ہے، جس سے پارلیمانی اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہم چدمبرم صاحب کو بتانا چاہتے ہیں کہ میڈیا اپنا کردار نبھا رہا ہے۔ میڈیا عوام کی آواز اور نبض ہے۔ آج بھارت کے عوام بدعنوانی اور کرپشن سے پریشان ہیں۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اپنی ناراضگی کیسے ظاہر کرے؟ چناؤ دور ہیں۔ حکمراں پارٹی پارلیمنٹ کے اندر نمبروں کے جوڑ توڑ کر سبھی اشو پر پانی پھیر رہی ہے۔ جب جنتا کی پکار پارلیمنٹ نہیں سنے گی تو جنتا سڑکوں پر اترے گی اور اسی لئے چاہے بابا رام دیو کا انشن ہو یا پھر انا ہزارے کا، انہیں زبردست حمایت مل رہی ہے۔ چدمبرم صاحب آپ کے سینئر ساتھی اے کے انٹونی خود کہہ رہے ہیں کہ اب یہ انقلاب نہیں رکے گا؟ میڈیا کو قصوروار ٹھہرانا چھوڑیئے، اپنے اندر جھانکئے اور دیکھئے جنتا میں پیدا بے چینی کو کم کیسے کیا جائے۔
انا ہزارے ایک ذمہ دار اورگاندھی وادی لیڈر ہی اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ انا نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایک وزیر نے انہیں مارنے کیلئے 30 لاکھ روپے کی سپاری بھی دی لیکن وہ اس سے پریشان ہونے والے نہیں۔ انا کے الزام کی جانچ ہونی چاہئے۔ کون تھا وہ وزیر جس نے سپاری دی؟ انا نے یہ بھی کہا کہ سرکار عوام کی سیوک ہوتی ہے جو جنتا کی حمایت کے سبب بنی بیٹھی ہے۔ اب اسے بتانے کا وقت آگیا ہے کہ اصل مالک کون ہے، اور کون سیوک ہے۔ یوپی اے سرکار پر چوطرفہ دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور جیسے انٹونی نے کہا کہ اب یہ انقلاب رکنے والا نہیں۔
Tags: A K Antony, Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Congress, Corruption, Daily Pratap, P. Chidambaram, Vir Arjun

وزیراعظم کی وزرا پر نکیل کسنے کی کوشش کا خیر مقدم


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
10 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کالی کمائی اور بدعنوانی کے خلاف بڑھتے چوطرفہ دباؤ سے گھری منموہن سرکار پریشان لگ رہی ہے۔ خاص کر وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ۔ وہ اپنی حکومت کی گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے اب قدم اٹھانے کی بات کررہے ہیں۔ ان میں سے ایک ہے اپنے وزرا کو املاک کی تفصیل ظاہر کرنے کی ہدایت دینا۔ وزیر اعظم کا یہ قدم اعلی سطح پر انتظامیہ نے شفافیت لانے کی سمت میں انتہائی اہم مانا جارہا ہے۔منموہن سنگھ نے اپنے وزراء کے لئے ضابطہ رہنما اصول جاری کئے ہیں۔ ان کے تحت ہر وزیر کو اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی املاک کی تفاصیل دینی ہوگی۔ اتنا ہی نہیں وزراء کو اپنے مفادات کی بھی جانکاری دینی ہوگی۔ مثلاً اگر کسی وزیر کا رشتہ دار غیر ملکی کمپنی میں کام کرتا ہے تو اس کی پوری تفصیل بھی دینی ہوگی اور سرکار سے اس کی پہلے سے منظوری لینی ہوگی۔ ریاستوں کو بھی یہ فرمان لاگو کرنا ہوگا۔ انہیں 31 اگست تک وزراء کو اپنی املاک کی تفصیل دینے کو کہا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے سبھی وزراء کو خط لکھ کر اپنی املاک اور سالانہ کمائی ہی نہیں بلکہ اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ ان کے بچوں, رشتہ داروں کے نام ہوئی املاک کو بھی ظاہر کرنے کیلئے کہا ہے۔اتنا ہی نہیں وزراء کو اس بار خاص طور سے کارپوریٹ دنیا سے اپنے کاروباری رشتوں ،روابط کا خلاصہ کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ اگر ان کے خاندان کا کوئی فرد اپنی کوئی فرم شروع کرتا ہے یا پھر کسی کاروباری فرم کے بورڈ کا ممبر بنتا ہے تو اس کی جانکاری بھی سرکار کو دینی ہوگی۔ضابطے کے تحت سبھی وزراء کو پراپرٹی، دینداریوں، کاروباری مفادات اور دیگر کنبے کے غیر ملکی سرکار یا تنظیم کے تحت روزگار سے متعلق معلومات بھی دینی ہوگی۔ تفصیل میں منقولہ غیر منقولہ املاک، نقدی، زیور، حصص اور جمع رقم کی بھی تفصیل بیان کرنی شامل ہے۔
وجہ کچھ بھی رہی ہو چاہے وہ بابا رام دیو کی تحریک کا دباؤ ہو یا پھر انا ہزارے کا دباؤ۔ وزیر اعظم کے اس قدم کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ منموہن سرکار میں کئی کروڑ پتی وزیر پہلے ہی سے موجود ہیں۔ نیشنل الیکشن واچ کی ایک رپورٹ جو وزراء کے ذریعے 2009 ء میں داخل حلف نامے پر مبنی ہے، کا کہنا ہے کہ شری پرفل پٹیل پہلے ہی 79.9 کروڑ کی املاک کے مالک ہیں۔ کپل سبل 31.97 کروڑ اور وی سینٹ پالا25.16 کروڑ، ویر بھدر سنگھ22.52 کروڑ روپے کے پراپرٹی کے مالک ہیں۔یوپی اے سرکار میں اس وقت47 وزیر کروڑ پتی ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے کھلنائک اور سابق وزیر اے راجا کے معاملے میں پردے کے پیچھے کچھ صنعتی گھرانوں سے ان کی سانٹھ گانٹھ اور انڈین پریمیر لیگ کی ٹیم کے خریدنے کیلئے شرد پوار کی ممبر پارلیمنٹ بیٹی سپریہ پھلے اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی وجہ سے سرکار کی فضیحت ہوئی تھی۔شاید وزیر اعظم کی نئی ہدایات کا سبب یہ ہی ہوسکتا ہے۔جہاں ہم وزیراعظم کے اس قدم کا خیرم مقدم کرتے ہیں وہی یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ نوکر شاہوں پر بھی نکیل کسنی چاہئے۔ وزراء سے کہیں زیادہ افسر شاہی نے لوٹ کھسوٹ مچائی ہوئی ہے۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Kapil Sibal, Manmohan Singh, Praful Patel, Sharad Pawar, Vir Arjun, Virbhadr Singh

09 جون 2011

اوما بھارتی کی واپسی:صحیح سمت میں صحیح قدم

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
9 جون 2011 کو شائع
انل نریندر

آخر کار بھاجپا کے وزیر اعظم کے امیدوار کے تمام دعویداروں کے اختلاف کے باوجود بھاجپا صدر نتن گڈکری نے اوما بھارتی کو پارٹی میں واپس لے لیا ہے۔جب اوما بھارتی کو بھاجپا میں شامل کرنے کا گڈکری پارٹی ہیڈ کوارٹر میں اعلان کررہے تھے تو ان کی سخت مخالفت کرنے والے ارون جیٹلی اور سشما سوراج و وینکیا نائیڈو موجود نہیں تھے۔ دراصل اوما بھارتی کی واپسی کے پیچھے کئی اسباب و کئی مجبوریاں تھیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ آج کل سبھی پارٹیوں کی توجہ یوپی مشن 2012 ء پر لگی ہوئی ہیں۔ بھاجپا لیڈر شپ یہ سمجھ رہی ہے کہ کانگریس کی ہوا روز بروز خراب ہورہی ہے لیکن اس سے بھاجپا کا راستہ آسان نہیں ہورہا ہے۔ دہلی کی گدی کا راستہ براستہ یوپی آتا ہے اس لئے اگر اترپردیش میں پارٹی نے اچھی کارکردگی نہیں دکھائی تو دلی دربار تک پہنچا آسان نہیں ہوگا۔ یوپی میں ویسے بھی بھاجپا لیڈر شپ کی کمی ہے۔ جو نیتا ہیں وہ تمام پھنکے کارتوس کی طرح ہیں۔ بھاجپا کو یوپی میں نئی جان ڈالنے کے لئے ایک ایسا چہرہ چاہئے تھا جو نوجوانوں، خواتین، پسماندہ اور ہندو ووٹوں کو ایک ساتھ پارٹی کے نیچے لا سکے۔ نتن گڈکری کو لگا کہ اوما بھارتی میں یہ سب خوبیاں موجود ہیں اور وہ ایک اچھی منتظمہ بھی ہیں۔ جب وہ مدھیہ پردیش کی وزیر اعلی تھیں تو انہوں نے اچھی حکومت دی تھی۔ انہی کے بل پر پارٹی اقتدار میں آئی تھی۔


اوما بھارتی کی بھاجپا میں چھ سال بعد واپسی ہوئی ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ و حکمت عملی سازوں کا ماننا ہے کہ جس طرح سے اوما بھارتی جارحانہ سیاست کرتی ہیں ان کا مقابلہ ان کے الفاظ اور ان کے طریقے میں کرنے کیلئے پارٹی کے پاس کوئی ایسا لیڈر پردیش میں موجود نہیں تھا جو ان کی زبان میں ان کو جواب دے سکے۔ بھاجپا کا خیال ہے کہ اگر پارٹی اترپردیش میں سیٹوں میں اضافہ نہیں کرپائی تو وہ بھی جس طریقے سے تقریر کرتی ہیں اس سے پارٹی کو ایک ماحول بنانے میں مدد ضرور ملے گی۔ سماجی تانے بانے کے نقطہ نظر سے بھی اگر دیکھا جائے تو پارٹی کے بڑے قد کے لیڈر کلیان سنگھ کی پارٹی سے چھٹی اور پھر دوبارہ واپسی کے بعد بھی پارٹی اپنے روٹھے پچھڑے طبقے کو اپنے ساتھ جوڑنے میں ناکام رہی۔ اوما بھارتی کا لودھ فرقے کا ہونا بھی پارٹی کے لئے اچھا ہوسکتا ہے۔ ذات پرستی کی سیاست کے لئے مشہور اترپردیش میں پسماندہ طبقہ شاید اوما کے سبب پارٹی سے جڑ جائے؟


اوما بھارتی کی مشکل یہ ہے جب انہیں غصہ آتاہے تو وہ سب کچھ بھول جاتی ہیں اور آپے سے باہر ہوجاتی ہیں۔ مجھے آج وہ منظر یاد ہے جب تقریباً ساڑھے پانچ سال پہلے اوما بھارتی نے میڈیا کے سامنے لال کرشن اڈوانی کی موجودگی میں پارٹی کے کچھ لوگوں پر آف دی ریکارڈ بات کرنے اور ان کی ساکھ کو خراب کرنے اور اپنی نظراندازی کا الزام لگایا تھا۔ اور بھری میٹنگ سے اٹھ کر چلی گئیں تھیں۔ تب بھاجپا پارلیمانی بورڈ نے 6 دسمبر2005 ء کو انہیں پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے خارج کردیا تھا۔ جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ شری نتن گڈکری نے صحیح سمت میں ایک صحیح قدم اٹھایا ہے وہیں اوما نے بھی پچھلے پانچ چھ سالوں میں یہ سبق لیا ہوگا اور مستقبل میں وہ ڈسپلن کی لکشمن ریکھا کو پار نہیں کریں گی۔
Tags: Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Sushma Swaraj, Uma Bharti, Uttar Pradesh, Vir Arjun

دیاندھی مارن سے وزیر اعظم اور کانگریس نے کنی کاٹی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
9 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ڈی ایم کے لیڈر دیاندھی مارن بری طرح سے پھنستے جارہے ہیں جیسے ڈی ایم کے کے دیگر وزرا و یوپی اے کے لیڈروں نے یوپی اے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کروایا ٹھیک اسی طرح مارن نے اب وزیر اعظم منموہن سنگھ کے لئے ایک نیا در سر کھڑا کردیا ہے۔ منموہن سنگھ پہلے ہی اے راجا، کنی موجھی تنازعے کو لیکر کٹہرے میں کھڑے ہوئے ہیں۔ اب دیاندھی نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ 2004 سے2007 تک ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کو لیکر یوپی اے پہلے ہی انگلیاں جلا بیٹھی ہے۔ کیونکہ اے راجا اور سریش کلماڑی کو بچانے کا انجام وہ دیکھ چکی ہے۔ اب شاید ہی پردھان منتری دیاندھی مارن کو بچانے کی کوشش کریں۔ دیاندھی کے خلاف سنگین الزام ہے۔پرواسی بھارتی ایس ۔شیوشنکرن کو ان کی کمپنی ایئرسیل کو فروغ کرنے کیلئے مجبور کرنے کا ملزم مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا جانا اب طے لگتا ہے۔ مارن کے خلاف الزامات اور متعلقہ ثبوتوں کے بارے میں سی بی آئی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو مفصل رپورٹ دے دی ہے۔ شیو شنکرن نے سوموار کو سی بی آئی کو بتایا تھا کہ کس طرح ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ہوئے انہیں ایئر سیل بیچنے کے لئے دیاندھی مارن نے مجبور کیا تھا۔ ایئر سیل معاملے میں دیاندھی کے کردار پر وزیر اعظم کو مفصل رپورٹ دینے کی تصدیق کرتے ہوئے سی بی آئی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کپڑا منتری کے خلاف لگائے گئے الزام کافی سنگین ہیں اور ان کی پوری جانچ کی ضرورت ہے۔ شیو شنکرن نے جانچ ایجنسی کو ان لوگوں کے نام پتے دئے ہیں جو مارن کی ذیاتیوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ مارن انہی لوگوں کے ذریعے سے شیو شنکرن پر ایئر سیل کو بیچنے کے لئے دباؤ بنا رہے تھے۔ان میں ایئر سیل سے جڑے وکیل اور چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بھی شامل ہیں۔ شیو شنکرن کا کہنا تھا کہ ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ہوئے مارن نے ان کے کاروباری اسٹیٹ کو پوری طرح سے تباہ کردیا اور انہیں دیش سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔
آج کی تاریخ میں بدعنوانی کا اشو گھر گھر تک موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ تبھی تو بدعنوانی اور کالی کمائی کو لیکر آج کی صورتحال میں لوک آیکت کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کانگریس لیڈر شپ دیاندھی مارن سے دوریاں بڑھا رہی ہے اور سرکار یا کانگریس شاید ہی انہیں اب بچا پائے۔ دیاندھی مارن کووزیر مالیات پرنب مکھرجی سے ملاقات کے درمیان صاف اشارے دے دئے گئے ہیں کہ پردھان منتری پہلے ہی سے کہہ چکے ہیں کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ معاملے میں سبھی الزامات کی جانچ کی جائے گی جس میں مارن کے خلاف بھی الزام شامل ہے۔ ان الزامات پر سی بی آئی جانچ کی تازہ رپورٹ پردھان منتری کے دفتر کو پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی ایم کے چیف کروناندھی کا اب کیا موقف ہوتا ہے۔ دو دن پہلے کروناندھی نے پردھان منتری کو کنی موجھی کی گرفتاری کے لئے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اب اگر دیاندھی مارن حراست میں لئے جاتے ہیں تو کروناندھی کیا کریں گے؟ کیا وہ یوپی اے سرکار سے اپنے وزرا کو ہٹنے کا حکم دیتے ہیں؟ یا حمایت واپسی کا تو وہ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں یہ آگے دیکھنے والی بات ہوگی۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, kani Mozhi, Karunanidhi, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

08 جون 2011

بابا کا’ ہٹھ یوگ‘ سرکار کے’ لٹھ یوگ‘ کے سامنے بے بس

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
8 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 سنیچر کی رات بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو جس طریقے سے دہلی پولیس نے بھگایا وہ آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میںیہ اشو زور شور سے چھایا ہوا ہے۔ سنیچر کو جو ہوا اس پر عام جنتا میں دو طرح کا رد عمل ہے۔ کچھ ہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ بابا کے ساتھ جو ہوا صحیح ہوا اور یہ ہی ہونا چاہئے تھا۔ بابا نے ساری حدود پار کردی تھیں۔ سمجھوتہ ہونے کے بعد بھی اپنا انشن جاری رکھنے کا اعلان کرکے انہوں نے سرکار کا غصہ مول لے لیا تو کچھ کا کہنا ہے کہ بابا نے دہلی پولیس سے جو اجازت لی تھی وہ ایک یوگا کیمپ لگانے کیلئے تھی اور کہیں بھی انہوں نے اس میں انشن یا ستیہ گرہ کی بات نہیں کہی تھی۔اور اپنے حمایتیوں کی تعدادتین ہزار بتائی تھی اور یقین دلایا تھا کہ رام لیلا میدان میں اس سے زیادہ لوگ نہیں آئیں گے۔ پھر بھی انہوں نے انشن اور ستیہ گرہ کیا بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ان کے چیلے اکٹھے ہوئے۔ اس لئے انتظامیہ کو مناسب کارروائی کرنے کا حق تھا۔جہاں منموہن سرکار اور کانگریس پارٹی کے رد عمل کا سوال ہے تو پارٹی کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ کا تبصرہ بھی مناسب ہی تھا۔ بابا رام دیو پر شروع سے تنقید کرتے رہے دگوجے سنگھ نے انہیں اب ٹھگ قرار دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کی جانچ کی مانگ کی۔ سرکار کی کارروائی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا بابا کے ساتھ وہی ہوا جو ایک ٹھگ کے ساتھ ہوناچاہئے ۔ دگوجے سنگھ نے کہا کہ بابا نے دہلی آکر سوامی شنکر دیو کے کشل باغ آشرم میں پناہ لی تھی۔ بعد میں انہیں چھوڑا گیا۔ اس کے بعد یوگ سکھانے والے بابا کرم ویر کو بھی انہوں نے ٹھگا۔ انہوں نے کہا جولائی 2007 ء سے سوامی شنکر دیو غائب ہیں اور ان کا کوئی پتہ نہیں۔ رام دیو نے بغیر کسی لائسنس کے کینسر جیسی بیماری کو ختم کرنے کے دعوے پر اپنے ماننے والوں اور جنتا کو ٹھگا ہے۔ جنتا کی طرح وہ شاید سرکار کو بھی ٹھگنا چاہتے تھے۔ یہ ہے ان لوگوں کے نظریات اور دلیلیں جو سنیچر کی رات کی کارروائی کو مناسب مانتے ہیں۔
دوسری جانب زیادہ تر جنتا مانتی ہے کہ سرکار نے بہت بھاری غلطی کی ہے اور اسے کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ سرکار نے بابا معاملے کو شروع سے ہی غلط طریقے سے ہینڈل کیا۔ سب سے پہلی غلطی تو یہ تھی کہ سرکار کو بابا کو انشن کرنے کی اجازت ہی نہیں دینی چاہئے تھی۔دہلی کے قانون کے تحت رام لیلا میدان پر سیاسی ریلی نہیں ہوسکتی۔بھارت سوابھیمان منچ اور پتانجلی یوگا کمیٹی نے ایک یوگا کیمپ اور دھرنا کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ سرکار چاہتی تو وہ کہہ سکتی تھی کہ ہم یوگ شیور کی اجازت دے سکتے ہیں لیکن دھرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جو اجازت کیلئے خط دیا گیا تھا اس میں حمایتیوں کی تعداد تین ہزار بتائی گئی تھی لیکن سرکار کو اس کی خفیہ ایجنسیوں نے اچھی طرح سے بتادیا تھا کہ یہ تعداد تین ہزار سے زیادہ ہوگی۔ اسے سرکار کی چوک یا غلطی کہا جاسکتا ہے۔ جب بابا دہلی آئے تو ہوائی اڈے پر ان کا خیر مقدم کرنے کے لئے منموہن کیبنٹ کے نمبر دو کے وزیر پرنب مکھرجی سمیت چار وزیر کیوں پہنچے تھے۔ کیوں بابا کو دہلی ہوائی اڈے سے باہر آنے دیا گیا؟ خبر ہے کہ حکومت نے ایک خصوصی طیارہ خاص طور سے تیار کررکھا تھا جو اس صورت میں بابا کو ہری دوار واپس لے جاتا لیکن ایسا نہیں۔ تیسری سب سے بڑی حماقت حکومت نے سنیچر کی رات کو 1 بجے کی۔ جب رام لیلا میدان میں سوتے بابا کے حمایتیوں کو جن میں عورتیں ، بچے بزرگ شامل تھے، میدان سے بھگایا۔ پولیس نے اس بربریت کا مظاہرہ کیا۔ سپریم کورٹ بھی چونک گئی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اپنے آپ نوٹس لیتے ہوئے مرکزی سرکار اور دہلی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتے کے اندر اس کا جواب دینے کو کہا۔ رام لیلا میدان میں برپایا گیا پولیس قہر اتنا بھیانک تھا جس کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس میں40 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے جن میں سے ابھی بھی کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ بابا کے ستیہ گرہ کو تہس نہس کرنے کے لئے پولیس بہت ہی چوکسی برتے ہوئے ہے۔ بابا کے ستیہ گرہ کو ختم کرنے کیلئے پولیس نے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے۔ انشن کاریوں کا کہنا ہے پولیس نے نہ صرف لوگوں کو مار پیٹ کر پنڈال سے نکالا بلکہ ان کے اسٹیج کو بھی آگ کے حوالے کردیا۔ پولیس کے ذریعے چھوڑے گئے آنسو گیس کے گولے سے اسٹیج پر آگ لگ گئی۔ آگ کے سبب وہاں افراتفری مچ گئی۔ اوپر وال کا شکریہ ادا کرنا چاہے کہ یہ دوسراجہنم نہیں بن گیا جس میں سیکڑوں لوگوں کی جان جا سکتی تھی۔ جس طریقے سے سوتے لوگوں پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور اس بھاگ دوڑ میں درجنوں بچے، عورتیں ، بزرگ دب کر مر سکتے تھے۔ پولیس کی بربریت کا شکار ہوئے شردھالوؤں کی داستان سن کر کوئی بھی بوکھلا اٹھے۔ ان کا کہنا ہے انہوں نے جلیاں والا باغ کے واقع کے بارے میں کتابوں میں پڑھا تھا لیکن سنیچر کی رات اس واردات کو دوہراتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ پولیس نے ان کے ساتھ جو ذیاتیاں اور سختی کی اس میں سبھی حدیں توڑ دی۔ پولیس کی بربریت سے بچنے کیلئے بابا رام دیو کے حمایتی بدحواسی کی حالت میں رام لیلا میدان سے بھاگ نکلے۔ لیکن باہر آنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ نہ ان کے پاس پہننے کو کپڑے ہیں اور نہ ہی گھر جانے کو پیسہ ، جو کچھ تھا وہ ہڑبڑاہٹ میں رام لیلا میدان میں چھوٹ گیا۔ اب اس حالت میں آخر جائیں تو کہاں جائیں؟کچھ حمایتی سڑکوں پر آسرے کی تلاش میں آئی ٹی او اور کناٹ پلیس کی طرف چلے گئے اور کچھ نے ریلوے اسٹیشن کی طرف رخ کرلیا۔ کچھ عورتیں تو اپنی آن بان بچانے کے لئے رات کے گہرے اندھیرے میں رنجیت سنگھ فلائی اوور سے چل کر آریہ اناتھالیہ ،بارہ کھمبا روڈ پہنچیں۔ یہ اناتھالیہ شری وریش پرتاپ چودھری چلاتے ہیں۔ یہاں بابا آتے جاتے رہتے ہیں۔ کچھ کو اور کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو وہ بنگلہ صاحب کی طرف اور رقاب گنج گورودوارے کی طرف چل پڑے کیونکہ جیب میں اتنے پیسے نہیں تھے کوئی ذریعہ ٹھہرنے کا تلاشتے اس لئے پیدل کی گورودواروں میں پناہ لینے کے لئے چل پڑے۔ پولیس کی بربریت کا شکار ہوئے ان لوگوں کی حالت دیکھ کر گورودواروں میں موجودہ سیوا داروں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتے ہوئے ان کے لئے نہ صرف رکنے کا انتظام کیا بلکہ 24 گھنٹے انشن پر بیٹھے ان لوگوں کیلئے لنگر کا بھی انتظام کیا۔ اس دوران بابا کے بہت سے ایسے ماننے والے تھے جنہوں نے یہ کہتے ہوئے کھانے سے انکار کردیا کہ آسرے کی چھت مل گئی یہ ہی ہمارے لئے بہت ہے۔ انشن تو تبھی توڑیں گے جب بابا جی کا آدیش ملے گا۔ وہیں ان میں سے کئی شردھالو ایسے تھے جنہوں نے سیوا داروں کے بار بار کہنے کے بعد کھانا کھایا۔ بنگلہ صاحب گورودوارے میں اترپردیش کے مہوبہ علاقے سے آئی ایک عورت مناکشی شکلا کے مطابق پولیس نے جس طرح سے انہیں رام لیلا میدان سے بھگایا تو لگ رہا تھا کہ کسی نے انہیں گھر سے بے گھر کردیا ہے۔ اب تو میرے پاس پہننے کو کپڑے ہیں اور نہ ہی گھر جانے کیلئے پیسہ؟
چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ اس رات بہت سے لوگ لاپتہ ہوگئے تھے جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں لگ پایا۔ ایک چشم دید کے مطابق پولیس کچھ بلو لائن بسیں لیکر آئی تھی اس میں بھر بھر کر لوگوں کو رام لیلا میدان سے لے جایا گیا اور ان کے رشتہ دار ان کی تلاش میں اسپتالوں ، دھرمشالاؤں اور انشن کی جگہ کے آس پاس بھٹک رہے ہیں۔ لاپتہ لوگوں میں کئی عورتیں بھی شامل ہیں۔ جھارکھنڈ کے جمشید پور سے تقریباً100 لوگوں کے جتھے کے ساتھ بابا رام دیو کے ستیہ گرہ میں پہنچے شیلندر کمار نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے ساتھ جھارکھنڈ کے گوراجوڑی گاؤں سے آئی تین عورتیں لاپتہ ہیں۔ 53 سالہ کملا بھگت، 50 سالہ رینوکا اور سشیلا کا کوئی پتہ نہیں۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مرکزی سرکار کا کوئی بھی وزیر زخمیوں کو دیکھنے ہسپتال تک نہیں گیا۔
میری رائے میں تو سرکار جیتی ہوئی بازی ہار گئی ہے۔ بابا آہستہ آہستہ کانگریس کو بے نقاب کررہے تھے۔ پولیس کارروائی کے سبب وہ سب کچھ دب گیا۔ سرکار بھارت میں ہی نہیں ساری دنیا میں کٹہرے میں کھڑی ہوگئی ہے۔ امریکہ تک میں اس کی ندامت ملامت ہورہی ہے۔ بابا چمک گئے راتوں رات اور ہیرو بن گئے۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ مان لو کہ بابا نے وعدہ خلافی کی اور تحریک جاری رکھنے کا اعلان کردیا تو کیا فرق پڑتا ؟ آخر سرکار کو ایسی کیا جلدی تھی کہ رات کے1 بجے سوتے ہوئے بزرگوں، بچوں اور عورتوں پر ڈنڈے برسوا دئے گئے؟ اہم سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے کا جنتا پر کیا اثر ہوگا؟ کیا بھارت کی عوام اب یہ نہیں کہے گی کہ یہ کچلنے والی سرکار ہے؟ بدعنوان ہے اور بدعنوان لوگوں کو سرپرستی دے رہی ہے؟ مجھے جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کا قصہ یاد آرہا ہے۔پہلے سرکار نے اسے چڑھایا بعد میں آپریشن بلو اسٹار کیا۔ تاریخ پھر دوہرا رہی ہے۔ رہی سہی کثر دگوجے سنگھ جیسے لیڈر نے پوری کردی۔ وہ ایک طرف بابا کے حمایتیوں کو شرمندہ کررہے ہیں وہیں ہندوؤں کو بھی بار بار اکسا رہے ہیں۔ دگوجے سنگھ اسامہ کو تو اسامہ جی کہتے ہیں بابا کو ٹھگ۔ سرکار کیلئے ایک بڑی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے۔ پہلے سے چوطرفہ گھری سرکار ن ’ آبیل مجھے مار‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔ اب دیکھیں انا ہزارے کی تحریک سے وہ کیسے نمٹتی ہے۔ جی ہاں انہوں نے8 جون کو پھر سے دھرنے پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔

Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Congress, Corruption, Daily Pratap, delhi Police, Ram Lila Maidan, Vir Arjun

07 جون 2011

بھارت کو امریکہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کشمیری کو مار گرایا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
7 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ کو دوسری قابل ذکر کامیابی ملی ہے۔امریکہ کی پانچ انتہائی مطلوب آتنکی فہرست میں شامل الیاس کشمیری مارا گیا۔ امریکہ نے اس پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔ شکروار تقریباً رات سوا گیارہ بجے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں الیاس اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ شکار ہوگیا۔ اس کی تصدیق حرکت الجہاد اسلامی نے کردی ہے۔ خونخوار 313 برگیڈ نے ایک فیکس جو پیشاور میں اخبار نویسوں کو بھیجا گیا اس کی تصدیق اس سے ہوتی ہے۔بھارت کو امریکہ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ اس نے بھارت کے ایک بہت بڑے دشمنوں کو ماردیا ہے، ہم تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے حالانکہ الیاس امریکہ کے زیادہ بھارت کا بڑا گناہگار تھا بھارت نے اس خونخوار دہشت گردی کی کئی خطرناک سازشوں کے لئے مانگ کی تھی۔ اسامہ بن لادن کے چیلے کے مارے جانے کے بعد اب اس کے جانشین کی شکل میں بھی کشمیری کا نام ہی چل رہا تھا۔ اس نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کو دہلانے کیلئے رچی گئی سازش میں اہم کردار نبھایا تھا۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی اگر اتنی بڑھی ہے تو اس کے پیچھے الیاس کشمیری ایک بہت بڑا سبب تھا کیونکہ وہ خود پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے کوٹلی علاقے میں پیدا ہوا تھا، تو اس وجہ سے اس کی ہمیشہ توجہ کشمیر میں لگی رہی۔ الیاس پر الزام ہے کہ اس نے کئی ہندوستانی فوجیوں کے سر قلم کئے اور اسی کے انعام کی شکل میں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اسے باقاعدہ اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔ بعد میں یہ ہی الیاسی اسی مشرف کو مارنے کی سازش میں ملوث تھا۔ دہشت کی دنیا میں کشمیری نے سب سے پہلے لشکر طیبہ کاساتھ چنا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب کشمیری نے خود ایک آتنکی تنظیم کی بنیاد رکھی اور اس کا نام حرکت الجہاد الاسلامی (ہجی) کا نام دیا گیا۔ یہ آتنک تنظیم کئی برسوں سے ہند مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ گذشتہ دنوں سید سلیم شہزاد کا قتل ہوا تھا ،شہزاد نے اسی الیاسی کے بارے میں دو مضمون لکھے تھے۔ اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے بتایا کہ 23جولائی2003 ء کو ہندوستانی فوج کو اکنور کیمپ پر ایک حملہ ہوا تھا۔ اس میں 9 فوجی افسر مارے گئے تھے۔ جس میں برگیڈیئر وی کے گوول بھی شامل تھے۔نارتھ کمان کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ہری پرساد زخمی ہوئے تھے۔ الیاس 1994 ء میں دہلی میں بھی اپنی سرگرمیاں چلا رہا تھا۔ عمر شیخ کے ساتھ الیاس بھی وہی وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں شامل تھا۔
بھارت کو امریکہ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ اس نے وہ کام کردیا جو شاید ہم کبھی نہیں کرسکتے تھے۔ ہم نے تو اس الیاس کو ایک نہیں دو بار پکڑ کر بھاگنے کا بھی موقع دیا۔ پہلی بار فوج نے اور دوسری بار 1994 میں غازی آباد کے مسوری تھانہ علاقے میں پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ میں زخمی ہوا تھا۔ اس کے دو ساتھی مارے گئے تھے۔ ان کے قبضے سے ایک امریکی نژاد غیر ملکی شہری کو چھڑایا بھی گیا تھا۔ الیاس کشمیری جو مشن پورا کرنے کے لئے بھارت آیا تھا وہ بھلے ہی پورا کرلیا ہو، مگر پاپ کا گھڑا بھرتاہے تو ایک نہ ایک دن پھوٹ ہی جاتا ہے۔آخر کار الیاس کشمیری پاکستان میں ماراگیا۔ امریکہ کو اس لائق تحسین کامیابی پر مبارکباد۔ اسامہ کے بعد یہ امریکہ کو دوسری بڑی کامیابی ملی ہے۔
Tags:America, Anil Narendra, Daily Pratap, Ilyas Kashmiri, India, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

جے للتا کا مارن بھارئیوں اور کروناندھی کو پہلا تحفہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
7 جون 2011 کو شائع
انل نریندر


تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے اقتدار سنبھالتے ہی ایم کروناندھی اور ان کے کنبے کو تحفہ دے دیا ہے۔ جیہ حکومت نے شکروار کو اپنے حریف کروناندھی کے جنم دن پر ان کی حکومت کے ذریعے شروع کئے گئے اہم پروجیکٹوں کو بند کردیا ہے۔ یہ پروجیکٹ رہائشی و بیما سیکٹر سے وابستہ تھے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہاں بن رہے اسمبلی اور کیبنٹ کمپلیکس کی تعمیر کے گھوٹالوں کے الزام لگاتے ہوئے ان کی جانچ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ڈی ایم کے سے وابستہ مارن بھائیوں پر نشانہ لگاتے ہوئے جیہ حکومت نے ریاست کے کروڑوں روپے کے کیبل کاروبار کو نیشنلائزڈ کرنے کا اعلان کردیا ۔ اسمبلی کے نئے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے گورنر سرجیت سنگھ برنالا نے یہ اعلانات شکروار کو کئے۔
مارن سامراجیہ کا سورج کبھی غروب نہیں ہوسکتا ۔ کچھ اس طرح کی باتیں کاروباری دنیا کے اعلی افسر کلاندھی مارن اور ان کے چھوٹے بھائی موجودہ وزیر کپڑا دیا ندھی مارن کی سرپرستی والے سن گروپ کے بارے میں کہتے رہے ہیں۔ لیکن گذشتہ تین روز کے واقعات اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ مارن بھائیوں کے لئے زوال کا وقت قریب آچکا ہے۔ امریکی بزنس میگزین 146فوربیز145 نے حال میں مارن بھندوؤں کی املاک چار ارب ڈالر قریب 179 ارب روپے کی اخذ کی تھی۔ جن لوگوں نے سن گروپ کا فروغ دیکھا ہے وہ اس کے فروغ کو حیرت انگیز مانتے ہیں۔ مصنف اور سیاسی مبصر جو راما سوامی کہتے ہیں کہ مارن بھائیوں کی یہ ترقی ان کی سیاسی سرپرستی اور اثر کے سبب ہی ہورہی ہے، ان کے لئے سیاست نے کاروباری دنیا میں داخلے کے لئے لائے پیڈ کا کام کیا ہے۔دراصل کروناندھی اینڈ کمپنی کنبے نے جتنا اقتصادی فائدہ سیاست سے اٹھایا ہے اتنے خاندان کم ہی دیکھنے کو ملیں گے۔
تاملناڈو میں کیبل ٹی وی نیٹ ورک کا بازار 1400 سے 1500 کروڑ روپے کا ہے۔ اس میں مارن بھائیوں کی سرپرستی والے سومنگلی کیبل ویژن کی65 فیصدی حصہ داری950 سے1 ہزار کروڑ روپے کے درمیان ہے۔ دیا ندھی نے وزیر مواصلات کے رہتے اپنے اثر کا استعمال جنوبی ہند زبان والے کیبل ٹی وی چینل آپریٹروں کو لائسنس دینے میں دیری کی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سن ٹی وی کا کوئی مدمقابل کھڑا ہو۔اس لئے تاملناڈو کے کئی ٹی وی چینلوں کے لائسنس کئی برسوں تک لٹکائے رکھے گئے۔ دیا ندھی اور کلا ندھی مارن سابق مرکزی وزیر و ڈی ایم کے کے بڑے نیتا رہے سورگیہ مرا سولی مارن کے بیٹے ہیں۔ کروناندھی کے بھانجے تھے۔ مرا سولی مارن اور ان کے چھوٹے بھائی سیولم کی شادی سیلوی سے ہوئی تھی، جو کروناندھی کی بیوی دیالو امل کی لڑکی ہے۔ 1990 ء میں کروناندھی نے ویڈیو میگزین 146پلائی145 شروع کی تھی۔ 1993 ء میں جنوبی ہندوستان کا پہلا سیٹلائٹ چینل سن ٹی وی شروع کیا گیا۔1995 ء میں اس کی کل املاک بڑھ کر 45 کروڑ روپے ہوگئی۔ سن گروپ دیش کا سب سے بڑا سیٹیلائٹ ٹی وی نیٹ ورک ہے۔ اس کے تمل، ملیالم، کنڑ اور تیلگو زبان میں بھی چینل ہیں۔ وہ تاملناڈو کے دوسرے بڑے اخبار 146دناکرن145 کے علاوہ ایک درجن میگزین بھی نکالتے ہیں۔ ان کے پاس 45 ریڈیو چینل بھی ہیں۔ سن پکچرس جنوبی ہندوستان کی سب سے بڑی فلم پروڈکشن ہاؤس ہے۔ اب آپ بتائیں کہ 1990ء سے لیکر2011ء تک یہ 180 ارب روپے کے مالک کیسے بن گئے؟

Tags:2G, Dayanidhi Maran, DMK, Jayalalitha, Karunanidhi, Tamil Nadu

05 جون 2011

۔26/11حملے کی سازش آئی ایس آئی نے رچی تھی: شہزاد


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

5 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستانی صحافی سید سلی شیخ شہزادکے بے رحمانہ قتل نے پاکستان میں بھی کھلبلی مچا دی ہے۔ پورے ملک میں اس کے قتل کی مذمت کی جارہی ہے۔ پاکستانی میڈیا کھل کر لکھ رہا ہے۔ پاکستان صحافیوں کیلئے کتنا خطرناک ملک بن چکا ہے ایک طرف جہاں پاکستانیت ڈاٹ کام کے بلاگر عدیل نظام نے شہزاد کی موت کو دیش کے لئے ایک وارننگ بتایا ہے ، وہیں ایک کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز کے مصنف محمد حنیف نے اپنے ٹوئیٹر پر لکھا ہے ، کیا یہاں کوئی ایسا صحافی ہے جو یہ مانتا ہو کہ اس کے پیچھے خفیہ کا ہاتھ نہیں ہے۔ نظام نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ پاکستانیوں کو غیر محفوظ اور خوفزدہ رہنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ آج وہ اور زیادہ اپنے آپ کو غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کررہے ہیں۔ ڈیلی ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے، صحافی کا قتل صحافیوں کیلئے ایک وارننگ ہے ،اگر وہ ایمانداری سے صحافت کریں گے تو ان کا یہ ہی انجام ہوگا۔ انگریزی اخبار ڈان لکھتا ہے کہ اگر دنیا پاکستان کو صحافیوں کے لئے ایک جان لیوا ملک کہتی ہے تو اس تہمت سے چھٹکارا پانا ا س کے لئے واقعی مشکل ہے۔
شہزاد نے ایک کتاب ’ان سائڈ القاعدہ اینڈ طالبان بی اونڈ بن لادن اینڈ9/11‘ لکھی تھی۔ گذشتہ20 مئی کو شائع اس کتاب کو ڈان اخبار نے مفصل سے شائع کیا۔ کتاب میں 40 سالہ مصنف شہزاد نے ممبئی حملے کے پس منظر کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس میں شہزاد نے بتایا کہ کس طرح 2008ء میں ممبئی حملے کو انجام دیا گیا۔ ہندوستان کے خلاف مہم میں الیاس کشمیری کو اولیت حاصل رہی ہے۔ اس نے یہ تجویز دے کر القاعدہ کے لیڈروں کو حیرت زدہ کردیا تھا کہ وہ موجودہ تعطل کو ختم کرانے کا ایک واحد راستہ جنگ ہے۔ اس نے بھارت میں ایسی بڑی کارروائی چلانے کی تجویز پیش کی تھی جس سے ہند اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے اور اس سے القاعدہ کے خلاف سبھی مجوزہ کارروائیاں رک جائیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ نے بھارت پر آتنکی حملے کی تجویز کو منظوری دے دی۔ شہزاد نے لکھا کہ الیاس کشمیری نے تب حملے کی پوری سازش کا خاکہ فوج کے سابق میجر ہارون عارف کو سونپا تھا۔ کتاب میں شہزاد نے لکھا ہے کہ فوج کے سابق میجر اے الیاس کشمیری کے گرگوں کی مدد سے آئی ایس آئی کی سازش کو ہڑپ کرکے اسے 26 نومبر2008 ء کو ممبئی کے تباہ کن حملے کی شکل میں بدل دیا۔
دراصل شہزاد آئی ایس آئی اور القاعدہ کے بارے میں ضرورت سے زیادہ جانکاری پا چکا تھا۔ یہ ہی تفتیشی صحافی شہزاد کی موت کا سبب بنی۔ شہزاد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آئی ایس آئی دیش کے انتہائی اہم ترین نیوکلیائی ہتھیار پروگرام کے علاوہ ایک خفیہ پروگرام چلا رہی ہے۔ اس کے تحت کام چلاؤ نیوکلیائی بم تیار کئے جارہے ہیں۔اگر آئی ایس آئی کے کچھ افسر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کو آتنکی گروپوں تک پہنچا سکتے ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان میں آتنک واد کے بارے میں شہزاد بہت کچھ جان چکے تھے۔ آئی ایس آئی کو یہ بات بہت کھٹک رہی تھی۔ سید سلیم شہزاد کو شاید القاعدہ کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے، بھارت یا اسرائیل کے خلاف ان کے استعمال کی سازش کی جانکاری تھی۔ اس سے پہلے کے وہ ایسی سرگرمیوں کا مزید خلاصہ کرتے ان کا منہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا۔ منہ تو بند کردیا گیا لیکن ان کی تحریریں امر ہوگئی ہیں۔
Tags: 26/11, Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

بہن جی نے ایک ہی جھٹکے میں اپوزیشن کی ہوا نکال دی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
5 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کسانوں کے ساتھ کھڑے ہوکر کانگریس اترپردیش میں اپنی راہ آسان کرنے کی جو کوشش کررہی تھی اس کو مایاوتی نے ایک جھٹکے میں کافور کردیا۔ اتنا ہی نہیں زمین تحویل اور باز آبادکاری کی عوام مفاد کی نئی پالیسی کو اعلان کرکے بہن جی نے مرکزی حکومت کے سامنے ایک چیلنج بھی کھڑا کردیا ہے۔ بھٹہ پارسول کانڈ کے بعد مرکزی سرکار پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں زمینی تحویل کے بارے میں نئے قانون بنانے کیلئے ایک بل لانے جارہی ہے۔ اترپردیش میں پھر سے خود کو کھڑا کرنے میں لگے شہزادہ راہل گاندھی بہت زور لگا رہے ہیں۔ تحریک میں شامل ہوکر گرفتاری تک دی، وزیر اعظم سے نمائندہ وفد کو بھی ملوا کر ان سے تسلی دلا دی۔ لیکن بہن جی نے سب پر پانی پھیر دیا۔ وزیر اعلی مایاوتی نے کسانوں کی ایک پنچایت بلاکر ان سے بات چیت کرنے کے بعد نئی زمین تحویل پالیسی کا اعلان کردیا ، جس میں اب پرائیویٹ کمپنیاں اپنے پروجیکٹوں کے لئے کسانوں سے سیدھی بات چیت کرکے زمین خرید سکیں گی۔ اس میں اب انتظامیہ یا حکومت کا رول صرف ایک ثالث کا ہی رہے گا۔ نئی زمین تحویل پالیسی فوری عمل میں آگئی ہے۔ بہن جی نے مرکزی سرکار سے ریاستی حکومت کی طرز پر زمین تحویل پالیسی پورے دیش میں لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ نے بھی اس پیچیدہ مسئلے پر سوال پوچھا تھا کہ آخر دیش میں زمین تحویل کی مرکزی حکومت کی پالیسی کیا ہے۔ مایاوتی نے کسانوں سے بات چیت کے بعد نئی زمین تحویل پالیسی سے نہ صرف مغربی اترپردیش میں شورش ماحول کو خاموش کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بہت حد تک اس سے اپوزیشن کو سیاسی فائدہ اٹھانے سے بہن جی نے اپنی سرکار اور پارٹی کو بچا لیا ہے۔ یہ تحویل ریاستی سرکار میں اپنے ہنگامی اختیارات کا استعمال کرکے آسان بنا دیا ہے۔ کسانوں کو شکایت تھی کہ صنعتی فروغ کے نام پر زمین کو تحویل میں لیکر اسے پرائیویٹ بلڈروں کو دے دیا گیا۔ نئی پالیسی سے یہ شکایت کافی حد تک دور ہوجائے گی۔ اس پالیسی کے تحت سرکار صرف پبلک سیکٹر کے اداروں یا صنعتی فروغ کے لئے ہی زمین لے سکے گی۔ اس کے علاوہ 2010 ء کی زمین تحویل پالیسی کے فائدے بھی کسانوں ملیں گے۔
وزیر اعلی مایاوتی نے بھٹہ پارسول گاؤں کا خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے واقعات کے دوران گاؤں کے لوگوں کی املاک کو جو نقصان پہنچا ہے اس کے نفع نقصان کی تکمیل ریاستی حکومت کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پالیسی کو ان کی پارٹی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں قومی سطح پر نافذکرانے کے لئے مرکزی سرکار پر دباؤ بنائے گی۔ ایسا نہ ہونے پر وہ پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ریاستی حکومت کی یہ پالیسی مرکزی سرکار کی مجوزہ پالیسی سے کئی گنا زیادہ بہتر اور کسان ہتیشی ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے ہریانہ حکومت کی زمین تحویل پالیسی کی تعریف سیاسی اغراز پر مبنی ہے۔ وزیراعلی نے اپوزیشن پارٹیوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں زمین تحویل قانون تیار کرنے کے لئے مرکزی سرکار پر دباؤ نہ ڈال کر اترپردیش میں سیاست چمکانے لگی ہیں۔ہماری رائے میں بہن جی نے راستہ دکھا دیا ہے جس پر مرکز اور ریاستی حکومتوں کو سنجیدگی سے غور کرکے ایسی پالیسی کا اعلان کرنا چاہئے جس سے کسان مطمئن ہوں اور تحریکیں بھی نہ چلیں۔
Tags: Anil Narendra, Bhatta Parsaul, Daily Pratap, Greater Noida, Land Acquisition, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun