Translater
14 جولائی 2012
چدمبرم نے درمیانے طبقے کا مذاق اڑایا
اپنے سینئر مرکزی وزیر سلمان خورشید کے متنازعہ بیان سے ابھی کانگریس پوری طرح سنبھلی نہیں تھی کہ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک متنازعہ گولہ داغ دیا۔ منگل کو انہوں نے کہا کہ درمیانے طبقے کی ذہنیت ایسی بن گئی ہے کہ یہ لوگ آئس کریم اور پانی پر تو 15روپے خرچ کردیتے ہیں لیکن چاول گیہوں کی قیمت میں ایک روپے کے اضافے کو برداشت نہیں کرپاتے۔ چدمبرم نے مہنگائی پر سرکار کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ سرکار ہرچیز کو درمیانی کلاس کے نظریئے سے نہیں دیکھ سکتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب انہوں نے بینگلورو میں یہ بیان دیا تو اس وقت ان کی بغل میں سلمان خورشید بھی بیٹھے تھے۔ لگتا ہے دونوں نے جگل بندی رہی ہو کے پارٹی اور سرکار کو تنازعات میں گھسیٹا جارہا ہے۔ وزیر داخلہ کے اس بیان پر ہنگامہ ہونا فطری تھا کیونکہ معاملہ مہنگائی کی حمایت کا ہے اور عام آدمی سے سیدھا وابستہ ہے۔ اسی لئے پارٹی اور سرکار کو اس کی صفائی دینا مشکل ہے۔ پارٹی لیڈر شپ کے دباؤ میں سلمان خورشید کی طرح چدمبرم نے بھی صفائی تودے دی ہے لیکن تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ یہ بیان اتنا گمراہ کن بھی ہے کہ اس پر سماج کا کوئی بھی طبقہ حمایت نہیں کرسکتا۔ چدمبرم صاحب آپ کو کیا معلوم ہے کہ درمیانی طبقہ آج کل کن حالات سے گذر رہا ہے؟ بیشک حکومت کے اعدادو شمار دہلی میں فی آدمی 1 لاکھ 76 ہزار روپے سالانہ یعنی یومیہ 482 روپے ہے لیکن اس گلابی تصویر کے پیچھے سچائی یہ ہے کہ ہر ہفتے ایک شخص دیش کی راجدھانی میں بھوک یا غریبی سے دم توڑ رہا ہے۔ دہلی کو بین الاقوامی شہر بنانے کا دعوی کرنے والی کانگریس کی ریاستی حکومت 14 سال کے عہد میں 737 لوگ یا غریبی کے سبب بھکمری کا شکار ہیں۔ ان میں 170 موتیں محض بھوک سے ہوئی ہیں۔
یہ انکشاف ہوا ہے اطلاعات حق قانون کے تحت مانگے گئے ایک جواب سے اور جہاں تک مہنگائی کا سوال ہے تو چدمبرم صاحب پچھلے دس دن کے دوران آلو پیاز سے لیکر ہری سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں۔ یہ قیمتیں پچھلے دس دنوں میں دوگنا سے زیادہ بڑھی ہیں اور زیادہ تر سبزیوں کے دام کم بارش ہونے کے سبب بڑھے ہیں۔ ابھی تو سروس ٹیکس کا اثر دکھائی دینا باقی ہے۔ کچھ ہی دن ہوئے حکومت کی طرف سے بیان آیا تھا کہ شہروں میں 88.65 روپے کمانے والا غریب شخص نہیں ہے۔
درمیانے طبقے کا مذاق بنادیا ہے اس حکومت ہے۔ بے عزتی پر بے عزتی کرنے پر تلے ہوئے ہیں یہ لوگ۔ خود کا حال یہ ہے کہ اربوں روپوں کے گھوٹالے کو شیر مادر سمجھ کر پردہ ڈال رہے ہیں اور جنتا کی آئس کریم پر رونا رو رہے ہیں۔ یہ سرکار مہنگائی پر قابو نہیں پارہی ہے نہ بے روزگاری پر ، نہ غریبی پر اور نہ صنعتی ترقی پر اور بات کررہے ہیں آئس کریم کی۔ اب تو دیش کے صنعت کار بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اس سرکار میں نہ تو کوئی لیڈر شپ ہے اور نہ ہی سمت اور نہ ہی قوت ارادی۔ ایسے غیر سنجیدہ شخص کو وزیر مالیات بنانے کی کوشش حکمرانی کے منہ پر طمانچہ ہوگا۔
(انل نریندر)
رستم ہنددارا سنگھ رام کے دھام چلے گئے
زندگی اور موت سے کئی دنوں تک لڑنے کے بعد آخر کار رستم ہند دارا سنگھ نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ 12 جولائی کی صبح ساڑھے سات بجے وہ موت سے ہار گئے۔ دارا سنگھ نے آخری سانس اپنے گھر میں اپنوں کے درمیان لی تھی۔ طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں پانچ دن پہلے 7 جولائی کو ممبئی کے کوکیلا بین ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ دارا سنگھ جو کہ اپنے پیشہ وارانہ کیریئر میں کبھی کشتی نہیں ہارے تھے خود کو زندہ دل رکھے ہوئے تھے۔یہ اندازہ شاید نہ ہو کہ جنتا ان سے کتنا پیار کرتی ہے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ممبئی سے کمرشیل شہر میں انہیں آخری وداعی دینے کے لئے ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔ اندھیری کے جوہو میں واقع شمشان گھاٹ اور اس کے باہر لوگوں کا ہجوم دکھائی دے رہا تھا۔ دارا سنگھ کے فیملی ڈاکٹر آر کے اگروال نے بتایا کہ دارا سنگھ کی خواہش تھی کہ وہ آخری وقت میں اپنے گھر میں ہی رہیں اور آخری وقت پر دارا سنگھ کا پورا خاندان ان کے پاس موجود تھا۔ ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔
پورے پانچ دن کافی مشکل میں رہنے کے باوجود دارا سنگھ کے چہرے پر ذرا بھی تکلیف کی چھایا نہیں دکھائی دی۔ مسلسل ان کے ساتھ بنے رہے ان کے اداکار بیٹے بیندو دارا سنگھ نے بتایا، پاپا کبھی بھی درد سے تڑپتے نہیں تھے۔ ہندی سنیما کے پہلے ایکشن اسٹار مانے جانے والے دارا سنگھ نے 60 کی دہائی میں بالی ووڈ میں راج کیا اور جوبلی سے کمار ٹاکیس سے لیکر ایکسلسیئر دہلی کے ہالوں میں دارا سنگھ فلموں میں دکھائی دیتے تھے، سیٹیاں بجتی تھیں تالیاں بجتی تھیں۔ دارا سنگھ اور ممتا کی جوڑی کے ایک دوسرے کے الٹ انداز کو بھی خوب سراہا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے برسوں پہلے جب ایک بار دہلی میں فری اسٹائل کشتی کا ایک پروگرام تھا تو ہمارے والد سورگیہ کے نریندر نے دارا سنگھ اور کچھ پہلوانوں کو ہمارے گھر ٹالسٹائے مارگ پر چائے پر بلایا تھا۔
دارا سنگھ، ٹائیگر جوگندر سنگھ اور دارا سنگھ کے بھائی رندھاوا آئے تھے۔ میں بہت چھوٹا تھا۔ دارا سنگھ سے ڈر گیا لیکن پتا جی نے میرا دارا سنگھ سے ہاتھ ملوایا تھا۔ یہ کتنی خوشی کی بات تھی میں اس کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ اس وقت دارا سنگھ کا دور تھا۔ انہوں نے بھارت میں کشتیوں کو یہ نئی زندگی دی۔ ان کے پردے پر آنے سے نوجوانوں میں کشتی کا جذبہ بڑھا۔ کشتی کو ایک نیا سنمان ملا۔
پہلوانوں کی ایک نئی پہچان بنی۔ دارا سنگھ اور چنگی رام دو ایسے نام تھے جن کی وجہ سے آج بھارت کے پہلوان اتنے مقبول ہوئے۔ دارا سنگھ کے فروغ کی وجہ سے ہی آج ہم لندن اولمپکس میں کشتی میں میڈل لانے کی امید کررہے ہیں۔ دارا سنگھ کے رامائن سیریل میں ہنومان کے کردار کو کوئی نہیں بھول سکتا۔صدیوں تک دارا سنگھ کو اس کردار کے لئے یاد رکھا جائے گا۔ بھارت کی اس مہان آتما کو ہم اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ان کے پریوار کو اس دکھ کی گھڑی میں ہمت دے۔
(انل نریندر)
13 جولائی 2012
آخر لیئنڈر پیس سے سب کو اتنی نفرت کیوں ہے؟
میں اکثر سوچتا تھا کہ آخر ٹینس چمپئن لینڈر پیس کے ساتھ اس کے کئی ساتھی کیوں نہیں کھیلنا چاہتے؟ آخر وجہ کیا ہے کہ مہیش بھوپتی، ثانیہ مرزا، روہن بوپنا تینوں نے لینڈر پیس کے ساتھ کھیلنے سے منع کردیا ؟ اتنا فاصلہ کیسے آگیا۔ لینڈر پیس اور مہیش بھوپتی ٹینس شائقین کے لئے دلچسپی کا مرکز تھے۔ ایک وقت کھیلنا ،ایک ساتھ کھانا کھانا اور ساتھ ساتھ رہنا سب سے گہرے دوست بنے اب سب سے کٹر دشمن ہیں۔12 سال کے بعد اس جوڑی میں دراڑ پڑ گئی ہے۔ دونوں کے قریبی دوست بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ ہے پیسہ، پوزیشن، شخصیت، خواتین اور کھیل کی سیاست ۔ بتایا جاتا ہے کہ پیس اور بھوپتی کا سارا انتظام لینڈر پیس کے والد لیس پیس دیکھا کرتے تھے۔مہیش کا ماننا ہے کہ وہ لینڈر کو زیادہ پیسہ اور بہتر اسپانسر شپ، اشتہارات ٹھیکہ اور پبلسٹی دلا رہے تھے تب مہیش نے اپنی اسپورٹس مینجمنٹ کمپنی گلوبل اسپورٹس بنائی ۔ اب یہ کمپنی مہیش کے علاوہ روہن بوپنا ،ثانیہ مرزا، وشنو وردھان کا بھی کام دیکھتی ہے۔ 1994ء میں لینڈر اور بھوپتی کی پارٹنر شپ شروع ہوئی۔1999ء میں یہ شباب پر تھی۔ اس سال یہ جوڑی چاروں گرینڈ سلیم کے فائنل میں پہنچی۔ دو جیتے بھی۔ پیس سینئر تھے تو اس لئے سہرہ بھی انہیں کو زیادہ مل رہا تھا۔ اس سے دونوں کے درمیان ٹکراؤ بڑھنے لگا۔ 2010ء میں کیریئر گرینڈ سلیم پورا کرنے کے لئے دونوں پھر ایک ساتھ آئے لیکن فائنل میں ہار گئے۔ دونوں کی شخصیت میں بھی فرق ہے جہاں لینڈر پیس غصے والے ہیں وہی مہندر بھوپتی نرم مزاج کے ہیں۔ کھیل کے میدان میں حالانکہ دونوں ہی جوشیلے ہیں۔ لینڈرمیڈیا سے دوری بنائے رکھتے ہیں جبکہ مہیش بھوپتی میڈیا کے لئے ہر وقت میسر ہیں اس لئے میڈیا میں لینڈر کا پہلو کم ہی آتا ہے۔
بھوپتی کہتے ہیں کے پیس بہت مفاد پرست اور ڈکٹیٹر ہیں ان کی بات ان سے شروع ہوتی ہے اور انہیں پر ختم ہوجاتی ہے۔ بوپنا اور بھوپتی کا الزام ہے کہ ٹینس ایسوسی ایشن کو ساتھ لیکر پیس منمانی کرتے ہیں جسے چاہے ڈیوس کپ ٹیم میں لیتے ہیں۔ بھوپتی کا یہ بھی کہنا ہے پیس انہیں ہندوستانی ٹیم سے باہر کروانے پر آمادہ تھے۔ انہیں کے دباؤ میں ان کی جگہ یو کی مابندی کو ٹیم میں جگہ ملی۔ بھوپتی کو بوپنا، ثانیہ جیسے کھلاڑیوں کی حمایت حاصل ہے۔ روہن بوپنا نے الزام لگایا کہ اس سال مارچ میں ازبیکستان میں ہوئے ڈیوس کپ کے ڈبلس میچ میں ملی ہار کے بعد لینڈر نے مجھ سے گالی گلوچ تک کی تھی۔ لینڈر اور بھوپتی میں اب ٹکراؤ بڑھ گیا ہے انہیں اب دیش کے وقار کی بھی فکر نہیں ہے۔ لندن اولمپکس میں دونوں ساتھ ساتھ کھیلنے سے منع کررہے ہیں۔ لینڈر کے ساتھ تو ثانیہ مرزا اور روہن بوپنا بھی تیار نہیں۔ اس اہم ٹکراؤ میں نقصان بھارت کا ہوگا۔ اگر یہ معاملہ سلجھا نہیں تو لندن اولمپک میں یقینی طور پر ملنے والا ایک میڈل ہاتھ سے پھسل سکتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں صرف اولمپک کے لئے ہی صحیح یہ دونوں چمپئن دیش کی عزت کے خاطر ڈبلس کھیل لیں اور دیش کو ایک میڈل دلوادیں۔ بیشک اس کے بعد اپنے راستے الگ کرلیں۔
(انل نریندر)
سماجوادی پارٹی کا مشن :وزیر اعظم ملائم سنگھ
سماجوادی پارٹی کا اب اگلا مشن مرکز میں سرکار بنانے کا ہے اور شری ملائم سنگھ یادو کو وزیر اعظم بنوانا۔ اس مشن پر اب پارٹی لگ ہی گئی ہے۔ مسٹر ملائم سنگھ کئی بار کہہ چکے ہیں اگلے لوک سبھا چناؤ کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔ دو دن پہلے بھی انہوں نے یہ بات دوہرائی تھی کہ پارٹی نیتا اور ورکر آنے والے لوک سبھا چناؤ کے لئے کمر کس لیں کیونکہ چناؤ وقت سے پہلے 2013ء میں ہوسکتے ہیں۔ لوک سبھا چناؤ کی تیاریوں کو لیکر پارٹی دفتر (لکھنؤ) میں بلائی گئی سینئر لیڈروں کی میٹنگ میں ملائم نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے چناؤ مقررہ وقت 2014ء سے پہلے ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اکیلے ملائم سنگھ ہی نہیں بلکہ سیاسی مبصرین کا بھی یہ خیال ہے منموہن سنگھ سرکار اب زیادہ دن تک نہیں چلنے والی۔ اب تو پارٹی کے سنکٹ موچک پرنب مکھرجی بھی بچانے کیلئے نہیں ہیں۔ منموہن سنگھ ،سونیا گاندھی سے نہ تو پارٹی سنبھل رہی ہے اور نہ ہی سرکار۔ ملائم سنگھ کو لگتا ہے کہ اسمبلی چناؤ میں جس طرح اکھلیش یادو کو کامیابی ملی ہے اسے دیکھتے ہوئے پارٹی 50 سیٹیں جیت سکتی ہے۔ ملائم نے عام چناؤ کے لئے جتاؤ مشاہدین کا انتخاب بھی شروع کردیا ہے۔ انہوں نے جیتنے والے امیدواروں کی تلاش کیلئے 58مشاہد مقرر کردئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی تاکید کی ہے کوئی بھی ممبر اسمبلی یا وزیر لوک سبھا کے چناؤ میں امیدوار نہیں بنایا جائے گا۔ مرکز میں سپا کو سرکار بنانی ہے اس لئے ٹکٹ اسی کو دیا جائے گا جس کے کامیاب ہونے کا امکان ہو۔ امیدواروں کے انتخاب کے لئے خواہشمند لوگوں سے10 ہزار روپے دے کر درخواست بھرنے کو کہا گیا ہے۔ درخواست جمع کرنے کے بعد مشاہدین سے امیدوار کے بارے میں رپورٹ مانگی جائے گی۔ جس امیدوار کا سروے یقینی جیت مانے گا اسی کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ پارٹی نے اپنی ساری توجہ ان 58 پارلیمانی حلقوں پر مرکوز کردی ہے جہاں سے پارٹی چناؤ ہاری تھی۔ مشاہدین کو 30 جولائی تک اپنی رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے۔ چناؤ کبھی بھی ہوسکتے ہیں اس لئے ساری تیاری اسمبلی چناؤ کی طرز پر وقت سے پہلے شروع کردینے پر زور دیا گیا ہے۔پارٹی کی یہ حکمت عملی رہے گی کہ اکھلیش یادو کی شاندار ساکھ کو لوک سبھاچناؤ میں بھی استعمال کیا جائے۔ سماجوادی پارٹی اکیلی ہی نہیں جو لوک سبھا چناؤ کی تیاریوں میں لگ گئی ہے۔ مایاوتی نے بھی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
حالیہ اسمبلی چناؤ میں پارٹی کی ہار کے بعد بسپا نے تنظیم میں تبدیلی کی غرض سے قدم اٹھانے شروع کردئے ہیں۔ ایک اہم ردو بدل میں یوپی کے پردیش پردھان سوامی پرساد موریہ کو ہٹا کر سابق وزیر اچل راج بھار کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ادھر ایم سی ڈی چناؤ میں بھاری کامیابی کے بعد بھاجپا پردھان نتن گڈکری میں نئی توانائی آگئی ہے وہ بھی مشن لوک سبھا میں لگ گئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ لوک سبھاچناؤمقررہ وقت سے پہلے ہوں گے یا پھر یوپی اے سرکار اپنی میعاد پوری کرے گی اور چناؤ طے میعاد 2014ء میں ہوں گے؟
(انل نریندر)
12 جولائی 2012
بھاجپا کو ملی نئی طاقت۔ کانگریس کو کرارا جھٹکا
اترپردیش میں میونسپل چناؤ حکمراں سماجوادی پارٹی اور بڑی اپوزشین پارٹی بی ایس پی نے نہیں لڑا تھا ایسے میں تیسرے اور چوتھے نمبر کی پارٹی کے درمیان ہوئے مقابلے میں بھاجپا کو ملی شاندار جیت دونوں پارٹیوں کے لئے اچھے برے اشارے ہیں۔ بھاجپا کے لئے اچھا اور کانگریس کے لئے برا۔ پہلے بات کرتے ہیں بھاجپا کی۔ چار ماہ پہلے اترپردیش اسمبلی کا چناؤ ہاری بھاجپا کو اس جیت سے نئی طاقت ملی ہے۔ بھاجپا کی مرکزی لیڈر شپ میونسپل چناؤ نتائج کو لیکر کافی خوش ہے اور نتائج کو 2014ء کے لوک سبھا انتخابات سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔ اترپردیش کے تقریباً سبھی بڑے شہروں میں میونسپل کارپوریشنوں پر بھاجپا نے پھر اپنا قبضہ جما لیا ہے۔
بھاجپا کی جیت کو اس لئے بھی اہم مانا جارہا ہے کیونکہ بھاجپا اور کانگریس دونوں نے ہی چناؤ نشان پر چناؤ لڑا تھا۔ میونسپل چناؤ کے ذریعے بھاجپا نے کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی اور کانگریس کے گڑھ مانے جانے والے امیٹھی علاقے میں بھی اپنا دبدبہ بنا لیا ہے۔ گڈکری کے مشن 2014 میں اترپردیش میں بھاجپا کا کھڑا ہونا ایک بڑی ترجیح ہے۔ اس کی کامیابی کے لئے نتن گڈکری لگاتار تجربے کررہے ہیں۔ وارانسی، لکھنؤ، گورکھپور، جھانسی، مراد آباد، میرٹھ ، آگرہ، علی گڑھ میونسپل چناؤ پر بھاجپا نے قبضہ جما لیا۔ بریلی جیسے ان شہروں میں جہاں بھاجپا اپنا میئر نہیں بنوا سکی وہ وہاں اکثریت میں ہے۔ چار ماہ پہلے فروری میں ہوئے چناؤ میں سماجوادی پارٹی کو ملی بھاری جیت کے بعد بھاجپا پست پڑ گئی تھی۔ اترپردیش میں 80 لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو صرف9 سیٹیں ہی ملی تھیں۔ بھاجپا کی خاص تشویش اس بات کو لیکر تھی کہ شہری علاقوں میں بھی کمل نہیں کھل پایا تھا لیکن میونسپل چناؤ میں شہری علاقوں میں بھاجپا کا پرچم پر لہرایا ہے اور پارٹی ایک خوش آئین اشارہ مان رہی ہے۔ رہی بات کانگریس کی تو اس کے لئے یہ ایک سبق ہے جو ہار سے کوئی سبق نہیں لیتی ہے۔ کانگریس کی پردیش لیڈر شپ اتراکھنڈ کے ضمنی چناؤ میں الجھی رہی۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر سے میونسپل چناؤ میں ملی ہار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ریتا بہوگنا جوشی سے پوچھئے جو کل ہی ستارگنج سے لوٹی ہیں۔ ان کی پریشانی اترپردیش سے زیادہ اتراکھنڈ کی تھی۔ سینئر لیڈر شپ کو بھی اترپردیش کی کوئی فکر نہیں ہے ورنہ ایک بڑے پردیش کو اہل پردھان مل جاتا تو کانگریس کو بھی کوئی نئی سیاسی سمت ملتی۔ قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی وجے بہوگنا ستارگنج سے ضمنی چناؤ لڑ رہے تھے جو جیت گئے ہیں۔ ان کی بہن مدد کے لئے وہاں جمی ہوئی تھیں تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کراری ہار کے بعد بھی کانگریس لیڈر شپ خاص کر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے اترپردیش میں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے کے لئے کچھ بھی تو نہیں کیا۔ میٹنگ پر میٹنگ ہوئی لیکن نتیجہ صفر رہا۔ یہ تب ہے جب 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے لئے اترپردیش کافی اہمیت رکھتا ہے۔ راہل گاندھی کا مشن2014ء میں اترپردیش کی 80 لوک سبھا سیٹیں پارٹی لیڈرشپ کے لئے کتنی ترجیح رکھتی ہیں اس میونسپل چناؤ کی تیاری سے پتا چلتا ہے۔ ایسے تو پورا ہوچکا راہل گاندھی کا مشن2014۔ (انل نریندر)
سلمان خورشید کی لیڈر شپ کو کھری کھری
مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے انڈین ایکسپریس کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کانگریس لیڈر شپ پر سیدھا حملہ بول دیا ہے۔ انہوں نے اس انٹرویو میں کہا کہ پہلے مختصر میں قارئین کو یہ بات بتا دوکہ کانگریس کے یووراج راہل گاندھی کیسیو رول یعنی مختصر کردار نبھا رہے ہیں اور کانگریس بے سمت ہے۔ وزیر اعظم کو لیکر انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اقتصادی چیلنجوں سے لڑ رہی ہے اور بھارت بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہہ دیا کہ راہل گاندھی سرکار میں نمبر دو کی ذمہ داری لینے سے بچ رہے ہیں۔ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مزیدار بار یہ ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے قریبی مانے جانے والے سلمان نے اس انٹرویو میں وزیر اعظم کی بھی جم کر خبر لی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ سرکار کے حالات جس طرح سے بگڑ رہے ہیں انہیں منموہن سنگھ قابو نہیں کرسکتے۔ یوپی اے I- کی سرکار یوپی اے II- سے بہتر تھی۔ کانگریس بے سمت ہوچلی ہے، ضرورت ہے پارٹی میں نئے نظریات کو شامل کیا جائے۔
سلمان خورشید کے اس انٹرویو کے چھپتے ہی کانگریس میں کھلبلی مچ گئی ہے جیسا عام طور پر ہوتا ہے سلمان پر دباؤ ڈالا گیا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ میڈیا نے ان کی باتوں کو توڑ مروڑ کر شائع کیا ہے۔ میرا مطلب یہ تھا ہی نہیں وغیرہ وغیرہ۔ بیشک پارٹی ہائی کمان نے ڈانٹ ڈپٹ کر سلمان خورشید کو صفائی دینے پر مجبور کردیا ہو لیکن سچائی تو یہ ہے کہ کانگریس کے اندر ایک بڑا طبقہ ہے جو خورشید کی باتوں کو کافی حد تک صحیح مانتا ہے۔ کئی لیڈروں کا تو یہاں تک کہنا ہے سلمان اکیلے نیتا نہیں بلکہ ان لوگوں کی آواز ہیں جو یہ مانتے ہیں کانگریس لیڈر شپ اب اپنی لائن کھوتی جارہی ہے۔ سلمان کی باتوں نے اس بحث کو چھیڑ دیا ہے کیا راہل گاندھی کانگریس کی لیڈر شپ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ کیا پھر سے سونیا گاندھی کو لوٹ کر ساری طاقت اپنے ہاتھوں میں لینی ہوگی یا پھر راہل کے متبادل کی شکل میں کانگریس ان کی بہن پرینکا گاندھی ودیرا کی طرف دیکھے؟ دو دن پہلے ہی ٹائم میگزین میں منموہن سنگھ اور کانگریس لیڈر شپ کے لئے جیسی زبان کا استعمال ہوا تھا تقریباً وہی زبان سلمان نے بھی استعمال کی ہے۔ سلمان نے راہل گاندھی کی لیڈر شپ اہلیت اور کانگریس لیڈر شپ پر اس وقت سوال کھڑے کئے ہیں جب حال ہی میں اترپردیش بلدیاتی چناؤ میں اس کاپتا صاف ہوگیا ہے۔ اتنا ہی نہیں جس سماجوادی پارٹی کو حال ہیں میں کانگریس نے اپنی گود میں بٹھایا ہے اسے بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ کانگریس کلچر میں عام طور پر لیڈر شپ پر یوں سیدھا حملہ نہیں کیا جاتا لیکن کانگریس ہی یہ محسوس کرنے لگے کہ ان کی لیڈر شپ انہیں چناؤ نہیں جتا سکتی تو وہ بولنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بہار۔ اترپردیش انتخابات نے یہ تو صاف کردیا کہ راہل گاندھی میں اس کرشمائی لیڈرشپ کی کمی ہے جو اپنے کندھوں پر کانگریس کو جتا سکے۔ اس لئے کانگریسیوں کو اب یہ فکر ستانے لگی ہے کہ با2014ء میں لوک سبھا چناؤ کس کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار میں لوٹیں گے؟
(انل نریندر)
11 جولائی 2012
’ٹائم‘ میگزین کا منموہن سنگھ کو سرٹیفکیٹ
زیادہ دن نہیں ہوئے جب مغربی میڈیا خاص کر امریکی میڈیا ہمارے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی تعریفوں کی پل باندھتے نہیں ٹھکتا تھا۔ آج وہی میڈیا منموہن سنگھ کو ’انڈر اچیور‘ یعنی ناکام وزیر اعظم بتا رہا ہے۔ امریکہ کی نامور ٹائم میگزین نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یہ سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ اس نے اپنے تازہ شمارے میں کہا ہے مسٹر سنگھ ان اصلاحات پر سختی سے آگے بڑھنے کے خواہشمند نہیں لگتے جن سے دیش ایک بار پھر اونچی اقتصادی ترقی کے راستے پر لوٹ سکتا ہے۔ میگزین نے 79 سالہ منموہن سنگھ کی تصویر پر عنوان لکھا ہے’’امید سے کم کامیاب وزیر اعظم ،بھارت کو چاہئے نئی شروعات‘‘۔میگزین میں ’’اے مین ان شیڈو‘‘ عنوان سے شائع مضمون میں سوال کیا گیا ہے کیا وزیر اعظم منموہن سنگھ اپنے کام میں کھرے اترے ہیں؟ رپورٹ کے مطابق اقتصادی ترقی میں سستی، بھاری مالی خسارہ اور مسلسل گرتے روپے کی چنوتی کا سامنا کررہا کانگریس ۔یوپی اے اتحاد خود کو کرپشن اور گھوٹالوں سے گھرا پا رہا ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور ایک کے بعد ایک سامنے آرہے گھوٹالوں سے ووٹروں کا سرکار پر سے بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے میگزین نے کہا تین سال پہلے جو اعتماد ان میں تھا آج وہ ندارد رہے۔ منموہن سنگھ کا وزرا پر کوئی کنٹرول نہیں رہا۔ ٹائم میگزین کے نظریات سے حالانکہ کانگریس شاید متفق نہ ہو لیکن پھر بھی دیش کی تازہ سیاسی صورتحال پر یہ بالکل صحیح تبصرہ ہے۔ یہ ساری باتیں تو ہم بھی کہہ رہے ہیں ، پورا دیش بھی کہہ رہا ہے، تمام اپوزیشن بھی کہہ رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کچھ وقت پہلے اسی ٹائم میگزین میں ایک اور ہندوستانی کو کوور پیج پر چھاپا گیا تھا یہ تھے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی۔ مودی کے بارے میں اسی میگزین نے لمبے چوڑے پل باندھے تھے۔ کہا گیا تھا کہ مودی کی قیادت میں چوطرفہ ترقی ہوئی ہے۔ اقتصادی رفتار اور خوشحالی آئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ وہی ٹائم میگزین منموہن سنگھ کو ناکام بتا رہی ہے۔ ٹائم میگزین کی اس کوور اسٹوری کے بعد مختلف سیاسی پارٹیوں میں ہلچل بڑھی ہے۔بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا وزیر اعظم نے دنیا کو دیش کے بارے میں کرپشن اور کمزور اقتصادیات کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے بڑے کارنامے نہیں بلکہ کرپشن اور خراب انتظامیہ جیسے کارنامے ہی دکھائے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا ڈاکٹر سنگھ کی قیادت میں یوپی اے سرکار نے دیش کو عدم استحکام اور بھائی چارہ، مضبوط اندرونی رشتے اور اقتصادی ترقی اور دنیا میں اہم جگہ دلائی ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے کچھ حاصل نہیں کیا۔ اپنے منفرد اسٹائل میں لالو پرساد یادو نے تبصرہ کیا۔ انا او ر ان کی ٹیم کے ممبر اروند کیجریوال جیسے لوگوں نے ہی امریکی میگزین کو یہ آرٹیکل لکھوایا ہے۔ امریکہ کی اقتصادی حالت ٹھیک نہیں ہے وہ یہ بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ جتناغیر ممالک میں گھومیں ہیں میرا خیال نہیں ان سے پہلے کوئی ہندوستانی وزیراعظم اتنا گھوما ہوگا۔ دیش کے اندر تو منموہن سنگھ کی ساکھ صفر ہے ہی اب بیرونی ممالک میں بھی یہ صفر ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)
اکھلیش کے 100 دنوں نے ملائم راج کی یاد تازہ کردی ہے
اترپردیش کے نوجوان وزیر اعلی اکھلیش یادو کی حکومت نے اپنی میعاد کے 100 دن پورے کرلئے ہیں والد ملائم سنگھ یادو نے بیٹے کو 10 میں سے10 نمبر دئے ہیں لیکن عام جنتا میں اس سرکار کی ساکھ بہت حوصلہ افزا نہیں بن سکی۔ بیشک اس دوران انہوں نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہوں لیکن عام طور پر یوپی کی عوام میں مایوسی ہے۔ عام خیال یہ بن رہا ہے کہ کہیں سماجوادی پارٹی کا اقتدار جو ملائم کے وقت تھا ویسی ہی حکمرانی اکھلیش کی قیادت میں سرکار میں ہورہی ہے۔ 100 دن کے راج میں جرائم بے تحاشہ بڑھے ہیں۔ ان 100 دنوں میں 149 قتل ہوئے ہیں۔ گذشتہ دنوں صدارتی عہدے کے امیدوار پرنب مکھرجی اکھلیش یادو کے گھر کھانے پر گئے تھے۔ وہ صدارتی چناؤ کے لئے ووٹ مانگنے کے لئے تشریف لے گئے تھے اس ضیافت میں سب یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کے دبنگ ممبر اسمبلی مختار انصاری (15 مقدمے) و وجے مشرا (25 مقدمے) بھی وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر شان سے بیٹھے تھے جبکہ جیل میں بند ان دونوں خطرناک لیڈروں کو صرف اسمبلی میں آنے کی اجازت تھی۔ اس واقعے سے واویلا کھڑا ہوگیالیکن یہ صاف اشارہ گیا کہ سپا کا پرانا راج لوٹ آیا ہے۔ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ قتل ،لوٹ مار ، آبروریزی کے معاملے گذشتہ سال کی بہ نسبت ڈیڑھ گنا بڑھے ہیں۔ لیکن یوپی سرکار کے شہری سلامتی وزیر درگا یادو کی دلیل ہے کہ اترپردیش میں بھگوان بھی سرکار بنالیں تو بھی جرائم پر قابو نہیں پاسکتے۔ صوبے کے تقریباً ہر تھانے پر یادو تھانیدار مقرر ہوگیا ہے۔ ہر اہم عہدے پر پہلے یادووں کو رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی عہدہ بچایا کوئی یادو برادری کا افسر نہ ملے تو پھر دوستی ذات کے افسر کو موقعہ ملتا ہے۔ اکھلیش کی جیت کے بعد رد عمل کے طور پر تھوڑی سیاسی بدلے کی وارداتیں ہونا فطری تھا لیکن سپا چھٹ بھیا نیتاؤں کی دبنگئی نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ پچھلے تین مہینوں میں پولیس فورس نے ریاست بھر میں قریب 30 شکایتیں لکھنؤ بھیجی ہیں۔ زیادہ تر معاملے سپا لیڈروں سے متعلق ہیں ان پر کارروائی تو دور الٹے کچھ معاملے میں پولیس افسروں کو ہی راتوں رات لائن حاضر کردیا گیا ہے۔ چناؤ کے وقت یوپی کی عوام کو یہ ڈر ستا رہا تھا کہیں وہی ملائم راج دوبارہ نہ لوٹ آئے اور اسی وجہ سے ملائم سنگھ کو یہ بھی یقین دہانی کرانی پڑی تھی کہ ہم کسی کو نہیں بخشیں گے۔ ووٹروں کو اکھلیش پر زیادہ بھروسہ تھا جو اب آہستہ آہستہ ٹوٹ رہا ہے۔ بھاجپا کے ترجمان وجے پاٹھک کا الزام ہے کہ پچھلے تین مہینے میں بندیل کھنڈ میں 18 کسانوں نے خودکشی کرلی ہے۔ کیا کچھ سپا نیتا جان بوجھ کر سیاست کے تحت اکھلیش کو ناکام ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ اکھلیش سرکار بھی کیبنٹ میں زیادہ وزیر ملائم سنگھ یادو کے پرانے ساتھی ہیں جنہیں اکھلیش بچپن میں چاچا کہا کرتے تھے ۔ لکھنؤ کے سیاسی گلیاروں میں اب یہ کہاوت چل پڑی ہے کہ وزیر اعلی بھتیجے پر چاچا منتری بھاری پڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر شری پال سنگھ یادو جو ان کے سگے چاچا ہیں اور اعظم خاں ایسے سینئر لیڈروں کے سامنے اکھلیش بونے ثابت ہورہے ہیں۔ ملائم سنگھ بھی اس کہاوت سے واقف ہیں اور سارا بوجھ مایاوتی سرکار کے کچھ قریبی ان افسروں پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کے یہ لوگ اکھلیش سرکار کو بدنام کرنے میں لگے ہیں۔ اکھلیش کو اپنے اسٹائل میں تبدیلی لانی ہوگی نہیں تو ان کی بنی ساکھ مٹی میں مل جائے گی۔
(انل نریندر)
10 جولائی 2012
رام سیتو کو قومی وراثت مان کر پروجیکٹ منسوخ کریں
سیتو سمندرم پروجیکٹ کا معاملہ پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں یہ معاملہ آیا۔ مرکزی حکومت نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ایک اعلی سطحی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیتو سمندرم پروجیکٹ کیلئے زمانہ قدیم کے رام سیتو کو چھوڑ کر متبادل راستہ اقتصادی اور حالات کیلئے مناسب نہیں ہے۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے جسٹس ایچ ایل دت اور جسٹس سی کے پرساد کی بنچ کے سامنے کہا مرکزی کیبنٹ کو ابھی نامور ماحولیاتی ماہر آر کے پچوری کی سربراہی والی کمیٹی کے ذریعے تیار رپورٹ پر غور اور فیصلہ کرنا ہے۔ بنچ نے پروجیکٹ کے آگے کی پیش رفت کے بارے میں جانکاری دینے کیلئے سرکار کو 8 ہفتے کا وقت دیا ہے۔ نریمن نے کہا کہ پچوری کمیٹی نے متبادل راستے کے مسئلے پر غور کیا لیکن وہ اس نتیجے پر پہنچی کے وہ اقتصادی اور حالات کے حساب سے موزوں نہیں ہے۔ پروجیکٹ پر عمل سے زمان�ۂ قدیم کا رام سیتو تباہ ہوسکتا ہے۔ سیتو سمندرم پروجیکٹ کے مطابق30 میٹر چوڑا 12 میٹر گہرا اور167 کلو میٹر لمبا چینل بنائے جانے کی تجویز ہے۔ رام سیتو ماحولیات یا کمرشل مسئلہ نہیں ہے یہ ایک عقیدت اور رواج کا سوال ہے۔ کروڑوں ہندوستانی خاص کر ہندوؤں نے ہزاروں برس سے یہ مانا ہے کہ یہ وہ پل ہے جو شری رام نے وانر (بندر فوج) سینا کی مدد سے لنکا کے راجہ راون تک پہنچنے کے لئے بنایا تھا۔اس میں ہر نقطہ کے حساب سے جذبات جڑے ہیں۔ پیسوں کی خاطر اس قومی وراثت کو ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ رہی ماحولیات کی بات،ماحولیاتی ماہرین تسلیم کرتے ہیں مننار کی کھاڑی جغرافیائی طور سے بھارت کا سب سے اہم ساحلی علاقہ ہے جہاں پودوں اور جانوروں کی تقریباً 36 ہزار سے زیادہ نسلیں پائی جاتی ہیں۔ رام سیتو کو توڑے جانے سے سونامی کے قہر سے کیرل کی تباہی یقینی ہوجائے گی اور ساتھ ہی ہزاروں ماہی گیر بے روزگار ہوجائیں گے۔ پھر اس علاقے سے ملنے والے نایاب شنک اور شپ جس سے کروڑوں روپے کی سالانہ آمدنی ہوتی ہے، سے لوگوں کو محروم رہنا پڑے گا۔ بھارت کے پاس یورینیم کے زیادہ متبادل تھیوریم کا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ اگر رام سیتو کو تھوڑ دیا جاتا ہے تو بھارت کو تھیوریم کے اس بیش قیمت ذخیرے سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔ ساحلی گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ رام سیتو کو توڑنے سے دیش کی سلامتی کے لئے خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ وہیں ہندو عقیدت والے اس پل کو بڑے احترام سے دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں روایت ہے کہ اس ڈھانچہ کا رامائن میں بھی ذکر ہے وہ یہ پل ہے جسے بھگوان رام کی وانر سینا نے اس وقت کے انجینئر نل نیل کی رہنمائی میں لنکا پر چڑھائی کے لئے بنایا تھا۔ وشو ہندو پریشد کے سابق قومی صدر اشوک سنگھل نے کمیٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا یہ ایک خیالی ہے۔ مختلف ملکوں کو قدیم وراثت جیسے چینی دیوار، اسٹیچو آف لیباریٹری،بکنگھم پلیس، آئیفل ٹاور، لندن برج وغیرہ بھی ہیں، پر ڈولپمنٹ کے نام پر ان قدیمی وراثتوں کو تو ضائع کرنے کی کبھی مانگ نہیں اٹھی؟ اگر قطب مینار کو بچانے کیلئے میٹرو ریل کے راستے میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، تاج محل کی خوبصورتی بچانے کیلئے وہاں چل رہے کارخانوں کو بند کرایا جاسکتا ہے، میوزیموں میں رکھی گئی قدیمی نوادرات کی دیکھ بھال پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں تو اس قدیمی وراثت جو ہزاروں کروڑوں لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہے، کو توڑنے کیلئے سرکار کروڑوں روپے کیوں خرچ کرنا چاہ رہی ہے۔ مرکزی حکومت اپنے اس فیل سے کسے فائدہ پہنچانا چاہ رہی ہے اور کیوں یہ بھی اپنے آپ میں سوال ہے۔ اس پروجیکٹ کے پیچھے ڈی ایم کے نیتاؤں کا دباؤ ہے۔ کروڑوں روپے کی آمدنی کا ذریعہ یہ اسے بنانا چاہتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں یوپی اے سرکار کروڑوں ہندوؤں کے جذبات کا احترام کرے گی اور رام سیتو کو قومی وراثت اعلان کرکے عدالت کو صاف طور پر بتا دے گی کہ رام سیتو پروجیکٹ منسوخ کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی یہ شری رام کا بنایا سیتو ہے اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹ سکتا۔
(انل نریندر)
فوکوشیما نیوکلیائی حادثہ ہندوستان کیلئے سبق
جاپان میں پچھلے سال فوکوشیما نیوکلیائی پلانٹ میں 11 مارچ کو آئے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد 6 بھٹیوں والے اس پلانٹ کو بھاری نقصان ہوا تھا۔ نیوکلیائی پلانٹ میں ہونے والے ریڈیو دھرمی اخراج کے سبب علاقے میں افراتفری مچ گئی تھی۔ ہزاروں لوگوں کو وہاں سے ہٹانا پڑا تھا۔ جاپانی پارلیمنٹ نے پچھلے سال مئی میں ایک کمیٹی بنائی تھی جسے فوکوشیما حادثے سے نمٹنے کیلئے اپنائے جانے والے طور طریقوں کی چھان بین کرنے اور اپنی سفارشیں دینے کا کام سونپا گیا تھا۔ اس کمیٹی نے اپنا رپورٹ دے دی ہے۔ جانچ کرنے والی پارلیمانی کمیٹی نے اس وقت وزیر اعظم ناؤتی کانکی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے یہ پوری طرح انسان کے ذریعے پیدا کردہ ٹریجڈی تھی۔ آزادانہ جانچ کمیشن کی رپورٹ کے لب و لباب میں کہا گیا ہے کہ سرکار دیکھ بھال کرنے والے حکام اور ٹوکیو الیکٹرک پاور کے لوگوں کی زندگی اور سماج کی سلامتی کو لیکر ذمہ داری کو نبھانے میں کمی رہی۔ کمیشن نے کہا قدم اٹھانے کے کئی موقعے آنے کے باوجود ریگولیٹری ایجنسیوں اور ٹوکیو سے وابستہ حکام نے جان بوجھ کر فیصلوں کو ٹالا،کارروائی نہیں کی یا ایسے فیصلے لئے جو ان کے لئے سہولت آمیز تھے۔ فوکو شیما حادثے کے بعد جاپان کے سبھی کارخانوں کو بند کردیا گیا تھا۔ کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ اس بحران کو پہلے سے اندازہ لگا کر روکا جاسکتا تھا اور روکا جانا چاہئے تھا۔ موثر طریقے سے نمٹ کر اس کے مضر اثرات کو کم کیا جانا چاہئے تھا۔ رپورٹ میں سرکار اور فوکوشیما نیوکلیائی پلانٹ کو چلانے والی ٹوکیو کمپنی کے سطح پر سنگین لاپرواہیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے حالانکہ بحران قدرتی اسباب سے شروع ہوا لیکن اس کے بعد جو کچھ فوکوشیما پلانٹ میں ہوا اسے قدرتی آفت نہیں کہا جاسکتا۔ یہ پوری طرح انسان کے ذریعے کوتاہی سے پیدا کردہ بحران تھا جس کا اندازہ لگا کر روکا جاسکتا تھا اور روکنا چاہئے تھا۔ جاپان میں مارچ2011 ء میں آئے 9 ریختر اسکیل والے زلزلے اور سونامی میں تقریباً20 ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی یا وہ لاپتہ ہوگئے۔ اس ٹریجڈی کے بعد اب پہلی نیوکلیائی بھٹی چالو کی گئی ہے۔ اس بھٹی کو جرنیٹر اور ٹرانسمیشن گریٹ سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیدا ہوئے اس پہلے نیوکلیائی توانائی سنکٹ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ بھارت میں کنڈنکلم ایٹمی بجلی گھر کو لیکر ناراضگی کی آوازیں اٹھیں۔ معلوم یہ رہا کہ ماحولیاتی رضاکاروں کے ساتھ مقامی شہریوں نے اس پلانٹ کو زندگی کے لئے نقصاندہ مانا ہے۔ دیش کے سابق صدر اور نامور سائنسداں اے پی جے عبدالکلام سے لیکر وزیر اعظم منموہن سنگھ تک نے سارے اندیشوں کو مسترد کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کو فلاحی طور پر وقت کی ضرورت قراردیا ہے لیکن فوکوشیما رپورٹ نے یہ بھی بتادیا ہے کہ ایسی بھٹیوں میں انسانوں کے رول انتہائی اہم ہیں۔ یہ رپورٹ ایک وارننگ بھی ہے کہ قدرتی آفات کے خلاف تکنیک اور انتظام کی طاقت کوغیر معمولی کہنا بہت بڑی چنوتی ہے۔ اگر جاپان جیسے ترقی یافتہ اور تکنیکی طور پر اہل اور قدرتی آفات مینجمنٹ کا تال میل بگڑ سکتا ہے تو بھارت کے لئے تو یقینی طور سے یہ ایک بڑی چنوتی ہے جس سے نمٹنے کے لئے ضمیر درکار ہے۔
(انل نریندر)
08 جولائی 2012
لیلیٰ خاں کا آتنک وادی کنکشن؟
2008ء میں سپر اسٹار راجیش کھنہ کے ساتھ فلم ’وفا ‘ سے مقبول ہوئی اداکارہ لیلیٰ خاں کا عجیب و غریب قصہ آج کل سرخیوں میں چھایا ہوا ہے۔ یہ لیلیٰ خاں کون ہے ، اس کا خاتمہ کیسے ہوا؟ جب وہ آئی تھی تو زیادہ سرخیاں نہیں بٹور سکی لیکن گمشدگی، اندر ورلڈ اور اب قتل کی خبر نے لیلیٰ اور اس سے وابستہ تمام باتوں کو سرخیوں میں چھا دیا ہے۔ نہ صرف لیلیٰ بلکہ اس کے خاندان اور خاص کر سوتیلے بھائی والد پرویز اقبال ٹاک کا ماضی گذشتہ بھی کافی ڈرامائی رہا۔2011ء میں لیلیٰ کے والد نادر شاہ نے ممبئی میں اوشیواڑ پولیس تھانے میں گمشدگی کا معاملہ درج کروایا تھا۔پرویز احمد ٹاک (لیلیٰ کا سوتیلا باپ) کو پولیس نے دھوکہ دھڑی ،جعلسازی کے لئے گرفتار کیا تھا۔ ٹاک کے پاس سے فرضی پین کارڈ برآمد ہوا تھا جس پر نادر شاہ کا نام لکھا تھا لیکن فوٹو ٹاک کی لگی ہوئی تھی۔ جموں کشمیر کے کشتواڑ کے ایک گیریج سے لیلیٰ کی کار برآمد کی گئی ہے۔بعدمیں پولیس نے مقامی لوگوں سے پوچھ تاچھ کی اور اس کے ذریعے وہ ٹاک تک پہنچی۔ ٹاک پہلے لڑکی کا کاروبار کرتا تھا بعد میں اس نے سیاست میں قسمت آزمائی۔ ٹاک نے مقامی لوگوں سے 10 لاکھ روپے ادھار لے رکھے تھے اور وہ2008 کے اسمبلی چناؤ میں ایم سی ڈی کے ٹکٹ پر چناؤ بھی لڑا تھا۔ اس پر سکیورٹی ایجنسیوں کی نگاہ کے چلتے اس نے 2008 کے آخر میں کشتواڑ چھوڑدیا تھا اور 2010ء میں وہ ممبئی پہنچ گیا۔ لیلیٰ خاں کی ماں سلمہ پٹیل دہلی کے ایک جونیئر آرٹسٹ کی بیٹی تھیں جو 50 کی دہائی کے آخر میں بالی ووڈ میں قسمت آزمانے ممبئی پہنچی۔ اس نے صرف ایک یادگار کردار کیتن آنند کی فلم میں نبھایا تھا۔ بیٹی اداکارہ لیلیٰ خاں نے مبینہ طور سے منیر خاں سے شادی کی تھی جو بنگلہ دیش کی آتنک وادی تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کا ممبر تھا، اور 2011ء میں اس کو قتل کردیا گیا تھا۔ جس پرویز اقبال ٹاک نے لیلیٰ خاں اور اس کے خاندان کے قتل کا انکشاف کیا ہے اسے بھی لشکر طیبہ کا ممبر کہا جاتا ہے۔ مہاراشٹر اینٹی ٹیرر اسکوائڈ کو شروع سے ہی شبہ رہا ہے کہ لیلیٰ خاں کا رشتہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور لشکر طیبہ سے رہا۔ لیلیٰ کی کار کا استعمال دہلی ہائی کورٹ کے باہر ستمبر2011ء میں کئے گئے دھماکے میں کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے ڈوڈہ رینج کے ڈپٹی اسپیکٹر جنرل غریب داس نے بتایا کہ لیلیٰ اور اسکے کنبے کا اغوا کا بنیادی ملزم پرویز اقبال ٹاک نے پوچھ تاچھ کے دوران بتایا کہ لیلیٰ اس کی ماں اور بہن و ایک دوست کو پچھلے سال فروری میں مہاراشٹر میں قتل کردیا گیا تھا۔ کسی بھی نتیجے پر ابھی تک اس لئے نہیں پہنچا جاسکا کیونکہ لاش ابھی تک برآمد نہیں ہوئی ہے۔ ممبئی پولیس نے اس سلسلے میں دو لوگوں کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ٹاک نے اس سے پہلے یہ کہہ کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ لیلیٰ اور ان کا کنبہ فرضی پاسپورٹ پر ممبئی چلے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس نے 21 جون کو رات کو گرفتار کیا تھا۔ ٹاک کشتواڑ میں واقع اپنے گھر پر لیلیٰ کی ایس مووی ملنے کے بعد چھپ گیا تھا۔ اس اغوا کے معاملے میں دوسرے ملزم اور اس کے خاندان کے افراد کو ممبئی میں مہاراشٹر آتنک واد انسداد دستہ اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے۔ اغوا کرنے والے دو ملزمان میں سے اس دوسرے ملزم آصف شیخ کو جوہو سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اصل ملزم پرویز اقبال ٹاک پہلے ہی جموں و کشمیر پولیس کی حراست میں ہے۔ پیسے اور گلیمر کی وجہ سے بالی ووڈ پر ہمیشہ سے انڈر ورلڈ کی نظر رہی ہے تو بالی ووڈ کا کنکشن بھی مافیہ سے جڑتا رہا ہے۔ لیلیٰ خاں کا قتل کس نے کرایا یہ تو تقریباً صاف ہی ہوچکا ہے اور کیوں ہوا اس کا خلاصہ ہونا باقی ہے۔ لیلیٰ خاں سے آئی ایس آئی کیسے جڑتی ہے اس کا پتہ بھی لگنے لگا ہے۔ جس منیر خاں سے لیلیٰ نے تین سال پہلے بنگلہ دیشی آتنکی تنظیم حجی کا ممبر بتاتے ہیں اس نے ہی اس کا تعارف لشکر کے آتنک وادیوں سے کرایا تھا۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ لیلیٰ نے ہی ان آتنک وادیوں کو بالی ووڈ میں پیسہ لگا کر خود کمائیں اور پھر بھارت میں کشمیر یا دیگر جگہوں پر آتنکی کاموں میں لگانے کی صلاح دی تھی۔کہا تو یہاں تک جارہا ہے کہ لیلیٰ نے ہی لشکر کے لئے ممبئی کے بھیڑ والے علاقوں کے نقشے اور تصویریں مہیا کرائی تھیں۔ لیلیٰ خاں کا معاملہ اس لئے بھی دلچسپ بن گیا ہے کیونکہ اس میں سبھی کچھ ہے گلیمر، بالی ووڈ ،حجی اور لشکر وغیرہ۔
(انل نریندر)
کیا نجی ہاتھوں میں پانی تقسیم کا انتظام دینا صحیح حل ہے؟
دہلی میں اب پانی کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے۔ جنتا سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہے۔ دہلی میں تاخیر سے مانسون کی دستک کی وجہ سے معاملہ الجھتا جارہا ہے۔ پینے کے پانی کی سپلائی دہلی جل بورڈ کے لئے کافی وقت سے مشکل بنی ہوئی ہے۔ اسے بہتر بنانے کے لئے کئی کوششیں ہوئیں مگر پریشانیاں کم نہیں ہوئیں آخر کر دہلی سرکار نے پانی کی سپلائی پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ حالانکہ فی الحال اسے کچھ علاقوں میں تجرباتی طور پر شروع کرنے کا خاکہ تیار کیا جارہا ہے۔ جلد ہی پوری دہلی میں اس پر عمل ہونے لگے لیکن دہلی سرکار نے دعوی کیا ہے اس سے پانی کی بربادی رکے گی، سپلائی میں آنے والی پریشانیاں دور ہوں گی اور ہر گھر کو ضرورت کے حساب سے پانی دستیاب کرانے میں مدد ملے گی۔ یہاں یہ کہنا شاید غلط نہیں ہوگا کہ حکومت دہلی کی بجلی تقسیم پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کا فیصلہ کبھی بھی تنازعات سے دور نہیں رہا۔ بجلی کی قلت کی چوطرفہ مار ،بلوں میں بے تحاشہ اضافہ اور تیز بھاگتے میٹروں کی شکایتیں آئے دن سننے کو ملتی رہتی ہیں اور ان پر کوئی غور نہیں ہوتا۔ دراصل پانی کی سپلائی میں سب سے بڑی کمی مینجمنٹ ہے۔ یہاں سپلائی کئے جانے والے پانی کا بڑا حصہ پڑورسی ریاستوں سے لینا پڑتا ہے ایسے میں جب وہ پانی روک دیتی ہیں تو دہلی میں پانی کا بحران کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس لئے جگہ جگہ برسات کا پانی جمع کرنے کی اسکیم بنائی گئی تھی مگر ابھی تک یہ اسکیم اپنی تعمیلی شکل نہیں لے پائی۔پرانی پائپ لائنوں کے اکثر پھٹ جانے سے نہ صرف روزانہ ہزاروں لیٹر پانی برباد ہوجاتا ہے بلکہ لوگوں کو ملنے والے پانی میں سیور لائنوں کی گندگی مل جاتی ہے۔ دہلی میں خراب پانی کی کوالٹی کی وجہ سے گھروں میں پانی صاف کرنے کی مشینیں لگانے پر لوگ مجبور ہوگئے ہیں۔ کئی بار منصوبہ بند طریقے سے نئی پائپ لائن بچھانے کا م بھرا گیا مگر وہ کام ابھی تک سرے نہیں چڑھ پایا۔ پانی کی چوری اور اسے بے وجہ بہانے والوں پر نکیل کسنے کے لئے کچھ سخت قاعدے قانون بنائے گئے ہیں مگر ان کی تعمیل یقینی بنانے پر زور نہیں دیا گیا۔ پینے کے پانی کی سپلائی پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپنے کا تجربہ نیا نہیں ہے۔ دہلی حکومت تجرباتی طور پر کچھ علاقوں میں نجی کرن کا فارمولہ آزما چکی ہے لیکن عجب بات یہ ہے کہ دہلی کے جن علاقوں میں اس وقت نجی کمپنیاں پانی سپلائی کررہی ہیں وہیں سب سے زیادہ پانی کی قلت محسوس کی جارہی ہے۔ مسئلے کا حل تب تک نہیں نکلے گا جب تک پرانی پائپ لائنوں کو بدلا نہیں جاتا۔ ٹھیک میٹر نہیں لگائے جاتے۔ اخراج اور چوری کو روکا جائے۔ نجی ہاتھوں میں پانی دینے سے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ پانی کی سپلائی بہتر ہوجائے گی۔ ہاں اس سے صارفین کے پانی کے بلوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا یہ طے ہے۔موجودہ پانی سپلائی نظام کو ٹھیک کرنا دہلی سرکار کی ترجیح ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...