Translater

23 ستمبر 2016

سپا میں جنگ تھمی نہیں یہ توسیز فائر ہے

سماجوادی پارٹی کی اندرونی جنگ میں جنگبندی بے شک ہوگئی ہے لیکن اندر خانہ جنگ جاری ہے۔ ملائم سنگھ یادو کے اس فارمولہ کو چاچا بھتیجے کے ذریعے قبول کرنے کے بعد بھی واویلا رکتا نظرنہیں آرہا ہے۔ سپا کاسنگرام رکنے کے بجائے پھر تیز ہوتا نظر آرہا ہے۔ ایتوار کو رام گوپال کے بھانجے اروند پرتاپ یادو کو پارٹی سے نکالنے کا تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اترپردیش پردھان شیو پال یادو نے ٹیم اکھلیش کے 7 بڑے نوجوان لیڈروں کو ڈسپلن شکنی کے الزام میں سپا سے برخاست کردیا۔ ان میں 3 ایم ایل سی، 3 یوتھ تنظیموں کے پردھان اور ایک قومی صدر شامل ہے۔ اس کارروائی ناراض یوا لیڈروں نے استعفے کی جھڑی لگا دی ہے۔ شام تک 250 سے زیادہ عہدیداران نے استعفیٰ دے دیا۔ شیوپال نے سبھی کے استعفے منظور کر لئے۔ ساری لڑائی کی اصل جڑ ہے ٹکٹوں کا بٹوارہ کون کرے گا، پیسے کا بھی کھیل ہے۔ بتایا جارہا ہے پارٹی کا صدر بن جانے کے بعد سے دکھی اکھلیش یادو کو ان کے والد ملائم سنگھ یادو نے ٹکٹ بانٹنے کا اختیار دے دیا ہے حالانکہ اب تک سماجوادی پارٹی کی طرف سے اس بارے میں باقاعدہ کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔ اکھلیش یادو نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر میڈیا سے اپنا درد شیئر کرتے ہوئے کہاکہ اترپردیش میں پانچ برسوں تک کام کریں ہم ،سرکار کا رپورٹ کارڈ لے کر جنتا کے بیچ جائیں اور اسمبلی چناؤ و ٹکٹ بانٹنے کا موقعہ انہیں دے دیا جائے؟ یوپی میں اکھلیش اور چاچا شیو پال کے درمیان اختیارات کی لڑائی سمجھوتے کے فارمولہ پر ٹھنڈی ضرور پڑ گئی لیکن باریکی سے دیکھا جائے تو اس میں شیوپال کو زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ان کے لئے پی ڈبلیوڈی جیسی بڑی وزارت جانا گھاٹے کا سودا مانا جارہا ہے۔ سابقہ محکموں میں شیو پال کے پاس رواں مالی سال 2016-17 ء میں قریب 66450 کروڑ کا بجٹ آتا۔ پی ڈبلیو ڈی جانے کے بعد یہ آدھے سے بھی کم 26019 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔ پی ڈبلیو ڈی کابجٹ 48960.81 کروڑ کا ہے۔ ایک دوسرا اشو ہے لکھنؤ سے بلیا کو جوڑنے کے لئے 19437 کروڑ روپے کی لاگت سے مجوزہ سماجوادی پوروانچل ایکسپریس وے کے شیلا نیاس سے پہلے کنسٹرکشن کمپنیوں میں اس اہم ترین پروجیکٹ کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے دوڑ لگی تھی۔ اکھلیش چناؤ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے اس کا شیلا نیاس کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی کے نئے مقرر جنرل سکریٹری امر سنگھ پسندیدہ ٹھیکیداروں کو یہ ٹھیکہ دلانا چاہتے ہیں اور بھی کئی اسکیمیں ہیں جو امرسنگھ اپنے آدمیوں کو دلانا چاہتے ہیں۔ یہ سب چناؤ فنڈ اکٹھا کرنے کے نام پر ہورہا ہے۔ جنگ تھمی نہیں صرف سیز فائر ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

فوج کو جانچ کرنی ہوگی کہ آخر کیمپ کا سکیورٹی گھیرا کیوں ٹوٹا

اڑی آرمی کیمپ پر ہوئے حملہ کا تذکرہ پوری دنیا میں ہورہا ہے وہیں ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ خطرناک ہتھیاروں سے مسلح 4 دہشت گردوں نے اڑی میں برگیڈ ہیڈ کوارٹر کے سکیورٹی گھیرے میں آخر اتنی آسانی سے کیسے سیند لگادی؟ فوج کی جانچ ٹیم کے سامنے جو سوال ہیں اس میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تین طرف سے کنٹرول لائن سے گھرے ہونے کے سبب بھاری سکیورٹی والے فوج کے کیمپ میں یہ آتنکی کیسے گھس آئے؟ یہ کیمپ کنٹروورشیل سرحد سے بمشکل پانچ کلو میٹر دوری پر ہے۔ اس کیمپ میں 6 بہار،10 ڈوگرا کی کمپنی کے جوان ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس کیمپ کی سکیورٹی مشینری کی جانچ کرنے سے پہلے ہوئے اس اچانک حملے کے لئے یہ مشینری تیاری نہیں تھی۔ یہ بھی تشویش کی بات ہے کہ اس حملہ کے بارے میں پہلے ہی خفیہ جانکاری و الرٹ ملا تھا اور اس کے باوجود یہ حملہ ہوا، جو چونکانے والا ہے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) جیش محمد کے ان چار آتنک وادیوں کے سمپل اور ان کے پاس سے ملے سامان کا ڈی این اے ٹیسٹ وغیرہ کررہی ہے جنہیں حملہ کی جگہ کے پاس پیر کو دفنایا گیا۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ فوج کو انہیں اتنی جلدی دفنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ نہیں ساری دنیا کو ان کی لاشیں دکھائی گئیں؟ بہت سے لوگ اور پاکستان میں توپورے واقعہ پر ہی سوال اٹھ رہا ہے۔ پاک ٹی وی تو یہ بھی کہہ رہا ہے کہ بھارت سرکار کے ذریعے رچا گیا ایک ڈرامہ ہے اور پاکستان کو بلا وجہ بدنام کیا جارہا ہے۔ اگر فوج اتنی جلدی لاشوں کو نہ دفناتی اور ساری دنیا کو ان لاشوں کی تصویر دکھاتی تو پاک کی یہ بکواس سننی نہ پڑتی۔ حملہ پاکستان نے کروایا ہے اس پر کسی کو شبہ نہیں ہوتا۔ ہتھیار ، کھانے کے پیکٹ اور دیگر سامان جو کہ پاکستان سے ملوث ہونے کے ثبوت دئے جارہے ہیں وہ کافی نہیں ہیں۔ ان پاکستانی شہریوں کی پہچان میں ڈی این اے سمپل اہم ثابت ہوں گے اور پاٹھانکوٹ میں ایئر بیس پر آتنکی حملے کے معاملے کی طرح جانچ رپورٹ سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جاسکے گا۔ حکام نے کہا مارے گئے چاروں دہشت گردوں کے فوٹو جیش کے ان ان لوگوں کو دکھائے جائیں گے جو بھارت کی جیلوں میں بند ہیں۔ اس طرح دہشت گردوں کی پہچان میں آسانی ہوگی۔ این آئی اے اپنی جانچ میں دو اہم پہلوؤں پر کام کرے گی۔ ایک کے تحت یہ پتہ لگائے گی کے کس طرح فوج کے اہم و حساس ترین آرمی بیس کی سکیورٹی کی ٹوہ لی گئی اور کیا کوئی گھر کا بھیدی دشمن کو اہم جانکاری دے رہا تھا؟ جانچ کے دوسرے پہلو میں حملے کی سازش رچنے والے اور ان کے ہینڈلروں کا پتہ لگائے گا۔ ممکن ہے کہ دہشت گردوں کو لوکل سپورٹ ملی ہو جس کے دم پر یہ دیش میں داخل ہوئے۔ خیرا ین آئی اے اپنا کام کرے گی لیکن فوج کو اپنی جانچ بھی کرانی ہوگی کہ سکیورٹی گھیرا کیسے ٹوٹا؟
(انل نریندر)

22 ستمبر 2016

ابھی تو 15آتنکی ہی مرے ہیں، ایک کے بدلے دو چاہئیں

اڑی میں فوج کی کالا بریگیڈ پر ہوئے آتنکی حملے کے بعد لگتا ہے کہ فوجی انتظامیہ نے دراندازوں کو تلاش کرنے اور مارنے کی آپریشن چالو کردی ہیں۔ ایل او سی کے پہاڑوں پر برف گرنے سے پہلے پاک فوج اپنے جہاں تہاں رکے سبھی دہشت گردوں کو اس طرف دھکیلنے کی فراق میں ہے۔ اس کااندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے بھیجے دہشت گردوں نے دو دن پہلے جس اڑی سیکٹر میں 18 ہندوستانی جوانوں کو موت کی نیند سلادیا تھا وہی سے اس نے منگلوار کو دہشت گردوں کے ایک بڑے گروپ کو دھکیلنے کی کوشش کی اس کوشش کے لئے پاک فوج نے باقاعدہ کور فائرنگ بھی کی لیکن اس بار ہندوستانی فوج تیار تھی اور ہمارے جوانوں نے 10 دہشت گردوں کو مار گرایا اس آتنکی گروپ میں 18 سے 20 دہشت گرد تھے۔ آخر رپورٹ آنے تک ہندوستانی جوان ان کی تلاش میں لگے ہیں اور تبھی دم لیں گے تب سارے آتنکوادیوں کا صفایا نہ ہوجائے۔ خبر ہے کہ مارے گئے ساتھیوں کی لاشوں کو پانے کی خاطر پاک فوج نے اڑی سیکٹر میں گولوں کی برسات کی ہوئی ہیں۔ اڑی میں فوج کے بریگیڈ پر اس بزدلانہ حملہ کا پہلے سے فوجیوں میں بہت غصہ ہے اور وہ سبھی ایک آواز میں اس کا سخت جواب دینے کے حق میں ہے۔سابق فوج کے سربراہ جنرل این سی وج کاکہنا ہے کہ پوری دنیا کے سامنے دہشت گردی کو لے کر پاکستان ہر سطح پر بے نقاب ہوچکا ہے۔ سبھی دیش یہ تسلیم کرنے میں لگے ہوئے کہ پاکستان دہشت گردوں کی فیکٹری ہے ایسی حالت میں اب مرکزی سرکار کو پاکستان کے خلاف سخت فیصلہ لینے میں کوئی ٹال مٹولی نہیں دیکھانی چاہئے۔ ان کادعوی ہے کہ مرکزی سرکار فیصلہ لیں۔ پاکستان گھٹنے کے بل ہوگا۔ جموں وکشمیر میں اڑی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ چھوٹا واقعہ نہیں ہے یہ سیدھے سیدھے دیش کو چنوتی ہے۔اڑی میں فوج کے ایک بٹالین پر اس حملہ سے فوج کے کئی سابق حکام افسران نے پاکستانی سرزمین سے جاری آتنکی حرکتوں سے نمٹنے کے لئے فوجی کارروائی کا موقع کھلا رکھنے سمیت وغیرہ کارروائی کی مانگ کی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل( ریٹائرڈ) بی ایس جسوال نے کہا ہے کہ اگر کچھ مقامات پر حملے کی ضرورت ہے تو میں ضرور فوجی متبادل کھلا رکھناچاہئے۔ نارتھ کمانڈ کے جی او سی رہ چکے جسوال نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان کو جغرافیائی طور سے نقصان نہیں ہوگا وہ ہماری شرافت کا احترام نہیں کرے گا۔ جموں وکشمیر کے سکیورٹی حالات میں خصوصیت رکھنے والے میجر ریٹائرڈ گورو آریہ نے بتایا کہ یہ جانتے ہوئے کہ ہم کوئی کارروائی نہیں کریں گے، پاکستان آتنکی حملے بار بار کرتا آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسائل کو روالپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر میں خاص طور سے یہ پلان تیار کیا گیا تھا۔ ہمیں فورا کارروائی کرنے کی ضرورت ہے پاکستان کے ساتھ کاروبار بند کرناچاہئے اور اس کو پسندیدہ ملک کا درجہ کم کیا جائے۔ دنیا کو یہ پیغام دیناچاہئے کہ ہم بہت سنجیدہ ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ہندوستانی فوج جنگی سطح پر دراندازوں کو تلاشنے اور ماروں کارروائی میں لگی ہوئی ہیں۔ اڑی سیکٹر میں حملے کے دو دن بعد 20سے 25دراندزوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ملی تھی ان میں زیادہ تر مقبوضہ کشمیر کی طرف سے آنے والے بتائے جاتے ہیں۔ تلاشی آپریشن کو روکنے اور لچھی پورہ اس کے ملحق علاقوں میں چھپے دراندازوں کو محفوظ مقامات کی طرف موقعہ دینے کے لئے پاکستانی رینجرس نے بعد دوپہر ایک بجکر 10منٹ سے ہندوستانیوں چوکیوں پر فائرنگ شروع کردی۔ حالانکہ یہ فائرنگ آدھے گھنٹے بعد رک گئی۔ اڑی میں 10 اور نوگاؤں میں ایک آتنکی اور اڑی حملے میں چار آتنکیوں کو مارنے سے برابر ٹوٹل برابر ہوگیا۔ ابھی تو 15مارے ہیں کافی حساب کتاب برابر کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم ایک کے بدلے دو نہیں مارتے ہیں ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ نہ بیٹھنے دیں گے ایک طرف باتھم ان دہشت گردوں کی لاشوں کو ٹی وی پر کیوں نہیں دکھاتے ہیں اگر ہم دکھائیں گے تو نہ صرف ہمارا اعتماد بڑھیں گا بلکہ سارے دیش کا سر اونچا ہوگا۔آخر یہ آتنکی ہے ان کے صفائی میں ہمیں قباحات کس بات کی ہے۔
(انل نریندر)

اس سر پھیرے تانا شاہ پر لگام کیسے لگے

نارتھ کوریا میں تاناشاہ کم جونگ ان کی حکومت ہے اس نے نیوکلیائی ہتھیاروں اور میزائلیں نہ بنانے کی سبھی بین الاقوامی پابندیاں ماننے سے انکار کردیا اور اپنی ڈیفنس تیاریوں کے ساتھ اس نے امریکہ، جاپان اورساؤتھ کوریا پر حملہ کرنی کی کافی حد تک طاقت حاصل کرلی ہے۔ ساؤتھ کوریا میں جلاوطن حکومت ہے۔ 25 جون 1950 میں نارتھ کوریا نے کوریا کو یہ کرنے کے لئے ساؤتھ کوریا پر حملہ کردیا تھا۔ اس کا ساتھ چین اور سوویت روس نے دیا ۔ ساؤتھ کوریا کا ساتھ امریکی فوج نے دیا ہے۔ 27 جون 1950 کو ساؤتھ کوریا نے معاملہ سیکوریٹی کونسل میں اٹھایا جس نے نارتھ کوریا کو حملہ آور قرار دیا۔ جنگ تین سال چلی ۔ 27 جولائی 1953کو دونوں کوریا کے درمیان غیر فوجی زون بنا کر جنگ روکی گئی۔ دونوں کے درمیان امن معاہدہ نہیں ہوا اور تکنیکی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان آج بھی جنگ کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ نارتھ کوریا نے ایک بار پھر نیوکلیائی ہتھیار کا تجربہ کیا ہے۔ اس کارستانی پر دنیا بھر میں سخت رد عمل ہوا۔ ساؤتھ کوریا نے کم جونگ نے ان سنک بھری لاپروائی نارتھ کوریا کو تباہی کی طرف لے جارہی ہیں۔ وہی امریکی صدر براک اوبامہ نے نارتھ کوریا پر نئی پابندیا ں لگائی جانے کی دھمکی دی ہے۔ روس نے بھی خبردار کیا ہے یہاں تک کہ بھی چین اور پاکستان نے بھی اس تجربہ کی کھل کر مذمت کی ہے۔ جن کے بارے میں ایک وقت مانا جاتا تھا کہ وہ نارتھ کوریا کی چپ چاپ مدد کرتے ہیں۔ ابھی یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کہ میزائل ڈیولپمنٹ پروگرام میں چین اور نارتھ کوریا مدد کررہے ہیں نارتھ کوریا کے پانچویں نیوکلیائی تجربہ کے خلاف اب امریکہ اس پر یک طرفہ پابندی لگا سکتا ہے۔ یہ اطلاع نارتھ کوریا میں امریکہ کے ایک خصوصی سفیر سنڈا گیم نے دی ہے۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرکے پانچواں تجربہ کئے جانے کو لے کر امریکہ اور جاپان سیکورٹی کونسل کے علاوہ نارتھ کوریا جمہوریہ کے ساتھ مل کر اس کے خلاف ایک فریقی اور غیرمنصفانہ کارروائی کے امکانات تلاش رہے ہیں ادھر نارتھ کوریا کے وزیر خارجہ نے کہاہے کہ وہ افریقہ کے اکساؤں نے کارروائی دینے کو تیار ہے۔ یہ وارننگ انہوں نے اس وقت دی جب طاقت کے مظاہرے دوران دو امریکی سپر سونگ جہازوں کے ذریعہ ساؤتھ کوریا کے ا وپر اڑان بھری۔ نارتھ کوریا اس سرپھیرے تانا شاہ پر لگام کیسے لگے اس کا حل سبھی تلاش میں لگے ہیں۔ اگراوپر والانہ کرے تو اس پاگل تاناشاہ نے کسی دن نیوکلیائی بم ہی نہ چھوڑ ڈالے تو کیا ہوگا؟
(انل نریندر)

21 ستمبر 2016

اڑی سیکٹر ہی دہشت گردوں کے نشانے پر کیوں

سنیچر کو صبح سویرے ساڑھے پانچ بجے سرحد پارسے گھسے چار دہشت گردوں کا اڑی میں فوج کے بارہویں یونٹ کے بیس پر فدائی حملہ کوئی عام حملہ نہیں تھا۔ یہ بھارت کے کسی بھی فوجی اڈے پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا۔ ا س میں ہم نے18 جوان کھو دئے اور کئی زندگی اور موت کے درمیان لڑ رہے ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ حملہ الرٹ کے باوجود ہوا۔ مرکزی وزارت داخلہ کے پچھلے ہفتے جاری الرٹ میں صاف طور پر کہا گیا تھا کہ دہشت گرد ہوائی اڈوں، فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بڑی تعدادمیں دہشت گرد گھسنے کی تیاری کی بھی اطلاع تھی اس کے باوجود دہشت گرد بیس کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ وادی میں دو ماہ سے جاری تشدد آمیز مظاہروں پر ہی سب کی توجہ لگی ہے۔ اس سے دہشت گرد اور دراندازی انسداد گرٹ متاثر ہوئی ہے۔ دو ماہ سے دہشت گردی انسداد مہم قریب رکی ہوئی تھی یہ بھی ایک وجہ رہی اڑی کا یہ بیس کوئی عام فوجی بیس نہیں تھا۔ 12 ویں برگیڈ کا یہ ہیڈ کوارٹر اہم ہے۔ ایل او سی سے لگے اس بیس میں ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ہے۔اڑی ملٹری بیس ہندوستانی فوج کے برگیڈ کا بڑا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں ہر وقت قریب13 ہزار فوجی رہتے ہیں۔ یہ وادی میں سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کو روکنے میں مدد گار اہم چوکیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے تین طرف کنٹرول لائن ہے جس کی وجہ سے اس پر حملہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اڑی کا ملٹری بیس یکساں زمین پر بنا ہوا ہے اور ایک طرف سے یہ کنٹرول لائن سے صرف 6 کلو میٹر دوری پر ہے۔ وہیں ایل او سی کے اس طرف پاکستانی فوج کی چوکی اونچے پہاڑوں پر بنی ہے جس کے سبب پاک فوج اونچائی سے مسلسل اس بیس پر نظر رکھتی ہے۔ ایل او سی پر اس سال جون تک دراندازی کے 90 واقعات ہوچکے ہیں جبکہ2015ء میں 29 واقعات ہوئے تھے۔ پچھلے ایک ماہ میں ہی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان چار مڈبھیڑیں ہو چکی ہیں۔ پاکستان نے 260 بار سے زیادہ جنگ بندی توڑی۔2016ء میں ہی کئی حملے ہوئے۔ 11 ستمبر کو پونچھ حملہ میں تین دنوں تک مڈ بھیڑ چلی اس میں 6 جوان شہید ہوگئے۔ ایک شہری بھی مارا گیا۔ چار دہشت گرد بھی مارے گئے۔ اس سے ایک دن پہلے بارہمولہ میں حملہ ہوا۔ تین مقامات پر دراندازی کی کوشش کی گئی جس میں جوانوں نے چار دہشت گردوں کو مار گرایا۔ 17 اگست کو سرینگر۔ بارہمولہ ہائیوے کے پاس فوج کے قافلے پر حملہ ہوا جس میں 8 لوگ مارے گئے اور 22 زخمی ہوئے۔ 15 اگست کو سرینگر حملہ میں ایک سی آر پی ایف کمانڈینڈ شہید ہوئے تھے۔ 25 جون کو پامپور میں سی آرپی ایف پر حملہ میں 8 جوان شہید ہوئے20 زخمی۔3-4 جون کو اننت ناگ میں بی ایس ایف کے 3 جوان اور جموں و کشمیر پولیس کے 2 جوان شہید ہوئے۔ جنوری میں پٹھانکوٹ حملہ ہوا جس میں6 جوان 1 سکیورٹی جوان 1 شہری کی موت ہوئی تھی۔ حملہ آوروں نے پٹھانکوٹ کی طرح اڑی حملے کو انجام دیا۔ چاروں دہشت گرد پوری تیاری و انٹیلی جنس کے ساتھ آئے تھے۔ پٹھانکوٹ میں بھی پاکستان سے آئے جیش محمد کے دہشت گردوں نے صبح کے وقت جوانوں کی ڈیوٹی کی ادلا بدلی کے وقت کا فائدہ اٹھایا تھا۔ اڑی میں بھی ایسا ہی وقت چننے کی بات سامنے آئی۔ پٹھانکوٹ کی طرح ہی اس بار بھی آتنک وادی کافی ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ اڑی حملے کے وقت سبھی آتنکی فوج کی وردی میں تھے۔ اس سے پہلے دہشت گردوں نے جتنے بھی بڑے حملے کئے ان میں آتنکی فوج کی وردی میں تھے جیسے پارلیمنٹ کا حملہ۔ یہ اتفاق ہے کہ اب تک ہوئے سب سے بڑے آتنکی حملے این ڈی اے کے عہد میں ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ پر حملہ اور اڑی میں تازہ حملہ۔ اڑی میں بھارتیہ فوج کے حملے پر اڈہ محض ایک اتفاق ہے یا پاک فوج یا آئی ایس آئی کا بھارت سرکار کو پیغام دینے کا طریقہ ہے؟ اس کا پتہ تو شاید ہی چل پائے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت اور پاکستان کے پہلے سے بگڑ چکے رشتے کو یہ حملہ اور خراب کردے گا۔
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے سالگرہ کے ٹھیک ایک دن بعد ہوئے اس حملے کو کئی واقف کار پاک خفیہ ایجنسی ، فوج و پی ایم نواز شریف کے درمیان جاری ٹکراؤ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ دراصل پی ایم مودی نے ٹھیک 9 مہینے پہلے 25 دسمبر2015 ء کو نواز شریف کے جنم دن پر اچانک لاہور میں ان کے گھر پہنچ کر بھارت ۔ پاک رشتے کی بہتری کی امید جتائی تھی جبکہ سنیچر (17 ستمبر 2016ء) کو مودی کے جنم دن پر نواز شریف نے نہ تو مودی کو ٹیلی فون کیا اور نہ ہی کوئی پیغام بھیجا۔ اس طرح سے مودی نے پی ایم کا حلف لینے کے ساتھ ہی انہوں نے شخصی طور پر رشتے بہتر بنانے کی جو کوشش کی تھی اس کا بھی اب ڈراپ سین مانا جارہا ہے۔ پاکستان نے اس بار بھی اپنی عادت کے مطابق ہندوستان کے الزامات کو بے بنیاد قراردیا ہے۔ ساتھ ہی کارروائی کے لائق خفیہ جانکاری مانگی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوا نے کہا کہ دونوں دیش کے ڈی ڈی ایم او نے ہاٹ لائن پر تبادلہ خیال کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق باجوا نے دوہرایا دراندازی نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں طرف سخت انتظام ہے۔
(انل نریندر)

20 ستمبر 2016

بس بہت ہوچکا اب اور نہیں

بس اب اور برداش نہیں۔ بھارت نے پاکستان کے ذریعے چھیڑی گئی اس غیر اعلانانیہ جنگ میں بہت قربانی دے دی۔ ہم نے اپنے بہادر جوانوں کی بہت شہادت دیکھی ہے اب اور زیادہ نہیں دیکھ سکتے، ہمیں اب تو اس کا جواب دینا ہی ہوگا۔ ہمیں پاکستان کو یہ بتانا ہوگا کہ ہم نے ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہنیں اور ہم اپنے دیش کی سکیورٹی اچھی طرح کرسکتے ہیں۔ ہمیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہوگا۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ ہر بار یہی ہوتا ہے کہ ان کی سرزمیں سے فدائی حملے ہوتے ہیں ،ہمارے جوان مارے جاتے ہیں اور ہم کوری دھمکیاں دیتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی جی کہہ دیتے ہیں پاکستان کو اس کا معقول جواب دیا جائے گااورپھر ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ہم پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب کیوں نہیں دیتے؟ کیا ہم پاکستان سے ڈرتے ہیں؟ یا پھر ہمیں بین الاقوامی ساکھ کی اتنی فکر ہے کہ ہم جوابی کارروائی نہیں کرتے؟ مودی جی آپ اندرا جی سے سبق لیں۔بنگلہ دیش جنگ سے پہلے اندرا نے بہت کوشش کی تھی کہ امریکہ، چین، برطانیہ وغیرہ دیش ہماری پوزیشن سمجھیں اور ہمارا ساتھ دیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کوئی ہمارے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں تو انہوں نے بغیر انتظار کئے مشرقی پاکستان پر حملہ کر پاکستان کے دو ٹکڑے کردئے۔ بھارت کو ان غیر ملکی بڑی طاقتوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ امریکہ دوہرا کھیل کھیلتا ہے۔ ہمیں کہتا ہے کہ آتنک واد کے خلاف وہ ہماری حمایت کرے گا اور پاکستان کو اربوں ڈالر کے ہتھیار دیتا ہے جو بھارت کے خلاف استعمال کرے۔ چین جو آج پاکستان کا سب سے بڑا حمایتی بنا ہوا ہے اسے اپنا کاروباری مفاد مجبور کررہا ہے کہ وہ گوادر تک بنا رہے بندرگاہ کو بچانے کے لئے پاکستان کی ساری کرتوت کو نظرانداز کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر بھارت سرکار پاک کی نیوکلیائی حملہ کی دھمکی سے ڈرتا ہے تو اسے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اتنا آسان نہیں ہے نیوکلیائی بم کا استعمال کرنا۔ ویسے بھی نیوکلیائی بم ہتھیاروں کا استعمال سیدھے ہی نہیں ہوجاتا۔ کئی مرحلوں کی جنگ کے بعد نیوکلیائی ہتھیار استعمال کرنے کی نوبت آتی ہے۔ ایک منٹ کے لئے مان بھی لیا جائے کہ پاکستان اپنے نیوکلیائی ہتھیار استعمال کرسکتا ہے تو اسے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ رقبے میں بھارت سے اتنا چھوٹا ہے کہ آدھا علاقہ ہی مٹ سکتا ہے۔ نقشے سے پوری طرح غائب ہوسکتا ہے۔ نیوکلیائی ہتھیار استعمال کرنے تک کی نوبت نہیں آئے گی۔ پاک مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ اگر بھارت کے کسی کونے سے آتنکی حملہ کرتے ہیں تو کیا ہمیں اپنی ہی زمین پر جوابی کارروائی کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لینی پڑے گی؟ خود تو امریکہ اوبامہ بن لادن کو مارنے کیلئے ایبٹ آباد میں داخل ہوجاتا ہے وہ ہمیں اپنی ہی سرزمین پر دہشت گردوں کو روکنے و تباہ کرنے سے کیسے روک سکتا ہے؟ دیش کی عوام نے نریندر مودی کو اپنی پوری حمایت، مینڈیٹ دیا ہے مودی کو کسی بھی جوابی کارروائی کرنے کے لئے اپوزیشن کو ساتھ لینے کی ضرورت نہیں انہیں خود قدم اٹھانے ہوں گے اپوزیشن ساتھ آئے یا نہ آئے۔ ویسے اپوزیشن بھی یہی چاہتی ہے کہ ہمارے بہادر جوانوں کی شہادت بند ہو ،سوتے ہوئے جوانوں کو اس طرح سے جلا کر مارنا یہ کونسی آزادی کی لڑائی ہے؟ ہماری فوج کو بھی دیش کو یہ بتانا ہوگا کہ ہم اپنی سکیورٹی کرنے میں اہل ہیں اور دشمن کو اسی کی زبان میں جواب دے سکتے ہیں اور جوابی کارروائی چوری چھپے سے نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں ساری دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہم اپنے دیش کی ایکتا اور سرداری بچانے میں اہل ہیں اور ایسا کرکے نہ تو ہم کوئی گناہ کررہے ہیں نہ ہی ہم جنگ لڑ رہے ہیں۔جنگ تو پاکستان نے شروع کررکھی ہے ہم تو بس جواب دے رہے ہیں لیکن جواب دے دیں تو؟ دیش جواب کا انتظار کررہا ہے۔ باتوں ،تقریروں ، کوری دھمکیاں بہت ہوچکی ہیں اب تو کچھ ٹھوس کرکے دکھانے کا وقت ہے اور دشمن کو یہ احساس دلانے کی سخت ضرورت ہے کہ بس اب اور نہیں۔
(انل نریندر)

لیک سے ہٹ کر بڑھیا فلم ’پنک‘

سنیچر کی شام کو میں نے فلم ’پنک‘ دیکھی۔ سن2012 میں دہلی میں نربھیا کانڈ ہوا تھا جس نے ساری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد عورتوں کو لیکر قانون بدلا لیکن کیا سماج کا نظریہ بدلا؟ کیا لڑکیوں کے بارے میں دوہرے پیمانے بدلے؟ انہی اشو کو بہت خوبصورتی سے فلم ’پنک‘ میں دکھایاگیا ہے۔ وکی ڈونر، مدراس کیفے اور پیکو جیسی فلمیں بنانے والے سجیت کمار کا شمار بالی ووڈ کے بڑے فلم میکرس میں ہونے لگا ہے۔ سجیت کمار اس فلم کے پروڈیوسر ہیں۔ فلم میں مرد پردھان سماج اور عورتوں کے تئیں ٹوٹلی الگ قسم کی سوچ رکھنے والوں کو اس فلم سے ایک اثر دار پیغام دینے کی زبردست پہل کی گئی ہے۔ فلم میں کئی سوال ایسے اٹھائے گئے ہیں جو سماج میں مرد اور عورتوں کو الگ الگ پیمانے سے دیکھتے ہیں جیسا کہ لڑکیوں کا پہناوا، ان کا ہنس ہنس کا باتیں کرنا، شراب پینی وغیرہ کیا یہ اشارے دیتے ہیں کہ وہ آسانی سے دستیاب ہیں؟ کیا لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے الگ الگ سماجی قاعدے ہیں؟ آخر مرد یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہر عورت یا لڑکی کو ’’نہ ‘‘کہنے کا حق ہے اور اس کی ’’نہ‘‘ کا سنمان کیا جانا چاہئے۔ چاہے وہ سیکس ورکس ہو، پتنی ہو یا عام ورکنگ کلاس لڑکی ۔ ’پنک‘ فلم اس بات کو بھی بڑی خوبصورتی سے دکھاتی ہے کہ کیسے نارتھ ایسٹ کی لڑکیوں کو بھارت کے دوسرے حصوں میں تہذیبی طور سے تھوڑا الگ سمجھا جاتا ہے۔ ’پنک‘ میں ہم کچھ جھلک ’دامنی‘ کی بھی پا سکتے ہیں ۔ لیکن کچھ اس کا اہم زور میٹرو میں کام کررہی لڑکیوں کی سماجی حالات کو دکھانا ہے۔ کہانی کا اہم مرکز عدالتی ڈرامہ بھی ہے جہاں امیتابھ بچن وکیل دیپک سہگل اپنی زندگی کو سب سے عمدہ کرداروں میں سے ایک نبھایا ہے۔ان کے سوالوں اور نصیحتوں سے سارے ہال میں سناٹا چھا جاتا ہے اور فلم کئی سوالوں پر سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔ فلم تین لڑکیوں مینل اروڑہ (تاپسی پنو) فلک (کیرتی کلہیری) اورآندلیا (آندلیا) پر مبنی ہے جو بدقسمتی سے ایک قانونی جھگڑے میں پھنس جاتی ہیں۔یہ ہدایت کار کوشل سے ہی پتہ چلتا ہے کہ آخر پارٹی کے بعد ایسا کیا ہوا تھا جو عدالت تک معاملہ پہنچ گیا۔ امیتابھ شروع میں بیحد دھیمی آواز میں بولتے ہیں ایک تھکے ہوئے بوڑھے کی طرح، آہستہ آہستہ فلم میں ان کی آواز کا وہی پرانا انداز سامنے آتا ہے۔ پیوش مشرا نے بھی ایک ایسے وکیل کے کردار کو زندہ کردیا ہے جو اپنے سوالوں سے جریح کے دوران عورتوں کے کردار پر کئی سوال اٹھاتا ہے۔اداکاری میں تاپسی پنو نے بھی اچھا رول نبھایا ہے۔ کورٹ روم میں بحث کے دوران تاپسی کا انداز اور ان کے ڈائیلاگ ،فیس ایکسپریشن کے ساتھ ساتھ تاپسی کا چہرہ دیکھنے لائق ہے۔ فلک علی کے کردار میں کیرتی نے قیامت کی اداکاری کی ہے۔ آندلیانے اپنے کردار میں اچھا رول نبھایا ہے۔ دیپک کے کردار میں بالی ووڈ کے شہنشاہ لیجنٹ امیتابھ بچن نے اس بار بھی ثابت کردیا ہے کہ انہیں لیجینٹ کیوں کہا جاتا ہے۔ مسالے اور ایکشن تھرلر ہاٹ فلم کی بھیڑ سے دور ہٹ کر ایک اچھی فلم اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو ’’پنک‘‘ دیکھئے۔ بھروسہ کیجئے کہ آپ فلم دیکھنے کے بعد کہیں گے اسے تو دیکھنا ضروری تھا اور ایک تجویز مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی فلم سماجی پیغام دیتی ہے تو وہ ’پنک‘ ہے۔ اس کا ٹیکس معاف ہونا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھیں اور سماج کے نظریئے میں تبدیلی آئے۔
(انل نریندر)

18 ستمبر 2016

مل ہی گئی شہاب الدین کی ضمانت کو چنوتی

سابق ایم پی و سیوان کے دبنگی لیڈر شہاب الدین کی مشکلیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ بیشک وہ ضمانت پر فی الحال جیل سے باہر آگئے ہیں لیکن یہ راحت عارضی ہوسکتی ہے۔ شہاب الدین کی ضمانت منسوخ کرنے کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل ہوچکی ہے۔ عدالت اس پر پیرکو سماعت کرے گی۔ وکیل پرشانت بھوشن کی عرضی پر پیر کو فہرست میں شامل کرنے کے چیف جسٹس کے حکم کے کچھ دیر کے بعد بہار سرکار نے بھی خطرناک سرغنہ کو پھر سے جیل بھیجنے کی سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے۔ تینوں بیٹوں کے قتل کا درد سہ رہے چندر شیکھر پرساد کی جانب سے پرشانت بھوشن نے یہ عرضی داخل کی ہے۔ چندر شیکھر پرساد نے عرضی میں کہا ہے کہ شہاب الدین کے خلاف 58 معاملوں میں سے 8 میں وہ مجرم قرار دیا جاچکا ہے۔ ان میں سے دو میں عمر قید کی سزا ہوئی ہے اس کے باوجود اسے رہا کردیاگیا ہے۔ ادھر بہار سرکار نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ پٹنہ ہائی کورٹ نے فروری میں دئے گئے اپنے ہی فیصلے کو نظر انداز کردیا جس میں ٹرائل کورٹ سے کہا گیا تھا کہ وہ راجدیو شوشن قتل کانڈ کا مقدمہ 9 ماہ میں پورا کریں۔ صحافی راجدیونجن کی بیوی آشا رنجن انصاف کی درخواست لے کر سپریم کورٹ پہنچی تھیں۔ آشا رنجن نے آر جے ڈی کے دبنگ لیڈر محمد شہاب الدین و لالو پرساد یادو کے لڑکے و پردیش کے وزیر صحت تیج پرتاپ یادو پر ان کے شوہر کے قاتلوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مانگ کی ہے۔آشا رنجن نے عرضی میں نہ صرف سی بی آئی کو فوراً معاملہ ہاتھ میں لینے کی ہدایت مانگی ہے بلکہ راجدیو قتل کانڈ کو بہار سے دہلی منتقل کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ اتنا ہی نہیں اپنی اور بچوں کی سلامتی کو سنگین خطرہ مانتے ہوئے بہار کے باہر محفوظ مکان دلانے کی بھی درخواست کی ہے۔ صحافی راجدیو رنجن قتل کانڈ میں سی بی آئی نے سیوان میں دبش دی ہے۔ جانچ وہیں سے شروع ہوئی ہے جہاں بہار پولیس کی ایس آئی ٹی نے چھوڑی تھی۔ سیوان پہنچتے ہیں سی بی آئی ٹیم نے راجدیو رنجن قتل کانڈ میں جیل میں بند لڈن میاں اور دیگر پانچ ملزمان سے پوچھ تاچھ کی۔ ادھر بہار میں اتحادی حکومت میں بے یقینی کا احساس نظر آنے لگا ہے حالانکہ وزیر اعلی نتیش کمار نے یہ صحیح موقف اپنایا ہے قانون اپنا کام کرے گا اور لالو جی نے اپنے آپ کو پورے معاملے سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن پیر کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یقینی طور سے اتحادی سرکار پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ شہاب الدین جیسا دبنگی بھی چپ بیٹھ کر تماشا دیکھنے والا نہیں ہے۔کل ملا کر پہلے سے دھماکہ خیز بنے بہار کے حالات میں مزید آگ لگ سکتی ہے۔ سب سے زیادہ دباؤ نتیش کمار پر ہوگا۔
(انل نریندر)

جسمانی معذوری کے باوجود دیویندر کی شاندار تھرو

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو میں حال ہی میں ختم ہوئے اولمپک کھیلوں میں بیشک ا س بار ہندوستان کی کارکردگی مایوس کن رہی لیکن اسی شہر میں جاری پیرا اولمپک میں ہمارے کھلاڑیوں نے اولمپک کی مایوسی کافی حد تک بھلا دی ہے۔ ریو پیرا اولمپک میں بھارت کو دوسرا طلائی میڈل دیویندر جھاجھریا نے بھالا(جیولن تھرو) مقابلے میں دلایا ہے۔ دیویندر کا بھالا 12 سال بعد پھر پیرا اولمپک گیم پر سونے کا میڈل تو جیتا ہی ساتھ ساتھ ایک نیا ورلڈ ریکارڈ بھی بنایا۔ دیویندر جھاجھریا پیرا اولمپک گیم میں دوہرا طلائی میڈل جیتنے والے پہلے ہندوستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ دیویندر نے اس سے پہلے ایتھینس پیرا اولمپک میں بھی طلائی میڈل جیتا تھا۔36 سالہ دیویندر نے 2004ء میں منعقدہ ایتھینس گیم میں 62.15 میٹر بھالا پھینک کر ورلڈ ریکارڈ بنایا تھا۔ 12 سال بعد انہوں نے پھر اس 1-46 مقابلہ میں اپنے ہی ورلڈ ریکارڈ کو بہتر بناتے ہوئے 63.97 میٹر کی دوری ناپی۔دیویندر جھاجھریا کی زندگی کی جدوجہد کی داستاں کسی فلمی کہانی سے کم نہیں ہے۔ راجستھان کے چورو ضلع میں 8 برس کی عمر میں پیڑ پرچڑھتے وقت انہیں 11 ہزار وولٹ کا بجلی کا کرنٹ لگا تھا ۔ اس وقت وہ اتنی بری طرح سے جھلس گئے تھے کہ ایک دن بھی زندہ رہ پائیں گے یا نہیں ، یہ طے نہیں تھا۔ اس حادثے میں ان کا بایاں ہاتھ خراب ہوگیا تھا جسے کاٹنا پڑا۔ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اب وہ زیادہ محنت کا کام نہیں کرسکیں گے ، لیکن دیویندر نے سبھی کو غلط ثابت کردکھایا۔ محنت کش دیویندر اور اس کے رشتے داروں نے ہار نہیں مانی اور پھر شروع ہوئی ان کی کامیابی کی طرف بڑھنے کی کہانی۔ دیویندر جب10 کلاس میں تھے تب وہ جیولن تھرو (بھالا پھینکنا) سے جڑے۔ وہ عام کھلاڑیوں کے ساتھ ہی مقابلوں میں حصہ لیتے رہے اور کامیابی حاصل کرتے رہے۔ دروناچاریہ ایوارڈی آر ڈی سی سنگھ نے 1997ء میں دیویندر کے ٹیلنٹ کو پہچانا اور ان کی ٹریننگ شروع کی۔ آر ڈی سنگھ نے ہی بھارت میں پیرا اسپورٹس کا آغاز کیا تھا۔ جیت کے بعد دیویندر نے بتایاکہ 6 سال کی بیٹی جیا سے کیا وعدہ ان کی جیت کی وجہ بنا۔ جیا کو میں نے بتایا تھا کہ اگر وہ اپنی ایل کے جی امتحان میں ٹاپ کرے گی تو میں پیرا اولمپک میں گولڈ جیت کر لاؤں گا۔ پچھلے دنوں جیا نے فون پر پاپا کو بتایا کہ اس نے ٹاپ کرلیا ہے۔ اب میری باری ہے۔ جب میں میدان پر اترا تو اس کی باتیں کانوں میں گونج رہی تھیں۔ پیرا اولمپک کھیل مقابلے کے بارے میں بہتوں کو جانکاری نہیں ہے اور شاید جانکاری ہو بھی نہ۔ جب اولمپک کے یکساں یہ مقابلہ جسمانی۔ دماغی طور پر کسی کمی کے شکار کھلاڑی اس پیرا اولمپک میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایسے میں کسی جسمانی یا ذہنی طور پر کمی کا سامنا کرنے کے باوجود پیرا اولمپک میں ہمارے دیش کے نام شاندار جیت درج کی ہے تو یہ بھارت کے لئے انتہائی فخر کی بات ہے۔ دیویندر و اس کے کوچ کو ہماری مبارکباد۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...