Translater

06 ستمبر 2014

موٹر وہیکل ایکٹ کی جگہ روڈ ٹریفک ایکٹ لائق تحسین کوشش!

سڑک حادثات کی بڑھتی تعداد پر کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔ یہ تشفی کی بات ہے کہ مودی سرکار ان پر لگام لگانے کیلئے سنجیدہ ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں موٹر وہیکل ایکٹ کی جگہ سڑک ٹریفک ایکٹ لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ محفوظ سڑک ٹرانسپورٹ کیلئے مجوزہ ایکٹ کا صرف نام ہی نہیں بدلا جانا بلکہ اس کے دائرے میں بہت سی گاڑیوں کو لانا بھی ہے۔سڑک وزیر قومی شاہراہ و ٹرانسپورٹ نتن گڈ کری کے مطابق موجودہ ایکٹ کی زیادہ توجہ صرف موٹر گاڑیوں اور ان کے ڈرائیوروں پر ہی مرکوز رہتی تھی۔ اب حکومت کی کوشش ہے کہ نئے ایکٹ میں پیدل، سائیکل اور رکشہ مسافروں کو سکیورٹی قانون کے دائرے میں لا رہی ہے۔نئے روڈ ٹریفک بل موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی جگہ لے گا۔ بل بغیر ہیلمٹ پہنے اسکوٹر چلانا، شراب پی کر گاڑی چلانا، طے رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانا، گاڑی میں بیلٹ نہ لگانا، لال بتی پار کرنا جیسے معاملوں کیلئے بھاری جرمانے کے ساتھ لائسنس میں ڈی میرٹ وائچر سسٹم بھی لاگو ہوگا۔ گڈکری نے بتایا امریکہ، جرمنی، کینڈا، جاپان، سنگاپور اور برطانیہ میں سڑک ٹرانسپورٹ و سکیورٹی سے وابستہ قوانین کا مطالعہ کرکے اور ماہرین کی رائے سے دنیا بھر کے قوانین میں اچھی باتوں کو اس بل میں شامل کیا جائے گا۔ راجدھانی کی سڑکوں پر بار بار ٹریفک قواعد توڑنے والے ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اگر کوئی ڈرائیور ایک برس میں تین بار اس طرح کی غلطی کرے گا تو اس کا ڈرائیوننگ لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔ اس کیلئے دہلی ٹرانسپورٹ محکمے نے سپریم کورٹ کی ہدایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے قانون میں ترمیم کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ٹریفک پولیس نے کچھ دنوں پہلے دو یا اس سے زیادہ بار ایک طرح کے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے والے 1855 ڈرائیوروں کی فہرست میں دہلی ٹرانسپورٹ محکمے کو بھیج کر ان کا لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ نے قانون میں ترمیم کی ہے اور سڑک پر موٹر سائیکل گاڑی چلانے کے دوران ہیلمٹ کے استعمال سے حادثوں میں موت و گہری چوٹوں کے معاملے میں 20 سے45 فیصد تک کمی آئی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی’’ گلوبل اسٹیٹس رپورٹ آن روڈ سیفٹی‘‘ کے مطابق ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنے سے سر میں چوٹ لگنے سے موت خاص وجہ بنتی ہے۔ یعنی خطرناک حادثوں میں بچاؤ کیلئے ہیلمٹ ضروری مانا گیا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے دنیا کے155 ملکوں میں ہیلمٹ پر قانون موجود ہے۔ اب دہلی میں عورتوں کو بھی ہیلمٹ پہننا ہوگا۔ خود گڈکری مانتے ہیں کہ زیاد ہ تر سڑک حادثے سڑکوں کے رکھ رکھاؤ کے ڈیزائن کی وجہ سے ہوتے ہیں لیکن بقول گڈکری کے ڈرائیوروں کا بھی قصور کم نہیں ہے۔ مانا جاتا ہے کہ شراب کی لت حادثوں کے لئے خاص طور سے ذمہ دار ہے لیکن ایک بڑی وجہ موتیا بند کی بیماری بھی ہے۔ وہ مہاراشٹر کی مثال دیتے ہیں کہا جاتا ہے 45 فیصدی سرکاری ڈرائیور موتیابند کے مرکز کے شکار ہیں لیکن وہ سرکاری ہسپتالوں سے فرضی سرٹیفکیٹ حاصل کرکے گاڑیوں کو دوڑاتے رہتے ہیں۔ اس وقت یومیہ تقریباً400 شہری سڑک حادثوں میں مر جاتے ہیں۔ سالانہ70 پر تقریباً1.40 لاکھ کے قریب پہنچ گیا ہے۔ جس طرح سے بھارت کی آبادی اور گاڑیوں کی بڑھتی تعداد ہے اندیشہ ہے کہ حادثوں میں موتوں کا سلسلہ بڑھنے والا ہے۔ ایسے میں سڑک حادثوں میں کمی لانے کیلئے کوئی بھی سرکاری کوشش لائق تحسین ہے۔ امید ہے نئے وہیکل ایکٹ کے آنے کے بعد سڑک حادثوں کے بڑھنے کی رفتار کم ہوگی۔
(انل نریندر)

داؤ پر رنجیت سنہا اور سی بی آئی کی ساکھ و غیر جانبداری!

ٹوجی اسپیکٹرم اور کوئلہ گھوٹالوں کی جانچ کررہی سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا پر لگے الزامات اور تنازعے سے کئی بڑے سوال کھڑے کردئے ہیں۔ سنہا کے معاملے پر سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن نے ایک عرضی دائر کرڈالی۔ ان کا دعوی ہے کہ رنجیت سنہا نے اپنے عہدے کا بیجا استعمال کیا ہے۔ وہ ٹو جی گھوٹالے کے ملزمان اور ملزم کمپنی کے حکام سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے سرکاری گھر میں انہوں نے تمام ملزمان سے درجنوں بار ملاقات کی۔ اس کے ریکارڈ ان کے گھر کی وزیٹر ڈائری میں بھی درج ہیں۔ ان ڈائریوں کے دستاویزعرضی گذار نے ہسپتال میں پیش کئے۔ اتنا ہی پرشانت بھوشن نے سی بی آئی ڈائریکٹر کی نجی ڈائریوں کی کاپیاں بھی پیش کی ہیں۔ وزیٹر ڈائریوں میں تمام ایسے انکشاف ہوئے ہیں جن کو لیکر سی بی آئی ڈائریکٹر کی نیت پر سنگین سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پیش ریکارڈ کے مطابق پچھلے 15 مہینوں کی میعاد میں سنہا نے اپنے گھر پر صنعت کار انل امبانی سے پانچ بار ملاقات کی جبکہ ان کی ایک کمپنی ٹوجی گھوٹالے میں ملزم ہے۔ اس کمپنی کے اعلی افسران جیل بھی جاچکے ہیں۔ اسی گھوٹالے کو لیکر اس میں سب سے سنسنی خیز جانکاری تو میٹ کے کاروباری معین قریشی کی ملاقاتوں کی ہے۔ 15 مہینے میں سنہا 90 بار ان سے ملاقات کرچکے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جنوری مہینے میں قریشی کی کمپنیوں اور گھر پر انکم ٹیکس محکمے نے چھاپے ماری کی تھی۔ اس چھاپے ماری میں انکم ٹیکس محکمے کو کروڑوں روپے کے ناجائز لین دین کے ثبوت ملے تھے۔ پرشانت بھوشن نے تمام دستاویزوں کو سپریم کورٹ میں پیش کیا ہے۔اس معاملے میں جمعرات کو سماعت ہونی تھی لیکن سپریم کورٹ نے اسے ٹال دیا۔ اب پیر کو اس پر سماعت ہوگی۔ جمعرات کو عرضی کی سماعت کے دوران رنجیت سنہا کو زبردست جھٹکا لگا۔ جب ان کی اس مانگ کو اس کیس کے بارے میں کچھ بھی اخبار وغیرہ کی میڈیا میں ٹیلی کاسٹ یا اشاعت روک لگانے کی اپیل کی تھی جس کو عدالت نے منظور نہیں کیا۔ جسٹس ایم ایل دتو کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ڈائریکٹر کی رہائش گاہ پر آمد رجسٹر سے اٹھے سوال بہت حساس ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ میڈیا ذمہ داری سے کام کرے گی۔ عدالت نے آمد رجسٹر کی فہرست کی تفصیل شائع کرنے سے میڈیا کو روکنے کی رنجیت سنہا کے وکیل کی درخواست کو مسترد کردیا۔ بیورو کے ڈائریکٹر کے وکیل کی دلیل تھی کہ اس میں ان کے ذاتی اختیارات اور ساکھ کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس پر جج صاحبان نے کہا ہمارا اس پر (پریس) کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ پرشانت بھوشن نے مطالبہ کیا کہ ٹوجی گھوٹالے کی جانچ سے سنہا کو الگ کیا جائے۔ ان کے عہدے پر رہتے ہوئے غیرجانبداری کی امید نہیں کی جاسکتی جبکہ سنہا نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کے کارپوریٹ گھرانوں کی آپسی رسہ کشی میں انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے یا کسی وجہ سے کچھ لوگ انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ سنہا نے دعوی کیا کہ جو وزیٹر رجسٹر و ڈائری کی تفصیل شائع کی جارہی ہے وہ فرضی ہے۔ ان کی مبینہ ذاتی ڈائریاں بھی فرضی ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ ان کے گھر پر جو مہمان آتے ہیں ان کی رجسٹروں میں اینٹری نہیں ہوتی۔ انٹر کام کے ذریعے سکیورٹی گارڈ اطلاع دیتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ میں انل امبانی و قریشی سے ملا تھا لیکن اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی معاملے میں ان کا بچاؤ نہیں کیا ۔ ایسے میں ان کی نیت پر سوال نہیں کھڑے کئے جانے چاہئیں۔ رنجیت سنہا کی میعاد آنے والی3 دسمبر کو ختم ہونی ہے۔ سنہا نے دو سال کے لئے 3 دسمبر 2012ء کو یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اس پر کسی بھی طرح کی رائے زنی کرنا ٹھیک نہیں ہوگا ۔ اب سپریم کورٹ میں پیر کو آگے کیا ہوتاہے بہت سی باتیں منحصر کرتی ہیں۔ پرشانت بھوشن کویہ ثابت کرنا ہوگا کہ رنجیت سنہا نے انل امبانی و معین قریشی کو چل رہی قانونی کارروائی میں بچانے کیلئے مقدمہ کمزور کیا ، تب تو الزامات میں دم نظر نہیں آئے گا لیکن کسی سے ملنا جرم نہیں ہے لیکن اگر اس ملاقات سے کسی میں کمزوری آئی تو معاملہ سنگین بن جاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گھوٹالے کی جانچ کررہے ڈی آئی جی سنتوش روہتگی کو ان حالات میں ہٹایا گیا تھا۔اب سنہا سے وابستہ یہ نیا معاملہ سامنے آیا ہے وہ بھی تب تک جبکہ اس معاملے میں اسے سنہا کو الگ رکھنے کی عرضی التوا میں ہے۔ معلوم ہوکہ روہتگی کو جانچ سے ہٹانے کے بعد سنہا پر معاملے میں کچھ بااثر ملزمان کو بچانے کے الزام لگے ہیں۔ بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر روہتگی کو جانچ ٹیم میں بنائے رکھا اب داؤ پر ہے رنجیت سنہا اور سی بی آئی کی ساکھ اور غیر جانبداری۔
(انل نریندر)

05 ستمبر 2014

بھارت۔ جاپان کی دوستی کو نیا رنگ دے گا مودی کا دورہ!

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی سرکار کے 100 دن پورے ہونے سے عین پہلے جاپانی وزیر اعظم شنجو آبے کے ساتھ مل کرباہمی رشتے کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ یوں تو جاپان سے ہماری دوسری بہت پرانی ہے لیکن مودی نے تمام سفارتی اڑچنوں نے آگے بڑھ کر اس میں بھروسہ اور خیر سگالی کی گرمی کی آہٹ پیدا کی ہے۔ یہاں یہ بھی کہنا واجب ہوگا کہ ٹھیک ویسی ہی گرمجوشی جاپان کے وزیر اعظم شنجو آبے کی طرف سے دیکھنے کو ملی۔ بھارت۔ جاپان دوستی کا اثر نہ صرف ایشیا پر بلکہ دنیا کی سیاست پر بھی پڑنا طے ہے۔ گجرات کے وزیر اعلی رہتے ہوئے مودی نے جاپان کے دورہ کئے تھے اسی دوران دونوں لیڈروں کے بیچ بہتر تال میل بن گیا تھا جس کی حکمت عملی دونوں دیشوں کے بیچ ہوئے اہم معاہدوں کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جاپان کی کلچرل نگری کیوٹو کو کاشی سے جوڑ کر مودی نے دونوں ملکوں کے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ہمارے آپسی رشتے ڈپلومیٹک اور کاروباری سے زیادہ ایک مشترکہ کلچر کی بنیاد پر ٹکے ہیں۔ جاپان دورہ میں نریندر مودی پردھان منتری سے زیادہ ایسے ڈپلومیٹ کے رول میں نظر آئے جنہوں نے قدیم اور اثر دار ملکوں کو اپنے رشتوں کی گہرائی اور طاقت کا احساس کرایا۔ دنیا مان رہی ہے کہ 21 ویں صدی ایشیا کی ہوگی لیکن اس اعتراف میں چین کا بھی خوف پوشیدہ ہے جو طاقتور ہوتا جارہا چین جس طرح اپنے آس پڑوس کو ہی خطرناک نظروں سے گھورنے میں لگا ہوا ہے اس خوف کا پنپنا فطری ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ٹوکیو میں جاپان کے ساتھ دوستی کی نئی بنیاد رکھتے ہوئے چین کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی جارحیت والی پالیسی کو ترک کرے اور اس کی اہمیت اس لئے اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ کچھ ہی دنوں میں چین کے صدر بھارت آنے والے ہیں۔ چین کو پیغام دے کرنریندر مودی نے صاف کردیا کہ اس کے مقابلے بھارت اور جاپان کے رشتے کہیں زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ اس بنیاد کو طاقت فراہم کرنے کا کام کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے بیچ مختلف سمجھوتے ہوئے۔ جاپانی وزیر اعظم نے اگلے پانچ برسوں میں بھارت کو 2 لاکھ10 ہزار کروڑ روپے سرمایہ کاری کرنے کا نئی دہلی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ دہلی کے ساتھ بدلتے رشتے کی اہمیت کی نشاندہی کی ہے اس کے تحت بنیادی ڈھانچے اور پروڈکشن ، اسمارٹ سٹی صاف ستھری توانائی اور گنگااور دیگرندیوں کی صفائی سے وابستہ اسکیموں میں سرمایہ کاری ہونا وزیر اعظم بننے کے بعد مودی اس اشو پر خاص طور سے زور دے رہے ہیں کیونکہ اس میں سرمایہ کاری کا مطلب نئے روز گار پیدا کرنا ہوگا۔حالانکہ دونوں ملکوں کے درمیان نیوکلیائی تعاون بڑھانے پر رضامندی ہوئی ہے لیکن امریکہ کی طرح سول سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ ایٹمی تعاون پر بھلے ہی اس بار بات نہ بن پائی ہو لیکن جاپان نے اپنے انتہائی جدید سکیورٹی کے سازو سامان کیلئے اپنی جھولی کا منہ کھول دیا ہے ۔ اس کا فوری فائدہ ہمیں ہند ساگر اور خلیجی بنگال میں ملنا ہے۔ انڈومان نکوبار کا جزیرہ جس پر چین کی نظریں لگی ہیں، یہ ہماری تشویش کا سبب ہے۔ مودی اسی مہینے امریکہ کے صدر براک اوبامہ سے بھی ملنے والے ہیں۔ جاپان کے دورہ کے بعد اب بھارت۔ جاپان اور امریکہ کا طاقتور تکون بننے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ مودی کا بلٹ ٹرین کا خواب اب جاپان سرکار پورا کرے گی جس میں وہ پیسے اور تکنیک کی بھر پور مدد دینے جارہا ہے۔ گنگا کی صفائی میں بھی جاپان شامل ہونا چاہتا ہے اسے مہم کی کامیابی کا ایک اچھا اشارہ مانا جاسکتا ہے۔ فلاحی اور ڈیفنس سیکٹر میں کام کررہی ہماری چھ کمپنیوں پر سے پابندی ہٹا کر جاپان نے ان کے جدید کرن کا راستہ صاف کردیا ہے۔ جاپان کے صنعتی سیکٹر کیلئے وزیر اعظم کے دفتر میں اسپیشل سیل بنانے کا اعلان کرکے نریندر مودی نے جتادیا ہے کہ وہ اس رشتے کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ چینی صدر کے ہندوستان آمد کے بعد مودی امریکہ کے دورہ پر روانہ ہوں گے اور اس دورہ سے دونوں ملکوں کو امیدیں ہیں اگرچہ وہ پوری ہوتی ہیں تو ستمبر خارجہ پالیسی کے مورچے پر ایک میل کے پتھر کی شکل میں جانا جاسکتا ہے۔ بھارت۔ جاپان کے رشتے دنیا کے طاقت کے توازن میں یقینی طور سے ایک نیا باب لکھنے میں کامیاب ہوں گے اس میں کوئی شبہ نہیں دکھائی دیتا۔
(انل نریند)

رقیب الحسن کے سنسنی خیز انکشافات مدد گار تھے دو درجن پولیس افسر وجج!

نیشنل نشانے باز تارہ شاہ دیو معاملے کے ملزم رنجیت سنگھ کوہلی عرف رقیب الحسن نے جارکھنڈ پولیس کے سامنے کئی بڑے انکشافات کئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق حسن نے بتایا کہ ان کے کئی دہلی کے جج صاحبان سے اچھے رشتے ہیں۔ وہ ان سے مل کر ضمانت دلانے کا دھندہ کیا کرتا تھا۔ اس سے وہ کروڑوں روپے کماتا تھا۔ اس سلسلے میں کئی جج کے گھر پر اس کا آنا جانا تھا رقیبل نے دو درجن پولیس افسران کے نام بھی بتائے ہیں جو اس کی مدد کرتے رہے ہیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی ہوائی اڈے کے پاس واقع مہیپال پور میں ایک ہوٹل میں اس کا کمرہ بک رہتا تھا۔ اگر اس کے کسی جاننے والے کو دہلی میں کوئی کام ہوتا تھا تو وہ اسی کمرے میں ٹھہرا کرتا تھا۔ رقیب الحسن(رنجیت سنگھ) نے دو درجن پولیس حکام کے بارے میں یہ بھی انکشاف کیا کہ زیادہ تر ڈی ایس پی رینگ کے افسر ہیں۔ اس کے علاوہ چھ جج بھی اس سے ملے ہوئے تھے۔ ان میں ضلع جج اور چیف جسٹس سطح کے افسران بھی تھے۔ رقیبل نے بتایا کہ دہلی کے اشارے پر جھارکھنڈ کے کسی بھی ضلع کے کورٹ کے افسر اس کا کہا مانتے تھے اور اس کا پورا کام جھٹ پٹ کردیتے تھے اور وہ اس کام کے عوض سے ملی رقم کا 80 فیصدی ایک شخص مشتاق احمد لیتا تھا ۔ باقی پیسہ رقیب الحسن کو جاتا تھا۔ کسی ملزم کو ضمانت دلوانے کے عوض میں رقیبل 2 سے5 لاکھ روپے تک لیتا تھا۔ کورٹ کا کام رقیبل کے اپارٹمنٹ سے ہی نمٹایا جاتا تھا۔ مختلف ضلعوں کے عدلیہ حکام خود رقیبل کے فلیٹ پر آتے تھے۔ پولیس افسر بھی وہاں آیا جایا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو پیسے کے ساتھ لڑکی بھی سپلائی کی جاتی تھی۔ ڈی ایس پی کے لئے طے رقم کا آدھا حصہ رقیبل کو ملتا تھا۔ اس نے سیکس ریکٹ سے جڑے کئی پولیس افسروں اور ہائی پروفائل لوگوں کے نام بھی بتائے ہیں۔ تارا کے ذریعے لگائے گئے الزامات کو بھی صحیح بتایا۔ جارکھنڈ کی تارا شاہ دیو اب پتی کی قید سے باہر ہے۔ اس کا پتی رنجیت سنگھ کوہلی عرف رقیبل پولیس کی گرفت میں ہے۔ ریاستی سرکار پورا معاملہ سی بی آئی کو سونپ چکی ہے، جانچ جاری ہے اور معاملے میں روز کچھ نہ کچھ نئی بات کھل رہی ہے۔ تارا شاہ دیو نے بتایا کہ شادی کے وقت مجھے وائرل تھا۔ شادی کے بعد جب سسرال پہنچی تو رنجیت نے کہا آج کی رات آرام کرلے دوسرے دن کہا جانتی ہے میرے پاپا نہیں ہیں۔ مشتاق احمد ہی گارجن ہے ان کی خواہش ہے کہ ہمارا نکاح بھی ہوجائے اس سے ہمارے رشتے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول کرلیا جائے گا۔ سب لوگ ہماری نظر سے نہیں دیکھتے اس لئے اس بارے میں کسی کو بتانا نہیں۔ نکاح میں کچھ ہوتا بھی نہیں ہے صرف ’قبول ہے قبول ہے ‘بولنا پڑتا ہے۔ مجھے سوچنے کا موقعہ بھی نہیں ملا۔ میں نے اس کے مطابق تین بار ’قبول ہے قبول ہے‘ کہہ دیا اور پھر مجھے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ نکاح ہوتے ہی رقیب نے کہا ڈھنگ سے رہنا ورنہ دہلی والی نربھیا جیسا حال کردوں گا۔ رقیبل نے جو سنسنی خیز انکشاف کئے ہیں ان کی رانچی پولیس جانچ کررہی ہے اور جلد رقیبل عرف کوہلی کے خلاف چارج شیٹ داخل کرے گی تبھی صحیح معنوں میں پتہ لگے گا کہ رقیبل کے ذریعے لگائے گئے الزامات اور سنسنی خیز انکشافات صحیح ہیں یا نہیں؟
(انل نریندر)

04 ستمبر 2014

مودی حکومت کے100 دن نہ اچھا نہ خراب اوسطاً ہے کام کاج!

مہنگائی ،کرپشن، گوڈ گورننس کے اشو پر مرکز میں اقتدار میں آئی مودی سرکار نے100 دن پورے کرلئے ہیں۔ وہیں حکومت کیلئے یہ دن کھٹے میٹھے تجربے والے رہے۔حکومت نے پچھلے100 دنوں میں ایک کے بعد ایک کئی فیصلے لئے ہیں۔ ان میں سے کچھ متنازعہ رہے تو کچھ کی تعریف ہوئی۔ چلئے مودی کے 100 دن کی میعاد کا تجزیہ کریں۔ پرانی دہلی میں پراٹھے والی گلی سے گزرئے تیار ہوتے پراٹھوں کی خوشبو بھوک بڑھا دیتی ہے، رہی بات لذت کی یہ بنانے والے کے ہنر پر ٹکی ہے۔ مودی سرکار کے پہلے100 دن کے کام کاج پر رائے ایسی ہے۔ اب جب حکومت نے پہلا مرحلہ پار کرلیاہے مہنگائی ڈائن کا گانا ابھی بار بار گایا جاتا ہے، کچھ فیصلے بہر حال ایسے ضرور ہوئے ہیں جن سے لگتا ہے کہ لال فیتاشاہی ختم ہوگی اور سسٹم میں بہتری اور عوامی سہولیات کی کوالٹی بہتر ہوگی۔ لوگ دیش میں بڑی تبدیلی چاہتے ہیں اور اس لئے نریندر مودی کو وقت دے رہے ہیں۔ انہوں نے ریل کرائے میں زبردست اضافہ چپ چاپ طریقے سے برداشت کرلیا ہے۔ مہنگائی پر یوپی اے سرکار کے طرز پر سرکار کی بہانے بازی بھی سنی جارہی ہے۔ معیشت میں راتوں رات بہتری نہیں ہوسکنے کی دلیل بھی سنائی دے رہے ہی۔ یہ سب صرف اس امید پر برف پڑنے کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ اب کی بار مہنگائی پر حملے کا نعرہ دے کر اقتدار میں آئی مودی سرکار پہلے ہی دن سے مہنگائی کے محاذ پر لڑ رہی ہے۔ بھاجپا نے اپنے چناوی منشور میں قیمت کنٹرول فنڈ اور نیشنل ایگری مارکیٹ جیسی پہل کے بوتے مہنگائی روکنے کا دم بھرا تھا لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ مہنگائی کے مورچے پر ابھی تک تو مودی سرکار ناکام ہوئی ہے۔ پچھلے تین مہینے سے مہنگائی کی مار بدستور جاری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار پیاز نہیں ٹماٹر80 روپے کلو بک رہا ہے۔ راحت صرف اتنی ہے کہ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام گرنے سے پیٹرول 3 روپے سستا ہوا ہے۔ صرف پھل ،سبزیوں کو منڈی قانون سے باہر رکھنے جیسے اقدامات سے مہنگائی رکنے والی نہیں ہے۔ اصل میں ہمیں مہنگائی کو دیکھنے پرکھنے کا نظریہ بدلنا ہوگا۔ پیاز ،آلو کے دام پر 26 مئی سے28 اگست کے درمیان 24-25 فیصدی دام بڑھے ہیں۔ اسی میعاد میں ٹماٹر15 روپے فی کلو سے59 روپے جو کہ 293 فیصدی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ دودھ جیسی روز مرہ کی استعمال میں آنے والی چیزپر36 سے38 روپے، آٹا سے21 سے22 روپے، ارہر 75 روپے سے 80 روپے یعنی 6 فیصدی دام بڑھے ہیں۔ نہ کھاؤں گا ،نہ کھانے دوں گا کہ دعوے کے ساتھ وزیر اعظم نے کرپشن پر لگام لگانے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کے100 دن کی سرکار میں اس سمت میں کچھ قدم اٹھانے کی آہٹ ضرور سنی گئی لیکن ابھی سخت اور بڑے قدموں کا انتظار ہے۔ مثلاً مودی نے جہاں اپنے ممبران کو یہ نصیحت دی ہے کہ وہ تبادلے، تقرری کی سفارش لے کر نہ آئیں کسی طرح سرکاری بابوؤں پر لگام کسنے کے لئے فیصلوں میں صاف ستھرا پن لانے کی شروعات کرنے کی پہل کی ہے۔ اس کے باوجود ملک میں کرپشن کے خاتمے کولیکر لوک پال کے لئے اٹھی آواز کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں مودی سرکار نے پہلے100 دنوں میں ایک بھی قدم نہیں اٹھایا۔ جبکہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے بھی سرکار سے سوال پوچھا ہے کہ اچھا انتظامیہ دینے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے نریندر موی عورتوں کی سلامتی کے اشو پر ابھی تک خاموش اور ناکام رہے ہیں۔ 
دہلی شہر جو وزیر اعظم کی آنکھ کے نیچے ہے، میں آبروریزی کے واقعات میں ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔ دہلی آج ریپ کیپیٹل بن گئی ہے۔ دہلی میں قانون و سسٹم دہلی سرکار کے نہ بننے کی وجہ سے وزارت داخلہ کے ماتحت آتا ہے جو کہ مودی سرکار کے ہاتھ میں ہے۔ دہلی میں سرکار کی بات کریں تو یہ دکھ کی بات ہے کہ 100 دن گزر جانے کے باوجود مودی یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ دہلی میں چناؤ ہونا ہے یا سرکاردوبارہ بننی ہے۔گذشتہ سہ ماہی میں دیش میں ترقی کی رفتار 5.7 فیصدی بڑھی ہے جو پچھلی9 سہ ماہی میں تقریباً ڈھائی سال میں سب سے زیادہ ترقی شرح ہے۔ اس اعدادو شمار کے آتے ہی مودی سرکار کے وزرا نے اس کا سہرہ لینے کیلئے دوڑ لگادی ہے۔ یہ 5.7فیصدی کا اعدادو شمار اپریل 2014ء سے جون2014 کے درمیان کا ہے۔ مودی سرکار26 مئی کو اقتدار میں آئی۔ محض ایک ماہ کے اندر ترقی شرح بڑھی تو اس کا سہرہ یوپی اے سرکار کو جاتا ہے مودی سرکار کو نہیں۔ کئی ایسی اسکیمیں ہیں جو منموہن سنگھ سرکار کے عہد میں شروع ہوئیں لیکن فیتہ اس کے لئے مودی نے کاٹا ہے۔ مثال کے طور پر دہلی سے کٹرہ ریل چلائی، یہ اسکیم کئی سال پہلے یوپی اے حکومت نے بنائی اور اس پر کام کیا لیکن فیتہ مودی جی نے کاٹ دیا۔ انہیں یہ سہرہ نہیں لینا چاہئے۔ مودی کا تنازعوں سے پرانا رشتہ ہے۔ پہلا تنازعہ آرڈیننس کے ذریعے مودی نے نپندر مشر کو پرنسپل سکریٹری بنانے کا رہا۔ راتوں رات یہ آرڈیننس جاری کرکے فیصلہ لے لیا۔ مودی نے اپنے فیصلے میں اچھے برے کا تال میل بنائے رکھا۔ پڑوسیوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا اور ان کی حرکتوں کا جواب بھی دیا۔ جن دھن یوجنا میں ہر خاندان کے بینک کھاتے کھولنے کے حکم کی تعریف ہورہی ہے۔ 
دیش کی عدلیہ میں مداخلت کرتے ہوئے ججوں کی تقرری کا سسٹم میں تبدیلی لانااور پرانے کولیجیم کو ختم کرنا بھی عام طور پر اس کا بھی خیر مقدم ہوا ہے۔ پہلی بار کیبنٹ کی میٹنگ میں کالی کمائی کی واپسی پر ایس آئی ٹی بنانے پر سپریم کورٹ نے بھی تعریف کی ہے۔ گورنروں کے استعفے سے ضرور تھوڑا تنازعہ کھڑا ہوا لیکن کل ملا کر ایک بڑا فیصلہ تھا۔ وزرا پر لگام کسنے کے لئے ان کے رشتے داروں کو پرسنل اسٹاف میں رکھنے پر بھی روک لگنے کا صحیح قدم تھا۔ ہر ایم پی کو نشانہ دیا گیا کہ وہ اپنے حلقے میں ایک گاؤں کو 2016ء تک ماڈل گاؤں بنائے، کا بھی خیر مقدم ہوا۔ عورتوں کیلئے ٹوائلٹ بنانے کی اپیل لائق تحسین تجویز ہے۔ مودی نے میڈیا دونوں الیکٹرانک۔ پرنٹ کو اپنے سے دور رکھنے کے پیچھے ان کی ذاتی ناراضگی دکھائی پڑتی ہے۔ وہ2002ء سے ان کے خلاف چلائی مہم سے میڈیا سے ناراض ہیں۔ امت شاہ کو بھاجپا کا پردھان بنوا کر مودی نے پارٹی اور سرکار پر پورا کنٹرول کرلیاہے۔ کل ملاکر مودی کے100 دن کی میعاد نہ تو اچھی رہی نہ ہی خراب بلکہ اوسط والی کام کاج کی رہی۔ مہنگائی ،کرپشن،عورتوں کی سلامتی جیسے برننگ اشوز جن کو لیکر مودی اقتدار میں آئے تھے، ان پر تسلی بخش رائے نہیں رکھتی دیش کی جنتا۔ امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ان میں بہتری ہوگی۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2014

کہیں موجودہ بحران سے پاکستان میں فوجی حکومت نہ ہوجائے؟

پاکستان کی اندرونی سیاست ویسے تو اس کا اپنا معاملہ ہے لیکن ایک غیر پائیدار پاکستان بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔ اور وہاں حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان میں نواز شریف کو ہٹانے کیلئے پچھلے کچھ عرصے سے جاری تحریک پہلے سے زیادہ تشویش کا باعث تھی لیکن اب اس کے تشدد میں بدل جانے سے نواز شریف کی جمہوری حکومت پر عدم استحکام کے بادل منڈرانے لگے ہیں۔ سیاست کے ذریعے جب شورش کو ہوا دی جاتی ہے تو ویسا ہی کچھ حال ہوتا ہے جو ان دنوں پاکستان میں چل رہا ہے۔ تحریک انصاف پارٹی کے نیتا عمران خاں اور عوامی پارٹی کے لیڈر مولانا طاہرالقادری جن مطالبات کولیکر پاکستان میں پارلیمنٹ کی گھیرا بندی کئے ہوئے ہیں اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ نواز شریف کے استعفے کی مانگ پر اڑیل عمران خاں اور مولانا طاہر القادری کو پاکستان کے عام چناؤ ہونے کے ایک سال بعد یاد آیا ہے کہ چناؤ میں دھاندلی ہوئی تھی اس کے چلتے اس کو نقصان اٹھانا پڑا؟ عمران خاں کی طرح سے طاہرالقادری کی طرف سے جو دلیل دی جارہی ہے نواز شریف کے استعفیٰ دینے سے دیش کے مسائل کا حل ہوجائے گا، اس کا بھی کوئی جواز سمجھنا مشکل ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستانی فوج جس طرح سے سرگرم اور موثردکھائی پڑ رہی ہے اس سے نہ صرف نواز شریف ایک کمزور وزیر اعظم کے طور پر ابھرکر سامنے آئے ہیں بلکہ پاکستان میں جمہوریت بھی ڈانواڈول ہوتے دکھائی دینے لگی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر عمران خاں وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے پر اڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے متبادلے کو پورا کرانے کے لئے آخری دم تک جدوجہد جاری رکھیں گے جبکہ نواز شریف سرکار کہتی آرہی ہے کہ وزیر اعظم کے استعفے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ سرکار اور اپوزیشن کی اس کھینچ تان کے بیچ پاکستان کے سیاسی مستقبل کو لیکر بھی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔سوال یہ ہے کہ پاکستان کی عوام کیا چاہتی ہے؟ لوگوں کو ڈر ہے اس کھینچ تان کے درمیان پھر سے کہیں پاکستان میں مارشل لا نہ لگ جائے یعنی فوجی حکومت قائم نہ ہوجائے۔ پاکستان کی تاریخ میں 2013ء کا عام چناؤ پہلا موقعہ تھا جب جمہوری طریقے سے چنی گئی ایک حکومت نے پانچ سال کی اپنی میعاد پورا کرنے کے بعد جمہوری طریقے سے منتخب ایک دوسری سرکار کو اقتدار حوالے کیا۔ اس کو فوجی حکومت کی تاریخ والے دیش میں جمہوریت مضبوط ہونے کے ثبوت کے طور پر دیکھا گیا۔کرکٹر سے سیاستداں بنے عمران خاں نے اس چناؤ میں اپنی دلچسپ اور سنجیدہ دعویداری لوگوں کے سامنے رکھی تھی کہ وہ کرپشن اور امریکی ڈرون حملوں کے خلاف آواز اٹھائے ہوئے تھے تب ان کے چناؤ مہم میں ان کے اس نعرے پر کافی بھیڑ دیکھی گئی ۔ انہیں پاکستان کا ایک ابھرتا ستارہ کیاگیا۔ حالانکہ چناوی نتیجے پی ایم ایل نواز کے حق میں آئے اور نواز شریف وزیر اعظم بن گئے اور عمران خاں کو توقع کے مطابق کامیابی نہیں ملی۔ مگر ان کی پارٹی پارلیمنٹ میں تیسری بڑی پارٹی بن کر ابھری۔
عمران نے چناؤ میں دھاندلی کا الزام لگایا اور جانچ کا مطالبہ کیا۔ نواز شریف کے استعفے کی مانگ اسی سلسلے کی کڑی ہے لیکن اب جب عمران اور شریف آمنے سامنے ہیں اور پی ٹی اے چیف طاہرالقادری بھی عمران کی حمایت کررہے ہیں، پاکستانی عوام سوچنے لگی ہے کہ یہ رویہ دیش میں جمہوریت کے لئے اتنا مفید رہے گا؟ لوگوں کو ڈر ہے کہ دیش میں سیاسی عدم استحکام بڑھا تو فوج پھر سے اقتدار پر قابض ہونے کی راہ پر بڑھ سکتی ہے اور اب عوام پرانے دور میں لوٹنا نہیں چاہتی۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خاں کے اشو پر مظاہرے میں بھیڑ دیکھنے کے باوجود نواز شریف کو گرانے کے حق میں آواز مضبوط ہوتی نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ ویسے یہ حیرت ناک ضرور ہے کہ پارلیمنٹ میں کافی حمایت کے باوجود نواز شریف بحران سے نمٹنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ اس سے زیادہ عجب اور کیا ہوگا کہ جو نواز شریف یہ کہہ رہے تھے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت شہریوں کی طرف سے چلے گی، وہ آج فوج کی مدد لینے کے لئے مجبور ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا تھا کہ موجودہ بحران کو حل کرنے میں فوج نے اپنے سطح پر مداخلت کی ہے لیکن فوج نے صاف کہا کہ اس نے وزیر اعظم کے کہنے پر ہی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ موجودہ بحران میں پہلے فوج نے متوقع توازن کا رویہ اپنانے کا ثبوت دیا تھا لیکن بعد میں اس کی ثالثی کے حالات پیدا ہوئے اورتنازعہ اور بگڑے حالات کودیکھتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل شریف راحل نے کور کمانڈروں کی میٹنگ بلانے کے تازہ فیصلے کے کئی مطلب نکالے جارہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چناوی جیت کے جوش میں اپنے حریفوں کو نظرانداز کرنے کی غلطی نواز شریف نے بھی کی تھی ، نہیں تو شروعات کے کچھ سیٹوں پر دوبارہ پولنگ کرانے کی مانگ کرنے والے عمران خاں آج بھی پی ایم ایل نواز کی چناوی جیت کو ہی دھاندلی کا نام نہیں دیتے۔ اسی طرح مولانا طاہرالقادری کے مطالبات کے گئیں شروعات میں تو نرمی دکھانے پر شاید یہ حالات نہ بگڑتے البتہ پاکستان کو تشدد اور تعطل اور غیر یقینی حالات پر پہنچانے کے لئے عمران خاں اور قادری زیادہ ذمہ دار ہیں۔ قادری کیونکہ ایک عالم دین ہے لہٰذا پاکستان جیسے ایک کٹر ملک میں ان کی تحریک اور حمایت کی بھیڑ سے اتنا تعجب نہیں ہوتا لیکن عمران خاں جیسے سیاستداں جو خود عام چناؤ میں ایک وزیر اعلی بنے وہ آج چنی ہوئی سرکار کو اقتدار سے باہر کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں یہ بات حیران کرنے والی ہے اور تشویش کا باعث بھی۔ عمران خاں کے طور طریقوں سے خود ان کی پارٹی میں بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔ ریڈ زون میں پرامن مظاہرہ کررہے حمایتیوں کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک کوچ کرنے کے عمران خاں کے فیصلے پر ان کی ہی پارٹی میں بغاوت ہوگئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس کے چلتے پارٹی صدر اور سینئر لیڈر جاویدہاشمی سمیت چار لوگوں کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ سرکار مخالف مظاہرین نے بھی میڈیا کو بھی نہیں بخشا۔ ایتوار کو پاکستان کے بڑے ٹی وی چینل جیو نیوز کے دفتر پر پتھراؤ کیا گیا۔ حملے میں ٹی وی چینل کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو نواز شریف کی جمہوری سرکار کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ ایسے میں فوجی تاناشاہی کا خدشہ نظر آرہا ہے۔ پڑوس کے حالات سے ظاہر ہے کہ خود بھارت کیلئے بھی بیحد تشویشناک ہے۔ بھارت کو اور چوکنا رہنا ہوگا۔ امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں جاری عدم استحکام کو پاکستان کی سپریم کورٹ ہی دور کرے گی۔
(انل نریندر)

02 ستمبر 2014

مودی کا کاشی مشن: ورلڈہیری ٹیج سٹی بنوانا!

بھارت میں 100 اسمارٹ شہر بنوانے کی اہم اسکیم زمین پر اتارنے کی سمت میں قدم بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے جاپان دورے کا آغاز ایک اہم سمجھوتے کے ساتھ کیا جس کے تحت کیوتو کے تعاون اور تجربے سے پردھان منتری کے پارلیمانی حلقے وارانسی کو ایک اسمارٹ سٹی کے طور پر بنایا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی وارانسی پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے چناوی کمپین کے دوران کانشی کی کایا کلپ کرنے کا عہد کیا تھا۔ وہ وارانسی کے تاریخی گھاٹوں سے لیکر ترقیاتی کاموں کو رفتار دینا چاہتے ہیں۔ اب کاشی کے باشندوں کو بجلی کٹوتی کا دردجھیلنا پڑ رہا ہے کیونکہ یوپی سرکار نے وارانسی کو نو کٹ زون اعلان کردیا ہے۔ ا سے مقامی لوگ مودی کا کرشمہ مان رہے ہیں۔وزیر اعظم کی ہدایت پر وارانسی میں منی پی ایم او کا حال ہی میں امت شاہ نے افتتاح کیا ہے۔ اس دفتر کے اعلی افسر کاشی کے ترقیاتی کاموں پر نگرانی رکھ رہے ہیں۔ وارانسی اسٹیشن کے اچھے دن آگئے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن کی کایاکلپ کرنے کے لئے ریلوے انتظامیہ جم گیا ہے۔ اس اسٹیشن کیلئے اینٹی گریٹڈ پلان تیار کیا گیا ہے جس میں پانچ سمتوں سے آنے والی ٹرینوں کو ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلایا جاسکے۔ یہاں کے پلیٹ فارم اور بھیڑ کا بھی انتظام ہوگا۔ اس میں24 کوچ والی ٹرین بھی آسانی سے آ جا سکے گی۔ وارانسی ریلوے اسٹیشن کو نیا لک دینے کے لئے فی الحال 190 کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اب وارانسی کو یونیسکو کے ذریعے ورلڈ ہیری ٹیج سٹی کا درجہ دلانے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ ابھی تک بھارت میں کسی شہر کو درجہ نہیں ملا ہے جبکہ ورلڈ ہیری ٹیج سٹی بننے کے لئے وارانسی تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔ وارانسی میں 30600 مندر ہیں ،42 گورودوارے ہیں،12 گرجا گھر ہیں اور کئی بڑی مساجد ہیں۔ ان میں کئی تاریخی اور آثار قدیمہ کے نقطہ نظر سے اہم مانی جاتی ہیں۔ کاشی کو بھگوان وشوناتھ کی نگری کی شکل میں بھی مانا جاتا ہے۔ اس دھارمک شہر کو ورلڈ ہیری ٹیج سٹی کا درجہ دلانے کے لئے بھارت سرکار نے1990 میں ایک بار ابتدائی پہل کی تھی لیکن آگے اس کے لئے زیادہ کوشش نہیں کی گئی۔ مودی سرکار اب اسی کام کو آگے بڑھانے میں لگ گئی ہے۔ کاشی کوسسرال بنانے والی جاپانی لڑکیاں ہوںیا گنگا ساحل پر بسے اس قدیم شہر کے گھاٹوں کی مرید مہمان سیاح سبھی کی نظریں مودی کے جاپان دورے پر لگی ہوئی ہیں۔ قارئین کو بتادیں وارانسی و بنگالی ٹولہ علاقے کی گلیوں میں تو ایک الگ جاپان بستا ہے۔ وہاں اشتہار ہوں یا دوکان کی پہچان والا بورڈ جاپانی زبان میں ہی نظر آئے گا۔گھاٹ اور گنجان گلیاں گھومنے آئی ندی کے ساحل کے شہر کیوتو کی طالبہ شکورہ کا کہنا ہے کہ بھارت ۔جاپان کی دوستی دنیا میں ترقی کے نئے باب کی شروعات ہے۔ کیوتو اور کاشی دونوں کی روح ایک جیسی ہے۔ کیوتو اور کاشی میں بہت یکسانیت ہے۔ کیوتو میں بھی مندروں کی اکثریت ہے کاشی میں بھی۔کلچر راگ رنگ میں بسی ہوئی ہے۔ یہاں بھی فرق اتنا ہے کہ اس شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں وارانسی کی جنتا دلچسپی نہیں لیتی۔
(انل نریندر)

فسادکے ملزم سنگیت سوم کو زیڈ سکیورٹی دینے پر واویلا!

مرکزی سرکار نے اترپردیش کے مظفر نگر میں ہوئے فسادات میں ملزم بھاجپا ممبر اسمبلی سنگیت سوم کو زیڈ زمرے کی سکیورٹی مہیا کرائی گئی ہے۔ مرکز کے اس فیصلے پر ہنگامہ مچنا فطری ہی تھا۔ اترپردیش کے داخلہ سکریٹری کمل سکسینہ نے بتایا کہ ہمیں اس بارے میں کوئی خط نہیں ملا ہے اور ایسے میں موجودہ دی جارہی وائی سکیورٹی جاری رہے گی۔ اترپردیش سرکار نے سکیورٹی دئے جانے کو ریاست کا اشو بتاتے ہوئے کہا کہ مظفر نگر فسادات کے ملزم بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم کو زیڈ+ سکیورٹی دینے سے پہلے مرکز نے ان سے کوئی جانکاری نہیں لی۔ کمل سکسینہ کا کہنا ہے کہ کسی کو سکیورٹی دینے کے اپنے قاعدے و ضابطے ہیں اور سکیورٹی جاری رکھنے یاواپس لینے کا فیصلہ نوٹی فکیشن بیورو اور ریاستی سرکار کے حکام کی میٹنگ میں لیا جاتا ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن نے سرکار کے اس فیصلے کو لیکر اس کے ارادے پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ دنگے کا ملزم کو زیڈ سکیورٹی دستیاب کرانا متاثرہ افراد کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔دوسری طرف بھاجپا کا کہنا ہے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ اور خطرے کو دیکھتے ہوئے سوم کو یہ سکیورٹی مہیا کرائی گئی ہے۔ حالانکہ فرقہ وارانہ فسادات یا دیگر حساس معاملے میں ملزم کسی بھاجپا نیتا کو اعلی سطح کی سکیورٹی دستیاب کرانے کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس کا آغاز تو بھاجپا پردھان امت شاہ سے ہی ہوا ہے۔ شاہ سہراب الدین اور تلسی پرجا پتی فرضی انکاؤنٹر معاملے میں ملزم ہیں، اس کے باوجود انہیں اعلی سطحی سکیورٹی ملی ہوئی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ بھاجپا کے زیادہ تر سرکردہ لیڈر جو اس طرح کے معاملے میں ملزم ہیں سبھی کو زیڈ + سکیورٹی ملی ہوئی ہے۔ اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اور راجستھان کے گورنر بنائے گئے کلیان سنگھ کا نام بھی اس میں ہے۔ فیض آباد کے سابق ایم پی ونے کٹیار کو بھی یہ سکیورٹی مہیا کرائی جاچکی ہے۔ کانگریس نے سوم کو زیڈ+ سکیورٹی مہیا کرانے پر پلٹ وار کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی کا کہنا ہے کہ سوم کو دی گئی سکیورٹی واپس لی جائے۔ اس سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوگا۔ کانگریس کے ہی منیش تیواری نے کہا فسادات میں جو لوگ مارے گئے ہیں جن کے گھر جلائے گئے ان کے ساتھ اس سے بڑا اور کوئی مذاق نہیں ہوسکتا۔
جنتا دل (یو) کے سکریٹری جنرل کے سی تیاگی کا کہنا ہے زیڈ+ سکیورٹی نہ صرف سوم کی حفاظت کے لئے ہے بلکہ انہیں بے قصورلوگوں کے قتل کے لئے لائسنس دستیاب کرایا گیا ہے۔ دوسری طرف وزارت داخلہ نے دلیل دی ہے کہ سوم پر درج مقدموں سے انہیں سکیورٹی دینے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مقدموں کا تعلق ریاستی سرکار اور عدالتوں سے ہے۔ سرکار نے سوم کی سکیورٹی کو خطرے کا جائزہ لے کر فیصلہ لیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچی اگر سوم پر حملہ ہوا تو یوپی کاماحول خراب ہوگا۔ اگر اکھلیش سرکار نے سکیورٹی دے دی ہوتی تو مرکز کو یہ فیصلہ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بہرحال مرکز کے اس فیصلے سے اکھلیش سرکار شش و پنج میں مبتلا ہے جبکہ ہمارے پاس مرکز سے کوئی باقاعدہ حکم آتا ہے تو بھاجپا ممبر اسمبلی کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے گا۔
(انل نریندر)

31 اگست 2014

بھاجپا میں اقتدار کی جنگ شہ مات کا کھیل!

بھاجپا اور مودی سرکار میں جاری شہ مات کا کھیل زوروں پر چل رہا ہے۔سنسد کے بجٹ سیشن میں جہاں مرکزی ٹرانسپورٹ وزیر نتن گڈکری کے گھر جاسوسی کے آلات کے پائے جانے کی خبروں نے جہاں مودی سرکار کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہ ہونے کے اشارے دئے وہیں دوسری جانب مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور ان کے بیٹے پنکج سنگھ کی مالی بے ضابطگیوں کی خبروں نے ایک بار پھر سرکار کے اندر چل رہی گٹ بازی کو جگ ظاہر کردیا۔ بھاجپا کے سابق قومی صدر اور مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو ایک مہینے کے اندر مودی ۔ شاہ کی جوڑی نے دوسری بار کرارا جھٹکا دیا ہے۔
سنسد کے بجٹ سیشن کے دوران سرکار کا سب سے رسوخ دار مانے جانے والی کیبنٹ کی تقرری کمیٹی میں راجناتھ کے رسوخ کومحدود کردیا وہیں دوسری طرف گذشتہ دنوں بھاجپا کے نئے قومی صدر امت شاہ نے راجناتھ سنگھ کی بیٹے پنکج سنگھ کی سیاسی پاری کو ریڈ سگنل دکھاتے ہوئے نوئیڈا سے ان کی ٹکٹ کاٹ کر وملا کو میدان میں اتارا ہے۔ یہی نہیں گذشتہ کچھ ہفتے سے راجدھانی کے سیاسی گلیاروں میں یہ افواہیں چل رہی ہیں کہ وزیر اعظم نے مبینہ طور پر کئی موقعوں پر کچھ نیتاؤں کو ان کے اعمال کے لئے پھٹکا لگائی ہے۔ یہ بھی افواہ تھی کہ راجناتھ سنگھ کے بیٹے نے کسی کا کام کرانے کے لئے پیسے لئے تھے۔ مودی نے پنکج سنگھ کو بلا کر ڈانٹ پلائی تھی اور پیسہ لوٹانے کا حکم دیا تھا۔ افواہ ہے کہ یہ شخص کوئی اور نہیں راجناتھ کا بیٹا پنکج سنگھ ہے۔راجناتھ سنگھ اپنے اک سینئر ساتھی منتری(ارون جیٹلی) سے مبینہ طور پر بہت ناراض ہیں۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے خلاف غلط اور جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں۔وزیر داخلہ نے اس معاملے کو بھاجپااور آر ایس ایس کے اعلی رہنماؤں کے سامنے اٹھایا ہے۔ سنگھ کی طرف سے معاملے کواٹھانا مودی سرکار سے مت بھید کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سینئر بھاجپا نیتاؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقتدار کیلئے سنگھرش کا اشارہ ہے۔
راجناتھ اور ان کے بیٹے پنکج سنگھ کے خلاف آئی خبروں کے بعد خود پردھان منتری دفتر کو صفائی دینے اور امت شاہ کے ذریعے راجناتھ کو کلین چٹ دیا جانا اس بات کو بتاتا ہے کہ پردے کے پیچھے کافی کچھ ہوا ہے۔ پارٹی کے دیگر سینئر کی مانیں تو دراصل مودی سرکار میں یہ جاری شہ مات کا کھیل یہیں رکنے والا نہیں ہے۔ امت شاہ کو پارٹی دفتر میں بیٹھ کر پورے گھٹنا کرم پر خود نگرانی رکھنا یہ دکھاتا ہے کہ سرکار کے اوپر ایسا کرنے کیلئے کہیں دوسری جگہ سے دباؤ پڑ رہا ہے۔ اشارہ صاف ہے کہ اس بار راجناتھ اپنے آقاؤں کے ذریعے پارٹی کے دوسرے گٹ پر کہیں نہ کہیں بھاری پڑتے دکھ رہے ہیں جس کے چلتے ہی سرکار اور پارٹی نے نمبر ایک پر بیٹھے لوگوں کے ذریعے اتنی سرگرمی دکھانی پڑی ہے۔ ظاہر ہے کہ پارٹی کے اندر ابھی سے اقتدار کی جنگ اور شہ مات کا کھیل شروع ہوچکا ہے۔
(انل نریندر)

ہندی، ہندو، ہندوستان؟نجمہ اواچ

مرکزی اقلیت معاملوں کی وزیر نجمہ ہیبت اللہ نے اپنے ایک بیان سے بھلے ہی آر ایس ایس سر سنچالک موہن بھاگوت کو خوش کردیا ہو لیکن ان کے اس بیان پر سیاسی وبال ہونا فطری ہی تھا۔ نجمہ نے انگریزی کے ہندوستان ٹائمس کو دئے ایک انٹرویو میں کہہ دیا کہ ہندوستان میں رہنے والے سبھی لوگوں کو اگر ہندو کہہ دیا تو اس میں غلط کیا ہے؟یعنی سبھی بھارتیہ ہندو ہیں۔ سبھی بھارتیوں کیلئے پہچان کی یکسانیت ہونے کی ضرورت کا اشارہ دیتے ہوئے نجمہ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتی ہیں کوئی ایسادیش ہے جہاں تین مختلف زبانوں میں تین نام ہوں۔ انہوں نے کہا عربی میں بھارتیہ ہندی اور ہندوستانی کہے جاتے ہیں اور فارسی اور انگریزی میں انڈین کہے جاتے ہیں۔ نجمہ نے کہا ’’ہم ہندی ہیں ، قومیت کی پہچان کے طور پر ہم ہندوستانی ہیں۔جغرافیائی طور سے اور تاریخی طور سے سندھ کے اس پار رہنے والے لوگوں کو ہندو کہا جاتا تھا۔عرب دیشوں میں آج بھی عام طور پر بول چال میں ہندوستانیوں کو ہندو یا ہندی کہا جاتا ہے۔ اس انٹرویومیں نجمہ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح کچھ اسلامی کٹر پنتھی ملک کی ایکتا توڑنے پر اتارو ہیں۔انہوں نے سنگھ چیف موہن بھاگوت کے اس قابل ذکر بیان کا بچاؤ بھی کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے ہر شخص کی پہچان ہندو ہی ہے اور بھارت ایک ہندو راشٹر ہے۔بعد میں ہنگامہ ہونے پر نجمہ اپنے بیان سے پلٹ گئیں۔ اپنے بیان پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سبھی بھارتیوں کوہندی کہاتھا جو بھارت میں رہنے والے لوگوں کیلئے استعمال کیا جانے والا لفظ ہے اور جو انہوں نے کہا تھا وہ مذہب کے سلسلے میں نہیں بلکہ قومیت کے طور سے ایک پہچان کے سلسلے میں کہا تھا۔
سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ سنگھ چیف موہن بھاگوت کے اس بیان کہ سبھی بھارتیوں کو ہندوکہا جانا چاہئے سے ان کی ہندو کی تشریح دھرم سے یا جغرافیائی نظریئے سے؟ کیونکہ اگر دھرم سے ہے تو یہ کسی کو منظور نہیں ہوگی۔ آئین میں صاف کہا گیا ہے کہ بھارت یعنی انڈیا۔ یہ نہیں کہا گیا بھارت یعنی ہندو۔ بھارت میں سبھی دھرموں کے لوگ رہتے ہیں اور سب بھارتیہ ہیں، ہندوستانی ہیں،سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کے اس بیان سے ان کے ہندوتو کے اشارے ملتے ہیں۔ بیشک وہ شاید اس دیش کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں۔ نریندر مودی کی سرکار بننے کے بعد سے سنگھ، وشو ہندو پریشدوغیرہ خاموشی سے ہندوتو کا ایجنڈا بڑھا رہے ہیں۔ وہ یہ بھولتے ہیں کہ نریندر مودی کو جو لوک سبھا چناؤ میں شاندار کامیابی ملی وہ ان کے ہندوتو کے ایجنڈے پر نہیں ملی ۔ انہیں یہ مینڈیٹ دیش کے وکاس کیلئے ملا ہے۔ نوجوانوں کو بہتر مستقبل دینے کے لئے ملا ہے۔ اس طرح کے بیان الٹا مودی کی مصیبتیں ہی بڑھاتے ہیں۔ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ دیش میں مہنگائی، بے روزگاری، مہلا تحفظ، بجلی پانی جیسے سینکڑوں مسائل منہ اٹھائے کھڑے ہیں تین مہینے میں مودی ان کا حل نہیں نکال پائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ تین مہینے وقت بہت کم ہوتا ہے پر سرکار کوئی بھی تو ٹھوس قدم نہیں اٹھا پائی ہے۔ ایسے میں یہ فالتو کے مدعے اٹھا کر سنگھ پرمکھ اور دیگر کیامودی کا بھلا کررہے ہیں؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...