Translater

15 جون 2019

آگرہ کچہری کمپلکس میں ہی قتل کرڈالا !

جرائم پیشہ گھٹنے توڑنے کے جس عزم کے ساتھ یوگی آدتےہ ناتھ سرکار اقتدار میں آئی تھی ،وہ بیچ میں ہی رہ گئی تقریبًا ڈھائی سال بعد بھی ریاست اترپردیش میں جرائم کے حالات بگڑتے نظر آرہے ہیں ۔آئے دن دن دہاڑے قتل ہورہے ہیں ۔تازہ واقعہ تاج نگری آگرہ کی کچہری احاطہ میں واقعہ اترپردیش بار کونسل کے چیئر مین درویش یادو کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا ہے درا صل بدھ کے روز دوپہر قریب 3بجے اترپردیش بار کونسل کے چیئرمین درویش سنگھ یادو اور وکیل منیش شرما کے درمیان کسی بات کو لیکر جھگڑا ہوگیا تھا آگرہ کے اے بی ڈی جے آنند نے بتایاکہ جھگڑہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ وکیل منیش شرمانے درویش یادو کو لگاتار تین گولیا ں ماری گولی چلنے سے دوانی احاطہ میں افراتفریح مچ گئی اس کے بعد منیش شرمانے بھی خود کو گولی مار لی ۔دونوں کو دہلی گیٹ پر واقع پشپانجلی اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔کچہری میں ایک وکیل اروند مشرا کے چیمبر میں یہ واردات تین بجے ہوئی ایک گولی درویش کے بھتیجے منوج کوبھی ماری گئی لیکن وہ بچ گیا دوریش کے بھتیجے سنی یادو نے منیش کے خلاف رپورٹ میں الزام لگایا کہ اس نے درویش کے چیمبر اور پیسہ اور زیورات ہڑپ لیئے تھے منیش کی بیوی وندنا قتل کی دھمکی دے رہی تھی ۔بدھ کو کچہری میں دوریش کا استقبالیہ پروگرام تھا منیش کے نہیں آنے پر کچھ وکیلوں نے فون کرکے بلایا تاکہ دونوں گلے شکوے بھول جائیں اوراروند مشرا کے چیمبر میں میٹنگ بلائی گئی تھی چشم دید گواہوں کے مطابق درویش اور منیش میں کچھ کہاسنی ہوئی درویش کے رشتہ بول پڑا تو منیش بھڑ گیا اور اس نے پستول نکال کر منوج پر فائر کردیا لیکن وہ کسی طرح بچ گیا اس کے بعد تین گولیاں درویش اور ایک خود کو مار لی ۔درویش کو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیدیا ۔دودن پہلے ہی درویش یادو اترپردیش بار کونسل کے چیئر مین بنی تھی ۔یوپی بار کونسل کی تاریخ میں وہ پہلی خاتون چیئرمین بنی تھی درویش سنگھ کے نام ایک ریکارڈ یہ بھی ہے کہ بار کونسل کے 24ممبروں میں اکیلی خاتون ہے اور وہ ایٹہ کی رہنے والی ہے ۔درویش کو پہلے ہی قتل ہونے کا اندیشہ تھا اس نے ساتھی وکیلوں سے کہا تھا کہ منیش کے ارادے ٹھیک نہیں ہے وہ دھمکی دے رہا ہے کبھی بھی قتل کرواسکتا ہے ۔درویش نے اپنے کچھ رشتہ داروں کو بھی اس بار ے میں بتایا تھا ۔اترپردیش میں قانون وانتطام کے حالات بےحد خراب ہیں درویش کے قتل کچہری احاطہ میں ہوا ہے اگر ہماری عدالت بھی محفوظ نہیں ہے تو عام آدمی کبھی بھی محفوظ نہیں ہے ۔اترپردیش کی پولیس وقانون بنائے رکھنے میں پوری طرح فیل ہوئی ہے ایسا لگتاہے کہ اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی قانو ن وانتطام پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے ۔

(انل نریندر)

پانی کی قلت خون خرابہ لاٹھی ڈنڈے تک پہنچ گئی ہے !

آزادی کی سات دہائی بعد بھی دیش کے 82فیصد گاو ¿ں وشہر پانی کےلئے ترس رہے ہیں حالت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے گاو ¿ں پانی کےلئے قدرتی وسائل پر منحصر ہےں ایسا نہیں کہ دیش کے ہر گاو ¿ں ،شہر میں پانی پہنچانے کیلئے کبھی پلان نہیں بنے غور وخوض ہوتارہا پلان بھی بنتے رہے اور اس مد کےلئے پیسہ بھی الاٹ ہوتا رہا لیکن جو کام ہونا تھا وہ نہیں ہوا ان اسکیموں پر ایمانداری سے عمل ،لوگوں کو پانی ملنے لگے یہ کسی بھی سرکار کی ترجیح نہیں ہے دور دراز علاقوں کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ اسی سے لگا یا جاسکتا ہے کہ دیش کی راجدھانی میں پانی کے لئے خون خرابے کی نوبت آگئی تازہ معاملہ وسنت کنج ساو ¿تھ علاقہ کا ہے جہاں رات کے وقت دہلی جل بورڈ کے ٹینکر سے پانی لینے کے لئے دوفریقوں میںجم کر لاٹھی ڈنڈے اور لات گھنسے چلے ۔اس واقعہ میں دونوں فریقوں کے 6افراد زخمی ہوگئے ۔منگلوار کی شام ممبر پارلیمنٹ وجے گوئل اوربھاجپا ورکروں نے دہلی جل بورڈ کے سی ای او کا گھیراو ¿کرتے ہوئے پانی کی قلت ،پانی کی بربادی اور آلودہ پانی کی سپلائی وغیرہ پریشانیوں پر تحریری جواب مانگا ۔اس پر بورڈ کے سی ای او نکھل کمار نے لیڈروں سے پریشانی اور متعلقہ علاقہ کی جانکاری مانگ لی ہے لیکن دونوں فریق اڑے رہے تو تنازعہ سنگین ہوگیا صبح سویرے 3بجے تک دفتر میں ہنگامہ چلتا رہا اور اس دوران سی ای او کو دفتر سے باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو بھاجپا ورکروں کوبھی باہر نکالا گیا منگلوار کی شام سے ہی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔افسر کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو بھاجپا ورکروں نے دفتر کے باہر ہنگامہ شروع کردیا اور معاملہ بڑھنے پر پولیس کوبلایا گیا۔اور کافی مشقت کے بعددہلی جل بورڈ کے سی ای او کو دفتر سے باہر لے جایا گیا ۔شدید گرمی کے سبب دہلی میںبجلی پانی کے بحران کو لیکر دہلی سیاست گرماگئی ہے کانگریس اور بھاجپا دونوں ہی عام آدمی سرکار کو گھیر رہی ہیں سابق وزیر اعلی شیلا دکشت نے نمائندہ وفد کے ساتھ وزیر اعلی اروند کجرےوال کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی اور دہلی والوں کے 6ماہ کی بل معاف کرنے کی مانگ کی گئی آپ سرکار پر الزام تراشیوں کے اس دور میں دہلی کے شہری پیاسے رہنے کو مجبور ہے جہاں پانی آبھی رہا ہے وہاں اس پانی کی کوالٹی خراب ہے اور اسے پینے سے لوگ بیمار ہورہے ہیں دہلی میں مانسون دیری سے آنے سے دہلی کے شہریوں کو پانی کی قلت سے دوچار رہنا ہوگا امید کریں کہ جلد ی بارش ہو تاکہ دونوں سیکٹروں میں تھوڑی راحت ملے ۔گرمی کا ستم الگ چھایا ہوا ہے ۔

(انل نریندر)

14 جون 2019

گرنا....پھر اُٹھ کر بھڑنا مجھے کرکٹ نے ہی سکھایا

ٹیم انڈیا کے جانباز آل راﺅنڈر یوراج سنگھ نے پیر کو بین الااقوامی کرکٹ سے سنیاس کا اعلان کر دیا ہے ۔بھارت کی دو ورلڈ کپ جیت(2007ٹی 20)اور 2011کے مہا نائک کو لوگ کینسر سے جنگ جیتنے والے ایک یودھا کی شکل میں بھی یا د رکھیں گے زندگی میں ہارنہ ماننے والے 37سالہ یو راج کو 2017کے بعد سے ٹیم انڈیا میں کھیل کا موقعہ نہیں ملا اب یو وی اپنی فاﺅنڈیشن یو وی تھین کے ذریعہ کینسر مریضوں کی مدد کریں گے ۔یوراج نے کہا کہ ایک کرکٹر کے طور پر میں نے سفر شروع کرتے وقت کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کبھی بھارت کے لئے کھیلوں گا بچپن سے ہی اپنے والد کے نقش قدم پر چلا اور دیش کے لئے کھیلنے کے ان کے خواب کا پیچھا کیا میرے لئے 2011ولڈ کپ جیتنا ،مین آف دی سریز ملنا اپنے لئے خواب کی طرح تھا ۔یوراج کہتے ہیں کہ گرنا .....پھر اُٹھ کر بھڑنا مجھے کرکٹ نے ہی سکھایا ہے ۔17سال کے اپنے کرکٹ کئیریر میں جو کارنامے حاصل کئے وہ اپنے آپ میں ریکارڈ ہے چاہے میچوں کی تعداد ہو یا رنوں کا امبار یا پھر آئی پی ایل میچ کے کھلاڑی کی قیمت ہو ۔یوراج ہمیشہ ایک چیمپین کی طرح ہی رہے ہیں ۔میدان میں بھی اور باہر نے بھی اس کرکٹر نے اپنے کھیل سے کرکٹ شائقین کا دل ہی نہیں جیتا بلکہ کینسر جیسی خوفناک بیماری پر جیت پا کر کھیل میں واپسی کر کے تمام لوگوں کو تلقین کرنے کا کام کیا بلکہ بین الا اقوامی کرکٹ بھی کھیلے یوراج کے من میںشاید 2019کے ولڈ کپ میں کھیلنے کی چاہت رہی ہوگی لیکن 2سال پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سریز میں امیدوں کے مطابق کھیل نہیں سکے اس سے ان کی دعویداری کمزور پڑ گئی ۔اب ان کے یادگار لمحوں کی بات کریں تو 2011کا ولڈ کپ بھارت کو دلانے میں ان کا اہم رول نبھانا ہے ۔اس ولڈ کپ کے نو میچوں میں انہوںنے ایک سنچری اور چار ہاف سنچری سے 362رن بنائے اور 15وکٹ بھی اپنے نام کئے اس پرفارمینس پر انہیں مین آف دی ٹونامینٹ چنا گیا کئی بار تووہ اتنے جارحانہ انداز میں گیند بازوں کی دھلائی بھی کی وہ اپنی سد بد کھو بیٹھتے تھے انگلینڈ کاسٹوورڈ برانڈ 2007کے ٹی 20ولڈ کپ کو شاید کبھی نہیں بھلایا جا سکتا ۔یوراج نے ان کی چھ گنیدوں پر چھ چھکے مارے اور ولڈ ریکارڈ بنا دیا ۔یہ صحیح ہے کہ یوراج نے کہا کہ انہیں الوادی میچ کھیلنے کی آفر ملی تھی لیکن میں اپنے بل پر کھیلنا چاہتا تھا لیکن ہمیں اپنے ہیروز کا اہترام کریں ۔یوراج سے پہلے سہواگ کی بھی الوداعی میچ کھیلے بغیر چلے گئے اتنا ضرور ہے کہ یوراج کے ساتھ کئیر یر میں کئی بار نظر انداز نہ کیا گیا ہوتا تو ان کے ریکارڈ اور بہتر ہوتے ہم یوراج کو اپنی دوسری پاری کے لئے نئی خواہشات پیش کرتے ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یوراج کی کرکٹ کی زندگی آنے والے نسلوں کے لئے کسی تلقین سے کم نہیں ہے بیسٹ آف لک یوراج۔

(انل نریندر)

ٹوئٹ پر گرفتاری شخصی آزادی پر ڈاکہ

سپریم کورٹ کے جج نے یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے متعلق ایک ٹوئٹ کی وجہ سے گرفتار کئے گئے صحافی پرشانت کنوجیا کی ضمانت پر فورارہائی کا حکم دے کر صاف کیا ہے کہ آئین میں بنیادی حقوق کے تحت دی گئی شخصی آزادی کا ریاست خلاف ورزی نہیں کر سکتی ۔کنوجیا کی گرفتاری کے معاملے پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جو ریماکس دیئے ہیں اس سے ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے حکومتیں خاص طور پر ان کی پولس کو کسی بھی مسئلے پر کارروائی کے دوران ان پیمانوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔غور طلب ہے کہ حال میں ایک صحافی پرشانت کنوجیا نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کے بارے میں کچھ تبصرہ کرتی ہوئی ایک خاتون کے ویڈیو کے ساتھ ساتھ ایک ذاتی رائے زنی بھی پوسٹ کر دی تھی اسے بے ہودہ اور یوگی آدتیہ ناتھ کو بد نام کرنے والا بتاتے ہوئے اس کے خلاف شکایت درج کی گئی تھی اس پر اترپردیش کی پولس نے جس طرح آنا فانا میں کاروائی کرتے ہوئے پرشانت کو گرفتار کیا یہ بتانے کے لئے اپنے آپ میں کافی تھا ۔اس معاملے میں آئینی سسٹم یا قانون کا خیال نہیں رکھا گیا اور دھونس جمانے اور صحافیوں میں ڈر پیدا کرنا زیادہ تھا۔عدالت کے فیصلے سے صاف ہے کہ ان کا یہ حکم صحافی کے ذریعہ ٹوئٹ کی توثیق نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو ۔در اصل کنوجیا کو اترپردیش کی پولس نے دہلی سے ان کے گھر سے جس طرح گرفتار کیاتھا اس سے اس کی نیت پر سوال اُٹھ رہے تھے اس معاملے میں پولس نے ایک ٹی وی چنیل کے دو صحافیوں سمیت کچھ اور لوگوں کو بھی گرفتار کیا۔گرفتاری کے وقت سپریم کورٹ کے ذریعہ طے گائڈ لائنس کی تعمیل نہ کرنے کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے لیکن کنوجیا کو جس الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف جس طرح کی دفعات لگائی گئیں وہ حکومتی طاقت کے بے جا استعمال کی طرف ہی اشارہ کرتی ہیں ۔سرکار اور سیاست داں ایک طرف تو آئین کی دہائی دیتے نہیں تھکتے لیکن دوسری طرف شہری آزادی کو خود کی ساکھ سے جوڑتے ہیں ۔اور قانون کی دھجیا ں اُڑا دیتے ہیں ۔کرناٹک پولس نے تو وزیر اعلیٰ کمار سوامی کے بیٹے پہ لوک سبھا چناﺅ میں ہار ہونے سے متعلق ایک خبر شائع کرنے پر ایک کنڑ اخبار کے مدیر کے خلاف با قاعدہ ایک ایف آئی آر درج کر دی تھی ممتا سرکار نے کچھ برس پہلے وزیر اعلیٰ کا کارٹون سوشل میڈیا پر شیر کرنے والے پروفیسر کو گرفتار کر لیا تھا ۔آئینی قواعد اور قانون سے بندھے انتظامیہ کو اس کی ساکھ کا خیال رکھنا چاہیے نیتاﺅں اور سیاستدانوں کوبھی دیش کی جمہوری روایت اور شہری آزادی کے آئینی سسٹم کو دھیان میں رکھتے ہوئے لچیلا رویہ کا ثبوت دینا چاہیے ۔کہنے کی ضرورت نہیں ایک پختہ جمہوریت میں حکومت اعلیٰ کا بے جا استعمال کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے ۔کہتے ہیں سرکاریں چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاستوں کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے نصیحت لیں گی اور قانون کی تعمیل کریں گی ۔

(انل نریندر)

13 جون 2019

سب سے زیادہ ٹریفک ممبئی اور دہلی میں ہوتی ہے

دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹریفک جام سے ممبئی والوں کو دو چار ہونا پڑتا ہے جبکہ دہلی دنیا کا چھوتھا سب سے ٹریفک دباﺅ برداشت کرنے والا شہر ہے یہ انکشاف لوکیشن ٹیکنالوجی کمپنی ٹوم ٹوم کے ٹریفک اینڈیکس 2018میں ہوا ہے ۔دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں لوگوں کوسڑکوں پر جام لگنے کی صورت میں اپنی منزل تک پہنچنے میں 65فیصدی زیادہ وقت لگتا ہے جبکہ دیش کی راجدھانی دہلی میں 58فیصدی زیادہ وقت لگتا ہے ۔ٹریفک دباﺅ کے معاملے میں کولمبیا کی راجدھانی داگورا 63فیصدی وقت کے ساتھ دوسرے نمبر پر پیرو کی راجدھانی لیما 58فیصدی اور 56فیصدی جام سے روس کی راجدھانی ماسکو 5ویں مقام پر ہے ۔فہرست میں شامل پہلے چاروں شہر ترقی پزیر ممالک میں شامل ہیں ۔پانچواں دیش ترقی یافتہ ہے جی پی ایس سسٹم پر مبنی اسٹڈی میں آٹھ لاکھ سے زیادہ آبادی والے 400شہروں کو شامل کیا گیا تھا ۔ٹوم ٹوم کمپنی ایپل اور اوبر کے لئے نکشے بھی تیار کرتی ہے ۔رپورٹ میں مذید کہا گیا ہے کہ 2018میں پہلے کے مقابلے ممبئی اور دہلی میں ٹریفک تھوڑا کم ہوا ہے ۔2018میں جہاں دہلی میں ٹریفک کا دباﺅ 58فیصدی تھا وہیں 2017میں یہ 52فیصدی ہو اکرتا تھا یعنی اس میں 4فیصدی کمی آئی ہے رپورٹ کے مطابق دہلی میں سب سے کم ٹریفک دباﺅ دو مارچ 2018سے ہو رہا ہے اس دوران یہ محض 6فیصدی ہوا کرتا تھا ۔سب سے خراب ٹریفک 8اگست2018کو تھا اس دوران ٹریفک دباﺅ 83فیصد تک پہنچ گیا تھا ۔ممبئی میں 2017کے مقابلے بہتری دیکھی گئی ۔جو 66فیصدی تھی اب 2018میں یہ 65فیصدی رہ گئی تھی اگست 2018کو 16فیصدی زیادہ تھی ۔رپورٹ سب سے زیادہ ٹریفک کے دوران لوگوں کو کتنا وقت اپنی منزل تک پہنچے میں لگتا ہے اس کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار ہوئی ہے اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ممبئی میں اوسطا5سو کاریں فی کلو میٹر چلتی ہیں یہ دہلی سے کافی زیادہ ہیں ۔بین الااقوامی سطح پر ٹریفک کا بڑھنا اچھا اور خراب دونوں ہی ہے ۔اچھا یہ ہے کہ اس سے مضبوط معیشت کا اشارہ ملتا ہے اور نقصان یہ ہے کہ زیادہ ٹریفک بڑھانے سے لوگوں کو جام کا شکار ہونا پڑتا ہے اور زیادہ ایندھن کی بربادی ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ ہمارے ماحولیات کو بھی بھاری نقصان پہنچتا ہے ۔

(انل نریندر)

پھانسی سے اس لئے بچ گئے کٹھوعہ کے درندے

جموں و کشمیر کے کھٹوعہ میں خانہ بدوش بکروال فرقہ کی آٹھ سالہ بچی سے بد فعلی کے بعد قتل معاملے میں پٹھان کوٹ کی اسپیشل عدالت نے چھ ملزمان کو قصوار ٹھہرا کر سزا سنائی ہے ۔جس سے تھوڑی راحت محسوس کی جاسکتی ہے ۔ڈیڑھ برس پہلے 10جنور 2018کو اس بچی کو اغوا کر اس کے ساتھ بربریت کی گئی ۔جس کا مذہب سماج میں تصور نہیں کیا جا سکتا ۔لیکن اس جرم کو جس طرح سے انجام دیا گیا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا ۔یہ بچی جانوروں کو چرانے کے لئے نکلی تھی تبھی اسے اغوا کیا گیا اس کے بعد اس کو ایک مندر میں قید رکھا گیا اور نشے کی دوائیاں دی جاتی رہیں اسی حالت میں اس سے اجتماعی آبرو ریزی ہوتی رہی ۔شرم کی بات یہ ہے کہ اس گھناﺅنے جرم کو انجام دینے والوں میں مندر کا پجاری اس کا رشتہ دار ایک ایس پی او بھی شامل تھا ۔چار پانچ دن بعد بچی کو قتل کر اس کی لاش جنگل میں پھینک دی گئی تھی ۔ایسے واقعہ مشکل سے سنے میں آتے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ ان گھنونے جرم میں کچھ پولس ملازم بھی شامل تھے ۔اس واردات کے اجاگر ہونے کے اس کو فرقہ وارانہ اور سیاسی رنگ دینے کی نہ صر ف کوشش ہوئی بلکہ ملزمان کی قیصدہ خوانی کرنے کے سبب ریاست کی اس وقت کی پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے دو وزیروں کو استعفی تک دینا پڑا تھا ۔حالت یہ ہو گئی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس معاملے کی سماعت پڑوسی ریاست کے ضلع پٹھان کوٹ میں منتقل کرنی پڑی تھی ۔ورنہ جس بے حد غریب طبقہ سے یہ خانہ بدوش خاندان آتا ہے اس کے لئے انصاف کی درخواست لگا پانا شاید ممکن نہیں ہوتا۔یہ واردات ہمارے دیش و مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں و سماج کے سب طبقات کے لئے شرم ناک تھی ۔اب فیصلہ آگیا ہے اور قصورواروں کو سز ا ہو گئی ہے لیکن اس واردات میں جو کچھ ہوا اور جنہوں نے اسے انجام دیا اس سے صاف ہے کہ یہ لوگ صرف جرائم پیشہ نہیں بلکہ حیوان تھے ۔مندر کی دیکھ بھال کرنے والا ایسا شخص نفرت آمیز اور گھناﺅنے جرم کو انجام دے گا کوئی اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اتنا ہی نہیں بلکہ اس پجاری نے اپنے ایک رشتہ دار لڑکے کوبھی فون کر کے دوسرے شہر سے بلا لیا تھا ۔اسپیشل پولس آفیسر جسے مقامی لوگوں کی مدد کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ ایک ایسے کسی کو اغوا اور آبرو ریزی کی سازش تیار کرئے گا اور گناہ کرئے گا اور اس کے بعد دوسرے پولس والے اس کے ثبوت مٹائیں گے یہ پولس مشینری کا چہرہ دکھانے کے لئے کافی ہے ۔حال ہی میں علیگڑھ کے ٹپل قصبہ میں بچی کے قتل اور بھوپال میں دس سالہ بچی سے آبروریزی کے بعد قتل جیسے واقعات نے پورے دیش کو شرم سار کر دیا ہے ۔اجین اور جبل پور میں بھی دو معصوم بچیوں کے ساتھ آبرو ریزی ہوئی یہ سارے واقعات بتاتے ہیں کہ ہمارے سماج میںکیسی حرکتیں کی جا رہی ہیں ۔ہماری حکومتی مشینری کہیں نہ کہیں جرائم کو نظر انداز کرتی ہے ۔ہمارا ضمیر اس قدر مٹ گیا ہے کہ ایک متوفی اور قاتل کی سماجی پہچان دیکھ کر طے کرتے ہیں کہ کس کے ساتھ کھڑا ہو کر ساتھ دینا چاہیے یہ سارے واقعات بتاتے ہیں کہ جرائم نے خوف نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے ۔اس لئے ایسے جرائم پر شکنجہ کسنے کے لئے اطفال جنسی جرائم کنٹرول قانون کابھی خوف نہیں ہے۔جس میں موت تک کی سہولت ہے ۔ایسا لگتا ہے سخت قانون بھی بچیوں اور عورتوں کو ازیت اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کا توڑ نہیں کر پا رہے ہیں ۔اتنا بے خوف جرم کرنے والے مجرم پھانسی سے اس لئے بچ گئے کیونکہ یہ سزا آئی پی سی سے نہیں بلکہ جموں کشمیر میں رنویر پینل کوڈ کے تحت سنائی گئی اس میں بارہ سال سے چھوٹی بچیوں سے بد فعلی پر پھانسی کی سہولت تھی 24اپریل 2018کو کھٹوعہ کی واردات کو بعد میں جوڑا گیا یہ واردات دس جنوری 2018کی ہے ۔اور نے قانونی تقاضوں کے تحت عدالت سزا نہیں دے سکتی تھی اس لئے قصور وار پھانسی سے بچ گئے ۔

(انل نریندر)

12 جون 2019

پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ نائب وزیر اعلیٰ

ہندوستانی ریاستوں کی سیاست میں ذات و طبقہ گروپ کی بڑھتی توقعات کو پوری کرنے کے لئے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی نے سیاسی توازن بٹھانے و خوش آمدی کا نیا راستہ دکھا دیا ہے ۔سنیچر کو جگن نے پانچ نائب وزیر اعلیٰ بنائے ہیں ۔ان کی کیبنٹ میں شیڈول و قبائل و پسماندہ طبقہ و اقلیت اور کاپو فرقہ سے ایک ایک ڈپٹی وزیر اعلیٰ ہوگا۔وزراءکے لئے تیس مہینے کی عہد کا فارمولہ بھی طے کیا گیا ہے ڈھائی سال بعد 90فیصدی وزیر بدل دیں گے دیش میں اپنی طرح کا یہ پہلا تجربہ ہے ۔بھارت کی سیاسی تاریخ میں ایسا اب تک نہیں ہوا جگن موہن ریڈی نے اسمبلی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے ۔عام طبقات کے علاوہ انہیں ان پانچوں فرقوں کا بھی ووٹ ملا ہے ۔اور وہ چاہتے ہیں کہ اپنے انتظامیہ میں سب کو نمائندگی دیں واضح ہو کہ آزادی کے بعد سے اب تک کئی ریاستوں میں حکمراں پارٹیوںنے نائب وزیر اعلیٰ بنائے ہیں ۔لیکن ایسا سیاسی نفع و نقصان کے بارے میں غور و فکر کے بعد کیا جاتا ہے ۔عہدے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ۔اس پر فائذ شخص کو وزیر اعلیٰ جیسے اختیارات نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ وزیر اعلیٰ کی غیر موجودگی میں ریاست کی رہنمائی کر سکتا ہے ۔اسے کوئی فاضل تنخواہ یا بھتہ دینے کی سہولت نہیں ہے ۔ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت میں سردار بلبھ بھائی پٹیل ڈپٹی وزیر اعلیٰ بنائے گئے تھے سردار پٹیل دیش کے وزیر داخلہ بھی تھے اس کے بعد 1967سے 1989تک مرارجی دیسائی نائب وزیر اعلیٰ بنائے گئے ۔کوئی نائب وزیر اعلیٰ یا وزیر اعلیٰ حلف لیتے وقت وزیر کی ہی حلف لیتا ہے حالانکہ چودہری دیوی لال نے خود کو ڈپٹی پی ایم کہہ کر حلف لیا تھا ۔اس کے بعد پیدا ہوئے تنازعہ میں اٹارنی جنرل سولی سوراب جی نے سپریم کورٹ میں کہا کہ نائب وزیر اعظم کا آئین میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔دیوی لال ایک وزیر کی طرح ہی رہے ۔ویسے تو نائب وزیراعلیٰ توکئی ریاستوں میں رہے ہیں دیش کے کئی ریاستوں میں پہلے بھی دو دو نائب وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔اترپردیش اور گوا میں ابھی دو دو نائب وزیر اعلیٰ ہیں ۔جبکہ بہار میں بھی سشیل مودی نائب وزیراعلیٰ ہیں ۔اس سے پہلے آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو اور تلنگانہ میں کے چندر شیکھر راﺅ نے دو نائب وزیر اعلیٰ بنائے تھے حال ہی میں راجستھان میں کانگریس اقتدار میں آئی تو یہاں اشوک گہلوت وزیر اعلیٰ اور سچن پائلٹ کو نائب سی ایم بنایا گیا ۔کرناٹک میں جی پرمیشور اور دہلی میں منیش سسودیا ڈپٹی سی ایم ہیں ۔بہار میں سشیل مودی اسی عہدے پر ہیں ۔پہلے آر جے ڈی کے ساتھ سرکار بنی تھی تو تیجسوی یادو کو ڈپٹی سی ایم بنایا گیا تھا گوا میں پرمود ساور کی حکومت میں ایک ہی ڈپٹی سی ایم تھا ۔جب سے اتحادی سیاست کا دور شروع ہوا ہے تب سے نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سب سے بڑی اتحادی جماعت کو دیا جانے لگا ہے ۔الگ الگ فرقوں کی نمائندگی دکھانے کے لئے ایک دو وزیر اعلیٰ بنانے کا چلن عام ہو چکا ہے ۔لیکن جگن موہن ریڈی نے تو پانچ نئے وزیر اعلیٰ بنا کر ایک نئی روایت قائم کر دی ہے ۔دیکھیں ریڈی کا یہ بڑا تجربہ آنے والے وقت میں کتنا کامیاب ہوتا ہے ؟

(انل نریندر)

دیش میں سب سے بڑے کڈنی ریکٹ کا پردہ فاش

دیش کے سب سے بڑے کڈنی ریکٹ کانڈ خلاصہ نے دہلی میں ہلچل مچا دی ہے ۔پشپاوتی سنگھانیہ اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر دیپک شکلا کو کانپور کرائم برانچ نے سنیچر کو گرفتار کر لیا ۔تفتیشی ٹیم نے ثبوتوں کو اکٹھا کرنے اور پوچھ تاچھ کرنے کے بعد یہ گرفتاری کے بعد پولس نے کورٹ میں پیش کیا ۔جہاں عدالت نے ڈاکٹر شکلا کو جیل بھیج دیا ۔ایس ٹی کرائم راجیش یادو کے مطابق جانچ میں چارعطیہ کندگان کے دستاویز ملے تھے ۔اس میں لکھنو کا شعیب عرف شیبو ،وردان چندر،رئیس اور راجیش گپتا شامل ہیں ۔رئیس کے جگر اور دیگر تینوں کے کڈنی (گردے )کا سودا ہوا تھا ۔ہر ایک دستاویز پہ ڈاکٹر دیپک شکلا کے دستخط پائے گئے ۔پی ایس آر آی ہسپتال میں ڈونر کیمپ کی جانچ پڑتال کے ساتھ ٹرانس پلانٹ کا پورا کام ہوا جس کے پورے ثبوت پولس نے اکھٹے کر لئے ہیں ایس پی کے مطابق انہیں ثبوتوں کی بنیاد پر ڈاکٹر دیپک شکلا کو گرفتار کیا گیا ۔پولس کی جانچ میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر دیپک شکلا ڈونروں کو کڈنی بیچنے کے لئے مناتا تھا ۔وہ کئی گھنٹے ڈونروں کی کاﺅنسلنگ کرتا تھا ۔اور ڈونروں کو عطیہ دینے کے لئے تلقین سے متعلق یوڈیو اور فوٹو بھی دکھاتا تھا ۔جس کے بعد ڈونر اس پر یقین کر کے کڈنی یا جگر نکلوانے کو تیار ہو جاتے تھے ۔ڈاکٹر دیپک شکلا کی گرفتاری کے بعد کئی پرائیوٹ اسپتالوں پر تلوار لٹکی نظر آرہی ہے ۔ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کرنے والی کانپور پولس نے پی ایس آر آئی اسپتال کے بعد اب فورٹیز اسپتال کو اپنے نشانے پر لیا ہے ۔ابھی تک سب سے زیادہ اعضاءٹرانسپلانٹ کرنے کا دعوی کرنے والے پرائیوٹ اسپتال بھی جانچ کے دائرے میں لائے جا سکتے ہیں ۔اسپتالوں کے نہ صرف کوارڈینیٹر بلکہ اعضاءٹرانسپلانٹ کو منظوری دینے والی کمیٹیوں تک سے بھی پولس پوچھ تاچھ کر سکتی ہے ۔دیش کے سب سے بڑے کڈنی کانڈ میں نئے چہرے سامنے آرہے ہیں ۔سرکاری محکمہ سے لے کر میڈیکل سیکٹر کی انجومنیں تک چپ ہیں اس بارے میں جب انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکڑ آروی اسریکن سے پوچھا گیا کہ کیا آئی ایم اے کو کڈنی کانڈ کے خلاف آواز اُٹھانی چاہیے؟تو اس پر انہوںنے کہا کہ وہ ہندی زبان نہیں سمجھ سکتے ۔دیش کے سبھی راجیوں میں قریب تین لاکھ سے زیادہ ڈاکٹروں کی اس تنظیم کی خاموشی پر سوال اُٹھ رہے ہیں ۔اعضاءڈونیشن پر بےداری سے لے کر سخت قانون کی تعمیل کرنے والی قومی اعضاءو ٹرانسپلانٹ انجمن (نوٹو)سینٹرل ہیلتھ وزارت اور دہلی سرکار بھی خاموش ہے جبکہ کانپور پولس کی جانچ میں ثابت ہو چکا ہے کہ کس طرح انجان چہروں کو خون کے رشتے میں تبدیل کر دہلی کے پرائیوٹ اسپتالوں میں کڈنی کا ریکٹ چل رہا ہے ۔کانپور پولس نے دعوی کیا ہے کہ اس ریکٹ کے ذریعہ سے انسانی اعضاءکی سودے بازی نیپال،ترکی،اور سری لنکا تک ہوتی تھی ۔نیپال کے درجنوں لوگ اس گروہ کے رابطے میں تھے کڈنی ریکٹ سے جڑے لوگوں کی پہلی پسند نیپال تھی چونکہ یہاں سے آنے جانے کے لئے نہ تو ویزا کی ضرورت ہے اور نہ ہی پاسپورٹ کی ۔پی ایم آئی اسپتال میں سالوں سے یہ دھندہ چل رہا ہے ۔تعجب ہے کہ نہ تو مرکزی سرکار جاگی اور نہ ہی دہلی سرکار نے اب تک کوئی کارروائی کی ۔

(انل نریندر)

11 جون 2019

3فیصد ووٹ کی اس جنگ میں کتنی جانیں اور جائیں گی؟

مغربی بنگال میں جاری تشدد تشویش کا موضوع بنتا جا رہا ہے ۔آئے دن وہاں سیاسی قتل ہو رہے ہیں اور یہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں بھاجپا اور ترنمول کانگریس کے درمیان چھڑی یہ ووٹ بینک کے لئے تشدد پر اگر قابو نہیں پایا گیا تو 2021اسمبلی چناﺅ تک نہ جانے کتنی اور موتیں ہو جائیں گی ۔اب تک ساٹھ کے قریب لوگ سیاسی بلی چڑھ چکے ہیں ۔سنیچر کو نارتھ 24پرگنا ضلع کے سندیش کھیالی علاقہ میں جھنڈا کھولنے کو لے کر ترنمول کانگریس اور بھاجپا ورکروں میں جم کر لڑائی ہوئی ترنمول کانگریس کے نیتا جوتی پریہ ملک نے دعوی کیا ہے کہ ان کی پارٹی کے ورکر قیوم اللہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے ۔وہیں پردیش بھاجپا جنرل سیکریٹری ودونے دعوی کیا کہ بھاجپا کے تین ورکروں کا قتل ہو اہے اور دو لا پتہ ہیں حالانکہ پولس کی طرف سے مرنے والوں کی تعدادکو لے کر کوئی جانکاری نہیں دی جا رہی ہے ۔در اصل ممتا بنرجی و بھاجپا کے درمیان جاری جنگ کے پیچھے تین فیصد ووٹ ہیں ۔ممتا بنرجی کے لئے تشویش اور غصہ کی وجہ یہ ہے کہ ان کی پارٹی نے 2019لوک سبھا چناﺅ میں 12سیٹیں گنوائیں ہیں ۔جبکہ بھاجپا نے ووٹوں کا پولرائزیشن کر کے اپنی دو سیٹوں سے بڑھا کر 18کر لی ہیں ۔حالانکہ مغربی بنگال میں بھاجپا کو اٹھارہ فیصدی ووٹ ملے تھے ۔جبکہ 2019میں یہ بڑھ کر 40.25فیصد ہو گئے ۔اس طرح بی جے پی نے 22فیصد کا اضافہ کیا ہے ۔ترنمول کانگریس نے 2019میں 23.20فیصد ووٹ حاصل کر کے 22سیٹیں جیتی تھیں دی دی کا غصہ شاید اس لئے بھی ہے کہ 2019لوک سبھا چناﺅ میں زیادہ سیٹیں جیتنے کی امید لگا رکھی تھی اور کئی طرح کے سپنے بن رکھے تھے لیکن مودی لہر کے آگے ان کی پارٹی ٹک نہ سکی بھاجپا کا اب سارا زور 2021کے اسمبلی چناﺅ کو لے کر ہے ۔سال2014 میں ممتا کی پارٹی نے 39فیصد ووٹ پاکر 34سیٹوں پر جیت درج کی تھی اگر چہ ترنمول کانگریس کا بھی ووٹ 4.28فیصد بڑھا ہے لیکن سیٹیں بارہ کم ہوئیں ہیں ۔سال 2021میں اسمبلی چناﺅ ہونے ہیں سیاسی حلقوں میں بحث گرم ہے کہ بھاجپا کے تلخ تیور دیکھ کر ممتا کے منتظمین کو ٹپکے کا غم ستا رہا ہے ۔اگر 2019کی طرز پر بھاجپا کے کھاتے میں 3فیصد ووٹ کا اضافہ ہوا تو کمل کے نشان والی پارٹی لال گڑھ میں سرکار بنانے کا حساب کتاب بٹھا سکتی ہے ۔ممکن ہے اسی ڈر کے چلتے ریاست میں تشدد کو بڑھاوا مل رہا ہے ۔سوال تین فیصد ووٹ بینک کی لوٹ کھسوٹ اور بے قابو تشدد سے نہ جانے کتنی جانیں اور جائیں گی ؟بھاجپا اور ترنمول کانگریس کے ووٹ فیصد کی بنیاد مان کر اگر 2021کے اسمبلی چناﺅ پر امکانی اثر کا حساب کتاب لگایا جا رہا ہے تو دونوں پارٹیوںکے درمیان 2021اسمبلی چناﺅ میں سیدھی لڑائی کی تیار ی ہو رہی ہے ۔اس کے علاوہ کانگریس اور لیفٹ پارٹیاں سمٹتی دکھائی دے رہی ہیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا ممتا بنرجی اپنے ووٹ بینک کو بچانے میں کامیاب ہوں گی یا بھاجپا یہاں بھی اپنا جھنڈا بھی گاڈ دئے گی۔

(انل نریندر)

ایک بار پھر حیوانیت کی حدیں پار ہوئیں

اتر پردیش کے علیگڑھ کے قصبہ ٹپل میں ڈھائی سالہ بچی کے ساتھ ہوئی بربریت نے پورے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔اس واردات میں ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمار ا سماج کس طرف جا رہا ہے ؟کیا ہمارے سماج میں حساسیت نام کی چیز ختم ہو گئی ہے ؟بڑھتے جرائم پر لگام کسنے کے معاملے میں ہمارے انتظامیہ مشینری کا کیا رول رہ گیا ہے؟علیگڑھ میں معصوم بچی کے ساتھ حوانیت کی ساری حدیں پار ہو گئیں ۔پولس بھلے ہی بد فعلی کی تصدیق نہ کرئے لیکن جو جرم اس بچی کے ساتھ ہوا وہ کسی بھی لحاظ سے حوانیت سے کم نہیں ہے ۔ڈھائی سال کی ٹوئنکل شرما کو پہلے بسکٹ کا لالچ دے کر پاس بلایا اورپھر اس کے معصوم جسم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ لکھنا ممکن نہیں ہے ۔جس حالت میں لاش ملی وہ سبھی کے لئے باعث شرم ہے ۔جو اس واردات کو انجام دینے والے جرائم پیشہ کے آس پاس سماج کا حصہ بن کر رہتے ہیں تکلیف دہ ہے کہ ایسے درندوں کا بھی ایک سماج ہمارے بیچ موجود ہے۔جو انہیں اس جرم کے بعد بھی اپنے درمیان رہنے دیتا ہے ۔اس پر یہ اور زیادہ افسوس ناک ہے کہ اس بچی اور جرائم پیشہ کا مذہب ایک اشو بن کر سامنے آیا ہے ۔کسی جرم کو مذہب کے ترازو پر تولنا قطعی صحیح نہیں ہے ۔ایسے جرائم پیشہ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ کوئی فرقہ وارانہ اشو نہیں ہے اور نہ ہی اسے اس نظریہ سے دیکھنا چاہیے ۔بے گناہ بچی کو مارنے کی وجہ صرف اتنی تھی کہ اس کے ماں باپ نے دس ہزار روپئے کا قرض لیا تھا ۔جس میں سے کچھ پیسہ وہ لوٹا نہیں پائے تھے ۔سوال یہ بھی ہے کہ پڑوسی ہونے کے باوجودایک شخص دس ہزار روپئے کی وصولی نہ ہو پانے اور اس وجہ سے ہوئے جھگڑے کے بعد بدلہ لینے کے لئے ایک معصوم بچی کا قتل کرنا اور اس بربریت سے قتل کرنے کی حد تک کیسے چلا گیا؟یہ انتہائی دکھ سے یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح کا گھنونے جرائم پیشہ میں قانون و سماج کا کوئی خوف نہیں ہے ۔نربھیا کانڈ کو اتنے برس ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک جرائم پیشہ کو پھانسی تک نہیں ہوئی اور مقدمہ عدالتوں میں اپیلوں میں الجھا پڑا ہے ۔اگرایک بھی ملزم کو ایک بار پھانسی ہو جاتی تو اس طرح کے حیوانوں میں تھوڑا سا خوف ہوتا۔کیا کسی بھی معصومیت کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے ؟یا پھر جرم کا نشہ اتنا گاڑھا ہو گیا ہے ہے کہ وہ ساری اخلاقیات کو بھول جائیں یہ ایک ننھی بچی ٹیونکل کی کہانی نہیں ہے ۔نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کی مانیں تو ہمارے دیش میں پچھلی ایک دہائی میں بچوں کے خلاف 500فیصد جرائم بڑھ گئے ہیں ۔جبکہ ٹوئنکل جیسے معاملے جب میڈیا میں آجاتے ہیں تب سارا دیش جاگتا ہے پھر چاہے وہ کٹھوہ کانڈ ہو جسے لے کر ورے دیش میں ہنگامہ ہوا ہنگامے کے بعد نا بالغ کے ساتھ بد فعلی کے مجرم کے لئے سزائے موت مقرر کرنے کا قانون بنانے کی پہل کی گئی لوگوں کے بڑھتے غصے سے دباﺅ میں آئی یو پی پولس نے پانچ لاپرواہی برتنے والے پولس والوں کو معطل کر دیا ہے ۔ایس آئی ٹی کو جانچ سونپ دی ہے ۔قتل کے ملزم زاہد اور اسلم کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔لیکن ٹوئینکل کی آتما کو شانتی تب ملے گی جب اس کے قاتلوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے گا ۔

(انل نریندر)

09 جون 2019

نشے میں گاڑی چلائی تو کھانی پڑئے گی لمبی جیل کی ہوا

دہلی کی ساکیت کورٹ نے شراب پی کر گاڑی چلانے والوں پر پولس کو سختی سے نمٹنے کا حکم دیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ ایسے نشیڑی گاڑی چلانے والوں کو دنوں کی نہیں مہینوں کی سزا یقینی کی جانی چاہیے ۔ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج سونالی گپتا نے موہن نامی ایک شخص کو شراب پی کر گاڑی چلانے پر دو مہینے جیل کی سزا سناتے ہوئے یہ احکامات جاری کئے اب ان احکامات کے عمل ہونے پر اگر شراب پی کر گاڑی چلاتے پکڑئے گئے تو لمبی جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے ۔جسٹس سونالی گپتا نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ نشے کی حالت میں گاڑی چلانے سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے پچھلے کچھ برسوں کے اعداد و شمار پر غور کریں تو اس طرح کے واقعات میں تیس سے چالیس فیصدی کا اضافہ ہوا ہے ۔اس سے صاف ہے کہ نشے کی حالت میں پکڑے گئے لوگوں کی سزا کافی کم ہے ۔اس لئے انہیں کسی کا ڈر نہیں ہے ۔سزا کم ہونے کی وجہ سے نشے میں گاڑی چلانے کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اگر لمبی سزا دی جائے تو ایسے نوجوانوں یا لوگوں میں ڈر پیدا ہوگا تو ایسے واقعات میں کمی آئے گی ۔عدالت نے موہن کو سزا سنانے کے ساتھ تین ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے ۔واضح رہے کہ موہن کودو سال پہلے پولس نے آشرم چوک سے نشے کی حالت میں بائک چلاتے ہوئے پکڑا تھا ۔نشے کی حالت میں وہ غلط طریقہ سے بائک چلا رہا تھا ۔پولس نے گاڑی پکڑنے کے بعد اسے نشے کی جانچ کی ملزم کے جسم میں شراب کی مقدار 162.100ایم جی پائی گئی جبکہ مقررہ مقدار 30سے /100ملی گرام ہوتی ہے ۔اس لئے ملزم نے چونتیس گنا زیادہ شراب پی رکھی تھی ۔ایک دوسرے معاملے میں دہلی کی ایک عدالت نے شراب پی کر گاڑی چلانے کے معاملے میں ایک لڑکے کو دو ہفتے تک سات گھنٹے روز بزرگوں کے آشرم میں سیوا کرنے سزا سنائی ایڈیشنل سیشن جج سونو اگنوتری نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے اس لڑکے کو قصوروار ٹھہرایا تھا ۔بزرگ لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ان کی خدمت بھی کرئے ۔عدالت نے لڑکے کو دو دن جیل اور دو ہزار روپئے جرمانہ کی بھی سزا دی تھی لائسنس چھ مہینے کے لئے منسوخ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا ۔اس فیصلے کو لڑکے نے میٹرو پلیٹن مجسٹریٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ لڑکا خاندان میں اکیلا کمانے والا ہے اور وہ پہلی بار نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا گیا اس لئے اس کے ساتھ نرمی برتی گئی ہے ہم دونوں فیصلوں کی اور جج صاحبان کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوںنے لیگ سے ہٹ کر نئی طرح کی سزا سنائی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں شراب پی کر گاڑی چلانے والے ان سے سبق سیکھیں گے اور شراب پی کر گاڑی چلانے سے بچیں گے ۔

(انل نریندر)

مودی کیبنٹ میں نمبر 2کون؟

مرکزی حکومت نے جمعرات کے روز حکومت کی سبھی کیبنٹ کمیٹیوں کی تشکیل نو کا اعلان کر دیا ہے ۔ان سبھی آٹھ کمیٹیوں میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو جگہ ملی ہے ۔ان کمیٹیوں کی تشکیل نو سے دو باتیں صاف ہو گئی ہیں ۔پہلی یہ کہ سابق وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ جو اب وزیر دفعہ ہیں ان کا قد چھوٹا کر دیا گیا ہے ۔حالانکہ جب مودی نے حلف لیا تھا ان کی حلف برداری کے بعد دوسرے نمبر پر راجناتھ سنگھ کو حلف دلوایا گیا تھا ۔لیکن اب پہلے انہیں صرف اقتصادی امور اور وزیر دفعہ کے ناطے سیکورٹی امور کی کمیٹی میں ہی رکھا گیا تھا ذرائع کی مانیں تو راجناتھ سنگھ نے اس پر اعتراض کیا تھا اور شام ہوتے ہوتے انہیں تقرراتی رہائیش امور کی کمیٹی کو چھوڑ کر سبھی اہم امور کی کمیٹیوں میں شامل کیا گیا وہیں یہ بات ایک طریقہ سے طے ہو گئی کہ وزیر داخلہ امت شاہ کو سبھی کمیٹیوں میں شامل کر کے وزیر اعظم نے انہیں نمبر دو کی حیثیت دے دی ہے اور مودی نے ان پر سب سے زیادہ بھروسہ جتایا ہے وہیں وزیر مالیت نرملا سیتا رمن تقرری امور کی ایک کمیٹی کو چھوڑ کر سبھی کمیٹیوں میں شامل کیا گیا ہے اس سے ان کے بڑھتے قد کا اشارہ ہے ۔مانا جا رہا ہے کہ امت شاہ مودی سرکار میں اب نمبر دو کے سب سے طاقتور شخص ہوں گے نئی تقرریوںنے ان کی پورزیشن کو اور مضبوط بنا دیا ہے ۔پچھلی حکومت میں سابق وزیر مالیت ارون جیٹلی ہوا کرتے تھے لیکن بیماری کی وجہ سے وہ مودی حکومت میں شامل نہیں ہوئے ۔حالانکہ پردے کے پیچھے سے اپنی قیمتی رائے دیتے رہیں گے ۔امت شاہ ،سبرمنیم جے شنکر،ہرسمر ت کور،بادل پرہاد جوشی ،اروند گنپت ساوت،رمیش پوکھریال نشنک،مہندر ناتھ پانڈے پہلی مرتبہ کمیٹیوں میں شامل کئے گئے ہیں ۔نئے بنے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپی کا کرشنا مینن مارگ پر واقع بنگلہ دیا جا سکتا ہے ۔واجپائی 2004میں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹنے کے بعد مرنے تک اس میں رہا کرتے تھے ۔ان کی موت کے بعد نومبر میں اس بنگلے کو ان کے رشتہ داروںنے خالی کر دیا تھا ۔سرکار کے ذرائع نے بتایا کہ بطور وزیر داخلہ سیکورٹی ضروریات کے مطابق اس بنگلے کو اگلے مہینے میں ٹھیک ٹھاک کرا دیا جائے گا 17ویں لوک سبھا کی تشکیل کے بعد بطور مرکزی وزیر داخلہ اور یہ بنگلہ دیا گیا ہے ۔حکومت نے یہ قدم ایسے وقت میں اُٹھایا جب معیشت کی شرح نمو مالی سال 2018-19کی آخری سہہ ماہی میں گھٹ کر 5.8فیصد پر آگئی تھی ۔جو گذشتہ پانچ سال میں کم ہے ۔بھاجپا صدر امت شاہ کے سرکار میں ہونے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت میں شاہ دوسرے نمبر کے سب سے طاقتور شخص ہوں گے ۔نئی تقرریوںنے ان کی پورزیشن کو مضبوط بنا دیا ہے ۔شاہ نے 4جون کو کچے تیل سے متعلق اشوز پر وزیر خزانہ سیتا رمن کے علاوہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر ،وزیر تجارت و ریل پیوش گوئل اور وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان سمیت کئی کیبنٹ وزراءکی میٹنگ کی صدارت کر کے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ صرف وزیر داخلہ ہی نہیں ہیں ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...