Translater

06 اپریل 2024

بہار میں سیدھی لڑائی !

بہار میں پالا بدلنے کا سلسلہ جاری ہے ۔منگلوار کو مظفر پور کے موجودہ ایم پی اجے نشاد نے بھاجپا سے استعفیٰ دے کر کانگریس کا پنجہ تھام لیا ۔حالانکہ ریاست میں اپنی چالیس پارلیمانی سیٹوں کے نام ڈکلیئر کر دئیے ہیں ۔اس میں اجے نشاد کا نام نہیں ہے ۔اسی سے ناراض ہو کر انہوں نے استعفیٰ دے دیا ۔انڈیا اتحاد نے ابھی سبھی سیٹوں کے امیدواروں کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے ۔لیکن یہ ابھی تقریباً طے ہے کہ بہار کی سبھی چالیس سیٹوں پر سیدھا مقابلہ ہوگا ۔بہار میں سات مرحلوں میں ووٹ پڑنے طے ہوئے ہیں ۔پہلے مرحلے کا چناو¿ 19 اپریل کو ہوگا ۔چار اپریل کو وزیراعظم نریندر مودی نے جموئی سے بہار میں چناوی مہم کا بگل بجا دیا ۔4 سیٹوں اور اورنگ آباد ، گیا ،نوادہ ، اور جموئی میں چناو¿ ہیں ۔اس میں اورنگ آباد سے سشیل کمار سنگھ ،نوادہ سے وویک ٹھاکر کو دیا گیا ہے ۔اور ہم کے جتن رام مانجھی اور جموئی میں ایل جے پی ایل کے امیدوار ارون بھارتی چناوی میدان میں ہیں۔وہیں ان چار سیٹوں پر سلسلہ وار اجے کشواہا ،شرون کمار ،شروجیت کمار اور اچاریہ روی داس آر جے ڈی امیدوار کے طور پر چناو¿ مقابلے میں ہیں ۔اس طرح بھاجپا کے دس اور جنتا دل متحدہ سے 24 پر مقابلہ آر جے ڈی سے ہوگا ۔جن سیٹوں پر بھاجپا آر جے ڈی کی ٹکر ہوگی وہ ہیں نوادہ ، اورنگ آباد، بکسر ، پاٹلی پتر ،مشرقی چمپارن ،اور سہارن گجیا پور، دربھنگا ، مدھوبنی وغیرہ شامل ہیں ۔وہیں جنتا دل متحدہ سے آر جے ڈی سے ان سیٹوں پر مقابلہ ہوگا ۔یہ سیٹیں ہیں جہان آباد ،مغیر، بانکا ،بالمیکی نگر ، شیوہر ،سیتا مڑی ، سیوان ، گوپال گنج ، جھنجھار پور ،سوپول ،مدھوپورہ ،پرنیا ،عدلا،بدلی ،کانگریس سے ہونے کی امید جتائی جارہی ہے ۔کانگریس کو 9 سیٹیں بٹوارے میں ملی ہیں ان میں پانچ مظفر پور مغربی چمپارن ،پٹنہ صاحب ، ساسا رام ، اور مہاراج گنج میں اہم مقابلہ بھاجپا سے ہونا طے ہے ۔بھاگلپور ،کشن گنج اور کٹھیہار پر جنتا دل متحدہ سے کانگریس کی چناوی میدان میں ٹکر ہے ۔وہیں سمستی پور میں ایل جے پی سے کانگریس چناوی میدان میں ہے ۔بھاگلپور سیٹ پر ممبر ا سمبلی اجیت شرما،کٹیہار سے دبنگ لیڈر طارق انور اور کشن گنج سے موجودہ ایم پی ڈاکٹر جاوید کے ناموں کی فہرست منگل کو جاری کر د ی گئی ۔دلچسپ لڑائی مالے سے ہے ۔آر جے ڈی کو تین پارٹیوں سے لوہا لینا ہے ۔آراءمیں بھاجپا ،نالندہ سے جنتا دل متحدہ اور کاراگار میں رولومو سے چنوتی ہے ۔مارسوادی پارٹی کو بیگوسرائے سیٹ ملی ہے ۔یہاں بھاجپا سے اس کا مقابلہ ہوگاتو وہیں کھگڑیا میں ایل جے پی سے ٹکر ہوگی ۔فی الحال بہار کی چالیس لوک سبھا سیٹوں پر 39 پر این ڈی اے کا قبضہ ہے ۔یعنی بھاجپا 17جنتا دل متحدہ 16 پانچ ایل جے پی نے 2019 کے لوک سبھا چناو¿ میں جیتی تھی ۔ایک سیٹ کشن گنج کی کانگریس کے پاس ہے ۔یوں تو کانگریس اتحاد کے تحت بھاگلپور سیٹ پر پہلی مرتبہ چناو¿ لڑ رہی ہے ۔2024 کے لوک سبھا چناو¿ میں بہار کی چالیس سیٹوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔سبھی پارٹیوں کے لئے بہار ایک زبردست چنوتی بنا ہوا ہے ۔دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ (انل نریندر)

چناو کمیشن کو سپریم کورٹ کا نوٹس!

سپریم کورٹ نے چناو¿ میں سبھی وی وی پیڈ پرچیوں کی گنتی کی درخواست کرنے والی عرضی پر الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت سے جواب مانگا ہے ۔حال ہی میں وی وی پیڈ پرچیوں کے ذریعے سے صرف آزمائشی طور سے ای وی ایم الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی ویریفکیشن کا قاعدہ ہے ۔عرضی میں سبھی ووٹر ویریفکیشن پیپر ٹریل (وی وی پیڈ) پیپر پرچیوں کی گنتی کی مانگ کی گئی تھی ۔معاملے کی اگلی سماعت 17 مئی کو ہو سکتی ہے ۔جسٹس وی آر گوئی اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے اسی طرح کی راحت کی مانگ کرتے ہوئے ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم کی جانب سے دائر ایک دیگر عرضی کے ساتھ اس عرضی کو ٹیگ کرتے ہوئے حکم پاس کیا ۔عرضی میں چناو¿ کمیشن کی گائڈ لائنس کو بھی چیلنج کیا گیا ہے ۔جس میں کہا گیا ہے کہ وی وی پیڈ ویریفکیشن ڈیجیٹل طریقہ سے کیا جائے ۔یعنی ایک کے بعد ایک جس سے غیر ضروری دیری ہوگی ۔عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ اگر ایک ساتھ ویریفکیشن کیا جائے اور ہر ایک اسمبلی حلقہ میں گنتی کے لئے زیادہ تعداد میں افسران کو تعینات کیا جائے تو پانچ چھ گھنٹے میں پورا وی وی پیڈ کا ویریفکیشن کیا جا سکتا ہے ۔عرضی گزاروں نے دلیل دی کہ سرکار تقریباً 24 لاکھ وی وی پیڈ کی خرید پر تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے خرچ کئے ہیں اور حال ہی میں صرف 20 ہزار وی وی پیڈ کی پرچیوں کا ویریفکیشن ہوتا ہے ۔یہ دیکھتے ہوئے وی وی پیڈ اور ای وی ایم کے سلسلے میں ماہرین کے ذریعے کئی سوال اٹھائے جار ہے ہیں اور یہ حقیقت کے ماضی میں ای وی ایم اور وی وی پیڈ ووٹوں کی گنتی کے درمیان بڑی تعداد میں خامیاں سامنے آئی ہیں ۔یہ ضروری ہے کہ سبھی وی وی پیڈ کی گنتی کی جائے اور ووٹرس کو اپنی وی وی پیڈ پرچی کو بیلٹ باکس پر خود گرانے کی اجازت دے کر یہ ٹھیک سے ویریفکیشن کرنے کا موقع دیا جائے ۔بیلٹ باکس میں ڈالا گیا اس کا ووٹ بھی گنا جاتا ہے ۔عرضی گزاروں نے مانگ کی ہے کہ یہ ای ای سی آئی ضروری طور سے سبھی وی وی پیڈ پرچیوں کی گنتی کرکے وی وی پیڈ مشین کے ذریعے سے ووٹر کے زریعے درج کئے گئے ووٹوں کے ساتھ ای وی ایم میں گنتی کو ویریفائی کرتا ہے ۔چناو¿ کمیشن کی جانب سے اگست 2023 کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور وی وی پی اے ٹی پر دستی کے طور پر گائڈ لائنس نمبر 14.7 (M) کو منسوخ کر دیا جانا چاہیے ۔یہ وی وی پیڈ پرچیوں کے صرف ڈیجیٹل ویریفکیشن کی اجازت دیتا ہے جس کے نتیجے میں سبھی وی وی پیڈ پرچیوں کی گنتی میں نامناسب دیری ہوتی ہے ۔3 ۔ یہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ووٹر کی وی وی پیڈ کے ذریعے نکلی وی وی پیڈ پرچی کو بیلٹ پیڈ میں ڈالنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ یہ یقینی کیا جاسکے کہ ووٹر کا ووٹ ریکڈ کے مطابق گنا گیا ۔آزادانہ اور منصفانہ چناو¿ کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔کہ چناو¿ میں شفافیت لائی جائے اور ووٹروں میں اعتماد پیدا کیا جاسکے کہ ان کے ووٹ اسی امیدوار یا پارٹی کو گیا ہے جسے اس نے ووٹ دیا ہے ۔ای وی ایم سے جنتا کا بھروسہ اٹھ چکا ہے ۔دیکھیں چناو¿ کمیشن کیا جواب دیتا ہے اور سپریم کورٹ آگے کی کیا کاروائی کرتا ہے ۔ (انل نریندر)

04 اپریل 2024

چناو ¿ میں ٹی وی - فلمی ستاروں کی بھرمار!

چناو¿ کا بگل بج چکا ہے اور تقریباً ہر بڑی پارٹی کی طرف سے ٹی وی فلمی ستاروں کو چناوی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ۔دیش میں سیاست اور فلمی ستاروں کا سنگم کافی پرانہ ہے ۔اس سے پارٹیوں کو جنتا کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے ایک جانا پہچانا چہرہ مل جاتا ہے جبکہ فلموں میں یا ٹی وی پر اپنی ایک پاری کھیل چکے ایکٹروں یا اداکاروں کو سیاست میں اپنی قسمت آزمانے کا ایک فائدہ مند اسٹیج ہے ۔راجیش کھنہ ،ونود کھنہ ،جے پردہ ، شترو گھن سنہا ، شیکھر سمن اور من من سین اور ساو¿تھ انڈیا میں ایم جی رام چندرن ، جے للتا ، اینٹی راما راو¿ اور چرنجیو اور پون کلیان جیسی کئی مثالیں ہیں ۔ان میں سے ایم جی رام چندرن ،جے للتا ،تملناڈو تو اینٹی راما راو¿ لمبے عرصے تک آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ بھی رہے ۔عام چناو¿ 2024 کو لیکر ابھی تک امیدواروں کی جو فہرستیں مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے جاری ہوئی ہیں ان کے مطابق ہما مالنی ،روی کشن ، منوج تیواری ، کنگنا رناوت ،دنیش لال یادو ،نرہوا ،ستروگھن سنہا جیسے پرانے سیاست دانوں اور معاون اداکاروں یا اداکاراو¿ں کے علاوہ ارون گوئل جیسے مشہور اسٹار بھی ہیں جو چناو¿ میں اپنی قسمت آزمائیں گے ۔ادھر اداکاروں کا سیاست میںآنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن رامائن اور مہابھارت دو ایسے ٹی وی سیریل ہیں جن کے زیادہ تر اہم اداکار پارلیمنٹ تک پہونچے ۔رامائن میں شری رام کا رول نبھانے والے ارون گوول اس چناو¿ میں میرٹھ سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں ۔ارون گوئل پہلے سے رامائن کے کئی کردار سیاسی پاری کھیل چکے ہیں ۔مہا بھارت کے کرشنا یدھشٹر ،دروپدی بھی چناو¿ کی کشتی میں سوار ہو چکے ہیں ۔ہنومان (دارا سنگھ ) بھی راجیہ سبھا ممبر ہے ہیں ۔مہا بھارت میں ہی دروپدی کا کردار نبھانے والی روپا گانگولی راجیہ سبھا میں نامزد ایم پی رہی ہیں ۔مغربی بنگال کے 2016 کے اسمبلی چناو¿ سے پہلے وہ بھاجپا میں شامل ہوئی تھیں۔چناو¿ کے بعد اسی سال بھاجپا نے انہیں راجیہ سبھا میں بھیج دیا ۔رامائن کے راون یعنی اروند ترویدی نے 1991 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر چناو¿ لڑاتھا ۔وہ گجرات کے سامبر کانٹھا سیٹ سے چناو¿ جیتے تھے ۔2002 میں وہ سنسر بورڈ کے ایکٹو چیئرمین مقرر کئے گئے تھے ۔مہابھارت میں راجہ بھرت کا رول نبھانے والے اداکار راج ببر بی بھی کانگریس کے صدر رہ چکے ہیں ۔سماج وادی کے ٹکٹ پر تین بار وہ چناو¿ جیت کر لوک سبھا پہونچ چکے ہیں ۔وہیں رامائن کی سیتا ماتا یعنی دیپیکا چتھالیہ سال 1991 میں بھاجپا کے ٹکٹ پر لوک سبھا چناو¿ جیت کر پارلیمنٹ پہونچی تھی ۔انہوں نے گجرات کی ودوڈرا سیٹ سے جیت حاصل کی تھی ۔سماجوادی پارٹی نے جیا بچن کو ایک بار پھر راجیہ سبھا بھیج دیا ہے ۔ان کے شوہر امیتابھ بچن الہ آباد کے ہوم متی نندن بہوگنا کو ہرا کر لوک سبھا پہونچے تھے ۔بعد میں انہوں نے لوک سبھا سے استعفیٰ د ے دیا تھا ۔گرداس پور سے سنی دیول لوک سبھا کے ایم پی رہ چکے ہیں ۔اس مرتبہ انہوں نے خود چناو¿ لڑنے سے منع کر دیا ہے ۔ترنمول کانگریس سے 2019 میں ممی چکرورتی اور نصرت جہاں جیسی بنگالی اداکارائیں لوک سبھا کی ممبر رہ چکی ہیں ۔ترنمول کانگریس کی طرف سے اعلان کر دہ 42 امیدوارون میں 6 فلمی اسٹار ہیں ۔دیکھیں 2024 چناو¿ میں یہ کیا گل کھلاتے ہیں ۔ (انل نریندر)

نوٹ بندی - کالا دھن کیسے ختم ہوا؟

سنیچر کو حیدر آباد میں نالسر یونیورسٹی آف لاءمیں منعقدہ عدلیہ اور آئین سمپوزیم کے پانچویں ایڈیشن کی افتتاحی سیشن میں اپنی اہم تقریر میں جسٹس ناگرتنا نے جنہوں نے پچھلے سال 2 جنوری کے فیصلے میں نوٹ بندی کی مخالفت کی تھی نے پوچھا کہ جب کاروائی کے دوران 98 فیصدی کرنسی ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے پاس واپس آگئی تو کالا دھن کیسے ختم ہوا ؟ جسٹس رتنا نے اپنی تقریر میںنوٹ بندی معاملے میں اپنے 2023 کے فیصلے کے بارے میں بات کی جب مرکز کے نوٹ بندی قدم کی مخالفت کرنے کے لئے عدم رضامندی جتائی تھی تب سپریم کورٹ نے 41 کی اکثریتی فیصلے سے نوٹ بندی پر مرکزی حکومت کے 2016 کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا ۔جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ وہ نوٹ بندی کے معاملے کی سماعت کرنے والی بنچ کا حصہ بن کرخوش ہیں ۔اس خصوصی معاملے میں اپنی نا اتفاقی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 2016 میں جب نوٹ بندی ہوئی تھی تب 86 فیصدی کرنسی 500/1000 کے نوٹ تھے ۔انہوں نے کہا 98 فیصدی کرنسی واپس آگئی تو ہم بلیک منی انسداد (نوٹ بندی ) کے نشانہ میں کہاں ہیں ؟ سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ انہوں نے اس وقت سوچا تھا کہ نوٹ بندی بلیک منی کو وائٹ میں بدلنے کا ایک اچھا طریقہ تھا ۔انہوں نے کہا کیوں کہ 98 فیصدی کرنسی واپس آگئی ۔۔۔۔میں نے اس وقت سوچا کہ یہ بلیک منی کو وائٹ بنانے کا ایک اچھا طریقہ تھا ۔اس کے بعد انکم ٹیکس کاروائی کے سلسلے میں کیا ہوا ہمیں نہیں پتہ اس لئے عام آدمی کی بدحالی نے مجھے عقیدت میں بے چین کر دیا اور مجھے غیر متفق ہونا پڑا۔ جسٹس ناگ رتنا نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح سے نوٹ بندی کی گئی ، وہ صحیح نہیں تھی ۔انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی میں فیصلہ لینے کی کوئی کاروائی نہیں تھی جو قانون کے مطابق تھی ۔انہوں نے یہ کہتے ہوئے تشریح دی کہ جس جلدبازی سے یہ کی گئی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت کے وزیر خزانہ کو بھی اس کے بارے میں پتہ نہیں تھا ۔جسٹس ناگ رتنا نے مہاراشٹر اسمبلی میں اٹھے معاملے کابھی ذکر کیا ۔انہوں نے گورنر کے روک کا بھی ایک اور مثال بتائی جہاں آئینی عدالتوں کے سامنے غور کیلئے لانا آئین کے تحت ایک ہیلدی ٹرینڈ نہیں ہے ۔مجھے لگتا ہے مجھے اپیل کرنی چاہیے کہ گورنر کا عہدہ حالانکہ اسے گورنر کا عہدہ کہا جاتا ہے اور گورنرکا عہدہ ایک سنجیدہ آئینی عہدہ ہے اور گورنروں کو آئین کے تحت ہی اپنے فرائض کی تعمیل اور آئین کے مطابق کرنی چاہیے تاکہ اس طرح کی مقدمہ بازی سے بچا جا سکے ۔عدالتیں منعقدہ ہونے سے پہلے جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ گورنروں کو کئی کام کرنے یا نا کرنے کے لئے کہا جا نا کافی شرمناک ہے ۔انہوں نے کہا اس لئے اب سمجھ میں آگیا کہ جب آئین کے مطابق اپنے فرائض کی تعمیل کرنے کے لئے کہا جائے گا ۔جسٹس ناگ رتنا کا یہ ریمارکس بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی رہنمائی والی تین نفری جج صاحبان کی بنچ کے ذریعے ڈی ایم کے نیتا کو ریاستی کیب نیٹ میں وزیر کی شکل میں پھر سے شامل کرنے کے انکار پر تملناڈو کے گورنر آر این روی کے رویہ پر سنگین تشویش ظاہر کرنے کے کچھ دیر کے بعد آئے ۔ (انل نریندر)

02 اپریل 2024

مختار انصاری کی زندگی کا آخری دن !

جمعرات کی رات اتر پردیش کے دبنگ لیڈر مختار انصاری باندہ کے میڈیکل کالج میں بیہوشی کی حالت میں پہنچائے گئے تھے اور اس کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہی ان کی موت ہو گئی ۔لیکن پچھلے کچھ دنوں سے باندہ جیل اور اسپتال سے مختار انصاری اور ان کی بگڑتی طبیعت کے اشارے مل رہے تھے ۔ا ن کا خاندان بھی یہ الزام لگا رہا تھا کہ انہیں کم اثر کرنے والی دبا کے بدلے میں زہر دے کر مارنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اب اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار نے معاملے میں مجسٹریٹ جانچ بٹھا دی ہے ۔ایک مہینے میں اس کو رپورٹ دینے کو کہا ہے ۔باندہ میں مختار انصاری کی موت کے بعد ان کا چہرہ دیکھ کر اسپتال سے باہر آئے ان کے چھوٹے بیٹے عمر انصاری کہتے تھے کہ پاپا نے ہمیں خود بتایا ہے کہ انہیں پائیزن دیا جارہا ہے لیکن کہا سنی گئی ؟ اب مختار انصاری کی موت کے بعد ان کے بیٹے عمر کے ساتھ جیل سے بات چیت کا ایک آڈیو وائر ل ہو ا ہے جس میں مختار کی آواز کافی کمزور لگ رہی تھی ۔وہ اپنے بیٹے عمر سے کہتے ہیں (18 مارچ کے بعد سے روزہ نہیں ہوا ہے ) عمر ان سے کہتا ہے کہ انہوں نے میڈیا کی رپورٹ میں مختار کو اسپتال جاتے دیکھا جس میں مختار کافی کمزور نظر آرہے تھے ۔مختار کو ہمت دیتے ہوئے بیٹے عمر کہتے ہیں کہ وہ عدالتوں سے ان سے ملنے کی اجازت لینے کی کوشش میں لگے ہیں ۔اپنی کمزور ی بتاتے ہوئے مختار انصاری کہتے ہیں کہ وہ بیٹھ نہیں پار ہے ہیں ۔جواب میں عمر کہتے ہیں کہ ہم دیکھ رہے ہیں پاپا زہر کا سب اثر ہے ۔مختار آگے کہتے ہیں اللہ اگر زندہ رکھے ہوگا تو روح رہے گی لیکن باڈی تو چلی جار ہی ہے ۔ابھی وہیں سے آئے ہیں اور کھڑے بھی نہیں ہو سکتے ہیں ۔26 مارچ کو یعنی منگل کی صبح عمر انصاری نے مقامی میڈیا کو پولیس سے ملا ایک ریڈیو پیغام بھیجا جس میں لکھا تھا کہ مختار انصاری کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں باندہ میڈیکل کالج کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے ۔مختار کے بھائی افضال انصاری جب ان سے باندہ میڈیکل کالج کے آئی سی یو سے مل کر باہر نکلے تو انہوں نے میڈیا سے کہا کہ انہیں مختار سے پانچ منٹ ملنے کا موقع ملا اور وہ ہوش میں تھے ۔انہوں نے کہا میرے بھائی مختار کا خیال ہے اور کہنا ہے کہ انہیں کھانے میں کوئی زہریلی چیز دی گئی ہے چالیس دن پہلے بھی یہی ہو چکا ہے ۔ادھر مختار انصاری کی آڈپسی رپورٹ میں موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتائی گئی ہے ۔اس خبر کو ہندوستان ٹائمس نے اہمیت سے چھانپا ہے ۔اخبار کا کہنا ہے آٹوپسی رپورٹ میں زہر دینے جیسے کوئی بات سامنے نہٰں آئی ہے ۔اخبار کے مطابق رانی درگا بتی میڈیکل کالج میں ڈاکٹروں ایک پینل نے آٹوپسی کی ہے ۔یہ وہی ہسپتال ہے جہاں مختار انصاری نے آخری سانس لی تھی ۔مختار انصاری جرائم کی دنیا میں جتنا ہی خونخوار تھا لیکن وہ بہت سے لوگوں کی نظروں میں اپنی ساکھ مسیحا والی گھڑنے کی کوشش کرتا تھا ۔سال 1996 میں جب وہ پہلی بار ممبر اسمبلی بنا تو ایک مسلم پریوار اس کے پاس آیا اور بیٹی کی شادی کیلئے مدد مانگی ۔مختار نے بھروسہ دیا اگلے ہی دن لڑکے والے بنا جہیز کے شادی کے لئے راضی ہو گئے ۔اتنا ہی نہیں شادی کے ایک دن پہلے سامان لیکر مختار خود لڑکی والوں کے گھر پہونچا ۔اسی طرح ایک ممبئی میں مو¿ کے ایک لڑکے کی گرفتاری ہوئی ۔خاندان نے اس سے درخواست کی مختار اسے چھڑا کر لایا ۔مختار مدد اپنی سیاست فلمی اسٹائل میں کرتا تھا ۔ایک ٹھیکیدار سے جھگڑا ہوا ۔گولی چلا دی جس میں ایک مزدور مارا گیا ۔مختار مزدور کے گھر کا ہتیشی بن گیا ۔کئی برسوں تک وہ بی ایس پی سپریمو مایا وتی تھی ۔مختار انصاری کو غریبوں کا مسیحا مانتی تھیں ۔مایاوتی مختار کی جرائم والی ساکھ پر بھی پردہ ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا پریوار مجاہد آزادی کے خاندان سے ہے ۔اور مختار غریبوں کے مسیحا ہیں ۔ (انل نریندر)

جرمنی ، امریکہ کے بعد اقوام متحدہ !

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی گرفتاری پر جرمنی اور امریکہ کے بیانوں کے بعد اب بین الاقوامی ادارے اقوام متحدہ نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کر دیا ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونی گوٹریس کے ترجمان اسٹیفن دجارک سے اروند کیجریوال کی گرفتاری اور کانگریس پارٹی کے بینک کھاتوں کو فریز کرنے کو لیکر پوچھا گیا سوال کے جواب میں انٹونی گوٹریس کے ترجمان نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرے کسی بھی دیش کی طرح جہاں چناو¿ ہو رہا ہے بھارت میں بھی سیاسی اور شہری حقوق کے ساتھ ساتھ سبھی لوگوں کے مفادات کی حفاظت ہونی چاہیے ۔ترجمان نے کہا دنیا کو امید ہے کہ ہر کوئی آزادانہ اور منصفانہ ماحول میں بھارت کے پارلیمانی چناو¿ میں ووٹ کر سکے گا ۔ای ڈی نے اروند کیجریوال کو دہلی شراب پالیسی میں ہوئے مبینہ گھوٹالے سے جڑے کیس میں 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا ۔بھارت کے سابق خارجہ سیکریٹری اور ترکی اور فرانس روس سمیت کئی دیشوں کے سفیرر ہے کنول سبل نے اروند کیجریوال کی گرفتاری سے متعلق اقوام متحدہ کے تبصرے کو ایک منظم قرار دیا ہے ۔شوشل میڈیا ایکس پر انہوں نے لکھا کہ کیا کیجریوال کو مل رہی یہ بیرونی حفاظت کچھ کہتی ہے ؟ اقوام متحدہ میں ممبر ملکوں کے اندرونی معاملوں میں مداخلت پر روک لگاتا ہے ۔لیکن یو این ایس جی کا آفس خود اس کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔اس سے پہلے امریکہ کیجریوال کی گرفتاری اور چناو¿ سے پہلے اپوزیشن پارٹی کانگریس کے بینک کھاتوں کو فریز کرنے کے الزامات میں دو بار رائے زنی کر چکا ہے ۔امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو کہا تھا کہ امریکہ اروند کیجریوال کی گرفتاری سے جڑی رپورٹوں پر باریکی سے نظر رکھ رہا ہے اور وہ منصفانہ قانونی کاروائی کو مضبوط کرنے کو حق میں کھڑا ہے ۔امریکی وزارت خارجہ کو غیر نامناسب قرار دیتے ہوئے بھارت نے اس کا سخت اعتراض جتایا اور بھارت میں موجود امریکی نگراں ڈپٹی چیف آف مشن گلوریا ۔باربینا کو طلب کیا تھا ۔ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا کل بھارت نے امریکی سفارتخانہ کے ایک سینئر افسر کو اپنے سخت اعتراض اور احتجاج درج کرایا تھا ۔بھارت نے قانونی عمل قانون کی حکمرانی سے چلتا ہے ۔امریکی سفیر کو طلب کئے جانے کے بعد پھر سے کیجریوال اور کانگریس پارٹی کے بینک کھاتوں کو لیکر امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان سے سوال پوچھا گیا تھا اس کے جواب میں میتھو ویلر نے کہا تھا کہ ہم کانگریس پارٹی کے الزامات سے بھی واقف ہیں ۔اور انکم ٹیکس محکمہ نے ان کے کچھ بینک کھاتوں کو فریز کر دیا ہے جس سے آنے والے چناو¿ میں چناو¿ پرچار ان کے لئے ایک چیلنج بھرا ہو گیا ہے ۔ہم ان میں سے ہر مدے کے لئے منصفانہ شفاف اور وقت پر قانونی کاروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔پچھلے ہفتے ہی سونیا گاندھی سمیت کانگریس کے سینئر لیڈروں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ محض 14 لاکھ روپے کے ٹیکس بقایا کے معاملے میں پارٹی کے 285 کروڑ روپے کا فنڈ روک دیا گیا ۔اس سے پہلے جرمنی نے بھی اروند کیجریوال کی گرفتاری پر منصفانہ سماعت کی اپیل کی تھی ۔کیجریوال کی گرفتاری پر بھی جرمنی کے محکمہ خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا تھا کہ چناو¿ سے پہلے بھارت میں اپوزیشن کے ایک بڑے نیتا اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی گرفتاری کو وہ کس نظریہ سے دیکھتے ہیں؟ ترجمان نے کہا ہم نے اس معاملے کی جانکاری لی ہے ۔بھارت ایک جمہوری ملک ہے ۔ہم مانتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ عدلیہ کی صفداری او ربنیادی جمہوری تقاضوں سے وابسطہ پیمانوں کو لاگو کیا جائے گا ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...